عمران خان، زیلنسکی، قرۃ العین حیدر اور مریم نواز

چند ماہ قبل میرے ایک کزن کے بیٹے کی شادی تھی جو گاؤں میں رہتے ہیں۔ سرائیکی بیلٹ میں گاؤں میں ہونے والی شادی کے لیے اردگرد کے گاؤں کے لوگ بھی کہتے ہیں ”سائیں! وسیب دی شادی اے ونجناں تاں پوسی“ (اپنے علاقہ کی شادی ہے جانا تو پڑے گا) ۔ اس شادی میں بھی مہمانوں کی زیادہ تعداد کا تعلق مختلف گاؤں اور دیہات سے تھا اس لیے میرا خیال تھا کہ ولیمہ کا انتظام گاؤں میں ہی

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن

ہر سال 21 فروری کو ہم ان بنگالی طلبہ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبان بنگلہ کی خاطر 21 فروری 1952 ء کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستانی ریاست کی جانب سے ڈھاکہ کے طلبہ کی پولیس فائرنگ سے شہادت کے بعد ہر سال 21 فروری کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں یومِ شہداء کے طور پر منایا جانے لگا۔ یہ ان بنگالی طلبہ کی ہی قربانیاں اور جدوجہد تھی

Read more

کامیابی کے لئے جذبہ اور نعرہ کافی نہیں

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ کہ جب تک قوم کی مائیں اپنے بچوں کو دھرتی پر قربان کرتی رہیں گی اور نوجوان مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس سے پہلے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف اعلان کرچکے ہیں کہ دہشت گردوں کو اتنا گہرا دفن کیا جائے گا کہ وہ کبھی دوبارہ سر نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہ دونوں بیانات جوش تو دلاتے ہیں لیکن درپیش مسائل کا

Read more

ٹھنڈی چائے

شکاگو سے کراچی پہنچنے والی فلائٹ لیٹ تھی۔ صبح سات کے بجائے دس بجے بھائی کے گھر پہنچا۔ آج میری بھتیجی مہرین کی شادی تھی۔ ناشتے پر سب بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ناشتہ ہوتے ہی گھر کے سب لوگ مختلف کاموں میں مصروف ہونے والے تھے، میں نے بیگم صاحبہ کے دیے ہوئے تحائف بھابی کے حوالے کیے ، مہرین کو ڈائمنڈ سیٹ بہت پسند آیا۔ مختصر حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے اجازت چاہی

Read more

زندگی بچائیں۔ عطیات دیں

آج سے دو ماہ قبل اہلیہ کو کینسر تشخیص ہوا تو مختلف ہسپتالوں میں چکر لگے۔ ہر ہسپتال نے اپنا الگ طریقہ علاج اور ابتدائی طور پر لاکھوں روپے کا تخمینہ بتا کر میری پریشانی کو مزید بڑھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نجی ہسپتالوں نے ہماری جیبوں میں جھانکنا شروع کر دیا اور فوری داخل ہونے پر زور لگانا شروع کر دیا۔ ذہن ماؤف اور پریشانی اتنی شدید کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کتنے ہی دن تو

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

ہو سکے تو میرا ایک کام کرو، کوئی تو شاہراہ میرے نام کرو

خیر ہم نے بھی قسم اٹھا رکھی ہے کہ بندے کے بچے نہیں بنیں گے، ایک دوسرے کو تُن کے رکھو، برسوں سے ایک ہی روایت چلتی آ رہی ہے اور ذرا بھی اس روایت میں فرق نہیں پڑا اور کیوں پڑے جب ہم یہ چاہتے ہی نہیں کہ فرق پڑے، آپ نے دیکھا ہو گا کہ تازہ بہ تازہ سڑک تعمیر ہوئی خواہ وہ گلی محلے کی ہو یا پھر مین شاہراہ اس کی افتتاحی تقریب کے فوری بعد

Read more

فلسفے کے راز۔ پہلی قسط۔ ول ڈورانٹ

ول ڈورانٹ نے بیسویں صدی میں فلسفے کے ثقیل اور دشوار علم کو ساری دنیا کے عوام میں اسی طرح مقبول بنایا جس طرح سٹیون ہاکنگ اور کارل ساگن نے سائنس کے پیچیدہ علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچایا۔ میں نے جب ول ڈورانٹ کی سوانح کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ 1885 میں میساچیوسڑس امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق کینیڈا کے کیتھولک فرنچ خاندانوں سے تھا

Read more

ڈیٹرائیٹ سے کراچی کا سفر اور چار ہم سفر

آج رات آٹھ بجے شب میری ڈئیٹرائٹ، مشی گن سے پاکستان روانگی کا دن ہے۔ جہاں مقصد کچھ ماہ کے لیے کراچی ملیر کے کوہی گوٹھ ہسپتال میں بطور تھرپسٹ والینٹیر کرنے کاہے۔ ایک خواب جو میری کل وقتی ملازمت کے ساتھ اب تک ممکن نہ ہوسکا تھا۔ ڈیٹرائیٹ ائر پورٹ پہ سامان چیک ان کے بعد میں اپنے ہینڈ کیری کے ساتھ مسافروں کے لاؤنج میں پہنچتی ہوں۔ سیل فون ہاتھ میں ہے جسے چارج کرنے کے لیے میں

Read more

ہائے وہ میری پہلی محبت

25 فروری 2024 کے پچھلے پہر ایک فون کال نے بے جان کر دیا۔ پہلی فرصت میں کسی صورت اس پر یقین کرنے کو دل راضی نا ہوا۔ فون کرنے والے چھوٹے بھائی سے بار بار اور ہر پہلو سے اس خبر کی تصدیق کی اور ہر دفعہ دل و جان سے یہی چاہا کہ کاش یہ کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے۔ دل اس لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ ابھی اس واقعے سے دو

Read more

جالیاں

(یہ تحریر بے وقت، بے موت، نامعلوم پولیس اہلکار کی اندھی ریاستی گولی کا شکار بننے والے منظور بھائی اور ان کی صابر بہن کے نام) لالو کھیت کے گھر میں بیرونی دیوار پہ لگی جالیاں اور ان جالیوں سے جھانکتی ہماری آنکھوں نے کیا کچھ دیکھا! کھیل کھیل میں یونہی دیکھنے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا، ہنگام میں حالات جاننے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا؛ اگر کوئی جالیوں کی دوسری طرف سے ہماری آنکھوں میں جھانک سکتا

Read more

کب ملیں گے عورتوں کو انسانی حقوق؟

کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں بھی ڈاکٹروں والی امیونٹی آ گئی ہے۔ جیسے وہ لاشیں دیکھ دیکھ کر بے حس ہو جاتے ہیں، میں بھی عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے واقعات پڑھ پڑھ کر شاید بے حس ہو گئی ہوں۔ اب سوشل میڈیا پر صبح سے اس خبر کے بارے میں نوجوان لڑکیوں کا واویلا دیکھ رہی ہوں کہ وہاڑی میں ایک جواری نے بازی ہارنے پر جیتنے والے کو اپنی بیوی کا

