کپتان نے پوری کابینہ کی جاسوسی کا حکم کیوں دیا؟

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کی تفصیلات میڈیا تک پہنچنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو کو معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے تاکہ وہ اپنی ٹیم میں شامل افراد کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس کی وفاداریوں کی حقیقت معلوم کر سکیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئی بی نے وفاقی وزرا، مشیروں، وزیراعظم کے خصوصی معاونین اور وفاقی سیکرٹری حضرات کا موبائل ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسی کابینہ ارکان کے ساتھ ساتھ ان کے ڈرائیوروں کے موبائل فونز کا ریکارڈ بھی حاصل کر رہی ہے۔

Read more

ٹرانسپورٹ بحالی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں

وزیر اعظم پاکستان نے وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں اور جواز کے طور پر حوالہ دیا ہے کہ جب امریکا اور یورپ میں پبلک ٹرانسپورٹ بند نہیں ہے تو ہم نے کیوں بند کی ہوئی ہے۔

مسئلہ سارا کا سارا یہی ہے کہ ہم ہر معاملے میں یورپ اور امریکا کی طرف دیکھنے کے عادی ہیں یہاں تک کہ ہمارے یہاں تیار کی جانے والی بہت ساری مصنوعات کے اشتہارات میں بھی یہی حوالہ ہوا کرتا ہے کہ یہ پراڈکٹ فلاں ملک کی تصدیق شدہ یا ایوارڈ یافتہ ہے۔ جو اشیا بھی مختلف ترقی یافتہ ممالک سے تصدیق شدہ یا ایوارڈ یافتہ ہوتی ہیں، خریدار بھی ان کے دیے گئے سرٹیفکیٹ یا انعامات کو، نعوذ باللہ، حدیث قدسی اور اللہ کی عطا سمجھ کر اس طرح قبول کر لیتے ہیں جیسے ان اشیا کو خرید کر وہ دونوں جہانوں کا اجر و ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔

Read more

یہ ہے اس تبدیلی کا شاخسانہ

تحریک انصاف حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.08 پر پہنچ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنی ”شاندار معاشی پالیسی“ کی بدولت اسے منفی 1.05 پر گرا کر دم لیا ڈالر تب سو روپے پر باندھ دیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت کے آتے ہی ناتجربہ کاری اور بے بصیرتی کے سبب ڈالر کو بال و پر فراہم کیے گئے اور وہ ایک سو ساٹھ سے اوپر پرواز کر بیٹھا۔

گیس کا بل جو چند سو روپے سے آگے نہیں بڑھتا تھا اس میں % 225 کا اضافہ ہوا اور اب گیس بھی ایک لگژری کی صورت اختیار کر گئی جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔

Read more

بھائی صاحب! آپ اتنے متعصب کیوں ہیں؟

لاک ڈاؤن شروع ہونے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ میں کراچی سے گاؤں کے لیے نکل رہا تھا تو سوچا کیوں نہ میلے کپڑے ڈرائے کلین کے لیے دیتا چلوں۔ ایک ہاتھ میں میلے کپڑوں کی گٹھری اور کندھے میں سفری بیگ اٹھائے ڈرائے کلین شاپ پر پہنچا تو بڈھا دکاندار پوچھنے لگا ”سندھ جا رہے ہو؟“ میں نے ناگواری کے تاثرات کے ساتھ جواب دیا ”آپ کے خیال میں کراچی جاپان میں ہے؟“ تو طرح طرح کی وضاحتیں دینے لگا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کراچی سندھ میں نہیں ہے۔

Read more

کورونا وائرس اس وقت کیا سوچ رہا ہے؟

یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے یہ کیسی قوم ہے جسے ہم ڈرا ہی نہیں سکے، بھائی یہ کون سا ملک ہے۔ تمھیں نہیں پتہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں ہمارا مقابلہ بڑے سخت جان لوگوں سے ہے انھیں تو موت کا خوف بھی نہیں، پچھلے چھ مہینوں سے ہم نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے، ساری دنیا میں لوگ ہمارے خوف سے گھروں میں بند تھے اور ہماری کارکردگی سے شہروں پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے ان لوگوں نے تمام اصولوں پر عمل کرکے ہمارے قدم اکھاڑ دیے، رہنے سہنے کے نئے رنگ ڈھنگ اپنا لیے، ہاتھ دھونا، لوگوں سے فاصلہ رکھنا، دور دور سے ہیلو، ہائے اور بائے کہہ رہے ہیں لیکن سلام ہے اس پاکستانی قوم کو جتنا میں کاری وار کر رہا ہوں اتنی ہی یہ نڈر ہو رہی ہے۔

Read more

موہے پیا ملن کی آس

میں دو کپ چائے بنا لائی اور دونوں کپ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھ دیے۔ آج تو میں نے بھی ٹھان رکھا تھا، اس روح اور فضا کا حبس کم کر کے ہی رہوں گی۔ یہ سوچ کر کہ آج اپنی بندگی کا صلہ مانگوں کی۔ میری ہاتھ کی خوش بو دار چائے پیے۔ میں لمس کی ترسی، اسے اپنے سامنے بٹھاؤں گی۔ محسوس تو کئی بار کیا تھا، مگر آج چھو کے دیکھوں گی۔ اس پہر دو پیالی چائے بنا کر لائی تھی۔ پیالی میں چائے کا رنگ بدل چکا تھا۔

کھڑکی کھلی ہوئی ہونے کے با وجود کمرے میں حبس تھا۔ یہ کس کمرے کی کھڑکی کھول دی تھی میں نے؟ اپنے دل کے کمرے کی! اس برسوں سے بند کھڑکی کو کھولنے میں بہت مشقت ہوئی تھی۔ پہروں کو گرمیوں کی دُپہروں اور سردیوں کی شاموں میں تلاش کیا تھا۔

Read more

شاہد آفریدی کشمیر میں، انڈیا کا انتہا پسند طبقہ تکلیف میں

23 جولائی 2019 کو شاہد آفریدی کا بیان سرحد پار اس طبقے کو ناگوار گزرا جو کشمیر کے متعلق انتہا پسندی کی سوچ رکھتے ہیں۔ بات کچھ یوں تھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وہ مشہور زمانہ گفتگو ہوئی جس میں امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جس پر شاہد آفریدی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”علاقائی و عالمی امن کی بقاء کے لیے ہمیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیے اور مجھے امید ہے کہ انڈیا اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرے گا“ ۔ یہ ٹویٹ کرنے کی دیر تھی کہ انڈیا کے مخصوص انتہا پسند طبقے نے شاہد آفریدی کے خلاف سوشل میڈیائی جنگ شروع کر دی۔

Read more

کون ہیں یہ لوگ؟

اس تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حالیہ وبا نے کس طرح غریب طبقہ کو ایک ایک نوالے کا محتاج بنا دیا۔ حالات سب کے سامنے ہیں۔ لیکن اس وبا نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہمارے وہ خدام جو ووٹ اور اقتدار کی جنگ میں ہماری چڈی بنیان تک دھونے سے بھی انکار نہیں کرتے تھے، وہ ”ایک وائرس کے ساتھ جنگ“ میں ہمارا ساتھ دینا تو دور کی بات، ہم سے نظر ملانا بھی گوارا نہیں کر سکتے۔

Read more

غربت اور سماجی عدم احساس

روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے غربت کی وجہ بیان کی تھی، یہ ایک مستند اور جامع وجہ ہے، چنانچہ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ، ”ﻏﺮﺑﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﺮ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺟﺎﺋﺰ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﺯﺩﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻞ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺴﺘﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﮞ۔“

غربت کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں، آبادی میں بے ہنگم اضافہ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، جنگیں، قدرتی آفات اور حکومتی غیر سنجیدہ حکمت عملیاں وغیرہ۔ مگر امیروں اور جاگیر داروں کے دلوں میں غریب لوگوں کی مجبوریوں کے احساس کا جنم نہ لینا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ معاشرے میں عموماً دو ہی طبقات پائے جاتے ہیں، ایک امیر اور دوسرا غریب۔ امیر ہر قیمت پر مزید امیر بننا چاہتا ہے جبکہ غریب غربت کے منحوس چکر سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔

Read more

سکول میں داخلے کے وقت بچے کی عمر کیا ہو؟

گھر کے ساتھ ہی ایک سکول ہے۔ صبح اور چھٹی کے وقت بچوں کو سکول آتے جاتے دیکھتا ہوں۔ ان میں بعض بچے اتنے چھوٹے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے سکول جا رہے ہیں۔ ان چھوٹے بچوں میں سے سارے خوشی خوشی سکول نہیں آتے، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو رو رہے ہوتے ہیں، کچھ رو نہیں رہے ہوتے لیکن ان کے چہروں پر ناگواری کے اثرات دیکھے جا سکتے ہوتے ہیں اور کچھ گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے خیال میں ان کی کم عمری ہوتی ہے کیونکہ ان سے بڑی عمر کے بچے خوشی خوشی سکول آ رہے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر سکول میں داخلہ کے وقت بچے کی عمر کیا ہو؟

Read more

ارطغرل ڈرامہ اور اس پر بحث، آخر کیوں؟

ترکی کی ٹیلی ویژن سیریز دیریلش ارطغرل پچھلے دو ہفتوں سے پاکستان میں موضوع بحث ہے۔ ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں میں ارطغرل کے کرداروں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس سیریز کے پہلے سیزن کی پاکستان ٹیلی ویژن پر اب تک ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ اقساط نشر ہو چکی ہیں۔ یہ سیریز مجموعی طور پر پانچ سیزن پر مشتمل ہے۔ ہر سیزن کی 70 سے زائد قسطیں ہیں جبکہ آخری سیزن 60 قسطوں پر مشتمل ہے۔ ترک ٹی وی نے اس سیریز کی دو دو قسطوں کو جوڑ کر ایک قسط تیار کی ہے جسے ترک زبان میں بولم کہا جاتا ہے، بولم کی تعداد 150 ہے جبکہ ہر بولم کا دورانیہ دو گھنٹے ہے۔ یوں مجموعی طور پر یہ ڈرامہ ( ٹی وی سیریز) 300 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔

سیریز میں ترک ٹیلی ویژن نے سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان کے والد ارطغرل کے کردار کو فلمایا ہے جبکہ چوتھے اور پانچویں سیزن میں عثمان کے بچپن کے کردار کو بھی دکھایا گیا ہے۔ عثمان کے کردار پر الگ سے کورولش عثمان کے نام سے ٹی وی سیریز کی پروڈکشن پر بھی کام جاری ہے جس پر کورونا وائرس کی وجہ سے فی الحال کام روک دیا گیا ہے، البتہ اس سیریز کے پہلے سیزن کی 20 اقساط یوٹیوب پر جاری کردی گئی ہیں۔ ہم یہاں صرف دیریلش ارطغرل ٹی وی سیریز پر بات کریں گے جس میں عثمانی سلطنت کے پہلے سلطان عثمان کے والد کی زندگی کو فلمایا گیا ہے۔

