وحشت غزال اور نیوٹرینو: کائنات (6)

ہم وجود کی صرف ایک سطح پر رہتے ہیں، لیکن یہاں اور بھی بہت کچھ ہے۔ حقیقت کی یہ پوشیدہ جہتیں ہر طرف موجود ہیں۔ بہت دور، نوری برسوں سے بھی پرے۔ ہمارے پیروں کے نیچے۔ اور یہاں تک کہ آپ کے اور میرے اندر۔ ہم ایٹموں سے بنے ہیں۔ آپ کی آنکھ میں ستاروں اور معلوم کائنات کی تمام کہکشاؤں سے زیادہ ایٹم موجود ہیں۔ آپ کی چھوٹی انگلی کی نوک سے بڑی کسی بھی ٹھوس چیز کے لیے

Read more

گیتا گیان

آریہ قوم تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں ہندوستان میں آ کر آباد ہوئی اور پیش قدمی کرتے ہوئے کوہ ہمالیہ تک پہنچ گئی۔ ایک وقت میں پنجاب سے بندھیاچل تک کا علاقہ ”آریہ ورت“ کہلاتا تھا۔ یہ دور ہندوستان کی تاریخ میں ویدک دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آریہ قوم نے مذہب پر توجہ دی اور ویدوں کو لکھ لیا گیا۔ قربانی کے بھجنوں پر مشتمل مجموعے شام وید اور یجر وید کی صورت میں نمو پذیر ہوئے۔

Read more

منٹو کی ہیرا منڈی سے سنجے بھنسالی کی ہیرا منڈی تک

مغل دور میں شاہی قلعہ کے دیوان عام اور روشنائی دروازے کے سامنے ایسے لوگوں کا محلہ تھا جو شاعری، گانے بجانے اور ناچنے میں مہارت رکھتے تھے۔ شاہی قلعہ اور محل کی ہمسائیگی کی وجہ سے اس محلے کو شاہی محلہ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں اس محلے کے رہائشیوں کا قلعہ اور شاہی محل میں بہت آنا جانا تھا، اور ان کو شاہی محل اور امراء قلعہ کی سرپرستی حاصل تھی۔ محلے کے لوگ ہی صرف قلعہ

Read more

گھونسلہ جلانے والے

سعدی شیرازی بھی کیا نادر روزگار ہستی تھے۔ بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مجو / در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما۔ آپ سے تو درویش کا کیف و کم پوشیدہ نہیں۔ فارسی کجا، بندہ تو مادری زبان پنجابی ڈھنگ سے نہیں جانتا۔ اردو کی تحصیل میں پچاس برس گزرے۔ اگلے روز سید شاہد بخاری (روز نامہ جنگ کا اداریہ لکھتے ہیں) نے ایک اردو ترکیب کا تلفظ درست کیا تو احساس تشکر سے آنکھ بھر آئی کہ

Read more

آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں

آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے

Read more

ہیرا منڈی کو بھنسالی کی آنکھ سے دیکھو

سوشل میڈیا پہ ہیرا منڈی ٹرینڈ میں ہے ابھی تک، اس پہ تنقید بھی کی جا رہی ہے اور تعریف بھی، سوشل میڈیا کے جوکرز ہیرانڈی کے کریکٹرز کی میمکریز کر رہے ہیں، تبصرے کر رہے ہیں۔ آج میں نے سنجے لیلا بھنسالی صاحب کی نیٹ فلکس سیریز ہیرا منڈی کی پہلی قسط دیکھی، غم روزگار کے بکھیڑوں نے ریلز کے وقت ہیرا منڈی دیکھنے کا وقت نہ دیا تھا۔ بالی ووڈ میں جو میرے پسندیدہ ڈائریکٹرز ہیں بھنسالی صاحب

Read more

محمد حفیظ خان کا ناول : ہر ایک جنم کی جانما

حال ہی میں شائع ہونے والا محمد حفیظ خان کا ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ ایک تاریخی ناول ہے۔ اردو میں تاریخی ناول نگاری کی تاریخ اگرچہ پرانی ہے مگر ماضی قریب میں اس کا چلن ہمیں نسیم حجازی، ڈاکٹر وحید احمد (زینو) ، خوشونت سنگھ (ٹرین ٹو پاکستان) اور امرتا پریتم (پنجر) کے ہاں نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں اس روایت کو حفیظ خان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کا ناول ”انواسی“ تاریخی

Read more

چیخوف اور افسانہ خادمہ: ایک تعارف

پیدائش: 1860 ء۔ انتقال: 1904۔ روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار۔ 1884 ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ چیخوف نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ‌‌ اسے ایک سخت مزاج باپ اور ایک اچھی قصّہ گو ماں نے پالا پوسا۔ چیخوف کی ماں اپنے بچّوں کو دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ یوں ‌ بچپن ہی سے وہ ادب اور فنونِ لطیفہ میں

Read more

چترا پریتم – نروان کی تلاش

سورج جوبن پر تھا۔ اس کے ارد گرد زندگی پوری توانائی کے ساتھ رواں دواں تھی صرف وہ خاموش کھڑا بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو اور کبھی چمکیلے سورج کو دیکھ رہا تھا۔ اتنی روشنی کے اور شور کے باوجود اسے سب کچھ تاریک لگ رہا تھا۔ کہاں جانا ہے اسے معلوم نہ تھا۔ پیچھے رہ جانے والا دروازے اس پر بند ہو چکا تھا اور آگے کا رستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ آج سے چند سال پہلے جب اس نے

Read more

سامنا اور وہ بھی انجان کا۔ مگر کیسے؟

من چاہے سے سامنا ہو یا ان چاہے سے۔ دل کی دھڑکن نے بے ترتیب ہونا ہی ہے۔ کُچھ ایسا بھی بولا جا سکتا ہے جو آپ کے من کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دے۔ دل کے معاملات کو تو سنبھالا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ عصمت چغتائی کے الفاظ میں ”کوئی لاکھ روپیہ بھی دے تو میں نہ بتاؤں“ ۔ لیکِن میں آج آپ کوایک اور معاملے پر بہت کچھ بتانے لگا ہوں اور وہ بھی مفت

Read more

طلعت صاحب کی رحلت اور میرا پچھتاوا

عرصہ ہوا طلعت حسین صاحب سے فون پر بھی بات نہیں ہوئی تھی۔ اتوار کی سہ پہر لیکن ان کی رحلت کی خبر ملی تو یادوں کا انبار جمع ہونا شروع ہو گیا۔ ان سے ملاقات سے کئی برس قبل تعارف ان کی ذات سے نہیں بلکہ آواز سے ہوا تھا۔ آٹھویں جماعت پہنچ جانے کے بعد اتوار کے دن دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کی اجازت مل چکی تھی۔ جو بھی فلم دیکھنے جاتے وہاں سب سے پہلے ”پاکستان

Read more

غلام حسین ساجد اور جمالِ دشت ِحیرت

گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیاں اردو ادب اور شاعری کی ہنگامہ خیز دہائیاں ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ سماج کو لکھ لیں گے تو فرد بھی اس میں آ جائے گا کہ ترقی پسندوں کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک انہی کا سکہ چل رہا تھا۔ سماجی طبقات اور ان کی الجھنیں اس قدر توجہ پا رہی تھیں کہ فرد دھندلا تا گیا۔ جب اسے ایک خرابی کی صورت میں شناخت کیا گیا تو

Read more

ایسا کیسے چلے گا؟

دیسی مرغی، دیسی گھی اور خالص دودھ تو قصۂ پارینہ بن چکے۔ اب یہ سب کچھ خواب و خیال کہ دیسی مرغی کے نام پر فارمی مرغی اور دیسی گھی کی محض مہک ہی باقی ہے۔ دیسی گھی میں عام گھی اور کیمیکلز کی ملاوٹ کی جاتی ہے اور دودھ میں سنگھاڑے کا آٹا، کارن سٹارچ، کھاد، سرف اور پانی کی آمیزش تھوک کے حساب سے۔ اِس لیے ہم نے اِن اشیاء سے توبہ کرلی البتہ ایک شخص ایسا ہے

