"بر بساط غالب” پر جگنو کی جھلملاہٹ

ہمارا عہد، عہد میر و غالب سے الگ ہے رازؔ سو اب جگنو کریں گے گفتگو خورشید کے فن پر لیجیے، ایک جگنو سورج کی آب و تاب پہ روشنی ڈالنے کو حاضر ہے۔ میرے اس جملۂ معترضہ کو ادب سے ہٹ کر کچھ نہ سمجھیے گا۔ یقیناً حالات حاضرہ کا یہی خلاصہ ہے۔ مگر انھیں کے مطابق رازؔ تم مرزا بھی ہو، سو، تم بھی کر کے دیکھ لو حضرت غالبؔ کے جیسی پیش دستی ایک دن تو پھر

Read more

علی اکبر ناطق کی خودنوشت: آباد ہوئے، برباد ہوئے

دَورِ حاضر میں علی اکبر ناطق کسی تعارف کے محتاج نہیں اورمستقبل میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ اُن کے ادبی قد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ناطق کی شخصیت متاثر کُن ہے اور اُن کے قلم سے نکلا ہوا ادب بھی با ادب ہے۔ جہاں پاکستان و بھارت میں اُن کے معتقدین کی کثیر تعداد ہے، وہیں ناقدین بھی اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ ایک طرف وہ اُردو کے بعض کلاسیکی شعرا کے

Read more

سجاد اظہر کی راول راج نگری

”سادھو: نہیں خدا اپنے مظاہر سے بات کرتا ہے اور جس پر کھلتا ہے، اس کی زبان کی لکنت ختم کر کے اس میں علم پھونک دیتا ہے۔ ہمیں یہ علم وجدان سے ملا ہے۔ ہمارا علم دلوں سے منتقل ہوتا ہے اور تمہارا کتابوں سے۔ ہو سکتا ہے کوئی کتابی کیڑا یا نفرت تمہارے کتابی علم کو راکھ بنا دے، مگر ہمارے دلوں کے علم تک کسی کیڑے یا آگ کی رسائی نہیں۔ “ ہزاروں سال قدیم ہندوستان کے

Read more

انور زاہد کا وجدان

زمین نام کے سیارے پر ہومر ایسا شاعر ہے جس کی نظمیں اِس کی وجہ شہرت ہیں اُس کی دو نظمیں ایلیڈ اور اوڈیسی جو اُس کی وجہ شہرت بنی خدا کی زمین پر خدا گواہ ہے کہ صدیاں بیت چلیں اُس کی شہرت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا ۔دُنیا میں ہر لکھنے والے نے ہومر کی عظمت کو دل و جان سے تسلیم کیا ہے ۔ وہ اپنی نظموں میں یونانی بہادروں کی جرات ، شجاعت ،

Read more

’غروب شہر کا وقت‘ فکشن، سوانحی ناول، خودنوشت یا مضامین کا مجموعہ؟

پچھلے دنوں اسامہ صدیق کے نئے ناول کی تقریب رونمائی کی تصویری جھلکیاں آنکھوں سے گزریں تو جستجو ہوئی کیوں نہ اس بار ”غروب شہر کا وقت“ منگوا کر مطالع کر لیا جائے۔ ان کے پہلے ناول ”Snuffing out the Moon“ کے اردو ترجمہ ”چاند کو گل کریں تو جانیں“ کو نہ پڑھ پانے پر افسوس ہے حالاں کہ اس ناول نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی شہرت پائی تھی۔ خیر! ناول گراں قیمت ہونے کے باوجود منگوا لیا گیا،

Read more

کتاب تبصرہ: خوشبو کی دیوار کے پیچھے از محمد حمید شاہد

”زندگی بھیدوں بھری کتاب ہے یہ ہاتھ لگے اور کھولنے کا وقت نہ ملے تو ورق ورق دیمک چاٹ جاتی ہے۔ کھول لیں تو اس کی اپنی زبان سیکھے بغیر اسے پڑھا اور سمجھا نہیں جا سکتا۔ ” محمد حمید شاہد بھیدوں بھری اس کتاب میں کیا کچھ ہو سکتا ہے یہ ہر انسان کے ذاتی تخیل پر مبنی ہے۔ خوشبو کی دیوار وہ پردہ ہے جو ایک سے دوسرے انسان کے بیچ پڑا ہے، یہ پردہ ہٹے تو کون

Read more

غافر شہزاد کا ناول ”مکلی میں مرگ“

”مکلی میں مرگ“ غافر شہزاد کا شاہکار فن پارہ ہے۔ ناول میں سندھ کے قدیم ترین قبرستان مکلی کے بارے میں اور اس کے ساتھ لاہور، کراچی، جھنگ، اچ شریف اور پاکپتن شریف میں موجود صوفیاء کرام کے مزارات کی تعمیرات اور ان کے ڈیزائن کی صوفیا کے چہار سلاسل سے نسبت کو بہت ہی خوبصورت اور معلوماتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر ان مزارات میں دفن بزرگوں کے بارے کم حقیقی اور زیادہ من گھڑت واقعات

Read more

تاریخ میں سفر: ایک مختلف جہان کی سرگزشت

کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ ۔ مصنف: فرخ سہیل گوئندی ناشر: جُمہوری پبلیکیشنز، لاہور۔ واٹس ایپ 03334463121 دنیا نے سرد جنگ کی سب سے فیصلہ کن، 1980 کی دہائی میں بے مثال جغرافیائی سیاسی صف بندیوں اور زبردست افراتفری کا مشاہدہ کیا، جو بالآخر دو قطبی دنیا کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوا۔ دو مختلف فلسفے۔ سرمایہ داری اور کمیونزم، بڑے پیمانے پر بلاکس کی شکل اختیار کر چکے تھے، اور دونوں ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے

Read more

تار تار پیرہن

کشور ناہید کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خواتین کی تحریک اور ضیا الحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد میں وہ 1983 میں لاہور میں مال روڈ سے نکلنے والے اس جلوس میں شامل تھیں جس میں پولیس نے عورتوں پر لاٹھیاں برسائی تھیں۔ وہ شروع سے ایک باغی عورت اور ایک بہادر فیمنسٹ رہی ہیں۔ کبھی انہوں نے سیمون ڈی بوائر کی کتاب کا ترجمہ اور کبھی ’بری عورت کی کتھا‘ لکھ کر تہلکہ مچایا۔ ان کی نظم

Read more

چراغ آفریدم… رفعت سجاد کا ناول ”چراغ آخر شب“

چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ پنجواں میں بالن آئیاں بھلا اور یہ پانچواں چراغ جلایا ہے رفعت ناہید سجاد نے۔ ”چراغ آخر شب“ جب ابھی چھپا بھی نہیں تھا، (اور اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے میں دکھی اور بہت شرمندہ ہوں) کہ مجھے ایک سخت وہم نے آ لیا تھا کہ رفعت نے یہ ناول قرۃ العین حیدر کے ناول "آخر شب کے ہمسفر” کے چھتنار درخت تلے بیٹھ کر تحریر کیا ہو گا کیونکہ اس کے عنوان سے

Read more

ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب

نادرہ مہر نواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔ بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور

Read more

ناول نین تیرے انجان

ناول نگار کنول بہزاد تبصرہ دعا عظیمی ’نین تیرے انجان‘ جسے کنول بہزاد صاحبہ نے لکھا ہے اپنے عنوان کی طرح رومانوی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک معاشرتی ناول ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک دیہات سے ابھرتی ہوئی یہ کہانی چلتے چلتے پاکستان کے دل تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان کا دل یعنی لاہور۔ شہر لاہور کی محبت لکھنے والی کے قلم سے یوں ٹپکتی ہے جیسے رس گلے سے شیرہ ٹپکتا ہے۔ بندہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے

Read more

تصوف کی بھینٹ چڑھائی گئی لڑکی کی کہانی: دخترِ رومی

انعام ندیم ایک عمدہ شاعر، مرتب اور مضمون نگار تو ہیں ہی لیکن گزشتہ چند برسوں میں وہ ایک مستند مترجم کے طور پر بھی ابھرے ہیں۔ ان کا پہلا ترجمہ کردہ ناول ”دوزخ نامہ“ سن دو ہزار میں چھپا اور مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور ترجمے سامنے آئے، جن میں ”بھیشم ساہنی کی کہانیاں“ ، ربی سنکر بال کا مولانا روم پر لکھا ناول ”آئنہ سی زندگی“ اور حال ہی میں برطانوی مستشرق مینوئل موفروئے

