لڑکی تو بہت اچھی ہے بس ذرا۔۔۔

آریان آئے، ترک آئے، انگریز آئے اور ایسے آئے کہ گنگا اور سندھ کے درمیان بستے لوگ، جنہیں خدا نے گندمی حسن بخشا تھا، اپنے رنگ پر پشیمان ہوتے ہوتے اور صدیوں کے پہیے میں گھومتے، آج کی اس دکان تک جا پہنچے جہاں تیز کیمیائی کریمیں دس روپے کے ساشے میں بکتی ہیں۔ ان کریموں کے اشتہاروں پر بتدریج گوری ہوتی تصویریں ہمارے سماج و پہچان کے خالی برتن پر، جہالت کی آگ سے لگی کالک ہے۔ ٹی وی

Read more

قبر میں گلاب کے گجرے پروتی لڑکی اور حقیقی زیادتی

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک صاحب نظر حضرت کا گزر کسی قبرستان سے ہوا۔ قبرستاں کا خوف گوشے گوشے میں طاری تھا، موت کی ایسی ویرانی تھی کہ اشجار سے پرندے تلک اڑ چکے تھے۔ اطمینان نوچ دینے والے سکوت کے باوجود حضرت کی آنکھوں نے دل چسپ و عجیب منظر دیکھا۔ شہر خموشاں کی ہولناکی میں بھی کچھ حیران کن دل فریبی موجود تھی۔ صاحب حضرت فرماتے ہیں کہ ایک قبر چاک تھی، جس میں ایک نوجوان لڑکی

Read more

دھونس کی وبا اور پون صدی کو محیط بلوچستان کا لاک ڈاؤن

پینسٹھ کی جنگ میں انتظار حسین نے شاکر علی سے پوچھا، وطن کے دفاع کے لیے بھی آپ کچھ کر رہے ہیں کہ نہیں؟ شاکر علی نے کہا، میں تو ان دنوں چاند پینٹ کر رہا ہوں۔ تعجب سے انتظار صاحب نے پوچھا، جنگ کے دنوں میں چاند پینٹ کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ بولے، چاند ہندوستان میں بھی چمکتا ہے اور پاکستان میں بھی۔

کوئی پانچ برس قبل اپنے ہفتہ وار کالم میں وجاہت مسعود نے یہ حوالہ باندھا تو جنوں کی حکایتیں لکھنے والے قلم کاروں نے وہ سارے کینوس نکال کے سامنے رکھ دیے جو انہوں نے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھے تھے۔ کسی کینوس پر درد کے کھینچی ہوئی آدھ ادھوری لکیریں کھنچی ہوئی تھیں اور کسی پر جنگ زدہ عمارتوں سے جھانکنے والی سہمی ہوئی زندگی کو پینٹ کیا گیا تھا۔ ان میں ایک کینوس ایسا بھی تھا جو در اصل کینوس نہیں تھا۔ یہ بہن کا سفید دوپٹہ تھا جس پر کسی بے چین روح نے خاک ہوئے ارمان پینٹ کیے ہوئے تھے۔ کچھ حسرتیں بھی پینٹ کی ہوئی تھیں جو ناتمام رہ گئی تھیں۔ اس میں ایک کینوس دھول سے اٹا ہوا تھا جو بلوچستان سے آیا تھا۔ یہ در اصل چیخوں اور آنسووں کی گواہی دینے والے اخبار نویس ارشاد مستوئی کا دامن تھا، جسے دکھائی نہ دینے والے کچھ لوگوں نے دفتر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عابد میر غم کی سیاہ راتوں میں اس دامن پر خاموشی پینٹ کر رہے تھے۔

Read more

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ

روئے زمین پر قدرت کی طرف سے بکھری ہوئی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی دولت، اور سب سے انمول نعمت ماں کا عظیم سرمایہ ہے ’، اسی دولت کے دم سے زندگی میں بہار ہے‘ ، دنیا میں پھیلی ہوئی محبت کی شعاعیں اسی ماں کی ممتا کے خورشید جہاں تاب کا جلوہ ہے، اولاد کے تئیں ایثار وقربانی، اخلاص و وفا، الفت محبت، وارفتگی وجاں نثار ی کے حوالے سے ماں وہ بے نظیر اور روشن استعارہ ہے

Read more

لگے رہو منا بھائی

کرونا کی عالمی وبا، جسے ہمارے عوام و خواص نے شروع سے ہی بہت آسان اور سادہ سمجھا وہ بھی اس زعم میں کہ ہم پاکستانیوں نے ہر طرح کا آلودہ پانی پی رکھا ہے اور ہر قسم کی ملاوٹ زدہ خوراک کھا رکھی ہے اور یہ جراثیم وغیرہ کو ہم بھلا کیا سمجھیں۔ لیکن اب جبکہ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہسپتالوں میں صحت یابی کی منتظر ہے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں ”نو ویکنسی“ کے بورڈ نظر

Read more

عالمی وبا اور ہیں ہمارے بھی غمخوار کیسے کیسے

ابتلاء کا دور ہے، ملک بھر میں مہلک وائرس (کووڈ۔ 19 ) سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بات کورونا وائرس اور اس کے اثرات پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ایسی وبائیں بھی پھوٹ پڑی ہیں جن کا تعلق کسی وائرس سے نہیں بلکہ براہ راست انسانوں سے ہے جو وہ بغیر کسی وائرس کے سہارے کے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کو اس وقت صرف کورونا وائرس کی عالمی وبا کا سامنا ہی نہیں بلکہ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا اور جہالت کی مہلک وبائیں بھی پھوٹ پڑی ہیں۔

Read more

کرونا نر ہے یا مادہ

کسی بھی تحریر و تقریر میں ذکر کیا گیا واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں استعمال کیے گئے الفاظ کی بھی ہوتی ہے۔ یعنی تحریر و تقریر کی خوبصورتی الفاظ کے انتخاب اور اس کے بعد صحیح اور برمحل استعمال میں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تحریر و تقریر تو بہت شاندار ہوتی ہے لیکن دو چار الفاظ اس کا مزا کرکرا کردیتے ہیں۔ نادانی یا نادانستگی میں ہم الفاظ کو صحیح طور ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی مذکر و مؤنث کی چھوٹی سی غلطی تحریر و تقریر کو پھیکا کر دیتی ہے تو کبھی ”کا، کے، کی، ہے، ہیں“ وغیرہ کا غلط استعمال تحریر و تقریر کو اڑان بھرنے سے روک لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک بار خان عبدالولی خان سے کسی صحافی نے اصلاح کی غرض سے کہا کہ جناب آپ نے اپنی تقریر میں ”قوم“ کو مذکر استعمال کیا ہے حالانکہ یہ مؤنث ہے۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھئی آپ کی قوم مؤنث ہوگی ”ہمارا“ قوم تو مذکر ہے۔

Read more

اشیا کی مرمت کا حق اب چھیننا ہی پڑے گا

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسا عنوان ہے؟ مرمت کا حق کیا بلا ہے اور کس نے یہ چھینا ہے کہ اس کی واپسی کی بات کی جا رہی ہے۔ مرمت ہمارے اذہان میں تو کوئی ایسی چیز نہیں جس سے کوئی آپ کو روکتا ہو لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سامنے آئے بغیر سرمایہ دارانہ نظام کی پیروکار کمپنیاں یہ حق مختلف طریقوں سے صارفین سے چھیننے میں مصروف ہیں اور آگاہ صارف اس حق کو واپس حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور بہت سی سطح پر یہ جنگ جاری ہے۔

گزشتہ زمانے میں مرمت ایک ضروری چیز سمجھی جاتی تھی اور چیزیں تب تک نہیں پھینکی جاتی تھیں جب تک ان کی مرمت ممکن ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ آلات اب بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور ان میں سافٹویئر کے استعمال کی وجہ سے آپ یا کوئی عام ٹیکنیشن مرمت خود نہیں کر سکتا بلکہ آپ کو کمپنی کے اپنے مرمتی مراکز پر جانا پڑتا ہے جہاں پر کچھ بنیادی مرمت تو کر دی جاتی ہے لیکن اکثر نئی چیز خرید لینے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کمپنیاں جان بوجھ کر متروکیت کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں تاکہ صارف نئی چیز خریدنے پر مجبور ہو جائے جیسا کہ ایپل کمپنی پرانے آئی فون کو جان بوجھ کر آہستہ کرتی ہوئی پکڑی گئی تھی اور بعد میں انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ ہم تو اس لیے آہستہ کر رہے تھے کہ کہیں بیٹری زیادہ کرنٹ نکالنے کی وجہ سے خراب نہ ہو جائے۔

Read more

پوسٹ مارٹم رپورٹ

پوسٹ مارٹم رپورٹ 1
” آئندہ 20۔ 15 روز میں ہم ونٹیلیٹرز میں خود کفیل ہو جائیں گے“ ، فواد چوہدری۔

آج فواد چوہدری صاحب کے منہ سے یہ خبر سن کر سمجھ نہ آیا کی ہماری کیفیت کیا ہو رہی تھی، کبھی تو یوں محسوس ہوتا کہ دل بلیوں اچھل رہا ہے۔ خوشی کے مارے کہ اب موت سے نبرد آزما ہونے کے 20 % مواقع بڑھ گئے ہیں اور کبھی اس خوف سے روح کپکپانے لگتی کہ اب 80 % تیاری پکڑ لی گئی ہے حکومت کی طرف سے ان ونٹیلیٹرز کو دنیا کی سستی ترین جانیں سپرد کرنے کی۔

Read more

محبت ایک اور عنوان ہزاروں

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا، شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق، یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان نہیں کی جا سکی جو بتا سکے کہ آخر محبت ہے کیا؟

جہاں محبت ایک خوبصورت لفظ ہے وہاں محبت نام ہے احساسات کا جذبوں کا، قربانی کا ایثار کا۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کا برا نہیں سوچ سکتے اس شخص کو دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتے ہیں اپنا آپ بھول جاتے ہیں بس یاد رہتا ہے تو وہ جس سے ہمیں محبت ہوتی ہے۔

Read more

باؤلی

”چل نکل ادھر سے۔ کمبخت ماری، نیستی، بدبخت“
”چلی جاؤں گی جی۔ ۔ ۔“
”کب جائے گی؟“
”بس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنے دیں۔“
”تیری تھوڑی دیر تو گھنٹوں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔“
”میں بس ایک گھنٹے کے لیے بیٹھوں گی۔“
”ایک گھنٹہ کیا ایک منٹ بھی نہیں۔ ۔ ۔ چل اٹھ۔ ابھی نکل۔ ابھی کے ابھی نکل۔“