Read more

کیا خدا ایک استعارہ ہے؟

جب میں نے اپنے خدا پرست دوستوں سے پوچھا کہ ان کے ذہن میں خدا کا کیا تصور ہے تو پہلے دوست نے کہا خدا محبت ہے دوسرے دوست نے کہا خدا روشنی ہے تیسرے دوست نے کہا خدا عرش پر رہتا ہے چوتھے دوست نے کہا خدا شہ رگ کے بھی زیادہ قریب ہے پانچویں دوست نے کہا خدا انسان کے دل میں رہتا ہے اور پھر اپنے موقف کی حمایت میں یہ شعر سنایا مسجد ڈھا دے مندر

Read more

”خوشبو میں بسے خط“ اور سماج کا گند

”عدیلہ یہ عورتیں کون ہوتی ہیں، جن کے ساتھ تم مجھے منسوب کرتی ہو؟ مجھ پہ الزام لگاتی ہو۔ کون ہوتی ہیں یہ عورتیں؟ یہ بچاری زمانے کی ٹھکرائی ہوئی لاچار عورتیں ہوتی ہیں۔ محبت کے لفظ کی بھوکی۔ انہیں میں، احمد زریاب، اپنی محبت سے بناتا ہوں، سنوارتا ہوں، سجاتا ہوں، نکھارتا ہوں۔ میں اپنی محبت کے اوکسیجن سے ان کے مردہ وجود میں جان ڈالتا ہوں۔ انہیں زندہ رکھتا ہوں۔ اور تم کیا تھیں۔ تم بھی تو یہی

Read more

دریافت کے میدان سے باہر از ڈاکٹر لبنیٰ فرح

ڈاکٹر لبنیٰ فرح نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں عربی زبان و ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چنیدہ اور معروف مترجم اور انٹرپریٹر ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد تدریسی تجربہ اور ریاستی سطح پر انٹرپریٹیشن کے وسیع تجربے نے ان کی لسانی اور ثقافتی تفہیم کو وسیع کیا ہے جس کی بنا پر پچھلے کچھ برسوں سے انہوں نے عربی افسانوں کو اردو قالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ترجمے سے متعلق انگریزی کتب

Read more

طلعت حسین: پاکستانی ٹیلی ویژن کے ’دلیپ کمار‘ جن کی ڈائیلاگ کے بعد خاموشی بہت کچھ کہہ جاتی

ڈراموں، فلموں، ریڈیو اور تھیٹر کے معروف ایوارڈ یافتہ سینئر اداکار طلعت حسین کراچی میں وفات پا گئے ہیں۔
ان کی وفات پر بی بی سی نے ان کے پرانے دوستوں اور رفقا سے ان کی زندگی، طبیعت اور اداکاری کے متعلق بات کی ہے۔

Read more

کیا سیاست ہمارے رویّے میں شدت پیدا کرتی ہے؟

اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ایک ذاتی سا احساس شیئر کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مقیم اپنے بعض پرانے دوستوں سے جب کبھی فاصلاتی رابطہ ہو تو میں ان کی اور اپنے دوستوں کی خیریت جاننے کا متمنی ہوتا ہوں۔ پوچھتا ہوں: ”یار، فلاں دوست کیسا ہے؟ کافی روز سے بات نہیں ہوئی۔“ دوسری جانب سے ناگواری سے جواب ملتا ہے: ”ارے، کس بے ایمان کی بات کر رہے ہو۔ کراہت

Read more

سرکار کے خدام خود سرکار

وفاقی اُردو کالج پرویز مشرف کے دور میں سال 2002ء میں یونیورسٹی کے درجے پر فائز ہوا۔ نوکری کی ابتدا میں کالج میں سالانہ نظام کے تحت ہونے والے داخلوں کے طالب علم بھی تھے اور نصاب بھی وہی تھا۔ مبادیاتِ اُردو کے نام سے کالج کا نصاب بہت وقیع تھا۔ سالانہ نصاب کے مقابلے میں چھے ماہ کا میقاتی نظام نصاب کے معیار و مقدار دونوں کو متاثر کرتا ہے، کیسے؟ فی الحال یہ موضوع نہیں اور ایسا بھی

Read more

پاکستان میں تعلیمی زوال اور حاکم طبقات کے رویے!

چند روز قبل گورنمنٹ کالج لاہور سے وابستہ اپنے ایک دوست کی رائے جاننے کے لئے ایک علمی مقالہ بھیجنے کا اتفاق ہوا جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ وہ دوست جو پہلے کبھی علم و ادب اور کتابوں کے بڑے رسیا تھے اور گھنٹوں ادبی مباحث اور مطالعہ میں صرف کرتے تھے، اب نوکری ملنے کے بعد بہت ”پریکٹیکل“ ہو گئے ہیں اور ”جمع تفریق“ کے علاوہ ان کی دیگر تمام علوم میں دلچسپیاں ماند پڑ گئی ہیں۔

Read more

کتاب: پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2 (خاکے )

مصنف: اصغر ندیم سید صاحب تبصرہ: عرفان علی جناح گر قبول افتد! جیسا کہ میں نے خاکہ نگاری کے فن یا صنف سے اتنی دیر بعد واقف ہوا اور اس کا مجھے افسوس بہر حال رہے گا۔ اگر میں گلزار صاحب کی کتاب ”گر یاد رہے۔“ نہ پڑھتا تو شاید اب تک خاکہ نگاری سے بے بہرہ رہتا۔ اور اگر وہاں بھی جاوید صدیقی صاحب والا خاکہ نہ پڑھتا تو! اصغر ندیم سید صاحب، یہ میرے لیے بچپن کی ایک

Read more

بزعم خود مرد حق: ضیا الحق

سابق صدر جنرل ضیا الحق یقینی طور پر ایک متنازع شخصیت ہیں وہ لوگ جو ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کورٹ سے پھانسی کی سزا ملنے کے باوجود انہیں آج تک شہید کہتے ہیں، جنرل ضیا الحق سے شدید نفرت کرتے ہیں انہیں ضیا الحق صاحب کی کوئی بات اچھی نہیں لگتی۔ ضیا الحق کا نام سن کر ان کا خون کھولنے لگتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے موقع پر لاہور کے اردو بازار میں ایک غریب جیالے

Read more

کیا آپ تخلیقی اقلیت سے واقف ہیں؟

دنیا کے ہر معاشرے میں افراد کے دو گروہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت۔ روایتی اکثریت پر مشتمل افراد مروجہ معاشرتی رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سوچ اور ترجیحات معاشرے اور خاندان کے بنائے گئے سانچوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ جن سے انحراف گناہ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ روایتی اکثریت میں تخلیقی اذہان نہ ہونے کے برابر ہوتے

Read more

خود نوشت، ”ریاض نامہ“ پر ایک نظر

آپ ملک کے اندر ہوں یا باہر، یادوں سے چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب گزرے شب و روز ”یادیں“ بن جاتی ہیں۔ ان یادوں کے بہت سے کردار بھی ہوتے ہیں کچھ زندہ ہوتے ہیں اور کچھ گزر گئے ہوتے ہیں۔ کچھ قریب ہوتے ہیں، کچھ ہزاروں میل دور ہوتے ہیں۔ بقول شاعر، ہر طرف یوں تیری یادوں کا دھواں ہوتا ہے تیری دوری میں بھی قربت کا گماں

Read more

ہبہ ابو ندیٰ کی غزہ سے آخری نظم

کہا جاتا ہے کہ غزہ کی 32 سالہ شہید شاعرہ اور فکشن نگار ہِبہ کمال صالح ابو ندیٰ کی آخری نظم ”پناہ“ ہے۔ وہ 20 اکتوبر 2023 ء کو اپنے گھر میں موجود تھیں کہ اسرائیلی طیارے ان کے گھر پر بم برسا کر اور اسے ملبے کا ڈھیر کر کے ان کی قبر بنا گئے تھے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا ہے۔ پوری دنیا سراپا احتجاج ہے مگر عالمی طاقتوں کی پشت

