کشمیر۔ عہد بہ عہد!

کشمیر کو بھارت جبراً فتح کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔ کشمیر ’کب کی بات ہے۔ اور اس میں مسلم حکمرانی کا آغاز کب سے ہوا؟ اس حوالہ سے مصنف جی ایم میر‘ اور معاون مصنف اشفاق ہاشمی نے اپنی تصنیف کشور کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں بہترین عکاسی کی ہے۔ وہ کشمیر کے بارے میں یوں راقم طراز ہیں : ”جنت ارضی جموں کشمیر کا خطہ گزشتہ چار صدیوں سے ( 417 سال سے ) غلامی کی اتھاہ

Read more

ایوان سلمی اعوان میں دو دن

سلمی اعوان میری فیس بک فرینڈ ہیں۔ ان کی علمیت اور ادبی قد و قامت سے کون واقف نہیں۔ اگر ان کو اردو سفر ناموں کی بے تاج ملکہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ وہ سیاحت کے ازلی عشق میں مبتلا ہیں۔ کہسار، دریا، سمندر اور اور دنیا کے ہر خطہ سے کشید تاریخ پہ مبنی کبھی سفر نامے تو کبھی تاریخی فکشن کو اس ماہرانہ انداز میں قلمبند کرتی ہیں کہ آپ حیران ہوجائیں۔ ان کے بلا کے مطالعہ اور مشاہدہ کی صلاحیت سے کون کافر ہے جو منکر ہو۔

وہ لوگ جو سلمی اعوان سے ذاتی طور پہ واقف ہیں انہیں اس کا بھی بخوبی اندازہ ہو گا کہ وہ لکھاری ہی نہیں پیدائشی ماں اور ایک صوفی منش انسان بھی ہیں جن کی پٹاری سے دوسروں کے لیے سوائے دعاؤں اور محبت کے کچھ نہیں۔ ظاہر ہے ایسے خالص انسان سے ازلی رشتہ جڑنا تو ہماری ضرورت ہی نہیں اعزاز بھی ہے۔

Read more

شاعر، فکشن نگار، مترجم اور صحافی سید کاشف رضا سے ایک مکالمہ

وہ شہر کراچی کا ایک کردار ہے۔ میں اسے سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی وہ کسی سرد نیوز روم میں سر جھکائے خبریں بنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشاعرے میں شعر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں نے اسے جنبش قلم سے ناول تخلیق کرتے ہوئے دیکھا، اور کی بورڈ کی ”ٹک ٹک“ میں کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے۔ مگر سب سے پر وقت وہ منظر ہے، جس میں وہ مطالعہ کر رہا ہے، برادرز کراموزوف کا مطالعہ۔

Read more

(2) طارق عزیز، ایک کثیر الجہت شخصیت

ایک روز احمد ندیم قاسمی صاحب ریڈیو پاکستان سے اپنا ہفتہ وار کالم پڑھ کر فارغ ہوئے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق سیدھے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اقامت گاہ (جی۔ او۔ آر۔ تھری) پہنچے ان کے ہمراہ خالد احمد بھائی اور نجیب احمد صاحب بھی تھے اور کچھ ہی دیر بعد طارق عزیز صاحب اور عارفانہ کلام پڑھنے میں بے مثل مقبولیت پانے والے اقبال باہو بھی پہنچے۔ اختر حسین جعفری صاحب کو پک

Read more

جماعت اسلامی ہند کے 75 سال

گزشتہ دنوں جماعت اسلامی ہند کے 75 سال پورے ہونے کا غلغلہ رہا، اس پر جماعت کے ہفتہ وار انگریزی جریدے ریڈینس نے اپریل 2023 کا ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کیا ہے جس کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم کو یہاں تک پہنچانے کے لئے اس کے بانیان اور قائدین کو کس قدر قربانیاں دینی پڑی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد اس ملت پر جو قیامت گزری اس ماحول میں کام کرنا آسان نہیں تھا۔ سچ

Read more

یاسر جواد کی کتاب کہانی: ایک منفرد آپ بیتی

دوسرے لوگوں کے بارے میں جاننا مجھے بچپن سے ہی اچھا لگتا تھا۔ گھر آنے والے اکثر افراد سے ملنے پر میں ان کی زندگی کے بارے جاننے کے لیے سوال جواب کرتا رہتا تھا۔ میری اس عادت نے بچپن میں ہی مجھے کتابوں سے روشناس کرا دیا۔ کسی بھی فرد کی سوانح عمری یا خود نوشت پڑھ کر آپ کو اس کی شخصیت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اس لیے میری کتابوں سے دوستی کی ایک

Read more

پروین شاکر: سندھو دریا کی محبت میں ایک نظم

پروین شاکر کی شاعری میں موجود درد مندی اور کھرا پن ان کو ایک رجحان ساز شاعرہ بناتے ہیں حالانکہ ان کی شاعری ایسی نہیں جسے چوراہوں پر پڑھا جائے یا جلسوں کی زینت بنایا جائے اور جسے سننے کے بعد اہل جلسہ اور مجمع میں جوش و خروش پیدا کیا جائے تاہم اس کے باوجود ان کی شاعری ایک طلسم ہے۔ جسے آپ جب پہلی بار پڑھتے ہیں تو تاعمر اس کے حصار سے باہر نہیں آ سکتے۔ ہم

Read more

نامور صحافی انجم ہیرلڈ گل کا زندگی نامہ

زندگی میں دو صحافیوں کی موت نے کئی دن تک افسردہ کیا۔ ویسے تو ہر انسان کی موت افسردہ کرتی ہے، لیکن ایسے شخص کی موت سے آپ کو کیا دکھ جس سے آپ کبھی ملے نہ ہوں، کوئی رشتہ، تعلق اور رابطہ نہ ہو ان کی موت دلی طور پر افسردہ کرے تو وہ انسان واقعی ہی کوئی خاص ہوتا ہے۔ صحافیوں سے ویسے بھی ایک الگ رومانس ہے، گزشتہ سال ارشد شریف کے قتل کی خبر نے جہاں

Read more

تنویر ملک اور ان کی پہلی تصنیف: شہر آشوب تلہ گنگ

ایک عوامی تاریخ دل سے لکھے بھارے اکھر، صرف سنے تھے پڑھنے کا اتفاق تب ہوا جب شہر آشوب تلہ گنگ ورق ورق، فرد فرد، واٹس ایپ گروپ پہ پڑھی گئی۔ یہ اصلی نسلی قلمی جہادی گروپ شاھد سلیم مرحوم کی علمی و ادبی وراثت رہی۔ اب تنویر ملک صاحب کی قلم رو میں ہے حلقۂ ارادت جامعہ قائد اعظم کے قدیمی ہونہاران اور پاسبانان عقل و دانش پہ محیط وہ گروہ روایت و فن ہے جو وسیع تر ایشیا،

Read more

ہم بابا عبدالقادر بخش مری المعروف ”صحابہ کے حلیے والے“ کے عہد میں جی رہے ہیں

ہم اکیسویں صدی میں ایک ایسے معاشرے کے باسی ہیں جہاں ”اسٹوری ٹیلنگ“ کا چلن ہے اور نسیم حجازی ذہنیت کا راج ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی اپنی بضاعت کے مطابق اسی ذہنیت کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس ملک میں اسی ”نسیم حجازی ماڈل“ کے قصہ خوانوں یا روحانی بابوں کی کثرت رہی ہے اور اتفاق سے ان بابوں کو قصہ خوانی کے لیے ایسے لوگوں کی خدمات بھی میسر رہتی ہیں جو ان کو شہرت کی

Read more

روسی ادب کیوں اور کیسے پڑھا جائے؟

روس کا زیاد حصہ ایشاء میں ہونے کے باوجود ایک وسیع حصہ یورپ میں ہے لیکن تاریخی طور پر روس یورپ سے یکسر جدا ہے۔ نہ روس یورپ میں وقوع پذیر ہونے والے نشاۃ ثانیہ، جمہوریت، انسان دوستی، برابری کی تحریکوں سے متاثر ہوا نہ یورپی ادب سے۔ بلکہ یورپ اور روس کے ادب میں فرق بعد المشرقین ہے۔

روسی ادیبوں کا معاشرتی مطالعہ گہرا ہونے کے سبب وہ انسانی نفسیات کو گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ تجربات کو اس کی اصلی شکل میں سپرد قرطاس کرنا روسی ادیبوں کا خاصا ہے اور روسی ادب زندگی کے زیادہ نزدیک ہے۔ خاص طور پر ہمارے علاقے کے لوگوں کے مسائل تو آج بھی ویسے ہی ہیں جو انیسویں صدی کے روس کے تھے۔ اسی لئے ایک یورپی سے زیادہ وہ ہمارے مزاج کے قریب ہیں۔

