پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین: صبیحہ خانم

اداکارہ اقبال بیگم المعروف بالو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتی تھیں اور غیر منقسم ہندوستان کی فلم ”سسی پنوں“ اور بہت سی فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق گجرات ( پاکستان ) کے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تھا۔ شومیٔ قسمت کہ ان کی شادی معاشی طور پر ایک کمزور شخص محمد علی ماہیا سے ہو گئی ’بد قسمتی‘ جس کے تعاقب میں تھی۔ یہ اپنی بیگم کے روپے پیسے کے ہوتے ہوئے کام

Read more

یہ جھنڈا کیک نہیں ہے!

یہ جھنڈا کسی طور پر بھی کیک نہیں ہے اس کا کیک بنا کے مت کاٹئے۔ جب جھنڈے والا کیک ہو اور اس پہ پاکستان بھی لکھا ہو تو کیک کو کٹتے دیکھ کے جانے کیوں دل کو کچھ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت جھنڈے والے درجنوں کیک کٹتے دیکھنے کے بعد دل بیچارہ خاموش ہوکے بیٹھ گیا۔ ہمیشہ کی طرح ڈھیروں ڈھیر رنگارنگ تقریبات۔ عشائیے، گانے، ڈانس، سفید ہرے کپڑے، نعرے، پینڈیمیک کے باوجود زندہ دلان پاکستان کے

Read more

ذہنی مریض کی ذہنی مریضوں کے ہاتھوں سنگساری

افغانستان کا کوئی علاقہ ہے اور ایک پتھروں سے بھرا میدان، جس کے درمیان ایک شخص کو گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا ہے، ایک بڑے دائرے کی شکل میں سینکڑوں کا ہجوم ہے اور اس بیٹھے ہوئے شخص پر پتھر پھینکے جا رہے ہیں، بہت سے پتھر لگتے ہوئے وہ شخص اسی طرح بیٹھا رہتا ہے، اور پھر کچھ دیر کے بعد پتھروں کی بارش میں آگے کو گر جاتا ہے، ہجوم بدستور اس پر پتھراؤ کرتا رہتا ہے، اس

Read more

منزلوں کی خبر کیا راستے مبارک

زندگی میں سب سے اہم ہے خوش رہنا۔ ان لوگوں کا ساتھ ہونا جو آپ کی خوشی کا سبب بنیں۔ اور جن کی خوشی آپ سے جڑی ہوئی۔ ایسے لوگ کہیں اچانک مل جاتے ہیں ان کا ساتھ، باتیں، خیال، ہنسی اداسی ہر احساس اور خیال زندگی کے رخ کو بدل دیتا ہے ہر پل میں روح پھونک دیتا یے ہر لمحے کو زندہ کر دیتا ہے۔ زندگی تب ہی اہم اور خوبصورت لگتی ہے جب احساس پیدا ہو جائے

Read more

جدید تہذیب اور 14 اگست

اتحاد، یقین اور تنظیم کے اصولوں پر معرض وجود میں آیا پاکستان آج 73 برس کا ہوچکا ہے۔ کتنی ہی دعاؤں ، آہوں، اور قربانیوں کے ساتھ حاصل کیا ہوا وطن آج جن حالوں میں ہے کیا یہی ہے ان ماؤں کے آنسوؤں کا ثمر جنہوں نے اپنے لختجگروں، اپنی آنکھوں کے تاروں کو کھویا؟ کیا یہی ہے ان لوگوں کی بے لوث جدوجہد کا صلا جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایک آزاد مملکت خداداد حاصل کرنے میں گزاری؟ کیا

Read more

انتقام سے برداشت تک پہنچنے کا راستہ

من پسند، مرغوب، پسندیدہ، قابل قبول، ناقابل قبول، ناپسندیدہ، غیردلچسپ، مکروہ اور قابل نفرین، یہ سارے محض مختلف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کے ساتھ درجہ بدرجہ احساس، رویہ اور رد عمل وابستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شے، ایک شخص یا ایک عمل مکروہ تو لگتا ہو لیکن کسی طرح بھی قابل نفرین محسوس نہ ہوتا ہو۔ اسی طرح کوئی شے، کوئی شخص یا کوئی عمل پسندیدہ تو ہو لیکن مرغوب اور من پسند نہ ہو۔

Read more

سلطان جمیل نسیم۔۔۔ اپنے فن کے آئینے میں

(یہ مضمون CANADA INTERNATIONAL COUNCIL OF ARTS کی AUGUST 16 TH، 2020 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ میزبان تھے شعیب ناصر اور ڈاکٹر بلند اقبال) خواتین و حضرات! آج ہم سب سلطان جمیل نسیم کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ایک منفرد اور ہمہ جہت افسانہ نگار تھے۔ مجھے مئی 2007 کی وہ حسیں اور خنک شام یاد ہے جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون

Read more

پانچویں شریف کا جنم دن

کچھ دن پہلے پانچویں شریف کا دن تھا مارک زرک برگ نے اپنے ماتحتوں کے توسط سے خاص تہنیت کا پیغام بھیجا تو مانو فیس بک نے منادی ہی کر دی۔ بس جی اب تو ہر کوئی مارک زرک برگ پہ سبقت لے جانا چاہتا تھا، جسے دیکھو پانچویں شریف کے در پہ پھول لیے کھڑا تھا۔ ان میں کچھ عقیدت مند بہت احترام کے ساتھ حاضر تھے، کچھ آس کا دامن پکڑے پرجوش تھے، مایوس افراد چپ چاپ ایک

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول: مرگ انبوہ

مرگ انبوہ کیا ہے؟ ’‘ ملک کاغذ پر بنا کمرہ نہیں ہوتا اگر تمہارے گھر ایک کمرے میں آگ لگی ہو تو کیا تم دوسرے کمرے میں سو سکتے ہو؟ اگر تمہارے گھر کے ایک کمرے میں لاشیں سڑ رہی ہوں تو کیا تم دوسرے کمرے میں عبادت کر سکتے ہو؟ ” مرگ انبوہ کا شمار دنیا کے ان چند سیاسی ناولوں میں ہوتا ہے جنہیں پڑھ کر قاری پر ایک خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہاں بلیو وہیلؔ نام

Read more

ہمایوں کبیر امریکہ گئے

جب ہمارے موصوف کو امریکہ نے ’بائی سینٹینئل آف دی بل آف رائٹس‘ (Bicentennial of the Bill of Rights) کے تحت پاکستان سے چنا تو کئی دن تک کلف لگی اکڑی گردن لیے خوش خوش اپنے گمان کے آنگن، خاندان اور کیمپس میں گھومتے رہے۔ ۔ ۔ آنکھوں میں شدید حیرت بھی تھی اور خوشی کے ہلکورے بھی۔ ۔ ۔ جلنے کڑھنے والے اس جلتی، ابلتی روشنی سے نظریں چراتے رہے، مبادا کہیں مبارک باد نہ دینی پڑجائے۔ ۔ ۔

Read more

ذکر میڈیا انڈسٹری کی کچھ شخصیات کا!

کرونا وائرس ہماری زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لانے کا باعث بنا ہے۔ کم و بیش تمام شعبوں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ شعبہ تعلیم کو بھی اس نے متاثر کیا ہے۔ طالب علموں اور اساتذ ہ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ کمرہ جماعت میں پڑھنے اور پڑھانے کے بجائے، آن۔ لائن کلاسیں لینا پڑیں گی۔ گھنٹوں موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ گزارنا پڑیں گے۔ ذاتی طور پر مجھے جدید ٹیکنالوجی اور خاص طور

Read more

مختار مسعود، کمپنی بہادر اور برصغیر کے مسلمانوں کا تعلیمی سفر

نو آبادیاتی دور میں محکوم قوموں کے لوٹے ہوئے مادی و مالی وسائل کا موجودہ عالمی طاقتوں کی بے پناہ ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ ہندوستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حوصلہ شکنی اور یہاں سے منتقل کیا جانے والا خام مال تاج برطانیہ کے صنعتی انقلاب اور کسی حد تک ہماری پستی کی بنیادوں میں شامل ہے۔ ’آواز دوست‘ والے مختار مسعود، تین خصوصیات کی بناء پر برصغیر میں برطانوی سامراج کو تاریخ اقوام عالم کا منفردسیاسی تجربہ قرار دیتے

Read more

گھر تو آخر اپنا ہے

چودہ اگست پاکستان میں ہر سال یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن یقیناً خوشیاں منائی جانا چاہییں، لیکن چند زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر نہیں۔ کشور مصطفیٰ کا بلاگ۔ چرند پرند، نباتات، حیوانات، قدرت کی تمام نشانیوں کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں بہت سی قدریں مشترک نظر آتی ہیں۔ ان میں سے اہم ترین قدر یہ ہے کہ تمام جاندار اپنی اور اپنی آئندہ نسل کی بقا کی جدوجہد میں زندگی

