آیا میلا قلندر لعل، چلو سیہون چلیے

حضرت عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر سہوانی (c۔ 1177۔ 1274 ) ، سلطان الا اولیاء، مرشد کامل، صوفی، فلسفی، عالم، قلندر، اور نامور شاعر۔ کا سالانہ میلا سیہون شریف سندھ میں منایا جاتا ہے، اس سال بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ آئے ہوئے ہیں۔ میلے کی مناسبت سے حضرت لعل شہباز کی زندگی کا احوال۔ آپ سید ابراہیم کبیر الدین بن سید شمس الدین کے گھر 573 ہجری / 1177 یا 538 ہجری / 1144 عیسوی میں افغانستان

Read more

کراچی پریس کلب اور حبیب جالب کی باتیں

گو کے اس بات کو گزرے دو ہفتہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود کراچی کے نظریاتی، محبوباتی، سیاسی، اور تھوڑے سے ادبی حلقوں میں جالب میلے کی سرگوشیاں گھوم رہی ہیں، چل رہی ہیں۔ ایک دوسرے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس ایک بات پر سب متفق ہیں کہ ایسے پروگرام ہونے چاہیں، وقت کی ضرورت ہیں۔ اپنے پرکھوں کو ہم نہ یاد کریں گے تو کون کرے گا۔ زندگی کے نخلستان میں چلتی پھرتی

Read more

میری دھرتی میرے لوگ

11 مارچ کی شام پاک ٹی ہاؤس کا سارا ماحول ایک درد انگیز تاثر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اردو ادب کو اپنے تخلیقی اور تحقیقی کاوشوں سے حد درجہ امیر کرنے والی شخصیت ساکت انداز میں سٹیج پر ڈاکٹر جعفر حسن زیدی، ڈاکٹر غلام حسین ساجد اور پروین ملک کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ منظر آنکھوں کو بھگونے کے لیے کافی تھا۔ احمد سلیم کی حال ہی میں چھپنے والی اہم کتاب ”میری دھرتی میرے لوگ“ پر ایک بھرپور

Read more

کیا آپ سائیکو پیتھ کے بارے میں جانتے ہیں؟

آج کا موضوع انتہائی حساس نفسیاتی مسئلے ”سائیکو پیتھ“ کے بارے میں آگاہی دے گا۔ سائیکو پیتھ کے لئے متبادل لفظ ”اینٹی سوشل“ استعمال ہوتا ہے۔ اور عام زبان میں ہم ان کو ایذا رساں لوگ کہتے ہیں یعنی دوسروں کو ایذا اور تکلیف پہنچانے والے لوگ۔ بلکہ عام زبان میں انہیں زہریلے یا ٹاکسک کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی دی ہوئی اذیت سانپ کے زہر کی طرح ہوتی ہے اور ان کا ڈنک تباہ کن ہوتا ہے۔ کیا

Read more

قاضی راشدؔ محمود کی خاکہ نگاری

  خاکہ نگاری ایک ایسا فن ہے جو ہر عہد، ہر ملک اور ہر زبان میں اس کے نمونے اور نقوش ملتے ہیں۔ زندگی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج و میلان، نشیب و فراز ڈوبتی ابھرتی انسانی زندگی کے تمام رنگ و روپ خاکہ نگاری میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ معاملہ، معاشرتی و سماجی، علمی و ادبی ہو یا سیاسی، بڑی شخصیت ہو یا معمولی، عالم ہو یا جاہل، حکمراں ہو یا سماج کا ایک ادنیٰ انسان،

Read more

شو کمار بٹالوی: پنجابی زبان کا جان کیٹس

شو کمار بٹالوی 23 جولائی 1936 کو پنجاب کے شہر نارووال میں پیدا ہوئے۔ تقسیم پنجاب کے وقت شیو کمار بٹالوی کی عمر گیارہ سال تھی۔ شو کمار بٹالوی نے میٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا اور بقیہ تعلیم بیرنگ یونین کالج کرسچیئن سے حاصل کی۔ مگر کوئی بھی ڈگری کسی بھی ادارے سے مکمل نہ کی اور کچھ عرصہ کے بعد پٹواری بھرتی ہوئے مگر کچھ عرصہ بعد اس کو چھوڑ کر مکمل طور پر پنجابی ادب

Read more

پوٹینشل ریپسٹ اور ڈک پکس سنڈروم کا شکار معاشرہ

جہاں زبردستی لوگوں کو پارسا، نیکوکار یا باحیا بنانے کا چلن ہوتا ہے وہاں منافقانہ رویے جنم لینے لگتے ہیں اور ایک چہرے پر کئی چہرے چڑھانا معاشرتی مجبوری بن جاتا ہے، پھر وہاں اس قسم کے گھٹیا جنسی رجحانات کا منظر عام پر آنا کوئی اچنبھے والی بات نہیں ہوتی۔ فطری تقاضوں کو جتنے مرضی تقدسی چولے پہنا لیں وہ اپنے حقیقی خد و خال و ہیئت میں ”جوں کے توں“ ہی رہتے ہیں ان پر ہمارے پرہیزگاری فارمولوں

Read more

جاپان کی مختصر تاریخ

جاپان دنیا کا واحد بڑا ملک ہے جو 1945 تک بیرونی حملہ آوروں کے قبضے سے محفوظ رہا۔ جغرافیائی لحاظ سے ایشیا کے مشرقی سرے پر مرکزی زمین سے (کوریا کی جانب سے) 150 کلو میٹر دور شمال مغربی بحرالکاہل میں واقع 6500 ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل ہے جن میں بڑے صرف چار جزیرے (ہو نشو، ہوکائیدو، شیکوکو اور کیوشو) ہیں۔ ان چار میں مرکزی ”ہونشو“ کا جزیرہ ہے جن میں آج کے اہم جاپانی شہر بشمول بادشاہت

Read more

مادری زبان میں تعلیم

یونیسکو مادری زبانوں کا عالمی دن 1999 سے ہر سال 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت، تحفظ اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے کے لیے مناتا ہے۔ اس کے آفیشل ویب سائٹ کے مطابق مادری زبان میں تعلیم خاص طور پر پرائمری تک معیاری تعلیم کا اہم عنصر ہے۔ یونیسکو کی مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی کو ایسی زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے جو زبان وہ بولتے یا سمجھتے

Read more

نقاد حضرات سے معذرت

میرا ایک قریبی دوست جو ہمارے ساتھ دیرینہ تعلق ہونے کے باوجود بھی ادبی شوق کا حامل ہے وہ ادب میں تحقیق و تنقید کا سخت ناقد ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ادبی تخلیق سے شغف رکھنے والے کسی شریف آدمی کو اگر ادبی تحقیق کا کام سونپ دیا جائے تو یہ قریب قریب ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی نیورو فزیشن کو گائنی کی ذمہ داریاں دے دیں۔ اس مماثلت میں، اس کے بقول، نیورو فزیشن پھر بھی تھوڑے

Read more

مریم نواز کی تشخیص

مریم نواز نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ عمار مسعود سوال کرنے والے ہوں اور بات کرنے والی مریم نواز، اس کے باوجود کوئی دھماکا نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ عمار مسعود کا شمار بھی ہمارے جیسے ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ادب سے شروع ہوئے اور صحافت تک پہنچے پھر اسی کے ہو رہے۔ ادب اگرچہ اب بھی ان کے رگ و پے میں بستا ہے اور خوشبو دیتا ہے لیکن آخر روزی روٹی بھی تو

Read more

عماد قاصر کی کتاب: پانچ صاحب اسلوب شاعر

مرتب: عماد قاصر صفحات: ایک سو اسی پبلشر: رنگ ادب پبلیکیشنز اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے ہمیشہ ہی کھانے میں platters بہت پسند ہیں۔ اس میں آپ کی پسند کے چنندہ پکوان، ایک بڑیسی ڈش میں سرو کر دیے جاتے ہیں۔ جس دن مجھے یہ کتاب ملی، ذہن میں یہی مثال در آئی اور سوچنے پر مجبور کر گئی کہ اہل ذوقکے لیے یہ کتاب بھی کسی مزیدار سے پلیٹرplatter سے کم نہیں! جی ہاں میں بات کر

