جون ایلیا کی شاعری کا منظر نامہ

اُردو زبان میں ہر دور میں مشہور شعرا کی شخصیت کا طلسم رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں قلی قطب شاہ کے کلام کا ڈنکا بجتا تھا۔ انیسویں صدی میں میرؔ، غالبؔ اور آتشؔ و ناسخؔ کا چرچا رہا۔ بیسویں صدی میں فیضؔ و اقباؔل اور ناصرؔ و فرازؔ وغیرہ کی شہرت رہی۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اور اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک نام تیزی سے اُبھر کر سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اُردو زبان بولنے، سمجھنے

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر میں ہم جنسیت، مساس اور نسائیت! پہلی قسط

”اس ناول کے پہلے پچاس صفحے ایسے ہیں کہ ہمارا ادب ان کا جواب پیش نہیں کر سکتا۔“ (محمد حسن عسکری) ”جب میں نے ٹیڑھی لکیر لکھی اور شاہد احمد دہلوی کو بھیجا تو انہوں نے اسے حسن عسکری کو پڑھنے کے لیے دیا۔ انہوں نے مجھے یہ رائے پہنچوائی کہ اپنے ناول کی ہیروئن شمن کو لحاف زدہ بنا دوں۔“ (عصمت چغتائی ؛ کاغذی ہے پیراہن) ”جسم کے احتساب کا عصمت کے پاس ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ

Read more

سال 2024 کا پوٹھوہاری ادبی و لسانی ارتقا

سال 2024 پوٹھوہاری زبان و ادب کی ترقی و بڑھوتری کے لئے کئی حوالوں سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے، اس سال پوٹھوہاری کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی پوٹھوہاری زبان کو تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری رہا، سال 2024 کے چوتھے روز ہی یعنی 04 جنوری کو پوٹھوہاری زبان و ادب کو اپنی درجن بھر تصانیف سے بہرہ مند کرنے والے افسانہ نگار، شاعر، ڈرامہ نگار، لغت نگار اور محقق شیراز طاہر اپنے ہزاروں

Read more

حادثہ تاریخ مرتب نہیں کرتا

قوموں کی تاریخ علم، معیشت اور تمدن کے ارتقا سے مرتب ہوتی ہے۔ اس سفر میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعے سے جڑا ہوا تقویمی عدد علامتی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پچھلی صدی میں 22 جون 1941ء کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو اس روز دوسری عالمی جنگ کا نقشہ ہی تبدیل نہیں ہوا، نتیجہ بھی طے پا گیا۔ قریب چھ ماہ بعد 7 دسمبر 1941ء کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کیا

Read more

طنز و مزاح: کیا یہ واقعی ادب کا حصہ ہے؟

تحریر: فینانہ فرنام کامران عباس ادب انسانی زندگی کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہے۔ یہ محبت، غم، خوشی، اور تنقید جیسے مختلف موضوعات کے ذریعے معاشرتی رویوں اور انسانی کرداروں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن ادب کی ایک صنف ایسی بھی ہے جو ہمیشہ سوالات کے گھیرے میں رہتی ہے : طنز۔ کیا طنز واقعی ادب کا ایک مثبت پہلو ہے؟ یا یہ درحقیقت دوسروں کو زچ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ مزاح اور

Read more

نازش پرتاب گڈھی ۔۔ ایک منفرد لہجے کا شاعر

مجھ کو نازش قتل کردے گا یہ کرب آگہی میری محفل میں مجھے پہچانتا کوئی نہیں۔ نامور شاعر جناب نازش پرتاب گڈھی میری والدہ کے چھوٹے بھائی اور میرے حقیقی ماموں تھے۔ ان کے والد اور نانا شیخ محمد اصغر مرحوم ایک متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ وہ تعلق دار تھے اور رئیس پرتاب گڑھ کہلاتے تھے لیکن ان میں سے رئیسوں والی خو بو بالکل نہیں تھی۔ نانا ایک متقی ور پرہیز گار بزرگ تھے جائیداد اور زمینوں کے

Read more

رودرہیم جنسی اسکینڈل۔ برطانوی پاکستانیوں کے لئے تمغۂ ندامت

تحریر: ڈاکٹر خرم نیازی بتاریخ 4 فروری 2017 ء مقدمہ کی سماعت ختم ہوئی، فاضل جج نے شواہد، گواہوں کے بیانات، وکلاء کے دلائل اور جیوری کی رائے کی روشنی میں 32 سالہ بشارت کو بیس سال، اس کے 36 سالہ بھائی ناصر کو ساڑھے چودہ سال اور ان کے تیسرے بھائی 34 سالہ طیب کو دس سال قید کی سزا سنائی۔ جبکہ بقیہ تین ملزمان کو گیارہ سے تیرہ سال قید کی سزا سنائی۔ کچھ ہی دیر میں کمرۂ

Read more

اظہارِ مافی الضمیر اور کالم نگاری

بابِ مدینۃ العلم سے منسوب قولِ مبارک ہے ”کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ“ ۔ یقیناً جوامعُ الکلم کا اعجاز لیے جنابِ امیر کا یہ فصیح و بلیغ جملہ ”کلام“ کی تمام تر شاخوں کو محیط ہے اور یہی کلام اگر صفحۂ قرطاس کی زینت بنے تو اسے تحریر کہا جاتا ہے۔ یوں تو لفظِ تحریر اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت سموئے ہوئے ہے تاہم ہر لکھی ہوئی بات آیا تحریر کی تعریف پر پورا اترتی ہے یا نہیں

Read more

ذہنی امراض یا آسیب، شیاطین اور جادو کے اثرات

جادو، آسیب اور نظر بد کا تصور بہت قدیم ہے۔ زمانہ قدیم سے بہت سے امراض خصوصاً ذہنی امراض کا علاج دم، جھاڑ پھونک سے ہوتا آ رہا ہے۔ سائنس کی بے تحاشا ترقی بھی اس توہم پرستی کو روک نہیں سکی۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر جہاں مصنوعی ذہانت کے کرشمے نظر آ رہے ہیں وہیں توہم پرستی کا پودا بھی خوب پنپ رہا ہے۔ تمام ذہنی امراض کو بادی النظر میں دیکھا جائے

Read more

جون ایلیا، نوجوانوں کا نیا کیوپڈ

انسان ساری زندگی محنت کر کے اپنا ایک بت تراشتا ہے، اس شکل کا جیسا وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے۔ واحسرتا کہ خود اپنی باقی زندگی وہ اسی بت کو ٹکڑوں کی صورت میں گرتا دیکھتا ہے۔ کچھ کے ٹکڑے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں، جون ایلیا ایک ایسے ہی بت تھے جنہیں پاش پاش ہوتا خود وہ تو دیکھتے ہی رہے، ان کے سب ہم عصروں نے بھی دل بھر کے دیکھا۔ وہ اوائل عمری ہی میں ’دی

Read more

خوشبو کی شاعرہ، پروین شاکر کی یادیں

تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین شاعرہ جسے خوشبو کی شاعرہ بھی کہا جاتا ہے، پروین شاکر کا فرزند سید مراد علی تھا۔ مُراد علی پچھلے بیس برس سے اہلیہ اور دو