Read more

ارطغرل غازی نے کئی نقاب سرکا دیے ہیں

آپ نے شتر مرغ کا نام ہی نہیں سنا ہو گا بلکہ یقیناً اسے دیکھا ہوا بھی ہوگا۔ جتنا یہ خود عجیب ہے اتنا ہی اس کا نام بھی عجیب ہے۔ شتر مرغ فارسی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ ”شتر“ اور ”مرغ“ کا مجموعہ ہے۔ شتر کا معنی اونٹ جبکہ مرغ کا معنی ہے پرندہ۔ اس لحاظ سے شتر مرغ کا مطلب ہوا اونٹ نما پرندہ یا پرندہ نما اونٹ۔ کسی نے اس سے پوچھا :تم شتر ہو یا مرغ؟ اس نے جواب دیا : میں شتر (اونٹ) ہوں۔ پوچھنے والے نے پوچھا : شتر ہو تو بوجھ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس نے جواب دیا : نہیں! میں مرغ (پرندہ) ہوں۔ پوچھنے والے پھر سوال داغا:اگر مرغ ہوتو اڑتے کیوں نہیں؟ اس نے دیدے گھماتے ہوئے جواب دیا: کیونکہ میں شتر ہوں۔ یعنی جب بوجھ اٹھانے کا وقت آئے تو یہ مرغ بن جاتا ہے اور جب اڑنے کا وقت آئے تو شتر بن جاتا ہے یعنی کام سے بھاگتا ہے۔

Read more

سحر انگیز اور دل موہ لینے والے موسیقار نثار بزمی

جل گاؤں، ریاست مہاراشٹرا، بھارت میں سید قدرت علی کے ہاں 1924 کو بچے کی پیدائش ہوئی۔ سید نثار احمد نام تجویز ہوا۔ کسے معلوم تھا کہ آگے چل کر یہ برصغیر پاک و ہند میں نام کرے گا۔ ابھی گیارہ بارہ سال کی عمر ہو گی کہ معاشی مسائل سے نبٹنے کی خاطر ان کو ( اس وقت ) بمبئی کی ایک نامور قوال پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ سر تال خدائی عطیہ تھا جب کہ موسیقی کے اسرار و رموز سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ تب قسمت نے یاوری کی اور 1930 کے اواخر میں بمبئی کی موسیقی میں اہم شخصیت خان صاحب امین علی خان کی شاگردی میں چار سال رہے۔ یوں محض 13 سال کی عمر میں مروجہ راگ راگنیوں اور آلات موسیقی میں خاصی مہارت حاصل کر لی۔ 1939 میں صرف 15 سال کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ ہو گئے۔ یہیں ( بمبئی ) کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے ڈراموں میں گیتوں کی طرزیں بھی بنائیں۔ ان کی بنائی ہوئی دھنوں پر رفیق غزنوی اور امیر بائی کرناٹکی جیسے نامور موسیقاروں اور فنکاروں نے گایا۔ یہ معمولی بات نہیں۔ ایسے کامیاب کام کے بعد سید نثار کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی جو اس وقت ایک معقول رقم مانی جاتی تھی۔

Read more

سائنس کا پول بھی کھل ہی گیا – ایک عرض

غضنفر عباس صاحب کا مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مضمون کی نوعیت سے لگتا ہے کہ سائنس سے کافی نالاں ہیں۔ بھلا ہو ان کا جنہوں نے غضنفر صاحب کو سائنس کے متعلق ایسی باتیں بتائیں کہ یہ تو کسی بھی مسئلے کا حل یوں نکال لیتی ہے جیسے کوئی شعبدہ باز اپنی چھڑی سے سانپ بنا لیتا ہے۔ جتنے بھی بڑے سائنسدان حال میں موجود ہیں یا ماضی میں گزرے ہیں کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سائنس کے پاس ہمارے تمام مسائل کا فوری حل موجود ہے۔

سائنس تو بذات خود حضرت انسان کی اس کائنات کو سمجھنے کی سعی ہے اور اس کی اساس انسان میں پائی جانے والی جستجو اور تجسس ہے۔ نظام قدرت کو سمجھنے کی لگن میں ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں جہاں ہم موجود ہیں۔ ہم اپنے اردگرد جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اور اس ٹیکنالوجی سے مزین دنیا میں جتنے بھی لوازمات کا لطف اٹھاتے ہیں وہ انسانی ضرورت ہی کی دین ہیں۔ کبھی یہ ضرورت ہے تو کبھی بقا کی جنگ کا نتیجہ۔ بالکل جیسے کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

Read more

نئی عورت کا رول ماڈل

وہ چھوٹی تھی تو اس کی رول ماڈل اس کی ماں تھی جو اس سے محبت کرتی اور مزیدار کھانے بناتی تھی۔ وہ سکول گئی تو اس کی رول ماڈل اس کی ٹیچر تھی جو خوبصورت لباس پہنتی تھی اور اچھا کام کرنے پر اسے مسکرا کر شاباش دیتی تھی۔ وہ لڑکپن میں تھی تو ڈائجسٹ کی ہیروئن اس کی رول ماڈل بنی جو گھریلو کاموں میں مشاق تھی اور اسے بہت اچھا بے عیب شوہر بھی مل جاتا تھا۔ لیکن پھر وہ بڑی ہوگئی، دوچار کتابیں پڑھ لیں، نوکری کرلی اور گھر سے باہر کی دنیا کا شعور آیا تو رول ماڈلز کا جعلی بھرم ٹوٹ گیا۔ اب اصل دنیا ہے اور اس کے اصل چیلنجز ہیں۔ اب اس کا رول ماڈل کون بنے گا؟

Read more

تاریخ، قصہ گوئی اور اسلامی روایت

قرآن کا اعجاز اور عربوں پر اس کے مضامین کا کھلنا بہت سی معلومات کے لئے تحقیق کا باعث بنا۔ اسلامی تعلیمات نے عربوں کے عقلی درجے کو کافی بلند کر دیا۔ بقول علامہ احمد امین مصری حضرت آدمؑ ’نوحؑ‘ ابراہیمؑ ’یوسفؑ‘ موسیٰؑ ’یونسؑ‘ داؤدؑ اور سلیمانؑ کے واقعات ان کے سامنے ایسے دلچسپ انداز میں پیش کیے گئے کہ عربوں کے دلوں میں مزید معلومات حاصل کرنے کا ایک ہیجان پیدا کر دیا۔ انہوں نے دوسری اقوام مثلاً یہود و نصاریٰ کے پاس سے وہ معلومات حاصل کیں جو ان کے ہاں موجود تھیں۔

Read more

کیا کرونا وائرس انسانی ریسرچ اور چھیڑ چھاڑ کی پیداوار ہے؟

نئے کرونا وائرس نے ڈاکٹروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے کہ یہ آخر کس طریقے سے انسان کو بیمار کرتا ہے۔ فلو سانس کی نالی پر اٹیک کرتا ہے اور ایبولا خون پر۔ اسی طرح ہر بیماری کی علامات ہیں جو انفیکشن ہونے پر ظاہر ہوتی ہیں اور عمومی طور پر بیمار شخص ہی دوسروں کو بیمار کر سکتا ہے۔ یہ سب اصول  نئے کرونا پر پورے نہیں اتر رہی کیونکہ یہ سانس کی نالیوں پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے تو پیٹ میں آنتوں پر بھی۔ کسی کے دماغ میں اس کے حملے سے ورم آ جاتا ہے تو کسی کا خون اس کے حملے سے جم جاتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ بہت سارے لوگوں میں یہ صرف پل کے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے لیکن ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہیں۔

Read more

کورونا وائرس: نیدرلینڈز کی حکومت کا غیر شادی شدہ افراد کو ’سیکس پارٹنر‘ تلاش کرنے کی ہدایت

ہالینڈ کی حکومت نے وبائی مرض کے دوران قربت کے خواہاں سنگلز یعنی غیر شادی شدہ افراد کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں اور انھیں ایک ’سیکس پارٹنر‘ یعنی جنسی رفیق کی تلاش کا مشورہ دیا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرنمنٹ (آر آئی وی ایم) کا کہنا ہے کہ مجرد زندگی بسر کرنے والے فرد کو کسی دوسرے کے ساتھ رہنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ لیکن ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے

Read more

اسد عمر نے شوگر انکوائری کمیشن میں کیا اہداف حاصل کر لیے؟

چینی سکینڈل انکوائری کمیشن نے ”چوہدریوں“ کو بیک ڈور سیاسی جوڑ توڑ سے روک دیا ہے، اس طرح کہ پنجاب میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ”چوہدری برادران“ کی علانیہ و خفیہ سیاسی سرگرمیاں شوگر سکینڈل کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن کی رپورٹ تک کے لئے مؤخر ہو گئی ہیں، یوں کمیشن کی کارروائی نے بالواسطہ ”چوہدری برادران“ کی طرف سے پنجاب میں جاری سیاسی جوڑ توڑ کی تمام تر سرگرمیاں ”ہولڈ“ پر چلی گئی ہیں اور اب جہاں

Read more

اردو ادب پر مذہبی چھاپ: روحانیت یا کمرشل ازم؟

دنیا بھر کے ادب میں اولیت ان لکھاریوں کو دی جاتی ہے جن کا قلم تحقیق، تجربے اور تجسس کو دعوت دیتا ہو جس سے انسان کی ذہنی نشو و نما اور فکری بالیدگی کو جلا مل سکے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے اردو ادب کی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو چند ایک شعراء کے علاوہ تمام لکھنے والے بالخصوص نثر لکھنے والے ایک محدود نظریے پر لکھتے نظر آتے ہیں جن کی تمام تر سوچ صرف مذہب کے گرد طواف کرتی محسوس ہوتی ہے اردو نثری مضامین لکھنے والوں پر مذہب کی چھاپ نمایاں ہے۔

Read more

انٹرنیٹ پر ہوم ورک کی منڈی: پاکستانی نوجوان جو غیر ملکی طلبہ کو پاس کرواتے ہیں

آپ نے سنا ہی ہو گا کہ انٹرنیٹ پر سب دستیاب ہوتا ہے، چاہے مصنوعات (پراڈکٹ) ہوں یا خدمات (سروس)۔ ایسی ہی ایک سروس سینکڑوں پاکستانی نوجوان بیرون ممالک میں زیرِ تعلیم طلبہ کو دے رہے ہیں جس میں وہ اُن کا ہوم ورک کرتے ہیں اور اچھے گریڈز حاصل کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان روزگار کی تلاش اور اپنی ذاتی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے پڑھائی کو

Read more

پاکستانیو، حلیمہ سلطان صرف ارطغرل کی ہے

عمر اور دانش فیس بک بحث و مباحثہ میں مشغول تھے۔ عمر بہت دیر سے دانش کو سمجھا رہا تھا کہ خدارا اپنا غیر شرعی طرز زندگی بدل لے اور راہ راست پہ آ جائے۔ دوسری جانب دانش اپنی ضد پہ اڑا تھا کہ تم تو ہو ہی دقیانوسی خیالات کے مالک تمہیں کیا پتہ کہ لبرل ہی انسانیت کے حقیقی علمبردار ہیں۔ عمر نے دانش سے کہا میں تھک گیا ہوں تمہیں سمجھا کر کل بات ہو گی ابھی

