ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

نادار لوگ: معاشرتی استحصال کا نوحہ

اردو ادب میں ناول نگاری کے معتبر ناموں میں عبداللہ حسین کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ اردو کے نامور ادیب، صحافی، افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا، لیکن وہ عبداللہ حسین کے قلمی نام سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کی وجہ شہرت معروف ناول ”اداس نسلیں“ ہے۔ نادار لوگ عبداللہ حسین کا ایک شاہکار تاریخی ناول ہے، جو 1947 ء سے 1974 ء کے درمیانی عرصے کے واقعات پر محیط ہے۔

Read more

سلمی اعوان: شخصیت اور فن

کتاب – سلمی اعوان: شخصیت اور فن پبلشر۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد سلمی اعوان سے میری پہلی شناسائی اُس آرٹیکل سے ہوئی جو اخبارِ خواتین کے صفوں پر جگمگا رہا تھا۔ اُن کے مختصر نام نے بھی چونکایا۔ لفظ اعوان نے بھی توجہ کھینچی کیونکہ میں بھی اسی برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ تھوڑی کھُد بد ہوئی، کھوج لگانے کی کوشش کی، تو حسب نسب سے آگاہی ہوئی۔ مگر سلمی اعوان تک رسائی کی کوئی صورت نہ نکلی۔ مجھے اچھی

Read more

ایک عصری ادبی معجزہ: ”ھِک مہمان چھوکری/ایک مہمان لڑکی“

ایسے وقت میں کہ جب وطن عزیز میں کتب اور مطالعہ کتب کا مستقبل تحفظات کا شکار ہے ؛ ادیب اور شعراء ذاتی خرچ پر چند سو نسخوں کی طباعت اور اشاعت کرتے، یا پھر پبلشر حضرات سے چند کاپیوں کا ”چندہ“ حاصل کر اعزازی کاپیاں ”ہدیہ“ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور بعضے بازار میں نظر نہ آنے والی کتابوں پر بھی انعامات اور اعزازات بٹور رہے ہیں، ایک سندھی ناول کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت یقینی طور پر،

Read more

محمد حسن عسکری بطور نقاد

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919 ء کو ضلع میرٹھ کے ایک قصبے ”سراوہ“ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ گھر میں انہیں ”بھولے میاں“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ محمد حسن عسکری کا بچپن سرواہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز مذہبی تعلیم سے ہوا جبکہ رسمی تعلیم کے لیے انہیں سراوہ کے پرائمری سکول بھیجا جانے لگا۔ مگر جلد ہی انہیں اس سکول سے ہٹا کر،

Read more

یہ کہانی بھی ایک حقیقت ہے

قصے کہانیوں سے انسان کا واسطہ ازل سے رہا ہے اور ابد تک رہے گا۔ انسان کے ساتھ کہانی ہر زمانے، ہر دور بلکہ ہر لمحہ وابستہ رہی ہے۔ انسان کی زمین پر تخلیق، اس کا جنگل اور غاروں میں رہ کر ترقی کرتے کرتے ہوا میں اڑنا اور چاند پر قدم رکھنے تک سب ایک کہانی بلکہ کہانیاں ہیں۔ ہمارے استاد ناصر عباس نیر صاحب نے اپنے ایک افسانے ”کہانی کا کوہ ندا“ میں لکھا ہے کہ کہانی جھوٹی

Read more

باغِ نشاط کی طرف

جب شروع شروع میں فنونِ لطیفہ کی دیوی نے میرے دل و دماغ کو روشن کیا تو سب سے منور علاقہ شاعری کا تھا۔ شعر پڑھنا، اس کے معنی کی گہرائیوں تک اترنے کی کوشش کرنا، بحور، اوزان کی ریاضی کی دریافت اور لفظوں کی نشست و برخاست کو سمجھنے کی سعی، میرے لئے سب سے زیادہ لطف انگیز کاروبار تھا۔ نئے نئے قافیوں سے پھوٹتے ہوئے چشموں کی تفہیم اور تازہ بہ تازہ مرکب الفاظ کی جادوگری سے واقفیت،

Read more

پنجابی لسانی یادداشت اور پختون

آخری دفعہ پختون بت پرست نہیں تھے، بوت پرست تھے۔ پختون اگر ایسے ہی جنگ پسند تھے جیسے کہ ان کے بارے میں لکھا اور تصور کیا جاتا ہے، تو پھر ان کی سرزمین کی آرکیالوجیکل کھدائی سے قدم قدم پر انسانی ڈھانچے نکل آنے چاہیے تھے، لیکن یہاں ڈھانچوں کی بجائے بت نکل رہے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ پختون لاشیں جلایا کرتے تھے اور بت پوجا کرتے تھے۔ اس کے باوجود بھی حیرانی اس وقت ہوتی ہے

Read more

اسد محمد خان کے افسانوں میں نو آبادیاتی جبر اور اس کے خلاف ثقافتی ردعمل

نو آبادیات سے مراد وہ استعماری طاقتیں ہیں جو کمزور قوموں پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے نہ صرف ان کے وسائل پر قبضہ جماتی ہیں بلکہ ان کی ثقافت، تہذیب، تمدن، تعلیم، روایات اور اقدار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ذہنی غلامی مسلط کر دی جاتی ہے۔ برطانوی استعمار نے برصغیر میں اپنے تسلط کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا، ان کے تمدن کو کمتر اور خود کو مہذب ثابت

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ بات چیت (آخری قسط)

  ” اختر صاحب نے مجھ سے پنجابی میں پوچھا کہ کیا تم سید ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں! طالب حسین نے کہا کہ یہ پنجابی جانتا ہے۔ پھر کہا کہ سید صاحب! آپ کا کیا تخلّص ہے؟ میں نے کہا کہ احسن عطائی مجھ سے پوچھا اس کے کیا معنی ہوئے؟ میں نے جواب دیا کہ عطا کردہ۔ پنجابی میں کہنے لگے کہ ایسا لگتا ہے جیسے عطائی ڈاکٹر ہوتے ہیں“ ۔ ” نہ کوئی مرشد

Read more

سالک ’کی کہانی، درویش کی زبانی

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار! چلیے، آج دَرویش اور دُرویش میں فرق پر بات نہیں کرتے اور سیدھے ’سالک‘ پر آ جاتے ہیں۔ جن ’سالکین‘ سے میں، نام کی حد تک ہی سہی، بچپن سے آشنا تھا ان میں سے مولانا علم الدین سالک اور پروفیسر عبدالمجید سالک کے نام میں کبھی فراموش نہ کر سکا کیوں کہ و الدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری ان علمی ہستیوں کا ذکر علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر امروہوی کے تذکرہ