Read more

نوعمروں میں منشیات کے بڑھتے واقعات اور والدین

ملک میں ایک کے بعد ایک کیس نے چونکا دیا ہے۔ اب بہت ضروری ہو گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ آپ کتنے بھی اچھے والدین ہوں، بہت ڈسپلن رکھتے ہوں، مگر موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ اپنے 14 سال یا 13 سال کے بچوں کو اپنی نگاہ میں رکھیں، اس بات کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کا بچہ غلط ہے، یا آپ نے اچھی تربیت نہیں کی ہے بلکہ حالات

Read more

ہومیو پیتھک طریق علاج کیا ہے؟

ہومیو پیتھک دوائی میں کافی اُلجھنیں، پیچیدگیاں اور نزاکتیں پائی جاتی ہیں، اِس لئے اِسے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہاں کچھ گمبھیر مسائل کی وضاحت کر دی ہے تاکہ کم از کم باریک بین اور نُکتہ داں حضرات تو اِسے سمجھ سکیں۔ میرے نزدیک ہومیو پیتھی میں نئے نئے نکات تلاش کرنا، اِک سائنسی عمل ہے، جسے ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ اب ہومیو پیتھ دوائی کے کچھ ایسے حقائق ملاحظہ ہوں، جو اکثر سمجھے اور سمجھائے نہیں جاتے۔

Read more

آج میری چھوٹی بیٹی نشاء کا جنم دن ہے

خوش نصیب ہوتا ہے وہ آنگن جہاں بیٹیوں کی چہکار ہوتی ہے، ان کی تو تکار، چھوٹی موٹی سی پیار بھری لڑائیاں اور ماما پاپا سے فرمائشوں کے تسلسل کے بنا یہ زندگی بھی بھلا کیا ہوتی، ان کی آوازوں میں سحر اور لہجوں میں جو مٹھاس ہوتی ہے اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی موسیقی یا دھن نہیں کر سکتی۔ ماں باپ کا درد بنا کہے ایک بیٹی ہی محسوس کر سکتی ہے کوئی اور بالکل بھی نہیں کر

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

گھاس پھونس کی مانند لوگ

درمیانہ سا کمرہ تھا۔ وہاں دو بیڈ تھے جن میں سے ایک پر ایک لڑکی آ کر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی عمر کی دوسری دہائی ابھی ابھی پار کی تھی۔ نکلتا قد تھا، ستھرا رنگ تھا۔ بہت خوبصورت نہ سہی، بہت قبول صورت تو تھی ہی۔ وہ دیکھنے میں بالکل تندرست تھی۔ اس کے پاس ایک نوعمر لڑکا بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں کم عمری والی بے فکری سے باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی سے بڑی

Read more

دسواں لائل پور پنجابی سلیکھ میلہ 2025

پنجابی ادب ک تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کا آغاز فرید الدین گنج شکر کی شاعری سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں بلھے شاہ، شاہ حسین، سلطان باہو، ہاشم شاہ، خواجہ فرید، وارث شاہ، میاں محمد بخش اور پیر مہر علی جیسے بزرگان نے اس کو ادبی معراج عطا کی۔ دمودر، پیلو، گرو نانک، موہن سنگھ، امرتا پریتم، شریف کنجاہی، شو کمار، استاد دامن، منیر نیازی، منو بھائی اور احمد راہی جیسے شعرا نے اس کی آبیاری کر کے،

Read more

زچگی کے عمل کا دوسرا فریق: بچہ

ویجائنل ڈلیوری کو آئیڈیل مانتے اور سیزیرین پہ لعنت بھیجتے ہوئے بیشتر لوگ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ڈیلیوری کے اہم ترین فریقین میں عورت، گھر والوں اور ڈاکٹر کے علاوہ کوئی اور بھی ہے اور وہ ہے عورت کے بطن اور ویجائنا کے راستے دنیا میں پہلا قدم رکھنے والا بچہ۔ زچگی کے عمل میں عورت اور بچہ ایک ایسا سفر طے کرتے ہیں جس کا ہر پیچ و خم ایک اندھا موڑ ہے جس کے آگے کھائی

Read more

انسٹا گرام اور اللہ سے پرہیز

مہ وش نے نانی کی یہ نصیحت دل پے لے لی کہ سیکس گندا کام ہے، گناہ ہوتا ہے۔ بچے مجبوری ہیں بس جلدی سے پیدا کرو وہ بھی دو تین، زیادہ نہیں۔ نانی نے فائر فائٹنگ بھی سکھا دی کہ عشا کی نماز مرد کی تاتاری یلغار سے بچنے کے لیے ڈھال اور تہجد جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے بہترین حربہ ہے ہارڈ وئیر کا ہول سیلر دہلی والوں کا میاں ماجد گھر آتا تو بہترین مرغن کھانے

Read more

بگڑے امیر زادوں کے ”کارنامے“ ۔ بستی بستی مقتل بابا

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے میر تقی میر نے کسی زمانے میں کہا تھا کہ دلّی کے امیر زادوں کی صحبت سے دور رہو کیونکہ ان ہی کی دولت کی وجہ سے غریب ہیں یعنی دلّی کے امیر مادیت پرست ہیں اور دولت جمع کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑتے اس لئے انہوں نے ہماری دولت ہم سے لوٹ کر ہمیں غریب بنا دیا ہے۔ یہ دلی

Read more

طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست

اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد

Read more

نزہت تائی

نہ فیصل کا قتل ہوتا، نہ بیٹے کے جنازے پر تائے میاں نزہت تائی پر غصہ ہوتے، نہ نزہت تائی سفید سپاٹ چہرے، خالی خشک آنکھیں لیے بھولے بھولے انداز میں انہیں تکتیں، نہ ان کا یہ چہرہ میرے حافظے کی البم پر چپکتا اور نہ میں نزہت تائی پر کچھ لکھتی۔ کاش! اے کاش کہ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ بہت کچھ ویسا نہ ہوتا جیسا کہ تھا۔ یہ موت کا

Read more

مجھے میرا پی ٹی وی لوٹا دیں

آج میں اپنے ملک کے ایک ایسے ادارے کے زوال پر رو رہا ہوں جو کبھی منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری خوبصورت روایات کا امین بھی تھا۔ مگر ناہنجاروں نے اسے بھی نہیں بخشا اور اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔ ہمارے بچپن کی حسین یادیں اسی ادارے سے جڑی تھیں۔ میں بات کر رہا ہوں پاکستان کے ایک معتبر ادارہ پاکستان ٹیلی وژن کی۔ پی ٹی وی صرف ایک چینل نہیں تھا۔ یہ ایک درسگاہ

Read more

آسماں در آسماں : ایک تہذیبی دستاویز

آسماں در آسماں، ان بچھڑے ہوئے فنکاروں کی کہانی ہے، جن کے اندر ہجرت کا ناسٹلجیا ایک دھڑکتے ہوئے دکھ کی طرح ہمیشہ زندہ رہا۔ وہ کہیں بھی چلے گئے، کسی بھی نئی سرزمین کے باسی بن گئے، مگر ان کا ماضی، ان کے دریاؤں، پہاڑوں، میدانوں، گلیوں، گھروں اور صحنوں کی یادیں ان کی تخلیقات میں سانس لیتی رہیں۔ آسماں در آسماں پڑھتے ہوئے قاری صرف ایک کتاب کا مطالعہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ہجرت کی ان سنسان گلیوں