Read more

سید و غیر سید: وجہ برتری اور کمتری نہیں ہونی چاہیے

ان دنوں سوشل میڈیا پر یہ بحث رہ رہ کر نمودار ہوتی رہتی ہے کہ وہ سید ہیں اس لئے تمام تر دین بیزاریوں کے باوجود وہ قابل صد احترام ہیں۔ اس ضمن میں اسرائیلی روایات کی طرح بر صغیر ہند پاک بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے درمیان میں روایات گردش کرتی رہتی ہیں کہ کسی سید لقب والے کی شان میں ادنی سی گستاخی یا حد ادب سے تجاوز کس طرح اسی دنیاوی زندگی میں تجاوز کرنے والے کے

Read more

غازی ارطغرل اور پاکستانی معاشرہ

”جب تک ہم اللہ کے راستے پر چلیں گے کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا“ غازی ارطغرل۔ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ساؤتھ امریکہ اور ساؤتھ افریقہ میں 60 سے زیادہ ملکوں میں دیکھا جانے والا مشہور ڈرامہ غازی ارطغرل، اب وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان کے قومی ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ (جو کہ مسلمانوں کی دنیا پر چھے سو سال تک حکومت کا باعث بنی) کے وجود

Read more

مبارک ہو، حکومت اور کرونا کے مابین ڈیل طے پا گئی

پاکستانی قوم خصوصاً صوبہ سندھ کے باسیوں کو مبارک ہو۔ مبارک ہو کہ حکومت اور کرونا وائرس کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں۔ معاہدے کی رو سے چار دن عوام کے لیے اور تین روز کرونا کے لیے مختص کیے گئے ہیں، کرونا اب پیر سے جمعرات صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک عوام پر حملہ آور نہیں گا خواہ لوگ کندھے سے کندھا ملا کر خریداری کریں یا بازاروں میں رش لگائیں۔ تاہم اگر لوگوں نے اپنی حدود سے بار نکلنے کی کوشش کی اور طے شدہ اوقات کار کی خلاف ورزی کی تو کرونا ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا یہی وجہ ہے کہ جمعہ سے اتوار تک حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کرونا سے ڈیل ہی کرنا تھی تو اس ڈیل کو کرنے میں اتنا وقت کیوں لگایا اور یہ ڈیل صرف کاروباری سرگرمیوں تک ہی کیوں محدود رکھی۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور انڈیا

گو کہ اس وقت پورا ملک ”کورونا“ کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں ہے اور ساری نظریں ڈیش بورڈ پر لگی ہیں وہیں پر سیاسی اور معاشی معاملات بھی پس منظر میں چلے گئے ہیں لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے نے پاکستان اور انڈیا کو سفارتی محاذ میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ معاملہ ہے گلگت بلتستان کے ہونے والے الیکشن۔ تفصیل یوں ہے کے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ چونکہ گلگت بلتستان کے الیکشن متوقع ہیں اسمبلی کی میعاد جون کو ختم ہو رہی ہے اور نگران سیٹ اپ کے لئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں لہذا گورننس آرڈر 2018 میں ترمیم کی اجازت دی جائے تاکہ نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

Read more

درپیش چیلنجز کا مقابلہ

پاکستان کو اس وقت بدترین معاشی صورتحال کا سامنا ہے۔ کرونا وائرس نے ملک کے اقتصادی نظام کو بری طرح زک پہنچائی۔ مملکت پہلے ہی معاشی بحرانوں سے نکل نہیں پائی تھی کہ کرونا وبا نے پاکستان کے اقتصادی نظام کو مزیدمفلوج کرکے رکھ دیا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے معاشی پالیسیوں کو مربوط انداز میں مرتب کرکے، انہیں مستقل خطوط پراستوارکرنے لئے کئی تجربات کیے جاچکے، لیکن حکومتی معاشی ٹیم کو طویل عرصے سے درپیش مسائل کو حل کرنے

Read more

انسداد وبا میں میڈیا کا اہم کردار

دنیا کی ایک معروف سماجی و کاروباری شخصیت اور ای کامرس کے حوالے سے مشہور عالمی ادارے علی بابا کے بانی جیک ما کا حالیہ دنوں ایک بیان نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کہا کہ ”رواں برس انسانی جان کا بچ جانا سب سے بڑا منافع ہے“ ۔ اگر عالمگیر وبا کووڈ۔ 19 کی تباہ کاریوں کو دیکھا جائے تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ انسانیت اس وقت ایک کٹھن آزمائش سے دوچار ہے اور ان دیکھا دشمن

Read more

اپوزیشن کیوں حواس باختہ ہے؟

انسان محدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوا ہے کوئی بھی شخص عقل کل اور ہر فن مولا نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف کو حکومت میں لانے والے خواہ وہ ووٹر ہوں، صحافی یا پھر غیبی ہاتھ اپنے ذاتی مقاصد کے سوا ان کے پیش نظر یہ مقصد بھی تھا کہ عمران خان ایماندار شخص ہیں اور وہی کرپشن کی دیمک سے متاثر اس ملک کی بنیادیں مضبوط کر سکتے ہیں۔ ان خوش فہموں کو توقع تھی کہ خان صاحب کے

Read more

پرانے برتنوں، پلاسٹک کی جوتیوں اور خالی بوتلوں کے بدلے پیٹرول

کورنا کے حوالے سے مسلسل بُری خبروں کے ہجوم میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں ایک بار پھر کچھ کمی کردی ہے۔ گو عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرول کی جو درگت بن رہی ہے اس کے تناظر میں اسے خاطر خواہ کمی تو قرار نہیں دیا جا سکتا مگر مہنگائی کم کرنے کے حوالے سے حکومت کے سابق ریکارڈ تو دیکھیں تو پیٹرولیم مصنوعات میں اس حالیہ کمی کو بڑی حد تک

Read more

روزہ خور اور چڑی روزے

کچھ لوگ روزے کے معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ اتنے حساس کے اگر کوئی دوسرا کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھتا تو اس کے پیچھے پنجے جھاڑ کے پڑ جاتے ہیں کہ روزہ کیوں نہیں رکھا۔ یہ سوچے بنا کہ یہ خالص اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ لیکن نہ جی ایسے لوگ خود روزہ رکھ کر دوسروں کو وختہ ڈال دیتے ہیں۔ آتے جاتے دوسروں کو روزہ رکھنے کے فوائد بتا کر جنت کی نعمتیں گنواتے اور روزہ چھوڑنے پر جہنم سے ڈراتے رہتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک باب الریان ہے اور روزہ دار اسی دروازہ سے داخل ہوں گے۔

Read more

شخصیت پرستی کی بیماری

پاکستان میں بھی ہر گروہ اور ہر جتھے کا اپنا اپنا ہیرو ہے اور اس کو انہوں نے ایک دیوتا کی شکل دی ہوئی ہے، اس کو مقدس بنایا ہوا ہے، اس کے خلاف تنقید نہیں ہو سکتی، پارٹی کے اندر اس کے کسی بھی فیصلے پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی جا سکتی، کسی بھی فیصلے کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جاسکتا، جو کچھ پارٹی سربراہ نے کہہ دیا وہ حرف آخر ہے، بالکل ہی باس اور ماتحت والا رشتہ ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں نہیں بلکہ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جس میں ملازم کا کام بس حکم بجا لانا ہوتا ہے۔

Read more

سماجی دوری یا جسمانی فاصلہ؟

کورونا کے آنے کے بعد ”سماجی فاصلہ“ اختیار کرنے کی اصطلاح مسلسل سن رہے ہیں لیکن وہیں اس پر کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے ہیں۔ کیا ہم سماجی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہیں؟ کیا ہم نے ایک مضبوط سماج کی تشکیل کے لیے مل کر کام کیا ہے؟ کیا ہم پہلے سے ہی سماجی طور پر ایک دوسرے سے بہت دور نہیں ہیں؟ کیا کورونا کے بعد ہم نے سماجی دوری اختیار کی ہے جو پہلے ہی سے تھی یا جسمانی فاصلہ اختیار کیا ہے؟

Read more

پاکستانی اور کورونا

کورونا کے خلاف ہم سب ہیں، یہ ایک ایسا دشمن ہے جو نہ انسانوں کا رنگ دیکھ رہا ہے نہ نسل اور نہ ہی جنس یا مذہب، اس موذی مرض سے سب کو ایک جیسا خطرہ لاحق ہے۔ دنیا نے جنوری میں اس کو عالمی خطرے کے طور پر آبزرو کرنا شروع کیا اور وسط مارچ تک یہ دنیا کے قریباً تمام ممالک کو کم یا زیادہ متاثر کر چکا تھا۔ مختلف ملکوں نے اس سے نمٹنے کی مختلف حکمت عملی اپنائی، ہمارے لیے زیادہ خبریں پاکستان کے ساتھ ساتھ چین، امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور ہندوستان سے اہم رہیں۔

Read more

صدر ٹرمپ کی بصیرت اور کورونا سے جنگ

صدر ٹرمپ کی تمام معاملات کو گھما دینے اور دوسروں کے سر تھوپ دینے کی ترکیب اس مرتبہ کام نہیں کر پائی۔ جب وہ کہتا ہے کہ ہم نے کورونا پر قابو پا لیا ہے تو یہ بات غلط نکلتی ہے کیونکہ ملک میں کورونا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے اصل کامیابی سے بڑھ کر صرف کامیاب نظر آنا ضروری ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے ارد گرد کی تمام چیزوں کی ملمع کاری میں مصروف رہتے ہے اور ہر چیز کو صرف اپنی مرضی کی عینک سے ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی بصیرت اور ذہنی میلان و رحجان کا یہ خاصہ ہے کہ وہ مسلسل اپنی بہترین کارکردگی کا دکھاوا اپنی ان دیکھی صلاحیتوں کا پرچار اور اپنی فرضی کامیابیوں کی شیخی بگھارتے رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے شاندار ماضی کو اجاگر کروانے کی سعی پیہم میں مصروف عمل رہتے ہیں۔

Read more

بہشتی برگیڈ کا حلیمہ سلطان پر حملہ

جس طرح فا ئیر بریگیڈ کا کام کہیں بھی لگی ہوئی آگ کو بجھانا ہے تو ہم پاکستان والوں کے پاس ایک فا ئیر بریگیڈ ایسا ہے جو کہیں بھی آگ لگانے کا کام بخوبی جانتا ہے۔ یہ آگ مخالف کے تن بدن میں بھی ہو سکتی ہے اوراپنے دل و دماغ میں بھی۔ آ گ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ جتھہ اپنے تئیں لوگوں کی نقل و حرکت اور افعال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اپنی آسانی کے لئے

Read more

ریاستی ٹی وی کے چہرے پر "ترک ڈرامے کی سیاہی”