Read more

ہما دلاور کے دس سوال

ہما دلاور کے ڈاکٹر سہیل سے دس سوال سوال نمبر 1۔ دانائی کیا ہے؟ سوال نمبر2۔ دانائی کا منبع کہاں ہے؟ سوال نمبر 3۔ زندگی گزارنے کے لئے دانائی کتنی اہم ہے؟ سوال نمبر 4۔ کیا دانائی سیکھی یا سکھائی جا سکتی ہے؟ یا سوال نمبر 5۔ کیا دانائی کوئی خزانہ ہے جسے تلاش اور حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سوال نمبر6۔ کیادانائی اور علم کا کوئی رشتہ ہے؟ اور اگر ہے تو کیا رشتہ ہے؟ سوال نمبر 7۔ کیا

Read more

بلوچستان کی آواز سنیے

ایک متحرک اور مستقبل کے بارے میں پر جوش یقین رکھنے والا سماج لازمی طور پر چند بنیادی انسانی اوصاف یعنی تحفظ ذات اور جمہوری اقدار پر مبنی اختلاف و اتفاق رائے کے حق پر یقین رکھنے سے ہی قائم ہوتا ہے۔ بلا شبہ جمہوری رجحانات راسخ العقیدہ نہیں ہوتے۔ یہ محض آزادی اظہار کے حصول کے مطالبے تک محدود سوال نہیں بلکہ وسیع تر معنوں اور معاشرتی تعامل میں انسان دوستی اور اپنی رائے قائم کرنے اسے ظاہر کرنے

Read more

فیمنسٹ، کمیونسٹ کہیں کی

ہائے اللٰہ! میری ایک بچی ہے کمیونسٹ کہیں کی۔ جی صحیح سنا ہے آپ کی سماعتوں نے کمیونسٹ ہوگئی ہے۔ ایسی ایسی سخت اور موٹی انقلابی باتیں کرتی کہ پرہیز گار بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ صرف کمیونسٹ ہی نہیں، حقوق نسواں پر بھی خوب پر پرزے نکل آئے ہیں۔ غضب خدا کا ناجانے کہاں سے ایسی باتیں سیکھ سیکھ کر آ رہی ہے، ہم نے تو ایسی تربیت کی نہ کبھی حرام کا لقمہ کھلایا، پتا نہیں کن گناہوں

Read more

کس کی ماں کو ’’ماسی‘‘ کہیں

اس ہفتے کا آغاز ہوتے ہی میں نے پیٹرول کی نایابی کی بابت دہائی مچادی تھی۔وہ کالم لکھتے ہوئے میں اس امر پر بھی بہت پریشان ہوتا رہا کہ 24/7 نیوز سائیکل والے قوم کو ہرلمحہ باخبر رکھنے کے دعوے دار کئی ٹی وی نیٹ ورک کے ہوتے ہوئے بھی مجھے اس مسئلہ کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ مان لیتے ہیں کہ میڈیا ان دنوں اتنا آزاد اور بے باک نہیں رہا جتنا ’’چوروں اور لٹیروں‘‘

Read more

نشے کی لت اور نوجوان نسل

میری امی ابو اور ہر ایک مہینے بعد دروازے کی راہ دیکھتی ہے کہ اج یا کل ہمارا بیٹا ہاسٹل سے گھر آنے والا ہے اور میں جب گھر میں داخل ہوتا ہوں تو میری امی مجھے گلے سے لگا کر کہتی ہے ہائے تم کتنے کمزور ہوگئے ہو کیا تم پھر ڈائیٹ پر ہو اور پھر طرح طرح کے نوازشات مجھ پر شروع ہو جاتے ہیں اور دو دن میرا خوب مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ میرے بات کا

Read more

پاکستان کا نظام تعلیم

قومیں تعلیمی ترقی سے نمو پاتی ہیں۔ جو افراد جتنے تعلیم یافتہ ہوں گے اسی قدر مہذب، شائستہ اور خوددار بھی ہوں گے۔

یہ بات اکثر لوگوں کے لیے باعث حیرت ہو گی کہ میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند میں 1858 ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ذہانت اور صلاحیت میں ہم سے نصف کے مالک ہیں اس لیے ہمارے پاس ”پاسنگ مارکس“ 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860 ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت اور صلاحیت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

Read more

فضہ پاگل کیسے ہوئی؟

میں نے حمزہ کو ناشتہ کرانا ہے تمھیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی میں پہلے حمزہ کو ناشتہ کر اؤں گی پھر خود کھاؤں گی تم روز آکر کہتی ہو ناشتہ کرلو ناشتہ کر لو میں دوبارہ نہیں لاؤں گی مجھے کوئی کیوں ناشتہ لاکر دے گا میں خود ناشتہ بناتی ہوں اور یہ کیا انڈا اور توس میں انڈا توس نہیں کھاتی دیر سے ناشتہ کرتی ہوں مگر پراٹھا اور انڈا وہ بے تکان بول رہی تھی کوئی سنے نہ سنے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔

Read more

محبت ایک اور عنوان ہزاروں

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا، شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق، یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان نہیں کی جا سکی جو بتا سکے کہ آخر محبت ہے کیا؟

Read more

ابتدائی بچپن کی تعلیم (2)

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بچے کی پیدائش سے قبل اور پیدائش کے بعد ابتدائی ماہ و سال میں رونما ہونے والے واقعات اس پر زندگی بھر کے لئے اثراندازہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ اپنی والدین، ابتدائے بچپن کے اساتذہ اور نگہداشت کرنے والے افراد سے جس قسم کی تربیت پاتا ہے اسی سے اس امر کا تعین ہوتا ہے کہ وہ اسکول، معاشرہ اور اپنی عمومی زندگی کے درمیان کس طرح ربط پیدا

Read more

ہتھنی کیوں مری؟ بارش کیوں ہوئی؟ آندھی کیوں آئی؟ مجرم مسلمان

ہتھنی کیوں مری؟ مجرم مسلمان
بارش کیوں ہوئی؟ مجرم مسلمان
آندھی کیوں آئی؟ مجرم مسلمان

یہ نیا ہندوستان ہے، جہاں آنکھیں موند کر تمام الزامات مسلمانوں پر ڈال دیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد انہدام معاملہ کی عدالت میں گواہی چل رہی ہے۔ اب ہنسی آتی ہے۔ کیا اس کی کوئی ضرورت ہے؟ فیصلہ آ چکا۔ کہہ دیا گیا کہ یہ ہندوتو کی جیت ہے۔ پھر ہندوتو کی فتح کا جشن منانے والے ملزمان کہاں سے ہو گئے؟ ان گواہیوں سے کیا ہو گا جبکہ رام مندر تعمیر کا راستہ بھی کھل چکا ہے۔ اور یہ تعمیر کا معاملہ بھی جے پی کے منشور کے عین مطابق ہے۔

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیز

تاریخ اقوام عالم اس بات کی شاہد ہے کہ جابر حکمران کی عمر اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ عادل حکمران کی ہوا کرتی ہے۔ لوگ عادل حکمران کو ان کے فیصلوں کی بدالت صدیوں زندہ رکھتے ہیں جن کی ایک مثال اگر میں پیش کروں کہ سویڈن کے آئین میں حضرت عمرؓ کے عدل کی بدولت قانون عمر کے نام سے انہوں نے ایک باب شامل کیا ہوا ہے۔ گویا عادل کو اپنے اور غیر دونوں تاریخ میں زندہ رکھتے

Read more

ہم جنسیت کا سوال

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ”دنیا میں 1.7 فیصد لوگ دوہری جنس کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ ”میں نے کسی بھی ایک مرد یا عورت کا تجزیہ نہیں کیا جس میں ہم جنسی میلان موجود نہ ہو“ ۔ کرافٹ، ڈاکٹر مال اور پروفیسر مانٹا گینرا کے خیال میں ہم جنسی میلان خلقی اور عضویاتی ہوتا ہے۔ سٹائی ناخ نے تحقیق سے ثابت کیا کہ خصیتین اور بیضہ انثی ہارمون پیدا کرتے ہیں جو مردانگی اور

Read more

وہ جہاز جو بھارت نہ لوٹا

”بیٹا تو کل بھارت آ جا بچوں کو لے کر تیس چالیس سال سے نہیں آیا“۔ یہ سُن کر نہ چاہتے ہوئے بھی میرے 71 برس کی عمر میں اتنے آنسو نکلے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ 91 برس کی عمر میں والدہ کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی۔ میری اور اُن کی ملاقات 10 سال پہلے ہوئی تھی، جب میں آخری دفعہ بھارت گیا۔ یہ باتیں اُنھوں نے اپنے انتقال سے 20 دن پہلے مجھ

Read more

’ میں مرنے کے سخت خلاف ہوں‘ ۔ ۔ ۔ فلم 102 ناٹ آؤٹ

زندگی اور موت میں فرق تو صرف اس دل کا ہے جو زندہ ہے تو زندگی دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور مر جائے تو چلتے پھرتے انسان کا ناتا ہر شے سے کٹ جاتا ہے۔ آدمی مر جاتا ہے۔ ایسا انسان زندگی کی رسم بھی بے دلی سے نبھایا کرتا ہے۔ اسی موضوع پہ بنی ہندی فلم 102 ناٹ آؤٹ نے ذہن کو سوچ کے کئی نئے رستوں پہ ڈال دیا۔ امیش شکلا کی فلم 2018 میں کب آئی اور نکل گئی، ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ فلم کا باکس آفس پہ ہٹ جانا اس کے ایک اچھا فلم ہونے کی سند نہیں۔ بلکہ ہم نے تو اپنی فرصت کے لمحات میں تفریح طبع کے لئے یہ کلیہ بنا رکھا ہے کہ جس فلم کو اکثر لوگ بور کہتے ہوں اسی کا انتخاب کیا جائے۔ اور اس میں ہمیں کم ہی کبھی مایوسی ہوئی۔

وکھاریہ خاندان کے دو بوڑھے کرداروں کے گرد گھومتی یہ فلم کئی احساسات کی پرتیں کھولتی ہے۔ ایک کردار بیٹا ہے ’بابو‘ جس کی عمر 75 برس ہے تو دوسرا کردار باپ، دھتاتریہ وکھاریہ عمر 102 سال۔ امیتابھ بچن اور رشی کپور کا سویٹ اینڈ سافٹ کامبینیشن۔ جہاں پردۂ سیمیں کی سیما سے پرے ان اداکاروں سے اہم ان کے کردار ہیں اور کرداروں سے اہم ان سے جھلکنے والے زندگی کے رنگ۔

Read more

چرس پینے کے تباہ کن نتائج

چرس کیا ہے، کیوں ہے، کس چیز سے بنتی ہے، کیسے بنتی ہے، سبز ہوتی ہے یا سیاہ، چکنی ہے یا کھردری، دنبے کی کھال میں سی کر دھوپ میں رکھی جاتی ہے یا بکری کی کھال میں، آتی کہاں سے ہے، اچھی ہے یا بری، صحت کے لئے مفید ہے یا نقصان دہ، بے ضرر ہے یا ضرر رساں، پینے کے بعد موڈ خوشگوار بناتی ہے یا چرچڑا، سکون دیتی ہے یا بے چینی، دماغ کو تیز کرتی ہے

