اقبال کے کائنات کے بارے میں سوالات وقیع نہیں: علی اکبر ناطق کا خصوصی انٹرویو

* کبھی پذیرائی کو مدِ نظر رکھ کر نہیں لکھا، میری دوستی کی ایک قیمت ہے، جو ہر آدمی ادا نہیں کر سکتا۔ * جو ادیب یا شاعر اپنی مرضی کی بات کرتا ہے، اُسے تو اسٹیبلشمنٹ تو چھوڑیے، لبرلز اور نجی فیسٹیولز کے مالکان ہی لفٹ نہیں کراتے نام ور فکشن نگار، شاعر اور قلم کار، علی اکبر ناطق سے خصوصی بات چیت والٹیر کے لازوال کردار ”کاندید“ نے کہا تھا، ہمیں بلا چوں و چرا کام میں مصروف

Read more

لکھنؤ سپر جائنٹس کی جیت اور ’ادب سے ہرانے‘ کی بازگشت: ’لکھنؤ سے ہیں میاں پہلے ادب سیکھتے ہیں، پھر چلنا‘

حیدرآباد کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کا انتخاب کیا لیکن لکھنؤ کی ’باادب‘ بولنگ کے سامنے وہ مقررہ 20 اوورز میں صرف 121 رنز بنا سکی۔ یہ ہدف لکھنؤ کی ٹیم نے 16 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

Read more

خواتین کے لیے تضحیک آمیز رویے: ’دفتر تیار ہو کر گئی تو باس نے کہا آپ مجھ سے پروموشن لینے آئی ہیں؟‘

بی بی سی سے بات کرنے والی کئی خواتین نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انھیں پہلے پہل سمجھ ہی نہیں آیا کہ ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے یا ان کی تضحیک کی جا رہی ہے۔

Read more

ہمارا ”شاندار“ ماضی تمنائی

ہمارے کچھ دوست ہمارے ”شاندار“ قومی ماضی جو دراصل ”ماضی تمنائی“ ہے کے بارے میں بہت سی خوش فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں، اور برصغیر کے ماضی کو صرف بادشاہوں کی طرف سے لکھوائی گئیں اپنی قلمی تحریر کردہ تواریخ کی بنیاد پر ہی موجودہ اور سابق حالات و معیار زندگی کا موازنہ فرماتے ہیں۔ ان کی خدمت میں چند مختصر گزارشات، کہ ایک زاویہ اور بھی ہے۔ اگر کبھی انگریزوں کے دہلی اور پنجاب پر قبضے سے قبل کے

Read more

چھوٹی عمر کا بڑا شاعر

اسامہ ضوریز یونان صغیر کہلائے جانے والے سرائیکی وسیب کے شہر تونسہ کا نوجوان شاعر ہے۔ کہتے برگد کے گھنے پیڑ کے نیچے کوئی دوسرا درخت نہیں اگ سکتا۔ کہنے کو تہذیب حافی کا کزن ہے۔ تہذیب حافی کو استاد مانتا ہے لیکن حافی کے ہوتے ہوئے بھی اسامہ نے اردو شاعری میں اک بڑا نام بنایا ہے بقول اسامہ تو مری ذات کے پھیلاؤ سے واقف ہی نہیں ایسے گملوں میں اگانے سے نہیں ہوتا میں اسامہ ضوریز میرے

Read more

غالب کی آپ بیتیوں کا تجزیاتی مطالعہ اور موازنہ

کسی بھی عظیم شخصیت کے کارناموں سے آگاہی پر اور کسی بڑے تخلیق کار کے تخلیقی فن پاروں سے حظ اٹھاتے ہوئے اس کی شخصیت، رہن سہن دوست احباب اور خانگی و عائلی زندگی سے متعلق بے شمار سوال پیدا ہوتے ہیں۔ غالب بھی ایک ایسے ہی تخلیقی فن کار ہیں جس کا شعری کلام اور نثری ادب پارے آفاقی حیثیت کے حامل ہیں جس کی وجہ سے ان کی شخصیت قارئین ادب کے لیے آغاز ہی سے اہم رہی

Read more

سندھ میں ’قبائلی تنازعے‘ میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر اجمل ساوند کون ہیں؟

فرانس سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر اجمل ساوند کو جمعرات کی صبح کندھ کوٹ کے گھٹ تھانے کی حدود میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

Read more

18 سالہ طالبہ جنھیں ’50 کالجوں سے 13 لاکھ ڈالرز کے سکالر شپس کی آفرز‘ ہوئیں: مگر یہ ممکن کیسے ہوا؟

براؤن کا کہنا تھا کہ ’50 سے زائد کالجوں میں ان کے داخلے کی درخواستیں منظور ہو گئیں جن میں مختلف سکالرشپس کی مد میں 13 لاکھ ڈالرز شامل تھے۔‘

Read more

فیصلے بولتے ہیں!

سو موٹو کیس پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کا فیصلہ آنے کے بعد اگر یہ فیصلہ خود بولتا ہے تو دوسری جانب اس پر تبصرے کرنے والے اس سے بھی بڑھ کر چیخ چیخ کر بول رہے ہیں اور یہ ہمیشہ وتیرہ رہا ہے کہ کسی بھی مقدمے میں اکثر دو یا دو سے زیادہ فریقین ہوتے ہیں اور یہ لازمی ہے کہ فیصلہ کسی ایک فریق کے حق اور دوسرے کے مخالفت میں آئے گا۔ جس فریق

Read more

ڈاکٹر روش ندیم کی دو کتابیں

ڈاکٹر روش ندیم دور حاضر کے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر عمیق نظر رکھنے والے روشن خیال دانشور ہیں۔ ان کی جنم بھومی تو ساہیوال (منٹگمری) ہے لیکن انھوں نے شہر اقتدار کے نواح، راول پنڈی کو مستقر بنا لیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام میں تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات انجام دیں۔ پھر پی پی ایس سی کے

Read more

شاعر کیوں لڑتے ہیں؟

شاعری ایک پیچیدہ اور گہرا ذاتی فن ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو صدیوں سے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ تاہم، شاعری کا تخلیقی عمل شاعروں کے درمیان تنازعات اور بحث و مباحثے کا باعث بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں شاعری قومی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ پاکستان میں شاعروں کے درمیان تنازعات کا سبب بننے والا ایک عنصر نرگسیت ہے۔ نرگسیت ایک شخصیت کی خصوصیت ہے جس میں

Read more

ڈاکٹر احسان الرحمن صاحب کا مقالہ حروف مقطعات

میں جب جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ عمومی میں پڑھتا تھا تو احسان الرحمن شعبہ انگریزی میں ہوتے تھے۔ ان سے میری اچھی خاصی دوستی تھی۔ پھر عملی زندگی میں جہاں اور بہت سے دوست احباب روزگار کے سلسلے میں ادھر ادھر ہوئے وہیں موصوف سے بھی رابطہ نہ رہا۔ اب ایک زمانے بعد جامعہ کراچی کے دوست اور روزنامہ نوائے وقت کراچی کے ایک سابقہ ذمہ دار صدف اقبال کی وساطت سے احسان دوبارہ رابطے میں آئے۔ انہوں نے

Read more

عطاء الحق قاسمی: عصر حاضر کا حیوان ظریف

تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما مولوی بہاؤ الحق قاسمی کے فرزند عطاء الحق قاسمی 1943 کو متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ آپ ایک وسیع النظر ادیب، فکاہیہ کالم نگار، بے باک صحافی، قادر الکلام شاعر اور صاحب طرز سفرنامہ نگار ہیں۔ وہ تھائی لینڈ اور ناروے میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ جنگ میں ”روزن دیوار سے“ کے نام سے کالم لکھنے کے ساتھ