آج کل ریاستی ٹی وی چینل پر ایک ترک ڈراما بڑے ذوق و شوق سے آن ائر کیا اور دیکھا جا رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو مجھے اس کا نام اور تلفظ کسی دوائی کے نام کی طرح مشکل لگتا ہے۔ اس ڈرامے سے پہلے پی ٹی وی کو کوئی گھاس نہ ڈالتا تھا، اب اس کی ریٹنگ جیو، ہم، اور اے آر وائے سے آگے نکل چکی ہے۔ زیادہ تر لوگ اس ڈرامے کی مدح سرائی کر رہے ہیں۔

Read more

کورونا وائرس ویکیسن: امریکی کمپنی کے ‘ریمڈیسویر’ کی تیاری کے لیے انڈین اور پاکستان کمپنیوں سے معاہدے

ادویات تیار کرنے والی امریکہ کی ایک کمپنی نے کووڈ 19 کا علاج کرنے والی دوا ‘ریمڈیسویر’ کو وسیع پیمانے پر تیار کرنے کے لیے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی پانچ دوا ساز کمپنیوں سے معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے ‘گیلیڈ’ اور انڈیا اور پاکستان کی پانچ دوا ساز کمپنیوں کے درمیان طے پائے ہیں اور یہاں تیار کی جانے والی دوا دنیا کے 127 ملکوں کو فراہم کی جائے گی۔ ‘ریمڈیسیور’ کے دنیا کے کئی ہسپتالوں میں کیے

Read more

پاکستان، ارطغرل اور حلیمہ باجی استغفراللہ

آج کل جس ڈرامہ کے چرچے ہیں ہر زبان پر، پاکستان اور ترکی کا تو معلوم ہے لیکن پوری دنیا کو بھی اس کی خبر ہو گئی۔ کائی قبیلہ والے کون ہیں، کیسے لڑتے تھے، کس خطہ زمین سے اٹھے اور دیکھتے دیکھتے کہاں تک چھا گئے، کس سلطنت کی بنیاد رکھی، دوست اور دشمن کے ساتھ سلوک، مذہبی اور معاشرتی معاملات، رسم ورواج وغیرہ کی سب تفصیلات تو اب اس ڈرامہ کو دیکھنے والوں کو یاد ہو چکی ہیں۔

Read more

مخدوم تو اچھے ہوتے ہیں!

شاہ محمود قریشی ملتان کے نامور مخدوم ہیں۔ مہربان انسان ہیں اسی لئے دنیا ان کی قدردان ہے ان سے محبت کرتی ہے۔ انہیں جب کبھی دیکھا اس نظر سے دیکھاجس نظر سے برسوں پہلے انہوں نے ہیلری کو دیکھا تھا۔ یہ منظر جس میں جام بھی تھے ( واضح رہے کہ یہ جنوبی پنجاب والے جام نہیں ہیں ) کسی دل جلے فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا اور پھر یہ محفوظ شدہ منظر وائرل ہو کر

Read more

والدین کی محبت یا بچوں کے ارمانوں کا سودا

یہ اتنی کم ظرفی کیوں برتتی جاتی ہے؟ با اختیاری کیا تنگ دامانی کا پرمٹ دیتی ہے؟ کسی اور پہ گزرتی تکلیف خود پہ گزری یاد کیوں نہیں دلاتی؟ یا یاد دلاتی بھی ہے تو شاید با اختیاری کے نشے میں بھلا دی جاتی ہے۔ ہزاروں نوجوان کالج کی کسی اوٹ میں بیٹھ کر بے بسی کے فشار کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے ٹپکتے لاچارگی کے آنسو محض احباب تکتے ہیں جو انھی کی طرح بے اختیار

Read more

کیا کرونا وائرس ہمیں مستقبل کے لئے اسمارٹ بنا دے گا؟

فان مع العسر یسراً (پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے)۔۔۔ میں اطمنیان دلایا گیا ہے کہ اگر آپ اس وقت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔ جبکہ دوسری طرف سائنس کو بھی مذہب کی اس یقین دہانی پر عملی جامہ پہناتے دیکھا جا سکتا ہے، ایسے مسائل جس نے ماضی میں انسان کو پریشان کر رکھا تھا آج کم و بیشر ان سب کا ایک خوش اسلوب حل موجود

Read more

ساعت مادر کا تسلسل

وہ گھر آج بھی بلا رہا ہے مجھے جبکہ اب میرا وہاں کوئی نہیں اسے بیچ دیا تھا میں نے ایک لمحے کی اشد اور عقل مند ضرورت سمجھتے ہوئے مگر اک ٹھنڈی میٹھی انتظار کی تمازت سے بھری دھوپ تنی ہے اس کے صحن اور چھت پر کون ہے جو راہ تک رہا ہے میری مین گیٹ تک نظریں گاڑے جبکہ  وہ اندر اپنے کمرے میں نیند سے بوجھل کانپتے لرزتے ناتواں پپوٹوں میں میری آہٹ کی امید سینچ

Read more

بیرک نمبر 10 کا قیدی

قدم آھستہ آھستہ بیرک کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اچانک قدم رک گئے۔ چھ سال ہو گئے آسیبی سایہ اب بھی برقرار ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ذہین لوگ جو ملک سے باہر جا کر امتیازی خصوصیات کے ساتھ اپنا مقام حاصل کرتے ہیں اور واپس لوٹ کر دیس کے طالب علموں میں فکر کے روشن چراغ روشن کرنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں، ان کو سر آنکہوں پر بٹھایا جانا چاہیے تھا لیکن ارضِ مقدس میں

Read more

مزے تو ماہی اب آئیں گے

ہرنام سنگھ اور پرنام سنگھ پرتاب سنگھ کے دو صاحبزادے تھے۔ پرنام سنگھ سگا تھا اور ہرنام سنگھ سوتیلا۔ پرنام سنگھ لاڈلا تھا جبکہ ہرنام سنگھ باپ کو اک آنکھ نہ بھاتا۔ پرتاب سنگھ اک سفر پہ روانہ ہوا تو جاتے ہوئے اس نے پرنام سنگھ کو کافی ساری چیزیں دیں اور ہرنام سنگھ کو صرف اک کچھا اور دھوتی عطا ہوئی۔ جو بالترتیب اس کے تن پہ زیب رہتی۔ جاتے ہوتے پرتاب سنگھ نے کہا خبردار واپسی پہ میں نے حساب لینا ہے۔

Read more

شاہد آفریدی۔ ہوپ ناٹ آؤٹ

میرا سارا بچپن سعودی عرب میں گزرا ہے۔ وہاں تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ کرکٹ میچ دیکھنا ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کیسے ابو سارے کام نبٹا کر میچ دیکھنے کے لیے گھر آ جاتے تھے۔ میچ شروع ہو جاتا اور جب پاکستانی وکٹیں تیزی سے گرنا شروع ہوتیں تو ہماری امیدوں کا محور ایک ہی کھلاڑی ہوتا تھا اور وہ ہے بوم بوم آفریدی۔ ابو ہمیں حوصلہ دیتے کہ دیکھنا ابھی آفریدی آئے گا اور چوکوں چھکوں کے ساتھ تیزی سے سکور پورا ہو جائے گا۔ بھائی شرطیہ بیان جاری کرتے کہ میچ جتوانا ہی آفریدی نے ہے۔ میچ ختم ہونے پر بھی بات ختم نہیں ہوتی تھی بعد میں آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے میچ دوبارہ دیکھتے تھے۔ اس طرح دیار غیر میں وقت کو یادگار بنانے کا موقع ملتا تھا۔

Read more

شیکسپیئر، عمیرہ احمد اور کتاب کا بوجھ

ریل گاڑی جیسے ہی اسٹیشن پر آ کر رکی۔ میں فوری طور پر اپنے سامان سمیت اس پر سوار گیا اور اپنی ٹکٹ پر لکھے سیٹ نمبر کو تھوڑی سی کوشش سے تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اپنا سامان رکھ کر اب میں سیٹ پر بیٹھ چکا تھا اور کچھ ہی دیر میں ریل گاڑی اپنی تمام تر برق رفتاری سے رواں ہوچکی تھی۔ میرے سامنے والی سیٹ پر میرا ہم عمر ایک نوجوان بیٹھا کتاب پڑھنے میں مشغول

Read more

بھارت میں مسلمانوں پر کیا بیت رہی ہے ؟

اس وقت ہمارا ملک ہندوستان جس عجیب وغریب حالات سے گزر رہا ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہرطرف نفرت کی فضاء عام ہو رہی ہے۔ ایک خاص کمیونٹی کے لوگوں کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود حکمراں طبقے کی جانب سے پوری قوت کے ساتھ یہ بھرم بھی پھیلایاجا رہا ہے کہ ملک میں سب ٹھیک ہے۔ کہیں کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری چیزیں اس کے برعکس ہو رہی ہیں۔

Read more

یہ باتیں حاکم لوگوں کی

کرونا کی وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے ڈیڑھ ماہ قبل جو لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اس میں نرمی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ حکومت کا استدلال یہ ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی نام کی کسی شے کا وجود شاید ہے ہی نہیں۔ دوسرے صوبوں کو تو چھوڑیئے

Read more

ہمیں خبر نہ ہوئی، مصطفیٰ چلا گیا

سوشل میڈیم پر گزشتہ کئی برسوں میں جب بھی جھنگ کے کسی دوست سے رابطہ ہوا تو میں نے اپنے ہم جماعت ڈاکٹر محمد مصطفٰی سے متعلق ضرور پوچھا۔ مجھ سے استفسار ہوا کیپٹن ڈاکٹر مصطفٰی؟ تو میں کہتا، ہاں کیونکہ فوج میں تو وہ رہا تھا۔ جواب ملتا ٹھیک ہیں۔ خود میں زندگی میں کبھی جھنگ نہیں گیا، ہاں البتہ بہت پہلے جب کبھی سیلاب آ کے گزر گئے ہوتے تو ملتان سے جھنگ کے راستے لاہور جانے والی

Read more

حسن جلیل: ہم صورت گر کچھ خوابوں کے     

1980 کی دہائی ریڈیو کرکٹ کمنڑی کا سنہرا دور تھا۔ دبئی کا ویزہ ملے تو کہیں گھر میں ٹی وی کی منہ دکھائی ہوتی تھی۔ اور ٹی وی بھی کسی شہر، خاص طور پر بڑے شہر میں ہی پر پرزے نکالتا تھا۔ دورافتادہ مقامات پی ٹی وی کی رسائی سے باہر تھے۔ گھر بھر کے سلور کے برتن ایریل کے ساتھ باندھیں تو کہیں جا کر آٹھ بجے کا ڈرامہ اور نو بجے کا خبر نامہ نصیب ہوتا تھا۔ اور

Read more

عارف وزیر کا قاتل کون؟

38 سالہ پختون رہنما عارف وزیر کے قتل کا معاملہ ابھی نہیں تو کچھ دنوں بعد یقیناً خوش اسلوبی سے ”کھوہ کھاتے“ ڈل جائے گا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ قاتلوں کا کھوج لگانا مشکل کام ہے بس غم، دکھ، اور شرمندگی صرف اس کہ پہچان کا سامنا کرنے میں آڑے آتیں ہے۔ وجہ یہ ہے قتل کا کھرا اس دہلیز کی طرف لے کر جاتا ہے جنہیں ”ماں“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہر شخص کی طرح عارف کی

