گلگت بلتستان کے حق ملکیت اور حق حاکمیت پر امجد حسین ایڈوکیٹ کا موقف

گزشتہ سال یکم نومبر کو جشن آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج کا دن بہت تاریخی دن ہے مگر بد قسمتی سے گزشتہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کے عوام جبر کا شکار اور بنیادی آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے حق ملکیت پر اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”پنجاب کی زمینوں

Read more

آٹزم میں مبتلا بچے کی والدہ سے گفتگو

ہم نے مسز شازیہ سلام سے ان کے بیٹے کے متعلق طویل گفتگو کی جو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا ہے۔ مسز شازیہ سلام کی عمر 45 سال ہے اور ان کی تین اولادیں ہیں۔ طارق ان  کی دوسرے نمبر کی اولاد ہے کہ جن کی تشخیص تین برس کی عمر میں ہوئی۔ شازیہ سلام کے دوسرے دو بچے نارمل ذہنی استعداد کے حامل ہیں۔ شازیہ سلام اور ان کے میاں عامر سلام کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دونوں

Read more

غربت، تعلیم اور بچوں سے مشقت

میں سیمینار کے اختتام پر جونہی سٹیج سے اتری ایک خوبرو نوجوان بجلی کی سی سرعت کے ساتھ میری طرف لپکا۔ ”ڈاکٹر صاحبہ! ٓپ نے مجھے پہچانا؟ میں آپ کے سکول میں پڑھتا تھا۔ میرا نام وسیم ہے۔ آپ نے جو سکول قالین باف بچوں کے لئے بنایا تھا۔ کیامیں آپ کو یاد ہوں؟ آپ جب بھی سکول آتیں میرے گریڈز دیکھ کر مجھے شاباش دیتیں۔ میں ایم فل کر رہا ہوں۔ ۔ ۔“ ۔ آنکھوں کی چمک اور الفاظ

Read more

حلیمہ کی بیٹی

حلیمہ کو دیکھ کر سب کہتے۔ کیسی عورت ہے اپنی صحت کا خیال نہیں کرتی اور دن بھر محنت مشقت کرتے نہیں تھکتی۔ حلیمہ کو جو پہلی نظر دیکھتا تو یہ ضرور کہتا۔ ”دیکھو تنکا سی ہے، اس میں جان نام کی چیز ہی نہیں“ ۔ کچھ منہ پھٹ کہہ بھی دیتے۔ ”ہائے حلیمہ تم بچپن سے ایسی ہو کہ اب ڈائٹنگ کا شوق چرایا“ ۔ ”حلیمہ سب کی اپنے دبلے وجود کے متعلق باتوں کو ہنس کر ٹال دیتی“

Read more

جنگی قیدی

مصنفہ : مونا فاضل (عراق) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015 ساحرہ دروازے کے فریم میں کھڑی اپنے بابا کو واضح ہوتا دیکھ رہی تھی، جبکہ صبح کا سورج اس کے دودھیا سفید باورچی خانے کو روشن کر رہا تھا۔ وہ سنگ مرمر کی میز پر بیٹھا ایک ریڈیو ٹرانزسٹر کی تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کر رہا تھا۔ سورج کی دھوپ براہ راست اس پر سے گزر رہی تھی۔ ساحرہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر

Read more

بیٹی پرائی ہوتی ہے

بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں یہ سوچ کر رضیہ اپنے گھر کی دہلیز پار کرتے کرتے رک گئی۔ عارف کو نہ جانے نشے کی لت کب سے تھی، والدین نے یہ سوچ کر بیاہ دیا شادی کے بعد سدھر جائے گا۔ اپنی تربیت کی کمی پوری کرنے کے لیے نہ جانے والدین کیوں دوسروں کی بیٹیوں کی زندگی کیوں اجیرن کر دیتے ہیں۔ عارف نہ صرف نشئی بلکہ بے کار آدمی بھی تھا جس کی کمائی رشتہ طے کرتے وقت ہزاروں

Read more

عورت کے معاملے میں دکھتی رگ

عورت سو سال سے زائد عرصے سے اپنی بقا، اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔ ان حقوق کو حاصل کرنے کے لیے جو پہلے سے ہی اس کے ہیں لیکن ان کی ادائیگی میں بہت کمیاں ہیں۔ لیکن اب امید نظر آتی ہے کہ کم از کم این جیو اوز اور ایلیٹ کلاس کی کچھ بگڑی اور سازشی خواتین (معافی چاہتی ہوں پر جو سچ ہے ) کو نکال کر خواتین کی کافی تعداد ہے جو اپنے حقوق کے

Read more

پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین: صبیحہ خانم

اداکارہ اقبال بیگم المعروف بالو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتی تھیں اور غیر منقسم ہندوستان کی فلم ”سسی پنوں“ اور بہت سی فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق گجرات ( پاکستان ) کے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تھا۔ شومیٔ قسمت کہ ان کی شادی معاشی طور پر ایک کمزور شخص محمد علی ماہیا سے ہو گئی ’بد قسمتی‘ جس کے تعاقب میں تھی۔ یہ اپنی بیگم کے روپے پیسے کے ہوتے ہوئے کام

Read more

انتقام سے برداشت تک پہنچنے کا راستہ

من پسند، مرغوب، پسندیدہ، قابل قبول، ناقابل قبول، ناپسندیدہ، غیردلچسپ، مکروہ اور قابل نفرین، یہ سارے محض مختلف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کے ساتھ درجہ بدرجہ احساس، رویہ اور رد عمل وابستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شے، ایک شخص یا ایک عمل مکروہ تو لگتا ہو لیکن کسی طرح بھی قابل نفرین محسوس نہ ہوتا ہو۔ اسی طرح کوئی شے، کوئی شخص یا کوئی عمل پسندیدہ تو ہو لیکن مرغوب اور من پسند نہ ہو۔

Read more

سلطان جمیل نسیم۔۔۔ اپنے فن کے آئینے میں

(یہ مضمون CANADA INTERNATIONAL COUNCIL OF ARTS کی AUGUST 16 TH، 2020 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ میزبان تھے شعیب ناصر اور ڈاکٹر بلند اقبال) خواتین و حضرات! آج ہم سب سلطان جمیل نسیم کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ایک منفرد اور ہمہ جہت افسانہ نگار تھے۔ مجھے مئی 2007 کی وہ حسیں اور خنک شام یاد ہے جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون

Read more

پانچویں شریف کا جنم دن

کچھ دن پہلے پانچویں شریف کا دن تھا مارک زرک برگ نے اپنے ماتحتوں کے توسط سے خاص تہنیت کا پیغام بھیجا تو مانو فیس بک نے منادی ہی کر دی۔ بس جی اب تو ہر کوئی مارک زرک برگ پہ سبقت لے جانا چاہتا تھا، جسے دیکھو پانچویں شریف کے در پہ پھول لیے کھڑا تھا۔ ان میں کچھ عقیدت مند بہت احترام کے ساتھ حاضر تھے، کچھ آس کا دامن پکڑے پرجوش تھے، مایوس افراد چپ چاپ ایک

Read more

ڈاکٹر محمد حمید الله

ڈاکٹر حمید اللہ 19۔ فروری، 1908 ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ 8 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ والد کا نام محمد خلیل اللہ تھا جو خود بھی ایک ادیب اور عالم تھے۔ حمید اللہ نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور 1924 ء میں مولوی کامل کا درجہ مکمل کیا۔ 1924 ء میں آپ نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن میں داخلہ لیا اور 1930 میں اسلام،

Read more

وطن اور ریاست

وطن اور ریاست کی تعریف اب لازم ہو گئی ہے، کیونکہ معاشرے میں جس طرح دشنام طرازی کی جارہی ہے، اس کا ٹھکانہ تباہی و بربادی ہے۔ وہ خطہ جو جغرافیائی حدود کے اعتبار سے وجود میں آتا ہے اسے وطن کہتے ہیں۔ ہمارے شاعر مشرق وطن کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ان کے بقول ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے اسی طرح کا بیانیہ

Read more

آزادی کے تہتر سال اور اقلیت کی بیٹیاں

دو چرچز میں جشن آزادی کی تقریبات میں حصہ لیکر، دو مسیحی محلوں میں یوم آ زادی کے کیک کاٹ کر فارغ ہوئے تو جلدی کرتے کرتے رات دس بجے چکے تھے۔ مگر خاندان کے ساتھ جشن منانا ابھی باقی تھا مگر وقت کی مناسبت سے صرف کھانے تک ہی محدود کرنا پڑا۔ خیال آیا کیوں نہ سونے سے پہلے دن بھر کی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر ڈال کر فخر سے سویا جائے۔ صبح اٹھ کر حسب ضرورت ناشے تک

