کورونا وائرس: باب وڈورڈ کی نئی کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے سے جانتے تھے کووڈ 19 کتنا ہلاکت خیز ہو سکتا ہے

واٹرگیٹ سکینڈل سامنے لانے والے صحافی باب وڈورڈ کی نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جانتے تھے کہ یہ عام فلو اور نزلہ زکام سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہے تاہم ان کے مطابق وہ ’اس بحران کی سنگینی پر پردہ ڈالنا‘ چاہتے تھے۔

Read more

اف یہ فلٹر زدہ ڈیجیٹل زندگی

یہ ڈیجیٹل دور ہے یہاں گھر میں ٹینڈے اور آلو بینگن کھانے کے بعد فیس بک پر بتایا جاتا ہے کہ میں نے فرائیڈ رائس ود پران اور الغم بلغم کے ساتھ کھایا ہے۔ پلاسٹک کا ڈنر سیٹ یا سٹیل کے برتن میں کوئی تصویر لگائی تو شرم محسوس ہوتی ہے۔ ہر دوسرے دن پارکنگ میں کھڑی مہنگی گاڑی ساتھ سلفیاں بنانی ہیں کیونکہ جب تک اپنی امارت کا رعب نا ڈالا جائے کوئی عزت تو کرے گا نہیں؟

ہم سادہ طرز زندگی چھوڑ چکے ہیں۔ اپنے ہم زبان سے اپنی زبان میں بات کرتے شرم آتی ہے۔ مادری و قومی زبان میں بات کی تو بھلا رعب کیسے ڈالا جائے گا کہ جناب ہم نے یونیورسٹی سے ڈگری لی ہے۔ ڈگری بھلے 2 جی پی اے والی ہی کیوں نا ہو۔

Read more

نام میں کیا رکھا ہے؟

ایلف شفق ایک ترک ناول نگار ہیں۔ وہ اپنے ناول ’دی فورٹی رولز آف لو‘ میں ایک مکالمہ تحریر کرتی ہیں : ’شمس تبریز کی جب ایک بھکاری حسن سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد اس کا نام دریافت کرتے ہیں۔ اس پر بھکاری قہقہہ لگاتے ہوئے گویا ہوتا ہے کہ مجھ جیسے انسان کے لیے بھلا نام کی کیا ضرورت ہے؟ شمس تبریز جواب دیتے ہیں کہ ہر کسی کا کوئی نام ہوتا ہے۔ خدا کے بھی تو ان گنت نام ہیں ؛ ہم تو صرف ننانوے جانتے ہیں۔ اگر خدا کے اتنے نام ہو سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان جو کہ خدا کا اظہار ہے وہ بغیر کسی نام کے ہو؟‘

ماہرین زبان کا یہ ماننا ہے کہ زبان کا ایک اہم استعمال چیزوں، لوگوں، جگہوں وغیرہ کو نام دینا ہے۔ انسان کی پیدائش پر والدین اس کا نام رکھتے ہیں جس سے وہ پکارا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تاہم اپنے اصلی نام کی بجائے کچھ اور کہلوانا پسند کرتے ہیں جیسے کچھ آرٹسٹ، لکھاری اور شعراء اپنے لیے بالترتیب اسٹیج نیم، قلمی نام اور تخلص کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنی محبت یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لیے کوئی نک نیم یا عرف تجویز کر لیتے ہیں۔

Read more

قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ اور کشمیر

قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے اپنی بہن فاطمہ جناح کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ وفد کہاں ہے جس نے کشمیر کے سلسلے میں بات چیت کے لیے آ نا تھا۔ یہ تھی ہمارے قائد اعظم کی کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کہ بستر مرگ پر بھی وہ شہ رگ کے لیے پریشان تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں کشمیر کے تین دورے کیے۔ آپ پہلی مرتبہ 1929 ء میں کشمیر آ ئے، اس سفر میں آپ کی شریک حیات آپ کے ہمراہ تھیں اور قائد اعظم کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا تھا، قائد اعظم کے اس دورے کا ذکر جسٹس یوسف صراف نے اپنی کتاب ”Kashmir Fight For Freedom“ میں کیا ہے۔

Read more

فٹ بنیں اپنے لیے! کیا خود سے پیار نہیں کرتے؟

آج کل نوجوانوں میں جم کلچر کثرت سے فروغ پا رہا ہے۔ کبھی یہ جم تو کبھی وہ جم، اور جس کی پہنچ میں جم نہیں ان کے لیے یوٹیوب کے ٹوٹکے زندہ باد، غرض جس کو دیکھیں خود کو پتلا اور خوبصورت بنانے میں لگے پڑے ہیں۔ خود کو ترشنا اور نکھارنا قطعاً غلط نہیں لیکن اس بات کی تسلی ضروری ہے جو ہم کر رہے کیا وہ درست طریقہ کار ہے؟ کیونکہ اس کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا جس کی مدد سے آپ فٹ رہ سکیں۔ نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے اس رجحان کی ایک وجہ ہماری فلمی و ڈرامائی شخصیات بھی ہیں جن کی ظاہری جسامت سے متاثر ہو کر ہمارے نو جوان اس نگر چل پڑے ہیں۔

ہم خود کو کیسے فٹ رکھ سکتے ہیں؟ صرف باہر سے فٹ نہیں بلکہ آپ کا اندر سے فٹ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ تاکہ ہمیں جب بھی خود اپنی ضرورت محسوس ہو اس وقت ہمارا جسم اک دم ساتھ دے، اگر ہمیں صبح سویرے اٹھنا ہے تو ہمارا دماغ اور جسم خود بہ خود ہمیں اٹھائے، بالکل ویسے ہی جیسے اگر ہمارے پیچھے کتا لگتا ہے تو ہم خود بہ خود بھاگتے ہیں۔ خود کو فٹ رکھنے کے لیے دو باتوں کو مدنظر رکھیں، ایک درست ورزش اور دوسرا درست غذا کا استعمال۔

Read more

عزت ہے تو صرف ایک کامیاب فراڈیے کی

بڑے اعتماد کے ساتھ دفتر پہنچا۔ سامنے جیٹ کی طرح میز کے پیچھے ایک محترم صاحب بڑی سی گھومتی کرسی پہ براجمان تھے۔ پہلے تو شک ہوا غلطی سے جو در چھوڑ کے ریسرچر بنے تھے۔ بھٹک کے دوبارہ اسی آٹھ سے چار والی کسی کمپنی میں آ گے ہیں۔ ہمیں عینک ضرور لگی ہے مگر داخل ہوتے ہوئے ہم نے ڈاکٹر ع غ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ دال فے عین پڑھا تھا۔ محترم مکرم کی گردن کے سریے کو دیکھ کے ہمارا تذبذب بڑھتا جا رہا تھا کہ غلط جگہ گھس گے ہوں۔

اسی دوران کڑک دار آواز آئی، جی کدھر آئے ہیں۔ ابھی جواب ہمارے حلق میں تھا، کہ صاحب نے تیزی کے ساتھ ہاتھ گھنٹی کی طرف لپکایا۔ ہمیں لگا آج تو دبا کے کٹاس ہو گی۔ خیر اللہ بھلا کرے نائب قاصد کا جس نے ہمارے حصے کی ڈانٹ کھائی۔ بلکہ ایسے موقع پہ وہ مثال یاد آ گئی۔ کہنا بیٹی کو سمجھانا بہو کو ۔ نائب قاصد ہمیں باہر لے گیا اور کہا صاحب بہت غصے کے سخت ہیں۔ آپ باہر بیٹھیں میں دس منٹ کے بعد صاحب کو آپ کے بارے میں بتاتا ہوں۔

Read more

نوجوان لڑکیاں شادی کے لئے بوڑھے مردوں کا انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

ماہرین نفسیات نے اس کی دس بڑی وجوہات بتاتے ہیں۔

معاشی استحکام یا مالی آسودگی: ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کا اور اس کے ہونے والے بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہو۔ بڑی عمر کا مرد اپنا پروفیشنل کیریئر بنا چکا ہوتا ہے۔ اس کے پاس جاب، مکان، بنک بیلنس سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بیس سالہ نوجوان ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوتا ہے۔ لہذا ان لڑکیوں کو ایسے نوجوان میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔

Read more

بلوچی غیرت اور بلوچ تاریخی روایات

مکران ( انتظامی لحاظ سے نہیں، تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے ) کو بلوچستان کے دیگر علاقوں سے معتدل مزاج سمجھا جا تا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں کی نسبت سخت قبائلی طرز معاشرت اور روایتی سرداری نظام سے کافی حد تک یہ آزاد تعلیم یافتہ ہے اور باقی علاقوں کے بڑے جاگیرداروں کی نسبت اس کی آبادی مختلف متوسط بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصہ سے گوادر میں سی پیک اور مختلف نا خوشگوار واقعات و حالات کی وجہ سے ملکی میڈیا میں اس کا نام آتا رہتا ہے۔

چند مہینوں سے مکران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بلوچستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تربت میں ڈکیتی کے دوران خواتین ( ملک ناز بلوچ اور کلثوم بلوچ ) کے قتل کے واقعات نے اہل علاقہ سمیت تمام بلوچوں کو ایک غیر معمولی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور نوجوان شہید حیات بلوچ کے ناحق قتل نے اس تشویش اور عوامی غیض و غضب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہید حیات بلوچ کے واقعہ کی ابھی دھول بھی نہیں چھٹی تھی کہ 5 ستمبر کو تربت میں خاتون شاہینہ شاہین بلوچ کی قتل کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان سے صرف ایک سوال

اگر تو آپ سیاسی شخصیت ہیں لیکن طاقت ور قوتوں کو آپ کی شکل پسند نہیں ہے تو آپ سونے کے کیوں نہ بن جائیں، دھول مٹی ہی رہیں گے۔ آپ پر مالی کرپشن کا داغ لگ گیا، توا سے دھونے کے لیے پوری زندگی بھی ناکافی ہو گی۔ ذرائع آمدن ثابت کرنے کے لیے آپ کو عدالتوں میں بچوں سمیت ذلیل ہونا پڑے گا۔ باپ دادا کی دولت تک کا حساب مانگا جائے گا۔ وراثتی کاغذات کھنگالے جائیں گے۔

Read more

اک ستارے میں ہے مکاں میرا

انہوں نے اپنے ساتھ بچھی چارپائی کی طرف اشارہ کر کے کہا ”یہاں آجاؤ میرے پاس۔“ میں نے اپنی کرسی ہٹا دی اور چارپائی کھینچ کر ان کی چارپائی کے اور قریب کرلی۔ وہ سیدھے لیٹے تھے، نظریں دور کہیں آسمان کی پہنائیوں میں گم تھیں۔ بجلی تعطیل پر تھی۔ کشادہ آنگن میں چار سو تاریکی تھی، نہ خنک نہ گرم، پھیکی پھیکی سی بدمزہ تاریکی۔ ہوا بند تھی۔ دیواروں کے پار گلی اور دیگر مکانوں کی بتیاں بھی بے