Read more

”آنکھ اور اندھیرا“ کا کرداری مطالعہ

سیدہ عفرا بخاری نے افسانے تخلیق کرنے کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ”لیل و نہار“ سے کیا اور پھر اُردو افسانے کے سنجیدہ قارئین کے قلب و ذہن کو طویل عرصے تک متاثر کرتی رہیں۔ اپنے عہد کے مؤقر جرائد، جیسے سویرا، سیپ، نقوش، ادب لطیف، ماہِ نو اور فُنون نے ان کے افسانوں کو اپنے صفحات کی زینت بنایا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”فاصلے“ کے عنوان سے 1964 ءمیں میری لائبریری، لاہور سے شائع ہوا تھا اور

Read more

نانیوں دادیوں کے تیرہ بچے اور بڑے حکیم صاحب

سوشل میڈیا کے ذریعے مشوروں اور ٹوٹکوں کا بھی ایک بیش بہا دریا بہتا رہتا ہے۔ اور ہمارے یہاں چونکہ عوام الناس ڈاکٹرز کے پاس جانے میں کافی مشکل محسوس کرتے ہیں یا شاید ڈرتے ہیں کہ کہ ڈاکٹر سوئی نہ لگا دے۔ اس لیے کوئی بیمار فرد خود سے بھی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہے تو اس کو اپنے مشوروں سے ضرور نوازتے ہیں سو فیصد کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے بہت دور رکھا جائے۔ حتیٰ

Read more

وجود ایک وہم ہے

گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول سے مختلف ہوتی ہے۔ ماشا اللہ آپ جوان اور سمجھدار ہیں۔ آج ہم صرف ایک دوسرے کا تعارف حاصل کریں گے۔ کچھ فلسفے کے مضمون پر بات ہوگی اور کل آپ کا پہلا امتحان لیا جائے گا۔ امتحان میں بیٹھنے

Read more

عفت نوید کا افسانوں کا مجموعہ ”ردّی“

”ادب عام لوگوں کے بارے میں کچھ غیر معمولی دریافت کا فن ہے اور عام الفاظ سے کچھ غیر معمولی کہنا ہے۔“ ویسے تو یہ الفاظ ہیں ”ڈاکٹر ژواگو“ جیسی شہرہ آفاق کتاب کے ادیب بورس پاسٹرنک کے، لیکن عفت نوید کے افسانوی مجموعہ ”ردّی“ کو پڑھتے ہوئے مجھے بار ہا اس جملے کی صداقت پہ سر دھننے کا جی چاہا۔ عفت کے سادہ زبان اور عام فہم انداز میں لکھے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے

Read more

جامعہ پنجاب کا میلہ کس نے لوٹا

جامعہ پنجاب کی ریت رہی ہے کہ علم دوست احباب کو کتاب میلے کی صورت میں ہر سال کچھ دنوں کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ایک خیمہ آگاہی میں تمام تشنگان مکتب کو سیراب کرنے کا امکان میسر آ جائے۔ اس سال بھی یہ میلہ سجا۔ فروری کی بہار میں زندہ دل والوں نے طے کر لیا ہے کہ کبھی الحمرا میں فیض فیسٹیول سے اہل ادب کو فیض بخشنا ہے تو کبھی ہارس اینڈ کیٹل شو سے

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 5 )

ہم حالات کا رونا روتے ہیں مگر یہ حالات پیدا کس نے کیے ہیں ان حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہماری سوچ اور رویے نے سماج کو ایسا بنا دیا ہے۔ کیونکہ ہم بیٹی اور بیٹے کے لے الگ نظریہ رکھتے ہیں ہم بیٹیوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ اچھی لڑکی بن کر رہیں مگر ہم اپنے بیٹوں کو اچھا لڑکا بننے نہیں دیتے اس میں قصور سراسر والدین کا اور پھر سماج کا ہے۔ ہم اپنے

Read more

روحانی رشتوں میں ملبوس جنسی درندے

پاکستان میں چور وہی ہوتا ہے جو پکڑا جائے اور کیس کی اندراج سے پہلے مک مکا کر کے خود کو ’باعزت‘ چھڑا نہ سکے، ورنہ یقین کریں، اکثر لوگ سوشل میڈیا پر جن برائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خود بھی انہی برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں، بس موقع نہیں ملتا یا پکڑے نہیں گئے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی اور کالج کے کسی لیکچرار اور پروفیسر (میل فیمیل دونوں ) کے لئے یہ کیا کم ہے، کہ وہ قحط النساء پر

Read more

سر سکندر حیات خان آف واہ سے سردار سکندر حیات تک

قیام پاکستان سے قبل کی سیاست کے ایک اہم سرخیل متحدہ پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر و پہلے مسلمان وزیر اعظم سر سکندر حیات خان مرحوم آف واہ کے پوتے، ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے دو مرتبہ 1988 اور 1993 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور 1993 میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات رہنے والے سردار سکندر حیات خان کی چند ماہ بیشتر 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو لاہور میں رحلت سے پنجاب کی سیاست سے

Read more

میجر صاحب

چیت کی آخری دن جا رہے تھے۔ بیساکھ کا مہینہ شروع ہوا ہی چاہتا تھا بیساکھ کی آمد کسانوں اور کاشت کاروں کے لیے ہمیشہ سے ہی خوشی اور مسرت کا سندیسہ لاتی رہی ہے کیوں کہ چڑھتے بیساکھ کے ساتھ ہی گندم کی کٹائی شروع ہو جایا کرتی ہے۔ اس طرح کسان کی پچھلے چھ ماہ کی محنت کا پکا ہوا پھل اس کی جھولی میں گرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ فضل الہٰی کے لیے تو یہ دوہری

Read more

پہلے خواب اور پھر آکاش خود قتل ہوئے

جدائیوں، محرومیوں اور جبر کے خلاف لڑنے والے سندھی زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا ہے، جیسے سیاسی سفر میں ان کے خوابوں کا قتل ہوا۔ ان کو رہبر سے رہزن ثابت ہونے والوں سے گلا تھا، جس کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔ سندھ میں وہ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک کے متحرک رہنما رہے اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نعپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے

Read more

انہیں اف تک مت کہو

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاھُ و َبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَاناً​ ؕ اِمَّایَ۔ بۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُھُمَاۤ اَوۡ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَاۤ اُفٍّ و َّلَا تَنۡھَرۡھُمَا و َقُلْ لَّھُمَا قَوۡلاً کَرِیۡماً‏۔ اور فیصلہ کر دیا ہے آپ کے رب نے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انہیں اف تک مت کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان

Read more

آئی فیل (I Feel)

