ڈینئل پرل کیس تفصیلی فیصلہ: ‘استغاثہ شواہد کے ساتھ قتل ثابت کرنے میں ناکام رہا’

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈینئل پرل قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق استغاثہ شواہد کے ساتھ قتل ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت کا تفصیلی فیصلے میں کہنا تھا کہ ہتھکڑی لگا ملزم اعتراف جرم کرے بھی تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ قتل کی پیش کی گئی ویڈیو میں ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

تفصیلی فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا گیا ہے۔

Read more

خاکستر بن چکی کتاب کی کہانی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا پہلا شمارہ چھپا۔ ادب سے گہرا لگاؤ رکھنے والے نوجوان طالب علموں، سنجیدہ خواتین اور بوڑھوں نے میرے ساتھ چھپنے والے ہمنواؤں کو ایک ایک کر کے کتاب گھر سے خریدنا شروع کیا۔ کتابوں کی الماری میں بالکل کونے میں الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی خریدنے والا مجھ پر ایک نگاہ بھی نہ ڈالتا اور میرے ساتھیوں کو میرے سامنے پیار سے اٹھاتا اور ان کی قیمت ادا کرنے، ادائیگی والے میز کی طرف بڑھ جاتا۔ میں ہر بار اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتی کہ ہر چیز کے آگے آنے اور نمایاں ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے اور یقیناً میرا وقت بھی آئے گا۔

ایک روز جب کہ میں اپنے ساتھیوں کے پہلو میں بیٹھی ان کی کہانیاں سن رہی تھی ، میں نے ایک خاتون کو اپنے سامنے سے کئی بار گزرتے دیکھا اور پھر وہ ہماری طرف پلٹیں اور مجھے اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ اس مہربان لمس کو شاید میں کبھی نہ بھول پاؤں کیونکہ میری زندگی میں واحد یہی پہلا اور آخری ناقابل فراموش مہربان لمس ہے۔

Read more

پاکستانی ڈرامے کو غیر معذرت خواہ ورکنگ وومن کا تصور دینے والی حسینہ معین

کراچی — دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں، وہاں لوگ حسینہ معین کے ڈراموں کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ ان کے نام کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ نہ صرف انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں کو ہر گھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ اپنی کہانیوں کے ذریعے ناظرین کی اصلاح کی بھی کوشش کی۔

Read more

25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بندھی بے معنی بھاگ دوڑ۔ کسی کو شکستہ دل کوچوان آئیونا کی کتھا سننے کا دماغ نہیں۔ بالآخر دن ڈھل جاتا ہے۔ اپنے

Read more

ذیابیطس کے بارے میں چند غلط فہمیاں

میرا نام ڈاکٹر لبنیٰ مرزا ہے اور میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ (Endocrinologist) اور ذیابیطس اسپیشلسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجی ہارمون (Hormones) سے متعلق بیماریوں کی تعلیم کو کہتے ہیں۔ ہارمون ایسے کیمیائی اجزاء ہیں جو ایک عضو سے پیدا ہونے کے بعد خون میں سفر کر کے دوسرے اعضاء پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ ذیابیطس چونکہ انسولین کے نظام میں خرابی کے باعث ہو جاتی ہے اور دنیا میں اس کے لاکھوں مریض موجود ہیں یہ ہماری پریکٹس کا ایک بڑا حصہ ہے۔

Read more

ملّا اور تمغے

میرا یہ ایمان ہے کہ بادشاہ کے گرد منڈلانے والے نیک بزرگ عالم دین اور ناچنے گانے والوں میں کچھ فرق نہیں رہتا۔ کیونکہ دونوں کی حیثیت دل بہلانے والے ( entertainer) جیسی ہوتی ہے۔ میرے اس خیال کو مزید تقویت تب ملی جب 23 مارچ کو صدر مملکت نے ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کیے۔ ایک خاتون فلم سٹار کے ساتھ معزز عالم دین بھی اس کے حق دار ٹھہرے۔ یقین جانیے موجودہ حکومت کا یہ پہلا اقدام ہے

Read more

براڈکاسٹر کنول نصیر اور ڈرامہ نگار حسینہ معین کی وفات، پاکستانی شائقین کا خراجِ عقیدت

کنول نصیر اور حسینہ معین دونوں ہی نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور اپنے کام کے ذریعے علمیت پسندی اور خود مختاری کو فروغ دیا۔

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک

Read more

ہم جنس پرستی کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟

ایک ہی جنس کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والے جنسی میلان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وراثتی یا موروثی ہے. انگلستان اور ویلز میں باہمی رضا مندی کے تحت قانون جنسی جرائم مجریہ 1967ء کے تحت اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک میں بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام سمیت اکثر مذاہب میں یہ ناجائز اور سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستوجب سزا ہے۔ ہم جنس پرستی

Read more

سٹرنگز بینڈ کے خاتمے کا اعلان: سٹرنگز نے 33 برس کی رفاقت کا خاتمہ کر کے اپنے مداحوں کو اداس چھوڑ دیا

پاکستان میں مقبول بینڈ ’سٹرنگز‘ کے بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا کی جانب سے جمعرات کے روز 33 برس بعد بینڈ کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستانیوں کی کئی نسلوں کی بچپن کی یادیں سٹرنگز کے گانوں سے جڑی ہیں۔

Read more

گولڈن گرلز کے نام خالد سہیل کا دوست نامہ

محترمہ رابعہ الربا و معظمہ تحریم عظیم صاحبہ! میں آپ دونوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے مل کر ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ اس مکالمے سے ان لڑکیوں اور عورتوں کے جذبات و خیالات کا اظہار ہو گا جو خود اپنے خیالات و جذبات کے اظہار سے کتراتی اور گھبراتی ہیں۔ آپ کے مکالمے سے دیگر خواتین لکھاریوں کو بھی بے خوف و خطر لکھنے کی ہمت ہو گی۔ میں ’ہم سب‘ کی بہت سی

Read more

پٹرول سستا ہے – مثبت رپورٹنگ

پیمرا کا 22 مارچ کو نیوز میڈیا کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے۔ خط میں پہلے تو بجا طور پر یاد دلایا گیا ہے کہ حکومت درحقیقت لوگوں کی فلاح کی ذمہ دار ہے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے ملکوں کے مقابلے میں وہ پٹرول بہت ارزاں نرخوں پر فراہم کرتی ہے۔ نیز میڈیا کو شرمندہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو بتاتا ہی نہیں کہ گزشتہ دو حکومتوں کے مقابلے میں بھی اس کی قیمت کم ہے۔

اس لیے تمام ٹی وی چینلوں اور ایف ایم ریڈیو والوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مناسب تشہیری کمپین لانچ کر کے قوم کو بتائیں کہ پٹرول کی قیمت کم ہے۔ خط میں مصلحت اس حکمت کی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے لیے عوام تیار ہو جائیں گے۔

Read more

آہ! پروفیسر کعبی بھی آسودۂ خاک ہوئے

گجرات کی ممتاز علمی و ادبی شخصیت، میرے استاد اور کولیگ، سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر منیرالحق کعبیؔ بہل پوری 23 مارچ 2021ء کو رضائے الٰہی سے وفات پا گئے ہیں۔ یہ خبر سن کر دل بہت دکھی ہوا۔ میری بدقسمتی و بے خبری کہ مجھے شام کو پتہ چلا اور میں دوپہر دو بجے ان کی نماز جنازہ میں بھی شریک نہ ہو سکا۔ ان کے ساتھ گزارے پل بہت شاندار اور ہمیشہ یاد رہنے والے ہیں۔ انہوں نے

