خلوص کی مہکار اور پھوار میں بھیگے ابر آلود دن کی کتھا

صبح سویرے جب گھر سے نکلے تو رات بھر برسنے والی بارش تھم چکی تھی۔ موسم ابر آلود دھند میں لپٹا، صاف ستھرا نکھرا نکھرا، سرسبز و شاداب رسالپور نظروں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ بادل، کہر آلود موسم اور بارش یہ ساری چیزیں مجھے بے حد پسند ہیں۔ بیماری سے پہلے اکثر ایسے موسم میں جوگرز پہن کے گھر کے سامنے واکنگ ٹریک پر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں، اپنی سوچوں میں

Read more

کوزے بچ دریا

ضرب المثل اور محاورہ کسی بھی زبان کی تکمیل کے لیے لازم تصور کیے جاتے ہیں جو گفتگو، تقریر یا تحریر کو موثر اور مختصر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں کسی بات کی وضاحت و صراحت کے لیے کئی ایک جملوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہاں ایک ضرب المثل یا محاورہ کافی سمجھا جاتا ہے اور بات کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ دراصل ضرب المثل یا محاورہ انسانی زندگی میں بار بار

Read more

امید پرسش غم کس سے کیجیے ناصر

اداسی، تنہائی، یاسیت اور رات کا شاعر ناصر کاظمی اپنے کلام سے اردو ادب کا دامن بھر گیا۔ کسی بھی شاعر یا ادیب کے کلام میں اس کے عہد میں ہونے والی سرگرمیاں بھی تخلیق میں اپنی جھلک دکھاتی ہیں۔ تخلیق کار جس ماحول میں پرورش پاتا ہے اور جو کچھ اس کے گرد و نواح میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ اس کے کلام پر بھی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ جن

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ پہلا حصّہ

اگر ہم یہ کہیں کہ مغربی ادب کے مطالعے نے ادب کے متعلق ہمارے روایتی فکری رویّوں کو چیلنج کیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ مگر چونکہ ہماری ادب کی جڑیں مشرقی طرزِ فکر کی سرزمین میں پیوست ہیں تو ہمارا تخلیقی ادب اکثر اسی طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا نظر آئے گا۔ مغرب اور مشرق کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب ”ڈارک ایج“ سے نکلنے کے بعد ایک واضح ڈائریکشن پہ اپنی سمت

Read more

اسرار الحق مجاز: ادبی اہمیت

  مجازؔ کی انقلابی اور رومانی نظموں اور غزلوں پر گفتگو کے بعد یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ مجاز کی ادبی اہمیت کیا ہے۔ بالخصوص آج کے سیاق میں، کیا مجاز صرف عہدِ گزشتہ کے شاعر ہیں؟ یا شعری مزاج میں تبدیلی کے بعد آج وہ صرف ادبی تاریخ کا ایک ورق ہیں۔ جس کے بارے میں منظر سلیم نے لکھا ہے : ”یہ نغمے تیزی سے بدلتے ہوئے شعری مزاج کے ساتھ ساتھ پرانے ہوتے جا

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (2)

’زمیندار‘ اور ’انقلاب‘ میں افتراق نے اماکن مقدسہ پر پنجاب کے مسلمانوں میں ہیجان سے جنم لیا. اگست 1925 میں خبر آئی کہ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کے مزارات کو سخت نقصان پہنچایا ہے. اس پر خلافت کمیٹی نے ایک وفد حجاز بھیجنے کا فیصلہ کیا. مولانا محمد عرفان, مولانا ظفر علی خان اور شعیب قریشی اکتوبر 1925 میں حجاز روانہ ہوئے. یہ وفد سلطان ابن سعود کو قائل کرنے میں ناکام رہا تاہم ابن

Read more

زمیں یاں کی چہارم آسماں ہے

ادبیات اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے ہمارے ہاں عام طور پر اس قبیل کی بحثیں تو ہوتی رہی ہیں کہ فن زندگی کے تابع ہے، یا زندگی فن سے اثر پذیر ہے، لیکن اس کے مقابلے میں فن کار، فن کارانہ عمل اور فنونِ لطیفہ کے اسرار و رموز کو سمجھنے یا سمجھانے کی طرف توجہ کم رہی ہے۔ البتہ تخلیق کے پُراسرار عمل کو تخلیق کار ضرور نرگسیت کے پیرائے میں اپنی تحریروں میں ڈھالتے اور محدب عدسے

Read more

شعر کی شعاع، ذہنوں کی جِلا

تعلیم کے افق پر ہمارے سامنے موجود اہم ترین کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ بچوں کو تجریدی فکر، مجرد خیالات کو گرفت میں لانے میں کس طرح مدد کی جائے۔ کیا یہ ایک تعجب انگیز امر نہیں کہ شعر، جو کہ اپنی سادہ ترین صورت میں محض الفاظ کا مجموعہ ہے، بچوں کے ذہنوں کو تجریدی سوچ کی جانب رہنمائی کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے؟ یقیناً شعروں کی دنیا جذبات، مخصوص اشیاء، مناظر، لوگوں

Read more

آسماں در آسماں

ہجرت فقط ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ تاریخ کے گلے کا کانٹا ہے، جس کی چبھن صدیوں بعد بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو دلوں میں بسنے والوں کو بے گھری کے کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کتاب آسماں در آسماں بھی اس زخم کی باز گشت ہے جو ہجرت کی ہولناکیوں اور ہجر کی تلخیوں کو لفظوں میں قید کرتی ہے۔ یہ صرف ایک داستان نہیں بلکہ ان چراغوں کی

Read more

پھولوں کے کاغذ پہ آگ کی لکھت

  ”میری تحریر، کیا نظم اور نثر، میں جانتی ہوں غیر قانونی بچّے کی طرح ہیں۔“ یہ الفاظ پنجابی کی مشہور ادیبہ امرتا پریتم کے ہیں جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھنے سے پہلے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی آپ بیتی صرف دس سطروں میں لکھے گی، جس کی پہلی سطر یہی ہو گی۔ سچ میں اگر آپ دیکھ لیں تو اعلیٰ پائے کا ادب جس میں صدیوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہ سماجی

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کا ادبی ذوق

پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) ادیب بھی تھے اور چوٹی کے سائنسدان بھی۔ ادیب پہلے تھے سائنسدان بعد میں بنے۔ ادب ان کے ڈی این اے میں تھا جس کو پروان ان کے مشفق والد اور بے لوث اساتذہ کی تربیت نے چڑھایا تھا۔ ایک اخباری نمائندے نے ان سے سوال کیا عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ سائنسدان خشک مزاج لوگ ہوتے ہیں؟ اس کے جواب ڈاکٹر سلام نے کہا یہ

Read more

ایک باغی اور انقلابی شاعر کی یاد میں

برصغیر میں بے شمار باغی شاعر پیدا ہوئے۔ ان بڑے شاعروں میں ایک بڑا نام جوش ملیح آبادی کا بھی ہے۔ جوش وہ باغی شاعر تھا، جس نے اردو شاعری کی نئی تعریف متعین کی۔ اسی طرح اردو شاعری نے بہت سے قابل ذکر شاعروں کا عروج دیکھا ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے وسیع ادبی منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان میں سے جوش ملیح آبادی ایک انقلابی قوت کے طور پر الگ کھڑے ہیں،