Read more

کیا آپ یونانی شاعرہ سافو کی حیرت انگیز کہانی سے واقف ہیں؟

میں نے اپنی کینیڈین شاعرہ دوست جینیفر سے پوچھا جو عورت کسی مرد کی بجائے کسی اور عورت کے عشق میں گرفتار ہو جائے آپ اس عورت کو کیا نام دیتے ہیں؟ میرا سوال سن کر جینیفر کی آنکھوں میں ایک شریر سی مسکراہٹ آئی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ ایک اور کینیڈین شاعرہ کیتھی کو دل و جان سے چاہتی ہیں۔ کہنے لگیں انگریزی زبان میں ایسی عورت کے لیے دو نام ہیں، ایک

Read more

مرشد! مانتے ہو، مگر دیر سے کیوں؟

بلوچستان کو طاقت کی زور پر چلانے والوں نے کہیں سے دو چار وائرل ویڈیوز دیکھیں ہوں گے جن میں بتایا گیا ہو گا کہ بلوچستان کے لوگ کتابیں بہت پڑھتے ہیں اور ادب سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں، تو بس کروڑوں روپے لگا کر پچھلے دنوں آرٹ کونسل کراچی کی زیر اہتمام کوئٹہ میں پاکستان لٹریچر فیسٹول کا انعقاد کیا گیا۔ فیسٹول کے مختلف سیشنز میں ایک سیشن وزیر اعلی بلوچستان جناب سرفراز بگٹی کا نوجوانوں

Read more

نائٹریٹس کیا ہیں اور غذا کے طور پر صحت کے لیے بیک وقت مفید اور نقصان دہ کیوں ہو سکتے ہیں

نائٹریٹس کو بیک وقت صحت کے لیے فائدے مند اور نقصان دہ ہونے کی خصوصیات کے باعث غذائیت کی دنیا میں ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پراسیس شدہ گوشت میں نائٹریٹ ہوتے ہیں اس لیے ان سے پرہیز کریں تو دوسری جانب یہ زور بھی دیا جاتا ہے کہ ان کو چقندر اور پالک سمیت ایسی سبزیاں بھی تلاش کی جائیں جن میں نائٹریٹ قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں اور یہی دو مختلف سفارشات ایک عام شخص کو ابہام میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

Read more

رﺅف حسن پر حملے سے پیدا ہوتے وسوسے

ان دنوں منیر نیازی کے بتائے”حرکت تیز تر“ والے ہیجان کی زد میں ہوں۔ سمجھ نہیں آتی کہ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی کونسے موضوع پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ”روز کی روٹی روزی“ کمانے کا بندوبست کروں۔ رات سونے سے قبل تاہم اکثر یہ طے کرلیتا ہوں کہ صبح اٹھتے ہی فلاں موضوع پر ہر صورت لکھ دیا جائے۔ ارادے پر عمل پیرائی کے بعد اسے دفتر بھجوادیتا ہوں۔ صبح چھپا کالم پڑھتے ہی مگر احساس ہوتا

Read more

منو بھائی: نایاب ہو تم

میری پسندیدہ ادبی شخصیت ”منو بھائی“ کو ہم سے بچھڑے کئی سال بیت گئے لگتا ہے گویا صدیاں بیت گئی ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنا میرے لیے ہمیشہ ہی مشکل رہا ہے کیونکہ باوجود کوشش کے وہ لفظ ملنا ناممکن ہو جاتے ہیں جو ان کی تعریف میں لکھے یا بیان کیے جا سکیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ منو بھائی ایک عظیم شخصیت تھے وہ بہت زبردست دانشور، شاعر ڈرامہ نگار اور ایک عظیم مصنف تھے۔ جنہوں نے

Read more

کتب کی رونمائی اور مشاعرہ

مورخہ انیس مئی دو ہزار چوبیس، بروز اتوار کو ، بزم ادب برلن کے زیراہتمام، اولوف پالمے کلچر ہاؤس برلن میں ایک شاندار ادبی محفل کا انعقاد ہوا۔ بزم ادب برلن کے جنرل سیکریٹری جناب سرور غزالی نے افتتاحیہ کلمات سے تقریب کا آغاز کیا اور مشہور شخصیات، جن میں، کراچی سے آئے ہوئے جناب جمیل الدین احمد بطور صدر محفل، جناب رشی خان، محترمہ عشرت سیما، لمز یونیورسٹی کے جناب ڈاکٹر زاہد حسین بطور مہمان خصوصی، کو اسٹیج پر

Read more

عوامی انقلاب اور تمبر کی لاٹھیاں

( آزاد کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں کو لے کر ”منعقد“ کئیے گئے عوامی احتجاج کے مثبت اثرات بدستور جاری  ہیں۔ ایک عجیب بات عوام کے اس احتجاج کے دوران سامنے آئی ہے، کہ چاہے آپ کھلے عام مجمع کے سامنے جتنی چاہے اشتعال انگیز، نفرت انگیز اور زہر آلود تقاریر کریں، اس ملک اس کے وجود، اس کے اداروں کے خلاف سٹیج سے عوام کو تشدد تک پر اکسائیں، اپنے ”ملک دشمن مقاصد“ کا کھل کر اظہار

Read more

ناول ”دی ہابٹ“ صرف بچوں کا ادب نہیں

’دی ہابٹ‘ جے آر آر ٹولکین (3 جنوری 1892۔ 2 ستمبر 1973) کا تحریر کردہ مہم جوئی پر مبنی ایک تخیلاتی ناول ہے۔ بنیادی طور پر دی ہابٹ نوجوانوں کے لیے لکھا گیا فکشن تھا جسے پہلی بار 1937 میں شائع کیا گیا۔ ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول ’دی لارڈ آف رنگ‘ کی دیواریں بھی اسی ناول کی بنیادوں پر ہی قائم ہیں۔ ناول کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زُبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ اس کے اُردو

Read more

قدیم ہندستانی سماج

نوٹ: زیر نظر تحریر سید سخی حسن نقوی کی کتاب ’ہمارا قدیم سماج‘ کا خلاصہ ہے۔ ہندستان کی سماجی تاریخ یورپ اور عرب دنیا سے نہ صرف کافی پرانی اور زرخیز رہی ہے بل کہ یورپ اور عرب کی سماجی ترقی بھی ہندستان کی مرہون منت ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر مسلمانوں کی آمد تک ہندستان سماجی، سیاسی، مذہبی اور معاشی لحاظ سے معاصر دنیا کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتا تھا۔ کائنات پہلے جمادات کی

Read more

”ادارہ یاد گار ِ غالب“ (2)

”ادارہ یادگار غالب“ 1968 ءسے 1984 ءتک اپنے تشکیلی دور میں رہا۔ 1975 ءتک مرزا ظفر الحسن نے پچاس سے زائد علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کروائیں۔ جن میں مرزا غالبؔ کی صد سالہ برسی، دو ادبی اجلاس، کتابوں اور تصاویر کی دو نمائش، کل پاکستان محفل موسیقی، اور کل پاکستان مشاعرہ شامل ہے چودہ کتابیں شائع کیں۔ جن میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور بنگلہ سے کیے گئے اردو تراجم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسی دور میں

Read more

میرا رب دنوں کو پھیرتا رہتا ہے!