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

(یہ تحریر یکم فروری 2016 کو انتظار حسین کی رحلت سے چند گھنٹے قبل لکھی گئی۔ افسوس کہ یہ دعا بھی در ایجاب سے چند ہاتھ دور غبارِ رہ کی صورت تحلیل ہو گئی) ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں

Read more

تاریخ کی وضاحت اور آشوٹز

27 جنوری آشوٹز کی آزادی کی 80 سالہ برسی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب سویت افواج نے جرمن نازیوں کے آشوٹز نامی ڈیتھ کیمپ میں سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا۔ ان قیدیوں کو نازیوں نے شدید غیر انسانی ماحول میں رکھا ہوا تھا اور ان کو مختلف پرتوں میں بانٹا ہوا تھا۔ بوڑھے، معذور، خواتین اور بچوں کو اسی مقصد کے لیے بنائے گئے گیس چیمبر میں لے جا کر ”زیکلون بی“ نامی نرو گیس سے قتل کیا جاتا

Read more

تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more

نوجوان ادیبوں کے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کی روداد

میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں اقامت کے دوران یادداشت کے لیے چیدہ چیدہ نوٹس لکھتا رہا تاکہ جانے کے بعد وہاں کی تمام سرگرمیاں اپنے احباب سے شیئر کر سکوں مگر سچ پوچھیے تو اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بات کہاں سے شروع کروں اور کون کون سی کروں۔ ہر صوبے سے چار اور ملک بھر سے منتخب بیس ادیب دس روزہ قیام کے لیے رائٹرز ہاؤس (اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد) میں 15 جنوری 2025

Read more

انیتا آپا ( انیتا غلام علی) کا ایک خط

( خط سے پہلے تعارفی مضمون ملاحظہ ہو۔ ) میں نے اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ انیتا غلام علی کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا، سیف (سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن ) کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا غلام علی (انیتا آپا ) کے نام جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں اسکول قائم کر کے محنت کش بچوں کی آنکھوں میں تابناک مستقبل کے سپنے دیکھنے کی جرات پیدا کی۔ ” اپریل 2012 ء میں اس

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

لگائیے پیکا!

آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی نہیں اور وفاقی وزیر احسن اقبال تک رسائی بھی نہیں کہ سرکار دربار کے کان میں ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مار ا کروں ۔ یہ کم نصیب تو ادب اور تاریخ کا طالب علم تھا۔ دو وقت کی دال روٹی کے لیے صحافت میں چلا آیا۔ ٹیڑھی میڑھی گلیوں کا وہ سفر بھی اب تمام ہوا

Read more

جیل بیتی

  بصری فنون کی کائنات میں Natflix کی مثال ایک ایسے باغِ دلکشا کی سی ہے جو غالب کی یاد تازہ کرتا ہے میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا ہم جسے عرفِ عام میں فلم کہتے ہیں اس کی کون سی صورت ہے جو یہاں موجود نہیں۔ حال ہی میں سات قسطوں پر مشتمل ایک کہانی دیکھی جس کا نام بلیک وارنٹ ہے۔ دلی کی مشہور تہاڑ جیل کو بنیاد بنا کر یہ کہانی بنی گئی ہے

Read more

سیمک بلوچ کون ہے؟

امداد نام میں کوئی ایسی شے ضرور موجود ہے جو بچیوں کے حوالے سے نرمی برتی ہے۔ ایک امداد کو میں کئی سالوں سے جانتا ہوں جو میرے استاد ہیں۔ بہت اچھے ترقی پسند شاعر ہیں اور جب بھی خواتین کو درپیش مسائل پر بات ہوئی، تو ان کا نقطہ نظر یہی یہ ہے کہ خواتین کی آزادی ہی معاشرے کی حقیقی آزادی ہے۔ یعنی خواتین کی اپنی پسند کی تعلیم، ہنر، جاب اور جیون ساتھی۔ اور بتاتے ہیں کہ

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت قسط 3

” پھر میں نے اس سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں ایسا ہوا ہے! اس پر اس عورت نے کہا کہ ہاں! یہ بچہ ہے نا، اس کے باپ نے ایک دفعہ میرے گلے میں بجلی کی استری والی تار ڈال کر کھینچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کام اُلٹ ہو گیا! “ ۔ ” ارے! کیا اُلٹ ہو گیا؟“ بے ساختہ میں نے سوال کر ڈالا۔ ” یہی بات میں نے بھی اُس سے پوچھی تو

Read more

کتاب۔ بنجارا

مصنف۔ سعود عثمانی حاصل مطالعہ۔ نعیم فاطمہ علوی بنجارا سات ملکوں ( پاکستان، سعودی عرب، آذربائجان، ترکیہ، امریکہ، کینیڈا اور بھارت) کا سفر نامہ ہے۔ جو سعود عثمانی کے اسفار کی کتھا ہے۔ جس کتاب کو وصول پاکر احساس تفاخر ہو اور پڑھ کر قاری فرحت و انبساط میں ڈوب جائے۔ وہ کتاب کتنی بھید بھری ہوگی۔ سعود عثمانی، جتنے خوبصورت شاعر ہیں، اتنی ہی خوبصورت اور توانا نثر بھی لکھتے ہیں۔ قدرت بھی اِن پر مہربان ہے۔ انہیں دنیا

Read more

عطاء الحق قاسمی، منیر نیازی اور قیدی نمبر 804

اسے میری بدگمانی کہہ لیں، غلط فہمی کہہ لیں، وہم کہہ لیں، نفسیاتی کج فہمی کہہ لیں یا روح کی سچائیوں کو بیان کرنے والا وجدان کہہ لیں، برسوں کے مشاہدہ کے بعد میرے ذہن میں ایک خیال راسخ ہو چکا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جو کرکٹ میچ ہوتے ہیں ان میں سے نوّے فیصد سے زائد میچ پلانٹڈ ہوتے ہیں یہاں تک کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ

Read more

فلسطینی ورلڈ لٹریچر ایوارڈ کی کہانی

میں بے حد جذباتی ہو جاتی تھی۔ اپنی بے حد فعال، متحرک، صحت مند اور تندرستی جیسی نعمت سے گزاری گئی زندگی کو یکسر بھول جاتی تھی۔ اور قدرت کے اس اصول کی نفی کر رہی تھی کہ صبح کے بعد شام اور رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات ربی کا اصول ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں خصوصی توجہ کی مستحق بننا چاہتی تھی۔ کیوں؟ کیوں؟ جیسے سوالیہ نشان بالک ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔

Read more

واٹس ایپ صارفین

  یاد ہے بچپن میں کس طرح ہمیں ہمارے لاکھ نہ چاہنے کے باوجود بھی مہمانوں کو سلام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اور کس قدر حدود و قیود لگائی جاتی تھیں کہ مہمانوں کے سامنے یوں بولنا، ایسے بیٹھنا، یہ نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اب سوچا جائے تو وہ ملاقات کے بنیادی آداب تھے جو ہمیں سکھائے جاتے تھے۔ وقت نے برق رفتاری دکھائی اور روبرو ملاقاتوں کی جگہ واٹس ایپ وغیرہ نے لے لی۔ لیکن اس ملاقات

Read more

مسلمانوں کا علم کے ساتھ ’بغض‘

مسلمانوں کے بہت سے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں یہ مغالطہ ہو گیا ہے کہ مسلمانوں سے پہلے کسی کے ہاں نہ اخلاق تھا، نہ قانون۔ نہ علم تھا، نہ سائنس، نہ ریاست چلانے کے اصول تھے، نہ طب، نہ علم فلکیات۔ یہ ایک غلط فہمی بھی ہے اور اس میں سے تکبر کی بو بھی آتی ہے۔ لیکن اصل بدقسمتی یہ ہے کہ یہ تصور کہ ہم سے پہلے کچھ نہ تھا، عین جہالت ہے۔ کہنے

Read more

سید سردار شاہ، کلمتی بلوچ اور مکران

حسب معمول اپنے موبائل فون پر فیس بک اسکرولنگ کے دوران سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی سندھ اسمبلی میں کی جانے والی ایک تقریر کا ویڈیو کلپ دیکھا۔ سید سردار شاہ اپنی تقریر میں سندھ کے عظیم تاریخ دان جناب گل حسن کلمتی کو سندھ کی تاریخ پر گرانقدر تحقیقی کام سر انجام دینے پر خراج تحسین پیش کر رہے تھے۔ بلاشبہ گل حسن کلمتی نے کراچی کی گمشدہ عوامی تاریخ کو منظر عام پر لا کر

Read more

اکیلے لوگوں کا ہجوم : تعارف و تجزیہ

اردو افسانے کے آغاز کو تقریباً سوا سو سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں اُردو افسانے کی تاریخ میں کئی رجحانات پیدا ہوئے اور پھر ماند پڑ گئے۔ اس ضمن میں سماجی حقیقت نگاری، رومانویت، اشتراکی حقیقت نگاری، تجریدیت، علامت پسندی اور شعور کی رو وغیرہ کے تجربات، نمایاں ہیں۔ ان تحریکوں اور بیانیہ تکنیکوں کی بدولت جہاں افسانے کے موضوعات میں تنوع آیا، وہیں فنی لحاظ سے اس میں گہرائی اور گیرائی بھی پیدا ہوئی۔ ترقی پسند تحریک

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

کافکا کا ناولٹ: کایا کلپ

کایا کلپ کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

”اردو املا: مسائل و مباحث کی روایت“ ایک تعارف

ڈاکٹر ابرار خٹک کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہے۔ وہ اس وقت خوشحال خان خٹک ڈگری کالج، کوڑہ خٹک، نو شہرہ میں اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اب تک میری ان سے بس ایک ہی ملاقات رہی ہے، وہ بھی اس وقت جب وہ لائلپور تشریف لائے تھے۔ ان کے ساتھ جتنا وقت گزرا، اس میں زیادہ تر علمی موضوعات پر بحث رہی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا ذریعہ محمد عابد بنے جنھوں نے ان

Read more

بین الصوبائی اقامتی منصوبہ

کوئی بھی خواب، خیال یا تخیل جب عملی صورت اختیار کر کے کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے تو خواب دیکھنے والا اپنی اس کامیابی اور محنت پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور جب یہ کامیابی کسی ادارے کے سربراہ کے نصیب میں لکھی جائے تو اُس کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔ زندگی سب کے لیے ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہر شے پلیٹ میں رکھی نہیں ملتی۔ اُنہیں محنت اور

Read more

پیکا اور آزادی

کچھ دن پہلے یہ خبر نظر سے گزری کہ پاک پتن میں ایک فرد کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس کے واٹس ایپ گروپ میں کسی شخص نے سی ایم پنجاب کے خلاف کوئی بات شیئر کی تھی۔ یہ اس واقعہ کا تسلسل ہے جہاں پیکا میں کچھ تبدیلیاں کر کے دیگر عوامل سمیت فیک نیوز کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مختلف قوتوں کے سائبر سیل

Read more

سلیم حسنی کی کال

”اداسی کا اسطورہ“ میں اُداسی کا سب سے بڑا بیٹا ہوں جس کی پرورش کے لیے اس نے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا جو رات کے لیے چاند بُنا کرتی تھی۔ میرے بہن بھائی مجھے دیکھتے ہی کچھ دیر کو احتراماً اداس ہو جاتے ہیں لاپتہ چہروں کے لواحقین شنوائی کی قربان گاہ پر میرے نام کی تصویریں چڑھاتے ہیں میں بے بس ماؤں کی آنکھوں سے شل ہوئے بازؤں کی طرح گر پڑتا ہوں تو مجھے کلیجے لگا

Read more

عبدالرحیم مجذوب : شاعر ِ خوش نوا 2  

مجذوب اپنے فکری میلان، انداز و اطوار، ہیئت و موضوع، لفظیاتی نظام اور تخیل کے بنیاد پر پشتو شعر گوئی میں ایک جداگانہ اسلوب کے حامل ہیں۔ یونانی، ہندی دیومالائی اور اساطیری داستانوں، مغربی اور فارسی ادب کے گہرے مطالعہ کی بدولت انہیں پشتو کے باقی شعراء سے امتیاز اور انفرادیت حاصل ہے۔ دیشنت اور شکنتلا، شیکسپئیر کے وینس اور ایڈونس، کیٹس کے یونانی اساطیری کردار ’لیمیا‘ اورکیتھ ایف بی کی تخلیق کا منظوم پشتو ترجمہ ان کے فکری تکامل،

Read more

جال والہ کا حیدر بخش

درمیانہ قد، اوپر اٹھے کندھوں کے درمیان نیچے دھنسی لگتی تھوڑا آگے جھکی گردن۔ تیس کی دہائی میں ہوتے بھی عمر سے خاصے زیادہ لگتے، سفید بالوں کی جھلک دکھاتی خشخشی داڑھی مخصوص سرائیکی لہجہ۔ یہ تھے خاردار جھاڑیوں ٹخنے تک پاؤں دھنسا دینے والی ریت کے میدانوں ٹیلوں اور سانپوں کے دواروں سے بھرپور پیدل چلتے لیؔہ سے چند کوس کے فاصلے پہ چھوٹی سی آبادی جال والہ کے حیدر بخش۔ ان سے ملاقات کی راہیں بھی انیس سو

Read more

پِدرم سلطان است (مکمل کالم)

انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنا محاسبہ ضرور کرتا ہے، میں بھی چونکہ انسان ہوں اور گاہے بگاہے اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہوں اِس لیے اکثر سوچتا ہوں کہ میرے لیے کالم نگاری قابل فخر ہے، ڈرامہ نگاری یا پھر افسری، تو مجھے ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے اور اس کی وجہ بھی بڑی سیدھی ہے کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ میں عطاء الحق قاسمی کا

Read more

مفت مشوروں کی چلتی پھرتی دکانیں

  نصیحت یا مشورہ وہ چیز ہے جو چونکہ مفت ملتا ہے اس لئے لوگ دل کھول کر دیتے ہیں اور بلا تفریق ہر ایک کو دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ناصح بننے کا اس قدر شوق ہوتا ہے کہ اپنے تجربات کی روشنی کا ٹیبل لیمپ روشن کر کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کی مٹھی کھول کر زبردستی ایک آدھی نصیحت ایسے پکڑاتے ہیں جیسے پرانے وقتوں میں بڑے بوڑھے بچوں کی

Read more

تعلیم کے بدلتے ہوئے نئے زاویئے

  آج کے دور میں تعلیم ایک ایسے نئے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں روایتی اور فاصلاتی تعلیمی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج نے ایک نیا اور منفرد تعلیمی منظرنامہ تخلیق کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جہاں ایک طرف تو کتاب کی اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو دوسری جانب کرونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم کے فروغ نے ہماری سوچوں کو تبدیل کر کے دنیا بھر میں ہمارے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر

Read more

ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (حصہ اوّل)

پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغری صاحب یونیورسٹی آف تبریز، ایران میں فلسفے کے استاد اور جرنل آف فلوسوفیکل انویسٹی گیشن کے مدیر ہیں۔ مابعد جدید فلسفہ اور معاصر فلسفہ کی مباحث ان کی تحقیق کے موضوعات ہیں۔ علاوہ ازیں، فلسفۂ فن جیسے مضامین ان کی دلچسپی کے میدان ہیں۔ ناچیز کی محترم پروفیسر صاحب سے رسمی خط و کتابت رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایک برقی جریدے کے متعلقہ شخص سے معاصر فلسفی بیونگ چُل ہان کی کتب، تحاریر

Read more

نو آبادیاتی اداروں کا استحصالی کردار: نوبل انعام یافتہ تحقیق نے کیا راز فاش کیے؟

نوبل انعام تقسیم ہوں تو پاکستان میں ایک بھونچال برپا ہو جاتا ہے کہ پاکستان علم و تحقیق کی اس دوڑ میں کیوں شامل نہیں ہوتا۔ دوسری جانب نوبل انعام کی ساخت یہی بتاتی ہے کہ مغربی اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے محققین کو ان انعامات سے زیادہ نوازا جاتا ہے۔ ادب اور امن کا نوبل انعام تو اخبارات میں خبروں کی شہ سرخیاں بن جاتا ہے لیکن اس سال معاشیات کے مضمون میں جن تین پروفیسرز کو نوبل

Read more

یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل

سندھ میں جو جنرل یونیورسٹیاں ہیں، ان میں وائس چانسلرز کی تقرری کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا گیا ہے، جس پر سندھ کے عوام سوال کر رہے ہیں۔ سوال کرنا کوئی غلط بات نہیں، بلکہ سوال اٹھائے جانے چاہئیں۔ کچھ افراد کا خدشہ ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جیسے اہم عہدے پر نان سول افراد کو تعینات کرنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بیوروکریٹس نے سندھ

Read more

سجن اور وزیر آباد یاترا

کئی برسوں سے یہ پروگرام بن رہا تھا مگر اس بار سب نے یک زبان ہو کر شرکت کی ہامی بھر لی۔ جس سے ہمیں امید بندھ گئی کہ اس مرتبہ ملاقات ہو جائے گی، یہ 1990 کی بات ہے ہم پنجابی کے پہلے اخبار سجن میں صحافت کے ساتھ زبان اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی نظریے کے لئے کام کرنے کا ڈھنگ سیکھ رہے تھے۔ حسین نقی ایک اہل زبان تجربہ کار صحافی نے پنجاب میں

Read more

علامہ اقبال اور ہائیڈل برگ میں شبنم اور ستاروں کا ایک مکالمہ

کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بہ طور اقبال شناس اور بہ طور قوم اس عالی دماغ کے پیغام کو تو رسمی طور پر بہت غیر معمولی طور پر اہمیت دی لیکن بہ طور فن کار ہم نے کبھی انھیں جاننے کی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال بہ طور مفکر تو بہت بلند ہوتے چلے گئے لیکن بہ طور تخلیقی فن کار ہم ان سے زیادہ آشنا نہ ہو سکے۔

Read more

کیا غزہ اپنے پکاسو کی تلاش میں ہے؟

سپین کی سول وار تاریخ کی وہ پہلی جنگ تھی جس میں ہوائی جہازوں کی مدد سے باقاعدہ یا بڑی تعداد میں شہری آبادی پر بمباری کی گئی۔ تباہ کاری کے اُن مناظر نے بہت سے لوگوں بشمول نامور مصور پابلو پکاسو کو متاثر کیا تھا جس کے احساسات ایک پینٹنگ گورنیکا کی صورت میں سامنے آئے۔ پینٹنگ کا نام سپین کے باسک ریجن کے اُس گاؤں پر ہے جس پر فضائی بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عورتیں

Read more

فیمنزم اور باچا خان

فیمینزم یا نسائیت کی تعریف کچھ یوں ہے ”نسائیت، نسوانیت، تانیثیت یا تحریک آزادیٔ نسواں ان معاشرتی تحریکوں، سیاسی تحریکوں اور تانیثی نظریات کا ایک سلسلہ ہے جس کا مقصد جنس کی سیاسی، معاشی، ذاتی اور معاشرتی مساوات کو متعین اور قائم کرنا ہے“ جنس کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم سے جو طبقات وجود میں آتے ہیں۔ ان کا رشتہ آقا اور غلام کا ہوتا ہے۔ آقا اور غلام کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ صنفی بنیادوں پر آقا اور

Read more

ذاتی اور پیشہ ورانہ مہارت

ترقی ایک سوچ اور تحریک ہے جو متحرک اور زندہ معاشرے اور انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ فرد، ٹیم، خاندان، اداروں اور معاشروں میں ذاتی اور پیشہ ورانہ مہارت، معاشرتی افکار، فکری اظہار، اور سماجی اقدار سے جنم لیتے ہیں۔ افراد میں بہتر سے بہترین کی جستجو، معاشرتی اور اداروں کی حوصلہ افزائی اور باہمی تعاون کی بدولت پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ”ڈھنگ ٹپاؤ“ ، ”کام چلاؤ“ ، اور ”مٹی پاؤ“ مائنڈ سیٹ

