شو کمار بٹالوی کا شہکار گیت مائیں نی مائیں میرے گیتے دے نیناں وچ

کچھ عرصہ پہلے نصرت فتح علی خان کی آواز میں ایک پنجابی گیت سنا تو ہم دیوانے ہو گئے۔ شاعر کا کھوج لگایا تو پتہ چلا شو کمار بٹالوی کا گیت ہے۔ تجسس بڑھا تو شاعری اور شو کمار کی زندگی سے متعلق پڑھا۔ شو کمار 23 جولائی 1936 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد بٹالہ ضلع گورداسپور چلے گئے اور شو کمار بٹالوی کہلائے۔ تعلیمی لحاظ سے شو کمار نے کئی ڈگریوں کا آغاز کیا لیکن

Read more

میرا داغستان – اپنی زبان سے محبت کی داستان

آج کی نوجوان نسل اپنے وطن پاکستان سے متنفر ہوتی جا رہی ہے اور اپنی مادری زبان چاہے پنجابی ہو یا اردو اس سے بھی بیزار ہے۔ ان کے گلے شکوے جائز بھی ہو سکتے ہیں لیکن وطن اور زبان سے بیزاری کا کوئی جواز نہی اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے اپنے وطن سے اپنی زبان سے اور اپنی روایات سے محبت کریں تو انہیں رسول حمزہ توف کی کتاب ”میرا داغستان“ ضرور پڑھائیں بلکہ

Read more

غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

کہیں پڑھا تھا کہ عورت افسر بھی لگ جائے پھر بھی روٹی اس کے ہاتھ کی ہی اچھی لگتی ہے۔ اور میں کہتی تھی سائیکالوجی، انگریزی لٹریچر، سوشیالوجی، انٹرنیشنل لاء، انٹرنیشنل ریلیشنز پڑھنے والی لڑکی روٹیاں بنائے گی امپاسیبل ( ناممکن ) ۔ علم کا غرور سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں ایک چھٹانک عمل سو تولہ علم سے بہتر ہوتا ہے۔ میں نے بھی ساری زندگی صرف علم کے ہوائی قلعے تعمیر کیے عمل کے

Read more

کیا آپ کا نیٹ ورک، آپ کی نیٹ ورتھ میں اضافہ کر رہا ہے؟

ایک موثر، عملی سرگرمیوں اور جامع حکمت عملی پر مبنی نیٹ ورکنگ پر ایک شاندار کتاب میری زندگی میں میری ایک یہ خوش قسمتی رہی کہ میرا تعلق اور واسطہ ایسے لوگوں اور کتابوں سے پڑا جنہوں نے میری سوچ کو وسیع اور متاثر کیا ہے۔ اس لئے میں جو کتاب پڑتا ہوں کوشش کرتا ہوں کہ اس کا مختصر تعارف، حوالہ، خلاصہ اور پیغام آپ تک پہنچا سکوں۔ آج بھی میں آپ کو ایک ایسی ہی کتاب سے متعارف

Read more

ورجینیا وولف’ ڈپریشن اور نسوانی ادب

تخلیق : ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ: ہما دلاور ورجینیا وولف بیک وقت خوش نصیب بھی تھیں اور بد نصیب بھی۔ ایک طرف انہوں نے تخلیقی اظہار کی بلندیوں کو چھوا اور ایسے ناول لکھے جو ان کی وفات کے پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی عالی قدر مقام رکھتے ہیں، دوسری طرف انہیں بار بار ڈپریشن کے دورے جھیلنا پڑے اور آخرکار انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبیں پتھروں سے بھریں اور پانی کی جانب

Read more

گلفام نقوی کی شاعری میں محبت کی باز گشت

گلفام نقوی کا تعلق سید گھرانے سے ہے۔ آپ کے جد امجد سید زین العابدین نے چنیوٹ سے ہجرت کر کے پیر محل میں سکونت اختیار کی۔ آپ ولی اللہ تھے۔ تصوف، تقوی اور پرہیزگاری کی وجہ سے آپ پورے علاقہ میں مشہور تھے۔ آپ نے یہاں آ کر بہت ہی خوبصورت حجرہ تعمیر کروایا جو اپنی شان و شوکت اور طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ تھا۔ لوگ آپ کے حجرے کو پیر محل کے نام سے پکارنے لگے اور

Read more

خوابوں کے صورت گر احفاظ الرحمن کا شکریہ

ہم پہ بہت سے لوگوں کے احسان ہوتے ہیں جن کی شکرگزاری کا کبھی ہم اظہار کرتے ہیں اور کبھی اپنا حق سمجھ کے نہیں بھی کرتے۔ لیکن جب کوئی آپ کی پہلی کتاب اس وقت چھپوائے جب آپ کو یقین ہی نہ ہو کہ کتاب چھپنے کا یہ خواب کبھی پورا بھی ہو سکتا ہے تو وہ احسان معمولی نہیں ہوتا۔ اور ہم سب کو پتا ہے کہ صحافی احفاظ الرحمن ہر کام غیر معمولی ہی ہوا ہے۔ آخرکار

Read more

ٹیڑھا لگا ہے قط، قلم سرنوشت کو

(نوٹ : ادارہ تالیف و ترجمہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر زاہد منیر عامر کی طرف سے میرے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا، اس تقریب میں پڑھی گئی تحریر پیش کر رہا ہوں۔) میرے لیے یہ ایک خاص الخاص لمحہ، بلکہ نادر و نایاب لمحہ ہے۔ میری سبک دوشی پر منعقد کی گئی یہ تقریب کئی لحاظ سے نادر و نایاب ہے۔ یہ کسی اور زمان و مکان میں بھی ہو سکتی تھی مگر اے بسا آرزو کہ خاک

Read more

آرگیزم: خواتین ہیجان شہوت کیسے حاصل کر سکتی ہیں؟

بی بی سی منڈو نے چند ماہرین سے بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ سائنسی حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے خواتین کے لیے بھرپور جنسی زندگی گزارنا اور آرگیزم حاصل کرنا کیسے ممکن ہے۔

Read more

رفاقت حیات کا ناول: رولاک

ناول اگر ضخیم ہو تو اس کے یک نشستی مطالعے کے لیے ذہنی یکسوئی اور فراغت کا ہونا لازمی عنصر ہے۔ اگر فراغت کے ساتھ ذہنی یکسوئی میسر نہ ہو تو یک نشستی مطالعے میں ختم نہ ہونے کی وجہ سے ناول کی طوالت قاری کے لیے بار گراں بن جاتی ہے اور نتیجتاً وہ دلچسپی کھو دیتا ہے اور ناول کے حقیقی حسن کمال سے حظ اٹھانے میں ناکام رہتا ہے اور یوں اپنی ناکامی کی جھنجھلاہٹ میں وہ

Read more

عورت، صنفی تعصب اور ہمارے سماجی رویے

مذہب، ثقافت، لسانیت اور جغرافیہ کی بنیاد پر جنم لینے والے تعصبات کے ساتھ صنف کی بنیاد پر پروان چڑھنے والے تعصبات بھی ہر معاشرے کا حصہ ہیں۔ تاہم صنفی تعصبات کی شدت اور حجم کا ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے میں فرق ہے۔ اسی طرح صنفی تعصب کے پیچھے کارفرما عوامل اور ان تعصبات کے تدارک کے لیے قوانین اور اقدامات میں بھی فرق ہے۔ تاہم ہر معاشرے میں صنفی تعصب کی مشترک اور مستقل قدر اس تعصب کا

