بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ

تاریخ کے اوراق پلٹتے پلٹتے کب میں اجودھن جا پہنچی خبر ہی نہ ہو سکی یہ تو منشائے الٰہی ہے نا آپ کب کہاں پہنچا دیے جائیں۔ دریائے ستلج کے کنارے پر واقع اجودھن ایک پسماندہ، بے آب و گیاہ، جنگلات سے گھرا ہوا غیر معروف، گمنام علاقہ تھا۔ میری ادب سے نا آشنا گستاخ نظریں مغرب کی سمت کریر کے درخت کے نیچے جا ٹھہریں۔ اس جمود و تعطل، ضلالت و گمراہی کے گڑھ میں ایک فقیر بادہ توحید

Read more

انتخابات کے بعد!

شکوک وشبہات اور بے یقینی کی گہری دھند کے باوجود 8؍فروری کے صاف وشفاف افق سے انتخابات کا سورج طلوع ہوا جب خیبرپختون خوا اور پنجاب اسمبلیوں کو رُخصت ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور سندھ، بلوچستان اور وفاق کے منتخب ایوانوں کو تحلیل ہوئے بھی چھ ماہ ہونے کو ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انتخابی عمل بڑی حد تک پُرامن رہا۔ داخلی اور خارجی مبصرین نے بے قاعدگیوں کی بات ضرور کی ہے،

Read more

جنریشن زیڈ اور الیکشن 2024

پاکستان میں 2001 سے ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے عوامی محرومی کے پکتے ہوئے لاوے کو پیرایہ اظہار دے دیا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ متبادل میڈیا یا سوشل میڈیا طاقت کی نئی جہت کے طور پر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ حق و باطل یا خیر و شر کے آئیڈیل پیمانے سے قطع نظر جدید میڈیا کے رجحانات کو انتخابی عمل یا رائے سازی کے ضمن میں لازمی مضمون کے طور پر سامنے رکھنا ہو

Read more

چھ سالوں میں چھ سو کالم لکھنے کے چھ راز

چند سال پیشتر جب میں نے اپنا پہلا کالم ’ہم سب‘ کو بھیجا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں اگلے چھ سالوں میں چھ سو کالم لکھوں گا۔ ان دنوں میری دوسری ادبی محبوبہ انگریزی سے زیادہ دوستی تھی اسی لیے میں نے پہلا کالم بھی انگریزی میں لکھا تھا۔ اس کالم کے جواب میں وجاہت مسعود کا ادبی محبت نامہ آیا جس میں انہوں نے رقم کیا کہ انہیں میرا کالم پسند آیا

Read more

استانی طاہرہ کی کہانی (2)

سکول میں پہلا دن ہمارے لیے تو دل چسپ تھا ہی، بچوں اور دوسری ٹیچرز کے لیے بھی انوکھا تھا۔ ٹیچرز انٹرویو کرتی رہیں کہ اس لڑکی پہ کیا بپتا آن پڑی جو اس طرف آ نکلی اور مختلف کلاسوں کے بچے بچیاں شرما شرما کر ہمیں دیکھتے رہے۔ ہمیں دوسری جماعت کا کلاس ٹیچر لگایا گیا اور ساتھ میں دو اور کلاسوں کی انگریزی بھی پکڑا دی گئی۔ گو کہ ٹیچنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن پچھلے بارہ

Read more

الیکشن 2024 : ایک تجزیہ

الیکشن ہو گئے اور نتائج بھی بڑی حد تک نشر کئے جا چکے ہیں۔ خوش آئند بات یہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد باہر نکلی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ نتائج کچھ بہت زیادہ حیران کن بھی نہیں نکلے۔ سیاسی مبصرین کی پیشگوئی کے عین مطابق کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور ایک بار پھر وہی جوڑ توڑ کی سیاست اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے آزاد پنچھیوں کا شکار ہو گا ایک بار

Read more

سیاسی شعور یا نوجوان نسل کی بربادی

سیاسی شعور کے نام پر پاکستانی نسل کو جس طرح معاشرتی اور اخلاقی طور پر تباہ جا رہا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ آج سے چند سال پہلے تک لوگ سیاسی طور پر اتنے باشعور نہیں تھے لیکن سیاسی نظریات پر دلائل کے ساتھ سامنے والے سے بات کرتے تھے۔ ان کی باتوں میں بحث ہوتی تو آس پاس کے موجود لوگ ان کی گفتگو کو غور سے سنتے اور مسحور ہوتے چاہے وہ غیر تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ

Read more

الیکشن 2024۔ ایک تجزیہ

الیکشن ہو گئے اور نتائج بھی بڑی حد تک نشر کیے جا چکے ہیں۔ خوش آئند بات یہ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد باہر نکلی اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ نتائج کچھ بہت زیادہ حیران کن بھی نہیں نکلے۔ سیاسی مبصرین کی پیشگوئی کے عین مطابق کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور ایک بار پھر وہی جوڑ توڑ کی سیاست اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے آزاد پنچھیوں کا شکار ہو گا ایک بار پھر

Read more

کتب خانہ اسکندریہ کو جلانے کا قصہ: حقیقت کیا، افسانہ کیا؟

بعض تاریخی حوادث ایسے ہوتے ہیں جن پر بحث و تمحیص کا باب کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایسا ہی ایک حادثہ کتب خانہ اسکندریہ کی بربادی ہے۔ یہ کتب خانہ کب قائم ہوا، کتنا عرصہ قائم رہا اور کب بربادی سے دو چار ہوا؟ کیا اسے خلیفۃ المسلمین حضرت عمرؓ فاروق کے حکم پر نذر آتش کیا گیا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر کئی سو سال سے بحث مباحثہ کا بازار گرم ہے۔ اس لائبریری کی بربادی کے

Read more

آہ! نادان شاعرہ، ساکشی صدف

ہم کو دنیا کے اجالوں سے بہت نفرت ہے ہم چمکتا ہوا سورج بھی بجھا سکتے ہیں اس طرح کے معنی خیز، خوبصورت شعر کہنے والی نوجوان شاعرہ ساکشی صدف کے بارے میں لوگ سمجھتے رہے کہ شاید یہ زندگی کے کسی تجربے یا مشاہدے کو موضوع بنا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ وہ اپنے بہت سے خیالات کو عملی تجربے سے محسوس کرنا چاہتی ہے! وہ ساری زندگی اپنے فکر انگیز اشعار سے انسانی رشتوں اور وجود کی

Read more

نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار

اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلبا و طالبات پر نظر شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں : ”پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میں افسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔

Read more

ہم اور سائنس کا نوبل پرائز

خامہ خراب نے ایک عمر سائنس کے خارزاروں میں گزاری ہے۔ شعر و ادب کے گل زار میں تو اب آئے ہیں اور جب ہم نے اس کشت زعفران میں قدم رکھا تھا تو زمیں سے آنے لگی صدا: ’یہ سبز قدم کہاں سے آیا؟‘ ہمیں ادب کے میدان میں ٹانگ اڑانے کا چنداں شوق نہیں تھا۔ ہم تو سائنس کے طالب علم تھے۔ یہ خود کو ’طالب علم‘ تو ہم نے ازراہ انکسار کہا ہے وگرنہ یادش بخیر، اساتذۂ

Read more

امجد اسلام امجد: ”میری بات بیچ میں رہ گئی“

امجد اسلام امجد مرحوم کے انتقال کو ایک برس بیت گیا، پہلی برسی پر ان کے کئی چاہنے والوں کی طرح وہ ہمیں بھی بہت یاد آئے تو سوچا کہ ان کو اس موقعہ پر خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ 10 فروری 2023 بروز جمعہ آفس کے کیفے ٹیریا میں بریانی اور خوش گپیوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اچانک ہمارے دوست کی نظر ٹیلیویژن پر پڑی، اس کے منہ سے نکلا امجد اسلام امجد کا انتقال ہو گیا۔ ہم