Read more

شہاب نامہ عصری تاریخ کا بھرپور بیانیہ ہے

سرخیاں : ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ادب دشمن ہے، پاکستان کو ایک حجاج بن یوسف درکار ہے شکم پرور معاشرے میں کتاب لکھنا شہر نابینا میں آئینوں کی فروخت کا سودا ہے اردو ادیب اپنے پیشگی ایصال ثواب کے لیے کتاب مفت کورئیر سے ترسیل کرتا ہے باکمال فکشن نگار، سابق بیوروکریٹ، اقبال دیوان سے خصوصی مکالمہ وسیع مطالعہ، نگر نگر کا سفر، اور کہانی کہنے کی للک۔ فکشن نگاری کی سمت آنا لگ بھگ طے تھا۔ ایک جانب جہاں

Read more

کلاس سٹینڈ ہینڈز اپ

ایک سو لڑکوں کی ایک کلاس بغیر استاد کے فارغ بیٹھی ہوئی ہے اور بیکار بیٹھے بیٹھے ہم جماعت آپس میں گپیں لگا رہے ہیں، کچھ اونچی آواز میں اور کچھ دھیمے سروں میں۔ لیکن جب ایک سو لوگ آپس میں باتیں کریں تو چاہے وہ بات چیت نیچی آواز میں ہی کیوں نہ ہو اسے کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھنا نا ممکن۔ ایسے میں ایک صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور با آواز بلند حکم جاری

Read more

یوم مئی، شکاگو کے شہداء اور پاکستانی انقلابی

یوں تو یوم مئی دنیا بھر کی طرح پاکستان اور برطانیہ میں بھی منایا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ یوم مئی پر بالکل مختلف تقریب منعقد کی گئی۔ عوامی ورکرز پارٹی (پاکستان) برطانیہ کی جانب سے 29 اپریل کو منعقد کی گئی اس ورچوئل تقریب میں شکاگو کے شہدا کو خراج عقیدت بھی تھا، حال ہی میں انتقال کر جانے والے تین پاکستانی انقلابیوں کو خراج عقیدت بھی۔ یوم مئی کی مناسبت سے پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات، ٹریڈ

Read more

شہری کا لہو اور لیڈر کا پسینہ

ڈینیئل شیکٹر ہارورڈ یونیوسٹی میں نفسیات کے استاد ہیں۔ 1952 میں پیدا ہونے والے پروفیسر شیکٹر کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ افرادی اور اجتماعی یاد داشت متعدد عوامل کے زیر اثر اصل واقعات کو از سرِنو مرتب کر لیتی ہے۔ فرد لاشعوری طور پر اپنی عزتِ نفس کی نفی اور احترام ذات کی جسمانی شکست کے بہت سے پہلو فراموشی کے تاریک حجرے میں بند کر کے انہیں کسی قدر قابلِ قبول بیان میں ڈھال لیتا ہے۔

Read more

عزت، غیرت اور عورت

  عزت کیا ہے؟ کسی شخص کی قدر اس کی اپنی نظروں میں؟ یا وہ ضوابط جو روایتی معیار کردار تشکیل کرتے ہیں؟ لیکن عزت ایک اور چیز بھی ہے۔ یعنی عورت کا جنسی کردار۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، یہاں عورت کو اپنی جنس پر کوئی اختیار نہیں۔ اس کی ذاتی زندگی اور مستقبل کے بارے میں فیصلے اس کے مرد رشتے دار ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے، یہ اس

Read more

سراج الحق کا 17 واں حملہ!

ستم تو یہ ہے کہ ”جانم“ سخن شناس نہیں سو کہیں تو کس سے کہیں؟ جناب سراج الحق کو اس وقت بھی دیکھا جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ تھے، اور آج بھی دیکھ رہے ہیں جب وہ امیر جماعت اسلامی ہیں۔ تب ہم ”رفیق“ تھے، بدقسمتی سے اب رفیق نہ شفیق۔ سادگی میں اس وقت بھی کمال تھے اور آج بھی باکمال، اس وقت جمعیت کے جمال سے مالا مال تھے اور آج جماعت کے جمال سے۔

Read more

بشیرے کی گھر والی۔ پروین شاکر کی ایک نثری نظم

بشیرے کی گھر والی۔ پروین کی ایک نثری نظم! پروین شاکر کی زندگی میں طبع ہونے والا آخری مجموعہ انکار تھا بعد ازاں انہوں نے ماہ تمام کے نام سے کلیات طبع کیں۔ انکار ان کا واحد مجموعہ ہے کہ جس میں انہوں نے نثری نظموں کا علیحدہ باب شائع کیا۔ ان کی مرحومہ بہن نسرین شاکر کے مطابق ایک ہندو نجومی جوتشی چوہان نے آ نہیں بتایا تھا کہ وہ صرف چار کتابیں ہی لکھ پائیں گی۔ تاہم پروین

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: انسانوں کا مشیر، انسانیت کا سفیر

ایک ماہر نفسیات اور انسان دوست شخص کی کہانی جس نے اپنی زندگی انسانوں کی نفسیاتی و سماجی بھلائی کے لئے وقف کردی۔ اندازہ ہی نہیں ہوا کب ڈاکٹر خالد سہیل سے رابطہ ہوا، تعلق بنا اور ایک رشتہ قائم ہو گیا۔ ان سے ایک ایسا ادبی، علمی اور تخلیقی رشتہ مضبوط ہوا کہ یہ یقین مزید پختہ ہو گیا کہ زندگی میں خون کے رشتے نہیں بلکہ خلوص پر مبنی رشتے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جس میں رنگ، نسل،

Read more

مردم شماری کیوں؟ زن شماری کیوں نہیں؟

شمار، گنتی، تعداد، جمع، تفریق، ضرب تقسیم یہ سب ہم بچپن میں سکول میں سیکھ لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ کبھی الٹی گنتی تو کبھی سیدھی گنتی، کبھی پہاڑے تو کبھی نظمیہ یا نغماتی حساب کتاب۔ یہ سب چلتا ہے اور چلتا آ رہا ہے۔ لیکن یہ تھوڑا سا سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ شمار یا یہ گنتی یا یہ جمع و تفریق یا یہ ضرب و تقسیم میں صنفی امتیاز کہاں سے ٹپک پڑا۔ کسی بہی

Read more

مہر حسین: اپنی کتاب کا مواد لیک ہونے سے پبلشر بننے تک کا سفر

مہر حسین کو انٹرنیشنل پبلشر ایسوسی ایشن (آئی پی اے) نے اظہار رائے کی آزادی اور متنازع سمجھے جانے موضوعات پر کتابیں چھاپنے اور لکھنے پر ’آئی پی اے پرکس والٹیئر ایوارڈ 2023‘ کے لیے شارٹ لسٹ کیا ہے۔

Read more

اختلاف رائے

بحیثیت رائٹر میری تحاریر پر تعریف بھی ہوتی ہے اور تنقید بھی اتفاق رائے بھی ہوتا ہے اور اختلاف رائے بھی۔ سچ کہوں تو مجھے تنقیدی اور اختلاف رائے والے کمنٹس زیادہ پسند ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے مجھے اپنی تحریر میں اصلاح کا موقع ملتا ہے خامیاں دور کرنے اور تحریر بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن جب تنقید برائے تنقید اور خوامخواہ اختلاف رائے والا معاملہ ہو تو کچھ عجیب لگتا

Read more

کراچی کے ذہین وکلاء اور سید باراک اوباما

ستائیس اپریل 2023 کو کراچی میں سپریم کورٹ کے ایک احمدی وکیل علی احمد طارق صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری زیر دفعہ 298 Bدرج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ جبکہ اسی تھانہ سٹی کورٹ کراچی میں 21 نومبر 2022 کو علی احمد طارق صاحب کے خلاف اسی نوعیت کے الزام کے تحت زیر دفعہ 298 B/C کے تحت ایف آئی آر درج کی جا چکی تھی۔ حالیہ ایف آئی آر میں

Read more

مرزا غالب کی جمالیات

  غالبؔ اسلامی برصغیر کے اس پر آشوب عہد میں تھے جب ٹیلی گراف، انفیلڈ اور دخانی جہازوں نے طاقت کا پانسہ یکسر مغرب میں پلٹ دیا تھا۔ مغلوں کی حکومت تو 1803ء میں اسی سمے دم توڑ چکی تھی جب جنرل لیک کی فوجیں دہلی میں داخل ہوئیں۔ اس وقت لال قلعے کے مکین مادھولال سندھیا کے زیر نگیں تھے۔ ویسے بھی آئندہ چند برسوں میں مغل بادشاہ کو صرف دو لاکھ سالانہ کا وظیفہ خوار بن کر رہنا