Read more

بچپن: کچھ یادیں کچھ شاعری

ہوا کچھ یوں کہ میرے اسکول کے ایک دوست کے پاس لاک والی ڈائری تھی۔ اس کے صفحے خوشبو والے تھے۔ ایک روز اس دوست نے وہ ڈائری مینار پاکستان کے سکیچ کے عوض مجھے دے دی۔ میں وہ ڈائری گھر لے آیا۔ سو اب وہ ڈائری میری تھی۔ مگر اس کے مہکتے ہوئے صفحات پر کیا لکھا جائے؟ ایسا کچھ پرائیویٹ جسے مقفل کیا جا سکے۔ شاعری! میں نے اس پر شاعری لکھنے کا فیصلہ کیا۔ مگر شاعری کوئی

Read more

علامہ اقبال کا تصورِ وطنیت

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہائے آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق و مغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی

Read more

سفر گزشت نہیں، رومان بھرا ناول

کہنے کو شاہد صدیقی نے اپنی تازہ کتاب ”ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر“ کو اپنے سفری تجربات پر مشتمل تحریریں کہا ہے اسی سے شاید گماں باندھ لیا گیا ہے کہ یہ کتاب تین سفرناموں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دھوکا ہے جس کا اہتمام مصنف نے نہ صرف کتاب کا نام رکھتے ہوئے کیا ہے، اپنے پیش لفظ میں بھی کر رکھا ہے، جہاں وہ یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ کتاب میں شامل تحریروں کا تعلق ٹورنٹو، دبئی اور

Read more

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟ فرض کریں آپ کے کھٹکھٹانے سے یہ دروازہ کھل بھی جائے تو آپ اپنے ماضی کے کس دور میں جانا پسند کریں گے؟ وہاں جہاں کی بیش قیمت یادوں کی مہک کسی عطر کی ماند ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی ہو، یا اس مقام پر جہاں ماضی کی کسی ہولناک لغزش نے آپ کا حال گہنا دیا ہو، یا پھر وقت کا وہ دوراہا جو ابھی آیا نہ ہو،

Read more

سارہ کین کی ڈرامہ نگاری، ذہنی بیماری اور خود کشی

ہسپتال کے نفسیاتی وارڈ کی نرس بیس فروری انیس سو ننانوے کی رات ساڑھے تین بجے سارہ کین کے کمرے میں گئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ سارہ کین کا بستر خالی ہے۔ انہوں نے چاروں طرف دیکھا لیکن سارہ کین نظر نہ آئیں۔ انہوں نے وارڈ میں ہر طرف انہیں ڈھونڈا لیکن وہ کہیں دکھائی نہ دیں۔ آخر جب نرس واش روم میں گئیں تو انہیں سارہ کین کی لاش ملی۔ سارہ کین نے اپنے جوتوں کے تسموں کی

Read more

علامہ اقبال کی شاعری میں تصورِ وطنیت کے بدلتے زاویے

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہاۓ آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق ومغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی ہیں۔

Read more

پاکستانی صحافت: ذمہ داریاں اور چیلنج

سادہ سی تعریف میں صحافت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبروں کو جمع کرنے اور مرتب کر کے پیش کرنے کے فن اور سائنس کا نام ہے۔ علم ایک طاقت ہے اور ہم کسی بھی منظر نامے میں زندہ رہنے کے لیے تازہ ترین معلومات کے مستقل حصول پر انحصار کرتے ہیں۔ خبریں ہمیں اپنے ارد گرد کی دنیا کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتی ہیں۔ اور ان معاملات کی طرف ہماری توجہ دلاتی ہیں جن کے بارے میں

Read more

حجاب امتیاز علی کی افسانہ نگاری میں تانیثی عنصر

افسانوی مجموعے "صنوبر کے سائے اور رومان” کا تیسرا افسانہ” مرد اور عورت ہے”۔اس افسانے میں دو جنسوں مرد اور عورت کے متعلق معاشرے میں پائے جانے والے تضاد کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔  اس افسانے میں حجاب امتیاز علی نے ہمارے اجتماعی احساس کو جھنجھوڑتے ہوئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک حقیقت کو خیال کا جامہ پہنایا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عورت جس سے محبت کرتی ہے وہ اس کے سوا کسی دوسرے

Read more

روزمرہ کی زندگی میں علامتیت کا کردار

انسان اپنے روزمرہ کی زندگی میں ہر شعبے میں واسطہ اور بالواسطہ بہت سے علامات اور نشانات سے جڑا رہتا ہے جن کا الگ الگ کردار اور اہمیت ہوتی ہے، جن کی معناؤں کا انسان کی زندگیوں پر گہرا اثر ہوتا رہتا ہے، معاشرے کا ہر فرد ان نشانات اور علامات کی معنوں کی اپنی اپنی تشریع رکھا ہے، علامتیت (Semiotics) اشاروں اور نشانات کی سائنس ہے لیکن مابعد جدیدیت میں اس کی حیثیت محض علامتوں کے مطالعے تک محدود

Read more

مزدوروں کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو مزدورں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ امسال بھی یہ دن قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے جوش و خروش سے منایا جائے گا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مزدوروں کے حقوق کی بات کی جائے گی۔ ریلیاں نکالی جائیں گی۔ اخبارات، رسائل اور جرائد میں فیچر لکھے جائیں گے۔ کالموں، مضامین، شعر و شاعری اور تقریروں کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ صدیوں پرانی روایت کو

Read more

پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ایک طلسماتی شخصیت

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

تیقّن بھری تشکیک اور ادبی روایت

ٹی۔ ایس ۔ ایلیٹ کہتے ہیں کہ کوئی شاعر یا فن پارہ  کسی بھی  طرح  خود مکتفی نہیں ہوتا۔اس کی شناخت اوراہمیت  گزشتہ فن کاروں اور شعرا سے تعلق میں مضمر ہے ،اس کی الگ اکائی کے طور پر اہمیت متعین نہیں کی جا سکتی،  گذشتہ شعرا اور فن کاروں کے ساتھ تقابل و تفاوت  کے بعد ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شاعر ادبی  روایت میں کیا مقام رکھتا ہے۔ ایک  شاعر کےلیے سب

Read more

اشعر نجمی کا ناول ’جوکر‘: کردار نگاری کی بہترین مثال

اشعر نجمی (سید امجد حُسین) معروف بھارتی شاعر و فکشن نگار  ہیں جو ساماہی مجلہ اثبات کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کا تعلق جمشید پور سے ہے مگر اب انہوں نےممبئی میں ہی سکونت اختیار کر رکھی ہے۔اشعر نجمی کے اب تک تین ناول منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اُن کا پہلا ناول ‘اس نے کہا تھا’ جس کا موضوع ہم جنس پرستی پر مبنی ہے 2021 میں شائع ہوا۔،اس کے بعد 2022 میں ان کا ناول ‘صفر کی توہین’

Read more

رقص کا عالمی دن، پنجاب حکومت اور الحمرا آرٹس کونسل

رقص کو اعضا کی شاعری کہا جاتا ہے۔ ردھم وہ توازن ہے جو خوبصورتی کہلاتا ہے۔ کوئی بھی چیز جس کا توازن بگڑ جائے اس کا حسن مانند پڑ جاتا ہے۔ رقص پرفارمنگ آرٹ کی وہ قسم ہے جس کی تاریخ پاک و ہند میں کافی گہری اور پرانی ہے۔ وہ خطہ جس کی ثقافت کا رقص ایک اہم حصہ ہو وہاں اس کی اہمیت اور موجودگی لازم ہے۔ لیکن اسی خطے میں مذہب کی ہی بنیاد پہ کلچر سے

Read more

ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی: زمانہ طالب علمی اور میری خوش قسمتی