Read more

مٹی آدم کھاتی ہے

کچھ کتابیں سارے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ محمد حمید شاہد کا ناول ’مٹی آدم کھاتی ہے‘ ان ہی میں سے ایک ہے۔ ناول نگار نے اپنے اس ناول کو انسان اور اس کی محبتوں کی کتاب قرار دیا ہے۔ ہم سب کو دُکھ دے کر اس دنیا کو الوداع کہنے والے نقاد محترم شمس الرحمن فاروقی اسے دُکھ کی کتاب کہتے ہیں۔ میں اسے انسان اور اس کی محبتوں اور دُکھ کی کتاب کے ساتھ نفرت اور

Read more

انڈر گراؤنڈ

انڈر گراؤنڈ کے لغوی معنی تو زیر زمین یا زمین کے اندر ہی ہوتے ہیں لیکن سیاست کی زبان میں یہ لفظ بہت گہرائی اور گیرائی رکھتا ہے۔ یہاں پے اس لفظ کی اس سے زیادہ وضاحت میرے خیال میں غیر ضروری ہے۔ یہ عنوان ہے ہمارے دوست، صحافی، ناول نگار، شاعر، محقق، قلم کار اشرف شاد کی نئی کتاب کا ۔ اشرف نے یہ کتاب اپنے ساتھیوں مجاہد بریلوی، عامر ضیاء، سہیل سانگی کی شراکت میں مرتب کی ہے۔

Read more

محمد طارق کی کتاب: جمہوریت کیوں اور کیسے؟

میرے پاس یہ کتاب مطالعہ اور تبصرے کے لیے آئی تو موضوع دیکھ کر لگا کہ ایک خشک قسم کی کتاب ہو گی اور شاید اسے پڑھنے میں دل نہ لگے لیکن یہ معلوماتی ہونے کے ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ مصنف نے سیاست کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ مل جل کر گروپ کی شکل میں کسی کام کو پایہ انجام تک پہنچایا جائے۔ جیسے ایک فٹ بال ٹیم میں مختلف کھلاڑی ہوتے ہیں لیکن ان سب کا ہدف

Read more

بین الاقوامی ادب کے حوالے سے ایم خالد فیاض کی کتاب کا طائرانہ جائزہ

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس سال میں تنقید کے نام پر بین الاقوامی ادب سے ایسا بہت کچھ ترجمہ یا تلخیص کی صورت سامنے آیا ہے جو یقیناً لائق ستائش تو تھا مگر جس طور یہ ظہور پذیر ہو رہا تھا وہ ادبی سرگرمی کا حامل نہیں بن پا رہا تھا کہ تب تخلیقی عمل کو ایک طرح سے دیس نکالا دیا جا چکا تھا۔ نتیجۃ اس دورانیے میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ایم فل حتی

Read more

پاکستانی سیاست (فوج اور نوکر شاہی کا کردار)

ضیا الحق کے دور میں پاکستان کے ترقی پسندوں کے لئے حمزہ علوی کے تحقیقی مقالوں کی وہی اہمیت تھی جو آج کے دور میں ارون دھتی کی تحریروں کی ہے۔ ضیا الحق نے معاشرے میں تنقیدی فکر اور روشن خیالی کے دریچے بند کرنے اور لوگوں کو کنویں کا مینڈک بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ ایسے میں حمزہ علوی کے مارکسی ویژن نے پاکستان میں جمہوریت کے عاشقوں کو روشنی کی کرن دکھائی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ

Read more

گزرے دن: ڈاکٹر حسن منظر کی ڈائری کے اوراق

ہمارے بہت سے ادیب اور شاعر دوستوں کا تعلق طب کے شعبہ سے ہے۔ جتنی اعلی اور انتہائی مہارت وہ اپنے میڈیکل کے شعبہ میں رکھتے ہیں اس سے اچھے وہ ادیب ہیں اور بہت اچھی شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیالات کا کینوس بہت وسیع اور ان کی سوچ بڑی منفرد اور ان کا ذوق انتہائی اعلی ہوتا ہے۔ برطانیہ سے واپسی پر جب عزیزم گگن شاہد نے ”گزرے دن“ بک کارنر جہلم پر میرے حوالہ کی تھی

Read more

رفعت عباس کا ناول: نمک کا جیون گھر

یہ ایک گمبھیر اور منفرد ناول ہے۔ یہ کسی ایک انسان اور اس کے معاشرے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے لے کر جب سے انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اور اب انسان جس مقام پر ہے یہ تب تک کی کہانی ہے۔ انسان کے زمین پر بسنے کی داستان سے لے کر اکیسویں صدی تک کے سفر میں انسان سے ایسی کیا غلطی ہوئی کہ خدا، جنگ اور موت انسان کے لئے لازم و

Read more

نمک کی جیون نگری

”کسی شہر کا کلام جاگ اٹھے تو لوگ پہلے سے بڑھ کر حسین ہو جاتے ہیں۔“ ایسی انوکھی بات کرنے والا کوئی جادوئی حقیقت نگار ہی ہو سکتا ہے جو اپنے قاری کو اس دھرتی کے ایسے شہر طلسمات میں داخل کر دے، جہاں نہ خدا ہو، نہ جنگ اور نہ ہی موت! ملتان کی زرخیز فکری دانش سے تعلق رکھنے والے اور مقامی آدمی کے موقف بڑے سلیقے سے پیش کرنے والے ہمارے منفرد تخلیق کار اور جادوئی حقیقت

Read more

روبینہ فیصل کے ناول ’نارسائی‘ پہ تبصرہ

روبینہ فیصل کا ناول نارسائی ایک نا آسودہ عورت کے جلتے بجھتے جذبات کی ایسی داستان ہے جو کہیں جذب ہی نہیں ہو پاتی؛ نہ دلوں میں، نہ سماج میں، نہ ہی خدا کی نادیدہ، نا رسیدہ نگری میں۔ یہ کہانی ہمیشہ ہوا میں ہی معلق رہی، کسی بدروح کی طرح۔ قرن ہا قرن سے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ عورت اپنی نا آسودگی مٹانے کی خواہش میں جو رستہ چنے گی، بھٹک جائے گی؛ اس راہ میں جو

Read more

فکر و فلسفہ

کہتے ہیں اچھی کتاب ہو یا فلم بار بار پڑھنی اور دیکھنی چاہیے۔ مثلاً قرۃ العین حیدر کا معرکتہ آرا ناول ”آگ کا دریا“ جتنی بھی بار پڑھیں تو ہر بار ایک نئے جہت سے تعارف ہوتا ہے۔ رینے ڈی کارٹ کے مشہور قول I think, therefore I am کو جناب جمشید اقبال نے اپنی کتاب ”فکری روایات کا تنقیدی مطالعہ اور مقامی فکر و شناخت کا مقدمہ“ لکھ کر عملی جامہ پہنایا ہے۔ فلسفہ پڑھنا، سمجھنا اور پھر فلسفیانہ

Read more

حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد

ڈاکٹر عمیر منظر اپنی تصنیف و تالیف سے مستقل اپنے قارئین کو حیران کیے رہتے ہیں۔ ”راجندر رمنچندہ بانی“ ، ”باتیں سخن کی“ ، ”رشید حسن خاں (کلام غالب شارح)“ جیسی تخلیقی و تحقیقی کتابوں کے بعد ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے دادا جان کی سفر حج پر مشتمل یاد داشتوں کو جمع کر کے ”حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ تقریباً نوے صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان

Read more

"مہوشاں”: چند تاثرات

ماریہ مہوش سے میری شناسائی اتنی پرانی نہیں بلکہ پہلا تعارف کرونا کے دوران، حلقہ ارباب ذوق کراچی کے آن لائن اجلاسوں سے ہوا۔ وہ ان اجلاسوں میں جس شوق اور جذبے سے شریک ہوتی تھیں، وہ قابل داد تھا۔ کبھی پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیتیں، کبھی اپنی سحر کن آواز میں نظمیں سناتیں اور کبھی دیگر تخلیق کاروں کی تخلیقات پر ناقدانہ گفتگو کرتیں۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے فلسفے میں ماسٹر کر رکھا