سورہ آل عمران میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ ”ہم تمہارے درمیان دنوں کو پھیرتے (یا بدلتے ) رہتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یقیناً مفصل تفسیر کا حامل ہے۔ تاہم سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے لوگوں کی زندگی کے حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی آدمی کی زندگی میں خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرپور دن آ جاتے ہیں۔ کبھی نہایت کامیاب و کامران آدمی غموں اور ناکامیوں میں گھر کر

Read more

میں کہ ایک انجینئر ہوں

تم بڑے ہو کر کیا بنو گے انجینئر یا ڈاکٹر؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو وطن عزیز میں طلباء سے یا نوجوانوں سے کم و بیش ہر جگہ کیا جاتا تھا اور اب بھی کیا جاتا ہے کہ ان پیشوں سے وابستہ لوگوں کا مستقبل محفوظ سمجھا جاتا ہے وطن عزیز میں اس زمانہ میں ان دو پیشوں کے علاوہ دیگر پیشوں میں بوجوہ لو گوں کی دلچسپی کم تھی اور اب بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔

Read more

عجب آزاد مرد تھا: ڈاکٹر اجمل نیازی

کسی فن کار، ادیب اور شاعر کو ایسا شخص میسر آ جائے جو اس کے جملہ فن کو دُنیا کے سامنے لے آئے، یہ کسی فنکار، ادیب اور شاعر کی خوش نصیبی ہو گی، ہزاروں فن کار، اُدبا اور شعرا دُنیا میں آئے، اپنے فن کا لوہا منوایا اور رخصت ہو گئے، چند خوش نصیب ایسے ہیں جنھیں تحقیق کی غرض سے کہیے یا محبت و اِلتفات کی نگاہ سے کسی نے مُقفل الماریوں سے باہر نکالا اور ازسرِنو دُنیا

Read more

خشک پتوں کی محبت

اُن دنوں میری تعیناتی نہر اپر جہلم کے کنارے آباد ایک قصبہ میں تھی۔ گھنے درختوں میں گھِرا یہ چھوٹا سا خوبصورت قصبہ تھا۔ نہر کے بائیں کنارے سڑک کے ساتھ ایک چھوٹا سا بازار تھا جس کے ایک طرف ہمارے بینک کی برانچ واقع تھی۔ قصبے کے زیادہ تر افراد برطانیہ میں آباد تھے۔ بھلے وقتوں میں بینک منیجر کو معاشرے میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بینک منیجر سے دوستی فخر کی بات ہوا کرتی تھی۔ لوگ اپنے گھروں

Read more

انڈیا اور پاکستان میں صوبوں کے نام تبدیل کر دیں

نقاد حضرات ادب کو دو حصّوں میں تقسیم کرتے ہیں، پاپولر ادب اور کلاسک ادب۔ پاپولر ادب تو مرضی کی تصوراتی دنیا میں لے جاتا ہے تاہم انڈیا اور پاکستان میں لکھے جانے والے اردو کلاسک ادب کا بڑا حصّہ ”وچھوڑے“ (بچھڑنے کے غم) کے گرد ہی گھومتا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنے افسانوں میں کچھ انسانوں کے اندر موجود بھیڑیے کو برِصغیر کی تقسیم کے دوران سامنے آنے کو بیان کیا تو انتظار حسین کے بارے میں کہا

Read more

قومی زبان کی بے حُرمتی

اِس وقت میں وطن کی فضاؤں سے دور امریکہ کی ریاست ٹیکساس کی شہر ہیوسٹن میں ہوں۔ پچھلے تین چار دنوں سے ملک کے سیاسی حالات سے بے خبر کہ طویل سفر کی تھکن نے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا۔ اب تھوڑا ہوش آیا تو سوچا کہ اپنے قارئین سے رابطہ کروں کہ گزشتہ کئی برسوں سے وہ میری فیملی ہی تو ہیں۔ اِسی لیے اُن کے ساتھ کالموں کی صورت میں اپنا دُکھ سُکھ بانٹتی رہتی

Read more

پراسرار انکل

یونیورسٹی کے دنوں میں ہوسٹل کی شاموں کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ صوبے کے طول و عرض سے آئے طلبہ اپنے ساتھ عادات، خیالات اور کمالات کا تنوع لے کر آئے تھے۔ سارا دن یونیورسٹی کے لیکچروں کے بعد ہر لڑکا اپنے مطابق شام کے اوقات بسر کرتا تھا۔ کچھ لوگ ساتھ میدان میں کرکٹ یا فٹ بال کھیلنے چلے جاتے۔ کچھ ہوسٹل کی اطراف میں پھیلے کمروں میں خوش گپیوں میں مصروف ہوتے۔ تھوڑے پڑھاکو ٹائپ اسائنمنٹ

Read more

عالم میں تجھ سے لاکھ سہی، تو مگر کہاں

رب کائنات نے ہر زمانے میں ایسے مردانِ کار پیدا کیے ہیں، جنھوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی جیسے سائنس، طب، سیاست، ادب اور سماجی بہبود کے میدانوں میں ایسے محیر العقول اور نادر کارنامے انجام دیے ہیں، جنھیں نہ صرف ان کے زمانے میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا بلکہ ان کے بعد کے زمانے بھی ان کے معترف اور باج گزار رہے ہیں۔ اُن کے کارنامے اُن کے اخلاص اور ایثار سے معمور ہوتے ہیں اس لیے ان

Read more

قیامِ یورپ اور علامہ اقبالؒ کی ماہیت قلبی

علامہ اقبال ؒ 1905 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف لے گئے۔ اگرچہ ہندوستان سے ایم اے پاس کر کے گئے تھے پھر بھی یورپی درس گاہوں کی ضرورت کے مطابق انھوں نے ٹرنٹی کالج سے 1906ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1908 میں انھوں نے مڈل ٹمپل ( Middle Temple) سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران میں میونخ یونیورسٹی جرمنی سے پی ایچ ڈی کا امتحان پاس کیا۔ یوں انھوں نے تین برسوں میں

Read more

سات جنم: ناول یا ہمارے زوال کی کہانی

وہ ایک مصنف سے ملاقات اور کتاب کے اجرا کی تقریب تھی۔ ایک مختلف تقریب جس میں ادیب خال خال تھے مگر اسلام آباد کلب کا ملٹی پرپز ہال موجودہ اور سابق بیوروکریٹس سے چھلک رہا تھا۔ کتاب پر بات کرنے والے ہم تین تھے اور چوتھے شکیل جاذب جو ناظم ہو گئے تھے۔ ان چاروں میں، میں اکیلا تھا جو اکثریتی شمار قطار میں نہ آتا تھا۔ شکیل جاذب، ظفر حسن رضا، ڈاکٹر وحید احمد نے ساری کہانی کھول

Read more

کیا آپ چارلز ڈارون کے نظریہ ارتقا کے سائنسی ثبوت سے واقف ہیں؟

پچھلی چند دہائیوں میں جب بھی میں نے مختلف مکاتبِ فکر کے مردوں اور عورتوں سے ڈارون کی زندگی اور نظریہِ ارتقا کے بارے میں تبادلہِ خیال کیا تو مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ان میں سے اکثر نے یا تو اس نظریے کو سنجیدگی سے پڑھا ہی نہیں تھا اور اگر پڑھا بھی تھا تو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں کیونکہ وہ سائنس کے سنجیدہ طالب علم نہیں تھے۔ میں اس کالم میں ڈارون کی زندگی اور

Read more

لذت کا دائرہ کار

 لذت کا دائرہ کار بے حد وسیع ہے۔ یہ جسمانی، ذہنی، نفسیاتی سمیت مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اسے صرف جسم تک محدود کرنا مناسب نہیں ہے۔ البتہ جسم میں حواس خمسہ لذت کا سب سے نمایاں اور غالب ذریعہ ہیں۔ دیکھنے کی لذت تشفی و تسکین کا سبب بنتی ہے۔ سننے کا لطف اسے مہمیز دیتا ہے، سونگھنے سے خاص کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ لمس ہیجان کا سبب بنتا ہے اور ذائقہ تمام حواس کو گویا ایک خاص

Read more

کلاسیکی چینی ادب کا شاہکار ناول ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ ۔ ایک تعارف

معروف چینی ادیبہ شیاؤ ہونگ 1911 میں، شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے ایک امیر زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا پیدائشی نام چنگ ناین تھا۔ وہ نو سال کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہو گیا، اور شیاؤ ہونگ کی ذمہ داری ان کے سرد مہر اور سخت گیر والد پر آن پڑی، لیکن ان کی پرورش ان کے محبت کرنے والے دادا کے ہاتھوں میں ہوئی جنھوں نے انھیں کلاسیکی شاعری پڑھائی۔

Read more

’نواز شریف کو کوئی نہیں ہنسا سکتا‘

جب میاں صاحب طاقت کا منبع تھے تب بھی نہ ہی اپنا نامزد کردہ کوئی اچھا سپہ سالار ملا اور نہ ہی کوئی اچھا جج۔ اور آج جب وہ سیاسی حاشیہ بن چکے ہیں۔ وسعت اللہ خان کی تحریر۔۔۔