Read more

ٹی ایس ایلیٹ

ٹی ایس ایلیٹ جن کا پورا نام تھامس سٹرنز ایلیٹ تھا بیسویں صدی کے ایک عظیم انگریزی شاعر، نقاد، ڈرامہ نگار اور ادبی دنیا میں ماڈرن ازم کے ایک بڑے علمبردار تھے۔ ایلیٹ کی ادبی اور ذاتی تاریخ میں متعدد دلچسپ پہلو شامل ہیں جنہوں نے انہیں ایک منفرد شاعر اور ادیب بنا دیا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ٹی ایس ایلیٹ 26 ستمبر 1888 کو سینٹ لوئس، میسوری، امریکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی خاندان سے

Read more

اقبال، شبلی اور عطیہ بیگم کی عشقیہ مکتوباتی تثلیث

امتداد زمانہ کے ساتھ سائنس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی روز افزوں ترقی کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں مکتوب نگاری کی وہ اہمیت نہ رہی جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ سرکاری سطح پر خطوط کے بین الاداراتی ارسال اور تبادلے کے سوا، نجی اور ادبی مکتوب نگاری کی روایت تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔ اگرچہ خط بالمشافہ ملاقات کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم خیالات اور محسوسات کی ترسیل کی بنا پر اسے آدھی ملاقات ضرور

Read more

انور پیر زادو۔ پل دو پل کا ساتھ۔ صدیوں پر بھاری

انور پیر زادو کو آپ سب صحافی، کالم نگار اور سندھ کی تاریخ، زبان اور شاہ لطیف کی شاعری پر عبور رکھنے والے عالم اور ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن میں انہیں ضیا الحق کی آمریت کے مشکل وقت کے دوست کی حیثیت سے جانتی ہوں۔ یہ 1979 کا ذکر ہے۔ صحافیوں کی تحریک ختم ہو چکی تھی۔ ترقی پسندوں، بائیں بازو کے صحافیوں کو بیروزگاری اور پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی کارکنوں کو سزاؤں اور قید و

Read more

کچھ والٹیئر، ژولا اور جوائس کے بارے میں

کافکا کے ناول The Trial کو استعارہ بناتے ہوئے برادر بزرگ نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ برادر بزرگ کہتے ہیں کہ کافکا عجیب رنگ کا لکھنے والا ہے۔ اس رائے سے اختلاف ممکن نہیں۔  پھر کافکا کے رنگ تحریر کا ایک شاندار محاکمہ کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائوں کے ضمن میں طبلے پر آخری چوٹ لگاتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ ابھی ہمارے درمیان ادب اور سیاست کے دھاروں سے دریا نکالنے والا قلم موجود ہے۔ اس زاویے سے

Read more

ملتے ہیں اگست میں: پوشیدہ جسمانی تعلقات اور جنسی خواہشات پر مبنی ایک دل چسپ ناول

اس ناول کے مصنف گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو

Read more

مظہریت اور وجودیت: باسط میر

ادب اور فنونِ لطیفہ کا طالبعلم ہونے کے ناتے، مجھے ہمیشہ فلسفہ اور نفسیات کے مطالعے کا شوق رہا ہے۔ فلسفہ نہ صرف سوچنے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ ہمارے فکری افق کو وسیع کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب ہم کسی مضمون کا مطالعہ کرتے ہیں، تو عمومی طور پر اس مضمون کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تاکہ اسے بہتر سمجھ سکیں۔ مثال کے طور پر، جغرافیہ پڑھنے سے ماحولیاتی نظام یا دریا کے منبع

Read more

میری پہلی کتاب: ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟

مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ میری کتاب ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کے آرڈر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی دے رکھے ہیں۔ کتاب، ریاستیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟ ارنسٹ فریڈرک رو کی کتاب ”How States are Governed“ کا اردو ترجمہ ہے جو کہ 1950 میں شائع ہوئی۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ آخر ہمیں اس کتاب کے ترجمے کی ضرورت کیوں پیش آئی جو

Read more

سندھ کی سہ رخی شخصیت ممتاز مرزا

سندھی ادب، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کا جب بھی ذکر آئے گا تب ممتاز مرزا کا نام لازمی لیا جائے گا۔ جن کی شخصیت سہ رخی بن کر ابھری اور ہر شعبے میں اپنا نام نمایاں کیا۔ ممتاز مرزا کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز مرزا کا تعلق حیدرآباد کے قدیم علاقے ٹنڈو آغا سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی

Read more

داستان مزدور  

میں ایک مزدور ہوں۔ شب و روز مصروف رہتا ہوں۔ صدیوں سے میری پہچان ہے۔ امید کا دامن تھام کر کہتا ہوں کہ رہتی دنیا تک میرا نام زبان زد رہے گا۔ کیونکہ میرے پاس جرات و توانائی کے ایسے ذخائر ہیں جو  اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود بھی کم نہیں ہوئے۔ دراصل میرے ہاتھ میں جو قوت ہے وہ لوہے کو بھی پگھلا دیتی ہے۔اس ضمن میں تاریخ نے مجھے زندہ رکھا ہے۔ میری گواہی دی ہے اور دلچسپ

Read more

بنکاک: فرشتوں کی بستی: (3)

آننتا شاہی ہال: اس عمارت سے نکلے، جوتے، جرابیں، موبائل اور کیمرے واپس لئے اور اپنے میزبان کے احکامات کے تحت شولا لانک کارن کا تعمیر کردہ اطالوی طرزِ تعمیر کا شاہکار ہال دیکھنے پیدل ہی چل پڑے۔ اس ہال کا نام آننتا شاہی ہال Ananta Throne Hall تھا۔ پیدل چل کر جانے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ راہ میں پڑنے والی دیگر عمارتوں کا تعارف بھی ہوا، ان میں مراکشی طرزِ تعمیر کی ایک عمارت دیکھی۔ دل

Read more

2024 کی میری پانچ پسندیدہ کتابیں

یہ سال پڑھنے کے حوالے سے اچھا رہا لیکن جو ہدف تھا وہ پورا نہ ہوسکا۔ اور اس سال عہد کیا تھا کہ مذہب، اقبال اور فلسفہ سے متعلق کتابیں پڑھنی ہیں جو پورا نہ ہوسکا۔ سال کے اختتام تک پھر سے ناولوں میں خود کو پایا۔ سال کے ابتدا میں ہی میں نے خود کو برادر کرامازوف جیسے شاہکار کے سحر میں ڈوبا ہوا پایا جو پچھلے سال سے جاری تھی، جس پر انشاء اللہ الگ بات ہو گی۔

Read more

 ”سرخ رنگ“ کا تجزیاتی مطالعہ

عَہد حاضر کے نوجوان لکھاریوں میں ایک اہم نام کرن احمد کا ہے جس سے میرا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا۔ آپ ایک عمدہ افسانہ نگار، کالم نویس، مبصر اور شاعرہ ہیں۔ آپ کی اُردو ادب سے الفت، محبت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ”سرخ رنگ“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اکیس افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر قدرتی رنگ اور معاشرتی حقیقتوں کو سمائے ہوئے ہے۔ کرن احمد نے اپنے افسانوں کے

Read more

فرحت عباس کو شاعروں سے کیا مسئلہ ہے؟

فرحت عباس شاہ اُردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بطور شاعر انھیں عرصے سے اپنی شاعر برادری سے کچھ تحفظات رہے ہیں، جن پر گاہے گاہے تحریر و تقریر میں ان کی رائے سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں رابطوں میں سہولت کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہاں ایک قباحت یہ در آئی ہے کہ جسے نہیں سننا چاہتے، اُسے زبردستی سنوایا جا رہا ہے، جسے نہیں پڑھنا چاہیے اُس کی تحاریر

