ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ : چند تاثرات

ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ فیصل آباد کے ایک نوجوان لکھاری احمد افتخار کا پہلا ناول ہے جو حال ہی میں سلیکھ پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا ہے۔ ناول کا انتساب ”عین الف“ کے نام ہے اور ٹائٹل بہت خوبصورت انداز میں عثمان ضیا نے ڈیزائن کیا ہے جو ناول کے تھیم اور فضا کے ساتھ حد درجہ موافقت رکھتا ہے۔ ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ وہ لکیر جس میں سیاہ اور سفید دونوں شامل ہیں۔ جو نہ

Read more

کانٹے اور سرخ رنگ کا ایک تیز خوشبودار لونگ کا پھول

تبصرہ نگار۔ ساجدہ فرحین فرحی The Thorn the Carnation یہ وہ ناول ہے جو یحییٰ سنورنے جیل میں لکھا یہ ناول ایک زمانے میں سب سے زیاد فروخت ہوا یہاں تک کہ اسے صیہونی حکومت کے دباؤ میں سائٹس سے ہٹا دیا گیا برطانیہ کے وکلاء برائے اسرائیل (UKLFI) نے ایمیزون کو بتایا تھا کہ یہ ایک ”غیر قانونی کام“ ہے۔ 18 اپریل 2024 کو UKLFI نے Amazon کو مطلع کیا کہ اس نے برطانیہ کے ”انسداد دہشت گردی“ قوانین

Read more

سندھ کا نسائی فلسفہ و تصوف

قدیم سندھ کے نسائی فلسفہ اور تصوف کے کلاسیکی رجحانات کی ماورائے تعقل تفہیم سے مزیّن رانا محبوب کی کتاب ”سندھ گُلال“ اگرچہ بجائے خود سندھ کی معرفت پہ مبنی ایسے منفرد سفرنامہ پہ مشتمل ہے جو بادی النظر میں انسان کے اجتماعی شعور کی صورت گری کے برعکس دھرتی سے مجازی محبت کے افسانوں کو حقیقت کے لبادے پہنانے کی مساعی نظر آتی ہے تاہم پیش نظر کتاب ”سندھ گُلال“ میں قرون وسطیٰ کے عربی، ایرانی، ہندوستانی اور یونانی

Read more

ڈاکٹر کبیر اطہر کا تصور مسیحائی

مسیحائی کا دائرہ کار جسمانی اور روحانی عوارض کو محیط ہے۔ دونوں عوارض انسانی ذات سے متعلق ہیں۔ کچھ عوارض کا تعلق فرد کے بجائے سماج سے ہوتا ہے۔ یہ عوارض براہِ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے ان عوارض کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کبیر اطہر معروف آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ اُن کی شاعری میں جابجا انفرادی اور اجتماعی عوارض کی جانب اشارہ ملتا ہے۔

Read more

سہیل پرواز کی سرگزشت: اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے

سہیل پرواز جنھیں ان کے چاہنے والے آغا جی کے نام سے پکارتے ہیں، کثیر جہت تخلیقی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، کالم نگار، ناول نگار، ادیب، ریڈیو، ٹی وی ڈراما نگار اور ٹی وی اداکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے تک عسکری شعبے سے بھی منسلک رہے، اس دوران انہوں نے کشمیر پر ایک ڈاکیومنٹری سکرپٹ بھی لکھا۔ جسے پاکستانی عوام نے بہت پسند کیا۔ سہیل پرواز کے ناول ’ڈھاکہ میں آؤں

Read more

گنجینہ معنی کا طلسم

اردو غزل کو نئی نئی بصیرتیں عطا کرنے والے میرزا یاس یگانہ چنگیزی کی غزلیات اور رباعیات کے ایک مجموعے کا نام ”گنجینہ“ ہے، اس کتاب کے لگ بھگ وسط میں وہ معروف غزل دیکھنے کو مل جاتی ہے جس کا مطلع ہے : کس کی آواز کان میں آئی دور کی بات دھیان میں آئی ڈاکٹر محمد اقبال آفاقی پر بات کرنے بیٹھا تو اس غزل کے مقطعے کی طرف دھیان چلا گیا ؛ لیجیے پہلے وہی عرض کیے

Read more

ہندوستان کا پکاسو، ایم ایف حسین

مقبول فدا حسین المعروف ایم ایف حسین کو ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا ہے۔ وہ متحدہ ہندوستان میں 1915 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مذہبی سلیمانی بوہرہ گھرانا سے تھا۔ ان کی مادری زبان گجراتی تھی۔ انہیں بچپن سے ہی مصوری کا شوق تھا۔ انہوں نے ممبئی کے آرٹ اسکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کے پوسٹر بنانے شروع کر دیے تھے۔ سال 1934 ء میں اندور کی ایک سڑک کنارے حسین کی پہلی تصویر دس

Read more

مشرف مبشر کی کتاب: ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“

مشرف مبشر سے میری پہلی ملاقات ہوم اکنامکس کالج کی تقریب پذیرائی میں ہوئی۔ ان کی ملنساری اور مشفق شخصیت نے متاثر کیا۔ دوسری ملاقات گندھارا ہندکو بورڈ میں ہوئی جہاں میں نے انہیں اپنی کتاب ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ دی تو کہنے لگیں میں بڑی سخت ممتحن رہی ہوں۔ تمہاری خود نوشت پڑھ کر تنقید کروں تو خفا مت ہونا۔ میں نے کہا جیسے دل چاہے لکھو۔ پھر دو دن بعد ان کا فون آیا۔ ایک سرشاری

Read more

نگاہ دگر کی روشنی (نظمیں)

کوثر جمال کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب میرے اور ان کے افسانے محترمہ کشور ناہید کے ”ماہ نو“ میں شائع ہوتے تھے۔ پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے چین چلی گئیں اور ہمیں افسانوں کی کتاب ”چینی منگولوں کے شہر میں“ سے نوازا۔ میں انہیں بحیثیت افسانہ نگار ہی جانتا تھا اور ان کی افسانہ نگاری کا معترف بھی تھا لیکن کرونا کے دوران جب ساری دنیا آن لائن ہونے پر مجبور ہو گئی تو مجھے کوثر

Read more

مجید امجد اور سرمایہ دارانہ نظام

وسائل اور اختیارات کا حصول انسانی سرشت میں روزِ اوّل سے موجود ہے۔ یوں انسان نے قدرتی وسائل کے بعد اِنسانی وسائل سے استفادے کے لیے اجتماعی زندگی کی طرف قدم آگے بڑھایا۔ قبائلی نظام کو وسائل و اختیارات پر قبضے کی اوّلین کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ آبی ذخائر کے کناروں پر کھیتی باڑی کا آغاز نئے سماجی ڈھانچے کی بنیاد بنا اور اجتماعی زندگی کا تصور پیدا ہوا۔ اس اجتماعی زندگی کے تصور کے بطن سے بادشاہت

Read more

فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ

فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں

Read more

رزاق شاہد کھلے آسمان سے آٹھویں آسمان تک

ہمارے سروں پر سات آسمانوں کا بار کیا کم تھا کہ رزاق شاہد آٹھواں آسمان بھی اٹھا لائے۔ اور یہ وہ آسمان ہے جو ہم پر کبھی عذاب نہیں بھیجتا، ہمارے دکھوں کو کم کرتا اور زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ رزاق شاہد کے ساتھ میری ایک یا دو مختصر ملاقاتیں ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے نقش اتنے گہرے ہیں کہ میں انہیں ہمیشہ اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ خوبصورتی ان کی تحریروں کی یہ ہے کہ ان میں

Read more

نوید صادق کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”ارتکاز“ ایک جائزہ

معاصر شعراء کے بارے میں کم لکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نقاد مخالفت مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ اگر کچھ لکھتا بھی ہے تو زیادہ تر توصیفی ہوتا ہے۔ وہ حسن و قبح کے اعلٰی معیارات سامنے رکھ کر تخلیقات کا جائزہ لینے کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ”ارتکاز“ میں معاصر شعراء کی شاعری پر مضامین شامل ہیں۔ یہ کتاب دو اعتبار سے اہم ہے۔ پہلا یہ کہ انھوں نے شعراء

