ایک کلرک کی موت: (اینٹون چیخوف کا افسانہ)

ترجمہ: مسعود صابر وہ ایک بڑی شاندار رات تھی جب شاندار کلرک آئیوان دمتریچ چرویا کوف، انفرادی نشستوں کی دوسری قطار میں بیٹھا ’لا کلوچز دی کورن ول‘ کا اوپرا گلاسز کی مدد سے لطف اٹھا رہا تھا۔ وہ سٹیج کو دیکھ رہا تھا اور خود کو فانی انسانوں میں مسرور ترین تصور کر رہا تھا جب اچانک۔ ’اچانک‘ ایک گھسی پٹی ترکیب ہے مگر مصنفین اسے کیسے استعمال نہ کریں جبکہ زندگی حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ اچانک

Read more

7 کچھ تذکرہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک سرمن کا:لندن تا برمنگھم 

عین اِس وقت دریائے آکس کے کنارے آباد شہر آکسفورڈ میں بائیس اپریل دو ہزار چوبیس کی ابر آلود شام اپنی تمام تر رعنائیوں و حشر سامانیوں کے ساتھ پھیلنے کو ہے۔ شہر میں واقع دنیا کی نامی گرامی آکسفورڈ یونیورسٹی کی شارعِ عام پر واک کرتے کرتے ہلکی پھلکی بوندا باندی شروع ہو جاتی ہے تو راہ چلتی مخلوق کے سِر یک دم چھتریوں میں پنہاں ہو جاتے ہیں۔ کچھ لمحے بارش توقف کرتی ہے تو چھتریاں غائب اور

Read more

ایک ہی مریض پر ریاست اور کتنے آپریشن کرے گی؟

جہاں تک 10 برس پہلے منظور ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کا معاملہ ہے تو اس پر پورا چھوڑ چوتھائی عمل بھی نہ ہو سکا۔ حالانکہ اسے دو برس پہلے اپ ڈیٹ بھی کیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کی عملی اہمیت بس اتنی ہی رہ گئی ہے جتنا کہ قائدِ اعظم کے فرمودات کا عملی احترام۔

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

سندھی دانشوروں کا کردار

سندھ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ سندھ کے دانشوروں کا سندھی ادب اور سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے ون یونٹ کے دور میں تو سندھ کا نام لکھنا بھی جرم تھا۔ لیکن سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، قوم پرستوں اور فنکاروں نے ون یونٹ کے خلاف بڑی جدوجہد کی تھی۔ سندھ کے قوم پرست بھی بڑے دانشور اور تخلیق کار تھے جس میں سائیں جی ایم سید، ابراہیم جویو اور رسول

Read more

"متن ،قرات اور نتائج”:تعارفی مطالعہ

تخلیق، تنقید اور تحقیق ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو ادب کا معیار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ محاسن و معائب میں فرق کرنا ،اوصاف و اقدار کا تعین کرنا اور موازنہ و ترجیح اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ شوماخر نے اپنی کتاب “Elements of Critical Theory”میں تنقید کے حوالے سے جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے ،وہ غیر جانب داری(Unbiasedness)ہے۔معاصر عہد میں کئی ایسے ناقدین ہیں

Read more

منیر نیازی سے ایک یاد گار ملاقات

حامد یزدانی کے ادبی محبت نامے کا جواب محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے میں اپنے والد یزدانی جالندھری صاحب کے بارے میں مختصر مگر جامع تعارف رقم کیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس سے ’ہم سب‘ کے قارئین کو ان کی تخلیقات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کی تحریک و ترغیب ہوگی۔ یہ بات آپ کی مجھ سے بے پناہ محبت کی عکاس ہے کہ آپ کو مجھ میں اور اپنے

Read more

ملازمت کا یوم اول

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہوئی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں پرچہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو کو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

میل پتھروں کے درمیان

محبی نیر مصطفیٰ کا واٹس ایپ پر صوتی پیغام ملا کہ آتی جمعرات کو ملتان آرٹس کونسل میں اس کے اعزاز میں ایک تقریب ہے آپ ضرور آئیے گا۔ ملتان آرٹس کونسل کا نام سنتے ہی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی اور وہ سینہ زور رقاصائیں یاد آ گئیں جن کے دم سے آرٹس کونسل آباد تھی۔ بچارے نثر نگار تو اردو اکادمی یا ملتان آرٹس فورم تک ہی پر مار سکتے تھے۔ پھر اچانک ذہن میں آیا کہ ادھر

Read more

مشتاق احمد یوسفی کی چھٹی برسی

مشتاق احمد یوسفی کے متعلق لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے، کیوں کہ انہوں نے اپنی شخصیت، اپنی پیشہ ورانہ اور ادبی زندگی کے متعلق خود ہی اپنی پہلی کتاب چراغ تلے میں اتنا کچھ بتا دیا ہے کہ اس میں کسی کو اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مشتاق احمد یوسفی اپنی تحاریر کے برعکس نہایت ہی سنجیدہ و متین اور ایک نستعلیق شخصیت تھے۔ ان کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ ایسا انسان مزاح نگار بھی ہو سکتا

Read more

میرا داغستان اور عزم استحکام

اتوار کے روز خبر آئی کہ روس کی جنوبی سرحد پر واقع علاقے داغستان کے دو شہروں میں دہشت گردوں نے مسیحی اور یہودی عبادت گاہوں پر مربوط حملے کیے ہیں۔ آخری اطلاعات تک مرنے والوں کی تعداد بیس ہو چکی ہے جن میں ایک پادری سمیت پولیس اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ چھ دہشت گرد بھی مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ روس میں دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ دنیا بھر کے نیوز نیٹ

Read more

دُنیا داری سے دلداری تک: سفرنامہِ ٹورانٹو (2)

اتوار 9 جون 2024 ء کی شام کو تھارن کلف میں ہمارا استقبال طحہٰ مسعود لودھی نے کیا۔ تھارن کلف ٹورانٹو کے مضافات میں ایک ٹاؤن ہے جس کی آبادی کم و بیش 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔ اس آبادی کا پچاس فی صد پاکستانی، بنگالی اور افغانی باشندوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ دیگر نصف سفید فام، سیاہ فام فلپائن اور کورین تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ وہاں جا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جگہ پر پاکستانی،

Read more

طلعت حسین۔ ایک بے مثل اداکار و صدا کار اور باکمال افسانہ نگار

*ریڈیو، ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم کے بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز اداکار اور صدا کار اور افسانہ نگار جناب طلعت حسین صاحب جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ جناب طلعت حسین صاحب متعدد یادگار ملاقاتیں آج بھی حافظے میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے تین ملاقاتیں جناب طلعت حسین صاحب کے خوبصورت افسانوں سے متعلق ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے جناب طلعت حسین صاحب کے بہت قریب بیٹھ کر، ان سے افسانے سنے ہیں۔

Read more

غلام حسین ساجد کے مجموعے ”تجاوز“ میں آئینے کا شعری اظہار

اردو شاعری میں مختلف لفظوں کا استعاراتی، علامتی اور تلمیحاتی استعمال خیال کو وسعت عطا کرنے کا بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم سے قطع نظر شعری پیرائے میں لفظ خاص معنی کو اجاگر کرتا ہے تو خیال میں ندرت، وسعت، رعنائی اور رفعت پیدا ہوتی ہے۔ شاعری میں کثیر الفاظ اپنے لغوی معنی کے بجائے خاص معنوں میں جلوہ گر ہیں۔ آئینہ حیرت انگیز طور پر اردو کے تمام شعراء کا مشترکہ پسندیدہ لفظ قرار دیا جاسکتا