Read more

مریم نواز کا عالم خاکی کو پیغام: شہباز شریف کے ہاتھ خالی ہیں، ڈیل کرنی ہے تو ہم سے بات کریں

اٹھارہویں ترمیم پر سودے بازی کی دوڑ میں ”نون“ لیگ کے دونوں دھڑوں نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر لیا، مریم نواز گروپ کی طرف سے ”مرکز تجلیات“ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے بعد شہبازشریف نے بھی پاور بروکرز سے ملاقات کا وقت مانگ لیا ہے۔ مبصرین کے نزدیک دونوں لیگی دھڑوں نے اس اہم سیاسی مرحلے پر خُود کو نون لیگ کی ”سی بی اے“ یونین یعنی ”اجتماعی سودا کار ایجنٹ“ منوانے کی دوڑ لگ گئی ہے۔ ذرائع کے

Read more

میں ہوں اطہر شاہ خان جیدی

جی، جی میں ہوں اطہر شاہ خاں۔ اکثر لوگ مجھے ”جیدی“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ نہیں، نہیں، مجھے برا نہیں بلکہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کہ میری تخلیق اس قدر مقبول ہوئی اور میری پہچان بھی بن گئی۔ پاکستان بننے کے بعد والدین، رام پور اتر پردیش سے لاہور آ بسے۔ میری عمر اس وقت 4 سال تھی۔ لاہور کے مختلف سکول و کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ہوش سنبھالتے ہی گھر میں قلم و کتاب کے رشتہ کو محترم

Read more

کرونامسخرہ نہیں ہے

ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ لاک ڈاؤن مکمل طور پر ہونا چاہیے یا جزوی طور پر۔ ہم اس حوالے سے بھی ابھی کوئی مکمل فیصلہ نہیں کر پائے کہ مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی ہونی چاہیے یا نہیں۔ ہم اس معاملے پہ بھی گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں کہ اگر جماعت قائم کی جاتی ہے تو نمازیوں کا درمیانی فاصلہ تین فٹ ہونا چاہیے یا چھ فٹ۔ درزی کی دکان کھلے گی یا نائی کی، ہمارا فیصلہ اس حوالے سے بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

Read more

سفرنامہ حج: کعبے پر پڑی جب پہلی نظر

منی۔ عرفات اور مزدلفہ میں ہر سال پانچ دن کے لئے ایک حسین شہر بستا ہے۔ ہر سال پچیس سے چالیس لاکھ تک لوگ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ سفید رنگ کے خیموں کے شہر میں اسی رنگ کے پاکیزہ لباس میں ہر نسل ہر رنگ ہرملک کے باشندے اکٹھے پانچ دن گزارتے ہیں۔ خیموں کے اس شہر میں ہر طرف پاکیزگی ہی پاکیزگی نظر آتی ہے۔ یہیں نویں زوالحج کو ایک دن کے لئے

Read more

سندھ حکومت اور میڈیا

مٹھی تھر پارکر سندھ کا اک دور پار کا علاقہ ہے وہاں کے مقامی صحافیوں کو مین سٹریم میڈیا پہ آنے کا موقع صرف انتخابات کے مواقع پہ ملتا تھا۔ اک دن اک نیوز چینل پہ غذائی قلت کے شکار بچے کی رپورٹ کیا چلی۔ میڈیا کو اک ہاٹ ٹاپک اور مقامی صحافیوں کو مین سٹریم میڈیا پہ ’ان‘ رہنے کا نسخہ کیمیا ہاتھ لگ گیا۔

عوام یہ جانے بغیر کہ میلنیوٹریشن کیا چیز ہے کیوں ہوتی ہے پاکستان میں کن کن علاقوں میں پائی جاتی ہے سندھ حکومت کے خلاف بولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ راقم نہ صرف نیوٹریشنسٹ ہے بلکہ چار سال سے زائد یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کے غذائی کمی کے شکار بچوں کے پروجیکٹ پہ کام کر چکا ہے۔ یہ غذائی قلت عموماً دو طرح کی ہوتی ہے۔ اک میں جسم سوکھ کر کانٹا بن جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں بچے کا جسم سوج جاتا ہے۔ پانچ ماہ سے لے کر انسٹھ ماہ (پانچ سال) تک کے بچوں کو قابل علاج سمجھا جاتا ہے اس کے اوپر والوں کرانک میلنیوٹریشن میں شمار کیا جاتا ہے جس کا علاج عمومی طور پہ ممکن نہیں۔

Read more

ایک آدمی، سب سے جدا، محمد اکرم ڈوگر کی یاد میں

(مرحوم تین مئی 2020 کو حرکت قلب بند ہونے کے سبب انتقال فرما گئے )

جامعہ کراچی میں بی اے آنرز صحافت کا پہلا دن، ایک دوسرے سے اجنبی، پہلی بار ایک چھت کے نیچے جمع ہو رہے ہیں۔ اجنبیت نے، نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو پر تکلف بننے پر مجبور کیا ہوا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو، جب ایک دوسرے کے نام سے بھی آشنائی نہیں، تو بے تکلفی کیوں کر ممکن ہے۔ اسی سہمے سہمے ماحول میں کلاس ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور ٹیچر کے کلاس سے جانے کے بعد، ان کے پیچھے سٹوڈنٹس بھی اس اجنبی ماحول سے نکلنے کے لے پر تول رہے ہیں کہ اچانک ایک آواز نے سب کی توجہ حاصل کرلی ”ہم نے یہاں چار سال گزارنے ہیں تو کیوں نہ ہم ایک دوسرے سے آج ہی متعارف ہو جایں ں“ ۔ لہجہ سادہ، کسی قدر دہقانی رنگ کی آمیزش، سانس بھی معمول سے تیز!

Read more

منٹو ایک ناکام افسانہ نگار

منٹو کے جنم دن کے موقع پر سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ جانے انجانے میں منٹو کی تصاویر اور ان کی کہی ہوئی باتیں شیئر کر رہے ہیں۔ انجانے میں کہنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ ان میں اکثر ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو منٹو کا پورا نام تک نہیں جانتے۔ ہمارے معاشرے میں خود کو باشعور ثابت کرنے اور حالات حاضرہ سے باخبر انسان کی حیثیت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے سٹیٹس کاپی

Read more

حق موجود سدا موجود (حضرت سچل سائیں ؒ کا 199 ویں سالانہ عرس)۔

معروف صوفی شاعر حضرت سچل سائیں ؒ کے ایک سندھی شعر کا ترجمہ ہے :
مجھ میں تم ہو، تجھ میں میں ہوں
بالکل اسی طرح اے میرے محبوب! جیسے بادل میں آسمانی بجلی ہوتی ہے۔

اب ایک بیت، ان کے پیش رو، شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا بھی پڑھ لیں (جو خود سچلؒ کے بارے میں کہہ کر گئے تھے کہ ”جو فکر کی دیگچی ہم نے چڑھائی ہے، اس کا ڈھکن سچلؒ اتاریں گے۔“ ) :

”اے میرے محبوب! اپنا تیر کمان میں ڈال کر مجھے نشانہ مت بنا!
کیونکہ مجھ میں تو تو ہے، ایسا نہ ہو کہ تیرا تیر تجھی کو گھائل کر دے ”

Read more

آؤ جلیل عباسی بنتے ہیں

”تمھارے اندر دو انسان ہیں“

عبدالباسط نے گاڑی کا دروازہ کھول کر چابی گھمائی، گاڑی سٹارٹ ہو گئی۔ اس نے لپک کر گاڑی کا پچھلا دروازہ بھی کھول دیا۔ مجھے کہا، اپنی طرف کا دروازہ کھول دو مگر ابھی اندر نہیں بیٹھنا۔ میں جو تیزی سے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کر چکا تھا، ترک کرکے اس کے حکم کی تعمیل میں دروازہ کھول کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ چند لمحوں کے بعد اس نے گاڑی کے دروازے ٹھک ٹھک بند کیے اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے مجھے بھی اشارہ کیا۔

Read more

آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، کراچی میں ایک سرکاری اسپتال سے ریٹائر ہونے والے ڈاکٹر فرقان وینٹی لیٹر کی تلاش میں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کا چکر کاٹتے کاٹتے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی اہلیہ مدد کو پکارتی رہیں لیکن کوئی آگے نہیں بڑھا وہ خود اپنے شوہر کو اسٹریچر پر ڈال کر مسیحاؤں کو ڈھونڈتی رہیں۔

Read more

صدیقہ آپا سے ایک ملاقات

مشیت ایزدی کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خاک میں تو سب ذی روحوں کو جانا ہی ہے لیکن سونا کہلانے والی اس عورت کی خوش نصیبی میں، اس کے خوش اخلاق اور بلند مرتبہ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے جس کا شوہر نامدار، اس کا رفیق زندگی اس کے بارے میں ایسے کلمات کہے۔ اللہ اللہ۔ رب العزت صدیقہ آپا کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین

میں صدیقہ آپا سے صرف ایک با ر ملی۔ اور وہ بیٹھک دل پر نقش ہو گئی۔ قریباً پانچ برس قبل ایک مشاعرے میں پہلی بار ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ میں خاموش ایک طرف کو بیٹھی تھی جب وہ تشریف لائیں۔ کیا شاعرات، کیا نامور شعرا حضرات سب اٹھ اٹھ کر ان کو سلام پیش کرنے کو آئے۔ انہوں نے کمال شفقت سے سب کے سلام کا جواب اور دعائیں دیں۔ اور کم نصیبی دیکھیے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ محترم ہستی کون ہیں؟ بالآخر ہمت کر کے پاس گئی سلام پیش کیا۔

Read more

جبران ناصر کا ارتغرل

جبران ناصر صاحب مجھے پسند ہیں۔ وہ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ماشا اللہ پچھلے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ آپ ’این۔ اے۔ دو سو سینتالس‘ اور ’پی۔ ایس۔ ایک سو گیارہ‘ سے کھڑے ہوئے تھے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے ماشااللہ چھے ہزار چار سو باسٹھ ووٹ لئے تھے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے چھے ہزار ایک سو نو ووٹ حاصل کیے تھے۔ آپ اپنے حلقوں میں ماشا اللہ سے چوتھے

Read more

جنت کے خواب

وہ ابھی بچہ تھا جب اس کے دماغ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے اس دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہر طرف جنگی رومان زبان زد عام تھے اور سب سے بڑھ کر جنت کا حسین خواب دکھایا جاتا تھا۔