Read more

سنہ 1973 کا آئین ایک جج نے دھوتی باندھ کر لکھا تھا

سنہ 1973 ء کے آئین کو بنے رواں ماہ پچاس برس ہو گئے ہیں۔ 10 اپریل کو قومی اسمبلی میں 1973 ء کے آئین کی گولڈن جوبلی بڑی دھوم دھام سے منائی گئی۔ 1973 ء کی اسمبلی کے زیادہ تر اراکین اب اس دینا میں نہیں ہیں۔ تاہم اس اسمبلی کے حیات ممبران میں سے ایک رکن سید قائم علی شاہ کو اسمبلی ہال میں بیٹھے دیکھ کر اچھا لگا۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ظاہری، قانونی اور

Read more

’میں بارود کے ذریعے اپنی کہانی بتاتا ہوں‘ پارہ چنار کے مصور کے غیر روایتی فن پارے

میثم کا کام دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ کوئی پینٹنگ نہیں بلکہ اصل میں کوئی دیوار ہے جسے دھماکے یا فائرنگ سے نقصان پہنچا۔ ان کو لگتا ہے یہ دیوار جنگ زدہ علاقوں سے کوئی بڑی صفائی سے کاٹ کر نمائش کے لیے یہاں لایا ہے۔

Read more

دکھیارے

اس ناول میں آپ بیتی کا عنصر موجود ہے۔ راوی کے بیانیے میں دو چیزیں قاری کو جا بجا نظر آتی ہیں۔ ایک تو راوی کی ہر تحریر میں ان کی آپ بیتی موجود ہوتی ہے، دوسری چیز لکھنوی تہذیب و معاشرت کی عکاسی ہے۔ اس کہانی کا آغاز ہی راوی نے ماں اور بڑے بھیا کی موت سے کیا ہے۔ راوی یہاں پر اپنے حالات زندگی قاری کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ وہ اس قدر اکیلے ہو چکے ہیں

Read more

انسانی نفسیات کے راز اور اسلوبیاتی مطالعہ

کراچی آرٹس کونسل میں ہم تنویر انجم، سید افضال احمد، نورالہدی شاہ اور فاطمہ حسن کے ارد گرد جوش ملیح آبادی لائبریری میں ہر جمعے کو رائٹر اینڈ ریڈر کیفے کی چھتری تلے کسی نہ کسی موضوع کو زیر بحث لانے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ روزوں میں بھی کوئی ناغہ نہیں ہوا اور برابر پروگرام ہوتے رہے۔ رمضان کے دوسرے جمعے کو سندھی ادب کے افسانوی ادب پر تنقیدی نشست تھی۔

Read more

’بعض اوقات انکاؤنٹر لازمی ہو جاتے ہیں۔۔۔‘: سسٹم کی وہ خامیاں جو پاکستان میں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں کی وجہ بنتی ہیں

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب میں گذشتہ پانچ سال کے دوران ایک خاتون سمیت 612 ملزمان مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کے ورثا اپنے پیاروں کے کسی بھی جرم میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ مگر وہ سسٹم کی کیا خامیاں ہیں جو پاکستان میں جعلی پولیس انکاؤنٹرز کی وجہ بنتی ہیں؟

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر: نئے نقاد کے نام خطوط

ہمارے ہاں پیروی، اندھی تقلید کے سائے ہمیشہ منڈلاتے رہے ہیں ایسے میں کوئی کتاب جو آپ کو سوچنے اور سوال کرنے کی تحریک دے تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے اور اس پر مزید حیرت کی بات یہ ہو کہ کتاب اردو زبان میں ہو اور اردو کے ادیبوں، قاریوں اور نقادوں کے لئے مشعل راہ ہو بظاہر کتاب کا مکالمہ نقاد کے ساتھ ہے اس لیے اس کا نام نئے نقاد کے نام خطوط رکھا گیا ہے لیکن

Read more

گزرے تھے ہم جہاں سے: صائمہ ملک کی کتاب آگ کا دریا ہے

میرا شمار لکھنے والوں میں تو نہیں ہے لیکن پڑھنے والوں میں ضرور ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل میں نے صائمہ ملک صاحبہ کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کا مطالعہ کیا۔ جیسے جیسے میں وہ کتاب پڑھتا گیا ویسے ویسے ہی میرے ذہن میں صرف ایک سوال ابھرتا گیا کہ کیا یہ سوہنی کے دیس کی ایک خاتون کی لکھی کتاب ہے؟ وہ سوہنی کہ جسے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ وہ

Read more

منٹو اور کشمیر کی فطری خوبصورتی!

بھارت کے زیر سایہ وادی کشمیر میں ظلم و تشدد کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ کشمیر کی کہانی آج کی بات نہیں۔ اردو کہانی کو نئی جہت دینے والے ’اردو ادب میں افسانہ کے بے تاج بادشاہ‘ سعادت حسین منٹو جو 11 مئی 1912 ء کو کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے ’نے کشمیر کا نقشہ یوں بیان کیا ہے :منٹو نے ایسے وقت میں جب کشمیر کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا بھارت کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ منٹو نے‘

Read more

جہاں آباد کا شاعر اور بنگال کی دیپتی

تاریخ، سیاست اور ادب کے تعلق کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان اور طاقت کے ساتھ اس کی جڑت کی داستان۔ مذاہب کی تاریخ دیکھ لیں، قانون اور اصولوں کے بننے کی وجوہات ڈھونڈ لیں یا ایوانوں کی راہداریوں میں پہنچنے والوں کی داستان سن لیں، سب کہانیاں طاقت کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں لپٹی نظر آئیں گی۔ انسان نے سب سے زیادہ نقصان بھی اپنی ہی نسل کو پہنچایا ہے اور اسی

Read more

اسلامی نشاۃ الثانیہ: مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

ہمارے معاصر صحافی اور مصنف خواجہ حبیب صاحب نے اسلامی نشانہ ثانیہ کے اہم موضوع پر ایک ناول لکھا ہے جس کے لئے انہوں نے خاکسار کو اس پر تبصرہ لکھنے اور اس کا عنوان تجویز کرنے کا حکم دیا ہے۔ ناول کا مطالعہ بوجوہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بہرطور حیران و ششدر ہوں کہ بحیثیت قوم نشاۃ ثانیہ کو ہم مسلمان عقیدے سے کیوں جوڑتے ہیں؟ جہاں علامہ اقبال جیسی عظیم ہستی نے ”مذہبی نظریے کی از

Read more

ادب، کامیابی اور بیگمات

پچھلے دنوں کچھ معروف ادیبوں اور شاعروں کے سوانح حیات پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان خود نوشتوں سے جہاں ان عظیم ہستیوں کے شب و روز اور خوبیوں خامیوں سے کسی قدر آگاہی ہوئی وہیں ان حضرات کے بیچ ایک قدر مشترک بھی نظر آئی اور وہ یہ کہ ان میں سے اکثر و بیشتر کے اپنی بیگمات کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے۔ ان ادبی مشاہیر کی اپنی بیگمات کے ساتھ اکثر و بیشتر ان بن رہی اور ان

Read more

پابلو نرودا اور گائے زدہ شاعر اور ادیب

پابلو نرودا بذات خود نہ تو کسی تعریف اور نہ کسی تعارف کے محتاج ہیں۔ وہ چلی کے مانے، جانے اور پہچانے انقلابی شاعر، اپنے وقت کے ایک افسر شاہی اور ایک سیاح لکھاری کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زیست کے تمام پہلوؤں پر بچپن سے لے کر آخر عمر تک ایک آپ بیتی سپرد قلم کی ہے جس میں وہ بغیر کسی سنسر کے بولتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کس جگہ کس شاعر

Read more

کتاب کا عالمی دن اور ہمارا معاشرہ

امریکہ کے مشہور ناول نگار ارنیسٹ ہیمنگ وے نے کہا ”کتاب جیسا کوئی وفادار دوست نہیں“ یہ ایک حقیقت ہے جتنے بھی ادبی دنیا کے نامور شخصیات ہیں انہوں نے اتنا مقام کتاب پڑھنے کی وجہ سے حاصل کیا۔ اسی طرح کتابوں کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ نے 23 اپریل 1995 کو ”کتاب کا دن“ منانے کا اعلان کیا 23 اپریل کا دن اسی لیے منتخب کیا گیا کیونکہ اس دن کو دنیا کے عالمی ادب کے نامور