Read more

آسٹریلیا میں مہمان نوازی

آسٹریلیا میں کوئی تقریب منعقد کرنی ہو تو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں مدعوئین کا انتخاب اور مہمانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا سب سے مشکل کام ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کا اپنا مزاج ہوتا ہے ۔ ہر شخص ہر تقریب کے لئے موزوں نہیں ہوتا یا ہر تقریب ہر شخص کے لئے ایک جیسی دلچسپی کی حامل نہیں ہوتی ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر تقریب کی اپنی

Read more

عمرو عیار: عیاری کے سردار اور چکمہ بازی میں ماہر کردار کا حقیقت میں بھی کوئی وجود تھا؟

داستان امیر حمزہ کا یہ اصل کردار کیسا تھا۔ یہ بھی معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کی خوبیاں اور خامیاں کیا تھیں اور نیکی اور بدی کی قوتوں کے مابین ہمہ وقت چلتی کشمکش پر مشتمل اس داستان میں اس کی اہمیت کیا تھی۔

Read more

ایاز میلو: وزیر اعلیٰ سندھ کے نام کھلا خط

جناب وزیراعلیٰ صاحب امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے صوبہ سندھ کے منتظم اعلی سے بذریعہ سوشل میڈیا مخاطب ہونے کے اس طریقہ کو سخت ناپسند کرتے ہوئے بھی بالآخر آپ سے مخاطب ہونے کا یہی واحد میسر وسیلہ استعمال کرنے پہ معافی چاہتی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جمہوری دور میں جمہوری وزیراعلی تک رسائی کے تمام راستے کم از کم میرے جیسی شہری کے لیے ناممکنات میں سے ہیں۔ عوامی طاقت پہ یقین رکھنے والے

Read more

قلمکار صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں

بعض قلمکار اپنی تحریر سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنی انہیں اپنے بچے سے انسیت ہوتی ہے۔ اپنی تحریر سے لگاؤ رکھنا برا نہیں۔ اسی لگاؤ کا نتیجہ ہے کہ بعض اپنی تحریروں کو نکھارتے اور سنوارتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اگر کوئی مشورہ دے یا کمیوں اور خامیوں کی طرف توجہ دلائے تو خندہ پیشانی سے اس مشورے کو قبول کرتے ہیں اور وہ کمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو

Read more

”جستِ فکر“ پر طائرانہ نظر

ڈاکٹر حسن فاروقی سے اپنا تعلق اتنا پرانا تو نہیں لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت میں کشش ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ ہوں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب تو پیرا سائیکالوجی کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ قلم قبیلے کے افراد میں یہ کشش، فطرت نے ازل سے رکھی ہوئی ہے۔ جب بھی مجھے حرف و سخن سے جڑا ہوا کوئی شخص ملتا

Read more

دو چھوٹی سی باتیں دو بڑے سے حل

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے مجھے چونکا دیا جو ایک حجام کی دکان کی تھی اور جہاں حجامت کے منتظر کئی لوگ کتاب پڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی شیلف میں ہمہ قسم کتب نظر آ رہی تھیں۔ تفصیل دیکھی تو پتہ چلا کہ ہندوستان کے تامل ناڈو میں ایک حجام نے کسٹمرز کے لیے ٹیلی ویژن رکھنے کی بجائے ایک مفت لائبریری قائم کی ہے۔ جو شخص وہاں انتظار کے دوران کتاب پڑھے گا اُسے 30

Read more

اپنی ذات کے اہرام میں چھپے خزانے کی تلاش

ایک لکھاری کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے، اپنے وجود کا مقصد تلاش کرنے اور اپنے دل کی آواز کو قارئین تک پہنچنے کے قابل ہونے کے لئے کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، اور کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ شاید آپ کو اس کا اندازہ اس فلم Paulo Coelho’s Best Story (2014) سے کسی حد تک ہو سکے۔ یہ فلم اس صدی کے سب سے مقبول اور پڑھے جانے والے ناول الکیمسٹ کے خالق پاؤ لو کوئیلو کی

Read more

یزدانی جالندھری: بحیثیت والد، بطور تخلیق کار

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب (ممنون ہوں کہ آپ نے پروفیسر محمد حسن صاحب سے متعلق اپنے مکتوب کے آخر میں مجھ سے ”ہم سب“ کے قارئین کے لیے اپنے والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری (جنھیں ہم پاپا جی کہتے تھے کے بارے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ آپ کی یہ فرمائش کیسی بروقت و برمحل ہے کہ اسی ماہ یعنی جون ہی میں دنیا بھر میں ”فادرز ڈے“ بھی منایا جاتا ہے۔ یزدانی جالندھری صاحب میرے والد

Read more

مسلمان اپنی موجودہ حالت کے خود ذمہ دار ہیں

مسلمانوں کی موجودہ ذہنی پسماندگی کے بارے میں بعض سابقہ و موجودہ مسلمان رہنماؤں کا خیال یہ ہے کہ یہ پسماندہ تب ہوئے جب اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور ہو گئے۔ ان کے خیال کے مطابق جب تک مسلمان اسلام کے ساتھ سختی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے تب تک وہ دنیا پر راج کر رہے تھے۔ اور وہ مسلمانوں کا عہد زریں یا بالفاظ دیگر شاندار دور تھا۔ جو بدقسمتی سے ماضی کے اندھیروں میں کہیں کھو گیا

Read more

جب انڈین اداکار فیروز خان اپنی فلم ’قربانی‘ کے لیے نازیہ حسن کی آواز سے بے حد متاثر ہوئے

انڈیا کی بلاک بسٹر فلم ‘قربانی’ کی ریلیز کو کوئی 44 سال ہو گئے ہیں لیکن آج تک اس کے گیت لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں اور انھوں نے ایشیائی پاپ میوزک کی سمت طے کی ہے۔

Read more

مجید امجد کا تخلیقی جوہر

جس طرح کسی شاگرد کو اچھا استاد مل جائے تو اس کی زندگی سنور جاتی ہے اسی کے مصداق اگر کسی اعلیٰ تخلیق کار کو کوئی سمجھدار نقاد مل جائے تو اس کی آخرت سنور جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مجید امجد کو اگر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نہ ملتے تو شاید وہ یا تو گم نام رہ جاتے یا جلدی نہ پہچانے جاتے۔ اگرچہ اس میں بہت حد تک صداقت ہے کہ چشم عصر نے دیکھا ہے کہ

Read more

”اوریانا فلاشی کا ناول: ”ایک مرد

اوریانا فلاشی اٹلی کی ایک مشہور صحافی اور لکھاری تھیں، جنہوں نے اپنے بے باک انٹرویوز اور تبصروں کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کی تحریریں سیاست، جنگ، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر مرکوز رہیں اور دنیا بھر میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ ناول یونان کے انقلابی رہنما، الیکسینڈروس پاناگولیس کی زندگی پر مبنی ہے، جو نہ صرف ایک سیاسی قیدی بلکہ ایک محبت کرنے والا انسان بھی تھا۔ ناول کی کہانی 1960 کی دہائی کے

Read more

حیات روغانی کے پشتو ناول ’نیم زاد‘کا اردو ترجمہ

نیم زاد پشتو ناول نینزک کا اردو ترجمہ ہے جو پشتو میں حیات روغانی کا لکھا ہوا ہے اور اردو میں پروفیسر گوہر نوید نے ترجمہ کیا ہے۔ پروفیسر گوہر نوید نے اس ناول کو بہت احسن طریقے سے ترجمہ کیا ہے۔ اور پشتو کے بنیادی ناول کی بنیادی تھیم کو بھر پور طریقے سے اردو کے سانچے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ناول بنیادی طور پر نیم زاد یعنی ہیجڑوں کی زندگی پر لکھا گیا ہے۔ ایک نیم زاد