‎اگر یوں کہا جائے کہ چار سو جنت اور جہنم کا خواب بک رہا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔ اس خواب کے اتنے بیوپاری تھے کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر کوئی اس خواب کو بیچنے کے لئے مختلف دکانیں سجائے بیٹھا تھا اور وزیرستان میں انھی خوابوں کو بیچنے والوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کے ان منڈیوں (ان کے مراکز) میں اسلحے سمیت اس خواب کے سوداگر کے ساتھ سینہ بہ سینہ ہزاروں پیروکار موجود ہوتے، اور اگر کوئی ان سے اختلاف رائے رکھتا یا ان سے اختلاف کرتا تو اس کو دبوچا جاتا اور اگر کوئی اور کسی اور خواب کی ریڑھی لگاتا، اس کی تو پھر خیر ہی نہیں تھی۔

Read more

تین ملک اور زندگی کے تین فلسفے

انسانی خوشی، کامیابی، شناخت وہ جہتیں ہیں جن پر تاریخ میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ مختلف ممالک میں انسانی خوشی سے متعلق دلچسپ نظریات ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مما ثلت بھی رکھتے ہیں اور بعض اوقات یکسرمتضاد بھی ہوتے ہیں۔ کوریا، جاپان اورجنوبی افریقہ میں انسانی زندگی اورخوشی سے متعلق معروف مقامی فلسفے اور نظریات کچھ اس طرح سے ہیں۔ جنوبی افریقہ کا فلسفہ یوبنٹو مقامی زبان میں یوبنٹوکے معانی انسا نیت کے ہیں۔ جنوبی

Read more

کرونا کے دنوں میں ایک ڈاکٹر کے شب و روز

رات کے دو بجے ہیں، گھڑی کی ٹک ٹک ماحول کے شور میں کہیں کھو سی گئی ہے۔ بعض و وقار گمبھیر رش میں وقت رک سا جاتا ہے۔ میں الائیڈ ہسپتال کے ہڈی و جوڑ وارڈ میں موجود اپنی خدمات پہ مامور ہوں، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، سونے کے لیے جب بھی آنکھیں موندوں، کسی مریض کا لواحق ڈاکٹرز روم کا دروازہ کھٹکھٹاتا کہ ہمارا مریض چیک کریں اور میرے سن ہوتے وجود میں اک بار پھر خون دوڑنے لگتا ہے، میں اس کے بیڈ پر جاتا ہوں، موزوں دوا لکھتا ہوں، یہ سلسلہ صبح آٹھ بجے سے جاری و ساری ہے، 24 گھنٹے کی کال ختم ہونے میں ابھی بھی چھے گھنٹے باقی ہیں۔ میرے تمام سینئر ڈاکٹرز میری مدد کے لیے آن کال موجود ہیں اور کسی بھی پریشانی پر میرے لئے دوڑے چلے آنے پہ آمادہ ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے، مجھے میرے دوست ڈاکٹر فرحان کی کال آئی تھی، وہ کہہ رہا تھا کہ سحری اکٹھے کریں گے اور یوں میرے خشک ہوتے ہونٹوں پہ مسکراہٹ در آئی۔

یہ صرف میری جانفشانی کی کہانی نہیں، یہ ہر اس ڈاکٹر کی کہانی ہے، جو ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں اپنے

Read more

کیا ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا اظہار کرنا کفریہ رویہ ہے؟

ہم بنیادی طور پر ایک ایسے بند سماج کا حصہ ہیں جہاں پر خود سے سوچنا اور سوال اٹھانے کے عمل کو ”کفریہ باتوں“ میں شمار کیا جاتا ہے، جوابات کی بجائے سوالوں کو کھوجنے اور پوچھنے والے لوگوں کو ”زیادہ پڑھا لکھا پاگل، کیمیونیسٹ، دہریہ اور ملحد“ کا ٹیگ لگا کر اس کی آواز کو دبانے کامقدس فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک کربناک المیہ ہے کہ ہر دور کے سقراط اور منصور کے ساتھ

Read more

چیئرمین تھنک ٹینک

موجودہ زمانہ بھی عجیب ہے جسے دیکھو وہی کچھ نہ کچھ بنا ہوا ہے۔ اگر کوئی کچھ نہ بن سکے تو وہ تھنک ٹینک بنا کر اسی کا چیئرمین بن جاتا ہے۔ یا ا پھر مشرف دور کی لگائی ہوئی جڑی بوٹیوں میں سے یعنی این جی او میں سے ایک کا رخ کرتا ہے اور اپنا روزگار چلاتا ہے۔ مجھے آپ کو اور بہت سے دوسرے لوگوں کو ایسے ہی افراد سے اکثر واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے بہت سے ابن الوقت مل جاتے ہیں جنہیں صرف اور صرف اپنی موج مستی سے مطلب ہوتا ہے انہیں نہ ہی ملکی حالات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ ایسے افراد ہی دراصل ملک دشمن ہوتے ہیں۔ میری یہ تقریر ابھی جاری رہتی اگر ہمارے چیئرمین صاحب صاحب نہ آ جاتے۔

Read more

کوویڈ 19 کا سارا نزلہ تعلیم پر ہی کیوں؟

وفاقی حکومت نے کوویڈ 19 کی موجودہ وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے وزیراعظم کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام ہونے والے تمام امتحانات کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے اور طلبہ کو پچھلے امتحانات کی بنیاد پر ہی اگلی کلاسوں میں بھیج دیا جائے گا۔ یونیورسٹیوں میں داخلہ 11 ویں جماعت کے نتائج پر ملے گا۔

Read more

کشمیر پر سازشوں کے منڈلاتے سائے

انیق ناجی ممتاز صحافی نزیر ناجی کے صاحب زادے ہیں اور اپنے والد کی طرح ہی کل وقتی طور پر صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے آج کے تقاضوں کے مطابق جب کہ پرنٹ میڈیا کا دور اختتام پذیر ہے اور صحافت الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ انیق ناجی نے ایک ویب نیوز چینل جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور صحافی مرتضیٰ

Read more

ھسپتالوں میں قومی ہیروز

صحافی نے نوجوان ڈاکٹر کی طرف مائیک بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاب کیا آپ کو معلوم ہے کہ قوم آپ لوگوں سے کتنا پیار کرتی ہے؟ نوجوان ڈاکٹر نے ایک مقدس جذبے اور میٹھی معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ خدانخواستہ قوم پیار نہ بھی کرے تو ہم پھر بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور انسانی جذبہ بھی! تقریباً تین مہینے پہلے احمقانہ فیصلوں اور غیر ذمہ دارنہ طرز

Read more

وائرس دشمن بھی، دوست بھی

ان چاہے مہمان اور گھس بیٹھیے سے نفرت سب کو ہوتی ہے، لیکن ایسا ان چاہا مہمان جو میزبانی کے عوض بیماری دے۔ اپنے قیام کو میزبان کی موت تک طوالت دے۔ اور میزبان کا اس قدر نقصان کرے کہ تھوڑی مدت میں میزبان موت کے منہ میں چلا جائے۔ تو یقیناً ایسے مہمان کے خاتمہ کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟ یہ بے ادب مہمان بیکٹیریا سے سو گنا چھوٹا ہوتا ہے۔ عام آنکھ سے کیا، عام خوردبین سے

Read more

راجا داہر سے ارطغرل تک

کرونا کی وبا کے علاوہ آج کل سوشل میڈیا پر دو ہی ایشو ہیں۔ راجا داہر اور محمد بن قاسم میں سے اصل ہیرو کون اور ترک ڈراما ارطغرل۔ اس بہ ظاہر انتہائی معمولی اور مکمل طور پر غیر ضروری بحث کے باعث لبرل اور مذہبی حلقوں کے نقطہ نظر میں ایک واضح اور پریشان کن تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ رہی سہی کسر ارطغرل کی ہیروئن اسرا بلیگچ کی سوشل میڈیا پر جاری تصاویر نے پوری کر دی اور مضحکہ خیز اور لا حاصل بحث کو نیا رخ دے ڈالا۔

Read more

لاک ڈاؤن کا خاتمہ اور امتحانات کی منسوخی

کالم لکھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تو جن خبروں نے اپنی جانب متوجہ کیا ان میں سب سے نمایاں لاک ڈاؤن ختم ہونے، مارکیٹیں کھلنے اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی اطلاعات تھیں۔ مزید یونیسیف کی رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات نے بھی اپنی جانب توجہ مبذول کروائی جس کے مطابق کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش میں ریکارڈ اضافہ ہوگا اور ان میں بھی سب سے زیادہ پاکستان اور بنگلہ دیش متاثر ہوں گے۔ یعنی دنیا بھر میں 116 ملین بچے پیدا ہوں گے، جنوبی ایشیا میں 29 ملین جبکہ مارچ سے دسمبر تک پاکستان میں پانچ ملین بچے پیدا ہوں گے۔

Read more

عام پاکستانی اور آم پاکستانی

جرمنی میں مقیم وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ایک دوست سے مختلف پھلوں کی افادیت پر بات ہو رہی تھی، یکایک انکشاف ہوا کہ انہوں نے آج تک کبھی آم کھایا ہی نہیں۔ ہمارے ہاں جیسے اندرون ملک کہا جاتا ہے کہ ”جنے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ہی نہیں“ (جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا) ویسے ہی بیرون ملک میں تو کہتا ہوں، ”جنے امب نہیں چٙھکیا او جمیا ہی نہیں“ (جس نے آم نہیں کھایا وہ پیدا ہی نہیں ہوا) ۔ مجھے حیران دیکھ کر وہ کافی پریشان ہوئے اور کچھ دن بعد مجھے وٹس ایپ پر پیغام آیا کہ انہوں نے آم تناول فرما لیا ہے۔

Read more

ٹیڑھے کرکرے کھانے میں ہی سکون ہے

نئی سڑکیں، بڑے پولز اور ان سے لٹکے ہوئے سیکیورٹی کیمرے۔ سب اچھا لگتا ہے۔ لیکن نہ جانے انہیں نصب کرنے والے انجینئرز اپنے ساتھ پارے والا لیولر کیوں نہیں رکھتے جیسا کہ خدا بخش اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ تریسٹھ سالہ خدابخش پیشے کے لحاظ سے تو مالی ہے لیکن با رعب اور ٹھسے دار شخصیت کا مالک ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کے ذہن میں فٹ ایک خودکار لیولر ہے۔ پھولوں کی کیاریوں کو اس طرح بناتا ہے جیسے کسی ماہر حساب دان نے جیومیٹری کے تمام فارمولے اس کے ذہن میں بھر دیے ہوں۔ کیاری چاہے مستطیل ہو یا گول، لگتا ہے سکیل یا پرکار رکھ کر بنائی گئی ہے۔

Read more

لاک ڈاؤن زیادہ نقصان دہ ہے یا وائرس؟

کرونا وائرس سے چالیس سے اسی فیصد آبادی انفیکٹ ہو جائے گی۔ ہاں نیویارک کے گورنر نے یہی بتایا ہے۔ اگر نیویارک میں ایسا ہوگا تو ترقی پذیر ممالک میں بات کہاں تک پہنچے گی؟ جب بھی ورلڈ آرڈر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ کون سا پیرامیٹر ٹاپ پر ہوتا ہے۔ یعنی جانچنے کا آلہ۔ مجھ سے پوچھیں تو معیشت ٹاپ پر ہونی چاہیے۔ اور معیشت کے لیے غیر یقینی صورت حال ایسے ہی ہے جیسے صحت کے لیے وائرس۔ ایک امریکی معاشی ایکسپرٹ سے پوچھا گیا کہ اس کے خیال میں ہمارا بینکنگ سیکٹر محفوظ ہے۔ موصوف نے بتایا کہ امریکہ نے بینکنگ سیکٹر کی بیک اپ کا خاطر خواہ سامان کر رکھا ہے۔ اگر بینکنگ سیکٹر کولاپس کرتا ہے تب عالمی معیشت مکمل طور پر کولاپس کر جائے گی۔ کوئی بھی اتنی مایوس کن پیشن گوئی نہیں کرنا چاہتا۔