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

لاہور: ایک تلاش اک ملال

اس روز میں نے دفتر سے آدھی چٹھی لی ہوئی تھی۔ گھر میں کچھ کام تھا۔ فراغت کے بعد میرے پاس کچھ گھنٹے فری تھے۔ ویسے بھی کئی روز سے رات گئے تک کام کر رہا تھا۔ ذہن تھوڑی بریک مانگ رہا تھا۔ ایک اچھوتا خیال میرے دماغ میں داخل ہوا۔ میں نے کار نکالی اور مال روڈ کا رخ کیا۔ موبائل پر بالی وڈ کا صوفی میوزک لگا لیا۔ میں اپنے منصوبے کی جزئیات کے بارے میں سوچنے لگا۔

Read more

شکست تخت پہلوی (2) – تخت و تاج

خزاں کی ایک سرد دوپہر 26 اکتوبر 1919 – نیم تاج نامی ایک نوجوان عورت تہران میں اپنے خاندانی گھر میں درد زہ میں مبتلا تھی۔ اس کا شوہر رضا خان ایران کی شاہی فوج کے خاص گروپ قزاق رجمنٹ میں بریگیڈیر تھا۔ باہر برآمدے میں بے چینی سے سگریٹ نوشی کرتا خبر کا منتظر تھا۔ رضا کی پہلی بیوی تاج ماہ ایک بچی کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تھی۔ دوسری شادی اس نے اپنے کمانڈنگ افسر کی

Read more

کتاب پڑھنے کا شوق اور محلے کی لائبریری

ہمیں آنہ لائبریری کے بارے میں صرف شنیدہ معلومات حاصل ہیں البتہ پچاس پیسے اور پھر ایک روپیہ فی دن کتاب کی ادائیگی کے ذریعے بڑی تعداد میں کتابیں اور رسائل پڑھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ ان دنوں کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔ ذاتی کتاب کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ وسائل کم تھے اور لائبریری سے کرایہ پر کتابیں اور رسائل لے کر پڑھنے کا شوق پورا ہوتا تھا۔ نیا افق، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ اور سب رنگ

Read more

حب: باد نسیم کا تازہ جھونکا

خیبر پختونخوا میں نوجوان اردو لکھاریوں کی تعداد بوجوہ نسبتاً کم اور خواتین لکھاریوں کی تعداد تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماضی قریب میں بے بدل پشتو افسانہ نویس زیتون بانو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں بڑی روانی سے لکھا کرتی تھیں۔ پشتو افسانہ پر تو آج بھی اس کہنہ مشق اور رجحان ساز افسانہ نگار کی چھاپ محسوس کی جا سکتی ہے۔ علمی اور ادبی خانوادہ کے چشم و چراغ اور شاعر و دانشور مرحوم سلیم راز

Read more

سندھی: وادی سندھ کی قدیم زبان

سندھی زبان کی دستاویزی قدامت نظر ڈالتے ہیں تو قدیم تحریروں میں سندھی زبان کی موجودگی نظر آتی ہے۔ تاریخی طور پر پروٹو دروڑی زبانوں، دراوڑی زبانوں، ویدک ثقافت یا دور اور سنسکرت کی پنینی کی لکھی گرامر دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں۔ سندھی زبان کی جڑیں ویدک دور یا وادیٔ سندھ کی تہذیب کے دور کی دراوڑی زبانوں سے پہلے پروٹو دراوڑی زبانوں تک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ انڈس اسکرپٹ کے ساتھ بھی جڑی ہوں۔

Read more

دید کے قابل مگر کیسے

گئے دنوں میں عورتوں کے رسالوں میں چھپی کہانیوں میں مرد و خواتین کرداروں کے سراپے ان کی لکھاریوں کی تشنہ لبی کے غماز ہوا کرتے تھے۔ مرد ہمیشہ دراز قد اور وجیہہ ہوا کرتے تھے جو پینٹ پہنے میچنگ یا کنٹراسٹ کوٹ میں ملبوس پائیں باغ میں نازک اندام لمبی زلفوں میں پھول سجانے والی انتہائی ڈرپوک چھوئی موئی مگر شام کے دھندلکے میں اپنے ہیرو سے ملنے کے لیے ہر دم تیار ہیروئن کا انتظار کرتے پائے جاتے۔

Read more

اردو ادب کے تین سوتیلے بچے

ہم سب یہ تو جانتے ہیں کہ اردو ادب کے بہت سے بچے ہیں لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کچھ بچے سگے ہیں اور کچھ بچے سوتیلے۔ سگے بچوں میں غزل، نظم، افسانہ، ناول اور ڈرامہ شامل ہیں جبکہ انٹرویو، خطوط اور ڈائری سے سوتیلے بچوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں وہ عزت اور عظمت نہیں ملتی جو سگے بچوں کو ملتی ہے۔ شاید اسی لیے میرے دل میں سوتیلے بچوں کے لیے ایک

Read more

ناموز بلوچ گلوکار ناکو فیض محمد

”او ناز حسن والا دل منی برتا لعلء“ موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے۔ موسیقی انسان کے شعور میں وسعت پیدا کرتی ہے یہ جمالیاتی احساس اور امن کو فروغ دیتی ہے یہ معاشرے کی بانجھ پن کو اپنے سروں کہ لمس سے سیراب کرتی ہے اس سے ایک سوچنے اور سمجھنے والا معاشرہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں موسیقی کو جاننے والے ہی موسیقی کے قدر داں ہوتے ہیں۔ شاعروں کے اشعار کو زندہ رکھنے اور ان کو دوام

Read more

بھوپال کی والی ریاست نواب شاہ جہاں بیگم کے قومی و علمی کارنامے

نواب شاہ جہاں بیگم کے قومی و علمی کارنامے 1838 تا 1901 بھوپال ہندوستان میں خود مختار ریاست بھوپال کا دارالخلافہ ہوتا تھا۔ اس کو جھیلوں کا شہر بھی کہا جاتا کیونکہ یہاں بہت سی قدرتی اور انسان کی بنائی جھیلیں پائی جاتی ہیں۔ برطانوی دور میں اس کا فرمانروا نواب آف بھوپال ہوتا تھا۔ یہاں بدھ مذہب کے عروج و زوال کے نقوش پائے جاتے ہیں۔ ایک قدیم خانقاہ ہے جس کی تاریخ 250 ق م سے شروع ہوتی

Read more

دلِ بے تاب: ڈاکٹر شیر شاہ سید کی نئی کتاب

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ شیر شاہ کون؟ تو میں کہوں گی کہ سماج میں بکھرے رنج و الم کو سمیٹنے کا دوسرا نام شیر شاہ سید ہے۔ سالہا سال سے ڈاکٹر شیر شاہ نام و نمود کی طمع سے دور، انسانیت کا بھاشن دیے بغیر مصروف پیکار ہیں ؛کبھی غریب عورتوں کے فیسٹولا کے لیے مفت سرجری کیمپ لگاتے ہوئے تو کبھی سماج میں بکھری، دلوں کو چیرتی کہانیوں کو قلمبند کرتے ہوئے، تو کبھی ہفتہ وار ریڈیو

Read more

غزہ والوں کی نسل کُشی اور ایک نظم

عین ایسے سفاک موسم میں کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کے کلی اتلاف پر تلا بیٹھا ہے۔ جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں پر امداد کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں اور مغرب کے انسان دوست عوام، اپنے حکمرانوں کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، پاکستان میں مشاعروں کا موسم چل ہے۔ ملکی میڈیا سیاست سیاست کھیل رہا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کے حواس کا ناس مار رکھا ہے۔ جی،