Read more

جیسے لہور لہور ہے، ویسے تارڑ، تارڑ ہے

راوی جو لاہور شہر کے کنارے بہتا تھا خشک ہو چلا ہے مگر معلوم ہوتا ہے وہ راوی کہیں تارڑ کی شخصیت اور اس کی تحریروں میں سمٹ آیا ہے۔ جس کے کنارے آباد ہیں، جس کا پانی شفاف ہے جو سننے دیکھنے اور پڑھنے والوں کو سیراب کیے جاتا ہے۔ جیسے لہور لہور ہے ویسے ہی تارڑ، تارڑ ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بعد تارڑ وہ واحد لکھنے والا ہے جس کے ہاں زندگی اور تجربات کا تنوع ہے۔

Read more

دہشت گردی کے اسباب کا جائزہ

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس مسئلہ پر قابو پا لیا گیا تھا مگر اب یہ دوبارہ سر ابھارنے لگا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں نظریاتی گروہوں کو محض عسکری طاقت سے نیست و نابود کرنا دائرہ امکان سے خارج ہے کیونکہ ان کی طاقت دن بدن بڑھتی ہے وہ عام لوگوں کے اذہان میں اس نظریے کا بیج داخل کر کے اپنی توسیع جاری رکھتے ہیں۔ جب طالبان نے کنٹرول سنبھالا

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن

ہر سال 21 فروری کو ہم ان بنگالی طلبہ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبان بنگلہ کی خاطر 21 فروری 1952 ء کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستانی ریاست کی جانب سے ڈھاکہ کے طلبہ کی پولیس فائرنگ سے شہادت کے بعد ہر سال 21 فروری کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں یومِ شہداء کے طور پر منایا جانے لگا۔ یہ ان بنگالی طلبہ کی ہی قربانیاں اور جدوجہد تھی

Read more

جیل بیتی۔ 3

”غبارِ خاطر“ اور ”محاسنِ کلامِ غالب“ پہ کیے گئے کچھ شوخ تبصروں کے حوالے سے یاد آیا کہ ڈگر سے ہٹ کے کہی گئی بات کتنی بھی دل کو لبھانے والی کیوں نہ ہو، کم ہی سراہی جاتی ہے۔ جیسے عبدالحمید عدم کا یہ کہنا کہ غالب وہ شاعر ہیں جن کے دیوان کا پہلا ہی شعر مہمل ہے۔ اس کی جو تشریح انہوں نے خود کر رکھی ہے وہ بھی تحقیق سے کھری ثابت نہیں ہوتی۔ ایران کی تاریخ

Read more

شعر العجم: فارسی شاعری کی غیر معمولی تاریخ

اگرچہ موازنہ انیس و دبیر کو شبلی نعمانی کا بہترین تنقیدی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے، اس کے باوجود موازنہ کو کبھی کبھی شبلی کا انیس کی جانب واضح جھکاؤ ہونے کی وجہ سے جانب دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جس گہرائی اور باریک نظری سے شبلی نے شعر العجم میں فارسی شاعری کا جائزہ لیا ہے وہ ناقابلِ موازنہ ہے۔ اسی لیے یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ شعر العجم شبلی کا بہترین ادبی کارنامہ

Read more

شاعر انقلاب، شاعر شباب و شاعر آخر الزماں کی 43 ویں برسی

جوش ملیح آبادی نے اپنے متعلق کہا تھا میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش جوش ملیح آبادی کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ وہ اتر پردیش، ہندوستان کے مردم خیز خطہ ملیح آباد میں 5 دسمبر 1898 کو پیدا ہوئے۔ وہ ملیح آباد کے ایک مشہور، متمول اور جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق آفریدی قبیلے سے تھا۔ وہ خاندانی رئیس تھے۔ ان کے والد کا نام نواب بشیر احمد خان، دادا کا نام نواب محمد

Read more

پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی روایت

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے بولنے اور سننے کا ہنر بھی عطا کیا، بولنے اور سننے کا تعلق کسی نہ کسی زبان سے ہوتا ہے جو ہر انسان بولتا یا سنتا ہے، کرہ ارض پر اس وقت اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں زبانیں لازمی بولی جاتی ہیں، کچھ زبانوں کو بولنے والے دستیاب نہیں رہے تو وہ معدوم ہو چکیں، کچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں سیکھنے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

فلسفے کے راز۔ پہلی قسط۔ ول ڈورانٹ

ول ڈورانٹ نے بیسویں صدی میں فلسفے کے ثقیل اور دشوار علم کو ساری دنیا کے عوام میں اسی طرح مقبول بنایا جس طرح سٹیون ہاکنگ اور کارل ساگن نے سائنس کے پیچیدہ علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچایا۔ میں نے جب ول ڈورانٹ کی سوانح کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ 1885 میں میساچیوسڑس امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق کینیڈا کے کیتھولک فرنچ خاندانوں سے تھا

Read more

اپنے صحافی بھتیجے کی مدح میں

جہاں تک ہونہار بھتیجوں کا تعلق ہے، اردو ادب کے باثروت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ مولانا ظفر علی خاں کے بیٹے مولانا اختر علی خان سے شروع ہونے والی ’صحافی صاحبزادہ‘ روایت میں کسی قدر پانی مرتا ہے۔ ’پانی مرنا‘ لکھ کر محض محاورہ نہیں کھپایا، یہ روایت ایسی ثقہ ہے کہ کہیں کہیں تو کائی زدہ پانی میں صحافت کی پھولی ہوئی لاش بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ ناہنجار بیٹوں میں سے اکثر کے رگ پٹھے

Read more

عابد خورشید کی نظموں کا مجموعہ: یا محبت

عابد خورشید جدید اردو نظم کے اہم شاعر ہیں۔ اُن کا تعلق دبستان سرگودھا سے ہے اور درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں۔ وہ ان دنوں ڈیرہ غازی خاں یونیورسٹی میں بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر (اردو) اپنے فرائض سرانجام دے رے ہیں۔ اُن کی نظموں کا مجموعہ ”یا محبت“ 2017 ء میں مثال پبلشرز، فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں اُن کی چوالیس ( 44 ) نظمیں شامل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر حنیف سرمدؔ کا

Read more

سنگھاسن بتیسی : ایک موضوعاتی مطالعہ

  کتاب: سنگھاسن بتیسی مصنف: نا معلوم مترجم: انتظار حسین سنگھاسن بتیسی۔ (سنگھاسن یعنی تخت اور بتیسی یعنی بتیس 32 ) یہ سنسکرت کی مشہور منظوم داستان کا اُردو نثری ترجمہ ہے۔ اس سے ملتی جلتی ایک اور داستان بیتال پچیسی ہے۔ متن اس کا یہ ہے کہ راجہ بھوج اجین نگری میں راج کرتا ہے، اس کی سلطنت میں ایک شخص ایک کھیت کی رکھوالی کے لیے ایک مچان پر چڑھتا ہے، چڑھتے ہی بلند آواز سے حکمیہ انداز