Read more

صورتِ حال: امروز و فردا کا جمال

تین روز پہلے 2024 ء کا سال اختتام پذیر ہوا اَور اَب ہم 2025 ءکے حصار میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹی وی پر اہلِ خرد قومی رہنماؤں اور منصوبہ سازوں سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آپ کے خیال میں گزشتہ سال کیسا رہا اور آنے والے سال سے آپ کیسی توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ دراصل ماہ و سال کے حساب و کتاب کو باقاعدہ سائنس کا درجہ اہلِ مغرب نے دیا جبکہ اسلام ہر مسلمان کو تاکید

Read more

کیا آپ ذہنی تنہائی کا شکار ہیں؟

وہ میرے لیے اجنبی تھے لیکن میں ان کے لیے اجنبی نہ تھا۔ فون پر ان سے پہلی بار بات ہوئی تو کہنے لگے ’ میرا نام فرقان ہے۔ میری عمر پچاس برس ہے اور میں پاکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ میں کافی عرصے سے آپ کے کالم اور کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں کبھی آپ سے بات کروں۔ میری خوش بختی کہ مجھے آج اس کا موقع مل رہا ہے‘ ’یہ تو آپ کی

Read more

لوگ فحش لٹریچر پڑھنا اور فحش ویڈیوز دیکھنا کیوں پسند کرتے ہیں؟

فحش ادب ہمیشہ سے ایک پیچیدہ، حساس اور لوگوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ لوگ فحش ادب اور ویڈیوز پڑھنا یا دیکھنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ وہ اس شہوت انگیزی سے کیوں لطف اندوز ہوتے ہیں؟ اگرچہ قدیم زمانے میں یہ پرائیویٹ موضوع تھا لیکن دور جدید میں یہ نصاب کا حصہ کیوں بن گیا ہے؟ کیا یہ کوئی ذہنی بیماری ہے یا ذہنی تسکین یا ذہنی عیاشی کی ایک قسم ہے؟ کیا یہ ایک معاشی صنعت بن چکی ہے؟

Read more

اقبال: سبق ِ خاکبازی

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا حکیم الامت، مصلح ِقوم، علامہ اقبال اس شعر میں اساتذہ کو سرزنش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اساتذہ شہباز کو گدھ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ گدھا بنانے والے اساتذہ خود بھی گدھ ہیں اور وہ گدھ کیسے بنے؟ ہمارے استادوں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (30)

”میں نے اس شخص کی طرف مُڑ کر دیکھا جس نے میرے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے سات سونے کے چراغ دان دیکھے اور ان چراغ دانوں کے درمیان ایک شخص دیکھا جو ایک انسان کی طرح تھا۔ اس نے پاؤں تک کا ایک لمبا چوغہ پہن رکھا تھا اور اس کے سینے پر سونے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا سر اور بال اون کی مانند سفید تھے جیسے برف۔ اس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی

Read more

اسکول کے بچوں کے مسائل اور انتظامیہ کی لاپرواہی

ہمارے معاشرے کے کئی ایسے مسائل ہیں جو زیر بحث نہیں لائے جاتے، جن کے حوالے سے آگہی ضروری ہے۔ ان میں بیشتر مسائل کا تعلق بچوں سے ہے۔ بچوں کو زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے، بیشتر اوقات والدین کی موجودگی کی بدولت ان مشکلات کا سد باب ہو جاتا ہے لیکن کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں جب ان کی راہنمائی یا ان کے بچاؤ کے لئے کوئی بڑا موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اسکول

Read more

ازل سے : ایک مطالعہ

ڈاکٹر ضیاء الحسن کی کتاب ”ازل سے“ اردو ادب میں ایک اہم تصنیف ہے جو فکری گہرائیوں اور تخلیقی اظہار کا شاندار امتزاج ہے یہ کتاب فلسفہ، تصوف اور جدید فکریات کو ایک منفرد انداز میں بیان کرتی ہے جس نے اسے اردو ادبی حلقوں میں مقبولیت دی ہے کتاب کے نام سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ ضیاء صاحب نے وقت، وجود اور بقا کے موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ”ازل“ کو محض وقت کا آغاز

Read more

2024 ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کر گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہر سال کی طرح 2024 بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوب صورت بنایا اور کچھ ایسی ہیں جو قومی یا عالمی منظر نامے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ برس ہم نئے سال میں اپنے دوستوں امجد حیات سدوزئی، حسنین اصغر تبسم اور ارشاد امین کے بغیر داخل ہوئے تھے اور 2024 میں ہمیں

Read more

خیر الدین کشتی سے ملاقات ( ایک فرضی قصہ )

کشتی صاحب نے مہربانی کی۔ علیل و زرد کو ہسپتال لے گئے۔ جب بھی ملتے ہیں دقائق معارف پر گفتگو ہوتی ہے۔ بس کوئی سوال پوچھتے ہیں تو ہم رواں ہو جاتے ہیں۔ دقائق معارف کا ہم تو ذکر نہیں کرتے۔ وہ پسندیدہ کتاب کا پوچھنے لگے۔ ہم نے کلام مجید کا بتایا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ دقائق معارف کے زمرے میں آتی ہے، اس سے گریز کرتے ہیں۔ اور کتابوں کا پوچھنے لگے تو ہم نے

Read more

گدھے اور شاعر کی کہانی

ایک گدھے اور ایک شاعر کی دوستی ہو گئی۔ شاعر کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی، اور گدھے کو جھوٹ ڈھونے کی۔ ایک دن شاعر نے کہا: ”خبیث سفلہ کی قسم، میں منافق ہوں! میں نے ہمیشہ جھوٹ بولا، صرف اپنا مفاد سوچا، اور تعلق داری کو اپنی غرض کے تابع رکھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میرے پھیپھڑے سگریٹ کے دھویں سے سیاہ ہو گئے ہیں، میں پہلا سچ بولنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے اندر

Read more

دینی مدارس بل منظور، فارغ طلبہ کے لئے حکومت آسانیاں پیدا کرے

سوسائٹی ایکٹ رجسٹریشن بل منظور ہو گیا ہے دینی مدارس تنظیمات، وفاق المدارس اور جے یو آئی کی جانب سے یوم تشکر منایا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کی جانب سے دینی مدارس سوسائٹی ایکٹ رجسٹریشن بل منظور ہونے کے بعد حکومت کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ جبکہ اس بل منظور کرانے کا سہرا مولانا فضل الرحمٰن کو جاتا ہے۔ برصغیر میں جنگ آزادی سے پہلے بھی سندھ میں دینی مدارس قائم تھے۔ جس میں سرفہرست امروٹ شریف،

Read more

مصنوعی اخلاقیات سے ڈیجیٹل اخلاقیات تک

احمد جاوید فرماتے ہیں کہ ”اخلاق“ بھی اکثر المناک بن جاتے ہیں۔ خوش اخلاقی بھی آپ کے لیے بوجھ بن جاتی ہے اگر اس کا مقصد، نظریہ اور محور درست نہ ہو۔ ” مصنوعی اخلاقیات کی بات کی جائے تو ہمیشہ سے یہ ٹول اپنے کام نکلوانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس دور میں جہاں ہر چیز اپنے آپ کو ”اپگریڈ“ کرنے میں جتی ہوئی ہے وہیں ادب، سلیقہ، اخلاق، شائستگی، تہذیب، تمیز، مذاق، حفظ مراتب،