Read more

ہمارے ٹی وی ڈرامے اور نوجوان خواتین

سکول کالج جاتی نوجوان لڑکیاں، گھر پر رہنے والی کنواری یا شادی شدہ خواتین خاص طور پر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں ہمارے ٹی وی ڈراموں اور فلموں کا بہت چرچا ہوتا ہے۔ مواد جو ہم تک پہنچایا جا رہا ہوتا ہے اس کا ہماری انفرادی اور سماجی زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ سکول کالج کی بچیاں بطور انٹرٹینمنٹ اس مواد کو دیکھتی ہیں اور ذہن ذرا کچے ہوتے ہیں تو اسی سب کو سچ مان کر اپنی زندگی کی تعریف بنا لیتی ہیں۔

غور کیا جائے تو ہر دوسرے ڈرامے کی کہانی کسی مڈل کلاس لڑکی پر ایک امیر لڑکے کے فدا ہو جانے کے گرد گھومتی ہے۔ امیر اور خوب صورت لڑکا جو اس معمولی لڑکی کی حیاء اور ادب و آداب پر مر مٹتا ہے، اس کے لیے دنیا جہاں سے ٹکر لینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ وہیں وہ لڑکی اول تا آخر گوپی بنی رہتی ہے اور اپنی آنکھیں، دماغ، دل اور زبان بند کر کے قسمت کے حوالے سب کچھ کر کے چلتی جاتی ہے۔ جہاں دل بھر آئے کھل کر رو لیتی ہے اور یوں ڈرامے کی ریٹنگ میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

Read more

لفظوں کا جادوگر: وجاہت مسعود

الفاظ کی نفاست، خوبصورت انداز بیاں، تشبیہات کی بہتات، تشریحات کا استعمال، مثبت تنقید، استعارات کی فراوانی، شاعرانہ مثالیں، اردو اور انگریزی ادب سے مثالیں، لفظوں سے چھیڑ چھاڑ، نفاست، الفاظ کا بہترین چناؤ، تجسس، اور ذوق ، یہ سب ہم سب کے ایڈیٹر وجاہت مسعود کی تحریروں کے لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ جمہوری سوچ رکھنے والے، انسانی حقوق کے نہ بکنے اور نہ جھکنے والے علم بردار وجاہت مسعود کی تحریریں یقیناً نئے لکھاریوں کے لئے مشعل راہ کی

Read more

ذوالفقار احمد تابش کا مجموعۂ کلام: در نیم وا

پھانس سینے میں گڑی رہتی ہے رات کمرے میں کھڑی رہتی ہے مرے پہلو میں مری پرچھائیں یونہی چپ چاپ پڑی رہتی ہے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو ”اردو شاعری کی آبرو“ کہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اردو غزل واقعی آبروئے شعر اردو ہے۔ صدیوں کے عبور و مرور کے باوجود یہ صنف آج بھی موجب دلکشی ہے. ذوالفقار احمد تابش ملک کے بہت ہی معروف شاعر، ادیب اور مصور ہیں۔ ’در نیم وا‘ محترم ذوالفقار احمد

Read more

احمدی برادری کی مشکلات: امتیازی سلوک، مقدمات اور قتل کے خوف کے سائے میں رہنے والے نوجوان کی کہانی

عدنان کے خیال میں پاکستان میں بڑھتی مذہبی تفریق اور انتہا پسندی سے اقلیتوں کے لیے گھٹن اور پابندی کا احساس اب پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر کسی کو اپنے نظریات اور عقائد کے اظہار کی آزادی ہو۔

Read more

ٹلا جوگیاں کا شاعر نصیر کوی اور اس کے اندر کی تپش

21 ستمبر 2011 کے انگریزی روزنامہ ً ڈان ً میں ایک خبر شائع ہوئی۔ 65 سالہ شاعر نصیر کوی لاہور کے محافظ ٹاؤن میں اپنے اک دوست کے گھر بیٹھے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں علاج کی خاطر فنڈ کے لئے کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پنجابی شاعرنصیر کوی اپنی قسمت پر مطمئن تھا۔ جہلم میں جی ٹی روڈ پر واقع دوست کے ہوٹل کے باہر ایک کھوکھے میں پان سیگریٹ بیچتے ہوئے آمرانہ حکومتوں

Read more

انسان، تہذیب اور زندگی

کسی قوم کی ثقافت اس قوم کے ذہن کی پیداوار ہوتی ہے۔ انسانی ذہن ہی اپنی ثقافت کی بنیاد رکھتا ہے اور انسانی ثقافت ہی ہے جو انسان کی زندگی کو آسان یا مشکل بناتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب اپنی ہی بنائی ہوئی انسانی ثقافت انسان کے لئے لیے زندگی میں خوشی اور غم کا باعث ہوتی ہے تو پھر کیوں نہ صرف ایسی ثقافت بنائی اور اپنائی جائے جو انسان کے لئے صرف اور صرف خوشی

Read more

روپی کور: ’دودھ اور شہد‘ کی بات کرنے والی شاعرہ آخر اتنی متنازع کیوں؟

روپی کور نے حال ہی میں جھومتے لہکتے اور اپنے ہاتھوں اور انگلیوں کو لہراتے ہوئے اپنی پہلی کتاب میں سے چند اشعار پڑھے، لیکن ان اشعار میں جو کہا گیا اس کے بعد انھیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

Read more

طاہر بنوں کہ ہاشم؟   

کل چھٹی کا دن تھا! گھنٹی بجی، دیکھا دروازے پہ ایک دوست کھڑی تھیں، ہانپتی کانپتی اندر داخل ہوئیں۔ سانس بحال ہوا تو کچھ پراسرار سے لہجے میں پوچھنے لگیں، “سنو، تمہارے ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کا شعبہ ہے نا؟” “جی، کیوں پوچھ رہی ہیں؟” “کیا وہاں’ وہ’ والا آپریشن ہوتا ہے؟” ان کی آواز دھیمی سے دھیمی ہوتی چلی گئی “ یہ ‘وہ والا’ کونسا آپریشن ہے؟” ہم نے تعجب سے پوچھا، “ارے سمجھا کرو نا” وہ ماتھے پہ

Read more

دریا – ایک گرین زون کہانی

ایک صبح جب آئینہ دیکھا تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ مجھے اپنے چہرے میں بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں۔ وہ تبدیلیاں اتنی معمولی تھیں کہ اوروں کو نظر نہ آئی تھیں۔ لیکن اتنی معمولی بھی نہ تھیں کہ میں انہیں نطر انداز کر سکتا۔ میری آنکھوں کی چمک کم ہو گئی تھی اور میرے دل کے شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک ذہنی طوفان اور جذباتی بحران کی آمد آمد ہے۔ میں ایک پھسلتی ڈھلوان پر کھڑا ہوں اور اگر ایک دفعہ پھسلنا شروع ہو گیا تو میں اسے روک نہ سکوں گا۔ گہری کھائی میں گرتا چلا جاؤں گا۔ میں اس عمل سے بخوبی واقف تھا کیونکہ میری زندگی میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔

Read more

اردو کے برطانوی اسکالر ڈیوڈمیتھوز کی موت ، ایک درخشندہ باب کا اختتام

ہمارے یہاں مستشرقین کے بارے میں ہمیشہ سے ایک کشش سی رہی ہے۔ جس قدر انہیں ہمارے بارے میں جاننے کی جستجو ہوتی ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہمیں ان غیر زبان کے لوگوں کے بارے میں جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈیوڈ میتھوز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