Read more

جنرل ضیا الحق، اختر عبد الرحمن اور خاقان عباسی

1988 کا ذکر ہے۔ قریبی عزیزہ نے پوچھا: تالپور صاحب کی برسی میں چلو گے، جنرل ضیاء الحق بھی آئیں گے؟ چند لمحے سوچا، دونوں شخصیات سے کوئی انسیت اور نسبت تو تھی نہیں، پھر بھی یہ سوچ کر کہ اکیلی کیسے جائیں گی۔ برسی میں جانے کی ہامی بھر لی۔ برسی والے دن بتایا گیا کہ پہلے میر علی احمد تالپور مرحوم کی بیگم کے گھر جائیں گے اور پھر وہاں سے ان کے ساتھ مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں۔ سو برسی والے دن بیگم تالپور کے گھر پہنچے اور تھوڑے انتظار کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔

ہوٹل کے اطراف میں کڑے حفاظتی اقدامات تھے۔ ہم چونکہ بیگم تالپور کی معیت میں پہنچے تھے۔ اس وجہ سے بآسانی ہوٹل کی حدود میں داخل ہو گئے۔ خواتین تو اندر تشریف لے گئیں۔ اور ہم ہوٹل کی لابی اور دکانوں میں گھومتے پھرتے، ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ کراچی کے نو منتخب شدہ میئر کا ان دنوں خوب چرچا تھا۔ چونکہ ایم کیو ایم نے پہلی دفعہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور عظیم الشان کامیابی سے ہم کنار ہوئی تھی۔ ہوٹل کے باہر ہی تھے، کہ میئر فاروق ستار بھی نئی نویلی کالی گاڑی میں سوٹڈ بوٹڈ وارد ہوئے۔ الطاف حسین کے بعد آمنے سامنے کسی بھی ایم کیو ایم رہنما کو دیکھنے کا پہلا اتفاق تھا۔ میئر کو دیکھنے کے بعد متحیر ہی کھڑے تھے، کہ جنرل ضیاء الحق کی آمد ہو گئی۔

Read more

ایمانداری کا عہد

آج 15 اگست ہے۔ آزادی کی تمام رونقیں مانند پڑ چکی ہیں۔ سبز و سفید جھنڈیاں جابجا بکھری ہیں۔ فضا جو کل تک قومی ترانوں سے گونج رہی تھی آج خاموش ہے۔ بیجز اتار کر اگلے سال کے لئے سنبھال کر رکھے جا چکے ہیں۔ زندگی اپنی پرانی ڈگر پر چل پڑی ہے۔ یہی کہانی ہے جو ہر سال ذرا سے ردوبدل کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔ یکم اگست سے 14 اگست تک اہل وطن، وطن سے محبت کے جذبے

Read more

پاکستان فوری طور پر اسرائیل کو تسلیم کرے

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اقدام پر عرب ممالک میں تو کوئی خاص رد عمل نہیں آیا لیکن ترکی نے اسے منافقت اور ایران نے مسلمانوں سے غداری قرار دیا ہے۔ البتہ یہ بیانات اسلام یا مسلمان دوستی اور فلسطینیوں کی محبت سے زیادہ علاقائی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی علامت ہیں۔ بعینہ جیسے متحدہ عرب امارات کا فیصلہ عرب ممالک کی طرف سے فلسطین

Read more

موجودہ میڈیا کی اصل طاقت کس کے پاس ہے؟

سوال یہ ہے کہ جس میڈیا کو قابو میں لانے کے لئے اتنے جتن کئے جا رہے ہیں، اس میڈیا کا بدلتے ہوئے منظر نامے میں خبر اور رائے سازی کے حوالے سے کل کردار اور اثر و رسوخ کتنا باقی ہے؟ میرا استدلال غنودہ تصورات کی بجائے زمینی حقائق اور بدلتے ہوئے ارتقائی عمل سے جڑا تھا اس لئے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہمیشہ سائنسی ترقی کو نہ صرف تیزی کے ساتھ قبول کرتا ہے

Read more

ڈی این اے کے تقاضوں سے آزادی ممکن نہیں

اب سائنس نے یہ جان لیا ہے کہ انسانوں کے لیے شخصی آزادی نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔ انسان کا رویہ ہارمونز اور کیمیکل ری ایکشنز کا نتیجہ ہے۔ یہ اپنی پسند نا پسند اور باقی خصوصیات لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔ اپنی مرضی سے کچھ بن جانا اس کے بس میں ہی نہیں ہے۔ یہ اپنی مرضی نہیں رکھتا، سب کچھ قدرتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کب اور کہاں پیدا ہوا ہے۔ لڑکا،

Read more

دیوار چین اور لوک کہانیاں

چین کا نام آتے ہی دیوار چین کا خیال ضرور آتا ہے۔ بچپن سے سنتے آئے تھے کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک دیوار چین ہے۔ چین جانے کے بعد جب ہمارے چینی دوستوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم سب سے پہلے کیا دیکھنا پسند کریں گے تو ہمارا جواب تھا ”دیوار چین“ ۔ تصورات میں اکثر ہم نے دیوار چین کا نقشہ باندھنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں بنی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ دیوار

Read more

صحافی بمقابلہ صحافی

وفاقی دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ساتھ ہی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہمارے کچھ صحافی بھائیوں کی کشمکش بھی عروج پر ہے۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہمارے مخلص دوست اعجاز عباسی کا ڈی جی عاصم کھچی صاحب سے ہونیوالا معمولی جھگڑا رفتہ رفتہ غیر معمولی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو اس جھگڑے کی اصل وجہ صحافیوں کی معاشی بدحالی ہے، مجھ سمیت کئی سفید پوش لوگ حال

Read more

ہم کب آزاد ہوں گے؟

ہم نے سکول کی کتابوں میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک سوداگر نے طوطا پال رکھا تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ سوداگر تجارت کے لیے چین جانے لگا تو طوطے کے پنجرے کے پاس آکر پیار سے بولا میاں مٹھو! میں تمہارے لیے چین سے کیا لاؤں؟ میاں مٹھو نے جواب دیا آپ میرے لیے وہاں سے کچھ مت لائیں، بس میرا ایک پیغام چین میں میرے طوطے بھائیوں کو دے دیں کہ میں

Read more

خاموش اور دھیمی عورت

ہمارے معاشرے میں ہم کسی کی جنس کے لحاظ سے اس کا خاکہ اپنے دماغ میں بنا لیتے ہیں۔ اگر مرد ہے تو روپ دار ہی ہونا چاہیے اوراگر کبھی کبھی غصہ ہو بھی جاتا ہے تو وہ اس کا حق ہے کیونکہ وہ کمانے والا ہے۔ اور اگر عورت ہے تو وہ سلیقے والی، دھیمی اورسمجھوتہ کرنے والی ہونی چاہیے تاکہ وہ نئے گھر گزارا کر سکے۔ کوئی بھی دو انسان جب ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں تو

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور نعیم اشرف کا ادبی مکالمہ

نعیم اشرف کا خالد سہیل کے نام دوسرا خط محترم خالد سہیل صاحب! آپ سے فون پر بات کر کے ہمیشہ کی طرح اچھا لگا۔ میری حقیر رائے ہے کہ انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے شاہکار ناول اگر ہمارے خطوط میں شامل ہوں تو ہمارے پڑھنے والوں کو نہ صرف ہمارا مکالمہ ہمہ جہت لگے گا بلکہ ان کو ایک ادبی تنوع بھی محسوس ہوگا۔ اس سلسلے میں، میں نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ آج میں

Read more

ہم اور سمندر

ہاتھوں میں پھول پکڑے سگنل پہ کھڑا ہوں مہنگی گاڑیوں میں دہلے اور صاف صاف لوگ۔ رات اتنی دیر سے بھی ہشاش بشاش ہنسی خوشی بے پرواہ سیدھے ہاتھ پر مڑ جاتے ہیں۔ اور پل سے آگے ”ہم“ آجاتے۔ ہم کون؟ پتہ نہیں! جب بھی میں پوچھتا ہوں کہ رحیم گدھا گاڑی والا کہاں سے آیا تھا؟ تو وہ منحوس شکل والا شخص گالیاں دینا شروع کرتا ہے۔ ’ابے چل نکل حرام خور لعنت ہے تیری شکل پر‘ اس کے

Read more

تہتر سال بعد

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: آپ دیکھیں گے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں وہ ایک ہی ریاست کے برابر کے شہری ہوں گے۔ آپ سب آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں میں جانے کے

Read more

حیوان ناطق یا حیوان اصلی

پاکستان ایک نظریاتی مملکت جو نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ ہندوستان کی تقسیم اس وجہ سے ہوئی کہ اس میں بسنے والے مسلمان اپنی زندگی اپنی مرضی اور آزادی سے نہیں گزار سکتے تھے۔ تاریخ اور تحریک پاکستان میں ہمیں اس سلسلہ میں بہت کچھ مل جاتا ہے کہ مسلمان نے اپنی ایک ہزار سالہ حکمرانی کو خیر باد کیوں کہہ دیا اور ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہو گئے۔ وہ تو جو ہوا سو ہوا مگر