Read more

ٹوٹ بٹوٹ سے کشورِ حسین تک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ ایک کیا اس زمانے کا ہر وہ لڑکا جس نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی کتاب ’جھولنے‘ پڑھ یا دیکھ رکھی تھی وہ ’ٹوٹ بٹوٹ‘ بن کر اصلی نہیں تو خیالی بادام اخروٹ کھا کر ہی اپنی فرضی موٹر کار اڑائے پھرتا تھا۔ ہم کوئی استثنا نہ تھے۔ مگر جب ٹوٹ بٹوٹ کی فرضی موٹر کار لڑکپن کی گلی کو عبور کر کے نوجوانی کے مقفٰی موڑ تک پہنچی تو چمن کی صورت بدل بدلی

Read more

کیا تمام کتابیں اچھی ہوتی ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے دوستوں کی محفل میں بحث چلی جس کا مرکزی نکتہ یہی سوال تھا کہ تمام کتابیں اچھی ہوتی ہیں؟ جہاں تک پڑھنے کا تعلق ہے تو ایک ریشنل آدمی یہی کہیں گا کہ ہمیں ہر قسم کتاب پڑھنی چاہیے اور اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہیے اگر اپنے خیالات و نظریات کے جمود کو توڑنا چاہیے ہو تو پھر مخالف نظریات کی طرف رجوع کرنا اور ان سے آگاہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن جب معاملہ

Read more

مرکنڈے کاٹجو: پاکستانی سیاستدانوں اور سپریم کورٹ پر متنازع تبصرے کرنے والے سابق انڈین جج کون ہیں؟

نواز شریف، مریم نواز اور پی ڈی ایم پر ذاتی حملوں سے لیکر سپریم کورٹ کو قانونی مشورے دینے والے اور سیاسی تبصرے کرنے والے جسٹس مرکنڈے حالیہ دنوں میں کافی فعال اور متنازع رہے ہیں۔

Read more

پاکستان۔ اللہ کا راز اور لازوال نور

بچپن میں سنا تھا کہ شاید واصف علی واصف صاحب کا قول ہے کہ ”پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور یہ کہ پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں“ ۔ تب تک پاکستان کو بنے آدھی صدی بھی نہیں ہوئی تھی۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال تھے نہیں اور میں چھوٹا تھا اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ میرے بڑے ہونے تک خدا کا یہ راز افشا ہو چکا ہو گا اور نور اپنے

Read more

”سندھیالوجی“ سندھ کا ثقافتی قلعہ کیوں ہے؟

جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کے ساتھ اور سندھی ادبی بورڈ کے قریب ”انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی“ کا وجود میں آنا کوئی عام روایتی امر نہیں تھا۔ اس کے پیچھے دور رس نگاہ نگاہ رکھنے والے دانشوروں اور اہل علم شخصیات کی اعلیٰ سوچ تھی۔ کوئی شک نہیں کہ سندھیالوجی سندھ کی ثقافت کا قلعہ ہے، اور یہ قلعہ ہر وقت مخالفین کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے۔ عقل اور دانش رکھنے والے جانتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اقتدار اعلیٰ

Read more

عمر خیام: جن کی اپنی قبر کے بارے میں پیشگوئی ’حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی‘

اگرچہ 11ویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والے عمر خیام دراصل ریاضی دان، فلسفی، نجومی، حکیم، عالم فاضل تھے اور شاعری ان کے فارغ وقت کا ایک مشغلہ محض تھا لیکن عمر خیام اور ان کی رباعی ایک ہزار سال بعد آج بھی مقبول خاص و عام ہیں اور آج بھی ان کے کمالات کا چرچا ہے۔

Read more

”ادب، زندگی اور سیاست“: ایک تعارف

ڈاکٹر خاور نوازش بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انھوں نے محنت، ذہانت اور ترقی پسند نقطہ نظر کے باعث خاص پہچان حاصل کی ہے۔ تحقیق، تنقید، تنظیم اور تدریس ان کے خاص میدان عمل ہیں۔ ”ادب، زندگی اور سیاست“ ڈاکٹر خاور نوازش کی مرتبہ کتاب ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2012 ء میں شایع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ان مضامین کا انتخاب

Read more

پروفیسر فتح محمد ملک کا آشیاں

کسی عہد کی تہذیب، ثقافت اور سیاست کو سمجھنے کے ذرائع کچھ ایسے کم نہیں ہوتے لیکن خود نوشت سوانح یوں سمجھ لیجیے کہ ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ وہ معاشرہ بنجر ہو جاتا ہے جس میں کسی عہد کے کردار اپنی گواہی سے پہلو تہی کریں۔ یہی گواہی ہے جسے علمی دنیا میں خود نوشت سوانح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے اہل دانش کے ایک بڑے طبقے نے اس فریضے سے کبھی

Read more

دودھ والی گاڑی گزر چکی

اپنے ملک کی تحقیر کا خیال بھی کسی ذمہ دار شہری کو زیب نہیں دیتا۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں ادیب اور فنکار اپنے بندوبست حکومت اور طرز معاشرت پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اپنی زمین سے دشمنی نہیں ہوتا بلکہ اپنی دھرتی کو مزید روشن کرنا ہوتا ہے۔ اپنے لوگوں کے لئے خوشی، انصاف، تخلیقی صلاحیت اور پیداواری توانائی کا خواب دیکھنا ہوتا ہے۔ 67 برس کی عمر میں پاسٹرناک کا ناول ڈاکٹر ژواگو

Read more

لاہور کے سقراط عزیز الحق کے ادبی، سیاسی و سماجی افکار

(عزیز الحق کے حوالے سے پہلا یادگاری لیکچر) انیس مارچ 2023 کو ٹیم عزیز نے زوم پر پہلے سالانہ عزیز الحق لیکچر کا اہتمام کیا تا کہ ڈاکٹر سید عظیم ہمیں لاہور کے سقراط عزیز الحق کے افکار عالیہ سے متعارف کروا سکیں۔ اس لیکچر میں جن تیس سے زائد دوستوں نے شرکت کی ان میں مرد، عورتیں، نوجوان، بزرگ، طلبا، اساتذہ، سیاسی کارکن اور سماجی دانشور شامل تھے۔ اس سیمینار میں میزبانی کے فرائض خاکسار نے ادا کیے۔ میں

Read more

پطرس بخاری کا کیمبرج سے ایک خط (حصہ اول)

یہ مضمون در اصل پطرس بخاری کا ایک خط ہے جو انھوں نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں، کیمبرج میں اعلی تعلیم (1925, 1926) کے حصول کے دوران اپنے دوست امتیاز علی تاج کو لکھا۔ یہ خط 1927ء میں نیرنگِ خیال میگزین کے سالنامہ میں شائع ہوا اور پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا۔ راقم کی نظر اس میگزین کے ایک عکسی نسخے پر پڑی تو اس کی چھانٹی کے دوران یہ نگینہ ملا۔ سوچا کہ اسے "ہم سب”

Read more

ابلیس کی آخری رات

اس نے دوپہر 4 بجے کا الارم لگایا اور سو گیا یہ اس کی اس دنیا میں آخری نیند تھی پھر اسے 30 دن کے لیے جانا تھا۔ 4 بجے الارم بجا آج جبریل کے آنے کے کچھ امکانات تھے اور اس نے ان کے آنے سے پہلے بہت سے کام کرنے تھے اسے ڈر تھا کہ کہیں انہیں انتظار نہ کرنا پڑے لہذا وہ فٹا فٹ اٹھا ایک سفید اجلا سوٹ استری کیا، شیو بنائی، نہایا اور خوشبو لگا

Read more

بڑی حویلی کی بیبیاں: تاب ناک کہانیاں

ایک سال پہلے جب انعام ندیم نے اطلاع دی کہ وہ ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کا انتخاب کر رہے ہیں تو حیرت کے ساتھ ایک تجسس بھی ہوا، کیوں کہ کئی سال پہلے اجمل کمال کا کیا ہوا ان کے افسانوں کا ایک انتخاب ”پارسا بی بی کا بگھار“ کے عنوان سے چھپ چکا تھا۔ اس کی اشاعت سے بھی پہلے ذکیہ مشہدی کی کہانیاں آج میں چھپ کر اردو افسانے کے پرستاروں کو چونکانے کے ساتھ اپنا گرویدہ کر