Read more

مہوشاں

مہوشاں ماریہ مہوش خان بنگش کی نظموں اور اختراعات پر مبنی شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں چھوٹی بڑی اسی تک نظمیں ہیں اور سات الگ سے اختراعات ہیں گو کہ وہ بھی نثری نظم کی طرح نثری ٹوٹے یا نثرم ہی ہے جس میں باقاعدہ ادبی تخلیق موجود ہے جنھیں ماریہ مہ وش الگ سے اختراعات سے تعبیر کرتی ہیں۔ اس مجموعے میں تمام نظمیں اپنی اپنی جگہ بہت اچھی ہیں لیکن میری نظر میں زندگی سے رخصتی

Read more

ہم تحریروں میں ملیں گے (میقات ہشتم 24)

جی سی یونیورسٹی لاہور کا پی جی گیٹ جو کہ ڈی سی آفس کے روبرو اور میٹرو سٹیشن کے پہلو میں ہے، اس گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ایک ڈبہ نما ہال کمرے سے شور و غل کا ایک طوفان ہماری سماعتوں کے استقبالیے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ یہ ہال نما کمرہ جو کہ اہل جی سی یو کی بھوک پیاس مٹانے میں ہر وقت مصروف عمل رہتا ہے اس سے اشتہا انگیز خوشبوؤں کی مہک کم

Read more

شیما کرمانی: ہر تان ہے دیپک

تحریر: صائمہ حیات/ عاطف حیات پرفارمنگ آرٹ اور بطور خاص کلاسیکل رقص کو ہمارے یہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ریاستی سطح پر اس فن کی پذیرائی نہ ہونے کے سبب یہ فن اب یکسر معدوم ہو چکا ہے۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں بشمول اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں طالبعلموں کی اکثریت تعلیم حاصل کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ طالب علم اپنے پورے تعلیمی کیریئر کے دوران اس فن سے مکمل طور پر نابلد رکھے جاتے ہیں بلکہ نصاب میں

Read more

شعرا دوستوں سے معذرت کے ساتھ

گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادبی کینوس میں اب شاعری کا رجحان نثر اور اس کی تمام جہتوں پر حاوی ہو چلا ہے۔ عوامی حلقے تو شاعری کے ہاتھوں پہلے ہی ہائی جیک ہیں مگر اب نثر کہنے اور سمجھنے والوں کو بھی سوشل میڈیا کی دوڑ میں مشاعرہ کلچر ہی خوب لُبھاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ترقی پسند شاعری کے مقابل میں عامیانہ پاپولسٹ شاعری کا بڑھتا رجحان تو بہرکیف ایک مکمل تفصیلی بحث ہے۔ مگر فی

Read more

ستاروں کا جہاں، آپ کا، ہمارا، سب کا

آسمان پر چمکتے ستارے لگتے ہیں ہمیں کتنے پیارے دل چاہتا ہے چھولوں میں انہیں یا پھر من میں سما جائیں سارے ایک چاند اور کئی ستارے، آسمان پر ان کے دم سے ہی رونق ہوتی ہے، ایک چاند پر تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس کی خوبصورتی اور چمک نے کروڑوں محبت کرنے والے دلوں کو تسخیر کیا، چمکتے چاند کی چمک دمک سے شاعروں نے بھی اپنی شاعری کو چمکایا، کسی نے آدھے اور پورے چاند

Read more

سورج مشرق سے نکلتا ہے

پہلے صحافی: برباد ہو گئے وہ لوگ جو ایسے بیانات دیتے ہیں جن کی حقیقیت تجربہ کی جا سکتی ہے۔ مغرب کے فلسفوں کے دیوانے، باطن سے بے گانے، بھاڑے کے ٹٹو ( یہ ان کا پسندیدہ فریز ہے، کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور کبھی تندی تیزی میں پھسل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی ہنستے ہنستے پسلیاں بھی دکھنے لگتی ہیں ) شاندار کو معمولی کرتے رہتے ہیں۔ اب جس آئن سٹائن نے اس مبتذل جملے

Read more

رات، اور مَیں سفر میں: جدید آئرش شاعر جوزف کیمبل اور اُن کی نظمیں

اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ یہ ”بچپن سے“ محاورتاً نہیں لکھ رہا۔ واقعتاً لکھ رہا ہوں۔ گھر میں والد صاحب جناب یزدانی جالندھری کی کتابوں کا جو ذاتی ذخیرہ تھا اُس میں کتنی ہی زبانوں کی کتب اور جرائد موجود تھے۔ میں طبع زاد اردو ادب کے ساتھ ساتھ ان کی محفوظ کی ترجمہ شدہ کتابیں بھی ”چٹ“ کر جاتا تھا۔ مثلاً کی کتابوں میں مجھے قیامِ پاکستان

Read more

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

پنجابی شاعری کے عظیم شاعر وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپئر بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے پہلے اور بعد میں کئی لوگوں نے ہیر رانجھے کا قصہ لکھا لیکن کسی کو وہ مقبولیت نہ ملی جو ہیر وارث شاہ کے حصے آئی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں میں قرآن کے بعد سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہیر وارث شاہ ہوا کرتی تھی۔ ہیر وارث شاہ کا آغاز ہی حمد سے ہوتا ہے اور اختتام

Read more

دستوئیفسکی کا ایڈیٹ

ایک ادیب کی پھانسی کا تصور کیجیے اور سوچیے کہ اس پر اس وقت کیا بیتی ہوگی جب اسے اپنے انقلابی خیالات اور جاگیردارانہ سماج کے خلاف سچ گوئی پر سزائے موت کا حکم سنا دیا جائے اور طویل وقت کی قید و بند کے بعد ، تختہ دار پر لٹکے پھانسی کے پھندے تک لے جایا جائے۔ تب گلے میں پڑا موت کا پھندا اور نظروں کے سامنے تیزی سے گزرتے زندگی کے سبھی پل کیسے سوہانِ روح ہو

Read more

روشنی کے سفیر

زیرِنظر کتاب ”روشنی کے سفیر“ (پاکستان کے مثالی اساتذہ ) کے عنوان سے ڈاکٹر انجم حمید نے ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی زیرنگرانی مرتب کیا جسے ادارہ فروغ قومی زبان اسلام آباد نے سنہ 2022 میں شائع کیا۔ اس سے قبل اس کتاب کی جلد اوّل کو ادارہ فروغ قومی زبان نے سنہ 2018 میں شائع کیا جسے ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور افتخار عارف کی سربراہی میں ڈاکٹر راشد حمید اور ڈاکٹر صفدر رشید

Read more

گل حسن کلمتی۔ عوامی دانش ور

گل حسن کلمتی ایک سرگرم سماجی کارکن اور قلم کار تھے جن کا مئی 2023 میں چھیاسٹھ برس کی عمر میں کراچی میں انتقال ہوا۔ اُن کی خدمات کے باعث انہیں سندھ کے لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ راقم کی گل حسن کلمتی سے شناسائی 1980 کے عشرے کے اوائل سے تھی جب میں کراچی میں کالج کا طالب علم تھا۔ یہ بات تقریباً ناممکن تھی کہ کوئی کراچی کی ترقی پسند طلبا سیاست میں سرگرم ہو اور دیگر ترقی

Read more

فلم ’شرابی‘ کے 40 سال، جس میں امیتابھ بچن کے ہاتھ کی چوٹ مشہور سٹائل بن گئی

یہ فلم 18 مئی 1984 کو ریلیز ہوئی تھی اور اب اس کی ریلیز کے 40 سال ہو گئے ہیں۔ اس میں امیتابھ بچن نے ایک شرابی بیٹے وکی کا کردار ادا کیا۔

Read more

’اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں‘

احمد مشتاق کے ساتھ ایک دن – 26 جون 2023ء ۔ امریکا میں ہوسٹن شہر کے ایک ہوٹل کے باہر ڈرائیو وے کے فٹ پاتھ پر، اپنی کافی اور سگریٹ لے کر بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک ایسے شخص کا انتظار ہے جس کو مل کر عمر رفتہ، جو کبھی نہیں لوٹتی، والہانہ انداز میں مجھ سے لپٹ جاتی ہے۔ میں اس کے انتظار میں ساری عمر اسی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ سکتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی آ