آج سے تقریباً نصف صدی پہلے کی بات ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور و معروف ڈاؤننگ کالج کے باہر ایک نوجوان انگریز طالب علم نے اپنی سگریٹ سلگائی اور انگلستان کی مسلسل اور تھکا دینے والی بارش سے بچنے کے لیے خود کو ذرا سا سائبان کے نیچے کر لیا۔ اسی اثنا میں ایک اور طالب علم، جو اپنی شکل اور وضع قطع سے جنوبی ایشیا کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا، اس کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب دو سگریٹ پینے والے کھلی فضاء میں سگریٹ کے کش لگاتے ہیں تو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کے درمیان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اسی دوست سے برصغیر کی زبانوں کے بارے میں کچھ ابتدائی معلومات حاصل کیں اور انٹرویو دینے چلے گئے۔ وہاں ان کے موضوع پر سوالات کے بعد انٹرویو لینے والی پروفیسر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی جنوبی ایشیائی زبان سے بھی واقف ہیں تو ڈیوڈ نے ایک رباعی جو انہوں نے اپنے پاکستانی دوست سے سیکھی تھی، اسے مکمل اعتماد کے ساتھ پڑھ کر سنا دی۔ خاتون نے کہا آپ کو تو بہت اچھی اردو آتی ہے۔

ڈیوڈ کی قسمت نے ان کا ساتھ دیا چونکہ وہاں اور کوئی ان سے بہتر امیدوار موجود نہ تھا لہٰذا ان کی ڈگریوں اور بنیادی قابلیت کی بناء پر لندن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات میں ان کا تقرر ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیوڈ نے جو رباعی اپنے انٹرویو کے دوران سنائی تھی اس کا دور دور تک اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ رباعی عمر خیام کی تھی۔

Read more

استقلال مارشی

قسمت کی خوبی دیکھیے کہ فیض کہاں یاد آئے۔ وہ معرکہ چناق قلعے کی سو سالہ تقریبات تھیں جس میں تقریباً چالیس سربراہانِ مملکت و حکومت شریک تھے۔ اختتامی تقریب میں کنسرٹ تھا اور قائد جمہوریت رجب طیب ایردوآن کا خطاب۔ اس خطاب کی کشش ایسی تھی کہ لگتا تھا کہ شہر کا شہر امڈ آیا ہے۔ کانگریس سینٹر ہم نے بہت دیکھ رکھے ہیں لیکن یہ تو پوری جلسہ گاہ تھی جس میں ہزاروں ترک سما گئے۔ 1974 میں

Read more

’’حیات اقبال‘‘ کچھ الگ تھی

اقبال افغانستان گئے۔ وہاں عبدالمجید اتاشی کے ساتھ مذاق کا سلسلہ رہتا۔ ایک روز عبدالمجید اتاشی نے کہا!ڈاکٹر صاحب کیا اچھا ہو کہ آپ بھی انگلستان آتے ہوئے یادگار کے طور پر بیویاں لانے والوں کی طرح افغانستان سے جاتے وقت افغان خاتون سے شادی کر کے لے جائیں۔ اقبال نے پوچھا کہ یہ خاتون مجھ سے کیا برتائو کرے گی۔ مجید نے کہا کہ اچھا برتائو کرے گی‘ ہاں منہ نہار جگا کر حکم دیا کرے گی’’او ڈاکٹر او

Read more

نائی کو باربر کھا گیا

ڈھول کی تھاپ پر۔ دیگوں کی آواز۔ لوگوں کی خوش گپیاں۔ اور اس سب ہلے گلے میں ایک آواز بلند ہوتی ہے چری اڑی۔ بو کاٹا۔ اور بچہ رونے لگتا ہے پر بڑے اس کے گھر والوں کو مبارک باد دیتے ہیں۔ اینٹی سیپٹک کے طور مٹی کے چولہے سے جلی لکڑی کی سوا (راکھ) اٹھا کرمل دی جاتی ہے۔ لو جی رسم ختنہ ادا ہوئی مبارک ہو۔ کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے۔ استاد سخن غالب صاحب

Read more

محبوب دیوتا: وہ عشق جو مذہب بن گیا

دوسری صدی عیسوی میں عظیم رومی سلطنت پر پانچ بڑے شہنشاہوں کی حکومت رہی۔ میکاولی نے لکھا ہے ”اس دور کا مطالعہ کرنے سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ ایک اچھی حکومت کا قیام کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ تمام رومی بادشاہ جنہیں حکومت وراثت میں ملی (ماسوائے تیٹس) برے حکمران ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس 96 سے 180 عیسوی کے درمیان نروا سے لے کر مارکس تک پانچوں عظیم حکمران اصل اولاد نہیں، لے پالک تھے۔ ان کے بعد جونہی

Read more

اربنائزیشن اور جشن بہاراں کا فرسودہ تصور

گروہ انس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ میں اقتصادیات کا کلیدی رتبہ رہا ہے، قدیم تہذیبوں کی شناخت میں اس عہد کی معاشی خوش حالی پنہاں ہے۔ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کے ملیا میٹ ہونے میں محض قدرتی تبدیلیاں کارفرما نہیں تھیں بلکہ تہذیبی ترقی میں انسانوں کے گروہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سماجی عدم مساوات، سیاسی گروہیت اور ناقص اقتصادی منصوبہ بندی بھی اہم وجوہات میں شامل تھیں۔ اقتصادیات میں آزادانہ منصوبہ بندی اور انحصار پذیری کو کم سے کم سطح پر رکھنا ترقی کی ضمانت قرار پاتا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ تہذیب کے مرکزے کے باشندے بشمول ریاستی ڈھانچہ کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہوں اگر یہ صلاحیت بانجھ پن میں تبدیل ہو جائے تو رفتہ رفتہ اس سماج کی پسماندگی و بدحالی مقدر بن جاتی ہے۔

Read more

لمز: پاکستان کی نجی یونیورسٹی میں 1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام پر کانفرنس منسوخ، سوشل میڈیا پر تبصرے

لاہور کی ایک معروف نجی یونیورسٹی میں بنگلہ دیش کے قیام اور 1971 کی جنگ کے 50 برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک آن لائن کانفرنس منسوخ کر دی گئی ہے۔

Read more

ادا جعفری کی یاد میں

اردو ادب میں تین خواتین نے اپنی انفرادیت کی بنا پر افسانہ، شاعری اور تنقید میں اپنا منفرد شناخت نامہ مرتب کیا ہے۔ افسانوی ادب میں عصمت چغتائی، دنیائے نقد میں ممتاز شیریں اور شاعری کی دنیا میں ’ادا جعفری‘ ۔ ادا جعفری کو اردو شاعری کی خاتون اول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ

Read more

بیویوں پر لطیفے کیوں گھڑے جاتے ہیں؟

میٹرک میں اردو کی کتاب میں پہلی مرتبہ غزل کو غور سے پڑھنے کی توفیق ہوئی تو اس میں محبوبہ کی حسین بل کھاتی زلفوں، گورے رنگ اور چاند سے چہرے جیسی تعریفیں دیکھیں جو کہ صرف اور صرف محبوبہ کے لئے ہیں کیونکہ محبوبہ کے کیس میں پا لینے کے جہاں تک چانسز ہوتے ہیں، وہیں ہمیشہ کے لئے دوری کے بھی امکانات ہوتے ہیں، سو محبوبہ قیمتی لگتی ہے اور اس کو دیکھنے کی نگاہ بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ حسین زلفیں بل کھا رہی ہوں اور چہرہ چاند سا روشن ہو۔