Read more

مولانا ابوالکلام آزاد: بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

متوسّط قامت، اکہرا بدن، گورا رنگ، کتابی چہرہ، سفید چھوٹی داڑھی، شاہیں نظر، متحرّک اور روشن آنکھیں، آواز بلند و پُر جلال، مزاج میں تمکنت و وقار، خلقتاً خلوت پسند و گوشہ نشیں، طبیعت باغ و بہار، زہد و استغنا اور صبرِ جمیل کا مجسّمہ، خوش رو و خوش پوشاک، مشرقی شرفا کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے، سر پے اونچی کالی ٹوپی، غیرت و خودداری، زبان و بیان کے دھنی، متحدہ ہندوستان میں ان سے بڑا کوئی گفتگو طراز

Read more

علماء کی بستی۔ نگرام

تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں دینی تعلیم کے لیے دو مدرسے یا مکتبہ فکر School of Thought مشہور تھے جنہیں عرف عام میں دیوبندی اور بریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند یوپی کے شہر سہارنپور میں اٹھارہویں صدی کے آخر میں مولانا قاسم نانوتوی نے قائم کیا۔ اس مدرسے سے بڑے بڑے نامور عالم دین فارغ التحصیل ہو کر نکلے جنہوں نے برصغیر میں دینی تعلیم اور تبلیغ کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ یہاں سے

Read more

پاک بھارت اردو ادب

اردو ادب برصغیر کی مشترکہ تہذیب، تاریخ، اور ثقافت کا اہم ترین حصہ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اردو ادب کو دو الگ جغرافیائی اور نظریاتی اکائیوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہو گیا۔ دونوں ممالک میں اردو ادب نے منفرد انداز میں ترقی کی لیکن یہ ایک دوسرے سے جڑے رہنے کے گہرے اثرات بھی رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک ہیں جن کی تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت نمایاں ہے۔ دونوں ممالک

Read more

جی ایم بٹ : کچھ یادیں کچھ باتیں

میں جب 2004 اکتوبر میں پنجاب کالج سیشن کورٹ روڈ گوجرانوالہ کے تدریسی عملے کا حصہ بنا تو میرے ساتھ نوید اقبال، مولوی احسان، عمران صدیق اور حافظ عمران بٹ صاحب بھی تھے۔ ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم سے کچھ ماہ پہلے انگریزی میں ریاض اور جی ایم بٹ، اسلامیات میں جاوید صاحب بھی تدریسی عملے کا حصہ بن چکے تھے۔ تمام لوگوں سے میرا ایسا تعلق قائم ہوا جو عمروں پے محیط ہوتا ہے مگر جی ایم

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

گھاس پھونس کی مانند لوگ

درمیانہ سا کمرہ تھا۔ وہاں دو بیڈ تھے جن میں سے ایک پر ایک لڑکی آ کر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی عمر کی دوسری دہائی ابھی ابھی پار کی تھی۔ نکلتا قد تھا، ستھرا رنگ تھا۔ بہت خوبصورت نہ سہی، بہت قبول صورت تو تھی ہی۔ وہ دیکھنے میں بالکل تندرست تھی۔ اس کے پاس ایک نوعمر لڑکا بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں کم عمری والی بے فکری سے باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی سے بڑی

Read more

سچ کے رشتہ دار افسانہ

پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔ ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ ایک جمعے کی دو پہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے

Read more

دسواں لائل پور پنجابی سلیکھ میلہ 2025

پنجابی ادب ک تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کا آغاز فرید الدین گنج شکر کی شاعری سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں بلھے شاہ، شاہ حسین، سلطان باہو، ہاشم شاہ، خواجہ فرید، وارث شاہ، میاں محمد بخش اور پیر مہر علی جیسے بزرگان نے اس کو ادبی معراج عطا کی۔ دمودر، پیلو، گرو نانک، موہن سنگھ، امرتا پریتم، شریف کنجاہی، شو کمار، استاد دامن، منیر نیازی، منو بھائی اور احمد راہی جیسے شعرا نے اس کی آبیاری کر کے،

Read more

گوتم سے ملاقات

1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ

Read more

طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست

اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد

Read more

آسماں در آسماں : ایک تہذیبی دستاویز

آسماں در آسماں، ان بچھڑے ہوئے فنکاروں کی کہانی ہے، جن کے اندر ہجرت کا ناسٹلجیا ایک دھڑکتے ہوئے دکھ کی طرح ہمیشہ زندہ رہا۔ وہ کہیں بھی چلے گئے، کسی بھی نئی سرزمین کے باسی بن گئے، مگر ان کا ماضی، ان کے دریاؤں، پہاڑوں، میدانوں، گلیوں، گھروں اور صحنوں کی یادیں ان کی تخلیقات میں سانس لیتی رہیں۔ آسماں در آسماں پڑھتے ہوئے قاری صرف ایک کتاب کا مطالعہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہجرت کی ان سنسان گلیوں

Read more

”آنکھ اور اندھیرا“ کا کرداری مطالعہ

سیدہ عفرا بخاری نے افسانے تخلیق کرنے کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ”لیل و نہار“ سے کیا اور پھر اُردو افسانے کے سنجیدہ قارئین کے قلب و ذہن کو طویل عرصے تک متاثر کرتی رہیں۔ اپنے عہد کے مؤقر جرائد، جیسے سویرا، سیپ، نقوش، ادب لطیف، ماہِ نو اور فُنون نے ان کے افسانوں کو اپنے صفحات کی زینت بنایا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”فاصلے“ کے عنوان سے 1964 ءمیں میری لائبریری، لاہور سے شائع ہوا تھا اور

Read more

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں

فیض میلہ سج چُکا ہے بلکہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ فیض احمد فیض صاحب پر بات کرنا یا کچھ لکھنا جیسے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ فیض صاحب کی شاعری محبت، مزاحمت اور اُمیدوں کے ملے جُلے نرم جذبات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے شعری اسلوب میں بہت دل کشی سے وہ سادہ باتیں کیں جن میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ قاری کے دل میں اُتر کر لبوں

Read more

اللہ سئیں دے بندے اساں شاعر محمد یونس۔ کافی کا ریویو

کافی پنجابی، سندھی اور سرائیکی میں استعمال ہونے والی شاعری کی ایک شاخ ہے۔ وہ شاعر جو روشنی اور آگہی کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ یعنی، صوفی ازم وہ تخلیق کار یعنی خدا سے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لئے گہری محبت کا اظہار کرنے اور اپنی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے ذریعہ اظہار کے طور پر کافی کا استعمال کرتے ہیں۔ حضرت بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، سچل سرمست اور کچھ دیگر ہستیوں

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں (2)

پچھلے چھے مہینے میں ایسا کوئی پاکستان کا پبلشر نہیں جس کے منہ سے ہم نے اپنی کتاب کے بارے میں کچھ اچھا نہ سنا ہو، مگر عملی طور پر اس نے اپنے الفاظ کے بالکل برعکس نہ کیا ہو۔ آج سے چھے مہینے پہلے ہم اپنی کتاب کے مسودے کو لے پہلے پبلشر کے دربار میں حاضری دی۔ جناب نے کتاب کو چاروں طرف سے ایسے گھما گھما کر دیکھا، جیسے ڈاکٹر مریضوں کے ایکسرے دیکھتے ہیں۔ اور درمیان