Read more

میں اور ریڈیو پاکستان: لمحہ بہ لمحہ

فی زمانہ جہاں لوگ پیسہ کمانے کی غرض سے بھی اپنا سرمایہ اور پیسہ لگا نے کا خطرہ مول نہیں لیتے صرف اس خیال سے کہ آیا اس کا ریٹرن ملے گا یا نہیں یا یہ کہ کہیں اس کاروبار میں نقصان نہ ہو جائے یعنی سو وسوسے اور خیالات ذہن میں آتے ہیں کہ کہیں سرمایہ ڈوب نہ جائے۔ اور یہ بھی اس صورت میں کہ جب اس میں کاروبار کی کامیابی اور منافع کے بھی امکانات موجود ہوتے

Read more

تقسیم کے بنیادی ہتھیار تشدد اور توڑ پھوڑ ہوتے ہیں

یہ دریائے راوی ہے جس کا پانی عاشقوں کی آنکھ سے زیادہ صاف اور اِس کی چراہ گاہیں باغ اِرم سے زیادہ خوشگوار تھیں۔ یہ دریا تہذیبوں کا امین اور رازوں کا مکین ہے۔ یہ دریا گورو نانک جی مہادیو کے جنم استھان ( ننکانہ صاحب) سے لے کر اُن کے دُنیا سے کنارہ کرنے تک (کرتار پور) کی زندگی کا چشم دید گواہ ہے۔ گورو نانک جی مہادیو کی سادہ سی تعلیمات نے ہند کے سماج میں ایک زبردست

Read more

تسخیر قمر کے تناظر میں پاکستان کے حالات کا عکاس ایک افسانہ

پاکستان کے معروف ادیب و صاحب طرز افسانہ نگار غلام عباس کئی شاہکار افسانوں کے خالق ہیں۔ بہت سی دیگر صلاحیتوں کے ساتھ وہ ایک اعلیٰ پائے کے ترجمہ نویس بھی تھے۔ روسی اور یورپی ادب کے شہ پاروں کے علاوہ انھوں نے ایوب خان کی کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ غلام عباس کے افسانوں میں صداقت، واقعیت اور حقیقت پسندی کا وہ جوہر جھلکتا ہے جو افسانہ نگاری کی جان ہوتا ہے۔

Read more

پاکستانی معاشرے میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار

پاکستان میں مختلف شعبوں میں خواتین کا عروج اور غلبہ ایک قابل ذکر رجحان ہے جس میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستانی خواتین نے سیاست، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون سمیت مختلف شعبوں میں شاندار ترقی کی ہے۔ پاکستان میں صنفی محرکات کی ایک پیچیدہ تاریخ ہے، جہاں خواتین کو عوامی زندگی میں حصہ لینے میں اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ملک کی مردانہ اثر و رسوخ

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

پاکستان کا ایوان بالا سینٹ۔ وفاق میں صوبوں کی آواز

پاکستان کے ایوان بالا یا سینٹ کے قیام کو 2023 میں 50 سال مکمل ہوئے۔ یہ پچاس سال آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے بھی ہیں۔ کیوں کہ پہلے دو آئین جو بالترتیب 1956 اور 1962 میں بنائے گئے تھے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ ابتدائی دنوں میں آئین پاکستان کے لیے یک ایوانی مقنّنہ یا صرف قومی اسمبلی پر انحصار کرتے تھے۔ 1973 کے آئین میں پہلی مرتبہ پاکستان کو دو ایوانی مقنّنہ دی گئی جو بار بار معطل

Read more

محبت، مرمت اور مذمت

ملکی صورت حال گاہے گاہے رنگ بدلتی رہتی ہے۔ مگر ہم ہر موضوع پر بات نہیں کرتے۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ اِک انبار جمع ہو جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کتنے ہی حادثے، سانحے گزر گئے مگر ہمیں لکھنا نصیب نہ ہوا: سانحہ ِ 9 مئی، سانحہ ِ بہاولنگر، سانحہ ِ کھاریاں۔ 9 مئی پر تو ہم ڈر کے مارے بھی چپ تھے۔ لیکن بہاولنگر پر ’گلی گلی نگر نگر‘ اور واقعہِ کھاریاں پر ’بوہے باریاں‘ کے

Read more

آزاد کشمیر میں احتجاج: کیا کھویا کیا پایا

سوموار 13 مئی 2024 کی خونی شام آزاد کشمیر میں عوام کے احتجاج کے خاتمے اور چار نوجوان لوگوں کی شمعِ زندگی گل کرنے اور بیسیوں کے زخمی ہونے کی خبر کے ساتھ، ایک شبِ ماتم میں بدل گئی۔ ً یہ احتجاج کب شروع ہوا اور اس کے مقاصد کیا تھے اس پر کل ایک تحریر لکھی تھی جو اس لنک پر پڑھی جا سکتی ہے۔ مختصراً یہ کہ اس احتجاج کے بڑے مقاصد میں آٹے اور دیگر خورد و

Read more

ناول ’کبڑا عاشق‘ کا تعارف و جائزہ

کبڑا عاشق فرانسیسی کلاسیکی ناول ’ہنچ بیک نوٹرے ڈیم ڈی پیرس‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کی پہلی اشاعت 1831 میں ہوئی۔ ہم نے جس ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے اس کے 132 صفحات ہیں۔ جتنا عمدہ یہ ناول ہے اتنا ہی غیر معیاری اس کا سر ورق ہے۔ ناول کے جائزہ سے پہلے ہم ناول کے تخلیق کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انقلابی سوچ کے مالک وکٹر ہیوگو ( 26 فروری 1802۔ 22 مئی

Read more

"خواب سراب” اور یوسا کا فن

صاحبِ کتاب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن ایک اچھی تخلیق منظر عام پر لانے سے نام پیدا کیا جاسکتا ہے۔ عمارہ علی کی کتاب ”خواب سراب“ کا فنی و تکنیکی تجزیہ، ؛ یوسا کے تصور فن کے تناظر میں ؛ پڑھی جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ عمارہ علی لیکچرار اردو ہیں اور ان دنوں اردو میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں۔ کتاب ہذا ان کے ایم۔ فل کا مقالہ ہے جسے بہت عرق ریزی سے لکھا گیا

Read more

ادارہ یادگار غالبؔ (1)

”ادارہ یادگار غالبؔ“ کراچی ماضی میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ رہا ہے۔ فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن کا شمار اس ادارے کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ غالبؔ کی صد سالہ برسی کے موقع پر کراچی میں 1969 ءمیں قائم کیا گیا۔ غالبؔ لائبریری کا قیام بھی اسی ادارے کے تحت عمل میں آیا۔ اس ادارے کے پہلے صدر فیض احمد فیض اور جنرل سیکرٹری ظفر الحسن منتخب ہوئے۔ غالبؔ

Read more

تین شاعر ایک خیال

ساحر لدھیانوی۔ احمد فراز اور مسرور انور اپنے عہد کے بے مثال شاعر تھے جنہوں نے روایتی شاعری کے علاوہ فلمی شاعری میں بھی خوب نام کمایا۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ میری اس تحریر کا مقصد کیسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ہرگز نہیں بلکہ ان تینوں کے خیالات کا اظہار ایک ہی موضوع پر پیش کرنا ہے جس سے اختلاف ممکن ہے۔ فراز کی نظم ”پیغام بر“ واقعی کمال ہے اور آج

Read more

عورتیں اور زندگی کا مختلف دائرہ

گزشتہ دنوں انقرہ یونیورسٹی، ترکیے کی بین الاقوامی اردو کانگریس میں بطور مہمان مقرر آن لائن شرکت رہی اور ”اردو ادب میں عورت کے تصور“ پر بات کر کے لگ بھگ انہی باتوں کو دہرایا جو اس موضوع پر میں گاہے ماہے کرتا آیا ہوں۔ میں نے باقی مقررین کو بھی توجہ سے سنا، اچھا لگا اور شدت سے احساس ہوا کہ بعض باتوں کو دہرایا جانا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے اس کانگریس کا اہتمام انقرہ یونیورسٹی،