Read more

عزت ہمیشہ عورت کی نہیں، کمزور کی لٹتی ہے

اگلی صبح وہ آفس کی گاڑی کا انتظار کیے بغیر ہی آفس پہنچ گئی۔ اسے پتا تھا کہ جس وقت وہ آفس جائے گی تب تک بختاور ایک میٹنگ کے لیے جاچکی ہوگی۔

بختاور کسی کام میں مصروف تھی جس کی وجہ سے بسمہ کو آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا اور اس دوران بسمہ مسلسل یہ سوچ سوچ کے تلملاتی رہی کہ اب بختاور اس کی ”باس“ ہے اسی لیے انتظار کروا رہی ہے۔ ان لوگوں کا پبلک میں رویہ کچھ اور ہوتا ہے اور اصل میں کچھ اور۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ دب کے یا ڈر کے بات نہیں کرے گی۔ باس ہے تو ہوتی رہے۔ جتنا وقت گزرتا جا رہا تھا بسمہ عجیب سے تناؤ کا شکار ہو رہی تھی۔ اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ وہ شدید اضطراب کا شکار ہو رہی تھی۔ آخر کار بختاور نے اسے آفس میں بلوا لیا۔

Read more

دیوار چین اور لوک کہانیاں

چین کا نام آتے ہی دیوار چین کا خیال ضرور آتا ہے۔ بچپن سے سنتے آئے تھے کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک دیوار چین ہے۔ چین جانے کے بعد جب ہمارے چینی دوستوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم سب سے پہلے کیا دیکھنا پسند کریں گے تو ہمارا جواب تھا ”دیوار چین“ ۔ تصورات میں اکثر ہم نے دیوار چین کا نقشہ باندھنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں بنی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ دیوار

Read more

صحافی بمقابلہ صحافی

وفاقی دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ساتھ ہی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہمارے کچھ صحافی بھائیوں کی کشمکش بھی عروج پر ہے۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہمارے مخلص دوست اعجاز عباسی کا ڈی جی عاصم کھچی صاحب سے ہونیوالا معمولی جھگڑا رفتہ رفتہ غیر معمولی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو اس جھگڑے کی اصل وجہ صحافیوں کی معاشی بدحالی ہے، مجھ سمیت کئی سفید پوش لوگ حال

Read more

خاموش اور دھیمی عورت

ہمارے معاشرے میں ہم کسی کی جنس کے لحاظ سے اس کا خاکہ اپنے دماغ میں بنا لیتے ہیں۔ اگر مرد ہے تو روپ دار ہی ہونا چاہیے اوراگر کبھی کبھی غصہ ہو بھی جاتا ہے تو وہ اس کا حق ہے کیونکہ وہ کمانے والا ہے۔ اور اگر عورت ہے تو وہ سلیقے والی، دھیمی اورسمجھوتہ کرنے والی ہونی چاہیے تاکہ وہ نئے گھر گزارا کر سکے۔ کوئی بھی دو انسان جب ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں تو

Read more

ایک ملک جو اقلیتوں کے لیے حاصل کیا گیا – مکمل کالم

ایک طوائف کا خط۔ اندھے۔ پشاور ایکسپریس۔ کرشن چندر کے یہ تین افسانے اگر آپ نے نہیں پڑھے تو آج وقت نکال کر پڑھ لیں۔ ایک طوائف کا خط پنڈت جواہر لعل نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ہے۔ ایک طوائف دو بچیوں کی سرپرست ہے، ایک بچی کا نام بیلا ہے جو بارہ برس کی ہے، بٹوارے کے خوں ریز فسادات میں طوائف نے اسے ایک مسلمان دلال سے تین سو روپے میں خریدا تھا، یہ مسلمان دلال

Read more

شفقت محمود صاحب، ایس او ایس!

ہمارے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم بیانات کی حد تک تو مذمت کر رہے ہیں لیکن دو لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل اور والدین کی جیب پر اس بھار کا سچ مچ بھی کچھ مداوا کیا جائے گا یا کیمبرج کے ان طلبہ کے ساتھ ہمیشہ کی طرح سوتیلے بچے کا سا برتاو کیا جائے گا؟ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

شہرِ پُرکمال کی باکمال شخصیات: کرشن چندر، بیدی اور کنھیا لال کپور

 عموما لوگ شہروں میں بستے ہیں لیکن بعض شہر لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے۔ لاہور آنے سے پہلے ہم لاہور کو تین حوالوں سے جانتے تھے:۔ 1.وہ پیدا ہی نہیں ہوا جس نے لاہور نہیں دیکھا۔ 2.غلام عباس کے افسانے اوور کوٹ کے حوالے سے. 3.گاؤں کے ایک بزرگ کے جملے سے "بالاں کوں لہور پڑھائی کنڑ بھیج کے ولاونڑ ایویں اوکھے جیویں سور کماند اچوں کڈھنڑاں

Read more

صاحب جی

”او۔۔۔ دوپٹہ سر پہ رکھ۔۔۔ کتے کی نسل۔۔۔“ اماں نے پیچھے سے زور کی آواز لگائی۔ ”دوپٹہ۔۔۔ دوپٹہ۔۔۔ مصیبت ہو گئی ہے۔۔۔“ اس نے دوپٹے کی بکل مارتے ہوئے مڑ کر اماں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا۔۔۔ ”یہ آنکھیں کس کو دکھاتی ہے مردار۔۔۔ منحوس۔۔۔“ اماں آگ بگولہ ہو رہی تھی۔ وہ چپ چاپ آگے چلتی رہی۔ اماں بکتے جھکتے پیچھے آ رہی تھی۔۔۔ ”کبھی سکھ سے کوئی گھڑی نہیں گزری۔ ماں باپ کے گھر تھی دو وقت کی روٹی

Read more

کیا انڈیا میں لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے سے ان کی زندگی بہتر ہو گی؟

انڈیا کی حکومت لڑکیوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ رکن پارلیمان جیا جیٹلی کی زیرصدارت 10 ارکان پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جو جلد ہی اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

Read more

میاں بیوی اور دوست ہونے میں کیا فرق ہے؟

موجودہ زمانے میں جہاں اب نکاح کے کانٹریکٹ پر جن دلہا، دلہن کے دستخط ہوتے ہیں وہ محض ایک دوسرے کے بستر کے ساتھی نہیں ہوتے، وہ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، پارٹنر ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ عمر بھر دکھ سکھ نبھانے کا معاہدہ کرتے ہیں۔ اس معاہدے میں کہیں کسی ایک کی موجودگی میں کسی دوسرے کے ساتھ بستر شیئر کرنے کی شق نہیں ہوتی۔ روایتی میاں بیوی کے ہاں دوسری شادی کی ضرورت یا اجازت

Read more

کرنال اور ملتان ایک گھر میں رہتے ہیں!

"میں لمحہ موجود میں سانس لیتا ہوں لیکن زندہ میں اس لمحے میں ہوں جب میں نے اپنی دھرتی، اپنے شہر کی مٹی کو آخری دفعہ دیکھا۔ میں اس وقت میں جیتا ہوں جب مجھ سے میرا گھر چھوٹا اور میں اپنے محلے، اپنے شہر، اپنی سرزمین سے جدا ہوا۔ مجھے آج بھی وہ گلیاں بلاتی ہیں جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈھلتی شام میں کھیلا کرتا جب تک سورج کی سنہری لو ملجگے اندھیرے میں نہ بدل جاتی۔

Read more

یہ آخری نگاہ

سانولی رنگت والی صوفیہ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے۔ ہاتھ میں موبائل ہے، شاید اپنی دوستوں کو واپسی کے پلان سے آگاہ کر رہی ہو۔ ہانیلورے اور پاول باہر لان میں کھڑے ہیں لیکن میری نظریں افق کے ساتھ گلے ملتے ہوئے برف پوش پہاڑوں پر جمی ہیں۔ یہ صدیوں سے ایسے ہی ایستادہ ہیں، شاید یہ افق سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ کبھی کبھار بادلوں کا ایک ریلا آتا ہے اور چوٹیاں نئی نویلی دلہن کی طرح شرما کر ان کے پیچھے اپنا دودھیا مکھڑا چھپا لیتی ہیں۔

