نگران سیٹ اپ اور اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی

یہ 2020 کی بات ہے جب بلوچستان میں جام کمال خان کی حکومت، موجودہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سپیکر صوبائی اسمبلی تھے، تب جمعیت العلما اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی آج کی طرح ”فرینڈلی“ نہیں بلکہ حقیقی اپوزیشن جماعتیں تھیں، تب صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک حکومتی رکن نے اپوزیشن لیڈر پر ان کی ٹوپی کو لے کر ایک نامناسب جملہ کسا۔ جس پر ایوان میں خوب شور شرابا ہوا، اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑیں، واک آؤٹ

Read more

مرحبا! بیت المقدس سے مہمان آئے ہیں

گزشتہ دنوں فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کی کال موصول ہوئی، اس میں انہوں نے کہا کہ فلسطین سے کچھ مہمان آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان کی میزبانی کریں۔ میں نے جواب کیا دینا تھا، بیت المقدس سے آئے مہمانوں کو مرحبا کہنے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر لیے۔ گزشتہ دنوں ہمارے دفتر میں ڈاکٹر صابر ابو مریم کے ہمراہ شیخ ادیب یاسر جی صدر مجلس علماء فلسطین اور

Read more

بھینگی چڑیل اور اندھا بھوت (ڈرامہ)

”چار نانوشتہ اور غیر معین کردار ایک اسٹیج پر جو اترتی ہوئی باڑھ کی طرح آہستہ آہستہ گھلتا مٹتا جا رہا ہے، یا کسی گرد آلود کینوس پر مسلط پرچھائیاں۔“ کردار 1۔ انور: 32 سالہ شاعر اور ناول نگار، عذرا کے شوہر 2۔ عذرا: 30 سالہ شاعرہ اور نثر نگار 3۔ نبیل: 25 سالہ شاعر اور نقاد 4۔ ثانیہ: 27 سالہ شاعرہ اور کال گرل پہلا منظر ”فینٹم آڈیٹوریم۔ اسٹیج پر رنگ برنگی مکڑیاں دیواروں پر رنگ برنگے جالے بنانے

Read more

ایک خاموش میثاق

مجھے آپا نعیم فاطمہ علوی کی بات کرنی ہے لیکن پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کے بطن سے برآمد ہونے والے ایک خیر کی بات پہلے ہو جائے کیونکہ جس شر سے یہ خیر برآمد ہوا ہے، آپا اسی شر کی بیخ کنی کے کام میں دل و جان سے مصروف ہیں۔ اقتصادی بحران کے تعلق سے خیال اگر آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی طرف جاتا ہے یا سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں

Read more

جنوب مشرقی ایشیا کا ٹائیگر: ملائیشیا

جون 2023 کے سیاحتی دورے میں، میں نے ایشیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے ملک ملائیشیا کے رنگ ڈھنگ اپنی آنکھوں سے دیکھے تو دنگ رہ گیا۔ یہ چند دہائیوں قبل والا غربت میں لپٹا ملائیشیا نہیں تھا بلکہ اپنی شان و شوکت سے یورپ کی آنکھیں خیرہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو چکا ہے۔ ملائشیا وطن عزیز پاکستان سے دس برس بعد 31 اگست 1957 کو انگریزوں کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوا تھا۔ 1511 سے

Read more

کنڈیرا کا ناول ”پہچان“: تنقیدی مطالعہ

منگل 11 جولائی 2023 ء کو دنیا کے عظیم ناول نگار میلان کنڈیرا، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں انتقال فرما گئے۔ ان کا وطن چیکو سلواکیہ تھا لیکن وہ 1975ء سے فرانس میں مقیم تھے۔ 1979 میں ان سے چیکو سلواکیہ کی شہریت چھین لی گئی۔ 1991 ء میں فرانس نے انھیں شہریت سے نوازا۔ تب سے وہ فرانس میں مقیم تھے۔ ایک عظیم انسان کی وفات نے ان تمام لوگوں کو افسردہ کر دیا، جن کا تعلق قلم قبیلے

Read more

سعید نقوی کا ناول: گرداب

سعید نقوی اردو زبان و ادب میں اپنے افسانوں تراجم اور ناولوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ سعید نقوی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ سعید نقوی نے ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد 1987 میں انگلستان سے جلدی بیماریوں میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ انھوں نے سعودی عرب، ایران، انگلینڈ میں ملازمت کی۔ پھر آئر لینڈ سے میڈیسن میں ایم آر پی ایس کی سند حاصل کی۔ اور امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ سعید نقوی نے

Read more

نذیر قیصر کی غزل:بیل بوٹوں سے لکھی حمد

گزر چکی صدی کی چھٹی دہائی کے لگ بھگ وسط سے غزل کے باب میں اپنا نام رقم کروا لینے والے نذیر قیصر سے میرا اولیں تعارف ان کی کتاب ”آنکھیں چہرہ ہاتھ“ سے ہوا تھا: آنکھیں چہرہ ہاتھ لئے پھرتا ہوں میں کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں میں جی، اس کتاب سے، جس کی تقریظ میں جیلانی کامران نے ایک عجیب بات لکھ دی تھی۔ نذیر قیصر کا ذکر آتے ہی ہر کوئی وہی بات دہراتا تھا؛کوئی

Read more

ہم آپ سے سڑکوں پر برہنہ گھومنے کی آزادی نہیں مانگ رہے: ڈاکٹر رامش فاطمہ سے مکالمہ

انٹرویو: اقبال خورشید ۔ ۔ سرخیاں : کیا ”می ٹو“ اور ”فیمینزم“ پر تنقید کرنے والوں کو ان تحریکوں کا اوریجن پتا ہے؟ جذباتی وابستگی انسانوں سے ہو یا شہروں سے، وہ خراج مانگتی ہیں ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے بعد لگا، جیسے لفظ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہو کیا ہمیں عورت قبول ہے؟ وہ عورت، جو پراعتماد ہے، ہنس سکتی ہے، جو چاہے لکھ سکتی ہے، جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عورت، جو سوال اٹھا سکتی ہے؟ یہی

Read more

کالا رنگ، حساس عورتیں اور آج کا مزاح – مکمل کالم

آہ کیا زمانہ تھا، کیا آزادی تھی، کیا بے خوفی تھی! اِس سے پہلے کہ آپ میری آہ و بکا سے کوئی غلط مطلب اخذ کریں اور سوچیں کہ میں مردِ حُرّ بننے کی کوشش کر رہا ہوں اور علامتی انداز میں کالم لکھ کر شہیدوں میں نام لکھوانے کا ارادہ رکھتا ہوں، میں واضح کردوں کہ میری مراد ستّر کی دہائی سے ہے جب لوگوں کو بلا کھٹکے ہر قسم کی گفتگو کرنے کی آزادی تھی، وہ آزادی اب

Read more

عشق بیچارہ اور عقل عیار ( 2 )

عام طور پہ عشق و محبت کی جڑیں جذبات میں ملتی ہیں (جذبات روح کے ہنگامے اور فساد کا مظہر ہیں ) مولانا جلال الدین رومیؒ کی ترجمانی کرتے ہوئے، علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے عشق بیچارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق، عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی۔ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام اس زمین و

Read more

روبینہ فیصل کے ناول ”نارسائی“ پر تبصرہ

مجھے ایک محفل میں ایک اجنبی ادیب ملے۔ ان کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا کہنے لگے۔ کیا آپ روبینہ فیصل کو جانتے ہیں؟ ’جی ہاں۔ ‘ میں نے مختصر سا جواب دیا ’کب سے جانتے ہیں؟‘ ’برسوں سے۔ اس وقت سے جب انہوں نے افسانے لکھنے شروع کیے تھے۔ ‘ ’سنا ہے ان کا پہلا ناول۔ نارسائی۔ سنگ میل پبلشرز نے لاہور سے چھاپا ہے۔ کیا آپ نے پڑھا ہے؟‘ ’نہ صرف پڑھا ہے بلکہ غور سے پڑھا ہے۔