Read more

میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ 8۔ ایچ اقبال کا عروج و زوال

ڈائجسٹوں نے عام آدمی کے لیے ادبی دلچسپی کا نیا ساماں فراہم کیا۔ وقت گزاری سے قطع نظر ان رسالوں نے عوام کے ادبی ذوق کی تربیت کا ساماں فراہم کیا اور کسی حد تک انہیں اچھی کہانی کا تصور دیا۔ کسی کہانی کی ناکامی از خود استرداد کی سند ہوتی تھی۔ پھر انہی کہانیوں میں عالمی ادب کا انتخاب اردو میں شایع ہوا اور لوگوں نے اردو ادب کے انتخاب سے او ہنری سے البرتو موراویا اور موپاساں تک

Read more

انسانیت:روبندر ناتھ ٹیگور سے جسٹس جواد ایس خواجہ تک کا سفر

زندگی اپنے انجام تک وقت کے دائرے میں خوشی اور غم سے نبرد آزما رہتی ہے۔ شاید اس دائرے میں خوشی کا پھیلاؤ کم اور غم کا زیادہ ہوتا ہے۔ وقت کی آنکھوں میں نہ تو نیند کی لالی چھاتی ہے نہ ہی موت کے خوف سے زرد رنگ۔ اس کا ان دیکھا وجود رہتا ہے۔ وقت کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس پر گامزن ہو کر منزل کا ادراک شاید ممکن نہیں۔ مادی دنیا میں انسانی زندگی کا

Read more

بڑے اخبار جلدی ختم نہیں ہوں گے، مغرب میں بھی یہ نوبت نہیں آئی: اسلم ملک

سرخیاں : سوچنے سمجھنے والا کوئی شخص غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتا سینسر شپ کے حوالے سے ضیا الحق کا دور بدترین تھا عمران دور میں سینسر شپ محض سوشل میڈیا پروپیگنڈا تھا، سب سے زیادہ تو اسی حکومت کے خلاف چھپتا رہا وبا کے بعد لاہور دوسرے شہروں جیسا ہی لگنے لگا ہے سینئر صحافی، قلم کار اور معروف علم دوست شخصیت، اسلم ملک سے ایک مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید صحافتی سفر پانچ عشروں پر محیط،

Read more

کتابوں کا عالمی دن

کبھی کتابیں ڈرائنگ رومز کی زینت ہوا کرتی تھیں جو گھر والوں کے ذوق اور شخصیت کی آئینہ دار ہوتی تھیں۔ شاعری کی کتابیں اور کلاسک ناولز کے مجموعے اعلی ادبی ذوق کی نشانی اور اسلامی کتب ایک دیندار گھرانے کو ظاہر کرتی تھیں۔ اسی طرح انگریزی ناول، ڈائجسٹ اور میگزینز پڑھے لکھے لوگوں کے ڈرائنگ رومز کے ایک کونے میں سلیقے سے سجے ہوا کرتے تھے اور زیادہ ذوق و شوق رکھنے والوں نے گھر کے اندر ایک منی

Read more

علمی ادبی سرقہ

یوں تو ادبی اور علمی سرقے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مذہبی کتابوں پر بھی اور شاعری پہ اور ادیبوں پر بہت سے الزامات ہیں، کچھ ثابت ہیں اور کچھ نہیں بھی۔ اس میں بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں کے نام بھی آتے ہیں۔ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ لوگ کسی اور کی تحریر کو چوری کرتے اور بڑی بے حیائی کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ شائع کروا لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہی اس موضوع پر اثبات رسالے نے

Read more

حسرت

آدھی رات گزر چکی تھی اور شہر کی اس گلی میں اکا دکا افراد ہی اٹکھیلیاں کرتے گزرتے جا رہے تھے۔ سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں گلی کا ایک سرے سے دوسرا سرا آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں کہیں چند آوارہ کتے تھڑوں کے نیچے بیٹھ کر اونگھ رہے تھے، تو کچھ کوڑے پہ منہ مار کر پیٹ کی بھوک کو مٹانے میں مگن تھے۔ اگرچہ کچھ گھروں کے اندر سے بلب کی روشنی چھن چھن کر باہر

Read more

فن اور اخلاقیات

فن ایک عمل خالص کا نام ہے۔ ایسا عمل جو اندرونی تحرک کی بنا پر ابھرتا ہے اور کسی بھی قسم کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ نقالی کا نام فن نہیں بلکہ یہ نام ہے موجود امثال میں جدت لاتے ہوئے نقطۂ کمال کی جانب بڑھنا۔ فن کو سات اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں اصطلاح میں فنون لطیفہ کہا جاتا ہے۔ اس میں فن تعمیر (روم میں پینتھیان، مصر میں اہرام، اور بھارت میں تاج محل

Read more

رگھوپتی سہائے سے فراق گورکھپوری تک

فراق گورکھپوری کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ 28 اگست 1896 میں گورکھپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گورکھ پرشاد ایک وکیل تھے جو گورکھپور میں وکالت کرتے تھے۔ ان کا آبائی وطن گورکھپور کی تحصیل بانس گاؤں تھا فراق کے والد بھی شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔ ان کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ زمانے کی گردش سے چار نہیں ہے زمانہ ہمارا تمہارا نہیں ہے فراق نے اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر حاصل

Read more

اقبال – جدید غزل کا پیش رو

امیر خسرو سے لے کر اب تک غزل ہی وہ صنف سخن ہے جس نے ہر دور کے مذہبی، سماجی اور تہذیبی رویوں کا اظہار کیا ہے۔ اردو کی ادبی تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح نظر آئے گی کہ شعری اصناف میں اہل زبان کو خصوصی لگاؤ غزل سے ہی رہا اور اردو کی بھی یہی کمزوری سمجھ لیجئیے کہ اسے بھی خصوصی لگاؤ غزل سے ہی رہا ہے۔ اردو کے شعری

Read more

خواب کی پوشاک پہننے والے

پنجابی افسانہ نگار اکبر لاہوری سے تو شاید آپ آشنا ہوں گے، غالباً منیر لاہوری کو آپ نہیں جانتے۔ کوئی چالیس بیالیس برس گزرے، خاکسار نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ بی اے میں اختیاری مضمون کے ضمن میں فارسی، عربی اور پنجابی کی فہرست موجود تھی۔ عربی میں مجھے دلچسپی نہیں تھی۔ عام تاثر تھا کہ فارسی زیادہ نمبروں کے لالچ میں چنی جاتی ہے۔ درویش مشکل پسند تھا۔ پنجابی کا انتخاب کیا۔ وائس پرنسپل کے دفتر کے

Read more

پنجابی ثقافت اور گندم کی کٹائی

ہلکی ہوا میں ڈولتے گندم کے سنہری کھیت، درختوں کی سرسراہٹ کی آواز، کسانوں کی پشتوں پر ڈھلتی دھوپ اور تازہ کٹی ہوئی فصلوں کی مہک یہ وہ یادیں ہیں جن کے بارے میں سوچتے ہی یادوں کا خوشنما سیلاب امنڈ آتا ہے۔ ان دنوں گندم کی کٹائی ایک غیر معمولی کام نہیں تھا۔ یہ جشن کا وقت تھا، اقربا کے اکٹھے ہونے کا وقت تھا، مشترکہ محنت کرنے اور خوشی کا وقت تھا۔ کسان اور ان کے اہل خانہ

Read more

ڈاکٹر سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل: کتاب مذہب، سائنس اور نفسیات

مترجم: نعیم اشرف (اپنے عہد کے عظیم سائنسدان نیوٹن سے منسوب) ”میں نہیں جانتا کہ دنیا میرے بارے میں کیا خیال کرتی ہے مگر میں اپنے آپ کو ایک کم سن لڑکا سمجھتا ہوں جو ساحل سمندر پر کھیل میں مشغول ہے۔ وہ خوبصورت سے خوبصورت ترین کنکریوں کی تلاش میں ہے اور بہترین سے بہترین سیپی کی کھوج میں دنیا سے بے خبر ہے جب کہ پوشیدہ حقائق کا بحر بیکراں اس کے سامنے موجزن ہے۔ ” یہ پیراگراف