Read more

اساتذہ کرام، دوست اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور

بک شاپ سے شروع ہونے والا سفر کمرہِ جماعت اور بخاری آڈیٹوریم سے ہوتا ہوا اوول گراؤنڈ میں اختتام پذیر ہوا۔ پہلا ایوننگ سیشن 2020 تا 2024۔ ڈگری بی۔ اے (آنرز) اُردو۔ اس سفر کی ابتدا میں 24 سواریاں تھیں۔ جن میں سے نصف کسی مجبوری، مرضی یا مصلحت کے تحت مختلف مقامات پر اتر گئیں۔ نصف (یعنی بارہ) مسافر ہی منزل تک پہنچ سکے ہیں۔ میں اس سفر کے احوال و مشاہدات و تاثرات قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔

Read more

سعادت حسن منٹو کا ستر واں یوم وفات

18 جنوری 1955 مشہور پاکستانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا یوم وفات ہے۔ اردو زبان نے سعادت حسن منٹو جیسا متنوع، منفرد اور سب سے بڑا افسانہ نگار آج تک پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر کے ہم عصر تھے، اس وقت ان میں سے بڑا افسانہ نگار کون ہے کا سوال پیدا ہو سکتا تھا، لیکن اب بلا شک و شبہ سعادت حسن منٹو ہی اردو ادب کا سب سے بڑا اور لازوال

Read more

اردو، پشتو اور پنجابی فلموں کا بیک گراؤنڈ میوزک بنانے والے عابد علی نبھو

بیک گراؤنڈ میوزک کے ماہر سے میں بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ میری مشکل پھول نگر کے قاسم بُکڈپو والے ظفر اقبال نے حل کر دی۔ یہ اسکرین کے پیچھے ہنرمندوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ 2023 کی گرمیوں میں بالآخر ایورنیو فلم اسٹوڈیوز میں عابد علی نِبھو سے گفتگو ہو گئی۔ امید ہے یہ بات چیت پڑھنے والوں کو پسند آئے گی۔ ہماری تعلیم سا رے گا ما ” مجھے عابد علی کے نام سے کوئی نہیں جانتا لیکن

Read more

ٹاک ٹاک کا استعمال اور سکڑتی ہوئی ارتکاز کی صلاحیت

اگر آپ روزانہ اپنے فون پر ٹک ٹاکس دیکھنے کے عادی ہیں تو سنبھل جائیں۔ ٹک ٹاکس کے اخلاقی اور مذہبی نقصانات کیا ہیں، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ جو ٹک ٹاک اور ریلز سکرولنک کی وجہ سے پنپ رہا ہے وہ ہے ارتکاز اور توجہ کے دورانیہ میں کمی۔ Decrease in attention span and ability to focus اگر کوئی ہر روز ایک گھنٹہ بھی ٹک ٹاکس دیکھتا ہے تو یہ اس کے کسی

Read more

مرزا واحدی

امتیاز مرزا عرف مرزا واحدی (م: 3 ؍جون 1995 ء) جے پور، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جہاں اُن کا خاندان دہلی سے ہجرت کر کے آباد ہو گیا تھا۔ اُن کے والد اُمراؤ مرزا ریاست کے کامیاب وکلا میں سے ایک تھے۔ بدقسمتی سے بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے سبب خاندان کی کفالت کی ذمّہ داری مرزا واحدی اور اُن کے بڑے بھائی اعجاز مرزا (م: 2000 ء) کے کاندھوں پر آ گئی مگر

Read more

”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ

اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی

Read more

Colonial Lahore: A Post-dated Letter for Future Generations

In this book, “Colonial Lahore”, Professor Aziz ud Din Ahmad has encapsulated a transformational century of Lahore in a rhapsodic note which is simultaneously a panegyric tribute and a pyrrhic elegy. The city of Lahore is to this part of the world what cities like Paris, St. Petersburg, London, Delhi, Shanghai, Vienna and New York are to their respective lands. John Milton included Lahore in his inventory of the finest cities of the world in “Paradise Lost”. Lahore has had

Read more

نفرت کے سائے

بھارت، جو کبھی اپنی تنوع میں خوبصورتی اور کثیر الثقافتی ہم آہنگی کا نمونہ تھا، آج مذہبی انتہاپسندی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ ملک، آج ایک مخصوص سیاسی نظریے کے زیرِ سایہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کے لیے تاریک ترین دور کی مثال بن چکا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی کہانی اب صرف ایک قوم کی کہانی

Read more

شکیب جلالی اور نو آبادیاتی عہد کی تلخیاں

شکیب جلالی ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے تلخ واقعات برداشت کیے اور ان واقعات کو برداشت کرتے کرتے ان کا ضبط جواب دے گیا جس کی بنا پر انہوں نے خودکشی کر لی۔ شکیب جلالی نے اتنی تکلیف دہ زندگی جینے کی بجائے موت کو ترجیح دی۔ شکیب جلالی کا شمار اردو ادب کے نامور شعراء میں ہوتا ہے۔ شکیب جلال اردو شاعری پر شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوئے اور پھر دیکھتے

Read more

شکیلہ رفیق کی یاد میں

شکیلہ رفیق بائیس جنوری دو ہزار پچیس کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ وہ ایک حق گو انسان تھیں اور ایک مخلص دوست۔ ان کی افسانہ نگاری اور عصمت چغتائی سے ان کے انٹرویو کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار شاعری بھی کرتی تھیں۔ میں ان کی یاد میں آپ کے سامنے وہ مضمون پیش کرتا ہوں جو میں نے ان شاعری کے حوالے سے لکھا

Read more

خوئے غلامی میں پختہ ہوئے 25 کروڑ

اقبال کا تیسرا مجموعہ کلام ’ضرب کلیم‘ 1936 ءمیں شائع ہوا۔ اقبال کے شعری خزانے میں تخیل کے اعتبار سے ’جاوید نامہ‘ اور اردو غزل کی رفعت میں ’بال جبریل‘ کا جواب نہیں۔ ضرب کلیم میں اقبال نے ذیلی عنوان ہی میں دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یہ گزشتہ صدی کی تاریخ کے تشکیلی برس تھے۔ سپین کی خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی اور دوسری عالمی جنگ شروع ہونے میں محض تین برس باقی تھے۔ دو