Read more

دی کائٹ رنر: آپ کے لیے ہزار بار

افغانستان ایک جنگ زدہ ملک ہے ، جو گزشتہ نصف صدی سے اپنی اور غیروں کی لگائی ہوئی آگ میں مسلسل جل رہا ہے۔ یہ چونکہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اس لیے وہاں جب بھی حالات بگڑے، پاکستان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ چاہے وہاں روس کے خلاف جنگ ہو، خانہ جنگی کے حالات رہے ہوں یا نائن الیون کے بعد کی امریکہ افغان جنگ ہو، وہاں آنے والی ہر تبدیلی کا ردعمل پاکستان تک ضرور پہنچا۔ اس لیے عام پاکستانی بھی افغانستان میں جنگ اور اس کی تباہ کاری کی خبروں کو سنتا اور دیکھتا آیا ہے۔ تاہم عام پاکستانی افغان لوگوں کے خانگی حالات بارے واجبی سی آگاہی رکھتا ہے۔ مجھے بھی افغانستان بارے اتنی ہی جانکاری رہتی،  اگر میں انگریزی ناول ”دی کائٹ رنر“ نہ پڑھتا۔

Read more

انڈیا، امریکہ اور روس سے تعلقات کے درمیان توازن کیسے رکھے گا؟

جس طرح انڈیا کے لیے عالمی سطح پر بدلتے رشتوں اور ترجیحات کے درمیان نئے اور پرانے دوستوں میں توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے، اسی طرح روس اور امریکہ بھی اتحادی کی حیثیت سے انڈیا کو کھونا نہیں چاہیں گے۔

Read more

سلووینین ادیبہ للی پوٹ پارا کی کہانی: سرپرائز

ڈاکٹر آفتاب احمد کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں اردو اور ہندی کے سئنیر لیکچرر ہیں۔ انہوں نے کمال شفقت سے ‘ہم سب’ کے لئے سلووینین مصنفہ للی پوٹ پارا کے افسانچہ ”سرپرائز’ کا ترجمہ عنایت کیا ہے۔ للی پوٹ پارا کی تخلیق کردہ یہ کہانی سلووینین زبان کی ایک مشہور کہانی ہے۔ للی پوٹ پارا سلووینین ادب کی ایک معروف، انعام یافتہ مصنفہ اور مترجمہ ہیں۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو ‘ورلڈ لٹریچر ٹوڈے’ میں

Read more

گرمیاں اور گاؤں

ہمارے گھر میں ہمیشہ سے ایک کمرہ امتحان جیسی نگرانی کا ماحول رہا ہے ، جس کی روٹین میری بورڈ میں انٹری یعنی نویں جماعت سے یکساں ہے کہ ناشتے کے فوراً بعد کتابیں اٹھا لینی ہیں، کسی بھی مضمون کے حل طلب سوالات کی مشق بنا چوں چرا شروع کر دینی ہے اور پھر اس کے بعد رٹا لگا کر نصاب کے ہر مضمون کو باری باری ایک گلاس پانی کے ساتھ گھول کر پی جانا ہے اور اس کے بعد امتحانی کمرے میں جوابی پرچے پر الٹ کر آ جانا ہے جس کا میں میٹرک کے امتحانات میں اعلیٰ نمبر لے کر کامیاب تجربہ کر چکی ہوں، یہ الگ بات کہ مجھے اب تک ریاضی کی نہ تو سمجھ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی جس میں خاص طور پر سو فیصد نمبر لیے۔

Read more

سیمیں درانی کے افسانے: آنول نال

یہ کتاب محترمہ سیمیں درانی کے 15 افسانوں اور ایک مضمون پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام قدرے چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن مصنفہ کا یہ دعوی کہ مرد حضرات آنول نال کو جانتے تک نہیں اور اس کے ذکر پر اپنی ناف کھجانے لگتے ہیں، حقیقت نہیں۔ مزید وہ کہتی ہیں کہ مرد آنول نال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ مرد جانتے بھی نہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ جس جنسی استحصال،

Read more

یعنی اب محبت بھی بھاشن دے کر سکھائی جائے گی؟

محبت کے اظہار پر دو پریمیوں کو یونیورسٹی بدر کر دیا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ لڑکی کی پسند لاجواب تھی کیونکہ لڑکے نے یونیورسٹی سے نکالے جانے کا الزام لڑکی پر تھوپنے کے بجائے نہ صرف اس کا دفاع کیا بلکہ فوراً ہی شادی کر کے اپنی محبت کا حق بھی ادا کیا اور ایک انوکھی مثال قائم کی۔ انوکھی اس لئے کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جتنے نیکو کار سوشل میڈیا پر بڑے بڑے بھاشن دے رہے ہوتے

Read more

چہار کالمی خبر، ڈاچی ایکسپریس اور معروف شاعروں کی رعونت

خبرنامہ زوروشور سے ہائی کورٹ کے باہر ہونے والی اخلاق ( باختگی ) سے بھر پور پاکستانی سیاست کا آج کا کارنامہ یعنی اپنے امریکہ پلٹ شہباز گل پر انڈے بازی اور سیاہی کی گل پاشی کی خبر کی چاشنی لے رہا تھا کہ شہباز گل خود سامنے آئے۔ اور ان کے منہ سے جھڑتے پھولوں میں جب یہ فقرہ آیا۔ ”تو میں۔ مریم نواز۔ تیرے گھر جاتی امراء کے سامنے۔ کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کروں گا“ ۔ کہ

Read more

کیا آپ کی خواہش اور کام ہم آہنگ ہیں؟

ابھی گزرے کل کی بات ہے کہ میں نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک رکشا پر لکھا ہوا دیکھا:
قسمت کا مارا ہوں، مقدر بھی ہار چکا ہوں /کسی بے وفا کی خاطر رکشا چلا رہا ہوں

یہ شعر جب نظر سے گزرا تو مجھے یہ محسوس ہوا کہ رکشا ڈرائیو کرنے والے ہمارے کپتان رکشا مجبوری کے عالم میں چلا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رکشا چلانا ان کا شوق اور مشغلہ نہیں ہے بلکہ وہ رکشا اپنی ناگزیر معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چلا رہے ہیں۔

Read more

دوسری شادی یا ایماندارانہ بیوفائی اور محفوظ تشدد

اسلام میں مردوں کوایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ تاہم، اسلام مردوں پر اپنی بیویوں کے ساتھ مناسب سلوک کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ جن لوگوں کو خوف ہے کہ وہ متعدد ازواج میں انصاف اور مساوی سلوک نہیں کر پائیں گے وہ پھر ایک پر ہی اکتفا کریں۔

ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 55 فیصد طلاق کا سبب مرد کی دوسری بیوی کی خواہش ہے۔ تو پھر کیوں عورتیں اپنے شوہروں کو دوسری بیویاں لینا قبول نہیں کرتی ہیں؟ کیا یہ حسد، غرور یا دیگر معاشرتی عوامل کی وجہ سے ہے؟ کیا عصری سعودی خواتین 20 سال قبل اپنی ماؤں کی طرح شادی ازواج کو قبول کرتی ہیں؟