Read more

شہرِ پُرکمال کی باکمال شخصیات: کرشن چندر، بیدی اور کنھیا لال کپور

 عموما لوگ شہروں میں بستے ہیں لیکن بعض شہر لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے۔ لاہور آنے سے پہلے ہم لاہور کو تین حوالوں سے جانتے تھے:۔ 1.وہ پیدا ہی نہیں ہوا جس نے لاہور نہیں دیکھا۔ 2.غلام عباس کے افسانے اوور کوٹ کے حوالے سے. 3.گاؤں کے ایک بزرگ کے جملے سے "بالاں کوں لہور پڑھائی کنڑ بھیج کے ولاونڑ ایویں اوکھے جیویں سور کماند اچوں کڈھنڑاں

Read more

شام میں رات: جنرل، باپ اور بیٹی

’میں تمہیں کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں۔ تم تہہ خانے میں رات گئے اندھیرے میں گڑگڑا کر کیا دعا مانگ رہے ہو؟ تم تو نماز ہی شاذ و نادر پڑھتے ہو۔‘ خالدہ سے رہا نہ گیا۔ مبارک نے اپنی بھیگی آنکھیں اٹھائیں اور خالدہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔ ’مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ تم مجھے ڈھونڈتی ہوئی نیچے آ گئی ہو۔‘ ’بتاؤ مجھے کہ خدا کے حضور کیا مانگ رہے تھے۔‘ اب خالدہ کی آواز میں زور

Read more

ریڈیو پاکستان کا اعلان آزادی … اصل حقائق کیا ہیں؟

چند روز سے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو وجود میں آیا تھا۔ اس ویڈیو میں ریڈیو پاکستان کے نامور انائونسر مصطفی علی ہمدانی کی ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی

Read more

دوسالہ بندش کے بعد ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کی بحالی

ہیڈ پنجند کے تاریخی پل کو دو سالہ بندش کے بعد یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر ہمہ قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔ پاکستان کے تین صوبوں کو ملانے والی قومی شاہراہ پر واقع اس اہم پل کی بندش و بحالی کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ پل گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی کا شکار تھا اور غالباً اپنی طبی عمر ہی پوری کر چکا تھا، مذکورہ پل کو کئی بار مرمت کے لئے

Read more

صاحب جی

”او۔۔۔ دوپٹہ سر پہ رکھ۔۔۔ کتے کی نسل۔۔۔“ اماں نے پیچھے سے زور کی آواز لگائی۔ ”دوپٹہ۔۔۔ دوپٹہ۔۔۔ مصیبت ہو گئی ہے۔۔۔“ اس نے دوپٹے کی بکل مارتے ہوئے مڑ کر اماں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا۔۔۔ ”یہ آنکھیں کس کو دکھاتی ہے مردار۔۔۔ منحوس۔۔۔“ اماں آگ بگولہ ہو رہی تھی۔ وہ چپ چاپ آگے چلتی رہی۔ اماں بکتے جھکتے پیچھے آ رہی تھی۔۔۔ ”کبھی سکھ سے کوئی گھڑی نہیں گزری۔ ماں باپ کے گھر تھی دو وقت کی روٹی

Read more

ہیموں کالانی: ’سندھ کا بھگت سنگھ‘ جسے انڈیا میں عزت ملی لیکن اپنی ہی دھرتی نے بھلا دیا

جب ہیموں کالانی کو پھانسی ہوئی تو انھوں نے محض میٹرک کا امتحان دے رکھا تھا۔ ان کا شمار تحریکِ آزادی کے سب سے کم عمر کارکنوں میں ہوتا ہے اور آج بھی انڈیا میں انھیں ’شہید‘ کا درجہ حاص ہے۔ لیکن سندھ کا یہ سپوت کون تھا اور آج اپنی ہی دھرتی میں ان کا کوئی ذکر کیوں نہیں ملتا؟

Read more

میاں بیوی اور دوست ہونے میں کیا فرق ہے؟

موجودہ زمانے میں جہاں اب نکاح کے کانٹریکٹ پر جن دلہا، دلہن کے دستخط ہوتے ہیں وہ محض ایک دوسرے کے بستر کے ساتھی نہیں ہوتے، وہ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، پارٹنر ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ عمر بھر دکھ سکھ نبھانے کا معاہدہ کرتے ہیں۔ اس معاہدے میں کہیں کسی ایک کی موجودگی میں کسی دوسرے کے ساتھ بستر شیئر کرنے کی شق نہیں ہوتی۔ روایتی میاں بیوی کے ہاں دوسری شادی کی ضرورت یا اجازت

Read more

جوزف سٹالن کی بیٹی اور بھارتی راجکمار کا رومان

ایک ڈھلتی عمر کے چھوٹے قد والے اور صحت کے مسائل سے دوچار بھارتی راجکمارسے سوویت روس کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ یہ خیال تھا ولادیمیر سیمی شاستنی کا جو 60 کی دہائی میں کے جی بی کے سربراہ تھے۔ اگر انھیں رتی بھر بھی اندازہ ہوتا کہ اس بھارتی رئیس اور جوزف سٹالن کی بیٹی سویتلانا آلیلویوا کی وجہ سے ان کا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا تو شاید ان کی سوچ مختلف ہوتی۔ کریملن کی

Read more

کرنال اور ملتان ایک گھر میں رہتے ہیں!

"میں لمحہ موجود میں سانس لیتا ہوں لیکن زندہ میں اس لمحے میں ہوں جب میں نے اپنی دھرتی، اپنے شہر کی مٹی کو آخری دفعہ دیکھا۔ میں اس وقت میں جیتا ہوں جب مجھ سے میرا گھر چھوٹا اور میں اپنے محلے، اپنے شہر، اپنی سرزمین سے جدا ہوا۔ مجھے آج بھی وہ گلیاں بلاتی ہیں جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈھلتی شام میں کھیلا کرتا جب تک سورج کی سنہری لو ملجگے اندھیرے میں نہ بدل جاتی۔

Read more

ثمی نہیں اسمی اچھا لگے گا

فرق کیا پڑتا ہے، جو بھی نام ہو، نام کا کیا ہے، شناخت ہی ہے ناں۔ تو عزیز لڑکی بیدار ہوتے ہی دل کیا تجھے ایک خط لکھوں اور پوچھوں کہ ایک شخص جس کی شاید ہی کوئی بیوی اس سے راضی رہی ہو، مگر پیار سب کرتی ہیں، نے تجھے سب کچھ بتا بھی دیا پھر بھی تم اسے کہہ چکی ہو، ”آئی لو یو ٹو“ ۔ ۔ ۔ ارے ہاں تم نے پہل تھوڑا نہ کی، یہ ”بھی“ کی پخ ساتھ لگائی ہے۔

Read more

وجاہت مسعود: صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے تمغہ انسانیت تک

جن آزمائشوں اور مصیبتوں کا آج ہمیں سامنا ہے، ان میں سے ایک آزمائش اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے عاری ہونے کی آزمائش ہے، اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف، ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم، ایک عظیم اصول، جو اپنے اندر بہت سے اخلاق جمع کر لیتا ہے، انسانیت کا شرف بھلائیوں کا سرچشمہ، ادب کا جامع اور آزاد اور باوقار زندگی کا ضامن ہے، یہ تمام بھلائیوں اور کمالات کا مجموعہ ہے۔ حسن اخلاق کی بدولت ایک شخص ہزار لوگوں کے برابر ہو جاتا ہے۔

لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کے ذخائر کی طرح ہے، یا پھر باڑے میں موجود ان سو اونٹوں کی مانند ہے کہ جن میں سے بمشکل ہی کوئی سواری کے قابل اونٹ نظر آتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو انسانیت کے کمال سے مزین کر لیتا ہے، وہی کمال انسانیت کہ جسے بڑے لوگ پسند کرتے ہیں، عظیم اور دانشمند لوگ جس کی قدر کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں گھر کر لیتا ہے چاہے، وہ معاشرتی اعتبار سے ان سے کم ہی کیوں نہ ہو۔

Read more

یہ آخری نگاہ

سانولی رنگت والی صوفیہ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے۔ ہاتھ میں موبائل ہے، شاید اپنی دوستوں کو واپسی کے پلان سے آگاہ کر رہی ہو۔ ہانیلورے اور پاول باہر لان میں کھڑے ہیں لیکن میری نظریں افق کے ساتھ گلے ملتے ہوئے برف پوش پہاڑوں پر جمی ہیں۔ یہ صدیوں سے ایسے ہی ایستادہ ہیں، شاید یہ افق سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ کبھی کبھار بادلوں کا ایک ریلا آتا ہے اور چوٹیاں نئی نویلی دلہن کی طرح شرما کر ان کے پیچھے اپنا دودھیا مکھڑا چھپا لیتی ہیں۔