Read more

درد کی غیر موجودگی: جینیاتی تغیر کے فوائد، نقصانات اور نفسیاتی و جذباتی پہلو

ایک دلچسپ اور نادر طبی اور جینیاتی کیفیت جہاں کسی فرد کو درد محسوس نہیں ہوتا، جسے ”کانجینیٹل انسینسٹیوٹو پین“ (Congenital Insensitivity to Pain) یا ”کانجینیٹل اینالجزیا“ کہا جاتا ہے، انسانی جسمانیات اور جینیات کے میدان میں ایک منفرد معمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف فرد کی جسمانی حساسیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نفسیاتی، سماجی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ درج ذیل طبی، سائنسی، اور نفسیاتی تجزیوں کے ذریعے اس

Read more

انور پیرزادو: مقدور ہو تو خاک سوں پوچھوں۔۔۔

مہناز رحمان صاحبہ کی انور پیرزادو پر لکھی ہوئی خوبصورت تحریر نظر نواز ہوئی۔ ان کا بہت شکریہ۔ انور پیرزادو (یاد رہے انور اپنا آخری نام پیرزادہ کے بجائے سندھی روایت کی پیروی میں پیرزادو لکھنا پسند کرتے تھے ) اپنی شخصی وجاہت، اصول پسندی اور علمیت کی بنیاد پر بجا طور پر صرف سندھ ہی نہیں پاکستان کی قد آور شخصیات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ وہ ان شخصیات میں سے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں

Read more

مطالعہ پاکستان میں اقلیتی طبقہ کی خواتین کیوں نظر انداز

پاکستان میں مذہبی اقلیتی خواتین نے 1947 میں اپنی آزادی کے بعد سے ملک کی قومی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، باوجود اس کے کہ انہیں دوہری پسماندگی کی وجہ سے نظامی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی شراکتیں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، سماجی کام، سیاست، اور انسانی حقوق کی سرگرمی سمیت مختلف شعبوں پر محیط ہیں لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مطالعہ پاکستان میں جہاں اپنی

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

منٹو، ہم اور ہمارا عہد

اگر یہ کہا جائے کہ یہ عہد سعادت حسن منٹو کا عہد ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ آئے دن جس طرح معصوم لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس عہد کو ایک منٹو کی بہت ضرورت ہے۔ اتنی ضرورت جتنی شاید 1947 ء میں ہندوستان یا پاکستان کو بھی نہ تھی۔ وہی منٹو جو نہ صرف اردو کا بلکہ دنیائے ادب کا بڑا افسانہ نگار ہے اور جس نے اپنے

Read more

پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ

”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے

Read more

”تاریک راہوں کے مسافر“ کی کہانی اور کردار

بالزاک کی مشہورِ زمانہ کتاب ”یوجین گرینڈٹ“ کا ترجمہ ”تاریک راہوں کے مسافر“ ( جو کہ پاکستانی ادب کے نامور مترجم رؤف کلاسرا نے کیا ہے ) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آپ بھی اس میں شریک ہوں : یہ کہانی فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’سامیر‘ ، اس کے رہائشی اور خاص طور پر گرینڈ فیملی کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آج کل کے سماجی مسائل کا نقشہ بخوبی کھینچتی ہے۔ عین ممکن ہے

Read more

اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں تاریخی شعور

تاریخ، واقعات کو محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے سوالات کا نام ہے جو واقعات کے نتائج سے برآمد ہوتے ہیں۔ ماضی کا دھارا حال میں موجود ہوتے ہوئے، مستقبل کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کے ذریعے قومیں اپنے اعمال کا موازنہ اپنے رفتگاں سے کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیا وہ فاتح قرار پائیں گی یا شکست ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ یوں محاسبے کے عمل سے گزرتے ہوئے،

Read more

احمد سلیم کا ناولٹ تتلیاں اور ٹینک: موت، مزاحمت اور محبت کی داستان

احمد سلیم ایک ایسے نظریے کا نام ہے جس میں مساوی معاشرے کا خواب پوشیدہ ہو تا ہے۔ جس کی تعبیر کے لیے انہوں نے عملی زندگی کے ہر ممکنہ گوشے پر شبانہ روز محنت کی۔ احمد سلیم نے اس روشنی کی پوَ کو پھوٹنے ہوئے دیکھنے کے لیے جاگتی آنکھوں سے عمر گزار دی۔ اس خوبصورت زندگی کے دبے پاؤں نوید لانے کے انتظار میں، دل کا ہر دروازہ کھولے رکھا۔ یوں تو اس خواب کی تعبیر ہنوز باقی

Read more

اداس نسلیں

عبداللہ حسین نے کئی برس پہلے برطانوی دور کے پنجاب میں مسلمانوں کی زندگیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ پر ایک ناول ”اداس نسلیں“ کے نام سے لکھا تھا، جسے اردو ناول کے کلاسک کا درجہ حاصل ہے، کبھی کبھی مجھے یہ خدشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ مجھ جیسے تارکین وطن شاید عبداللہ حسین کی اداس نسلوں کا تسلسل ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی بات ہے، سڈنی میں رہائش پذیر معروف ادیب اشرف شاد جب جامعہ کراچی تشریف لائے

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت: تیسری قسط

لیکن دیکھیے اسے کیا رنگ دیا گیا۔ شمن کو ویسی ہی ایک لڑکی سمجھا گیا جو اپنی ٹیچرز پر اپنی نوبلوغت کے جنسی جذبات انڈیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور بعض اوقات ٹیچرز بھی اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بجائے یہ کہ مس چرن کو نفسیاتی معاملات کا ماہر قرار دیا جاتا جس نے تنہائی کی ماری ایک بچی کو بنیادی دھارے میں شامل کیا، مس چرن کو سکول سے نکال دیا گیا اور عسکری صاحب کو لگا کہ بات

Read more

عبدالرحیم مجذوب: شاعر خوش نوا ( 1 )

پشتو رومانوی شاعری کے اپنے ہی سبک کے سرخیل، یونانی، ہندی اور انگریزی اساطیری داستانوں کے مترجم اور شاعر بے بدل عبدالرحیم مجذوب ( 14۔ جنوری 1935۔ 23 اکتوبر 2021 ) ، لکی مروت، نار صاحبداد میداد خیل میں عبدالکریم خان کے ہاں متولد ہوئے۔ برصغیر کے باقی علمی گھرانوں کے تتبع میں ابتدا ہی سے، بٹوارے سے قبل ایک ہندو اتالیق گھر پر آ کر انہیں پڑھاتے رہے جس سے انہیں ہندو اساطیری داستانوں سے شناسائی ہوئی۔ ایک مقامی

Read more

غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ و طالبات کو غیر معمولی بناتی ہیں

طلبہ کے کردار اور شخصیت سازی میں تعلیم کی اہمیت سے کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس ضمن میں صرف نصاب کو پورا کرنا اور امتحانات دینا کافی نہیں ہوتا۔ طلبا بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ واسطہ اور بلاواسطہ ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں طلبا و طالبات کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کا اعتماد بڑھانے کا بھی ذریعہ