Read more

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ یار مَن تُرکی“

بک کارنر جہلم ہمارے شہر سے نزدیک ترین کتابوں کا ایک بہت بڑا سٹور اور اس سے بھی بڑا اور منفرد اشاعتی ادارہ ہے۔ کتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کے علاوہ بھی اکثر وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ چند دن پہلے ماہر لسانیات اور درجنوں کتابوں کے مصنف پروفیسر غازی علم الدین اور اپنے دوست ممتاز شاعر ذوالفقار علی اسد کی معیت میں بک کارنر جانے کا اتفاق ہوا۔ اسی دن ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ”زبانِ

Read more

سنہری آنکھوں والی لڑکی: بالزاک کا ہم جنس پرستی پر لکھا جانے والا حیرت انگریز ناول

سُنہری آنکھوں والی لڑکی بالزاک کے ناول ’دا گرل ود دا گولڈن آئیز‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ہم جس ترجمے سے مستفید ہوئے ہیں وہ روف کلاسرا نے کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1835 میں فرانسیسی زبان میں چھپا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1930 میں نیویارک سے شائع کیا گیا۔ بالزاک نے ناول میں انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے بالخصوص پیرس کے سیاسی و اخلاقی حالات، کو انتہائی گہرائی اور وسعت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اُس نے

Read more

گرین زون فلسفے کے چار ستون

  اسلام علیکم خواتین و حضرات، سب سے پہلے بہت مبارکباد ثمر اشتیاق اور ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کا وقت میرے لیے بہت دلچسپ ہے کہ اس پراجیکٹ کا آغاز کووڈ کی وبا میں کیا گیا اور اس کی رونمائی اس وقت ہو رہی ہے جب ہم ایک apartheid state کی طرف سے مسلسل genocide کے eye witness ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے خدا مذہب انسانیت کو غزہ میں دفن کر چکے

Read more

ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے

Read more

بالزاک کا ناول یویجن گرینڈ

فرانسیسی مصنف ہنری ڈی بالزاک ( 1799۔ 1850 ) نے اپنی مختصر زندگی میں سو سے زائد ناول، ڈرامے اور کہانیوں کے مجموعہ جات تحریر کیے۔ بالزاک نے اپنے منفرد اسلوب کی مدد سے فرنچ معاشرے کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی ہے۔ بالزاک کی پیدائش پیرس کے نواحی علاقے میں ہوئی جہاں اُس کا باپ سرکاری ملازم تھا۔ جوان ہوا تو باپ کی خواہش پر پیرس منتقل ہو کر ایک وکیل کے ہاں منشی کی نوکری کرنا شروع کر دی۔

Read more

ایک بے خواب دوپہر کا فلیش بیک: چند تاثرات

اردو افسانے کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو ابتدا ہی سے خواتین افسانہ نگار، افسانے کے اُفق پر جلوہ افروز دکھائی دیتی ہیں۔ حجاب امتیاز علی، قرۃ العین حیدر، رشید جہاں، عصمت چغتائی اور ممتاز شیریں سے لے کر عصرِ حاضر تک ایک طویل فہرست ہے جن کے محض نام بھی درج کیے جائیں تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ ان خواتین کے افسانے سیاسی، سماجی اور فنی پختگی کا صریح ثبوت ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت

Read more

فوزیہ قریشی کے افسانوں کا مجموعہ: رقصِ مرگ

مدت ہوئی مرزا غالب کہہ گئے تھے : قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل کھیل بچّوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا غالب کے اس خوبصورت شعر پر فیض احمد فیض نے دستِ صبا کے دیباچے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فنِ سخن (یا کوئی اور فن) بچّوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے تو غالب کا دیدۂ بینا بھی کافی نہیں، اس لیے کافی نہیں کہ

Read more

جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ: لوحِ طلسم

”لوح ِطلسم“ جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوی مجموعوں ”اک فرصت ِگناہ“ ، ”حرفِ دعا“ اور ”ٹھوکا“ کو یکجا کر کے کلیات کی شکل میں شائع کیا ہے۔ لوح ِطلسم کے پہلے حصہ میں ”اک فرصتِ گناہ“ کے 9 افسانے ہیں اور دوسرے حصہ میں ”حرف ِدعا“ کے 8 افسانے شامل ہیں۔ تیسرا حصہ ان کے 2012 ء میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ”ٹھوکا“ کے 19 افسانوں پر مشتمل ہیں۔ 318 صفحات پر

Read more

آلودہ معاشرہ اور ماحولیاتی تناظر میں ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کی تحقیقی کاوش

ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب میں نے 1999 میں روزنامہ نیا دن کے اجراء کے لیے نوائے وقت کو دوسری مرتبہ خیر باد کہا تھا۔ اشرف جاوید پہلی بار اسی اخبار کے ساتھ صحافی کے طور پر منسلک ہوئے تھے۔ ان دنوں وہ ملتان کے مضافاتی گاؤں میں رہتے تھے اور بہت مشکل حالات سے گزر رہے تھے۔ نیا دن میں انہیں معمولی تنخواہ ملتی تھی۔ اخبار کی سرکولیشن بہت اچھی لیکن مالی

Read more

فرانز کافکا خاکسار کا پسندیدہ فکشنیا ہے لوگو

اور ابھی ایک بار پھر کافکائیتی کر کے ہٹا ہوں یعنی کافکے کے اس ناول کا لپک باز ہو کر نہایت سنجیدگی اور کمینگی سے مطالعہ کیا ہے، کمینگی سے اس لیے کہ سوچا تھا کہ پھر شاید اس میں سے کچھ اونچ نیچ پکڑ کر اپنے محبوب رائٹر کی کسی نکی موٹی واردات کو پکڑ سکیں گے لیکن پھر ہلکی پھلکی سی مایوسی ہوئی مگر کمینی سی خوشی یہ ہوئی ہے کہ اس ناول کے مرکزی کردار گریگر کی

Read more

”درختی گھر“ کے افسانے : ایک تاثر

عکس پبلی کیشنز کے محمد فہد نے گزشتہ ماہ انیس احمد کا ناول ”نکا“ ارسال کیا تو اس کے ہمراہ عبدالوحید کے افسانوں کا مجموعہ ”درختی گھر“ بھی بطور تحفہ ارسال کیا۔ زندگی کی مصروفیات میں ایسا کھویا کہ اس کا مطالعہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ عبدالوحید سے اس پہلے میں اس حد تک واقف تھا کہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے طویل عرصے صدر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ میری ان سے واقفیت نہیں۔ یہ تو

Read more

کتھا، قاری، اور نور جونیجو کا”مہذب وحشی”

یہ سندھ ہے، ہزار راتوں پر محیط داستان عشق۔ یہ سندھ ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا امین۔ صوفیوں کی سرزمین۔ علم کے متلاشیوں کا مرکز۔ اور اسی سندھ کے باطن سے نور جونیجو کے فکشن کے دھارے پھوٹتے ہیں۔ جدید سندھ سے، اُس کی انفرادیت، اس کے تفاخر، اور اس کے مصائب سے۔ اس کی آرزوؤں، اس کے اندیشوں سے۔ اس کے مرکز سے نور جونیجو کی کہانیاں نکلتی ہیں، اور بہتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا ناول

Read more

ہینگروں پہ لٹکے ہوئے جسم کی کتھا

صنوبر الطاف کی کتاب ”کائنات کہ بیک یارڈ سے“ کا جائزہ ”اتنی بڑی کائنات میں میرے پاس ایک کمرا ہے اور تم ہو ” صنوبر الطاف کی نظم کا یہ مطلع اس کائنات کی وسعت کو تنگ بہی کیے دیتا ہے اور وسیع بھی۔ کھلتا ہوا شغف بہی ہے اور دبتا ہوا سایہ بھی۔ ایک دنیا جو کہ نامکمل ہے پہ مکمل ہوتے کا احساس جاوید کیے دیتی ہے۔ وجود کے تلخم میں اس کمرے کا مل جانا اور اس