Read more

ادب احترام اور وفا کا دوسرا نام: چودھری علی محمد

چودھری بھولا خان دریا جہلم کے بائیں کنارے پر آباد گاؤں کے بڑے زمیندار تھے۔ کھیتی باڑی سے گزر اوقات ہو رہی تھی۔ 1924 ء کے موسم سرما میں اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ پہلوٹھی کے بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان اور ان کی بیوی حفیظاں بی بی بہت خوش تھے۔ بیٹے کی پیدائش پر چودھری بھولا خان نے اپنے پیر خانہ میں حاضری دی اور بڑے پیر صاحب سے بیٹے کی طویل عمری کی دعا کے

Read more

صفدر زیدی کا ناول ”بنت داہر“: تنقیدی جائزہ

فاتح قوموں کا نفسیاتی حربہ ہوتا ہے کہ وہ مفتوحہ قوم پہ غالب آنے کے بعد اسے اس کی تاریخی ہیئت سے کاٹ کر الگ کھڑا کر دیتی ہیں، جس کا سب سے پہلا اور گہرا وار علم و ادب پہ کیا جاتا ہے۔ تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو کتنے ہی عظیم کتب خانے، ودیا شالا اور پاٹھ شالائیں راکھ کا ڈھیر بنا کر مفتوحہ قوموں کو ناکارہ اور فضول بنا کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر

Read more

عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“

”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے

Read more

جامعہ پنجاب کا میلہ کس نے لوٹا

جامعہ پنجاب کی ریت رہی ہے کہ علم دوست احباب کو کتاب میلے کی صورت میں ہر سال کچھ دنوں کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ایک خیمہ آگاہی میں تمام تشنگان مکتب کو سیراب کرنے کا امکان میسر آ جائے۔ اس سال بھی یہ میلہ سجا۔ فروری کی بہار میں زندہ دل والوں نے طے کر لیا ہے کہ کبھی الحمرا میں فیض فیسٹیول سے اہل ادب کو فیض بخشنا ہے تو کبھی ہارس اینڈ کیٹل شو سے

Read more

نو گز کی قبر

آج کل اپنے منتخب کالمزکو کتابی شکل میں چھپوانے کے مراحل سے گزرا جا رہا ہے، کون سی تحریر شامل کی جائے اور کسے نظر انداز کر دیا جائے، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، زبان اور املاء کے مسائل میں بھی رہبری کی طلب رہتی ہے، اور کالمز کی ترتیب کیا ہونی چاہیے، اگر زمانی اعتبار سے ہو تو جدید سے قدیم کی طرف مراجعت ہو یا اس کے برعکس، اور اس طرح کے درجنوں سوال درپیش رہتے ہیں۔

Read more

"شعور کا بہاؤ” شیخ رشید سے شیر افضل مروت تک

ریٹنگز کے حصول کو بے قرار ٹی وی اینکروں کو ان دنوں شیر افضل مروت ویسے ہی مطلوب ہیں جیسے کسی زمانے میں ’’غریب کی چھت‘‘ کے بارے میں منافقانہ ٹسوے بہانے والے راولپنڈی کے ترجمان عصر ہوا کرتے تھے۔ 2008ء میں کافی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد پیپلز پارٹی چند دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی خاطر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ نے اسے

Read more

آکاش کی میراث: آخری سانس تک جدوجہد

ڈاکٹر آکاش انصاری کی زندگی اور موت ایک ایسی داستان ہے جس میں شاعری، سیاسی سرگرمیاں، اور انسانی خدمات باہم منسلک ہیں۔ 25 دسمبر 1956 کو سندھ کے ضلع بدین کے ایک گاؤں سعید پور میں پیدا ہونے والے آکاش کا سفر ایک سادہ پس منظر سے شروع ہو کر ایک مشہور شاعر اور سماجی کارکن تک پہنچتا ہے، جو ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سماجی بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کہانی صرف ذاتی کامیابی

Read more

موت کی مارکیٹنگ

آج کل صبح آنکھ کھلتے ہی ہم میں سے اکثر انسانوں کی جس چیز پر پہلے نظر پڑتی ہے وہ اپنے جاننے والے لوگوں کی سوشل میڈیا سٹوریز یا پوسٹس ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر موت کی سختی، قبر کے عذاب، جہنم کی آگ اور مرنے کے فوراً بعد لوگ کتنا جلدی آپ کو بھلا دیں گے وغیرہ، وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔ یہ سب صبح سویرے پڑھنے کے بعد بھلا کوئی کیسے اس زندگی میں اپنی پوری صلاحیتوں اور

Read more

بلوچستان میں کتابیں پڑھنے کا رواج اور سیاسی تحریکیں

بلوچستان میں بڑھتا ہوا کتابیں پڑھنے کے رجحان کا سیاسی تحریکوں سے گہرا تعلق ہے۔ بلوچ قوم نے اپنی تاریخ، ثقافت، اور حقوق کے بارے میں جاننے کے لیے کتابوں کو ایک اہم ذریعہ سمجھا ہے۔ سیاسی طور پر مظلوم قوم ہونے کی وجہ سے، کتابوں نے انہیں اپنی شناخت اور سیاسی جدوجہد کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ بلوچی زبان اور روایات کو زندہ رکھنے کی کوششوں نے مقامی ادب کو فروغ دیا ہے۔ مصنفین اور شاعروں نے بلوچی

Read more

پہلے خواب اور پھر آکاش خود قتل ہوئے

جدائیوں، محرومیوں اور جبر کے خلاف لڑنے والے سندھی زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا ہے، جیسے سیاسی سفر میں ان کے خوابوں کا قتل ہوا۔ ان کو رہبر سے رہزن ثابت ہونے والوں سے گلا تھا، جس کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔ سندھ میں وہ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک کے متحرک رہنما رہے اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نعپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے

Read more

ایڈورڈ سعید: مستشرقیت اور مابعد نوآبادیات

یکم نومبر 2001 میں یروشلم میں ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والا ایڈورڈ سعید ایک فلسطینی امریکن سکالر، استاد، سیاسی کارکن اور ادبی نقاد تھا اس نے ادب کو سماجی اور سیاسی ثقافت کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں ادب کے استاد کے طور پہ اس کو نو آبادیاتی مطالعہ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کے سیاسی حقوق اور خودمختار فلسطینی ریاست کا ایک بے باک ترجمان تھے۔ ایڈورڈ سعید کے والد

Read more

ہر ایک استاد کو لازم ہے کہ وہ دوست بھی ہو!