قریب ہی بہتے ہوئے جھرنے کی آواز کانوں میں رس بھر رہی ہے۔ پانی پتھروں سے ایسے پرترنم انداز سے ٹکرا رہا ہے کہ سماعتیں مسکراتی جاتی ہیں۔ سامنے ٹھہری ہوئی نیلگوں جھیل ایسی محسوس ہو رہی ہے، جیسے پہاڑوں کے دامن میں ایک بہت بڑا زمرد جڑ دیا گیا ہو۔ چوٹیوں سے اترتے ہوئے گھوڑوں کی طرح ہوا کے تر و تازہ جھونکے آتے ہیں تو جھیل کی بالائی سطح پر ارتعاش سی پیدا ہو جاتی ہے۔

Read more

جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں

میں ایک پاکستانی ہوں، ایک جذباتی پاکستانی اور اپنی اس شناخت کو تمام تر تحفظات کے ساتھ بسر و چشم تسلیم کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی میں ایک پنجابی ہوں اور یہی میری اولین شناخت ہے کیونکہ پنجابیت کی قوت میرے تلوؤں تلے مٹی کے لمس کا احساس جگائے رکھتی ہے۔

میری پنجابی شناخت میرے لیے بہت سنجیدہ معاملہ ہے کہ یہ میری یہ شناخت مجھے بھلاپے کے عذاب کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اور اس کی وجہ سے شناخت کا کوئی بحران میرے شعور کو تہ و بالا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی شناخت کی مدد سے میں حب الوطنی کے غیر ارضی معیارات کو مسترد کر کے تاریخ کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑے رکھنے میں کامیاب رہتا ہوں۔

Read more

پنجاب کی تقسیم: سکھ لیڈروں کا کردار کیا تھا؟

یوم آزادی کی صبح جب موبائل پر نظر ڈالی تو مکرم ڈاکٹر ساجد علی صاحب کا ایک کالم ” دو قومی نظریہ: چند سوالات ” پڑھنے کو ملا ۔ یہ کالم مکرم و جاہت مسعود صاحب کے ایک کالم کا تسلسل تھا۔ جس میں دو قومی نظریہ کے حوالے سے کچھ سوالات اُٹھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمان ایک علیحدہ قوم تھے تو پھر اسی کلیہ کے تحت ہندوستان کے

Read more

اپنا ماضی ہی اپنا مستقبل نظر آتا ہے

متحدہ عرب امارات نے آخر کار اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں میں، عمان، مراکش، سعودی عرب اور کویت بھی تسلیم کر لیں گے۔ ایران میں چین کی ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا ان واقعات سے کیا تعلق ہے یا دنیا میں ہونے والی نئی صف بندیاں کس طرح ہو رہی ہیں، اس بحث کو چھوڑ کر میں ایک اور طرح کے ماتم ہوں۔ یہ 1990 کا سال تھا یعنی تیس سال قبل جب

Read more

بے جی کا صندوق اور تقسیم کی کہانی

”بے جی آخر آپ کے اس صندوق میں کیا پڑا رہتا ہے جسے آپ ہر ساتویں دن کھول کر کبھی مسکراتی اور کبھی ڈبڈباتی آنکھوں سے دیکھتی چلی جاتی ہیں؟“ وہ اکثر بے جی سے پوچھا کرتی وہ کہتیں : ”یادوں کی اوڑھنی اوڑھ لینے سے میں بچپن کی گلیوں میں پہنچ جاتی ہوں۔ یادیں ایک ایسا اندھا آئینہ ہے جس میں اپنا آپ تو نظر آتا ہے لیکن آر پار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ پرانے عکس، وہ پرانے رشتے،

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی: محرکات اور تدارک

دنیا کی شاید ہی کوئی قوم ہوگی جس نے اپنی عزیز ترین متاع کو یوں بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہوجیسے ہم نے۔ وجہ کیا ہے؟ اکثر و بیشتر دولت کی ہوس اورسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی دوڑ۔ اور یہ بھیڑئے ہیں کون؟ خود اسی قوم کے افراد۔ یعنی اپنے ہی بچوں کو بھنبھوڑنے والے ہم خود ہیں۔ خاکسار کی مراد پاکستان کے طول و عرض میں پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ کوئی اخبار لیجیے، روزانہ اس

Read more

آزادی ہے بھی اور نہیں بھی

ہمارے پیارے وطن کی تشکیل کو 73 برس ہو گئے ہیں۔ 14 اگست 1947 کو برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کو ان کے لئے الگ وطن کا قیام جو ان کا خواب تھا وہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی قیادت میں شرمندۂ تعبیر ہوا۔ مگر جیسا آپ عنوان پڑھ کر تھوڑے حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ آزاد ملک میں آزادی تو ہوگی مگر آزادی نہیں ہے یہ کیا بات ہوئی؟ مگر اگر ہم اس ملک

Read more

نوجوانوں کا عالمی دن

12 اگست پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کے عالمی دن کے طور پر منایاجاتا ہے ۔ دن کی مناسبت سے مختلف تقاریب کا انعقاد کیاجاتا ہے ، جس میں نوجوانوں کے مسائل اجاگرکیے جاتے ہیں اور ان کے حل کی تجاویز دی جاتی ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے یہ دن منایا جا رہا ہے لیکن نوجوانوں کے مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ ان میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو رہا

Read more

بچوں میں کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کمی

کرونا وائرس کی وجہ سے ہر چیز ڈیجیٹلائیز ہو گئی ہے حتٰی کہ اسکول کی پڑھائی بھی آن لائن ہونے لگی ہے۔ آن لائن تعلیم کے جہاں مثبت پہلو ہیں وہاں منفی پہلو بھی ہیں۔ سب سے بڑا نقصان جو اس وقت زیر بحث ہے وہ نوجوان نسل کی کتابوں سے دوری ہے۔ بچوں میں جو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا وہ ختم ہوتا جا رہا ہے اس کے کئی محرکات ہیں سب سے اہم یہ کہ اب آن لائن

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’آخری لفظ‘ کی یاترا

شال (کوئٹہ) کے قدیم محلے کی کنج گلی میں روایتی مکان کے روشن کمرے میں اجلی آنکھوں اور کشادہ پیشانی والے ’نکے ویر‘ فارس مغل نے مجھے اپنائیت کے ساتھ، خلوص میں ڈوبے لفظوں سے آراستہ ”آخری لفظ“ ہاتھوں میں تھامنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے لیے ’شکریہ‘ لفظ بہت معمولی ہے۔

” آخری لفظ“ فارس مغل کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ جس میں بیس افسانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں۔ اسے صریر پبلیکیشنز لاہور نے کتابی شکل میں دلکش اور بامعانی سر ورق کے ساتھ جولائی 0202 شائع کیا۔ اس سے قبل فارس کے دو ناول بعنوان ’سو سال وفا‘ اور ’ہمجان‘ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان ناولوں کونہ صرف وطن عزیز بلکہ ہندوستان کے علاوہ جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں، بے حد پسند کیا گیا۔ فارس نظم کا شاعر بھی ہے، ذرا ایک بار اس کا شعری مجموعہ ’سرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں‘ پڑھ کر دیکھ لیں۔

Read more

چند طالب علمانہ معروضات و سوالات

کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک عام سے مسلمان کی طرح میں بھی دین کے بنیادی اصولوں سے واقف ضرور ہوں مگر ان کی باریکیوں اور شرح سے نابلد ہوں۔ چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل کے واجب الاحترام علمائے کرام سے بلا تخصیصِ فرقہ و فقہ رہنمائی کا طلب گار ہوں۔ کیا شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم ازکم عمر متعین ہے یا پھر اس بارے میں احکامات ِشرعیہ کا لبِ لباب یہ

Read more

اماں کا سفر پرتاپ گڑھ اور غلاف کعبہ کا تحفہ

شاید سنہ نوے کی بات ہے. میرے بڑے ماموں مرحوم نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادے عدنان کے ہمراہ اپنے ابائی وطن پرتاپ گڑھ کے سفر کا ارادہ کیا اس بات کا علم جب اماں کو ہوا تو انہوں نے بھی ساتھ جانے کی خواہش کی۔ وہ ہجرت کے بعد کبھی ہندوستان نہیں گئی تھیں اور ان کی شدید خواہش تھی کہ ایک بار اپنی جنم بھومی پرتاپ گڑھ دیکھ لیں اور اب جبکہ ان کے چہیتے بھیا بھی ساتھ ہوں تو