Read more

یوسفی، میں اور سیلفی

٭ یہ تحریر، جون 2021 میں لکھی گئی تھی۔ وجہ کسی دل جلے کی مشتاق احمد یوسفی کی آخری نام نہاد مطبوعہ کتاب ”شام شعر یاراں“ کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر گھومتی ایک پوسٹ تھی۔ مشتاق احمد یوسفی میرے لئے بزرگوں کی طرح تھے اور جنت مکانی بزرگوں کو یاد کرنے کے لئے کسی سال، مہینے یا موقع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 6 فروری 2006 البتہ وہ تاریخ ہے جب میں نے پہلی بار بابا یوسفی کی قدم بوسی

Read more

نوبل انعام یافتہ فرانسیسی مصنفہ : اینی ارنو کے محبت زدہ جریدے ”گمشدہ“ کا مطالعہ

”میں اپنی محبت کی کہانیاں لکھتی ہوں اور میں اپنی کتابوں میں رہتی ہوں“ مصنفہ اینی ارنو نے پیرس میں مامور ایک شادی شدہ روسی سفارت کار کے ساتھ، ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ، ایک تباہ کن اور نا امید جذبے کے ساتھ گزارا۔ اپنی محبت کی کہانی کو دنیا کے سپرد کرنے سے قاصر اسے ایک راز میں رکھا اور مصنفہ نے اسے اپنی محبت کی ڈائری میں قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا، بہت باقاعدگی سے، اس

Read more

”میرے نئے دیس میں“ از خواجہ ممتاز احمد تاج

خواجہ ممتاز احمد تاج کو اللہ تعالٰی نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جنہیں وہ اپنی محنت سے بروئے کار لا کر جو بھی کرتے ہیں کمال کرتے ہیں۔ ” میرے نئے دیس میں“ خواجہ ممتاز احمد تاج کی تصنیف ہے جو انہوں نے ازراہ مہربانی میری فرمائش پر گزشتہ دنوں بذریعہ ڈاک مجھے بھیجی ہے۔ خوبصورت سرورق کے ساتھ اس کتاب کو بڑے احسن طریقے سے رابعہ بک ہاؤس، الکریم مارکیٹ، اردو بازار، لاہور والوں نے شائع کیا ہے۔

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال: ایک ادبی محقق، مورخ اور دانشور

آج سے چند سال پیشتر جب میں بلند اقبال کے ساتھ، جو ایک طبیب اور ادیب ہی نہیں میرے حبیب بھی ہیں، کینیڈا ون ٹی وی پر ”دانائی کی تلاش“ کے پروگرام ریکارڈ کروا رہا تھا، ان دنوں مجھے اندازہ ہوا کہ جہاں میں ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی سوانح عمریوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتا تھا، وہاں بلند اقبال اس دانشور کے دور کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی پس منظر پر اپنی رائے

Read more

لاہور کے شاہی محلے کا نام ہیرا منڈی کیسے پڑا؟

ہیرامنڈی کو اس کا موجودہ نام تقریباً 250 سال پہلے ملا۔ اس کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دیوان ہیرا سنگھ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اکبر کے دور میں لاہور شہر سلطنت کا مرکزی شہر تھا۔ اس وقت ہیرا منڈی کا علاقہ شاہی محلّہ کہلاتا تھا۔

Read more

ہم دیکھیں گے۔ ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی سے میرا قریبی تعلق ہے بلکہ یوں کہیے کہ ہم دونوں ایک ہی گھر کے فرد ہیں۔ جب بھی ہم دونوں کا دیوان ہوتا ہے تو اکثر ہماری باتیں معاشرے، ادب اور ادیبوں پر ہوتے ہیں اور یہ ملک جان کی ادب سے دوستی اور دلچسپی کی منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ ادب اور ادبی کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ملک جان کئی سوشل سائٹوں پہ کالم، آرٹیکل اور فیچر اسٹوریز لکھتے ہیں

Read more

خدا کے لیے اسلامی تلاش: الغزالی اور تہافت الفلاسفیہ

الغزالی کی تہافت الفلاسفیہ (فلسفیوں کی بے ربطی) اسلامی تاریخ کی سب سے متنازع کتابوں میں سے ایک ہے۔ ایک طرف اسے فلسفیانہ ادب کا شاہکار اور دوسری طرف مسلمانوں میں فلسفیانہ روایات اور عقلی سوچ کو ختم کرنے والی کتاب کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کی بنیاد پر، الغزالی کو متنازعہ طور پر ایک ایسے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے فلسفے کو رد کیا اور اس وجہ سے وہ مسلم معاشرے

Read more

مزاح: کتے

ہماری گلی میں لگ بھگ آٹھ کے قریب کتے ہیں ان کتوں کے عادات و اطوار دیکھ کر میں سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں اور جان کی امان پاؤں تو یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مجھے ان کتوں پر دور جدید کے شاعروں کا گمان ہوتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں یہ محض گمان ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ خدا نے ان کتوں میں تخلیقی صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہیں۔ میرا مطلب ہے کوٹ کوٹ

Read more

نومولود بچی کے پیٹ میں بچہ!

امی کیا میں جڑواں تھی؟ جی بیٹا۔ پھر میرے ٹون Twin کو کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ کیسے ختم ہوا؟ آپ ہی آپ۔ وہ کیسے؟ تم نے کھا لیا۔ پاس سے ہی بھائی کہتا ہے۔ دیکھیے امی۔ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ وہ چلاتی ہے۔ بہن کو تنگ مت کرو۔ ہم اسے گھرکتے ہیں۔ کھا لیا۔ کھا لیا۔ بھائی آہستہ سے گنگناتا ہے تاکہ ہم نہ سن سکیں۔ آواز سنتے ہی وہ پھر تنک کر کہتی ہے، دیکھیے نا امی۔

Read more

وحید نور ایک وجدانی شاعر

رب کائنات نے انسانوں کو جہاں دیگر حسیات سے نوازا ہے، ان میں ایک جمالیات کی حس بھی ہے، رب کائنات کی ذات جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتے ہیں، انسان خلیفۃ الارض ہے تو وہ بھی زمین کے ہر شے میں جمال تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب اسے قوت گویائی ملی تو روزمرہ کی ضرورت کی بات چیت کے بعد اس نے شاعری کی جانب توجہ دی، شاعری جو سراپا جمال ہے انسان کی

Read more

سیاسی جماعتوں کے مشہور ترانوں کی کہانی: عطااللہ کی انوکھی فرمائش، بھٹو کا جیالا شاعر اور شریف خاندان کا ’پسندیدہ گلوکار‘ جو سب کے لیے ترانے گاتا ہے

شاعروں کی جذباتی شاعری اور گلوکاروں کی جوشیلی دھنیں نہ صرف سیاسی پنڈال کو گرمائے رکھتی ہیں بلکہ یہ سیاست دانوں کے لیے عوام سے جڑے رہنے کا اضافی ذریعہ بن گئے ہیں۔ ہم نے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لیے ترانے لکھنے والے والے شاعروں اور گلوکاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے انھوں نے مشہور پارٹی ترانے کیسے لکھے اور گائے۔

Read more

جیل میں عام قیدی پر کیا گزرتی ہے؟ ملاحظہ اور توہین

لکھاری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس نے سنی سنائی بات کو موضوع بنا کر اپنی تحریر کے اندر جان ڈالنی ہے۔ مانا کہ اس سفر میں مطالعے اور مشاہدے کو اولین ترجیح حاصل ہے تاہم ذاتی تجربات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ میرے خیال میں تو ذاتی تجربات ہی قلم کو دو دھاری تلوار میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے، ایک

Read more

حرکت کا سائنسی تصور حصہ اول

سائنس کا تصور حرکت سولہویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس، کپلر اور گلیلیو سے ہوتے ہوئے نیوٹن کے قوانین حرکت اور میکانکی فلسفے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نیا تصور حرکت، قدیم فلسفے و جدید سائنس کے درمیان واضح حد بندی کرتا ہے۔ قدیم یونانی، بالخصوص ارسطوئی فزکس میں پائے جانے والے ابہام کی جگہ واضح اور قطعی مشاہدات نے اس نئے تصور کو جنم دیا۔ جدید سائنس نے قرون وسطی کے انسان مرکز نظریات پر کاری ضرب لگائی۔ قدیم