Read more

جمہوریت بری نہیں ہوتی کی جاتی ہے

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب۔ ہم میں سے بہت سوں نے علامہ اقبال کا یہ مصرعہ پڑھا ہوا ہے۔ سن سنا کر یہ بھی جان گئے ہیں کہ اقبال صاحب بتا رہے ہیں، جمہوریت کا جبہ اوڑھے ظلم ڈھانے والا بھوت پاؤں سے عوام کو کچلنے میں مصروف ہوتا ہے۔ آج ہم کہیں گے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بات نظر انداز نہ کریں کہ یہ کس زمانے کی سوچ ہے اور کن ملکوں کے لوگوں

Read more

میرے شہر کے دانشور

آج میں بہت تھک گئی تھی۔ آج کی تھکن دوسرے دنوں کی نسبت کچھ غیرمعمولی تھی۔ جسمانی سے زیادہ دماغی تھکن۔ شاید اس کی ایک وجہ اس 28 سالہ نوجوان کے کینسر کا کیس تھا جسے رپورٹ کرتے ہوئے میں اپنے احساسات پر کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔ دروازے سے اندر داخل ہوئی تو خود کو ایک بڑے سے دائرے کی طرح گول لیکن اندھیرے کمرے میں پایا۔ اندھیرا۔ اور خاموشی۔ مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ میں نے

Read more

کارونجھر کے سرکش سوڈھوں اور کولہیوں کی انگریزوں کے خلاف مزاحمت

بارہویں صدی عیسوی کے جینی سادھو ہیم چندر کی کتاب ’شبد انوشاسن‘ میں شامل ریگستانی دوہوں میں سب سے زیادہ جس دوہے کا تذکرہ ہوتا ہے، وہ صحرا کی ایک رزمیہ داستان کا دوہا ہے۔ بھلا ہوا جو ماریا بھینی امہارا کنت، لجی تو وین سے رہو، جئے بھگا گھر اینت، ترجمہ : اے بہن! اچھا ہوا جو میرا شوہر جنگ میں مارا گیا، اگر جنگ کے میدان سے ڈر کر گھر بھاگ آتا تو میں ہم جولیوں میں بہت

Read more

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن کھلنے لگے قفلوں کے دہانے پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے جسم و زباں کی موت سے پہلے بول کہ سچ زندہ ہے اب تک بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے فیض احمد فیض کے لسانی

Read more

لیٹر باکس نہیں خط کیا لکھیں

لیٹر باکس کہیں نظر نہیں آتے، پتا ہی معلوم نہیں تو آنے والے زمانوں کو کیا خط لکھا جائے گا! اپنی شناخت کی تلاش نہ جانے کب سے گمشدہ راستوں میں بھٹک گئی۔ ماضی میں پلٹ کر جنہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے اور ان سے کچھ سیکھنے کی خواہش تھی وہ شاید اس سوچ کے بعد دم توڑ گئی کہ ہمیں نے سب کچھ مسخر کیا اور آنے والے دنوں کی پہچان بھی ہمیں سے ہے۔ جب ڈاک کا رابطہ

Read more

تمثیل، استعارہ، علامت اور اساطیر

موضوع سے قطع نظر جب ہم شاعری کی مرکزی ساخت کے متعلقات کی طرف توجہ کرتے ہیں تو حسی ادراک، استعارہ، تمثیل اور دیو مالائی عناصر کی شمولیت کے پیش نظر اس کا نثر سے امتیاز کرنا پڑتا ہے۔ شاعری کی تنظیم کے لیے استعارہ اور بحر کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ان دونوں عناصر کے اشتراک کے بغیر اس کا مقصد مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان سے ایک طرف حسی اور جذباتی ادراک ہوتا ہے جو شاعری کو

Read more

لہو کے ریشم سے

”ایسے ہی مشکل مقام پر ادب آدمی کا ہاتھ تھامتا ہے کہ امید اور نا امیدی کے درمیان کا پیچاک ہی دراصل جدید ادب، خاص طور پر فکشن کا موضوع ہے اور اس پیچاک ہی کے کسی پڑاؤ پر ایک برج عاج ہے، جس میں بیٹھا ادیب خواب و خیال کے لچھوں سے جوجھتا رہتا ہے۔ کچھ سلجھا لیتا ہے، کچھ میں ریشم کے کیڑے کی طرح الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اور انجام کار مر جاتا ہے مگر دنیا

Read more

پوسٹ ٹروتھ پالیٹکس… جھوٹ کا طوفان!

مشہور فلسفی مائیکل فوکالٹ "سچائی کو مدِمقابل نظاموں Competing systems کے مابین ایک مقابلے کے طور پر دیکھتا ہے، وہ کہتا ہے کہ سچ کیا ہے؟ کا تعین وہی نظام کرے گا جو غالب ہو, وہ نہ جو ٹھیک ہوں۔” سچائی اور حقائق تک رسائی ہمیشہ سے مشکل رہا ہے جبکہ پرانے زمانے میں ناممکن حد تک مشکل تھا اور صرف حکمران طبقے اور چند با اثر اشخاص کو امتیاز حاصل تھا۔ اس کے برعکس اس میڈیائی دور میں سچ

Read more

حمایت علی شاعر ’سماجی شعور اور عوام دوستی

نوٹ: ہر سال پندرہ جولائی کو ساری دنیا میں حمایت علی شاعر کے پرستار انہیں یاد کرتے ہیں۔ میں بھی ان کی یاد میں ’ہم سب‘ کے قارئین کی خدمت میں اپنا ایک مقالہ پیش کرتا ہوں۔ یہ مقالہ 20 ستمبر 2020 کو کاروان فکر و فن شمالی امریکہ کے زیر اہتمام زوم انٹرنیٹ پر منعقد ہونے والے ایک بین الاقومی سیمینار یاد رفتگاں۔ بنام حمایت علی شاعر۔ میں پڑھا گیا تھا۔ ۔ خواتین و حضرات! ہم سب جانتے ہیں

Read more

عشق بے چارہ اور عقل عیار

بشری رشتوں کی قربت اور جسمانی تسکین کو ورچوئل ایجنٹ کے ذریعے پورا کرنے کی نئی سائنسی تحقیق آیا سماجی تعلقات کی کشش اور عشق کے اس لافانی تصور کو بے اثر بنا دے گی؟ جو مشرق و مغرب کے کلاسیکی ادب، تصوف اور فلسفہ کے کئی دبستانوں کی اساس اور صدیوں تک دکھوں سے لبریز اس فانی زندگی کو جینے کے جواز مہیا کرتا رہا۔ محققین کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک مقالہ میں رومانوی بشریت کے ایسے تصور

Read more

ہزار داستان: ریاض شاہد کا ایک عمدہ ناول

اجمل کمال کے توسط سے اب تک ہم نے دنیا بھر کی دوسری زبانوں کے نئے پرانے ناول تو پڑھے ہی ہیں، ساتھ ہی اردو کے بھی کچھ ایسے اہم ناول انہوں نے بازیاب کروائے ہیں، جن تک شاید اتنی آسانی سے ہماری نظر نہ پہنچتی۔ آج کے نئے شمارے میں شامل ریاض شاہد کا یہ ناول بھی ایک ایسا ہی فکشن پارہ ہے، جو ان تک محمودالحسن کے ذریعے پہنچا۔ ناول کے تعلق سے کچھ اہم باتیں خود اجمل

Read more

پھٹے ہوئے جوتے اور بے داغ دستار

یاسر پیرزادہ ایسے دوست ہیں جنہیں جاننا عمر رواں کا تشکر ٹھہرتا ہے۔ تخلیقی تحریر تیز رو دریا میں خالی ہاتھوں مچھلی پکڑنے جیسا مشکل کام ہے۔ یاسر پیرزادہ پورے انہماک سے یہ کار گراں انجام دیتے ہیں۔ متعین لفظ اور مکمل ابلاغ سرگراں سنگی دیوتا ہیں مگر یاسر کی انگلیوں میں مٹی کا لوندا بن جاتے ہیں۔ اعلیٰ سرکاری افسر ہیں مگر منصب کو نخوت کی پوستین سمجھ کر اوڑھ نہیں رکھا۔ یہ تو رہی حبیب لبیب کی تشبیب۔