Read more

پیپلز پارٹی تاریخ کی درست سمت کھڑی ہے

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے بعد کچھ لوگ پیپلز پارٹی کے سیاسی کردار کو مشکوک بنانے اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون مفاہمت میں بداعتمادی کی دراڑیں ڈالنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، ان کوششوں کو تقویت پی ڈی ایم اجلاس کے بعد ملی جب پیپلز پارٹی نے استعفوں کے معاملے پہ اختلافی موقف اپنایا اور پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے دوران اجلاس میاں نواز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ کیا،  جس پہ مریم نواز اور

Read more

یوم خفت

عصر حاضر میں مختلف نسبتوں سے دن منانے کا چلن عام ہو چکا ہے۔ لگتا ہے عنقریب سال کے 365 دن کم پڑ جائیں گے اور ایک ہی دن کو کئی نسبتوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ مجھ سمیت میرے چند احباب کو یونیورسٹی کی جانب سے ایک تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ وہ تقریب بغیر کوئی وجہ بتائے مقررہ وقت سے چند گھنٹے پہلے مؤخر کر دی گئی۔ مجھ سمیت کچھ دوست جو مختلف مصروفیات اس

Read more

غیر جانبدار تنقید ‌اور شخصیت پرستی

اردو ادب کی بہت مشہور شخصیت تحقیق، تنقید سوانح اور ترجمہ کے میدانوں میں ناقابل فراموش خدمات کے لئے عالمی سطح پر اردو دنیا میں معروف پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی صاحب نوے کی دہائی میں ایک ادبی رسالہ نکالتے تھے جس میں کسی ہمعصر شاعر کے کلام پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کا عنوان تھا ”پوسٹ مارٹم“ ۔ تنقید صحیح معنوں میں اسی نقد و جرح کو کہا جاتا ہے ، جس میں تنقید نگار صاحب

Read more

صوفہ جلانے کے بعد مولانا عزیز کو اور کیا کرنا ہے؟

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پہ ایک وڈیو کلپ گردش کر رہی تھی جس میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اپنے پندرہ بیس مریدین کے ساتھ ایک صوفہ سیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان فرما رہے تھے کہ ”صوفہ پہ نہ تو نبی پاک ﷺ اور نہ ہی صحابہ کرامؓ بیٹھتے تھے بلکہ زمیں پہ بیٹھتے تھے، اس لیے صوفہ پہ بیٹھنا جائز نہیں ہے، حرام ہے لہٰذا میں اس کو آگ لگا رہا ہوں“ اور پھر وہ صوفے

Read more

شاہ جمال کا مجاور

بہت دن ہوئے وہ مجھے افغان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کے نام سے موسوم سڑک پر سر راہ اس جگہ ملا جہاں خواتین کا ہسپتال ہے۔ ہم دونوں ہی کسی سرکاری نوکری کے لئے تحریری امتحان دے کر نکلے تھے۔ حیرت ہے کہ یونیورسٹی میں ایک ہی سیشن اور ایک سے ”مشاغل“ ہونے کے باوصف ہم کبھی اک دوجے سے نہ ملے تھے۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد یہ تعلق انتہا سے بڑھی ہوئی بے تکلف دوستی میں بدل

Read more

توحید ہالیپوتہ: پی آئی اے کے وائرل فلائٹ سٹیورڈ جن کے کندھے پر ایک روتے بچے کو سکون ملا

توحید ہالیپوتہ کے مطابق وہ گذشتہ 30 سال سے پی آئی اے سے وابستہ ہیں، یہ ان کے فرائض میں شامل ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور آرام دہ سفر کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ فضائی سفر آسان نہیں اور کیبن میں دباؤ کی وجہ سے بچوں کے کان کے پردوں پر اثر پڑتا ہے۔

Read more

ادبی جوڑے کی شادی اور حق مہر میں کتابوں کی لائبریری

ایک بہی خوا نے ایک خبر پوسٹ کی تھی اور ساتھ میں نکاح نامے کا فوٹو بھی لگایا ہوا تھا۔ مبارک باد کے ساتھ ساتھ دوستوں کے اس انوکھے اور جدید طریقہ کار پر کمنٹس کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ یہ شادی پشتو زبان کے انتیس سالہ  شاعر، ادیب اور حال ہی میں پشتو لٹریچر میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر سجاد ژوندون اور ان کی اہلیہ ستائیس سالہ نائلہ پشتو زبان و ادب کی ادیب، شاعرہ اور

Read more

پروفیسر ڈاکٹر شہباز گل صاحب اور انڈہ گردی

لکھنو کو ادب کا شہر کہا جاتا ہے، لکھنو کے لوگ لڑتے ہوئے بھی ادب کا دامن نہیں چھوڑتے۔ دو بچے آپس میں کچھ یوں بحث کر رہے تھے۔ عالی جاہ! ہماری دیرینہ قلبی حسرت ہے کہ آپ کے رخ روشن پر ایسا زناٹے دار طمانچہ رسید کریں کہ آپ کے چہرے پر ہماری انگلیوں کے نشان ابد تک ثبت ہو جائیں اور آپ تاحیات اس ذلت کے نشان کو لے کر کوچہ کوچہ، قریہ قریہ اور بستی بستی گھوما

Read more

فاروق بھائی (ڈاکٹر سید احمد فاروق مشہدی) کی کچھ یادیں

پیارے بھائی پروفیسر ڈاکٹر سید احمد فاروق مشہدی کا 5 جنوری 2021 کو انتقال ہو گیا تھا۔ میں نے ان کی یاد میں ایک تفصیلی مضمون پہلے بھی لکھا تھا۔ آج میں ان کے ”ہم سب“ میں شائع ہونے والے مضامین کا مطالعہ کر رہا تھا جو کتابی شکل میں شائع کروانے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ۔ دوران مطالعہ دل بھر آیا، آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ مرحوم بھائی سے محبت اور پھر ان کی زندگی کے خاتمے کا

Read more

مجھے کورونا ہو گیا ہے

اس وقت جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں ، مجھے کورونا کا شکار ہوئے پورے سات دن ہو گئے ہیں۔ شروع کے دو سے تین دن خاصے مشکل تھے۔ بخار اور جسم درد نے بستر سے لگا دیا مگر چوتھے دن کے بعد صحت ٹھیک ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے چند دن تو میں نے اس بخار اور درد کو نارمل سمجھا مگر کچھ خیرخواہ دوستوں کے مشورے سے گیارہ مارچ کو کورونا ٹیسٹ کروایا جو پوزیٹیو آ گیا اور یوں میں نے خود کو آئسولیٹ کر لیا۔ اب ایک ہفتہ ہو گیا ہے ، بند کمرے میں زندگی کے شب و روز گزار رہا ہوں۔

Read more

آغا شورش کاشمیری اور ان کا ہفت روزہ چٹان

آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والدین کشمیر سے ہجرت کر کے قیام پذیر ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالکریم تھا لیکن شہرت آغا شورش کاشمیری کے نام سے پائی۔ متوسط گھرانا تھا، سات سال کی عمر میں والدہ کا انتقال ہو گیا۔ ابھی یتیمی کا صدمہ کم نہ ہوا تھا کہ والد نظام الدین بھی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ والد اور والدہ کی وفات کے بعد دادا جو انارکلی بازار میں ایبک روڈ پر باقرخانی اور کلچے لگاتے تھے، نے آپ کو دیوسماج ہائی سکول لاہور میں حصول تعلیم کے لیے داخل کروا دیا۔