Read more

دی ٹرائل: کافکا کا نظام عدل اور نوکر شاہی پر تحریر کیا گیا تنقیدی فکشن

دی ٹرائل کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

عالمگیریت، معاشرتی قدریں اور لوک چوپال

رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں صورت آئینہ مرہون تماشا ہم بھی ہیں کسی بھی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان، آلات اور اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنون و لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، اخلاق، رسوم و رواج وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ گندھارا تہذیب جس کے

Read more

اے عشق جنوں پیشہ

یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ فزکس اور میتھ کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر میں شاعر اور ادیب بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اِدھر اُدھر جہاں سے کچھ پڑھنے کو ملتا، میں خود کو مطالعہ سے لیس کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا۔ اور کچھ نہ کچھ لکھنے کی سعی بھی جاری رہتی۔ انہی دنوں آیا ”رادوگا“ اشاعت گھر ماسکو سے شائع شدہ، دستوئیفسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا پہلا اردو ترجمہ۔ میں نے یہ

Read more

محسن نقوی رخصت ہوتے ہیں

جنوری میں کُہر اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ سردی کی اک مخصوص کاٹ رگ و پے میں اُترتی محسوس ہوتی ہے۔ جنوری کے ساتھ ہی اداسی کا ایک منفرد رنگ پورے کینوس پر پھیل سا جاتا ہے۔ ہر چیز کو اداسی کی سفید چادر اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وہ بھی ایک ایسی ہی اداس سی شام تھی۔ 15 جنوری 1996 کی یخ بستہ اُداس شام۔ مون مارکیٹ لاہور کے باہر ٹریفک کا اژدہام اپنی معمول کی افراتفری کے ساتھ

Read more

میں، میرے دل کی چیر پھاڑ اور فلسطینی ایوارڈ کی کہانی

دسمبر اگر قومی زندگی میں ایک دکھ بھرا ایک کرب انگیز مہینہ ہے تو اِس 2024 کا دسمبر میرے لیے بھی ذاتی حوالے سے کچھ ایسے ہی اندوہناک احساسات کا سامان لے کر آیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کھوتے کی طرح جیون کی بار برداری کی گٹھڑیاں اٹھاتے گزار دی۔ بیماری کیا ہوتی ہے؟ اس سے شناسائی ہی نہ تھی۔ کبھی سالوں میں ایک آدھ دفعہ نزلہ، فلو یا دانت کے درد کی اذیت کے سوا کچھ

Read more

شاردا سنہا۔ بہار کی کوئل

کہتے ہیں کہ ہماری آواز اور ہمارے الفاظ ہمیں دوسری مخلوقات پر فوقیت دلاتے ہیں۔ ہمارے اپنے درمیان ہمیں وہ لوگ زیادہ اچھے لگتے ہیں جو اپنی آواز اور الفاظ کو شعر و ادب اور موسیقی کی دنیا کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں۔ اپنے الفاظ اور آواز کے ذریعے یہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہمیں خوابوں کی دنیا میں لے جاتے ہیں اور ہم تلخی ء ایام کو بھول جاتے ہیں۔ ان میں

Read more

منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا

Read more

منٹو کے آخری ایام

آج منٹو کی برسی ہے۔ سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جس میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں۔ لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی، مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد وہی وارفتگی کی کیفیت ہوجاتی،

Read more

سعادت حسن منٹو: نفسیات کی روشنی میں

کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نیے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔ سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912ء کو ہوئی تھی اور شاید کسی نے سوچا بھی

Read more

لٹ خانہ، دمشق کا قاضی اور اُردو اکادمی کوئٹہ

اس بار اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول گھٹن اور حبس کی رُت میں بھی کچھ سرد لگا۔ جملہ وجوہات میں تین روزہ میلے کی جائے وقوعہ اور نواحی آبادی کی سردمہری کو سرفہرست جانیئے۔ ایسے ہی ٹھنڈے ٹھار سیشن سے نکلتے ہوئے عثمان قاضی صاحب سے سرراہ مختصر ملاقات میلے کو یادگار بنا گئی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس بے اعتنا شہر کی باسی ہونے کے سبب (جہاں ناموری ہی باعث عزت ٹھہر چکی ہے ) کے باوجود اس لمحے شادمانی

Read more

واخان راہداری: پاکستان، چین اور افغانستان کے لیے یکساں اہمیت کی حامل

واخان راہداری ہمیشہ سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اسٹریٹجک اہمیت کا مقام رہا ہے یہ اہم جیوسٹریٹجک راہداری جو جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے کی سرحد 3 ریاستوں سے ملتی ہے۔ یہ ضلع ناہموار، دور دراز مقامات، گہری وادی، اور اونچے پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوریڈور 350 کلومیٹر طویل اور 26 سے 64 کلومیٹر چوڑی ہے۔ کوریڈور کا کل رقبہ 10300 کلومیٹر ہے اس کے علاوہ اس

Read more

جعلی منٹو، نقلی عصمت

سنتے آئے ہیں کہ بڑا ادیب چھوٹے ادیب کو کھا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر قرین قیاس ہے، مکمل سچ نہیں کہ سنجیدہ لکھنے والا بڑے ادیب سے متاثر ہوئے بغیر رہ تو نہیں سکتا لیکن وہ اس کی نقل بھی نہیں کرتا اور اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت سے ادب کی تخلیق کرتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے نوجوان قلمکار، سب نہیں، لیکن ایک بڑی تعداد، بر صغیر کی دو اہم

Read more

سعادت حسن منٹو :اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگار

سعادت حسن منٹو، اردو زبان کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف، 11 مئی 1912 کو پنجاب ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کے قصبہ سمرالہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت، فیشن ایبل، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا، مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا، ادبا میں نمایاں شخصیت کا مالک، انتہائی کسمپرسی کے حال میں، دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا شخص 18 جنوری 1955 کو تینتالیس سال کی عمر میں اس

Read more

منٹو کی اذیت کا احساس

آج سعادت حسن منٹو کو رخصت ہوئے 70 برس گزر گئے۔ کاش ہم آج صرف منٹو کی باتیں کرتے۔ اردو کے نصابی امتحان میں ناکام ہونے والے اس صاحب قلم کی باتیں جس کے براق ذہن نے جدید اردو ادب میں ادیب کا منصب متعین کیا۔ ہندوستان کے معروف ناول نگار رحمن عباس کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ 2004 میں شائع ہوا۔ اس ناول پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ دس سال بعد ختم ہوا۔ اسکے علاوہ آپ ”ایک