Read more

سندھی کو قومی زبان قرار دینے کی قرارداد کی منظوری

مہنگائی، دہشت گردی اور سیاسی بحران کے درمیان ایسی ”قرارداد“ یقیناً خوشخبری کے مترادف ہے کہ سندھ میں حکومت اور حزب اختلاف نے متفقہ اور باہمی رضامندی سے سندھی کو قومی زبان کا درجہ دینے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ میڈیا ذرائع میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق 22 فروری بروز منگل پوری اسمبلی نے سندھی کو قومی زبان کا درجہ دینے کی قرارداد بغیر کسی مخالفت کے متفقہ طور پر منظور کر لی۔ تاہم اپوزیشن جماعت کے

Read more

”کس نے کہا تھا برکھا رت میں یوں بے دھیان انجان پھرو“ قسط۔ 6 (دوسرا حصہ)

صبح آنکھ کھلی تو موسم کافی بہتر تھا بارش رات کے کسی پہر رک گئی تھی۔ سورج نکلا ہوا تھا سفید بادل ہوا میں تیر رہے تھے موسم خوشگوار تھا ہوا میں اگرچہ ابھی تیزی تھی لیکن درخت خوشی سے جھوم رہے تھے ہر طرف پھول کھلے تھے تا حد نگاہ پھیلا ہوا درختوں کا سلسلہ دل میں سکون پیدا کر رہا تھا پرندوں کے جھنڈ اپنی اڑان میں تھے اور آسمان پر ان کی چہکار پھیلی ہوئی تھی۔ چونکہ

Read more

محمد عثمان جامعی کی فکاہیہ تصنیف: چپ رہا نہیں جاتا

پاکستان میں ادیب و شاعر حضرات روزی روٹی کے لئے صحافت کے شعبے میں آتے رہے ہیں خواہ وہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر ہوں یا خدا کی بستی کے خالق شوکت صدیقی۔ اور بھی ایسے بہت سے نام ہیں۔ کاش ہم اپنے شاعروں اور ادیبوں کو فکر معاش سے بے نیاز اور صرف کتابوں کی رائلٹی پر آسودہ حالی فراہم کر سکتے۔ اگر کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں رہتے ہوئے عثمان جامعی نے وہاں کے سیاسی حالات

Read more

میرے استاد محترم کا دکھ اور ان کی نئی نصیحت

ان سے آج بات کرتے ہوئے پہلی بار احساس ہوا کہ امید دم توڑ چکی ہے۔ یہ کس کی امید ہے۔ شاید میری! یا شاید میرے استاد محترم کی۔ مجھے اک بات کا یقین تھا کہ گر اک ہزار، اک لاکھ، اک کروڑ یا اس سے زیادہ لوگ مایوس ہوجائیں، امید کا دامن چھوڑ دیں تب بھی استاد محترم ان میں شامل نہیں ہوں گے۔ پچھلے 22 برس سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ پہیوں والی کرسی اور بیڈ

Read more

ہماری دھرتی کی ملکائیں اور عورت مارچ

حالیہ فیض فیسٹیول میں ایک سیشن ”دھرتی کی ملکائیں“ میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اس میں خاور ممتاز صاحبہ، فوزیہ وقار صاحبہ اور ہما پرائس صاحبہ نے ”ملکی سیاست میں خواتین کا کردار“ کے موضوع پر گفتگو کیں۔ خاور ممتاز صاحبہ، جو کہ مصنفہ بھی ہیں، نے پاکستان میں خواتین کی تحریک کی تاریخ بیان کی۔ فوزیہ وقار صاحبہ، جنہوں نے پنجاب حکومت میں خواتین کے حوالے سے کام کیا ہے، نے موجودہ دور میں حکومتی پالیسیوں اور ان

Read more

عابد میر: ’بھائی سے انجان نمبر کے ذریعے بات ہوئی وہ شمالی علاقہ جات کہیں دوستوں کے پاس ہیں‘

آٹھ مارچ کی شام سے لاپتہ بلوچ صحافی و مصنف عابد میر کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جب تک وہ بخیریت گھر نہیں آجاتے ’ہم پریشان رہیں گے۔‘

Read more

امجد صدیق کی ”سفر کہانی“

امجد صدیق کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جو روزگار کی تلاش میں بیرون ملک در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد پھر اپنی پاک سرزمین میں اپنے ہاتھ میں قلم لے کر رزق حلال کمانے کے لئے سرگرداں ہیں۔ مجھے یاد نہیں ان سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی لیکن ان سے وہ ملاقات یاد ہے جب وہ نیشنل پریس کلب کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے کسی منچلے نے ان کی رکنیت کو چیلنج کیا تھا۔

Read more

زندگی کا فلسفہ

زندگی ایک پزل ہے۔ زندگی ایک سٹیج ہے۔ زندگی ایک قید ہے۔ زندگی ایک خواب ہے۔ زندگی پھول ہے۔ زندگی کانٹا ہے۔ یہ سب سنتے محسوس کرتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ آپ کیا ہیں آپ کیا چاہتے ہیں آپ کے جذبات کیا ہیں؟ یہ شاید ہم کبھی سمجھا نہیں پاتے یا سمجھ ہی نہیں پاتے۔ یونہی ان سے بحث و تکرار میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہم بطور انسان جو خود کو مضبوط سمجھتے ہیں ہم سے زیادہ کمزور شاید

Read more

ہم نے آج ہم سب کی شارٹ سٹوری رائٹنگ کی کی کلاس میں کیا سیکھا؟

ہم نے آج ہم سب کی شارٹ سٹوری رائٹنگ کی کی کلاس میں کیا سیکھا؟ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا آج کی کلاس میں وجاہت مسعود صاحب نے ایک عمدہ لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ ایک لکھاری کا اوزار ہیں جن سے وہ اپنا آرٹ تخلیق کرتا ہے اور اپنے قاری سے جڑتا ہے بالکل اسی طرح جیسے موسیقی کے سر ایک موسیقار کے لیے یا پینٹ اور برش ایک مصور کے لیے اور چھینی مجسمہ نگار کے لیے ہوتی

Read more

دریا پار اترجانے والا منور محمود

     جب میں شعر و ادب کی وادی میں داخل ہوا تو پہلے پہل منور محمود کی ذہانت، مطالعے اور شعر فہمی سے آشنا ہوا۔ ”لندن مکانی“ منیر چغتائی وسیلہ ٹھہرا اور مجھے 95 ٹی ڈی اے، لیہ میں اس شخص کے روبرو کیا، جس نے آئندہ تیس برس مجھے حیرت زدہ کیے رکھا۔ منور میرا ہم عمر تھا۔ اس نے کروڑ لال عیسن سے اور میں نے فتح پور سے ایک ہی سال میٹرک کیا تھا، مگر منور ان

Read more

امرود کی مہک

کوئی 30 / برس پہلے کی پڑھی ہوئی ایک تحریر جس کا عنوان بار بار یاد آتا ہے : امرود کی مہک۔ یہ عنوان مجھ کو کیوں یاد آتا ہے، یہ بات ذرا بعد میں پہلے یہ دیکھیے کہ یہ کیسا عنوان ہے! کچھ عجیب سا تو ہے مگر خاصا دلکش اور مانوس بھی ہے۔ پہلی خاص بات اس عنوان کی یہی سامنے آ گئی ہے کہ اس نے فوراً آپ کی توجہ اپنی طرف مرکوز کروا لی اور آپ

Read more

ورنہ آپ تنہا رہ جائیں گئے!