Read more

جیمز شیرا، عالمگیر سماجی شخصیت

ادب اور سماج کا رشتہ کسی ایک خطے، ثقافت یا مذہب سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے تاکہ آنے والی نسل اس کی روشنی میں آگے بڑھے اور آبیاری حاصل کرے۔ دنیا جہاں کی قابل اور معتبر شخصیات کا تذکرہ ہو تو اس کے پیچھے یہی ایک مرکزی رشتہ ملتا ہے جو ادب کا سماجی زندگی پر مبنی اثر ہے۔ لفظ ادب کا محور کرنے کی کوشش کریں تو سلیقہ زندگی، طرز زندگی

Read more

شاہد ماکلی :سائنسی جمالیات کا رجحان ساز ہم عصر شاعر

معاصرین جدید اردو ادباء و شعراء نے آسمان علم و ادب پر جمالیات، شعریات، گرمئی جذبات، نفسیاتی کیفیات اور ہیئتی ساخت کے تجربات کی روشنی میں جو قوس قزح تنی ہے وہ اپنے رنگ ہائے مختلفہ کی دل کش نمایش ہے۔ ان میں موضوعات روایت کے ساتھ ساتھ ایک منفرد معنویت اور عصری حسیت کی خصوصیات سے تغیر پذیری کے عمل سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہی معاصر جدید اردو شعراء میں ایک منفرد اور معتبر حوالہ جناب شاہد

Read more

پاکستان کے سنگین ترین معاشرتی جرائم رائٹ ونگ ہی نے کر رکھے ہیں: رعایت اللہ فاروقی

سرخیاں : اردو کالم تقریباً موت کے دروازے پر ہے سوشل میڈیا کا اسلوب مادر پدر آزاد ہے، جس کی وجہ سے یہ مستند نہیں بن سکتا نام ور صحافی اور کالم نگار، رعایت اللہ فاروقی سے خصوصی مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید طویل صحافتی سفر نے تجربات سے لیس کیا، نظریات اظہار کی قوت بنے، اور مطالعے نے اسلوب کو جلا بخشی۔ رعایت اللہ فاروقی کا شمار اس عہد کے نمایاں کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ اخباری کالمز کا

Read more

میرا ادبی خواب جو شرمندہ تعبیر ہوا

مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ پچھلے چھ برسوں میں ’ہم سب‘ پر میرے چھ سو کالم چھپ چکے ہیں۔ اس کے لیے میں ’ہم سب‘ کے مدیروں ’قاریوں اور ناقدوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کی رفاقت اور معاونت کے بغیر یہ جوئے شیر لانا ناممکن تھا۔

اس خاص موقع پر پر میں آپ کو اپنے ایک ادبی خواب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔

میری زندگی کے بہت سے خواب جو شرمندہ تعبیر ہوئے ان میں سے ایک خواب ادبی محبت ناموں کا تھا۔ میرا خواب تھا کہ دو ادیب مل کر ایک کتاب لکھیں جو ادبی خطوط پر مشتمل ہو۔ وہ خواب کئی سالوں کے بعد اس وقت شرمندہ تعبیر ہوا جب میں نے رابعہ الربا کے ساتھ۔ کتاب

Read more

’غزمِ‘ عالی شان

ایک صاحبہ ہیں، کچھ رضوی کر کے نام ہے، ’شعر‘ کہتی ہیں، اور شعر بھی کیا کہتی ہیں بس یوں سمجھ لیجیے کہ گرد اُڑاتی ہیں، یعنی متشاعر ہیں، اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کس صنف میں شاعری کرتی ہیں، غزل کہ نظم، تو فرمانے لگیں کہ ’ہم صنفی امتیاز کے سرے سے قائل ہی نہیں، ہم تو اپنی ہی ایجاد کردہ صنف میں شاعری کرتے ہیں جسے ہم ’غزم‘ کہتے ہیں۔ ‘ بہرحال، نام انہوں نے انتہائی موزوں

Read more

علامتی کہانیاں کیسی ہوتی ہیں

پچھلے کچھ عرصے سے نہ جانے کیوں الف کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ میں اردو ادب میں کچھ شد بد رکھتا ہوں، میں نے بھی الف کی یہ غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی، اب اگر کوئی عزت دے رہا ہو تو اسے روکا تو نہیں جا سکتا۔ اکثر اوقات الف مجھے کوئی کلاسیکی شعر سنا تا ہے تو میں ایسے ظاہر کرتا ہوں جیسے میں نے نہ صرف یہ شعر سنا ہوا ہے بلکہ

Read more

ڈائجسٹ کہانی۔ عروج و زوال۔ 6

1970 میں آغاز ہونے والا عالمی ڈائجسٹ سات سال بعد شہرت اور مقبولیت کے نصف النہار پر تھا اور 1980 میں داستان ماضی ہو گیا۔ صرف ایک سال بعد شروع ہونے والے ”سب رنگ، جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ“ نہ صرف یہ کہ بہت کم وقت میں عالمی کو بہت پیچھے چھوڑ گئے بلکہ ان کی اشاعت دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ دنیا کی ایک بہت بڑی حقیقت وہ شعر ہے ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ حادثہ ایک دم

Read more

جرمن زبان کے شاعر ایرش فریڈ اور ان کی نظمیں

میں کئی روز سے دیکھ رہا تھا کہ باہم بات چیت کے دوران میں امجد کی جرمن بیگم روزی اچانک اپنی مادری زبان بولنے لگتی تھیں۔ خاص کر جب انھیں امجد سے بات کرنا ہوتی۔ ان کے خاموش ہونے پر امجد مجھے اردو یا پنجابی میں بتاتا کہ بیگم کیا کہہ رہی تھیں۔ امجد علی ”مزنگی“ ہونے کی وجہ سے میرا محلے دار بھی تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھنے کے باعث میرا ہم۔ مکتب بھی۔ بی اے کا

Read more

ہمارے ادب میں عورت استحصالی رویوں کا شکار رہی: طاہرہ اقبال

سرخیاں : شناخت اسی فن پارے کو ملتی ہے، جس پر مصنف کے دستخط ثبت ہوں ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے صاحب اسلوب فکشن نگار، ڈاکٹر طاہرہ اقبال سے ایک منفرد بات چیت انٹرویو نگار: اقبال خورشید ان کا فکشن، ان کے پرقوت اسلوب کا عکاس ہے، جسے زبان پر ان کی گرفت، وسیع مشاہدہ اور مسلسل مطالعہ چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ایک روز اسد محمد خاں سے ہمارا

Read more

پاکستانی نژاد برطانوی بچوں میں کتابیں پڑھنے میں عدم دلچسپی

میری عمر پانچ یا چھ سال کی تھی، ہم میرپور شہر سے دور ایک دیہات میں رہتے تھے۔ اس وقت ہمارے گھر میں اردو کا ایک اخبار ”روزنامہ کوہستان“ ڈاک کے ذریعے آتا تھا۔ بڑی بہنوں، جنہوں نے گاؤں میں لڑکیوں کا سکول نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں کے سکول میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی، کے لیے اردو رسالے ”حور“ اور ”زیب النساء“ بھی ڈاک سے آتے تھے۔ گھر میں دو الماریوں میں والد محترم کی کتابیں پڑی ہوتی تھیں۔ بہنوں کو رسالے اور ابا جی کو کتابیں اور اخبار پڑھتے دیکھ کر میں نے بھی کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دی تھی۔

70 کی دہائی کے شروع میں جب میں نے ابا جی سے اپنے لیے کوئی رسالہ لانے کی فرمائش کی تو انھوں نے مجھے سیارہ ڈائجسٹ لا کر دیا۔ تب غالباً میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ گھر میں کتابوں کی موجودگی اور پڑھنے کے رجحان نے مجھ میں بھی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کر دیا اور پھر گریجویشن مکمل ہونے تک میں نے سیکڑوں رومانی، جاسوسی اور تاریخی ناولوں کے علاوہ دوسری بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ایک وقت میں انگریزی ادب پڑھنے کا شوق چرایا تو تقریباً سب ہی مشہور مصنفین کے ناول پڑھ ڈالے۔ اب بھی میری ذاتی لائبریری میں دو ہزار سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔ زندگی میں کپڑوں کے بعد سب سے زیادہ پیسے میں نے کتابوں کی خریداری، فلمیں دیکھنے اور میوزک اکٹھا کرنے میں لگائے ہیں۔

Read more

اچھوت کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے

سب سے پہلے میں لمز یونیورسٹی کا شکر گزار ہوں کہ جس نے میری سندھی شاعری کے سرائیکی ترجمے کی تقریب رونمائی رکھی۔ مجھے، میری شاعری کو اور دو خطوں کی مادری زبانوں کو قبولیت کا اعزاز بخشا۔ ہم تھر اور تھرپارکر سندھ کے رہنے والے ہیں اور اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں انتہائی مجبوری کے عالم میں بولتے ہیں۔ اس لیے میری اس اردو گفتگو میں کسی بھی طرح کی کمی بیشی کو در گزر فرمایا جائے۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میں پاکستان کے انتہائی اہم تعلیمی ادارے میں اپنی شاعری میں ابھرنے والے نئے سورماؤں کی داستان بیان کروں گا۔