Read more

ودرنگ ہائیٹس: عشق پر زور نہیں

عشق۔ اگر پورا ہو جائے تو اپنی ہیئت بدل لیتا ہے اور اگر ادھورا رہ جائے تو ہر اس شخص کی زندگی کو ادھورا کر دیتا ہے جو اس عشق کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جتنا عشق کے بارے میں پڑھنا آسان ہے اتنا ہی اسے برتنا مشکل ہے۔ ایسے ہی ہلاکت خیز عشق کی داستان ودرنگ ہائیٹس میں بیان کی گئی ہے۔ بظاہر دو گھروں اور ان کے مکینوں کے درمیان گھومتی یہ کہانی جذبات اور احساسات کا

Read more

بانو قدسیہ

اردو ادب کے آسمان پر چمکتا ہوا ایک سنہری ستارہ مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار جنہیں ادبی حلقے میں لوگوں نے ان کے مشہور ناول راجہ گدھ سے جاننا شروع کیا۔ لوگ انہیں بانو قدسیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ بانو قدسیہ کو ہم سب کو اداس کر کے اس دار فانی سے گئے چار برس گزر گئے ہیں۔ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو فیروزپور پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا پیدائشی نام قدسیہ چٹھہ تھا۔ آپ کا

Read more

علم اور ادب کی دستاویز: ولیم پرویز

علمی اور ادبی رشتوں کا آغاز بڑا منفرد ہوتا ہے اور یہ رشتے خلوص، محبت، احساس اور وقت سے پروان چڑھتے ہیں۔ گزشتہ سال معروف صحافی انجم ہیرالڈ گل کی زندگی پر آرٹیکل لکھنے کے لیے تحقیق کر رہا تھا کہ اچانک ایک نام سامنے آیا جن کی فیس بک پروفائل دیکھی اور ان کے انٹرویو کا ایک کلپ دیکھا، جسے سن کر اور ان کے ادبی سفر کی کہانی جان کر یوں محسوس ہوا جیسے یہ تو میری کہانی

Read more

مصنوعی ذہانت: کل کی باتیں

دادی آپ جو ابو کو پریوں کے قصے سناتی تھی ہمیں بھی سناؤ، ابو کو یاد نہیں ہیں۔ مگر وہ آپ کے انداز بیان کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اور ہاں گھر میں ابو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ادب و احترام کا لیکچر دیا کرتے ہیں! مگر ہمارے سکول والے ٹیچر کو زیادہ تنگ کرنے والے بچوں کو اچھا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے سارے سوالوں کا جواب لیے بغیر چپ نہیں ہوتے؟ یہ کیوں ہیں؟ اور ہاں امی آپ

Read more

اقبال ایک عہد ساز شاعر

در بود و نبود۔ من، اندیشہ گمان ہا داشت از عشق ہویدا شد، این نکتہ کہ ہستم من ( سوچ اس گمان میں تھی کہ میں ہوں یا نہیں ہوں ؛ عشق سے یہ نکتہ ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔ ) بلا شک و شبہ اقبال بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ جتنی شہرت ہندوستان میں انھیں نصیب ہوئی اتنی ہی عالمی سطح پہ بھی ملی۔ اقبال اردو کے ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں جنھوں نے بہ

Read more

راحت فتح علی خاں کی دم والی بوتل

موبائل فون کسی عذاب سے کم نہیں، ہر بندہ کیمرہ اٹھائے خبر کی کھوج میں لگا رہتا ہے، ذرا سی بات ہو فوراً لوگ موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں، چند روز قبل سوشل میڈیا پر معروف گلوکار راحت فتح علی خاں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکار اپنے ملازم یا شاگرد پر تشدد کر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر بوتل کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں،

Read more

ابوالعلا معری، عہد عباسی کا ”نابینا“ شاعر (قسط اول)

ہر وہ شخص جو تفکر اور تدبر کا مجرم ہے، فلسفہ اس کے لیے بہترین سزا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو عربی زبان و ادب سے خاص شغف ہے تو یہ نا ممکنات میں سے ہو گا کہ اس نے عہد بنو عباس کے عظیم ”نابینا شاعر“ ابو العلاء معری کا ذکر کہیں نہ کہیں پڑھا یا سنا نہ ہو۔ معری کا پورا نام احمد بن عبد اللہ بن سلیمان التنوخی ہے (یہ نسبت تنوخ نامی یمنی قبیلہ

Read more

ممتاز شاعر اور انسانی حقوق کے رہنما حارث خلیق کے لئے خواجہ احمد عباس بین الاقوامی ایوارڈ

ممتاز شاعر اور انسانی حقوق کے رہنما حارث خلیق کو ان کی سہ لسانی شاعری (اردو، انگریزی اور پنجابی) نیز اعلیٰ تمدنی خدمات کے اعتراف میں 9 واں خواجہ احمد عباس بین الاقوامی ایوارڈ عطا کیا گیا ہے۔ ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں خواجہ احمد عباس کے اہل خانہ کے علاوہ ممتاز دانشور عارف حسن، ڈاکٹر شہلا نقوی اور ڈاکٹر خورشید حسنین اور مجاہد بریلوی کے علاوہ دیگر اہل دانش نے بھی

Read more

انتخابات شفاف اور بیرونی اثرات سے محفوظ ہونے چاہئیں

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ایم اے علوم اسلامیہ میں ہمارے استاد تھے۔ وہ اردو لٹریچر میں اسلامی اثرات پر لیکچر دیتے ہوئے تحقیق کا ایک چمن کھلا دیتے تھے۔ وہ کبھی کبھی پنجابی کا ایک شعر پڑھتے جس میں ’گھمن گھیری‘ کے الفاظ شامل تھے۔ وہ انہیں شگفتہ لہجے میں دہراتے رہتے تھے۔ اب میں نے 2024 ء کی انتخابی مہم کے جو عجیب و غریب مناظر دیکھے، تو گھمن گھیری کا مفہوم سمجھ آنے لگا۔ ذہن کو چکرا

Read more

مزاحمتی بیانیہ پر مبنی بلوچ ادبی روایات

دھرنے کے اختتام اور اسلام آباد سے کوچ کر نے سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ بلو نے کہا کہ ”آپ نے بلوچ عورت کو دہشت گرد قرار دے دیا، اسے اسلام آباد کے زندان میں رکھا۔ آپ نے اپنے اس برتاؤ سے بلوچ قوم کو جو پیغام دیا ہے ہم اس پیغام کو وہاں (بلوچستان) کے گھر گھر میں پہنچائیں گے۔ ہمارے یہاں (بلوچوں میں ) ہماری تاریخ اور تہذیب سے جڑی یہ روایت رہی ہے کہ ہم لوگ اشعار

Read more

نواب صادق خان عباسی (پنجم) کی صاحبزادی سے ایک ملاقات

میری نظر بیتابی سے اس پردے پر جمی ہوئی تھی جس کے عقب سے ریاست بہاولپور کے آخری فرمانروا، نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی آخری صاحبزادی کو نمودار ہونا تھا۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے یار لوگوں کو بتاتا چلوں کہ یہ وہی نواب صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف بہاولپور کی تعمیر و ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی کردار ادا کیا بلکہ تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کو

Read more

تقریب رونمائی سلیکٹر سے سلیکٹڈ تک

سنگھاسن پر کون؟ عام انتخابات سے گیارہ روز قبل پاکستانی سیاسی تاریخ و حالات حاضرہ پر عالمی شہرت کے حامل تجزیہ نگار مظہر عباس کے سیاسی کالموں کے مجموعے کی اشاعت، کراچی آرٹس کونسل میں اس کی تقریب رونمائی، پاکستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سیاسی علمیات سے وابستہ اور عملی صحافت سے پیوستہ مقررین کی شرکت۔ صاحب کتاب کی کرامت کہ سیاست و صحافت کے ساتھ علم و ادب بھی ایک چھت تلے تھے۔ اس تقریب میں کسی

Read more

دم والی بوتل کا جن

کہتے ہیں فن کار کسی بھی ملک کا سفیر اور پیام بر ہوتا ہے۔ فن کار خواہ شاعر ہو، ادیب ہو، لکھاری ہو، چتر کار ہو، گلو کار ہو، موسیقار ہو یا گیت کار ہو وہ باد نسیم کی طرح فضاؤں میں اپنے فن سے معطر خوشبوئیں بکھیرتا ہے۔ فن کار ایک سماج میں بستا ہے۔ وہاں کی مٹی میں نہ صرف امن کے بیج بوتا ہے بلکہ اس کو پانی بھی دیتا ہے تاکہ بہار کے موسم میں محبت

Read more

کھڑکیاں اور استاد سلامت علی خاں

ننگے پاؤں (6 ) تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے غلام محمد قاصر جو اس سدا بہار شعر کا خالق تھا اس کا ایک اور شعر بھی لافانی رہے گا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا مستنصر حسین تارڑ راوی ہیں کہ ایک دن ادبی جریدہ فنون کے انارکلی والے دفتر میں احمد

Read more

ہیبت نامہ!