Read more

خلافت و ملوکیت: میری نظر میں

سید ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق کتاب ” خلافت و ملوکیت“ کا نام تو سب نے سنا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ بہت کم لوگوں نے یہ کتاب پڑھی بھی ہوگی۔ یہ ابو الاعلٰی مودودی رحمتہ اللہ علیہ کی وہ کتاب ہے جس کو تنگ نظر و متعصب مخالفین اور ان کے اندھے مقلدین نے سب سے زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کی، لوگوں کو اس سے دور رکھنے کے لیے سرتوڑ تحریکیں چلائی گئیں

Read more

بھارتی فوج اور لاہوری ناشتہ

یوم دفاع پاکستان ہماری قومی و عسکری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس پرمجھے بطور پاکستانی ہمیشہ فخر رہے گا اور میں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے ہمیشہ انہیں نصیحت کروں گا کہ پاکستانی فوج کا احترام ہرپل ملحوظ خاط رکھنا کیونکہ افواج پاکستان نے 1965 ء اور 1971 ء میں دشمن کو جیسے ناکوں چنے چبوائے اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ہر سال یوم دفاع پر سینکڑوں کالم لکھے جاتے ہیں، ٹی وی

Read more

یا اللہ! یا رسول! عاصم باجوہ بے قصور

سی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک

Read more

انڈیا کی پہلی لاک ڈاؤن فلم ’سی یو سون‘: ’اس فلم نے ایسے لوگوں کی اجرت ممکن بنائی جن کا واحد ذریعہِ آمدن سنیما تھا‘

’سی یو سون‘ نامی سسپنس فلم شاید انڈیا کی پہلی ’میڈ ایٹ ہوم، لاک ڈاؤن فلم‘ ہے۔ گذشتہ ہفتے ایمازون پرائم ویڈیو سٹریمنگ سروس پر ریلیز ہونے والی اس فلم کو ناقدین نے بہت پسند کیا ہے۔

Read more

انڈیا: ہم جنس پرست پولیس اہلکار خواتین کی کہانی جن کے حفاظت مسلح محافظ کریں گے

پائل اور کنچن کو پولیس کی ٹریننگ کے دوران ایک دوسرے سے محبت ہوئی تاہم ان کےرشتے کو خاصی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھیں دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کے باعث انھیں عدالت سے اپنے ہی خاندان سے محفوظ رہنے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی التجا کرنی پڑی۔

Read more

جمیکا کا پیٹرک اور چین

رات کا پچھلا پہر تھا کہ تیس ہزار فیٹ کی بلندی پر کافی کی طلب ہوئی۔ اب یاد نہیں کہ دست دعا بلند کرتے میں ہمارا ہاتھ کال بیل سے ٹکرایا تھا کہ کافی کی طلب تھی۔ جیف بیزو جیسے مالدار (ایمزن والے اور فوربز میگیزین کے مطابق امریکی تاریخ کے سب سے مالدار فرد) یا برازیل کے ماڈل Marlon Teixeira جنہوں نے بہت دھوم مچا رکھی ہے جیسےجوان نہ سہی اپنے کپتان جیسے ہی ہوتے تو خوش گمانی یہ

Read more

’’ہم کیا ہماری صحافت کیا؟‘‘

ربّ کا صد شکر کہ میرے قارئین کی اکثریت سنجیدہ مزاج کی حامل ہے۔ میرا پھکڑپن برداشت کرتے ہوئے بھی یہ توقع باندھتی ہے کہ اس کالم کے ذریعے میں اہم ترین ملکی اور غیر ملکی سیاست سے جڑے مسائل کو زیر بحث لانے کی کوشش کروں گا۔ منگل کی صبح چھپے کالم کو پڑھتے ہوئے لیکن انہیں مایوسی سے زیادہ حیرانی ہوئی۔چند مہربانوں کو تاہم یہ خیال بھی آیا کہ شاید اس کے ذریعے میں نے طنزیہ انداز اختیار

Read more

گرو نانک جی مہاراج کے مسلمانوں سے تعلقات

یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بارہا مذہب کو باہمی جنگ و جدال اور خون خرابے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن تاریخ صرف خون خرابے کی کہانی نہیں۔ ہمیں اس کے برعکس مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں اس دور کا ذکر کیا تھا جب مسلمان بادشاہوں اور سکھ مذہب کے محترم گرو صاحبان میں اختلافات عروج پر تھے۔ اس کالم میں اس سے پہلے کے دور کا ذکر کیا جائے گا۔ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک جی مہاراج کے دور میں مسلمانوں اور سکھ مذہب کی مقدس ترین ہستی کے باہمی تعلقات کیسے تھے؟

تاریخ کی ہر کتاب میں صحیح اور غلط دونوں قسم کی روایات شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کالم میں صحیح اور غلط کی بحث میں پڑے بغیر ”بھائی بالے جی والی پراتن جنم ساکھی“ سے کچھ روایات نقل کی جائیں گی۔ بابا گرو نانک جی کی مختلف مذاہب سے وابستگی کے بارے میں بھی بہت سے بحثیں ہوئی ہیں لیکن یہ بحثیں اس کالم کا موضوع نہیں ہیں۔

Read more

سنہرا اسلامی دور: قرون وسطیٰ کی فارسی شاعرائیں رابعہ بلخی، مھستی گنجوی، جنھوں نے محبت کو ایک نئی زبان دی

عرب مسلمانوں کے دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے بعد پہلی نظر میں قرون وسطیٰ کے ایران میں شاعری کے منظرنامے پر صرف مرد چھائے ہوئے نظر آتے ہیں مثلاً رودکی، فردوسی اور نظامی۔ لیکن سنہرے اسلامی دور کے ادب میں دو اور نام بھی ہیں جنھیں تاریخ نے یاد رکھا اور یہ دونوں نام خواتین کے ہیں۔

Read more

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

جنگ اخبار کا شمار پاکستان کے صف اول کے اخبارات میں ہوتا ہے۔ حقائق پر مبنی خبروں اور تجزیوں کے سبب جنگ گروپ کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ حق گوئی کی وجہ سے مختلف ادوار میں مصائب جھیلے۔ پرویز مشرف کے مارشل لائی دور میں بھی جیو زیر عتاب رہا مگر اپنی روش ترک نہیں کی۔ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن پر غداری کے فتویٰ بھی لگے مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں آج بھی پابند سلاسل ہیں۔ گزشتہ دنوں کے جنگ اخبار میں کالم نگار مظہر برلاس کے کالم میں سینئر صحافی احمد نورانی کے بارے میں کچھ ایسے الفاظ پرنٹ ہو گئے جن سے صرف جنگ اخبار کی ایڈیٹوریل پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

Read more

کیپٹن محمد اقبال سے لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ تک

یہ سن 86 کی بات ہے، اس وقت غالباً میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا، جب فوج سے پہلا بھرپور تعارف ہوا۔ درسی کتابوں میں پڑھتے اور ٹی وی پر فوج کے متعلق دیکھتے آئے تھے لیکن یکایک ہمارے چھوٹے سے گاؤں کی فضائیں ایک شہید کے نام سے گونج اٹھیں۔ گاؤں کا ایک دلیر سپوت وطن کی مٹی پر قربان ہو گیا تھا۔ سیاچین کی برف پوش چوٹیوں سے سرفروشی کی یہ داستان پاکستان آرمی کے ذریعے ہمارے گاؤں پہنچی لیکن اس سے پہلے یہ انڈیا پہنچ چکی تھی۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفید یخ برف کو اپنے گرم خون کی سرخ دھار فراہم کرتا کیپٹن اقبال دشمن پر اپنی دھاک یوں بٹھا چکا تھا کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔

Read more

روبی بریجز: چھ سالہ سیاہ فام بچی جس نے امریکہ کی تاریخ بدل دی

چودہ نومبر 1960 ء امریکہ کی تاریخ کا یادگار دن تھا جب امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیو آرلینز میں واقع ولیم فرنٹز ایلیمنٹری کے باہر کم از کم دو سو افراد کا مشتعل ہجوم جو والدین اور اس اسکول کے کمسن بچوں پہ مشتمل تھا اسکول کے باہر احتجاجی نعرے لگا رہا تھا۔ ٹو فور سکس ایٹ ۔ ۔ ۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو انٹیگریٹ two four six eight، we don ’t want to integrate ان کا کہنا تھا

Read more

یہ آواز کہاں سے آئی

مدت ہوئی نانی کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب جب بھی ان کی بات کرتی ہوں میں انھیں ایرانی نانی کہتی ہوں۔ نانی کو مجھ سے بڑی شکایت تھی کہ یہ لڑکی کبھی جو میرے پاس بیٹھ جائے۔ آئی ایک مکھی مار سلام کیا اور یہ جا وہ جا۔ وہ پنکھے سے مکھیاں ہلاتے یا غصے میں پنکھے کی ڈنڈی سے مکھی مارتے ہوئے کہتیں، جو کبھی نہ مری۔ میں سنی ان سنی کر جاتی۔ اب ان بڑی بی سے کیا

Read more

نعمان اعجاز کی عفت عمر شو کے وائرل کلپ پر بحث: ’سوچیں اگر ایک عورت نے ایسی باتیں کی ہوتیں تو کیا ہوتا‘

بی بی سی نے جب اس کہانی کے تمام کرداروں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ یہ انٹرویو حالیہ دنوں میں نہیں بلکہ گذشتہ برس اگست میں یوٹیوب پر نشر ہوا تھا۔ لیکن پھر حالیہ دنوں میں اس کے دوبارہ وائرل ہونے کی وجہ کیا بنی؟ یہ جاننے سے پہلے آپ کو اس انٹرویو کا سیاق و سباق بتانا ضروری ہے۔

Read more

ٹرمپ کے سابق وکیل مائیکل کوہن کا امریکی صدر پر ’نسل پرست‘ اور ’غنڈہ‘ ہونے کا الزام

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیلی میکینینی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘کوہن ایک بدنام مجرم اور بار سے خارج کیے گئے وکیل ہیں جنھوں نے کانگریس سے جھوٹ بولا۔‘