Read more

بزم رفتہ (مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کی وفیاتی تحریروں کا مجموعہ)

مرتب: محمد اویس سنبھلی مطبع: نعمانی پرنٹنگ پریس، لکھنؤ قیمت: 320 اویس سنبھلی کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے جنھیں کتاب و قلم کا ذوق وراثت میں ملا ہے۔ ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے خال محترم مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ؒکے قلم سے مختلف شخصیتوں پر ان کے انتقال کے بعد لکھے گئے مضامین کو جمع کیا ہے۔ کتاب ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے خوبصورت ہے۔ طباعت اور کاغذ اس قدر نفیس ہے کہ دیکھتے ہی

Read more

محمد حمید شاہد کی کتاب: اندر کا آدمی

محمد حمید شاہد، یہ نام ادب کی دنیا میں یقیناً بہت پرانا ہے، نقاد بھی ہیں۔ مجھے ان کے نام اور کام سے واقف ہونے میں بڑا وقت لگا۔ بڑی مدت۔ مطالعے کا شوق رکھتے ہوئے، محمد حمید شاہد صاحب کے نام سے انجان رہنا ایک اپنی طرز میں نقصان تو ہے نہ! پہلی بار، ان کے نام سے واقفیت ہوئی جب ان کا ایک ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ دیکھا۔ بک کارنر کے پورٹل پر۔ کتاب کا سرورق اتنا

Read more

ڈاکٹر فاروق عادل کی کتاب: ہم نے جو بھلا دیا

مجھے بالکل یاد نہیں کہ میری ڈاکٹر فاروق عادل سے ملاقات کب، کیسے اور کس کی وساطت سے ہوئی۔ بہرحال جوں جوں ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا یہی محسوس ہوا کہ ہجوم سے الگ یہ وہ شخصیت ہے جس کے لیے احترام واجب ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل انتہائی نفیس، مخلص، وضع دار اور با اخلاق انسان ہیں۔ بہت نپی تلی گفتگو کرتے ہیں اور ایک شفیق سی مسکراہٹ ہمیشہ ان کے لبوں پر رقصاں رہتی ہے۔ مسکراہٹ کا سبب

Read more

عقیلہ منصور جدون کے تراجم: خدا کے نام خط

ترجمہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس کی حیثیت مسلم ہے اور اس کے بغیر دوسری زبانوں کے علوم و فنون سے آشنائی نہیں ہو سکتی اور اس کے بغیر کوئی بھی زبان جدید اور ترقی پذیر ہونے کا دعوی بھی نہیں کر سکتی۔ ترجمہ ہی وہ فن ہے جس کے ذریعے سے ایک قوم دوسری قوم کے ذخیرۂ علم و ادب سے آشنا ہوتی رہی ہے۔ ادب کسی ایک خاص قوم کی میراث نہیں ہے۔ ہر زبان میں تخلیقیت

Read more

جنوبی ایشیا کی متخب نظمیں اور یاسمین حمید

آپ کسی کتاب کی سرسری ورق گردانی کریں اور اچانک کوئی ایسی نظم سامنے آ جائے جو من و عن آپ کے گرد و پیش کے احوال سے میل کھاتی ہو تو یقیناً آپ چونک جائیں گے۔ ذرا نظم ملاحظہ کیجیے : میں اس وقت کیا کر رہا تھا جب سب کہہ رہے تھے ’زندہ باد‘ ؟ میں بھی کہہ رہا تھا ’زندہ باد‘ اور خوفزدہ تھا، دوسروں کی طرح میں اس وقت کیا کر رہا تھا جب سب کہہ

Read more

صابر ظفر کے زرد غزال

سر قفس چلے یوں ماتمی ہوا جیسے بلوچ ماؤں کے بیٹے ہوں لاپتا جیسے شہزاد ناصر کے ہمراہ اسلام آباد آرٹس کونسل میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا کہ یک دم کچھ غزالوں کے جھرمٹ میں صابر ظفر نظر آئے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں ان کے 1996 ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے لکھے نغمے ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ کا اس قدر چاہنے والا ہوں کہ یہ نغمہ سنتے ہی میرے اعصاب ہمت

Read more

صفدر زیدی کا ناول: "بنت داہر” اور بن قاسم

ناول کا انتساب مفتوح اقوام کے نام ہے۔ خود کلامی میں اپنے خلاف تھیسس کھڑا کیا گیا ہے اور اختتامی انتساب کی روایت قائم کرتے ہوئے راج کماری کو اس کا حق دار ٹھہرایا گیا، اور پھر البرٹ کامیو کے قول کو جھوٹ اور سچ کی صلیب پر رکھے فکشن نگار نے اپنے ہنر کی تابانیاں دکھائی ہیں۔ ہر سامراج کے اپنے ظلمات ہوتے ہیں۔ لیکن ہر اچھے ناول نگار کے اپنے بحر ظلمات بھی ہوتے ہیں۔ بنت داہر دو

Read more

کتاب تبصرہ: آنگن از خدیجہ مستور

خدیجہ مستور کے ناول کی کہانی کوئی تاریخی کہانی نہیں، یہ ہر دور کی کہانی ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ اسے پڑھتے آپ کو لگے گا یہ آپ کے شہر آپ کی آج کی ریاست کی کہانی ہے۔ یہ دو نظریوں میں جینے اور ان کے ٹکراؤ کی زد میں آ کر ٹوٹ بکھرنے کی کہانی ہے۔ یہ شراب کی تلاش میں نکلتے اور اس کی چاہ میں مٹ جانے کی کہانی ہے۔ اس ناول کا ہر کرداروں علامتی

Read more

ڈاکٹر لیاقت تابان کا ناول: دارالامان

دارالامان 203 صفحات پر مشتمل ناول ہے جسے 2017 میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان نے لکھا تھا اور ملگری لکوال کوئٹہ نے شائع کیا تھا۔ ڈاکٹر لیاقت تابان پیشے کے اعتبار  سے نیفرالوجی کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی قلمی مشقت سے پشتو زبان کی آبیاری بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بے شمار موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کی ہیں۔   مزکورہ ناول میں  پشتون خواتین کے حقوق  اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں بات

Read more

مہ پارہ صفدر کی خود نوشت: میرا زمانہ میری کہانی

آج بھی یاد ہے کسی کام سے لاؤنج میں آئی تھی۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ایک انتہائی دل کش چہرہ میری آنکھوں میں جیسے کھب سا گیا۔ کون ہے؟ کوئی نئی لڑکی۔ سوال جواب دونوں خود سے ہوئے تھے۔ لہجے کا اتار چڑھاؤ، تلفظ، ادائیگی اس پر ستم من موہنی سی صورت۔ مہ پارہ زیدی۔ بڑا رشک آیا۔ خبریں پڑھنا میرا بھی خواب تھا۔ مگر سب خواب کہاں پورے ہوتے ہیں؟ مہ پارہ زیدی سے محبت ہو گئی

Read more

’غبار حیات‘ کا ایک تجزیاتی مطالعہ

کہانیاں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، لوگ اسے سنتے یا پڑھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ خود کو وابستہ کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں کے جذبات و احساسات اور دکھ سکھ کو اپنا سمجھ کر کبھی آنسو بہاتے ہیں تو کبھی خوش ہوتے ہیں۔ ایسا لکھنا سب کے نصیب میں نہیں ہوتا، مگر جو ایسا لکھتے ہیں وہ ’فن کار‘ ہوتے ہیں۔ عربی زبان کے ادیب ڈاکٹر عمر فروخ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی

Read more

اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں

”اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں“ ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی کی تازہ تحقیقی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب معاصر شعر و ادب کا ایک توانا اور معتبر نام ہیں۔ علم و ادب کے استاد ہونے کے ناتے اپنے طالب علموں کی تعلیم کے ساتھ تربیت ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ آپ طالب علموں کے ساتھ ساتھ سماج میں منفی رویوں کی مذمت اور مثبت اقدار کے فروغ کے سلسلے میں ہمیشہ متحرک نظر