آئیے دوستو! آج میں آپ کو پاکستان کے ایسے روشن چہروں سے ملواتی ہوں، جو ہمارے ہی نہیں بلکہ حکومت کے حصے کے کام بھی اپنی مدد آپ کے تحت خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر بہار کے موسم کی سی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ جن کی شاخوں پر ہری بھری کونپلوں اور چمکتی ہوئی امیدوں کے نئے پھول کھلتے ہیں۔ جن کی خوشبو نئی زندگی، نئی سوچ، اور نئے راستے متعین کرتی ہے۔ یہ قصہ ہے

Read more

بنگلہ دیش میں کچھ دن قسط 2

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید، ترجمہ: گوہر تاج ہفتہ سات دسمبر 2024 ء ہفتہ کی صبح کا آغاز صبح ساڑھے پانچ بجے غازی نذر السلام کے حلقے میں اس کے ساتھ ہوا۔ ہم ایک چھوٹی موٹر بوٹ پر اس جزیرے کو دیکھنے گئے تھے جو اچانک غائب ہو جاتا ہے اور 65000 لوگوں کو مرکزی زمین پر آنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نذرل نے کہا کہ انہوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے عمر کے کئی بوڑھے مردوں کو دیکھا کہ

Read more

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم

اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔ میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال

Read more

گھر سے دربدر ہونے تک

پریشان چہرے دیکھے ہیں کبھی؟ جن کی بجھی ہوئی رنگت چیخ چیخ کر ان کے ٹھیک نہ ہونے کا اعلان کر رہی ہوتی ہے۔ لکشمی چوک کے پاس وہ دونوں ایسے ہی چہرے لیے سڑک کنارے بیٹھے ہوئے تھے جب میں چلتے چلتے ٹھٹھک کر ان کے پاس رک گیا۔ ایک چھوٹا سا بیگ ایک طرف زمین پہ دھرا ہوا تھا اور وہ دونوں اپنے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ ایک خالی خالی نظروں کے ساتھ فضا کو گھور

Read more

عورتوں کو اور کتنے حقوق چاہئیں؟

اتنی زبان چلائے گی تو مار ہی کھائے گی۔ بیٹیوں کا اتنا بولنا اچھا نہیں ہوتا۔ اگلے گھر بھی جانا ہوتا ہے۔ یہ انفرادی نہیں اجتماعی سوچ ہے پاکستانی سماج کی۔ لیکن کسی سال کا بھی عورت مارچ ہو۔ وہاں مردوں کے حقوق کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ مرد مارچ کر لیں۔ کسی اور نے مارچ کا انتظام کیا۔ عورتیں آئیں بات کی۔ آپ اپنے پلے کارڈ اٹھائے چل پڑے۔ ملاحظہ فرمائے پاکستانی مردوں کے بڑے بڑے

Read more

اپنی سوانح عمری ’سالک‘ کے قارئین کے نام

جب سے سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے بڑے اہتمام سے میری سوانح عمری ’سالک‘ شائع کی ہے اور کینیڈا میں اس کی تقریب رونمائی ہوئی ہے مجھے بہت سے دوستوں کے ادبی محبت نامے موصول ہوئے ہیں جن میں جہاں انہوں نے داد و تحسین کے پھول نچھاور کیے ہیں وہیں چند دلچسپ سوالات بھی پوچھے ہیں۔ میں اس کالم میں ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ دوستوں نے پوچھا ہے کہ میں نے اپنی

Read more

جان سے پیاری ”بیا“ کے نام

جدائی کا غم اگر اتنا گہرا اور پر اذیت نہ ہوتا تو اللّٰہ کے پیغمبر حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں اتنا گر یہ نہ فرماتے کہ ان کی آنکھوں کی روشنی ہی جاتی رہتی۔ جب زندگی جیسے قیمتی شخص کی جدائی کا کاری زخم دل پر لگ جاتا ہے تو وہ زخم شفا یاب نہیں ہو پاتا۔ برس ہا برس بعد بھی ایک گہرا درد اک مسلسل ٹیس کی صورت اپنے

Read more

کیا خاتون کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی؟

انسان صرف ”جیبی“ غریب نہیں ہوتا بلکہ ذہنی غریب بھی ہوتا ہے، جیبی غریب تو ایک خاص عرصہ تک محنت اور جہدوجہد کر کے اپنی اس معاشی کمزوری پر غلبہ پا ہی لیتا ہے لیکن ذہنی غربت کا علاج تو بے حساب سرمائے سے بھی ممکن نہیں ہوتا اور تعلیم بھی ایسے شخص کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ اس قسم کا بندہ ساری زندگی عیاشی کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے میں پرہیز گار بن کر دوسروں کا جینا

Read more

گھریلو ملازمین پر تشدد۔ ریاست بھی قصوروار؟

زمین پھٹی نہ آسمان گرا، ایک اور بیٹی اپنے باپ کی غربت مٹاتے مٹاتے خود مٹ گئی۔ چند دن پہلے راولپنڈی میں ایک گھریلو ملازمہ 12 سالہ اقرا کو مالک میاں بیوی نے اس طرح مارا کہ مار ہی ڈالا۔ وہ ایک ایسے گھر کی خادمہ تھی جس نے اس کی ہر طرح کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا تھا۔ غریب باپ نے 18 مہینے پہلے 8 ہزار تنخواہ پر اسے رکھواتے ہوئے گلے سے لگایا ہو گا اور لازمی

Read more

ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کی سنسنی خیز سرگزشت – پہلی قسط

میں نے کلثوم بائی ولیکا سیکنڈری اسکول کراچی ائر پورٹ سے 1970 میں میٹرک کیا۔ پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے اسکول کے ہم جماعت ڈاکٹر شبیر نواز صفوی کے گھر آغا باغ، کُری گوٹھ میں ملاقات ہوئی۔ شبیر کے چچا نامور فلمی اداکار کمال ایرانی تھے۔ اس ملاقات کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں مجھ سمیت آٹھ ہم جماعت بھی موجود تھے۔ کچھ سال پہلے ڈاکٹر شبیر اپنے کلینک سے اغوا ہوئے تھے۔ اُن کو کچے کے

Read more

سرکاری کالجز معیاری کالجز

نجی کالجز صرف سٹیٹس کی علامت ہیں ورنہ سرکاری کالجز ہی معیاری کالجز ہیں۔ نامور ادیب شعراء ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، بڑے بڑے بیوروکریٹس اور سائنس دان ہمارے ان سرکاری تعلیمی اداروں نے ہی پیدا کیے ہیں۔ کافی عرصہ سے اشتہاروں کے ذریعے گلیمر پیدا کر کے سرکاری اداروں کی قدر و منزلت میں جان بوجھ کر کمی کرنے کی کوشش کی گئی اور پرائیویٹ اداروں نے اپنے آپ کو خوب اچھالا، حالانکہ سرکاری کالجز، طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم

Read more

کتاب : دھواں

انسانی ذہن کی اختراعات ہیں ساری۔ دیر سویر بھی اسی ذہن کے کام ہیں۔ سوچتے سوچتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جن دنوں ”گر یاد رہے“ پڑھی تھی اس کے بعد جلد ہی ”ڈیوڑھی“ اور ”دھواں“ پڑھی تھیں۔ یہ گلزار صاحب کی شخصیت کا اثر ہے مجھ پر، ان کے ساتھ محبت کی وجہیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور میرے پاس ان کے ساتھ کرنے کی باتیں نہیں ہوتیں، سوائے الٹے سیدھے سوالات اور بے سرو پا باتوں کے جن

Read more

ایسا تعلق جو محبت نہیں تھا

دفتر کی سفید ٹیوب لائٹس، کمپیوٹر کی سکرینوں پر چلتے گراف، اور کافی کے ہلکے دھوئیں میں نایاب اور حسن کی دوستی ہر دن تھوڑا سا اور گہرا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں کولیگ تھے، مگر ان کے درمیان ایک ایسا بہاؤ تھا جو عام دفتری تعلقات سے مختلف تھا۔ جیسے دو ساز مل کر ایک خوبصورت دھن بناتے ہیں، مگر وہ دھن کبھی کسی گیت میں نہیں ڈھلتی۔ نایاب شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں۔

Read more

سورة رحمٰن سے علاج؟ مکمل کالم

ایک صاحب ہیں، ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اُن کا دعوٰی ہے کہ ہر بیماری کا علاج سورة رحمٰن میں ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ”آپ قاری باسط مصری کی آواز میں بغیر ترجمے کے سورة رحمٰن سات دن تک روزانہ تین مرتبہ سنیں، پاس آدھا گلاس پانی رکھ لیں، آنکھیں بند کر لیں، ترجمے کے بغیر اِس لیے کہ کہیں آپ کا دھیان لفظوں کی طرف نہ چلا جائے، فوکس سورة رحمٰن والے کی طرف ہونا چاہیے، اصل

Read more

"آزاد عدلیہ” دیکھنے کی تمنّا؟

کسی اور دھندے سے کہیں زیادہ صحافت کے لئے ’’برکت‘‘ واقعتا حرکت میں ہے اور پیر کے روز میرے کئی ساتھی یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ ان کے لئے ’’برکت‘‘ لوٹنے ہی والی ہے۔ اپریل 2007ء کے ایک دن اس وقت کے فوجی صدر مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنے ہاں طلب کر لیا تھا۔ موصوف کو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی موجودگی میں چند فائلیں دکھا کر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا گیا۔ افتخار چودھری

Read more

دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

میری پیاری دوست عظمیٰ سلیم کافی عرصے سے اپنی خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ میں نے سفاری ٹرین کا سفر کرنا ہے اور تمہارے ساتھ ہی کرنا ہے۔ مگر چار دن کی فرصت آرزو کی خواہش میں لہولہان ہوتی رہی اور ہم اس لہو رنگ آرزو کو گلاب کی مہک سے آشنا نہ کر پائے۔ اب کی بار عظمیٰ سلیم نے اسلام آباد آنے سے پہلے ہی فون پر الٹی میٹم دے دیا کہ اس دفعہ سفاری ٹرین

Read more

کہوں تو کیا کہوں اور کس سے کہوں؟

”آج یونیورسٹی نہیں جانا ہے کیا؟ اٹھو، دیر ہو رہی ہے۔“ ذکیہ کے کانوں میں ماں کی آواز گونجی تو اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ آنکھیں ادھ کھلیں تو پردوں کے درمیان سے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی سورج کی کرنوں نے اسے چندیا دیا۔ کرنوں سے نظر ہٹا کر اس نے چھت کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر پنکھے پر پڑی جو درمیانی رفتار سے چل رہا تھا اور ہر چند سیکنڈ بعد ایک ہلکی سی آواز

Read more

محفوظ مستقبل

‬زمانہ وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو، فانوس و گلدان کی ماند بنتے بگڑتے ہیں انساں۔ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اس عظیم مقولے کو آج فقط مذاق سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ شاید سیاستدان، اشرافیہ اور عسکری الجھاؤ ہے۔ آج ہر پاکستانی کے قلوب و اذہان پر مایوسی کے بادل چھائے ہیں ہر آدمی عدم استحقاق کا شکار ہے اور اس کا سبب بے روزگاری یا کاروباری انتشار ہے۔ آج ہر پاکستانی کی زبان

Read more

جواب آن غزل۔ ”جموعتھیے بھائی“ کی خدمت میں!

تعجب سے زیادہ افسوس اور اضطراب اس پہ ہوتا ہے کہ کوئی عام ہی کیا خاصے پڑھے لکھے اور آگے سے وہ ”جنھیں افغانستان جہاد بھیجا گیا“ یعنی اسلامی تحریک سے وابستہ اور ذہن کے کسی نہاں خانہ میں ”جذبۂ جہاد“ اور ”شوق شہادت“ لئے اقامت دین کی جدوجہد کا حصہ بننے والے لوگ حب عمرانی میں مبتلا ہو کر اتنے آگے تک پہنچ جائیں گے کہ جو یہاں تک کہنے میں بھی باک محسوس نہیں کریں گے کہ ”فلسطین

Read more

تیری خیراں

تم بیڈ پہ پڑے کیا کر رہے ہو، اتنا نہ ہو سکا آ کر ماں کے پاس ہی بیٹھ جاؤ۔ مانا تیری خیراں گھر نہیں، پر تیری ماں تو گھر ہی تھی۔ لیکن تم اس موئے موبائل سے باہر آؤ تو پھر ہے نا، جانے کس ماں کے ساتھ لگے رہتے ہو۔ گھر اور گھر والی کی فکر ہی نہیں تجھے۔ دفتر سے واپس آتے ہو اور اسے لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ بند کرتی ہوں تیرا یہ موبائل دیکھنا،

Read more

نو کا مطلب نو ہوتا ہے

چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پی ٹی آئی کے دور میں ایک عظیم کارنامہ یونیورسٹی آف چکوال کے قیام کی شکل میں سر انجام دیا۔ راجہ یاسر کے دادا راجہ سرفراز خان نے چکوال میں 1949 میں کالج بنا کر خود کو امر کیا تھا۔ یونیورسٹی کا قیام بلاشبہ چکوال کی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ یہ یونیورسٹی جہاں ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرنے کی درسگاہ ہے وہاں چکوال کی

Read more

مرتی ہوئی ماں اور بے بسی سے ہاتھ مَلتا بیٹا

ایک دوست ہے، قریبی دوست۔ اس کی والدہ کچھ عرصے سے بیمار تھیں۔ بھائیوں میں چھوٹا ہونے کے باوجود اس نے ماں کی ذمہ داری اپنے سر لی ہوئی تھی۔ وہ روزانہ مجھے فون کرتا، اپنی امی کے لیے مشورہ کرتا۔ کبھی ایک ڈاکٹر کو دکھاتا، کبھی دوسرے کو دکھاتا۔ اپنے ہاتھوں سے انھیں کھانا کھلاتا، جی جان سے ان کی خدمت کرتا۔ ہر نئی دوائی دینے سے پہلے فون کر کے مشورہ کرتا کہ یہ دوائی دے دوں نا؟