Read more

تعلیم گاہیں اور محبت کے قرینے

تعلیمی درس گاہ ایک مقدس جگہ مانی جاتی ہے۔ ہاں ساتھ پڑھنے والوں میں کبھی کبھی پسندیدگی یا محبت کا جذبہ پنپ جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے اور اکثر اس کا انجام شادی پہ بھی ہوتا ہے ، لیکن بات یہ ہے کہ اس کو کس حد تک باوقار رکھا جائے یا رشتے کی شکل دے کے نبھایا جائے۔

Read more

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 26مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد میں پیپلز ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہی اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا جواب آنے تک 26مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ۔   مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ آج کے اجلاس کا ایجنڈا 26 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تھا کہ جب یہ لانگ مارچ ہو تو اسمبلیوں

Read more

ڈپریشن، سٹریس اور لاک ڈاؤن

جوں جوں زندگی ایک ہاتھ میں سمٹتی جا رہی ہے اصل میں زندگی کی ڈور ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ آنکھوں کے وژن کو ہر چیز میسر ہونے لگی تو سوچ، احساس کا وژن تنگ ہوتا گیا۔ محبت، دوستیاں ظاہری طور پہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگیں تو تنہائی اور بڑھنے لگی۔ پہلے صرف اپنی باتیں ہوا کرتی تھیں ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ہر چیز تک پہنچ بھی محدود تھی۔ ایک طرف یہ سب لامحدود ہوا تو بہت کچھ اندر دبتا رہ گیا۔ اپنی باتیں بیچ میں دب گئیں۔ ہم بس

Read more

شہرِ تمنا کے آٹھویں دروازے کے دربان

میں جب پیدا ہوا تھا تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میں اپنے بدن میں رہتا ہوں اور اس شہر کے کئی دروازے ہیں۔

مجھے اپنے بدن کے پہلے دروازے کا اس وقت پتہ چلا جب میری اماں نے بڑی محبت سے مجھے گلے لگایا اور اپنے پستان سے مجھے دودھ پلایا۔ پھر مجھے میری اماں نے بتایا کہ اسے منہ کہتے ہیں۔ یہ شہر کا پہلا دروازہ تھا۔

Read more

سندھ لٹریچر فیسٹیول میں بلوچستان پر سیشن کیوں نہ ہوسکا؟

کراچی — کراچی کے آرٹس کونسل میں اتوار کو سندھ لٹریچر فیسٹیول کا آخری روز تھا۔ تین روزہ فیسٹیول کے تمام سیشنز پروگرام کے مطابق ہوئے جن میں تاریخ، ڈرامہ، خواتین، معاشرتی مسائل، شاعری، میڈیا، موسیقی اور فنون لطیفہ کے علاوہ مختلف سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان مباحثوں میں سندھی، اردو اور بلوچی زبان کے کئی نامور ادیب، شعرا، لکھاریوں اور فن کاروں نے شرکت کی اور تبادلۂ خیال کیا۔

Read more

سرخوشی (Ecstasy)

ہمیں علامہ اقبال سے اس وقت سے محبت ہے جب ہمیں نصابی کتابوں میں پہلی بار ان کی نظموں سے تعارف حاصل ہوا۔ دلچسپی بڑھی تو نصابی کتب کے سوا بھی انہیں پڑھنے لگے۔ معرفت کے باب وا ہوتے گئے۔ ان کی شاعری میں وہ سیرابی تھی کہ تشنگی کو اور سوا کرتی تھی۔ لذت تحریر سے مجبور ہو کر پورا کلام اقبال خریدنے کو جی چاہا اور ایک روز طارق روڈ چلے۔ لبرٹی چوک سے ذرا آگے، طارق سنٹر

Read more

برا نا منائیے گا

عمر بھائی، برا نا منائیے گا، مگر آپ کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ یہ فقرہ ایک جاننے والے نے ہماری پہلی ہی ملاقات میں، ہمیں رتی بھر بھی جانے بنا، بغیر کسی ہچکچاہٹ ادا کیا تو ہم نے گھبرا کے خود کو دیکھا۔ ہاتھ پاؤں سلامت پائے تو چہرے پر ہاتھ پھیرا کہ کہیں ناک وغیرہ تو نہیں کٹوا بیٹھے۔ وہاں بھی خیریت پائی تو حیرت زدہ ہو کر ان کی جانب دیکھا کہ ان کے لہجے کے

Read more

نسلوں نے سزا پائی: سقوط ڈھاکہ کی حسرت ناک داستان

مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک ایسا زخم تھا جسے پچاس سال گزرنے کے بعد بھی بھلایا نہ جا سکا۔ دنیا میں آزادی کی تحریکیں بھی چلتی ہیں۔ ملکوں کی سرحدیں بھی بدل جاتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی علیحدگی ہماری عزت نفس، وقار اور دو قومی نظریہ؛ جس پر ہمیں بڑا ناز تھا سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اقوام عالم میں ہمارا قومی تشخص مجروح ہوا۔ اس اچانک صدمہ سے قوم کا ہر

Read more

اظہار محبت جرم ہے

دل کے احساس سے بندھے لفظوں کا شمار کریں تو سب سے زیادہ برتا جانے والا لفظ محبت ہی ہو گا۔ زندگی کی تعمیر سے جڑے عورت مرد کی حقیقی محبت سے لے کر کائنات کے ہر رشتے کی سچائی اور اساس اسی لفظ سے مشروط ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں محبت کی کلی کھلتی ہے اور پھر کھلی ہی رہتی ہے۔ اس کی خوشبو نہ صرف ان کے مزاج اور فکر کو معطر

Read more

سندھ ادبی میلے میں بلوچستان پر سیشن منسوخ: ’یہ ثابت کرتا ہے ہمیں اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے‘

کراچی میں جاری سندھ ادبی میلے کے تیسرے روز بلوچستان کی صورتحال پر مجوزہ سیشن کو منسوخ کر کے آڈیٹوریم کو بند کر دیا گیا جبکہ اس پروگرام سے چند گھنٹے قبل مقررین کو آگاہ اس کی منسوخی کے متعلق آگاہ کیا گیا۔

Read more

ہم جنسیت جرم نہیں

محترمہ نادرہ مہرنواز ہم سب کے لئے مستقل لکھنے والوں میں سنجیدہ، حقائق پر مبنی اور مدلل مصنفہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ چالیس برس قبل ناروے منتقل ہونے سے پہلے کراچی میں ایک باوقار خاتون صحافی کے طور پر اپنی شناخت رکھتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے انہیں تجویز دی کہ اہل پاکستان کو ناروے کی تاریخ، سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعارف کروانے کے لئے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کریں۔ ناروے انسانی ترقی کی درجہ

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کے ہونہار فلم ساز اور ہدایت کار محمد طارق کے ساتھ ایک نشست

داکار محمد علی سمیت اردو اور پنجابی فلموں کے سپر اسٹارز کا بادشاہوں والا انداز ہوتا تھا کہ ہمیں شاہانہ پروٹوکول ملے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو۔ میں اس بات کے خلاف تھا۔ پہلے دن میں نے محمد علی صاحب کو مکالمے وغیرہ بتلائے تو کہنے لگے کہ یہ مکالمہ منہ پر نہیں آ رہا اس کو بدل دیں۔ میں نے کہا کہ جناب یہ تو بڑا سوچ سمجھ کے کام کیا گیا ہے۔ پھر آپ تو بڑے اداکار ہیں آپ اسے یاد کر کے منہ پر چڑھائیں۔ یہ کہہ کر لائٹ آف کرا دی۔ ان کو آج تک کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ سناٹے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ میں اس فلم (بگڑی نسلیں 1983) کا فلم ساز بھی ہوں۔ سوچ لیں کہ کام کریں گے یا نہیں۔ پانچ منٹ سوچنے کے بعد کہا کہ میں آپ کے کام میں نہیں بولوں گا۔