قریب ہی بہتے ہوئے جھرنے کی آواز کانوں میں رس بھر رہی ہے۔ پانی پتھروں سے ایسے پرترنم انداز سے ٹکرا رہا ہے کہ سماعتیں مسکراتی جاتی ہیں۔ سامنے ٹھہری ہوئی نیلگوں جھیل ایسی محسوس ہو رہی ہے، جیسے پہاڑوں کے دامن میں ایک بہت بڑا زمرد جڑ دیا گیا ہو۔ چوٹیوں سے اترتے ہوئے گھوڑوں کی طرح ہوا کے تر و تازہ جھونکے آتے ہیں تو جھیل کی بالائی سطح پر ارتعاش سی پیدا ہو جاتی ہے۔

Read more

پاکستان کا 74 واں یومِ آزادی

بلاشبہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور وہ قومیں جو آزادی کی قدر نہیں کرتیں وہ فتنوں اور فساد میں الجھ جاتی ہیں اور عبرت کا نشان بن جاتی ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کی دو زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہے جو کئی دہائیوں سے اپنی آزادی اور خودمختاری کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی طرح افغانستان، عراق، لیبیا، یمن اور سیریا کی مثالیں بھی سامنے ہیں جہاں دشمنان اسلام نے فتنوں اور فسادات کے ذریعے ان ممالک پر جنگ مسلط کردی اور ان اقوام سے ان کی آزادی چھین لی، آج ان ممالک کی قومیں فتنوں اور فسادات کا شکار ہیں۔

Read more

آزادی مبارک

لاہور کی سڑکوں پر آتش بازی ہو رہی ہے اور چوراہوں میں ملی نغموں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ڈھول اور شہنائیاں بج رہی ہیں اور ہر طرف خوشی کو سماں ہے۔ زندہ دلانِ لاہور آزادی کی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ نوجوان نے بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں اور انہوں نے خوب آتش بازی کی ہے۔

اسی دوران میری نظر ایک بچے پر پڑی ہے جس کے ہاتھ میں جھنڈے ہیں اور اسے آزادی سے کوئی غرض نہیں ہے اسے تو جھنڈے بیچنے کی فکر ہے۔ دوسری طرف نظر ایک خاتون پر پڑی جس کا آزادی سے تعلق نہیں ہے اسے بس اپنے بچوں کے لئے چار نوالے روٹی کے چاہیے۔ نظر ایک بزرگ پر پڑی جو لاٹھی کے سہارے چل رہا ہے۔ ان کو تو بس دو دن کی بھوک مٹانے کے لئے چند روپے چاہیے اور انہوں نے اشارے پر کھڑے ایک جوان سے پیسے مانگے مگر نے منہ پھیر لیا اور اس نوجوان نے اگلے چوک سے 1000 روپے میں آتش بازی کا سامان لیا۔ تو کیا یہ سب لوگ آزاد ہیں؟

Read more

بے جی کا صندوق اور تقسیم کی کہانی

”بے جی آخر آپ کے اس صندوق میں کیا پڑا رہتا ہے جسے آپ ہر ساتویں دن کھول کر کبھی مسکراتی اور کبھی ڈبڈباتی آنکھوں سے دیکھتی چلی جاتی ہیں؟“ وہ اکثر بے جی سے پوچھا کرتی وہ کہتیں : ”یادوں کی اوڑھنی اوڑھ لینے سے میں بچپن کی گلیوں میں پہنچ جاتی ہوں۔ یادیں ایک ایسا اندھا آئینہ ہے جس میں اپنا آپ تو نظر آتا ہے لیکن آر پار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ پرانے عکس، وہ پرانے رشتے،

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی: محرکات اور تدارک

دنیا کی شاید ہی کوئی قوم ہوگی جس نے اپنی عزیز ترین متاع کو یوں بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہوجیسے ہم نے۔ وجہ کیا ہے؟ اکثر و بیشتر دولت کی ہوس اورسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی دوڑ۔ اور یہ بھیڑئے ہیں کون؟ خود اسی قوم کے افراد۔ یعنی اپنے ہی بچوں کو بھنبھوڑنے والے ہم خود ہیں۔ خاکسار کی مراد پاکستان کے طول و عرض میں پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ کوئی اخبار لیجیے، روزانہ اس

Read more

عورت کا بیوپار اور معاشی خود انحصاری

اگر پیدائش سے موت تک کسی ذی روح کا وجود بوجھ سمجھا جاتا ہے تو وہ عورت ہے۔ رشتوں کے نام نہاد سنہرے لفافوں میں لپیٹ کر کتنا ہی اس حقیقت کو جھٹلایا جائے اس سے معاشرے میں عورت کے کم حیثیت وجود پر کوئی فرق بہرحال نہیں پڑتا۔ کتنا ہی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کا دھوکا دے عورت کے ہاتھ پاؤں باندھے جائیں اس کی حیثیت گھر میں بندھے جانور سے کچھ زیادہ نہیں ہوتی جو نہ

Read more

میری بونا پارٹ جو 20ویں صدی میں جنسی لذت کے موضوع پر تحقیق کی سرخیل تھیں

میری بوناپارٹ اپنے جسم سے ناخوش اور سیکس سے مطمئن نہیں تھیں اور اسی وجہ سے انھوں نے اس پر تحقیق شروع کی۔ وہ 20ویں صدی کی ایک ایسی شخصیت بن گئیں جنھیں تاریخ نظر انداز نہیں کر سکتی۔

Read more

چاند کی بھول

دن بھر کا تھکا ہارا اپنی آستین سے چہرہ صاف کرتے گھر کے پورچ میں گاڑی سے نکلا تو پہلا جھونکا ٹھنڈی ہوا کا لگا جو اپریل کے اوائل کی خوبصورت بہار بھری خوشبو دار رات کے نغمے گنگناتا مجھے چھوتا ہوا گزر گیا۔ اور دوسرا جلوہ مشرق سے ابھرتے ہوئے اس پورے چاند کا تھا جس کی چاندی جیسی چمکتی چاندنی ٹارچ کی لہروں کی طرح زمین کی ہر سمت میں رواں دواں تھیں اور وہ پورا چاند۔ ۔

Read more

بچوں میں کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کمی

کرونا وائرس کی وجہ سے ہر چیز ڈیجیٹلائیز ہو گئی ہے حتٰی کہ اسکول کی پڑھائی بھی آن لائن ہونے لگی ہے۔ آن لائن تعلیم کے جہاں مثبت پہلو ہیں وہاں منفی پہلو بھی ہیں۔ سب سے بڑا نقصان جو اس وقت زیر بحث ہے وہ نوجوان نسل کی کتابوں سے دوری ہے۔ بچوں میں جو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا وہ ختم ہوتا جا رہا ہے اس کے کئی محرکات ہیں سب سے اہم یہ کہ اب آن لائن

Read more

صادقین کی نرالی دنیا

کیسے کیسے لوگ ہمارے درمیاں تھے۔ ایم ایف حسین کو ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا تھا۔ انتہا پسند گروپ نے انھیں مارنے کی دھمکی دی۔ قطر میں جلا وطنی کی زندگی گزار کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ پکاسو کے تعلق سے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ پکاسو ان دنوں پریشان اور خالی ہاتھ تھے۔ ایک عورت ان کے پاس پہنچی اور کچھ بھی بنا دینے کی ضد کرنے لگی۔ پکاسو نے کچھ لکیریں کھینچ کر عورت کی طرف بڑھایا اور بولے، یہ لو۔ کروڑوں کی پینٹنگ۔

عورت کو تعجب ہوا۔ وہ اسی وقت بازار گئی۔ پینٹنگ کی قیمت دریافت کی تو معلوم ہوا، دس سیکنڈ میں بنائی گئی یہ پینٹنگ حقیقت میں کروڑوں روپے کی ہے۔ اس نے پکاسو سے پوچھا، محض دس سیکنڈ۔ پکاسو کا جواب تھا، اس کے تجربے میں صدیاں لگی ہیں۔ مونا لزا، یہ ایک ایسی عورت کی تصویر ہے جس پر ہر کوئی فدا ہے۔ اس پرفتن لڑکی کی خفیہ مسکراہٹ کی قیمت 850 ملین امریکی ڈالر ہے۔ لوگ مونا لیزا کی اس پینٹنگ کو دیکھنے کے لئے ساری دنیا سے آتے ہیں۔

Read more

اور میری آنکھ کھل گئی

یہ میرا خواب تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اتنا مطمئن اور پرسکون خواب میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

میرے خواب بھی نا ہمیشہ سے ہی کچھ اول جلول سے ہوتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے کچھ خواب ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں بار بار وہی۔ یعنی کہ حد ہی ہو گئی۔ کبھی پہاڑ سے گر رہی ہوں تو کبھی کھنڈرات میں بھٹک رہی ہوں نہ جانے کس کی تلاش میں، تو کبھی ندی میں بہی جا رہی ہوں، اور کچھ نہیں تو پنکھا گر جاتا ہے مجھ پہ۔ ۔ ۔ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھ کر کروٹ بدلی اور بس یونہی پوری رات کروٹیں بدلتے گزر جاتی ہے۔ چند راتیں سکون کی پھر وہی خواب۔ بندے نے خواب دیکھنا ہے تو کچھ اچھا دیکھے، مزے مزے کا چٹخارے دار دیکھے۔