Read more

ت سے ترکی۔ ش سے شیم لیس

شیم لیس ایک امریکن ٹی وی کامیڈی ڈرامہ ہے جس میں ایک چھ بچوں کے باپ کو شرابی اور خاندانی زندگی سے لاپروا فرد دکھایا گیا ہے، بچوں کی ماں بھی ایک ایسی عورت ہے جو گھریلو زندگی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری کے بجائے اپنی دنیا میں مگن رہتی ہے، اکثر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ڈرامہ سن دو ہزار گیارہ سے آن اسکرین ہے، آخری سیزن بوجوہ وبائی صورتحال شوٹ نہیں ہو سکا ہے، ڈرامے کے تین سیزن دیکھے ہوئے ہیں مزید بھی دیکھوں گی، ڈرامے میں شرابی باپ اور بے پرواہ ماں کی ذمہ داریاں ان کی نوجوان بیٹی اٹھا رہی ہے اپنے پانچ بہن بھائیوں کو مشکلات کے ساتھ پال رہی ہے، امریکن فیملی ڈراموں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بڑی خوبی کے ساتھ انسانی نفسیاتی و خانگی برتاؤ دکھاتے ہیں جب ان کے معاشرے میں فیملی نظام ٹوٹنے لگتا ہے تو ستر کی دہائی میں وہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل جیسا ڈرامہ بنا کر خاندان کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

Read more

وراثت اور مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ

انسانی زندگی کوگوناگوں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ زندگی کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ مرنے والے کے مال و جائیداد کی تقسیم یعنی وراثت کامسئلہ ہے۔ انسانیت اس مسئلے میں ہمیشہ افراط و تفریط کا شکاررہی ہے۔ آج کل دنیا پر سرمایہ داری کے تباہ کن اثرات کا غلبہ ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔ سوشلسٹ نظام نے اس بیماری کا ایک علاج تو تجویز کیا لیکن وہ

Read more

شوہر کا تھپڑ

کیا کوئی مرد عورت پرہاتھ اٹھا سکتاہے، جواب یقیناً نہیں میں ہوگا۔ بس یہی اعتراض تھا اس عورت کا کہ اس کے شوہر کو اس پرہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا، تھپڑ نہیں مارناچاہیے تھا، وہ تھپڑ نہیں مار سکتا۔ بس اتنا سا کیس تھا، ایک خاتون وکیل کے سامنے بیٹھی عورت کا۔ گھر سے جانے پر شوہرکی جانب سے لیگل نوٹس ملا تو وکیل نے نوٹس پڑھتے ہوئے اسے قانونی زبان آسان زبان میں بتائی۔ لیکن جواب تھا وہ گھرجانا

Read more

کیچ سے آہٹ کی پکار

کیچ محبتوں کی دھرتی، پنو ہوت کی سر زمین جہاں سسی کی محبوب پیدا ہوئے۔ سسی اور پنو کی محبت بارہویں صدی میں پروان چڑھتی ہے۔ بچھڑنے کے بعد ایک دوسرے کی تلاش میں کیچ اور بھنبھور کے درمیان بیلہ کے مقام پر دونوں کی محبت زمین کی آغوش میں جا کر ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتی ہے۔ کیچ تب سے درد کی پکار کو سمجھتا ہے جب پنو کا عشق اس کو مجبور کرتا ہے اور وہ سسی سسی

Read more

مختلف امراض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ لیکن خوف کورونا کا

آج یعنی 8 جون 2020 سے پاکستان میں نئے کورونا وائرس کے اس ”متعدی دورانیہ“ یعنی انکوبیشن کا آغاز ہو رہا ہے جسے ماہرین وبا کا عروج کہتے ہیں۔ چودہ روز یا دو ہفتوں کے اس دورانیہ میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس عرصے میں انتہائی ضرورت کے بغیر گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے۔ اگر نکلنے کی بہت ہی زیادہ مجبوری ہو تو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، باہر موجود گتے، لکڑی یا دھات سے بنی کسی بھی شے سے ہاتھ مس نہ ہونے دینے، ماسک باندھے رکھنے اور گھر آ کر باہر کے کپڑے دہلیز میں ہی اتار کے گرم پانی یا واشنگ مشین میں ڈال دینے اور ہاتھوں کو صابن کی جھاگ میں کم سے کم بیس سیکنڈ تک بھگوئے رکھنے کے بعد دھونے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

Read more

زبردستی کے رشتے کا انجام – سچی کہانی

ایک جاننے والے دوست نے پانچ سال پہلے اپنی نازوں سے پلی بیٹی کا رشتہ اپنی بہن کے ہاں کیا۔ طے پایا کہ منگنی کی بجائے نکاح کر دیا جائے۔ مقررہ تاریخ پر لڑکی اور لڑکا نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکے نے گھر والوں کی پسند کی وجہ سے زبردستی یہ رشتہ کیا اور وہ دل سے خوش نہیں تھا۔ رشتہ سراسر لڑکے کی والدہ کی ضد کی وجہ سے ہوا جو اپنے بھائی کی بیٹی کو ہی بہو دیکھنا چاہتی تھی۔

Read more

انسان اور شترمرغ

انسان حیاتیاتی طور پر خطرے کو بھانپنے والا اور اس سے بچنے والا جاندار ہے۔ ہماری بائیوکیمسٹر ی ہمیں آنے والے خطرات سے آگاہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں سب سے پہلے ہمارا حیاتیاتی اور عصبی نظام اس کو رسپانڈ کرتا ہے۔ جسم سے مختلف کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جس کی نتیجے میں ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں، جسم میں سنسناہٹ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ چہرے کا رنگ تغیر پذیر ہو جاتا ہے۔ خوف سے نمٹنے کے لیے ہمار ا دماغی نظام ہمیں ہدایات دیتا ہے کہ اب اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا ہے۔ ا س طرح کا رسپانس ان خطرات کی صورت میں ہوتا ہے جن سے ہمارا اچانک واسطہ پڑتا ہے اور خطرے کا منبع اور نوعیت مجسم شکل میں ہمارے سامنے ہوتا ہے۔

Read more

ابا جی کی یاد میں

ماں باپ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ ماں کا نعم البدل تو پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ باپ بچوں سے اظہار محبت کیے بغیر ان سے محبت کرتا ہے۔ جینے کا حوصلہ اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے بل بوتے پر چلنا سکھاتا ہے۔ ماں کی محبت کا اندازہ تو دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ہو جاتا ہے جبکہ باپ کی خاموش محبت خود باپ بننے پر پتہ چلتی ہے۔

Read more

رند مشرب رقاصہ اور عورت کا اظہار

کاشف گرامی نے دبے لہجے میں کہا، ”یہ ماضی کی اداکارہ مہرین کی بیٹی ہے۔ مہرین جو ’اَنا‘ کی ہیروئن تھی۔ وہ دیکھیے، وہ بیٹھی ہے لیکن آپ پہچان نہیں پائیں گے“۔ وہ دھان پان سی لڑکی جو میرے بچپن میں ٹی وی سیریز ’انا‘ کے ٹائٹل رول میں جلوہ گر ہوئی تھی، اب بالکل نہیں پہچانی جا رہی تھی. جوانی انعام ہے تو بڑھاپا ضرور فطرت کا انتقام ہو گا۔ حِسین لوگوں کو بوڑھا نہیں ہونا چاہیے، یا بوڑھوں

Read more

گھریلو ملازمین پر تشدد کی سماجی برائی

پاکستان میں تقریباً 85 لاکھ گھریلو ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ 2015 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنازیشن کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس اعداد و شمار کے علاوہ ان کہ متعلق اور کوئی اندازہ موجود نہیں۔ میرے خیال سے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تکنیکی طور پر گھروں پر کام کرنے والے یہ افراد ہماری غیر رسمی معیشت (informal economy) کا حصہ ہیں۔ غیر رسمی معیشت

Read more

انصاف

انصاف، عدل، ان میں اخلاقی صحت، عقلیت، قانون، مذہب، مساوات اور غیر جانب داری شامل ہے۔ نصاف کی ایک قسم تو وہ ہے جو ہر شخص کسی دوسرے کے ساتھ معاملے میں راست بازی اور حقیقت پسندی سے کرے۔ یہ کام ادارہ جات اور ان کے ذمے داروں کی جانب سے بھی کیا جاتا ہے جو زیادہ فعال اور اصح افراد کو اور ذمے داری کے عہدے دیتے ہیں۔ یہ کام عدالتوں میں بھی ہوتا ہے، جو جائیداد کی تقسیم،

Read more

ایک عمر رسیدہ کرونا سے ملاقات

میں ایک وائرولوجسٹ ہوں۔ وائرسز کے ساتھ کام کر کر کے میں ہر قسم کے وائرس کو ایسے پہچان لیتا ہوں جیسے قصائی بکرے کو دور سے دیکھ کر بتا دیتا ہے یہ دوندا ہے یا چوگا۔ یہ کل کی بات ہے، حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد میری بیوی نے بھی محلے کی باقی عورتوں کی طرح اچھرا بازار پر دوپہر کے تین بجے دھاوا بولنے کا فیصلہ کیا۔ کرونا کے پھیلاؤ اور اس کی ہلاکت خیزی پر میرے تین روزہ لیکچر کا یہ اثر ہوا کے آج میں موٹر سائکل سٹینڈ پر ایک شریف مشرقی شوہر کی طرح، موٹر سائیکل کو ڈبل سٹینڈ پر لگا کر بیٹھا اس کے مشن امپاسبل سے کامیاب واپس آنے کی دعا کر رہا تھا۔ جبکہ وہ نیک بخت مع سارے بچوں کے، انسانوں کے اس سمندر میں ایک مشاق سکوبا ڈائیور کی طرح غوطہ لگا کر غائب ہو چکی تھی۔

Read more

عشقِ سوختہ ساماں کی لاحاصلی

میں آپ کو اپنا نام نہیں بتاﺅں گی۔ گواہی کے دوران کوئی سی سی ٹی وی کیمرے سے سوال جواب نہیں کرتا۔ میرا بیانیہ بھی کیمرے جیسا سادہ ہے۔ مجھے یوں بھی (Proxy Fame)سے کوئی دل چسپی نہیں۔ آپ اس داستان کو بھی چاہیں تو سچا قصہ سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا کے مشہور مصور پکاسو کہا کرتے تھے کہ” جو تخیل میں سماجائے، وہ سچ ہے“۔ چلیں، قصہ بیان کرتے ہیں۔ میری اس غیر مسلم دوست کو ہم سب میرو