Read more

خدا نے دانیال طریر کی نظم کیوں نہیں پڑھی؟

مختار صدیقی نے لکھا، ’عشق کا نام نشان مٹائے کیسے کارگزاروں کا‘۔ سوال یہ ہے کہ عشق کے ہاتھوں مٹنا بھی کسے نصیب ہوتا ہے۔ کوئی عامی ہو یا نامور، ہست کی گرم بازاری سے نیست کی بے معنی خامشی تک باد فنا کا بے آواز اشارہ ہی کافی ہے۔ فلک کی پہنائیوں میں سرگرداں ان گنت ستاروں میں کون جل اٹھا، کب جل بجھا، کسے خبر ہوتی ہے۔ مختار صدیقی نے عشق کا نشان مٹنے کا شکوہ کیا تھا

Read more

کرکٹ کا موتن داس

80 کی دہائی کے متوسط طبقے کے نوجوان کراچی کی موتن داس مارکیٹ سے بخوبی واقف ہوں گے ۔ نئے فیشن کے گارمنٹس اور جوتے یہاں مناسب قیمتوں میں دستیاب ہوتے تھے مزید برآں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر خوش ہوتے تھے کہ یہاں سب کچھ امپورٹڈ ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں برانڈز نقل بمطابق اصل دستیاب ہوتے تھے، کچھ جوتوں کی ورائٹی واقعی امپورٹڈ ہوتی تھی لیکن وہ بھی چائنا کے غیر معیاری مال کے بھرے ہوئے کنٹینروں کی

Read more

شاہد حنائی: خواب سا، فسانے سا…

شاہد حنائی صاحب نے آج تک کبھی فیس بک پر اپنی کوئی ایک تصویر بھی پوسٹ نہیں کی! اس لیے مجھے ان کے ساتھ اپنی تصویر فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت مانگی پڑی اور انہوں نے مروّت و محبت کی وجہ سے مجھے اجازت دے دی۔ شاہد حنائی صاحب اردو کے نامور لکھاری ہیں اور تواتر سے سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شہرت سے دور بھاگتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے

Read more

ابن بطوطہ: اسلامی دنیا کے عظیم مسافر کا تجسّس جو حج کے بعد بھی نہ تھما

13 جون 1325 کو ایک مراکشی نوجوان ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ نے ایک تاریخی اور غیر معمولی سفر شروع کیا۔ آئندہ تین دہائیوں کے دوران انھوں نے شمالی افریقہ کے وسیع علاقوں سے لے کر چین کا دورہ کر لیا۔

Read more

جون ایلیا کے شعری عجائبات

عجیب شاعر ہے ایک سرا پکڑتا ہوں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ شاعری اور شخصیت میں یکساں عجائبات حیرت و انبساط کا سبب بنتے ہیں۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود طبیعت و مزاج میں حد درجہ لا ابالی پن عجیب دکھائی دیتا ہے۔ شاعری سے لگاؤ گھریلو ماحول کا نتیجہ تھا۔ پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا، ملاحظہ کیجیے۔ چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

Read more

فہمیدہ ریاض: ایک بہادر اور نڈر ادیبہ

کوئی صورت کوئی تدبیر نکالی جائے آبرو عشق و محبت کی بچا لی جائے مشورہ میرا بس اتنا ہے نئی نسلوں کو اپنے اجداد کی پگڑی نہ اچھالی جائے (بے باک امروہوی) جب بڑے مر جاتے ہیں تو چھوٹے بڑے ہو جانے کی اداکاری کرنے لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ بڑے مر کر بھی بڑے رہتے ہیں خاص طور پر وہ بڑے جو ٹرینڈ میکر ہوتے ہیں، جو دنیا میں کچھ الگ یا منفرد کردار نبھا کے دنیا سے رخصت

Read more

قدیم مصریوں کا ’قبلہ‘ ابیڈوس جہاں ’حج‘ کا مقصد موت کے بعد کی زندگی کو ابدی بنانا تھا

قدیم مصریوں میں ابیڈوس شہر کی زیارت کو دیوتا اوسیرس کی عبادت سے جوڑتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ’حج‘ موت کے بعد کی زندگی کے سفر کو محفوظ بنا دے گا۔ اس زیارت سے جڑی رسومات میں جلوس اور قربانیاں بھی شامل تھیں۔

Read more

باپ ایک خاندان کا سائبان

” دنیا بھر میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ امسال یہ دن 16 جون کو دنیا بھر میں بڑی شان و شوکت، عزت و احترام، محبتوں و وفاؤں اور عقیدت و جذبات کے ساتھ منایا جائے گا۔ باپ کی شفقت، محنت اور جذبے پر تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا صحافتی اقدار کی بدولت اپنے حصے کی شمع جلا کر لوگوں کی دہلیز پر اخبار و جرائد کے

Read more

خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟

ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کر کے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام آدمیت اور اقبال سے الفت محمد سیکھی۔ میرا جی کو جنگلوں میں میرا کی تلاش میں سرگرداں پایا، راشد کو انتقام میں جمالیات کا حظ اٹھاتے دیکھا، مجید امجد کو وقت کے بھید میں مقید پایا، منیر نیازی کو

Read more

کیا ”آگ کا دریا“ ایک مشکل اور بے کار ناول ہے؟

چار برس پہلے جب میں نے ”آگ کا دریا“ ناول اپنے موبائل پر پڑھنا شروع کیا تو اس سے پہلے میں قدرت اللہ شہاب، محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق جیسے اردو میں اچھے اسلوب کے حامل مصنفین کا مطالعہ کر چکی تھی اور میں نے قرۃ العین حیدر ہی کا ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ بھی پڑھ رکھا تھا اس لیے میری اردو اتنی اچھی ہو چکی تھی کہ اس ناول نے ابتدا ہی میں مجھے اپنے سحر میں

Read more

ستاروں سے پیچھے جہاں اور ہیں

ابنِ انشا نے سجنی سے بہانہ تو یہ کیا تھا کہ چین سے ایک مشہور ادیب آیا ہے، ذات کا مزاح نگار ہے، میرے سفرنامے کے جواب میں پاکستان کا سفرنامہ لکھنا چاہتا ہے، شام کو سفارت خانے نے اس کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے جہاں اس چینی ادیب سے میری ملاقات ہو گی اور میں اسے انشا پردازی کے کچھ گُر سکھاؤں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انشا جی، ایک سبزہ زار میں دوستوں

Read more

”صد رنگ“ میں ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو (2)

آداب! آج ہماری ممتاز دانشور، شاعر، افسانہ نگار، ماہر نفسیات، سائنس دان، کالم نگار اور ادبی نقاد محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے دوسری نشست ہے۔ ڈاکٹر صاحب گزشتہ نشست میں جہاں پہ ہم نے گفتگو ختم کی تھی وہیں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ نے نفسیاتی علاج کا جو طریقہ کار دریافت کیا ہے آپ اسے ‘گرین زون’ فلاسفی کہتے ہیں اور فرد کی جو بھی مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں ان کو آپ نے سبز، پیلے اور سرخ رنگوں

Read more

امریکی اور پاکستانی شاعرات کے تخلیقی سفر کا مَوازنہ

شاعری ہمیشہ سے ہمارے ذاتی تجربات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا مرکز ہے اور اس قابل ہے کہ اسے سب سے زیادہ طاقتور اور انسان کو بدل دینے والا فن سمجھا جائے۔ جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو لکھنے کا عمل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے سوچ کو تحریک ملتی ہے، جہاں لاشعور شعور میں جنم لیتا ہے اس لیے شاعروں اور ادیبوں کا ایک خاص کردار ہے جو اپنے معاشرے کے لحاظ