Read more

دانشور کی آزمائش اور اقتدار کا بیوپار

ہم میں سے بہت کم ہوں گے جنہوں نے ولی مونزنبرگ (Willi Munzenberg) کا نام سن رکھا ہو۔ یہ نام پچھلے 35 برس سے ایک مسلسل فکری مخمصے کے طور پر درویش کے پیش نظر رہا ہے۔ آپ سے کوئی پردہ نہیں۔ زندگی ایک بہتا دریا ہے اور مختلف زمینوں اور منطقوں سے گزرتے ہوئے اس دریا کے رنگ غیرمحسوس طریقے سے بدلتے رہتے ہیں۔ آپ کے نیاز مند پر ایک دور اشتراکی فکر سے وابستگی کا بھی گزرا۔ واپس

Read more

جمہوریت اور مذہب بیزار فلسفی، نطشے

نطشے 15 اکتوبر 1944 کو پروشیا میں پیدا ہوا۔ اس کا والد ایک مشہور پادری اور والدہ انتہائی مذہبی عورت تھی۔ نطشے کی تربیت اس کی والدہ نے کی مگر وہ اس تربیت کے مذہبی حصار سے بہت جلد ہی نکل گیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے اپنے والدین کے بتائے ہوئے خدا کا انکار کر دیا، اور اس کے بعد ساری زندگی اپنے تخیل میں خدا تراشتا رہا۔ اس کی ذہانت اور علمی پختگی کا یہ عالم تھا کہ اسے یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی پروفیسر کے عہدے کی پیشکش ہوئی، جسے اس نے قبول کر لیا۔

نطشے موسیقی کا اتنا دلدادہ تھا کہ اس نے کہا ”موسیقی کے بنا زندگی ایک خطا ہوتی“ ۔ اس کے ساتھ ہی وہ طاقت اور جبر کا حامی تھا۔ اس نے فوج میں شامل ہونا چاہا، مگر فوجی تربیت کے دوران ہی گھوڑے سے گر کر شدید زخمی ہو گیا اور گھر بھیج دیا گیا۔ وہ ویسے بھی کمزور صحت کا حامل ایک نازک شخص تھا۔ اپنی انہی محرومیوں کی وجہ سے وہ زیادہ شدت سے طاقت، بہادری، جبر اور غرور کے متعلق سوچنے لگا۔ یہ سوچ اس کو اس مقام پر لے آئی جہاں اس نے اپنے ’لاحاصل‘ کو ہی اپنا خدا بنا لیا۔

Read more

چھ ستمبر کا دن اور نئی سوچ کی ضرورت

یوم دفاع حسب معمول اسلام آباد اور پنڈی سمیت پورے پاکستان اور میڈیائی دنیا میں یہ دن جوش و خروش سے منایا گیا۔ ہر سال چھ ستمبر کے دن ہم 1965 کی جنگ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، یہ دن میں بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں، فوجی پریڈ، سپہ سالار کی تقریر اور قومی نغمے اس دن کا خاصا ہوتی ہیں۔ بچپن میں جنگ اچھی لگتی تھی، لیکن اب میرا نظریہ بدل گیا ہے، کیونکہ شاید اب میری جنگجویانہ طبعیت نہیں رہی، لیکن ایک بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ جنگیں ہتھیاروں، جنگی جہازوں اور ایٹم بم وغیرہ سے نہیں لڑی جاتی، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے کاغذ، قلم اور کتاب کے زور پر بھی جنگیں لڑیں ہیں؟

پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں کاغذ، قلم اور کتاب کو بھی اہمیت دینی ہوگی، آج یورپ، امریکہ، چین اور دنیا کے کئی ملکوں میں جنگیں کتاب اور قلم کے زور پر بھی لڑیں جا رہی ہیں، وہ جنگیں زیادہ کامیاب اور مفید ثابت ہو رہی ہیں۔ چھ ستمبر کا دن یوم دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سپہ سالار کی تقریر میں جوش اور ولولہ تھا، لیکن یہ دن سوچ وچار کا بھی دن ہے۔ سبق سیکھنے کا بھی دن ہے۔

Read more

ففتھ جنریشن وار جیتنے کا عزم اور اختلاف رائے کی آزادی

یوم دفاع کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کے خطرات سے متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج قوم کے تعاون سے اس جنگ کو بھی ضرور جیت لے گی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سرکار کے دسترخوان سے نوالے چننے والے بعض اینکر اور صحافی ملک میں ہائبرڈ طرز حکومت کے ’کامیاب تجربہ‘ کی نوید سنا رہے ہیں

Read more

جندر، حاجرہ، ایک آزاد عورت

کتنے نسوانی کردار ہیں جو کسی تخلیق کار کی نظر اور بنت کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے ایک پہ تو اختر رضا سلیمی کی نظر گئی ہے۔ اور حق ادا کر گئی ہے۔ حاجرہ کا کردار ناول کے وسطانیے کے بعد رونما ہوتا ہے۔ ناول میں وہ ایک ضدی اور خود شناس خاتون کے روپ میں متعارف کرائی گئی ہے۔ جو مرکزی کردار ولی خان کی چچا زاد ہے اور اس سے بارہ برس چھوٹی ہے۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے۔

لڑکوں کے ہائی اسکول میں پڑھنے والی واحد لڑکی ہونے کے باعث بہادری اور بے خوفی اس کا وصف بن گئی ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ولی خان کے پاس جندر جاتی ہے اور یہیں اسے کتب بینی کی چاٹ لگتی ہے اور یہ کتاب دوستی اس کے ذہن کی پرواز کو بلند اور شعور کو پختہ کر دیتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد آنے والے ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور اسکول میں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے علاقے کی پہلی بی اے خاتون کا حق بھی محفوظ کر لیتی ہے۔

Read more

مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

بنیادی انسانی حقوق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے انسان کے اندر عدم برداشت اور انتہا پسندانہ سوچ جنم لیتی ہے۔ بنیادی حقوق کی غیرموجودگی ملک میں نظام عدل کی حقیقی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں انفرادی سطح پر مذہب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر اس ملک میں بسنے والے اقلیتی افراد کے ساتھ تفریق کی جاتی ہے۔ بھلے وہ سیکولرا زم کا نام نہاد علمبردار بھارت ہو یا ملٹی

Read more

سات ستمبر اور طاہرہ کا دوسرا جنم

بات کچھ عجیب سی ہے! ہو سکتا ہے آپ کو اچنبھا ہو لیکن بات ایسی ہی ہے۔ آج سوچا یہ داستان بھی کہہ ڈالی جائے کہ چہیتے اور اہلے گہلے لفظوں سے کہانی گوندھنے کا شوق دل سے جاتا نہیں۔ خود سے آشنا ہوتے ہوئے، زندگی سے آشنا ہونے کی کتھا جس نے ہمیں خوش بھی کیا، اداس بھی اور حیران بھی! ہم نے اس دنیا میں دو دفعہ جنم لیا، پہلی دفعہ سات دسمبر اور دوسری دفعہ سات ستمبر!

Read more

پیاری مقدس گائے اور عہد نو میں احترام کے تقاضے

پاکستان نے آج روایتی جوش و خروش سے یوم دفاع پاکستان منایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک افواج دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں اور ہر محاذ پر اس کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایک پیغام میں واضح کیا کہ ’پاکستان امن چاہتا ہے لیکن ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم اس خطے کے عوام کی بہبود کے لئے

Read more

نوشابہ کی ڈائری 17: عظیم طارق کے قتل پر ہر ایک دکھی ہے

اس شہر کی قسمت میں شاید یہی ہے، مکمل سناٹا یا پھر گولیوں کی دل دہلاتی آواز۔ کئی مہینے ایسا سکوت رہا کہ آپریشن کرنے والوں کے امن قائم کردینے کے دعوے پر یقین آنے لگا تھا۔ ہم لوگ بندوقوں کی دھائیں دھائیں اور موت کی خبروں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کچھ دن گولی نہ چلے اور کسی کے قتل کی اطلاع نہ ملے تو طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، لگتا ہے اب کچھ زیادہ برا ہونے والا ہے۔

ذیشان کو آنے میں ذرا دیر ہو جائے تو میں اور میری ساس پریشان ہوجاتی ہیں۔ ذیشان کچھ بدلے بدلے سے لگنے لگے ہیں۔ انھیں غصہ بہت کم آتا تھا، ہر وقت ہنساتے ہنساتے رہتے تھے، بے فکر، اپنی ذات اور میری اور گھر والوں کی محبت میں مگن، مگر اب خاموش اور بے زار سے رہتے ہیں، بات بات پر چیخ پڑتے ہیں، پھر معافیاں مانگ مانگ کر مجھے مناتے ہیں۔ جب انھیں پتا چلا تھا کہ باپ بننے والے ہیں تو کتنا خوش تھے، کبھی میرے لیے پھل لا رہے ہیں کبھی ناریل کا پانی ”پیو پیو، بچہ گورا ہوگا“ مجھے زبردستی پلاتے، خوش تو اب بھی ہیں، میرے کھانے پینے کا خیال بھی اسی طرح رکھتے ہیں، لیکن وہ بات نہیں۔ شاید وہ واقعہ ان پر بہت اثرانداز ہوا ہے۔

Read more

خدا کو خدا حافظ کہنے کے بعد

زیبا شہزاد کا ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے نام خط
آداب ڈاکٹر صاحب!
آپ کے کالم پڑھ کر جہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں جب آپ خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو اس بارے جاننے کی آرزو ہوتی ہے کہ آپ دہریہ کیسے بنے؟ وہ کیا وجوہات تھیں جس نے آپ کو مذہب سے دور کیا۔ آپ اپنے کالمز میں بڑے فخریہ انداز خود کو دہریہ بتاتے ہیں وہی فخر جو کسی بھی مذہب سے منسلک افراد کو اپنے مذہبی ہونے پہ ہوتا ہے۔ آپ جب خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو آپ کے لہجے سے کسی طرح کا ڈر یا خوف نظر نہیں آتا کہ آپ کے قاری یا آپ کے مریض اس بات کو کس طرح لیں گے۔

کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ دہریہ لوگوں کو بھی اس معاملے خدا کے ذات کو تسلیم کرنے سے انکار میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو، کوئی مسلم ہونا چاہتا ہے کوئی سکھ، کوئی عیسائی اور کوئی ہندو یا پھر کسی اور مذہب پر چلنا چاہتا ہے اس پہ جبر نہیں۔ کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا کہ یہ اس کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔

Read more

آپ دہریہ کیسے ہوئے؟

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے نام آداب ڈاکٹر صاحب آپ کے کالم پڑھ کر جہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں جب آپ خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو اس بارے جاننے کی آرزو ہوتی ہے کہ آپ دہریہ کیسے بنے۔ وہ کیا وجوہات تھیں جس نے آپ کو مذہب سے دور کیا۔ آپ اپنے کالمز میں بڑے فخریہ انداز خود کو دہریہ بتاتے ہیں وہی فخر جو کسی بھی مذہب سے منسلک افراد کو اپنے مذہبی ہونے