Read more

آسماں در آسماں : بر صغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں کی داستان

چند ماہ پہلے بھارت کے جاوید صدیقی کی برصغیر پاک و ہند کے فنکاروں کے خاکوں پر مشتمل کتاب ”میرے محترم“ پڑھنے کا موقع ملا۔ خوش قسمتی سے عزیزم گگن شاہد کے توسط سے جاوید صدیقی سے فون پر بات چیت بھی ہوئی۔ ان کی کتاب میں فن اداکاری، مصوری اور ادب سے تعلق رکھنے والوں کے خاکے شامل ہیں۔ آج ڈاکٹر شاہد صدیقی کی برصغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں پر لکھے گئے خاکوں پر مشتمل کتاب ”آسماں در

Read more

سُرخ خندق (افسانہ)

  میں محمد ابتسام حسن! تیرہ سال مسلسل درگاہوں پہ مانگی گئی دعاؤں کا ثمر۔ چاچا جی جو میرے ابو جی کو اپنی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بیٹوں کی طرح عزیز تھے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے سگے والدین سے بڑھ کر مَنتیں مان رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ دادی جی، امی جی، ابو جی کو جس کسی نے جو نسخہ، ٹوٹکا، دَم دارو بتایا انھوں نے من و عن وہی کیا۔ اور پھر ایک دن سجدے

Read more

اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں

چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔

Read more

معمولی سی رقم

یہ ایک مصروف سا پُررونق بازار تھا اور اس روز میرا جنم دن بھی تھا۔ میں اپنے جنم دن پہ ڈھلتی شام میں سر جھکائے اس بازار سے گزر رہا تھا، جب ایک چھوٹی سی بمشکل چار سال کی بچی بھاگتی ہوئی میرے سامنے آ کر اس طرح کھڑی ہو گئی کہ مجھے رکنا پڑا۔ صاف ستھرے کپڑے پہنے وہ کسی اچھے گھرانے سے لگ رہی تھی۔ اس کے منہ پہ کالے مارکر سے بلی کی طرح تھوڑا سا ڈیزائن

Read more

پرائمری اسکول سے امریکہ میں پروفیسری تک کا سفر۔ (آخری قسط)

میرے بچوں کی تربیت میں بیگم کا کردار ” جیسے یہاں بچوں کے دماغ میں بٹھایا جاتا ہے کہ تم نے مقابلے کا امتحان دے کر سرکاری افسر، ڈاکٹر، انجینئیر، پائلٹ بننا ہے باقی سب کام بکواس ہیں تو آپ نے بھی اپنے بچوں کو کچھ کہا؟“ ۔ ” تھوڑی بہت راہنمائی تو کی ہی جاتی ہے۔ میں تدریس کا کام کرتا ہوں۔ میری بیگم شادی سے پہلے پاکستان میں ڈاکٹر تھیں۔ عرض ہے کہ امریکی معاشرے میں گھر سے

Read more

کوئی پابندی رہ تو نہیں گئی لگانے والی؟ مکمل کالم

ایک سٹیج ڈرامے میں امان اللہ سے کسی نے پوچھا کہ اگر 9 / 11 کا واقعہ پاکستان میں پیش آیا ہوتا تو حکومت نے کیا کرنا تھا۔ اپنے وقت کے بے مثال کامیڈین نے جواب دیا ”حکومت نے اور تو کچھ نہیں کرنا تھا، بس ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی!“ امان اللہ نے اِس ایک جملے میں ہماری گورننس کا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جو لوگ میک گِل اور سٹینفرڈ جیسی

Read more

میرے امام

یہ ستر کی دہائی کا چترال ہے، کھانے کو دو وقت کی روٹی بہت مشکل سے میسر ہے۔ یہاں کے باسیوں کا مقصد حیات صرف ایک ہے کہ کسی طرح اگلی فصل کی تیاری تک زندہ رہا جا سکے۔ خوراک کی کمی سے پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کا اس وقت یہاں صرف ایک علاج ہوا کرتا تھا۔ ”موت“ ۔ اسی کشمکش کے دور میں شاہ کریم چترال پہنچ گئے۔ شاہ کریم اپنے مریدوں کے پاس دیدار واسطے آئے تھے

Read more

!شک رواں کی نہر ہے، اور ہم ہیں دوستو!

کچھ باتیں ہمارے ذہنوں میں کچھ اس طرح جاگزیں ہوتی ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتیں اور اگر بطور خاص۔ یاد کا تعلق کسی نازنین سے ہو تو بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کی یہ ایک فطری کمزوری ہے۔ کہ وہ صنف مخالف کی کشش سے خود کو کبھی رہا نہیں کر سکتا۔ جس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ بھلے وہ ہفتہ دس دن کی ہی یادِ دلفریب ہے ان کیف

Read more

دہقان قدیم اور تعلیم

زمانہ قدیم سے دریائے چناب اور دریائے جہلم اس خطے (ضلع جھنگ، ضلع ٹوبہ اور ان کے آس پاس کے علاقے ) کے بے تاج بادشاہ رہے ہیں۔ جہاں چاہتے بہتے، جہاں چاہتے ٹھہرتے۔ نہ کوئی روک، نہ کوئی ٹوک، جب دل کیا جو دل کیا بہا لے گئے اور نشانی کے طور پر ٹیلے (ریت) چھوڑ جاتے۔ جبھی یہاں کے باسیوں کا اس اجارہ داری کے خلاف کوئی چارہ نہ تھا۔ بودوباش انہی دریاؤں کے مزاج پر منحصر تھی۔

Read more

ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آداب! آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی

Read more

ایک پیش گفتہ موت کی روداد از :گابرئیل گارشیا مارکیز

ایک پیش گفتہ موت کی روداد، عالمی شہرت یافتہ ناول نگار ”گابرئیل گارشیا مارکیز“ کا ناول ہے جس میں انھوں نے عزت کے نام پر ”سانتیا گو نصر“ کے سفاکانہ قتل کو بنیاد پر بنا کر معاشرے میں دندناتے ہوئے بھیانک اور غیر انسانی رویوں کو بے نقاب کرنے کی سعی کی ہے۔ سانتیاگو نصر کے قتل کی کہانی اس کے پڑوس میں ہونے والی انجلا ویکاریو اور بیاردوسان رومان کی شادی سے شروع ہوتی ہے۔ سہاگ رات کو جب

Read more

حیات شیرپاؤ، حیات و خدمات

خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ ویسے تو کئی نشیب و فراز کی حامل ہے لیکن اگر اس میں سیاسی شخصیات اور ان کی پختونوں کے لیے خدمات کا تذکرہ کیا جائے تو ان میں باچا خان خاندان کے علاوہ اگر کوئی دوسرا نمایاں خاندان نظر آتا ہے تو وہ شیرپاؤ خاندان ہے۔ اس خاندان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز تو آفتاب شیرپاؤ کے والد بزرگوار خان بہادر غلام حیدر خان کا تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سے

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 3 )