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (6)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

چیٹ جی پی ٹی اور موازنہ انیس و بیر (مکمل کالم)

شیکسپئر کے انداز میں تعزیتی پیغام لکھ کر دکھاؤ۔ میر اور غالب کا موازنہ کر کے بتاؤ کہ اِن میں سے کون بڑا شاعر ہے؟ واقعہ کربلا میں حق کے ساتھ کون کھڑا تھا؟ کڑاہی گوشت بنانے کی ترکیب بتاؤ۔ مجھے یش راج فلمز کے لیے ایک گانا تخلیق کرنا ہے، اُس کے بول لکھ کر دو۔ یہ تم نے انگریزی میں لکھ دیا اسے اردو میں ترجمہ کر کے بھیجو۔ مجھے انڈا پراٹھا کھا کر اتنا مزا کیوں آتا

Read more

سیاست میں گالی کیسے داخل ہوئی؟

آپ تو جانتے ہیں کہ بات مشاہدہ حق ہی کی کیوں نہ ہو، گو سب کو بادہ و ساغر بہم نہیں بھی ہو، اردو شعر و ادب سے چراغ شب حزیں روشن کرنے کے قرینے سے اغماض کم سے کم ہم سے نہیں ہو گا۔ اب دیکھیے گالی گفتار کا موسم ہے، مرد و زن، پیر و جوان، بدنام اور گمنام سب بد زبانی کے جوہر دکھا رہے ہیں، علم مسہری کی تفصیلات میں اپنے درک کا نقارہ سر بازار

Read more

قلم بولتا ہے

ایک لکھاری جب کچھ دیکھتا ہے تو غور و فکر کرتا ہے، مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، حل تلاش کرتا ہے اور اظہار کے لئے تحریر کو ذریعہ بناتا ہے، اس کا قلم مستقل بولتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ قلم سچ لکھے، ایسا سچ جو معاشرے میں بہتری لائے، فساد برپا نہ کرے اور الفاظ کا استعمال بھی تعمیری ہونا چاہیے۔ یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کچھ قلمکار ایسے بھی ہیں جو اس

Read more

مکتب عشق اور تصور وحدت الوجود

( یہ مضمون سید شبیر احمد کی کتاب ”مکتب عشق“ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا) محترم سید شبیر شاہ نے مکتب عشق کے عنوان سے پنجابی صوفی شعرا ء اور ان کی شاعری پر جو خوبصورت کتاب لکھی ہے، تمام شرکاء تقریب اس پر انھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ عظیم صوفی شعراء جو پنجاب اور آزاد کشمیر کی دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے صوفیانہ شاعری ہی نہیں کی بلکہ اپنے فکر و عمل میں عشق عقیقی

Read more

ہم فقط سنتے ہیں

چند سال سے ہمیں سننے کی عادت پڑ چکی ہے کبھی سالے سناتے ہیں، کبھی بیوی کی سننا پڑتی ہے، کبھی بڑے بزرگوں کی نصیحت آمیز باتیں سنتے ہیں اور کبھی کبھار تو حد ہوتی ہے اور کوئی نیا فیس بکی شاعر ہمیں اغوا کر لیتا ہے اور اپنی بے وزن غزلیں سناتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی نثر نگار نے ہمیں گھیرا اور اپنی شوریدہ سری بیان کرنے لگا اور ہمہ تن گوش ہم سنتے ہیں۔

Read more

عرفان جاوید کی کتاب: دروازے

پاکستان لٹریری فیسٹیول کے آخری روز الحمرا میں کافی زیادہ رش تھا، بھانت بھانت کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ بڑے بڑے ہالز میں مختلف سیشنز جاری تھے جبکہ صحن میں محفل موسیقی اپنے جوبن پہ تھی۔ برآمدے میں کتابوں کے چند سٹالز بھی مطالعہ کا ذوق رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ سنگ میل کے سٹال پر مجھے عرفان جاوید صاحب کی کتابیں سلیقے سے دھری دکھائی دیں تو میں بے ساختہ ادھر لپکا اور ”آدمی“ کی

Read more

غبارہ موومنٹ کا جوکر

فنکار (اگر واقعی فنکار ہو تو ) اپنے کام، اطوار، روئیے، اور گفتگو (فن کارانہ و غیر فن کارانہ) کے علاوہ اپنے بظاہر حلیے اور ظاہراً شخصیت سے بھی جان لیا جاتا ہے۔ اور اس جاننے سے پہچاننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ میرا پہلا تعارف ان کے اسی ظاہراً فن کارانہ لک سے ہوا تھا۔ یہ 2007 کے غروب ہونے سے ذرا پہلے مہینوں کی بات ہے جب میں ہر شام اپنی کچی پکی نظموں، غزلوں سمیت گول باغ پہنچ

Read more

تختی سے تخت تک۔ پری مارکہ سیاہی اور گاچی کے نام

کوارٹر نمبر 54۔ اے ریلوے کالونی سے دو جڑواں بھائی اپنے بابا کا ایک ایک ہاتھ تھامے ریلوے سکول ملکوال میں روہانسی شکلوں کے ساتھ داخل ہوئے۔ وہ منظر بھولتا نہیں۔ وہ جو ہاتھ انہوں نے تھامے تھے اس سکول سے نکل کر ان کے بازو بننا تھا لیکن وہ ہمیں سکول چھوڑ کر نہ جانے کہاں گئے۔ جلدی میں تھے۔ زندگی میں اگر کوئی حسرت ہے تو یہ ایک۔ دوبارہ ملیں گے تو پوچھیں گے بابا! سکول سے لینے

Read more

اپنے ہونے کا دیباچہ

” چننا بس کی بات جو ہوتی سارے ہی شبنم چنتے“ یہ میری ایک نظم کی دو سطریں ہیں۔ یعنی ہر شخص پرسکون، مستحکم اور برقرار رکھے جانے کے قابل زندگی کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن اختیار خدائی انعام ہے ہی نہیں۔ یہ اختیار جبر یا تقدیر سے بندھا ہوا ہے اور انتخاب عام طور پر دھوکہ دیتا ہے۔ میں نے شاعر ہونا چنا نہیں تھا۔ درست کہ میں ادب کی جانب مائل تھا، اب بھی مجھے اس سے

Read more

ابو ریٹائر ہو گئے

” لہو دا عرق“ شاکر شجاع آبادی کی سرائیکی شاعری پر مشتمل کتاب ہے جو میں نے پہلی دفعہ اپنے ابو کے ہاتھ میں دیکھی تھی یہ غالباً چوتھی یا پانچویں کلاس کی بات ہو گی۔ مادری زبان سرائیکی ہونے کے باوجود صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا بہت مشکل تھا ایک ایک لفظ کو جوڑ کے جیسے پڑھا جاتا ہے ایسا ہی کچھ سین تھا۔ مگر ابو  نے نہ صرف دو چار دنوں میں سرائیکی پڑھنا سکھا دی بلکہ تلفظ

Read more

صدارتی اعزازات کی تقسیم پر جلنے، کڑھنے والے لوگ

ہر برس 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے چنیدہ افراد کو حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغے اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے ۔ ان اعزازات کے لیے خوش نصیب قابل افراد کا انتخاب کس قاعدہ، قانون یا فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، یہ ایک ایسا سربستہ راز ہے، جس تک کسی ہما شما کی رسائی نہیں ہے۔ مگر ایک بات جو ساری پاکستانی قوم پر

Read more

منزل کی طرف دوگام چلو

ناقابل تسخیر وہ نہیں ہوتا جس کے پاس ایٹم بم ہوتے ہیں، بلکہ وہ ملک ناقابل تسخیر قرار پاتا ہے جس کے پاس متحد قوم ہو۔ قومیں صرف اسی صورت میں متحد ہوتی ہیں جب ان کی منزل ایک ہو، اخلاقیات مشترک ہوں، مقصد واضح ہو اور انہیں لیڈ کرنے والا غیر متزلزل کردار کا حامل ہو۔ جب بادشاہ کو سلطنت بچانے کے لیے امراء کے ساتھ ہر دوسرے معاملے پر کمپرومائز کرنا پڑے اور غریب عوام ہر معاملے میں