Read more

پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری۔ عہد بہ عہد جائزہ

پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلموں کے ارتقاء اور مقبولیت میں پہلے پہل ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن، پھر پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر اور بعد ازاں نجی ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز نے اہم کردار ادا کیا ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب کے ارتقاء اور فروغ کی اگر بات کی جائے تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن یکم ستمبر 1950 میں قائم ہوا، اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود

Read more

بنام مرزا غالب

لاہور 27 دسمبر 2024 مرزا صاحب، آداب سالگرہ کی مبارک باد، کچھ دن پہلے سموگ اور اب ملک خدا داد شدید دھند کی لپیٹ میں ہے۔ آپ سموگ سے واقف نہیں ہوں گے۔ آپ نے دلی میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھتی دھول اور جلتے ہوئے مکانات دیکھے ہیں۔ سمجھیے ملک خدا داد جل رہا ہے، نفرت کی گرد اڑ رہی ہے دھویں اور گرد نے مل کر فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔ آپ کو کتب خانے لٹ جانے

Read more

گلشن میں ویرانی!

دنیا عجائب گھر ہے۔ اس میں رنگ برنگی حقیقتیں قدرت کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں۔ ہر جگہ اپنے اندر مختلف رنگ، روپ، تجربات، مشاہدات، تصورات، نظریات اور خوبیوں کا جم غفیر رکھتی ہے۔ یوں کہہ لیجیے ہر جگہ کے اپنے آثار و کیفیات ہیں۔ لہذا اس کے درجات، پیمانے، موجودات، حاصلات اور ثمرات فرق فرق نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر دنیا میں کہیں صحرا ہے تو کہیں سرسبز و کھلیان۔ کہیں میدان ہیں تو کہیں پہاڑوں

Read more

لو ہم نے دامن جھاڑ دیا

احفاظ کا حلقۂ احباب بے حد وسیع تھا، اس میں صحافی، شاعر، ادیب، کرکٹر، ٹریڈ یونینسٹ اور سیاست دان سبھی شامل تھے۔ احفاظ سے شادی کے بعد میں ان سب کی بھابھی بن گئی تھی۔ پاکستان کے علاوہ بیرون ملک مقیم ان دوستوں میں سے ایک اشفاق حسین بھی تھے۔ جن کی فیض صاحب سے محبت کا ثبوت کئی کتابوں کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔ یعنی اشفاق سخن ور ہی نہیں، فیض اور فراز جیسے سینئر شعرا کا

Read more

گاہ کا موہنا

بظاہر جمعہ کے دن گاہ گاؤں میں کسی شخص کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن گاؤں کے لوگ صبح سے ہی راجہ محمد علی مرحوم کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد تو پورا گاؤں ہی راجہ محمد علی کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ ”ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے“ ، گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر الطاف حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ 26 دسمبر کو ہندوستان

Read more

پچاس سال بعد صندوق سے خوشبو پھیل گئی

فرناندو پسوا پرتگال کے عظیم فلسفی، شاعر اور ادیب تھے، جو زندگی بھر تنہائی کا شکار رہے۔ انہوں نے عمر بھر لکھا اور لکڑی کے صندوق میں اپنے تحریری مواد کو ڈالتے رہے۔ یہ صندوق ان کا کل اثاثہ تھا۔ مرنے سے ایک سال قبل ”پیغام“ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی، جسے کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔ آپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے کئی کتابیں شائع ہوئیں، مگر ان کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

Read more

باچا خان: سیکولرازم کا داعی

ایک ہندوستانی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے باچا خان کہتے ہیں ” جواہر لال جی فرنٹیئر آئے تھے۔ ہمارے رضاکار اسلام زندہ باد اور نعرہ تکبیر کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ہندوستان میں تو اس پر بہت جھگڑے ہوتے تھے۔ کہ یہ مسلمان کا نعرہ ہے۔ یہ سکھ نعرہ ہے۔ میں نے جواہر لال سے پوچھا۔ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا میں کیا جانوں؟ میں نے کہا یہ سکھ ہے ” یہ تربیت خدائی خدمت گاروں کی تھی۔ باچا

Read more

گریٹر اسرائیل اور مسلمانوں کا تصور خلافت ( 2 )

گریٹر اسرائیل کے برعکس آج بھی دنیا میں عباسی ماڈل پہ جدید مسلم خلافت کی بحالی کا تصور قابل عمل منصوبہ بن سکتا ہے، خلافت عثمانیہ جو بلاشبہ ماضی کی اہم طاقت تھی جس نے اپنے عروج پر بلقان سے آسٹریا تک، بحیرہ اسود کے پورے ساحل، مشرق وسطیٰ کا بیشتر حصہ (بشمول دجلہ اور فرات اور بحیرہ احمر کا بیشتر ساحل) ، مصر اور جنوبی بحیرہ روم کے ساحل کے بڑے حصوں پر حکمرانی کی تھی، وہ آج بھی

Read more

اُردو میں نسائی ادب کی اہمیت و افادیت

برصغیر کا روایتی معاشرہ ہو یا یورپ کا آزادانہ لبرل ماحول، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ازل سے ہی وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگا رنگی نظر آتی ہے۔ مرد و زن دونوں کا وجود لازم و ملزوم ہے۔ ایک سکے کے دو رخ اور ایک گاڑی کے دو پہیے، جیسے پھول میں خوشبو کا ہونا اور جسم کے لیے روح کا ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح مرد کے لیے عورت کا وجود بھی ضروری

Read more

پشتو ادب میں چاربیتہ نویسی : مختصر مطالعہ

پاکستانی زبانوں کے روایتی ادب میں رو بہ زوال شعری صنف چاربیتہ پشتو روایتی ادب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ صنف محض ایک تخلیقی عمل اور شعر گوئی نہیں بلکہ پشتو ٹپہ کی طرح متعلقہ ادوار کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی، ادبی، اور سماجی تاریخ کو بھی اپنے دامن میں سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں جہاں ایک شاعر کے شعری قد و قامت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس کی چاربیتہ گوئی سے لگایا جاتا تھا،

Read more

مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری سید فضل الرحمن تنہا غرشین کی نظر میں

  یہاں پیش کردہ خیالات میرے اپنے نہیں ہے بلکہ میرے استادِ محترم و مکرم سید فضل الرحمن تنہا غرشین کے ہیں، جو ان کی ماسٹرز کے تحقیقی مقالے ”مولوی عبدالخالق ابابکی کا تعارف اور ان کی فکری و فنی جہتیں“ پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ 2016 میں برا ہوئی اکیڈمی کوئٹہ، پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ چار مختلف ابواب میں تقسیم ہے۔ پہلے باب میں مولوی ابابکی صاحب کا ذاتی اور ادبی تعارف بیان کیا

Read more

بنکاک: فرشتوں کی بستی (1)

4 1 اکتوبر 2013 کو جب فلائٹ نمبر 350 ٹی۔ جے تھائی ائر ویز سے ہمارا سفر شروع ہوا تو میں تھائی لینڈ کے متعلق چند ایک سنی سنائی باتوں کے علاوہ کچھ نہ جانتا تھا جبکہ بنکاک کے بارے میں وہی کچھ ذہن نشین بلکہ ”دل نشین“ تھا جو شاید آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ تاہم جب 19 اکتوبر 2013 یعنی صرف پانچ دن کے بعد ہماری واپسی ہوئی تو میں سرزمینِ سیام ( تھائی لینڈ کا پرانا