Read more

آصف فرخی: ایک مانوس اجنبی

جب سے آصف کے ساری دنیا کو جُل دے کر دنیا سے گزر جانے کی خبر سنی ہے دل اسی طرح اداس ہے جیسے کوئی گھر کا فرد روٹھ کے چلا گیا ہو، ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتے توڑ کے۔ حالانکہ ان کی موت سے قبل باوجود کئی برس کی خط وکتابت کے وہ مجھے ذاتی طور پہ اتنے قریب محسوس نہیں ہوئے کہ میں ان سے بے تکلف دوستی کا رشتہ استوار کرتی۔ ان کی حیثیت میرے لیئے ہمیشہ

Read more

پھول سونگھنے کا شائق بیل اور پی ٹی آئی حکومت

بچوں کی کہانیاں لکھنے والا ایک مشہور امریکی رائٹر ”منرو لیف“ تھا۔ اس نے اپنی سب سے مشہور کہانی ”دی سٹوری آف فرڈیننڈ“ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں پیلے کاغذوں والے رف پیڈ پر 1936 ء میں لکھی۔ کہانی کا اردو میں خلاصہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ ”سپین کی ایک چراگاہ میں ایک ننھا بیل رہتا تھا۔ اس کا نام فرڈیننڈ تھا۔ اس کے دوسرے ننھے ساتھی بیل دوڑتے کودتے اور آپس میں ماتھے سے ماتھا ٹکراتے۔

Read more

روبوٹکس ٹیکنالوجی اور روز گار کا بحران

مسئلہ کے حل کی تین ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی، یہ فیصلہ کرنا کہ نوکریاں کھونے سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہے؟ دوسری، مزید نئی ملازمتوں کو پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا ہے؟ اور تیسری، اگر ہماری بہترین کوششوں کے باوجود ملازمتیں ختم ہونے کی رفتار نوکریوں کو پیدا کرنے کی رفتارسے تیز ہوگئی تو اس وقت ہمیں کرنا ہے؟ نوکریوں سے ہاتھ دھونے کے عمل کو معطل کرنا، مکمل طور پر ایک ناگوار اور شاید ناقابل

Read more

اقدس روشن بین ۔۔۔ ایک روشن دن کے اختتام پر لکھی سطریں

یہ کہانی ہے اقدس روشن بین کی۔ حیدر علی ایران کے شہر قزوین کے معروف ڈاکٹر تھے۔ اقدس، حیدر علی اور صفیہ کے سات بچوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ تین بہنوں اور چار بھایئوں کے ساتھ بچپن گذرا۔ حیدر علی بچوں کی تعلیم پر شدید زور دیتے رہے۔ ان کا شوق اور امید تھی کوئی ایک بچہ ان کے نقش قدم پر چلتا ہوا ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرے۔ اقدس پڑھائی میں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے زیادہ

Read more

کوٹ مراد کا جناور اور پنڈی کے توتے

شعور کے ننھے منے بیج کو علم کے سمندر سے پانی میسر رہے تو بیج نمو پا کر درخت بن جاتا ہے اور شعور کی منازل طے کرتے ذہن میں سوالات و فکر کا ایسا شور بپا ہوتا ہے کہ انسان پہچان نہیں پاتا کہ کون سی آواز کس کی ہے لیکن علم کی آبیاری ہو تو انسان سب سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے۔ بقول ہمارے ایک عم زاد کے ضمیر وہ درندہ ہے جو سب سے پہلے صاحب ضمیر کو نوچتا کھسوٹتا ہے پھر دوسروں کو اپنے سوالات اور فکر سے جھنجھوڑتا ہے۔

Read more

بلوچ عورت کی مزاحمت، مہناز سے ملک ناز تک

بلوچستان کے مسائل شاذ و نادر ہی ملکی میڈیا میں جگہ پاتے ہیں۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں براجمان ملکی سطح کی کئی نامور اینکرز، لکھاری، دانشور اور تجزیہ نگاروں کی معلومات بلوچ تاریخ اور سماج کے بارے میں انتہائی سطحی، مبالغہ آرائی اور ر مفروضوں کا مجموعہ ہیں۔ تربت کے ایک این جی او میں ملک کی نامور مصنفہ اور عورتوں کے حقوق کی علمبردار محترمہ ناہید کشور سے ایک دفعہ میری ملاقات ہوئی اور جب انہوں نے بلوچ خواتین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو مجھے ان کی معلومات پر تعجب کے ساتھ افسوس بھی ہوا۔

جب میں نے عاجزانہ انداز میں تاریخی حوالوں اور موجودہ حقائق کے پس منظر میں بلوچ خواتین کی کردار کا مختصراً احاطہ کر کے جوں ہی بات ختم کی، تو محترمہ نے بے ساختہ مجھ سے سوال کیا کہ ”یہ کتاب مجھے کہاں سے ملے گی؟“ میں نے عرض کیا کہ ”میڈم، اس حوالے سے کوئی کتاب دستیاب نہیں ہے، یہ جاننے کے لئے آپ کو تاریخی بلوچی رزمیہ شاعری کو کھنگالنا ہو گا اور بلوچ سماج کا حصہ بن کر مشاہدہ کرنا ہو گا“ ۔

Read more

آٹھ سالہ زہرہ شاہ بنام پیاری ماں

پیاری اماں! مجھے بہت دور جانا ہے بہت دور! ایک مہربان صورت والے انکل مجھے لینے آئے ہیں، انہوں نے میری انگلی تھام لی ہے۔ لیکن میں تمہیں دیکھے بنا نہیں جانا چاہتی تھی اماں! ایک دفعہ، آخری دفعہ تمہاری صورت دیکھنے کی ،تمہاری آغوش میں آنے کی تمنا تھی۔ انکل نے مجھے بتایا کہ میں اب تم سے گلے نہیں مل سکتی، میرے اور تمہارے درمیان دو دنیاؤں کا فاصلہ حائل ہے، میں تم سے جدا ہو چکی ہوں۔

Read more

خواجہ سرا بھی انسان ہوتے ہیں

ہمارے معاشرے میں شاید اتنا ”کریٹیسائیز“ طوائف (کوٹھے والی) کو بھی نہیں کیا جاتا جتنا خواجہ سرا کو کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو طوائف اپنی مرضی سے بنتی ہے۔ اسے حالات بناتے ہیں۔ جبکہ خواجہ سرا اپنی مرضی سے نہیں بنتا۔ اسے خدا بناتا ہے۔ یہ خدا کی قدرت ہے۔ خدا کی مرضی ہے۔ وہ جسے چاہے لڑکی بنائے۔ جسے چاہے لڑکا بنائے۔ جسے چاہے خواجہ سرا بنائے۔ وہ جس کے ہاں چاہے لڑکی پیدا کرے۔ جس

Read more

جنت کی سوداگر: مائیں

ویسے تو مدرز ڈے تو گزر گیا جب ماؤں کو ہوا لگوائی گئی تھی سوشل میڈیا پہ۔ پر ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے لیے ایک دن مختص کرنا زیادتی ہے۔ اور ماں کی محبت پہ شک توبہ توبہ، بلکہ اکثر تو کہتے ہیں ماں کی محبت پہ شک خدا کی محبت پہ شک کے برابر ہے۔ پر محبت میں صرف حقوق ہی نہی فرائض بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں حقوق و فرائض میں ہمیشہ اولین ترجیح

Read more

ٹوٹتے اور بکھرتے پھول!

کچھ روز قبل، پاکستان کے شہرراولپنڈی میں ایک اور زینب جان سے گئی، ایک اور پھول جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا، ایک اور چراغ بجھا دیا گیا۔ 8 سالہ بچی، جس کا نام زہرہ، اور تعلق مظفر گڑھ سے بتایا جاتا ہے، روات کے علاقے میں نجی ہاوئسنگ سوسائٹی کے ایک گھرمیں ملازمہ تھی، اور اس کو مبینہ جنسی زیادتی اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بچی کے ساتھ ہونے والی ابتدائی زیادتی کی وجہ گھر کے

Read more

ایک فیکٹری میں حادثہ اور ایک حساس لڑکی

وہ ایک وسیع و عریض فیکٹری تھی۔ جو کئی حصوں پر مشتمل تھی۔ عمارت کے عقبی حصے میں ایک علیحدہ حصہ آفس ورک اور لیبارٹری کا تھا جہاں اس فیکٹری میں بننے والی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے مسلسل ٹیسٹ کیے جاتے تھے۔ یہاں بننے والی اشیا کی بین الاقوامی منڈی میں بڑی مانگ تھی۔ اس کے باوجود یہاں کام کرنے والے فیکٹری ملازمین اپنے حقوق سے محروم تھے۔ مزدور یونین کے سر کردہ رہنماؤں یا لیڈروں کا منہ کچھ رقم دے کر بند کر دیا جاتا۔ غریب اور مجبور مزدور کسمپرسی اور تنگ دستی کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور تھے۔ ان مزدوروں کا سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی تھا۔ ائرکنڈیشنڈ آفسز میں بیٹھنے والے شاید ان مزدوروں کے مسائل کو کبھی نہ سمجھ سکیں۔

Read more

شیطان اور کراماتی میڈیا کے خوفناک کھیل

آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے، دہشت ہے، خوف ہے،

Read more

ابھی تھوڑا انتظار اور کرنا ہے

نیویارک میں یہ میرے گھر کے بیڈ روم سے بیک یارڈ گراونڈ کا خوبصورت اور زندگی سے بھرپور ایک دلکش منظر ہے۔ نیویارک میں ابھی کرفیو شروع ہونے میں ایک گھنٹہ اور کچھ منٹ باقی ہیں۔ کھڑکی سے ہٹے پردے سے جونہی نظر باہر کو جاتی ہے۔ کروونا کی حفاظتی پابندیوں سے بے نیاز گراؤنڈ میں فٹ بال سے کھیلتے خوبصورت بچے اور بچیاں زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور کھیل کود کے مشاغل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ سائیکلنگ

Read more

میرے مہمان، گھر کے پچھواڑے صحن میں گھونسلے کے باسی۔ ۔ ۔

دو روز قبل میری بہو کہنے لگی۔ انکل یہ ہمارے ڈیک کے بالکل نیچے سے چوں چوں کی آوازیں سنائی دے رہیں۔ پتہ نہیں کیا ہے۔ مجھے درز سے چھوٹے کان بھی نظر آئے ہیں۔ زین کو پیچھے لے جانا ہوتا ہے۔ دیکھیں کوئی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔ کل شام اس کی یاد دہانی پر پیچھے گیا۔ تو ڈیک کے نیچے کڑی اور چھت کے درمیان ایک خوبصورت گھونسلہ تھا جس کے اندر سے چوں چوں کی آواز اور چونچ دکھائی دے رہی تھی۔ کہ اچانک لالی (گرسل) سے چھوٹا پرندہ اڑتا آیا۔

