صحت کی بحالی اور غیر متعدی امراض پر قابو

تحریر: ڈاکٹر ظفر مرزا ترجمہ: ربانی لودھی، بخشیس الہی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں۔ نہ تیل کا ایک قطرہ، نہ گوشت کا ایک ٹکڑا، نہ ایک انڈا اور نہ ہی دودھ کا ایک قطرہ۔ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔ میں روزانہ ورزش کرتا ہوں اور ہفتے میں پانچ بار سانس لینے کی مشق کرتا ہوں۔ ابو نعمان نے اپنی ایک ڈاکٹر منیرہ عباسی کے ساتھ مراسلت میں لکھا جو امریکہ میں غیر جراحتی طب، غدود کے امراض کی ماہر،

Read more

شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے

لاہور کی تاریخ میں 60 کی دہائی بدمعاشوں اور جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب وطن عزیز میں ابھی کلاشنکوف کلچر متعارف نہیں ہوا تھا اور پستول کسی کسی کے پاس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ”گراری“ والے چاقو کی ایک طرح سے حکمرانی تھی۔ کوئی بدمعاش جب مخالف کے سامنے کڑ کڑ کرتا ہوا گراری والا چاقو کھولتا تو نازک طبع افراد کے دل دھل جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ

Read more

کوکھ کا ادل بدل (افسانہ)

شہر کی آبادی سے میلوں دور دشوار گزار راستوں سے گزر کر دھن آباد گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھیں۔ چند سو نفوس پر مشتمل اس گاؤں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فطری اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کا ذریعہ، معاش کھیتی باڑی تھا۔ کچھ لوگ شہر میں جا کر نوکری بھی کرتے تھے۔ سال دو سال بعد پیسے کما کر گاؤں آتے تو ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی۔ شہر میں جوتیوں

Read more

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

1960 سے 1974 تک میں حصول تعلیم کے سلسلہ میں بوریوالا مقیم رہا۔ پرائمری تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں کیسا طالب علم تھا۔ کیوں کہ حساب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ابا جی سے ٹھکائی ہو جایا کرتی تھی لیکن پانچویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد حصولِ وظیفہ کے لیے امتحان دینے والے طلبا میں میرا شمار ہوتا تھا۔ ہماری پانچویں کلاس کے ٹیچر بھا جی مختار تھے۔ بہت چاق و چوبند، خوش لباس، دبنگ

Read more

رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان

ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر

Read more

اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا! مکمل کالم

آج صبح موبائل فون دیکھا تو اُس پر سبوخ سیّد کا پیغام تھا ”سلام، سر اِس پر ضرور لکھیں۔“ پیغام کے ساتھ اُن کی تحریر تھی۔ جو لوگ سبوخ کو نہیں جانتے اُن کے لیے عرض کیے دیتا ہوں کہ سبوخ ایک صحافی ہیں، آئی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نام سے خبروں اور تجزیوں پر مبنی ویب سائٹ چلاتے ہیں، صاحب مطالعہ ہیں، مذہبی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، بلکہ میں تو انہیں اچھا خاصا عالم دین

Read more

ایک عنصر، ایک کہانی: کائنات کی پہلی چنگاری

(پہلی قسط) لوگ دھماکوں میں جان سے جاتے ہیں، اور میں؟ میں تو پیدا ہی دھماکے سے ہوئی! اپنے گھرانے کا پہلا فرد۔ ننھی منی سی، ہلکی پھلکی، نہ رنگ، نہ خوشبو۔ انتہائی سادہ۔ مگر وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا کہ سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ہے یہ مصرع مجھ پر سولہ آ نے صادر آ تا ہے۔ میں ستاروں کی روشنی ہوں اور زمین پر زندگی کی سانس، جانداروں کے جینیاتی مادے اور پروٹین کی

Read more

شاہی سمر پیلس: چترال کی مہمان نوازی کا دروازہ

دریائے چترال کے اِس پار شاہی سمر پیلس جہاں محبت اور مہمان نوازی کا راج ہے لواری کی برف پوش چوٹیاں جب مسافروں کی پشت پر رہ جاتی ہیں اور چنار کے درختوں کی سرسبز چادر آنکھوں کے سامنے بچھتی ہے، تو دریائے چترال اس پار ایک شاہی قلعہ اپنے بازو پھیلائے مسافروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ قلعہ، چترال کی ریاست کا پہلا چہرہ، تاریخ کے اوراق میں صرف اینٹ اور لکڑی کی عمارت نہیں، بلکہ مہمان نوازی،

Read more

سید کاشف رضا کا شعری مجموعہ: ممنوع موسموں کی کتاب

ایسے میں جب شاعر کا تیسرا مجموعہ کلام شعری دُنیا میں وارد ہونے کو ہو تب اُس کے گزشتہ کلام کا ذکر چھیڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک شخص جو ادبی منظر نامے پر کئی جہتوں اور حوالوں سے جانا جاتا ہو اُس کی اصل شخصیت کو کھوجنا کسی طور مشکل کام ہے۔ سید کاشف رضا کا نام سُنتے ہی دو حوالے تو فوراً آپ کے ذہن میں آتے ہیں، بطور مترجم اور بطور فکشن نگار۔ تعارف کا حوالہ

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

عید پر دکھی کر دینے والی خبریں!

عید الفطر بھی گزر گئی۔ عید بے حد خوشی کا تہوار ہوتا ہے۔ سب لوگ، خاص طور پر بچے اس دن کو نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس دن بچے نئے کپڑے پہنتے، عیدی وصول کرتے اور اپنے والدین کے ساتھ سیر و تفریح کرتے ہیں۔ اپنے بچے ہم سب کو کتنے پیارے ہوتے ہیں۔ ہم خواہ خود عید پر نئے کپڑے بنوائیں یا نہ بنوائیں، اپنے بچوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ لیکن

Read more

امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل

پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی سنانے کو جی چاہتا ہے۔ امریکہ جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔ پچیس تیس برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزا لاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پہ یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا

Read more

کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟

سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور

Read more

معاون خصوصی پرائس کنٹرول کی آنیاں جانیاں

ویسے تو ہر حکومت چاہے وہ وفاق میں ہو یا صوبے میں اور خاص طور پر پنجاب کی ہو، ان کی ڈرامے بازیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں، موجودہ پنجاب حکومت جس کی وزیراعلی مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ہیں، ان کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کھپ دیکھ کر کھسرے یاد آ جاتے ہیں جو کسی کے گھر بیٹا پیدا ہونے پر ناچ ناچ کر پھاوے ہو جاتے ہیں، مریم نواز نے ایسے