Read more

لاہور کے شاہی محلہ کی درپردہ ثقافت پر لکھی ایک کتاب پر تبصرہ

موڈ بڑا رومانوی سا تھا۔ لیپ ٹاپ کھولا اور نیٹ فلیکس پر کوئی مووی سرچ کرنے لگا کہ اس موڈ سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ سامنے سکرین پر ہیرا منڈی سیریز پر نظر پڑی جو اس سے ایک دو دن پہلے شروع کی تھی۔ مجھے کچھ خاص نہیں لگی تھی، اس لیے ایک آدھ قسط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، مگر اس رات کے موڈ کے حساب سے سیریز مل گئی۔ ذوق تو ادب کا رکھتے ہیں جو کبھی کبھار

Read more

ڈاکٹر علامہ اقبال کی کتب:ایک تعارف

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ( 9 نومبر 1877 ء۔ 21 اپریل 1938 ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مفکر، مصنف، قانون دان اور سیاستدان۔ علامہ محمد اقبال کو بہت سی حیثیتوں سے جانا اور مانا جاتا ہے۔ ان کی اردو اور فارسی کی تصنیفات جوہر کمال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس میں اسرار خودی، رموز بے خودی، علم الاقتصاد، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ جیسی دیگر تصنیفات شامل ہیں۔ ان کی تحریریں چاہے اس کا تعلق کسی بھی

Read more

خالد فتح محمد کے افسانوں کی کتاب ”وقت کی قید میں“ کا ایک جائزہ

ایک مختصر کتابچہ میرے سامنے ہے۔ یہ افسانوں کی کتاب ہے جسے تحریر کیا ہے جناب خالد فتح محمد نے۔ چھوٹی کتاب کا ایک فائدہ ہے کہ اسے ایک دو نشستوں میں ختم کر دو یا پھر کتاب بہت بڑی ہونا چاہیے جو ایک لمبے عرصے تک ختم نہ ہو۔ میرے سامنے موجود کتاب کا نام ہے ”وقت کی قید میں“ ۔ خالد فتح محمد ایک بڑا لیکن کسی حد تک غیر معروف نام ہے۔ یہ کیسا درد ہے کہ

Read more

بورخیس اور آپ

بورخیس کا مطالعہ ریاضیاتی معنوں میں ایک عجیب و غریب حلقہ دار سرگرمی ہے۔ اگر آپ ڈچ گرافک فن کار مورس اشر کے کام سے واقف ہیں تو ضرور جانتے ہوں گے کہ ناممکن اشیاء کے کیا معنی ہیں۔ ایسی ہی ایک ناممکن شے ”اشری سیڑھیاں“ ہیں جن پر چڑھنے یا اترنے والا مسلسل چڑھتا یا اترتا ہی رہتا ہے۔ یہ سوال کہ آیا وہ چڑھ رہا ہے یا اتر رہا ہے، سیڑھیاں دیکھنے والی آنکھ پر منحصر ہے۔ سو

Read more

پروفیسر خورشید احمد کی تصنیف: ’یادیں ان کی، باتیں ہماری‘

پروفیسر خورشید احمد ماہر اقتصادیات، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے بانی چیئرمین، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اسلام، تعلیم، عالمی اقتصادیات اور اجتماعی اسلامی معاشرے کے حوالے سے بہت سا کام کیا۔ دوران تعلیم پڑھنے کے ساتھ ساتھ ذاتی لائبریری میں اچھی اچھی کتب جمع کرنے کا شوق بھی رہا اور طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کے پاس اچھی خاصی لائبریری رہی ہے اور

Read more

کتاب ”رومی کون“ پر تبصرہ

عبداللہ جاوید کے اس کام کو اپنی نوعیت کا منفرد اور جامع کام کہا جائے تو بہتر ہو گا اور عبداللہ جاوید صاحب کی فکری اور ادبی جستجو کو پیش نظر رکھا جائے تو یوں کہیں گے کہ اردو ادب میں ایک نئی جہت کا آغاز ہوا۔ ‎ ” دو سو صفحات پر مشتمل کتاب ’رومی کون؟‘ اردو ادب کے ممتاز شاعر، نثر نگار، نقاد اور کالم نگار عبد اللہ جاوید کی تصنیف ہے جو اب ہم میں موجود نہیں

Read more

ہزارہ کی کہانیاں

اردو میں تاریخی ناول لکھنے کی روایت ایک صدی سے پرانی ہے۔ عبدالحلیم شرر اور راشد الخیری سے لے کر اسلم راہی، ایم اسلم اور نسیم حجازی تک درجنوں لکھنے والوں کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے۔ جنہوں نے اسلامی تاریخ کے خاص واقعات اور نامور شخصیات پر سینکڑوں ناول لکھے ہیں۔ یہی مصنفین اسلامی تاریخ میں مبالغے گھولنے اور مسلمانوں کو ایسے جنگ جو مجاہدین کے طور پر پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں جو اپنے مذہب کی

Read more

راگنی کی کھوج میں: کتاب پر تبصرہ

مصنفہ اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون صدر نشین ہیں۔ آپ ایک نام ور تخلیق کار، مترجم اور محقق ہیں، آپ تخلیقی اعتبار سے شاعری، فکشن، رپور تاژ نگاری آپ کی دل چسپی کے عکاس ہیں۔ ان کی دل چسپی کا نمایاں میدان نو آبادیاتی عہد میں غرب شناسی، سیرت نویسی، بر عظیم کی صوفیانہ روایت اور اردو ادب، بالخصوص فکشن کا سماجی و سیاسی مطالعہ ہے، تاہم ان کی اہم علمی جہت تحقیق متن ہے۔ مصنفہ کی آپ بیتی

Read more

ناروے میں پاکستانیوں کا تاریخی حوالہ: سید مجاہد علی کی کتاب ’گفتگو‘

یہ کتاب اسّی اور نوے کی دہائی میں ناروے کے اردو ماہنامہ کاروان میں ’گفتگو‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے علامتی اداریوں کا مجموعہ ہے جو اعلٰی ادبی و استعاراتی انداز ِنگارش کی وجہ سے ایک منفرد ادبی حیثیت رکھتا ہے۔ ستر اور اسّی کی دہائی کے وسط میں پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تلاش معاش کے سلسلے میں ناروے پہنچی۔ اس کتاب کے خالق بھی ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں 1975 میں ناروے تشریف لائے۔ یہ

Read more

مچ البوم اور ننھے لڑکے کے سفید جھوٹ

”اسے زور سے مارو۔“ سپاہی چلایا۔ ”نہیں تو میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا۔ ”سیبسٹین نے اپنی طرح کے اس قیدی کو کوڑا مارا، جسے وہ جانتا تک نہ تھا۔ یہاں پہ ٹرین سے اترنے والے دوسرے لوگوں کی طرح اس کے کپڑے بھی اتار لیے گئے تھے۔ اس کے جسم کے سب بال مونڈ دیے گئے تھے۔ رات بھر اسے غسل خانے میں کھڑا رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے ننگے پاؤں سردی میں تاحال بھیگے

Read more

قصہ سات نسلوں کا: تنہائی کے سو برس

اس غیر معمولی تخلیق کے مصنف گابرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل

Read more

غروب شہر کا وقت: کتاب پر تبصرہ

اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ پڑھنے کے دوران مجھے بار بار یہ احساس ہوتا رہا جیسے میں بلندی سے نیچے جانے والی سیڑھیاں ایک کے بعد ایک طے کرتا جا رہا ہوں۔ سیڑھیاں جو جگمگاتی ہوئی زمین پر نہیں بلکہ کسی لامتناہی اندھیرے میں اتر رہی ہوں۔ زوال کے اصل معنی شاید یہی ہوتے ہیں۔ ایک شہر جو ثقافتی اور اخلاقی اعتبار سے ڈوبنے کے بعد اقدار کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں پر تعمیر ہو رہا ہے۔ لاشیں