Read more

پشاور کی ماں کا، ملک کی مٹی کے نام خط

پاکستان 73 برس کا ہونے کو ہے۔ اس ملک نے ان تہتر برسوں میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کئی مارشل لاء لگے۔ سیاست کے نام پر کرپشن ہوئی۔ جاگیر داروں نے استحصال کیا۔ قوم کی ماں کو غدار وطن گردانا گیا۔ جگر کاٹ کر الگ ملک بنا دیا گیا۔ وزراء اعظم کے قتل ہوئے۔ عالمی طاقتوں کا میدان جدل سجا۔ اسی کی زمین سے اڑنے والے طیاروں نے اسی کی زمین پر بم برسائے۔ مگر کوئی بھی دکھ ہمیں

Read more

ہم خواجہ سرا اور آپ کے دلوں کے سوالات

خواجہ سرا، مرد و عورت کی سیاہ و سفید دنیا کے باسیوں کے لیے پراسرار رنگ ہیں۔ جنہیں وہ کھوجنا بھی چاہتے ہیں لیکن دور دور سے۔ ہم سے کچھ سوال بہت زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ کے جواب میری آج کی تحریر میں شامل ہیں۔ خواجہ سراوں میں گرو بننے کے کیا مراحل ہیں؟ گرو بننے کے مختلف طریقے ہیں، سب سے پہلے میں آپ کو بتاتی ہوں کہ دراصل ایک خواجہ سرا کا حقیقی گرو

Read more

محبت ایسے ہوتی ہے!

”تمہاری ماں کو مجھ سے محبت نہیں تھی“ انہوں نے میرے ہاتھ تھامے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔ ان کی آنکھوں کے دونوں کونے بھیگے ہوئے تھے، ان کے چہرے پر جو درد تھا وہ کوئی بیٹی ہی محسوس کر سکتی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آنسوؤں کو اپنے آنکھوں میں روکنے کی کوشش کی تھی مگر آنسو تو چھلک ہی جاتے ہیں، وہ تو بے درد ہوتے ہیں اور بے رحم بھی۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔

Read more

جنریشن گیپ اور چین کے نوجوان

جنریشن گیپ ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہا ہے۔ بزرگ نوجوانو ں سے شاکی رہتے ہیں اور نوجوان بغاوت پر آمادہ رہتے ہیں۔ اب ہر کوئی سارتر تو نہیں ہوتا جو بڑھاپے میں بھی فرانس کے نوجوانوں میں مقبول تھا۔ ذرا علی گڑھ کے نوجوانوں بلکہ جون ایلیا کے بقول ”علی گڑھ کے لونڈوں“ کے بارے میں سوچئے جو ہاسٹلوں میں رہتے تھے اور والدین سے ”بلاٹنگ پیپر“ خریدنے کے بہانے پیسے منگواتے رہتے تھے۔ اب موجودہ اور

Read more

اٹھو مریم نواز ! ہم تمہارے ساتھ ہیں

5 جولائی 1977 کی صبح 1 بج کر 45 منٹ کی روداد بینظیر بھٹو بتاتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ممی میرے کمرے سے صنم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں ” اٹھو، جاگو، کپڑے بدلو. فوج نے قبضہ کر لیا ہے”۔ اور جب حفیظ پیرزادہ کی بیٹی نے فون پر روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے والد کو مارا پیٹا اور ساتھ لے کر چلے گئے تو پنکی کے پاپا نے کہا کہ پُرسکون رہو

Read more

دنیا رد عمل دے گی مگر رد عمل پر

میرے گھر والوں پر میرے پڑوس میں رہنے والے بد قماش افراد نے حملہ کر دیا، بد قماشوں کی یہ حرکت اہل محلہ کو گراں بھی گزرے تب بھی وہ میرے رد عمل کی جانب ضرور دیکھیں گے۔ اگر میں رد عمل کے طور پر بہر لحاظ خاموش رہا تو اہل محلہ میں دو طرح کی سوچیں ابھریں گی۔ ایک یہ کہ میں اتنا اعلیٰ ظرف ہوں کہ تمام تر بدلہ لینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود در گزر سے

Read more

کمرہ نمبر 101 میں کیا ہوا؟

آج میں ایک صاحب کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہو گی۔ لیکن ان کاکہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر

Read more

کمرہ نمبر ایک سو ایک میں کیا ہوا؟

آج میں ایک شخص کی زندگی کی کتاب کا ایک اہم باب دہرا رہی ہوں۔ ان کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر رہے ہیں جس طرح بیالیس قبل وہ کراچی کی بستی شاہ فیصل کالونی میں واقع بارہ دری، مردانہ ہوسٹل کے کمرہ نمبر ایک سو ایک میں گزرے تھے۔ باوجود اس کے کہ وہ اس کو بیان کرتے ہوئے شدید ذہنی کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اوپر بیتے اس ٹراما کو بیان کریں تاکہ اور بہت سے لوگوں کی مدد ہو سکے۔

Read more

مرد کی آنر کلنگ آخر کیوں نہیں؟

رب کائنات! کیا مجھے دیکھ رہا ہے تو؟ کیا میری اذیت بھری سسکیاں پہنچ رہی ہیں تم تک؟ ماں تو ہے نہیں جسے میں اپنا ریزہ ریزہ جسم دکھاؤں۔ باپ بھی کچھ برس پہلے داغ مفارقت دے چکا کہ جس سے لپٹ کے میں اپنے دل کا حال کہوں۔ تین معصوم بھائی جو زمانے کی کھٹنائیوں سے انجان اپنی آپا کو ہر دکھ کی دوا سمجھتے ہیں، کیا سمجھیں گے بھلا؟ سنا ہے کہ تو شہ رگ سے بھی قریب

Read more

خون چوسنے والی جونک اور گرم دیسی گھی کا پیالہ

کبھی ہر سال چھ مہینے بعد بستی بستی پربت پربت گھومتا گاتا۔ کمر پر رنگ بر نگی کانچ کی چوڑیوں کی گٹھری لادے بنجارا یا کندھے سے گیلی مٹی میں کلبلاتی جونکیں مٹی کی کپڑے سے منہ بندھی گڑویوں یا پوٹلیوں سے بھرے جھولے لٹکائے جونک لگانے والا جوگی اور جوگن کسی گاؤں یا بستی کی گلی میں داخل ہوکر ”لے لو چوڑیاں“ یا جونکیں لگوا لو خون صاف کرا لو ”کی صدا لگاتا۔ یا پہلے آنے والے دو تین گھروں کی کنڈی کھٹکھٹا لیتا تو مانو لمحوں میں پورے گاؤں یا پوری گلی میں میلہ کا سماں بندھ جاتا۔

Read more

ظالما! مینوں ویزہ تے لا دے

میر ابصار عالم جعفری صاحب سے ہماری ملاقات کراچی کونسلیٹ کے دالان میں ہوئی۔ حضرت امریکہ کا ویزہ لینے آئے تھے۔ ان کا Swag ہمیں اچھا لگا۔ اب آپ کراچی کے جعفری صاحب سے ملے ہی نہیں تو سواگ کیا خاک سمجھ آئے گا۔ آپ کا مسئلہ بھی کرسٹین بیکر والا ہے۔ انہیں جب ان کی دوست نے ڈنر پر مدعو کیا تو ایم ٹی وی کی اس وی جے کو پتہ ہی نہ تھا کہ یونانی دیوتا کیسا ہوتا

Read more

کرب کا قاری

تم میں سے بیشتر ان اوہام میں مبتلا ہیں کہ یہاں سے کچھ دیر آگے ان کو زندگی کی وہ اکائی ملنے والی ہے جو مفہوم حیات کو سمجھنے میں معاون ہے۔ کچھ محو سفر اس گمان میں ہلکان ہوئے چلتے جا رہے ہیں کہ یہ سڑک کچھ دیر میں ایک تنگ گلی بنتے بنتے ایک دیوار پر ختم ہو جائے گی جس کا سہارا لے کر سکون سے آرام فرما سکیں۔ تمہارے بچے تمہاری بوسیدہ شکل دیکھتے اور کرخت

Read more

کووڈ انیس سے جیت کر بھی زندگی کی بازی ہارنے والا شیر خوار

فلپائن میں کووڈ انیس کا شکار ہو کر بچ جانے والا کم عمر ترین شیر خوار اپنے والدین کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوئے ایک اور مرض میں مبتلا ہو کر دم توڑ گیا۔ فلپائن میں کورونا کی وبا کے سبب در بدر ہونے والے ایک جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اپنی پیدائش کے فوری بعد کووڈ انیس میں مبتلا ہوا تھا لیکن اسے بچا لیا گیا تھا۔ اس بچے کے والدین اسے باسکٹ بال کھلاڑی بنانا