ممکن ہے کہ تحریر کے عنوان کو پڑھ کر آپ میں سے کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات آئی ہو کہ یہ کیسی بات ہے کہ دوست بھی استاد بھی ہو؟ ہاں! ، دوست استاد ہو سکتا ہے! لیکن جب استاد دوست بن جائے تو یہ ایک الگ مقام ہے، اور میرے خیال میں ایک استاد کو دوست ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ایک پیغمبری پیشہ ہے اور پیغمبری کام دوستی کا کام ہوتا ہے، خیرخواہی کا، یعنی خدا

Read more

قیدی کے خطوط:یہی جواب ہے، اس کا کوئی جواب نہیں

غالب کی پہچان شاعری ہے لیکن ان کے خطوط انھیں سمجھنے کے لیے ان کی شاعری کی ہی طرح اہم ہیں۔ ان خطوط میں خوشی، بے بسی، التجا ہے، پریشانیوں کا ذکر ہے۔ گھر کی دیواروں کی دراڑیں ہیں، قحط ہیں، سیلاب ہیں، وبائیں ہیں، بخار ہیں، رات کی تاریکیوں میں نقب لگا کر تختے، دروازے اور چوکھٹیں نکال کر لے جانے والے چور ہیں، اس چوری سے پریشان غریب غربا ہیں، مئی جون کی گرم ہوائیں ہیں، شاعری اور

Read more

ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت (آخری قسط )

ڈاکا جو ناکام بنایا ” شبیر! دوسرا اور تیسرا واقعہ تو بتا دیا لیکن پہلا واقعہ کیا تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔ ” پہلا واقعہ 1995 میں پیش آیا۔ اس وقت میں جوان تھا۔ میرے کلینک سے پانچ قدم کے فاصلے پر میڈیکل اسٹور تھا۔ ایک دن وہاں شور کی آواز سنائی دی تو میں باہر نکلا۔ تین ڈاکو نظر آئے۔ ایک میڈیکل اسٹور لوٹ رہا ہے دوسرا خودکار اسلحہ لئے 11 لوگوں کو یرغمال بنائے باہر کھڑا ہے۔

Read more

"سفر نامہ ”تھائی لینڈ کے سنگ

اُردو ادب میں سفر نامہ نگاری کی روایت بہت قدیم ہے۔ اُردو سے پہلے عربی و فارسی ادب میں کئی ایک بہترین سفر نامے لکھے جا چکے ہیں۔ اُردو ادب میں یہ صنف فارسی ہی کی بدولت در آئی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سفرنامہ نگاروں نے اس صنف ادب کو عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ویسے تو ہر انسان سفر کے تجربات سے گزرتا ہے اور وہ اپنے مشاہدات اور احساسات کو اگر صفحہ قرطاس پر اتار نہیں

Read more

انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے

خط دِلی خیالات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔ تاریخی حوالے سے بغداد کے قریب پانچ ہزار سال پرانی تختیاں اصل میں خطوط ہی تھے۔ ملکہ سبا کو لکھا گیا حضرت سلیمان کا خط بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ اردو میں رجب علی سرور اور غلام غوث بے خبر اولین مکتوب نگار سمجھے جاتے ہیں۔ غالب اور مولانا آزاد کے خطوط نے تو مکتوب نگاری کو صنفِ ادب بنا دیا۔ وقت کے ساتھ ڈاکیا اور قاصد نو

Read more

زلزلہ، سائنسی حقائق اور افسانوی کہانیاں

انسان اپنی کم علمی، جہالت اور کمزوریوں کو چھپانے کے لیے اکثر ایسی باتوں کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آج صبح سویرے آنکھ کھلی تو سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، تو سوچا کہ اس پر کچھ تحریر کیا جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ شب یعنی 15 فروری کو اسلام آباد، اس کے ملحقہ علاقوں اور آزاد کشمیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ایک شخص نے

Read more

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم

اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔ میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال

Read more

عزم اردو

چمن میں رنگ و بو کا امتزاج اردو ہے گلاب یاسمیں کا ہم مزاج اردو ہے یوں تو ہر زبان ہی ہے خوبصورت مگر میرے بیاں کی معراج اردو ہے ویسے تو اردو کی ترویج و ترقی کے لیے بزم ادب یا بزمِ اردو سجائی جاتی ہے مگر میں نے اسے عزمِ اردو دانستہ لکھا ہے۔ کیونکہ عمومی طور پہ مشاہدے میں آ رہا ہے۔ کہ جس طرح اور جس نہج پہ اب واٹس ایپ استعمال ہو رہا ہے اس

Read more

مشاعرے کی واہ واہ، گولیوں کی ٹھاہ ٹھاہ سے افضل ہے

دنیا کے ہر معاشرے میں جذبات کے اظہار کے الگ الگ طریقے رائج ہیں۔ کچھ معاشرے مکالمے اور ادب کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ نے بندوق اور تصادم کو اظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ہاتھوں میں قلم تھامیں یا اسلحہ؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ جذبات کے اظہار کے لیے شاعری، کہانی اور مکالمہ اپنایا جائے یا پھر ہیجان اور تصادم

Read more

روشنی کا شاعر، شعلوں کی نذر ہو گیا

آکاش انصاری محض ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک خواب تھے جو دھرتی کے ہر ذرے میں بسا ہوا تھا، ایک صدا تھے جو ہر دبے ہوئے دل میں ارتعاش پیدا کر سکتی تھی، اور ایک چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا تھا۔ ان کی شاعری ان کا عکس تھی۔ کبھی نرم، کبھی سخت، کبھی دھیمے لہجے میں محبت کی باتیں کرتی، اور کبھی آندھی بن کر فرسودہ نظام کو جڑوں سے ہلا دیتی۔ وہ سندھ

Read more

پندرہویں صدی میں چینی ایڈمرل ژینگ ہو کی مہمات کا مطالعہ

چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی تہذیبی اقدام ”Global Civilization Initiative (GCI)“ کا تصور مارچ 2023 ء کو بیجنگ میں ایک تقریر کرتے ہوئے پیش کیا۔ اس کا مقصد تہذیبی ہمہ گیری، باہمی آگہی اور لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہے۔ ان کے تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے تصور کو بین الاقوامی سطح پر بے انتہا پذیرائی ملی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”تہذیبوں کے درمیان تبادلہ اور باہمی ہم آہنگی انسانی تہذیب کی

Read more

”باتیں لاہور کی“ از سوم آنند

ہندوستان کی تقسیم کے حوالے سے لکھے جانے والی کوئی بھی کتاب اٹھا کر پڑھ لیں آپ کو احساس ہو گا کہ اس خطے کی عوام نے کتنے مصائب اور آلائم جھیل کر اس تقسیم کے مرحلے کو طے کیا اور تب جا کر کہیں انھیں آزادی کی نعمت نصیب ہوئی۔ اُن دلسوز واقعات کو سُن اور پڑھ کر انسانی دل جتنا مرضی ہے سخت ہو لیکن نرم پڑھ جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی

Read more

راجہ انور کی ماضی کی یادوں کا حمام

راجہ انور کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ ہم انھیں اپنے زمانہِ طالب علمی سے جانتے ہیں اور انہی دنوں میں راولپنڈی میں ایک دفعہ ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ بہت عرصہ بعد دوسری ملاقات برمنگھم میں اُن کے کالموں کی کتاب ”بازگشت“ کی تقریب رونمائی میں ہوئی۔ 2022 ءمیں برطانیہ میں قیام کے دوران ایک دن سدرہ بیٹی نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں چلنے کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی سہیلی انیتا