Read more

اگر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے

آج سے بیس پچیس سال پہلے ہر وہ بچہ جو اپنی عمر کے بچوں سے مختلف نظر آتا تھا، ابنارمل کہا اور سمجھا جاتا تھا، اس کے رویے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نہ تھا، ہاں یہ اندازہ ضرور تھا کہ ہر ابنارمل بچہ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا، کوئی بول نہیں سکتا، کوئی غصے کا تیز ہے، کوئی پڑھ لکھ نہیں سکتا اور کسی کو کوئی اور مسئلہ ہے جو

Read more

ناول ”نِکّا“ (انیس احمد) کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”نکّا“ انیس احمد کی تخلیق ہے جو گزشتہ برس عکس پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کا ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے۔ جدید دور کے مختصر ناولوں کے مقابلے میں پانچ سو گیارہ صفحات پر مشتمل یہ ”نِکّا“ اصل میں ایک بڑا ناول ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ پڑھت کے دوران یہ ناول ضخیم ہرگز محسوس نہیں لگتا۔ انیس احمد یوں کہانی سے کہانی نکالتے، کڑی سے کڑی ملاتے ہیں

Read more

راشن بانٹنے والوں کو ساتھ میں ”کنڈوم“ بھی ضرور بانٹنے چاہیں

رمضان المبارک کی آخری ساعتیں چل رہی ہیں، ان مبارک گھڑیوں کی برکات کو سمیٹنے کے لیے سیٹھ لوگ غریب غربا میں راشن تقسیم کر رہے ہیں، نیکیوں پر بھی امراء کی اجارہ داری قائم ہے عجب دستور دنیا ہے؟ آخر کچھ تو وجہ ہوگی نا کہ پھیلے ہاتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ہر جگہ پر پھیلے ہاتھوں کا ہجوم لگا ہوتا ہے اور ان میں بچے، بوڑھے، ناتواں و ضعیف سبھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ بچے انہی والدین

Read more

خواب، محبت اور زندگی 7

خالہ کی طرح ابی بھی سرکاری ملازم تھے اور انہیں بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے۔ ابی نے تنہا پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس فیصلے کی تین وجوہات رہی ہوں گی: اول یہ کہ دادا نیشنلسٹ تھے اور قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ ویسے بھی وہ چاند والی حویلی کو چھوڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے، امیتابھ بچن کی مشہور فلم دیوار کی طرح ابی کا

Read more

یہ شہرت بھی لے لو، یہ دولت بھی لے لو

شہرت اور مقبولیت کچھ اور شے ہے۔ مانگے اور کوشش کا کھیل نہیں۔ شہرت دراصل گمنامی کا خوف ہے۔ ایسا سیدنا واصف علی واصف کا بھی ماننا تھا۔ اب جب سے سیل فون اور انٹرنیٹ تک سب کی رسائی عام ہو گئی ہے اور انسٹا گرام، ٹک ٹاک فیس بک پر لائیکس دیکھ کر شہرت اور مال کمانے کا شوق کا ایسا عام ہوا ہے کہ مت پوچھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میڈیا کے دوش پر سوار ہو

Read more

عید کا تحفہ: حفیظ جوہر کی کلیات

  باصر سلطان کاظمی لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل

Read more

کمر۔ کس، ناٹی اولڈ مین اور نیویارک پبلک لائبریری

( 1 ) کمر۔ کس ہماری من پسند اس دکان پر کیا کیا مسالہ نہیں ہوتا، کون سا تیل ہے جو خالص اور دستیاب نہ ہو۔ اسلامی شہد ان کے ہاں بھی البتہ جعلی ہوتا ہے سو ہم نہیں خریدتے۔ مین ہیٹن نیویارک کے ”ٹریڈر۔ جوز“ جہاں بہت بھیڑ ہوتی ہے اس کے خالص شہد پر بھی ہمیں شک ہی رہتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ ایک پاؤنڈ یعنی 453.592 گرام کے لگ بھگ شہد پیدا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 6

چاند والی حویلی کے باہر اگر کانگرس اور مسلم لیگ کی انگریزوں سے آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو حویلی کے اندر اب جو اسٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اسی قسم کے ڈرامے چلتے رہتے تھے۔ برسوں پہلے جب میری دادی حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کی پھوپھیاں ہمارے دادا کے لئے نئی دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ پہلے تجربے نے انہیں بھی محتاط

Read more

سالک ایک منفرد کتاب

لاہور انٹرنیشنل بک فیئر پر جہاں بہت سی کتب خریدیں وہیں کچھ کتابیں دوستوں کی طرف سے بھی ملیں۔ بہت دنوں سے انہی کتب میں سے ایک کتاب میری توجہ کی منتظر تھی، اس کتاب کا عنوان اور انتساب دونوں ہی چونکا دینے والے تھے۔ مصنف سے کسی حد تک تعارف تھا لیکن ان کی پہلی مکمل کتاب پڑھی ہے جس کے بعد خواہش ہوئی کہ مصنف کی مزید کتب پڑھی جائیں۔ خیر ایک روز میں نے سچ کی تلاش

Read more

خواب، محبت اور زندگی 5

ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو

Read more

مائے نی میں کنوں آکھاں: (خود کشی کے پس منظر میں ایک تحریر)

ماں مجھے تیری عظمت اور دیدہ دلیری پہ ناز ہوتا ہے، اس پتھر دل سماج میں تو نے مجھے جنم دیا، میں تجھ پر بیتے لمحہ با لمحہ دکھ کی شاہد ہوں، خود کو سنبھالنے اور مجھ کو پالنے میں جو تو نے تکلیفیں اور مشکلات جھیلیں بھلا وہ سارے کرب میں اپنی یاد داشت سے کیسے ڈیلیٹ کر سکتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی تم نے مجھے جنم کیوں دیا؟ کیا تجھے نہیں پتا

Read more

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ”موت کی کتاب“ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن

Read more

باپ کی ممتا

ہمارے معاشرے میں باپ کو ہمیشہ ایک مضبوط، سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ممتا کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی طور پر ممتا کا لفظ زیادہ تر ماں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ باپ کی محبت، قربانی اور احساسات کو ”ذمہ داری“ کے نام پر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی ممتا بھی کسی ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی، بس

Read more

خواب، محبت اور زندگی (4)

امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو،

Read more

جمہوری شین قاف اور آمریت کا لام کاف

23 مارچ کو یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب سے حسب روایت سربراہ مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ کل بارہ منٹ کی تحریری تقریر پڑھنے میں ایک دو جگہ پر انہیں الفاظ کی ادائیگی میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس بے معنی قضیے کو لے کر سوشل میڈیا پر بیٹھے انقلابی چوزوں نے ہڑبونگ مچا رکھی ہے۔ پاک پتن کی جامعہ ’رحونیت‘ میں ہوش و خرد کا زر خالص ادا کر کے بے سمت دیوانگی کا سودا کرنے والا