Read more

ذوقی : دوستوئیفسکی کا احمق، جسے میں نہیں جانتا

’being‘ in ’nothingness‘ ہاں اور نہیں کے درمیان ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ میرا راستہ ہے۔ دوستوئیفسکی کا احمق اپنے مزاحیہ ماڈل، ڈان کیخوٹے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیخوٹے کے کردار میں رومان اور مذہب کی پرانی شکلوں کا عکس ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ دو ستوفسکی کا احمق میشکن ایک اچھا آدمی ہے۔ مگر وہ مسکین اور بیوقوف ہے۔ رومی کے مطابق، انسانی نجات کے لئے، خدا اور اس کی مخلوق سے محبت لازمی ہے۔ میں محبت کرنے چلا،

Read more

روس میں گھریلو تشدد: پیار کرتا ہے تو پیٹتا ہے نا

یہ وہ ملک ہے جہاں عورت کو طلاق کا حق، دنیا میں سب سے پہلے تفویض کیا گیا تھا، جہاں 8 مارچ کو یوم خواتین کے طور پر بہت پہلے منایا جانا شروع کیا گیا تھا، عورتوں کو حق رائے دہی دینے والے اولیں ملکوں میں سے ایک ہے، جہاں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن میں ڈاکٹر، اساتذہ، سائنسدان، مزدور، صناع سبھی پیشوں سے وابستہ خواتین شامل ہیں مگر یہاں سولھویں صدی

Read more

ہمارے موصوف سے ملیے

”موصوف کے بارے میں رپورٹ آ گئی ہے۔ سنا ہے انتہائی دل پھینک ہیں۔ ایک جگہ رشتہ دیتے ہیں، دوسری پر نظر ہوتی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ تین منگنیاں توڑ چکے ہیں، گویا منگنیاں نہ ہوئیں ’مٹکیاں‘ ہوگئیں۔ اچھے خاصے ’فلرٹ‘ مشہور ہیں۔ میں نے اسلم کو فون کیا، اسلم نے فوق کو اور فوق نے حمیدی صاحب سے پوچھ کر۔ ۔ ۔ یہ ماموں جان تھے اور ہمارے ’متوقع‘ منگیتر کے بارے میں یہ ان

Read more

مجھ پر ایک اور ٹھپہ لگ چکا ہے

زندگی بڑی مشکل سے نارمل ہوئی تھی۔ میں نئے ملک، نئی زبان، نئے لوگ اور نئے ماحول سے رفتہ رفتہ آشنا ہو رہا تھا۔ تحفظ ملا تو اطمینان اور خوشی کا احساس بھی ہونے لگا۔ تعلیم تھی، اچھا جاب تھا۔ ایک گرل فرینڈ بھی تھی جس سےمحبت بھی تھی اور ہم آہنگی بھی تھی۔ وہ ایک سرکاری ادارے میں کام کرتی تھی۔ میرا ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ اور ایک چھوٹی سی گاڑی تھی۔ ایک رات میں کوڑے کا کین پاہر

Read more

گھوڑا ہسپتال یونیورسٹی کی یاد میں

میں حال ہی میں جامعہ برائے علوم حیوانات و علاج مویشیاں المعروف گھوڑا ہسپتال سے فارغ التحصیل ہوا ہوں۔ جامعہ کی شہرت گھوڑا ہسپتال کے حوالے سے ہے کیونکہ برطانوی دور حکومت میں یہ ملٹری گھوڑوں کے علاج کے لئے ہسپتال بنایا گیا تھا اور 1882 میں لارڈ رپن نے اسے ایک سکول کا درجہ دیا اور برصغیر میں علوم حیوانات وعلاج مویشیاں کا پہلا ادارہ قائم ہوا۔ بعد میں اس کو کالج کا درجہ دیا گیا اور 2002 میں

Read more

عجمان کی بسم اللہ جان

انشا جی نے کہا تھا ، ہم گھوم چکے بستی بن میں، اک آس کی پھانس لئے من میں۔ پھانس وہی ہے مگر قبول کرنے کا یارا نہیں۔ میں جس سماج کا باسی ہوں وہاں قدم قدم پر پاکی داماں کی گواہی لازم ہے۔ اپنے اپنے تقویٰ کا ایک بازار سجا ہے اور اس پر اجداد کی عظمت رفتہ کے گیت ہیں۔ پچھلے دنوں کسی نے باندی کے لباس کا ذکر چھیڑ دیا تھا، مانو قیامت آ گئی۔ ایسے میں

Read more

سانگھڑ میں امریکن کونسلیٹ

مختلف ممالک میں بکھرے ہمارے اہل خانہ کا اصرار تھا کہ سبز پاسپورٹ پر امریکی ویزہ کی معیاد ختم ہوتی ہے۔ اس کی تجدید کرا لیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو سختیاں کریں گے۔ ہم نے کہا بھی کہ امریکہ کی محبت ماں جیسی ہے۔ مالدار سابق فوجیوں، میمنوں اور ایک پارٹی کے سیاست دانوں کو ان کے مال مسروقہ کی فراوانی کی بنیاد پر برطانیہ اور امریکہ ویزہ پٹزا کی ہوم ڈلیوری والوں کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔

Read more

ازدواجی زندگی کی غلام گردشیں

وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی “ ڈاکٹر ! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں “ “کیوں بھئی، کیا ہوا “ “ شادی کے بعد میری ساس نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جاتی ہیں “ اور میں کچھ اور سوچ رہی تھی ! دنیا کے وجود میں آنے کے بعد

Read more

”یوم یکجہتی کشمیر“ سے ”یوم استحصال“ تک

ہر سال 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر متعدد اردو اخبارات کے خصوصی اشاعت والے صفحات پر تقریباً صفحہ اول کی تمام بڑی جماعتوں کے عمائدین کے مضامین چھپتے ہیں اور ہر مضمون نگار نسل نو کو یہ باور کروانے کی کوشش کرتاہے کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سہرا ان کے قائد کے سر جاتا ہے ۔ ان تمام مضامین میں تحریک انصاف کا کوئی ذکر نہیں بن پاتا تھا۔ اس لیے ”یوم استحصال“ کی تجویز دینے

Read more

چین میں بیٹے کو ترجیح دینے کا رویہ

ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تو لڑکے کی خواہش میں لوگ چھ سات بیٹیاں پیدا کر لیتے ہیں لیکن چین میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ وہاں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پر حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح لازمی عمل کرنا پڑتا ہے۔ چین کے شہروں میں رہنے والے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی خلاف ورزی کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ پھر انہیں بہت سی مراعات

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ پر کتاب کا ریویو (آخری حصہ 2 / 2 )

گزشتہ سے پیوستہ کتاب کے دوسرے حصہ کا عنوان دا رنگ سائیڈ آف دی ٹریکس میں مری نے ٹرمپ کی بھدی اور ناپسندیدہ حرکات وسکنات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ نیویارک ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد ٹرمپ نے فورڈھم Fordhamیونیورسٹی میں داخلہ لیاجس میں حاضری کی سختی و پابندی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا بہت سا وقت لڑکیوں کو چھیڑنے اور ان کو چڑانے میں گزرتا۔ ڈونلڈ کا فلرٹ کرنا ایسا ہوتا کہ

Read more

یوم آزادی اور عصر حاضر کے تقاضے

یوم آزادی کی آمد آمد ہے لیکن کرونا کے خوف اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا جو ماہ اگست کا ہمیشہ سے خاصا رہا ہے۔ عوام ابھی تک گھروں کے اندر محبوس ہے اور یاسیت زدہ ہے کہ اس کرونا سے کب جان چھوٹے گی؟ 14 اگست ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ ہم بھی ایک دو دن قومی و ملی نغمے سنتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں،

Read more

ڈاروں وچھڑی کونج

ایک وقت تھا کہ ہمارے گاؤں میں ہندو خاندان بھی آباد تھے۔ زیادہ پرانی بات بھی نہیں، بس ستر پچھتر برس پہلے۔ بیچ بازار ان کی دکانیں تھیں، کاروبار تھا۔ ستلج کے قریب بسی اس بستی میں مسلمان اور ہندو کئی پشتوں سے اکٹھے بسیرا کرتے آئے تھے۔ جیون پگڈنڈی پہ مل کر چلتے آئے تھے۔ چلتے چلتے کسی کا پاؤں پھسلتا یا قدم ڈگمگاتا تو کئی ہاتھ اسے سنبھالنے کو بڑھ جاتے تھے۔ دکھ سکھ ایک ساتھ جی لیتے