Read more

فارس مغل کے افسانوی مجموعے ’آخری لفظ‘ کی یاترا

شال (کوئٹہ) کے قدیم محلے کی کنج گلی میں روایتی مکان کے روشن کمرے میں اجلی آنکھوں اور کشادہ پیشانی والے ’نکے ویر‘ فارس مغل نے مجھے اپنائیت کے ساتھ، خلوص میں ڈوبے لفظوں سے آراستہ ”آخری لفظ“ ہاتھوں میں تھامنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے لیے ’شکریہ‘ لفظ بہت معمولی ہے۔

” آخری لفظ“ فارس مغل کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ جس میں بیس افسانے اور پانچ افسانچے شامل ہیں۔ اسے صریر پبلیکیشنز لاہور نے کتابی شکل میں دلکش اور بامعانی سر ورق کے ساتھ جولائی 0202 شائع کیا۔ اس سے قبل فارس کے دو ناول بعنوان ’سو سال وفا‘ اور ’ہمجان‘ اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان ناولوں کونہ صرف وطن عزیز بلکہ ہندوستان کے علاوہ جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں، بے حد پسند کیا گیا۔ فارس نظم کا شاعر بھی ہے، ذرا ایک بار اس کا شعری مجموعہ ’سرخ ہونٹوں کی کنج گلی میں‘ پڑھ کر دیکھ لیں۔

Read more

یوم آزادی پاکستان اور مستقبل کے تقاضے۔ ۔ ۔

قوم ایک دن کے بعد یعنی جمعۃ المبارک 14 اگست کو 73 واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منانے جا رہی ہے۔ زندہ قومیں اپنے ملک کی آزادی کا جشن تجدید عہد کے ساتھ سجدہ شکر ادا کر کے منایا کرتی ہیں۔ قوم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں آزادی پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی۔ اس آزادی کی راہ میں ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی تھیں۔ لاکھوں مردوزن کو آزادی

Read more

اماں کا سفر پرتاپ گڑھ اور غلاف کعبہ کا تحفہ

شاید سنہ نوے کی بات ہے. میرے بڑے ماموں مرحوم نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادے عدنان کے ہمراہ اپنے ابائی وطن پرتاپ گڑھ کے سفر کا ارادہ کیا اس بات کا علم جب اماں کو ہوا تو انہوں نے بھی ساتھ جانے کی خواہش کی۔ وہ ہجرت کے بعد کبھی ہندوستان نہیں گئی تھیں اور ان کی شدید خواہش تھی کہ ایک بار اپنی جنم بھومی پرتاپ گڑھ دیکھ لیں اور اب جبکہ ان کے چہیتے بھیا بھی ساتھ ہوں تو

Read more

سجناں نوں کنڈ کرئیے، اللہ پاک نراض ہوندا

مجھے آپ کو ایک قصہ سنانا ہے، سو آج شاید بات کچھ لمبی ہو جائے گی۔ یہ ایک تکون کی کہانی ہے، انسانی تکون جس کے تینوں اضلاع اب بکھر چکے۔ تاہم چوں کہ وہ سب حیات ہیں اور اپنے جوان بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زندگی میں مصروف، سو میں کوئی نام نہ لکھوں گا اور مقامات کے نام بھی سب فرضی ہوں گے۔ ان کے نام ہم الف، بے اور جیم فرض کر لیتے ہیں۔ جیم چونکہ مؤنث

Read more

ہم خواجہ سرا اور آپ کے دلوں کے سوالات

خواجہ سرا، مرد و عورت کی سیاہ و سفید دنیا کے باسیوں کے لیے پراسرار رنگ ہیں۔ جنہیں وہ کھوجنا بھی چاہتے ہیں لیکن دور دور سے۔ ہم سے کچھ سوال بہت زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ کے جواب میری آج کی تحریر میں شامل ہیں۔ خواجہ سراوں میں گرو بننے کے کیا مراحل ہیں؟ گرو بننے کے مختلف طریقے ہیں، سب سے پہلے میں آپ کو بتاتی ہوں کہ دراصل ایک خواجہ سرا کا حقیقی گرو

Read more

محبت ایسے ہوتی ہے!

”تمہاری ماں کو مجھ سے محبت نہیں تھی“ انہوں نے میرے ہاتھ تھامے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔ ان کی آنکھوں کے دونوں کونے بھیگے ہوئے تھے، ان کے چہرے پر جو درد تھا وہ کوئی بیٹی ہی محسوس کر سکتی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آنسوؤں کو اپنے آنکھوں میں روکنے کی کوشش کی تھی مگر آنسو تو چھلک ہی جاتے ہیں، وہ تو بے درد ہوتے ہیں اور بے رحم بھی۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔

Read more

ملکہ نورجہاں کا مزار: اردو کی ایک دل گداز نظم

ملکہ نور جہاں کی شخصیت میں تاریخ اور رومان اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں بھی وہ ایک اہم موضوع سخن کے طور پر زندہ ہے۔ وہ خود بھی سخن فہم، معاملہ فہم، امور مملکت سے با خبر اور شاعرہ تھی۔ وہ مرزا غیاث الدین بیگ کی بیٹی تھی جو صفوی عہد میں اپنے والد کے ایر ا ن سے ہندوستان تک کے سفر کے دوران میں قندھار کے مقام پر

Read more

جنریشن گیپ اور چین کے نوجوان

جنریشن گیپ ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہا ہے۔ بزرگ نوجوانو ں سے شاکی رہتے ہیں اور نوجوان بغاوت پر آمادہ رہتے ہیں۔ اب ہر کوئی سارتر تو نہیں ہوتا جو بڑھاپے میں بھی فرانس کے نوجوانوں میں مقبول تھا۔ ذرا علی گڑھ کے نوجوانوں بلکہ جون ایلیا کے بقول ”علی گڑھ کے لونڈوں“ کے بارے میں سوچئے جو ہاسٹلوں میں رہتے تھے اور والدین سے ”بلاٹنگ پیپر“ خریدنے کے بہانے پیسے منگواتے رہتے تھے۔ اب موجودہ اور

Read more

ظالم سماج مر گیا

ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست فلمی معلومات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ بات ایک فلمی گانے پر جا کر اٹکی۔ میں نے پوچھا کہ یہ گانا کس فلم کا ہے؟ لے جائیں گے لے جائیں گے دل والے دلہنیا لے جائیں گے رہ جائیں گے رہ جائیں گے پیسے والے دیکھتے رہ جائیں گے دوست نے تھوڑا سوچ کر کہا کہ ”یہ گانا یقیناً ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کا تو نہیں ہو سکتا ، اس لیے

Read more

اٹھو مریم نواز ! ہم تمہارے ساتھ ہیں

5 جولائی 1977 کی صبح 1 بج کر 45 منٹ کی روداد بینظیر بھٹو بتاتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں ممی میرے کمرے سے صنم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں ” اٹھو، جاگو، کپڑے بدلو. فوج نے قبضہ کر لیا ہے”۔ اور جب حفیظ پیرزادہ کی بیٹی نے فون پر روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے والد کو مارا پیٹا اور ساتھ لے کر چلے گئے تو پنکی کے پاپا نے کہا کہ پُرسکون رہو

Read more

میجر عامر: فوج، سیاستدان اور افغان جہاد

عید کا دوسرا دن تھا اور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں نشست اور گپ شپ جاری تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میجر ریٹائرڈ عامر لائن پر تھے۔ ”آپ کل ساتھیوں سمیت گیارہ بجے پنج پیر صوابی آجائیے۔ دوسرے مہمان بھی ہوں گے۔ بات چیت بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی“ ۔ انکار کی مجال کہاں۔ افغان جہاد کے دوران تاریخی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے عظیم اہلکار، جن کی ان گنت کہانیاں پڑھ سن

Read more

پاک سعودی تعلقات اور OIC

دنیا کے کل قابل رہائش حصے میں سے اکیس فیصد حصے پر اور دنیا کے کل رقبہ کے 31.46 کلو میٹر رقبے پر 1.86 بلین یا 24.1 فیصد آبادی کے ساتھ 57 اسلامی ریاستیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ ان مسلم ممالک میں انڈونیشیا کی 270 بلین آبادی کے بعد پاکستان 216.57 ملین آبادی کے ساتھ دوسرا بڑا اور واحد اسلامی ایٹمی ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مخالفین کے لئے باعث تشویش جبکہ مسلم امہ کے لیے باعث فخر

Read more

شہر خواب: موسیٰ کلیم دوتانی

چند دن پہلے گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسم گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ اس وحشت خیز گرمی میں جہاں

Read more

ذرائع کی تزئین: اصل سے گریز

نہ جانے کیوں خوب صورت تحریریں مجھے منھ چڑاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ سجے سجائے الفاظ آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل تک نہیں پہنچ پاتے۔ بہت کم ہی لوگوں کی تحریریں متاثر کر پاتی ہیں۔ ادبی تحریریں تو جزوقتی سہی، تسکین ذوق کا سامان فراہم کر دیتی ہیں لیکن مذہبی تحریریں، ناصحانہ فیس بک پوسٹ اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھنے کے بعد کئی دفعہ میرے اندر کا کمزور سا فرشتہ بغاوت پر آمادہ ہونے لگتا ہے۔ بات دراصل اتنی ہے