Read more

خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی

Read more

مرغزار چڑیا گھر سے کاون کی منتقلی: کیا کاون کو 35 برس بعد اسلام آباد سے کمبوڈیا منتقل کرنے کا عمل محفوظ ہے؟

پاکستانی حکومت آج کل کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا کاون کی 35 برس بعد کسی دوسرے ملک منتقلی کاون کے فائدہ مند ہے بھی یا نہیں۔

Read more

محبت کی شادی، شہری دلہن اور دیہاتی ساس

میرے ایک اچھے دوست کی بہن جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی کی طالبہ تھی۔ وہاں اس کی ایک اپنے ہم جماعت سے دوستی ہوئی اور لڑکے کے گھر والے لڑکی کا رشتہ لے کر اس کے گھر آئے، لڑکا پنجابی تھا اور اس کا خاندان پنجاب میں گاؤں میں مقیم تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ ماڈرن خیال کے حامل لوگ تھے، انہوں نے تھوڑی سوچ بچار کے بعد ہاں کر دی اور لڑکے لڑکی کا ڈی فارم مکمل ہوتے ہی دونوں کی شادی کر دی گئی۔ اولاً لڑکی، لڑکے کے سائٹ کے علاقے میں بنے چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئی۔

کچھ عرصہ گزرا اور لڑکا بے روزگار ہو گیا۔ اس ’دو ہنسوں کے جوڑے‘ کے لئے مشکلات بڑھیں۔ لڑکے کو فیصل آباد میں نوکری ملی۔ وہ وہاں نوکری کرنے چلا گیا اور اپنی بیوی کو میکے چھوڑ گیا۔ کچھ وقت گزرا اور وہ واپس آیا اور اپنی بیوی کو لے گیا۔ وہ سمجھی کہ شوہر اسے فیصل آباد لے جائے گا مگر اس کے برخلاف وہ اپنی بیوی کو اپنے گاؤں لے گیا جو فیصل آباد سے 2 گھنٹے کی مسافت پر تھا اور خود فیصل آباد میں رہنے لگا۔ اب لڑکی گاؤں میں تھی جہاں اس کی درجن بھر نندیں تھیں، دیور تھے، ایک دیہاتی قسم کی سخت گیر ساس تھی۔

Read more

فوج اور سویلین نمائندوں کے درمیان مکالمہ

میرے والد صاحب فوج سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے 30 سال سے زائد فوج میں اپنی خدمات پیش کیں۔ میں بھی زیادہ تر والد صاحب کے ساتھ فوجی علاقے کینٹ میں رہا اور فوج کے زیر نگرانی سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ میرے دوستوں کی اکثریت اس وقت فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ میرے ان دوستوں کا ہمیشہ مجھے سے یہی گلہ رہتا ہے کہ سوشل میڈیا پر میں ایک ادارے کے بارے میں بہت سخت موقف رکھتا ہوں اس حوالے سے ہماری آپس میں بہت بحث بھی ہوتی ہے مکالمہ ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مکالمہ ضروری ہے کہ مکالمہ ایسے مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے جو پیچیدہ ہوں اور تنازعات کی وجہ بن سکتے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شدت پسندی ہے۔ شدت پسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ہر شدت پسند کے پاس علم کم اور معلومات زیادہ ہوتی ہیں اور یہ معلومات بھی یک طرفہ ہوتی ہیں۔ میرے فوجی دوست مجھ سے گلہ کرتے ہیں کہ کسی ایک جرنیل کے انفرادی عمل کی وجہ سے پورے ادارے کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔

Read more

شینشوب کے پھول

جھرنے کے کنارے اس کا ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ پانی کی سطح کافی نیچی تھی۔ دور دراز کے ایک چشمے سے کاریز بنا کر پانی باغ تک لایا گیا تھا۔ لیکن سوکھے کے موسم میں پانی کی سطح اتنی کم ہو جاتی کہ کاریز بھی سوکھ جاتی۔ آج پہاڑیوں پر بارش ہوئی تھی اور جھرنا زور و شور سے بہہ رہا تھا۔ بارش کے پانی کا قطرہ قطرہ باغ کے لئے آب حیات تھا۔ میر بلاچ بہتے ہوئے پانی کو پودوں کی طرف جاتے دیکھ کر نہال ہو رہا تھا۔ سیب کی فصل تیار ہونے کے قریب تھی۔

زمردیں سیبوں کے رخسار سرخی مائل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جولائی اگست کے مہینوں میں ویران بنجر زمینیں بھی جنگلی پھولوں سے سج جاتی تھیں۔ اونچے ٹیلوں پر کاسنی رنگ کے شینشوب کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ پھول اتنے زیادہ تھے کہ پورا ٹیلہ ہی چھپ گیا تھا۔ بارش کے بعد اس کے پتے تھوڑے بڑے اور زیادہ سبز جبکہ پھول بھی دھل کر مزید چمک اٹھتے ہیں۔ وہ جب بھی کلی آتا تو گھر کی نسبت زیادہ وقت جھرنے کے کنارے پھولوں کے اس تختے کو دیکھتے ہی گزارتا تھا۔ وہ پودوں کو چھوتا نہیں تھا۔ صرف ان کے درمیان بیٹھا رہتا۔ بھینی بھینی خوشبو کا وہ متوالا تھا۔

Read more

وہ تھی ایورسٹ کی چوٹی

ریحان بھائی، آپ میرے کمرے میں آئیے ذرا۔
بھئی کیوں میری بوڑھی ہڈیوں کو تکلیف دے رہے ہو، تم کیوں میرے کمرے میں نہیں آ جاتے۔
کوئی وجہ ہے نا، آپ آئیے تو ۔
اور یہ تم کھس پسا کیوں رہے ہو؟
اب ہر بات فون پر تو نہیں ہو سکتی، اسی لئے تو بلا رہا ہوں۔
تو خود کیوں نہیں آ جاتے؟

Read more

اتر پردیش سے وولور ہیمپٹن تک: جسے لوگ پیدا ہوتے ہی دریا میں پھینک دینا چاہتے تھے وہ ’مچھلی‘ جال توڑ کر باہر آ گئی

دماغی فالج کی مریضہ کولی کوہلی تمام عمر اپنے خلاف تعصب کے رویے سے لڑائی لڑتی رہیں اور ساتھ ساتھ اپنے احساسات کو لفظوں میں پروتی رہیں۔ آج وہ ایک کامیاب شاعرہ ہیں۔

Read more

فلمی نقاد اعجاز گُل کی منتخب کردہ دس بہترین پاکستانی فلمیں

مشہور فلم نقاد اعجاز گل کے نزدیک یہ سبھی 10 فلمیں بہترین ہیں اور انھیں نمبر ایک یا دو تین کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق یہ تمام فلمیں ہر انداز اور طریقے سے ہماری فلمی تاریخ کا بہترین اور نہ بھلانے والا سرمایہ ہیں۔

Read more

بچوں کو اپنے پیشے کی آگاہی دیں

سڑک پار کرتے ہوئے ایک صاحب کو دیکھا جو موٹر سائیکل روک کر اپنے بچے کو تابڑ توڑ تھپڑوں سے نواز رہے تھے۔ پہلے تو سوچا، ہمیں کیا، لیکن پھر ہمیں مرنے کا شوق جاگا اور ان صاحب کو نیک نصیحت کر بیٹھے۔ سامنے سے ٹھیٹ پاکستانی سوال آیا، ”تم ہوتے کون ہو میرے معاملے میں بولنے والے؟“

اس سوال کا ایک جواب تو ہے خاموشی اور اپنی راہ لینا، دوسرا اپنے منہ کا سامنے والے کے مکے سے تعارف کروانا، اور تیسرا درویشی کی راہ لے کر محبت سے سمجھانا۔ اور یہ تیسرا طریقہ کام کر گیا۔ ان صاحب کو ڈوروتھی نولتے کی نظم ”بچے جیسے رہتے ہیں وہی سیکھتے ہیں“ کے کچھ اقتباسات سنائے اور کہا کہ آپ کے طرزعمل سے یہ معصوم بچہ ایک بلند کردار، با عمل انسان کے بجائے عادی مجرم، کوئی موبائل سنیچر وغیرہ ہی بن سکے گا۔

Read more

اسلام تفریق کا سبب نہیں

عمر کافی اداس دکھائی دے رہا تھا، اس کے چہرہ اس کی اندرونی کیفیت کی ترجمانی کر رہا تھا۔ زید دور بیٹھا اس کی اس کیفیت کا اندازہ لگا تا رہا اور بالآخر وہ اٹھا اور عمر کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اور اسے کہنے لگا بھئی خیریت! کافی پریشان لگ رہے ہو۔ اس نے کہا امام ابو حنیفؒہ کے بیان کردہ ایک نکتہ پہ کافی دیر سے سوچ رہا ہوں۔ اس کا یہ جواب سن کر زید چونک گیا۔ اور اس کی توجہ عمر کی جانب مزید بڑھ گئی۔ پھر زید نے اس سے پوچھا کون سا نکتہ؟

اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگا چند دن پہلے استاد محترم نے دوران درس ایک اختلافی مسئلہ میں امام ابو حنیفہؒ کا ایک قول ذکر کیا۔ کیا وہ مسئلہ سنو گے؟ زید نے کہا کیوں نہیں۔ پھر وہ کہنے لگا مسئلہ یہ تھا کہ اگر غیر مسلم میاں بیوی میں سے ایک کوئی مسلمان ہو جائے تو ان کا کیا حکم ہے؟ آیا ان میں تفریق کی جائے گی یا نہیں۔ اس مسئلہ میں دیگر آراء بھی ہیں۔ میں نہیں جانتا ان میں سے کس پر انگلی اٹھا کر یہ کہوں کہ فلاں درست ہے اور فلاں نہیں۔

Read more

نئے نظام کی تشکیل وقت کے ضرورت

ایک انگریزی محاورہ ہے کہ کائنات میں۔ تبدیلی ہی ایک ایسی شے ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ یہ کائنات مسلسل حرکت پذیر ہے ایک ایک زرہ ہمہ وقت تبدیل ہو رہا ہے یہاں جامد کوئی شے نہیں ہے انسانوں، خاندانوں سے لے کر حکومتوں اور نظاموں تک ہر چیز ہر وقت تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کی رفتار کبھی تیز ہے اور کبھی سست لیکن یہ رکتی کبھی نہیں ہے۔

ایک وقت تھا کہ انسانوں کا آنا اور جانا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ لوگ پیغمبروں کا انتظار کرتے اور رحمدل اور نیک حکمرانوں کا جو آ کر ان کی قسمتوں کو بدلیں اور بقول شاعر،