Read more

خطوط کی افسوں گری: کل تک جو ٹھیک تھا کیسے ہوا وہ اب غلط

افسوں گری جادو گری، طلسم بندی، شعبدہ بازی کو کہتے ہیں۔ بعض ججز کی افسوں گری کے باعث دنیا میں پاکستانی عدلیہ 142 ممالک میں 130 ویں اور خطے کے 6 ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ ججز کی وہ کارکردگی ہے جب 26 ویں ترمیم کا نام و نشان تک نہ تھا یعنی عدلیہ مکمل آزادی کے وقت بھی دنیا میں آخری نمبروں پر تھی۔ انصاف، کے لئے ہر روز لاکھوں افراد کورٹ کچہریوں میں رُلتے ہیں۔ ٔ زندگیاں

Read more

”پوٹھوہار : خطہ دِل رُبا“

انسان شعور اور نطق کی بنیاد پر اشرف المخلوقات کے لقب کا حق دار ٹھہرا اگر اس میں یہ صفات موجود نہ ہوتیں تو حیوان اور اس میں کوئی خاص فرق نہ ہوتا لیکن خالق ِ کائنات کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ انسانی سرشت میں ان اجزا ءکا شامل ہونا اس کے لیے فخر کا باعث بنا اور اس ارض و سما ء میں وہ خداوند دو جہان کا نائب اور مقرب ٹھہرا۔ اپنے مقصد کی تلاش میں سرگرداں

Read more

15 فروری مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یوم وفات

آج اردو اور فارسی کے عظیم شاعر، نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسداللہ خان غالب نظام بہادر جنگ کا یوم وفات ہے۔ آپ 27 دسمبر 1797 ء کو کالا محل، آگرہ ریاست بھرت پور میں پیدا ہوئے۔ آبا کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ 19 ویں صدی بلا شبہ مرزا اسداللہ خان غالب کی شاعری کی ہے۔ عہد شاعری کے اعتبار سے اٹھارہویں صدی میر تقی میر کی تھی اور بیسویں صدی اقبال کی تھی۔ غالب کے والد کا نام

Read more

قونیہ شہر حضرت مولانا، شمس تبریزی اور درویش ہندی

اسکیشہر سے صبح گیارہ بجے کی برق رفتار ریل نے بغیر سیٹی بجائے ہمیں آن لیا۔ پلیٹ فارم چھوٹے، ”تمیزدار“ اور تقریباً خاموش تھے، شیخ الجامعہ نے اپنے مختصر قافلے کی باگ ڈور سرخ و سفید آہنی مشین کے آخری ڈبے کے حوالے کی۔ اسکیشہر سے قونیہ تقریباً چار گھنٹے کی تیز رفتار ریل کی مسافت ہے۔ قونیہ جو قدیم آئقونین کے نام سے موسوم ہے مرکزی اناطولیہ میں دارالخلافہ انقرہ کے جنوب میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً

Read more

نوبل انعام برائے ادب

ادب کے شعبے میں دنیا بھر میں مختلف ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ یہ انعام مختلف زبانوں، ثقافتوں اور طرز تحریر کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان میں نوبل انعام برائے ادب، بکر پرائز، پلٹزر پرائز، پرکس گنکور پرائز، نیوشتیڈ پرائز، ہانس کرسچن اینڈ رسن ایوارڈ، کمال فن ایوارڈ، اردو اکادمی ایوارڈ، فیض احمد فیض ایوارڈ، پریم چند ایوارڈ شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں زیادہ اہمیت کا حامل نوبل انعام ہے۔ مذکورہ ایوارڈ ہر سال سویڈش اکیڈمی کی طرف سے

Read more

کھرپا بہادر اور فراموش آباد کے اچکے

جس زبان کے بولنے اور پڑھنے والوں نے تصدق حسین خالد کی نظم، چراغ حسن حسرت کی نثر اور رفیق حسین کے افسانے فراموش کر رکھے ہوں، وہاں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عظیم بیگ چغتائی ایک گمنام نثر نگار ہے۔ محض اتفاق ہے کہ 1895 میں پیدا ہونے والے عظیم بیگ 1941 میں رخصت ہوئے تو ان کی بہن عصمت چغتائی نے ’دوزخی‘ کے عنوان سے مرحوم بھائی کا ایسا خاکہ لکھا جو عظیم بیگ کی طرفہ طبیعت اور

Read more

”بغیر عنوان کے“ از سعادت حسن منٹو کا تجزیاتی مطالعہ

اُردو ادب کے معروف افسانہ نگار ”سعادت حسن منٹو“ کو اُردو ادب میں افسانہ نگاری کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اپنے بے باک لہجے، سادہ و سلیس زبان اور مخصوص اسلوبِ تحریر کی وجہ سے انہیں اُردو ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر انور احمد: ” منٹو اپنی نوعیت کا اکلوتا افسانہ نگار ہے اور جس نے بھی اس کی نقالی کی وہ پنپ نہ سکا۔“ اگر منٹو کی افسانہ نگاری کی

Read more

کتاب : دھواں

انسانی ذہن کی اختراعات ہیں ساری۔ دیر سویر بھی اسی ذہن کے کام ہیں۔ سوچتے سوچتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جن دنوں ”گر یاد رہے“ پڑھی تھی اس کے بعد جلد ہی ”ڈیوڑھی“ اور ”دھواں“ پڑھی تھیں۔ یہ گلزار صاحب کی شخصیت کا اثر ہے مجھ پر، ان کے ساتھ محبت کی وجہیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور میرے پاس ان کے ساتھ کرنے کی باتیں نہیں ہوتیں، سوائے الٹے سیدھے سوالات اور بے سرو پا باتوں کے جن

Read more

ادریس بابر کی شاعری میں سائنسی شعور (شعری مجموعہ ’یونہی‘ کے تناظر میں)

معاصر اردو شاعری کے افق پر ادریس بابر کی شاعری اپنے منفرد انداز میں جگمگا رہی ہے۔ ادریس بابر کی شاعری جدید لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ وہ معاصر اردو شاعری میں معیاری اور اہم مقام رکھتے ہیں۔ شعری تصانیف میں غزلوں کا مجموعہ ”یونہی“ 2012 میں شایع ہوا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا جب کہ 2022 میں ان کی نظموں کا مجموعہ ”عشرے“ شایع ہوا۔ بابر کی شاعری جدید انسان کے معاملات و مسائل

Read more

ہماری شخصیت اور اندازِ گفتگو

ہمیں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ان سے بات چیت کرنی پڑتی ہے۔ اگر ہم لفظوں کا سہارا نہ لیں تو اپنا موقف کسی دوسرے تک نہیں پہنچا پائیں گے۔ ہمارا اندازِ گفتگو اور لفظوں کا چناؤ ہی ہماری شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بات تو سب کر لیتے ہیں لیکن اس کو بہتر اور موثر انداز میں کرنا اہم ہے کیونکہ ہمارے الفاظ ہی ہیں جو ہمیں دل میں اتار دیتے ہیں اور دل سے بھی