Read more

ایٹم بم بنا کر ’جہانوں کے غارت گر‘ کہلانے والے اوپنہائمر کا فخر پچھتاوے میں کیسے بدلا؟

یہ 16 جولائی 1945 کو صبح سویرے کا وقت تھا۔ رابرٹ اوپنہائمر کنٹرول بنکر میں اس لمحے کے منتظر تھے جو دنیا بدلنے والا تھا۔ نیو میکسیکو کے صحرا میں قریب 10 کلو میٹر دور دنیا کے پہلے ایٹم بم کی آزمائش چل رہی تھی جسے ’ٹرینیٹی‘ کا نام دیا گیا۔

Read more

اکیڈیمیا سے چند اعتراضات۔ حصہ اول

کہتے ہیں خیالات کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ جبکہ ہم یونیورسٹیز میں یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ کون سا خیال کس کی جاگیر ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ کلام ہمیشہ متکلم کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے ورنہ علم کا شاید کوئی وجود ہی نہ رہے۔ یعنی یہ کہ افلاطون کی کہی گئی باتیں دراصل صرف باتیں ہیں، افلاطون کی باتیں ہونا بے معنی ہے، خود میں ایک ایسی کی پیداوار ہے جس کو رو میں بہتے انسان

Read more

معاصر نقاد کے نام ایک خط

لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا مطالعہ نہایت سطحی اور بودا ہے اور زندگی کے تجربات نہ ہونے کے برابر۔ ان کا خیال ہے کہ تمہاری دانش اس جعلی زیور کی مانند ہے، جو دیکھنے میں تو کھرا سونا لگتا ہے، لیکن ٹھوک بجا کر دیکھا جائے تو دیگی لوہے کی چادروں پر سنہری پانی کے چھینٹوں سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمہیں چند مخبوط الحواس مدیروں اور تمہارے اپنے طالب علموں کے علاوہ کسی نے

Read more

صابر ظفر کے زرد غزال

سر قفس چلے یوں ماتمی ہوا جیسے بلوچ ماؤں کے بیٹے ہوں لاپتا جیسے شہزاد ناصر کے ہمراہ اسلام آباد آرٹس کونسل میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا کہ یک دم کچھ غزالوں کے جھرمٹ میں صابر ظفر نظر آئے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں ان کے 1996 ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے لکھے نغمے ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ کا اس قدر چاہنے والا ہوں کہ یہ نغمہ سنتے ہی میرے اعصاب ہمت

Read more

ناول "سدھارتھ” ایک مطالعہ

ہرمن ہیسے ادبی دنیا کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ ادب کے سنجیدہ قارئین ضرور ان کی شخصیت سے واقف ہیں۔ وہ 2 جولائی 1877 ء کو جرمنی میں پیدا ہوئے اور 9 اگست 1962 ء میں 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ بنیادی طور پر ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر تھے۔ وہ اپنے تین شاہکار ناولز، سدھارتھ، اسٹیفن وولف اور دی گلاس بیڈ گیم کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ 1946 ء میں انہیں نوبل انعام برائے

Read more

کندیرا کی موت

اس کالم میں اکثر میلان کندیرا کا ذکر رہا ہے۔ عرصہ ہوا میں اسے تقریباً بھول چکا تھا۔ بدھ کی سہ پہر مگر موبائل فون پر سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد اس کی موت کی خبر ملی تو دل اداس ہو گیا۔ کندیرا کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جس کے ناولوں نے میری سوچ کو 1990 ء کی دہائی میں حیران کن انداز میں بدل دیا تھا۔ ایک پڑھے لکھے دوست سے خبر ملی کہ ان دنوں چیکو

Read more

کاروکاری تور یا تورا

کارو کاری پر سندھی ادب اور اردو ادب میں بہت کچھ لکھا گیا۔ اگر ایک جانب سب سے زیادہ اس قبیح رسم پر ادباء اور شعراء نے لکھا ہے تو دوسری جانب یہ عمل اسی طرح پروان بھی چڑھا ہے اور چڑھ رہا ہے۔ شاید یہ سائنسی بنیادوں پر مانے گئے اس فارمولے کے مصداق ہو کہ کسی چیز کو جب جتنا دبایا جاتا ہے تو اتنا ہی وہ پھیلتا جا رہا ہوتا ہے۔ گزشتہ جمعے کو آرٹس کونسل میں

Read more

شعری ہیئت اور معنویت

مشرقی تنقید میں یہ خیال عام یہ ہے کہ اعلیٰ قسم کی شاعری وہی ہو سکتی ہے جو بعض اصول و ضوابط پر پوری اترتی ہو اور اس کا معیار وزن اور ترنم کے تقاضوں کی تکمیل سے قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریہ میں ایک خامی یہ محسوس ہوتی ہے کہ اس سے شعری آہنگ کا تعلق محض الفاظ کی صوتی بنیادوں تک محدود رہ جاتا ہے اور قاری کے ذہن پر اس کا اثر قائم نہیں ہو پاتا۔

Read more

مثبت نفسیات اور گرین زون کا فلسفہ

عائشہ اسلام کا خط ۔ ۔ کچھ دن پہلے میں نے ہارورڈ یونیورسٹی کا ایک آن لائن کورس: ”Managing Happiness“ (Happiness is within your control. Write your own ending.) مکمل کیا ہے۔ اس کورس میں ”مثبت نفسیات“ کے مضمون کو پڑھنے کے بعد میرے دل میں آپ کو یہ خط لکھنے کی آرزو پیدا ہوئی۔ پازیٹیو سائیکالوجی تھیوری یا نظریہ مثبت نفسیات مارٹن سلیگ مین نے تقریباً پچیس برس قبل تشکیل دیا جب وہ امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کے صدر

Read more

نارمن کا مشہور پاکستانی ریستوران کبابش بائٹس

اس طرح کے چکن تکہ برگر میں نے ساہیوال میں کھائے تھے! وسیم احمد نے ہمارے سامنے چکن کے امریکن اسٹائل کے برگر رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ ریسیپی ساہیوال سے لی تھی۔ وہ ہم سب کے لیے ایک بہت طویل دن تھا لیکن پھر بھی سب نے وقت نکالا۔ ہم نارمن اوکلاہوما میں واقع پاکستانی ریستوران کبابش بائٹس میں رات کے آٹھ بجے اس کے مالک وسیم احمد کا انٹرویو لینے کے لئے ملے۔ کبابش بائٹس پیر

Read more

سوشل میڈیا اور آرٹ

میں نے گزشتہ مضامین میں سوشل میڈیا کی پیچیدگی کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں آرٹ اور سوشل میڈیا کے تعلق کو بیان کرنا سب سے مشکل ہے۔ سوشل میڈیا ایک طرح سے آرٹ کی ایک صورت ہے اور یہ اس کے اظہار کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس دوہرے تعلق کی وجہ سے کسی ایک پہلو کو لے کر چلنا مشکل امر ہے کیونکہ اس نے آرٹ کے ایک صورت کے طور پر

Read more

ڈبل ڈیکر بس کے سفر کی یادیں اور باتیں

لاہور سے وابستہ بچپن کی یادوں میں ایک یاد ڈبل ڈیکر بس کا سفر ہے، جو نہیں بھولتا اور آج بھی یاد ہے۔ دس، بارہ سال کی عمر میں جب اپنے والد گرامی احمد علی سراج صاحب کے ساتھ سیر کو کہیں جانا ہوتا تو دو منزلہ بس میں بیٹھنا ہے، کی فرمائش اور کبھی ضد ہوا کرتی تھی۔ یہ بات ساٹھ کی دہائی کے اختتام اور ستر کی دہائی کے شروع کی بات ہے۔ ان دنوں یہ دو منزلہ

Read more

تقسیم ہند: پنجاب اور فسادات

14 اگست سنہ سینتالیس کو ہندوستان برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا اور ایک نئی مملکت پاکستان وجود میں آئی۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ کی بنیاد انیسویں صدی کے شروع میں مشرقی بنگال میں رکھی گئی لیکن شمالی ہندوستان نے مسلم لیگ کی زیر قیادت تحریک پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا خاص طور سے علیگڑھ یونیورسٹی کے طلبا نے تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے لیے زبردست تحریک چلائی اور ہندوستان کے گاؤں گاؤں جاکر