Read more

بپسی سدھوا ( 1938۔ 2024 ) ۔ عالمی ادب کی ایک انمول شخصیت

بین الاقوامی انگریزی زبان کی شہرت یافتہ مصنفہ اور ادبی شخصیت بپسی سدھوا 25 دسمبر بروز بدھ کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں وفات پا گئیں۔ وہ 86 برس کی تھیں۔ بپسی سدھوا ایک پاکستانی ناول نگار تھیں جنہوں نے انگریزی زبان میں لکھا اور وہ امریکہ میں مقیم تھیں۔ سدھوا انڈو۔ کینیڈین فلمساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے مشترکہ کام کے لیے مشہور تھیں۔ وہ اپنے پُرجوش ناولوں کے لیے مشہور تھیں، بپسی نے عالمی ادب میں انمول حصہ ڈالا۔ ان

Read more

ناول ”کائٹ رنر“ میں علامت نگاری

خالد حسینی، افغان نژاد امریکی ناول نگار اور معالج ہیں جنھوں نے اپنے پہلے ہی ناول ”کائٹ رنر“ سے شہرت کے قراقرم کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے اور ادبی ناقدین سے سندِ قبولیت حاصل کی۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ”اے تھاؤزنڈ سپلنڈڈ سنز“ اور ”اینڈ دی ماؤنٹینز ایکوڈ“ شامل ہیں۔ ان کے والد، ناصر حسینی، افغان وزارت خارجہ میں، اور ان کی والدہ ہائی سکول میں فارسی ادب کی معلمہ تھیں۔ 1976 میں، جب خالد کی عمر

Read more

اگر اداکارہ تبّو بطور بھارتی وزیرِ اعظم پاکستان آتیں

جِنّات کا بادشاہ حاضر ہو۔ دو منٹ کا وقفہ۔ جنّات کا بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ حاضر ہو۔ پھر دو منٹ کا وقفہ۔ جنّات کا بادشاہ اپنی ساری فوج جرنیلوں کرنیلوں کے ساتھ حاضر ہو۔ اچھا تو تم آ گئے جنّات کے بادشاہ! دیکھو، یہ چوہدری وسیم اور ملک ارشد آئے بیٹھے ہیں۔ ان دونوں کے کام کرنا ہیں۔ اچھا اچھا، ٹھیک ہے یہ لوگ تمہارے قبیلے کی دعوت کے لیے بکرا لا کر دیں گے۔ اصلی عود، زعفران

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

ناولٹ ”لندن کی ایک رات“ بطور ترقی پسند ادب و سماج کی صورت حال کا منعکس

سجاد ظہیر 1905 کو ریاست اودھ میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب کی تعلیم حاصل کی۔ بیرسٹر بن کر واپس آئے تو اس سے ساتھ ساتھ انھوں نے ادب کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔ اگر ہم اس حوالے سے بات کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سجاد ظہیر کی کتاب روشنائی دراصل ترقی پسند تحریک و ادب کا تاثراتی جائزہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجاد ظہیر نے جیل میں رہتے ہوئے یہ کتاب لکھی۔ 1931

Read more

پر یوں نہ مریں گے ہم

ٹڑی پوندا ٹاریئین جڈھن گاڑھا گل الومیان تڈھن ملنداسین۔ فضا میں شیخ ایاز کی شاعری الّن فقیر کی سریلی آواز میں دلوں کو چھو رہی تھی۔ دسمبر کی سردی میں کوئٹہ سے آنے والی ہواؤں نے حیدرآباد کی راتوں کو خنک کر دیا ہے لیکن ایاز میلو کے چاروں پنڈال رات ایک بجے تک ہزاروں لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں واقع سندھ میوزیم کے اطراف رات میں بھی دن کا سماں ہے۔ شام گہری اور سرد

Read more

حمیرا رحمن کی غزل پر ایک نوٹ

حمیرا رحمٰن کا پہلا شعری مجموعہ ”اندمال“ ٹھیک چالیس برس پہلے آیا تھا۔ اس مجموعے کی ایک غزل کا شعر ہے : سوچ کا کیسا کھیل تھا وہ بھی جو میں اپنے آپ سے کھیلی ”اندمال“ کے تیرہ برس بعد اُن کا مجموعہ ”انتساب“ آیا جبکہ زیر نظر تیسرے مجموعے ”بہت سے کام کرنے ہیں“ اور دوسرے مجموعے کے درمیان ستائیس برس پڑتے ہیں۔ میرا دھیان ان کے پہلے مجموعے کے مذکورہ شعر کی جانب یوں گیا ہے کہ شعر

Read more

” التباس“ سے التذاذ

التباس عربی لفظ ہے جس سے مراد ایک جیسی کیفیت کے سبب شبہے میں پڑ جانے کے ہیں۔ ”التباس“ معروف شاعر شناور اسحاق کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جن سے گجراں والا فخر نسبت رکھتا ہے۔ رنگین سرورق پر ”التباس“ نظام شمسی کے پس منظر میں نمایاں اور پس منظر میں کئی مرتبہ مدہم لکھا آتا ہے۔ فلیپ پر ”یہ 1982 ء کی بات ہے“ کے عنوان سے شاعر نے اپنے دور طالب علمی کی مختصر جھلک دکھائی ہے۔ انھوں

Read more

غزل گوئی میں منفرد لب و لہجہ کا شاعر شکیب جلالی

اردو ادب میں جس شاعر کی خودکشی کے واقعہ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ شکیب جلالی تھے۔ ان کا اصل نام سید حسن رضوی تھا لیکن شکیب جلالی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ 1934 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک شاعر اور مترجم بھی تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز محض 15 یا 16 برس کی عمر میں کیا۔ ان کا ایک شعری مجموعہ ”روشنی اے روشنی“ ان کی وفات کے چھ برس

Read more

یونس ایمرے۔ عشق و محبت کا تُرک شاعر

2019 میں کورونا وائرس کے پھیلتے کچھ اچھا خاصا وقت میسر آیا۔ اگر چہ ہم سے سرکاری نوکری کی وجہ سے ذمہ داری نہیں چھوٹی لیکن پھر بھی قدرے کچھ وقت ناسازگار حالات اور کو وِڈ کے پھیلنے سے بہرحال ملا۔ اس دوران پڑھنے کو کچھ خاص نہیں ملا، البتہ ترکی کے کچھ سیریل دیکھنے کا وقت ملا۔ ان میں ترکی کے عظیم قومی صوفی شاعر اور فلسفی یونس ایمرے کی زندگی، ان کے روحانی سفر اور تصوف کی تعلیمات

Read more

دسمبر کا مہینہ!