Read more

ثمرا کوثر کی کتاب علیم الحق حقی اور تصوف پر ایک نظر

راجپوت اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ثمرہ کوثر نے ساہیوال کی تحصیل چیچا وطنی کے ایک گاؤں میں انکھ کھولی۔ بچپن ہی سے لکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا پانچویں کلاس کے بچے جب کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں تب انہوں نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم کو پڑھ لیا تھا۔ جیسے جیسے شعور کی پختگی ہوئی تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی راغب ہوئی۔ ان کی ابتدائی تحریریں آنسو اور

Read more

کھیل انڈوں کا ہوا

لڑنا لڑانا اچھی بات نہیں۔ اس کام میں دونوں فریق خسارے میں رہتے ہیں۔ ایک کی چونچ اور دوسرے کی دم گم ہو جاتی ہے۔ لڑائی سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دانا لوگ تو آنکھیں لڑانے سے بھی گریز کرتے ہیں کیوں کہ اس کھیل میں بھی دھول دھپے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لڑائی کی ایک صورت البتہ ایسی ہے جس میں عزت محفوظ رہتی ہے، خواہ آپ سادات ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک معصوم سی صورت ہے۔

Read more

ٹوپی کیسی پہنوں؟ داڑھی کیسی رکھوں؟

حال ہی میں علماء کی ایک تنظیم ملی مجلس شرعی کا لاہور میں اجلاس ہوا اور اس میں جماعت اسلامی کے فرید پراچہ صاحب سمیت بہت سے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں جو سوچ و بچار کی گئی اس کا زیادہ تر نشانہ احمدی تھے۔ اس اجلاس کے آخر میں جو قرارداد منظور کی گئی اس کا لب لباب یہ تھا کہ فوری طور پر پاکستان کے آئین اور قوانین میں کچھ

Read more

مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ

مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ (ایک سرسری جائزہ) بنی آدم کی عمر افریقہ میں دریافت شدہ انسانی آثار کے مطابق 20 لاکھ سے کم نہیں جبکہ پاکستان کے خطے میں انسانی تہذیب کے آثار 4 لاکھ سال تک پرانے بتائے جاتے ہیں۔ یہاں کی قدیم تہذیب راولپنڈی کے قریب سوانی (پوٹھوہاری) تہذیب گردانی جاتی ہے۔ ان کے باشندوں کی نسل، زبان، رنگ اور کھیتی باڑی کے آغاز کے بارے زیادہ معلومات

Read more

انگریزی ادب کے نامور پرفیسر مراد علی کی شخصیت

گورنمنٹ کالج چترال میں داخلہ لینے کے بعد پہلے دن انگریزی کی کلاس میں داخل ہوا تو ایک دراز قد، وجیہ صورت، خوش لباس اور ہنس مکھ انسان ڈائس پر پہلے سے موجود تھے۔ ان کا دبدبہ قابل دید تھا۔ جب پڑھانا شروع کیا اس کے کیا ہی کہنے۔ ان کا لہجہ، ان کا انداز بیان، زبان پر عبور، الفاظ کا چناؤ اور اہل زبان کی طرح ان کی ادائیگی سب قابل رشک تھے۔ پہلی کلاس میں کم پڑھایا لیکن

Read more

پیدائش مخالف فلسفہ، فیمنزم اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی – حصہ دوئم

گزشتہ بلاگ میں ہم نے پیدائش مخالف فلسفے (Antinatalism) کے تعارف اور تاریخ پہ سرسری نگاہ ڈالی تھی۔ مختصر سے وقت میں یہ فلسفہ اس مقام پر آن پہنچا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک آبادی میں بے پناہ اضافے کا رونا رونے والی دنیا آج تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبادی سے پریشان ہے۔ جہاں ایک صدی پہلے تک ایک عورت چھ سے دس بچے پیدا کرتی تھی عالمی اوسط شرح پیدائش کے مطابق اب وہی عورت ایک سے

Read more

کالم لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

لکھتے وقت یہ طے کریں کہ آپ کس طبقے کے لیے تحریر لکھ رہے ہیں۔ کیا یہ سکالرز کے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے؟ عام لوگوں کے لیے ہے تو عام فہم الفاظ استعمال کریں۔ مختصر ترین الفاظ میں موقف دیا جائے اور جس موضوع پر تحریر لکھ رہے ہیں اس پر فوکس کریں، درمیان میں غیر متعلقہ موضوعات کو چھیڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔

چند برس پہلے تک اردو کے اخباری کالم کی طوالت سولہ سو الفاظ کی ہوتی تھی۔ پھر چودہ سو تک بات آئی اور اب ہزار لفظوں میں بات کہنے کا حکم ملتا ہے۔ اب نوے فیصد سے زیادہ افراد موبائل کی چھوٹی سکرین پر تحریر پڑھتے ہیں۔ ان کی توجہ کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی میڈیا پر رجحان پہلے 800 الفاظ کی تحریر کا ہوا تھا، اب پانچ چھے سو الفاظ تک بات آ رہی ہے۔ جملے چھوٹے لکھنے چاہئیں۔ طویل جملے لکھے جائیں تو پڑھنے والا تو ایک طرف، لکھنے والا خود بھی بھول جاتا ہے کہ وہ کیا بات کہہ رہا تھا۔

Read more

کامرس کالج مونگ کی یادیں

میٹرک کے بعد گورنمنٹ کامرس کالج مونگ میں داخلہ لیا تو گاؤں سے شہر جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا، کالج میرے گاؤں سے پینتیس کلو میٹر دور تھا، لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ کالج میں داخلے کے بعد ہوا۔ کامرس سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں تھی، ہوا یوں کہ رسول کالج یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے ڈپلومے میں داخلے کے لیے کوشش کی، میرٹ میں میرا نام سیلف فنانس میں آیا اور وہ

Read more

کتاب ”کال بلیندی“ میں پنجابیوں کی 1857میں جد و جہد کا تذکرہ

”کال بلیندی، 1857 کی جنگ آزادی کے ہیروز کا ایک گہرا اور باریک بینی سے تحقیق شدہ بیان ہے، جیسا کہ ساہیوال اور آس پاس کے علاقوں جیسے گوگیرہ بنگلہ، فیصل آباد، ہڑپہ اور مزید کئی علاقوں کے مقامی لوگوں نے تجربہ کیا اور بیان کیا۔ یہ پنجابی میں اے ڈی اعجاز کی ایک نایاب تصنیف ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1983 میں پنجابی ادبی بورڈ لاہور نے شائع کیا تھا اور بعد میں اس کے چار ایڈیشن چھاپے

Read more

ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر: ایک مطالعہ

شاہد صدیقی اپنی اس کتاب کا ست ان سطور میں پیش کرتے ہیں : ”میں عالم محویت میں راج کی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ جب بات کرتا تو سننے والے کا جی چاہتا کہ یہ گفتگو بھی ختم نہ ہو۔ راج کہہ رہا تھا۔ زندگی اتفاقات کا کھیل ہے۔ چلتے چلتے کسی موڑ پر کوئی حیرت ہماری منتظر ہوتی ہے۔ کبھی اس حیرت کا مرکز کوئی منظر ہوتا ہے، کبھی کوئی چہرہ کبھی کوئی واقعہ اور کبھی کوئی مشاہدہ۔“

Read more

ایرانی مہمان اور ادب نواز شہباز شریف

جس وقت امریکہ کی افغانستان میں گوٹ پھنسی ہوئی تھی اور اسے پاکستان کی ضرورت تھی تب پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے امریکی استثنٰی ملنے کے امکانات زیادہ تھے مگر اس موقع پر بھی پاکستان اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مروتاً استعمال نہ کر پایا۔