Read more

لیکچرر بننے کا میرا ادھورا خواب

”چوبیس نومبر 2019 کے اخبار میں سندھ پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار کے لیے کچھ آسامیوں کا اشتہار آیا ہوا تھا۔ میں نے اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے معذور کوٹا رورل میں اردو لیکچرار کے لیے اپلائی کیا۔ رورل کی صرف دو سیٹس تھی۔ سترہ مارچ 2021 بدھ کے دن ٹیسٹ۔ ہوا۔ 8 دسمبر 2022 کو رزلٹ آیا میں نے کی کے مطابق رزلٹ چیک کیا تو الحمدللہ میرے نمبر 72 بنے۔ اس ٹیسٹ میں سندھ سے ٹوٹل سپیشل پرسن

Read more

قاری، کتاب اور ہم

کائنات کی سب سے حسین تخلیق انسان ہے جس کوا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف بہترین صورت میں پیدا کیا بلکہ خلیفہ ارضی جیسا خطاب دیتے ہوئے تمام مخلوقات سے اشرف قرار دے کر اس دنیا میں بھیجا، اس پر طرہ یہ کہ اس کی تربیت کے لئے پیغمبر بطور معلم بھیجے۔ انسان کی جسمانی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بے بہا میوے اور پر ذائقہ خوراک کا بندوبست کیا ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں

Read more

لفظ تالہ اور چند گزارشات

سوال یہ ہے کہ: ایک آرٹیکل جس میں لفظ تالے کا ذکر ہوا ہے آج کل ٹاک اف دا ٹاؤن ہے اگر یہ آرٹیکل سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بچے اور بچیوں تک پہنچ جائے تو اس کے ان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کیا ہر لڑکا ہر لڑکی کو دیکھ کر تالہ تالہ نہیں کہے گا؟ کیا ہر لڑکا اب ہر لڑکی سے پوچھنے کی جسارت نہیں کرے گا کہ کیا اس کی V کو تالہ تو نہیں

Read more

خدارا عقل کو تالہ لگائیے

جب آپ کا مقدمہ کوئی اناڑی وکیل لڑے گا تو کیا ہو گا؟ جب بندر نائی بن جائے گا تو تب کیا ہو گا؟ ناک ہی کٹے گی ظاہر ہے یہ بتانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت تو نہیں ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس عورت جاتی کی ناک مجھے چند دن سے کٹتی محسوس ہوئی ہے۔ اس زمینی گولے پہ تین طرح کے انسان بستے ہیں :مرد، عورت، خواجہ سرا کیا عورت صرف ویجائنا کا

Read more

حسن نثار کا یونیک ڈی این اے

بعض افراد کو ”کنفیوژن“ کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، اس قسم کے لوگ ساری زندگی یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ”ان کا حقیقی نقطہ نظر کیا ہے“؟ اس قسم کے افراد چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں، جہاں پاؤں ٹکانے کی جگہ ملتی ہے، کھڑا ہونے کی جگہ خود بخود بنا لیتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خود کو نمایاں کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اپنے قلم

Read more

اسکولوں میں ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ گیر شخصیت کی تشکیل میں معاون

جب میں ساتویں جماعت میں تھا تو ہمارے اسکول میں ایک نئے لیکن انتہائی متحرک استاد تشریف لائے جنھوں نے پہلی بار ہمیں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ دوسری مختلف سرگرمیوں میں شامل کیا۔ گو کہ ان سے قبل ہمارے اسکول میں کھیلوں کی سہولتیں موجود تھیں، لیکن یہ تو ہم نصابی سرگرمیوں کا ایک ہی عنصر تھا۔ ہمارے نئے استاد نے اسکول میں بزم ادب سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور ہر جمعرات کو اسکول میں وقفے کے بعد اس سوسائٹی

Read more

منشی پریم چند کے ”عید گاہ“ اور ”حج اکبر“ کے ادبی جمالیات

چاہے وقت ریت کے مانند ہمارے انگلیاں سے کھسکتا ہے، منشی پریم چند کے افسانے کی ادبی جمالیات الماس کی طرح کبھی زائد المیعاد نہیں۔ افسانے ”عید گاہ“ اور ”حج اکبر“ ادیب کے جمالیاتی نشان ہیں جو یہ آفاقی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ احساس شکرگزاری انسانی شعور کا پوشیدہ، لیکن سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اگر ہم ان دونوں افسانوں کو ایک ساتھ پڑھیں تو پریم چند کی مرکزی فلسفیانہ فکر ہمارے سامنے آ جائے گی کہ

Read more

فیض کی نظم ”دریچہ“ ساختیات کے آئینے میں

ساختیات (Structuralism) ، زبان کی ساخت کا علم ہے۔ اس میں زبان کے ساختیاتی اجزا، ان کے باہمی تعلق اور وجود سے بحث کی جاتی ہے۔ ساختیات کا آغاز ماہر لسانیات ساسئیر کے ان دروس سے ہوتا ہے جنھیں ان کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے کتابی شکل میں شائع کروایا۔ اس سے زبان کے مروجہ اصول و ضوابط اور تعریفات پر ہی چوٹ نہیں پڑی بلکہ اس کا دائرہ اثر بشریات، نفسیات اور معاشرتی علوم ایسے شعبوں

Read more

برلن کے تین پاکستانی قلمی شہسوار

برلن شہر میں 180 سے زائد اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اس طرح یہ شہر ملٹی نیشنز افراد کا مرکز بھی ہے ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں جن کا تعلق پاکستان کے تمام صوبوں کے مختلف شہروں سے ہے۔ یہاں مقیم پاکستانیوں میں ایک تعداد وہ ہے جو 1980 کی دہائی میں تعلیم کے لئے جرمنی آئی تھی اور تعلیم مکمل کر کے پھر یہیں مستقل قیام کر لیا تھا۔ انہی طالب علموں میں ایک سرور

Read more

ایک ادبی نشست: رپورتاژ

ازل سے عشق پرستی لکھی تھی قسمت میں مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا مجھے ادب سے شغف اس وقت سے ہوا جب میرے بڑے بھائی شماس گل جو کہ روزانہ کی بنیاد پر اخبار پڑھتا ہے، اس نے ایک دن مجھ سے کہا کہ اخبار میں خبروں کے ساتھ اداریہ اور کالم بھی پڑھا کرو۔ اس وقت میں سکول میں پڑھتا تھا، تب سے کالم اور افسانے پڑھنے کے علاوہ مختلف اردو اور پشتو شعراء کے کتب بھی پڑھتا

Read more

پاکستانی نصابی کتابیں اب اتنی بھی غیر معیاری نہیں ہیں

آج کل کمپیوٹر کی کچھ ٹیکنالوجیز، بز ورڈ بنی ہوئی ہیں۔ چوں کہ یہ ٹیکنالوجیز پاکستان میں تخلیق نہیں کی گئی ہیں، لہٰذا ان کمپیوٹر ٹیکنالوجیز کے درست علم تک عام پاکستانیوں کی رسائی ایک خاصا مشکل کام ہے۔ جو پاکستانی ملک سے سے باہر چلے گئے ہیں اور ان ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں، وہ ان ٹیکنالوجیز کے درست علم سے کسی حد تک واقف ہیں لیکن چوں کہ زیادہ تر ایسے پاکستانیوں کی اردو واجبی

Read more

سوشل میڈیا کی یلغار میں نیا انٹرٹینمنٹ چینل

سوشل میڈیا یعنی یو ٹیوب چینلز کی یلغار میں ٹی وی چینلز کا میڈیم ویسے ہی آؤٹ ڈیٹڈ سمجھا جانے لگا ہے جیسے ملک میں نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد اخبارات کو سمجھا جانے لگا تھا۔ اخبار کے قارئین کم ہونے سے سرکولیشن پر فرق پڑا لیکن نئے اخبارات کے میدان صحافت میں آنے کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ ٹی وی چینلز کے مالکان نے اخبار بھی نکال لیے آخر کاروباری حضرات اپنے پاس آنے والی خبروں