Read more

کتاب کا نام : عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عاؔرف

کسی تخلیق کار کی کامیابی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیق سبک رفتار سمے کی دھول میں اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ مقصدیت، معنویت اور افادیت وہ اوصاف ہیں جو اس وجود کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ تفریحی اور رومانوی ادب کی اپنی اہمیت ہے مگر تفریحی یا رومانوی ادب میں وہ پائیداری نہیں جو ادب عالیہ میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً رومانوی شاعری میں محبوب کی گیسوئے تابدار، نسوانی حسن، غزالاں سو

Read more

خالد مسعود خان کی خود نوشت: زمستاں کی بارش

خالد مسعود خان واقعی ایک استاد آدمی ہے، مگر وہ پڑھا لکھا استاد نہیں جو کسی مدرسہ، اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں اپنے شاگردوں کو مرئی یا غیر مرئی مولابخش کی مار، سے ڈرا، دھمکا کر نصابی کتابیں ازبر کراتا ہے۔ بلکہ خالد مسعود خان تو چٹا ان پڑھ یا واجبی سی تعلیم رکھنے والے اس سیدھے سادھے استاد کی مانند ہے جو ہمارے ملک کے ہر چھوٹے بڑے قصبہ، دیہات یا شہر کی کسی گلی نکڑ پر واقع خستہ

Read more

Pakistan left review, then and now

”تاریخ میں کچھ ایسے لمحے بھی آتے ہیں جو سریع الحرکت ہوتے ہیں۔ تب تبدیلی کی رفتار اتنی تیز اور انتشار لئے ہوتی ہے کہ عوام اور سماج کے لئے اس کا ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی لمحات میں انقلابات رونما ہو سکتے ہیں۔ یا پھر شاید انقلابات ہی ایسے لمحات کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن وجوہات کچھ بھی ہوں، اصل بات یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اسے

Read more

شہناز احد کی کتاب: مسافتوں کی دھول

کراچی آرٹس کونسل میں ڈاکٹر شیر شاہ سید پہ تالیف میری کتاب ”دل چارہ گر“ کی تقریب رونمائی تھی۔ شیرشاہ نے تقریب میں اپنے متعلق پڑھنے کے لیے جن چند ناموں کا انتخاب کیا ان میں شہناز احد کا نام سرفہرست تھا۔ جب میں نے شہناز کی لگی لپٹی رکھے بغیر سچائی سے لکھی تقریر سنی تو مجھے اندازہ ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ تو کوئی اور لکھ ہی نہیں سکتا تھا ما سوا اس کے جو

Read more

نیلم احمد بشیر بطور مصنفہ

ہ کچھ دن قبل کی بات ہے جب نیلم احمد بشیر صاحبہ سے ان کے درویش کدے پہ ملاقات ہوئی۔ اتنے عشروں کی ملاقاتوں کا حاصل سلمی اعوان کے جملے پہ ہوا کہ ”اس کی ذات کے ساتھ ایک طلسم بندھا ہوا تھا۔ اس نے اسے دو جملوں سے اڑا دیا۔“ حسن اتفاق کہئے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع بھی مل گیا اور کہاوت کہ انسان کا علم سفر اور کھانے کی میز پہ ہوتا ہے۔

Read more

حمید شاہد کی ”خوشبو کی دیوار کے پیچھے“

افسانوں پر بات ہو، ناول زیر بحث ہو، تنقید جیسی مشکل اور خشک صنف ہو، شاعری میں کلاسیکل شاعر کی چنیدہ شاعری کا انتخاب ہو، غیر ملکی ادب پر اظہار خیال کرنا ہو۔ حمید شاہد نے ہر صنف میں اپنی انفرادیت ہی پیدا نہیں کی بلکہ گزرتے وقت نے ان کی ذات، حلقہ یاراں، ملکی و دنیا کے حالات سے جان کاری، مطالعے، تجربات اور مشاہدات سے حاصل شدہ قیمتی اثاثے کو جس جس صورت اور انداز میں ان کی

Read more

اردو ادب کے ایک درویش کا رسالہ ”ثالث“

ڈاکٹر اقبال حسن آزاد ادب کے ان بے لوث خادموں میں سے ہیں جو دلی، ممبئی، لکھنؤ یا پھر پٹنہ جیسے شہروں جو کہ ادب کے حوالے سے معروف بستیاں تصور کی جاتی ہیں، میں بیٹھ کر علم و ادب کی جوت جگانے میں مصروف نہیں ہیں، بلکہ ایک کم معروف اور چھوٹے سے شہر مونگیر میں خاموشی سے ادب کی خانقاہ سجائے ہوئے ہیں، اور یہ خانقاہ اس قدر مقبول ہے کہ دنیا بھر سے شائقین ادب ان کے

Read more

نصراللہ خان (صحافی) کی خود نوشت: اک شخص مجھی سا تھا

نصر اللہ خان اردو صحافت کا بہت درخشندہ ستارا تھے۔ مولانا ظفر علی خان کے زمیندار اخبار سے صحافت کا آغاز کیا اور پاکستان بننے کے بعد طویل عرصہ تک کراچی سے شائع ہونے والے اخبار حریت میں کالم نگاری کرتے رہے۔ درمیان میں کچھ برس ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ زندگی بھر سرکار دربار سے دور ہی رہے۔ ان کی نثر نگاری کی اتنی شہرت تھی کہ انھیں نثر اللہ خان

Read more

صبیح الحسن کا افسانوی مجموعہ: جہنم کا کیوبیکل نمبر 7

گزشتہ سات آٹھ برسوں میں اردو افسانہ نگاروں کے کئی نئے نام سامنے آئے ہیں اور کرونا کے دنوں میں جب تقریباً تمام سرگرمیاں آن لائن ہو گئیں تو ان نئے لکھنے والوں کی تخلیقات بھی پڑھنے کو ملیں۔ میرے لیے ان ناموں میں ایک نام صبیح الحسن کا بھی ہے جس کے افسانے مختلف ادبی فورمز پر پڑھنے یا سننے کا اتفاق ہوا۔ صبیح نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ”جہنم کا کیو بیکل نمبر 7“ بڑی محبت سے مجھے

Read more

حاصل زیست۔ ایک مطالعہ

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر باعزت اور پر سکون گھر کے بنانے میں مرد کی بردباری اور تحمل کے ساتھ ساتھ اس کی گھر بنیادوں میں ایک عورت کی انا کی لاش بھی دفن ہوتی ہے ہر سجے سجائے خوبصورت گھر کے درو دیوار میں ایک مرد کی محنت کی کمائی کے ساتھ ساتھ عورت کی اچھی منصوبہ بندی، سلیقے اور شب و روز کی تگ و دو شامل ہوتی ہے۔ ہر لائق فائق بچے کے پیچھے ایک باپ

Read more

سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین

سلمی اعوان کے کئی سفرنامے پڑھ چکی ہوں۔ وہ جس ملک کی سیاحت کو جائیں وہاں کے ادب، تاریخ، ثقافت، تمدن اور معیشت کا جائزہ زیرک نگاہی سے لیتی ہیں مگر اپنے تاثرات اتنی بے ساختگی اور برجستگی سے رقم کرتی ہیں کہ کہیں آپ مسکراتے ہوئے صفحات پلٹ رہے ہوں تو پتا ہی نہیں چلتا کب آنکھ بھر آئے۔ ان کا عراق اشکبار ہیں ہم اور روس کا سفر نامہ تو ہمارے دیدبان میگزین کی زینت بھی بنا تھا

Read more

اردو افسانے کا دوسرا جنم : ایک تعارف

  ”اردو افسانے کا دوسرا جنم“ حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیقی و تنقیدی کتاب ہے۔ جس کو ڈاکٹر خاور نوازش اور ڈاکٹر عبدالعزیز ملک نے مرتب کیا۔ مرتبین نے افسانوی دور کو چار ادوار میں تقسیم کیا۔ پریم چند اور ان کے ہم عصروں کا پہلا دور، دوسرے دور کو ترقی پسند تحریک کے دور سے منسوب کیا، تیسرے دور کو تقسیم ہندوستان اور جدیدیت سے منسوب کیا اور چوتھا دور ستر کی دہائی کے بعد کے لکھنے

Read more

ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور تعلیمی حرکیات پر ایک قابل مطالعہ کتاب