اگر آپ ایک ایسے انسان ہیں جو ہمیشہ سچ بولنا چاہتا ہے، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا چاہتا ہے، تو اس انسان کی اپنے ہاتھوں سے گچی مروڑ دیں۔ یہ خوش آمدیوں کا زمانہ ہے۔ حلقہ احباب میں اضافہ چاہتے ہیں تو بلا وجہ تعریف کرنا سیکھ لیں۔ کرتوت جیسے بھی ہوں، ہر کوئی اپنی تعریف ہی سننا چاہتا ہے۔ کوئی چور ہے ڈاکو ہے فراڈیا نوسر باز ہے، اس سے بھلا آپ کا کیا لینا دینا؟

Read more

کہانی کی کہانی

ہم بچپن میں اپنے بڑوں سے کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ دیو اور جنات کی کہانیوں سے ہوتے ہوئے بادشاہوں اور ملکاؤں کی کہانیاں، الف لیلہ، سات بہنیں، خاتم کے سات سوالوں اور علی بابا چالیس چور وغیرہ کی کہانیوں کے بارے میں کم از کم سنا ضرور ہے۔ کہانیاں ہماری تہذیب و ثقافت میں پیوست ہوتی ہیں۔ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کے ہر گوشے میں اور انسانی تہذیب

Read more

لبیڈو: ایک تخلیقی صلاحیت

ٹین ایج لائف کو ناسمجھی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ لڑکا یا لڑکی جذبات کی رو میں بہہ رہے ہوتے ہیں اور زندگی کے تلخ حقائق سے نابلد اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ ایسے میں وہ ایک نئی چیز سے متعارف ہوتے ہیں جو ان کے اذہان پر بم پھوڑتی ہے۔ وہ ہے لیبیڈو، یعنی انسان کے تخلیقی اعضا کی وہ عنایت جو قدرت نے ایک اہم مقصد کے لیے پروگرام کی ہے مگر نوجوان اس

Read more

نیم صادق، نیم امین اور ثاقب نثار

دنیا بھر کے زیادہ تر سیاستدانوں سے ان کے عوام شاکی رہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جھوٹ، وعدہ خلافیاں اور بے اعتدالیاں ان سے منسوب رہتی ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کی اور زیادہ بدقسمتی ہے کہ یہاں یہ برائیاں عام ہیں۔ پاکستان اس معاملے میں یقیناً اس فہرست میں کہیں بہت اوپر آتا ہے۔ لیکن اسی ملک نے اپنے آئین کی دفعہ 62 کے تحت پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کا رکن منتخب ہونے کے لئے صادق اور امین کی پخ

Read more

تاریخ اور عورت

 زیر نظر تحریر ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب "تاریخ اور عورت” کا خلاصہ ہے۔ عورتوں کی بیشتر تاریخ مردوں نے لکھی ہے جس میں عورتوں کا کردار اور عمل ہمیشہ سے مردوں کا تابع رہا ہے۔ مردوں کی لکھی ہوئی تاریخ میں عورت یا تو مظلوم ہے یا منحوس۔ قدیم تہذیبوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حجری دور میں مادرانہ نظام رائج تھا۔ عورت زمین جوتتی، اناج پیستی، روٹی پکاتی، لباس سیتی، برتن بناتی، مویشی پالتی، باغ بانی کرتی، لکڑیاں

Read more

مردم شماری میں کھوار زبان کے ساتھ زیادتی

آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کی مادری زبان ہونے کے باوجود کھوار زبان کو اس بار بھی مردم شماری کی زبانوں کی فہرست میں الگ سے شمار نہیں کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سیاسی، ادبی، سماجی، آپس کے اختلافات اور سب بڑھ کر ہماری اپنی نا اہلی۔ کھوار کو الگ سے شامل نہ کرنے اور ’ ”دیگر‘ میں اسے شمار کرنے کے بعد ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے جا رہے اور حکومت اور سیاسی نمائندوں

Read more

رومن اردو!

آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ، سیل فون اور کمپیوٹر نے ہمیں جہاں بہت سے سہولتیں فراہم کی ہیں وہیں ہم لوگوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے میسیجز، سوشل میڈیا اور ای میل میں رومن اردو کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ چونکہ کوئی زبان بھی رسم الخط کی محتاج نہیں ہوتی جس کی بہترین مثال ترکی زبان کی ہے جو بیسویں صدی کے ابتدا میں عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، کمال اتا ترک نے عربی رسم

Read more

کیا برطانوی راج سے قبل ہندوستان کے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ تھے؟

ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ برطانوی راج سے پہلے ہندوستان کے 70 فیصد لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے انگریزوں پر تعلیمی نظام کو برباد کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

Read more

تقسیم اور ”صفر“ کا سفر

ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ میں اداروں اور پارلیمانی روایتوں کی ”تقسیم“ کے بھیانک کھیل کی ابتدا یوں تو جنرل پرویز کیانی کے آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا نے عمران خان کی صورت میں جہادی فکر جنرل حمید گل کے جہادی فلسفے کے تحت کر دی تھی، جس کو بعد میں جنرل ظہیر الاسلام نے اپنی سر کردگی میں پروان چڑھا کر تحریک انصاف کے عمران خان اور ان کے اشرافیائی کزن مولوی طاہر القادری کی مدد کے ذریعے

Read more

بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کا تصوف و عرفانیات کورس

سوچتا ہوں کہ قوموں کا زوال کیسے اور کیوں ہوتا ہے؟ آج کے دور میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت تو نوشتہ دیوار ہوتی ہے، وہاں کے سکول، کالج، یونیورسٹیز اور پڑھانے والوں کی فکری سطح یا نصاب تعلیم ملاحظہ کر لیں چند سیکنڈ میں حقیقت واضح ہو جائے گی کہ وہ ترقی کی طرف مائل ہیں یا رجعت پسندانہ تصورات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ لمحہ موجود میں یہ مسئلہ بہاؤالدین

Read more

مارچ کی آمد اور پاکستانی عورتوں کی ”بے حیائی“

مارچ کے شروع ہوتے ہی ایک جملہ تواتر سے سننے میں جو آ تا ہے وہ یہ ہے کہ عورت کو مقام اور عزت اسلام نے دے دیے ہیں اب کسی حق، حقوق کے لیے ضرورت نہیں۔ لہذا عورتوں کا مارچ پر نکلنا بے حیائی پھیلانے کا بہانہ ہے۔ ایسا بیانیہ بنانے والوں کی اکثریت کی ذاتی زندگیوں میں عورت کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔ اپنی بات میں کچھ وزن پیدا کرنے لئے وہ سوائے

Read more

آئیے! شہرِ بے چراغ کا احوال پڑھ لیجیے

شہر لاہور بچپن سے ہی ہمارا سراب تصور رہا ہے۔ یاد پڑتا ہے کالج کے آغازی دنوں میں ہی لاہور ہمارے لیے ایک اجنبی محبوب کی حیثیت رکھتا تھا۔ جن دنوں قصور سے لاہور کے لئے رخت سفر باندھا تو بے شمار خواب بھی ساتھ ہو لئے جن کی تعبیر تہذیب کے عمیق رنگ کی تلاش تھی۔ بڑے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ لاہور میں بہت بڑے لوگ بستے ہیں۔ تو آخر ہم بھی اپنی بی۔ اے کی تعلیم

Read more

حریم شاہ، جاوید اختر اور ہمارا بیمار معاشرہ

جس معاشرے سے موسیقی، مصوری، شاعری، ادب اور محبت رخصت ہو جائے، تو وہاں صرف سیاسی ٹاک شوز بچتے ہیں۔ برداشت کسے کہتے ہیں، ہم نہیں جانتے۔ جاوید اختر صاحب نے جو بات کہی وہ کیا غلط تھی؟ ہاں، موقعہ اور وقت مناسب نہیں تھا لیکن جو بات کہی گئی وہ سو فیصد درست تھی۔ جاوید اختر ہی کی بات روزانہ کئی سالوں سے حامد میر، سلیم صافی، مظہر عباس اور دیگر بڑے صحافی کرتے رہے ہیں۔ یہ بڑے صحافی

Read more

کتابوں سے عشق سلامت

گزشتہ کچھ عرصے سے یہ بات بہت کہی جا رہی تھی کہ ”یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کا“ ، مگر مجھے خوش فہمی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ خوش فہمی ویسے تو ہمیشہ سے تھی، مگر پچھلے دنوں ایک خبر اور ایک مشاہدہ، اس میں مزید اضافے کا باعث بنے۔ جو خبر نظر سے گزری، وہ یہ تھی کہ تربت میں عطا شاد فیسٹیول میں 35 لاکھ کی کتابیں سیل ہوئیں اور گوادر کتب میلے میں تقریباً

Read more

ظہیر کاشمیری: بگولا رقص میں رہتا ہے

میں نے روزنامہ ’مساوات‘ کے دفتر کا داخلی گیٹ عبور کیا، سیدھا ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے کمرے کے دروازے پر دستک دی اور اندر داخل ہو گیا۔ کہیے! سامنے میز کے پار رنگدار شرٹ پہنے، ہیٹ میز پر رکھے، تیکھے نقوش والے سُرخ و سفید ایڈیٹر صاحب نے زیرِ نظر ورق پر سے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وہ، جی، یہ مضمون تھا۔ مساوات میں چھپنے کے لیے دینا ہے۔ میں نے ادب سے جھجکتے ہوئے کہا