Read more

اعجاز الحق کا عذر گناہ

اعجاز الحق صاحب ابن جناب جنرل ضیا الحق صاحب مرحوم کا ایک مضمون مورخہ 8 جولائی 2023 کو نوائے وقت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ 5 جولائی 1977 کے اقدام اور آئین کی بالادستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”جہاں بھی حکومت آئین کی اس بنیادی روح کو نہیں سمجھے گی اور اسے نظر انداز کرے گی تو پھر آئین کہتا ہے کہ ملک کا ہر شہری آئین کا وفادار ہو گا۔ یہ وہ ذمہ داری

Read more

زوال آمادہ معاشرے میں مشاعرہ

مشاعرہ تہذیب کی علامت ہے۔ مشاعرہ مذہبی مجلس نہیں ہے۔ سیاسی جلسہ نہیں ہے۔ اسمبلی ہال نہیں ہے۔ نیلام گاہ نہیں ہے۔ اسٹیج شو نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دوسری جائے ہلڑ بازی ہے۔ مشاعرے میں گہرے افکار اور عمیق جذبات کو لطیف پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے جسے سننے کا سلیقہ آنا از حد لازم ہے۔ بد قسمتی سے شعرا اور سامعین نے مشاعرے کو تماشا گاہ بنا دیا ہے۔ اس میں مجموعی معاشرتی فضا کے علاوہ

Read more

یہ ”منصف“ کب کٹہرے میں آئیں گے؟

ذوالفقار علی بھٹو کو مصلوب ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، لیکن نواز شریف اور ’پانامہ‘ کی داستان ”واردات جاریہ“ کی طرح ابھی چل رہی ہے۔ بغض و عداوت میں لتھڑے ہوئے فیصلے کے اثرات ابھی تک موجود ہیں لیکن گواہیاں ہیں کہ تھمنے میں نہیں آ رہیں۔ اگر تاریخ واقعی عدالت کا درجہ رکھتی ہے تو ان گواہیوں کے بعد ’پانامہ‘ کا فیصلہ، ایک فرد جرم کی شکل اختیار کرچکا ہے اور یہ فیصلہ تحریر کرنے

Read more

فیض کی نظم ’’دریچہ‘‘: ساختیات کے آئینے میں

ساختیات (Structuralism) ، زبان کی ساخت کا علم ہے۔ اس میں زبان کے ساختیاتی اجزا، ان کے باہمی تعلق اور وجود سے بحث کی جاتی ہے۔ ساختیات کا آغاز ماہر لسانیات ساسئیر کے ان دروس سے ہوتا ہے جنھیں ان کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے کتابی شکل میں شائع کروایا۔ اس سے زبان کے مروجہ اصول و ضوابط اور تعریفات پر ہی چوٹ نہیں پڑی بلکہ اس کا دائرہ اثر بشریات، نفسیات اور معاشرتی علوم ایسے شعبوں

Read more

کیا لوگ تھے!

عید کی چھٹیوں سے ایک دن پہلے دفتری کام سمیٹ رہی تھی جب ایک پارسل موصول ہوا۔ لفافہ کھول کر دیکھا تو سعدیہ قریشی کی کتاب ”کیا لوگ تھے“ سامنے تھی۔ قلم فاونڈیشن کے سربراہ برادرم علامہ عبدالستار عاصم کی مہربانی کہ وہ جب بھی کوئی کتاب چھاپتے ہیں تو ارسال فرماتے ہیں۔ سعدیہ قریشی معروف کالم نگار، صحافی اور شاعرہ ہیں۔ مجھے شاعری میں دلچسپی ہے۔ تاہم مجھے سعدیہ کی شاعری پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ البتہ ان کے

Read more

پنجاب کی بدلتی ہوئی ثقافت

1990 سے  2023تک کے 33 سالہ دور میں انسان نے ہر میدان میں تاریخی کامیابیاں سمیٹیں اور دنیا تیزی سے ترقی اور گلوبلائزیشن کی طرف بڑھی اور خصوصاً جنوبی ایشیا میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس 33 سالہ دور میں رہنے والے انسانوں نے بے شمار تبدیلیاں دیکھیں ۔ ایک تار والے ٹیلیفون سے لیکر واٹس ایپ کے ذریعے ویڈیو کال تک کا سفر دیکھا۔ درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے لیکر ایر کنڈیشن کی تبدیلی دیکھی۔ اس سارے عرصے میں

Read more

عظیم ماں محترمہ فاطمہ جناح کی یاد میں

 تاریخ کے اوراق میں کچھ خواتین و حضرات کو ایسا مرتبہ ملتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے قوموں کے ہیروز بن جاتے ہیں وہ خود اس دنیا سے تو چلے جاتے ہیں لیکن دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور قومیں بغیر کسی وعظ و نصیحت کے خود ہی اُن کو لقب دیتی ہیں اور خود ہی اُن کو اپنا رہبر و رہ نما، لیڈر یا ماں کہتی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح اُن ہی میں سے  ایک ہیں۔ ماں

Read more

کے ایل سیگل کی گائیکی کا سوز

(کندن لال سیگل پر محترم صحافی علی احمد خان کی یہ تحریر قریب 19 برس قبل بی بی سی اردو پر شائع ہوئی تھی۔) کندن لال سیگل 1904 میں پیدا ہوئے۔ مقام پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جموں میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد تحصیلدار تھے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جالندھر میں پیدا ہوئے۔ میں اس بحث میں پڑنا نہی چاہتا اس لیے کہ ان جیسا فنکار یا انسان جہاں بھی پیدا

Read more

بھکاریوں کا شہر: کوئٹہ

گرمیوں کے موسم میں جو لوگ تھوڑا صاحبِ استطاعت ہوں اور غمِ روزگار سے جب آزاد ہوں تو انکی یہی خواہش ہوگی کہ وہ سرد علاقوں کا رُخ کریں۔ آج کل کوئٹہ کا بھی یہی حال ہے، جو بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ وہ بھی ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے کوئٹہ کا رُخ کرتے تھے۔ یہ شہر بلوچ قوم کے لئے علم و ادب اور خاص طور پر سْیاست

Read more

میں نے سندھو سوکھتے دیکھا

ڈھاکہ ڈوب گیا پھر ابھر بھی گیا، اگر صدیق سالک آج زندہ ہوتا تو دوسری کتاب لکھتا کہ میں نے ڈوبا ہوا ڈھاکہ ابھرتے ہوئے دیکھا۔ میں ڈھاکہ کے زخموں کو یہاں بیان نہیں کروں گا لیکن ہاں سندھ کے دردوں پر ضرور بات ہو گی۔ یہ تھوڑا سا عجیب ضرور ہو گا کہ پچھلے سال ڈوبی ہوئی سندھ کے دردناک مناظر دیکھ کر بھی میں سندھو کو سوکھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ دراصل مسئلہ سندھ ڈوبنے کا نہیں لیکن

Read more

کسی کی ویجائنا تو کسی کے منہ پہ تالے ہیں۔۔۔

آج کل تو گویا آگ سی پھیلی ہے جنگل میں، کہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ نے تالے کا راز افشا کیا ہے۔ ایسی آگ میں کودنا تو نہیں چاہیے کہ سیانے فقط تماشائی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں مگر ہم کہاں کے سیانے ہیں۔ ان کا ہر کالم پڑھتا ہوں سو پہلی ہی فرصت میں یہ بھی پڑھا، پھر اس پہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بھی پڑھا۔ اب میرا مشاہدہ کیا ہے، سنیے، کسی کو برا لگے تو لگتا

Read more

پریم چند کا پھٹا ہوا جوتا (مکمل کالم)

پریم چند کو کون نہیں جانتا، شاید وہ نہیں جانتے جو اردو نہیں جانتے۔ پریم چند کو آپ جدید اردو افسانے کا جد امجد کہہ سکتے ہیں۔ ان کا شمار اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے سب سے بڑے مختصر افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ہندی ادب کے ماننے والے اسے ’اپنیاس سمراٹ‘ کہتے ہیں، جو کہ ناول نگاری کا بادشاہ ہے۔ انہوں نے تقریباً پینتیس برس کے ادبی کیریئر میں جو کچھ لکھا ذات، پات اور