Read more

 ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر

”ٹورنٹو دبئی اور مانچسٹر“ شاہد صدیقی صاحب کی آپ بیتی بھی ہے، رپورتاژ بھی یاد نامہ بھی مگر اس کو سفرنامہ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی پیشانی پر درج ہے دل فریب شہر دل کش کردار دل ربا کہانیاں انتساب کیا ہے اس کتاب کو اپنے مینٹور راج کے نام گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جدید سفر نامے کا کینوس وسیع ہوتا جا رہا ہے لیکن اسے پڑھ کر مجھے شفیق الرحمن کی برساتی کی فضا کا ایک

Read more

شمالی امریکہ کی شاعرات: ناہید ورک کے تراجم

ترجمہ وہ علاقہ غیر ہے جہاں جانے سے پہلے آپ سوچتے ہیں کہ اس علاقے میں جائیں کہ نہ جائیں۔ کچھ جیالے اور جیالیاں اس دریا میں بے خطر بھی کود پڑتے ہیں اور ان میں جو شناور ہوتے ہیں وہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر بھی دکھا دیتے ہیں۔ مگر یہ بہت سنجیدہ کام ہے اور تخلیق سے زیادہ صبر طلب بھی ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے جب ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو ایسے سنجیدہ کام

Read more

شاید نہیں: رفیع حیدر انجم کے افسانے

کائنات کا وجود میں آنا اور اس کے اندر فنا کا راز رکھ کر زندگی کو تجسس میں رکھنا کہانی ہے۔ کب کیا ہو گا، کی سوچ کہانیوں کو جنم دیتی ہے، تحیر اور وسعت سے ہمرکاب کرتی ہے۔ اپنے اطراف سے ایسی ہی ڈھیروں المیہ، طربیہ اور تجسس سے معمور کہانیاں ہم کہانی کار اپنے مزاج کے سانچوں میں ڈھالتے ہیں۔ دو چار کہانیاں مصنف کا اسلوب بتا دیتی ہیں۔ کہانی کار بیانیہ انداز اپناتا ہے لیکن کچھ کہانی

Read more

اینا کریننا پر اظہارِ رائے سورج کو چراغ دِکھانا

ایسا ناول جس کے مطالعہ کے لیے عزم بھی درکار ہے اور استقلال بھی۔ ہم نے اینا کریننا کا زمانہ طالب علمی میں بھی مطالعہ کیا تھا اور اب ایک عرصے بعد جب اس پر تبصرہ لکھنے کو من چاہا تو دوبارہ کھول لیا۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جسے پڑھنے کے لیے اُسی طرح کے اہتمام کی ضرورت ہے جیسے محبوب کو ملنے کی غرض سے وقت نکالا جاتا ہے۔ پھر اس کے مطالعہ سے جو مزہ آئے گا

Read more

جیب کترے: نیر اقبال علوی کی افسانہ نگاری

نیر اقبال علوی معاصر عہد میں ان افسانہ نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں جنھوں نے اُردو افسانے کے معیار اور وقار کو اعتبار بخشا ہے۔ اب تک ان کے سات افسانوں کے مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں ”عالمِ سوز و ساز“ ، ”جہانِ رنگ و بو“ ، ”سلسلۂ روز و شب“ ، ”ہنگامۂ رنگ و صوت“ ، ”پاگل خانہ“ ، ”باؤلے کتے“ اور ”می رقصم“ شامل ہیں۔ ان افسانوں کے توسل سے انھوں نے قارئین

Read more

بک ریویو : دھوپ میں لوگ (ناول)

غسان کنفانی کا ناول، ”دھوپ میں لوگ“ فلسطینی ادب کے اہم شاہکاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی تخلیقات میں ناول، مختصر کہانیاں، ڈرامے، بچوں کی کہانیاں، ادبی تنقید، اور سیاسی تحریریں شامل ہیں۔ کنفانی فلسطین کی آزادی کے ترجمان تھے اور ہفتہ وار اخبار، الہدف (مقصد) کی ادارت کرتے تھے۔ اپنی بیشتر افسانوی تحریروں میں، کنفانی جدیدیت پسند بیانیہ تکنیک استعمال کرتے ہیں تاکہ اجنبیت، جلاوطنی، اور قومی مزاحمت کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ تاہم،

Read more

پیار کا پہلا شہر

ناول "پیار کا پہلا شہر” معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کی تحریر ہے۔ جو بیک وقت افسانہ نگار، مضمون نگار، کالم نگار اور ناول نگار ہیں۔ جنہوں نے نا صرف اردو ادب کی راہیں ہموار کیں بلکہ ادب کی دنیا میں نام کمایا۔ اس ناول کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ماسکو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سیلیبس کا حصہ ہے۔ اس ناول کا موضوع انسان کی سوچ ہے کہ ہر انسان کس طرح اپنے اندر اور باہر کی دنیا

Read more

ژاں پال سارترکا ناول: متلی

”لا نوزے“ (La Nausée) فرانسیسی فلسفی اور ادیب ژاں پال سارتر کا مشہور ناول ہے جو 1938 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی کردار انتوان روکانتین ہے، جو اپنی زندگی کی بے معنویت اور وجود کی حقیقت کے حوالے سے ایک کشمکش میں دکھائی دیتا ہے۔ سارتر کے فلسفے کی بنیاد ”وجودیت“ ہے، جس کے مطابق انسان کی زندگی میں کوئی پیش فرض مقصد یا معنی نہیں ہوتا۔ انسان آزاد ہے اور اپنی زندگی کے معنی خود تخلیق کرنے

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

"متن ،قرات اور نتائج”:تعارفی مطالعہ

تخلیق، تنقید اور تحقیق ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو ادب کا معیار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ محاسن و معائب میں فرق کرنا ،اوصاف و اقدار کا تعین کرنا اور موازنہ و ترجیح اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ شوماخر نے اپنی کتاب “Elements of Critical Theory”میں تنقید کے حوالے سے جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے ،وہ غیر جانب داری(Unbiasedness)ہے۔معاصر عہد میں کئی ایسے ناقدین ہیں

Read more

”جستِ فکر“ پر طائرانہ نظر

ڈاکٹر حسن فاروقی سے اپنا تعلق اتنا پرانا تو نہیں لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت میں کشش ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ ہوں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب تو پیرا سائیکالوجی کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ قلم قبیلے کے افراد میں یہ کشش، فطرت نے ازل سے رکھی ہوئی ہے۔ جب بھی مجھے حرف و سخن سے جڑا ہوا کوئی شخص ملتا

Read more

”اوریانا فلاشی کا ناول: ”ایک مرد

اوریانا فلاشی اٹلی کی ایک مشہور صحافی اور لکھاری تھیں، جنہوں نے اپنے بے باک انٹرویوز اور تبصروں کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کی تحریریں سیاست، جنگ، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر مرکوز رہیں اور دنیا بھر میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ ناول یونان کے انقلابی رہنما، الیکسینڈروس پاناگولیس کی زندگی پر مبنی ہے، جو نہ صرف ایک سیاسی قیدی بلکہ ایک محبت کرنے والا انسان بھی تھا۔ ناول کی کہانی 1960 کی دہائی کے

Read more

کیا ”آگ کا دریا“ ایک مشکل اور بے کار ناول ہے؟

چار برس پہلے جب میں نے ”آگ کا دریا“ ناول اپنے موبائل پر پڑھنا شروع کیا تو اس سے پہلے میں قدرت اللہ شہاب، محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق جیسے اردو میں اچھے اسلوب کے حامل مصنفین کا مطالعہ کر چکی تھی اور میں نے قرۃ العین حیدر ہی کا ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ بھی پڑھ رکھا تھا اس لیے میری اردو اتنی اچھی ہو چکی تھی کہ اس ناول نے ابتدا ہی میں مجھے اپنے سحر میں