Read more

آصف عمران کے افسانے: اہرام آرزو

میں خود کو خوش قسمت اس لحاظ سے سمجھتا ہوں کہ میں نے ڈیجیٹل ایج اور سوشل میڈیا کے دور میں تخلیقی اور ادبی ہوش سنبھالا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت ہی کئی نامور لکھاریوں سے واقفیت ہوئی، پھر سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا سے حقیقی دنیا میں ملاقات ہوئی تو ایک نیا تعلق قائم ہوا۔ گزشتہ دنوں میں لاہور میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے موجود تھا۔ میرے دوست یوحنا جان نے ہماری ایک ملاقات کی پوسٹ

Read more

ہندوستان میں برطانوی راج اور طلبا تحریک

‎ طلبا کسی بھی معاشرے کا بنیادی کردار ہوتے ہیں جو سماجی تبدیلی کا ایک اہم محرک ہوتے ہیں، اگر ہم ہندوستان میں برطانوی راج کے دنوں کی بات کریں تو اس وقت انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں پانچ یونیورسٹیاں تھی، جن میں بمبئی یونیورسٹی ( 1857 ) کلکتہ یونیورسٹی ( 1857 ) مدارس یونیورسٹی ( 1857 ) پنجاب یونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی ( 1887 ) اس وقت تک طلبا ء تعداد میں کم تھے۔ اور ان

Read more

اضمحلال و یاسیت سے بچاؤ

یہ بہت مشکل موضوع ہے لیکن اس حوالے سے کچھ اہم نکات ذہن میں آئے تو بیان کرتے ہیں۔ اس مرض سے نجات کے لیے علاج معالجہ تجویز کیا جا تا ہے لیکن معالج جو علاج تجویز کرتے ہیں وہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ اکثر افراد اس پر مکمل عمل درآمد نہیں کر پاتے۔ یہاں رک کر ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ ہم باقاعدہ نفسیاتی علاج کی مخالفت ہر گز نہیں کر رہے۔ اگر آپ کو ایسا محسوس

Read more

بائیکاٹ

ان دنوں روزوں کے ایام پورے آب و تاب سے جاری ہیں۔ بھوک و افلاس نے بھی اپنے ڈیرے جما رکھے ہیں اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں بھی کسی کو روزے کے حوالے سے پوچھا جائے تو وہ صرف بھوک اور پیاس کا متبادل نام دیتا ہے۔ ساتھ اس کا کردار روزے کی روحانیت اور اس سے لاتعلقی ظاہر کرتا ہے مجھے ایک دن بازار جانے کا اتفاق ہوا تو ایک ریڑھی بان

Read more

ایزرا پاؤنڈ۔ ملکی غدار، ذہنی بیمار یا عظیم فنکار؟

تعارف ایزرا پاؤنڈ اپنی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ایک نہایت ہی متنازعہ فیہہ شخصیت کے مالک رہے۔ ان کی زندگی میں ہی بعض لوگ ان سے شدت سے محبت اور بعض اتنی ہی شدت سے نفرت کرتے تھے۔ ان کی وفات کے پچاس برس بعد آج بھی بعض لوگ انہیں بیسویں صدی کی جدید نظموں کا بہترین فنکار اور بعض انہیں ملک کا سب سے بڑا غدار سمجھتے ہیں۔ ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ ادیبوں ’شاعروں

Read more

ناقابل یقین واقعات کا سلسلہ۔ 4

”عالمی“ ہی در حقیقت پہلا مقبول ماہنامہ تھا جس نے ڈائجسٹ کے تصور کی بنیاد رکھی اور یہ عوامی ادب کا ترجمان قرار پایا یعنی وہ ادب جو نقادوں کے سند یافتہ ادب عالیہ سے الگ عام لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنا۔ یہ وہی نقاد ہیں جنہوں نے قیسی رامپوری کے ناولوں کو ادب عالیہ نہیں مانا جس کے ناولوں کے ایک ایک لاکھ کی تعداد میں تین تین ایڈیشن شایع ہوئے۔ ایم اسلم کے سو سے زائد مقبول

Read more

آج کل ہر طرف جعلی دانش وروں کا زور ہے : مبشر علی زیدی

۔ سرخیاں : لکھنے والا اپنی مٹی سے کٹ کر مٹی ہوجاتا ہے معیشت غرق ہو چکی، اگلا الیکشن جو بھی جیتے گا، وہ سر ہی پیٹے گا ہمارے ادیب اور شاعر ڈرے ہوئے ہیں، وہ صرف پی آر کے شوقین ہیں معروف، متنازع اور منفرد قلم کار و صحافی، مبشر علی زیدی سے ایک گپ شپ وہ آیا، اس نے کہانیاں سنائیں، اور سامعین کو گرویدہ بنا لیا۔ آج ہمارا موضوع ہیں ”سو لفظوں کی کہانی“ والے معروف صحافی،

Read more

اردو ادب کے تحفظ و نشو و نما میں اردو نصابات و درسی کتب کا کردار

قدیم سے قدیم اور تناور سے تناور درخت کی بقا تب تک ہی ہے جب تک کہ وہ اپنی جڑوں سے منسلک ہے، جب اسے اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے تو جیسا چاہا جاتا ہے ویسا من چاہا کام اس سے لے لیا جاتا ہے۔ اسے مختلف شکلوں میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ مختلف اشیا تو وجود پاتی ہیں، مگر اب اس درخت میں وہ جان باقی نہیں رہتی جس کی وجہ سے یہ ماحول کو آلودگی

Read more

افسانوی مجموعہ ”بانجھ موسموں کا سفر“

کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پھر الفاظ کی مدد سے اپنے تخلیقی جوہر کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں۔ پھر ان کی تحریر اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی ملکیت بن جاتی ہے۔ اگر مشاہدہ کی آنکھ سے دیکھا جائے تو تخلیق قلم کی سیاہی سے انسانیت کے پرچار کا

Read more

ڈاکٹر اسرار احمد: اردو کے سب سے بڑے مفسر قرآن

ڈاکٹر اسرار احمد (رحہ) صاحب کی شخصیت سے کون ناآشنا ہو گا؟ وہ اپنی ذات میں ایک قرآن اکیڈمی تھے۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب آج سے تیرہ برس قبل یعنی 14 اپریل 2010 ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون کئی احباب کی طرح میرے ایسا دنیاوی اور غافل بھی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی فکر سے متاثر ہوا۔ جس کا پہلا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں قرآن مجید کو ترجمہ و تفسیر

Read more

ہمارا نکاح نامہ، وہ تو چوہے کھا گئے!

ہمارے نکاح کے وقت نہ یو ٹیوب تھانہ کمپیوٹر اتنا عام تھا اور نہ ہی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) جیسی کسی چڑیا کا وجود تھا بس موصوف جیسے Super Intelligent Gentleman، وہ بھی خال خال یعنی آٹے میں نمک کے برابر دستیاب تھے، ہماری شادی پندرہ اپریل کی ایک کشمکش زدہ رات کو ہوئی، بارات تیار کھڑی تھی، دوست احباب، اور سارے باراتی (اسٹوڈنٹس) بے قراری سے کرفیو پاس کے منتظر تھے جو بیچارا دولہا بنوانے گیا تھا۔ ادھر کو سموپولیٹن

Read more

تعلیم میں اختصاص: نقصانات کے چند زاویے

قدرت نے انسان کو جو ذہن عطا کیا ہے وہ کائنات کی طرح وسیع ہے۔ اس میں سمندر کی سی گہرائی ہے۔ اس کا جتنا استعمال ہوتا ہے وہ اتنا ہی پھیلتا اور صیقل ہو تا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو استعمال میں نہ لایا جائے تو رفتہ رفتہ وہ اتنا ہی کند ہوتا جاتا ہے۔ سائنسی ترقی کے باوجود اگر یہ بات کہی جائے کہ ہمارا ذہن محدود ہو گیا ہے تو شاید یہ بات حلق سے