Read more

حریم شاہ، جاوید اختر اور ہمارا بیمار معاشرہ

جس معاشرے سے موسیقی، مصوری، شاعری، ادب اور محبت رخصت ہو جائے، تو وہاں صرف سیاسی ٹاک شوز بچتے ہیں۔ برداشت کسے کہتے ہیں، ہم نہیں جانتے۔ جاوید اختر صاحب نے جو بات کہی وہ کیا غلط تھی؟ ہاں، موقع اور وقت مناسب نہیں تھا لیکن جو بات کہی گئی وہ سو فیصد درست تھی۔ جاوید اختر ہی کی بات روزانہ کئی برسوں سے حامد میر، سلیم صافی، مظہر عباس اور دیگر بڑے صحافی کرتے رہے ہیں۔ یہ بڑے صحافی

Read more

ٹھنڈا گوشت

ٹھنڈا گوشت 128 صفحات پر مشتمل مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے سعادت حسن منٹو نے لکھا ہے۔ منٹو اج کے دن تک اپنی تحریروں کی وجہ سے متنازع رہے ہیں۔ وہ برصغیر میں بے باک تحریر لکھنے والے ادیبوں کے بانیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے خواتین اور لوگوں کی نفسیات پر انتہائی باریکی سے قلمطرازی کی تھی۔ اس پر عریانی پھیلانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ منٹو کو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت

Read more

سعادت حسن منٹو کی کتاب دھواں

سعادت حسن منٹو کا شمار ہیجان خیز اردو ادب کے سرخیلوں میں ہوتا ہے۔ جس نے عورت، معاشرے اور جنس پر کام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب عصمت چغتائی بھی اس میدان میں اپنا قدم جما رہی تھے۔ دونوں کی تحریریں پڑھ کر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ دونوں مصنف سگمنڈ فرائیڈ سے متاثر نظر آتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو ایک حقیقت پسند ادیب تھا جس کو معاشرتی تنزلی کا گہرا علم تھا اور اس سماجی تنزل

Read more

مکتب عشق، محبت، وارفتگی، عشق اور جڑت کی کہانی ہے

سید شبیر احمد کا تعلق میاں محمد بخش کی جنم بھومی کھڑی سے ہی ہے۔ اکنامکس میں گریجویٹ ہیں اور پیشے کے لحاظ سے بینکر رہے لیکن شخصیت اور ذوق کے اعتبار سے وہ محقق، لکھاری، سماج سیوک اور دانشور ہیں۔ گرچہ راقم کی شاہ صاحب سے محض ایک ہی ملاقات ہے، لیکن اس اکلوتی ملاقات میں ہی بندہ ان کی وضع داری، متانت اور پہلو دار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کی علمی و تحقیقی گفتگو سے بہت

Read more

نورِ باطن کی تجلی حرصِ دنیا میں کہاں

"دنیائے فن و ادب میں ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو نہ دلِ سنگ میں رقصِ بتانِ آزری کو دیکھ سکتا ہے اور نہ اصولِ فن سے کماحقہ واقفیت رکھتا ہے”. (علی عباس جلال پوری) دورِ حاضر میں اگر دنیاۓ ادب و فن سے ایک محدود احاطے کا خطہ مراد لیا جاۓ تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ تیسرا گروہ ہی مجملاً فن و ادب کا ترجمان ہے۔ علی عباس جلال پوری نے ان آبِ زر سے قلعی کیے

Read more

یونیورسٹی کا رخ کرنے والے طلبۂ مدارس کے لیے

ہندوستان میں مدارس کے بہت سے فارغ التحصیل افراد یونیورسٹیوں میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم ان کے تعلیمی پس منظر اور یونیورسٹیوں کی ضروریات کے درمیان فرق کی وجہ سے داخلہ لینے کے عمل میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب چوں کہ رمضان کا مہینہ چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا اور ہمارے یہاں زیادہ تر مدارس میں تعلیمی سال کا اختتام ہوجائے گا۔ طلبہ آگے بڑھنا تو چاہتے ہیں لیکن

Read more

قاضی عابد صاحب کی یاد میں

  قاضی صاحب سے میرا پہلا تعارف ایم اے کی کلاس میں ہوا۔ وہ ان دنوں صدر شعبہ تھے اور ہر دم متحرک رہا کرتے تھے۔ انھوں نے ہمیں تیسرے میقات میں جدید اردو شاعری پڑھائی تھی۔ مجھے ابھی تک یاد ہے، ایک دن وہ کلاس میں آئے اور میرے سامنے منیر نیازی کا کوئی شعر پڑھا۔ اور مجھ سے پوچھنے لگے، ملک صاحب! ذرا بتائیں گے یہ کس کا شعر ہے اور اپنے اندر کیا تعلیم رکھتا ہے۔ تعلیم

Read more

اشعر نجمی کا ناول: صفر کی توہین

"صفر کی توہین” اشعر نجمی کا دوسرا ناول ہے جو پاکستان میں فکشن ہاؤس، لاہور سے 2022 میں شائع ہوا۔ اس سے پہلے ان کا ناول ”اس نے کہا تھا“ منظر عام پر آ چکا ہے۔ 160 صفحات اور سات ابواب پر مشتمل اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اشعر نجمی پامال راہوں کے مسافر نہیں۔ کتاب کے فلیپ پہ اشعر صادقین کے قول کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا، میں ڈرائنگ روم کا

Read more

چپ رہا نہیں جاتا

تحریری سفر میں اچھا لکھنے کے لئے اچھا مطالعہ کرنا ایک بہترین ہمسفر اور ساتھی کی مانند ہوتا ہے جو آپ کے تحریری سفر کو خشک اور بے ربط نہیں رہنے دیتا بلکہ آپ کے تخلیقی سفر کو خوشگوار اور آسان بنا دیتا ہے۔ لکھنا آسان نہیں ہوتا، لیکن پڑھنا اس سے بھی مشکل ہوتا ہے، جون ایلیا سے معذرت کے ساتھ جو لوگ مطالعہ جیسا مشکل کام نہیں کر پاتے وہ قدرے آسان (میری نظر میں ) لکھنے کی

Read more

الطاف گوہر حیات اور ادبی خدمات

ممتاز سکالر، دانشور، ادیب اور بیوروکریٹ الطاف گوہر کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کے سیاسی کالموں اور ادبی تحریروں نے ایوانوں اور زندانوں میں اپنی روانی کو جاری رکھا۔ ادب، سیاست اور صحافت میں ان کا کردار ہمیشہ متحرک رہا ہے۔ ان کی شاعری اور تنقیدی کاوشوں میں ان کے ماضی الضمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کو میرا جی اور الطاف گوہر کی بدولت ہی نمایاں اور برحق مقام حاصل ہوا۔ تنقید میں

Read more

حرافہ کے حروف

شکاگو والے ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب نے ایک خاتون صحافی کی کسی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حرافہ کی یہ بات تو درست ہے، قد یصدق الکذوب۔ اس پر سڈنی سے محترم ڈاکٹر انس ندوی زید مجدہ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر یاسر صاحب کے استعمال کردہ لفظ حرافہ کو دیکھ کر سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اس لفظ کے معنی اور وجہ تسمیہ پر روشنی ڈالنے کی زحمت گوارا کر کے شکریہ کا موقع دیں۔ عرض

Read more

ضیاء محی الدین کی رخصت؛ لہجے یتیم ہو گئے!

نہ دید ہے نہ سخن اب نہ حرف ہے نہ پیام کوئی بھی حیلۂ تسکین نہیں اور آس بہت ہے مجھے اپنے سکھانے والوں سے کچھ عجب ہی محبت ہوتی ہے۔ کوئی سکھانے والا کبھی کہیں دور چلا جائے تو دن بہ دن غم بھی گھٹنے کے بجائے طول پکڑ لیا کرتا ہے۔ عظیم لوگ مرتے تو ہیں لیکن موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ ہماری ضیاء صاحب سے پہلی شنوائی تو غالباً میٹرک کے دنوں میں

Read more

انصاف کا دروازہ اور آئین کی دستک!