Read more

آئی اے رحمان کے مطالعہ کی وسعت

مسعود اشعر صاحب نے اپنے کالم میں آئی اے رحمان صاحب کی اردو ادب پر گہری نظر کی بات کی جس کا اندازہ انھیں ایک ادبی فیسٹیول میں ان کا خطبہ سن کر ہوا۔ اتفاق کی بات ہے جس روز رحمان صاحب کی رحلت ہوئی، معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ مجلس ترقیٔ ادب کے ناظم تھے تو ایک دفعہ وہ ان کے دفتر تشریف لائے تھے۔ ان کی

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال کی کتاب: پلیٹو سے ما بعد جدیدیت تک مغربی ادب

زیر نظر کتاب ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جس نے ایک نہایت دلچسپ محرک کے تحت کتاب لکھی یہ تحریک شاید ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ دراصل یہ مصنف کی ایک دلچسپ ادا معلوم ہوتی ہے لیکن اس ادا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مجھے پڑھنے کو کوئی کتاب نہیں مل رہی تھی سوچا کہ کیوں نہ کتاب خود لکھ لی جائے اور اسے پڑھا جائے“ یہ

Read more

دوپہر کا چاند ؛ ایک تاثر

”دوپہر کا چاند“ نذیر قیصر کی شاعری کا گیارہواں مجموعہ ہے۔ اس تازہ کتاب کے مقدمے اور غزلوں کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے ان کے لیے شاعری محض فنی اظہار نہیں ہے زندگی کرنے کا اسلوب ہے۔ وہ جو بلھے شاہ نے کہا تھا کہ ”رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی“ تو اس کی ایک تفسیر آپ کو یہاں ملے گی۔ اپنے اشعار میں اور ’پہلا حرف‘ کی نثر میں بھی، متن تشکیل دیتے

Read more

مذہبی انتہا پسندی

مذہبی انتہا پسندی جدید دور کی دنیا میں پاکستان کے انسانی حقوق کی صورتحال کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان میں ہندو، مسلمان، سکھ، مسیحی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنے گھروں اور کام کی جگہوں پر خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ آج ہم مذہبی انتہا پسندی کی تاریخ اور اس کی وجوہات کو تلاش کرنے کے کوشش کرتے ہیں۔ انتہا پسندی کا پتہ 1970 کی دہائی سے لگایا

Read more

انگلش کے پروفیسر کی انوکھی پیشکش

  اللہ اللہ کر کے کالج میں ہمارے داخلے ہو گئے۔ وہ کالج میں ہمارا پہلا دن تھا۔ اکیڈمی کو شروع ہوئے تو کئی ماہ ہو گئے تھے۔ جہاں ہم نے ہر مضمون کے کئی کئی باب پڑھ لیے تھے۔ سو کالج میں پڑھنے کی کیا سکیم ہوگی؟ اکیڈمی میں جہاں تک پڑھا تھا کیا کالج اس کے آگے سے شروع کرے گا؟ مگر طلبا تو مختلف اکیڈمیوں میں پڑھ رہے تھے۔ ہر اکیڈمی کی پڑھائی کی اپنی رفتار تھی۔

Read more

موقر صحافی سید حیدر تقی انتقال کر گئے

  موقر صحافی اور روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے کے انچارج سید حیدر تقی اتوار 21 اپریل کو طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ حیدر تقی کا تعلق فکر و ادب اور فن و صحافت میں کمالات کے لیے بین الاقوامی شہرت کے حامل خانوادے سے تھا۔ ان کے والد مشہور فلسفی اور روزنامہ جنگ کے سابق مدیر سید محمد تقی تھے، تایا شاعر و کالم نگار رئیس امروہوی اور چچا شاعر جون ایلیا تھے۔ حیدر تقی

Read more

پاکستان کی تاریخی سفارتی جست

صحافت کے دور ’زوال‘ میں آنکھیں کھول کر کالم نگاری کی شد بد حاصل کرنے والے ایک یار عزیز نے پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن برادر محترم وجاہت مسعود نے مولانا مودودی علیہ رحمہ کی پیروی میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے کہ مولانا کی زبان یا قلم سے کبھی کوئی سوقیانہ بات نہیں نکلی۔ کبھی انھوں نے کسی مخالف کو شیطان قرار دیا نہ طوائف جیسے لفظ سے اپنے قلم کو آلودہ کیا۔ یہ طرز تکلم

Read more

ایک ادبی میلے کی روداد

اس دفعہ بڑے عرصے بعد ایک ادبی میلے میں چلے گئے۔ ہماری ایک دوست ہیں بڑی اچھی افسانہ نگار، ان کا افسانہ سننے کے لیے۔ لیکن اس سے پہلے بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑنا۔ پہلے مرحلے میں سب دیے گئے ہوئے موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ بہت سارا وقت اپنے مربی کے قصیدوں میں بتا دیتے، جو تھوڑا بچتا، وہ اپنی تعریفوں کی نذر کر دیتے۔ گفتگو بڑی جذباتی ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہنسی کوئی بیتی ہوئی

Read more

کاریزوں میں بہتا پانی

علامت جب واضح ہو تو علامت نہیں رہتی اور علامت جب چھپی ہوئی یا محتاج ابلاغ ہو تو ملامت نہیں ہوتی البتہ اگر تنقید کی نئی تھیوری کے مطابق اس کو ڈسٹرکٹ کر کے اس کے مترادفات کے مترادفات پر غور کیا جائے تو یہ کاریز، کاریز نہیں بلکہ انسانی رگوں سے مشابہ اور اس میں بہتا پانی انسانی خون کی صورت میں دکھنے لگتا ہے۔ اور پھر جب یہ کاریز اجتماع کی حالت میں ہو تو یہ پورے سماج

Read more

محترم جاوید احمد غامدی کو سالگرہ کی مبارکباد

غامدی اسکول آف تھاٹ کی بنیاد رکھنے والے جاوید احمد غامدی کا آ ج جنم دن ہے، ان کو ہماری طرف سے جنم دن کی نیک شبھ کامنائیں۔  نظریاتی وفکری اختلافات اپنی جگہ لیکن جو ظرف اور وسعت قلبی انہوں نے پائی ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے اور ہمارے ہاں اس کا بہت زیادہ فقدان ہے بلکہ ناپید کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔  روایتی فکر کو اندر سے ضرب لگانے اور بوسیدہ و من گھڑت روایات کو چیلنج کرنے کی

Read more

پیرانہ سالی اور پولیس

پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ جاننے والے اظہر مسعود سے ضرور واقف ہوں گے، اظہر مسعود چوہدری اس زمانے میں ٹی وی رپورٹنگ کیا کرتے تھے جب پاکستان میں اکلوتا پی ٹی وی تھا، اظہر مسعود نے پارلیمانی رپورٹنگ بھی کی، وہ کئی وزرائے اعظم اور صدور کے ساتھ بیرونی دوروں میں شامل رہے، انہوں نے بھٹو اور بھٹو کے بعد آنے والے حکمرانوں کو بہت قریب سے دیکھا، پی ٹی وی میں ترقی کرتے کرتے کنٹرولر نیوز کے

Read more

واہ استاد مارکیز، تم تو اپنے نکلے!

شام کا وقت، تنہائی، ہاتھ میں کافی کا مگ اور کہانیوں کی کتاب پڑھتے ہوئے اگر ہم بے اختیار اچھل پڑیں تو ارد گرد والے یقیناً سوچیں گے کہ بڑھیا کا دماغ چل گیا!