کہا گیا: حرم میں داخل ہونا تو مطاف کے احاطہ تک نگاہیں نیچی رکھنا تا کہ پہلی نظر کعبہ پر پڑے تو سنا ہے جو مانگو عطا ہوتا ہے، ہوتا ہو گا۔ مگر ان آنکھوں کو دیکھنے کی عادت ہے، اس وسیع و عریض مسجد میں کعبہ کو تانکتے جھانکتے حرم سے مطاف پہنچ گئے۔ پوچھا گیا: کعبۃ اللہ پر نظر پڑی تو کیا دعا مانگی؟ دعا؟ کون سی دعا؟ کیسی دعا؟ مانگنا کیا تھا؟ پتا نہیں۔ اس عمارت کو

Read more

عاشق ویسل (Aşık Veysel)

عاشق ویسل Aşık Veysel ترکیہ کے معروف لوک شاعر اور لوک گلوکار تھے۔ وہ بچپن میں ہی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے تھے لیکن قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا جسے عاشق ویسل نے بروئے کار لا کر دنیا میں اپنا نام اور مقام بنایا۔ ترک لوک شاعری اور گلوکاری میں ان کا نام اور کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ عاشق ویسل 25 اکتوبر 1894 کو ترکیہ کے شہر سیواس کے علاقے سیوری الان

Read more

عشق نامہ شاہ حسین تصوف، ملامت، سنگیت، کلام

شاہ حسین کے لیے فرخ یار کا اظہار عقیدت ایک تحقیقی کتاب کی شکل میں سامنے آیا جس سے اس دور کی پنجابی شاعری اور اس کے سیاق و سباق کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ فرخ یار کی یہ شان دار کتاب بک کارنر جہلم نے شایع کی ہے اور اس کی پیشکش بھی کتاب کی شایان شان ہے۔ چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس کتاب پر گفتگو کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس کے مصنف پر

Read more

رومی کون؟

مولانا جلال الدین رومی ایسے عالم اور فقیہ تھے کہ زمانہ مانتا تھا۔ شریعت کا علم سیکھنے اور درپیش مسائل پر فتوے لینے کو لوگ دور دور سے آتے کہ وہ اپنے عہد کے سلطان العلما تھے اور سلطان الفقہا بھی۔ پھر یوں ہوا کہ ان کی ملاقات شاہ شمس الدین تبریزی سے ہو گئی اور کچھ یوں ہوئی کہ کایا کلپ ہو گئی؛ قال، حال میں منقلب ہوا اور ایک مولوی کی جگہ مولائے روم کا ظہور ہو گیا

Read more

دستوئیفسکی کا ناول جرم و سزا

اس شاہکار ناول کے مصنف نامور روسی ادیب فیودور دستوئیفسکی ہیں۔ 1866 میں یہ ناول روس کے مشہور ادبی مجلے میں قسط ور شائع ہوا۔ 1867 میں یہ پہلی بار کتابی شکل میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ یہ ناول انسانی نفسیات اور اس کی احساسیت کو اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر معاشرت پر اس کے گہرے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ سسپنس، اخلاقی مخمصوں اور نفسیاتی مسائل کی

Read more

جو کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

بعض لوگ آپ سے ملتے رہتے ہیں، ہر پروگرام نہیں تو کئی ایک پروگرامز میں بار بار مل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی بھی حوالے سے آپ پر ظاہر ہی نہیں کرتے کہ وہ ایک لکھاری ہے، شاعر ہے ادیب ہے بلکہ ہمہ جہت شخصیت ہے۔ لیکن جب وہ آپ کو کسی پروگرام میں چپکے سے تین کتابوں کا ایک سیٹ بڑی احترام اور محبت سے تھما دیتے ہیں تو آپ کے سامنے بیٹھے بیٹھے ان کی شخصیت بدل جاتی

Read more

سومناتھ مندر: جب ’بت شکن‘ محمود غزنوی کی طرف سے مسمار کی گئی عبادت گاہ کا دوبارہ افتتاح کیا گیا

سمندر کنارے پتھر سے تعمیر اس مندر کو محمود غزنوی نے نہ صرف لوٹا بلکہ عصری مورخین کے مطابق اس میں موجود بتوں کو بھی توڑا تھا۔

Read more

محبت و جنگ کے امر ہونے والے فلسطینی نغمے

انسانی تہذیب کا سب سے خوبصورت اظہار اس کے ورثے سے ہوتا ہے، اور انسانی احساسات کا ترجمان چاہے خوشی، غم، روایات و ثقافت کے ہر رنگ کو سمجھانے کے لئے کسی بھی انسانی تہذیب کا سب سے بہترین اظہار نغمہ ہوتا ہے، دنیا میں موجود ہر ہر ثقافت میں احساسات کے بیان کے لیے نغمے موجود ہیں، ہمارے ہاں بھی مختلف تہذیبوں میں ثقافت و روایات کے احساسات کی دنیا جن لوک گیتوں میں نظر آتی ہے، انہیں ہمارے

Read more

چائے ہے میری چاہ

یار اس شہر میں چائے پانی کے سوا کوئی کام ہوتا بھی ہے؟ فیصل بھائی یہ چائے کے نام کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور صرف اس بات کو شہر تک محدود کر کے تم نے اس شہر کو بدنام کرنے کی اک گھناؤنی سازش کی ہے مرے بھائی صرف شہر نہیں پورے ملک کہئے۔ چائے ایک معزز شے ہے اس کے اس طرح کے بے جا استعمال کے میں سراسر خلاف ہوں۔ کیا مطلب ہے تمہارا۔ میرے لئے

Read more

رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ

جب سجاد بلوچ کا پہلا شعری مجموعہ ”ہجرت و ہجر“ آیا تو مجھے اس کے نام نے چونکایا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے اس کے نئے مجموعے ”رات کی راہداری میں“ نے چونکایا ہے۔ دونوں بار مجھے یہ شاعری کے مجموعوں کی بہ جائے فکشن کی کتابوں کے نام لگے۔ پہلی کتاب پڑھتے ہی یہ احساس زائل ہو گیا تھا اور مجھے تسلیم کرنا پڑا تھا کہ غزل کا ایک نیا مجموعہ میرے سامنے تھا۔ ”ہجرت و ہجر“ کی آمد

Read more

رنگ غالب میں پیروڈی

بنام شبیر حسن شبیر حسن بے جوش! سلامت رہو۔ فقیر کا ایک سخن ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ دنیا دارالمکافات ہے اور انسان اشرف المخلوقات ہے۔ طبائع کے اعتبار سے انسان کی پانچ قسمیں ہیں : شریف الطبع، ظریف الطبع، حریف الطبع، کثیف الطبع اور نحیف الطبع۔ تم طبع ثالث کے مالک ہو کیوں کہ اوت ہو نہ بھوت ہو، تم راج پوت ہو۔ دامن کو حریفانہ کھینچتے ہو۔ سوپشت سے پیشۂ آبا سپاہ گری ہے، شمشیر بازی ہے۔ سخن