Read more

شاہزادہ سخن امیر حسن جعفری کا جشنِ صحت

خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار اردو شعر و ادب کی تاریخ، یوں تو، ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج مجھے سن اٹھارہ سو چوّن کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب بہادر شاہ ظفر ابھی شہنشاہِ ہند نہ بنے تھے بلکہ ولیِ عہد یا شہزادے تھے اور اچانک بیمار پڑ گئے تھے۔ شہزادے کو صحت ہوئی تو والد گرامی یعنی بادشاہ سلامت نے ان کے لیے سرکاری طور پر جشنِ صحت منانے کا اعلان کیا۔

Read more

قربانی کرنے کے الزام میں ’احمدیوں کے خلاف کارروائیاں‘: ’پولیس والے ہمارا تین ماہ کا پالتو بکری کا بچہ بھی لے گئے‘

رواں سال بھی عید الاضحیٰ کے موقعے پر پاکستان میں احمدی کمیونٹی کے خلاف قربانی دینے اور قربانی کے جانور لانے کی شکایات پر نہ صرف لوگوں بلکہ پولیس کی جانب سے کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ احمدی برادری کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس کی جانب سے انھیں قربانی سے روکنے کے لیے کارروائیاں کی گئی ہیں۔

Read more

شاعرِ مغرب کے شہر میں: لندن تا برمنگھم (6)

”کون تھا ولیم شیکسپئر؟“ ہم دماغ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ذہن سے سوال پوچھتے ہیں۔ پی ون کمپیوٹر کی طرح وہ ہلکی سی بونگی مار کر گُم ہو جاتا ہے، کچھ دیر بعد حاضر ہو کر بتاتا ہے، ”گوروں کا کوئی شاعر تھا، دسویں کلاس کے انگریزی کورس میں اُس کی روایتی نظم شامل تھی جس کی تشریح تم نے نری نقل کر کے لکھی اور امتحان میں سرخرو ہوئے۔“ اپنے کُند ذہن کو بات کرنے کا قرینہ ہے نہ

Read more

ڈر نہیں دیکھا

مجھے میرے ایک دوست نے پوچھا کہ مجھے کس بات پر سب سے زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جب میری وجہ سے دو تخلیق کار آپس میں ملتے ہیں، اور مجموعی تخلیق کو منظر عام پر لے کر آتے ہیں، تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ اس تخلیق میں میرا کردار بھی شامل ہے۔ اسی طرح کی خوشی گزشتہ دنوں معروف ماہر نفسیات، شاعر اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل کی غزل ”ڈر نہیں دیکھا“

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ (3)

ایک اور بے حد نازک معاملہ جس کا ڈائریکٹ تعلق تو اب ذہنی صحت سے نہیں رہا کیونکہ اسی کی دہائی کے بعد اسے بیماریوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا وہ ہے جنسی میلان کا۔ چالیس کی دہائی میں اس کو زیر بحث لانے پر عصمت چغتائی کے قلم کو تو لوگ داد دیتے ہیں مگر سینکڑوں سال پہلے اردو شاعری اور دیگر فنون لطیفہ میں اس کے اظہار کو بھول جاتے ہیں۔ مغرب والوں نے تو

Read more

امین راجپوت : زرگر گھرانے کا کندن کیسے خاک میں ملا؟

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) یہ 1987ء یا 88ء کا زمانہ تھا جب ہم نے امین خان کو بابا ہوٹل میں مقبول بخاری مرحوم کے ساتھ دیکھا تھا۔ مقبول بخاری اس زمانے میں بزنس ریکارڈر سے منسلک تھے اور بابا ہوٹل کے قریب صمد پلازہ میں ان کا دفتر تھا۔ مقبول بخاری امین خان کو اپنا شاگرد کہتے تھے لیکن امین خان ہمیشہ مجھ سے ان کی شکایت ہی کرتا تھا۔ یہ اس کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ بابا

Read more

نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے

’آواز دوست‘ میں مختار مسعود نے لکھا، ’بڑے آدمی انعام کے طور پر دیے اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں‘۔ قیام پاکستان کے بعد حمید احمد خان، شیخ منظور الٰہی، مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر آفتاب احمد اور مختار مسعود کی نثر اس روایت کی توسیع تھی جس کی بنیاد 19ویں صدی میں غالب نے رکھی۔ مختار مسعود کا یہ جملہ بھی تخلیقی صناعی کا عمدہ نمونہ ہے اگرچہ اپنے پیچھے سوال چھوڑ گیا۔ انعام دینے والی مسندِ

Read more

پاکستانی نوجوان طلبا میں پھیلتی مایوسی

جس طرح غریب ماں باپ کو اپنے مستقبل کے بہترین ہونے اور ماضی کی تکالیف کا مرہم بننے کی امید اپنی اولاد سے ہوتی ہے، اسی طرح کسی قوم کا مستقبل بھی اس کے نوجوان طبقے پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان کے نوجوان طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی اہل درد اور سنجیدہ طبقے کو آنے والے وقت کے ڈراؤنے دنوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ وطن عزیز کا نوجوان اس وقت بے شمار مسائل کا سامنا

Read more

ابا پیارے۔ باپ کی سوانح عمری بیٹیوں کی زبانی

عشق کے لاتعداد درجے ہیں۔ بعض لوگوں کے عادات و اطوار، گفتار و کردار، تحریروں سے، ان کی محنت سے، ان کے کام کرنے کے جذبے اور لگن سے عشق ہوجاتا ہے۔ ایسا غائبانہ اور مقدس عشق مجھے ”شمع اختر انصاری“ کی تحریروں سے ہے۔ ان سے تعارف کا سبب فیس بک بنا۔ فیس بک کے ذریعے جس نے ان کی ایک بھی تحریر پڑھ لی وہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ان کی مزید تحریریں تواتر سے

Read more

لاہور کہاں ہے؟

سوچتا ہوں کہ پانچ برس تو ہو ہی گئے ہوں گے میرے شہر لاہور کو یونیسکو کی جانب سے ”شہرِ ادب“ کا اعزاز پائے ہوئے۔ مجھے یاد ہے اس اعزاز کے اعلان سے اگلے روز ہی لاہور سے تخلیق کار دوست راجا نیر کا پیغام موصول ہوا تھا کہ ایک مقامی اخبار کے لیے انھیں میرے تاثرات درکار ہیں۔ میں نے قلم برداشتہ چند سطور رقم کیں اور انھیں بھیج دیں۔ وہ سطور کچھ یوں تھیں : لاہور کی حسین فضاؤں

Read more

نظر آئے اک شکل مہتاب میں : میر کا خلل دماغ۔ 2

اب آتے ہیں انزائٹی پر۔ بے چینی کہیں تو بیماری کا گماں گزرے۔ اضطراب کہیں تو تخلیقی عمل سے نسبت محسوس ہو۔ جینیاتی عوامل کے بعد بے چینی کے محرکات میں بچپن کی اٹیچمنٹس اور کچھ چیزوں سے خوف کا منسلک ہونا ہے۔ پھر یہ بے چینی دوروں کی صورت میں کبھی کبھار کسی خاص چیز کا سامنا کر کے آئے یا بغیر کسی وجہ کے آئے یا ہر وقت ہی اضطراب کا عالم طاری رہے۔ اس حالت میں دل