اور ہم زور زور سے ہنستے ہوئے کہیں گے۔ واہ استاد مارکیز کیا تمہیں الہام ہوا تھا کہ ویجائنل لاک کا انکشاف ہمیں کیسا رسوا کرے گا سو تم پہلے سے ہی اس کا انتظام کر گئے۔

کہاں ساؤتھ امریکہ کا نوبل انعام یافتہ ادیب اور کہاں پاکستان کی یہ لکھاری۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں؟

صاحب فکشن اور نان فکشن کے بیچ کھچی لکیر اس قدر نادیدہ اور باریک ہے کہ زندگی کے تلخ سچ کو اسے پار کر کے کہانی بننے میں کچھ دیر نہیں لگتی۔

آخر کہانی ہے کیا؟

Read more

عرب میں بطور چیلنج خانہ کعبہ پر لٹکائے گئے شاہکار قصیدے (سبعہ معلقات) دوسرا حصہ

مضمون کے آخری حصے میں سبعہ معلقات کے شعراء کا تعارف اور ان کے کلام کے موضوعات کا مختصراً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سبعہ معلقات کے پہلے شاعر ”امرؤ القیس (م 539 ) کا پورا نام ابو الحارث حندج بن حجر الکندی تھا یہ نسلاً قحطانی تھا اسے الملک الغلیل یعنی گمراہ بادشاہ اور ذوالقروح یعنی زخموں والا بھی کہا جاتا تھا۔ امرؤ القیس نے شاعری میں بعض ایسی اصناف اور موضوعات متعارف کروائے جس کی مثال اس سے

Read more

فرانسس بیکن کا مضمون: تعلیم

Title of Essay: Of Studies Author: Francis Bacon مترجم : حسیب ارشد مطالعہ (حصول) حظ، زیبائش اور (فروغ) استعداد کا ذریعہ ہے۔ خلوت اور گوشہ نشینی میں حظ انگیز ہے۔ گفتگو کی زینت ہے۔ اور کاروبار (حیات) کی فیصلہ سازی و انجام دہی میں معاون ہے۔ اگرچہ ماہر شخص کام کی انجام دہی اور شاید جزئیات میں طاق ہوتا ہے لیکن جامع صلاح و تجویز، منصوبہ سازی اور معاملات کی تنظیم کے لیے تعلیم یافتہ شخص ہی بہترین ہوتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر حبیب الرحمان کا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“

محترم ڈاکٹر حبیب الرحمان مقیم کینیڈا کا نیا شعری مجموعہ ”دشت تشنگی“ کے نام سے پی ڈی ایف فارمیٹ میں ایک سانجھے دوست ندیم احمد مرزا مقیم انگلستان کی توسط سے وصول ہوا۔ ندیم صاحب شکریہ کے حقدار ہیں کہ انہوں نے ایک بہترین شاعر کی تخلیقات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ چونکہ ادب و شاعری سے اتنا تعلق تو ہے کہ پڑھتا بھی ہوں، سنتا بھی ہوں۔ لاہور میں اور جرمنی میں متعدد مشاعروں میں شرکت بھی

Read more

اے حسن دل آویز عجب مختصری ہے

ان دنوں سوشل میڈیا پہ قتالۂ عالم کرینہ کپور کی تازہ ترین تصاویر نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ گو کہ خوبصورت ترین اداکارہ کی ہر تصویر ہی سراہی جاتی ہے، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ کئی کئی ملین لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہے لیکن حالیہ تصاویر کے وائرل ہونے کی وجہ مختلف ہے۔ اداکارہ نے میک اپ کے بغیر اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں اداکارہ کے چہرے کی جلد بہت خراب نظر آتی ہے، داغ اور

Read more

مغلیہ دور کا علم و ادب، فن اور کتب خانے

مغلیہ خاندان کے بادشاہ تعمیرات، علوم و فنون کے بڑے سر پرست تھے۔ بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک مغل بادشاہوں نے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ میں نہایت دلچسپی لی۔ کتاب سازی اور کتب خانوں کو اس دور میں خاطر خواہ فروغ ہوا، بابر نے ہندوستان کو فتح کیا تو فن مصوری اور با تصویر مخطوطات کے فن کو اپنی سر پرستی عطا کی۔ بابر نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تزک بابری میں کتابوں

Read more

وجاہت مسعود سے ملاقات (ادھوری چاہت کی تکمیل)

اچھے طالب علم کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کی تحریروں کے ساتھ شامیں گزارتا ہو، جن کی لکھت سے صبح کا آغاز کرتا ہو، ان لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتا ہے۔ میں خود کو اچھا طالب علم تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں سے ملنے کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے جن کی نثر اور شاعری سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں۔ میری عادت ہے کہ صبح اٹھتے ہی

Read more

موٹاپا، ماسی اور میم صاحبہ

انسانیت مختلف انواع و امراض اور ابتلا کا شکار رہی ہے۔ اور ہر مرض پہ لوگ تف بھیجتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ خال خال ہی ایسا شخص میسر ہوتا ہے جو اپنے مرض پہ نہ صرف خوش ہو بلکہ مرض پہ فخر کا ذوق بھی رکھتا ہو اور طوالت مرض کا دعاگو بھی ہو۔ اور عمر قلیل چاہتا ہو ایسے شخص کو ”شاعر“ کہتے ہیں۔ ہماری شاعری میں اور تو جو کچھ ہے سو ہے مگر یہ کمال ضرور وقوع

Read more

فرانس کے بارے میں چند دلچسپ حقائق

1: فرانس زمینی رقبے کے اعتبار سے یورپین یونین کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا حدود اربعہ بہت متنوع ہے اور یہاں فرینچ ریوئیرا کے ساحلوں سے لے کر ایلپس کی برف پوش چوٹیاں اور بورڈو کے طویل ونیارڈ (انگور کے باغات) پائے جاتے ہیں۔ 2: فرانس کی قومی زبان فرانسیسی ہے جسے ”سفارت کاری کی زبان“ بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان رقابت اور جنگوں کی تاریخ کے

Read more

امر سنگھ چمکیلا: پنجاب کے ’باغی راک سٹار‘ جن کا صرف 27 سال کی عمر میں قتل آج تک ایک معمہ ہے

امر سنگھ چمکیلا کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھی؛ کم عمری میں ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لینے والا ایک گلوکار جس کا سفر ایک تکلیف دہ موت پر ختم ہوا۔

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

استاد، ہمارا معاشرہ اور مسائل

استاد کا پیشہ نبیوں کا پیشہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ “ استاد کی اہمیت، عزت و احترام سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک معلم صرف پڑھاتا نہیں ہے بلکہ مختلف شعبہ جات کے سی ای اوز، انجنیئرز، طبیب، سیاستدان، سائنسدان اور دیگر کامیاب شخصیات تخلیق کرتا ہے۔ اپنا علم طلبا و طالبات میں بانٹ دیتا ہے۔ ان کی شخصیت کو بنانے اور سنوارنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا

Read more

اپُن کا کرانچی (3)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

سرکاری محکمہ جات کا طرز عمل

زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ بلال ایف ایس سی کر چکا تھا۔ اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ جو میری بہت بڑی خواہش تھی۔ اب وہ دوبارہ ایڈیشنل میتھ کا پرچہ دینے کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ہی دوبارہ انٹری ٹیسٹ کے لیے بھی متعلقہ سلیبس وغیرہ دیکھ رہا تھا۔ ایف ایس سی کے امتحان شروع ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہمیں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ایڈمیشن بورڈ کی طرف سے ایک

Read more

لاہور اور کراچی کا ایک تقابلی جائزہ

2020 میں کراچی چھوڑ کر لاہور ہجرت کی تو ایسا لگتا تھا کہ بقیہ عمر ساری شہرِِ جاناں کا غم کھا جائے گا۔ اور کچھ حد تک ایسا ہوا بھی۔ سو ایک ڈیڑھ سال تک ہمیں اپنے شہرِِ گزشتہ کا ہجر دیمک کی طرح کھاتا رہا مگر رفتہ رفتہ جذبات ماند ہوئے اور عقل انگڑائیاں لے کر اُٹھی تو حقائق پر غور شروع کیا۔ الغرض آج کی تاریخ میں کراچی اور لاہور کا تقابل کرنا ہو تو ہمارے چند معروضی