Read more

تھیلی وقت سے پہلے کیوں پھٹ گئی؟

”چوبیس ہفتوں پہ پانی کی تھیلی پھٹ گئی۔ پانچ چھ ہفتے مسلسل پانی آتا رہا۔ تیس ہفتے پہ آنول پھٹ گئی۔ سیزیرین کر کے بچہ نکالا۔ دو دن زندہ رہا اور پھر واپس اللہ کے پاس۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ بچہ کیوں نہیں بچ سکا؟ پانی کی تھیلی کیوں پھٹی؟ آنول کیوں پھٹی؟ ” آہ ہا۔ میری بچی۔ ایک ہی پیغام میں اتنے سوال۔ چلو کوشش کرتے ہیں کہ ایک ایک کر کے جواب دیں۔ بچے دانی میں جب

Read more

نئے کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی۔

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

پیر و مرشد سلمیٰ اعوان

کل تئیس مارچ کی تقریب میں سلمیٰ اعوان کو ستارہ امتیاز ملنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں سلمیٰ اعوان کی شخصیت کا جائزہ لیں تو انتہائی عاجز، منکسر، ہمدرد اور محبت سے لبالب بھری خاتون ہیں۔ حسد، لالچ، نہ طمع نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔ زندگی بھر محبت کا چرخہ چلایا، مشقت کا دھاگہ کاتا اور پُونیاں جوت کر روشنی پھیلائی۔ سلمیٰ اعوان بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہیں۔ ساری زندگی اصولوں سے گزاری

Read more

خواب، محبت اور زندگی (3)

جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome) پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس

Read more

کہانی میرے گھر کی

ہم پانچ بھائی تھے گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا بڑے بھائی کا کمرہ ہم سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہم چاروں کے کمرے ملحقہ تھے بڑے بھائی کا نام کریم الاسلام تھا اس سے چھوٹے کا نام بشیر جس کو سب شیرا پکارتے تھے اس سے چھوٹا عبداللہ جس کو ماچھی کے نام سے بلایا جاتا اس سے چھوٹا بخت نصر جس کو سب ہلاکو خان کہتے اور سب سے چھوٹا میں تھا اصل نام میرا پتہ نہیں کیا

Read more

سرکاری اسکول اور میری قابلِ فخر بہو

رامش کی شادی کو چھ ماہ گزرے تھے کہ ایک روز میں نے اسے اور بہو (سوما) کو ایک دوسرے سے بحث کرتے اور الجھتے ہوئے دیکھا۔ سوما نے میری مدد چاہی۔ ”امی بہت پہلے میں نے گورنمنٹ اسکول ٹیچر کے لیے اپلائی کیا تھا۔ حیدرآباد میں ٹیسٹ کے لیے بلایا ہے“ ۔ بہو امید سے تھی، ”بیٹے نے اس بہانے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔ امی یہ کیسے مینج کرے گی؟“ میں نے رامش کو سمجھایا: ”بیٹا ٹیسٹ ہونے

Read more

فائدہ (افسانہ)

  آج صبح بھی جب وہ فجر کے وقت جاگا تھا تو اسے امید تھی کہ نیم گرم پانی کا گلاس یا تو بستر کے سرہانے رکھا ہو گا یا جب وہ وضو سے فارغ ہو گا تو شاید اسے نیم گرم پانی کے گلاس کی آفر ہوگی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجبوراً اور حسب عادت خود ہی کچن میں جا کر ایک گلاس اٹھایا اور گیزر سے آدھا گلاس گرم پانی نکالا اور پھر ٹھنڈے پانی کے نل

Read more

قربانی کی عورت

چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ

Read more

سودائی شاعر: نصیر کوی

ایک کھوکھے پہ ٹھنڈی بوتلیں بیچنے والے شخص کی سیاسی اور سماجی فراست اہم دانشوروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اس سادہ شخص کے حلیے اور کھوکھے کو دیکھ کر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا کہ اس جسم کے اندر قومی جذبے دہکتے اور آنکھوں کے پیچھے رومانی خواب مچلتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والے اشعار مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں اور اسے تنویمی کیفیت میں لے آتے ہیں۔ وہ ایک شعر پڑھتا ہے اور

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

موت کا دریا (افسانہ)

دریا کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کی آبادی تیس افراد پر مشتمل تھی اور ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔ اِس کے علاوہ وہ زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات پر کھیتی باڑی بھی کرتے تھے۔ گاؤں کے مغرب میں صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر برلبِ دریا ہی ایک دوسرا گاؤں تھا جو تھوڑا بڑا تھا اور وہاں چالیس سے پچاس افراد کی رہائش تھی۔ دونوں جگہوں کے رہنے والے آپس میں قریبی رشتہ دار تھے

Read more

فرشی شلوار اور یادیں کچھ خاص ملبوسات کی

آج کل جہاں دیکھو، جہاں سنو فرشی شلوار کے چرچے ہیں، نئے فیشن کی دھوم مچی ہے، فرشی شلوار کی تصویریں دیکھ کر ہمیں بھی ماضی کے فیشن، کچھ ملبوسات اور ان سے جڑی یادوں نے آ لیا۔ فیشن بھی بار بار دہرائے جاتے ہیں اور وہی پرانے فیشن نئے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے بچپن میں میری خالائیں اس طرح کے کھلے پائنچوں کی شلواریں اور لمبی قمیضیں پہنا کرتی تھیں۔ پھر میں

Read more

خواب، محبت اور زندگی (1)

جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ (A Gemini can do anything) مجھے یہ کہانی پہلے، بہت پہلے لکھنی چاہیے تھی لیکن ہمیشہ کی طرح زندگی آڑے آ گئی۔ آج پچھتر سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی سرجری سے گزرنے کے بعد میں میں نہیں جانتی کہ میرے پاس اپنی کہانی لکھنے کے لئے کتنا وقت بچا ہے۔ منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں‘ ۔ جب میں کہتی ہوں کہ زندگی آڑے آ گئی تو

Read more

سچی سرکار

سچی سرکار کا آستانہ نہر کے کنارے پھلاہی کے درختوں کے درمیان واقع تھا۔ پیر صاحب کی عمر چالیس کے قریب، سر کے لمبے بال جو کئی سالوں سے نہیں دھلے، مونچھیں چٹ، داڑھی غائب جبکہ ہاتھوں کے ناخنوں میں میل ایسے جمع تھا جیسے کوئی کسی کے گھر میں پناہ لیتا ہے۔ یہ صاحب یہاں کب سے مقیم تھے اس کا کوئی علم ہمیں نہیں تھا اور نہ ہی ہم ان کے آستانے سے واقف تھے۔ مگر ہوا یوں