Read more

ہم منافق

میرے تجربے اور مشاہدے خاموش رہنے کی وجہ سے زیادہ ہوتے جا رہے تھے کہ مجھے منافقت کے ساتھ ساتھ مادہ پرستی کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کا موقع ملا۔ ایک انسان اپنے بیوی بچوں سب کو ایک طرف رکھ کر صرف اپنے خونی رشتوں سے وفا نبھانے کی خاطر جان تک پہ کھیل کر بستر پر آ گیا۔ لیکن پیسوں کے پجاریوں نے پیسہ دے کر ایسے سمجھا جیسے زر خرید غلام۔ کچھ ہی دن بستر پر رہنے کی وجہ سے اس شخص کے لیے بولے جانے والے الفاظ اس بات کا یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ کتنے بڑے منافق ہیں ہم، جب تک آپ کسی کے کام کے ہیں آپ سے اچھا کوئی نہیں لیکن جب آپ کام کے نہیں رہے تو آپ ”ناکارہ، زیرو اور فیل“

Read more

صدف زہرہ نے خودکشی کی تھی: پولیس ذرائع

لاہور (فہد شہباز خان سے ) بلاگر علی سلمان علوی کی اہلیہ صدف زہرہ قتل کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدف قتل کیس میں کسی قسم کے قتل کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق صدف زہرہ نے خودکشی سے پہلے نوٹ لکھا تھا۔ دو صفحات پر مشتمل خود کشی نوٹ انگریزی زبان میں لکھا گیا تھا۔

Read more

چنیوٹ کی شیخ برادری میں خاندانی پہچان کا منفرد طریق

چنیوٹ شیخ برادری کاروباری میدان میں اس وقت پاکستان چھوڑ دنیا بھر میں معروف اور پھیلی ہوئی ہے۔ اور اس کامیابی میں پچھلے ڈیڑھ سو سال سے ”سفر وسیلۂ ظفر“ کے محاورہ پر عمل اور دل و جان سے محنت کی عادت اور کاروباری اسرار و رموز کے جلد سمجھ جانے کی صلاحیت کا گھٹی میں پڑے ہونے کا بڑا حصہ ہے تاریخی طور پر چنیوٹ شیخ برادری کا تعلق ہندوؤں کے کھتری یا کھشتری طبقے کی ان شاخوں سے

Read more

ممتازمفتی کی یاد میں

گیارہویں جماعت میں سب روایتی نوجوانوں کی طرح ڈاکٹر بننے کی کوشش میں چار و ناچار جتی ہم کچھ دوستوں کے ہاتھ لبیک لگی تھی۔ جس پر ہم سب کا گروپ ایمان لے آیا تھا۔ کالے کوٹھے پر براجمعان سفید نورانی چہرے کے ساتھ نمزدہ آنکھیں لیے بیٹھا اپنا اپنا سا لگتا رب دیکھ کرہماری محفل میں اک طوفان برپا ہو گیا تھا۔ ایف ایس سی کے دو سال فزکس کیمسٹری اور باییو کو رٹا لگانے کی بجائے ہم نے

Read more

گوگل کے سندر پچائی اور رومالی روٹی

جہاز کا اندرونی منظرکسی خلائی شٹل کا تھا۔ غزنوی کی تڑپ رکھنے والے خطوط کی مالکن تمام فضائی میزبان سفید رنگ کے کاغذی پیرہن میں ملبوس تھیں۔ چہرے پر حفاظتی شیلڈ، منھ پر ماسک کا ڈھاٹا اور چشم بے باک پر آویزاں چشمہ جس کی جھری کو بائی پاس کرکے مہلک جرثومے تو کیا پاکستان کے کس مولوی کی بری سے بری گستاخ نظر بھی پار نہ جا سکے۔ آپ نے اگر بزنس یا فرسٹ کلاس کا ٹکٹ خریدا ہو

Read more

کربلا: جمہوریت اور ملوکیت کی جنگ

محرم سے سال نو کا آغاز ہو گیا ہے، ہر انسان امام عالی مقام کی جدوجہد کے لئے اپنا اپنا نقطہ نظر رکھتا ہے۔ واقعہ کربلا کے متعلق میری ناقص رائے یہ ہے، کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کا اصل فلسفہ ظالم اور جابر حکمران کے خلاف مزاحمت تھا، جسے مسلمانوں نے 61 ہجری میں ہی فراموش کر دیا تھا، حقیقی فلسفہ کی جگہ کوفیوں نے ہمیں گریہ و زاری اور ماتم کے مصنوعی فلسفے کا علم

Read more

افسانہ: من کونج

میں انتظار کی جیون بھومی سے تولد ہوا ایسا جرثومہ ہوں، مہک جس کی ممتا کسی گاوں کے قرطاس پہ معلق پگڈنڈی پہ آلتی پالتی مارے کسی گیان کو چھو لینے کی انتھک چاہ میں میرا راستہ تکتی ہے۔ گاوں جس کی نوخیز صبح کے مدہوش اور رت بیتی سے سرشار کانوں میں اب بھی کہیں کوئی جنتر اپنی محبتوں کے رس گھولتا ہے۔ اور جہاں مدھانیوں کی گھرکگوں گھرکگوں کی آوازیں کسی موذن کی صدا پہ وجد کے نقطہء

Read more

اسرائیل، متحدہ عرب امارات امن معاہدہ: ’تاریخی‘ امن معاہدے کے دیگر عرب ممالک پر کیا اثرات ہوں گے؟

کیا اس امن معاہدے سے خطے میں اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے عمل کو فروغ ملے گا، متحدہ عرب امارات کو سلامتی اور سائبر سپر پاور کے میدان میں اسرائیل کی مدد ملے گی اور امریکی صدر ووٹروں کے سامنے خود کو مشرق وسطیٰ میں بطور امن مندوب پیش کریں گے؟

Read more

عامل کا آسیب اور مامتا

ایک مرتبہ میری بھولی ماں مجھے ایک عامل کے پاس لے کر گئی جس نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا اور پھر اپنی پتلون کی جیب سے ایک شاخ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی پیمائش کرنے لگا اور پھر اسے میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے مجھ سے آنکھیں بند کرنے کا کہا، میں نے ویسا ہی کیا پھر اس نے شاخ کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، جو اچانک سے چند انچ لمبی ہو کر

Read more

مریم واقعی مریم ہے

وہ آیا اس نے دیکھا اور وہ چھا گیا پتہ نہیں کس نے کب اورکس لیے کس کے حق میں ایسا کہا۔ لیکن اگر آج وہ کہنے والا زندہ ہوتا تو وہ ضرور کہتا وہ آئی اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی۔ وہ صرف ایوانوں میں ہی نہیں چھائی وہ دلوں پر بھی چھا گئی اور دماغوں کی حکمران بن گئی اس کا لڑکپن بھی آزاد گزرا تو اس کی جوانی آزمائش میں چلی۔ آزمائشیں آنا کوئی بڑی بات

Read more

سیلف ایکچوالائزیشن کا فلمی منجن

میں ’سیلف ایکچوالائزیشن‘ کی فلمیں دیکھ دیکھ کر تنگ آ گیا ہوں۔ مگر یہ کون سی فلمیں ہوتی ہیں؟ ان کی خاص بات کیا ہے؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ یہ سیلف ایکچوالائزیشن ہے کیا بلا؟ یہ بلا علم نفسیات کے دو چورن بیچنے والوں سے منسوب سے۔ ایک کا نام تھا ابراہم ماسلو اور دوسرے کا کارل راجرز۔ یہ دونوں امریکی تھے اور انہوں نے ایک سراب میں جدید نفسیات کو الجھا دیا۔ یہ اچھی اچھی باتیں کرنے والے سرمایہ داری کے ربی، پنڈت، پادری، نیم سرمایہ دار، ’اسٹیٹس کو‘ کے ہرکارے تھے اور فرائیڈ کے نفسیاتی نظام کے خلاف ایک نام نہاد اچھائی کی دیوار کھڑی کر رہے تھے۔ انہوں نے نظریہ پیش کیا کہ ’انسان اچھا ہے‘ ، حالانکہ یہ طے ہی نہ کرسکے کہ ’اچھا‘ ہوتا کیا ہے۔ دعویٰ کیا کہ ’انسان تو بڑھوتری اور ترقی چاہتا ہے۔ بس دنیا اس میں فساد ٹھونس دیتی ہے۔ اسے وہ بنا دیتی ہے جو وہ نہیں ہے۔‘ مگر جو وہ ہے وہ وہ ہے۔ یعنی جو وہ نہیں ہے وہ وہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ الجھ گئے آپ؟

Read more

ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم کیسے لکھتے ہیں

کہانی، اسکرین پلے اور مکالمہ، ان تینوں کو ملا کر ٹی وی ڈراما یا فلم لکھی جاتی ہے۔ ہر رائٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ اسٹوری بھی اس کی اپنی ہو، ڈائیلاگ بھی اپنے ہوں اور اسکرین پلے بھی اس کا اپنا ہو، مگر یہ تینوں کام الگ الگ اشخاص بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن فلم یا ڈراما لکھنے میں تینوں میں سے زیادہ اہم اسکرین پلے ہی ہوتا ہے۔ پہلے وقتوں میں بنی خاموش فلمیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلم، ڈائیلاگ کے بغیر بھی بن سکتی ہے۔ مکالمہ سب کچھ نہیں، جذبات (ایموشن) اہم ہیں، اس کے بیان کے لیے چاہے خاموشی زباں ہو جائے۔

کیا اسٹوری یا کہانی کے بغیر ڈراما سیریل یا فلم بن سکتی ہے؟ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مکمل کہانی نا بھی ہو تو فلم بنائی جا سکتی ہے۔ یا یہ کہ کئی کہانیوں کے ٹکڑے ملا کر، ہندی فلم ”گج گامنی“ کی مثال سامنے کی ہے۔ دوسری صورت، ایسی فلمیں، جن میں الگ الگ کئی کہانیاں ہوتی ہیں، جیسے ہندی فلم ”دس کہانیاں“ ۔ یہ بھی ہے کہ آپ کہانی کسی اور کی لے لیں اور اس پہ فلم یا ٹی وی ڈراما بنا لیں۔

Read more

مقدس بیوہ

شدید گرمی اور حبس بھرے دن کی سہ پہر اچانک تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور بادل چھا گئے۔

