یوسفی نے دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے گنوائے ہیں۔ دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار۔ ہم سورج کو چراغ دکھائے دیتے ہیں کہ رشتے داروں کی فہرست میں موجودگی سے بقیہ دونوں اقسام خواہ مخواہ ولی اللہ معلوم ہوتی ہیں۔ ابلیس کا تو نام بدنام ہے۔ علیحدگی میں کسی دن اس سے رشتہ داروں کی بابت پوچھ لیں۔ توبہ توبہ کرے گا اور کانوں کو ہاتھ لگائے گا۔
برطانوی حکومت نے اپنے قیام کے دوران برصغیر کی تنزلی کی جن وجوہات کی نشاندہی کی ہے ان میں رشتہ دار سرفہرست ہیں۔
آپ سب نے خلیل جبران کا نام لازماً سن رکھا ہو گا۔ آپ یہ ملاحظہ فرمائیں۔
’انسان کی شادمانی کے شیش محل میں لگنے والا سب سے پہلا پتھر رشتے دار مارتے ہیں‘
اس کوٹیشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ خلیل جبران نے نہیں کہی۔ میں نے کہی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے ترقی کی ہے رشتے داروں کو مقام مخصوصہ پر رکھ کر ہی کی ہے۔
انہیں عید، شب رات، شادی یا غمی سے فقط ایک غرض ہوتی ہے کہ یہ اس میں اپنا شر پھیلا سکیں۔
Read more