Read more

”کھانا گھر“ کی ڈائریکٹر پروین سعید کی باتیں آخر باسی کیوں نہیں ہوتیں؟

چاہے سچ کی آواز کو لاکھ خاموش کروایا جائے اس کی تلاش کا سفر جاری رہنا چاہیے۔ آج میں صبح سحر کی سپیدی سے قبل رات کی ظلمت کو چاک کرتی، پروین سعید کی آواز سن رہی تھی، جو فون پہ کہہ رہی تھیں ”بھوک کو مٹاؤ، غربت کو مٹاؤ یا پھر غریبوں کو مٹا دو۔“ پہچان تو گئے ہوں گے؟ وہی ”کھانا گھر“ چیریٹی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھنے والی پروین سعید جو گزشتہ پینتیس سالوں سے کراچی کی غریب

Read more

موجودہ مغربی جمہوریت: مگر پیسہ برابر بولتا ہے

سر ونسٹن چرچل جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت بدترین نظام حکومت ہے، لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں۔ سرمایہ داریت اور جمہوریت اب لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں تمیز کرنا مشکل ہے۔ اگرچہ مثالیں امریکہ اور برطانیہ کے عوامی راج کی دی جاتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ میں واقعی حق حکمرانی عوام کو

Read more

شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے؟

عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔ ‎ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں

Read more

ہوائی جہاز میں

ہوائی جہاز تک پہنچتے پہنچتے تک جو ہوا سو ہوا لیکن جونہی جہاز میں داخل ہوئے تو یوں لگا کہ جوزف کونراڈ کے ناول لارڈ جم والے حاجیوں کے جہاز میں آ گئے ہیں، بس فرق اتنا ہے یہ والا ہوائی ہے۔ اپنی نشست تک پہنچے تو وہاں آب گینوں سی بزرگی بیٹھی تھی اور ہم سوچنے لگے کہ اگر ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو یہ تو ہم جو کبھی ہڑبڑا کر اور کبھی بوکھلا کر اور کبھی سوتے

Read more

شیر خوار (افسانہ)

وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہت پیارا بچہ تھا، گھنگریالے بال، گول چہرہ، دودھ ملائی سا رنگ، موتی جیسے دانت اور پھر جب وہ مسکراتا تو گالوں میں ایسا گڑھا پڑتا کہ دو بوند پانی آ کر ٹھہر جائے۔ ہم تو اسے باقی بچوں سے زیادہ چاہتے تھے۔

Read more

فولادی اعصاب کی مالک خاتون نفس بی بی

”جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔“ (القرآن) برف سے ڈھکی سنگلاخ وادی میں، جہاں سرد ہوائیں چلتی ہیں اور زمین برف کی سفید چادر اوڑھے ساکت نظر آتی ہے، ایک باہمت خاتون ہر خطرے کو پس پشت ڈالے، زندگیوں کو بچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہاتھ میں چھڑی، کندھے پر ادویات سے بھرا بیگ، اور چھ فٹ برف میں کھڑی یہ بے لوث مسیحا کوئی اور نہیں بلکہ آغا خان

Read more

انوکھی لٹک اس کی باتوں میں ہے

(ارشد معراج کے لئے ایک اظہاریہ) دن کا پہلا پہر ہزارہ ایکسپریس نے جب ذرا ٹھیکی لی تو پتہ چلا یہ بھلروان ریلوے اسٹیشن ہے۔ پلیٹ فارم پر لگے سائن بورڈ پر نظر پڑتے ہی ذہن میں بے ساختہ ایک نام گونجا: ارشد معراج۔ کیوں؟ ابھی چند سال قبل تک یہ شہر اور اس کا نام میرے لیے بالکل اجنبی تھا مگر جب سے ارشد معراج کا لکھا ”بھلروان ریلوے اسٹیشن“ پڑھا مجھے یوں لگا یہ سب تو جیسے میرا

Read more

دو خوش قسمت شاعر: یزدانی جالندھری اور حامد یزدانی

دو دنیائیں ہم سب انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک خارج کی دنیا ایک داخل کی دنیا ایک باہر کی دنیا ایک اندر کی دنیا ایک حقائق کی دنیا ایک خیالوں کی دنیا حامد یزدانی اپنی تخلیق ”سوسن کے پھول“ کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں : ’ باہر بھلے کوئی سا موسم ہو میرے اندر تو ہر دم ایک ہی رت کا ڈیرہ رہتا ہے۔ میں یادوں کے رنگا رنگ موسم میں بستا ہوں‘ حامد یزدانی

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن – قسط : 5

تحریر ڈاکٹر شیرشاہ سید: ترجمہ اور تخلیص گوہر تاج میں اپنی عادت کے مطابق سفر کے دوران ٹیکسی ڈرائیوروں کا انٹرویو لے رہا ہوں جو مجھے بتا رہے ہیں کہ ڈھاکہ میں بہت سے پاکستانی، ہندوستانی، نیپالی اور عرب طلباء ہیں۔ پاکستانی طلباء کا انداز کچھ زیادہ دوستانہ ہے۔ اور ہم انہیں پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگیوں کے بارے میں بھی بتایا۔ مثلاً ان کی شادی کیسے ہوئی۔ ان سبھوں کے دل محبت کے ہاتھوں ٹوٹے ہوئے

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ دوسرا حصّہ

کلکتے کے مضافات میں زرعی زمینیں تھیں اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔ چاول کی فصل پک رہی تھی، موسمِ گرما اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور بادِ جنوب نمی کی وجہ سے ایک عجیب سی اُداسی لئے ناتواں بوڑھے سانپ کی طرح سرسرا رہی تھی۔ درختوں کے گرے پتّے تالاب میں بے جان مچھلیوں کی طرح بے ڈھنگی سے تیر رہے تھے۔ کافی دیر پیدل چلنے کی وجہ سے مجھے اپنے پیر بوجھل معلوم ہوئے تو میں

Read more

مرد حضرات کے ہاتھوں عورتوں کا قتل

صبح صبح اٹھ کر اخبار کھولو تو زیادہ تر بری خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ آج صبح بھی ایسی ہی چند خبریں پڑھنے کو ملیں اور دن بھر کوشش کرتی رہی کہ ان کے بارے میں نہ سوچوں لیکن رات گئے رہا نہیں گیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی۔ پہلی خبر تو یہ تھی کہ کراچی میں ملیر کورٹ کے باہر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا، بیٹی نے