ہوا کے پہلے جھکڑ کے ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی، میرے چھوٹے سے آفس کے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور کمپیوٹر آف ہو گئے، میں نے سلائیڈ ہٹا کر باہر جھانکا اور صورتحال کا اندازہ کرتے ہی اپنے ماتحتوں کو کہا، چلو بھئی بند کرو سب کچھ، اگر بارش ہو گئی تو ہم یہیں پھنس جائیں، جی سر بس نکلتے ہیں۔ ایک بولا، وہ تینوں باری باری چلے گئے، میرا اپنا، ایک ذاتی سافٹ وئیر ہاؤس ہے، تین افراد میرے ماتحت ہیں، بلکہ ماتحت نہیں میری دوست اور کولیگز ہیں، میں ایک کم گو فطرت کا حامل فرد ہوں، مجھے زیادہ شور شرابا اور بکھیڑے پسند نہیں ہیں، نہ ہی زیادہ دولت کمانے کا شوق ہے، میرے خیال میں زندگی لطف اٹھانے کے لئے ہے، اس لیے نہیں کہ اس کو زیادہ دولت کمانے کے جنون میں، کسی عہدے کے حصول کے لئے یا انسانوں کے لئے برباد کیا جائے، سو میں اپنی محدود زندگی میں خوش و مطمئن ہوں۔

Read more

باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

مجھے نہیں پتا ماں زیادہ قابل احترام ہے یا باپ۔ دونوں کی حثیت بہت سی کتابوں کہانیوں میں مختلف دیکھی گئی ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ لیکن فرمان رسول بھی ہے کہ قبولیت میں باپ کی دعا کو اولیت حاصل ہے۔ لہٰذا کوئی ترازو ان دونوں کی محبت کو تول نہیں سکتا اور نا ہی کوئی حتمی فیصلہ دے سکتا ہے۔ لیکن شاعر اور ادیب ماں کی محبت میں محبوب کی محبت جیسے

Read more

حکومت سے توقعات پوری ہو سکتی ہیں

عمران خان سے بعض معاملات میں اختلاف کیا جا سکتا پے مگر آن کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ وطن عزیز کو بام عروج تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ سخت فیصلے کر رہے ہیں مگر ان سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ ادھر مافیا کے اودھم مچانے سے ان پر اور بھی برا اثر پڑ رہا ہے، لہذا ان کے بارے میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ عوامی محاذ پر غیر

Read more

ٹالسٹائی کی کہانی: آخری رقص

”میرے دوست، یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہ انسان اچھے برے میں تمیز نہیں کر سکتا۔ یہ کیا دلیل ہوئی کہ ماحول ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اچھا کیا ہے، برا کیا۔ میں یہ تسلیم نہیں کرتا۔ در اصل انسان کی زندگی حادثات سے متعین ہوتی ہے۔ یہ صرف حسن اتفاق ہے جو انسان کی پوری زندگی کو کسی ایک خاص ڈگر پر ڈال دیتا ہے۔ اب میرا ہی قصہ لے لو۔“ حقیقت یہ ہے کہ

Read more

مدبر استاد ’عمدہ تخلیق کار‘ سنجیدہ فکر محقق ونقاد۔ ۔ ۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس

صدر شعبہ اردو جامعہ کراچی ’اردو کی باذوق استاد‘ محقق اور شاعرہ ڈاکٹر تنظیم الفردوس ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے والد محترم اعلیٰ شعری ذوق کے مالک تھے۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو یہ شعری ذوق ورثے میں ملا۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان ”اردو کی نعتیہ شاعری میں امام احمد رضاکی انفرادیت و اہمیت“ ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ 1995ء میں شعبہ اردو ’جامعہ کراچی سے بطور استاد منسلک ہوئیں۔ آپ

Read more

زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، تین دن کا پیاسا حسینؑ

عاشورہ دس محرم کو زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، رسول ﷺ کا نواسہ، تین دن کا پیاسا حسینؑ شہید ہوکر فتح مند ہوتے ہیں۔ عزیز ملک کی ”خون حسینؑ“ میں ہے کہ ”انصار اور اہل بیتؑ میں سے کوئی بھی حضرت امامؑ کی طرف سے لڑنے والا باقی نہ رہا۔ صبح عاشورہ سے دوپہر تک ان کی محفل میں مئے وحدت کی گردش رہی۔ پھر میخانہ عشق کے یہ متوالے نشہ سرمدی میں سرشار ہوکر ستاروں کی سمت پرواز

Read more

غالبؔ : لسانی و اسلوبیاتی مطالعہ

غالبؔ کو شعراء میں یہ امیتاز بھی حاصل ہے کہ ان کا وہ کلام بھی محفوظ ہے جسے آغاز شعر گوئی کہا جاتا ہے۔ کلام میں شعریت، شعری حسن اور جامعیت اور بے ساختہ پن نمایاں ترین خصوصیات ہیں۔ غالبؔ زندگی کا شاعر ہے، غالب نے زندگی کے مد و جزر اور شکست و ریخت کو بیان کیا ہے اور انسانی کمزوریوں اور اعلیٰ اقدار کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ طالب علم کے خیال میں غالب کی شاعری

Read more

خواہشات کی بھینٹ چڑھا ایک افسر

فرخ چند دنوں سے شدید دباؤ کا شکار تھا، محرم کے دن تھے اور ہر سال کی طرح ضلع بھر میں انتظامی معاملات کے سب جھنجھٹ اس کے ذمہ تھے۔ وہ ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر تھا جسے ضلع نارووال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ آج کل کے ہنگامہ خیز حالات سے ضلعی مشینری حتیٰ المقدور نبرد آزما ہو رہی تھی، سارے دن کی تھکا دینے والی مصروفیت اور دیر تک چلنے والی میٹنگز سے فراغت کے بعد دیر سے گھر آنا ان دنوں کا معمول تھا۔

اس کی بیوی سلمیٰ اس کی اس روٹین کی رفتہ رفتہ عادی ہو رہی تھی، بچے سارا دن باپ کا انتظار کرتے اور اس کے آتے ہی اس سے چپک جاتے اور سارے دن کے حالات، ایک دوسرے کی شکایتیں اور فرمائشیں اور نجانے کیا کچھ نہ ہوتا ان کے پاس سنانے کو ۔ جب کہ اسے شکم کی بھوک مٹانے اور پھر سونے جلدی ہوتی کیونکہ ایک لمبے دن کی تکان کے بعد اگلا دن پھر مصروفیات کی لمبی فہرست لئے ہوئے ہوتا۔ صبح بھاگم بھاگ ناشتہ اور بچوں کو سکول پہنچا کر دفتر جاتا اور پھر کولہو کے بیل کی طرح زندگی کا ایک اور چکر شروع ہو جاتا، اس کی زندگی مشینی سی ہو کر رہ گئی تھی۔

Read more

نو نیوز از گڈ نیوز

کسی چیز، کسی واقعہ یا کسی صورت حال کا علم اور معلومات نعمت سے کم نہیں پر بسا اوقات یہ واقفیت و آگہی وبال جان بھی ثابت ہوتی ہیں۔ اک دور تھا کہ انسان آج کی اندھا دھند ترقی کی معراج سے ناواقف تھا۔ وہ گرد و پیش اور عالمی حالات و واقعات کا علم رکھتا تھا نہ ہی مستقبل کے حادثات و سانحات کی پیش گوئیوں سے لرزاں تھا۔ انسان اپنے کام سے کام رکھتا اور شب کو اپنی نیند سوتا۔ مہلک بیمار یوں کی صورت میں ان کے بھیانک نتائج سے بھی نا آشنا رہتا۔

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار اور رؤف کلاسرہ

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اس شہر کا لینڈ مارک بننے جا رہا ہے۔ خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور ان سے متعلق تمام انتظامی معاملات و امور کو حسن و خوبی سے نمٹانا جناب شاہد حمید کے سعادت مند بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد پر ختم ہے۔ ہماری معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے ملک کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کی حالیہ چھپنے والی فرانسیسی ادیب بالزاک کی کتاب کا تذکرہ کیا۔ ہم پرانے لوگ اچھی کتابوں کے تو رسیا ہیں۔ فوراً اسے لکھا کہ سعدیہ پبلشر کا لکھو۔ کرونا کا خوف بھی اب کم ہو گیا ہے خریدتی ہوں۔ اسے گگن نے بھی کہیں پڑھ لیا۔ سعادت مند بچہ فوراً ہی بیچ میں کودا۔ ”ارے نہیں آپا میں بھیج رہا ہوں آپ کو“ ۔

Read more

اپنا اپنا یزید

محرم ہر سال آتا ہے اور ہم میں سے کچھ یکم سے دس محرم تک اور کچھ صرف دس محرم کو ماتم یا سوگ منا کر پلٹ کر اپنے اپنے کاموں میں گم ہو جاتے ہیں کہ پھر آئندہ برس جب برسی آتی ہے تو پھر سیاہ لباس پہن کر ماتم کرنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت امام حسین ( رض) کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں کہ وہ کربلا میں بے یارومددگار شہید کر دیے گئے۔ روتے ہیں سینہ کوبی کرتے ہیں زنجیر زنی کرتے ہیں اور آگ پر بھی چلتے ہیں خود کو جتنی تکلیف دے سکیں دیتے ہیں کہ حضرت جی کی تکلیف کو یاد کر سکیں مگر افسوس کہ آج تک سوائے سینہ کوبی کے ہم اور کچھ نہیں کر سکے۔

Read more

قاری اللہ وسایا کی ”دلیم“۔

صبح صبح دروازے پر مسلسل گھنٹی بج رہی تھی، بجانے والے کا غالب گمان تھا کہ شاید میری چارپائی گیٹ کے ساتھ ہی ہوتی ہے اور میں گیٹ کا کنڈا تھامے سو جاتا ہوں۔ پہنچتے پہنچے گھنٹی کا گلا تقریباً جواب دے چکا تھا اور کسی قریب المرگ چڑیا کی طرح اپنی آخری سانسیں، لے رہی تھی اور محض چ ی، چ، ی، چ، ی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جلدی سے گیٹ کھولا تو سامنے قاری اللہ وسایا صاحب کھڑے تھے۔ قاری اللہ وسایا پانچ چھ گھر چھوڑ کر ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں نیک آدمی ہیں۔

عربی زبان کی کافی شد بد رکھتے ہیں۔ ہر جمعرات کو دروازے پر گھنٹی بجاتے ہیں اور تبلیغی مرکز پر ساتھ چلنے کو کہتے ہیں۔ لیکن میری پہلے سے کوئی نہ کوئی مصروفیت ہوتی ہے۔ اس لیے معذرت کر لیتا ہوں، پھر کہتے ہیں چلو نیت ہی کر لیں کبھی نہ کبھی تو ضرور حاضری ہوگی اب تک وہ کئی نیتیں کروا چکے ہیں لیکن کار جہاں دراز ہے۔