Read more

بلھے شاہ کے کلام میں خود شناسی۔ ایک جائزہ

پنجابی زبان کے اس عظیم شاعر بلھے شاہ کا اصلی نام سید عبداللہ شاہ تھا۔ حضرت بلھے شاہ کی پیدائش کا مقام اچ گیلانیاں اور زمانہ۔ 1758۔ 1680 بیان کیا جاتا ہے۔ جب اورنگ زیب کی وفات ہوئی بلھے شاہ کی عمر 27 برس تھی، اپنی زندگی کے باقی 51 برس بلھے شاہ نے اورنگ زیب کے جانشینوں کے عہد حکومت میں گزارے۔ بلھے شاہ ایک مقبول عام صوفی شاعر تھے۔ ان کے سارے کلام میں صوفیانہ شاعری کی آزاد

Read more

جدید ادبی انقلاب

ڈیجیٹل و انفارمیشن انقلاب کی حامل اکیسویں صدی میں نہ صرف ہمارا اُردو ادب بلکہ بین الاقوامی اور عالمی ادب بھی بنیادی طور پر اِن تین جہتوں کے زیر اثر انقلاب پذیر ہے۔ اول ذریعۂ اظہار کی سطح پر، دوم موضوعاتی و معنوی سطح پر اور سوم لسانی و اسلوبی سطح پر۔ انقلاب پذیری کی اِن ہمہ جہت سطحوں کی جڑیں ہمیں انیسویں اور بیسویں صدی کی زرخیز مٹی کی آغوش تخلیق میں مدغم ملتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی

Read more

دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

احوال سفر ترکیہ: قسط نمبر 1

فروری 2022 میں دو ہفتے قبل ہی شیخ الجامعہ نے نوید سفر مع اذن سفر و قیام کی دی۔ منزل تھی استنبول، اسکشہر و قونیہ۔ شیخ الجامعہ نہ صرف بین الاقوامی علمی رابطوں کے پرجوش داعی ہیں بلکہ فیکلٹی و تکنیکی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے وقتاً فوقتاً انعقاد کے راست اقدام کے حامی اور خالص پیشرو بھی، دلم اور عزیزی ڈاکٹر زاھد مجید جامعہ کے ڈائریکٹر بین الاقوامی علمی روابط ہیں۔ ان کی پیہم سعی کاملہ کی بدولت

Read more

گزشتہ کراچی

آج جب کراچی کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس شہر کو بڑی پلاننگ سے برباد کیا گیا اور اب تو یہ حال ہے کہ یہ شہر برباد کسی یتیم بچے کی طرح لاوارث ہو چکا ہے لیکن اس کے دامن میں اب بھی بہت کچھ ہے جو ہر آنے والے کو اپنے اندر سمو لیتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس شہر کے وسائل سے تو سب کو دلچسپی ہے

Read more

امجد اسلام امجد

اردو ادب کا عظیم سرمایہ 10 فروری 2023 کو لاہور میں منعقدہ پاکستان ادبی میلہ کے دن اپنے چاہنے والوں کو بندش قلب کے باعث داغ مفارقت دے گیا۔ وہ 4 اگست 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شاعر، ادیب، دانشور اور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کو ڈرامہ وارث تحریر کرنے پر ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ جب ڈرامہ وارث نشر ہوتا تو پاکستان کی گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان اور چین میں بھی بہت

Read more

محفوظ مستقبل

‬زمانہ وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو، فانوس و گلدان کی ماند بنتے بگڑتے ہیں انساں۔ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اس عظیم مقولے کو آج فقط مذاق سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ شاید سیاستدان، اشرافیہ اور عسکری الجھاؤ ہے۔ آج ہر پاکستانی کے قلوب و اذہان پر مایوسی کے بادل چھائے ہیں ہر آدمی عدم استحقاق کا شکار ہے اور اس کا سبب بے روزگاری یا کاروباری انتشار ہے۔ آج ہر پاکستانی کی زبان

Read more

سفر جاری ہے

وہ لوگ جن کو کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کے لئے بیرون ملک جانے کا موقع ملتا ہے، واپس آ کے صرف دفتری رپورٹ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عام قارئین کو اپنے کام کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ان ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور تفریحی مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔ اردو ادب کی ایک قاری کی حیثیت سے سفر ناموں کا مطالعہ بچپن سے میرا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ان سفر

Read more

جیل بیتی۔ 2

زندانی ادب کی دو مثالیں اسی راولپنڈی جیل سے نسبت رکھتی ہیں جس کا بڑا ذکر راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں ملتا ہے۔ ان دو کتابوں میں سے ایک قیدی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور دوسری اس جیلر کی جو اس مشہور قیدی کی قید کے دوران یہاں کا سیکیورٹی چیف تھا۔ قیدی کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اور جیلر کا نام کرنل رفیع الدین۔ ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ بھٹو صاحب

Read more

اَب جج فیصلے نہیں، خط لکھتے ہیں!

کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی عدلیہ 142 ممالک میں 130 ویں اور خطے کے چھے ممالک میں پانچویں نمبر پر تھی۔ اِس مقامِ بلند پر فائز ہونے کا واحد محرّک عزت مآب جج صاحبان کی اپنی کارکردگی تھی کیوں کہ اُس وقت نہ چھبیسویں ترمیم آئی تھی، نہ ’اُمید سے‘ بیٹھے کسی جج کی ”حق تلفی“ ہوئی تھی، نہ کوئی آئینی بینچ تشکیل پایا تھا، نہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین جج صاحبان

Read more

رجب علی بیگ سرور اور ”فسانہ عجائب“ کے فکری و فنی نقطہ نظر

فکری موزونیت اور اسلوب کی فنکاری کو ہم آنگ کرنا ایک قابل تحسین عمل ہے، کسی طرح انسانیت کی گردش تقدیر پر زبان کی تاثیر سے روشنی ڈالنا ایک معمولی پیشہ نہیں، معجزہ ہے۔ ادیب رجب علی بیگ سرور اپنے ”فسانہ عجائب“ میں قارئین کے لئے ایک ادبی امتحان پیش کرتے ہیں کہ قاری کس حد تک طرز مبالغہ آرائی کو برداشت کر سکتا ہے؟ میرے نزدیک، سرور کی ادبی طاقت اور ان کی فنکارانہ کارکردگی اس بات پر منحصر

Read more

آسماں در آسماں : بر صغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں کی داستان

چند ماہ پہلے بھارت کے جاوید صدیقی کی برصغیر پاک و ہند کے فنکاروں کے خاکوں پر مشتمل کتاب ”میرے محترم“ پڑھنے کا موقع ملا۔ خوش قسمتی سے عزیزم گگن شاہد کے توسط سے جاوید صدیقی سے فون پر بات چیت بھی ہوئی۔ ان کی کتاب میں فن اداکاری، مصوری اور ادب سے تعلق رکھنے والوں کے خاکے شامل ہیں۔ آج ڈاکٹر شاہد صدیقی کی برصغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں پر لکھے گئے خاکوں پر مشتمل کتاب ”آسماں در