Read more

مسجد وزیر خان میں گانے کی شوٹنگ

پاکستانی اداکار اور اداکارائیں کسی نہ کسی بہانے سے اکثر اوقات خبروں میں رہتے ہیں۔ چاہے اس کے لیے انہیں اپنی عزت کا جنازہ کیوں نہ نکالنا پڑ جائے۔ ان کے نزدیک شہرت سے زیادہ کوئی بھی چیز اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بعض اداکار اور اداکارائیں دینی شعائر کا مذاق تک اڑانے کے لیے یا مذہبی شخصیات کی توہین تک کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ بہرحال پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران نکاح

Read more

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

جنازے پر میرے لکھ دینا یارو محبت کرنے والا جا رہا ہے دنیا میں ہر دور میں ایسے شاعر پیدا ہوئے ہیں جو اپنی ایک مخصوص چھاپ ادب اور سماج پر چھوڑ گئے۔ یہ سلسلہ میرؔ و غالبؔ سے لے کے جگر ؔ تک اور جگرؔ سے لے کے راحت اندوری تک سب پر صادق آتا ہے۔ راحت اندوری جیسا زندہ دل اور بے باک شاعر کورونا جیسی مہلک بیماری کی لپیٹ میں آکر آج 11، اگست، 0202 ء کو

Read more

اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج سے تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے، یہاں لکھنؤ کے گنگا پرساد میموریل ہال میں آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد تھا، یہ شاید میری زندگی پہلا آل انڈیا مشاعرہ تھا، ان کم عمری والے دنوں میں مجھے بس تھوڑی بہت اردو پڑھنی آتی تھی، مگر شعر فہمی کا خیال تو بعید از قیاس تھا، پھر بھی میں اپنے کچھ خاص عزیزوں کی

Read more

کمرہ نمبر 101 میں کیا ہوا؟

آج میں ایک صاحب کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہو گی۔ لیکن ان کاکہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر

Read more

کمرہ نمبر ایک سو ایک میں کیا ہوا؟

آج میں ایک شخص کی زندگی کی کتاب کا ایک اہم باب دہرا رہی ہوں۔ ان کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر رہے ہیں جس طرح بیالیس قبل وہ کراچی کی بستی شاہ فیصل کالونی میں واقع بارہ دری، مردانہ ہوسٹل کے کمرہ نمبر ایک سو ایک میں گزرے تھے۔ باوجود اس کے کہ وہ اس کو بیان کرتے ہوئے شدید ذہنی کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اوپر بیتے اس ٹراما کو بیان کریں تاکہ اور بہت سے لوگوں کی مدد ہو سکے۔

Read more

راحت اندوری : ایک بلند آواز جس کی ضرورت تھی

وہ مشاعروں میں قہقہہ لگاتے ہوئے حکومت کو چیلنج کرتا تھا۔ اس کا قہقہہ مشہور تھا۔ سیاہ چہرے پر طنز کی بجلیاں کوندتیں اور اس کی اس کی مسکراہٹ سے ہزاروں تیر برستے اور کروڑوں لہو لہان ہو جاتے۔ میں کیوں لکھتا اس پر؟ لکھتا تو سنجیدہ مہذب دانشوروں کے درمیان نشانہ بن جاتا۔ بازارو اور مشاعرہ باز۔ یہ کوئی شاعری ہے؟ مگر ایوان سیاست میں اسی کے نام سے زلزلہ آ جاتا تھا۔ جب وہ کہتا تھا،

تمہارے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔
اور اتنا کہہ کر وہ تیز قہقہہ لگاتا جیسے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہا ہو کہ سنبھل جاؤ۔ ہم بھی کسی آندھی، کسی طوفان سے کم نہیں۔ ہم سے مت ٹکراؤ۔

Read more

صبا قمر کی مسجد میں شوٹنگ اور ہیر کے مزار پہ قوالی سننے کا قصہ

عید کے بعد والا ہفتہ اتنا مصروف گزرا کہ سوشل میڈیا پہ چلنے والے بہت سے قصے نظروں سے تو گزرتے رہے۔ لیکن ان پہ کوئی بھی رائے دینا ممکن نہ تھا۔ اب جبکہ فراغت کا دن نصیب ہوا تو سوچا اپنی رائے دے دی جائے۔ سوشل میڈیا پر یہ سننے میں آیا کہ صبا قمر و بلال سعید نے مسجد وزیر خان میں ایک گانے کی شوٹنگ کے لیے کچھ کلپ فلمائے۔ اب مسجد میں نکاح کے سین فلمانے پہ ان پہ سخت تنقید کی گئی۔ پکے سچے مسلمانوں کا موقف یہ تھا کہ مسجد کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اور مسجد کے تقدس کو نقصان پہنچا۔ اور حسب معمول اسلام کو لاحق خطرات گنوائے گئے۔

Read more

مرد کی آنر کلنگ آخر کیوں نہیں؟

رب کائنات! کیا مجھے دیکھ رہا ہے تو؟ کیا میری اذیت بھری سسکیاں پہنچ رہی ہیں تم تک؟ ماں تو ہے نہیں جسے میں اپنا ریزہ ریزہ جسم دکھاؤں۔ باپ بھی کچھ برس پہلے داغ مفارقت دے چکا کہ جس سے لپٹ کے میں اپنے دل کا حال کہوں۔ تین معصوم بھائی جو زمانے کی کھٹنائیوں سے انجان اپنی آپا کو ہر دکھ کی دوا سمجھتے ہیں، کیا سمجھیں گے بھلا؟ سنا ہے کہ تو شہ رگ سے بھی قریب

Read more

مسلم لیگ ن میں بڑھتا ہوا انتشار

سیاسی جماعتوں میں داخلی سیاسی بحران کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ لیکن اہم بات یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں میں داخلی بحران کیونکر ہے بلکہ اس سے بڑی بات اس بحران سے سیاسی، انتظامی طور پر نمٹنے سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سیاسی جماعتوں کی قیادت اول تو اپنے داخلی سطح کے بحران کو قبول ہی نہیں کرتی۔ ان کے بقول پارٹی میں کوئی بحران نہیں اور جو بحران دکھایا جا رہا ہے وہ مخالفین کی

Read more

اکسٹھ سال لمبی رات: اجمل اجملی کی زندگی

ہر بستی، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی ایک الگ پہچان، الگ مہک، بلکہ الگ موسم ہوتا ہے۔ الٰہ آباد میں زندگی کے دس برس گزارے۔ اب خواہ مخواہ وہاں کی ہر بات یاد آتی ہے اور بہت سے لوگ، ایسے لوگ جن سے بے تحاشا محبت کی اور ایسے بھی جن سے روز کا ملنا جلنا رہا، مگر وہ ہماری زندگی اور ہمارے زمانے کا حصہ نہ بن سکے۔ اجمل اجملی، ہماری یادوں میں ایک مستقل جگہ رکھتے

Read more

ضیا الرحمن اعظمی : جنت البقیع کا نیا مہمان عزیز

1943 میں اعظم گڑھ کے ہندو گھرانے میں جنم لینے والا بانکے رام میرے رب کی رحمت اور احسان کے باعث حج کے مبارک دن مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں واقع قبرستان جنت البقیع میں آسو دہ خاک ہو گیا۔ اللہ پاک پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔ نہایت خوش بخت آدمی تھے۔ ہندوستان کے ایک متمول ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر والوں سے چھپ کر اسلام قبول کیا۔ عیش

Read more

لاہور میں نیا لاہور

دل بیروت کے بارے میں لکھنے کو بے قرار تھا۔2005 میں اس شہر میں ایک ماہ گزارا تھا۔حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑائی ہورہی تھی۔اپنے قیام کے دوران لبنان کے دیگر علاقوں میں جانے کا موقعہ بھی ملا۔ایک ہی ملک میں ریاست کے اندر موجود کئی ریاستوں کا بغور مشاہدہ کیا۔جو دیکھا تھا اسے بیان کرنے کا موقعہ مگر نصیب نہ ہوا۔ اخبار نویس کی مجبوری جو Here and Now پر مبنی خبروں کو بیان کرنے کے بعد نئی خبروں

Read more

میری آ نکھوں کا خیال رکھنا

ماریہ ایک نابینا لڑکی تھی۔ وہ خود سے نابینا ہونے کی وجہ سے نفرت کرتی تھی۔ اسے دنیا کی ہر چیز اور ہر شخص سوائے اپنے منگیتر کے بہت برا لگتا تھا۔ ایک دن اس نابینہ لڑکی نے اپنے منگیتر سے کہا میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن ایک شرط پر۔ منگیتر بولا شرط ٹھی ہے کہو کیا شرط ہے کہ معلوم ہو سکے آپ کی شرط قابل قبول اور میرے بس کی بات بھی ہے یا نہیں۔