زبان و بیان کا سلیقہ بھی ایک طرح کی ساحری ہے۔ روزمرہ کے عمومی اور رسمی مکالموں میں بھی یکایک کوئی خاص جملہ براہِ راست دِل کی طرف لپکتا اور دیر تک خوشبو بکھیرتا رہتا ہے۔ صورتِ حال بعض اوقات برعکس بھی ہو جاتی ہے۔ کوئی ناتراشیدہ جملہ تیر کی طرح دِل میں ترازو ہو جاتا ہے اور پھر برسوں لہو رِستا رہتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران ،

Read more

انصاف کا دروازہ اور آئین کی دستک!

زبان و بیان کا سلیقہ بھی ایک طرح کی ساحری ہے۔ روزمرہ کے عمومی اور رَسمی مکالموں میں بھی یکایک کوئی خاص جملہ براہِ راست دِل کی طرف لپکتا اور دیر تک خوشبو بکھیرتا رہتا ہے۔ صورتِ حال بعض اوقات برعکس بھی ہوجاتی ہے۔ کوئی ناتراشیدہ جملہ تیر کی طرح دِل میں ترازو ہو جاتا ہے اور پھر برسوں لہو رِستا رہتا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران میں، چیف جسٹس

Read more

مریم نواز کی نئی یلغار

پاکستان میں سیاسی تحریکیں بہت چلیں۔ ان تحریکوں کے دوران میں گرفتاریاں بھی بہت ہوئیں لیکن جیل بھرنے کی تحریکیں جن کی وجہ سے پورا سیاسی منظرنامہ ہی بدل گیا، دو ہیں، یعنی پی این اے اور ایم آر ڈی کی تحریکیں۔ یہ تحریکیں کیسے چلائی گئیں، انھیں چلانے والے سیاسی حکمت کاروں کے ہاتھ میں وہ کیا ہنر تھا جس کی وجہ سے یہ تحریکیں مہینوں طویل ہو گئیں لیکن اس کے باوجود ان کی وجہ سے پیدا ہونے

Read more

دوستی لٹریچر فیسٹول پشاور

جس معاشرے میں سوال اٹھتے ہیں اور ان سوالوں کے جوابات ملتے ہیں وہ معاشرہ کبھی گھٹن زدہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں فرد انفرادی و اجتماعی سطح پر بہت سے سماجی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے بچ جاتا ہے، اس کے برعکس جہاں سوال جنم لیتے ہیں اور جواب نہیں ملتے وہاں گھٹن بڑھتا ہے، یہی گھٹن ذہنی تعفن کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے انتہا پسندی، عدم برداشت، فرقہ واریت، لسانیت، علاقائی قومیت سمیت دوسرے مسائل سر

Read more

جاوید اختر بال ٹھاکرے نکلا

بھارتی جاوید اختر کی شاعری کو میں بہت پسند کرتا تھا، شاعر، ادیب حساس اور نرم دل رکھنے والے ہوتے ہیں، جاوید اختر نے لاہور میں ہونے والے فیض میلہ میں چند الفاظ ایسے کہے کہ ان کی شخصیت کا بت پارہ پارہ ہو گیا، ایسے الفاظ کی ان سے توقع نہیں تھی، اب تک ان پر پاکستان کے کالم نگاروں اور فنکاروں نے بہت تنقید کی ہے مگر جو کچھ اس نے کہا وہ ناقابل برداشت ہے جاوید اختر

Read more

کانگریس کے پوسٹر سے مولانا آزاد کی تصویر غائب: ’یہ شو بوائے سے نو بوائے تک کا سفر ہے‘

انڈیا کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس پارٹی نے اپنے 85 ویں مکمل اجلاس کے اشتہار سے مسلم رہنما مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر کی عدم موجودگی پر معافی مانگی ہے۔

Read more

کنج قفس،مزاحمت پر ڈٹے رہنے کی تمنا

نواز شریف کی تیسری حکومت کے دوران فواد حسن فواد کا ذکر تقریباًروزانہ ہی سنا کرتا تھا۔ مشتاق منہاس ان دنوں ایک ٹی وی پروگرام کے لئے میرا ساتھی اینکر تھا۔میرا اپنا جی تو عملی صحافت سے اکتا چکا تھا۔ مشتاق کا ”آتش“ مگر ابھی تک جوان تھا۔متجسس رپورٹر کی طرح ہمہ وقت حکومت کے کلیدی فیصلہ سازوں سے رابطے بڑھاتے ہوئے”اندر کی خبر“ ڈھونڈنے کو بے چین رہتا۔ اشرافیہ کے ”تھمب“تصور ہوتے افراد کی جی حضوری اگرچہ اس کی

Read more

جاوید اختر کی شرمساری اور پاک بھارت تعلقات

بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر نے اس بات پر شرمساری کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران لاہور فیض میلہ میں ان کے ایک تبصرے کو بھارت میں ’یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے گویا وہ تیسری جنگ جیت کر آئے ہوں‘ ۔ جاوید اختر کی گفتگو کے حوالے سے پاکستان میں احتجاج اور مذمت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور شاعر و ادیب یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی ادیب

Read more

جاوید اختر شاعر تو وہ اچھا ہے پر۔ ۔ ۔

ان دنوں واہگہ کے دونوں اطراف سوشل میڈیا کے تھیٹروں میں ایک خبر باعث گرمی بزم بنی ہوئی ہے۔ یہ خبر الحمرا لاہور کے ایک ایوان سے اس وقت اٹھی جب اہل دل کے لیے سرمایہ جاں، فیض فیسٹول، میں جانے مانے شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے ایک سوال کے جواب میں کچھ ایسا کہہ دیا کہ سر حد کے اس پار واہ اور ادھر آہ کا غلغلہ بلند ہوا۔ میرے خیال میں اس شور پند ناصح کا

Read more

"سیما پیروز کا افسانوی مجموعہ "طوفان کے بعد”

سیما پیروز فکشن کا ایک اہم اور سنجیدہ نام ہے اور ان کی زیر نظر کتاب ”طوفان کے بعد“ میں پیش کیا گیا ادب کوئی معمولی فن پاروں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ان کا ہر فن پارہ خاصا متاثرکن اور بھرپور افسانوی رنگ ڈھنگ لیے ہوئے نظر آتا ہے اور پڑھنے والوں کو چونکانے کے لیے اس مجموعے میں بہت کچھ ملتا ہے۔ ، اس کتاب میں سیما پیروز کے 14 افسانے ہیں، آئیے ذرا ان پر سرسری سی

Read more

زندگی کی بے معنویت میں زندگی کی معنویت

کیا کائنات اس قدر سادہ سی ہے کہ ہم کندھے اچکا کر کسی بھی کہی، سنی یا پڑھی ہوئی کہانی یا نظریے پر ایمان لے آئیں اور اپنے شعور یا دلائل سے پر دماغ کے ساتھ دھوکہ دہی میں مبتلا ہوجائیں؟ ہماری وہی زندگی جو کبھی نوجوانی میں امیدوں اور خوابوں سے آراستہ ہو کر ایک خوبصورت منزل کی طرف گامزن تھی، جونہی مڈل ایج یا بڑھاپے کی جانب پہنچتی ہے اکثر و بیشتر یہ احساس شدت سے دینے لگتی

Read more

جاوید اختر کی بات اور جنرل پرویز مشرف کی یاد

ممتاز ادیب، شاعر، صحافی، اور ترقی پسند تحریک کے روح رواں جناب فیض احمد فیض صاحب کی یاد میں لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والا تین روزہ فیض فیسٹیول اپنی ادبی و ثقافتی رعنائیوں کے ہمراہ اختتام پذیر ہو گیا۔ فیسٹول کی مختلف نشستوں میں ادب، کلچر، سیاست و صحافت، فنون لطیفہ سمیت مختلف شعبہ جات سے وابستہ شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ فیسٹول کے آخری روز کشور ناہید، افتخار عارف، انور شعور، خورشید رضوی