Read more

تمہارے نام کچھ دل کی باتیں

میرے پیارے

بے یقینی کے موسم میں تم مجھے آ ملے ہو۔ اس کورونا کی عالمی وبا نے زندگی کے متعلق نظریہ بدل ڈالا ہے ایک طرف غیر یقینی صورتحال ہے تو دوسری طرف اسی بے یقینی نے زندگی کی قدروں کو اجاگر کر دیا ہے۔ بوریت، بے کیف طبعیت، یکسانیت جیسے کیفیات گویا الفاظ بن گئی ہیں۔ پہلی لہر کے دوران جب ایک دم پتہ چلا کہ کیسی عفریت آن پڑی ہے کہ سب کچھ یک دم بدل گیا ہے۔ نہ تو وہ کام کی روٹین ہے، نہ ویسا سونا جاگنا، نہ کوئی وقت کی پابندی نہ کسی سے ملنا جلنا ایک دم آنکھیں کھل گئی کہ یہ کیا ہوا؟ زندگی تو اسی رنگ و بو کا نام ہے۔ اسی چہل پہل کو زندگی کہا گیا ہے۔ محبتیں، نفرتیں، غصہ پیار، اختلاف اور اتفاقات اس کا حسن ہیں۔ ایک کیفیت جو خوف کی ہے ہر کیفیت کو اپنی دبیز تہہ میں ڈھانپ لے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔

Read more

یکم ستمبر کا فضائی معرکہ اور سرفراز رفیقی شہید

ماہ ستمبر شروع ہو چکا۔ یہ مہینہ ہمیں 1965ء کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ انفرادی جودت اور اجتماعی کوتاہیوں کا دلچسپ امتزاج ہے۔ جنگ ستمبر کئی اعتبار سے اس امتزاج کا مظہر تھی۔ بتایا گیا مسئلہ کشمیر جنگ کی بنیادی وجہ تھا۔ آج تک ہم یہ تعین نہیں کر سکے کہ کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے ملک کے قیام کے بیس سال کے اندر اندر کسی بڑی مسلح کشمکش میں ملوث ہو جانا

Read more

مسائل: بیروت کی طرح کراچی میں بھی تحریک

اگر کوئی شخص واقعتا یہ سمجھتا ہے کہ کراچی کو ’’اندرون سندھ سے آئے وڈیروں‘‘ سے ’’آزاد‘‘ کرواکر اس شہر کے دیرینہ مسائل کا دائمی حل نکالا جاسکتا ہے تو میں اسے ’’سادہ لوح‘‘ پکارنے کو ترجیح دوں گا۔ لوگوں کی نیتوں پر شبہ کرنے کی مجھے عادت نہیں۔کسی کو ٹھوس شواہد کے بغیر ’’ملک دشمن سازشی‘‘ ٹھہرانا ایک غیر ذمہ دارانہ ہی نہیں کئی اعتبار سے ظالمانہ رویہ بھی ہے۔ربّ کریم ہم سب کو اس رویے سے بچائے رکھے۔

Read more

محرم الحرام اور ہم (شیعہ و سنی)۔

محرم الحرام کا چاند افق پہ ابھرا تو دل ناتواں نے اک قوی و مصمم ارادہ باندھا کہ مذہبی بحث مباحثہ نہیں کرنا اور حسب معمول کی تکرار سے بچنا ہے تو بعطائے فضل رہی سو فیصد تو نہیں مگر پچانوے فیصد اپنے مصمم ارادے کی تکمیل میں کامیاب رہا ہوں۔ ایک دو جگہ پہ تھوڑی بہت بات کی بھی تو معاملے کی نزاکت و طوالت کو دیکھتے ہوئے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فضل سے بخیر و عافیت دسویں محرم الحرام کا مبارک، عظیم اور دکھوں سے بھرا دن گزر چکا تو سوچا کہ جو جو اس محرم میں دوستوں سے سیکھا اس کو سہارے قلم کے زینت بنا دوں کاغذ کی۔

Read more

وبا کے زمانے میں بین الاقوامی سفر: کیا آپ نے کبھی لندن سے پاکستان یا انڈیا بس پر جانے کا سوچا ہے؟

کورونا وائرس کے دنوں میں فضائی سفر مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ بذریعہ سڑک بین الاقوامی سفر کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔ کئی پاکستانی تو انگلینڈ سے بذریعہ کار کے پاکستان کا سفر کر آئے ہیں لیکن یہ سب پہلی بار نہیں ہو رہا۔۔۔

Read more

کیا ہم اپنے بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں؟

میری ایک کینیڈین مریضہ جینیفر جب پچھلے ہفتے مجھ سے ملنے آئیں تو وہ بہت اداس تھیں۔ کہنے لگیں میری دس سالہ بیٹی کیرن مجھ سے دس دن سے ناراض ہے۔ میں نے جینیفر سے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ کیرن کہتی ہے کہ آپ ساری عمر مجھ سے جھوٹ بولتی رہی ہیں۔ آپ جب ہر سال مجھے کرسمس کے موقع پر تحفے دیتی تھیں تو کہتی تھیں کہ وہ تحفے میرے لیے سانتا کلاز لے کر آیا ہے۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ سانتا کلاز ایک بہت بڑا جھوٹ ہے، بہت بڑا ڈرامہ ہے، بہت بڑا فراڈ ہے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ اگر آپ نے میرے ساتھ سانتا کلاز کے بارے میں جھوٹ بولا ہے تو نجانے اور کتنی باتوں میں جھوٹ بولا ہوگا۔

Read more

عمران خان نے کمراٹ کو ایک کامیاب سیاحتی علاقہ کیسے بنایا؟

عمران خان کے طرز سیاست، حکومت میں آنے کے طریقے اور اپوزیشن کے خلاف مسلسل سخت موقف رکھنے جیسے بہت سے معاملات پر بات کی جا سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔ اور حکومت میں دو سال مکمل کرنے کے بعد اب ان کے ناقدین میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ اپنے بھی پرائے ہوتے جا رہے ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس پر پاکستان کے زیادہ لوگ اب بھی اتفاق کرتے ہیں کہ عمران خان نے سوشل میڈیا کی طاقت کو جس طرح اپنے مخالفین کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا اسی طرح انہوں نے سیاحت کے معاملے پر لوگوں کی رائے کو انتہائی حد تک متاثر کیا جن میں اگر کوئی ایک مثال دیکھنا چاہے تو وہ ہے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر دیر کے انتہائی دوردراز جنگلات پر مشتمل علاقے کمراٹ کی طرف لوگوں کی توجہ دلانا ہے۔

پش اور اور اسلام آباد دونوں سے یکساں قریبا تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کمراٹ کوہ ہندوکش کے دامن میں خوبصورت ترین علاقہ ہے جہاں پر جنگل، آبشاریں، دریا، بادل اور خوبصورت پہاڑ سب یکجا ملتے ہیں، حسن ایسا کہ جب تک انسان دیکھے تو جیسے موجود ہے اور جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا جیسے خواب دیکھ رہے تھے۔

Read more

چودھری الحاج شیخ شجاعت حسین، سی ای او، چیف ایگزیکٹو، وی سی

الحاج شیخ صاحب، جنوبی پنجاب کے درمیانے درجے کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، گھرانے میں سب ہی پیٹ بھر کے کنجوس مکھی چوس، یعنی کنجوس ہونے کی انتہا یہ کہ بڑے شیخ صاحب کی دھوتی کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہوتی۔ لیکن جب تک وہ تار تار نہ ہو جائے نئی دھوتی حرام۔ بچوں کو وہ صرف لنڈے کے کپڑے ہی پہناتے، ان کا عقیدہ تھا کہ کپڑوں پہ پیسا بیوقوف لوگ خرچ کرتے ہیں۔ عقل مند جمع کرنے

Read more

سنہرا اسلامی دور: خلیفہ ہارون الرشید کی زندگی کی کہانی، کتنی حقیقت، کتنا افسانہ

ہارون الرشید اور بغداد کا نام ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا بغداد ہہت زبردست جگہ رہی ہو گی، بالکل اس طرح جیسے ’الف لیلی‘ میں پیش کی جاتی ہے۔ لیکن وہ حقیقت میں کیسے تھے؟

Read more

نوشابہ کی ڈائری: جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے

12 اکتوبر 1991 اب یقین آیا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ صدام حسین نے قبضہ کیا ہے کویت پر، لڑ رہے ہیں سعودی حکم راں اور صدام حسین، حملہ کیا امریکا نے عراق پر، اور نام بدل گیا ہمارے ننھے منے فہد کا۔ میرے منہ پر اب تک اس کا نیا نام نہیں چڑھا ہے، اکثر اسے ”صدام“ کی جگہ ”فہد“ کہہ جاتی ہوں، اور تو اور خود بھائی جان جنھوں نے نام تبدیل کیا انھیں بھی اب تک اپنے

Read more

باجوہ گھرانے کا کاروبار اور تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت

‎نورانی تحقیقاتی رپورٹ کا ہدف ریٹائرڈ جرنیل اور اس کے اہل خانہ نہیں، مسلح افواج کا ادارہ ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے، جن کا جنرل عاصم سلیم باجوہ سے رشتے داری کا دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی اور امریکی کلاکار اس پر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ‎معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ دو سطری تردید

Read more

میں ایک معروف شاعر ہوں۔ کیوں اور کیسے؟

میں ایک معروف شاعر ہوں۔ خوش نصیب ہوں کہ میرے اتنے چاہنے والے ہیں۔ میری نظموں نے فیس بک پر دھوم دھام مچائی ہوئی ہے۔ فالورز میں کوئی ہزار وں لوگ ہیں۔ اور مجھے ہر روز نئی فرینڈز ریکویسٹ آتی رہتی ہیں اور میں کسی کا دل نہیں توڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ سب ہی میرے فینز ہیں اور میرے لیے اہم بھی۔ میں ایک ایک کو ذاتی طور پر اپنی نظمیں بھیجتا ہوں۔ سب ہی لایئک کرتے ہیں۔ تو

Read more

کابل یونیورسٹی میں استاد کی طالبہ کے بچے کو امتحان کے دوران دودھ پلانے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

گذشتہ ہفتے کو کابل یونیورسٹی کے استاد کی ایک طالبہ کے چار ماہ کے بچے کو امتحان کے دوران بہلانے کی تصویر کی سوشل میڈیا صارفین تعریف کرتے ہوئے اسے افغانستان میں 2020 کی بہترین تصویر قرار دے رہے ہیں۔