Read more

اردو کی درمیانی کتاب

پہلی جماعت میں ہمیں ”اردو کی پہلی کتاب“ پڑھائی جاتی تھی اور دسویں جماعت میں اس کا سلسلہ ”اردو کی آخری کتاب“ پر ختم ہو جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے اور نظام تعلیم نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے جس میں سب سے اہم سبق سچائی کے مقابلے میں مصلحت کا دامن تھامے رکھنے کا ہے۔ بقول شاعر یہ شیوہ ہمارے معاشرے میں دانائی کا مظہر بھی ہے ”مصلحت سب کا تھا ایمان بھری بستی میں / سارے دانا تھے کوئی

Read more

درخت لگائیں، بخت جگائیں

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے پروین شاکر نے کس دلکش انداز میں درخت کے کٹنے کے کرب کی کمال خوبصورتی سے منظر کشی کی ہے۔ اگر آپ کو پرندوں کی چہچہاہٹ سننے اور پرندوں کو اپنے آس پاس دیکھنے کا شوق ہے تو پنجرے نہ خریدیں بلکہ اپنے آنگن میں درخت لگائیں۔ پرندے ان درخت نما پنجروں پہ فریفتہ ہیں اور کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایک

Read more

ذوقی : دوستوئیفسکی کا احمق، جسے میں نہیں جانتا

’being‘ in ’nothingness‘ ہاں اور نہیں کے درمیان ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ میرا راستہ ہے۔ دوستوئیفسکی کا احمق اپنے مزاحیہ ماڈل، ڈان کیخوٹے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیخوٹے کے کردار میں رومان اور مذہب کی پرانی شکلوں کا عکس ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ دو ستوفسکی کا احمق میشکن ایک اچھا آدمی ہے۔ مگر وہ مسکین اور بیوقوف ہے۔ رومی کے مطابق، انسانی نجات کے لئے، خدا اور اس کی مخلوق سے محبت لازمی ہے۔ میں محبت کرنے چلا،

Read more

روس میں گھریلو تشدد: پیار کرتا ہے تو پیٹتا ہے نا

یہ وہ ملک ہے جہاں عورت کو طلاق کا حق، دنیا میں سب سے پہلے تفویض کیا گیا تھا، جہاں 8 مارچ کو یوم خواتین کے طور پر بہت پہلے منایا جانا شروع کیا گیا تھا، عورتوں کو حق رائے دہی دینے والے اولیں ملکوں میں سے ایک ہے، جہاں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن میں ڈاکٹر، اساتذہ، سائنسدان، مزدور، صناع سبھی پیشوں سے وابستہ خواتین شامل ہیں مگر یہاں سولھویں صدی

Read more

جرم کی سزا ہوتی ہے تو مجرم بنانے کی کیوں نہیں؟

عدالت سے دوبارہ اسے دارلامان بھیجا گیا تاکہ ضروری کاغذی کارروائی کرکے اسے باقاعدہ آزاد کیا جائے۔ بھیا کی گاڑی گھر کے دروازے پہ رکی تو چند لمحوں کے لیے بسمہ کو لگا جیسے وہ کئی صدیوں بعد اس گیٹ کو دیکھ رہی ہے۔ حالانکہ صرف 4 دن بعد وہ واپس آ گئی تھی۔ وہ گھر میں داخل ہوئی تو خلاف توقع امی اور دادی نے بڑھ کے اسے گلے لگا لیا۔ امی کافی دیر اسے گلے سے لگائے روتی

Read more

فروغ نعت اور سید صبیح الدین رحمانی

نعت گوئی ’نعت خوانی اور فروغ نعت کے سلسلے میں سید صبیح رحمانی کا نام ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ حمد و نعت ان کے خمیر میں ایسے رچ بس چکی ہے کہ ان سے تعلق رکھنے والے ہر شخص تک عقیدت و محبت کی یہ خوشبو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور سے پہنچ ہی جاتی ہے۔ وہ نعت گوئی کے تمام تقاضوں اور اصول و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم سے اپنی

Read more

ہمارے موصوف سے ملیے

”موصوف کے بارے میں رپورٹ آ گئی ہے۔ سنا ہے انتہائی دل پھینک ہیں۔ ایک جگہ رشتہ دیتے ہیں، دوسری پر نظر ہوتی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ تین منگنیاں توڑ چکے ہیں، گویا منگنیاں نہ ہوئیں ’مٹکیاں‘ ہوگئیں۔ اچھے خاصے ’فلرٹ‘ مشہور ہیں۔ میں نے اسلم کو فون کیا، اسلم نے فوق کو اور فوق نے حمیدی صاحب سے پوچھ کر۔ ۔ ۔ یہ ماموں جان تھے اور ہمارے ’متوقع‘ منگیتر کے بارے میں یہ ان

Read more

جانان تم سے شکوے تو ہیں مگر جشن آزادی بھی تم سے ہے

سنو جانان مانا کہ تم سے بہت شکایتیں ہیں بہت سارے شکوے ہیں۔ بہت کچھ ہے جو کہنا ہے جو ان خاموش لبوں نے کہا نہیں کبھی اس ڈر سے نہیں کہا کہ تم ناراض نہ ہوجاؤ کبھی اس خوف میں کہیں میں گم نہ ہوجاؤں۔ کہیں اس جھجک میں کہ میں کچھ کہوں اور تم کچھ اور سمجھو کبھی تم سے محبت کی وجہ سے کبھی تمہاری انا کے مان کی خاطر کبھی کسی مصلحت کی وجہ سے۔ لیکن

Read more

روتھ، ہمیں تم سے پیار ہے

ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال گزر گیا۔ وہ شخصیت جو اس ملک کے لوگوں کے لئے مسیحا بن کر آئی، ان کے درد کو اپنے دل کے اندر محسوس کیا، اس درد کا درمان کیا اور عظمت کا استعارہ بن کر آسمانوں میں واپس لوٹ گئی۔

Read more

سیکس ڈول کی صنعت کو پروموٹ کیا جائے

ہم ایک انقلابی دور حکومت میں زندہ قوم ہیں۔ ملک مسلسل ترقی کی راہوں پہ گامزن ہے۔ اور حکومت کا ہر دوسرا قدم ستاروں سے آگے جہا ں تلا ش کر نے والا ہے۔ اسی دور میں جب ڈیم فنڈ اکٹھا کر نے کے بعد زمینی ڈیم تو کورونا کے باعث نہ بن سکا۔ مگر آسمانی ڈیم نے کراچی میں اس خواب کو تعبیر کیا ہوا ہے۔ کبھی توہین مذہب کیس کی گونج پہ قوانین اور بل پہ نظر ثانی

Read more

لوگوں کا خوف اور مصنوعی لبادے

ہمارے عوام کے عجیب طرح کے کمپلیکسز ہیں۔ روتے رہیں گے حکومت علاج معالجے کی سہولت نہیں دے رہی لیکن جہاں سہولت میسر ہو گی وہاں سرکاری ہسپتال نہیں جائیں گے جیب میں پیسہ ہو نہ ہو، پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروائیں گے کہ شو مار سکیں کہ ہم افورڈ کر سکتے ہیں۔ مہنگی سے مہنگی سوسائٹی میں گھر ڈھونڈیں گے چاہے آدھی سے زیادہ انکم کرائے میں نکل جائے اور روز مالک مکان سے لڑائی ہو۔ لیکن کسی ایسی سکیم

Read more

کچھ ذکر ریاست پاکستان کے موسموں کا

پہلی قسط میں سلطنت سیاست کے حدود اربعہ پر بات ہوئی تھی جبکہ آج کی قسط میں مذکورہ سلطنت کے موسموں پر بحث کیا جائے گی۔ جمہوریت کے موسم اقلیم سیاست میں کہنے کو تو جمہوریت کے بہتیرے موسم آئے مگر غیر جمہوروں کو نابالغ جمہوریت کے گن بھائے نہیں اور نہ ہی انہوں نے اسے بلوغت کا موقع دینے کا سوچا۔ یہ موسم سب سے کم دورانئے کا موسم ثابت ہوتا رہا۔ جمہوریت کی عمر کا جام ہمیشہ ہی

Read more

گھوڑا ہسپتال یونیورسٹی کی یاد میں

میں حال ہی میں جامعہ برائے علوم حیوانات و علاج مویشیاں المعروف گھوڑا ہسپتال سے فارغ التحصیل ہوا ہوں۔ جامعہ کی شہرت گھوڑا ہسپتال کے حوالے سے ہے کیونکہ برطانوی دور حکومت میں یہ ملٹری گھوڑوں کے علاج کے لئے ہسپتال بنایا گیا تھا اور 1882 میں لارڈ رپن نے اسے ایک سکول کا درجہ دیا اور برصغیر میں علوم حیوانات وعلاج مویشیاں کا پہلا ادارہ قائم ہوا۔ بعد میں اس کو کالج کا درجہ دیا گیا اور 2002 میں