Read more

مقابلہ گائیکی کلام فیض

دریائے چناب کے کنارے واقع سیالکوٹ کی زرخیز زمین نے ایک سے بڑھ کر لعل و گوہر پیدا کیے۔ اس مٹی نے بہت سارے معروف سیاستدان، قانون دان، صحافیوں، کھلاڑیوں، شعراء و ادباء، گلوکاروں اور مذہبی رہنماؤں کو جنم دیا۔ سب سے بڑھ کر ہمارے خطے کی پہچان، مصور پاکستان، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال جیسی ہستی نے اپنی آنکھیں اسی شہر میں کھولیں۔ آج کے دن یعنی 13۔ فروری 1911 اس سر زمین نے ایک ایسی نابغہ روزگار شخصیت

Read more

دوستوں کے درمیان وجہ دوستی پروفیسر محمد اکرم سعید

کسی عاشق صادق نے نشیب و فراز کی کئی منزلوں سے گزرنے کے بعد غم عاشقی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس کی بدولت ان منزلوں کی مسافت نصیب ہوئی، سچ پوچھیں تو یہ غم عاشقی اور روگ محبت تو بعض جگہوں پر محض زیب داستان کے لیے بھی پیدا کر لیے جاتے ہیں لیکن تیسری دنیا میں ایک اور بھی غم ہے جو مستقل ہے اور شاید مستقل ہی رہے گا اور اس غم کا نام ہے غم

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن اور ریڈیو پاکستان

ہر سال 21 فروری کو پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو دنیا بھر میں بولی جانے والی ہزاروں زبانوں کی ثقافتی علمی ادبی اور تہذیبی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عالمگیریت کے اس زمانے میں مقامی زبانوں کی ترقی و ترویج اور عالمی سطح پر ثقافتی اور لسانی تنوع کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7000 کے قریب زبانیں بولی جاتی

Read more

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

اتوار کے دن ثمینہ نے ڈھیر سارا کھانا پکایا۔ چکن اور گوبھی کا سالن، چنا چاٹ اور پکوڑے۔ اس کے دونوں کالج کے بچے آنے والے تھے۔ فروری کی ایک خنک شام تھی۔ وہ انتظار میں تھی۔ امی ہم بہت تھک گئے ہیں، آپ یہاں ہمارے اپارٹمنٹ آجائیں، اس کی بیٹی نے ٹیکسٹ کیا۔ ثمینہ نے کھانا ڈبوں میں بند کیا، گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھا اور شہر کی مشرقی طرف ڈرائیو کرنا شروع کیا۔ گاڑی میں ریڈیو پر

Read more

جاوید اختر ، گجرات کا قصائی اور کلبھوشن یادیو

پاکستانیوں کی بہت ساری بری عادتوں کے ساتھ ایک اچھی عادت بھی ہے۔ وہ یہ کے وہ مہمانوں کو سر پر بٹھاتے ہیں، عزت سے نوازتے ہیں، اب مہمان چاہے دشمن علاقے کا ہو یا دشمن ملک کا ۔ آج کل ہر روز سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی ویڈیو وائرل ہوجاتی ہے جس میں کوئی گورا وی لاگر پاکستانیوں کی مہمان نوازی پر حیران رہ جاتا ہے اور پھر پاکستانیوں کی مہمان نوازی پر بڑے بڑے کلمات کہتا ہے

Read more

ایک کاوش اپنی ذات کے لیے

آپ میں ہم سب ساری زندگی دوسروں کی خاطر گزار دیتے ہیں، ہمیں روز اول سے سکھایا جاتا ہے کہ فلاں حرکات و سکنات ہی دیگر افراد کے سامنے کرنا مناسب ہیں، آپ میں سے اکثر سے ان کا بچپنا چھین لیا گیا، تقریباً ہر دوسرے شخص کو شرارتیں کرنے پہ مار پڑی، اور اتنی پڑی کہ بالآخر شرارتوں کو خیر آباد کہہ کر سنجیدگی طاری کر لی گئی۔ ستم یہ ہوا کہ بچپن کے بعد لڑکپن بھی جینے نہ

Read more

ہائے۔ جاوید اختر

چند دن پہلے کی ہی بات ہے۔ سردیوں کی حسین راتوں میں ہم بھی ایک خاکوں کی کتاب پڑھنے لیٹ گئے۔ جو سنگ میل سے تحفہ کے طور پہ موصول ہوئی تھی جس کے لئے افضال صاحب کا بے حد شکریہ کتاب کیا تھی سفر نامہ ہند تک پہنچے تو موسم ہی بدل گئے۔ گرمی لگنے لگی۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس بات کی سمجھ آتی ہی تھی مگر اب دل و جان سے آنے لگی۔ جاوید

Read more

آئینہ خانہ میں

جب بھی کوئی خاکوں کی کتاب آتی ہے تو دل اس کی طرف لپک جاتا ہے اور میرے اندر سے آواز آتی ہے کہ کلیم کتاب خریدو اور پڑھو۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اکثر میں کتاب خرید لاتا ہوں اور بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا جب ہم نے سنا اصغر ندیم سید کی کتاب ”پھرتا ہے فلک برسوں” چھپ کر مارکیٹ میں آ چکی ہے۔ میرے نزدیک خاکہ وہ منظر ہے جو

Read more

اردو کو عزت دو!

اردو جو کہ کہنے کو تو ہماری قومی زبان ہے ’مگر حقیقت میں یہ ہر جگہ بے توقیر ہے‘ اردو کوئی غیر اہم زبان ہے نہ ہی نئی زبان ہے۔ اردو کے حوالہ سے سید احتشام حسین ’اردو کی کہانی میں لکھتے ہیں : ”ہم جس آسانی سے اپنی زبان بول لیتے ہیں اس سے بہت کم یہ خیال ہوتا ہے کہ اس زبان کے بننے اور شروع ہونے کتنا وقت لگا ہو گا کیونکہ کوئی زبان اچانک نہیں شروع

Read more

مادری زبانوں کا ادبی میلہ

انسان کا اپنی پیدائش میں دخل ہے، نہ قسمت پر۔ حالات و واقعات اس کی زندگی میں اتار چڑھاؤ لے کر آتے ہیں۔ ماں کے پیٹ میں ہی بچہ ماں کی آواز اور اس کی بولی سے آشنا ہو نے لگتا ہے۔ ماں کے منہ سے پیار کی میٹھی بولی بچے کے جنم لیتے ہی دماغ میں رس گھولنے لگتی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ بچہ کیفیات، ضروریات، خواہشات، خوشی، غم، اور شکایات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ اظہار کی

Read more

مست، سمو اور شاہ محمد مری کی تثلیث

” موسلا دھار بارش نے خیمے کی طنابیں توڑ ڈالیں۔ خیمے کی کڑیاں اور پردے ہوا میں بکھر گئے، چادر تیز ہوا اڑا کر دور لے گئی۔ حسن و جوانی کی ملکہ کی گہری سیاہ ناگ جیسی کنڈل زلفیں، چہرہ کیا تھا ایک چراغ روشن، آنکھیں غزال جیسی سہمی ہوئی سیدھی دل کو چھید گئیں، تؤکلی پہ انجماد طاری ہو گیا، آنکھیں جھپکنے کا اپنا ازلی کام بھول گئیں دل نے برق کی رفتار سے دھڑکنا شروع کر دیا۔ محبت

Read more

کیا آپ بھی ‘نکوسیا’ میں مبتلا ہیں؟

ہمارے ایک معتبر اور شریر صحافی دوست بتایا کرتے تھے کہ ایک زمانے میں لاہور کے ایک روزنامے میں ایک نستعلیق قسم کے بزرگ نیوز ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ صحافت کے شعبے میں ان کا کتنا تجربہ تھا یہ تو معلوم نہ ہوسکا۔ تاہم زندگی کے میدان میں ان سا تجربہ کار آس پاس نہ تھا کہ وہ اس وقت تک تین شادیاں اور ایک عالمی جنگ بھگتا چکے تھے۔ خلیجی جنگ کا آغاز ہوا تو نیوز روم کے ایک کونے

Read more

معدومیت کے خطرے سے دوچار مادری زبانیں اور ان کا تحفظ

زبانیں انسانی ثقافت کا ایک بھرپور اور متنوع پہلو ہیں۔ دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 7000 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ زبانیں مختلف ثقافتوں، عقائد اور روزمرہ طرز زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں، اور ہر ایک کی ایک منفرد تاریخ و ترقی ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں چینی، ہسپانوی، انگریزی، ہندی؍ اردو اور عربی شامل ہیں، جنھیں لاکھوں لوگ اپنی پہلی یا دوسری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے

Read more

شہر میں گاؤں کے پرندے

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں دروازے کو اوقات میں لانے کے لئے میں دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب پانی پہ قدم رکھ کے میں اس پار گیا ہوں اسحاق وردگ کی کتاب ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ شہر میں جب گاؤں کے پرندے آتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنی سادگی، خوبصورتی اور رنگ بھی لے آتے

Read more

چند لمحے عصمت چغتائی کے ساتھ

کچھ لوگوں کی صحبت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی باتوں اور مسکراہٹوں سے کبھی دل نہیں بھرتا۔ ان کی محفل سے اٹھنے کو کبھی دل نہیں کرتا۔ عصمت چغتائی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان سے پہلی ملاقات چند سال پہلے پرانی کتابوں کے ایک سٹال پر ان کے افسانوں کی کتاب ”چوٹیں“ کی صورت میں ہوئی۔ ملاقات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسی مجموعے کی توسط سے میں عصمت سے آشنا ہو گیا۔ ان افسانوں کو پڑھتے

Read more

’کلبھوشن ناروے سے نہیں تھا۔۔۔ بہتر ہوتا جاوید اختر سیاست کے بجائے شاعری، ادب پر بات کرتے‘

یوں تو لاہور میں منعقدہ فیض فیسٹول کو ختم ہوئے کیی روز بیت چکے ہیں مگر سوشل میڈیا پر ابھی تک اسی بارے میں بحث جاری ہے اور انڈیا کے معروف نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر کا ایک کلپ پاکستان و انڈیا دونوں ممالک میں وائرل ہے۔

Read more

عرفان جاوید کے 6 نادر آدمی

”اگر آپ اردو ادب میں بطور قاری جوان رہنا چاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کو عرفان جاوید کا “ عرفان ”حاصل ہو جائے! مجھے یقین ہے کہ آپ کو اردو، ادب اور مطالعہ کا جاوید بھی حاصل ہو جائے گا“ ۔ میں یہ بات بڑے وثوق اور اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں جناب عرفان جاوید سے گزشتہ 5 سالوں سے ذاتی ملاقاتوں، گفتگو اور ان کی پانچ کتابوں، ”دروازے، کافی ہاؤس، سرخاب، عجائب

Read more

عصمت چغتائی کے افسانوں کا مجموعہ: لحاف

ایک ایسے وقت میں جب شہوت انگیز ادب لکھنا نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ مرد ادیبوں کے لیے بھی جرم تھا، جہاں سیکس جیسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے ادیب کتراتے تھے عصمت چغتائی یقیناً داد تحسین کی مستحق ہے جنہوں نے اس وقت کے قدامت پسند معاشرے کے خلاف علم بغاوت کی اور 111 صفحات پر مشتمل آٹھ مختصر کہانیوں والا لحاف لکھا۔ یہ کتاب 1940 کی دہائی میں لکھی گئی جب اردو ادب میں سگمنڈ فرائیڈ کے

Read more

مرقد حضرت رحمان بابا اور پشاور کے دیگر مقامات

پشتو کے مشہور شاعر رحمان بابا پشاور کے ہزار خوانی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں جو ایک اندازے کے مطابق چارسدہ قبرستان کے بعد خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا قبرستان ہے۔ یہ کنشک سٹوپا کے پاس ہی واقع ہے۔ عبدالرحمان جنہیں عقیدت سے پشتون رحمان بابا کے نام سے یاد کرتے ہیں، پشتونوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صوفی شاعر ہیں۔ رحمان بابا 1650 (کچھ جگہ یہ 1632 بھی درج ہے ) کو پشاور کے علاقے بہادر کلے

Read more

ابا جی

چوہدری محمد اقبال عاصی میرے ابا جی تھے۔ دبدبے اور طنطنے والے، خودداری کی دولت سے مالامال، اتنے بے خوف کہ ان کی اس بے خوفی سے ان کی جوان اولاد بھی خوف کھاتی تھی۔ مجال ہے کہ زندگی میں کبھی کسی سے بھی ڈرے ہوں میں نے زندگی میں انہیں کبھی بھی حوصلہ ہارتے نہیں دیکھا بڑی سے بڑی مصیبت اور پریشانی پر بھی عام لوگوں کی طرح رد عمل کا اظہار نہیں کرتے تھے جسمانی طور پر خاصے

Read more

مسئلہ روزگار اور اردو – چند تلخ حقائق

یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ اب اردو کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے لیکن یہ بھی صداقت ہے کہ اس کے باوجود یہ روزگار فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ اس زبان میں لکھنے والے ادباء اور شعراء فقط ”واہ“ پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں کثیر تعداد ان حضرات کی ہے جو برسر روزگار ہیں اور اس زبان میں اپنے ذوق کی تسکین کے لیے شوقیہ لکھتے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی

Read more

کھو ثقافت میں دم توڑتی ہوئی داستان گوئی کی روایت

زبان و ثقافت ایک جاندار چیز ہے جو زمانے کی تبدیلی سے اثر لیتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ آج کی دنیا جدید ایجادات کی وجہ سے ایک عالمگیر گاؤں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اب کسی بھی علاقے میں رونما ہونے والے واقعات، ایجادات، زندگی کی آسائشیں اور معلومات ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس وجہ سے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور جدید ایجادات کا چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کو متاثر

Read more

اجلاسی روحیں

ماؤں کے شہزادوں کو بے حال کرنے کے قانونی ہنر سے مالامال جگہ ہاسٹل کہلاتی ہے۔ ہاسٹل ہر اس جگہ پائے جاتے ہیں، جہاں گھر نہ ہوں۔ سول انجینئرز کی نئی تحقیق کے مطابق ہر وہ جگہ ہاسٹل کہلاتی ہے، جہاں چار پانچ لونڈے ہر وقت موجود ہوں۔ لاہور میں وہ طلبہ کثرت سے پائے جاتے ہیں، جو آوارہ منش ہوتے ہیں۔ ان کی طبیعت پر فاصلے گراں گزرتے ہیں، اس وجہ سے ان کی آوارگی ہوٹل، سینما اور دوستوں

Read more

امی ابو کی بولی یا زبان

آج میں مادری زبانوں کی تاریخ پر بات نہیں کروں گا، آج میں مادری زبانوں کی دستاویزاتی بحث کا سہارا نہیں لوں گا، آج میں کسی جلسے جلوس کا ذکر نہیں کروں گا، آج میں کسی گولیوں کے چلنے کی بات کو نہیں دہراؤں گا، آج میں گزشتہ قربانیوں کا لفاظی خراج تحسین کا حصہ بقدر جثہ نہیں بنوں گا۔ آج میں صرف اور صرف مادری زبان کی تعریف توصیف اور اس کی مہا اہمیت اور قدر و منزلت پر

Read more

کینیڈا کی عورت دوست انجمن مالٹن وومنز کونسل اور ذہنی صحت کا سیمینار

پچھلے مہینے کی ایک سہ پہر مجھے مالٹن وومنز کونسل کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر عظمیٰ عزیز کا فون آیا اور انہوں نے مجھے ذہنی صحت اور مہاجروں کے نفسیاتی مسائل پر FRIDAY FEB 24TH, 2023 کو ایک سیمینار دینے کی دعوت دی جو میں نے بخوشی قبول کر لی۔ اگر آپ کا اس انجمن سے پہلے تعارف نہیں ہے تو عرض ہے کہ مالٹن وومنز کونسل کینیڈا کی ایک ایسی عورت دوست انجمن ہے جو 2009 میں معرض وجود میں آئی۔

Read more

کہانی، ناٹک اور تسلط کا جبر

کہانی بھیتر کا دروازہ ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ کہانی، سچ سے زیادہ حقیقی ہوتی ہے۔ انفرادیت اور موضوعیت کی بحث میں الجھے بغیر مجھے یہ کہنے کوئی دو بدھا نہیں ہے کہ سچ، سیاہ اور سفید کی دہلیز پر تصور کا باڑ قائم کرنے کا نام ہے اور کہانی انسان کے انفرادی احساس کو فسانے اور تجرید میں بدل کر ایک ہمہ گیر اور عالمگیر انسانی تجربہ بناتا ہے۔ یوں زندگی اور معانی کے تال میل کی وسعت،