Read more

پریم چند کا پھٹا ہوا جوتا – مکمل کالم

پریم چند کو کون نہیں جانتا، شاید وہ نہیں جانتے جو اردو نہیں جانتے۔ پریم چند کو آپ جدید اردو افسانے کا جد امجد کہہ سکتے ہیں۔ اُن کا شمار اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے سب سے بڑے مختصر افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ہندی ادب کے ماننے والے اسے ’اپنیاس سمراٹ‘ کہتے ہیں، جو کہ ناول نگاری کا بادشاہ ہے۔ انہوں نے تقریباً پینتیس برس کے ادبی کیریئر میں جو کچھ لکھا ذات، پات اور

Read more

کچھ سردار کاشان مسعود کے بارے میں

کاشان مسعود! صرف ایک نام نہیں بلکہ وہ صدائے بازگشت ہے جس سے، مجھ سمیت آزاد کشمیر کے کئی نوجوانوں کے اذہان پر ثبت وہ نقوش ابھر آتے ہیں جو کسی انسان کی شخصی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے متعلق ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ میں سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کے بانیوں میں سردار کاشان مسعود کا نام سر فہرست تھا۔ یہ ان

Read more

اردو فکشن اور ڈراموں میں کارو کاری کے چند حوالے

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ”خاندان کے مردوں کے ہاتھوں لڑکی یا عورت کے قتل کو اکثر اوقات عزت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ مارنے والے اپنے عمل کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ مرنے والی نے ان کے خاندان کے نام اور ناموس پر بٹا لگایا ہے۔ پدر سری معاشروں میں، لڑکیوں اور خواتین کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ عورتوں کے کنوارے پن اور جنسی پاکیزگی کو برقرار رکھنا مرد رشتہ داروں۔

Read more

ہمارا جمہوری تذبذب اور معاشی تزلزل

علامہ اقبال اپنی فضاو¿ں کے طائر خوش پرواز تھے، گاندھی جی اپنی روایت کے مہاتما تھے۔ کسی تقابل کا شائبہ ہی نہیں۔ اقبال نے 1924 میں اشاعت پذیر ہونے والی بانگ درا میں گاندھی جی پر چوٹ کی۔ ’یہ آیہ نو جیل سے نازل ہوئی مجھ پر‘ ۔ آپ سے کیا پردہ۔ یہ طالب علم کیسے جان پاتا کہ ’آیہ نو‘ فارسی ترکیب ہے اور اگلا لفظ جیل تو زنداں کا سیدھا انگریزی ترجمہ ہے۔ ہمیں اپنے نیم خوابیدہ قصبے

Read more

بالوں میں آئی سفیدی اور کینیڈا کے مشاعرےکی صدارت

خواتین و حضرات ! آج کی محفل مشاعرہ میں صدارت کی کرسی پر بیٹھنا میرے لیے عزت’ اعزاز اور فخر کی بات ہے لیکن میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری صدارت میں میری شاعری اور دانشوری کا دخل کم ہے اور انٹرنیشنل آرٹس کونسل کینیڈا کے روح رواں شعیب ناصر اور ان کے ادبی دوستوں کی محبت’ چاہت اور اپنائیت کا دخل زیادہ ہے۔عین ممکن ہے ان دوستوں نے میرے سفید بال دیکھ کر یہ فیصلہ

Read more

ڈاکٹر لیاقت تابان کا ناول: دارالامان

دارالامان 203 صفحات پر مشتمل ناول ہے جسے 2017 میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان نے لکھا تھا اور ملگری لکوال کوئٹہ نے شائع کیا تھا۔ ڈاکٹر لیاقت تابان پیشے کے اعتبار  سے نیفرالوجی کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی قلمی مشقت سے پشتو زبان کی آبیاری بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بے شمار موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کی ہیں۔   مزکورہ ناول میں  پشتون خواتین کے حقوق  اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں بات

Read more

پراپیگینڈہ، بڑے جھوٹ اور ذہن سازی

دنیا میں جھوٹ بکتا ہے۔ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اور پھر اس جھوٹ کو عوام میں مقبول کرنے کہ لیے سوشل میڈیا، سلیبریٹیز، میمز، ٹرولنگ، کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تاکہ ہر مزاج کا شخص اس جھوٹ کو سچ سمجھے۔ جیسے اگر کوئی سنجیدہ مزاج مذہبی شخص ہے تو اس کے لیے کسی مذہبی سکالر کا استعمال کر کہ جھوٹ کی پروموشن کی جائے گی۔ وہ مذہبی سکالر بنیادی مذہبی لٹریچر سے حوالے ڈھونڈ کر عوام کو گمراہ کرے گا

Read more

عید ِغدیر اور سات صدیوں بعد سید فخرالدین بلے کا نیا قول ترانہ

حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشد سرکار حجرے نظام الدین اولیاء کے حکم کی تعمیل میں قوالی کی بنیاد رکھی تھی۔ قوالی کا مکمل نصاب بھی ترتیب دیا تھا۔ قوالی اس محفل کو کہا جاتا ہے کہ کہ جس کا آغاز قول ختم المرسلین کے اعلان ولایت سے کیا جاتا ہے۔ گویا کہ من کنت مولا ، فھذا علی مولا ۔ اور یہ قول پڑھنے والے کو قوال کہا جاتا ہے اور جس محفل میں پڑھا جائے اسے قوالی کہتے

Read more

سندھی لسانیات کے اہم عالم ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی کی وفات

حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہونے والے، سندھی زبان و ادب کے نامور اور معتبر عالم، دانشور، محقق، ماہرِ لسانیات، استاد اور دہلی یونیورسٹی کے زبانوں کے شعبے میں سندھی سیکشن کے سابق سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر کشنچند جیٹلی، پير 3 جولائی کو 93 برس کی عمر میں دہلی (بھارت) میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔   ڈاکٹر مرلی دھر جیٹلی نے 7 نومبر 1930ء سندھ کے دوسرے بڑے شہر حيدرآباد کی مشہور ‘مُکھی گلی’ میں کشنچند جيٹلی نامی ايک

Read more

محبت کی ٹوٹی سیڑھی

بلاج بچپن ہی سے لاپروا اور غیر ذمہ دار تھا۔ اسکول دیر سے جانا، پڑھائی کے معاملے میں بھی غیر سنجیدہ تھا۔ لیکن اسے دوست بنانے کا ہنر آ تا تھا۔ ہر وقت دوستوں کے حصار میں رہتا تھا۔ بلاج کی بہن نہیں تھی۔ اس لیے اسے اس رشتے کا لطیف احساس کم ہی تھا۔ گاؤں میں ایک مقبول نوجوان تھا۔ ہر چوڑا، مصلی، میراثی اس کا دوست تھا۔ اسی لا ابالی پن میں اس نے میٹرک تک کی تعلیم

Read more

’سالم نے میری بازیابی کے لیے بھرپور جدوجہد کی، اب وہ خود جبری گمشدگی کا شکار ہو گیا ہے‘

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سالم بلوچ کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں فوری رہا کیا جائے یا کسی سول عدالت میں پیش کیا جائے۔

Read more

قرآن پاک اور جرم ضعیفی کی سزا

سویڈن میں قرآن پاک کو عید الاضحٰی کے موقع پر جلانے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر طرف سے حسب توقع مذمتی بیانات آ رہے ہیں، جلسے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور سویڈن کے سفیروں کو طلب کر کے اس واقعہ کی سرکاری سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اس دفعہ احتجاج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کی سویڈن میں چھ ماہ کے اندر بے حرمتی

Read more

معرکہ 7 اکتوبر

معرکہ 7 اکتوبر ایک تجربہ کار سیاست دان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PKMAP) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ 149 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اصل میں پشتو زبان میں لکھی گئی ہے جبکہ میں نے اس کے اردو ترجمہ کا تیسرا ایڈیشن پڑھا ہے جو 2014 میں پشتونخوا ادبی فورم نے گوشہ_ادب کوئٹہ سے شائع کیا تھا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی انسانی حقوق کے فروغ اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آمریت کے خلاف ایک