Read more

پردیس میں زندگی آسان نہیں

عطیہ پانچویں کلاس میں تھی ایک دن وہ سکول سے واپس گھر آ رہی تھی کہ اس کے محلے کے ایک لڑکے نے بتایا تمہارے ابو جہاز سے گر گئے ہیں۔ وہ بھاگتی ہوئی گھر گئی، سب رو رہے تھے، وہ امی سے پوچھتی ہے امی ابو کو کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہی ہیں آپ؟ ابو کدھر ہیں؟ کیا ابو پاکستان آ رہے تھے؟ ایسے بہت سے سوال اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے، اتنے میں خالہ بولی

Read more

دانش حاضرہ او ر داستان سیف الملوک

کرہ ارض پر پنجاب ایک ایسا منفرد خطہ ہے جہاں عظیم صوفی شعراء پیدا ہوئے، جنہوں نے شاعری کے ذریعے انسان کو محبت اور بھای چارے جیسا آفاقی پیغام دیا۔ اسی طرح پنجابی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کو گزشتہ 900 سالوں کے دوران وقفے وقفے سے پنجابی کے عظیم شعراء عطا ہوئے۔ یہ لوگ اگرچہ ہماری تاریخ کے مختلف ادوار میں نمو دار ہوئے مگر ان کا پیغام یکساں تھا: عالم گیر امن، اخوت اور محبت۔

Read more

پائے لاگوں بانو آپا

یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں تو کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ ایک ایسی ہی یاد کا ذکر ہے۔ ایک روز ابا گھر آتے ہی بولے :

”آج ہم سب کو کسی کے گھر جانا ہے۔“

امی نے ہم سب بچوں کو اچھے کپڑے پہنائے اور تیار کیا۔ اس وقت ہم کرشن نگر میں رہتے تھے۔ بس میں سوار ہو کر ہم دور کی ایک بستی ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے سے گھر جا پہنچے۔ یہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے نئے نکور گھر ”داستان سرائے“ کی شاید افتتاحی تقریب تھی، جس میں انہوں نے کچھ دوستوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ اتنا بڑا خوبصورت اور شاہانہ گھر دیکھ کر میں تو حیرت زدہ رہ گئی۔ پرتکلف کھانا کھانے کے بعد ہم سب کو پورا گھر گھمایا پھرایا گیا۔ اشفاق صاحب نے ہمیں اپنا ریکارڈنگ سٹوڈیو بھی دکھایا جہاں وہ غالباً اپنے ریڈیو پروگرام ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ میں تو اس بات سے بھی بہت متاثر ہوئی کہ گھر میں ہی سٹوڈیو موجود ہے، واہ کیا بات ہے۔

Read more

پترمینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے

اگرچہ خبر کچھ پرانی ہو گئی ہے مگر ہر نئے سننے والے کوتکلیف ضرور پہنچاتی ہو گی۔ آج ایک دوست نے فیس بک پیغام شیئر کیا جو کہ ایک اردو اخبار کے تراشے کاعکس تھا، خبر پڑھ کر دل کو یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ ویسے ہونے کو توہمارے دیس میں ہر انہونی ہو کر رہی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس ملک کا وجود میں آنا ہی ایک انہونی تھی مگر ہو

Read more

خوف زدہ بچے، بزدل معاشرہ

جس اولاد کے حصول کے لئے ہم دعاؤں، دواؤں سمیت ہر جتن کرتے ہیں، ملنے پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، بیٹا پیدا ہو جائے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی تربیت کے دوران بعض اوقات بچوں کو مختلف طریقوں سے خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ بلکہ تربیت کے لئے ڈرانے، دھمکانے کو کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! یہ ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ بچوں کو خوفزدہ کیوں کیا جاتا

Read more

مخلص نظریاتی مجاہدین اور مبینہ فٹ بال

بعض افراد کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص کا کوئی مقصد حیات ہوتا ہے۔ پہلے تو ایک طویل عرصے وہ تگ و دو میں رہتے ہیں کہ مقصد حیات تلاش کیا جائے۔ انجام کار ان میں سے بہت سے یہ سوچ کر مستقل ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں کہ ”زندگی کیا ہے، غم کا دریا ہے“۔ جو گنے چنے بدنصیب اپنے تئیں اپنا مقصد حیات پا لیتے ہیں، وہ پھر اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک عظیم کاز یا نظریہ آ جاتا ہے جسے باقی دنیا پر لاگو کرنا ہی ہر مرض کا امرت دھارا علاج دکھائی دینے لگتا ہے۔

Read more

ایک نوجوان کی خلوت کا بحران

سونالی بہار کے مظفر پور ضلع سے تعلیم حا صل کرنے دلی آ ئی تھی اور اس نے انسٹیٹیوٹ آف ہیومن بی ہیویئر اینڈ اپلائیڈ سائنسس میں داخلہ لیا تھا۔ یہ ادارہ اپنے طلبا و طالبات کو ذہنی طور پر کمزور بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لئے تیار کرتا ہے۔ دوسرے تعلیمی سال میں ہر شخص کے ذمے فیلڈ ورک تھا۔ چونکہ سونالی نوئیڈا سیکٹر چونتیس میں قیام پذیر تھی، اسی لئے اس نے فیلڈ ورک کے لئے اسی

Read more

بارش میں بھیگی یادیں

بارش شدت اختیار کر جائے تو آسمان سے برسنے والے قطروں کی لڑی، ذہن کو ماضی کا سفر کرنے کا سامان پیدا کردیتی ہے۔ ارد گرد کی بھیگی فضا اور زمین پر بنتے پانی کے لا تعداد بلبلے، جنہیں کبھی بچپن اور شاید لڑکپن میں چاہتے ہوئے بھی نہ گن پاتے تھے، ایک ایک بوند گرنے کے بعد فوری طور پر ایک مکمل ہالہ بن جاتا، یہ بلبلا جیسے اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے اور پھر لمحہ بھر میں

Read more

استحصال کرنے والوں کے نام!

آج 5 اگست 2020ء جب کہ پاکستان میں سرکاری طور پر ’مقبوضہ کشمیر‘ کے ’مظلوم کشمیریوں‘ کے لیے ’یوم استحصال‘ ہر قسم کے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ چند منٹوں کی خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ شاہراؤں کے نام بدلے جا رہے ہیں۔ ’نئے پاکستان‘ کے نقشے جاری کیے جا رہے ہیں۔ ’دشمن کی نیندیں اڑا دینے والے ان اقدامات‘ کے باوجود مجھے نجانے کیوں ’مظلوم پاکستانیوں‘ کی یاد ستانے لگی ہے۔ ’یادوں کی اس برات‘ کو

Read more

ماں کی ہلاکت کے بعد کم عمر برفانی تیندووں کی تلاش جاری

گلگت بلتستان کا محکمۂ جنگلی حیات آج کل برفانی تیندوے کے ان دو بچوں کی تلاش میں ہے جن کی ماں کو ہلاک کر کے اس کی کھال فروخت کرنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو حال ہی میں جرمانے اور قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

Read more

5اگست۔ رام مندر بھومی پوجن

5اگست 2019 ء کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اس کی انتہاء پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر پہ غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا اور بھارت میں ضم کر لیا۔ اس ہولناک واقعے کو ایک برس گزر گیا اور ابتک کشمیری گھروں میں بند ہیں۔ بھارت نے مسلمانوں کے دلوں پہ چھری چلانے کی خاطر اسی تاریخ کو ایو دھیامیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا آغاز کرنے کی خاطر رام مند ربھومی پوجن کا اہتمام کیا۔ قارئین

Read more

بے خواب آنکھوں، خاموش ہونٹوں اور ساکت دلوں سے مکالمہ

کیا نام ہو گا اس کا؟ بشیر؟ ناصر؟ احمد یا کامران؟ ‎کس پیشے سے تعلق رکھتا ہو گا؟ درزی؟ چھابڑی فروش؟ گداگر؟ موچی؟ کسان؟ یا نشہ گزیدہ آوارہ گرد؟ ‎ہم زندگی کی جس بھی سیڑھی پہ کامرانی کے جھنڈے گاڑیں، اس میں ہماری دن رات کی ریاضت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی بے لوث قربانیوں کا لہو بھی شامل ہوتا ہے۔ ‎نہ جانے یہ خیال در دل سے اس وقت ہی کیوں ٹکراتا ہے جب اپریشن تھیٹر میں تیز