Read more

پاکستانی قومیت اور ریاست کا نظریاتی بحران

پاکستانی قومیت اور ریاست کا نظریاتی بحران لمز میں شعبہ سیاسیات سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر احمد یونس صمد کی حالیہ کتاب ”Pakistani Nationahood and State ’s Idealogical Crisis“ کا اردو ترجمہ ہے۔ تاریخی تسلسل کے زاویہ نظر سے دیکھتے ہوئے یہ کتاب پاکستانی قومیت کے تصور اور اس کے نظریاتی بحران کو قبل از تقسیم کے منظرنامے سے جوڑتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کے نظریاتی اور سیاسی بحرانوں کی کڑی تقسیم سے قبل

Read more

منیر نیازی: شخص اور شاعر

منیر نیازی کا شمار عہدِ حاضر کے ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے عصرِ حاضر کی شاعری کو نئے تخلیقی اُفق اور طرزِ اظہار کے جدید انداز سے روشناس کرایا۔ اُنھوں نے بیک وقت اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تخلیقی کاوشوں کا اظہار کیا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انھوں نے نثر کے میدان میں بھی اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا لوہا منوایا، جس میں افسانہ، کالم نگاری، ڈراما، اداریے، کُتب پر تبصرے، فلیپ اور ایک ادھورا ناول، اس کا

Read more

چیخوف اور افسانہ خادمہ: ایک تعارف

پیدائش: 1860 ء۔ انتقال: 1904۔ روس کا افسانہ نویس اور ڈراما نگار۔ 1884 ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ چیخوف نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ‌‌ اسے ایک سخت مزاج باپ اور ایک اچھی قصّہ گو ماں نے پالا پوسا۔ چیخوف کی ماں اپنے بچّوں کو دل چسپ اور سبق آموز کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ یوں ‌ بچپن ہی سے وہ ادب اور فنونِ لطیفہ میں

Read more

دریافت کے میدان سے باہر از ڈاکٹر لبنیٰ فرح

ڈاکٹر لبنیٰ فرح نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں عربی زبان و ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چنیدہ اور معروف مترجم اور انٹرپریٹر ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد تدریسی تجربہ اور ریاستی سطح پر انٹرپریٹیشن کے وسیع تجربے نے ان کی لسانی اور ثقافتی تفہیم کو وسیع کیا ہے جس کی بنا پر پچھلے کچھ برسوں سے انہوں نے عربی افسانوں کو اردو قالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ترجمے سے متعلق انگریزی کتب

Read more

"چار آدمی” اور ڈاکٹر امجد ثاقب

میں نے چند کتابیں منگوائیں، ان میں یہ ایک کتاب کا عنوان تھا ”چار آدمی“ حقیقت تو یہی ہے کہ مجھے جن ناموں کا تذکرہ تھا اس کتاب کے سر ورق پر ان کی وجہ سے بہت معتبر کتاب محسوس ہوئی اور میں نے ازخود کشش محسوس کی۔ کتاب خریدنے کے بعد کئی دن یا ایک دو ماہ یہ کتاب کچھ مصروفیات کے باعث اور پہلے سے جاری شدہ زیر مطالعہ کتابوں کی وجہ سے یوں ہی کتابوں میں موجود

Read more

ناول ”دی ہابٹ“ صرف بچوں کا ادب نہیں

’دی ہابٹ‘ جے آر آر ٹولکین (3 جنوری 1892۔ 2 ستمبر 1973) کا تحریر کردہ مہم جوئی پر مبنی ایک تخیلاتی ناول ہے۔ بنیادی طور پر دی ہابٹ نوجوانوں کے لیے لکھا گیا فکشن تھا جسے پہلی بار 1937 میں شائع کیا گیا۔ ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول ’دی لارڈ آف رنگ‘ کی دیواریں بھی اسی ناول کی بنیادوں پر ہی قائم ہیں۔ ناول کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زُبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ اس کے اُردو

Read more

طاوس فقط رنگ

طاوس فقط رنگ نیلم احمد بشیر کا ایک خوب صورت بیانیہ ناول ہے، جس کا عنوان اقبال کے معروف مصرِع: بلبل فقط آواز ہے طاوس فقط رنگ پر رکھا گیا ہے۔ ناول کا عنوان ہی کسی مور کے پر کی طرح ہمارے وجدان میں سہ رنگی سوال کے خیالات بھرنے لگتا ہے اورذہن خود بخود اقبال کی مغربی طرز زندگی اور معاشرتی روایتوں پر تنقیدی نظر کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے جس کا اشارہ اسی کلام کے اگلے شعر

Read more

دستوئیفسکی کا ایڈیٹ

ایک ادیب کی پھانسی کا تصور کیجیے اور سوچیے کہ اس پر اس وقت کیا بیتی ہوگی جب اسے اپنے انقلابی خیالات اور جاگیردارانہ سماج کے خلاف سچ گوئی پر سزائے موت کا حکم سنا دیا جائے اور طویل وقت کی قید و بند کے بعد ، تختہ دار پر لٹکے پھانسی کے پھندے تک لے جایا جائے۔ تب گلے میں پڑا موت کا پھندا اور نظروں کے سامنے تیزی سے گزرتے زندگی کے سبھی پل کیسے سوہانِ روح ہو

Read more

تقسیم کے بنیادی ہتھیار تشدد اور توڑ پھوڑ ہوتے ہیں

یہ دریائے راوی ہے جس کا پانی عاشقوں کی آنکھ سے زیادہ صاف اور اِس کی چراہ گاہیں باغ اِرم سے زیادہ خوشگوار تھیں۔ یہ دریا تہذیبوں کا امین اور رازوں کا مکین ہے۔ یہ دریا گورو نانک جی مہادیو کے جنم استھان ( ننکانہ صاحب) سے لے کر اُن کے دُنیا سے کنارہ کرنے تک (کرتار پور) کی زندگی کا چشم دید گواہ ہے۔ گورو نانک جی مہادیو کی سادہ سی تعلیمات نے ہند کے سماج میں ایک زبردست

Read more

پاکستان میں ’الیکٹریکل اسکوٹرز‘ کا سونامی

الیکٹریکل اسکوٹر کو پہلی دفعہ دو ہزار دس میں کمبوڈیا میں دیکھا تھا۔ دیکھنے میں ’اسٹائلو‘ ، استعمال میں آسان، وزن میں ہلکی اور رنگوں میں رنگین۔ پچھلی طرف ایک چھوٹی سی ’ڈگی‘ جو سامان رکھنے کے لئے کارآمد۔ علاوہ ازیں پاؤں ٹکانے کو پائیدان۔ جس کی وجہ سے ٹانگوں اور پیروں میں تھکن نہیں اترتی۔ اور تین پہیوں کی بدولت توازن بھی بہتر ہے۔ اور اہم ترین یہ کہ بجلی یعنی بیٹری سے چلتی تھیں۔ شور تو کوئی ہے

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

ناول ’کبڑا عاشق‘ کا تعارف و جائزہ

کبڑا عاشق فرانسیسی کلاسیکی ناول ’ہنچ بیک نوٹرے ڈیم ڈی پیرس‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس ناول کی پہلی اشاعت 1831 میں ہوئی۔ ہم نے جس ایڈیشن کا مطالعہ کیا ہے اس کے 132 صفحات ہیں۔ جتنا عمدہ یہ ناول ہے اتنا ہی غیر معیاری اس کا سر ورق ہے۔ ناول کے جائزہ سے پہلے ہم ناول کے تخلیق کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انقلابی سوچ کے مالک وکٹر ہیوگو ( 26 فروری 1802۔ 22 مئی

Read more

پلاٹوں سے آگے زندہ شہر ڈیزائن کریں

دو ہزار چوبیس کی بہار، پھر بے موسمی بارشیں اور اب یک دم موسمی پارہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت کی سوئیاں اوپر چڑھنے سے پہلے مہنگائی اور بجلی کے نرخوں نے بھی صارفین کو سنجیدگی سے بہت کچھ سوچنے اور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ  بھی گزشتہ کئی برسوں میں شتر بے مہار کی طرح بڑھتی بجلی پٹرول، گیس، ایندھن اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں ہیں۔ سخت گرما پنکھے،