Read more

اپنے قریۂ ولادت کی مختصر تاریخ پر مقصود گل کی لکھی کتاب

سندھ کے نامور قادر السخن شاعر، عالم، دانشور، صحافی، کالم نویس، محقق، بچوں کے ادیب اور حضرت سچل سرمست کے کلام کے شارح اور مترجم، مقصود گل، 15 اپریل 1950 ء کو سندھ کے علمی، ادبی و ثقافتی حوالے سے انتہائی زرخیز خطے لاڑکانے کے تاریخی شہر رتودیرو میں پیدا ہوئے اور کم و بیش 65 برس کی عمر پا کر، 14 فروری 2015 ء کو ”روشنیوں کے شہر“ میں ہم سے بچھڑے۔ وہ شاعر ابن شاعر ابن شاعر تھے۔

Read more

عائشہ الباعونیہ: آٹھ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنے والی سیرت نگار جنھیں ’اپنے وقت کے عجائبات میں سے ایک‘ قرار دیا گیا

عائشہ کو خدا کی وحدانیت اور روحانیت کے حصول میں محبت اور عقیدت کی اہمیت کے بارے میں اپنی تعلیمات کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ اس وقت کی صوفی روایت میں ایک نمایاں شخصیت تھیں اور اسلامی تصوف کی ترقی میں ان کا اہم کردار تھا۔

Read more

”خواب سراب کے بھید“ :چند تاثرات

کسی نہ کسی توسل سے روزانہ کئی کتابیں موصول ہوتی ہیں۔ کچھ کتابوں کی طباعت بڑی دلکش اور دیدہ زیب ہوتی ہے لیکن وہ مواد کے اعتبار سے ایسی نہیں ہوتیں کہ انھیں زیادہ دیر زیر مطالعہ رکھا جا سکے۔ انھیں صرف دیکھا جاتا ہے اور دیکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ کچھ کتابیں پڑھنے والی ہوتی ہیں، انھیں پڑھا جاتا ہے، یاد رکھا جاتا ہے، ان میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ بار بار پڑھنے کو من کرتا ہے۔

Read more

پس قانون: پاکستانی قانون پر برطانوی نوآبادیاتی اثرات!

کسی بھی قوم یا معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ اہل قلم ہی ادا کرتے ہیں۔ یہ صاحبان علم و دانش ہی ہوتے ہیں جو عام افراد کی ذہنی آبیاری کرتے ہیں اور اس طرح قیادت کرتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی حالت ’کردار کا جائزہ اس قوم کے اہل قلم کے نظریات اور کردار سے لگایا جاسکتا ہے۔ آصف محمود کی تصنیف ”پس قانون“ ایک مکمل دستاویز ہے۔ یہ کتاب ہماری احساس کمتری ’نظام قانون کی ناکامیوں اور نقائص پر

Read more

لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انھیں اردو میں اچھا مواد میسر نہیں : عامر ہاشم خاکوانی

لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انھیں اردو میں اچھا مواد میسر نہیں : عامر ہاشم خاکوانی سے خصوصی بات چیت سرخیاں : ٭ تصوف اشفاق احمد کے تخلیقی عمل کا حصہ تھا، مفکر اب ہمارے ہاں کہاں رہے ٭ لکھنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سے پڑھنے والے میں کوئی تبدیلی آئے ٭ اردو ادیبوں میں اگر تصوف کے اثرات ہیں، تو مجھے اعتراض نہیں، مگر تصوف ان کے تخلیقی عمل کا حصہ ہو، وہ مصنوعی نہ لگے

Read more

میونسپل لائبریری اور بدذوق لائبریرین (2)

             باہر معمول کی چہل پہل جاری تھی۔ دماغ کے کسی گوشے سے کوئی شاعر گنگنائے تھے۔ ”قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو“ اور قوم کتابوں میں کیا اترتی وہ تو شکم سیری کو خورش گاہوں میں گوڈے گوڈے پھنسی ہوئیٴ تھی۔ باقی رہ جانے والی نیلام گھروں کی رونق بڑھا رہی تھی۔ کشمیر روڈ پر لنڈے کی دکانوں پر ہجوم بتا رہا تھا کہ لنڈے کتاب میلوں پر بھاری ہیں۔ نیلام گھروں پر خوب گہما گہمی تھی۔

Read more

طارق جمیل: جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

اب، ہم اور طارق جمیل پی ٹی وی کی کچی آبادی (Extension) کے پکے پڑوسی تھے۔ اس سے پہلے ہم ٹیلیفون بوتھ میں مسز شیروف کے کمرے میں بیٹھتے تھے۔ اس کمرے میں کانا پردہ بھی ممکن نہیں تھا، شیشے کی دیوار سے آر پار سے، آنے جانے والوں کی نظر ہم پر اور ہم، ان پر نظر رکھ سکتے تھے۔ یہ کمرہ ہمارے جثے سے ذرا ہی بڑا تھا کہ ایک دن اقبال حیدر کی قسمت کے ساتھ ساتھ

Read more

اکبر لاہوری کا پنجابی افسانہ: آپا

آپ شاید اکبر لاہوری کو نہ جانتے ہوں۔ میں بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر آپ تو شاید منیر لاہوری کو بھی نہیں جانتے۔ میں جانتا ہوں۔ کوئی چالیس بیالیس برس پرانی بات ہے۔ میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ تب بی اے کے لئے لازمی اور منتخب مضامین کے علاوہ سو نمبر کا ایک اختیاری مضمون بھی چننا ہوتا تھا۔ اس کے لئے فارسی، عربی اور پنجابی کی فہرست موجود تھی۔ عربی میں مجھے دلچسپی نہیں تھی اور

Read more

کندھ کوٹ کا اجمل ساوند نہیں سمجھا

پیرس میں اس کے کمرے سے ایفل ٹاور نظر آتا تھا۔ اونچی عمارتوں سے پرے ایفل ٹاور کے جنگلہ شدہ فریم کا اوپری حصہ جس کے سرے پر ایک علیحدہ تاج براجمان ہے دن میں بھی عجب منظر دیتا تھا، مگر رات کو یہ منظر اور ہوتا کہ ایفل ٹاور کے تمام جنگلے سے پیلاہٹ آمیز روشنی نظر آتی تھی جب کہ اس کے اوپر لگے تاج کی شکل اور اس کی نوک سفید روشنی پھینک رہی ہوتی۔ یہ کمرہ

Read more

پھس پھسا کتاب میلہ اور نامانوس لوگ

             سال 2022ء کا آخری دن تھا جب برقی دیوار کا ایک رابطہ ملا کہ جی مانسہرہ میں کتاب میلہ کا انعقاد ہے۔ یہ ایک خوش کن خبر تھی۔ فوراً دوست سے وعدہ لیا کہ سال نو کے پہلے دن چوں کہ پانچ بجے تک کتاب میلہ ہے چل میلے کو چلیے۔ وہ بھی انگریزی ادب کا آدمی میری باتوں میں آ گیا اور یوں ہم یخ بستگی میں اپنی چھٹی کافور کرتے ہوئے مانسہرہ روانہ ہوئے۔ دماغ کی تختی

Read more

کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (2)

فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ نائس نن 21 فروری 1903 ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پورا نام : ”انجیلہ انائس ژانہ انطولینہ روزا ایڈل میرا نن کومل“ تھا۔ ان کے آبا و اجداد کیوبا سے ہجرت کر کے فرانس جا بسے تھے۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پر امن انسانی

Read more

کہانی نگار، شاعر، فلمساز اور ہدایت کار ڈاکٹر حسن زی

نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے مرحوم اقبال راہی کی معرفت ڈاکٹر حسن زی سے غائبانہ شناسائی تھی لیکن پھر مرحوم کی دعوت پر لاہور کے ایک مقامی آڈیٹوریم میں ڈاکٹر صاحب کی فلم ”گڑوی“ کی تقریب میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر موصوف سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد اداکارہ صابرہ سلطانہ کے ذریعہ ڈاکٹر زی سے فون پر رابطہ ہوا جو اب تک قائم ہے۔ میں جمعرات 6 اپریل کو افطار سے کچھ پہلے ڈاکٹر حسن زی کے

Read more

ذوالفقار عادل سے ملاقات

گزشتہ برس میرے دبئی جانے کا جب راستہ بنا تو میں طارق فیضی کا دو سبب سے شکر گزار تھا۔ یہ دو اسباب اصل میں دو افراد تھے، جن سے ملنے کے خیال سے میں خوش تھا۔ ذوالفقار عادل اور انعام ندیم۔ انعام ندیم سے اس سے پہلے میں اس قدر واقف نہیں تھا، یہ جانتا تھا کہ وہ شعر کہتے ہیں، تراجم کرتے ہیں اور ایک دفعہ ادبی دنیا پر صغیر ملال کی ایک کتاب اپلوڈ کرنے کے سلسلے