Read more

کیا آپ کی داڑھی سفید ہو رہی ہے؟

تحریر: حامد یزدانی اور خالد سہیل ۔ ۔ ۔ حامد یزدانی کا خط ۔ ۔ ۔ ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ گزشتہ روز آپ سے فون پر بات ہوئی تو اپنی خیریت اور تازہ ترین صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے میں نے جب یہ مصرع پڑھا: کہ آئینے میں اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی تو آپ بے ساختہ ہنس دیے تھے اور پھر آپ نے اپنے مخصوص اور پرخلوص انداز

Read more

ادب عالیہ کیا ہے؟

آج سے چار ماہ پیشتر مجھے اپنے شاعر اور دانشور دوست امیر حسین جعفری کا ایک ادبی محبت نامہ موصول ہوا جس میں انہوں نے مجھ سے میرے ادبی و نظریاتی فلسفے کے بارے میں دس سوال پوچھے تھے۔ میں نے ان دس سوالوں کے جواب لکھنے شروع کیے تو وہ سلسلہ اتنا دراز ہو گیا کہ میں نے سو دنوں میں دو سو صفحات لکھ ڈالے۔ یہ میرے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ ان کے دس سوالوں میں سے

Read more

نصير ميمن اور ان کی تحریریں

پاکستان میں ایسے لکھنے والے بہت کم ہیں جو تاریخ پر اردو یا دیگر قومی زبانوں میں لکھ سکتے ہوں اور جن کا نقطہ نظر آزادانہ اور معروضی ہو۔ ایسے لکھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کے شاہ محمد مری نے تن تنہا وہ کام کر دکھایا جو کئی ادارے مل کر بھی نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اردو اور بلوچی میں سو سے زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔ جن میں تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کو اجاگر

Read more

فیس بک نگری

آپ کے فیس بک فرینڈز ہوں گے میرے بھی ہیں اور کافی زیادہ ہیں یا شاید مجھے ہی زیادہ لگتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے چار طلبا نے 2004 میں مل کر فیس بک بنائی۔ پہلے یہ صرف طلبا کے آپس میں رابطہ کرنے کے لیے بنائی گئی لیکن جلد ہی اسے عام لوگ بھی استعمال کرنے لگے اور فیس بک سوشل میڈیا کا مقبول ترین ذریعہ بن گیا۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تین ارب لوگ

Read more

سچ، جھوٹ اور بیانیہ

نہ کوئی پارٹی منشور، نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی بحث نہ دلیل، یہ چیزیں غالباً متروک قرار پائی ہیں۔ ہم ’بیانیے‘ کے عہد میں زندہ ہیں، اور اس اصطلاح نے کسی بلیک ہول کی طرح منشور سے دلیل تک سب کچھ ہڑپ کر لیا ہے۔ ایک زمانے تک تو ’بیانیہ‘ ادب کی ایک اصطلاح تھی جس سے مراد واقعات کو کہانی کی صورت میں ترتیب سے بیان کرنا ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ اصطلاح سیاست میں در آئی، اور اس

Read more

آج کیا پکائیں؟

بہت مشکل سوال ہے کہ آج کیا پکائیں؟ اس سوال نے یقین جانئیے کہ ہمیں پکا دیا ہے۔ سب کچھ پکا پکا کر تھک گئے ہیں یہ سوال مگر اپنی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔ ہر روز جونہی ذرا دم لینے کو بیٹھتے ہیں تو اچانک گھر کے کسی گوشے سے یہ آواز گونجتی ہے اور خوامخواہ دماغ کو مصروف کر دیتی ہے۔ ہمارے دماغ کے سی پی یو میں ابتدائی کیلکیولیشن شروع ہوجاتی ہے جو کسی انتہائی سادہ

Read more

جاپانیوں کی شاہی خاندان اور شہزادیوں میں بے پناہ دلچسپی اور ولی عہدی کا سوال

ہارورڈ اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ مہارانی کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل ہے اور وہ روانی سے ان زبانوں کو بول سکتی ہیں۔ انھیں ایک سابق سفارت کار کی حیثیت حاصل ہے۔

Read more

ابوالفضل علامی ابن مبارک کی تصنیف "عیار دانش”: ایک مطالعہ

ابو الفضل ابن مبارک شیخ مبارک ناگوروی کے بیٹے اور ابوالفیض فیضی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابوالفضل کے خاندان کا تعلق یمن سے تھا۔ ان کے اجداد میں سے شیخ موسیٰ نامی بزرگ یمن سے ہجرت کر کے سیستان آئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ وہ صوفیانہ مزاج رکھنے والے نیک آدمی تھے۔ ان کا خاندان تقریباً سو سال تک وہیں قیام پذیر رہا۔ دسویں صدی ہجری کے شروع میں ان کے پڑپوتے شیخ خضر نے ارادہ کیا کہ ہندوستان

Read more

اسلام میں خدا کا تصور: الغزالی

گیارہویں صدی کے آخر تک، خدا، اس کی فطرت، پیغمبر کے کردار، اور قرآن کو سمجھنے کے لیے کئی انداز فکر اپنائے گئے۔ یہاں میں چند اہم کا تذکرہ کرتا ہوں۔ مضامین کے اس سلسلے میں، اب تک میں نے بنیادی طور پر اس فلسفیانہ تحریک کا احاطہ کیا ہے جو یونانی روایات، خاص طور پر ارسطو اور پلوٹینس سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ اس دور کے عظیم ترین مسلمان فلسفی الکندی، الفارابی اور ابن سینا تھے۔ وہ مذہب کے

Read more

اردو نظم میں عورت کا استحصال

شعر انسان کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کے تجربات کا مرقع ہوتا ہے، ان ہی تجربات اور افکار کی روشنی میں جب کوئی تخلیق وجود میں آتی ہے تو وہ شاعری کا روپ اختیار کرتی ہے۔ ذہنی و فکری اور معاشرتی زندگی کا تنوع زبان و ادب میں تنوع اور رنگا رنگی کی وجہ بھی بنا ہے، بائیں ہمہ شعر کے اندر بھی رفتار زمانہ اور انقلاب احوال کے ساتھ تنوع اور رنگا رنگی نیز جدت طرازی دیکھنے کو ملی،

Read more

شہرے چنیں (بنام ایٹالو کالوینو)

کائی پنگ فو سے تین دن کی مسافت پہ آپ چند دریا، چند صحرا، چند پہاڑ اور چند درے عبور کرنے کے بعد پاکیشیا پہنچتے ہیں۔ پاکیشیا، دریاؤں، صحراؤں، پہاڑوں اور دروں والا شہر۔ یہ دریا، صحرا، پہاڑ اور درے ایک دوجے سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں اور جہاں کہیں ملتے ہیں ایک دوسرے کو ضرر پہنچاتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی اپنی زبانوں میں اس عمل کو دوسروں کی اصلاح کرنا کہتے ہیں۔ جیسے دریا پہاڑوں کے نیچے

Read more

سمندر، سورج اور شاعری

چاک ایونٹ مینجمنٹ کا نام ادبی و تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کے پروگرامز کی ایک طویل فہرست ہے جو ادبی، تفریحی اور انتظامی ہر اعتبار سے ہر سطح پر سراہے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اگر چاک انتظامیہ نے جاتے ہوئے سال کو دسمبر مشاعرے کے ذریعے الوداع کہا تھا تو سال نو کا استقبال ساحل پہ پکنک اور مشاعرے کے ذریعے کیا۔ چاک کے وہ پروگرامز جو اب ایک روایت بن گئے

Read more

ایاز میلو – سندھ کا فخر

حیدر آباد میں ایاز میلو ملک بھر کے شائقین ادب و فن کے لیے ہر سال دسمبر میں مل بیٹھنے اور گفت و شنید کے لیے شان دار مواقع فراہم کرتا ہے۔ تقریباً ایک عشرے سے حیدرآباد کی بہادر خواتین جن میں امر سندھو، عرفانہ ملاح، حسین مسرت اور ذکیہ اعجاز شامل ہیں یہ پانچ روزہ میلہ سجا رہی ہیں۔ ایاز میلو میں عوام کی شرکت اسے دیگر ادبی میلوں سے ممتاز بناتی ہے۔ ان خواتین کو کچھ مردوں کا

Read more

اداسی، ٹھنڈ اور جبر سے بھرے دن!