کچھ کتابیں کبھی ایسی مل جاتی ہیں کہ انہیں آنکھوں کا سرمہ بنانے کو جی چاہتا ہے۔ پروفیسر محمد سجاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کتاب ”ہندوستانی مسلمان: مسائل و امکانات“ ایک ایسی ہی کتاب ہے جو دل زیب بھی ہے اور دیدہ زیب بھی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے اتنے مسائل ہیں کہ انہیں شمار بھی نہیں کیا جا سکتا اور ان کا حل پیدا کرنے والے افراد بھی نہیں ملتے۔ پروفیسر محمد سجاد نہ صرف مسئلہ شناس ہیں بلکہ

Read more

صائمہ ملک: خواتین کے مسائل پر بلا جھجک اور کمال مہارت سے لکھنے والی مصنفہ

‎ ‎معروف لکھاری صائمہ ملک کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ (کچھ یادیں، کچھ باتیں ) حسن ترتیب کے اعتبار سے ڈراموں، کالموں اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں شامل تمام ڈرامے، کالم اور افسانے اگرچہ مختلف موضوعات پر ہیں، لیکن ان میں فکر و سوچ کا تسلسل موجود ہے، نیز ان کے کردار ہمارے معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کتاب کی مصنفہ صائمہ ملک نے اپنی کتاب میں شامل ڈراموں، کالموں اور افسانوں

Read more

فرام واشک ٹو واشنگٹن

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ قانون کی لائبریری کے وسیع و عریض ہال کے بیچوں بیچ بڑے بڑے میزوں کے گرد بید سے بٔنی ہوئی لکڑی کی کرسیاں سلیقے سے دھری تھیں جن پر اکا دکا طالبعلم مصروف مطالعہ تھے۔ البتہ میزوں پر جابجا الٹی سیدھی کتابیں پڑی ہوئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ پڑھنے والے بعد از مطالعہ انھیں اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ مجھے ”جرمیات“ کے موضوع پر ایک کتاب کی تلاش تھی

Read more

کتاب: ”مذہب، سائنس اور نفسیات“: فلاح انسانیت کی جانب ایک اہم پیش رفت

جائزہ نگارہ : لبابہ نجمی زیر مطالعہ کتاب ”مذہب، سائنس اور نفسیات“ جس کے چیدہ چیدہ آرٹیکل ہمیں اس ”ہم سب“ سائیٹ پر وفتا فوقتاً پڑھتے رہے اور اس کی بہت سے قارئین کی خواہش بھی رہی کہ جلد ہی مکمل کتاب اردو ترجمے کے ساتھ قارئین کے لیے شائع ہو۔ یہ کتاب جو دو اہم شخصیات پروفیسر محمد سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی باہم کاوش کا نتیجہ ہے، جو سائنس، نفسیات، ادب کی دنیا میں کسی تعارف

Read more

یاسر جواد کی کتاب کہانی: ایک منفرد آپ بیتی

دوسرے لوگوں کے بارے میں جاننا مجھے بچپن سے ہی اچھا لگتا تھا۔ گھر آنے والے اکثر افراد سے ملنے پر میں ان کی زندگی کے بارے جاننے کے لیے سوال جواب کرتا رہتا تھا۔ میری اس عادت نے بچپن میں ہی مجھے کتابوں سے روشناس کرا دیا۔ کسی بھی فرد کی سوانح عمری یا خود نوشت پڑھ کر آپ کو اس کی شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اس لیے میری کتابوں سے دوستی کی ایک

Read more

گزرے تھے ہم جہاں سے: صائمہ ملک کی کتاب آگ کا دریا ہے

میرا شمار لکھنے والوں میں تو نہیں ہے لیکن پڑھنے والوں میں ضرور ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل میں نے صائمہ ملک صاحبہ کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کا مطالعہ کیا۔ جیسے جیسے میں وہ کتاب پڑھتا گیا ویسے ویسے ہی میرے ذہن میں صرف ایک سوال ابھرتا گیا کہ کیا یہ سوہنی کے دیس کی ایک خاتون کی لکھی کتاب ہے؟ وہ سوہنی کہ جسے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ وہ

Read more

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل: کتاب مذہب، سائنس اور نفسیات

مترجم: نعیم اشرف (اپنے عہد کے عظیم سائنسدان نیوٹن سے منسوب) ”میں نہیں جانتا کہ دنیا میرے بارے میں کیا خیال کرتی ہے مگر میں اپنے آپ کو ایک کم سن لڑکا سمجھتا ہوں جو ساحل سمندر پر کھیل میں مشغول ہے۔ وہ خوبصورت سے خوبصورت ترین کنکریوں کی تلاش میں ہے اور بہترین سے بہترین سیپی کی کھوج میں دنیا سے بے خبر ہے جب کہ پوشیدہ حقائق کا بحر بیکراں اس کے سامنے موجزن ہے۔ ” یہ پیراگراف

Read more

سلمی اعوان کا سفر نامہ: حیرت بھری آنکھ میں چین

سیرو سیاحت کا شوق گھٹی میں پڑا ہے۔ جہاں تک رسائی ہو پہنچ جاتے ہیں۔ اور جہاں حدود و قیود اور بے بسی حائل ہو وہاں کتابوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کتابیں بھی کیا عجب شے ہیں۔ دیکھنے میں سیاہی بھرے چند صفات۔ لیکن ایک جہاں آباد کیے ہوئے۔ چند دن پہلے سلمی اعوان صاحبہ کا سفرنامہ ”حیرت بھری آنکھ میں چین“ نظر سے گزرا۔ سرورق اتنا خوبصورت کہ کتاب پڑھنے کو جی چاہے۔ شروع کیا تو انداز بیاں

Read more

گوہر تاج صاحبہ کی کتاب: خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ

فیس بک پر اس کتاب کا علم ہونے پر محترمہ گوہر تاج صاحبہ کی خدمت میں کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے مجھے یہ ای۔ میل کے ذریعہ ارسال کر دی۔ پہلے دن ہی نصف پڑھ لی اور بوجہ مصروفیت اس کا مطالعہ اگلے دن مکمل ہوا۔ کتاب ”خاک سے کیمیا ہوئے جو“ جس طرح سے نام سے ظاہر ہے ایسے لوگوں کے حالات پر مشتمل ہے جن میں اکثر سے گوہر تاج براہ راست یا قریبی

Read more

عرفان جاوید کی کتاب: دروازے

پاکستان لٹریری فیسٹیول کے آخری روز الحمرا میں کافی زیادہ رش تھا، بھانت بھانت کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ بڑے بڑے ہالز میں مختلف سیشنز جاری تھے جبکہ صحن میں محفل موسیقی اپنے جوبن پہ تھی۔ برآمدے میں کتابوں کے چند سٹالز بھی مطالعہ کا ذوق رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ سنگ میل کے سٹال پر مجھے عرفان جاوید صاحب کی کتابیں سلیقے سے دھری دکھائی دیں تو میں بے ساختہ ادھر لپکا اور ”آدمی“ کی

Read more

لنکا میں سبھی باون گزے ہیں

تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ نرم سے نرم الفاظ میں مختلف الخیال سیاسی رہنماؤں کے پچھلے چند دنوں کے بیانات پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ سماجی وحدت اور سیاسی ارتقا کی رہنمائی کے لئے سیاسی عمل میں شریک قائدین کی اکثریت جب زبان کھولتی ہے تو ”پھول جھڑنے“ لگتے ہیں۔ اس صورتحال پر محض یہ کہہ کر دل کو تسلی نہیں دی جا سکتی کہ یہ تو ہماری مروجہ سیاست کے رنگ ڈھنگ ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ

Read more

بیانیہ اور شناخت کے بحران

تاریخ و سیاسیات اور صحافت کے طالب علم کے لئے یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ بٹوارے کے 75 سال بعد بھی ہمارے ہاں ”قومی بیانیہ“ کی تلاش جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر 75 برس قومی بیانیہ کے نام پر سرابوں کے تعاقب میں گزار دیے ہیں تو چوتھائی صدی مزید برباد کر لینے میں کیا ہرج ہے۔ ذرا سنچری (صدی) پوری ہو جائے پھر اس وقت جو بچ رہیں وہ مل بیٹھیں اور تلاش کریں۔ اچھا