Read more

چین میں تبدیلی کب اور کیسے آئی؟

ہمارے بڑوں نے جب ڈیفنس فیز ون کراچی میں رئیر ایڈمرل حاجی محمد صدیق پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف کے سمجھانے پر فیز ون میں ایک پلاٹ خریدا تو خاندان کے غیر عسکری ممبرز نے انہیں سمجھایا کہ اتنے میں تو سنگاپور میں بھی پلاٹ کیا گھر بھی مل جاتا ہے۔ ابوالکلام آزاد کی بات مت سنو مگر جناح صاحب نے یہ کب ضد کی تھی کہ ڈیفنس کراچی میں رہو۔ نہیں مانے۔ بہت بعد میں بستر مرگ پر

Read more

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال: ’گھر کا واحد کمانے والا ایک سال سے جیل میں بند ہے‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ کشمیری گرفتار ہوئے اور اب بھی سینکڑوں افراد بیرونِ کشمیر محبوس ہیں۔

Read more

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ایک وسیع لاک ڈاؤن، معاشی بدحالی اور فارغ البالی نے مجھے مجبور کیا کہ ترکی کے تاریخی ڈراموں پر اپنا وقت صرف کیا جائے تا کہ نہ صرف ترکی بلکہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ سے بھی روشناسی ہو۔ آج کل پایہ تخت۔ عبدالحمید دیکھ رہا ہو ں جس میں عثمانیہ سلطنت کے عظیم سلطان عبدالحمید ثانی کو بیک وقت فرانس، روس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ سے اندرونی اور بیرونی محاذ پر لڑتے دکھایا گیا ہے۔ سلطان جہاں اپنی ٹیم کے

Read more

سیگرٹ اور میری زندگی کے گیارہ منٹ

سوچیں ان کی زندگی کیسی ہوگی جو صرف بھوک مٹانے کے لئے کھاتے ہوں، پیاس بجھانے کے لئے پیتے ہوں اور سانس لینے کے لئے جیتتے ہوں بس؟ سوچیں ان کی زندگی کیسی گزرتی ہوگی جن کے پاس پاب کا سایہ، ممتا کا پیار، بھائیوں کی لاڈ اور بہنوں کا ساتھ نا ہوتا ہوگا؟ سوچیں ان کی زندگی کیسے گزرتی ہوگی جن کے پاس نا دوست جیسا عظیم رشتہ ہو، شریک حیات کا ساتھ ہو اور بچوں جیسی نعمت سے

Read more

کارو کاری

”ادا۔ ۔ ۔ ادا۔ ۔ ۔ ادی زرینہ کی شادی ہو رہی ہے۔“ دس، گیارہ سالہ شاہدہ جو دوڑتی ہوئی ایک سمت سے آ رہی تھی، اسے روک کر بتانے لگی۔ شاہدہ کا سانس پھولا ہوا تھا، مراد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”تو نے کیا دیکھا؟“ ”ادی زرینہ دلہن بنی ہوئی تھی۔ ادا۔ ۔ ۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ’ادی سارہ‘ سے بھی زیادہ اچھی۔“ ”ہوں“ مراد نے ہنکارا بھرا۔ ”اور کون کون تھا اس کے

Read more

فرماں برداری، کامیابی کا سیدھا راستہ یا…

شنو اور بسمہ واپس اپنے کمرے میں آ گئیں۔ بسمہ کو ابھی بھی بے چینی تھی کہ کب اسے بلایا جائے اور گھر چھوڑ کے آئیں۔ ابھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں جائے گی مگر وہ یہاں مزید نہیں رہنا چاہتی تھی۔ شنو سے بار بار پوچھنا بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ فاطمہ باجی نے تو کہا تھا کہ کل عدالت میں پیشی کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ اسے

Read more

جوتی

کلاس ختم ہوتے ہی میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔ آج فائن آرٹس کی ایکسٹرا کلاس تھی اور کوئی بھی دوست لیکچر میں موجود نہیں تھا۔ تجریدی آرٹ کی تھیوری یوں بھی ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ ہبڑ دبڑ میں چائے تک بھی نہ پی پائے تھے اور طرفہ یہ کہ جوتی بھی وہ پہن لی جس کا پٹہ ٹوٹنے کے قریب تھا۔ سر میں شدید

Read more

جب اوسلو میں سگے بھائی نے تین پاکستانی بہنوں کو قتل کیا

2 اکتوبر 2006 رات ڈھائی بجے ہیومن رائٹس سرویس ناروے کو ایک ایس ایم ایس آیا ” تین بہنوں کو ان کے بھائی نے قتل کر دیا۔ لعنت ان پاکیوں پر” بھیجنے والی ایک پاکستانی خاتون تھی جو اس بہیمانہ قتل پر بپھری ہوئی تھی۔ صبح تک یہ بات پھیل گئی۔ پاکستانی نارویجین کمیونیٹی میں سب ہی اس ٹرپل مرڈر کی بات کر رہے تھے۔ میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہوا۔ اور اس سانحے کی بات ناروے کی سرحدوں

Read more

جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

بات ماں کی گالی کی نہ ہوتی تو شاید اس دن بھی تحریم اپنے ساتھی کارکنوں کے جملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سٹوڈیو میں جاتیں اور پروگرام ریکارڈ کرواتیں لیکن اس دن انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ بس اب وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔

Read more

محبت نبوی ﷺ میں نفسانیت

قانون ہاتھ میں لینا، ایک ایسا جرم ہے جسے انسانی تہذیب کے کسی بھی دور میں ناقابل معافی جانا گیاہے۔ ممتاز قادری کیس کی سماعت کے دوران معزز عدالت نے کہا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازتت نہیں دی جا سکتی۔ حتیٰ کہ ایک ایسا مجرم جسے عدالت سے موت کی سزا سنائی جا چکی ہو، اس سزا پر بھی عملدرآمد ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ موت کی سزا سنائے جانے

Read more

ضیا کے نظریات کی قربانی کب ہو گی؟

ہماری الہامی کتاب میں جہاں خدائے ذولجلال نے اپنی امت کے لئے دنبے کو اتارا، تو وہیں ہماری آزمائش کے لئے ایک شیطان کو بھی ہم پر مسلط کر دیا۔ ہم سینکڑوں سالوں سے روایتی عید کے تابع ہوکر آسمان تک چوپایوں کی صدائیں بلند کر رہے ہیں اور سال کے ایک روز کفارہ ادا کرکے باقی ایام ایک غائبانہ اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس سکے کا دوسرا رخ دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکر ہمارے ہاتھوں میں بندوق

Read more

گاڈ سیو دا کوین (God Save the Queen)

یہ 14 اگست 2020 کی گرم مرطوب شام تھی، ہوائی جہاز نے نیو اسلام آباد ائرپورٹ سے اڑان بھری تو طاہر نے اپنی سیٹ کی حفاظتی بیلٹ کھول دی، فضائی میزبان کی مترنم آواز گونجی جس نے ضروری سفری معلومات اور تفریح طبع کے مواد کے بارے میں بتایا۔ اس نے کھڑکی سے باہر اپنے دیس کے مدھم ہوتے مناظر پر حسرت بھری آخری نگاہ ڈالی اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا دماغ سولہ سال پیچھے گھوم گیا

Read more

بھا، بھینسا اور مولوی

تاروں بھری رات میں چھت پر لیٹے میں اور بھا فرقہ وارانہ بحث کر رہے تھے۔ وجہ بحث یہ تھی کہ ہمارا کزن اچانک مولوی ہو گیا تھا اس کی داڑھی ممنوعہ بور چھونے لگی تھی۔ شلوار نکے بھائی کی اور قمیض بلکہ کرتا ابا جی کا پہننے لگ گیا تھا۔ ماڑا بندہ اس سے بحث کرنے سے بھی کترانے لگا تھا کہ عسکری تنظیموں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ صرف میرا ہی وہ اب

Read more

جنس تبدیل کرنے والی اولاد اور باپ کے درمیان مکالمہ

 ”ہائی کڈ، میں ہوں ‌ تمہارا باپ۔ میں شام کو تمہیں کال کروں گا۔ مجھے ابھی ابھی تمہارا نمبر ملا ہے۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں“۔  ”اوہ واؤ، آخر کار تم جان گئے کیا کہ تمہارا کوئی بچہ ہے؟ تم ایک خوش قسمت انسان ہو کہ میں دو برس پہلے تب مر نہیں گئی تھی جب مجھے فالج ہوا تھا جس نے میری ساری زندگی برباد کر دی“۔  ” تم میرے چھ بچوں میں سے ایک ہو۔ میں بھلا