عمومی طور پر دسمبر کا مہینہ شاعروں کو بے حد پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعر و شاعری میں دسمبر کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔ اس مہینے میں کسی شاعر کو اپنے محبوب کی یاد ستاتی ہے اور کسی کو محبوب کے ساتھ گزرے وقت کی۔ سال کا یہ آخری مہینہ یقیناً خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ہم میں سے بیشتر، سال کے اس آخری مہینے میں کچھ نہ کچھ حساب کتاب ضرور کرتے ہیں۔ گزرے برس پر نگاہ

Read more

محمدرفیع کا 100 واں یوم پیدائش

  عظیم گلوکار محمد رفیع کا 100 واں یوم پیدائش 24 دسمبر 2024 کو ہے۔ محمد رفیع آج ہی کے دن سو سال قبل 1924 کو امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد رفیع کا لاہور سے بھی تعلق رہا ہے جہاں انہوں نے بھاٹی دروازہ کے محلہ چومالہ میں لڑکپن کے دن گزارے تھے۔ محمد رفیع گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے جن کی مدھ بھری آواز اپنے

Read more

چھبیس دسمبر۔ مشہور پاکستانی شعراء پروین شاکر اور منیر نیازی کا یوم وفات

  پروین شاکر کی آج 30 ویں برسی ہے۔ 26 دسمبر 1994 کی صبح کو اسلام آباد میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ پروین گاڑی پر دفتر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔ دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پھسلن کے باعث گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی اور پروین شاکر موقعہ پر ہی زیست کی بازی ہار گئیں۔ پروین شاکر 24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ پروین کا

Read more

اقبال کا فلسفۂ خودی و بے خودی

  علامہ اقبال ایک ایسے لالہ کے پھول کی مانند ہیں جو تپتے صحراؤں میں حیاتِ نو کا پیامبر بن کر ابھرتا ہے۔ اقبال ایک ایسے گلِ نو بہار کی مانند ہیں جو خزاں کے وجود سے بوسیدہ فضاؤں کو اپنی مہک سے تازگی بخشتا ہے۔ اقبال ایک ایسے مرغ ِ خوش نوا کی مانند ہیں جس کی نوا سوز و ساز سے معمور ہوتی ہے اور ظلمت کی خاموشیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ اقبال روشنی کا ایک ایسا مینار

Read more

سعیدہ گزدر۔ ترقی پسند ادب کا ستارہ

پاکستان میں ترقی پسند خیالات کے داعی ایک ایک کر کے ہم سے بچھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ راحت سعید جو ”ارتقا“ ادبی و سماجی مجلے کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ترقی پسند تحریک کو جاری رکھنے میں مصروف عمل تھے 23 اکتوبر کو کوچ کر گئے۔ اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسند ادب کی مایہ ناز شخصیت سعیدہ گزدر بھی روانہ ہو گئیں۔ اُن کا انتقال 7 نومبر 2024

Read more

پاکستان میں بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین

ہر گزرے ہوئے سال کو ہم کسی اہم ذاتی یا بیرونی واقعے کے حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ 2024 مجھے بریسٹ کینسر کے حوالے سے یاد رہے گا۔ ویسے بھی ہر سال اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اینکر حضرات پنک ربن لگا کر بیٹھتے ہیں اور مفید معلوماتی پروگرامز پیش کرتے ہیں۔ خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں

Read more

ہیرا منڈی سے کیفے خانوں تک کا سفر

لاہور میں ایک بازار ہے جس کو بازار حسن کہا جاتا ہے، اس بازار کو ایک اور نام سے بھی پکارا جاتا ہے وہ نام ہے، ہیرا منڈی، ہیرا منڈی کی 17 ویں صدی میں قائم ہوئی، اس کو شاہی محلہ بھی کہا جاتا ہے، اس کی تاریخ کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا، بس اتنا ذکر کردوں کے قیام پاکستان سے قبل نواب اپنے بچوں کو تہذیب اور ادب و آداب سکھانے کے لئے اس بازار کی طائفوں کے

Read more

التوا میں پڑے خواب

جب سفاک نوآبادکار یورپی سوداگروں نے افریقیوں کو غلام بنانے کا پہلا پراگا تیار کیا تھا اور اُنہیں زنجیروں سے باندھ جکڑ کر 1619 ء میں حیوانوں کی طرح امریکہ لایا گیا تھا تو یہیں سے وہ زمانہ بھی آغاز پاتا ہے جب امریکہ کے اصل باسیوں / ریڈ انڈینز کو ٹھکانے لگایا جا رہا تھا۔ تب ڈھٹائی سے ایسے قوانین بنوا لیے گئے تھے کہ غلاموں کی خرید و فروخت جائز ہو گئی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ

Read more

باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ

اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔ اتنے بڑے بڑے احسان! اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ” دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔ مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔ میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور

Read more

ہندوستان اور فارس پر قبضے کے لیے افغانوں کی جدوجہد

محمد حسن کاکڑ مشہور افغان مورخ اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں جو افغان امور پر ایک اتھارٹی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ "افغان، افغانستان، اور ہندوستان اور فارس پر قبضے کے لیے افغانوں کی جدوجہد۔” نامی کتاب انہوں نے دری زبان میں لکھی ہے جس کا پشتو میں ترجمہ سمیع اللہ زیار نے کیا ہے اور اسے تکتو کتاب کور کوئٹہ نے 2012 میں شائع کیا۔ یہ کتاب 110 صفحات پر مشتمل ہے جس میں سیر حاصل کتابیات اور

Read more

آئینوں کے بازار تک

پاکستان کے تعلیمی نظام میں تین طرح کے سلیبس، مدرسہ میں پڑھایا جانے والا، آکسفورڈ اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا سلیبس رائج پذیر ہیں۔ ان اداروں میں دو اداروں کے نظام تعلیم سے مستفید ہونا اور پھر اعتدال پسندی کی زندگی گزارنا بظاہر ناممکنات میں سے ہے اور بہت کم لوگ متوازن رائے قائم کرنے اور بنیاد پرستی میں مبتلا ہونے سے بچ پاتے ہیں۔ انہوں نے 1976 میں ژوب میں ایک انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ

Read more

انیسویں صدی کے یورپ کے اردو سفرناموں پر سرسری نظر

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ سفر کی کئی اقسام ہیں جیسے تعلیمی سفر تعلیم کے لئے، تبلیغی سفر، تجارتی سفر، سیاسی سفر (یورپ میں ریفیوجی بننا) ، شاہی سفر بادشاہ یا حکمراں کا، جنگی سفر، مہماتی سفر ایڈونچرز کرہ شمالی جانا ماؤنٹ ایورسٹ، تصوراتی سفر چاند یا مریخ پر جانا، ہجرت کا سفر کسی دوسرے ملک چلے جانا، مذہبی سفر حج بیت اللہ یا در گاہ، سفیروں کے سفارتی سفر، ادبی سفر مشاعرے یا لیکچرز، تفریحی سفر۔ سر سید نے

Read more

فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا ناول پھانسی

وکٹر ہیوگو ( 1802۔ 1885 ) فرانس کے نامور ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس اور سیاست دان تھے۔ وہ اپنے رومانوی اندازِ تحریر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ انہیں ان کے عہد کا عظیم ترین فرانسیسی ادیب گردانا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے وکالت کی تربیت حاصل کی مگر پھر ادبی دنیا کی طرف راغب ہو گئے۔ ان کے تخلیق کردہ ادب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور

Read more

دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال

عالیہ مرزا کی کتاب کا عنوان ہی اتنا انوکھا اور دلکش ہے کہ آپ پہلے سے ہی سوچ لیتے ہیں کہ آپ اس کتاب کو پڑھیں گے ضرور اور ممکن ہوا تو اس کے بارے میں کچھ لکھیں گے بھی۔ ”دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال“ کے عنوان سے شائع ہونے والی عالیہ کی نثری نظموں کی پہلی کتاب گلزار جیسے معتبر اور بے مثال نثری نظمیں لکھنے والے کے تبصرے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس پر ہم ان کی