Read more

بچوں کے ساتھ، بد تمیزی، تشدد یا زیادتی سمِ قاتل سے کم نہیں

”خدا جانے میں نے کون سی ایسی خطا کی تھی کہ اس نے تم جیسی نالائق اولاد سے مجھے نوازا“ ”میری ساری اولاد نالائق نکل گئی“ ”مجھ سے دوبارہ اس طرح بات مت کرنا، ورنہ تمہاری زبان کھینچ لوں گا“ ”جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔ جب تک میں تمہیں معاف نہ کر دوں، تم جہنم میں ہی رہو گے“ یہ چند ایسے جملے ہیں جو اکثر ہمارے آس پاس بدسلوکی کے شکار اور نظرانداز کیے جانے والے بچے

Read more

مذہبی اور فلسفیانہ فکر کے مابین تصادم و تضاد محمد دین جوہر کی نظر میں

گزشتہ دنوں سے محمد دین جوہر کی ایک گفتگو سے استفادہ کر رہا ہوں، بار بار سننے کے بعد بھی کسی واضح نتیجہ پر پہنچنے سے قاصر رہا۔ زندگی کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہونے کی حیثیت سے اپنے تئیں علم الکلام کو سمجھنے کی سعی و جستجو کرتا رہتا ہوں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اکابرین مذہب کے پلے تو خیر پہلے سے ہی کچھ نہیں تھا سوائے عاشقانہ آوارگی یا بے بنیاد قسم

Read more

فارحہ ارشد کا افسانوی مجموعہ مونتاز

تبصرہ۔ دعا عظیمی وہ مجھ سے پوچھنے لگی تمہیں پتہ ہے بڑا ادب کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا، جو کبھی بھی پوری طرح قاری کی گرفت میں نہ آئے، حیطۂ ادراک سے کسی قدر ماورا، جس میں ایک منطقی زنجیر ہو، لگے کہ اس زنجیر سے بندھ کے بات سمجھ آ جائے گی مگر کہیں ایک لنک مسنگ ہو، ایک کڑی غائب ہو ہاں تجرید کی صورت جیسے اس میں اتنی وسعت ہو کہ بادلوں کے پیچھے بھاگتے بچے

Read more

مریم عرفان کا راج ہنس ( افسانے )

تاثرات:: راشد جاوید احمد اردو زبان و ادب میں خواتین کی خدمات سے چشم پوشی زیادتی ہوگی جو ان کی سیاسی اور سماجی بصیرت، علمی شغف اور شعور کی پختگی کا بین ثبوت ہے۔ خواتین افسانہ نگاروں نے عورت کے جذبات، احساسات اور جذبٔہ ایثار کو ہمیشہ بڑی چابکدستی اور فن کاری سے پیش کیا ہے۔ ان کا مقصد محض اپنی نمائندگی نہیں بلکہ عصری تقاضوں کے تحت سماج کو سجانے، سنوارنے اور نا برابری کے خاتمے کا جذبہ بھی

Read more

’کینیڈین لکھاری مارگریٹ ایٹ وڈ کی‘ دیر سے آنے والی نظمیں

امریکی صدر جو بائیڈن کے کینیڈا کے اولین سرکاری دورے کی رپورٹ پھر سے دکھائی جانے لگی تو میں نے ریموٹ کا بٹن دبایا اور ٹی وی کی آواز کچھ مدھم کردی اور نظر پھر سے کینیڈا کی ممتاز لکھاری مارگریٹ ایٹ وڈ کے انگریزی شعری مجموعے ”ڈئیرلی“ پر جما لی۔ سامنے نظم کھلی تھی: ”دیر سے آنے والی نظمیں“ ۔ نظم کا عنوان دیکھتے ہی مجھے بے ساختہ اپنے منیر نیازی صاحب یاد آ گئے جو کہتے تھے :

Read more

یوسفیات کی ادبی کرامات کی نفسیات

(1) مزاح کیا ہے؟ مزاح نگار کون ہے؟ مزاح نگار کی کون سی خصوصیت اسے دوسرے ادیبوں ’شاعروں اور دانشوروں سے متمیز کرتی ہے؟ میں نے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے مشتاق احمد یوسفی کی تخلیقات کی طرف رجوع کیا تو مجھے۔ خاکم بدہن۔ کے دیباچے میں ان کا جواب ان الفاظ میں ملا۔ یوسفی فرماتے ہیں ’ یوں تو مزاح‘ مذہب اور الکحل ’ہر چیز میں بآسانی حل ہو جاتے ہیں‘ بالخصوص اردو ادب میں۔ لیکن

Read more

فطرت کا آئینہ

ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ تخلیقی صلاحیت اور افکار کا انبار دروازے پر دستک دیتا ہے۔ جو انسان کو آگے بڑھنے، جستجو کرنے اور خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے آگاہی کا عظیم ذریعہ بھی ہے۔ اسی بنیاد پر انسان نے وہ مقام و مرتبہ حاصل کیا جو کسی دوسری مخلوق کے کھاتے میں نہ آ سکا۔ اس سعی نی انسان کو زمین کا سینہ چیر کر نئے سے نئے راز جاننے اور ان سے باخبر ہونے کا عندیہ بھی

Read more

عربی ادب میں جاہلی عہد کا شعور

ادب کے علاوہ ایسی کوئی شے نہیں جو کسی قوم کی شعوری سطح کا تعین کرتی ہے۔ ”زمانہ جاہلیت“ اصطلاح کے حوالے سے زبان زد عام لا علمی رویہ ایک طرف، اور عربوں میں زبان و ادب کی محبت ایک طرف۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس ماحول کو قابل مذمت سمجھا اور بتایا جاتا ہے اس عہد کے شاعر اپنے کلام کی قدرت اور فصاحت کی وجہ سے آج بھی دنیائے ادب کا حصہ ہیں۔ ایسی قوم پہ جہالت

Read more

وہ جو گنجا ہے۔۔۔

ہمارے ایک دوست اوائل جوانی میں ہی بالوں سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بڑی بڑی مونچھیں پال لیں۔ ہمارے استفسار پر موصوف کی بیان کردہ تبدیلی کی وجہ یاد کر کے آج بھی ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے ’یار بندے کے بال گر جائیں تو لوگ اس کا نام بھول جاتے ہیں اور بس ”گنجا“ یا ”او جیہڑا گنجا جیا اے“ (وہ جو گنجا ہے ) اس کی

Read more

زبیدہ بنت جعفر: جب عباسی ملکہ نے لاکھوں دینار کی نہر بنوا کر کہا ’حساب قیامت کے دن پر چھوڑتی ہوں‘

پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’مکہ سے بغداد جانے والی سڑک پر ہر حوض، تالاب یا کنواں ان کی عنایت ہے۔‘

Read more

فیض اور دست صبا

ادیب کی آبروئے شیوۂ فکر کی موزونیت، اسلوب کی نفاست اور تشبیہات کی فنکاری کی ہم آہنگی کر کے دیکھنا اور دکھانا کے درمیان جھولنے کے ہنر پر منحصر ہے۔ فن اور جمالیاتی شان کی جستجو ایک تنہا جدوجہد ہے اور ادیب حسب توفیق سامعین کو منور کرنے کی ذمہ داری کو پورا کرنے سے عہدہ برا ہونے کے بدولت اپنے جسمانی ناپائیداری سے فائق ہے۔ ادیب ہونا ایک نشاط و غم کی نوکری ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ

Read more

گاما، مندریاں والا

میں گاما سے پہلی مرتبہ ہیرا منڈی میں کوٹھے کے باہر ملا تھا۔ اس نے اپنے بائیں ہاتھ کو مٹھی بنا کر اس کی آخری دو انگلیوں میں سگریٹ تھام رکھی تھی۔ وہ زور لگا کر کش کھینچتا اور دھواں آہستہ آہستہ ہونٹوں اور نتھنوں سے چھوڑتا تھا۔ دو بڑی گلیوں میں مجرا گاہیں خوب روشن ہو رہی تھیں۔ اگر پشت پر پھجا سری پائے والا ہوتو دونوں بازو مجرا گاہوں والی گلیوں کے رخ کھلتے تھے، بغل کا رستہ