Read more

مشاہیر کے خطوط بنام عطا الحق قاسمی

عطاء الحق قاسمی ایک عہد کا نام ہے۔ ایسا عہد جس میں تہذیب ہے، تابناکی ہے، وسعت ہے، برداشت ہے، علم ہے، حلم ہے اور ابلاغ اور گیان کا وفور ہے۔ آپ چھ دہائیوں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں اور کسی بھی موقع پر ان کے تخیل کے قلمرو میں سرمو انحطاط نہ آیا ہے۔ آج بھی ”روزن دیوار“ قاری کی اولین ترجیح اور مطمح نظر ہے۔ آج بھی وہ ادبی و سماجی تقریب کامیاب اور کامران

Read more

کامیابی کیا ہوتی ہے؟ ( مذہب، سائنس اور سائیکالوجی) قسط : 4

” ہم سب“ فیملی ممبرز کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی چوتھی قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے ہیں۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب رواں ماہ (مارچ) میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ اس مضمون میں ”کامیابی ’‘ کیا ہوتی ہے؟ اور ایک کامیاب انسان کون ہوتا ہے؟ کے موضوع پر ایک دلچسپ مکالمہ کیا گیا

Read more

طبیعات اور مابعدالطبیعات میں کیا فرق ہے؟ ( 3 )

” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی تیسری قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے تھے۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب امسال مارچ کے نصف تک دستیاب ہوگی۔ دوسری قسط کا موضوع جہاں دلچسپ ہے وہاں کسی قدر سنجیدہ بھی ہے جو انسانی سوچ کا زاویہ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مضمون

Read more

محمد عثمان جامعی کی فکاہیہ تصنیف: چپ رہا نہیں جاتا

پاکستان میں ادیب و شاعر حضرات روزی روٹی کے لئے صحافت کے شعبے میں آتے رہے ہیں خواہ وہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر ہوں یا خدا کی بستی کے خالق شوکت صدیقی۔ اور بھی ایسے بہت سے نام ہیں۔ کاش ہم اپنے شاعروں اور ادیبوں کو فکر معاش سے بے نیاز اور صرف کتابوں کی رائلٹی پر آسودہ حالی فراہم کر سکتے۔ اگر کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں رہتے ہوئے عثمان جامعی نے وہاں کے سیاسی حالات

Read more

اشعر نجمی کا ناول: صفر کی توہین

"صفر کی توہین” اشعر نجمی کا دوسرا ناول ہے جو پاکستان میں فکشن ہاؤس، لاہور سے 2022 میں شائع ہوا۔ اس سے پہلے ان کا ناول ”اس نے کہا تھا“ منظر عام پر آ چکا ہے۔ 160 صفحات اور سات ابواب پر مشتمل اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اشعر نجمی پامال راہوں کے مسافر نہیں۔ کتاب کے فلیپ پہ اشعر صادقین کے قول کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا، میں ڈرائنگ روم کا

Read more

عدلیہ اور بحرانوں کا موسم

آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ اس وقت ملک جاری سیاسی اور بدترین معاشی عدم استحکام سے پیدا شدہ صورتحال اصلاح احوال کی متقاضی ہے مگر جس طرح روزانہ کی بنیاد پر ایک نیا بحران دستک دے رہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ کسی کو صورتحال کی نزاکت کا احساس نہیں۔ اُدھر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالے سے جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے مشترکہ نوٹ پر چیف

Read more

"سیما پیروز کا افسانوی مجموعہ "طوفان کے بعد”

سیما پیروز فکشن کا ایک اہم اور سنجیدہ نام ہے اور ان کی زیر نظر کتاب ”طوفان کے بعد“ میں پیش کیا گیا ادب کوئی معمولی فن پاروں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ان کا ہر فن پارہ خاصا متاثرکن اور بھرپور افسانوی رنگ ڈھنگ لیے ہوئے نظر آتا ہے اور پڑھنے والوں کو چونکانے کے لیے اس مجموعے میں بہت کچھ ملتا ہے۔ ، اس کتاب میں سیما پیروز کے 14 افسانے ہیں، آئیے ذرا ان پر سرسری سی

Read more

شہر میں گاؤں کے پرندے

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں دروازے کو اوقات میں لانے کے لئے میں دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب پانی پہ قدم رکھ کے میں اس پار گیا ہوں اسحاق وردگ کی کتاب ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ شہر میں جب گاؤں کے پرندے آتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنی سادگی، خوبصورتی اور رنگ بھی لے آتے

Read more

آخری سواریاں۔ ایک مطالعہ

سید محمد اشرف اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کے دو افسانوی مجموعے ڈار سے بچھڑے (1994) اور باد صبا کا انتظار (2002) جب کہ دو ناول نمبردار کا نیلا (1999) اور آخری سواریاں (2016) شائع ہوچکے ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے سید محمد اشرف کے افسانوں کے متعلق قرۃ العین حیدر نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا تھا کہ جب بھی اس نئی دنیا کی پنج تنتر لکھی جائے گی، سید محمد اشرف کی

Read more

حیرت بھری آنکھ میں چین

کتابیں پڑھنے کی چاٹ تو بہت بچپن ہی سے تھی۔ 80 کی دہائی کے اوائل میں سلمیٰ اعوان کا یہ میرا بلتستان اور میرا گلگت و ہنزہ پڑھا۔ دل میں انگڑائیاں اٹھتی رہیں کہ اڑ کر ہنزہ وادی چلی جاؤں۔ ایک دن کسی دکان سے ”تنہا“ خرید لائی بس اسے پڑھتے ہوئے خواہش پیدا ہوئی کہ رائٹر سے ملنا ہے۔ اس تمنا کو پورے ہونے میں بھی دس سال لگے۔ برسوں بعد دوبارہ ”تنہا“ پڑھنا شروع کیا تو اندر کے

Read more

کچھ خاکے، کچھ باتیں

سوشل میڈیا نے ہمیں بہترین احباب میسر کیے، بہت سنا ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کے اخلاق بگاڑ رہا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ کسی چیز کا مثبت یا منفی استعمال اس کی افادیت کا تعین کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے اطراف مخلص اور ادب پرور احباب کا حلقہ دیکھا۔ انہی احباب میں انوار احمد صاحب ہیں۔ انوار احمد پر اپنے گھریلو علمی ادبی ماحول کا اثر تو تھا ہی لیکن فیس بک کے ادب

Read more

ایک تھی ملکہ: ایک طائرانہ جائزہ

خاکسار ممتاز افسانہ نگار نیلم احمد بشیر کو شرارتاً NAB لکھتا ہے، کچھ عرصہ قبل انہوں نے خاکسار کو کمال محبت سے اپنی کتاب ”ایک تھی ملکہ“ ارسال کی تو سوچا کہ جلد ہی اس بارے کچھ گزارشات پیش کردوں گا لیکن کچھ عدالتی اور دیگر مصروفیات نے ایسا نہ ہونے دیا لیکن ابھی کچھ روز قبل ان کے یاد دلانے پر سوچا کہ اس نیک کام میں اب دیر بالکل بھی نہیں ہونی چاہیے تو لیجیے اور دیکھیے۔ ایک

Read more

بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں: نصرت نسیم کی خود نوشت

تحریر: مشرف جبین (پشاور) frrahi@yahoo.co.uk نصرت نسیم کی زندگی کے شب و روز پر مشتمل خودنوشت ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ ماضی کے ایک مخصوص دور کی رخشندہ روایات اور سماجی خوبیوں کی عکاسی کرتی ہے، تا ہم اس خود نوشت میں زیادہ تر اچھے دنوں کی وہی قابل رشک رسم و رواج پر مشتمل روایتی زندگی کی باتیں ہیں جو ہمارے معاشرے کا خاصہ اور پہچان تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد نئے ملک پاکستان کی سیاسی، معا شی

Read more

الطاف حسن قریشی کی تصنیف۔ مشرقی پاکستان، ٹوٹا ہوا تارا: کتاب یا تاریخ نما

قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کا اعزاز 30دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی کل ہند مسلم لیگ کو حاصل ہے۔ پھر برطانوی مقبوضہ ہند کے تمام صوبوں اور ریاستوں میں آزادی کے لیے سب سے زیادہ ذہنی و علمی یکسوئی کے ساتھ کوششیں، خطۂ بنگال کے مسلمانوں ہی نے کی تھیں۔ ان کاوشوں میں ہند کے دیگر علاقوں میں بسنے والے اسلامیان نے بھی اپنا حصہ ادا کیا۔ 14 اگست 1947ء کو قائد اعظم کی قیادت میں یہ