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ

ذہنی و نفسیاتی صحت، مکمل صحت کا اہم اور بڑا جزو ہونے کے باوجود سٹگما کا شکار ہے۔ وجہ، گرتی ہوئی نفسیاتی صحت کا غماز، انسانی رویے اور برتاؤ میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ہے۔ سائیکارٹری کے شروع سے اینٹی۔ سائیکارٹری مہم کا سایہ بن کر ساتھ چلنا ایک دلچسپ بات ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ سائیکارٹری ایک چھتری ہے، تمام ایسے انسانی رویوں کے لئے جو معمول سے ہٹ کے ہیں۔ انسانی رویوں کے کچھ ماہرین کا

Read more

امیر حسین جعفری: انسان دوست شاعر اور ہر دلعزیز دوست

ایک ایسی جگہ پر جہاں خالد سہیل اور امیر جعفری دونوں موجود ہوں اور ایک میزبان محفل ہو اور دوسرا مضمونِ محفل تو میرے لیے بہت مشکل ہے کہ میں کس پر پہلے بات کروں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ہی میرے محترم عزیز دوست ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں یہاں ہر کھڑے ہو کر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں تو یہ بہت رسمی سا جملہ ہے حقیقت یہ ہے

Read more

آدم خور قبائلیوں کے علاقہ غیر میں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔ ایجوکیشن کالج لاہور سے ابھی فارغ ہوئے ہی تھے اور نیا علی گڑھ پبلک سکول مانگا منڈی میں بطور سائنس ٹیچر جاب کر رہے تھے جو کہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ہماری رہائش بھی یہیں ہوسٹل میں تھی۔ ایک شام والی بال کھیل کر کمرے میں واپس آئے تو وہاں پر ارشد کو موجود پایا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے ہماری تعلیمی قابلیت اور

Read more

کھانا نہاری اور کروانا چالان – مکمل کالم

اتوار کی صبح میں نے پیسہ اخبار، انارکلی سے نہاری کھائی، بیڈن روڈ سے لسّی کا گلاس پیا اور گاڑی مال روڈ کی طرف موڑ دی۔ جمخانہ کلب سے پہلے والا ٹریفک کا اشارہ سرخ تھا سو میں نے گاڑی روک لی اور ساتھ ہی غیر ارادی طور پر موبائل فون ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اپنی اِس عادت سے میں سخت بیزار ہوں۔ اتنے میں شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے گردن ہلا کر دیکھا تو ٹریفک کا سپاہی دانت

Read more

’کپڑوں کے ساتھ شرم اتار پھینکو‘: زمانہ قدیم میں سیکس کے بارے میں خواتین کی سوچ کیا تھی

زمانہ قدیم کے جو تحریری حوالے موجود ہیں ان کی اکثریت ایسے مردوں نے لکھی تھی جن کے بارے میں گمان پایا جاتا ہے کہ وہ خواتین کی جنسی عادات سے متعلق مبالغہ آرائی کرنے کے عادی تھے۔ تو کیا جنسی طور پر فعال عورت کا تصور مردانہ تخیل کی پیداوار تھی؟ یا زمانہ قدیم میں خواتین سیکس میں زیادہ دلچسپی لیا کرتی تھیں؟

Read more

کچھ محبت کچھ بے بسی

انور سن رائے اور عذرا عباس دونوں پاس پاس بیٹھے ہوں تو ان کی میٹھی میٹھی نوک جھوک مزا دیتی ہے اور وہ بے پناہ محبت بھی جو ان کے تیکھے جملوں کے اندر سے ابلتی مچلتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ دونوں تخلیق کار ہیں اور اپنے اپنے الگ تخلیقی وجود میں مست اور رُجھے ہوئے۔ ہم لکھنے والوں کو بھی ان دونوں کی پر خلوص محبت حاصل ہے۔ جب جب کراچی جانا ہوتا ہے اس تخلیق کار جوڑے

Read more

مثالی معاشرے کا قیام اور ہماری ذمہ داریاں

انسانی تاریخ کے مطالعے سے اس بات پر مہر تائید ثبت ہوتی ہے کہ بنی نوع اِنسان کا اپنے حال پر عدم اطمینان کا اظہار اور آنے والی نسلوں کے لیے بہترین مستقبل کی دریافت روز اول سے انسانی فطرت کا خاصہ رہی ہے۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ انسان نے غاروں اور چٹانوں میں رہنے، درختوں کے پتوں سے ستر پوشی کرنے اور گردش مہ و سال سے بے خبر بے لگام زندگی گزارنے کو اسی فطری خاصیت اور

Read more

بابا شیکسپئر کے شہر میں، معاشقہ ایک منشی کا: لندن تا برمنگھم (5)

حالانکہ آٹھ بج رہے ہیں صبح پرنور کے، سورج کی اُجلی اُجلی شعاعوں سے لگتا ہے گویا دوپہر کے دو بجے ہوں۔ یہاں کا آسمان ہمارے والے کی طرح دھویں اور آلودگی سے اَٹا ہوا تھوڑی ہے، کہ سورج ہر وقت باپردہ نظر آئے۔ دن ہے جمعرات کا، مہینہ اپریل، سال دو ہزار چوبیس اور ہم برمنگھم سے سٹراٹ فورڈ ٹاؤن کی جانب رواں دواں ہیں۔ بابا شیکسپیئر کے جنم بھومی اور کنگ ایڈورڈ گرامر اسکول کا دیدار کرنے۔ جہاں

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ آج ریکسڈیل کمیونٹی سنٹر کا ہال بھرا ہوا تھا اور امیر حسین جعفری کے دوست اپنی تمام تر دلچسپیوں اور مصروفیتوں کو

Read more

محبت اور انسان

محبت اور انسان کا رشتہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے میں موضوع بحث رہا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کی روح، دل اور ذہن کو ایک نئے انداز میں جینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ محبت کی کہانیاں، تجربات اور اثرات نے انسان کی تاریخ ادب اور فنون میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔ محبت ایک فطری عمل ہے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو نہ صرف انسانوں کو ایک دوسروں کے

Read more

مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں

خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف

Read more

ایک دن تہران میں (1)

آوارہ مزاج، حساس طبیعت، شوقِ آوارگی، کتابوں سے انسیت، دست قدرت کی دستکاریوں، شاہ کاریوں کو دیکھنے کی لگن نے مجھے تہران کے سفر پر آمادہ کیا۔ جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے۔ اردو کی کتاب میں اک سبق ”ریل کا سفر“ پڑھایا جاتا تھا۔ صفحے پر نقش ریل کی تصویر میں قطار در قطار لوگ ریل میں سوار ہونے کے لیے تیار، قلیوں کے ہجوم سامان اٹھانے کے لیے موجود، کوئی ریل کی کھڑکی سے باہر ہاتھ ہلاتے

Read more

ہر چہرہ حسین ہے

پرانے شاعر اور ادیب محبوبہ کی خوبصورتی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے۔ ایسی ایسی تشبیہات سے کام لیتے کہ خدا کی پناہ۔ ادب تو خواتین بھی تخلیق کرتی تھیں لیکن کبھی کسی خاتون نے ایسے غیر حقیقی اوصاف مردوں میں ڈھونڈے، نہ اس حد تک مبالغہ سے کام لیا جتنا مرد حضرات نے لیا ہے۔ عورتوں کو کم عقل تصور کرنے والوں نے شاید ہی کسی عورت کو مرد کی ایسی تصویر پیش کرتے دیکھا ہو جسے عقل تسلیم

Read more

پیرس اولمپکس 1924: روشنیوں کے شہر نے ایک صدی قبل اولمپکس کو کیسے تبدیل کیا

فرانس کا دارالحکومت پیرس رواں برس اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ پیرس ان مقابلوں کا میزبان ہے اورپہلی بار اسے یہ میزبانی ٹھیک 100 برس قبل ملی تھی۔ جانیے کہ پیرس میں اس ایک صدی میں کیا کچھ بدلا۔