Read more

ناول: زوربا یونانی کا تعارف

زوربا یونانی نامور یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس ( 18 جنوری 1883۔ 26 جنوری 1957 ) کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ نیکوس کیزنزاکیس سلطنت عثمانیہ کے شہر اکلیون میں پیدا ہوا تھا جو اب یونان کے پاس ہے۔ زوربا یونانی پہلی بار 1946 میں یونانی زبان میں چھپا۔ 1953 میں کارل وائلڈ مین نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اور اب یہ اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اس اہم

Read more

صدیق عالم کا تازہ ناول ”مرگِ دوام“۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اجمل کمال نے اپنے جریدے سہ ماہی ”آج“ میں مکمل ناول شایع کیا بلکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا کرچکے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے انہوں نے صدیق عالم کے تازہ ناول ”مرگِ دوام“ کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے آخر میں ایک جملہ لکھا جس کا مفہوم یہ بنتا تھا : ”میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی موت سے پہلے یہ ناول

Read more

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟ فرض کریں آپ کے کھٹکھٹانے سے یہ دروازہ کھل بھی جائے تو آپ اپنے ماضی کے کس دور میں جانا پسند کریں گے؟ وہاں جہاں کی بیش قیمت یادوں کی مہک کسی عطر کی ماند ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی ہو، یا اس مقام پر جہاں ماضی کی کسی ہولناک لغزش نے آپ کا حال گہنا دیا ہو، یا پھر وقت کا وہ دوراہا جو ابھی آیا نہ ہو،

Read more

اشعر نجمی کا ناول ’جوکر‘: کردار نگاری کی بہترین مثال

اشعر نجمی (سید امجد حُسین) معروف بھارتی شاعر و فکشن نگار  ہیں جو ساماہی مجلہ اثبات کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کا تعلق جمشید پور سے ہے مگر اب انہوں نےممبئی میں ہی سکونت اختیار کر رکھی ہے۔اشعر نجمی کے اب تک تین ناول منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اُن کا پہلا ناول ‘اس نے کہا تھا’ جس کا موضوع ہم جنس پرستی پر مبنی ہے 2021 میں شائع ہوا۔،اس کے بعد 2022 میں ان کا ناول ‘صفر کی توہین’

Read more

اوراق منتشر: پرانے لکھاری کی پہلی کتاب

صاحب کتاب کی تصنیفی صلاحیت سے رابطہ ایک ادبی گروپ میں ان کی شیئر کردہ کچھ تحریریں پڑھنے سے ہوا تھا۔ تب وہ مصنف کے درجے پر نہیں پہنچے تھے۔ جب یہ رتبہ ملا اور معلوم ہوا کہ جناب نے کتاب لکھی ہے تو سوچا تھا کہ ضرور خریدوں گی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن پھر ایک دن ایک ’گوگل فارم‘ کتاب خریدنے کے لئے سامنے آ گیا۔ جس نے مجھ جیسوں کے لئے آسانی پیدا کر دی۔ فوراً

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال کی کتاب: پلیٹو سے ما بعد جدیدیت تک مغربی ادب

زیر نظر کتاب ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جس نے ایک نہایت دلچسپ محرک کے تحت کتاب لکھی یہ تحریک شاید ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ دراصل یہ مصنف کی ایک دلچسپ ادا معلوم ہوتی ہے لیکن اس ادا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مجھے پڑھنے کو کوئی کتاب نہیں مل رہی تھی سوچا کہ کیوں نہ کتاب خود لکھ لی جائے اور اسے پڑھا جائے“ یہ

Read more

نیر اقبال علوی: معاصر حالات کا ترجمان

نیر اقبال علوی سے میرا تعارف ان کے مجموعے ’جہان رنگ و بو‘ کے توسط سے ہوا۔ اس مجموعے میں مقامی اور عالمی صورت احوال کی جو عکاسی کی گئی ہے اس کی توقع کسی ماہر اور مشاق قلم کار ہی سے رکھی جا سکتی ہے جن کا فن پختہ اور فکری کینوس وسعت کا حامل ہو۔ انھوں نے اردو ادبی منظر نامے کو اپنے افسانوں کے کئی نمایاں مجموعوں (باؤلے کتے، پاگل خانہ، می رقصم، عالم سوز و ساز،

Read more

سوشل میڈیا اور ہم

سوشل میڈیا کیا ہے ہے اس سے مراد ایک ٹیکنالوجی ہے جو معلومات کا خزانہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روابط کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ہمارا تعلق جس دور سے ہے اس میں سوشل میڈیا کو بام عروج حاصل ہے ہر عمر سے تعلق رکھنے والا فرد اس ٹیکنالوجی پر شعوری اور لاشعوری طور پر اپنا زیادہ سے زیادہ وقت صرف کر رہا ہے جس کے بہت سے نتائج برآمد ہوتے ہیں جو کہ ایک غور طلب پہلو

Read more

بلوچستان ہی کیوں؟

پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں اس کا ایوان بالا تمام صوبوں کے لیے برابری کی نمائندگی کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ جہاں سینیٹ کے کل 104 اراکین میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے۔ کسی سیاستدان کا اس کے اپنے صوبے سے باہر دوسرے صوبے کے کوٹے پر سینیٹ کا الیکشن لڑنا ڈاکہ زنی نہیں تو اور کیا۔ یہ موضوع آج کل اور ایک ایسے وقت میں زیر بحث ہے جب سینیٹ کے اگلے انتخابات 2

Read more

اور ہم نے کتاب چھپوائی

ایک تصویر انٹرنیٹ پر ایک محترمہ نے پبلک پوسٹ کے طور پر لگائی، یہ حال میں ہوئی کسی آرٹ کی نمائش کی تصویر ہے۔ کسی طرح اتفاقاً یہ تصویر مسافر کے سامنے آ گئی۔ مسافر نے اس مکان کو دیکھا تو زمان کے ایک اور دور میں پہنچ گیا جہاں مسافر اس مکان میں پایا جاتا تھا۔ یہ جگہ آرٹ کے لیے شروع سے مختص رہی ہے۔ یہ لاہور میں ایر فورس کا ایر ڈیفنس سکول تھا جو کہ اب

Read more

پاکستانی دلہن

فیس بک پر گزشتہ روز میں نے اپنے استاد محفوظ علی خان کی ایک پوسٹ پڑھی۔ جس میں انہوں نے بپسی سدھوا کا ناول پاکستانی دلہن پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس پوسٹ میں مذکورہ  ناول کے موضوع کے  بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس نے مجھے متوجہ کیا اور اسی وقت میں نے مذکورہ ناول کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر لی۔ بپسی سدھوا پاکستانی مصنفہ ہیں جو اس وقت امریکہ میں رہتی ہیں، وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ

Read more

وہ ورق تھا دل کی کتاب کا: ایک شاہکار

اس کتاب کے مصنف محمد اقبال دیوان صاحب ہیں۔ دیوان صاحب کا تعلق ریاست جونا گڑھ کے دیوان اور پیٹل گھرانے سے ہے۔ آپ طویل عرصے تک بیوروکریسی کا حصہ رہے ہیں۔ ساٹھ سے زائد ممالک کی یاترا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا مشاہدہ عمیق ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر دیوان صاحب کی معلومات، مطالعہ، مشاہدہ اور اپنے موضوعات پر گرفت دیکھ کر رشک آتا ہے۔ اس کتاب میں پیار و محبت کے قصے، راز و

Read more

کوئٹہ سے کنیا کماری تک

کوئٹہ سے کنیا کماری تک براہوی زبان کی کتاب دراوڑستان کا اردو ترجمہ ہے جسے ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے لکھا اور نیلم مومل نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ 2011 میں براہوی اکیڈمی کوئٹہ نے شائع کیا تھا۔ موجودہ کتاب ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کا جنوبی ہندوستان کا سفرنامہ ہے جس میں دراوڑ نسل، اس کی زبان اور ثقافت اور جنوبی ہندوستان کے بارے میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر 1987 میں بلوچستان یونیورسٹی میں براہوی کے