منہ میں چوگا تھا۔ گویا ماں تھی۔ گھونسلے سے کچھ فاصلے پہ بیٹھ گئی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی جھجک محسوس کرتے میں ذرا کنارے ہوا ہی تھا کہ گھونسلے کے ساتھ آئی۔ چوگا بچے کے منہ میں ڈالا اڑ گئی۔ میں نے لی ہوئی فوٹو بہو اور پوتی کو دکھائیں۔ تو خوشی سے کھل گئیں کہ چلو تین ماہ بعد گھر میں بن بلایا سہی، مہمان تو آیا۔

Read more

شہید پائلٹ کے بستر پر بڑے بھائی کی ایک رات

استاد نے اپنی چادر جھاڑی، کئی یادیں نکل کر باہر آپڑیں۔  وہ ان یادوں کو وہیں چھوڑ دینا چاہتا تھا مگر یادیں بھاگ کر پھر واپس آجاتیں۔  اس نے سوچا یہ یادیں بھی کیا بومرنگ ہیں، جتنی زور سے دور پھینکو، اتنی تیزی سے واپس آجاتی ہیں۔  آسٹریلین مقامی لوگوں نے صدیوں پہلے لکڑی سے شکار کی خاطر یہ ہتھیار بنانا سیکھا تھا، ہوا میں گھومتا تیرتا جاتا ہے اور جانور کے سر پر لگتا ہے۔  کیا خوبصورت سادہ سا

Read more

امی، کیا میری جان ان کے طوطوں میں بند تھی؟

پیاری امی جان! جس وقت تمہیں یہ خط وصول ہوگا، اس وقت میں آپ سے اور اس بے حس دنیا سے بہت دور جا چکی ہوں گی، مگر یہ خط لکھنا بہت ضروری تھا اس لئے میں نے یہاں ایک فرشتے سے خاص طور پر درخواست کر کے یہ خط لکھوایا ہے کیونکہ ابو نے تو ہم سب کو اسکول کی کبھی شکل دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دی ورنہ میں یہ خط خود لکھتی۔ امی میں یہاں بہت خوش

Read more

کیا آپ صفائی کا جنون کی حد تک خیال رکھنے کے مرض کا شکار ہیں؟

میری عمر بتیس سال ہے، میری بیوی مجھ سے پندرہ سال بڑی ہے، ہماری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں، ہمارا پانچ سال کا ایک بیٹا ہے۔ ہماری پیار کی شادی تھی، میری بیوی اب بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔ میری ساس انتہائی وہم کا شکار خاتون ہیں، جس سے یہ بیماری ان کی بیٹی یعنی میری بیوی کو بھی منتقل ہوئی ہے۔ جب میں باہر سے گھر میں داخل ہوتا ہوں، تو سب سے پہلے مجھے کپڑے تبدیل کر کے نہانا پڑتا ہے، اس سے پہلے میں کسی سے نہ مل سکتا ہوں نہ بات کر سکتا ہوں، یہاں تک کہ عید کی نماز پڑھ کر جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرا بیٹا دوڑ کر میرے پاس آیا اور میرے گلے لگ کر عید مبارک دی، مگر اس کی ماں نے دور سے غصے میں اسے آواز دی کہ ”پاپا ابھی گندے ہیں، جب نہا کر پاک ہوجائیں گے، تب مل لینا“ مجھے اس کے اس رویے سے اتنی تکلیف ہوئی کہ بہ مشکل میں نے خود کو اور اپنے جذبات کو قابو کیا۔

Read more

کیا تنہائی باعث اذیت ہے؟

تنہائی ایک نعمت بن جاتی ہے جب یہ ہمیں وہ انداز نظر عطا کرتی ہے، جس سے ہمیں دنیا اور اس میں موجود انسانوں کی حرکات ”بازیچۂ اطفال“ دکھائی دیتی ہیں۔ تنہائی اس وقت بھی رحمت بن جاتی ہے جب ہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے طلبگار نہیں رہتے ہیں۔ ماہر نفسیات کارل ژونگ فرماتے ہیں کہ ”تنہائی میرے لیے مسیحائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ مجھے جینے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر و بیشتر میرے لیے گفتگو سوہان روح ثابت ہوتی ہے اور میں ایک لمبے عرصے تک خاموش رہتا ہوں تاکہ الفاظ کی ادائیگی سے جو بے ثمری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسے مندمل کر سکوں۔“

Read more

ایک نئے فطری معاہدے کی ضرورت

مشکل وقت ہے، گزر جائے گا۔ لیکن اب کے یہ مشکل وقت، کرے کے کسی ایک حصے میں، یا کسی ایک قطعۂ ار اضی کے لئے نہیں آیا۔ کرۂ ارض پر موجود خشکی کے سبھی علاقوں کے لئے آیا ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی۔ اور یہ وہ کلیشے ہے کہ جو مبنی بر حقیقت ہونے کے باعث، کثرت استعمال کے با وجود، گھسنے والا نہیں بلکہ اس کلیشے کے اور اس کے حقیقی ثابت ہو جانے کی وجہ

Read more

نفرت کے قبیلوں کے لوگ

محبت کی وادی کے اس پار نفرت کے جزیرے ہیں۔ اور انسان کبھی اس پار کبھی اس پار، نفرت اور محبت کی پنڈولم پر لٹکتا ہوا ایک پتلا ہے۔ اس چھوٹی سی زندگی میں کچھ بھی نہیں سیکھ سکے لیکن اگر سیکھا تو وہ یہ ہے۔ کہ انسان کے لیے، اگر دنیا میں کچھ نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ نفرت ہے جس طرح محبت ایمان کو تقویت دیتی ہے بالکل اسی طرح نفرتیں کفر تک لے جاتی ہیں۔

Read more

افریقی غلاموں کی نجات دہندہ: ہیریٹ ٹب مین

ایک سیاہ فام لڑکی نے آزادی کا خواب دیکھا اور برسوں غلامی میں جکڑے رہنے کے بعد بھی اپنے اس خواب سے دستبردار نہ ہوئی اس نے 28 سال کی عمر میں آزاد ہونے کے بعد اپنے جیسے غلاموں کو آزادی دلانے کا عہد کیا اور اپنے مقصد کے لیے ڈٹ گئی۔ اس کی گرفتاری پر انیسویں صدی کے وسط میں 40 ہزار ڈالر کا انعام رکھا گیا۔ 93 برس کی عمر میں بھی اپنے مقصد سے دستبردار نہ ہونے

Read more

ابتدائی بچپن کی تعلیم ECD

کامران گاؤں میں نہایت ہی قابل اور ہونہار بچہ تھا۔ ہمیشہ کلاس میں اول درجہ حاصل کرتا تھا۔ اس کا بھائی اور بہن بھی پڑھائی میں اچھے تھے اسی لئے ان کے والدین، خاندان اور گاؤں کے لوگ ان سے بہت خوش تھے۔ جب کامران نے کلاس ہشتم پاس کیا تو والدین نے بچوں کی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لئے گلگت شہر منتقل ہوئے۔ یہاں پر شروع کے کچھ مہینوں میں کامران کی پڑھائی اچھی ہو رہی تھیں پھر

Read more

ایک تھی سارہ – شاعرہ جو مرنے کے بعد اساطیری داستاں بن گئی

4 جون 1984 کی صبح دس اور گیارہ بجے کے درمیان ایک ٹرین شارع فیصل کراچی پر کالونی گیٹ کے قبرستان کے نزدیک ایک تیس سالہ خاتون کے پرخچے اڑاتے ہوئے گزر گئی۔ خاتون کی شناخت قرۃ العین حیدر کی کتاب "شیشے کے گھر” کی مدد سے سے ہوئی جو مرتے وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔ کتاب پر اس کا نام سارہ شگفتہ اور گھر کا پتہ وضاحت سے تحریر تھا۔ مرحومہ کے ہاتھ میں اگربتیوں کا ایک پیکٹ

Read more

آہ ڈاکٹر پھاگ چند۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جس نے معزز پیشوں کو بھی کاروبار بنایا ہوا ہے، جب میرا تعارف پہلی مرتبہ کامریڈ غفران احد سے ہوا تھا تو انہوں نے اپنے تعارف میں کہا تھا کہ وکیل ہوں اور انصاف بیچتا ہوں، کامریڈ نے ان الفاظ میں اس ظالمانہ اور گلے سڑے نظام کو گالی دی تھی جس نظام نے انسان کو پست زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے، جہاں پر عزت اور شرافت کے جعلی معیار کی بنیادیں عقیدے، رنگ و نسل اور عہدہ و دولت ہیں۔

Read more

” اپنے حق میں بولنا نہ آئے تو ہر کوئی بے عزتی کرتا ہے“ قسط نمبر 12

ایک دن رات کھانے کے بعد انہوں نے مجھے سٹنگ روم میں ہی روک لیا کہ کوئی اہم بات کرنی ہے۔ ”نفیس ہماری شادی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ آج ہم اس موضوع پہ بات کر لیں تو بہتر ہے۔“ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاید ہمارے ازدواجی تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور میرا اندازہ درست نکلا۔ ”کیا تم نے کبھی مجھ میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس

Read more

دوست کی بیٹی کو کورونا، اللہ میاں سے گلہ اور گزشتہ الیکشن

میرے اک قریبی دوست کی بیٹی کو کرونا ہو گیا ہے۔ آج اس بیماری سے لڑتے ہوئے ہماری بیٹی کو تیسرا دن ہے اور ان کی صحت و حالت درست نہیں۔ رینڈم نیس اور بے مقصدیت کے بنیادی اصولوں پر چلتی ہوئی اس دنیا میں، ویسے ہی رینڈم اور بے مقصد انسانی زندگی کے پیراڈائم میں، ہماری بیٹی کے لیے اگلے چند دنوں میں کیا موجود ہے، میں نہیں جانتا۔ مگر اس معاملہ نے بہت شدت والا غم دے ڈالا ہے اور ذہن پر بہت دباؤ کی کیفیت ہے۔

Read more

جہادی دلہنیں: گوری سیج پہ، دلہا چنے کے کھیت میں

جہادی دلہنوں سے مراد ایسی خواتین ہیں جو شام میں لڑنے والے جہادی مردوں سے شادی کی غرض سے وہاں جاتی ہیں۔ اس ضمن میں پہلا سوال تو یہی ہے کہ ان کے دلہے کون ہیں؟ یہ جہادی دلہنیں کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ایک وقت میں مغربی شام سے لے کر مشرقی عراق تک 88000 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر قابض تھی۔ جہاں اس نے تقریباً 80 لاکھ افراد پر بہیمانہ طریقے