Read more

آئن سٹائن کی سب سے بڑی غلطی؟

ڈارک انرجی کا نام تو سب نے سن رکھا ہے لیکن میں فی الوقت کونیاتی مستقل یا پھر صرف لیمبڈا ہی کہوں گا۔ کہتے ہیں آئن سٹائن نے اسے اپنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کہا تھا۔

کچھ دن قبل مجھے ایک سوال ملا جو ڈارک انرجی یا کونیاتی مستقل کے متعلق تھا۔ یہ سوال بہت دلچسپ تھا جو مجھے ایک کہانی کی طرف لے جاتا ہے جس کے ساتھ آئن سٹائن کا محبت و نفرت کا تعلق رہا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ جب آئن سٹائن نے اپنا عمومی نظریہ اضافیت دیا تو اس نے اس کو اس نے ایک حقیقی کائنات پر لاگو کرنا چاہا۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت ہے جب پس منظری شعاعوں یا دوسری کہکشاؤں کے بارے میں اتنا نہیں معلوم تھا اور ظاہر ہے آئن سٹائن بھی اس سے بے خبر تھا۔

Read more

سائنس کا پول بھی کھل ہی گیا

دسمبر 2019 سے اب تک تقریباً عرصہ 6 ماہ کا ہو چکا ہے کرونا نامی وبا نے دنیا بھر میں لگ بھگ تین لاکھ افراد کو بے رحمی سے موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے اور 40 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر کے ذہین و فطین اذہان نے متاثرہ افراد کو قرنطینہ اور اپنے اپنے ملکوں کو لاک ڈاؤن کرکے کرونا کی شدت کو روکنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ یہ حکمت عملی وجود کائنات

Read more

اصل طرز زندگی

سوائے ایک آدھ دن کے جو محض سیاسی تھی کبھی طویل اسیری کا اتفاق نہیں ہوا لیکن کرونا کے سبب قید تنہائی کی کیفیت سے بھی آشنائی ہوئی۔ قید جیل کی ہو یا گھر کی انتہائی صبر آزما ہی ہوتی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے تو دونوں جگہوں پر ایک ہی طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تن بیتی کے سبب یہ احساس ہوا کہ وہ لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں جو طویل عرصہ تک اسیری کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ بھلا ہو حکومت کا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان نے تو گویا زندگی کے آنگن میں روشنی کی شمع جلا دی ورنہ خود تو گھر کی بیکار شے کا درجہ پا چکے تھے انجام کار جن سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔

Read more

ایک سابق سفیر کی سرگزشت ”جو ہم پہ گزری“۔

سابق سفیر سید سبط یحییٰ نقوی کی کتاب ”جو ہم پہ گزری“ مارچ، 2020 میں شائع ہوئی اور سفیروں کی آپ بیتیوں میں ایک زبردست اضافے کا موجب ٹھہری۔ مصنف عرض داشت میں ہی رقمطراز ہیں کہ ”یہ محض اتفاق ہے کہ میری زیادہ تر تقرریاں ایسے ممالک میں ہوئیں جہاں آمرانہ حکومتیں تھیں۔ پہلی پوسٹنگ لیبیا کی تھی جہاں کرنل قذافی نے آمرانہ نظام قائم کیا تھا، اس کے بعد رومانیہ جہاں چاؤ شسکو مطلق العنان حکمران تھے۔ پرتگال میں جمہوریت آ گئی تھی لیکن پرتگال پر چالیس سال حکومت کرنے والے حکمران انتونیو سالازار کے باقیات نظر آتے تھے۔

پھر انڈونیشیا میں سوہارتو ایک ڈکٹیٹر تھے اور شام میں حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد جابر حکمران تھے۔ نیدر لینڈ میں بادشاہت تھی لیکن یہ ایک جمہوری ملک تھا۔ پاکستان میں میری نوکری کے دوران بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں تھے۔ بینظیر اور نواز شریف کے دور میں بس نام کی جمہوریت تھی۔ جنرل مشرف بھی ایک ڈکٹیٹر تھے۔ مجھے ڈکٹیٹروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈکٹیٹروں کو اپنی ذات کے علاوہ کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی۔

Read more

ملیے! میلسی کے ایک باکمال آرٹسٹ سے

ضلع وہاڑی کے ایک چھوٹے سے شہر میلسی کی یاد عرصہ دراز سے ہمارے دل میں بکل مارے بیٹھی ہے۔ اس شہر سے ہمارا ”سہ گونہ“ تعلق یوں ہے کہ یہاں غلام مصطفی عجمی صاحب جیسے جید صحافی، پروفیسر شفیق الرحمن الہ آبادی اور شاہد حفیظ الہ آبادی جیسے مہان قلم کار اور ادیب سانسیں لیتے ہیں جن کی موجودگی کسی بھی چھوٹے شہر کو بڑا بنا دیتی ہے کہ شہر شخصیات سے پہنچانے جاتے ہیں۔

Read more

بڑھتے ہوئے وزن کو قابو کرنے کا ایک طریقہ

رمضان کا آدھا مہینہ بخیر و خوبی گزر چکا ہے۔ کھانے پینے کی عادات کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہیں لیکن یہ تبدیلی ہمیشہ کی طرح عارضی ہی ثابت ہوگی۔ تین وقت باقاعدگی سے کھانا اور بے وقت کی بھوک کو بہلانے کے لیے نام نہاد ہلکے پھلکے اسنیکس کے نام پر ضرورت سے زائد کیلوریز کا استعمال ہماری روزمرہ عادات کا حصہ ہوں گے اور نتیجہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روز افزوں وزن۔ ۔ ۔ جی ہاں وزن میں اضافہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اکثر لوگوں کو درپیش ہے بالخصوص خواتین۔

بڑھتے ہوئے وزن کو قابو کرنے کے لئے اکثر خواتین مختلف قسم کے طریقے آزماتی رہتی ہیں۔ وزن میں کمی کے لئے ایک طریقہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ بھی ہے۔ (میرا خیال ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے لئے جزوی روزہ کی اصطلاح مناسب ہے ) کیونکہ جہاں ایک طرف روزے میں دیگر پابندیوں کے ساتھ کھانے پینے پر مکمل پابندی عائد ہوتی ہے وہیں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں کوئی پابندی نہیں سوائے اس کے کہ ایسی چیزیں لی جاسکتی ہیں جن میں کلوریز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جیسا کہ سبز چائے، بغیر دودھ کے کافی یا قہوہ وغیرہ بعض لوگ لیموں پانی کے استعمال کو بھی جزوی روزے کے دوران بے ضرر تصور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جیسن فنگ کی کتاب ”آ کمپلیٹ گائیڈ ٹو انٹرمٹنٹ فاسٹنگ“ اس حوالے سے نہایت اہم کتاب ہے جس میں جزوی روزے سے متعلق تمام اہم معلومات درج ہیں۔

Read more

نظام بدلیے نہیں، اس پر عمل کیجئے

”ہمیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے“

یہ فقرہ فیشن کی حد تک زبان زد عام ہو گیا ہے۔ اگر ہم عصری عالمی سیاسی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو جہاں ہمیں یورپ، امریکہ اور کئی ایشیائی ممالک میں جمہوریت (پارلیمانی، صدارتی، وحدانی یا کوئی اور) ایک کامیاب نظام حکومت کے طور پر نظر آتا ہے، جبکہ یہی جمہوری نظام دیگر کئی ممالک میں ناکام ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے، وہیں دوسری جانب کئی ممالک میں آمریتیں ( کمیونسٹ یا سوشلسٹ حکومتیں، بادشاہتیں، فوجی حکومتیں ) بھی کماحقہ اپنے عوام کی ضرورتیں پوری کر رہی ہیں، مگر کئی دوسرے ممالک ان آمریتوں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔

Read more

کورونا اور عوامی رائے۔ ایک سروے

کورونا وائرس انتہائی شدت سے پوری دنیا پر حملہ آور ہوا ہے۔ کچھ ملک شدید متاثر ہوئے ہیں، کچھ میں اس کی تباہی تھوڑی کم ہے۔ تاحال خبروں کے مطابق اب تک دنیا کے تقریباً 200 کے لگ بھگ ملک اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارا ملک بھی اس کی تباہ خیزیوں کا شکار ہوا ہے۔ اس کے اثرات کو جاننے کے لئے میں نے ایک سروے کیا ”آپ کے مطابق کرونا کیا ہے؟“ اس کے جوابات کی روشنی میں آئیں دیکھیں کہ ہماری عوام اور اعلی عہدیدار کرونا اور اس کے اسباب کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہٰیں :

Read more

گمشدہ مامتا

محسوس ہوتا تھا کہ خوش گمانی کے پرندے میرے اردگرد پرواز کرتے ہیں کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وطن سے شدت پسندی، لاقانونیت کا خاتمہ قریب ہے، دیس کی مقید حدود میں علم کے تارے جگمگ نظر آتے، جب بھی کسی کالج یا یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتی ہوں یا سوشل میڈیا پر عقل مند اور قابل نوجوانوں کا بہت اچھے انداز سے لکھا گیا کوئی مضمون پڑھتی ہوں، خوشی محسوس کرتی ہوں۔ لڑکیاں بھی سوچ رہی ہیں پڑھ رہی ہیں دور دراز کے علاقوں میں بھی تعلیم اور معاش کے لئے فعال ہیں۔ سوشل میڈیا پر سنجیدہ ہیں۔ ایک خوش کن اور روشن احساس،

Read more

راجا داہر، محمد بن قاسم، جاری بحث پر طنزیہ تحریر

” 1001 دن، داستان“ کوا جاتی

جنگل میں عدالت لگی ہوئی تھی۔ مخبر چوہوں نے شیر بادشاہ کو آگاہ کردیا تھا کہ کوا وہ واحد پرندہ ہے جو انسانوں میں جاکر ان کی منڈیروں پہ بیٹھا، بھانت بھانت کی خبریں ان انسانوں میں ”کائیں کائیں“ کر کے پہنچایا کرتا ہے، جو سیانے ہیں اسے بیٹھنے نہیں دیتے اور جو سیانے نہیں، وہ اس کی کائیں کائیں بڑی دھیان سے سنتے، آہیں بھرتے ہیں کہ ”کوئی وارد، نووارد ہوا“ ۔