پچھلے دو دن سے دل کچھ مغموم، اداس اور بے سمت سا ہے۔ بے نام سی اداسی سے طبیعت بوجھل ہو رہی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگ رہا۔ مختلف اوقات میں بہت سی کتابیں بھی پڑھنا شروع کیں۔ مگر ذہن میں بے ہنگم سے خیالات آتے چلے گئے۔ دل موسم کی دھند، ٹھنڈ اور اداسی میں ڈوبا ہوا ہے مگر وہ دل ہی کیا جو آسانی سے مان جائے۔ لہذا ہم نے دل کی باگیں کسیں۔ کچھ سختی

Read more

جسبیر سنگھ دھیمان اور محمود درویش

ننگے پاؤں ( 5 ) کویت کی پنجابی ادبی سنگت کے پنجابی مشاعرے میں جسبیر سنگھ دھیمان ایک نثری نظم سنا رہا تھا جس کا عنوان تھا ’ فلسطینی شاعر محمود درویش دے ناں‘ جس کا ایک حصہ یوں تھا جیون سفر دے دو ات پیارے شبد گھر تے وطن تے ایہہ دونویں شبد تیتھوں کھون دی سازش چلائی گی وہ پڑھ رہا تھا اور میں اس گہری سازش کویاد کر رہا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل وجود میں

Read more

عرب و عجم کی لڑائی، دور جاہلیت سے دور حاضر تک

ایران کے شہنشاہ خسرو پرویز کے دور میں سلطنت کسریٰ اپنے بام عروج پہ تھی۔ خسرو پرویز نے اپنے باپ کے وراثتی اقتدار کو بڑی جد و جہد کے بعد حاصل کیا تھا کیونکہ دونوں باپ بیٹوں کو محلاتی سازشوں کے نتیجے میں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا گیا اور یوں خسرو کا باپ جس کے کان میں یہ بات ڈالی گئی کہ خسرو بغاوت پر آمادہ ہے، اپنے بیٹے کی جان کا پیاسا ہو گیا۔ خسرو ایک عرصے

Read more

ایام طالب علمی کی یادیں

ھم نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے واحد پرائمری سکول، گورنمنٹ پرائمری سکول چک نمبر 45 ایس پی شکور آباد، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ سے حاصل کی۔ ہمارے پرائمری سکول کے اساتذہ جو غریق رحمت ہو گئے ہیں اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی مغفرت کرے بہت ہی مخلص اساتذہ تھے۔ ان میں ماسٹر محمد جہانگیر، ماسٹر محمد افضل وٹو، ماسٹر ڈاکٹر فقیر محمد، ماسٹر محمد طفیل، ماسٹر محمد قاسم اور ماسٹر محمد رزاق نمایاں تھے۔

Read more

بریل پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں جدت

بصارت سے محروم افراد کے لئے کاغذ پر لکھا ہوا نہیں بلکہ ابھرا ہوا لفظ معنی رکھتا ہے کیوں کہ کاغذ پر ابھرا ہوا نقش نابینا افراد کے لیے ان کے ہاتھوں سے مس ہو کر پیغام ان کے دماغ تک پہنچاتا ہے۔ لفظوں کی اشکال دماغ میں بنتی ہیں اور پھر لفظوں سے ترتیب پا کر خیال بنتا ہے اور وہ خیال ان کے معاشرے میں رہن سہن میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس طریقے کو بریل کہتے ہیں۔

Read more

ونڈو شاپنگ

یہ اتوار بھی دراز پر نت نئے لیپ ٹاپ دیکھتے گزر گیا۔ تلاش تو ایک کروم بک کی تھی جس پر مضامین پڑھے اور لکھے جا سکیں اور جس کا وزن بھی نہ ہونے کے برابر ہو اور جس پر دیگر ٹامک ٹوئیاں بھی ماری جا سکیں۔ پھر بھیا کا میسج آ گیا کہ فلاں کورس کر لو، اس کی مدد سے تم کمپیوٹر نیٹ ورکس کی مہارت حاصل کر لو گے۔ اب انہیں کیسے بتائیں، اپنی عمر ہو گئی۔

Read more

روسی انقلاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ڈاکٹر ژواگو

  معیاری ادب میں قارئین کو مختلف ادوار اور مقامات تک پہنچانے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کرداروں کی کامیابی اور مصیبتوں کو اس طرح محسوس کر سکتے ہیں جیسے وہ خود ان لمحات کو جی رہے ہوں۔ بروس پاسترناک کا شہرہ آفاق ناول ”ڈاکٹر ژواگو“ ایسے ہی ادب کی بہترین مثال ہے۔ روسی انقلاب کے پس منظر اور اس کے اثرات پر تحریر کیا گیا یہ ناول بہترین کرداروں، ان کے پیچیدہ رشتوں اور

Read more

سرائیکی شاعری اور موسیقی

سرائیکی زبان کی مٹھاس سے کس کو انکار ہو گا۔ پھر اس وقت سرائیکی شاعری اپنے عروج کے دور سے گزر رہی ہے۔ اصغر گورمانی، عابد بلال، خالد جاوید سمیت غزل کے بے شمار شاعر اس وقت ایسی غزلیں کہہ رہے ہیں کہ آئے دن سوشل میڈیا پہ ان کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ شاعری صرف سرائیکیوں کو ہی نہیں بلکہ پنجابی اردو اور پوٹھوہاری اہل ذوق افراد سے داد لے رہی ہے۔ حتیٰ کہ وسی بابا

Read more

کالم ہوتل بابا کے: رضی الدین رضی کا نگار خانہ

ملتان میں یوں تو استاد شاگرد کے تعزیے مشہور ہیں جن کی رونمائی سال بہ سال ایام عاشور میں ہوا کرتی ہے تاہم ان دنوں شہر میں ”استاد شاگرد“ کے ادبی کالموں کا چرچا ہے۔ پروفیسر انور جمال اور رضی الدین رضی کے ادبی کالموں کے مجموعے علی الترتیب ”ملتان رنگ“ اور ”کالم ہوتل بابا کے“ آگے پیچھے طبع ہو کر مارکیٹ میں آئے ہیں۔ یہ بھی ہمیں انہی مجموعہ ہائے کی ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ رضی الدین

Read more

شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی تعبیر کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے اور نہ اس بارے میں جاننے کی خواہش کو مستحسن گردانا

Read more

خالد مسعود خان اور افغان جہاد کے ثمرات

اگر آپ اسے جملہ معترضہ نہ سمجھیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمیں افغان جہاد کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اردو ادب کو خالد مسعود جیسا مزاحیہ شاعر دستیاب ہوا۔ افغان جہاد میں کم از کم ہمیں تو خیر کا یہی ایک پہلو دکھائی دیا۔ اس جہاد نے یوں تو احمد شاہ مسعود اور مولانا اظہر مسعود جیسے جنگجو بھی پیدا کیے مگر ان مسعود برادران میں ہمیں برادر عزیز خالد

Read more

شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روح تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے لاتعداد جنگوں سے نبرد آزما انسان کیا اس جدید ٹیکنالوجی یا دکھائی جانے والی ترقی کے دور میں بھی امن کی بات نہیں کر سکتا، کیا آج کا فرد انسانوں کی تقسیم پر ماتم کرنے سے بھی گریزاں رہے گا۔ کیا بھوک اور افلاس سے

Read more

بھٹو زندہ ہے لیکن پیپلز پارٹی؟

4 اپریل 1979 کو جب راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں جلاد تارا مسیح سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں پھانسی کا پھندا کس رہا تھا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ طبعی موت کے باوجود بھٹو پاکستان کی سیاست میں آئندہ آنے والی کئی دہائیوں میں ایک استعارہ بن جائے گا اور پاکستان کی سیاست بھٹو کے حامیوں اور بھٹو کے مخالفین میں تقسیم ہو جائے گی۔ بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کی سزا کے خلاف