Read more

اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں

چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔

Read more

دیسی ٹوٹکے اور ناف کا سرطان

اپنا دل بہلانے کو بھلے کوئی بھی خود کو افلاطون قرار دے سکتا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کو اپنے علم کی حدود اور لاعلمی کی وسعت معلوم ہے۔ رعونت ایک حنوط شدہ پرندہ ہے جو پرواز تو کیا، اڑان بھرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اعترافِ عجز میں بہتری کا امکان موجود رہتا ہے جو غرور کے دھندلکے میں مسدود ہو جاتا ہے۔ صحافت میں یہ اصول روزمرہ زندگی سے کہیں زیادہ موزوں طور پر منطبق ہوتا ہے۔

Read more

روحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش

عنوان نے آپ کو چونکا دیا ہو گا۔ بات ہے بھی چونکنے والی، کہنے کو بہت کچھ ہے بات کیسے شروع کی جائے، دیکھیے اپنا افسانہ علم الاسماء لکھتے سمے یہ بھید مجھ پہ کھلا تھا کہ یہ کائنات یونی ورس نہیں ملٹی ورس ہے، بلکہ اس کائنات میں یہ جو ہمارا چھوٹا سا کرہ ہے، یہ ہماری زمین، اس پہ زندگی کے کتنے رنگ ہیں، اس دنیا میں کتنی دنیائیں ہیں ہم نہیں جانتے۔ ایک دنیا مادے کی ہے

Read more

ماحولیاتی تبدیلیاں اور ریڈیو کا عالمی دن

اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو کی جانب سے اس سال ریڈیو کے عالمی دن کا مرکزی عنوان ریڈیو اور ماحولیاتی تبدیلیاں رکھا گیا ہے۔ ادارے کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمیت میڈیا ٹیکنالوجیز میں نت نئی ایجادات کے اس دور میں بھی ریڈیو عالمی سطح پر نہایت مقبول اور قابل بھروسا میڈیم ہے۔ ریڈیو نہ صرف ماحولیاتی فکر اور نظریات کو عام فہم

Read more

آسماں در آسماں از شاہد صدیقی: کتابِ دیگر است

کچھ روز پہلے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ہر اک ہنگامہ سا برپا تھا، ایسے لگتا تھا کہ کسی نے تھوڑی سی پی لی ہو۔ ہنگامہ یہ برپا تھا کہ پروفیسر شاہد صدیقی کی کوئی نئی کتاب آ رہی ہے ”آسماں در آسماں“ ، کچھ غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کتاب کی رونمائی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہونے والی ہے۔ ناشر کے یہ پیغامات بھی موصول ہونے لگے کہ پیشگی خریداری پر رعایت بھی ملے گی۔ میں

Read more

اظہارِ واقعات ہے کوئی گلہ نہیں ​

الحَمْدُ ِللہ! 3 فروری 2025 کو زندگی کی 46 بہاریں مکمل ہونے کے بعد گزشتہ زندگی کے حالات و واقعات سوچ کر ہی دل، ذات باری تعالی کے آگے سر بسجود ہونے کو کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے جو کچھ دیا وہ اس کا انعام اور جو کچھ لے لیا اس میں اللہ تعالی کی حکمت و رضا ہے اور انسان کے بس میں تو یہ بھی نہیں کہ جب تک اللہ نہ چاہے وہ اپنی مرضی سے پلک

Read more

ہمارے دور میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جنریشن گیپ

کہتے ہیں کہ ہر نئی نسل پرانی نسل کے لیے ایک ناقابلِ حل معمہ ہوتی ہے۔ نئی نسل کو لگتا ہے کہ پرانی نسل جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چلنے سے قاصر ہے، جبکہ پرانی نسل کا ماننا ہے کہ نئی نسل اخلاقی، تہذیبی اور فکری بگاڑ کا شکار ہے۔ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ سقراط کے زمانے سے چلا آ رہا ہے جب وہ نوجوانوں کے بدلتے رویوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا تھا کہ یہ نسل

Read more

دہقان قدیم اور تعلیم

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔

Read more

ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آداب! آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی

Read more

کتاب : روشن دان اور لنگر خانہ

صنف: خاکہ نگاری مصنف جاوید صدیقی (انڈیا) تبصرہ : عرفان علی جناح (ڈنور) میں کافی دیر سے بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں؟ بجلی بند ہے اور اندھیرے میں تھوڑی لالٹین کی روشنی کیے ہوئے میں یہی سوچ رہا ہوں کہ بات کا آغاز کس جگہ سے کروں؟ لالٹین کی جگہ میں ٹارچ کی روشنی کر سکتا تھا لیکن لالٹین کی نارنجی روشنی ملگجا سا اندھیرا پھیلا گاسلیٹ کی بو پھیلائے میں اپنے کسی نوسٹیلجیا کا

Read more

پارسی: ایک چھوٹی سی برادری

پارسی ان زرتشتیوں کو کہا جاتا ہے جو برِّصغیر پاک و ہند میں ایرانی پناہ گزینوں کی اولاد ہیں۔ یہ زرتشی مذہب کے لوگ چھٹی صدی عیسوی میں ایران پر ہونے والے حملے عربوں کے قبضے کے بعد وہاں سے ہجرت کر کے ہندوستان پہنچے اور وہیں آباد ہو گئے۔ پارسیوں نے تاریخی طور پر جنوبی ایشیا کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے خطے میں ان کی وراثت ان کی قومی تعمیر

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کے دماغ کی بجلی کو استعمال کیا جائے تو ملک بھر کی سب سے بڑی پریشانی لوڈ شیڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو کر رہ جائے، مگر پڑھنے والوں کی تعداد اتنی کم ہو کر رہ گئی ہے جیسے یہ کوئی معدوم ہوتی ہوئی نسل، جو بہت جلد نایاب پرندوں کی فہرست میں شامل ہونے والی ہے۔ یہاں لوگ کتابوں کو

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی وجد آفریں زندگی کے 29 خرد افروز واقعات

عالم اسلام کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ( 1926۔ 1996 ) نے ہر پہلو سے بڑی کامیاب و کامران زندگی گزاری۔ راقم ان خوش نصیب انسانوں میں سے ہے جس نے آپ جیسے قد آور طبیعات دان سے 1982 میں وسکانسن ریاست کے شہر میڈیسن میں لمبی پر مغز ملاقات کی تھی۔ وہاں آپ نوبل انعام ملنے کے بعد یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس ملاقات کا حال راقم کی کتاب ”ڈاکٹر عبدالسلام،

Read more

ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش

Read more

اک راستہ ہے زندگی

زندگی کے سفر میں منزل سے کہیں زیادہ اہم اس سفر کا خوشگوار ہونا اور بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہونا ہے۔ میرے ادبی اور تخلیقی سفر میں ”ہم سب“ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ اس نے نہ صرف میرے ابتدائی مضامین کی اشاعت کے ذریعے مجھے ادبی حوالوں میں معتبر پذیرائی دی اور سنجیدہ و ادبی ذوق رکھنے والے قارئین سے متعارف کروایا، بلکہ سب سے بڑھ کر ہم عصر اور نمایاں ادیبوں سے تعارف و ملاقات کا سبب

Read more