Read more

ساچے گرو کا بالکا

علم تاریخ کو کبھی بادشاہوں سے جوڑا گیا اور کبھی طبقات کی باہمی کشمکش سے تعبیر کیا گیا۔ گزشتہ صدی کا اگر جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے تاریخ بادشاہوں اور مزدورں کی قید سے آزاد ہو کر سیاسی لیڈروں کی اسیر ہو چکی ہے۔ سیاسی لیڈروں کی تعریف اور تنقید کے اس شور میں البتہ سیاسی کارکنان ہر قسم کے حساب کتاب سے ماؤرا ہو چکے ہیں۔ کارکنان کا تعلق خواہ دائیں بازو سے ہو یا بائیں بازو سے،

Read more

ہماری بہن میمونہ کلثوم : ڈاکٹر مہدی حسن مرحو م کی ایک نایاب تحریر

14  اگست 1947ء کو جنوبی ایشیا میں ہندوستان اور پاکستان نام کے دو آزاد ملک وجود میں آئے۔ اس سے قبل سینکڑوں بلکہ ہزار سال تک یہ علاقہ دور دراز سے ترک وطن کرنے والوں اور مختلف قومیتوں اور علاقوں کے جنگجوﺅں اور حملہ آوروں کا پسندیدہ اور ان کے لیے پرکشش جگہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں کے آخری حملہ آور برطانوی سامراجی تھے جنہوں نے تجارت کے نام پر یہاں وارد ہو کر اڑھائی سو سال کے عرصے

Read more

کہانی ایک نظم کی

ٹی ایس ایلیٹ کے اُس لخت لخت مسودے کہ کہانی کسی ناول سے کم دلچسپ نہیں ہے جو 1915 ء سے بھی پہلے سے ٹکڑوں میں لکھا جا رہا تھا اور کہیں 1922 ء میں ایک شاندار ماڈرنسٹ نظم ”دا ویسٹ لینڈ“ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ”دا ویسٹ لینڈ“ کی اشاعت کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا دورانیہ بیت چلا ہے مگر اس کے بھید اب بھی توجہ کھینچتے ہیں بہ طور خاص جس طرح ایذرا پاؤنڈ

Read more

کچھ باتیں ڈاکٹر وزیر آغا  کی (1)

1988 میں، مَیں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کی جلد بندی کروائی تو جلد کے اندر کی جانب جو اخباری کاغذ لگائے گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ پر ایک پرکشش اور بارعب تصویر چَھپی ہوئی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا، "وزیر آغا، ایک ہمہ جہت ادیب”۔ جانے کیوں وہ تصویر میرے دل پر نقش ہو گئی۔ کوئی دو برس بعد اتفاقاً اردو بازار گوجرانوالہ سے مشفق خواجہ کے رسالے "تخلیقی ادب”

Read more

میرا جی کی شاعری میں مصطلحات موسیقی

پچیس اکتوبر انیس سو بارہ میں گوجرانوالہ کے ڈار خاندان کے سربراہ محمد مہتاب الدین کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی جس کا نام انہوں نے محمد ثناءاللہ ڈار رکھا۔ محمد مہتاب الدین کو اس بات کا ذرا علم نہ تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا معرا نظموں کا مستند حوالہ بنے گا، لیکن مشہور میرا جی کے نام سے ہو گا۔ میرا جی بحیثیت ایک تخلص کے سوا کچھ نہیں، مگر اس تخلص کے پیچھے کی کہانی

Read more

اسکول کے اقوال زریں

”سایہ خدائے ذوالجلال۔“ قومی ترانہ ختم ہوا تو ہم ساری جماعتوں کے طلبا قطار میں ایک ایک کر کے اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ٹیچر بھی کچھ دیر ایک دوسرے سے حال احوال کر کے چلی گئیں۔ اسکول کا صحن اب بالکل خالی ہو گیا جس کے دو اطراف میں مختلف جماعتوں کے کمرے تھے جہاں طلبا اپنے تعلیمی دن کا آغاز کرنے جا رہے تھے۔ ایک طرف پرنسپل اور ایڈمن کے دفاتر تھے جہاں اسکول میں موجود کثیر

Read more

ترقی پسند نقاد پروفیسر محمد حسن کے حوالے سے مکالمہ

حامد یزدانی کا خط ۔ ۔ ! محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب میں زندگی میں اتفاقات پر بھی یقین رکھتا ہوں مگر ان سے کہِیں زیادہ حادثات پر ۔ کیوں کہ حادثات، میرے خیال میں، اتفاقات سے زیادہ پیش آتے ہیں انسان کو ۔ یا شاید یاد زیادہ یہی رہ جاتے ہیں۔ نہیں کیا؟ بہرحال، سرِ دست کسی حادثے پر بات کرنا مقصود نہیں۔ ایک اتفاق بلکہ حسیں اتفاق آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے میں

Read more

یہ تقریب نہیں ہو سکتی

عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔

Read more

رسول بخش پلیجو: نشانِ جہدِ مسلسل – چھٹی برسی کے موقع پر خراجِ تحسین

نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”سیاستدان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور رہنما آئندہ نسلوں کے بارے فکر کرتا ہے“ ۔ رسول بخش پلیجو صاحب اس صدی کے ایک ایسی ہی عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان میں ایک پوری نسل کی بھرپور سیاسی تربیت کرنے میں گزار دی۔ ان کی حیات مسلسل پرامن جمہوری جدوجہد کرنے، سماج میں پسے ہوئے طبقوں خاص کر خواتین اور اقلیتی فرقوں کو قومی دھارے میں

Read more

لندن تا برمنگھم ( 4 )

لندن کے بعد برمنگھم، فرنگیوں کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ مسلمانوں میں ہر چوتھا پاکستانی ہے اور پاکستانیوں میں ہر پانچواں آزاد کشمیر بالخصوص میرپور کا ہے۔ یہاں جگہ جگہ مساجد اور مسلم کمیونٹی سنٹرز ہیں۔ یہاں کے لوگ صفائی کو نصف ایمان نہیں کہتے بلکہ عقیدے کی حد تک اس پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ وہ کچرا یا ردی کا ٹکڑا تو چھوڑیں، سگریٹ کا بچا ہوا فلٹر تک بھی باہر کہیں

Read more

اُورائے، نستعلیق فونٹ اور ایف ایل آئی

اقبال الدین سحر صاحب ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ شاعری کا ایک موڈ ہوتا ہے جب اس موڈ میں ہوتا ہوں تو کئی نظمیں اور گیت ایک ہی نشست میں لکھ دیتا ہوں، تقریباً یہی صورتحال اپنی ہے جب موڈ ہوتا ہے کئی آرٹیکلز ایک ہی ہفتے کے اندر نکال لیتا ہوں، اگر نہیں تو مہینوں میں بھی کچھ لکھنے کو نہیں ملتا۔ اس آرٹیکل کا مطلب یہ نہ نکالیے کہ اشاعت سے قبل ہی اپنے افسانوں کی مشہوری

Read more

بھارتی موسیقی میں انگریزی اور پاکستانی موسیقی کی نقل

موسیقی میں سرقے سے مراد کسی دوسرے فن کار کے گانے، دھن، شاعری یا موسیقی کو بغیر اصل فن کار کی اجازت کے ہو بہ ہو یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنے کام میں استعمال کرنا ہے۔ موسیقی کی سرقہ بازی کوئی نئی روایت نہیں۔ یہ ایک قدیم اور عالمی گیر حقیقت ہے۔ تاریخی طور پر موسیقی مختلف طرزوں اور موضوعات کو مستعار لینے اور اپنانے کے ساتھ ہی ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ بیسویں صدی سے قبل مجموعی طور