Read more

کتاب: زرد موسم کی یاد داشت

زرد موسم کی یاد داشت۔ ارشد رضوی کی نئی کتاب ایک علامتی خود نوشت ہے۔ سرورق بھی بہت خوب ہے۔ سرسوں کے پھولوں جیسا خوبصورت پیلا رنگ، کالی مردانہ قمیص اور کالر کے اوپر چہرے کی بجائے پھول۔ سوانح عمریاں تو بہت پڑھیں مگر اس علامتی خود نوشت کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ دراصل نثر ہے ہی نہیں۔ ہر باب ایک خوب صورت نظم ہے۔ ارشد رضوی کو لگتا تھا کہ کہانی اس سے بچھڑ گئی۔ بہت دن

Read more

گلزار ملک کا ناول: صدی کی آخری محبت

گلزار ملک ایک صاحب مطالعہ، بلند فکر اور نقش کار افسانہ نگار اور ناول نویس ہیں۔ وہ نوجوان نسل کے ان نمایاں افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ گلزار ملک 3 جون 1970 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ اصل نام گلزار احمد ہے۔ آپ کا ادبی سفر تین دہائیوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے گورنمنٹ سائنس کالج فیصل آباد سے فزکس میں ماسٹر کیا۔ پچھلی دہائی میں گلزار

Read more

عرفان جاوید کی خاکہ نگاری

خاکہ نگاری ایک دل چسپ لیکن مشکل فن ہے۔ اس کے لیے لکھنے والے میں مہارتِ تامہ کا ہونا ضروری ہے۔یہ سوانح نگاری کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے الگ ہے کیوں کہ خاکہ نگار کسی انسان یا اس کی شخصیت کو جانب داری سےقارئین کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات وخیالات اور ان کے اخذ و قبول کا ایک آئینہ پیش کرتا ہے۔خاکہ نگاری کو جو بات اہم اور

Read more

خورشید حسنین کی شاعری میں انسانوں کے خواب

میں کوئی شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب ”کنار آب کا خواب“ ہے جس کو پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ شاعر اور مجھ میں کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو، سماجی ترقی، انصاف پسندی اور انسانی زندگی کی بہتری کے خواب اور ان کی تکمیل کی خواہش ضرور مشترک ہے۔ خورشید حسنین اپنی طالب علمی کے زمانے میں ایک ترقی پسند انقلابی لیڈر کے طور پہ ابھرے۔ شاعر اور افسانہ نگار

Read more

پرنس ہیری کی سوانح عمری ”اسپیئر“ کا ایک جائزہ

  ’‘ بادشاہت افسانے پر انحصار کرتی ہے۔ یہ ایک تعمیر شدہ حقیقت ہے، جس میں بڑے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس تصور میں گٹھ بندھن پیدا کریں کہ ایک انسان، دوسرے انسان سے بڑھ کر ہے۔ اس عورت یا مرد میں ایسی کوئی خاص چیز ہے جو برطانوی پن کے ناقابل بیان جوہر تک پہنچتی ہے۔ کبھی، یہ افسانہ سیاسی اور عسکری طاقت پر قائم تھا جس کو براہ راست خدا کی حمایت حاصل تھی، اسے

Read more

ماہ پارہ صفدر کا زمانہ اور ان کی کہانی

بچپن سے ریڈیو سننے کے شوق نے ہمیں لفظوں کی درست ادائیگی، بڑے اچھے انداز اور نستعلیق لہجے میں اردو اور پنجابی زبان سننے کا عادی بنا دیا تھا۔ گھر میں ریڈیو پر والد محترم خبریں سنتے تھے جس دوران سارے گھر میں سناٹا چھا جاتا تھا۔ بی بی سی پر سیربین اور خبریں سن کر جب وہ فارغ ہوتے تو ریڈیو سننے کی ہماری باری آتی۔ پی ٹی وی کا ایک ہی چینل ہوتا تھا اور شام آٹھ بجے

Read more

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کی تصنیف: وہ سب جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے

زندگی فطرت کا سب سے قیمتی عطیہ ہے اور صحت مند زندگی قدرت کا ایک ایک عظیم تحفہ۔ مگر جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، زندگی کی سہولتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور رہن سہن کے طریقے آسان سے آسان تر ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد، تن آساں اور سہل پسند بنتی جا رہی ہے۔ اکثر لوگ پیدل چلنے، جسمانی کام کرنے اور باقاعدہ ورزش جیسی عادات اپنانے سے پہلو تہی کرتے

Read more

” نیمگڑی خوبونہ“ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ

”میں سوچ رہی تھی کہ چیزوں کی خوبصورتی، دلکشی اور قدرو قیمت ہماری ذات کے حوالوں سے بنتی ہے۔“ ” نیمگڑی خوبونہ“ اور میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ جب میں نے ”نیمگڑی خوبونہ“ جو کہ جناب شاہد صدیقی صاحب کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ ہے، پڑھنی شروع کی۔ جب لاہور میں شاہد صدیقی صاحب نے مجھے اپنی کتابوں کا تحفہ دیا تو ان میں ایک کتاب ان کے ناول ”آدھے ادھورے خواب“ کا پشتو زبان میں

Read more

کتاب ”22 لوگ“ پر تبصرہ

مصنف سجاد پرویز تبصرہ شاہانہ جاوید اردو ادب میں ایک نئی صنف تیزی سے مقبول ہو رہی ہے ”مصاحبہ“ ، بہت سے لوگ اس نئے لفظ سے واقف نہ ہوں لیکن انٹرویو لفظ کو اچھی طرح پہچانتے ہوں گے۔ اردو ادب میں انٹرویوز کی روایت کتنی پرانی ہے معلوم نہیں لیکن آج کے دور میں یہ صنف ادب، مصاحبہ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ بہت سے لکھنے والے اسے فروغ دے رہے ہیں آج یہ ایک مقبول صنف بن

Read more

اقبال دیوان کی کتاب: وہ ورق تھا دل کی کتاب کا

محمد اقبال دیوان صاحب، صاحب کتاب ہیں۔ یہ کتابیں جو انہوں نے تحریر کی ہیں بیتے ہوئے مہ و سال کی داستانیں ہیں۔ شب کی تنہائیوں میں (تنہائیاں اس لیے کہ میں شادی شدہ نہیں، مطلب کنوارہ بھی ہوں ) تو سردیاں مجھے کتاب پڑھنے میں نعمت محسوس ہوتی ہیں۔ گرمیوں میں تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ، حبس، پسینہ کیا کچھ نہیں ہوتا۔ محمد اقبال دیوان صاحب کی کتاب ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ ایک ایسی تحریر کا

Read more

رنگ رنگ سب رنگ

نامور ناقد شمس الرحمان فاروقی نے اردو کی مشہور ترین داستان، داستان امیر حمزہ کے متعلق اپنی بے مثل تصنیف ’ساحری، شاہی، صاحب قرآنی‘ کے نام سے پیش کی تھی۔ داستان کی پچاس جلدوں کے مطالعے کے بعد اس پر نقد و نظر کی یہ مبسوط کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے تین جلدوں میں طبع کی تھی۔ یہ برصغیر کے قدیم فن داستان گوئی کو ہمارے عہد کے ایک بڑے دانش ور کا خراج عقیدت

Read more

عابد میر کی کتاب: ڈپریشن ڈائری

عابد میر وہ لکھاری ہے جس نے عصر حاضر میں ایک ایسی کتاب لکھ لی ہے جو نہ فکشن ہے، نہ ناول اور نا ہی نان فکشن بلکہ کھلے عام اعتراف ہے اور اس اعتراف کا برملا اظہار ہے۔ ڈپریشن ڈائری اسی کتاب کا نام ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پہلے بھی میں عابد میر کے چند اور کہانیوں والی کتابیں پڑھ چکا ہوں مگر یہ کتاب دیگر کتابیں جیسا کہ دو