Read more

” کاغذ“ فیصل خیام کے پہلے شعری مجموعہ ایک ”طبیعاتی“ مطالعہ

کاغذ، بمطابق لغات، قرطاس، پتر، رقعہ، تحریر، دستاویز، مچلکہ، اخبار، اعمال نامہ، خط وغیرہ کے معانی میں مستعمل ہے۔ مقامی طور پر یہ لفظ فیصلے اور ثبوت، حتی کے طلاق نامے کے مترادف بھی سمجھا جاتا ہے ۔ شمس الرحمن فاروقی نے عربی یا فارسی لفظ نہ ہونے پر اس کی جمع کاغذات کی بجائے کواغذ قرار دی ہے۔ کاغذ ابتدائی شکل میں مصریوں نے تین ہزار سال قبل مسیح میں ”پیپرس“ نامی درخت کی چھال اور گودے سے تیار

Read more

زرد گلاب

اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے

Read more

محبت اور دوسرے کباڑ

یہی کوئی پانچ برس ہو چلے ہوں گے کہ مجھے ایک عجیب سا ناول ملا تھا ؛ جی، ایسا کہ میں اسے کھولے بغیر کچھ وقت کے لیے دیکھتا رہ گیا تھا۔ جہاں میں اٹکا ہوا تھا وہ ایک نہیں دو مقامات تھے اور دونوں سرورق پر تھے۔ کتاب پر مصنف کا نام رشاد بخاری تھا۔ یہ نام ہمارے ہاں معروف نہیں ؛ خدشہ ہوا، ہو نہ ہو ’ارشاد‘ نام ہو گا ’الف‘ چھپائی میں اُڑ گیا ہو گا۔ اس

Read more

افسانہ جوتے: انتون چیخوف

مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت کا پلستر گرا ہے یا اس نے ابھی اپنے کمرے میں کوئی بھوت دیکھا ہے۔ ”سیمیون خدا کو مانو!“ خادم کو اپنی طرف سرعت سے آتا

Read more

جانی، آؤ سول نافرمانی کریں

ایک ٹی وی پروڈیوسر صاحب کو ماہِ رمضان کی خصوصی نشریات کا انچارج بنایا گیا، وہ اپنی تجاویز مرتب کر کے میرے پاس لائے تو نشریات کی میزبانی کے لئے مجوزہ نام ایک معروف رقاصہ کا تھا۔ پروڈیوسر صاحب نے فخریہ طور پر بتایا کہ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ والے بھی اس نام پر متفق ہیں، رقاصہ بھی مان گئی ہے، رقم بھی طے ہو گئی ہے۔ یہ بیس بائیس برس پرانا قصہ ہے، پرائیویٹ میڈیا کا آغاز ہو رہا تھا، اور

Read more

ٹانگ تو ٹوٹ گئی نا

کہانی پینتالیس سال قبل کی ہے۔ پیپلز کالونی فیصل آباد میں گھر فروخت کیا تو اس میں لگے فون کو اپنی دکان پہ منتقل کرنے کی درخواست کے ساتھ محکمہ کی اجازت کے مطابق یہ بھی درخواست ڈال دی کہ منتقلی تک کی درمیانی مدت کے لئے فون عارضی طور بند رکھا جائے۔ تین چار ماہ انتظار اور دفتری چکروں کے بعد ایک دن لائن مین آئے اور اور فون کی کیبل فٹ کر فون لگاتے یہ خوش خبری بھی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 29 : بازگشت

” خوشبو اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، اور دل سے دی گئی نصیحت دوست کی خوشی ہوتی ہے۔ “ امثال 27 : 9 1947 میں پاکستان بننے کے بعد کراچی میں سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی، مگر چوں کہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اور سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ یونیورسٹی بھی حیدرآباد آ گئی۔ ٹھنڈی سڑک پر جس عالی شان عمارت میں یونیورسٹی کو منتقل کیا گیا اس میں پاکستان بننے سے پہلے

Read more

نظم مرشد کے خالق افکار علوی کا بیان حلفی یا معافی نامہ؟

جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔ جمہوریت کی یہ تعریف امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863 ء کو اپنی تاریخی گیٹس برگ تقریر میں دی تھی۔ یورپ اور امریکہ میں اسی معنی و مفہوم کے ساتھ آج جمہوریت وہاں کا کامیاب ترین سیاسی نظام ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان ایسے ممالک جہاں صدیوں سے بادشاہت اور جاگیرداری کا نظام رائج رہا ہے۔ یہاں پر کبھی جہموریت پنپ نہیں سکی۔ مملکت خداداد میں آمروں

Read more

فورٹی رولز آف لو (چالیس چراغ عشق کے ) ایک موضوعاتی مطالعہ

فورٹی رولز آف لو اگر ایک عام قاری پڑھتا ہے تو اسے یہ وہم لازمی ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کلاسیک ادبی شاہکار پڑھ لیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ فورٹی رولز آف لو نے ایلف شفق کو عالم گیر شہرت دی ہے۔ لیکن کوئی کتاب مشہور ہو جائے تو یہ اس کے شاہکار ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔ ناول فلسفہ، تصوف، عشق، روحانیت، شاعری اور اس کی اثر پذیری، قدیم

Read more

سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی

Read more

ابو العلاء المعری: بصارت سے محروم اور بصیرت کا امام

ابو العلائ المعری عربی شاعری میں بقائے دوام کے دربار کی صف اول کا بے بدل چہرہ ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور گیارہویں صدی میں وفات پائی۔ کہاں کا باشندہ تھا؟ بھائی، یہی ملک شام جہاں کے حالیہ سیاسی مدوجزر پر ان دنوں انقلاب اور ارتقا کی حرکیات سے ناآشنا طفلان گلی کوچہ نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اور ملک شام میں بھی شہر حلب کا باسی جہاں زہد و پارسائی کی توبہ شکن حسینہ کے چند

Read more

محبت! انسانی وجود کی تکمیل کا احساس ہے

محبت انسان کا صحت مند اور خوشگوار احساس ہے۔ اگر محبت کا درست تصور اور اس سے وابستہ کیفیات کی بنیادی معلومات حاصل نہ ہوں تو یہی خوبصورت احساس تکلیف، درد، کرب، اذیت اور نفسیاتی بیماری ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ویسے ہی ہمارے معاشرے میں محبت کی محدود آنکھ سے تشریح کی گئی ہے۔ جس میں ڈرامائی اور تصوراتی عناصر نمایاں ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں محبت ناکامی، ڈپریشن اور ماتم کی علامت بن گئی۔ پاکستان کے ادب میں

Read more

اداس دسمبر اور راشد سیال

12 دسمبر 2024 کو رضی بھائی کے توسط سے یہ اندوہناک خبر ملی کہ ممتاز مصور، خطاط اور کمپیوٹر گرافکس کے ماہر جناب راشد حسین سیال داغ مفارقت دے گئے۔ میں اس وقت برطانیہ میں موجود ہوں۔ کرسمس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ انگریز یہ مہینہ جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ بازار میں نکلیں تو دسمبر کا ہر دن عید کا دن معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے لیے یہ مہینہ اداسی کا مہینہ ہے۔ ملتان کے معروف شاعر جناب

Read more

بلوچ دانش سے ایک بھید بھرا مکالمہ

  زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سادگی و منکسرالمزاجی پہلی ملاقات میں ہی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ جن کے ساتھ گزرا وقت آپ کی زندگی کا اثاثہ اور جن کی شخصیت، ذہانت خوش طبعی اور خوش مزاجی آپ کو زندگی کو دیکھنے، برتنے اور جینے کا ایک نیا سلیقہ و زاویہ دے جاتی ہے۔ جو مشکل حالات کی سختیوں کو بھی مسکرا کر جھیلتے ہیں اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں اپنی