Read more

آگ لگے ان کتابوں کو

پچھلے مہینے کالم نگار یاسر پیرزادہ کی یہ کتاب نظر سے گزری تو مجھے اس کا ٹائٹل کچھ عجیب لگا۔ یاسر پیرزادہ جیسے پڑھنے والے اور لکھنے والے انسان کی کتابوں کو لے کر یہ رائے عجیب لگی کہ سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ اب اپنی لائبریری میں موجود سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگانے کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی یاسر پیرزادہ کی اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ کیا۔ آخر کیا وجہ ہے

Read more

محمود الحسن کی کتاب: ”شمس الرحمن فاروقی۔ جس کی تھی بات بات میں اک بات“

کسی عبقری پر لکھنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ اردو میں سب سے مقبول طریقہ خاکہ نگاری اور سوانح نگاری کا رہا ہے۔ خاکہ نگاری میں نہ چاہتے ہوئے بھی لکھنے والے کی اپنی شخصیت کا پرتو در آتا ہے جب کہ سوانح نگاری اکثر اسپاٹ اور پھیکے بیانیے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ان چیزوں سے بچنے کے لیے محمودالحسن نے جو طریقہ اختیار کیا وہ محنت اور دقت طلب ہونے کے باوجود شان دار محسوس ہوتا

Read more

عنوان:تہذیب نسواں نوآبادیاتی ہندوستان میں نسائی شعور کا علمبردار:ایک جائزہ

ڈاکٹر غزل یعقوب کی تحریر کردہ کتاب ”تہذیب نسواں :نو آبادیاتی ہندوستان میں نسائی شعور کا علمبردار“ نوآبادیاتی ہندوستان میں خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے کی گئی کوششوں اور ان میں شعور و بیداری کے فروغ کے لیے کی گئی کوششوں کا احاطہ کرتی ہے۔ مصنفہ کا رجحان نوآبادیاتی ہندوستان میں خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے کی گئی کوششوں اور اس دور میں نسائی شعور کے فروغ کے لیے جاری کیے گئے رسائل کی طرف رہا

Read more

عابد حسن منٹو کی سوانح: قصہ پون صدی کا

نامور ترقی پسند ادیب، دانشور، ماہر قانون، انسانی حقوق کے علم بردار اور مارکسی راہنما عابد حسن منٹو کی خود نوشت سوانح ”قصہ پون صدی کا“ شائع ہوئی تو بک کارنر جہلم کے روح رواں امر شاہد جی کی کاوش سے ہمیں برطانیہ پہنچ گئی۔ تین سو تینتالیس ( 343 ) صفات اور 8 حصوں میں تقسیم منٹو جی کی اس کتاب کو موضوعات کی مناسبت سے 57 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ان کا خاندان، وکلا

Read more

2022 کی نوبل انعام یافتہ مصنفہ اینی ارنو کی کتاب ”گمشدہ“ کا ایک جائزہ

اینی ارنو ادب کا نوبل انعام جیتنے والی پہلی فرانسیسی مصنفہ ہیں۔ اینی ارنو کو 2022 ء کے نوبل پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اینی کی زیادہ تر تحریریں سوانحی نوعیت کی ہیں لہذا کچھ ناقدین کے مطابق یہ ان کے ذاتی مشاہدے کی طاقت ہے کہ قارئین انھیں غلط طور پر خود اپنی زندگی کا مورخ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق اینی ارنو نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ سوانحی تحریروں کی بجائے افسانے کی

Read more

”غروب شہر کا وقت“ اسامہ صدیق کا منفرد ناول

پتہ نہیں اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ ہاتھ میں تھامتے ہی رگ و پے میں ایک گہرا دکھ اور یاس سا کیوں اترنے لگتا ہے۔ شاید سینکڑوں سالوں سے بار بار بسنے اور اجڑنے والا یہ نوسٹلجیائی سی کیفیات کا حامل دلبر سا شہر جسم و جان سے روح کی طرح ہی چمٹا ہوا ہے کہ اس کے زوال بارے کوئی بھی بات انی کی طرح کلیجے میں اتر جاتی ہے۔ ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا،

Read more

نوبل انعام یافتہ فرانسیسی مصنفہ : اینی ارنو کے محبت زدہ جریدے ”گمشدہ“ کا مطالعہ

”میں اپنی محبت کی کہانیاں لکھتی ہوں اور میں اپنی کتابوں میں رہتی ہوں“ مصنفہ اینی ارنو نے پیرس میں مامور ایک شادی شدہ روسی سفارت کار کے ساتھ، ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ، ایک تباہ کن اور نا امید جذبے کے ساتھ گزارا۔ اپنی محبت کی کہانی کو دنیا کے سپرد کرنے سے قاصر اسے ایک راز میں رکھا اور مصنفہ نے اسے اپنی محبت کی ڈائری میں قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا، بہت باقاعدگی سے، اس

Read more

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کتاب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں اس کی تعریف میں یا اس پر تبصرہ لکھنے کے لیے ہزاروں جملے ترتیب وار سامنے کھڑے نظر آتے ہیں لیکن کوئی کوئی کتاب اپنے اندر اس قدر کاملیت لیے ہوتی ہے کہ آپ اس کی شان میں اگر کوئی قصیدہ بھی لکھ دیں تب بھی اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔ سر مستنصر حسین تارڑ کے لکھے ناول ”منطق الطیر، جدید“ کے بارے میں

Read more

نینا عادل کی کتاب: مقدس گناہ

مصنفہ: صاحبہ تبصرہ: عرفان علی جناح (ڈنور) آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں! رنگ تھے چار۔ رنگوں سے بھرا ہوا یہ ناول میرا ایک طلسمی تجربہ ٹھہرا۔ یا پھر مصنفہ کی محنت اتنی باریکیوں تک کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں آپ کو رنگوں کی دنیا ملے گی۔ شبدوں میں جو رنگ ہوتے ہیں وہ ہر ورق کر نظر آئیں۔ مجھے تحریر، الفاظ اور خیالات کی بہتی ہوئی روانیوں نے بے حد لطف پہنچایا۔ میں نے

Read more

اچھوتوں کی ڈائری۔ سندھ گلال

رانا محبوب اختر کی نئی کتاب ”سندھ گلال“ سندھڑی کی وہ گم شدہ آواز ہے جو لوٹ آئی ہے۔ یہ آواز دیوتاؤں کی داستانوں کے سامنے مقامی آدمی کی کہانی ہے۔ وہ آواز جو حملہ آوروں کے رزمیہ داستانوں کی دھج اور جھوٹ میں کے گم ہو گئی تھی۔ یہ ڈیوجی، سورتے، سنبھو اور پھلاج کی کہانی ہے۔ یہ سارنگ، سنگھار، سرہے اور لکھمیر کی کہانی ہے۔ یہ ان زمیں زادوں کی کہانی ہے جو بادشاہوں کے شاہناموں میں اچھوت،

Read more

میں ہوں جہاں گرد!