Read more

تقسیم ہندوستان میں لاہور پر کیا گزری

لاہور کو اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ شہر بیک وقت بدقسمتی اور خوش بختی کا استعارہ ہے۔ خوش قسمت یوں کہ یہ ہزاروں سال سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے اور بدقسمت ایسے کہ مختلف ادوار میں کئی ایک حملہ آور حکمرانوں کی منشا کے مطابق سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشی اور نظریاتی رنگ بدلتا رہا ہے۔ اس خوش قسمتی اور بد قسمتی کے درمیان میں ایک بات تو قابل ذکر ہے کہ لاہور نے اپنا مرکزی

Read more

عرب میں بطور چیلنج ”خانہ کعبہ“ پر لٹکائے گئے شاہکار قصیدے (سبعہ معلقات) پہلا حصہ

عربی زبان و ادب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں عہد جاہلیت کی شاعری خصوصاً سبعہ معلقات کو انتہائی منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ سبعہ معلقات ان سات قصائد کو کہا جاتا ہے جنہیں اظہار مقبولیت ’شہرت کی غرض سے اور چیلنج کے طور پر خانہ کعبہ پر لٹکایا گیا تھا۔ معلقات کا مطلب بھی لٹکایا جانا ہے۔ سبعہ معلقات پر مزید تحریر کرنے سے پہلے عربی زبان و ادب کی تاریخ پر مختصراً نظر ڈالنا

Read more

ایک شہر کی کتھا کا قصہ خواں

یہ ستمبر 2010 کا ذکر ہے۔ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور میں آٹھویں سینئر مینجمنٹ کورس ( ایس۔ ایم۔ سی) کا آغاز ہوا۔ اس بار شرکاء کی تعداد سب سے بڑھ کے تھی یعنی 131۔ وفاقی سول سروس، صوبائی سول سروسز اور دوسرے اداروں کے وہ افسران جو گریڈ انیس میں ایک بڑے عرصے تک ملک و قوم کی خدمت کرتے کرتے نڈھال ہو چکے گریڈ بیس کے تازہ چمن میں حیاتِ نو کا سرور پانے کو بے چین

Read more

نام میں کیا رکھا ہے : کیف الحال سے چوتھا انتخاب

پچیس سال پرانی یہ تحریر اردو ادب کی مزاحیہ صنف میں موجود قحط کو کم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد نہ تو اہل عرب کی تذلیل ہے اور نہ ان کا مذاق اڑانا بلکہ یہ بتانا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست سے بنے انسان ہیں، جن کے زندگی گزارنے کے اپنے قاعدے قانون ہیں اب ان سے ہماری نا واقفیت کیا کیا گل کھلاتی ہے یہ ہمارا قصور ہے۔ تحریر کہ بعض حصوں

Read more

بڑے لوگوں کا بچپن: باتیں رضیہ فصیح احمد سے

ویسے تو اردو ادب کی لیجنڈ، ”آبلہ پا“ ناول آدم جی پرائز یافتہ، رضیہ فصیح احمد، جنہیں میں رضیہ آپا کہتی ہوں، میری زندگی میں ابتدائی لڑکپن سے ہی داخل ہو چکی تھیں لیکن صرف اپنی تحریروں کے حوالے سے۔ خوش قسمتی سے اب وہ باقاعدہ میری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ عمر کے فرق پہ مت جائیے گا۔ ہم دونوں ہی امریکہ نقل مکانی کے تجربے سے آشنا ہوئے اور ہم مزاج لوگوں کے متلاشی رہے ہیں۔ اسی تلاش

Read more

جوتی کلش چھلکے

آصف فرخی نے کسی زمانے میں اپنے ایک انگریزی مضمون میں محمد سلیم الرحمن کو Invisible Man لکھا تھا. اب ان وزیبل مین کا ترجمہ کیا ہو ؟ "نادیدنی آدمی” مگر نہیں؛ یا شاید "غیر مرئی آدمی”! غیر مرئی یعنی جسے کوئی دیکھ نہ سکے چھو نہ سکے! مگر سب سے سچی بات تو میر صاحب نے کہہ رکھی ہے دیدنی ہے پہ بہت کم نظر اتا ہے میاں  ہمارے سلیم صاحب ہیں ایسے ہی ادمی: دیدنی آدمی اور دیدنی

Read more

رحمن اینڈ رحمن: دھوپ کا ٹکڑا اور بادل کی چھائوں

شہر تو سب پیارے ہوتے ہیں، زمین کو آسمان سے ملاتی ہوئی لکیر پر اونچی نیچی مانوس عمارتیں، کہیں برسوں سے خاموش کھڑے پیڑ جن کے نیچے کسی تیز رفتار فلم کے منظر کی طرح بے نیازی سے گزرتے چہرے۔ کہیں ٹھنڈے پانی کے شفاف دھارے، کہیں وسیع شاہراہیں، کہیں بل کھاتی گلیاں، آوازوں سے گونجتے گلیارے، بازاروں میں لین دین کی فکر میں غرق دکاندار۔ مٹی سے پیالے صراحیاں، لکڑی سے سامان راحت اور لوہے سے کارآمد اوزار تراشتے

Read more

”چراغ زینت“ علمی، ادبی اور صحافتی مضامین کا گلدستہ

کہتے ہیں کتابیں تنہائی کی بہترین دوست، علم ادب کا گہوارہ اور سوچ کے موتیوں کا خزانہ ہوتی ہیں۔ ان میں ادب کی خوشبو، علم کی فراوانی، نظریات کے جال، حال دل کے قصے، زمانوں کا ذکر، قوموں کی تاریخ، اصلاح احوال اور باطنی و خارجی مشاہدات کا عرق شامل ہوتا ہے۔ روز اول سے لے کر تا حال لاکھوں، کروڑوں، اربوں بلکہ کھربوں کتابیں مشق سخن کی بدولت لائبریریوں، گھروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر

Read more

وفور کا ایک تجزیاتی مطالعہ

ہر تخلیق چا ہے وہ منظوم ہو یا منثور، پھر نثر میں ناول ہو یا افسانہ اس کا ایک خاص وصف یا ایک الگ خاصیت ہوتی ہے۔ اور اس ناول کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنا آغاز پانچویں باب سے کرتا ہے۔ اور یہ جو گزرے ہوئے چار ابواب ہیں وہ کسی ریسٹورنٹ میں دیے ہوئے سٹارٹر کی طرح ہے کہ یہ بھی کھانے کے تمام لوازمات میں شامل ہوتا ہے لیکن بنیادی خوراک سے چونکہ پہلے یا

Read more

گابرئیل گارسیا مارکیز کے گمشدہ ناول کی کہانی

کسی بڑے مصنف کی بعد از مرگ شائع ہونے والی کتاب کی کشش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً تب جب وہ طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا شکار ہو چکی ہو۔ ایسی کتابیں کبھی کبھی نہایت شاندار بھی ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں شاید سب سے مشہور مثال فرانز کافکا کی ہے، جس کے ایگزیکٹو نے اس کی اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا تھا کہ اس کی موت کے بعد اس کے تمام غیر مطبوعہ