Read more

دنیا امن کی تلاش میں

دہشت گردی کے خلاف بیس سالہ طویل جنگوں کے نتیجہ میں لاکھوں معصوم جانوں کے ضیاع، چار ریاستوں جن میں افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کی مکمل تباہی، پوری دنیا میں کمر توڑ مہنگائی اور کھربوں ڈالرز کے مالی نقصان جس میں جنگی اخراجات اور انفراسٹرکچر کی تباہی شامل ہے۔ دہشت گردی کا تدارک کس قدر ہوا یہ ابھی تک ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 2021 ء میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد امید ہو چلی تھی

Read more

”چالیس چراغ عشق کے“ ناول کے کردار

  ”The Forty Rules of Love“ تُرکیہ کی نامور ادیبہ ایلف شفق کے شاہکار ”Aşk“ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ ایلف شفق کی تحریر کو مشرق و مغرب کا حسین امتزاج کہنا کسی طور پر بھی غلط نہ ہو گا۔ ان کے اس ناول کو بی بی سی کی جانب سے ان سو ناولوں میں شامل کیا گیا ہے کہ جو ہماری دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو زبان میں اسے ”ہُما انور“ نے ”چالیس چراغ عشق

Read more

واخان راہداری: پاکستان، چین اور افغانستان کے لیے یکساں اہمیت کی حامل

واخان راہداری ہمیشہ سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اسٹریٹجک اہمیت کا مقام رہی ہے یہ اہم جیو سٹریٹجک راہداری جو جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے اس کی سرحد 3 ریاستوں سے ملتی ہے۔ یہ ضلع ناہموار، دور دراز مقامات، گہری وادی، اور اونچے پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوریڈور 350 کلومیٹر طویل اور 26 سے 64 کلومیٹر چوڑی ہے۔ کوریڈور کا کل رقبہ 10300 کلومیٹر ہے اس کے

Read more

کائنات کے راز ہائے سر بستہ

1۔ تعارف میری سیکرٹری مارسیلینا نے مجھے ایک خوش خبری سنائی ڈاکٹر سہیل آپ کے لیے نئے سال کا پہلا تحفہ آیا ہے وہ کیا تحفہ ہے اور وہ کس نے بھیجا ہے؟ میں متجسس تھا ڈاکیہ آپ کے لیے ایک پارسل لایا ہے اور وہ پارسل آپ کے ہم نام سہیل زبیری نے بھیجا ہے۔ پارسل کھولا تو اس میں سے جو کتاب نکلی اس کا نام کائنات: ایک حیرت کدہ تھا۔ اس کتاب کو سانجھ کے پبلشر امجد

Read more

نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام

دوست شکایت کرتے ہیں کہ درویش کی تحریر پڑھنے کے لیے لغت کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعد ازاں سر پر روغن بادام سے مالش کروانا پڑتی ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ احباب باقاعدہ کڑھے ہوئے عالم ہیں۔ زبان کا آسان یا مشکل ہونا ان کا مسئلہ نہیں۔ البتہ کبھی کبھار کوئی رائے توسن طبع پر گراں گزرے تو از رہ تواضع زبان پر تنقید کے پردے میں اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔ ’تم زمانے کی راہ

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر , ہم جنسیت ، مساس اور نسائیت !قسط نمبر 2

اگر عسکری صاحب اردو ادب کے ان پچاس لاجواب صفحات کی لا جوابی کو کھول دیتے، بڑائی بیان کر دیتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن شاید اُن کی منشا یہ نہیں تھی۔ اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔ ایک جملہ لکھنا تھا، لکھ دیا۔ اب لوگ پوچھتے رہیں اور عسکری صاحب کے پرچم بردار آنکھیں مٹکاتے رہیں، بات ادھوری رہ گئی اور ادھوری ہی رہے گی۔ لیکن خود عسکری صاحب

Read more

میر حسن بابا کے چاربیتے : مختصر تجزیہ

مرحوم پروفیسر ہمایوں ہمدرد اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں بحوالہ سید انصار ناصری کے ایک مضمون ’سرحد کی موسیقی‘ سے عبارت نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’پشتو چاربیتہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ اس میں چار شعر ہوں اس کے اشعار کم از کم سولہ اور زیادہ کی کوئی قید نہیں‘ ۔ موصوف پروفیسر کے خیال میں تا حال فنی طور پر معلوم کامل پشتو چاربیتہ نویس فدا گل پیڈیا بابا تھے جو با روایت

Read more

مشہور مزاحمتی شاعر احمد فراز کا 94 واں یوم پیدائش

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے جیسے خوب صورت کلام کے خالق کا نام احمد فراز ہے۔ ان کا آج 94 واں یوم پیدائش ہے۔ 25 اگست 2008 کو اس جہان فائی سے رخصت ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ کوہاٹی تھا۔ فیض احمد فیض نے ان کا قلمی اور شاعرانہ نام احمد فراز رکھا اور وہ اسی نام

Read more

اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی

Read more

ہمارے دو محبوب شاعر: ظفر زیدی اور مصطفیٰ زیدی

خالد سہیل کا خط قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب جب ہم دونوں مل کر اپنی کتاب ”مشترکہ محبوبہ“ مرتب کر رہے تھے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت اور مسرت ہو رہی تھی کہ ہم نے مل کر جو ادبی کام کیا ہے اس میں خطوط ’کالم اور انٹرویو سبھی شامل ہیں۔ اس کتاب نے مجھے یہ تحریک دی کہ میں آپ کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا سلسلہ جاری رکھوں تا کہ آپ کی ادبی لیاقت و

Read more

انحراف کی تنہائی

اپنی کتابوں پر مشاہیر سے پیش لفظ یا تبصرے وغیرہ لکھوانا بندہ کم مایہ کی طبیعت سے میل نہیں کھاتا۔ آرتھر کوئسلر نے کتابوں پر لکھے جانے والے بیشتر تبصروں کو ’قیمہ کرنے کی مشین سے نکلے ہوئے الفاظ‘ قرار دیا تھا۔ اشارہ یہ تھا کہ ان تبصروں میں ایسی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مصنف اور کتاب کا نام ہٹا کر کسی دوسری کتاب کا عنوان اور مصنف رکھ دیجئے، تفہیم میں کوئی تبدیلی آئے گا اور نہ معنویت

Read more

سائنس بورڈ کے اقدامات و امکانات

ادارہ زبان و ادبیات اردو، اورینٹل کالج لاہور میں 8 جنوری 2025 کو ”انجمن اردو“ کے تخت اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جناب ضیاء اللہ خان طورو کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ادارے کے طلباء کے ساتھ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نعیم ورک صاحب نے انجام دیے۔ ڈاکٹر نعیم صاحب نے ابتدائی گفتگو میں نشست کی اہمیت و افادیت کے ساتھ سائنس بورڈ کے حوالے سے مختصراً گفتگو کی اور

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more