”روایت شکن ہی روایت ساز ہوتا ہے۔“ یہ پہلا جملہ تھا فرخ سہیل گوئندی صاحب کا اپنی کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ کی تقریب رونمائی پر جو ہمارے تو دل میں اتر گیا۔ تقریب مکمل ہونے کے بعد ہم نے چائے پینے کے دوران انہیں کہا کہ آپ کا یہ جملہ تو میں چرا چکی ہوں۔ فرخ صاحب زور سے ہنسنے لگے۔ شاہی قلعہ میں مکاتب خانہ میں فروری 2021 کی ایک ڈھلتی ہوئی شام کو جب مدھم ہوتی ہوئی

Read more

کتاب لفظوں میں تصویریں: ایک جائزہ

بحیثیت افسان نگار ممتاز حسین کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جھنگ میں پیدا ہوئے، اپنی راہیں خود بنانے کی تگ و دو میں نیویارک میں مستقل قیام کیا۔ بحیثیت مصور، ڈرامہ نگار، شاعر، افسانہ نگار، اور فلمساز نام کمایا مگر جھنگ کی خوشبو اور مٹی کو اپنے ساتھ رکھا۔ سولہ افسانوں کے اس مجموعے میں قاری کا واسطہ مختلف کردار، تجربات، انسانی احساسات، معاشرتی تصادم سے پڑتا ہے۔ ہر افسانہ زندگی کے حقائق اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں

Read more

ہم ابھی رستے میں ہیں از حامد یزدانی: ایک جائزہ

اس طرح کم ہی ہوتا ہے کہ شاعری کی کتاب کو پڑھنے کے دوران ایسا محسوس ہو کہ جیسے اندر کی ذات کے دریچوں پر کوئی ہولے سے دستکیں دے رہا ہو۔ کچھ اس طرح کا احساس محترم حامد یزدانی کی کتاب ”ہم ابھی رستے میں ہیں“ کو پڑھتے ہوئے ہوا۔ حامد یزدانی کی نظمیں دھیرے سے وجود کو چھو جاتی ہیں۔ اپنے دھیمے پن کے ساتھ یہ نظمیں پڑھنے والے کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ ان نظموں

Read more

ازلی مسافر کا سفرنامہ یورپ

کہتے ہیں کہ مسافر کے تجربات مشاہدات واقعات خیالات جذبات احساسات اور اس پر گزری کیفیات اگر ایک مربوط تحریر کا روپ دھار لیں جن میں توازن اور حسن بیان بھی ہو تو ایک شاہکار سفرنامہ وجود میں آ جاتا ہے۔ پہلی جھلک یورپ کی ایسا ہی ایک شاہکار سفرنامہ ہے جو حسنین نازش کی تخلیقی استعداد اور مہارت کا اعلی نمونہ ہے۔ حسنین نازش محض ایک سیلانی ہی نہیں بلکہ ایک منفرد قلم کار بھی ہیں ان کے سفرنامے

Read more

مکھوٹا

ڈاکٹر نجیبہ عارف اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی معتبر اور کثیر الجہت شخصیت کے طور پر شناخت رکھتی ہیں۔ آپ بطور افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، مضمون نگار اور شاعرہ کے طور پہ مستحکم پہچان رکھتی ہیں۔ مکھوٹا کی اشاعت کے بعد آپ اردو ناول نگاروں کی صف میں شامل ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف تین دہائیوں سے زائد عرصے سے درس و تدریس سے منسلک ہیں آپ اردو کی استاد ہیں اور کامیاب ماہر تعلیم ہیں۔

Read more

شہناز شورو کی کتاب ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“

خسرو کا رنگیں سنگھا سن جھومر شاہ بھٹائی کا تہذیبوں کے رنگ سے روشن چہرہ سندھو مائی کا احمد جہانگیر شہناز شورو کی کتاب کا نام ان کے افسانوں کے مرکزی خیال سے جڑا ہے، ”کوئی کہکشاں نہیں ہے“ ۔ یہ افسانے رستے زخموں کی بخیہ گری کے بعد قاری کے حوالے کر دیے گئے۔ بخیہ گری کا یہ سلیقہ بہت کم افسانہ نگاروں کے ہاں نظر آتا ہے۔ ان کی کتاب کا دیباچہ انڈیا کے معروف ادیب حقانی القاسمی

Read more

ریویو کتاب: “One and one make eleven "

کچھ دن قبل خالد سہیل نے ایک ملاقات میں اپنے زمبیل نما، مخصوص کالے رنگ کے بیگ پیک میں سے پہلے کی طرح ایک کتاب نکالی۔ کتاب کی چمک کو میرے سینسز نے فوراً جانچ لیا۔ کہ ایک نئی کتاب ہے۔ انہوں نے اس اچھے خاصے حجم والی نئی تخلیق کا ٹائٹل پیج اپنی طرف رکھتے ہوئے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ اور میں ان کے کچھ بولنے سے پہلے بول پڑی۔ ایک اور کتاب؟ اور انہوں

Read more

یہودی مصنف کی کتاب ”فلسطینی تجربہ گاہ” کا ایک جائزہ

حال میں ہی شائع ہونے والی مذکورہ کتاب جامع طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ در اصل کس طرح اسرائیل کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو جاسوسی، جنگی اور نگرانی کے ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے لیے آزمائشی میدان، تجربہ گاہ یا لیبارٹری کے طور پر استعمال کرتا ہے اور پھر ان ہتھیاروں کو مکمل طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر میں موجود حکومتوں ؛آمروں اور جمہوریتوں کو کس طرح مہنگے داموں برآمد کرتا ہے۔ کتاب

Read more

ناول نیلیاں سلہاں پچھوں: اچھوتوں کی ڈائری

رفعت عباس کا نیا سرائیکی ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ اس دھرتی کے مقتولوں اور مقبوضہ شہروں کی وہ کتھا ہے جو پہلی مرتبہ مفتوحہ لوگوں کی طرف سے بیان کی گئی ہے۔ اس سے پہلے قاتل اور قبضہ گیر کا موقف معتبر ہو کر بول رہا تھا۔ یہ ناول اس بات کا اعلان ہے کہ اب دھرتی واسیوں کے بولنے کی باری ہے۔ وہ دھرتی واس جن کو فاتح کی لغت کے تحت راکھشس، داسو، اچھوت، شودر اور ملیچھ بنا

Read more

گلاب پاش یا صندل کا پیڑ: زمانہ حال کی ایک نایاب کتاب

ادب میں نایاب کتاب اس کتاب کو سمجھا جاتا ہے جو یا تو انتہائی قدیم ہو اور بہت کم افراد کے کتب خانے کی زینت ہو یا پھر عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہوئی ہو اور شائقین علم کی دسترس سے باہر ہو۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جو نہ تو مندرجہ بالا پہلی شرط پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی دوسری پر۔ لیکن میں اس کتاب کو پھر بھی نایاب کتاب کا درجہ

Read more

”ہجر کربناک ہوتا ہے“ :ایک تاثر

شاعری احساس اور جذبے کو مجسم کرنے کا فن ہے۔ یہ الفاظ کی ایسی جادوگری ہے کہ جذبے اور الفاظ کی ہم آہنگی سے پراسرار شعری آہنگ تخلیق کرتی چلی جاتی ہے۔ ارفع تخیل اور عمدہ فکر کے امتزاج سے تشکیل پذیر ہونے والی شاعری قاری کے قلب و روح کو سحر آگیں کیفیات سے سر شار کر دیتی ہے۔ ”ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری منفرد اور ممتاز اسلوب کی شاعری ہے۔ ڈاکٹر میمونہ سبحانی نے مذکورہ کتاب کی

Read more

غروب شہر کا وقت، ایک تاثر

ڈاکٹر اسامہ صدیق میرے شہر دار بھی ہیں، دوست بھی ہیں اور رقیب بھی۔ دوست کی کتاب پہ تبصرہ کرنا مشکل اور نہ کرنا اس سے بھی مشکل ہے۔ خاص کر اس صورت میں جب اس تعلق میں رقابت بھی شامل ہو۔ رقابت کی وجہ ظاہر ہے، وہی روایتی ہے، ہم دونوں ایک ہی شہر کی محبت میں مبتلا ہیں، شہر لاہور۔ ڈاکٹر اسامہ کا ناول ’غروب شہر کا وقت‘ اسی لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے، جس کی

Read more

ڈاکٹر خاور نوازش کی کتاب: ”موقف کی تلاش“

بد قسمتی سے پاکستان میں تنقیدی سوچ اور منطقی انداز فکر کو سراہے جانے کا چلن رواج نہیں پا سکا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی بات ہمارے عقائد اور مسلمات سے متصادم ہو رہی ہو، اسے یا تو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کے خلاف محاذ تشکیل دے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری قوم دنیا

Read more