ریشماں کا عاشق اور منٹو کا ہم پیالہ و ہم نوالہ: بلونت گارگی
میری ناقص رائے کے مطابق بلونت گارگی بھی ایک ایسا ہی تخلیق کار تھا۔ جس نے پنجابی زبان کو بہت کچھ دیا جو سراہے جانے کے قابل ہے۔ بلونت گارگی بٹھنڈا، پنجاب، انڈیا میں پیدا ہوا۔ پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور پھر اسی شہر کا ہو کر رہ گیا۔
وہ لاہور میں مال روڈ کے آس پاس کسی گلی محلے کا رہنے والا تھا۔ گارگی نے ایف۔ سی۔ کالج لاہور سے ایم۔ اے انگریزی اور سیاسیات کیے اور آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ جہاں ان کی فنکاروں ادیبوں اور شاعروں وغیرہ سے دوستی ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ وہ استاد، افسانہ نگار، ناول نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ڈرامہ بھی لکھتا تھا۔ جن کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا۔ وہ تھیٹر کے حوالے سے پوری دینا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے کئی ملکوں میں جا کر تھیٹر کیا۔ ان کو 1962 میں ہندوستان سرکار کی طرف سے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، پدما شری ایوارڈ ( 1972 ) اور سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ( 1998 ) سے نوازا گیا۔
Read more

























































