Read more

خواجہ سرا بچوں کو والدین کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟

آج کل جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہیں۔ دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک دوسرے سے روابط رکھنا اور دوسروں کے خیالات جاننا اب مشکل نہیں رہا۔ اس دور میں لوگ تبدیلی کے حامی ہیں اور جانتے ہیں کہ کسی دماغی یا جسمانی بیماری کا ہونا ایک عام بات ہے۔ ڈپریشن، گھبراہٹ (اینگزائیٹی) ، یادداشت کی کمزوری، ڈسلیکسیا، شیزوفرینیا، فوبیا وغیرہ اب عام بیماریاں سمجھی جاتی ہیں جو قابل علاج ہیں، تو خواجہ سرا ہونا ایک گناہ کیوں تصور کیا جاتا ہے؟

Read more

بلال احمد نورزئی اور طاہر ہزارہ کا مدلل بیان

میں متعصب ہوں نہ مجھے کسی سے کوئی ذاتی چپقلش ہے۔ تمام انسانوں کی طرح میرے احساسات و جذبات ہیں۔ میں جانتا ہو کسی حقیقت پسند لکھاری کے لئے تحریر اور حقیقت پسند مقرر کے لئے تقریر، اس وقت سخت ترین بن جاتی ہے، جب تحریر یا تقریر اس کے لسانی، سیاسی، مذہبی یا پھر دنیاوی، یا کوئی مشترک مفاد منسلک ہونے کا شبہ کیا جا سکے۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر الزام ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ ہوتے ہیں جن کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے، تو ایک بنتی بدلتی عوامی آرا کی صورت پریشر اور طرف داری کا الزام لگایا جاتا ہے۔

Read more

زہرہ کی معصومیت کی معراج اور ظلم کی انتہا

زہرہ شاہ، جس کی عمر ڈاکٹر کے مطابق اٹھ نہیں چھ برس تھی شدید جسمانی تشدد کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چلی گئی۔ راولپنڈی کے نہایت پوش علاقے کے ایک گھر کی ملازمہ زہرہ نے نوجوان جوڑے کے قیمتی طوطے آزاد کر دیے تھے، قید میں رہنے والا ہی آزادی کی قدر جانتا ہے۔ ہزاروں کا نقصان کرنے کی پاداش میں چھ سالہ بچی پر میاں بیوی نے تشدد کیا اور رات گئے اسپتال چھوڑ

Read more

کمزور کا کیا زور، بھاگ جائے یا آنسو بہا لے

کچھ دیر کے لیے عظمیٰ خان اور ہما خان نامی دونوں بہنوں کو بھول جائیں اور کچھ دیر کے لیے اپنے ذوق چسکا بازی کو بھی اٹھا رکھیں۔ آئیں، اک ذرا ٹہلتے ہوئے غلامانہ سماج تک ہو آئیں۔

بہت دور کی بات نہیں، ابھی ڈیڑھ صدی پہلے تک ہاتھی، گھوڑے اور مویشیوں کی طرح غلام رکھنا بھی فیشن میں شامل تھا۔ جس کے پاس جتنے جانور اور جتنے غلام وہ اتنا ہی معزز اور صاحب ثروت۔ غلامی کا ادارہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی قدیم طاقت ور اور کمزور کی جدلیاتی تقسیم ہے۔ وقت کے اس تمام تر پھیلاؤ کے درمیان کیسے کیسے انقلاب آئے۔ کیسے کیسے سرکشیدہ شاہان والا شان خاک برسر ہوئے اور کیسے کیسے خاک نشین مسند نشین ہوئے۔ اس دوران دنیا کا نقشہ بن بن کر بگڑا مگر ایک غلام کی قسمت تھی جو جیسے تھی ویسی رہی۔

Read more

رنڈی اور مہذب سماج کا بدنما چہرہ

خان صاحب چلیں سب کچھ مل جائے گا ایک اجنبی سی آواز سن کر میں ایک دم چونک گیا گویا وجود میں ٹھنڈے پانی کا سیلاب امڈ آیا ہو آواز میرے عقب سے چلتی ہوئی کانوں کو ٹکراتے ہوئی دماغ تک سرایت کر گئی مڑ کر دیکھا تو ایک سترہ سالہ لڑکی نظر آئی جس کے ماتھے اور گول مٹول آنکھوں پر خوبصورت سیاہ بالوں کے شرارتی لٹھ بار بار آبشار کے پانیوں کی طرح گر رہے تھے۔ میں چند

Read more

مگر میرا بیٹا نہیں سمجھتا!

ڈیڈی ہم مر کیوں جاتے ہیں! ڈیڈی ہم مرنے کے بعد کہاں چلے جاتے ہیں! ہم لائٹ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتا۔ Fish! مر کیوں جاتی ہے! ڈیڈی Spider۔ man رئیل میں کیوں نہیں ہوتا۔ یہ سوالات جب میرا پانچ سال کا بیٹا میرے بازو پر سر رکھ کر بڑی ہی معصومیت سے پوچھتا ہے تو اس وقت میرا دماغ کمرے سے باہر چلا جاتا ہے۔ میرے پاس ان سوالات کا جواب نہیں ہے مگر میرا

Read more

عورت، ماں اور اسلام

صدیوں سے عورت خواہ وہ بہن ہو بیوی ہو یا ماں اپنے حقوق کی تکمیل کی طلبگار ہی رہی ہے۔ اور صدیوں سے ہمارے غریب طبقے کی عورت اپنی اس کوشش میں ناکام رہی ہے جبکہ امیر طبقے کی خاتون نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنی اہمیت اور حقوق کو ثابت کر دیا ہے، گو کہ عورت کے حوالے سے احکام الٰہی چودہ سو سال پہلے ہی بذریعہ پیغمبر اسلام ﷺ کتاب اور حدیث سے ثابت ہوچکے ہیں، مگر دنیا کے مختلف کونوں بالخصوص پاکستان میں ان حقائق کو منوانے کے لئے عورت کو آج بھی بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے اور تاحال وہ اپنی اس کوشش میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو سکی جو کہ اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہوئے ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے، اگر کوئی سمجھے تو !

Read more

شمالی علاقوں کی ایک چراگاہ کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلوں میں کہیں پہاڑی بکریوں (آئی بیکس) اور مارخوروں کا ایک جھنڈ روز برفیلے پہاڑوں سے پانی پینے میلوں کا صفر کر کے دریائے سندھ کے کنارے آتا تھا۔ اس زمانے کے ایک داستان گو سے روایت ہے کہ ہری بھری گھاس میں مارخور خوشی سے جھومتے، اٹکھیلیاں کرتے ہوئے پہاڑوں سے نیچے اترتے نظر آتے تھے۔ لوگ پاس سے گزر جائیں یا ان کے بچوں کو ہاتھ لگائیں تب بھی مارخور اپنی رنگ رلیوں میں مصروف رہتے تھے، یعنی کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ انسان ان کے آس پاس بھٹک رہے ہیں۔ یقین کرنے والی بات تو نہیں ہے مگر کر لیتے ہیں کیونکہ داستان گو کی روایت یہی کہتی ہے۔

Read more

ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

آج اس کی کالی سیاہ چمکتی جلد والی بھینس نے دودھ میلہ جیت لیا تھا۔ صبح اس نے تیرہ سیر دودھ دیا ا ور شام کو اس کے تھنوں سے رستا ہوا دودھ دیکھ کر بہت سے گوالے اپنی بھینسوں کو مقابلے میں لائے ہی نہیں تھے۔ بالٹی میں اب دس سیر سے زائد دودھ تھا۔ ایک سیر فی گھنٹہ سفید سونا اگلتی لاڈو نے میدان مار لیا تھا۔ منشی لدھا رام کے باغ میں ہونے والا یہ سالانہ میلا کالے گجر کی بھینس نے دو سال بعد جیتا تھا۔ اس سے پہلے کئی سال سے وہ ہی یہ میلا جیتا کرتا تھا۔ پھر اس کی بھینس کو کسی نے زہر دے دیا۔ اب اس کی ہی یہ کٹری جوان ہوئی تھی۔ یہ لاڈو کا پہلا سووا (حمل/ پیدائش) تھا۔

کالا گجر راوی کے بیلے کا بے تاج بادشاہ تھا۔ سینکڑوں بھینسوں کا مالک۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ اس کی یہ خوشی لاڈو میراثن کو ملے بغیر ادھوری تھی۔ وہی لاڈو جس کی رس بھری شاداب گولائیوں دیکھ کر ہی اس نے اپنی بھینس کا نام لاڈو رکھا تھا۔ دربار پر سالانہ عرس چل رہا تھا۔ آج اس کا خاص مجرا تھا۔ اسے پتا تھا کہ نتھی بائی نے دور دراز کے بڑے بڑے رئیسوں کو دعوت دی ہوگی۔ زمیندار اور جاگیر دار بھی ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مقابلہ بھی وہ ہی جیتے گا۔

Read more

اللہ سائیں مینہ وسا

ہمارے گاؤں اور بادلوں میں ان بن سی رہتی تھی۔ تبھی بادل گاؤں میں کم کم ہی آتے تھے۔ کبھی بھولے سے آ نکلتے تو اکثر بن برسے ہی لوٹ جاتے۔ کبھی کبھار یوں امڈ کے آتے لگتا کہ جل تھل کر دیں گے۔ ایسی کالی گھٹائیں اٹھتیں کہ دھوپ سے بھرے دن میں بھی رات سا اندھیرا چھا جاتا۔ پھر بھی بادل چھٹ جاتے تھے۔ جیسے گاؤں میں آکر ایک دم انہیں معلوم ہوتا کہ اس گاؤں میں تو برسات نہیں کرنی۔

گرمی میں جھلسے بدن، لو میں جلتے پیڑ، تنور سی دہکتی زمین سبھی بارش کی تمنا لیے آسمان تکتے رہتے۔ لیکن بادل تھے کہ آنکھ بچا کر ادھر ادھر اٹکھیلیاں کرتے گزر جاتے۔

مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار جب پورا ساون سوکھا بیت گیا تو گاؤں کے سبھی مردوں نے ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں اکٹھے ہو کر بارش کے لیے نماز پڑھی اور امام صاحب نے بازو لمبے اور ہتھیلیاں الٹی کروا کر دعا مانگی تھی۔ دعا اتنی لمبی ہو گئی تھی کہ بازو تھک گئے اور کافی سارے نمازیوں نے بازو نیچے کر لیے تھے۔ اس دن بوٹی والے کھوہ کے اوپر سے سیاہ بادلوں کا ہجوم امڈ آیا تھا۔ لگتا تھا کہ دعائیں بارآور ثابت ہوئیں اور بادل دعا مانگتی الٹی ہتھیلیوں پہ ہی برسنے لگیں گے۔ لیکن اس روز بھی گھٹاؤں نے برسنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔

Read more

دودھ پر پلے بیٹے اور پانی کو ترستی مائیں

دودھاں نال پُت پال کے، پچھوں پانی نوں ترسدیاں مانواں۔ گاڑی میں ماں کی یاد میں کیول گریوال کے گائے ہوئے یہ بول سن کر بے اختیار اپنی والدہ یاد آ گئیں اور آنکھیں بے اختیار چھلک پڑھیں۔ ہم دونوں میاں بیوی بہت برس بعد پچھلی عید پر اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد سوچا کچھ رشتہ داروں کو ملتے ہیں۔ ایک رشتے کی خالہ کے گھر گئے۔ سہ پہر

Read more

کچھ زخم ہوتے ہیں خاص!