Read more

پاکستان کی الٹی کہانی

حسب معمول ایک رات سونے کے لیے میں نے اپنا سر تکیے پر رکھا ہی تھا۔ اچانک ایک سوچ نے مجھے اپنی نرغے میں لے لیا کہ آخر میرے اس ملک کی بربادی کا اصل ذمہ دار ہے کون؟ اسی دوران اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مجھے نیند آ گئی۔ خواب میں میری ملاقات موجودہ پی ڈی ایم کے منتخب کردہ وزیر اعظم جناب عزت ماٰب شہباز شریف صاحب سے ہوئی۔ میں نے موقعے کو غنیمت جان کر ذہن

Read more

بوسنیا کی چشم دید کیانی (30)

سٹولک میں زندگی اسی ڈگر پر رواں تھی۔ اس برائے نام آبادی والے قصبے میں زندگی کے آثار یا تو ہفتے کی شام کو کیفے باروں میں ملتے تھے یا پھر اس اتوار کی صبح کو جب گرجا گھر میں شادی کی کوئی رسم ادا ہونا ہوتی تھی اور شرکا اس میں شرکت کے بعد قصبے کے مرکز میں واقع کیفے باروں کا رخ کرتے تھے۔ UNHCR کی طرف سے محلہ اذونووچی میں مسلمانوں کے گھروں کی تعمیر نو کا

Read more

تقسیم در تقسیم: ان ڈراما بازوں سے بچیں

انسانی فطرت ہے کہ جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے اور جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، عموماً وہاں کے بنیادی نظریات و عقائد کو اپناتا ہے، اور ان عقائد و نظریات کے ہر قسم کی دفاع کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہی انسانی فطرت ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان ماحول کا غلام ہے، جس قسم کے ماحول میں رہے گا اسی طرح کی ذہنی و

Read more

مذہب سائنس اور نفسیات (1)

آوارگی ایک خوبصورت تجربہ ہے۔ بلکہ بقول نامور شاعر حسن عباس رضا : آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے اس نعمت کی سعادت سے ناچیز 10 سے اوپر دیس گھوم چکا ہے۔ مگر آوارگی کی طویل مسافتوں کے دوران بھی اپنی تخلیقی ورکشاپ برابر کام کرتی ہے اور تجربات و مشاہدات قلمبند ہوتے رہتے ہیں۔ میرے گزشتہ برس کا زیادہ حصہ شمالی امریکہ میں گزرا۔ اس دفعہ اپنے پرانے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، کچھ نئے دوست بنے، چند نئی

Read more

خدا کا کلچر

ان دنوں ایک عجیب سی فضا نے جنم لے لیا ہے جو ہر طرف ایک جدائی کا عالم لیے انسان کو انسان سے جدا کرنے پر آمادہ ہے۔ گلی گلی اور کوچہ کوچہ اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ جس نے مثبت سوچ اور خیال کو باہر پھینک کر نفرت کا بیج بو دیا ہے۔ اس بیج کی آبیاری آج کی نسل اپنے من گھڑت اور بے ترتیب خیالوں سے کر کے ایک مضبوط درخت بنا چکی ہے۔ اس

Read more

جو میں سچ کہوں تو

عموماً کہا جاتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم غلام ہیں۔ ہم امریکہ کے غلام ہیں، ہم قرض دینے والے اداروں کے غلام ہیں، ہم سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے علاوہ چوہدریوں، خانوں، سرداروں اور وڈیروں کے غلام ہیں۔ ہم پیروں فقیروں، مذہبی پیشواؤں اور علماء کے غلام ہیں۔ ہم اپنی اپنی اناؤں اور نفس کے غلام ہیں۔ ہم غلامی کی مختلف تہوں اور پردوں میں دبے ہوئے لوگ ہیں۔ لیکن ہر چھ مہینے سال بعد کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا

Read more

سید عارف امام۔ اردو زبان و ادب کے عالمی سفیر ( 1 )

امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم عالمی شہرت کے حامل ہر دلعزیز قادرالکلام شاعر سید عارف امام ہمارے برادر محترم سید عارف معین بلے کے ہم نام اور ہم مزاج ہیں۔ درویشانہ طرز زندگی، فقیرانہ مزاج، قادرالکلامی، فراست، فطانت، لیاقت، ذہانت، وسیع العلمی، وسیع القلبی، وسیع مطالعہ، سحر انگیز انداز خطابت عاجزی اور انکساری کا پیکر ہیں۔ کم و بیش ربع صدی بعد اپنے دیس پاکستان ماہ رواں کی چار اور رجب المرجب کی بارہ تاریخ

Read more

الخدمت فاؤنڈیشن بہاول پور۔ خواب سے تعبیر تک

بہاول پور ڈویژن کا ایک وسیع و عریض رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جسے مقامی زبان میں روہی اور چولستان کہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عظیم صوفی بزرگ اور شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؓ کی شاعری کے اس حسین ریگ زار کا کل رقبہ لگ بھگ 4658760 لاکھ ایکڑ پر مشتمل ہے، اس رقبے میں وہ رقبہ شامل نہیں ہے جس میں نہری نظام ہونے کی وجہ سے آباد کر لیا گیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد

Read more

عشق و محبت اور امرد پرستی کی کتھا : اردو ادب اور سائنس کے تناظر میں

عشق و محبت ایک پر کشش اور کثیر الجہت موضوع ہے۔ یہ عالمگیر جذبہ ہے۔ ادبیات عالم کی بنیاد ہی عشق و محبت پر مبنی ہے۔ انسان چوں کہ جذبات کا مجموعہ ہے اس لیے ادب متنوع رنگ میں ان جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں بھی ہمیں موضوع کے اعتبار سے عشقیہ و متصوفانہ جیسے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔ اردو شاعری میں عشق کرنے کی تلقین ہے چاہے مجازی ہو یا

Read more

امجد اسلام امجد: سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے

امجد اسلام امجد کی پوری زندگی اردو ادب کی خدمت میں گزری۔ اس نے جو کچھ لکھا وہ سماجی حقائق ہیں ان کا ادب اور ان کی شاعری بڑے ہی فکری بصیرت اور گیرائی لئے ہوئے ہے۔ امجد اسلام امجد ان شعراء اور ادیبوں میں سے ہیں جنہیں عوام اور خواص میں ہی نہیں بلکہ وقت کے معتبر اور مستند شعراء اور ادیبوں میں بھی سند کا درجہ حاصل تھا بقول احمد ندیم قاسمی: امجد ان چند شعرا میں سے

Read more

مادری زبانوں کے عالمی یوم سے بے اعتنائی

گزشتہ چند سالوں کی طرح سال رواں میں بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی یوم منایا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہو کہ یہ ہماری کم علمی ہو یا کوتاہی تاہم ہمارا خیال ہے کہ متعدد بہ پاکستانی نہ صرف مادری زبانوں کے عالمی دن سے ناواقف ہیں بلکہ جو اس دن سے شناسا ہیں ان کی بھی اکثریت شاید اس دن کے پس منظر سے نابلد ہے۔ یا یہ کہ ان کو

Read more

چھپائی گئی تاریخ میں مستنصر حسین تارڑ کی نقب ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ ۔ ناول۔ مستنصر حسین تارڑ

ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی سلطنت سپت سندھو جو کہ آج کا پنجاب ہے، صدیوں سے اس الزام کا سامنا کر رہا ہے کہ پنجاب نے ہر حملہ آور کو خوش آمدید کہا ہے اور کبھی مزاحمت نہیں کی۔ یہ درست نہیں۔ تاریخ ہم سے چھپائی گئی ہے۔ پنجاب کی تاریخ اور پاکستان کی پیدائش کے بعد سے ہی پنجاب کی اصل تاریخ پر دبیز پردے ڈال دیے گئے۔ مزاحمت انسانی فطرت کا وصف ہے۔ زندہ رہنے کی خواہش بذات خود ایک مزاحمتی عمل ہے۔ پنجاب میں مزاحمت کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی سپت سندھو کی تاریخ۔ انگریزوں کے قبضے سے لے کر آج پنجاب میں پنجابی زبان کا عدم نفاذ۔ تاریخ کا جاری جبر ہے۔

Read more