Read more

روٹی کی قربانی

میں اور شاداب کافی عرصے سے اپنے بڑھتے وزن سے پریشان تھے جسے کم کرنے کے لیے صبح شام غور و خوض جاری تھا۔ کبھی شربتِ کریلا کے گلاس انڈیلے جا رہے تھے تو کبھی سفوفِ ہاضم کو شیرِ مادر کی طرح پھانکا جا رہا تھا۔ اگر کسی نے کوئی جڑی بوٹی بتائی تو شام سے پہلے وہ کمرے میں موجود ہوتی اور اگر کسی نے رسالے سے کوئی فارمولا بتایا تو اُس کے جملہ اجزاء اکٹھے کر کے اُن

Read more

تنہائی کے ایک سو سال

گیبرئل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کے سب سے ممتاز ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ گیبرئل جادوئی حقیقت نگاری میں مہارت اور انسانی تجربات کی گہرائی سے تحقیق کے لیے مشہور ہیں۔ 1927 میں ارکاٹاکا، کولمبیا میں پیدا ہونے والے مارکیز نے اپنے کیریبین جڑوں سے متاثر ہو کر دیومالائی، تاریخی، اور عوامی داستانوں کو آپس میں جوڑ کر ایسی کہانیاں تخلیق کیں جو عالمی موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے کام خاص طور پر شاہکار ”تنہائی کے سو

Read more

اللہ کے مہمان

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ساری زندگی عبادت قرار دی ہے۔ تاہم نماز، زکوٰۃ، حج و عُمرہ وغیرہ دوسرے بھی دیکھتے ہیں۔ ایک روزہ ایسی عبادت ہے جسے اللہ نے خاص اپنے لئے چُنا ہے کہ یہ عبادت بندے اور اُس کے مابین کا معاملہ ہے۔ ورنہ کوئی بھی شخص چُپکے سے پانی پی سکتا ہے۔ کھانا کھا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس کی ذات باری تعالیٰ کی بندوں سے محبت ستر ماؤں سے زیادہ ہے۔ کبھی آپ

Read more

داخلہ مہم: خواب سے حقیقت تک کا سفر

اوتھل، جو کہ لسبیلہ کا ضلعی ہیڈکوارٹر اور ایک بڑا شہر ہے، ڈیڑھ سے دو لاکھ تک آبادی ہوگی، حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں ہزاروں طالبات کے لیے صرف ایک ہی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول موجود ہے۔ اس اسکول میں 1500 سے زائد طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جبکہ آس پاس کے کئی بیلہ کی گدور یونین کونسل سے لے کر اوتھل تک اور سونمیانی وندر سے لے کر اوتھل تک اس طرح لاکھڑا، لیاری و کنڈملیر

Read more

قاتلوں سے پیار: یوں بھی جشن طرب منائے گئے

اس وقت جب جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے سے، بے گناہ شہید مسافروں اور جوانوں کے غم سے سینے فگار تھے ’ان جاں گسل لمحات کی تکلیف کوئی ان مسافروں سے پوچھے جو عورتوں بچوں سمیت گولیوں کی بوچھاڑ میں قیامت خیز لمحات سے گزرے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کچھ ذہنی عیاش نام نہاد منفی سوچ رکھنے والے طبقات اور جماعتیں‘ اس سانحہ میں دہشت گردوں کی زبان بولتے نظر آئے۔ انہیں

Read more

بھکر دھرتی کے حقیقی سپوت شہداء افواج پاکستان

حالیہ کچھ عرصہ سے سوچی سمجھی سازش کے تحت منظم انداز میں پاک فوج کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اک طرف سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور نوجوان نسل کو فوج کے خلاف کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف دشمن قوتوں کی مدد سے زمینی حملے کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور بے گناہ پاکستانیوں پر یہودی دہشتگردوں کے حملے بلاوجہ نہیں ہیں، ماضی یاد کریں

Read more

عمران خان اقتدار میں آ بھی گیا تو؟

بہاول پور شہر میں 15 مارچ 2025 کو ریڑھیوں ٹھیلوں پہ آلو تیس روپے، خشک پیاز چالیس روپے اور تازہ خشک لہسن دو سو روپے کلو بک رہا تھا لیکن شہر کی مشہور بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پہ ”خود ساختہ اہلِ ایمان“ آلو والا سموسہ روزہ دار عوام کو فی عدد چالیس روپے کا بیچ رہے تھے جبکہ ریجن کا کسان رو رہا تھا کہ گندم کا مناسب ریٹ نہ ملنے سے اس نے تو بحران کا سامنا کیا

Read more

آشیانہ در قفس

میں نے اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی کہانیوں کے مجموعہ ”پنجرے وچ آہلنا“ کو فارسی عنوان اپنی فارسی دانی کے اظہار کی خاطر نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ جب جدید فارسی افسانہ نگاروں اور شاعروں نے بول چال کی زبان استعمال کی اور می شود کو میشے لکھنا شروع کیا تو نہ صرف فارسی ادب کی شان بڑھی تھی بلکہ قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا لیکن اکمل نے نئی چال یہ چلی کہ

Read more

غریبِ شہر زمان خان سے گفتگو

اس سال میرا پاکستان دو سال کے بعد آنا ہوا۔ اپنی ملازمت کو خیرآباد کہنا اور کمائی کے چکر سے نکل کر امریکہ سے پاکستان آنے کا ایک مقصد بہت سی ادھوری ملاقاتوں کا قرض چکانا تھا۔ وہ ملاقاتیں جن کے لیے نہ مجھے ادبی میلے ٹھیلوں میں جانے کی ضرورت ہے نہ ہی ہزاروں کا بل بناتے والے نامی گرامی فائیو اسٹارز ریسٹورنٹس میں شہر کے دانشوروں کے ساتھ دعوتیں اڑانے کی۔ اگر قریب کی آنکھ کام کر رہی

Read more

جذبات اور احساسات: سائنس کے آئینے میں

فطری طور پر انسان جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ یہ جذبات اور احساسات انسانوں کے رویے اور رد عمل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کے خوش گوار مزاج اور اداس و غمگین کیفیات کا تعین انھی پر منحصر ہے۔ جذبات در اصل احساس کی ایسی صورتیں ہیں جو جسمانی رد عمل کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ان رد عمل کے محرکات خارجی حالات اور سماجی تعلقات ہوتے ہیں۔ جیسے کہ کسی راستے پر جاتے

Read more

افسانوی ادب میں اساطیری اور دیومالائی عناصر

مافوق الفطرت اور دیومالائی عناصر کے بغیر افسانوی داستانیں نامکمل اور ادھوری تصور کی جاتی ہیں۔ اُردو ادب کی ابتدائی داستانوں میں دیومالائی اور اساطیری عناصر کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ قصے کہانیاں مختلف مذاہب کی مذہبی کہانیوں سے ماخوذ ہیں جن میں مافوق الفطرت عناصر کے ساتھ ساتھ اُن مذاہب کے اہم کرداروں سے منسوب داستانوں کو قصوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اسطورہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے

Read more

غالب جو ایک شاعر تھا عالم میں انتخاب

دنیا میں سخنوروں کی کمی نہیں لیکن غالب کا اندازِ بیاں واقعی اور ہے۔ کہیں نہ کہیں سب مغلوب ہوئے مگر غالب ہر جگہ، غالب ہی ہے۔ شاعری فقط قافیہ پیمائی اور لفاظی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا شاعر ایک ہی وقت میں دانشور، عیب جُو، مورخ، حاذق، سیاستدان، عالمِ، فلسفی، طنز کار، مصلح اور صوفی بھی ہوتا ہے۔ اقبال جوانوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ غالب ادھیڑ عمروں کا شاعر ہے اور جوانوں کے واسطے چچا غالب ہے۔

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

پنسلوانیا کا تاریخی شہر سکرینٹن

مارچ کا مہینہ بہار کا ہر کارہ ہے۔ نئی کونپلیں پُھوٹتی ہیں۔ کچھ تیز اور کچھ نرم دُھوپ جب گھاس پر پڑتی ہے تو فضا میں گھاس اور نرم نوخیز کونپلوں کی خوشبو رچ بَس جاتی ہے۔ پچھلے سال اسی مہینے کے اوائل میں ہم نے امریکہ کا رَختِ سفر باندھا کہ بیٹی ہمیں بُلا رہی تھی کہ ماں آئے اور وہ سر زمین دیکھے جہاں قسمت اسے شادی کے بعد لے گئی تھی۔ خیر ہم اکیلے بھلا کیونکر جاتے

Read more

پہلے ہندوستان سے نکالے گئے اب پاکستان سے نکالے جا رہے ہیں

پنجاب کھا گیا، پنجابی لوٹ کر لے گئے، پنجاب اسٹیبلشمنٹ کا اردلی ہے، پنجاب! سندھ، خیبر پختونخوا ، گلگت، کشمیر اور بلوچستان کے وسائل ہڑپ کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ بہت مقبول نظریات ہیں۔ قیام پاکستان کے آغاز سے لے کر اب تک یہی نعرے ہمیں ہر روز سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی سیاست دان ہو، صحافی ہو، آزادی پسند ہو یہی اس کا تکیہ کلام ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کے افکار رکھنے والے اور بہت سارے معاملات میں

Read more

ریاست امی کی رٹ

  بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ اپنے محل وقوع اور معدنی وسائل کے باعث یہ خطہ دوست و دشمن سب کی نظروں میں (کھٹکتا) رہتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں سے یہ صوبہ مشکل اور اب مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مسافر بسوں کر روک کر شناختی کارڈ چیک کر کے غیر بلوچیوں بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کر دینا تو

Read more

اروندھتی رائے کی تصنیف: بے پناہ شادمانی کہ مملکت

نہ میں نے دہلی دیکھی ہے نہ کبھی کشمیر گیا ہوں۔ دہلی سے میرا پہلا تعارف خوشونت سنگھ کی ناول ”دہلی“ سے ہوا، جو ایک طوائف کی ایک شہر کی کہانی ہے۔ اشرافیہ نے جس طرح طوائف کے حسن و جوانی کے مزے لوٹے، اُسی طرح خوبصورت اور تاریخی شہر کو مسخ کر کے شاپنگ مالز اور بڑے بڑے بنگلوں کے ایک بکسے میں بدل دیا۔ جہاں اس شہر کے باسیوں کے اجداد کی قبریں تھیں اب وہاں بڑے مالز

Read more

آخری اچھا مرد

بھارت کے آنجہانی ستیش کوشک کیا کچھ نہ تھے۔ اداکار، کامیڈین، رائٹر، پروڈیوسر ڈائریکٹر اور ایک بہت نفیس انسان۔ سونے کے دل والے۔ ہماری دوست کامیا پٹیل امریکی شہری قیام نیو جرسی مگر وہاں قیام صرف گرمیوں کے چند ماہ اور میں کم مگر ناسک اور ممبئی میں زیادہ قیام زیادہ رہتا ہے، اصل میں گجراتی طلاق کی وکیل اور سائیں بابا کی بھگتن۔ ستیش کوشک کو مدر تھریسا سے زیادہ مہان اور نمبر ون مانتی ہے۔ وہ اس جھگڑے

Read more

غزہ کے بچوں کے نام

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت پہلے چھین لیتی۔ رات کو یہ سموگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تو میرا کام مزید آسان ہو جاتا۔ تمام علاقہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ عمارتیں عجب ہیبت کذائی کی صورت اختیار کر چکی تھیں۔ چہار

Read more

میری ماں، میری جنت

لفظ ماں دیکھنے میں تو محض تین الفاظ پر مشتمل ہے مگر درحقیقت دنیا بھر کی چاشنی انھی میں سمائی ہوئی ہے۔ ماں خدا کا دوسرا روپ ہوتی ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ اس ارض و سماں پر خدا کس صورت میں موجود ہے تو اس کا بہترین جواب ماں ہے۔ ماں کی عادت خدا سے بہت ملتی ہے۔ ایک تو وہ زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہتی دوسرا دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں۔ ماں کی محبت کو دنیا

Read more

خاموشی کی ماں میرے راستے کی سب سے حسین خاتون

شندور، لاسپور اور یارخون کی طرف جاتے ہوئے، مستوج پل کو پیچھے چھوڑیں تو سامنے ایک کچے مکان کے قریب، ایک چھوٹی سی نہر بہتی ہے۔ اسی نہر کے کنارے، ایک ماں کی بے پناہ محبت، خاموشی اور ممتا کی ایک ایسی داستان بکھری پڑی ہے، جسے سن کر دل دہل جائے، کلیجہ منہ کو آئے اور آنکھوں کے آنسو رکنے کا نام نہ لیں۔ یہ کہانی ایک ایسی ماں کی ہے، جس کا اکلوتا بیٹا اب آسمان کے تاروں

Read more

بچے کا سر بے ڈھب کیوں ہے؟

  پیڈز (اطفال) ڈیپارٹمنٹ سے فون تھا۔ ”کل رات ایک بچہ پیدا ہوا ہے، سر بہت سوجا ہوا ہے۔ اوزاری ڈیلیوری تھی، بچہ ٹھیک طرح سے دودھ نہیں پی رہا۔ ذرا دیکھ لیجیے گا کہ ڈیلیوری میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوئی۔“ گائنی/آبسٹیٹرکس اور پیڈز کے شعبے ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ حمل کے نو ماہ اور زچگی ہماری ذمہ داری اور زچگی کے بعد دنیا میں آنے والا بچہ ان کے سپرد۔ اگر کسی بچے