Read more

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔ اچانک سے یہ آواز میرے کانوں میں آٹکرائی۔ کچھ لمحات کے لیے میں بیچ بازار سوچ میں پڑگیا کہ آج حلیہ تو ایسا اچھا نہیں کہ کوئی مجھے بابو بلائے اور منہ بھی رومال میں لپٹا ہوا ہے تو پھر یہ کون غلط فہمی کا شکار ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی اور بار بار اصرار کیے جارہی تھی کہ وے بابو تیرے بچے جیون۔ اب محترمہ کو کون سمجھائے کہ وہ جس بابو کے بچے جینے کی دعا کیے جارہی ہے وہ تو ابھی خود بچہ ہے۔

خیر یہ تو تھی آج کی روداد لیکن عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مختلف جگہوں پر مانگنے والوں کے تکیہ کلام بھی مختلف ہوتے ہیں۔ آئیے مزید مختلف جگہوں کے مختلف تکیہ کلام ملاحظہ فرمائیے :

Read more

دستور نبھاؤں گا تو دستار گرے گی

دو چار روز قبل ہمارے محلے کے آخری بزرگ بھی آخرت سدھار گئے۔ بزرگ رحمت ہوتے ہیں یہ بات ہم نے سن رکھی ہے لیکن عملاً دیکھ لیں تو کیا ہی بات ہوگی۔ مجھے یاد ہے یہ سب بزرگ شام کے وقت مسجد کے باہر سیمنٹ کی بنی چھوٹی سی دیوار پر بیٹھتے تھے۔ مسجد کے دروازے کے بالکل سامنے دیوار پر، عصا پاس رکھے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے۔ بڑا سا رومال گود میں رکھے، ٹوپی کو گھٹنے سے لٹکائے۔ دو سامنے کی طرف گھاس پر چوکڑی مارے، انہوں نے عصا قریب لٹا رکھے ہوتے تھے۔

ایک دو اور لوگ ان سے چھوٹی عمر کے لیکن محفل کے جز لازم۔ ہر روز، پھر ان کی محفل جمتی اور آپس میں بھی خوب جمتی تھی۔ گفتگو کا آغاز کسی سیاسی بات سے ہوتے ہوئے مذہب، سماج، خاندان کے مدار میں گھومتے ہوئے ذات پر مکمل ہوتا۔ سیاست کے بازار کا ذکر چھڑتا اور پھر پانچ چھ بوڑھے اپنی پسند، سوچ، فکر، نظر کے مطابق اس گفتگو میں حصہ لیتے۔ کوئی بے نظیر کی نظیر ڈھونڈتے کہتا کون ہے اس جیسا، واحد لیڈر ہے جو خدا کی عطا کردہ ہے تو دوسرا بزرگ ضیا الحق صاحب کو جناح کیپ پہنا رہا ہوتا اصل انعام تو وہ ہے۔ کوئی میاں صاحب کے والد صاحب کو خدا کی رحمت گردانتا تو کوئی بھٹو کے دور میں جا کھڑا ہوتا۔ کوئی مشرف صاحب کے گن گاتا اور کوئی سب کو حرف غلط قرار دے دیتا۔

Read more

شاہد الرحمن: حرمت قلم کا خاموش پاسبان

وہ لشکر صحافت کا خاموش سپہ سالار تھا نمودونمائش سے کوسوں دور، خاموشی سے خدمت کرنے پر ایمان رکھتاتھا ان کا عزم سنگلاخ چٹانوں کی طرح ناقابل شکست تھا۔ شاہد الرحمن۔ پاکستان کی صحافتی ٹریڈ یونین کا ایسا گوہر نایاب تھے جسے کسی عہدے کی کبھی کوئی خواہش نہیں رہی کبھی سرخ گلاب گلے میں ڈالے نہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے فتح کا نشان بنایا لیکن جب وہ اچانک سفرآخرت پر رخصت ہوئے توعظمت ٹوٹ ٹوٹ کر ان پر

Read more

شاہد آفریدی فاؤنڈیشن امید کی نئی اننگز

لوگ بڑے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اپنی محنت، جدوجہد اور بے پناہ ایثار و قربانی کے بعد آخرکار دنیا سے اپنی شخصیت کا لوہا منوا لیتے ہیں، ہمت بلند ہو اور یقین کامل کہ جس مقصد کو لے اٹھے ہیں وہ ہر لحاظ سے درست ہے تو معمولی سامان سے بھی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ تاریخ ایسے لوگوں کو فراموش نہیں کرتی۔

آج جس بڑی شخصیت کی میں بات کرنے جا رہا ہوں وہ شاہد خان آفریدی ہے جسے دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین ایک بہترین آل راؤنڈر کے حوالے سے جانتے ہیں۔ شاہد آفریدی پاکستان کی وہ غیر متنازع شخصیت ہے جسے ہر شہری دل و جان سے پسند کرتا ہے۔ آج بھی کسی گلی میں کرکٹ کھیلتے بچوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ شاہد آفریدی کی طرح چھکا مار سکیں۔ کرکٹ کے میدان میں بہترین باؤلنگ اور بیٹنگ سے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کئی بار کامیاب ہونے والے شاہد آفریدی کے سامنے اب عام لوگوں کی زندگیاں بہتر کرنے کا ہدف ہے۔

Read more

کرونا وبا سے قبل عمرے کا سفر سعادت

مدینہ منورہ کے پرنس محمد بن عبد العزیز انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی ہوائی سفر کی ساری کلفت زائل ہو گئی۔ محض چند گھنٹوں میں پاکستان سے مدینہ منورہ پہنچ جانا یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔ خیال آیا کہ گزرے وقتوں میں زائرین اونٹوں کے ذریعے کئی کئی ماہ پر محیط طویل سفر طے کرنے کے بعد دیار حجاز پہنچا کرتے تھے۔ سنتے ہیں کہ خود پاکستان میں حج، عمرہ زائرین کے لئے باقاعدہ بسیں چلا

Read more

انسداد کورونا میں نرسز کا کردار، ’دی لیڈی ود دی لیمپ‘۔

فلورنس اٹلی کا ایک گنجان آباد شہر ہے جو اپنے قدرتی حسن، قدیم طرز تہذیب اور منفرد ثقافتی ورثے کی بدولت عالمی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس شہر میں 12 مئی 1820 کو ایک ننھی بچی نے جنم دیا جس کا نام ’فلورنس نائٹینگل‘ یعنی فلورنس کی بلبل کی رکھ دیا گیا۔ فلورنس اپنی کمال ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت بچپن سے ہی غیرمعمولی شخصیت کی حامل تھیں۔ انہی صلاحیتوں اور عزم و استقامت کے ساتھ کام

Read more

کرونا وائرس : کس سرکاری کال نے شہریوں کو ہلا کے رکھ دیا؟

کرونا وائرس کی بجائے شہریوں کے ”زبردستی کرونا“ کا شکار کیے جانے کی اطلاعات نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب شہریوں میں ”کرونا“ سے زیادہ ”جعلی کرونا“ کا خوف پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس نے کرونا متاثرین کی بابت تشخیص کے پورے سرکاری نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کراچی کے ضلع جنوبی کی رہائشی ایک خاتون عشرت بی بی کے قرنطینہ میں ہونے بارے معلومات کے لئے ڈی سی آفس کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر پتہ چلا کہ خاتون انتظامیہ کے زبردستی آئسولیشن میں رکھنے کے نتیجے میں انتقال کر گئی ہے جبکہ دو بار ٹیسٹ کروانے کے باوجود اس کی رپورٹ نیگیٹو آئی تھی

Read more

منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔

Read more

کورونا کے بعد ٹڈی دل کا حملہ تیار

پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ نیا نہیں، اس سے قبل 1955 اور 1993 میں بھی ٹڈی دل کے حملے سے سندھ اور پنجاب کے کئی شہروں کی کپاس کی فصل تباہ ہوئی۔ رواں سیزن میں ٹڈی دل نے صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں تیسرا حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے گندم اور سرسوں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب کے وسطی اضلاع ساہیوال، وہاڑی، پاکپتن، اوکاڑہ سمیت متعدد شہر ٹڈی دل کی زد میں ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے ماہرین حشرات کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

Read more

کون سعادت حسن منٹو؟ سوری۔ ۔ یہاں تو اب ٹچ موبائل بکتے ہیں

سعادت حسن منٹو، منی شنکر آئر، ملک معراج خالد، عائشہ جلال، بیگم خورشید شاہد اور ڈاکٹر محمود ملک جیسی متعدد نامور شخصیات کے گھر ایک ایک کر کے موبائل مارکیٹ کی دکانوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں جس کا آغاز شاعر عوام حبیب جالب کی نظمیں عوامی جلسوں میں پڑھنے والے ایک شعبدہ باز وزیر اعلیٰ کے دور حکومت میں ہوا، جس نے پنجاب کی راجدھانی یعنی پھولوں، باغوں اور علم و ثقافت کے مرکز شہر کو سیاسی مفادات کی وجہ سے شائننگ لاہور بنانے کی کوشش میں اس تاریخی شہر سے اس کی تاریخ کے نشانات مٹا دیے اور اس کا روایتی حسن چھین لیا۔

Read more

منٹو زندہ باد

”میں اس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے سے ہی ننگی ہے۔ میں کالی تختی پر سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ کالی تختی اور نمایاں ہو جائے“ ۔

یہ مشہور الفاظ عظیم افسانہ نگار اور لکھاری سعادت حسن منٹو کے ہیں۔ جو 11 مئی 1912 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پاپروڈی میں پیدا ہوا تو کسے معلوم تھا کہ ایک مسلم کشمیری جج کے گھر میں پیدا ہونے والا یہ سعادت حسن بڑا ہو کر اپنی صدی کا ایک عظیم افسانہ نگار ”منٹو“ بنے گا۔ اور اپنے افسانوں اور کہانیوں سے اپنے ارد گرد پائے جانے والی سماجی برائیوں کا پردہ ایسے چاک کرے گا جس سے اس منافق سماج کی چیخیں نکل جائیں گی۔

Read more

جھوٹی خبریں، مستند خبریں اور دیکھنے کی ضد

ایٹم کیا ہے؟ الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کیا کام سرانجام دیتے ہیں؟ کس سائنسدان نے سب سے پہلے ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت کے بارے میں بتایا؟ یونانی فلاسفر ڈیموکریٹس نے سب سے پہلے اس پر کام کیا اور بعد کے سائنسدانوں جیسے ڈالٹن، جے جے تھامسن، ردرفورڈ اور بوہر نے ایٹم کی ساخت پر پر تجربے کیے۔ ہمارے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ سب سے پہلے کس نے دریافت کیا؟ انگریز معالج ولیم ہاروے نے ہمیں یہ سمجھایا۔ اسی طرح حرکت کے قوانین اور دوسرے سائنسی ایجادات کے بارے میں ہم نے سائنس کی کتابوں میں پڑھا۔ ان تمام ان دیکھی چیزوں کے بارے میں ہمارے اساتذہ نے ہمیں پڑھایا اور اب بھی طلباء اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور یقین کے ساتھ دوسرے لوگوں تک یہ علم پہنچاتے ہیں۔

Read more