Read more

کچھ استاد محبوب نرالے عالم کے بارے میں

افسردگی سوختہ جاناں ہے قہر میر دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے آگ ہمارے سامنے ایک خاتون اپنی اشکبار آنکھیں لیے بیٹھی تھی، اس کی والدہ اور بڑی بہن افسردہ بیٹھے تھے، ذکر مرحوم استاد محبوب نرالے عالم کا تھا، کمرے کی فضا بوجھل ہو چلی تھی، دکھ، حیرت، رنج و غم، کتنے ایسے جذبے تھے جو ہمیں پوری طرح گرفت میں لے چکے تھے۔ یا خدا، کیا یہ اسی شہر نگاراں (کراچی) کا قصہ ہے کہ

Read more

عورت عورت کے تناظر میں : منتخب نظموں کا تانیثی مطالعہ

تانیثیت انگریزی لفظ feminism کا اردو متبادل ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی اصطلاح ہے جس میں حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے نظریے اور تحریک کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ عورت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اپنے استحصال کے خلاف بولتی ہے اور بلا جنسی تفریق وہ اپنے لیے مرد کے برابر آزادی اور حقوق طلب کرتی ہے یہی رجحان تانیثیت ہے جو تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے کا اس کا مرد سے

Read more

وازوان

معروف ناول نگار عبداللہ حسین نے کہا تھا کہ ادیب کے لیے لازم ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات جیسے کہ کھیل، سیاست، ادب، فلم، ذائقے دار پکوان، محبتیں اور معاشی معاملات میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہو۔ یہ اس کی تحریر میں تجربہ، طاقت اور تازگی لے آتے ہیں، گوشہ نشینی اسے فرار اور ذہنی انجماد کی طرف لے جاتی ہے۔ محترم عامر ہاشم خاکوانی کی تحریریں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عہد ساز قلمکار کی

Read more

انسانوں اور زبانوں کی جرمنی کی طرف ہجرت

سال رواں میں ناچیز کو جرمنی پہنچے ہوئے دس سال ہو رہے ہیں۔ اس دوران ہونے والے مشاہدات کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس میں جرمن کی زبان سر فہرست رہی۔ اس کی اہمیت اور ضرورت دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جرمنی میں جانا ایک نئی دنیا میں جانے کے مترادف ہے۔ اگر آپ نے انگریزی میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے تو جرمنی میں پہنچ

Read more

دی ہولی سینرز : اور غیر اخلاقی سیکس کی اجازت

پروفیسر راز محمد راز پشتو اور اردو میں جنسی ادب لکھنے کے چند گنے چنے لکھاریوں میں سے ہیں جنہوں نے عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی طرح قدامت پسند معاشرے میں ایسے حساس موضوعات کو چھیڑا جہاں ایسے موضوعات پر لکھنے سے پہلے لکھاری کو ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ پروفیسر راز محمد راز نے اپنی تمام کتابوں میں جنس کو محض ذہنی عیاشی کے لیے نہیں بلکہ اسے ایک اہم انسانی جبلت اور معاشرتی پیرائے میں صوفیانہ

Read more

علامہ سید صبیح حیدر شیرازی صاحب سے بات چیت

عموماً مختلف طبقہ ہائے فکر کے جید افراد کی سرگزشت شوق سے پڑھی جاتی ہے۔ ایک تاثر ہے کہ سرگزشت کسی گیت نگار، فنکار، اہل قلم، موسیقار، خطاط یا مصور وغیرہ کی ہوتی ہے۔ سوال ہے کہ کیا سرگزشت کسی عالم کی نہیں ہو سکتی؟ میری ایک اہل تشیع عالم سے اتفاقا ملاقات ہوئی جو بعد ازاں دوستی میں بدل گئی۔ علامہ سید صبیح حیدر شیرازی صاحب لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ مہینے دو مہینے بعد میرا لاہور جانا ہوتا

Read more

کونج کی کہانی کونج کی زبانی

مارچ شروع ہوتے ہی میں اپنی ہجرت کی سفر پر گامزن ہوتا ہوں تو وہیں میرے خلاف شکاریوں کی مارچ بھی شروع ہوجاتی ہے، میری نسل کشی کے لیے تیاریاں پکڑ لی جاتی ہیں قبیلوں کے قبیلے شہروں کی طرف کارتوس شاٹ گن لینے کی طرف چڑھ دوڑتے ہیں، فیکٹریوں کی طرف سے پہلی ہی کثیر مقدار میں مال اور کارتوس تیار ہوا ہوتا ہے، ہوبہو مجھ جیسے بے جان پرندے تیار کرلئے جاتے ہیں اور میری ہم سفروں جیسے

Read more

کتابی سلسلہ ”ادبیت“

کتابیں پڑھنے کے شوق نے کئی نئے دوستوں اور لکھاریوں سے متعارف کروا دیا ہے۔ جن کی کتاب پڑھ کر کالم لکھنے کا موقع مل جاتا ہے جو قارئین کے لئے بھی اس کتاب اور ادیب کو جاننے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں مقیم جناب سرفراز تبسم نے ”ادبیت“ ارسال کیا جو چند دنوں تاخیر سے لیکن مل گیا۔ سر فراز تبسم خود ایک بہترین شاعر اور ادیب ہیں جو اپنے کتابی سلسلے ”ادبیت“ کے ذریعے

Read more

پچوانہ کی جنت۔ ایک خوبصورت سفر کا آغاز

کچھ عرصہ قبل ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کے دوران امتیاز حسین ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی جو میرپور بار کے صدر کی حیثیت سے تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کی گفتگو انتہائی سلجھی ہوئی اور تاریخی و علمی حوالوں سے بھرپور تھی۔ مزید تعارف پر پتہ چلا کہ ان کا تعلق پچوانہ ڈڈیال سے ہے۔ چند ماہ پہلے اس گاؤں کو مثالی معاشرہ بنانے اور آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ کے پچوانہ کے دورہ کی خبریں اخبار

Read more

اردو شاعری میں پرشوتم رام

ڈاکٹر قرۃ العین اردو کے ابھرتے ہوئے اسکالر ہیں، جنھیں نت نئے موضوعات پر تحقیق اور تخلیق کے لیے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اردو زبان و ادب میں گریجویشن، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کیا ہے۔ وہ ہندی زبان میں بھی لکھتے ہیں اور بہت اچھا لکھتے ہیں، انھوں نے کئی کتابوں کے تراجم بھی کیے ہیں جنھیں اہل علم نے سراہا ہے۔ ابھی حال ہی میں انھوں نے ”اردو شاعری میں پرشوتم

Read more

لیو ٹالسٹائی کے نظریاتی، سماجی اور ازدواجی تضادات کی کہانی

لیو ٹالسٹائی انیسویں صدی کے امن کے ایک ایسے پرچارک تھے جن کے پرستاروں میں موہنداس گاندھی ’دالائے لاما اور مارٹن لوتھر کنگ جونیر جیسے مذہبی اور سماجی رہنما شامل تھے جنہیں بیسویں صدی کے امن کے نوبل انعام ملے۔ ان کی زندگی کا ایک المیہ یہ تھا کہ ساری دنیا کے امن پسند ان سے جتنی شدت سے محبت کرتے تھے ان کی بیوی سونیا ان سے اتنی ہی شدت سے نفرت کرتی تھیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں

Read more

جنرل باجوہ چپ رہنے کا کیا لیں گے؟

پاکستان میں یہ اچھا اصول تھا کہ جو سپہ سالار گیا تب بس چپ کر کے گھر میں بیٹھ گیا، زندگی میں پہلا چیف جنرل ضیا الحق دیکھا تھا کہ انھیں خدا نے ریٹائرمنٹ کا موقع ہی نہیں دیا اور بائی ائیر ہی اپنے پاس بلا لیا۔ اب ان کے صاحبزادے اپنے والد کا مشن مکمل کرنے کے لیے پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔

Read more

پختون مخالف دقیانوسی تصورات اور تعصبات

 پختون صدیوں پر محیط ایک اہم ثقافتی ورثے کی حامل برادری ہے۔ اس کے باوجود، کمیونٹی اکثر منفی دقیانوسی تصورات اور تعصبات کا شکار رہی ہے، خاص طور پر پختونوں سے وابستہ سب سے عام دقیانوسی تصورات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ فطری طور پر متشدد ہیں، اور یہ کہ ان کی ثقافت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لئے سازگار ہے سب سے پہلے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک پیچیدہ مظاہر

Read more

میں فکر اقبال سے کیسے روشناس ہوا

کلام قبال سے میرے ربط و ضبط کا آغاز لڑکپن سے ہو گیا تھا۔ بلکہ شعر و سخن کی جانب میری رغبت میں کلام اقبال کا اہم کردار تھا۔ ابتدائی جماعتوں میں دعا، لب پہ آتی ہے دعا، ایک گائے اور بکری، ہمدردی اور پہاڑ اور گلہری، جیسی نظموں سے یہ شوق پروان چڑھا اور سیکنڈری جماعتوں میں پہنچ کر ، شکوہ، جواب شکوہ، ایک آرزو اور طلوع اسلام جیسی شہرہ آفاق نظمیں پڑھ کریہ شوق جوان ہوا۔ اس دور

Read more

فیس بکی سکھیوں کا فیمینزم :جوابِ شکوہ

پہلی سحری ہی میں ڈاکٹر صنوبر الطاف کے ایک پرانے مضمون کا لنک سامنے آ گیا اور اس کے دو چار نکات نے مجبور کر دیا کہ دو چار لفظ اس کے جواب میں لکھے جائیں کیونکہ فیمینزم کوئی طے شدہ آئین نہیں بلکہ سیال مادے کی صورت اور ہر اچھی تحریک، نظریے اور مذہب کی طرح مقامی ضرورت کے مطابق ڈھال میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھنے والی تحریک ہے۔ ڈاکٹر صنوبر یارم آپ نے کیسا اچھا لکھا لیکن حضرت

Read more

مٹی کی دعا

سلیم حسنی بلوچستان کے ضلع بارکھان سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے انگریزی لیکچرر ہیں۔ ”مٹی کی دعا“ ان کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے، جس میں چالیس نظمیں اور دس غزلیں ہیں۔ ڈگری کالج پشین میں وہ دو سال تک میرا کولیگ رہے، مگر پرتکلف اور گریزاں رہے۔ شاید وہ یہ خلا مٹی کی دعا سے پر کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظمیں ایک ایسی دیسی محبت کا نتیجہ ہیں جو ایک قابل برداشت حادثے سے

Read more

اصغر ندیم سید صاحب کے خاکے اور خاکہ نگاری

زندگی کی اسٹیج پر ہم سب ایک کردار کی صورت نمودار ہوتے ہیں اور اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ہماری کہانی اور کردار نگاری اس اسکرپٹ کے تابع ہوتی ہے جو ہمارے کردار کی صورت گری کرتا ہے۔ مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر کوئی کردار اس لکھت کی روایتی حدود پھاند کر ایسی امپروائزیشن کرتا ہے کہ یہ عمل اس کے کردار کو زندہ و جاوید رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں کہانی

Read more

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی شعور

پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی شعور! اردو کی ممتاز شاعرہ، انگریزی زبان کی استاد، ایک قابل اور با اصول سول سرونٹ، کالم و مضمون نویس، بے بدل ٹی وی کمپیئر اور ایک انتہائی ہر دلعزیز شخصیت پروین شاکر نے شاعری میں ہمہ جہت رجحانات کو فروغ دیا اور انہی میں سے ایک جہت تانیثی شعور بھی ہے۔ اس شعور کو ان۔ کے کلام۔ میں جا بجا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی پہلی کتاب خوشبو میں خواتین کے

Read more

عمران خان کی سیاست تقسیم ڈال رہی ہے

دو قوتیں ہیں جو کسی بھی معاشرے کو تقسیم کرنے یا متحد کرنے میں سب سے آگے ہوتی ہیں، مذہب اور سیاست۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے لیکن پاکستان میں کئی سالوں سے مذہبی تقسیم کا شکار ہے شیعہ سنی، وہابی بریلوی اور ایسے بہت سے فرقے پاکستان میں تقسیم کا باعث بن رہے ہیں۔ 2011 میں چیئرمین پی ٹی آئی کا عروج شروع ہونے سے پہلے سیاست پاکستان میں ایک مثبت طاقت تھی جس نے معاشرے میں یکجا کر

Read more

کہے حسین فقیر نمانا

یہ دو ہزار سترہ کا عرصہ تھا جب ٹوٹی پھوٹی نظمیں لکھ کر میں نے ایک حبس زدہ شام میں ملتان آرٹس فورم کے دروازے پر دستک دی۔ ان دنوں ملتان آرٹس فورم کے ہفت روزہ اجلاس علی گڑھ گرلز کالج گول باغ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ مرکزی دروازے پر موجود سیکورٹی گارڈ سے اجازت لے کر جب اندر داخل ہوا تو گھپ اندھیرے میں اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میں پیچھے پلٹنا نہیں چاہتا تھا اس

Read more

قدیم مصر: اولین انسانی تہذیب کا دوسرا مرکز

میسوپوٹیمیا (دجلہ و فرات کی وادی) میں ہوئی جس کے بعد انسانی تہذیب کا دوسرا بڑا مرکز مصر کے دریا "نیل کی وادی” کو قرار دیا جاتا ہے۔قدیم مصر اپنے مخصوص جغرافیہ اردگرد صحراؤں) کے طفیل بیرونی حملوں سے زیادہ تر محفوظ ریا اور یوں یہاں کا معاشرہ اور تہذیب اپنی طویل تاریخ میں زیادہ تر تسلسل اور انفرادیت کا حامل رہا قدیم مصر کی تاریخ 5000 ق م سے 525 ق م تک پھیلی ہوئی ہے۔اس عرصے کے دوران

Read more

تاریخ کا مطالعہ آسان نہیں

تاریخ گاڑی کے فرنٹ مرر یعنی آئینے کی طرح ہوتا ہے جس میں آ پ کو گاڑی کے پیچھے کا پس منظر دکھائی دیتا ہے. آگے کی طرف ڈرائیو کرنے کے لیے پیچھے دیکھنا بھی ضروری ہے.. افراد اور قوموں کا حال اور مستقبل میں آگے بڑھنے کے لئے اپنے آپ کو ماضی اور آپنی تاریخ کے آئینے میں دیکھنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے. جہاں تاریخ اپ کو شناخت عطاء کرتا ہے وہیں پہ غلطیوں سے سیکھنے, اقدار و

Read more

کیا آپ کو کبھی محبت ہوئی ہے؟

میں اس محبت کی بات نہیں کر رہا جس کے لیے دنیا کو بھلا کر اس سے ایسا منہ موڑ لیا جائے کہ پھر اس کا چہرہ ہی نہ دیکھنا چاہے۔ جس کے بعد اسے دنیا ایسی کالی نظر آنے لگے کہ اس کے زعم میں جس کو نہ سورج کی روشنی روشن کر سکتی ہے اور نہ چاند کی چمک، صرف اس لیے کہ ایک عورت (اپنی محبوبہ) کا وہ آج تک بوسہ نہیں لے سکا ہے۔ وہ محبت

Read more

عمرانی فرقہ کو”ضیا بیطس” لاحق ہو گئی

 ضیاء بیطس کا استعارہ میرا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ میں نے شاہد بلوچ سے مستعار لیا ہے،ذہنی دیانت کا تقاضا ہے کہ جو جس کا ہے کریڈٹ بھی اسی کو جانا چاہیے۔   اسی طرح سے ہمیں عمرانی بندوبست کا پورا کریڈٹ بھی انہی خداوندان نظام کی بصیرت و فہم کو دینا چاہیے جن کا یہ انوکھا شاہکار تھا۔  ہماری سرزمین فرقوں کے لیے بہت سازگار ہے، بس کسی طاقتور کے دست شفقت کی ضرورت ہوتی ہے کوئی

Read more

بھگت سنگھ، ہماری دھرتی کا حقیقی ہیرو!

دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم و جبر ہوتا ہے، اور آزادی سے سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے، وہاں دھرتی کے بدن سے ایسے جانباز ہیرو نمودار ہوتے ہیں، جو اپنے وطن، اس کی مٹی، اور آنے والی نسلوں کی آزادی کی حفاظت کے لیے پہاڑوں سے بھی ٹکرا جاتے ہیں۔ برصغیر میں برطانوی سامراج کے نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی تحریک بھی ایسے ان گنت سانحات سے بھری پڑی ہے۔ آزادی کی جدوجہد کتنی بھی پر امن کیوں

Read more

جب امجد اسلام امجد نے قرۃ العین حیدر کو گھاس نہ ڈالی

میں بات کرنا چاہتا ہوں امجد پرویز کی آواز میں اس خوب صورت کلام کی شہرت اور ڈرامہ ’وارث‘ کی مقبولیت سے پہلے کی جب سن ستتر اور اکاسی کے دوران میں میں ہر صبح پیدل گورنمنٹ کالج لاہور جانے کے لیے مزنگ سے پرانی انارکلی کی طرف رواں دواں ہوتا تھا۔ امجد اسلام امجد صاحب اپنے مقبول عام لمبراٹا سکوٹر کا شور اور دھواں بلند کرتے ہوئے لیک روڈ اور لٹن روڈ مزنگ کا چوراہا پار کرتے تھے۔ وہ

Read more

بکری، کتے اور شیر کا تماشا

ایک دن جیل میں نیکسل باغی (بھارت کا علیحدگی پسند گروپ) پولیس افسر کو کہانی سنا رہا تھا۔ کہ ایک دفعہ جنگل میں شیر شکار کے پیچھے بہت تھک گیا لیکن شکار دبوچنے میں ناکام رہا۔ پھر شیر کو ایک ترکیب سوجھی اور اس نے اپنے ساتھ بکری اور کتے کو بھی اس شرط پر ملا لیا کہ اگر ہم تینوں نے مل کر شکار کر دیا تو شکار کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔ تینوں نے مل کر

Read more

پروین شاکر کی شاعری میں رقیب کا کردار

پروین شاکر کی شاعری میں رقیب کا کردار: انسانی زندگی وجود میں آتے ہی ایک ایسے دشمن سے دست کش اور نبرد آزما ہے کہ جس کا وجود شاید ہر کہانی کا منطقی کردار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑا ادب اور بڑی تخلیقات ایسے تباہ کن کردار کی منظر کشی سے خود کو روک نہ سکیں۔ چونکہ ادب معلیٰ اپنے اندر جامعیت لئے ہوئے ہوتا ہے لہٰذا اس میں انسانی زندگی کی تمام جھلکیاں موجود ہوتی ہیں۔ آفاقیت

Read more

"سارے جہاں کا درد” (حصہ سوم)

”سارے جہاں کا درد“ کی اشاعت کا تمام تر سہرا امجد صابری کو جاتا تھا کہ اس مرد درویش کی شبانہ روز محنت اور پر خلوص جدوجہد کے نتیجے میں یہ کتاب منصہ شہود پہ آئی۔ امجد صابری میں ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی مسکراتا رہتا تھا، وہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ کتاب کی اشاعت کے بعد پولیس کالج میں ہمارے ساتھ جس طرح کا

Read more

سر مقتل کی ضبطی پر: حبیب جالب

  مرے ہاتھ میں قلم ہے مرے ذہن میں اجالا مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا یہ اشعار اردو ادب کے معروف شاعر اور جمہوریت کے حق میں سینہ سپر رہنے والے حبیب جالب ؔکے ہیں۔ حبیب جالبؔ، یعنی ایک ایسی شخصیت جو تادم حیات نہ کبھی کسی حکمراں کے سامنے جھکے اور نہ ہی عوام کے مسائل اور

Read more

ادب، شعوری زندگی کا عکس!

طویل مدت بعد ادب زار فورم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کل پاکستان مشاعرے کا انعقاد کر کے تخلیقی سرگرمیوں کی بحالی اور ہماری دم توڑتی ثقافت کو حیات نو عطاء کی، اس یادگار مشاعرہ میں خاص طور پہ بنوں اور جنوبی وزیرستان جیسے پیش پا افتادہ علاقوں کے نوجوان شعراء کی اردو شاعری اور کلاسیکی ادب سے والہانہ وابستگی سامعین کے لئے حیرتوں کے کئی در وا کر گئی۔ اسلام آباد کے معروف شاعر و نثر نگار ڈاکٹر وحید

Read more

کیا برقعہ پشتونوں کا روایتی لبادہ ہے؟

پتہ نہیں کیوں برقعے کو پشتونوں کے ساتھ اس طرح جوڑا گیا ہے جیسے یہ ان کی ہی اختراع ہو یا ان ہی نے اس روایت یا رسم کو ساری دنیا میں پھیلایا یو۔ حالانکہ اس کا مذاق بھی جب اڑایا جاتا ہے تو شٹل کاک جیسے ناموں سے پکار کر پشتوں کے ساتھ جوڑنے اور اس کا تمسخر اڑانے کی حتی الوسع کوشش کیا بلکہ پورے جتن کیے جاتے ہیں جس کے بعد مزید بولنے کے بجائے ندامت یا

Read more

علم الاقتصاد :دیباچہ میری نظر میں

”علم الاقتصاد“ علامہ اقبال کی پہلی علمی اور نثری تصنیف ہی نہیں بلکہ اردو زبان میں اقتصادیات کے موضوع پر لکھی جانے والی پہلی کتاب بھی ہے۔ جو علم سیاست مدن کے عنوان سے معروف ہوئی۔ اقبال نے یہ کتاب پروفیسر آرنلڈ کی تحریک پر تحریر کی تھی۔ اقتصادیات کو علامہ اقبال کے افکار میں کبھی مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی لیکن اس کے باوجود اقبال کو اس موضوع سے بڑی گہری دلچسپی تھی۔ اقبال کی شاعری اور نثر دونوں

Read more

مردود ڈاکٹر اور عبداللہ غازی کی فائلیں کیسے تبدیل ہوئیں؟

وہ دونوں میدان حشر میں موجود تھے، آخری فیصلہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر جنت کی جانب جانے والے لوگوں کی قطار میں کھڑا تھا۔ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کے بائیں جانب دوزخ جانے والی قطار میں کھڑے ایک فربہ لڑکے نے اچانک چیخ و پکار شروع کردی، ”یہ کافر ہے، یہ تو کافر ہے، یہ جنت کیوں جا رہا ہے اور میں دوزخ میں کیوں؟ نہیں، نہیں، یہ زیادتی ہے، یہ نا انصافی

Read more

عارف خٹک کا دوسرا ناول: یہ پالا ہے

”یہ پالا ہے“ عارف خٹک کے دوسرے ناول کا نام ہے۔ ان کا پہلا ناول چند سال پہلے ”چھٹکی“ کے نام سے چھپا۔ وہ ایک ایسے طالب علم کی داستان زیست ہے جو کرک کے ایک نہایت پسماندہ گاؤں سے اٹھ کر تعلیم کی غرض سے روس چلا جاتا ہے اور وہاں سے اس کی محبت کی داستان شروع ہوجاتی ہے جو خوشیوں، سرمستیوں، غموں، مایوسیوں، سماجی و نفسیاتی مراحل اور نشیب و فراز سے ہو کر بہت فلسفیانہ، متصوفانہ