Read more

صحرائے تھر کی مشہور و مقبول لوک داستان ڈھولا مارو

صحرائے تھر کی لوک داستانوں میں سب سے زیادہ مشہور و مقبول ڈھولا مارو کی داستان ہے۔ ریت کے ٹیلوں پر جب بھی بڑے بوڑھوں کی مجلس ہوتی ہے، تب بات سے بات نکلتے ہوئے ڈھولا مارو کے ایک دو دوہوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ ڈھولا اور مارُو کی محبت کی کہانی مختلف روایتوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق نرور کے علاقے میں قحط پڑنے پر، راجا نل اور اس کی رانی پنگل کے علاقے میں

Read more

اہل وطن کو سکھ بھری عید مبارک

خوشی کا موسم ہے کہ امت مسلمہ نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رمضان کے روزے رکھے اور تزکیۂ نفس کے عظیم الشان دور سے گزر کر صبر و ایثار کی برکتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے میں میرے نوک قلم پر سکھ بھری عید مبارک کی اجنبی سی ترکیب کیوں آئی ہے۔ شاید اس کی وجہ ہمارے بلند مرتبہ انشا پرداز جناب عرفان صدیقی اور کمال کے زباں داں جناب وجاہت

Read more

جیفری چاسر کی پاکستان دشمنی

زمانہ طالب علمی میں پتا چلا کہ جیفری چاسر کو انگریزی ادب کا بابائے آدم کہا جاتا ہے۔ چونکہ وہ دن مطلق جہالت کے دن تھے، لہذا چاسر کی کینٹربری ٹیلز نے بڑا مزا دیا۔ بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل کافی عرصہ سے انگریزی اور انگریزوں کے افکار سے دور رہنے کے بعد ادراک کے کچھ نئے پہلو آشکار ہوئے ہیں، اور شدت سے احساس ہوا ہے کہ چاسر ایک فتنہ پرور اور پاکستانی قوم کا کٹر مخالف گورا تھا

Read more

تبدیلی

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی انسان کو دیکھ کر بے اختیار سوچتے ہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ اس پر ایسے کون سے حالات و واقعات گزرے ہوں گے کہ یہ اس حال میں پہنچ گیا۔ ہر انسان تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ کسی میں تبدیلی غیر محسوس طریقے سے ہوتی ہے تو کسی میں ایک دم بہت بڑی تبدیلی آ جاتی ہے۔ ہمیں خود اپنے اندر ہونے والی تبدیلی کا اندازہ نہیں ہوتا

Read more

کاشف رضا اور ایک عورت کا باغ

نئی صدی کے طلوع ہوتے ہی جن نئے تخلیق کاروں نے ادبی منظر نامے پر اپنے دستخطوں کی ایسی فصل سجائی کہ وہ مرکز نگاہ ہو گئے ان میں سید کاشف رضا کو میں بہت نمایاں دیکھتا ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں اور ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ؛مگر ان کی ادبی اور علمی وابستگیوں کا دائرہ متنوع اور نہایت وسیع ہے۔ وہ عمدہ تخلیق کار ہیں ؛ عمدہ اور مختلف۔ شاعری، فکشن، تراجم غرض کون سا

Read more

برطانیہ کے ایک منفرد ٹیکسی ڈرائیور

پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے عمومی رویوں پر سب مسافر شاکی رہتے ہیں۔ ویسے پاکستان میں اب پرانی روایتی ٹیکسیاں خال خال ہی نظر آتی ہیں کیونکہ اب اوبر اور کریم جیسی کمپنیوں نے ٹیکسی کا کاروبار سنبھال لیا ہے۔ موجودہ دَہائی میں بہت سے بیرون ممالک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ یورپ مشرق وسطی اور مشرق بعید کے ممالک کی سیر کرنے کے دوران ٹیکسیوں پر بہت سے سفر کیے۔ سبھی ممالک میں ٹیکسی ڈرائیور کے رویے ایک

Read more

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

(وہ ایک ایسے میوزیم میں ملتے ہیں جہاں مورتیاں اور پینٹنگز ہندو دھرم کی پریم کتھائیں بیان کرتی ہیں۔ شکنتلا کے ملاپ کی مورتی، اروشی کی جدائی کی پینٹنگ، پریتم ملن کے بعد شکنتلا کی واپسی کی پینٹنگ۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور دونوں مہا بھارت کے کرداروں میں کھو جاتے ہیں۔ ) میں اس میوزیم میں صرف دو شہ پارے دیکھنے آتا ہوں۔ مرکزی ہال کے بیچ میں کھڑے شکنتلا و راجہ دشونت کی بغلگیر مورتیاں اور راجہ روی

Read more

قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

ایک محتاط اندازے کے مطابق مختلف معیاری، جامع اور ہمہ رنگ اصناف کے باوجود، نثری ادب میں ”آپ بیتی اور سوانح“ کو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ دیگر شعبۂ ہائے زندگی کے نمائندہ افراد کی تحریر کردہ آپ بیتیوں کے مقابل، اردو شعر و ادب سے وابستہ صاحبان قلم کی آپ بیتیاں اپنی ادبی چاشنی، مرصع اسلوب، دل آویز انداز بیاں، دل چسپ مشاہدات و واقعات کی بنا پر صاحبان ذوق

Read more

رمضان میں افطار دسترخوان کی شان سمجھے جانے والے پکوڑے کیا برصغیر سے مشہور ہوئے؟

انڈیا اور پاکستان میں شاید ہی کوئی مسلم خاندان ایسا ہو گا جن کے افطار دسترخوان پر پکوڑے نہ پیش کیے جاتے ہوں۔ افطار کا وقت اور شام کی چائے کا وقت ایک جیسا ہوتا ہے۔

Read more

گندم کی بمپر کراپ اور آٹے کا بحران

گزشتہ ہفتے کے آخری کالم میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر کے آخری حصے میں جی مچل رہا ہے کہ اپنی مادری زبان کے بجائے اردو یا انگریزی میں لکھنے کی مشقت سے نجات پائی جائے۔ پنجابی میں کالم نہ سہی کسی اور صنف میں بھی تخلیقی اظہار کے لیے اس زبان کے کلاسیکی ادب سے رجوع ضروری ہے۔ اس ضمن میں وارث شاہ کی ہیر کا بغور مطالعہ بھی درکار ہے۔گھر پہ رکھا ہیر کا مستند

Read more

یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟

قرآن کے مطابق یاجوج اور ماجوج سے خوف زدہ کچھ لوگوں نے ذوالقرنین کو یاجوج اور ماجوج کو روکنے کے لیے دیوار تعمیر کرنے پر آمادہ کیا۔ اس دیوار سے نہ تو پار اترا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔

Read more

الکا یاگنک۔ ایک مسحور کن آواز

جدید ہندی سینما کی عظیم گلوکاراؤں میں شمار ہونے والی الکا یاگنک گزشتہ چار دہائیوں سے سامعین کو اپنی سحر انگیز آواز کے جادو میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اپنے خوبصورت آواز سے بے شمار اعزازات جیتنے والی الکا نے دو نیشنل فلم اعزاز، دو بنگال فلمی صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے اعزاز، اور ریکارڈ *سات* فلم فیئر اعزاز (آشا بھوسلے کے ساتھ مشترکہ طور پر) جیتے ہیں (بطور بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے ) جبکہ وہ 36 مرتبہ اس

Read more

سوشل میڈیا کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

عام تاثر یہ ہے کہ نئی پیڑھی کے لوگ جدید علوم میں ہم سے اگے ہیں۔ یہ جدید دور کے لوگ ہیں۔ ان کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ہے۔ ان کو اس ٹیکنالوجی کے جدید شہکار ”سوشل میڈیا“ کا فائدہ حاصل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی برکات اور جوان نسل کی اس تک رسائی ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن کیا صرف ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس کی سمجھ کافی ہے؟ اور کیا جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت

Read more