Read more

انیس اشفاق کی نثر اور تنقید

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے اچھی طرح واقف ہے۔ انیس اشفاق نے اردو ادب کے سبھی چشموں سے پانی پیا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ناول نگار، افسانہ نگار، محقق اور نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مترجم اور شاعر ہیں۔ شاعری میں انہوں نے اپنی والدہ محترمہ سے اصلاح لی۔ وہ انہیں شعر پڑھنا سکھاتیں اور انہیں چھوٹی چھوٹی تقریریں لکھ کر دیتیں۔ تقریر کے دوران ان کا تلفظ بھی درست کرواتی

Read more

تھائی لینڈ: مسکراہٹوں کا دیس

تھائی لینڈ کے لوگ مسکرانے کے عادی ہیں۔ بات بات پر مسکراتے ہیں۔ بلکہ بات بے بات ہنستے رہتے ہیں۔ آپ سڑک چلتے کسی تھائی باشندے سے کسی جگہ کا پتا پوچھیں تو وہ جواباً مسکرا دے گا۔ خواہ اس کو آپ کی بات سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ بنکاک میں سڑک کنارے لگے سٹالز پر سیلز مین سے کسی چیز کی قیمت پوچھیں تو فوراً اپنے دانت آپ کو دکھائے گا بعد میں قیمت بتا کر

Read more

عورتیں دوسری عورتوں کا راستہ کیوں روکتی ہیں؟

میری نوجوانی اور زمانہ طالب علمی کا ایک وہ دور بھی تھا جب میں اپنی سادہ لوحی اور کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھا کرتا تھا کہ سب عورتیں ایک ہی کنبے ’ایک ہی گروہ‘ ایک ہی قبیلے اور ایک ہی کمیونٹی کا حصہ ہیں۔ چونکہ ان کے دکھ سکھ سانجھے ہیں اس لیے جب وہ کسی بھی عورت کو زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہوتا دیکھتی ہوں گی تو اس کی غیر مشروط مدد کرتی ہوں گی

Read more

کہانی کار کیسے لکھتے ہیں

پڑھنے والوں کی دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کا کوِئی پسندیدہ مصنف کیسے لکھتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک کتابوں سے بھری سٹڈی ہوتی ہے اور ایک رائٹنگ ٹیبل۔ اور اس پر بیٹھا بڑے بڑے بالوں اور عینک والا مصنف۔ میں نے ایک بار لکھا کہ میں تو کھانے کی میز پر بیٹھ کر لکھتا ہوں اور کہیں بھی بیٹھ کے لکھ سکتا ہوں، بندر روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کے بھی لکھ

Read more

شکاری کا جنم۔ 2 – احمد اقبال

ماضی کی دھند میں چھپی ہم سب کی ان گنت کہانیاں مشترک ہیں۔ اسی لیے میں نے ایک کہانی کی کہانی چھیڑی تو بہت لوگ ہمہ تن گوش ہوئے ذکر شروع ہوا تھا ش م جمیل کا ۔ اب شکاری کی کہانی میں چھپی ایک عزم و ہمت کی حقیقی کہانی بھی سن لیں۔ میں نے بتایا کہ جمیل صاحب 1979 میں کروڑ پتی تھے لیکن یہ سب انہیں اپنے والد کی طرف سے ملا تھا ان کے والد شیخ

Read more

بھا سعید بھی چلا گیا

دیسی کلچر میں بعض ایسی اقدار ہیں جو اس کل یگ میں بھی بدستور قائم ہیں اور ان کی نگھی تاثیر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہمارے رشتوں کے ناموں میں بہت کچھ پوشیدہ ہوتا ہے اور اسے پوشیدہ کو جانتے بھی سبھی ہیں۔ بعض رشتے ایسے ہیں جو ”منہ بولے“ بھی رحمی رشتوں کی طرح ہی مقدس ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے پرانی باتوں کو دہراتے ہوئے ایک مرحوم دوست کے ذکر میں بتایا کہ اس

Read more

کفن چور: نعمان فاروق کا بچوں کے لیے ناول

بچوں کے عظیم ادیب ہانس کرسچن اینڈرسن نے کہا تھا ”زندگی خود سب سے حیرت انگیز کہانی ہے۔“ کہانیاں بنانا اور سنانا ان چند چیزوں میں سے ایک ہیں جو ہمیں دیگر جانداروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ انسان چاہے تو اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے یا واقعہ کو کہانی میں ڈھال لے۔ زندہ چیزوں کے ارتقاء کی مانند کہانیاں بھی مسلسل ارتقاء کے عمل سے گزرتی ہیں۔ جن علاقوں میں جانداروں کو موافق حالات میسر آئیں وہاں وہ بہتر

Read more

گوہر تاج صاحبہ کی کتاب: خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ

فیس بک پر اس کتاب کا علم ہونے پر محترمہ گوہر تاج صاحبہ کی خدمت میں کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے مجھے یہ ای۔ میل کے ذریعہ ارسال کر دی۔ پہلے دن ہی نصف پڑھ لی اور بوجہ مصروفیت اس کا مطالعہ اگلے دن مکمل ہوا۔ کتاب ”خاک سے کیمیا ہوئے جو“ جس طرح سے نام سے ظاہر ہے ایسے لوگوں کے حالات پر مشتمل ہے جن میں اکثر سے گوہر تاج براہ راست یا قریبی

Read more

عوامی دانش کسے کہتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ’عوامی دانش‘ پر بات کرتے ہوئے یونی ورسٹیاں اور طالب علم بیچ میں کیوں گھسیٹ لاتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ہماری جامعات طلبا کی ایسی کھیپ تیار کرنے میں ناکام ہے جو عوامی سمجھ بوجھ کے نمائندہ ہوں۔ بھئی! مگر یہ تو بتائیے کہ لوک فکر یونی ورسٹیوں کے انکیوبیٹر میں کب سے پھلنے پھولنے لگی؟ اس کا ناتا مدرسوں کے تعلیمی نصاب سے کب بنا؟ جامعات ٹھہریں نرسری میں اگے

Read more

ہوش ربا مہنگائی اور ہماری روزمرہ زندگی

جب ترسیلات زر، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی کی وجہ سے ملکی کرنسی کی قدر گھٹ جاتی ہے تو مہنگائی کا جن بے قابو ہوتا ہے، اور مہنگائی غریب عوام کی روزمرہ زندگی، معیشت اور نفسیات پر گہرے منفی نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ایک ملک بیرونی قرضوں کے دلدل میں پھنس کر اپنی خودمختاری کھو بیٹھتا ہے اور مقروض ملک کے عوام سیاسی بالغ نظری، معاشی خوش حالی اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم رہتے ہیں۔

Read more

کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (1)

شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن (Anaïs Nin)، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ انائس نن 21 فروری 1903ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پرامن انسانی معاشرے کی جستجو ہے۔ انھوں نے ڈائری تحریر کرنے جیسی اہم صنف کو ادب کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا

Read more

مولانا رومی: ’مستقبل کے شاعر‘ جن کا موازنہ دیوتاؤں اور مقدس شخصیات سے کیا گیا

کسی شاعر کا کسی دوسری زبان کے شاعر سے موازنہ کوئی نئی بات نہیں لیکن جب کسی شاعر کا دیوتاؤں اور مقدس شخصیات سے موازنہ ہو تو یہ جائے حیرت ہے۔

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کا فیصلہ غائب

اس وقت پورے ملک کے ساتھ سپریم کورٹ بھی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سپریم کورٹ پر سیاسی کارکنوں کا ہجوم بدتمیزی حملہ آور ہے۔ اس مرتبہ معزز چیف جسٹس آف پاکستان کو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی طرف سے ہی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پہلے عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور جسٹس مندوخیل صاحب کا ایک نوٹ سامنے آیا۔ اس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ

Read more

درویش کی زنبیل سے تین تحفے  

ڈائری کا ورق نمبر ۱۔ ۔۔۔میری نئی محبوبہ میری زندگی میں ایک دلچسپ تبدیلی آ رہی ہے۔ میری ایک نئی صنف نازک سے ملاقات ہوئی ہے جو میری نئی محبوبہ بننا چاہتی ہے۔ وہ اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے میرا دل لبھانے کی کوشش کرتی رہتی ہے جبکہ میں اس سے بڑے محتاط انداز سے ملتا ہوں بلکہ قدرے گریز کرتا ہوں۔ ایک شام اس نے مجھ سے بےتکلف ہونے کی کوشش میں یہ بھی بتایا

Read more