کہا جاتا ہے وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں لیکن آج تک ایسا ہوتے دیکھا نہیں گیا۔ پرانے زخم بھی تازہ ہی رہتے ہیں۔ جو باغ بہار میں اجڑ جائیں اس گلشن میں دوبارہ کبھی پھول کھلتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ اگر کوئی کسی دائمی مرض کا شکار ہو جائے تو گزرے وقت کے ساتھ زندگی جینا تو سیکھ جاتا ہے لیکن اپنی محرومی کو بھلا نہیں سکتا۔ کیا دنیا

Read more

زخمی عورت کا پیشاب

وہ بری طرح سے زخمی تھی۔ دانت ٹوٹے ہوئے، ہونٹ پھٹے ہوئے، دونوں آنکھوں کے گرد خون جمع ہوا۔ ایک طرف کا کان نیچے سے کٹا ہوا، ناک سے خون بہہ کر ہونٹوں پر جم کر پپڑی سا بن گیا تھا، گردن پر زخموں کے نشان، چھاتیوں کو بڑی بے دردی سے شاید گھونسے مارے گئے تھے، پیٹ، کمر، رانوں اور کولہوں کو شاید جوتے والی لاتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ شدید تکلیف میں نیم بے ہوشی کے

Read more

امریکہ میں فسادات: تصویر کا دوسرا رخ

مانا کہ صدر ٹرمپ نے سفید فام نسل پرستی کو بڑھاوا دے کر سیاہ فاموں کے لیے زندگی مشکل بنائی ہے۔ مان لیا کہ ہر سیاہ فام امریکی جرائم پیشہ یا زہریلا نہیں ہوتا، ان میں مثبت شخصیت رکھتے ذمہ دار شہری بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی مان لیا کہ سفید فام پولیس والے صحیح نہیں ہوتے، ان میں سے بہت سے آفیسرز نسل پرست ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں تصویر کے دونوں رخ دیکھنے چاہیں۔ مجھے ایک بار ہیوسٹن کے

Read more

فوکر جہاز میں دو قیدی اور موہنجوداڑو ائرپورٹ پر گلاب کے اداس پھول

اکتالیس سال قبل کی ایک سہ پہر کراچی سے ملتان براستہ موہنجو داڑو جانے والی پرواز میں مسافر بیٹھ چکے تھے۔ مجھے بائیں کھڑکی کے ساتھ والی نشست ملی تھی۔ میری پچھلی چند نشستیں خالی تھیں۔ مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد گزرنے کے باوجود دروازے بند ہوئے نہ سیڑھی ہٹی تھی۔ میں پی آئی اے کا ”ہمسفر“ رسالہ دیکھنے لگ گیا۔ اچانک پچھلی طرف ہلچل شروع ہوئی کچھ مسافروں کی آمد لگی ساتھ ہی بہت غصہ بھری تیز۔ اونچی۔ شستہ انگریزی میں ایک خاتون کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر مڑ کے دیکھنے لگا۔ ۔ ۔ خدایا کیا دیکھ رہا ہوں۔ راہداری میں دو پولیس افسر ان کے پیچھے ایک خاتون پولیس والی۔ اس کے پیچھے بی بی بے نظیر اور ابھی دروازہ کے پاس ہی کھڑی غصہ سے سرخ محترمہ نصرت بھٹو کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہ تھا۔ دستی سامان رکھنے کے بعد مسافروں کو میزبان لڑکی نشستوں پر بٹھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ممتاز بھٹو بھی آئے اور میرے بالکل عقبی نشست پر براجمان ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بیٹھے ان کے برابر والی دونوں دائیں جانب کی نشستوں پر کھڑکی ساتھ پورے کالی شلوار قمیض دوپٹہ والی نصرت بھٹو تشریف فرما ہوئیں اور اندر والی نشست پر سرخ و سفید پھولوں والی کالی قمیض اور کالی شلوار سفید دوپٹہ میں غم کی تصویر بے نظیر بیٹھ گئیں۔

Read more

میرے گاؤں میں ایسی عورتوں کو عزت دار شوہر مار دیا کرتے ہیں

سنبل، شادی شدہ، چار بچوں کی ماں اور ایک مزدور کی بیوی تھی۔ سنہ 2017 اگست میں دن دہاڑے لاپتہ ہونے والی سنبل کا کہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ جب ہی اس کے شوہر نے تھانے میں شکایت درج کرانے کی جسارت کر ڈالی۔ سنبل کے شوہر کو اس بات پر یقین تھا کہ اس کی بیوی کے ساتھ ضرور کچھ برا ہوا ہے جس نے انصاف کی حسرت لئے تھانے کی راہ لی تھی۔ تھانے میں کام پر مامور افراد بھی تو ہم جیسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے معاشرے میں موجود انسان گم ہو جانے والی عورت کو اپنی تنگ نظری سے جانچتے پھرتے ہیں، وہی ستم ظریفی سنبل کی گمشدگی کے بعد اس کے گھر والوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔

”تمھاری بیوی اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی“ کا روایتی چورن سنبل کے شوہر کے حضور بھی بیچ دیا گیا۔ سنبل کا شوہر غریب ضرور تھا مگر بے حس نہیں تھا۔ اس کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ اس کی بیوی بے وفا نہیں تھی، اس کو اور گودوں میں کھیلتے بچوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ یہی یقیں دلانے کی امید لئے تھانے کا رخ کر بیٹھتا تھا۔ بچوں کی ماں کو بازیاب کرانے کے اخراجات بھی ریاست کی بجائے اسی کو اٹھانا پڑے، آخر کو قانون اور انصاف سے نا آشنا نظام میں تھانے والوں کی روٹی ٹکر بھی تو ان کا بنیادی حق ٹھہرا جس کا بوجھ غریب کی پھٹی ہوئی جیب پر ہی گرتا ہے۔

Read more

ہم نے ”ریجیں“ اتارنی ہیں

کرونا کا رونا تو پوری دنیا میں جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا لیکن بعض رونے ہم لوگوں نے خود تیار کر رکھے ہیں کہ جن پر ہم خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رلانا بخوبی جانتے ہیں۔ وائرس پوری دنیا میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم روز بروز کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تک اس کی ویکسین کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تو اس کا واضح مطلب ہے ہمیں پتہ نہیں کتنا عرصہ اس مہلک وبا کے ساتھ گزارنا پڑے گا۔

اس وبا نے لوگوں کو کئی طرح کے سبق دے چھوڑے ہیں۔ کچھ سیکھ گئے اور کچھ بیچارے ابھی تک نادان رہ گئے۔ ہم نے دیکھا پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اس وبا کی وجہ سے بڑی سادگی سے اپنے فرائض پورے کر دیے جن میں سے شادی کا ذکر ہو رہا ہے۔ کئی ماں باپ ایسے تھے جنہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کم لوگوں میں اور کم خرچے میں بیٹیاں رخصت کر کے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور کئی لوگوں نے اپنے ملنے جلنے والے لوگوں کے ڈراموں کی وجہ سے کم لوگوں میں شادی کرنے کی عقلمندی کی۔ اس بات کا الزام اگر کروناوائرس کو دیا جائے تو وہ بھی ملنے والوں کے ڈرامے دیکھنے کے بعد خوشی سے اقرار جرم کر لے۔

Read more

بکھری ہوئی بک بک برکھا․․

ہماری اماں (دادی) کہا کرتی تھیں کہ اس کی زبان کے آگے تو ایک نہیں دو، دو خندقیں ہیں۔ اگر کوئی ایک میں گرنے سے بچ جائے تو دوسری میں تو ضرور گر جائے گا۔ وہ اکثر حیران ہو کر امی سے پوچھا کرتی تھیں۔ دلہن! کیا تم نے اسے کوے کی زبان بھون کر کھلائی ہے جو یہ اتنا بولتی ہے؟ سنا ہے کہ ہمارے عرفان بھائی جان بہت کمزور سے پیدا ہوئے تھے۔ دو سال کی عمر تک

Read more

د یکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام

طارق عزیز بلاشبہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ان تاریخ ساز لوگوں میں ہیں جنہوں نے پہلی نشریات سے لے کر طارق عزیز شو تک بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کے معروف الفاظ۔ ۔ ۔ د یکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام۔ ۔ ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی اجتماعی یاداشت کا حصہ ہیں۔ طارق عزیز اب بھی ٹویٹر پر اپنے لاکھوں مداہوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے موضوعات مذہب، سیرت النبی، عائلی زندگی اور ملکی

Read more

میری نانی کا گھر

بچپن کی یادیں نانی کے گھر کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ یہ ایک ایسا مقناطیسی مرکز ہوتا ہے جس کے گرد سب بہن بھائیوں اور ان کے بچے گھومتے رہتے ہیں یہاں تک کے ایک دن نا نانی رہتی ہے نا نانی کا گھر۔ ہماری نانی نے اپنی سات بیٹیاں پورے پاکستان میں جگہ جگہ بیاہی ہوئی تھیں۔ دو بیٹوں میں سے ایک کا خاندان تو عرصے سے پردیس میں آباد تھا اور ایک بیٹا بہو اپنے تین بچے چھوڑ

Read more

مفتی منیب الرحمان بمقابلہ فواد چوہدری: اختلافات اور حقیقت

مفتی منیب الرحمان اور فواد چوہدری کے درمیان قضیے میں پہلی اختلافی بات : رویت ہلال میں اصول مذہب ہے نہ کہ سائنس اور اختلاف کی صورت میں اعتبار مذہبی تعلیمات کا کیاجائے گا نہ کہ سائنس کا۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تمام علوم کا حامل ہونے کے باوجود روزے اور عید کا سبب رویت کو قرار دیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے علم دو قسم کا ہوتا ہے ؛ایک قطعی اور یقینی