Read more

پنجابی پیاروں کے نام

خطہ پنجاب سے ہماری مراد پاکستانی پنجاب، انڈین مشرقی پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش سے ہے جس کی سرحدیں تبت (چین) ، جموں و کشمیر، خیبر پختون خواہ، بلوچستان، سندھ، راجستھان اور اترپردیش جیسے علاقوں یا صوبوں سے ملتی ہیں۔ پنجابی پیاروں سے اکثر ملاقاتوں اور سماجی محافل میں عام طور پر پنجابی زبان کے مسائل، شاعری، ”لوہڑی“ کا تہوار اور پانچ دریاؤں کا ذکر تو اکثر رہتا ہی ہے لیکن بات اس سے آگے بڑھ نہیں پاتی۔ آج کے

Read more

سنجے لیلا بھنسالی کی سیریز میں دکھائی جانے والی لاہور کی ہیرا منڈی، جہاں طوائفوں کے مکان اب ریستوران میں بدل چکے ہیں

سنجے لیلا بھنسالی کی نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی فلم ’ہیرا منڈی‘ کی تاریخ اور اس مقام کی موجودہ حالت کیسی ہے؟

Read more

افسانہ۔ کالی شلوار والی – منٹو کے جنم دن پر انہیں خراجِ عقیدت

نئی سرکار نے آتے ہی ملک میں انقلابی تبدیلی کے لئے ہر شعبے میں اکھاڑ پچھاڑ کا آغاز کر دیا تھا۔ دوسرے شعبوں کی طرح ادب پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور ملک کے ادیبوں کے لئے کچھ قاعدے قانون بنائے، جن پر عمل درآمد کا آغاز ایک شاندار سیمینار سے کیا جا رہا تھا جو اُس چوٹی کے ادیب کے اعزاز میں تھا جسے کبھی کسی سرکار نے بھولے سے بھی یاد نہیں کیا تھا۔ مگر نئی سرکار

Read more

حرکت کا سائنسی تصور – حصہ سوم

نیوٹن کے آفاقی کشش ثقل کے قانون نے سیاروں کے مداروں کا حساب لگانا اور فلکیاتی واقعات کی پیش گوئی کرنا ممکن بنایا جس کے نتیجے میں نیپچون کی حتمی دریافت اور بیرونی خلا کی تلاش شروع ہوئی۔ نیوٹن کے حرکت کے قوانین انجینئرنگ کے بنیادی اصول ہیں، جو ہمیں پلوں سے لے کر خلائی جہاز تک ہر چیز کو درستگی کے ساتھ ڈیزائن کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے تحقیق کے طریقوں اور ریاضی کی مشق نے سائنس

Read more

کھڑکی اور میں

کمرے میں ہوا، روشنی اور صدا کا واحد رابطہ کھڑکی ہے۔ کمرے کا دروازہ ٹی وی لاونج میں کھلتا ہے جو لائٹ نہ جلنے کے باعث اندھیرا میں ڈوبا رہتا ہے۔ گھر کے وسط میں ٹی وی لاونج کی موجودگی جزیرے کے مانند ہوتی ہے۔ پہلے پہل یہاں گہما گہمی رہتی تھی۔ جب سے دنیا سمٹ کر موبائل فون میں آ گئی ہے۔ یہاں آمد و رفت کم کم دیکھنے میں آتی ہے۔ عقبی گھر کی دو منزلہ تعمیر کے

Read more

خود کشی سے پہلے آخری خط

انگلستان کی مایہ ناز ادیبہ ورجینیا وولف نے مارچ 1941 میں فیصلہ کیا کہ وہ ڈپریشن کی اذیت سے اتنا تھک چکی ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبوں کو بھاری پتھروں سے بھرا اور اپنے گھر کے قریب دریا میں اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ واپس لوٹ کر نہ آئیں۔ خودکشی کے لیے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے شوہر لینرڈ وولف کے لیے ایک خط چھوڑ گئیں

Read more

”جٙون“ کا کراچی

آزادی کے خواب کی تعبیر سجائے روشن مستقبل کی امنگ میں ”علی گڑھ کے لونڈوں کی شرارت“ کا واضح اعلان کرنے والا جٙون ایلیا آج شدت سے یاد آ رہا ہے جون کے محبتی الفاظ اور ان کے ”جانی“ کہنے کی شیرینی اپنی تمام تر یادوں کے ساتھ چمٹ کر ان محافل اور بیٹھکوں کی یاد دلا رہی ہے جہاں ہم نے روز و شب بتائے، میرے کتابوں سے بھرے ترتیب شدہ کمرے میں آرٹسٹ لیاقت حسین، کمیونسٹ رہنما ڈاکٹر

Read more

ابوظبی کتاب میلہ

ہوا یوں کی متحدہ عرب امارات والوں کو خیال گزرا کہ راقم جیسا فرد پاکستان میں کیا کر رہا ہے؟ ایسے ہیرے کو تو اماراتی تاج میں لگنا چاہیے۔ خیال کا آنا تھا کی آن کی آن میں راقم کو گولڈن ویزہ دے دیا گیا۔ ویزہ تو ہم نے اس لیے لے لیا کہ ایسے موقعے ہاتھ سے جانے دینا درویشی کی شان کے منافی ہے لیکن ویزہ لے کر اب کیا کیا جائے؟ ہمیں تو لکھنے پڑھنے کے علاوہ

Read more

آخر سیکس اتنا مقدس اور اہم کیوں ہے؟

عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کا موضوع ہمیشہ سے ہی ہمارے لیے اہم رہا ہے لیکن ہم نے جنسی عمل یعنی ”سیکس“ پر گفتگو کو فحاشی، بے حیائی کے زمرے میں ڈال دیا اور پھر اس عمل کے مرتکب یا اس سے متعلق گفتگو کرنے والے انسان کو بدکردار قرار دے کر قابل نفرت بنا دیا۔ منافقت کی حد دیکھیں کہ پھر اسی سیکشوئل تعلق کے قیام کے لئے شادی کا ادارہ بنایا اور بقول ”پی کے“ ڈھول

Read more

صحرائے تھر کے لوک دانش کے دوہے

تحقیقی تجزیوں کے مطابق لوک ادب اور لوک دانش سے کسی بھی علاقے کے تہذیبی، علمی اور لسانی ورثے کی عکاسی ہوتی ہے۔ صحرا نوردوں کے پاس لوک ادب اور لوک دانش کا بڑا خزانہ ہوتا ہے، جو صدیوں سے نسل در نسل سینہ بہ سینہ سفر کرتا رہا ہے۔ عمومی رائے میں لوک ادب اور لوک دانش کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے، لوک ادب ”سیانوں سگھڑوں“ کی تخلیق اور حساس لوگوں کے جذبات اور

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور

”تم محض کھڑے ہو کر دیکھتے ہوئے دریا کو پار نہیں کر سکتے“ ۔ (ٹیگور) سات مئی برصغیر اور متحدہ ہندوستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ہزاروں گیتوں کے خالق کا جنم دن ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور 7 مئی 1861 کو بنگال کے شہر کلکتہ (موجودہ مغربی بنگال، کولکتہ ) میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد دیویندرناتھ بھی ایک فلسفی تھے۔ یوں رابندر نے فلاسفی کا آغاز اپنے گھر سے ہی کیا۔ رابندر

Read more

ایک اسکول ٹرپ کی روداد

بدھ کے روز نویں جماعت کے اسلامیات کے لیکچر کے بعد ڈائریکٹر صاحب خوش گوار موڈ میں بولے : ”امتحانات اور سخت پڑھائی کے بعد اب آپ لوگوں کی تھوڑی انٹرٹینمنٹ ہونی چاہیے۔ ہم اسکول کا ٹرپ لے کر فورٹ منرو جا رہے ہیں۔ آپ لوگ کل ایک ایک ہزار روپے جمع کرا دیں۔“ یہ سن کر طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ مقررہ دن کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔ ہفتے کی صبح ویگن فورٹ