Read more

محمود الحسن کی بنائی ہوئی دنیا

جب محمود الحسن صاحب نے محمد کاظم صاحب کو انٹرویو کے لیے فون کیا تو انھوں نے کورا جواب دیا۔ ظاہر ہے وہ محمود صاحب کو تب تک نہیں جانتے تھے کہ وہ کس ہستی کو انکار کر بیٹھے ہیں۔ خیر کچھ عرصے بعد جب اس انکار کا تذکرہ انھوں نے مسعود اشعر صاحب سے کیا تو انھوں نے کہا کہ کیوں نہیں دیں گے انٹرویو۔ یہاں محمود الحسن صاحب کا خیال تھا کہ ”اس وقت تو ہم نے سمجھا

Read more

مبارک علی کی ’در در ٹھوکر کھائے‘ پر کچھ باتیں

کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ لکھتے پڑھتے یا کوئی بہت اہم کام کرتے ہوئے یکایک بریک لگ جاتا ہے اور پھر لاکھ جتن کریں گاڑی آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتی۔ یہ لمحے بڑی بے چینی میں گزرتے ہیں، پھر اچانک کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک دم سے سرا جڑ جاتا ہے اور آپ پھر سے کام میں لگ جاتے ہیں، جیسے جلتی دو پہری میں کسی پیڑ کے نیچے سستانے کے لیے رکے، تھوڑی دیر دم لیا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب پر تبصرہ

اس سال مارچ میں جب کینیڈا گئی، تو ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اور وہ اتنے خلوص اور پیار کے ساتھ ملے، کہ احساس تک نہ ہوا میں ان سے پہلی دفعہ مل رہی ہوں۔ بے شک خلوص اور عاجزی دلوں کو فتح کر لیتی ہے۔ ان سے گفتگو کے دوران احساس ہوا، کہ ایک مایہ ناز سائیکاٹرسٹ اور ماہر علم ہونے کے باوجود ان میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان

Read more

اصغر ندیم سید کی کتاب ’پھرتا ہے فلک برسوں‘ کے خاکے

افسانے میں کہانی اور کردار دونوں مصنف کی انگلیاں پکڑ کر چلتے ہیں اور کبھی اسے چلاتے ہیں، کہانی میں کردار کی شخصیت بنانا مصنف کی چند بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ خاکہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس ایک ہی شخص ہے، جسے کردار بھی بنانا ہے اور کہانی بھی۔ مگر خاکہ کہانی تو نہیں ہوتا۔ خاکہ کہانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی ادھوری، ٹوٹی ہوئی، بھولی ہوئی، مٹائی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں۔ جنہیں

Read more

جنسی ہراسانی کی منظم مہم کا نشانہ بننے والی صحافی

رنڈی، چالو، بازاری یا طوائف جیسے القابات کو ہمارے معاشرے میں ایک ”نارمل پریکٹس“ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ منافق سماج کسی خاتون کو آؤٹ آف دی وے کچھ ایسا کرتے ہوئے دیکھتا ہے جو ان کی مردانہ شان کے خلاف ہوتا ہے تو فوری طور پر اپنی اخلاقی زنبیل میں سے اسی قسم کی گند زبانیاں یا فتوے نکالتے ہیں اور خاتون پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اس قسم کی لچر اور گھٹیا طعن و تشنیع

Read more

انسانی نفسیات کے راز : ایک ماہر نفسیات کی ڈائری

کتاب: انسانی نفسیات کے راز : ایک ماہر نفسیات کی ڈائری مصنف : ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ : نعیم اشرف انسان تین عناصر کا مرکب ہے : دماغ، جسم اور ذات یا ہستی۔ اس ذات یا ہستی کو سائنس کی ترویج سے قبل روح بھی کہا جاتا تھا اور اب جدید طبی سائنس اس کو انسانی شعور کہتی ہے۔ ان تینوں عناصر میں سے انسانی دماغ ایک پیچیدہ مشین ہے۔ ہمارے رویے، رجحانات، جذبات اور دوسرے افراد کے ساتھ رشتوں

Read more

کنار آب کا خواب

خورشید حسنین کی شاعری میں انسانوں کے خواب میں کوئی شاعر ہوں اور نہ ہی نقاد لیکن میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب ”کنار آب کا خواب“ ہے جس کو پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ شاعر اور مجھ میں کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو، سماجی ترقی، انصاف پسندی اور انسانی زندگی کی بہتری کے خواب اور ان کی تکمیل کی خواہش ضرور مشترک ہے۔ خورشید حسنین اپنی طالب علمی کے زمانے میں ایک ترقی پسند انقلابی لیڈر

Read more

گل مہر کتاب پر تبصرہ

تکلیف سے تڑپتے لوگوں کے لیے کہیں کچھ فرشتے اتارے گئے ہیں، جو راحت کا سامان فری ڈیلیوری کے ساتھ اپنے کاندھوں پر لیے پھرتے ہیں۔ نہ تھکتے ہیں نہ انہیں اونگھ آتی ہے۔ خوش نصیبی یہ کہ آپ ایسے فرشتوں کو دیکھ، سن اور محسوس کر سکتے ہیں۔ نگاہ حسن سے دنیا میں بے رنگی دیکھنے والے شکوہ کرنے کے بجائے خود رنگ بھرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جن کی آہ عرش سے ٹکرا کر ان کی سماعتوں

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب زندگی کے راز

مصنف ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ دعا عظیمی ”زندگی ایک راز ہے اور وقت بھی ایک راز ہے اور وقت کی کوکھ میں بہت سے اور راز بھی پوشیدہ ہیں جن سے شاعر اور دانشور ہمارا تعارف کراتے رہتے ہیں تاکہ ہم وقت کی اہمیت اور افادیت کو بہتر سمجھ سکیں۔“ یہ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’زندگی کے راز‘ کی چند سطور ہیں۔ اس کتاب کو ”کتابی دنیا“ والوں نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ کتھئی اور سرمئی رنگوں

Read more

میں۔ ۔ ۔ ابن آدم

سائنس اور ادب کو ہمیشہ سے ایک دوسرے کی ضد مانا جاتا ہے کیوں کہ سائنس اس چیز کو تسلیم کرتی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے جبکہ ادب اس شے پر بھی اعتقاد رکھتا ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ کوئی سائنس دان صاحب تخیل ہو سکتا ہے لیکن جب ہم سائنس کو بطور علم دیکھتے ہیں تو وہ وجود کو چھو کر دیکھتی ہے اور پھر اسے تسلیم کرتی ہے۔ ادب کسی چیز

Read more

ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ”کتاب نامہ“ کا مطالعہ

انسان کی سرشت میں شامل ہے کہ جہاں وہ اپنے موجود کو بہتر بناتے ہوئے امکانات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے وہیں اپنے ماضی سے بھی ہمہ وقت بندھا رہتا ہے۔ اسے اپنے آباء کے ساتھ ایک فطری ربط ہوتا ہے۔ اسی طرح صاحبان قلم کی نگاہ ضرور مستقبل پر ہوتی ہے مگر انسان کا ماضی بھی ان سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ انسان کی ان تھک محنت لائق تحسین اور موجودہ ترقی قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے

Read more

نگر نگر پھرے بنجارہ

فرخ سہیل گوئندی کا شمار پاکستان کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کاغذ اور قلم سے رشتہ استوار کیا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ وہ بہ یک وقت ادیب، سفر نامہ نگار، کالم نگار، اینکر اور تجزیہ نگار ہیں۔ ہر فیلڈ میں وہ منفرد مقام کے مالک ہیں۔ سرگودھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والی اس نامور شخصیت نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ڈگری حاصل کی۔ ان کے دو عشق بہت مشہور ہیں، سیاست اور

Read more

ایتلاف: اردو نثری نظم میں خوبصورت اضافہ

آج جمعہ کا دن ہے۔ خوب چمک رہی دھوپ نے دسمبر کی ان اولین صبحوں کو خوشگوار بنا رکھا ہے۔ کچھ دیر پہلے دھوپ میں بیٹھے بیٹھے ”ایتلاف“ کو مکمل کیا ہے۔ اس قدر خوبصورت کتاب بہت کم پڑھنے کو ملی ہیں خاص کر جب بات نثری نظم کی ہو۔ اس کتاب کے مصنف ہمارے چکوال سے تعلق رکھنے والے ملک کاشف اعوان ہیں۔ کاشف اعوان کی لکھی گئی نثر رومانوی، تاریخی اور قدرت کی منظر کشی کے ساتھ ساتھ

Read more