Read more

مشکل کے ساتھ آسانی ہے لیکن توکل ضروری ہے

پریشان وہ نہیں جو پریشانیوں میں گھرا ہو بلکہ پریشان وہ ہے جو خود پر پریشانیوں کو طاری کر لیتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریات زندگی کا پورا نہ ہونا سفید پوش عوام کے لئے امتحان ہے۔ بہت سے افراد وقتی مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتے ہیں اور آمدنی میں اضافے اور زندگی کو آسان بنانے کے لئے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ حال ہی کی بات ہے میں نے ایک ایپ کے

Read more

چارلس ڈارون سے کون خوفزدہ ہے؟

  (یووال نوح ہراری کی کتاب ہومو ڈیوس سے ایک مضمون کا ترجمہ) گیلپ سروے ( 2012 ) کے مطابق صرف 15 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ہوموسیپینز قدرتی انتخاب کے ذریعے ارتقا پذیر ہوئے ہیں اور کسی بھی الہامی مداخلت کے بغیر۔ 32 فیصد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت میں لاکھوں سالوں میں دوسرے جانداروں سے ارتقا پذیر ہوا ہو لیکن یہ سارا عمل خدا کی ہدایت پر ہوا ہو

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 8 )

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا گیا کہ استاد کی عزت کرو ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا کہ جو استاد کی عزت نہیں کرتا وہ بے ادب رہ جا تا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لئے استاد کی عزت ضروری ہے۔ آج کے بچے ماں باپ اور استاد سے دور ہو گئے ہیں اور گوگل سے قریب۔ کوئی مسئلہ پیش آیا نہیں کہ گوگل سے مدد مانگ لی۔ جب ہم کسی مسئلے میں ہوتے تو والدین کی مدد چاہتے تھے جس

Read more

بے بس مائیں، گمشدہ صدائیں

ماں کے وجود سے جنم لینے والی دنیا نے ہمیشہ اسی ماں کو صبر کا درس دیا، قربانی کا بوجھ دیا، اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ وہ جو سب کے لیے روشنی کا مینار بنی، خود اندھیروں میں دھکیل دی گئی۔ وہ بہن جو بھائی کے لیے دعا کرتی رہی، وہ بیٹی جو باپ کے سائے میں پروان چڑھی، وہ بیوی جو شوہر کے لیے زندگی کا سہارا بنی۔ مگر جب اس نے اپنے لیے جینے کی خواہش

Read more

برساتی مینڈک

  (اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ ’کایا کلپ‘ سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے ) برسات کو کس نے سہانا موسم کہہ دیا؟ ہندوستان میں جو بھی آیا لوگوں نے کچھ دیکھے سوچے سمجھے بغیر اسے اپنا لیا، اس کی اچھائیاں برائیاں سب اختیار کر لیں۔ برسات مشہد و شیراز کے ٹھنڈے علاقوں میں خوشگوار رہی ہوگی۔ فارسی ادب میں اس موسم کو پیارا لکھا جاتا

Read more

کعبہ پہ پڑی پہلی نظر

2025 کا آغاز بے حد حسین تھا۔ ہر سال کا آغاز ایسے ہی ہو تو اس سے زیادہ خوش قسمتی کسی انسان کی کیا ہو گی۔ ہم عمرہ کی نیت سے اللہ کے گھر کے مہمان بننے والے تھے۔ جیسے جیسے دن نزدیک آ رہے تھے، تیاریوں میں بھی تیزی آ رہی تھی اور اندیشوں میں بھی۔ اندیشہ اس بات کا کہ ہم تو پہلی بار جا رہے ہیں، کوئی غلطی سرزد نا ہو جائے۔ کبھی کسی سے مشورہ، کبھی

Read more

نئی کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ اریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

بچے فکشن کیوں پڑھیں؟

کلاس سے نکلنے کے بعد میں عموماً آہستہ چلتا ہوں تاکہ کسی بچے کو اگر مجھ سے کوئی سوال وغیرہ پوچھنا ہو تو وہ آسانی سے رسائی حاصل کرسکے ایسے ہی ایک دن ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا سر! یہ لیں آپ کا ناول مجھے فلاں استاد نے کہا ہے کہ آپ ناول وغیرہ نہ پڑھا کریں۔ یہ وقت کا زیاں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور دفعہ کالج کے کچھ طالب علم آئے تھے کلاس میں بچوں

Read more

بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ

گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران

Read more

ارتقا کا سفر بہت سست رو ہے

ڈاکٹر شفاعت علی کا خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب! آپ سے میرا تعارف تو ”ہم سب“ کے ذریعے ہوا مگر میرے خود سے تعارف کے جاری سفر میں آپ کی تحاریر بشمول آپ کی کتب بلامبالغہ اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ ایسی علم دوست اور انسان دوست شخصیت سے میری نسبت میرے لیے باعث مسرت اور فخر ہے۔ آپ کے تحریری الفاظ کی توسط سے تو آپ کے خیالات اور نظریات سے رابطہ رہتا

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (پانچویں قسط)

اگر بن بلائے، بن چاہے اولاد ہو، اور وہ بھی لڑکی، کی نشانیاں لیے، تو وہ بیٹی نہیں، لڑکی ہوتی ہے۔ اور لڑکی کا نام پہلے سے نہیں سوچا جاتا، بلکہ بعد میں بھی نام کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ اس زمانے میں ہسپتال میں تو بچے ہوتے نہیں تھے، کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ میں نام لکھوانے کی غرض سے نرس آئے اور نام پوچھے۔ یہاں تو ہر شیر خوار، لڑکی کو منی کہا جاتا، چوتھی لڑکی تک تو کنیز فاطمہ

Read more

شیطان کہاں سے آئے گا؟ دروازہ تو بند ہے!