Read more

راشد سیال: ایک تعزیت نامہ

تعزیت نامہ تو مر جانے والوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ سب سوگوار ہیں۔ اہل خانہ بھی، دوست احباب بھی۔ سوگ، رنج، غم، الم، دکھ، افسوس اور ایسے سارے مترادفات ان کے نقصان سے کم ہیں جو تمہارے اچانک جانے کے بعد لاحق ہیں مگر وہ فنکار جو اپنے انمٹ قلمی نقوش چھوڑے، اس کے قلم کے نقش پل پل ہمارے ساتھ ہوں اور اپنے فن کے ذریعے مسلسل ہم کلام ہو، اسے آخر جدا کیوں کر

Read more

پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ

کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر

Read more

فریحہ نقوی کی غزل کا مختصر جائزہ

برس ہا برس سے اُردو غزل کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اُردو غزل کی صنف اپنے اندر ایسے لطیف پیرائے رکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی اِس صنف سے خود کو بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کسی نہ کسی موڑ، گام، لمحے اور کیفیت میں انسان کا من چاہتا ہے کہ اُس کے لب خود بہ خود پھڑک اُٹھیں اور کوئی مصرع موزوں ہو جائے یا کسی کا موزوں کیا ہوا مصرع زبان تلک آ جائے تاکہ دل کی

Read more

ذکر فلسفے سے بیوفائی کا

فلاسفی کو تمام علوم کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔ مذہب، سائنس، ریاضیات، فلکیات، تاریخ نویسی چاہے ادب و فن ہو، ان تمام علوم نے فلسفے کے شکم سے ہی جنم لیا ہے فلسفہ کا علم ایک ایسی کشادہ شاہراہ ہے جس کہ ذریعے انسان ذہانت، دانشمندی اور آگاہی کہ دیس میں داخل ہوتا ہے۔ دراصل سچ اور حقیقت کی جستجو اور تلاش ہی انسان کو فلسفے کی جانب راغب کرتی ہے۔ انسان نے جب کبھی بھی فلسفے کی عینک

Read more

وادی سندھ کا تہذیبی سفر

جب کوئی قوم کسی دوسری قوم پہ غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو اکثر وہ اپنی ثقافت، زبان اور رسم و رواج کو مفتوحہ قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس سے ایک نئی مگر زرخیز تہذیب وجود میں آتی ہے۔ یہی کچھ نارمن نے اینگلو سیکسون کی شکست کے بعد برطانیہ میں کیا تھا۔ اور یہی معاملہ وادی سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کی قدیم تہذیب کے ساتھ پیش آیا جب آریاؤں نے قدیم دراوڑ قوم

Read more

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد فیض صاحب کی یہ غزل بچپن میں، میں نے نیرہ نور کی خوبصورت آواز میں سنی تھی اپنے بڑے بھائی طاہر سعید کے کمرے میں، ان دنوں

Read more

بھوک: کنوٹ ہامسن کی ایک اور نفسیاتی تخلیق

بھوک کے مصنف کنوٹ ہامسن ( 1859۔ 1952 ) ناروے کے معروف ادیب اور شاعر تھے۔ ان کے والد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کسان تھے۔ ان کا بچپن افلاس زدہ اور کٹھن تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان کا شمار جدید نفسیاتی اور وجودی ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہامسن کی نثر میں ایک خاص شاعرانہ کیفیت اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے جو انہیں ان کے

Read more

روح کی ڈھولک پہ شاداں: غلام حسین ساجد

موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اردو غزل ہر عہد میں

Read more

علم بیان و بدیع کی روشنی میں کلام ولی دکنیؔ کا جائزہ

ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل گجرات انھیں گجرات کا باشندہ ثابت کرتے ہیں اور اہل دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا۔ ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ ولی اللہ ولی، سلطان عبد اللہ قطب شاہ، قطب شاہوں کے ساتویں فرماں روا کے عہد میں 1667 ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آ گئے۔ جو اس زمانے

Read more

پنجابی کی تاریخ

پنجابی کی تاریخ ایک بھرپور داستان ہے جو زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو آپس میں جوڑتی ہے، پنجاب کے خطہ میں ہزاروں سالوں میں تیار ہوتی ہے، جو جدید دور کے ہندوستان اور پاکستان کے کچھ حصوں پر محیط ہے۔ یہاں اس کی تاریخی ترقی کا ایک جائزہ ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب ( 3300۔ 1300 BCE) : پنجاب کا خطہ اس تہذیب کا بنیادی علاقہ تھا۔ اگرچہ اس تہذیب کا رسم الخط غیر واضح ہے، لیکن خیال کیا

Read more

گل ورین اشاعت خاص اور مجلاتی صحافت

پشتو افسانہ نویس فہمیدہ کمال کی ادارت اور جوان سال نثر نگار آفتاب گلبن کی سعی تمام سے تسلسل اور جدت و تنوع کے ساتھ شائع ہونے والا پشتو سہ ماہی۔ ’گل ورین‘ ( گل پاش) گزشتہ کئی سالوں سے علم و ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ مردان سے شائع ہونے والے اس ادبی، علمی اور ثقافتی کتابی سلسلے کی خاص بات مختلف موضوعات جیسے کرونائی ادب، خواتین افسانہ نویس نمبر، اور دوسری متفرق اشاعتیں ہیں۔ موضوعات اور ادبی

Read more

سولہ دسمبر: ریاست کہاں کھڑی ہے

”اگر میری مادری زبان تمہاری ریاست کی بنیادوں کو ہلا گئی ہے تو اس سے مراد ہے کہ تم نے اپنی ریاست میری زمین پر تشکیل دی ہے“ موسی اینتر جب یہ بات کر رہا تھا۔ تو یقیناً اسے معلوم ہو چکا ہو گا۔ کہ موسی نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے۔ جو سیاق و سباق میں رکھی جائے یا مضمون کے بغیر پڑھی جائے مطلب ہر طرح سے واضح ہے۔ موسی کو سمجھ تھی کہ اس کی یہ

Read more

ایک انسان دوست ’سالک‘ : ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، آپ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں اور اپنے شعبے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ ایسے اہم پیشے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ادب کے میدان میں بھی ایک منفرد اور اعلیٰ مقام پر متمکن نظر آتے ہیں۔ آپ ادیب، شاعر، ترجمہ نگار، خود نوشت نگار، ٹک ٹاکر اور کالم نگار ہیں۔ آپ پچیس سے زائد کتابوں کے

Read more

طاقت کا نشہ جب اترے

نظام کائنات میں کسی چیز کو دائمیت نہیں۔ چیزیں عارضی ہیں، اور مقررہ وقت کہ بعد وہ بدلتی رہتی ہیں اور اپنی حیثیت کھو دینا ہی فطرت کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارے معاشرے میں سرکاری عہدے، گریڈ، شہرت، سب مختصر وقت کہ لیے ہیں۔ مخصوص وقت کہ لئے ذمے داری کا نام ملازمت ہے۔ عہدے اور گریڈ یہ ساری چیزیں انسان کہ حصے میں نہیں رہتیں۔ انسان کسی بھی چیز کا مالک نہیں نہ ہی کوئی کسی کی ذاتی میراث

Read more