Read more

شجر سایہ دار

منیر ابنِ رَزمی ایک ایسے طرحدار انسان کہ جن کی قربت میں چند لمحے بیٹھ کر یوں لگے جیسے ایک چھتناور درخت کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھے ہیں، جس کی شاخیں گھنی اور برگ و بار سے بھرپور ہیں، جو پیرانہ سالی کے باوجود بھرپور توانائی اور تمکنت کے ساتھ ایستادہ ہے۔ تلخ اور گرم دوپہروں کی غضب ناک جھلستی دھوپ کو اپنے تن پہ لے کر دوسروں پہ سایہ کرنے جیسی عظیم خُو نے ان کے لہجے کو بھرپور

Read more

پشتون امن کے خواہاں ہیں (پہلا حصہ)

صنعتی انقلاب نے اگر ایک طرف دنیا کو جدید شکل دی ہیں تو دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک کو زیادہ سے زیادہ طاقتور بنے کی ہوس میں اس قدر بدمست ہاتھی بنا دیا کہ ان کے زیادہ سے زیادہ طاقتور بنے کی ہوس نے کہیں شہر اور کہیں ریاستوں کو اجاڑ کے رکھ دیا۔ جب پوری کی پوری ریاست کو میدان جنگ بنا دیا جائے تو کیا وہاں کے لوگ ان کی زبان تاریخ آداب ثقافت اور معیشت زندہ رہے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: فن اور شخصیت

میں امیر جعفری صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے کتاب ”ڈاکٹر خالد سہیل: فن اور شخصیت“ میں میرے مضامین کو جگہ دی اور اتنی شاندار کتاب ایک انسان پرور شخص پر مرتب کی اور ڈاکٹر خالد سہیل کی شکر گزار ہوں جنہوں نے نہ صرف اس کتاب پر رویو لکھنا کا موقع بھی فراہم کیا بلکہ جب میں یہ کتاب پڑھ رہی تھی تو انہوں نے میری کتاب پر لائیو کمینٹری کو تحمل سے سنا اور جہاں

Read more

ثقافتی تاریخ میں لوک داستان کا کردار

لوک داستان ماضی کی حقیقت جاننے کا سب سے موثر ذریعہ ہے کیونکہ ان کا مکمل انحصار زبانی تاریخ پر ہوتا ہے جو ہمیں اس دور کی وہ حقیقت بتاتی ہیں جو ثانوی اور اعلی ثانوی ذرائع کے ذریعے سے یا مؤرخ کی غفلت یا ذاتی اناء کی بنیاد پر منظر عام سے دور ہو جاتی ہیں اس طرح لوک داستانیں ہر دور کی تلخ حقیقت کو ایک تخیلاتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ہمیں

Read more

مہ پارہ صفدر کی خود نوشت: میرا زمانہ میری کہانی

آج بھی یاد ہے کسی کام سے لاؤنج میں آئی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ایک انتہائی دل کش چہرہ میری آنکھوں میں جیسے کھب سا گیا۔ کون ہے؟ کوئی نئی لڑکی۔ سوال جواب دونوں خود سے ہوئے تھے۔ لہجے کا اتار چڑھاؤ، تلفظ، ادائیگی اس پر ستم من موہنی سی صورت۔ مہ پارہ زیدی۔ بڑا رشک آیا۔ خبریں پڑھنا میرا بھی خواب تھا۔ مگر سب خواب کہاں پورے ہوتے ہیں؟ مہ پارہ زیدی سے محبت ہو گئی

Read more

قرآن مجید کی تعریف کرنے پر زندہ جلا دیا

سویڈن میں عید الاضحیٰ کے موقع پر قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ اپنی ذات میں تو قابل مذمت ہے لیکن جس انداز میں یہ فعل سرانجام دیا گیا وہ اتنا گرا ہوا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہر شریف انسان کو اس سے گھن آتی ہے۔ ہم یہ تو تسلیم کر سکتے ہیں کہ سویڈن کی اکثریت اس فعل کو ناپسند کرتی ہے لیکن یہ ایک

Read more

آئی ایم ایف: الوداع سے خوش آمدید تک!

ٹھیک سات برس پہلے، جولائی 2016 میں وزیراعظم نواز شریف نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”آج کے بعد اِن شاء اللہ ہمیں کبھی آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ الوداع آئی ایم ایف“ اور آج ہم آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی پیکج ملنے کے بعد ، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نعرہ زن ہیں۔ ”خوش آمدید آئی ایم ایف“ اڑان بھرتے ہوئے پاکستان کے

Read more

’ہچیکو‘ کی 100ویں سالگرہ: دنیا کے سب سے وفادار کتے سے ’عقیدت‘ کیا اگلے سو برس بھی رہے گی؟

ہچیکو کی سچی کہانی بھی مالک سے وفاداری اور محبت سے متعلق ہے جس نے اپنے مالک کی موت کے بعد بھی جاپان کے ایک ٹرین سٹیشن پر اپنی ساری زندگی اس کے انتظار میں گزاری۔

Read more

اختر رضا سلیمی کا ناول جندر

”زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے ؛ سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا۔ میں نے موت کے سیاہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا۔“ جاگے ہیں خواب میں اختر رضا سلیمی کا پہلا ناول تھا جس کی طلسماتی زبان کا اثر ابھی باقی ہی تھا کہ اختر رضا سلیمی نے دوسرا ناول جندر لکھ کر ایک دفعہ

Read more

پاری ننگر کی پریم کہانی

صحرائے تھر کے دل کش پہاڑی سلسلے کارونجھر کے دامن میں جہاں پاری ننگر کی تہذیب پروان چڑھی تھی وہاں صدیوں کے سفر میں بہت سارے قصے اور کہانیوں نے جنم لیا تھا، پارکر کے جین مندروں کی طرح سڈونت سارنگا کی عشقیہ داستان بھی بہت دل چسپ ہے۔ پارکری زبان کے قصہ گو کہتے ہیں کہ سڈونت اجین کے راجا سالیواہن کا بیٹا تھا اور سارنگا اوسواڑے قبیلے کے بڑے سیٹھ پرم سا کی بیٹی تھی۔ سارنگا کے حسن

Read more

مسعود قمر اور نثری نظموں کے ادبی تحفے

مجھے ناجیہ احمد کا ’جو خوبصورت نثری نظمیں تخلیق کرتی ہیں‘ پیغام آیا کہ ان کے پاس ایک اور نثری نظمیں لکھنے والے شاعر مسعود قمر کا پیغام آیا ہے کہ وہ انہیں اپنی نظموں کا نیا مجموعہ۔ آئینے میں جنم لینے والا آدمی۔ اس لیے بھیج رہے ہیں تا کہ وہ اسے مجھ تک پہنچا سکیں۔ میں نے کہا یہ تو میری خوش بختی ہے کہ مسعود قمر نے نہ صرف مجھے یاد رکھا بلکہ میرے لیے ایک ادبی

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! چھٹی قسط :

نبیل کو ثانیہ کی شاعری پسند آتی ہے اور وہ اسے نہ صرف صوفی قرار دیتا ہے بلکہ اس کے مطابق اردو میں ثانیہ سے بڑی شاعرہ اب تک پیدا نہیں ہوئی۔

اس تعریف کے پیچھے بھی نبیل اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے۔ بیوی کے شاعرہ ہونے کی صورت میں شوہر کی واہ واہ تو ہو ہی جاتی ہے۔ شاعری کرنے والا جوڑا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

شاعری کرنے کے بعد ثانیہ کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے۔ اب اسے معاشرے کے پڑھے لکھے دانشور شاعر مردوں کا سامنا ہے۔ یہاں ایک نئی صورت جنم لیتی ہے۔

Read more

کھانوں کو لذت، ذائقہ اور رنگ دینے والا ٹماٹر جسے کبھی ’زہریلا‘ پھل بھی سمجھا جاتا تھا