چند دنوں سے جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے پورا سوشل میڈیا اس سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب دیکھ کر جو تکلیف ہوئی وہ تو اپنی جگہ ہے مگر پھر یہ سوچ کر شرمندگی ہوئی کہ ہم اپنے بچوں کو کیا ایسا پاکستان دے کر جائیں گے جہاں کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کی عزت جان اور مال محفوظ نہ ہو۔ میرے بچے پچھلے آٹھ سال سے دبئی میں رہتے ہیں ہم ہر سال اپنے پیاروں سے

Read more

یہ محنت کش بچے بھی پڑھنا چاہتے ہیں

کراچی میں ہماری رہائش گاہ کے قریب ہی کوئٹہ چائے ہوٹل ہے۔ چائے اور پراٹھا یہاں کی اصل سوغات ہیں جن سے لطف اندوز ہونے کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں اور یہاں ہر وقت گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ مجھے چائے کا شوق اور نہ ہی پراٹھے کی تمنا، البتہ میرے بچوں کو یہاں کا پراٹھا بہت بھاتا ہے اور وہ گاہے بہ گاہے یہاں سے پراٹھا سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ اس ہوٹل کے سارے

Read more

سالک۔ پیراڈوکسیکل سے میٹافوریکل سفر

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

محبت ، ڈیٹنگ یا شادی

شادیوں کا سیزن عروج پر ہے، شہنائیاں بج رہی ہیں، بچے رو رہے ہیں۔ مٹیاں جالے کھا کر پل بھی رہے ہیں۔ اذیت اگلی نسل میں ٹراسنڈ ہو رہی ہے۔ میں اپنے پاپا سے پوچھتا ہوں، ہم شادی کیوں کرتے ہیں، وہ بولے بیٹا، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ جواب مجھے سمجھ نہیں آیا۔ والدین پر پریشر ہے، مکان بنا کر دو، بیگم نوکری چھوڑ، بچوں کو پالنے میں اپنی پروفیشنل لائف کے سمجھوتے کا معاوضہ مانگ رہی ہیں۔ نفسیاتی مسائل

Read more

ایک سچی معاشرتی کہانی

شانتی میرے اسکول میں آیا تھی مذہب کے لحاظ سے کٹر ہندو لیکن ایک صاف ستھری اور وضع دار خاتون جس کے تیکھے نقوش اور رنگ و نکھار حالات کی دھوپ میں کملا ضرور گیا تھا مگر ابھی ختم نہ ہوا تھا۔ شانتی کا میاں رام رکشہ چلاتا تھا جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا زیادہ تر حصہ وہ دیسی شراب میں بہا دیتا مگر پھر بھی اپنے گھر کے اخراجات کے لئے شانتی کو معمولی سی رقم ضرور

Read more

ڈیفنس ہیپی فلاؤرز شاپ (1)

کاکو (خلیل ماجد) کی ماں شاہانہ، جسے اس کے گھر والے شانو کہتے تھے، گھر سے تین دفعہ بھاگی۔ چوتھی دفعہ بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی تو یہ عین ممکن تھا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اسے 42.195 کلومیٹر کی میراتھن دوڑ میں دوڑنے کے لیے بھیج دیتی۔ ہالینڈ کی سفان حسن نے حالیہ پیرس اولمپک میں یہ فاصلہ 2 : 22 : 55 میں طے کیا تھا۔ وہ تربیت یافتہ بھی تھی۔ شانو کی Running۔ Speed کا معیار بھلے

Read more

سرنگ (افسانہ)

چاروں طرف اونچی دیواریں، ایسی بلند کہ سورج کی کرنیں ان سے ٹکرا کر بکھر جاتیں، روشنی کی ایک ہلکی سی شعاع بھی اندر داخل نہ ہو پاتی۔ دو طرف وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شاید صدیوں سے مقفل تھے۔ اگر کبھی وہ ہمت کر کے انہیں کھولنے کی کوشش بھی کرتی، تو لکڑی کے چٹخنے کی ایسی دل خراش آواز گونجتی کہ خوف کے مارے اس کے ہاتھ کانپ جاتے۔ بقیہ دو طرف وہ دیوہیکل دروازے، جن کی ہیبت

Read more

نہر کنارے

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر

Read more

طاہرہ کاظمی کی جوتی

میں جب بھی طاہرہ کی تحریریں پڑھتی ہوں، سال کے سال اس سے ملتی ہوں، اس کی باتیں سنتی ہوں تو یوں لگتا ہے کہ اس کے اندر تخلیقی توانائی کا آتش فشاں پھٹ پڑا ہے۔ جسے اس نے نجانے کب سے دبا رکھا تھا۔ توانائی کا یہ گرم اور ابلتا ہوا لاوا پدرسری سماج کی کہنہ روایات کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے۔ طاہرہ امراض نسواں کی ماہر ہیں اور خود کو گائنی فیمنسٹ کہتی ہیں

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

نادار لوگ: معاشرتی استحصال کا نوحہ

اردو ادب میں ناول نگاری کے معتبر ناموں میں عبداللہ حسین کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ اردو کے نامور ادیب، صحافی، افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا، لیکن وہ عبداللہ حسین کے قلمی نام سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کی وجہ شہرت معروف ناول ”اداس نسلیں“ ہے۔ نادار لوگ عبداللہ حسین کا ایک شاہکار تاریخی ناول ہے، جو 1947 ء سے 1974 ء کے درمیانی عرصے کے واقعات پر محیط ہے۔

Read more

ناول ”اندھیرا خواب“ کا موضوعاتی تجزیہ

انسان کے تمام کارفرما عوامل کے پیچھے دماغ اور اس کی پیچیدگیاں ہیں۔ سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک انسانی دماغ شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بٹا ہوا ہے۔ کسی بھی انسان کے گرد انجام پانے والے پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوامل یا تو اس کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر کہیں لاشعور میں پناہ لیتے ہیں۔ مگر وقتاً فوقتاً اس کا لاشعور اور ماضی اسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ انسان

Read more

یہ کہانی بھی ایک حقیقت ہے

قصے کہانیوں سے انسان کا واسطہ ازل سے رہا ہے اور ابد تک رہے گا۔ انسان کے ساتھ کہانی ہر زمانے، ہر دور بلکہ ہر لمحہ وابستہ رہی ہے۔ انسان کی زمین پر تخلیق، اس کا جنگل اور غاروں میں رہ کر ترقی کرتے کرتے ہوا میں اڑنا اور چاند پر قدم رکھنے تک سب ایک کہانی بلکہ کہانیاں ہیں۔ ہمارے استاد ناصر عباس نیر صاحب نے اپنے ایک افسانے ”کہانی کا کوہ ندا“ میں لکھا ہے کہ کہانی جھوٹی

Read more

پنجابی لسانی یادداشت اور پختون

آخری دفعہ پختون بت پرست نہیں تھے، بوت پرست تھے۔ پختون اگر ایسے ہی جنگ پسند تھے جیسے کہ ان کے بارے میں لکھا اور تصور کیا جاتا ہے، تو پھر ان کی سرزمین کی آرکیالوجیکل کھدائی سے قدم قدم پر انسانی ڈھانچے نکل آنے چاہیے تھے، لیکن یہاں ڈھانچوں کی بجائے بت نکل رہے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ پختون لاشیں جلایا کرتے تھے اور بت پوجا کرتے تھے۔ اس کے باوجود بھی حیرانی اس وقت ہوتی ہے