Read more

سانگھڑ میں امریکن کونسلیٹ

مختلف ممالک میں بکھرے ہمارے اہل خانہ کا اصرار تھا کہ سبز پاسپورٹ پر امریکی ویزہ کی معیاد ختم ہوتی ہے۔ اس کی تجدید کرا لیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے تو سختیاں کریں گے۔ ہم نے کہا بھی کہ امریکہ کی محبت ماں جیسی ہے۔ مالدار سابق فوجیوں، میمنوں اور ایک پارٹی کے سیاست دانوں کو ان کے مال مسروقہ کی فراوانی کی بنیاد پر برطانیہ اور امریکہ ویزہ پٹزا کی ہوم ڈلیوری والوں کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔

Read more

ازدواجی زندگی کی غلام گردشیں

وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی “ ڈاکٹر ! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں “ “کیوں بھئی، کیا ہوا “ “ شادی کے بعد میری ساس نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جاتی ہیں “ اور میں کچھ اور سوچ رہی تھی ! دنیا کے وجود میں آنے کے بعد

Read more

خارجہ امور میں رائٹروں اور دانشوروں کا کردار

تھوڑے پرانے زمانے میں ملک کا دفاع صرف فوج کے ذمے ہوتا تھا مگر موجودہ زمانے میں ملک کا دفاع فوج کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے شعبوں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں لڑائی اور جنگ کے فزیکل محاذوں کے ساتھ ساتھ نان فزیکل محاذ بھی وجود میں آچکے ہیں جن میں اہم ترین محاذ پراپیگنڈہ کہلاتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک محاذ ہے کہ پراپیگنڈے کے محاذ پر شکست خوردہ ممالک فزیکل

Read more

سعودیوں کو ہماری ضرورت ہے اور رہے گی

پاکستان نے سعودی ایک ارب ڈالر دے کر اور چینی ایک ارب ڈالر لے کر پورے دو فیصد سود بچایا ہے۔ مہنگا قرض واپس کیا ہے اور سستا لے لیا ہے۔ ایک رخ تو اس کہانی کا یہ بھی ہے۔ ادھار تیل کی جو ہمیں سہولت ملی ہوئی تھی اس کی مالیت تین ارب بیس کروڑ ڈالر تھی۔ جو ہم اس سال استعمال کر سکے وہ اسی کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اب یہ سہولت ختم ہو چکی ہے۔ دو سال کے لئے مزید حاصل کی جا سکتی ہے۔

عرب میڈیا پر اس ایشو پر کوئی سٹوری نہیں دکھائی دی۔ ترک میڈیا نے کور کیا ہے، انڈین میڈیا کی بھی ابھی اس طرف خاص توجہ نہیں گئی۔ انڈین نیوز ایجنسی اور ایکسپریس ٹریبیون کو لے کر شنگھائی نیوز نیٹ نے ضرور اک نیم گرم سے سٹوری کی ہے۔

Read more

یوم آزادی اور عصر حاضر کے تقاضے

یوم آزادی کی آمد آمد ہے لیکن کرونا کے خوف اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا جو ماہ اگست کا ہمیشہ سے خاصا رہا ہے۔ عوام ابھی تک گھروں کے اندر محبوس ہے اور یاسیت زدہ ہے کہ اس کرونا سے کب جان چھوٹے گی؟ 14 اگست ہر سال آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ ہم بھی ایک دو دن قومی و ملی نغمے سنتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں،

Read more

ڈاروں وچھڑی کونج

ایک وقت تھا کہ ہمارے گاؤں میں ہندو خاندان بھی آباد تھے۔ زیادہ پرانی بات بھی نہیں، بس ستر پچھتر برس پہلے۔ بیچ بازار ان کی دکانیں تھیں، کاروبار تھا۔ ستلج کے قریب بسی اس بستی میں مسلمان اور ہندو کئی پشتوں سے اکٹھے بسیرا کرتے آئے تھے۔ جیون پگڈنڈی پہ مل کر چلتے آئے تھے۔ چلتے چلتے کسی کا پاؤں پھسلتا یا قدم ڈگمگاتا تو کئی ہاتھ اسے سنبھالنے کو بڑھ جاتے تھے۔ دکھ سکھ ایک ساتھ جی لیتے

Read more

دانش حاضرہ او ر داستان سیف الملوک

کرہ ارض پر پنجاب ایک ایسا منفرد خطہ ہے جہاں عظیم صوفی شعراء پیدا ہوئے، جنہوں نے شاعری کے ذریعے انسان کو محبت اور بھای چارے جیسا آفاقی پیغام دیا۔ اسی طرح پنجابی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کو گزشتہ 900 سالوں کے دوران وقفے وقفے سے پنجابی کے عظیم شعراء عطا ہوئے۔ یہ لوگ اگرچہ ہماری تاریخ کے مختلف ادوار میں نمو دار ہوئے مگر ان کا پیغام یکساں تھا: عالم گیر امن، اخوت اور محبت۔

Read more

کالی بلی راستہ کاٹ گئی۔ ۔ ۔

”یار کہاں رہ گئیں تم؟ کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں تمھارا۔ ۔ ۔“ نائلہ نے کال ملتے ہی جھنجھلا کر پوچھا۔ ”آ رہی ہوں، بس تم دروازہ کھولو میں پہنچنے والی ہوں“ ماہا نے پھولی ہوئی سانس میں جواب دیا اور کال کاٹ دی۔ نائلہ نے تیز نظروں سے موبائل کو گھورا جیسے اس میں سے ہی ماہا کو کچا چبا جائے گی اور موبائل پٹخ کر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی۔ ” بیٹھ جاؤ آرام سے بس

Read more

سنسرڈ خطوط

مشغلہ وہ کام ہے جس سے فارغ وقت برباد کر کے خوش ہواجاتا ہے ۔ لوگوں کے مختلف مشغلے ہوتے ہیں جیسا کہ باغ بانی، سکے جمع کرنا، پینٹنگ، خطاطی، کتابیں پڑھنا۔ مگر ہمارا مشغلہ بے حد دلچسپ ہے۔ ہم خطوط سنسر کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ غیر اخلاقی، غیرقانونی، غیر انسانی معلوم ہو مگرخلیل الرحمٰن قمرکے ابا جی اور شاہ رخ خان کی امی جان کہتی تھیں کہ کوئی بھی مشغلہ چھوٹا یا بڑا نہیں

Read more

نوشابہ کی ڈائری ( 8 ) ”آئندہ الطاف بھائی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیے گا“

۔7 اگست 1987
اف کتنے خوف ناک لمحات تھے۔ سوچتی ہوں تو لرز جاتی ہوں۔ دھماکے کی اطلاع ملی تو ابو صدر ہی گئے ہوئے تھے، اپنی دکان کے لیے سامان لینے۔ رضیہ بھابھی کوئی چیز مانگنے آئی تھیں تو انھوں نے بتایا صدر میں دھماکا ہوا ہے۔ میرے اور امی کے تو پیروں سے زمین نکل گئی تھی۔ میں رونا شروع ہو گئی اور امی جائے نماز پر بیٹھ گئی تھیں۔ ابو جب گھر آئے تو جان میں جان آئی۔ امی نے فوراً صدقہ دیا۔ کتنا خوف ناک دھماکا تھا دو سو سے زیادہ زندگیاں ایک لمحے میں ختم ہو گئیں۔

ضیا الحق نے تو دھماکے کا ذمے دار افغانستان کے ایجنٹوں کو قرار دے دیا اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ آدمی تو اب مجھے بہت برا لگنے لگا ہے۔ اقتدار چھوڑ ہی نہیں رہا۔ بے چاری بے نظیر کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا تھا۔ بہت کچھ پڑھنے اور جاننے کے بعد احساس ہوا ہے کہ جنرل ضیا کے بارے میں میری سوچ غلط تھی۔ لوگ کہہ رہے ہیں دھماکا الذوالفقار نے کیا ہے۔ ہو سکتا ہے، وہ طیارہ اغوا کر سکتے ہیں تو دھماکا بھی کر سکتے ہیں۔ ظہور الحسن بھوپالی کو بھی الذوالفقار والوں ہی نے شہید کیا تھا۔

Read more

بارات ہوائی جہاز سے نکاح فون پر

بڑے میاں صاحب کے دل کے حالات کچھ گڑ بڑ ہو جانے اور ڈاکٹروں کے سفر سے اجتناب کے مشورہ کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ فیصل آباد سے اسلام آباد جانے والی چھوٹے میاں صاحب کی بارات بجائے کاروں اور کوچز کے صرف قریبی گھر والوں کی ہمراہی میں ہوائی جہاز پر لے جائی جائے۔ کہ ابھی موٹروے چالو نہ ہونے کی وجہ سے اور سڑک بھی کچھ خراب ہونے کی وجہ سے سفر بھی آٹھ نو گھنٹے کا تھا۔ خوش قسمتی سے پی آئی اے فوکر فلائٹ کے جانے اور واپسی کے اوقات بھی اسی دن تمام رسومات کی بآسانی تکمیل کے بعد واپسی کے لئے بہت مناسب تھے۔

Read more