Read more

خوش فکر اور خوش گفتار: ڈاکٹر روبینہ شاہین

موہنی صورت ’خوش اخلاق‘ مشرقی تہذیب و اقدار کا پیکر پروقار شخصیت کی مالک پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین صاحبہ اردو کے علمی و ادبی حلقوں میں الگ پہچان رکھتی ہیں۔ فطرت کی دلدادہ ’پھولوں اور پودوں سے بے حد محبت کرنے والی ڈاکٹر صاحبہ نہ صرف زبان و ادب سے عشق کرتی ہیں بلکہ تمام فنون لطیفہ کی شیدائی ہیں۔ وہ ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی قائل ہیں جن کی دوستی غیر مشروط اور مفادات سے بالاتر ہو۔

Read more

نقلیات پر ایک نظر

برصغیر میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی ادبی خدمات ایسٹ انڈیا کمپنی کے برعکس ہیں۔ اردو زبان و ادب کے حوالے سے انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ کتابوں میں اردو لسانیات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں اپنی تدریسی خدمات انجام دینے کے ساتھ کئی کتابیں مرتب بھی کی ہیں۔ لسانیات پر کئی منشیوں کی لکھی ہوئی کتابوں کو انہوں نے مرتب کیا ہے۔ محمد عتیق صدیقی

Read more

شوکت صدیقی کے فکشن میں جرائم کی عکاسی

شوکت صدیقی نے اردو ادب میں ناول نگاری، افسانہ نگاری اور کالم نویسی کے ذریعے نام پیدا کیا۔ مارچ 1923ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم لکھنؤ میں مکمل کی۔ بحیثیت مدیر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ شوکت صدیقی 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ شوکت صدیقی کی افسانہ نگاری کا آغاز 1940ء میں ہوا۔ بعد ازاں وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ شوکت صدیقی نے افسانے، مضامین، کالم لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کی لیکن ان کے

Read more

شاعر اور سرکاری افسر مصطفیٰ زیدی نے خود کشی کیوں کی؟

مصطفیٰ زیدی کی شاعری پڑھ کر مجھے جتنی خوشی ہوتی ہے ان کی خودکشی کی کہانی پڑھ کر میں اتنا ہی دکھی ہو جاتا ہوں۔ جب میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مجھے مصطفیٰ زیدی کیوں پسند ہیں تو میں انہیں مندرجہ ذیل شعر سناتا ہوں اور کہتا ہوں کہ مجھے مصطفیٰ زیدی کی ڈکشن بہت پسند ہے۔ وہ ایک صاحب طرز شاعر تھے۔ میں کس پہ ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں

Read more

ChatGPT کیا مشین شاعری کر سکتی ہے؟

آج کل آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا شور ہے۔ ایک ایسی ایپ سامنے آئی ہے جو ہر سوال کا جواب دے سکتی ہے، اور شاعری بھی کر سکتی ہے۔ اس ایپ کو آپ کوئی بھی موضوع دیں وہ اس پر شاعری کے لاکھوں ورژن یا صورتیں بنا کر دے سکتی ہے۔ مجھے اس میں رتی بھر شبہ نہیں کہ مشین شاعری کر سکتی ہے، کیونکہ ہمارے شعرا کی اکثریت زمانوں سے یہی کام مشینی انداز میں کر رہی ہے۔ ابھی تو

Read more

فرخندہ بخاری کا عشق حقیقی

جب پاکستان ملائیت کی گرفت میں پڑا سسکتا تھا تب فرخندہ بخاری نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو اپنا سرچشمۂ فیضان ٹھہرایا۔ نتیجہ یہ کہ وہ اور ان کے شوہر نامور شاعر شہرت بخاری کو برسوں دربدر خاک بسر زندان و سلاسل کی اذیتیں سہنا پڑیں۔ فرخندہ بخاری اور شہرت بخاری نے درویش خدا مست کی مانند کذب و ریا کی زندگی کو ٹھکرا دیا اور ہمارے ہاں حق گوئی اور بے باکی کی نادر و نایاب مثال قائم

Read more

مشاہیر کے خطوط بنام عطا الحق قاسمی

عطاء الحق قاسمی ایک عہد کا نام ہے۔ ایسا عہد جس میں تہذیب ہے، تابناکی ہے، وسعت ہے، برداشت ہے، علم ہے، حلم ہے اور ابلاغ اور گیان کا وفور ہے۔ آپ چھ دہائیوں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں اور کسی بھی موقع پر ان کے تخیل کے قلمرو میں سرمو انحطاط نہ آیا ہے۔ آج بھی ”روزن دیوار“ قاری کی اولین ترجیح اور مطمح نظر ہے۔ آج بھی وہ ادبی و سماجی تقریب کامیاب اور کامران

Read more

سوشل میڈیا اور یونیورسٹیوں میں پائے جانے والے جنسی شکاری

فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے متعلقہ ایک پوسٹ نظر سے گزری جس کے مطابق ایک جنسی بھیڑیا جو کہ استاد کے روپ میں اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا تھا نے ایک طالبہ کو محض اس وجہ سے فیل کر دیا کہ اس نے استاد نما جنسی بھیڑیے سے تنہائی میں ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ پوسٹ کے مطابق زاہد سرفراز نامی استاد بچی کو فحش پیغامات بھیجا کرتا تھا اور بچی کی طرف سے جنسی تعاون نہ

Read more

دہلی عالمی کتاب میلہ 2023 پر چند باتیں

تین سال بعد پرگتی میدان میں نئی دہلی ورلڈ بک فیئر کا انعقاد کیا گیا۔ آزادی کے ’امرت مہوتسو‘ کے موضوع پر یہ میلہ 25 فروری سے 5 مارچ تک جاری رہا۔ پچاس سال پورا کرنے والے اس میلے میں اس مرتبہ فرانس مہمان ملک کے طور پر شریک ہوا۔ نیشنل بک ٹرسٹ (این بی ٹی) کے زیر اہتمام اس میلے میں کئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں۔ کتاب کے شائقین کے لیے گیت اور ڈرامہ ڈویژن، ساہتیہ کلا پریشد

Read more

لاجونتی اور دستور پاکستان کی نصف صدی

بٹوارے کے برسوں میں اردو ادب اپنے نقطہ کمال پر تھا۔ ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور سرحد کے آرپار تبادلہ آبادی جیسے موضوعات سے حساس تخلیق کاروں کا لاتعلق رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ فیض، منٹو، کرشن چندر، بیدی، احمد ندیم قاسمی اور اشفاق احمد، کون تھا جس نے کائناتی سطح کے اس انسانی المیے پر قلم نہیں اٹھایا۔ اس ہنگامے کا ایک نہایت حساس حصہ ان مظلوم عورتوں سے تعلق رکھتا تھا جنہیں فسادات کے دوران اغوا کر لیا

Read more

کامیابی کیا ہوتی ہے؟ ( مذہب، سائنس اور سائیکالوجی) قسط : 4

” ہم سب“ فیملی ممبرز کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی چوتھی قسط حاضر ہے۔ یہ مضامین دو سائنسدانوں نے ایک دوسرے کو خطوط کی صورت میں لکھے ہیں۔ مکمل کتاب پاکستان میں طباعت کے مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ کتاب رواں ماہ (مارچ) میں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ اس مضمون میں ”کامیابی ’‘ کیا ہوتی ہے؟ اور ایک کامیاب انسان کون ہوتا ہے؟ کے موضوع پر ایک دلچسپ مکالمہ کیا گیا

Read more

مٹھاس اور خوشبو سے گھر!

اگرچہ ادب کی تاریخ میں زیادہ تر ادیبوں، شاعروں اور ان کی کتابوں ہی کا ذکر ہوتا ہے۔ تاریخی حالات، تعلیم، کتابوں کی اشاعت کے طریقے، رسائل اور اخبارات، ادبی انجمنیں، مشاعرے، کانفرنسیں، دوسری زبانوں سے تعلقات وغیرہ۔ اگر ان تمام باتوں پر دھیان رکھا جائے تو کسی ادب کی رفتار اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ انھیں ذریعوں سے ادیب اور شاعر عام لوگوں سے ربط اور تعلق پیدا کرتے ہیں۔ جب ہندوستان میں اردو کا رواج

Read more