Read more

طنز و مزاح کی صنف پر ایک نظر

مزاح کے لفظی معنی ہنسی مذاق، جب کہ طنز کے معنی طعنہ یا چھیڑ کے ہیں۔ ایسی تحاریر جو آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دیں اور اس تحریر میں تنقید کو مزاح کا جامہ پہنا دیا جائے لیکن اس کے باوجود بھی قاری ہنسنے پر مجبور ہو جائے طنز و مزاح کہلاتی ہیں۔ طنز و مزاح ایک مقبول صنف لطیفہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر طنز و مزاح کو اردو ادب میں ایک جیسے معنوں میں لیا

Read more

لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ‘ ہونے کا قلق

نیٹ فلیکس کی ہیرا منڈی پر بیسیوں اعتراضات ہو رہے ہیں۔ پہلی بار میرے بہت سے لاہوری دوستوں کو اپنی ہیرامنڈی کا تشخص ’مسخ ‘ ہونے کا قلق بھی ہے۔ ہر طرح کی دوربین و خودردبین نکل آئی ہے۔ کچھ تبصرے تو اتنے دردناک ہیں گویا بھنسالی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے دو ارب روپے کا قرضہ لے کے اس ’غیر مستند‘ فلم پر ضائع کر دیا ہو۔

Read more

جب لاہور کے معززین سے شہر کی نالیاں صاف کروائی گئیں اور شہریوں کو سائیکل، پنکھے اور بلب تک فوج کے حوالے کرنے کے احکامات ملے

1919 میں برطانوی سرکار کی جانب سے لگائے جانے والے مارشل لا میں لوگوں پر ظلم کی انتہا کی گئی بچوں تک کو کوڑے مارے گئے۔

Read more

پرویز ہودبھائی: بات سے بات نکلے گی

گزشتہ ہفتے سندھی اسٹوڈنٹ سوسائٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام اسٹڈی سرکل کے گیسٹ اسپیکر عصر حاضر کے سقراط (ڈاکٹر پرویز ہودبھائی) صاحب تشریف فرما ہوئے، ڈاکٹر صاحب عصر حاضر کے قد آور اکابر سے چونچ لڑانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، علمی اور ادبی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا تعارف لکھنا سورج کے آگے دیا رکھنے کے مترادف ہے لیکن پھر مختصراً بیان کرتا چلوں کہ ڈاکٹر صاحب دنیا کی بہترین یونیورسٹی

Read more

کیا آپ سلویا پلاتھ کی شادی، شاعری اور خودکشی کی کہانی جانتے ہیں؟

سلویا پلاتھ کی کہانی اس لکھاری کی کہانی ہے جو اپنے مرنے کے بعد ادب عالیہ کی دنیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فن ان کے پاگل پن اور شاعری ان کے اقدام خود کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ سلویا پلاتھ 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا

Read more

بابائے گرین زون ڈاکٹر خالد سہیل کا فلسفہ ذہنی صحت

انسان سرسبز جنت میں اگر رہتا تھا تو کیوں نکالا گیا اس بات پر کیوں بحث کی جائے۔ یہ بات بھی اگر طے تھی کہ یہ بنی آدم زمین پر فساد کرے گا۔ تو یہ بات بھی عیاں ہے کہ سرسبز جنت سے نکالا ہوا انسان اس زمین پر گویا ایک جہنم میں رہ رہا ہے۔ یہ کرہ ارض کبھی بھی امن کی جگہ نہیں بن پا رہا حالانکہ رہنا تو یہیں ہے۔ اس جنت کے سبزہ زار سے نکالے

Read more

پشتو ادب میں بیدل شناسی ( 1 )

علمی و ادبی طور پر ایک حیران کن امر ہے کہ شہرۂ آفاق ’چار عنصر‘ ، ’نکات بیدل‘ ، ’عرفان‘ ، ’محیط اعظم‘ ، ’طور معرفت‘ اور ’طلسم حیرت‘ کے خالق ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل ( 1644 ع۔ 1720 ع ) کی وفات کے فوراً بعد ان کے افکار پشتو شعر ادب میں دیکھے جا سکتے ہیں، ’نغز بیدل‘ کے نام سے بیدل کے منثور و منظوم اردو مترجم ڈاکٹر سید نعیم حامد علی الحامد کے مطابق ’بیدل کی زندگی

Read more

مصنوعی ذہانت کی دلچسپ لیکن ’ڈرا دینے والی‘ شکل ’جنریٹیو اے آئی‘ کیا ہے؟

یہ ماڈل وسیع مقدار میں موجود ڈیٹا سے مطلوبہ نمونوں کی شناخت کرتا ہے، انھیں سمجھ کر اس کے بعد یہ خالص انداز میں صارف کی طرف سے دی گئی ہدایات کی بنیاد پر نیا اور مفید مواد تخلیق کرنے کے لیے اپنی سمجھ بوجھ کا استعمال کرتا ہے۔

Read more

مطالعہ پاکستان کے مضمون کی اہمیت

پاکستان اسٹڈیز ایک ایسا مضمون ہے جس کا مقصد طلبا کی پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ کے بارے میں معلومات کو بڑھانا اور طلباء کے دلوں میں حب الوطنی کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ ایک اچھے شہری بن سکیں۔ اگرچہ نویں جماعت سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک پاکستان اسٹڈیز ایک لازمی مضمون ہے، لیکن یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ بہت سارے طلباء اہم تاریخی شخصیات اور واقعات سے بے خبر ہیں۔ یہاں تک کہ

Read more

ناول: زوربا یونانی کا تعارف

زوربا یونانی نامور یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس ( 18 جنوری 1883۔ 26 جنوری 1957 ) کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ نیکوس کیزنزاکیس سلطنت عثمانیہ کے شہر اکلیون میں پیدا ہوا تھا جو اب یونان کے پاس ہے۔ زوربا یونانی پہلی بار 1946 میں یونانی زبان میں چھپا۔ 1953 میں کارل وائلڈ مین نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اور اب یہ اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اس اہم

Read more

منصورہ میں ایک شام

جماعت اسلامی میں امیر جماعت کی تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ نو منتخب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں کچھ شخصیات کے ہمراہ ملاقات ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بانی جماعت اسلامی مولانا مودودی سے ایک جہان متاثر ہوا اور ان کی مذہبی فکر کی بہت ساری جہتوں نے مجھ سمیت بہت ساروں کو آج بھی اپنے حصار میں لئے رکھا ہے۔ لیکن نہایت ادب کے ساتھ یہ بھی بیان کرنے کی جسارت کر

Read more

مرشد کی نصیحت: دہریا سے بچ کے رہنا

ویسے وزیرستان میں میری جنریشن کے نوجوانوں کا واسطہ ملا، مجاہد، طالبان، اور تبلیغی نامی کرداروں سے پڑتا ہے ان کی سرگرمیوں سے بلا واسطہ متاثر ہوتے رہے ہیں۔ یہ کردار افغان جنگ کے دوران منظر عام پر آ گئے جب امریکی پراجیکٹ کے تحت پشتون نیشنلزم کو اسلام مائزیشن کے ذریعے دبانا یا ہٹانا تھا (جو کہ پاکستان کی پاکستانائزیشن پالیسی کو بالواسطہ طور پر تقویت دیتی تھی) تاکہ اس علاقے کے باشندوں کو مذہبی کارڈ سے سابقہ سویت

Read more

ہماری اشرافیہ کے نمائندے- جناب سرسید احمد خان

جناب سرسید احمد خان سر بھی تھے، سید بھی اور خان بھی، یعنی نشہ اور وہ بھی سہ آتشہ۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں ”وہ وقت آیا چاہتا ہے جب ہمارے بھائی پٹھان، سادات، ہاشمی، اور قریشی جن کے خون میں ابراہیم کے خون کی بو آتی ہے، وہ زرق برق کی وردیاں پہنے کرنیل اور میجر بنے ہوئے فوج میں ہوں گے۔ “ ؛ دوسری جانب زمین زادوں کا سوچیے تو جناب سرسید جولاہے، حجام، نائیوں وغیرہ کو ”بدذات“

Read more