ماہ مبارک رمضان کے آتے ہی یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ شیطان قید ہو گیا ہے۔ جب شیطان قید میں چلا گیا تو معاشرے میں شیطانیاں کون کرتا ہے؟ کچھ گروہ جیسے منافع خور اور ملاوٹ والا سامان فروخت کرنے والے تو پہلے سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے کو بھی سمجھتے ہیں پہلے ایک واقعہ پڑھ لیں۔ ہم کمرے میں بیٹھے تھے اور سردی کی وجہ سے کمرہ مکمل بند تھا۔ میری بیٹی نرجس فاطمہ جس کی

Read more

خلوص کی مہکار اور پھوار میں بھیگے ابر آلود دن کی کتھا

صبح سویرے جب گھر سے نکلے تو رات بھر برسنے والی بارش تھم چکی تھی۔ موسم ابر آلود دھند میں لپٹا، صاف ستھرا نکھرا نکھرا، سرسبز و شاداب رسالپور نظروں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ بادل، کہر آلود موسم اور بارش یہ ساری چیزیں مجھے بے حد پسند ہیں۔ بیماری سے پہلے اکثر ایسے موسم میں جوگرز پہن کے گھر کے سامنے واکنگ ٹریک پر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں، اپنی سوچوں میں

Read more

حصولِ علم کا آغاز

ہمارے گاؤں میں قیامِ پاکستان سے پہلے ہی لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول موجود تھا۔ جہاں پر ہمارے گاؤں کے ساتھ ساتھ اردگرد کے دیہات کے بچے بھی حصولِ علم کے لیے آیا کرتے تھے۔ ابا جی قریبی شہر بورے والا کے ایک سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ مجھ سے بڑے میرے دو بھائی تھے اور اُن دونوں نے پرائمری تک ہمارے گاؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کی اور چھٹی جماعت میں ابا جی کے ساتھ آ کر

Read more

کوزے بچ دریا

ضرب المثل اور محاورہ کسی بھی زبان کی تکمیل کے لیے لازم تصور کیے جاتے ہیں جو گفتگو، تقریر یا تحریر کو موثر اور مختصر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں کسی بات کی وضاحت و صراحت کے لیے کئی ایک جملوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے وہاں ایک ضرب المثل یا محاورہ کافی سمجھا جاتا ہے اور بات کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ دراصل ضرب المثل یا محاورہ انسانی زندگی میں بار بار

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ پہلا حصّہ

اگر ہم یہ کہیں کہ مغربی ادب کے مطالعے نے ادب کے متعلق ہمارے روایتی فکری رویّوں کو چیلنج کیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ مگر چونکہ ہماری ادب کی جڑیں مشرقی طرزِ فکر کی سرزمین میں پیوست ہیں تو ہمارا تخلیقی ادب اکثر اسی طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا نظر آئے گا۔ مغرب اور مشرق کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب ”ڈارک ایج“ سے نکلنے کے بعد ایک واضح ڈائریکشن پہ اپنی سمت

Read more

تعلق کا نا دیدہ بوجھ: نادرہ مہر نواز کی کتاب پر تبصرہ

نادرہ مہر نواز کی تحریریں بہت عرصے سے پڑھ رہی ہوں۔ ایک بار ان سے روبرو ملاقات بھی ہوئی، جو سو ملاقاتوں پر بھاری ہے۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ایک ہی ملاقات میں سامنے آ گئے۔ اس وقت سمجھ نہیں آ رہا، کہ ان کی تحریر پر تبصرہ کروں یا شخصی خاکہ لکھوں۔ انسان کو پڑھنا، سمجھنا میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ نادرہ اپنی تحریروں کی طرح سچی اور بے باک ہیں۔ وہ کھل کر ہنستی اور کھل کر

Read more

ممی کی ڈائری: بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں

بچے بڑے ہونے لگیں تو مائیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدرہڈ آسان ہونے لگتی ہے بلکہ بڑے ہوتے ہوتے تو یہ اور بھی مشکل ہونے لگتی ہے جب وہی گود میں ساری رات جھولا لینے والے بچے کہنے لگتے ہیں Mama, you are toxic! وہی جن کے نہلاتے دھلاتے شہزادے شہزادیاں بناتے مائیں سالہا سال منہ دھونا، نہانا کپڑے بدلنا تک بھول جاتی ہیں ان کو ایک دم ماں ان کی ساری

Read more

روایات سے آگے بڑھیں

بین الاقوامی یومِ خواتین دنیا کے کئی ممالک میں منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خواتین کی کامیابیوں کو کسی بھی قسم کی تقسیم کے بغیر تسلیم کیا جاتا ہے، چاہے وہ قومی، نسلی، لسانی، ثقافتی، معاشی یا سیاسی ہو۔ اس سال کے موضوع ”تیزی سے عمل کریں“ (Accelerate Action) کے تحت، اس دن کا مقصد مثبت تبدیلی کو فروغ دینا، رکاوٹوں کو ختم کرنا، اور صنفی مساوات کو تیزی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ یہ

Read more

ہم سا کوئی کہاں

گاڑی رکھنا اگر ایک فن ہے تو خریدنا اُس سے بھی بڑا فن ہے جس میں انسان کو پانچ کے ساتھ چھٹی حس کو بھی بیدار رکھنا پڑتا ہے ورنہ بدلے میں گاڑی نہیں ایک سر دردی ملتی ہے جو اُس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ گاڑی فروخت نہ ہو جائے۔ عظیم صاحب کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ زندگی بھر پہلے تانگوں پر اور پھر سرکاری بسوں پر دھکے کھاتے رہے، لیکن خوش قسمتی سے عمر کے

Read more

محکموں سے ابھی تک محروم نئے وفاقی وزراء اور "حقیقی صحافت”

ربّ کریم سے فریاد ہے کہ جب یہ کالم چھپے تو معاملہ حل ہو چکا ہو۔ منگل کی صبح تک اگرچہ حل نہیں ہوا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج سے چند روز قبل وفاقی کابینہ میں توسیع ہوئی تھی۔ نئے وزیروں نے حلف بھی اٹھالیا۔ محکمے لیکن انہیں ابھی تک الاٹ نہیں ہوئے۔ وزراء کی حلف برداری کے چند روز گزرجانے کے باوجود ان کے لئے محکموں کی تلاش حیران کن واقعہ ہے۔ اچھے وقتوں میں جب ’’صحافت‘‘ زندہ

Read more

انسانوں کا بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر

انسانوں نے صدیوں میں بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر طے کیا ہے۔ ماہرین سماجیات اور ماہرین نفسیات نے اس سفر کے چند سنگ میلوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی جانا کہ وہ سفر جو انسانوں نے اجتماعی طور پر سینکڑوں ہزاروں سالوں میں طے کیا ہے وہی سفر انسان بچپن سے جوانی تک چند سالوں میں طے کر لیتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے ہمیں بتایا کہ بچگانہ سوچ اور بالغانہ سوچ میں ایک بنیادی

Read more

میرا یہ حال کیوں ہوا؟

تصور کیجیے کہ آپ ایک سرنگ میں ہیں اور آپ کو وقفے وقفے سے آکسیجن مل رہی ہے۔ جس وقفے میں آکسیجن نہیں ملتی، آپ کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے۔ آکسیجن کی بحالی آپ کو پھر سے تازہ دم کرتی ہے۔ لیکن پھر آکسیجن نہ ملنے کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے، آپ کی سانس تنگ ہونے لگتی ہے، ذہن پہ غنودگی چھا رہی ہے۔ آپ سرنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں جلد از جلد لیکن سرنگ کا راستہ کچھ ایسا

Read more