ٹماٹر انڈین اور پاکستانی کھانوں کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے مختلف قسم کی سبزیوں، چٹنیوں، سلاد سے لے کر کئی پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب لوگ ٹماٹر کو زہریلا سمجھتے تھے اور اسے صرف سجاوٹ کی چیز کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (11)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ادبی مباحث کی کمی کے باعث ہمارے یہاں نیم حکیم ادبی نقاد بن بیٹھے : رحمان عباس

سرخیاں اردو فکشن نگاروں کے لیے عالمی ادب کا اسٹیج سجنے کو ہے تنازعات ادبی مباحث کا حصہ ہیں، تشکیک کا شکار ہوں، خود کو دریافت کرنے میں ناکام رہا معروف فکشن نگار، رحمان عباس سے ایک دل چسپ مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید یہ ایک ایسی کہانی ہے، جس کے پلاٹ میں تنازعات کا تسلسل ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک ادیب ہے، ایک متنازع ادیب، جس نے فحش نگاری کے الزامات سہے، مقدمات کا سامنا کیا، اور اپنوں

Read more

معاصر اردو غزل کے خد و خال

معاصر غزل دو انتہاؤں پر کھڑی ہے ایک طرف جدیدیت کے نام پر پھکڑ بازی ہے تو دوسری طرف روایت کے نام پر فرسودگی ہے۔ ایک دو موضوعات اور شعر کہنے کی ایک آدھ تکنیک ہاتھ آ جائے تو اس سے کتنی دیر تک دلچسپی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ یہی ایک دو موضوعات اور ایک آدھ تکنیک آج کم و بیش سبھی کے ہاں ایک جیسی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ موضوعات سطحی، تکنیک عامیانہ اور زبان ادبیت

Read more

’غبار حیات‘ کا ایک تجزیاتی مطالعہ

کہانیاں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، لوگ اسے سنتے یا پڑھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ خود کو وابستہ کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں کے جذبات و احساسات اور دکھ سکھ کو اپنا سمجھ کر کبھی آنسو بہاتے ہیں تو کبھی خوش ہوتے ہیں۔ ایسا لکھنا سب کے نصیب میں نہیں ہوتا، مگر جو ایسا لکھتے ہیں وہ ’فن کار‘ ہوتے ہیں۔ عربی زبان کے ادیب ڈاکٹر عمر فروخ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی

Read more

چڑھتے سورج کے پجاری!

محترم عرفان صدیقی صاحب کی نثر بلاشبہ اوج کمال پر ہوتی ہے مگر اس اعلٰی و عرفٰی نثر اور لفاظی کو اس طرح برباد ہوتے ہوئے دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ایسا لکھاری اور ایسی گراوٹ، اللہ اللہ۔ خود ہی فرمایا کہ باجوہ صاحب کی پوسٹنگ میں میرا بھی ہاتھ تھا تو ظاہر ہے اس وقت وہ بھی وقت کے ایوبی و غزنوی قرار دیے گئے ہوں گے ان کے لئے بھی ایسی لفاظی کے دریا بہائے گئے ہوں گے،

Read more

ہرے پربت، بھرے میدان

میں اس شہر میں پہلے بھی کئی بار آ چکا ہوں لیکن ہر بار ایک نئی رنگت اس کے منھ پر دیکھی ہے۔ یہ احساس اندر کا کوئی موسم ہے یا باہر کے حالات کا اثر، کچھ معلوم نہیں۔ جب بھی اس شہر میں آؤ ایک نئی بہار اور نئی آمد کا اعلان سننے کو ملتا ہے۔ ایک نئی استراحت اور نئی دعوت دیکھنے کو ملتی ہے۔ چاہے جتنی کوشش کر لو، پھر بھی اس شہر میں آ کر جلدی

Read more

’لوگوں نے کہا میں بُنائی کرتا ہوں تو میں مرد نہیں، اب وہی لوگ کاروبار کو سراہتے ہیں‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں نوجوان لڑکے نے کروشے سے بُنائی شروع کر دی تو لوگوں نے ان کا مذاق بنایا لیکن اب یہ اُن کا مستقل روزگار بن گیا ہے۔

Read more

عصر حاضر اور روسی ادب

عالمی افسانوی ادب میں روسی ادب کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ روس میں مختلف ادوار میں قابل ذکر مصنفین کی لکھی گئیں ادبی تحریریں، جن میں لیو ٹالسٹائی کی تحریر کردہ وار اینڈ پیس اور فیوڈور دو ستوئیفسکی کی کرائم اینڈ پنیشمنٹ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی ان ہی شہرہ آفاق تصانیف کی وجہ سے انیسویں صدی کو عالمی ادب میں روسی ادب کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کا روسی ادب اپنے اندر فطرت انسانی

Read more

حسن درس: سندھڑی کا امر بیٹا

ہمارا دوست رفعت عباس لکھتا ہے ”میں اپنی ماں کی گود میں جاگا ہوں اور اپنی ماں بولی کی آغوش میں سو جاوٴں گا“ ایک شاعر اور ناول نگار نے اپنی زبان سے کتنا حسین تعلق جوڑا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی ماں بولی کی جھولی میں سو گئے وہی امر ہوئے۔ شاہ لطیف بھٹائی اپنی سندھی زبان کی آغوش میں سو گیا ہے۔ شیخ ایاز اپنی ماں بولی کے دامن میں چلا گیا۔ حسن درس بھی اپنی مادری زبان

Read more

یادیں پیچھا نہیں چھوڑتیں

یادیں انسان کی ملکیت ہوتی ہیں جنہیں نہ کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی خود سے جدا کیا جا سکتا ہے خواہ وہ حسین ہوں یا تکلیف دہ۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ بچپن کی یادیں خوبصورت ہوتی ہیں کیونکہ غم سے ابھی تعارف نہیں ہوا ہوتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ دنیا میں میرے دوست پومی جیسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کو اتنے پسند آ جاتے ہیں کہ بار بار آزمائے جاتے ہیں۔ یہ اللہ

Read more

جمیل جالبی کا تہذیبی طرز احساس

سوات سے ہجرت کر کے برطانوی ہندوستان میں جا بسنے والے یوسف زئی پٹھانوں کا ذکر ایک ساتھ چھڑے یا کراچی شہر اور ادب کا تو میرے ذہن کے افق پر دو نام چمکنے لگتے ہیں ؛ان میں سے ایک افسانے کا کردار ہے اور دوسرا حقیقی مگر دونوں اردو ادب کے صفحات پر بھی دمک رہے ہیں۔ افسانوں کا کردار ہمارے محترم افسانہ نگار اسد محمد خاں نے لکھا ہے۔ انہوں نے بتا یا ہے کہ وہ کردار اصل

Read more

ارشاد احمد حقانی کی خودنوشت کہاں ہے؟

دلآویز انداز کی معروف کالم نگار، شاعرہ اور ادیبہ سعدیہ قریشی کی ایک کتاب قلم فاؤنڈیشن، لاہور نے‘ کیا لوگ تھے ’کے عنوان سے شائع کی ہے۔ سعدیہ قریشی خوبصورت نثر لکھنے والی صاحب مطالعہ مصنفہ ہیں۔ زیرنظر کتاب کا بڑا حصہ پاکستان کے سماجی و ادبی مشاہیر کے بارے میں لکھے گئے ان کے دل گداز کالموں پر مشتمل ہے جن میں جنید جمشید، طارق عزیز، عبدالستار ایدھی، ضیا محی الدین، نیرہ نور، بشریٰ رحمن، بانو قدسیہ، احمد فراز،

Read more

حسن منظر کی افسانوی دنیا

گزشتہ جمعے بتاریخ تئیس جون جوش ملیح آبادی لائبریری آرٹس کونسل میں ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کی روح رواں ڈاکٹر تنویر انجم کے زیر سایہ ایک پروقار ادبی نشست ایک پروقار اور اردو ادب کی ایک ذی وقار شخصیت حسن منظر کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس نشست میں جناب حسن منظر صاحب بنفس نفیس موجود تھے جس کے لئے نہ صرف حاضرین نشست ڈاکٹر تنویر انجم صاحبہ کے شکر گزار اور

Read more