Read more

کامریڈ چوہدری فتح محمد۔۔۔ اک چراغ اور بجھا

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی بڑی مختصر ہے۔ جس جگہ اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ریلوے اسٹیشن ہے اس کے پاس ہی پانی کا ایک ٹوبہ ہوا کرتا تھا۔ اس پر ادھر اُدھر کے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ خود ان کے لئے وہاں پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ یہ علاقہ ابھی آباد نہیں ہوا تھا۔ ایک درویش منش بوڑھا ٹیک سنگھ اس ٹوبہ کے کنارے آبیٹھا۔ وہاں اس نے جھگی ڈالی اور رہنا شروع کر

Read more

سر! یہ تو پھوپھو کی بیٹی لگتی ہے

بچپن میں ہمارے گاؤں میں محمد حسین نامی ایک جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس نے گھر میں ہی ایک کھڈی لگائی ہوئی تھی جس پر وہ کھدر کا کپڑا۔ کھیس اور سردیوں کے لیے پرانی اون سے جو لنڈے کی جرسیاں ادھیڑ کر حاصل کی جاتی تھی، گرم کمبل بنایا کرتا تھا۔ اس کا بننے کا عمل اتنا خوبصورت ہوتا تھا کہ ہم گھنٹوں اس کے پاس بیٹھ کر اس عمل کو دیکھتے۔ وہ کس محنت سے دھاگوں کو الجھنے سے بچانے کے لیے نلکیوں پر چڑھاتا، پھر ان نلکیوں کو چھت پر لٹکی ہوئی ہکوں سے لٹکاتا۔

Read more

چھوٹے کی لیبر

گئے دنوں کی بات ہے میں بالوں کی کٹنگ کے لیے اس سیلون پر پہنچا جہاں سے میں کٹنگ کرواتا ہوں۔ رش کافی تھا، میں اپنی باری کے انتظار ویٹنگ روم میں بیٹھ گیا۔ اپنی باری آنے پر میں اندر کرسی پر بیٹھ گیا۔ ایک چھوٹی سی عمر کا لڑکا جس کی عمر بمشکل بارہ یا تیرہ سال ہو گی وہ نمودار ہوا، اس لڑکے کو میں نے پہلی بار اس سیلون پر دیکھا تھا، اور انتہائی چستی اور چابکدستی سے مجھے ایپرن باندھنے لگا۔ عام سی شکل، سادہ سے تیل کی کثرت سے گولڈن ہوتے ہوئے بال اور چہرے پر سادگی اور بھولپن لئے وہ مجھے کسی اور ہی دنیا سے آئی ہوئی ننھی منی مخلوق لگا۔

Read more

غیر قانونی مگر جائز؟

گلگت بلتستان کا نام سنتے ہی ذہن میں قدرت کے شاہکاروں کا ایک نقشہ سا کھنچ جاتا ہے جس کا تصور کرنا، تصور بہشت سے کہیں کم نہیں! جہاں لوگ اس کے قدرتی حسن اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس کے باسیوں میں ایک طرح کا خلاء پایا جاتا ہے جسے تشخص کا خلاء کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں اس خطے کو اپنی قدرتی حسن کی بدولت دنیا میں ایک مقام حاصل ہے وہی پہ

Read more

حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

Read more

ٹھیکے دار کی بیٹی کا متبادل بیانیہ

حاجی الیاس پٹیل کی واٹس اپ پر مس کال آئی تو ہم نے عشا کی نماز سے فارغ ہوکر کال بیک کیا۔ وہ اُن میمن بوڑھوں میں سے ہیں جو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کو بھی مس کال مارتے ہیں۔ ہمارے بڑے قیام پاکستان کے وقت جب ممبئی ایرپورٹ سے کراچی کا سفر کرتے تھے، حاجی الیاس کے بڑے بزرگ فلم” دل لگی“ میں ثریا اور شیام کا گیت ’تو میرا چاند میں تیری چاندنی‘ گاتے ہوئے رم پی کر

Read more

یاسر حمید ہم شرمندہ ہیں

ایف ایس سی کا طالب علم، دیر تک پڑھائی کر کے اپنی مستقبل سنوارنا چاہتا تھا، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کا سہارا بن کر ان کے ادھورے خواب پورے کرنا چاہتا تھا۔ وہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کرنا چاہتا تھا۔ ڈگری رجسٹریشن کے لئے پہلے سے ہی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کر لئے تھے۔ عید کے کپڑے پہن کر جمعے کی نماز پڑھنا چاہتا تھا۔ مگر سفاک قاتل نے سفاکیت کی وہ انتہا کر دی کہ شاید یزیدیت بھی شرما جائے۔ گھر میں گھس کر طالب علم یاسر حمید پر فائر کرتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور قاتل پھوپھو کا شوہر معلوم ہونے کے باوجود بھی نامعلوم ہے۔ ابھی تک پولیس انہیں گرفتار نہ کر سکی۔

میں تین سالوں سے اسلام آباد میں قیام پذیر ہوں۔ یاسر حمید کو ذاتی طور پر نہیں جانتا مگر جب ان کا معصوم چہرہ

Read more

سفوکلیز کی اینٹی گنی، یونان کے ناراض دیوتا اور وزیر اعظم عمران خان

حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے تقریباً پانچ سو برس پہلے کی بات ہے کہ ایتھنز یونان کے پوش علاقے میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ امیر خاندان آباد تھا جن کے لوہے کے کارخانے تھے۔ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ”سوفوکلیز“ رکھا گیا۔ دنیا کے قدیم ترین لٹریچر میں ٹریجڈی کے تین ڈرامے اب تک بہت مشہور ہیں۔ انہی میں سے ایک ”اینٹی گنی“ ہے جس کا رائٹر ”سوفوکلیز“ تھا۔ اس ڈرامے کا نچوڑ اس

Read more

کردار کے غازی

دنیا میں کسی فرد کی شخصیت کو بنانے میں مندرجہ ذیل عوامل کارفرما ہوتے ہیں :

بچے کی شخصیت سازی میں ماں باپ اور اس خاندان کا حصہ ہوتا ہے جہاں ایک بچہ پروان چڑھتا ہے۔ گھر کے افراد بالخصوص ماں اور باپ کو بچے کی تربیت پر خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کی آغوش کو پہلی درس گاہ کہا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ ﷺ ہے :

”باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے“ ۔

Read more

آمنہ، عظمیٰ، عثمان کیس کے چند اہم پہلو اور ان کا علمی تجزیہ

ہم یہاں ان کرداروں کو جنرالائز کر کے، عمومی طور پہ اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ یوں تو یہ ایک روایتی تثلیث ہے۔ دو عورتیں اور ایک مرد۔ مگر اس موضوع کے تحت ہمیں معاشرے کے کئی کرداروں کے تجزیے کا موقع ملے گا۔ مثلاً ایک بیوی، ایک داشتہ، ایک شوہر، ایک ماں، ایک غاصب عورت، ایک زنا کار مرد، ایک بے شرم طوائف، اور ہنگامے سے پرے گلی میں کھڑے بہت سے کردار جو اپنے اپنے تئیں اس پہ تبصرہ کرنے میں لگے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

پہلو نمبر ایک : کیا کسی کے گھر پہ یوں دھاوا بولنا درست ہے؟

کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یعنی قانونی طور پہ ایسا کرنا قطعی درست نہیں۔ میں یہاں لارنس کوہلبرگ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھانا چاہوں گی جو بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات گزرے ہیں جنھوں نے بعد میں مورل ایجوکیشن یعنی کردار کی تعلیم کے میدان میں بہت کام کیا۔ ان کا ایک تجربہ جس کا یہاں ذکر بے حد ضروری ہے، انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ اس کو ہائنز ڈلیما یعنی ’ہائینز کی الجھن‘ کا نام دیتے ہیں۔

یورپ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہائینز کی بیوی کو ایک خاص قسم کا جان لیوا کینسر ہو گیا جس کے علاج کے لئے ریڈیم سے بنی دوا درکار تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ دوا مہنگی تھی مگر اس دوا کو خرید کر ایک دوا ساز نے اس کے دام دس گنا بڑھا دیے۔ یعنی چار سو ڈالر کی دوا وہ چار ہزار ڈالر میں بیچنے لگا۔ ادھار پکڑ کے، جیسے تیسے کر کے ہائینز نے دو ہزار ڈالر جمع کیے اور اس دوا فروش کے پاس پہنچا کہ یہ پیسے لے کر اسے دوا دے دے۔

اس کی بیوی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مگر اس دوا فروش نے سفاکی سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہائینز رات کے

Read more

بچوں کے لئیے ایک خطرناک معاشرہ

پاکستان لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کے لیے خطرناک ملک بن چکا ہے۔ جہاں پر ہر کچھ دنوں کے بعد ایسا واقعہ جس میں کسی لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہو خبروں کی زینت بنتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حافظ سمیع الرحمان کو بدفعلی پر آمادہ نہ ہونے پر خبیث کانسٹیبل نے بے دردی سے قتل کر دیا، اس سے پہلے قصور تو ان واقعات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہو چکا ہے۔ قصور کا نام ذہن میں آتے ہی ایسے علاقے کا تصور ابھرتا ہو جس میں کوئی بچہ اور کوئی بچی محفوظ نہیں ہے۔ قبل ازیں چونیاں میں جو واقعات ہوئے تھے جن میں تین بچوں کو جن کی عمریں بالترتیب آٹھ، نو اور بارہ سال تھیں زیادتی کے بعد انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا، عالمی میڈیا کی زینت بنے۔

Read more

چودھری محمد علی رودولوی کا کلاسیک افسانہ: تیسری جنس

مدی کا اصل نام احمدی خانم تھا۔ تحصیلدار صاحب پیار سے مدی مدی کہتے تھے، وہی مشہور ہوگیا۔ مدی کا رنگ بنگال میں سو دو سو میں اور ہمارے صوبہ میں ہزار دو ہزار میں ایک تھا۔ جس طرح فیروزے کا رنگ مختلف روشنیوں میں بدلا کرتا ہے اسی طرح مدی کا رنگ تھا۔ تھی تو کھلتی ہوئی سانولی رنگت جس کو سبزہ کہتے ہیں۔ مگر مختلف رنگ کے دوپٹوں یا ساڑیوں کے ساتھ مختلف رنگ پیدا ہوتا تھا۔ کسی

Read more

بچی ہوئی شادی شدہ زندگی!

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت اچھلی۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو ان کی محبوبہ کے گھر میں جا پکڑا۔ چونکہ یہ ویڈیو کسی طرح لیک ہوگئی یا کر دی گئی تو اس پہ طرح طرح کے تبصرے ہوئے۔ ان خاتون کے بقول وہ اپنی شادی شدہ زندگی بچانے کے لیے یہ سب کر رہی تھیں۔ مشرق میں عموماً اور پاکستان اور انڈیا میں خصوصاً شادی ایک رومانی تصور ہے۔ لڑکا پیدا ہوتے ہی اس کے سہرے گائے جانے

Read more