Read more

ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری

ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے بانی ڈاکٹر جمیل جالبی ہیں۔ جنھوں نے 14 اگست 2016ء کو ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ سنگِ بنیاد کی تنصیب جامعہ کراچی میں محمود حُسین لائبریری کے ساتھ خالی قطعہ اراضی پر ہوئی۔ جمیل جالبی فاؤنڈیشن کے منصوبے نے تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کیے۔ یہ منصوبہ ڈاکٹر خاور جمیل اور خانوادہ جمیل جالبی کے تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ (1) ڈاکٹر جمیل جالبی 12 جون 1929ء کو

Read more

نسرین انجم بھٹی: پنجابی شاعری میں جدیدیت اور مزاحمت كا استعارہ (1)

27 جنوری 2016 ء کو انگریزی اخبار ڈان کے ادبی ایڈیشن ”امیج“ میں ایک خبر شائع ہوئی۔ ”پنجابی کی ممتاز شاعرہ، امن کی متلاشی، سیاسی کارکن، ریڈیو براڈ کاسٹر نسرین انجم بھٹی کراچی کے ہسپتال میں کینسر کے خلاف زندگی کی جنگ ہار گئیں۔“ اردو کے کسی اخبار میں اس خبر کو جگہ نہ ملی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتے لیکن ان کی وفات پر اُن کی تعریفوں کے پل باندھ

Read more

کراچی کے سابق ڈان

اسی کی دہائی سے پہلے کراچی میں سیاسی جماعتوں کی دہشت گردی۔ بھتہ خوری اور منظم جرائم کا کوئی وجود نہیں تھا اور عمومی طور پر شہر کا ماحول پرسکون تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس دور میں جرائم نہیں ہوتے تھے لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی سیاسی۔ مذہبی اور لسانی گروہوں کی جانب سے سرپرستی نہیں ہوتی تھی۔ البتہ شہر کے مختلف علاقوں اور بستیوں میں مقامی غنڈے جنہیں عرف عام میں دادا کہا جاتا تھا ہوا

Read more

ایرانی بلوچ ماہر موسیقی بانک سوگل خجستہ

ادب، فن، موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ آج کے جدید دنیا میں باقاعدہ ایک آرٹسٹ کو پڑھنا پڑھتا ہے۔ لوگ آرٹ کے مختلف شعبوں میں علم حاصل کر کے معاشرے میں اس کا پریکٹس شروع کرتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) ہے۔ جس میں فلم کے متعلق مختلف شعبوں کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔ اور این ایس ڈی نے انڈیا میں نامور اداکار پیدا کیے ہیں۔ اداکاری کے

Read more

”کالے بھونڈ“۔جسٹس اطہر من اللّٰہ کا معنی خیز استعارہ!

گزشتہ ہفتے، سپریم کورٹ میں، ”کالی بھیڑوں“ اور ’بلیک بمبل بی“ (Black Bumble bee) کا تذکرہ کچھ اس انداز سے آیا کہ سنجیدگی میں لپٹا کورٹ روم نمبر ایک، قہقہوں سے گونج اٹھا۔ میرا دل بھی سنجیدہ گفتاری بلکہ تلخ نگاری سے اوبنے لگا ہے۔ سو، جی چاہتا ہے ماحول کی اس شگفتگی سے تھوڑا لطف اٹھا لیا جائے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے پانامہ کے حوالے سے ججوں میں ”کالی بھیڑوں“ کے ذکر کی گونج سپریم کورٹ میں سنائی

Read more

جہاں خواتین کو نئی زندگی ملتی ہے

پاکستان میں غریب خواتین کی اکثریت کو ان کی زندگی بہتر ہونے کی امید کم ہی ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ کسی ایسی بیماری کا شکار ہوں جو معاشرے میں ایک لعنت سمجھی جاتی ہو تو ان خواتین کی زندگیاں مزید بوجھل ہوجاتی ہیں۔ فسٹولا ایک ایسی بیماری ہے جو زیادہ تر بہت کم آمدنی والے گھرانوں کی خواتین کو ہوتی ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو اس میں جان کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

Read more

مقامی دانش اور شہناز شورو کا افسانوی مجموعہ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“

شہناز شورو ہماری دھرتی کا روشن چہرہ ہے۔ وہ دھرتی جو ماں ہے، دیوی ہے، پالنہار ہے، جو اپنے ذہن رسا کی کھیتی سے نئی نسل کو سینچتی ہے، پالتی ہے، سوچنے اور سمجھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ شہناز شورو سچی اور سُچی تخلیق کا ر ہیں۔ ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے جو مثال پبلی کیشنز فیصل آباد سے شائع ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کے دو افسانوی مجموعے ”لوگ، لفظ اور اَنا“ اور

Read more

بدو بدی ہی سہی مگر اب بھانڈ ہی ہمارا لیول ہیں!

حال ہی میں ستر کی دہائی میں گایا جانے والا ملکہ ترنم کا ایک سپر ہٹ پنجابی گانا ”اکھ لڑی بدو بدی“ مابدولت، زی احترام اور ابھرتے ہوئے نہایت ٹیلنٹڈ اور خوش گلو گلوکار چاہت فتح علی کی خوبصورت، مسرور کن اور دلنشین آواز میں سننے کو ملا۔ اس ابھرتے ٹیلنٹ کو ابھارنے میں سارا کریڈٹ یقیناً اس ذہین، فطین، اعلی پائے کا ویژن اور شعور رکھنے والی قوم کو جاتا ہے۔ ملکہ ترنم کی روح کو تو اس عزت

Read more

اکیسویں صدی نمائندہ ادیب کی تلاش میں ہے

۔کسی واقعے پر فوری تخلیقی رد عمل ادیب کی حساسیت کا غماز ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ادیب برسوں بعد کسی واقعے کے بارے میں لکھے۔ ہم ادیب کو مجبور نہیں کر سکتے ہیں کہ وہ خارجی سطح پر ہونے والے تغیرات کو احاطہ ء تحریر میں لائے۔ کبھی کبھی وہ صرف داخلی سطح پر نبرد آزما رہتا ہے اور خارج سے مکالمے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ

Read more

آجڑی کی خوشبو دار مٹی

ریویو۔ کتاب: آجڑی بچپن میں اک واقعہ پڑھا تھا۔ جس میں خوشحال خان خٹک سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ کالے کیوں ہیں؟ حالاں کہ آپ نیک عمل کرتے ہیں لوگوں کی خیر چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواباً بتایا: ” دنیا میں خیر بانٹتے ہوئے خون پسینہ اور دھول کے سبب ہاتھ میلے ہو جاتے ہیں۔ اسی سبب جن کے ہاتھ کالے ہوتے ان کے دل پرنور ہوتے ہیں۔ ان سے خدا خوش ہوتا ہے۔“ اس واقعہ میں کتنی

Read more

ایک فکشن پارے کی کتھا اور دوسری کہانیاں

مورخہ پچیس مئی کو میریٹ ہوٹل کراچی میں گیارہویں یو۔ بی۔ ایل آرٹس اینڈ لٹریری ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرا ایک فکشن پارہ ’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ آن لائن ادب کی کیٹیگری میں پہلے انعام کا حق دار قرار پایا۔ اب سے کوئی تین برس قبل جب ”ڈھشما“ کو نیشنل لائبریری آف پاکستان سے ایوارڈ ملا تھا تو ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا احساس ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی

Read more

دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے: جرمن زبان کے شاعر رِلکے اور ان کی نظمیں

” میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔“ نپے تلے ریڈیائی لہجے میں ادا کیے گئے اس سادہ سے جملے نے جہاں مجھ پر ماضی کے کئی در وا کر دیے وہاں اعزاز آئندہ کی نوید بھی سنا دی۔ میں نے سامنے دھرے سکرپٹ پر سے نگاہ اٹھا کر میز کے دوسری جانب کھڑی ثریا شہاب صاحبہ کی جانب دیکھا جو سرخ سویٹر اور سفید پتلون میں ملبوس اپنے نفاست سے تراشیدہ بالوں کو دائیں ہاتھ سے کان کے پیچھے

Read more

تھامس مان کا افسانہ: چرج یارڈ کا راستہ

مترجم: جاوید بسام چرج یارڈ کا راستہ ہائی وے کے متوازی، مسلسل ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ تاآنکہ اپنی منزل یعنی چرچ یارڈ تک نہ پہنچ جائے۔ اس کے دوسری طرف ایک نئی مضافاتی انسانی بستی تھی، جس میں کچھ مکانات زیر تعمیر تھے، اس سے پرے کچھ کھیت تھے۔ سڑک پرانے سفیدے کے درختوں سے گھری تھی، اس کا جزوی حصہ پختہ اور جزوی حصہ کچا تھا۔ راستہ باریک بجری سے پر تھا۔ جس نے اسے ایک معقول فٹ پاتھ

Read more

خواب زلیخا کا طلسم اور دام بردہ فروش

ہمارے عہد میں چار شاعر ایسے گزرے جنہیں خود نمائی ، شہرت ، ادبی گروہ بندیوں اور دنیائے رنگ و بو میں نمود سے غرض نہیں تھی۔ مجید امجد، مختار صدیقی، عزیز حامد مدنی اور محبوب خزاں۔ آج رائے پور کے عزیز حامد مدنی یاد آرہے ہیں۔ 1922 میں پیدا ہونے والے عزیز حامد مدنی نے انگریزی ادبیات میں اعلیٰ تعلیم پائی۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں اطلاعات و نشریات کے صیغے سے وابستہ ہو گئے۔ کنٹرولر آف ہوم براڈ

Read more

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

آئیے حال ایک شعر ہی سے کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ: جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں ملک لیث محمد صاحب کی اپنے والد محترم کے تحریکِ پاکستان سے متعلق مشاہدات اور تجربات پر لکھی گئی کتاب ”ملک نامہ“ نے آج ثابت کر دیا کہ اچھے لوگ کبھی مرتے نہیں۔ جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں گھر کیے

Read more

محترم ممتاز بخاری کے ناول ”تمہارا انتظار کرنا ہے“ کا مختصر تنقیدی جائزہ

سندھی اور اردو ادب کے قارئین میں سے کون ممتاز بخاری اور اس کے کام سے ناواقف ہے! ”تمہارا انتظار کرنا ہے“ دراصل ان کے سندھی ناول ”تنھنجو انتظار ڪرڻو آھی“ کا اردو ترجمہ ہے جو محترم یاسین جونیجو نے کیا ہے۔ میں اتفاق سے یہ ناول سندھی میں نہیں پڑھ سکا اور اس کا اردو ورژن ایک ہی نشست میں ختم کیا جو اس کے دلچسپ ہونے کا ثبوت ہے ورنہ میں اتنی تندہی سے سب کام چھوڑ کر

Read more

’کراچی کی شرفا کمیٹی کا آخری شریف‘

طلعت صاحب دوسرے دوستوں سے بھی ذکر کرتے تھے کہ وہ ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک مصنف دوست اکثر نصیحت کرتے ہیں کہ کتاب لکھو، اس سے پہلے کہ تم پر کتاب لکھی جائے۔ طلعت صاحب شرفا کی اس نسل کے آخری نمائندے تھے، جو سوچتے تھے کہ پہلے کچھ پڑھ تو لیں پھر لکھیں گے۔

Read more

منیر نیازی: شخص اور شاعر

منیر نیازی کا شمار عہدِ حاضر کے ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے عصرِ حاضر کی شاعری کو نئے تخلیقی اُفق اور طرزِ اظہار کے جدید انداز سے روشناس کرایا۔ اُنھوں نے بیک وقت اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تخلیقی کاوشوں کا اظہار کیا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انھوں نے نثر کے میدان میں بھی اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا لوہا منوایا، جس میں افسانہ، کالم نگاری، ڈراما، اداریے، کُتب پر تبصرے، فلیپ اور ایک ادھورا ناول، اس کا

Read more

خواجہ میر درد ایک تعارف

خواجہ میر درد کی پیدائش 1133 ہ مطابق 1720 ء کو ہوئی آپ کے والد خواجہ محمد ناصر عندلیب (متوفی 1172 ہ ) تھے اور شاہ گلشن (متوفی 1150 ہ ) سے نسبت ارادت رکھتے تھے ان کا خاندان دہلی میں پیری مریدی کے سلسلے میں بہت ممتاز تھا، علوم متداولہ سے آگاہ تھے موسیقی میں خاص نظر رکھتے تھے، نثر فارسی میں تصوف کے معاملات پر کئی رسالے لکھے ان کے کلام میں غزل اور رباعیات اور ترجیع بند

Read more

کوٹھے سے وابستہ ایک غلط العام روایت

روایت اور درائیت کی اصطلاحات علمی سطح پر حدیث کو جانچنے کے حوالے سے استعمال ہوتی ہیں۔ تشریح کچھ یوں ہے کہ ایسی روایت جو پرکھ کے پیمانے پہ درست ثابت ہوتی ہو، مستند سمجھی جاتی ہے۔ میں نے اگرچہ اپنے مضمون کے لیے ایسے ہی معیارِ پرکھ کی طرف رجوع کرنا ہے لیکن میرا موضوع بالکل مختلف ہے۔ میں یہاں ایک ایسی سماجی روایت کو درائیت کی بنیاد پر رد کروں گا جو نہ معلوم کب سے ایک درست

Read more

سامنا اور وہ بھی انجان کا، مگر کیسے؟

من چاہے سے سامنا ہو یا ان چاہے سے۔ دل کی دھڑکن نے بے ترتیب ہونا ہی ہے۔ کُچھ ایسا بھی بولا جا سکتا ہے جو آپ کے من کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دے۔ دل کے معاملات کو تو سنبھالا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ عصمت چغتائی کے الفاظ میں ”کوئی لاکھ روپیہ بھی دے تو میں نہ بتاؤں“ ۔ لیکِن میں آج آپ کوایک اور معاملے پر بہت کچھ بتانے لگا ہوں اور وہ بھی مفت

Read more

پیغلہ (دوشیزہ) ناول

پیغلہ ناول صاحب زادہ محمد ادریس کا لکھا ہوا پشتو ناول ہے۔ جسے حیران خٹک نے دوشیزہ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ناول پشتو میں 1949 میں منظر عام پر آیا ہے۔ اور یہ ناول پشتو کے اولین و سابقین ناولوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو حیران خٹک نے بہت ہی کمال مہارت سے ترجمہ کیا ہے بلکہ ترجمے سے زیادہ یہ ایک طبع زاد ناول معلوم ہوتا ہے۔

Read more

ادب برائے؟

ایک زمانے میں جب کمیونسٹ پارٹی میں ہوا کرتے تھے تو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی یا ادب برائے مقصد یا ادب برائے نظریہ کی پرانی بحث کبھی پڑھنے کو مل جاتی، کبھی سننے کو تو کبھی اس ضمن میں کچھ کہنے کو۔ نظریہ نظریہ کی تکرار، پیچھے امام کے اللہ اکبر کہنے والوں کی قسم کے احباب ویسے ہی کیا کرتے جیسے طالبان بعد میں شریعت شریعت کی یا ان سے پہلے تبلیغی جماعت والے پورا کا

Read more