Read more

بسنت پنچمی اور سرسوتی

آپ نے بسنت کا تہوار تو بہت منایا ہو گا۔ بچپن میں، لڑکپن میں پتنگیں بھی بہت اڑائی ہوں گی۔ لیکن اس تہوار کے منسوبات سے واقف نہیں ہوں گے۔ آج ہم بات کریں گے ہندوستان میں منائے جانے والے خوبصورت تہوار بسنت پنچمی کے بارے میں، جو ہر مذہب کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔ قدیم ہندی اساطیر کے مطابق یہ تہوار علوم و فنون کی دیوی ماں سرسوتی سے منسوب ہے۔ یہ تہوار موسم بہار کے شروع میں

Read more

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا

ریاض قدیر کی افسانوی دنیا سعادت حسن منٹو، گائے ڈی موپساں، خواجہ غلام فرید، ترقی پسندی، میلو ڈرامہ اور بے پناہ آئیڈیلزم سے عبارت ہے۔ منٹو اور موپساں اُن کی آل ٹائم انسپائریشن رہے، چناں چہ اِنہی کے تقابلی جائزے پر اُنہوں نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا، جب کہ انگریزی، اردو اور سرائیکی پر یکساں دسترس نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ موپساں اور مشیل فوکو کو اردو، اور خواجہ غلام فرید کو انگریزی کے قالب میں ڈھال

Read more

مہک

ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو

Read more

سقراط: فکر کے سمندر میں ڈوبتا ہوا سورج

کہتے ہیں کہ تاریخ کے دریاؤں میں بہت سے موتی چھپے ہوتے ہیں، مگر کوئی ایک ایسا ہیرا بھی گزرا ہے جس کی چمک نے زمانے کے سینے پر ایک ایسا نقش چھوڑا کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی اس کی روشنی سے انسانیت کا کارواں منور ہے۔ یہ ہیرا کوئی اور ہیں، وہی سقراط ہے جس نے ایتھنز کی گلیوں میں چل کر بھیڑ کو نہیں، بلکہ حق کی تلاش کو اپنا راستہ بنایا۔ جس نے زہر کے

Read more

بلوچستان میں بغاوت کچلنے کے لیے محرومیاں ختم کی جائیں!

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار عناصر کو ہر قیمت پر ختم کرنے اور امن بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجیوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نام نہاد دوست نما دشمن کچھ بھی کر لیں، پاک فوج انہیں قوم کے تعاون سے شکست دے گی‘ ۔ آئی ایس پی آر کی اطلاع کے

Read more

ونی: ایک قبیح رسم

ایک دن سہ پہر کو بالکونی میں کافی دیر سے رنگین ماہنامہ (اخبار جہاں) پڑھنے میں منہمک تھا کہ اچانک ایک جانی پہچانی آواز ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی میرے کانوں تک پہنچی۔ متجسس ہونے پر رسالے کو ایک طرف رکھ کر سیڑھیاں اترنے لگا تو معلوم ہوا کہ یہ آواز سعدیہ کی تھی۔ سعدیہ کی نظر مجھ سے دو چار ہوتے ہی شرمائی۔ اپنے آنچل سے آفتابی چہرہ چھپا کر جھک کے زمین کو تکنے لگی اور

Read more

نکلے جو ہم ڈھونڈنے رشتہ

آج کل پاکستان میں اچھا رشتہ ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا کہ کسی سرکاری محکمے میں کوئی ایماندار افسر ڈھونڈنا۔ قحط الرجال کے اس دور میں ہر دو کو ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ خاکم بدہن ہماری اس تحریر کا مقصد کسی سرکاری افسر کی شان میں گستاخی قطعاً مقصود نہیں۔ اس کا ایک ثبوت، جس کی تفصیل ہم آگے جا کے بیان کریں گے، تو یہ ہے کہ ہم خود اپنے رشتے کے لئے کئی سرکاری

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط ( 2 )

پرما مجھے ہمیشہ سے بیٹیاں بہت اچھی لگتی ہیں میری خواہش تھی کہ میری پہلی اولاد بیٹی ہو۔ تمہارے بعد دوسری اولاد کی کوئی خواہش مجھے اور بابا کو نہیں تھی۔ مگر یہ تم تھیں جسے ایک بھائی چاہیے تھا۔ آج سوچ کر اتنا عجیب لگتا ہے کہ فرجاد کے بغیر زندگی کتنی خالی ہوتی۔ تمہیں معلوم ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ بیٹی کی پیدائش پر سوگ مناتے ہیں اور بہت سے ماں باپ بیٹی کو پیدا ہونے

Read more

علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ بات چیت (آخری قسط)

  ” اختر صاحب نے مجھ سے پنجابی میں پوچھا کہ کیا تم سید ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں! طالب حسین نے کہا کہ یہ پنجابی جانتا ہے۔ پھر کہا کہ سید صاحب! آپ کا کیا تخلّص ہے؟ میں نے کہا کہ احسن عطائی مجھ سے پوچھا اس کے کیا معنی ہوئے؟ میں نے جواب دیا کہ عطا کردہ۔ پنجابی میں کہنے لگے کہ ایسا لگتا ہے جیسے عطائی ڈاکٹر ہوتے ہیں“ ۔ ” نہ کوئی مرشد

Read more

پاکستانی سوشل میڈیا کلچر: ترقی کی دوڑ میں ہمارا ”منفرد“ میدان

دنیا مسلسل ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ مغرب مصنوعی ذہانت (AI) میں انقلاب لا رہا ہے، جاپان اور کوریا روبوٹکس میں حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، چین دنیا کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر بنا رہا ہے، امریکہ اور یورپ ماحول دوست ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہے ہیں، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی معیشت پر قبضہ جما رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایک منفرد ترقی ہو رہی ہے۔ ہم نے

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

ہندوستان سے ایک خط

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) عزیز از جان سعادت و اقبال نشان برخوردار کامران طول عمرہ بعد دعا اور تمنائے دیدار کے یہ واضح ہو کہ یہ زمانہ خیریت تمہاری نہ معلوم ہونے کی وجہ سے بہت بے چینی میں گزرا۔ میں نے مختلف ذرائع سے خیریت سے خیریت بھیجنے اور خیریت منگانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ایک چھٹی لکھ کر ابراہیم کے بیٹے یوسف کو بھیجی اور تاکید کی کہ اسے فوراً کراچی

Read more

آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس

نیوٹن ایک انگریز سائنسدان تھے جن کا شمار تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی مکینکس کی بنیاد رکھی، کشش ثقل کا قانون پیش کیا، اور حرکت کے تین قوانین بیان کیے۔ یہ قوانین طبیعیات کی بنیاد بن گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ زمینی اور آسمانی اجسام ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ نیوٹن کے کام نے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھنے کے نظریے کو ختم کر دیا اور سائنسی انقلاب

Read more

تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more