Read more

شیعہ فیکٹ چیکر – کیا حقیقت ہے کیا افسانہ

جیسے ہی ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے، غیر تشیع حلقوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے۔ ویسے تو سال بھر کسی نہ کسی موقع پر یہ نکات اٹھائے ہی جاتے ہیں مگر محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام اس نوعیت کی بحث میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لئے انٹیگریٹو کمپلیکسٹی یا انضمامی پیچیدگی کی اصطلاح کو سمجھنا زیادہ مناسب رہے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس سے مراد ایسی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنے نظریات، خیالات اور عقائد کو باریک بینی، معقولیت اور دانستگی سے مرتب کرے۔

ایسے انسان خود کو دوسروں کی جگہ اور حالات میں سماں کر سوچتے ہیں۔ اس کے بنیادی تین مراحل ہیں ؛ آئسولیشن یا علیحدگی، ڈفرنسیایشن یا تفریق اور تیسرا سب سے اہم مرحلہ ہے انضمام یا شمولیت کا۔ ایک شخص کے عقائد یا نظریات دوسرے عقائد اور نظریات سے علیحدہ اور جدا ہو کر ہی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ دو مختلف نظریات ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں اور ایک جگہ دو یا دو سے زیادہ رائے پائی جا سکتی ہیں جو کہ سنگین اور جھوٹ بیک وقت ہو سکتی ہیں۔

Read more

ہاسٹل میں خودکشی یا قتل؟

ستائیس اگست 2017 ء کی صبح نو بجے کے قریب مجھے کلاس فیلو عدنان رانا کی کال آئی کہ خالد بن ولید ہاسٹل (اولڈ کیمپس) جامعہ پنجاب کے کمرہ نمبر 169 میں ایک لاش پڑی ہے اور کئی دن پرانی لگ رہی ہے۔ چہرے اور جسم کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ پہچان ناممکن ہے اور تعفن کی وجہ سے قریب جانا مشکل ہے۔ ہاسٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کمرہ شعبہ اردو کے طالب علموں کو الاٹ تھا لہٰذا آپ کسی اردو کے طالب علم کو بلائیں تاکہ پہچان ممکن ہو۔

میں ان دنوں لاہور کے ایک نجی کالج میں بطور اردو لیکچرار ملازمت کر رہا تھا جو اورینٹل کالج (اولڈ کیمپس) سے چند منٹ کی پیدل مسافت پہ تھا۔ میں دس منٹ میں ہاسٹل پہنچا، انتظامیہ نے بتایا کہ اس کمرے میں ہمارے دوست شاعر تہذیب حافی اور شاہد خان نامی طالب علم کی الاٹ مٹ ہے اور حافی تو کچھ روز قبل ہی ہاسٹل سے پرائیویٹ فلیٹ پہ شفٹ ہوا تھا اور شاہد خان کئی دن سے گھر (بہاول نگر) تھا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ جن دو لوگوں کے نام الاٹمنٹ ہے وہ دونوں ہاسٹل میں نہیں جبکہ ایک تیسرا شخص کمرے میں کیسے موجود ہو سکتا تھا؟

Read more

جاپانی عورت اور پیار کی تلاش

سب سے پہلے تو اپنے اس پرانے دوست کا ایک فرضی نام رکھ لیتے ہیں۔ جواد گھانچی۔ گھر والے دوست سبھی اسے جاجو پکارتے تھے۔ سو بہتر ہے آپ بھی اسی نام کو یاد رکھیں۔ نوے کی دہائی میں لپک جھپک میں جاپان جا پہنچا تھا۔ یہاں لیاری کی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے دو فلور والے گھر میں دس بھائی اور کئی سو بھابھیاں رہتے تھے۔ ماں زبردست عورت تھی مگر اس کے باوجود ان گھروں میں ہر وقت

Read more

یزیدی نہیں، حسینی بن

کربلا محض ایک واقعہ ہی نہیں، ایک استعارہ ہے، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے، ایک حقیقت کا نام ہے، کربلا ایک خاموش طوفان کا نام ہے کہ جب وہ آتا ہے تو سب یزیدیوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ کربلا کیا ہے، سیاسی مزاحمت کی ایک عمدہ ترین مثال۔ کربلا اور حسینیت لازم وملزوم ہیں۔ جہاں جہاں کوئی ظالم یزید کربلا برپا کرے وہاں وہاں کوئی نہ کوئی حسین ضرور آجایا کرتاہے۔ کربلا محض سینکڑوں سال

Read more

عارف فاروقی نے سب کھو دیا

زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ہم سب سن چکے ہیں مگر ہماری خدا سے ہمیشہ یہ دعا رہی کہ اللہ ہمیں ہر مصیبت سے بچائے اور وہ عطا کرے جس میں دینی اور دنیاوی سکون ہے۔۔۔ آج دل بہت اداس اور گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔ 22 مئی جمعہ المبارک کو طیارہ حادثے نے یہ سوچنے پر مجبور کیا انسان کی چاہ اور اللہ کی چاہ میں فرق کیا ہے۔۔۔ بہت سی جانیں گئیں کئی خاندان اجڑ گے۔ ہم

Read more

دعا اور یقین کامل

انسان اپنی محبت میں خدا کی محبت کے علاوہ خدا سے سب کچھ مانگتا ہے، عام طور پر مل جانے کی صورت میں انسان گمراہ ہونے کے خدشات سے دو چار رہتا ہے، اور نہ ملنے یا دیر سے ملنے کی مصلحت کو سمجھے اور جانے بغیر ہی مایوسی کا شکار بھی ہو جاتا ہے، منعم سے اپنی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ اس کے رتبے کے حساب سے مانگا جاتا ہے۔ اور رتبہ کو جاننے کے لیے ہم ہرگز

Read more

چھوٹی سی خصال کی بہت بڑی شاعری

زاہد کاظمی نے جو کتابیں بھیجیں ان میں خوبصورت سرورق والی دو پیپر بیک بھی تھیں۔ یہ دو بچیوں کی لکھی کتابیں تھیں۔ دس برس کی خصال زینب کی Blossoms in the early spring جو اس کی شاعری، نثر نگاری اور مصوری پر مبنی ہے۔ دوسری کتاب پندرہ سالہ فاطمہ زہرا کی مصوری اور شاعری پر مشتمل کتاب Whispers in the spring۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ محبی فیض علی، جو کسٹمز کلکٹر ہیں کی بچیاں ہیں۔ کسٹمز اگرچہ نیک

Read more

سنگین دیوار

چھ مہینہ بعد آج میں اپنے گاؤں واپس آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سڑک جس کے دونوں طرف ہمارا گاؤں آباد ہے اس کے ٹھیک بیچوں بیچ ایک قد آدم دیوار کھڑی ہے۔ میں اپنے گھر آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ پیک ایک ٹیبل پر ڈال دیا اور اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ارے اس کمبخت دیوار نے

Read more

انصر چوہدری کا مذہب اور سابقہ خاندان

مختلف عمروں کے چند بچے، بھاگ کر آئے اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے لفافے ایک ایک بچے کا نام لے کر اسے تھمانے شروع کیے ۔ یہ اس کا خاندان تھا۔ اور یہ اس کا گاؤں تھا۔ مگر وہ یہاں نہ پیدا ہو ا تھا اور نہ یہ بچے اس کے کچھ لگتے تھے۔ وہ کون تھا؟ اس کی پہچان گم گئی تھی یا یہی اس کی پہچان تھی۔ یہ بچے۔

Read more

تعلیم سب کا حق ہے

تعلیم نسلیں سنوار دیتی ہے۔ مستقبل روشن بنا دیتی ہے اور جینے کا ہنر سکا دیتی ہے۔ ترقی کا دار و مدار تعلیم پر ہے۔ اندلس کی عظیم سلطنت تعلیم کے بل بوتے پر بنی۔ بغداد کو اہمیت اور عزت تعلیم کی وجہ سے ملی۔ مسلمانوں نے ترقی علم کی بدولت حاصل کی۔ عرب کے صحراؤں میں رہنے والے اور جہالت میں ڈوبے عرب علم کی بدولت دنیا کے امام بن بیٹھے۔ اسی طرح اہل یورپ زمانہ جاہلیت میں رہ

Read more

صحت مند معاشرہ: ترقی کا ضامن

اس وقت ہمیں صحت پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص غذاؤں، دواؤں اور آلودہ ماحول نے قریباً ہر دوسرے شخص کو متاثر کیا ہے۔ کوئی گردوں، دل اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہے تو کوئی جگر، معدہ اور ٹی بی کے مرض کا شکار ہے لہٰذا حکومت کو فی الفور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دینا چاہیے۔ یہ اس کا فرض ہے اور ذمہ داری بھی صحت مند شہری ہمیشہ مثبت سوچتے ہیں اور

Read more

حاضر پاکستان، غائب پاکستان

عمران خان کو ان کے پرانے وعدے یاد کرانا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے لیکن وہ بھی اُس ریاست کے سخت مخالف تھے جہاں انسانوں کو اغوا کر کے گمشدہ کر دیا جاتا ہے۔ آپ کے گھر کے دروازے پر ڈاکٹر دین محمد کی دو بیٹیاں بیٹھی ہیں جو ہر آنے جانے والے سے پوچھتی ہیں کہ ہمارے باپ نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کرو۔ محمد حنیف کا کالم۔

Read more

ان بارشوں سے دوستی۔۔۔

ثمرین میری بہت اچھی دوست ہے وہ بہت سال سے سرجانی ٹاؤن کراچی کے علاقے میں رہائش پذیر ہے۔ میری اس دوست کو بارشیں بہت پسند تھیں لیکن پچھلے کچھ برسوں سے اس کا بارشوں سے پسندیدگی کا رشتہ بہت حد تک ناپسندیدگی میں بدل چکا ہے۔ ثمرین کے بقول برسات شروع ہونے سے قبل وہ شدید ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہے اور یہی حال اس کے گھر کے دوسرے افراد کا ہوتا ہے۔ میری اس دوست کی اس

Read more

سائیں ظہور احمد کا حق ادا کیا جائے

گزشتہ روز حسب معمول اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جس سے پڑھنے کے بعد دل افسردہ ہو گیا۔ پاکستان کے مشہور صوفی گلوکار سائیں ظہور احمد کے بارے میں رپورٹ تھی کہ حکومت پاکستان ان کے ساتھ ہاتھ کر گئی۔ خبر کچھ یوں تھی ”وفاقی حکومت سائیں ظہور کو ایوارڈ کی امید دلا کر بھول گئی، سائیں ظہور کی جگہ ایوارڈ کسی اور کو دے دیا گیا“ ۔ سائیں ظہور کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ ڈویژن نے ایوارڈ کی نامزدگی کا خط لکھا اور بتایا گیا کہ ان کا نام ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ وقت آنے پر انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا بلکہ ان کی جگہ کسی اور کو ایوارڈ دے دیا گیا ہے۔

Read more