Read more

وزیر زادے کی رسوائی

ہمیں تفویض کردہ کام غیر سرکاری تھا، خالصتاً۔ کام سونپنے والے سرکاری افسر بڑے تھے۔ اتنے بڑے کہ گریڈ بائیس میں منڈلاتے تھے۔ سب کی عزت کرتے تھے۔ کا م البتہ ناپ تول کر سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ شیریں گفتار ایسے کہ لگتا تھا جہانگیر ترین نے اپنا چینی کا اسٹاک مہنگا کرنے کے لیے ان کے گلے میں چھپا رکھا ہے۔ درخواست کرنی ہوتی تو ایرانی قالین بن جاتے تھے۔ حکم چلانا ہو تو حجاج بن یوسف کا

Read more

تعبیر

ٹرافیز شاید زندگی میں آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ یہ بات شاید ابوعبیدہ کو بہت دیر سے پتا لگی تھی۔ اسے کرکٹ بہت پسند تھی جنون تھا کرکٹ کا جو رگوں میں خون بن کے دوڑتا تھا۔ وہ اسکول کے فوراً بعد کرکٹ گراونڈ دوڑ کے جاتا تھا۔ ہر کوئی اس کی بیٹنگ کا دلدادہ تھا مگر آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا وہ خوش تھا کیونکہ انڈر سکسٹین کی ٹیم کا ٹرائل دینے جانا تھا اس

Read more

بیٹا جب تم بڑے ہو جاؤ گئے تب میں نہیں رہوں گا

جولائی کی ایک تپتی دوپہر کا ایک دن تھا۔ سکول سے آنے کے بعد بابا کے ساتھ چادر میں ایک ساتھ پاؤں پھیلا کر سونے لگا، اس دوران میرے پاؤں بابا کے پاؤں کے ساتھ لگا تو بابا سے میں کہنے لگا۔ بابا! میں بھی بڑا ہو گیا ہو میرے پاؤں آپ کے پاؤں تک پہنچ رہے ہیں۔ مکھیاں مجھے تنگ نہ کریں اور میں آرام سے سو جاؤں اس مقصد کے لئے بابا نے مجھ پر چادر پھیلائی اور

Read more

گائتری کی خوشبو

وہ مکمل طور پر گائتری تھی۔ وہی دبلا پتلا جسم وہی کتابی چہرہ، وہی چوڑی پیشانی اور وہی لمبے لمبے بالوں کی چٹیا جو کمر سے نیچے تک پہنچی ہوئی تھی اور چہرے پر دو بڑی بڑی روشن آنکھیں، میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ جانے کیوں میرے دل سے زیادہ میری روح نے اس کا استقبال کیا تھا۔ ایک خاص قسم کی انسیت سی محسوس ہوئی تھی ایک شدید خواہش کے ساتھ کہ اس سے بات کروں، میں نہ چاہنے کے باوجود بار بار اس کی طرف دیکھنے پر مجبور سا تھا، میری نظر مسلسل اس کا تعاقب کر رہی تھی، کوئی بات تھی ایسی کہ میں اس کی جانب مستقل طور پر متوجہ ہو گیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس نے بھی مجھ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تھی پھر اپنے ساتھی کے ساتھ کھانے کی ٹرے لے کر میرے سامنے سے گزرتی ہوئی اپنے دوسرے ساتھیوں کی میز پر بیٹھ گئی تھی۔ یہ ہسپتال میں آنے والے نئے ڈاکٹر تھے۔ جوان، مسکراتے ہوئے طاقت سے بھرپور تھوڑا ڈرے ہوئے بھی، ذرا سہمے ہوئے بھی، خود اعتمادی کے ساتھ ہر سال آنے والے بیج کو دیکھ کر جہاں اپنے سینئر ہونے کا احساس ہوتا تھا وہاں زندگی کی مسکراہٹوں اور جوانی کے جذبوں کا بھی جیسا دوبارہ جنم ہوجاتا تھا مگر اس دفعہ بات کچھ اور تھی۔

Read more

سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

آئیے آپ کو ایک اور ناول سے متعارف کروایا جائے۔ ناول کا نام ہے ”دی بیل جار“ جسے سلویا پلاتھ ؔنے لکھا۔ پہلی بار یہ ناول 1963 میں وکٹوریا لوکاس ؔکے فرضی یا قلمی نام سے چھپا۔ میرے سامنے اس کتاب کا پچاسواں اینی ورسری ایڈیشن ہے۔ سلویا پلاتھ کا تعلق نیو انگلینڈ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن ؔسے تھا اور یہ اس کا واحد اکلوتا ناول ہے۔ اس کے بعد محض اکتیس برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ ناول ایک سوانحی ناول ہے اور یہ کچھ حد تک اس کی اپنی زندگی پہ اساس کرتا ہے جب کہ اس ناول کا شمار ماڈرن کلاسکس میں ہوتا ہے۔

Read more

سید عبدالحمید دیوانی

مادر وطن جموں و کشمیر پر غیر ملکی غاصبوں کے قبضے کو ستر سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں ذرا کمی نہیں آئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے جوش اور ولولے میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آزادی کی نعمت چھیننے والے سے نفرت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ اس تحریک کو ہر دن خون سے آبیاری کر کے زندہ رکھا گیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی

Read more

حرمت کیا ہے

بے کار کا سوال کیا ہے تم نے یہ کس قسم کا سوال ہے بیٹا! بڑوں سے ایسے سوال نہیں کرتے۔ مذہب کے بارے میں سوال کرنا گناہ ہے۔ بس ہم نے کہہ دیا، اب کوئی سوال نہیں۔ اچھا تھوڑی دیر بعد پوچھنا۔ بزرگوں سے تمہیں بات کرنا کب آئے گی۔ بات کیوں کاٹی۔ آنکھیں نیچی۔ تمیز سیکھو پہلے۔ اتنی بڑی ہستیوں کا نام لینے کی تمیز ہے تمہیں۔ تم اس مسجد میں کیوں گئے۔ ارے وہ کافر ہیں۔ گفتگو

Read more

کے الیکڑک مافیا

سب بخوبی آگاہ ہیں کہ مملکت کو 65 سے 70 فیصد ریونیو دینے والا شہر قائد ’مظلوم ماں‘ کی مثل کس قدر تکلیف و اذیت سے گزر رہا ہے، روشنیوں کا شہر انتظامی نا اہلی کے سبب کھنڈرات، گندے ندی نالے اور کچروں کے انبار کے ساتھ دنیا بھر کے دیرینہ مسائل کی آجامگا ہ بن چکا ہے۔ صاف پانی ہو یا سیوریج کا، بے روزگار فردہو تاجر برداری کی پریشانیاں، صحت کا مسئلہ ہو مردے دفنانے کے لئے قبرستان

Read more

خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں!

ہماری جناب محترم اشفاق احمد خان صاحب سے ملاقات محترمہ بینا گوئندی کے توسط سے اس وقت ہوئی جب خان صاحب اردو سائنس بورڈ کے سربراہ تھے اور بینا گوئندی وہاں شعبہ حیاتیات میں سکالر تھیں۔ چونکہ میں اور بینا گوئندی رشتہ ازواج سے منسلک تھے لہذا مجھے اپنے آفس سے واپسی پر بینا کو اردو سائنس بورڈ سے پک کرنا ہوتا تھا چونکہ بینا گوئندی کا نام علمی اور ادبی حلقوں میں اس وقت تک بہت نمایاں ہوچکا تھا۔

Read more

اسمبلیاں اور ہمارے نمائندوں کی گالی گلوچ

ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ سیاست عبادت کی طرح ہی مقدس کام ہے، آپ سیاست کے ذریعے ہی لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں، اور اس خدمت کی بدولت ہی لوگوں کی دعائیں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر ابراہم لنکن کے برعکس موجودہ دور میں لوگ لوٹ کھسوٹ، کرپشن، اقرباءپروری، اپنے حریفوں سے انتقام لینے کی خاطر ہی سیاست میں آتے ہیں۔ ہر 5 سال بعد اربوں کے خرچے سے انتخابات منعقد کیے جاتے جبکہ منتخب کردہ نمائندوں

Read more