Read more

اردو کا سمندر اور پنجابی کا تالاب

معروف و مقبول ادیب، فنکار اور کوہ پیما مستنصر حسین تارڑ صاحب کی شہرت و مقبولیت کا سب سے بڑا سبب یقیناً اردو زبان میں ان کی تخلیق کردہ کاوشیں ہی ہیں، اور ان میں سے ان کے سفرنامے زیادہ شہرت و مقبولیت کے حامل ہیں۔ جب کہ ان کی شہرت کا ایک اور بڑا سبب ان کے تحریر کردہ ڈرامہ سیریلز بھی ہیں۔ البتہ بہت سے لوگوں کے لیے شاید یہ انکشاف ہو کہ وہ میدان ادب کے ہی

Read more

ساحر لدھیانوی کا باورچی

پرکالا پروڈکشن کے دو حصے دار تھے ’داؤد مکرانی اور سندر بس جانی۔ دونوں بے حد چلتے پرزے تھے اور ہرجیت کمار اور آرادھنا کو لے کر ایک فلم بنا رہے تھے۔ یہ جوڑی ان دنوں فلم انڈسٹری میں اعلیٰ درجے کی جوڑی سمجھی جاتی تھی۔ پرکالا پروڈکشن کا دفتر بے حد شاندار تھا لیکن داؤد اور سندر کا ذاتی کمرہ جو دفتر کے بالکل آخر میں تھا سب سے شاندار تھا اور اسے بہت کم لوگوں نے دیکھا تھا۔

Read more

بلوچستان کے حقوق اور بجلی کے بل

حال ہی میں پاکستان اور ایران کے درمیان جو تنازع پیدا ہوا، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ چونکہ یہ حملے بلوچستان کے علاقہ میں ہوئے تھے، اس لئے ان کے بعد ایک نئے انداز میں عالمی میڈیا کی توجہ بلوچستان پر مرکوز ہوئی۔ اس سلسلہ میں الجزیرہ چینل کے پروگرام انسائڈ سٹوری میں پاکستان کے نامور مصنف احمد رشید صاحب اور سابق سفارتکار ملیحہ لودھی صاحبہ کو بھی مدعو کیا گیا اور ایران کی طرف سے تہران یونیورسٹی کے

Read more

ناول بنتِ داہر: تاریخ سے ماخوذ مختلف بیانیہ

چند سال قبل ایک میڈیا ہاؤس کی ویب سائٹ پر ”اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول“ کے عنوان سے ایک بلاگ چھپا۔ اردو ادب سے لگاؤ کی وجہ سے انگلی خودبخود ہی دب گئی اور مکمل بلاگ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ اس میں بیان کردہ کئی ناول کا تو پہلے ہی سے مطالعہ کر رکھا تھا اور باقیوں سے بھی تعارف تھا ماسوائے صفدر زیدی کے ”بھاگ بھری“ سے۔ ناول منگوا لیا گیا اور دو نشستوں

Read more

ثروت زہرا کا مجموعہ کلام: کتنے یگ بیت گئے

نئی نسل کی شاعرہ ثروت زہرا کا نظموں پر مشتمل مجموعہ کلام ”کتنے یگ بیت گئے“ ہاتھ لگا تو پڑھنے کی سعی میں کتنے ہی دن بیت گئے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک انھیں سنا تھا پڑھا نہیں تھا اور اگر آپ نے ثروت زہرا کو سنا ہے تو آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ثروت زہرا جس لطیف الصوت لہجے میں اپنا کلام پڑھتی ہیں وہ انداز بیاں سماعتوں کو اپنی گرفت

Read more

ہاؤس آف ڈیتھ الارم۔ افسانہ: لیوگی پیرآندیلو۔ اٹلی

HOUSE OF DEATH ALARM. Luigi Pirandello. ترجمہ: جاوید بسام۔ مہمان نے گھر میں داخل ہوتے ہی بلاشبہ اپنا نام بتا دیا تھا، لیکن بوڑھی اور لاغر سیاہ فام نوکرانی جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا اور جو ایپرن باندھے بندر کی طرح لگتی تھی، اس نے یا تو سنا نہیں یا اس کے بارے میں فوراً بھول گئی۔ یوں وہ بے نام بھلا مانس پونے گھنٹے سے گھر کی خاموشی میں ”وہاں“ انتظار کر رہا تھا۔ ”وہاں“ سے

Read more

گلوبلائزیشن کے نقصانات

دنیا دن بدن ترقی کی منازل طے کرتی فنا اور عروج کی طرف گامزن ہے، انسان کی جگہ مصنوعی انسان لینے کے لئے کلی طور پر تیار ہے۔ سائنس اور مادیت پرستوں نے اپنے اپنے جال تیار کر لئے ہیں، وائے انسان کہ ایک شکار کی طرح رفتہ رفتہ مصنوعی ذہانت کے جال میں پھنسنے سے پہلے خود اپنے احساسات و جذبات، خاندانی اور سماجی رشتوں کو دنیاوی آسائشوں کی بھینٹ چڑھا کر کھو چکا ہے۔ پرنٹ سے الیکٹرانک اور

Read more

بھگت سنگھ

کہانی وہ نہیں جسے چھپایا جائے۔ کہانی تووہ ہے جسے بتایا اور پڑھایا جائے تاکہ نسل در نسل منتقل ہوتی رہے۔ یہ کائنات خود ابھی ایک کہانی ہے جو مختلف مقامات پر مختلف کرداروں اور پلاٹ کے ساتھ چل رہی ہے مگر ہے یہ کہانی ہی۔ اور ایسی عجیب کہانی کہ جس کا سب سے اہم کردار قدرت اور انسان تو ہمارے سامنے ہے لیکن اس کا مصنف کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ سو کہانی انسان کی سرشت میں ہے۔

Read more

ہمارے شہر کی مائیں اداس ہیں

ایک دن عالمی مشاعرہ سن رہا تھا، پاکستانی شعراء کرام اس میں شریک تھے، ان میں جو نظامت کر رہا تھا وہ ہندوستانی شاعر کمار وشواس تھا، اس کے کچھ اشعار اچھے لگے، اس کا مشاعرہ سنا تو اس نے کئی بار صدر محفل کا ذکر کیا، میں نے پورا مشاعرہ سنا اور ان صدر محفل کی شاعری سنی، ان سے پہلے راحت اندوری کی شاعری تھی، کیا کمال شاعری تھی، لیکن جب صدر محفل جناب منور رانا صاحب کی

Read more

سندھ گُلال کتاب پر تبصرہ

خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار، جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار۔ امام مغنیاں، شاعر ہفت زباں، قافلہ عشق کے راہ رو، حضرت امیر خسرو کا شعر سنتے تو مدت سے آئے ہیں مگر تفہیم تب پائی جب ”سندھ گلال“ ہاتھوں میں آئی۔ ہمارے دلبر رانا محبوب سندھ کے مدینے کے عشق میں ایسے ڈوبے ہیں کہ ایک ہی سانس میں، ایک ہی کتاب میں وطن کے پیار میں کندن ہوئے دیوانوں کی امر کہانی

Read more

ایران کے جنوب سے شمال کی طرف کا سفر (قسط نمبر 3 )

شیراز شہر کی سیر 8 جولائی 2023 کو ہم لوگوں نے صبح اٹھ کر غسل کیا، ناشتہ سے فارغ ہو کر شیراز میں موجود شیخ سعدی کے آرام گاہ کی جانب چل پڑے، شیخ سعدی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور دانا تھے۔ ان کی کتابیں گلستان اور بوستان باقاعدہ مدرسوں میں درس میں شامل ہیں۔ میں نے بچپن میں خود مکتب میں کریمہ، گلستان، بوستان پڑھا تھا۔ شیخ سعدی ایک ایسا لکھاری تھا کہ اب بھی ان کی

Read more

عمر سیف الدین

ترک ادب میں مختصر کہانیوں کے بانی، عمر سیف الدین (Ömer Seyfettin) ایک معروف ادیب اور شاعر تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے فوجی تھے اور سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کا حصہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ویٹرنر ڈاکٹر، استاد اور ماہر لسانیات بھی تھے۔ لکھنا ان کا شوق تھا خاص طور پہ مختصر کہانیاں اور داستانیں لکھنے کے وہ ماہر ادیب تھے۔ ان کی مختصر کہانیاں بہت مشہور ہیں اور ترک زبان و ادب میں وہ داستان

Read more

بھیڑیں اور بھیڑیے

1922 میں مدہیہ پردیش میں پیدا ہونے والے ہری شنکر پرسائی کو جدید ہندی ادب میں طنز نگاری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہری شنکر پرسائی نے ناگ پور یونیورسٹی ستے تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد کل وقتی بنیاد پر ادب سے وابستہ ہو گئے۔ وہ براہ راست اور سادہ انداز میں کاٹ دار طنز کے لئے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ہندی ادب میں طنز نگاری کا انداز ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ 1982 میں

Read more

فلسفہ کی حقیقت؟

فلسفہ (Philosophy) لاطینی زبان کے دو الفاظPhillia اور Sophia کا مر کب ہے۔ Phillia کے معنی ہیں محبت (Love) اور Sophia کے معنی، عقل (Wisdom) کے ہیں۔ پس فلسفہ کے لفظی معنی ہوئے ”عقل سے محبت۔“ (Love to Wisdom ” بلا شبہ محبت کرنے سے مراد کسی سے پیار کرنا، چاہنا اور عشق کرنا کے ہوتے ہیں۔ اور عقل پسندی سے مراد غور و فکر کرنا، در پیش مسائل کا دانائی سے شعور و ادراک حاصل کرنا کے ہیں۔ اسے

Read more

ناول بنت داہر

اکثر تاریخی ناول کے بارے میں قاری کی پہلے سے ہی زیادہ تر رائے بن چکی ہوتی ہے اور وہ اس ناول کو پڑھنے کے دوران وہی کچھ پڑھنا اور تلاش کرنا چاہتا ہے جو ایک خاص مطالعے، سنی سنائی باتوں اور افواہوں کی مرہون منت ان تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ تاریخی ناول کے ساتھ کئی طرح سے قاری کی اٹیچمنٹ ہوتی ہے وہ سیاسی بھی ہو سکتی ہے، اخلاقی بھی ہو سکتی ہے، طبقاتی، قومی اور لسانی بھی

Read more

حرکت جوہری ایک فرسودہ خیال ہے!

دنیا میں ہر شے ایک دوسرے کے لحاظ سے مکانی اعتبار سے اپنی جگہ تبدیل کرتی نظر آتی ہے۔ کسی رات کا کھلا آسمان جس میں شہروں کی روشنیاں اور آلودگی نہ ہو، رنگ برنگ اور بے بہا اجرام فلکی سے مزین نظر آتا ہے۔ مختلف کہکشائیں ہیں جن میں اربوں ستارے اپنی اپنی کہکشاؤں کے مرکز جنہیں galactic center کہا جاتا ہے، کے اردگرد حرکت کر رہے ہیں۔ یونہی کچھ ستارے ایسے ہیں جن کے گرد سیارے planets مداروں

Read more

”جنگل میں جمہوریت“ مترجم ڈاکٹر عبد العزیز ملک: چند تاثرات

 ”جنگل میں جمہوریت اور دیگر کہانیاں“ پنجابی افسانوں کا ترجمہ ہے جسے اردو روپ ڈاکٹر عبد العزیز ملک نے دیا ہے۔ ان افسانوں کے تخلیق کار اکبر لاہوری ہیں۔ اکبر لاہوری سے میرا پہلا تعارف 2010 میں ہوا جب ان کے پنجابی افسانے ”جنگل وچ جمہوریت“ کا اردو ترجمہ ”جنگل میں جمہوریت“ ادب لطیف میں پڑھا۔ اس افسانے کے مترجم ڈاکٹر سعید احمد تھے۔ کسی پنجابی افسانہ نگار کو پڑھنے کا یہ میرا اولین اتفاق تھا جو نہایت خوشگوار تھا۔

Read more

استاد امانت علی خان: راگ داری اور ریاست

(امانت علی خان کی وفات ( 18 ستمبر 1974 ) پر تحریر کیا گیا یہ پرانا مضمون ابا کے کاغذوں سے ملا تو پڑھ کر حیران ہو گئی۔ اس قدر علم، اس قدر تاریخی حوالے، سوچا۔ اسے پڑھنے والوں کی نظروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ نیلم احمد بشیر) استاد امانت علی خان کی جواں مرگ کا ماتم دیکھتے ہوئے یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ قوم ابھی مردہ نہیں ہوئی۔ ان کا فن خاص تھا مگر لگتا ہے

Read more

کلاسیکی گائیک استاد بدر الزماں

پیرس، فرانس میں رہنے والے میرے دوست خاور خان نیازی استاد بدر الزماں صاحب (صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی) کے بہت بڑے مداح ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ان سے بات چیت ہوئی تو موصوف نے استاد صاحب سے ملنے اور انٹرویو کرنے کا کہا۔ میری استاد صاحب سے کبھی ملاقات تو نہیں تھی لیکن میں ان کے نام اور ان کے کام سے بہت حد تک واقف تھا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Read more

شمع ادب

حضرت انسان کی دنیا میں تشریف آوری سے روز حاضر تک انسانی شعور مسلسل ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ خالق کی تخلیقات کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا انداز مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ ہر گھڑی کائنات میں تدبر و تفکر کے نت نئے زاویے متعارف ہو رہے ہیں۔ حسن اور خوبصورتی کے کئی معیار متعین کیے جا چکے ہیں۔ اس سب کی وجہ سوچنے والا دماغ، جذبے سے بھرپور دل، تخلیقی و اخلاقی صلاحیتیں اور جمالیاتی ذوق ہے جو

Read more

ڈھلتی رات کے سناٹے میں

بینکاروں کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بڑے خشک مزاج اور ہندسوں سے کھیلنے والے ہوتے ہیں۔ ان کو شاید پتہ نہیں ہے کہ افسانہ نگاری، ناول نگاری اور شاعری کے علاوہ کالم نگاری میں مشتاق یوسفی اور جمیل الدین عالی جیسی دوسری بہت سی شخصیات کا تعلق بینکنگ کے شعبہ سے تھا۔ اس فہرست میں ایک بڑا نام علی عباس زیدی کا بھی ہے جن کی یاد میں آج کی محفل سجی ہے۔ میرا خیال

Read more

ساقی فاروقی کا جھوٹ پکڑا گیا

ہر نسل کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ اسی سچ سے اس عہد میں بسنے والوں کی قامت متعین ہوتی ہے۔ وقت کی گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی دھول میں چہرے، آوازیں نیز خوب اور ناخوب کی میزان کے پلڑے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔ تاریخ کی چادر پر مرجان ٹانکنے والے چیدہ چیدہ ساونت اپنے بعد بھی کچھ عمر پاتے ہیں مگر آخر فنا، آخر فنا۔ آج کتنوں کو یاد ہے کہ کس قبیلے کا کون

Read more

ایک مزاحمت کار کی زندگی

یہ غالباً 2001 کی بات ہے پرویز مشرف کے اقتدار کے ابتدائی دن تھے الیکٹرانک میڈیا نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ بہت سے ممنوعہ موضوعات پر کھل کر گفتگو کر رہا تھا۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز نئے موضوعات پر ٹاک شوز ریکارڈ اور نشر کر رہے تھے۔ ہمارے دوست عبدالحمید صاحب حال مقیم کینیڈا نے کچھ اہم دانشوروں کے انٹرویو کا ایک منصوبہ بنایا۔ یہ انٹرویوز ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے نشر ہونے تھے۔ ہم نے پہلا انٹرویو آئی

Read more