Read more

کیا آپ لاہور کے سقراط کو جانتے ہیں؟

پاکستان کے اخبار، مساوات، کے 31 مئی 1972 کے ایک کالم میں ترقی پسند شاعر و دانشور ظہیر کاشمیری رقم طراز ہیں، آج لاہور کا سقراط مر گیا ہے۔ اس سقراط کا ایتھنز لاہور میں تھا۔ ینگ پیپلز فرنٹ اس کی اکادمی تھی۔ وہ کئی سالوں سے مسلسل حق اور خیر کی تبلیغ کرتا تھا لیکن آج وہ شعور و دانش پھیلانے کے جرم میں نیلے زہر کا پیالہ پی چکا ہے اور لاہور سے، اپنے ایتھنز سے، ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکا ہے،

Read more

کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب’خدا کی تاریخ‘

کیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ برطانیہ میں ویسٹ مڈلینڈ کے علاقے ووسٹر شائر میں 14 نومبر 1944 کو پیدا ہوئیں۔ کیرن آرم سٹرانگ نے اپنی زندگی کے سترہ سال بطور رومن کیتھولک نن بسر کیے، 1969ء میں اپنے مذہبی سلسلے کو چھوڑنے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری لی اور جدید ادب پڑھایا، وہ برٹش براڈ کاسٹر برائے مذہبی امور کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہیں۔ کیرن کا دائرہ کار اور خیالات کی گہرائی اس

Read more

جامعہ نمل کی پگڈنڈیوں پر علم کی خوشبو

انٹر کے پیپر دینے کے بعد ، ایک سال کے دورانیے میں گھر والوں سے درجنوں جھگڑے ہوئے، ان کے لیے کبھی میں مستقبل کا ڈاکٹر تھا تو کبھی فزیسٹ، جب کہ میں رہا لٹریچر کا شیدائی۔ پانچ جامعات کی تردید، کبھی من پسند فیلڈ نہ ملی تو کبھی یونیورسٹی اور گھر کے درمیان فاصلہ انکار کا موجب بنا۔ آخر کار لٹریچر کا خواب لیے دیوانے کو جامعہ نمل نے پناہ دے ہی دی۔ یہ درست ہے کہ جب انسان

Read more

افغان فوج کے پچاس کروڑ ڈالر کے جہاز 40 ہزار ڈالر میں فروخت: رپورٹ

امریکی ادارے سپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان کی فوج کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے خریدے گئے 20 میں سے 16 ٹرانسپورٹ طیارے صرف چند سال ہی میں ناکارہ قرار دیے جانے کے بعد صرف 40 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیے گئے۔

Read more

ڈیوڈ میتھیوز: انیس اور اقبال کا ترجمہ کرنے والے اردو زبان کے ماہر ڈیوڈ میتھیوز وفات پا گئے

یونیورسٹی آف لندن کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز کے لسانیات کے شعبے کے استاد اور اردو ادب پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز طویل بیماری کے بعد شمالی انگلینڈ کے شہر ڈاربی میں وفات پا گئے ہیں

Read more

موسیقی ہمیں کیسے جوڑتی ہے؟

کبھی کسی دادی یا نانی نے آپ کے سمارٹ فون پر
”یار میرا تتلیاں ورگا“
سننے کی فرمائش کی ہے؟
یا پھر ابا جی نے کہا ہو کہ
”بھئی تیرے اس فون میں“ کالے جئے لباس دی شوقین اے کڑی ”والا گانا“ ڈاؤن لوڈ ”ہو جائے گا کیا؟“
یقیناً نہیں کہا ہو گا۔

Read more

عورت مارچ: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

آٹھ مارچ ہمارا دن تھا، عورتوں کا دن۔ فطری طور پر اس دن کے حوالے کچھ توقعات اور امیدیں وابستہ رہتی ہیں۔ ایک دن کے لیے ہی سہی لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پوری کائنات آج ساتھ ہے اور ہماری تعظیم کر رہی ہے۔ ویمن ڈے کے حوالے سے ملک بھر میں تقریبات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار مجھے اسلام آباد میں ایسی دو ایک تقریبات میں شرکت کرنے کا موقع

Read more

حضرت سلطان باہو ؒ : ایک باعمل صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر

مادر زاد ولی، قلندرانہ جلال، علم وحکمت کے خزانوں سے بہرہ ور، معرفت کا پیکر جمال اور ایمانی جگمگاہٹوں سے بھرپور شخصیت، جنہوں نے اپنا پیغام پنجابی اور فارسی میں عوام و خواص تک پہنچایا۔ ان کے اس پیغام نے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں میں روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ وہ سادگی کا پیکر تھے۔ خلوص و وفا ان کی حیات کا لازمی جزو اور اخلاص و مروت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپؒ ریاکاری، نمود ونمائش، تکلف و تصنع

Read more

وہ جو چاند تھا سر آسماں : داستان عشق

نابغۂ روزگار شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں، اشعر نجمی کی ترتیب و تہذیب میں، ابھی ابھی چھپ کر جو کتاب ’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘ کے نام سے آئی ہے، اسے دیکھ کر مجھے اپنے من پسند ادیب رضا علی عابدی کے افسانے ’جان صاحب‘ کی تین سطریں یاد آ گئیں۔ جان صاحب ایک ایسے کردار کا نام ہے جو کہیں سے آ کر ایک چھوٹے سے شہر کے اسٹیشن پر پڑ جاتا ہے، لوگ اسے پاگل سمجھتے

Read more

خالد سعید: میرا باغ عدن اسی شہر میں ہے

خالد سعید کی سالگرہ پر لکھا گیا ایک عقیدت نامہ ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ جنت میں آپ جس شے کے بارے میں سوچیں گے وہ آپ کے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہاں حزن و ملال نہیں ہو گا، بے چینی و اضطراب نہیں ہو گا، اس طرح کے اگر اس زمین پر رہتے ہوئے میں نے کوئی تجربات کیے تو وہ مرشدی خالد سعید سے سوال پوچھنا، اس کا جواب پانا، اور ان کے ساتھ وقت

Read more

پنجابیوں نے پنجابی زبان سے بے اعتنائی کیوں برتی؟

21 فروری 1952 کو ڈھاکہ کی سڑکوں پر لسانی فسادات نے جس نئی ریاست کی بنیاد رکھ دی، وہ کبھی مشرقی پاکستان تھا اور آج بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ 1947 میں برطانوی نو آبادیاتی حکمران برصغیر سے واپسی پر دو ایسی قوموں کے ساتھ پاکستان کی بنیاد رکھ کر گئے جن کی نہ صرف زبانیں الگ تھیں بلکہ وہ ثقافتی طور پر بھی یکساں نہیں تھے۔ ایسے میں نطریاتی اختلافات ہونا ایک فطری

Read more

پل دو پل کا شاعر اور پل دو پل کی کہانی: برصغیر کے عظیم شاعر ’ساحر لدھیانوی‘ کی 100 ویں سالگرہ

عبدالحئی صاحب 8 مارچ 1941کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے کئی بیویاں تھیں، ساحر جب آٹھ سال کے تھے تو ان کی والدہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی محنت کے بل بوتے پر برصغیر کے اس عظیم شاعر کو تن تنہا پالا۔ عبدالحئی نے اپنے تخلص کا انتخاب علامہ اقبال کے اس شعر سے متاثر ہو کر اپنایا۔ ؎ اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی

Read more

عورت مارچ کے توجہ طلب نعرے

عورت مارچ میں ہونے والے اس مارچ کے بارے میں لوگوں کی رائے کافی متصادم ہے اور ہر کوئی اپنے زاویے سے اس مارچ کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار کر رہا ہے۔ گزشتہ سال کے مارچ میں پلے کارڈ پر درج کچھ نعروں کا کافی لوگوں نے برا منایا تھا جو سمجھ سے بالاتر ہے، وہ نعرے الفاظ میں شاید سخت ہوں مگر ان نعروں کی پیچھے ایک تکلیف اور درد پنہاں تھا۔

Read more

راولپنڈی سازش کیس 1951: مقدمے کے کردار اعلیٰ فوجی افسران اور دانشور کیا چاہتے تھے اور نتیجہ کیا نکلا؟

سنہ 1951 میں ماہِ فروری کا یہ آخری جمعہ تھا جب راولپنڈی کی فوجی چھاؤنی میں واقع کرِیگ روڈ پر ایک جنرل کی سرکاری رہائش گاہ میں درجن بھر کے قریب فوجی افسران، ایک جنرل کی بیوی اور کمیونسٹ پارٹی کے تین دانشور عشائیے پر جمع ہوئے۔ وہاں مبینہ طور پر ایک اجلاس ہونا طے پایا تھا۔

Read more

قاسم جان بھی اللہ کو پیارے ہو گئے

اتوار کے دن قاسم جان لیاقت ہسپتال کراچی میں علالت سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے۔ قاسم جان ایک قوم پرست متحرک سیاست مدار تھے۔ ان سے میری پہلی ملاقات دو ہزار پانچ میں آرٹس کونسل میں جرس ادبی جرگے کی طرف سے ریاض تسنیم اور قیصر اپریدی کے شعری مجموعوں کی کتابوں کی تقریب رونمائی کے دوران ہوئی جس میں وہ مدعو تھے اور کوئٹہ سے اس تقریب کے لئے پشتو کے ممتاز ادیب و شاعر پروفیسر

Read more

شہزادہ ہیری کا بیٹا آرچی ’شہزادہ‘ کیوں نہیں ہے؟

برطانوی شاہی خاندان کی رکن ڈچز آف سسیکس میگھن مرکل نے اوپرا ونفری سے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ جب وہ امید سے تھیں اس وقت سے ان کے بچے کے مستقبل اور اس کو کیا خطاب دیا جائے گا اس بارے میں گفتگو جاری تھی۔

Read more

کچھ گورنمنٹ کالج اور کچھ نیو ہاسٹل کے بارے میں

گورنمنٹ کالج، لاہور بے پناہ خوبیوں کا مرقع ہے۔ اس میں آپ کو دیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا اگر آپ دیدۂ بینا رکھتے ہیں۔ ہر ادارہ اپنے لوگوں سے پہچانا جاتا ہے، اس لیے ذکر ان لوگوں کا جو گورنمنٹ کالج لاہور آئے، ان لوگوں کے لیے، جو اس درگاہ میں آنا چاہتے ہیں اور وہ جو اس ہنگامے کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے، آنکھیں بند کیے ہوئے یا چشم وا کیے ہوئے برداشت کر رہے ہیں۔ آپ گاڑیوں

Read more

ساحر لدھیانوی: بالی وڈ میں رومانس اور انقلاب کے درمیان ایک فیمنسٹ نغمہ نگار

یوں تو ساحر کے کئی روپ ہیں” وہ عوام کے شاعر ہیں، وہ انقلابی شاعر ہیں، رومانوی شاعر ہیں اور حوصلے اور امید کے شاعر بھی ہیں۔

Read more

عورتوں کے حقوق کا عالمی دن اور زاہدہ حنا

بے فکری کے کیا خوبصورت دن تھے، ہم نے یونی ورسٹی کی مصروفیات کو نمٹانے کے بعد شہر بھر کی ادبی و ثقافتی کانفرنسوں اور تقریبات میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ان سرگرمیوں کی بدولت ہم شہر کی ادبی، سیاسی اور فنون لطیفہ کی اہم شخصیات سے روشناس اور متعارف ہوئے۔ شہر کی جس ادبی شخصیت سے سب سے پہلے ہمارا تعارف ہوا وہ اردو ادب کی بہت اہم اور معتبر ادیبہ زاہدہ حنا صاحبہ تھیں۔ بچپن

Read more

ہکلے نواب کی ادھوری کہانی

یقین تو نہیں مگر حقیت تو یہی ہوگی کہ وہ یعنی وصی چچا کب کے مر کھپ گئے ہوں گے۔ آخر کوئی ہمیشہ جینے کے لیے تو آتا نہیں۔ آخری بار انہیں اپنے ابا کے سوئم والے دن دیکھا تھا۔ صوفے کے ایک کونے پہ بیٹھے خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے۔ حسب معمول ان کی آنکھوں پہ اس وقت بھی پہ کالا چشمہ لگا ہوا تھا جو وہ اپنی بینائی سے محروم ایک آنکھ کو جو دوسری آنکھ سے قدرے

Read more

کیف عرفانی: آدھی صدی کا قصہ

کیف عرفانی ایک عہد کا نام ہے۔ ایک ایسا چشمہ جس نے تین نسلوں کو سیراب کیا ہو، پاکستان بھر سے تشنگان علم اس در پہ پہنچتے، ان سے شاعری سیکھتے، اردو تلفظ پر بات کرتے اور علم کی جھولیاں بھر کے واپس لوٹتے۔ کیف عرفانی وہ انسان جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی ترویج میں صرف کی، جن کے قدموں میں بیٹھ کر ہم نے شعر کہنا سیکھا، جن استاد کی گفتگو سن کر ہم نے بولنا سیکھا، جن

Read more

جاوید احمد ملک کی کتاب: اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان

کہا جاتا ہے کہ بہترین معاشرہ تشکیل دینے کے لیے بہترین نظام تعلیم ضروری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا نظام تعلیم اس کے مجموعی ثقافتی معیار سے مشروط ہوتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام اور تعلیمی فکر دونوں کئی عشروں سے سماجی و فکری جدلیاتی عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہاں سیاسی ہنر مندوں کا ہنر یہ رہا ہے کہ اول تو سرے سے تعلیم ہی نہ ہو، اور اگر تعلیمی درسگاہیں موجود ہوں تو وہ اساتذہ

Read more

کورونا کی عالمی وبا کے دنوں میں پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب

(اس مضمون کا متن انڈس کلچرل فورم کی جانب سے 21 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پیش کیا گیا، جو معمولی ترامیم کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لئے حاضر ہے۔ تاہم یہ ایک سرسری جائزہ ہے جو کسی بھی صورت پاکستان کی مادری زبانوں میں ہونے والے کام کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یہ موضوع ایک مفصل اور جامع تحقیق کا متقاضی ہے جس کے لئے یہ مضمون ناکافی

Read more

پاکستان میں سائنس کیوں نہیں پنپ رہی؟

ڈاکٹر عبدالسلام نے ذراتی فزکس (particle physics) کے میدان میں نوبل انعام 1979 ء میں حاصل کیا۔ انہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی سرشت کے بتیس ( 32 ) سال بعد جس کے حصے میں یہ امتیاز آیا وہ عبدالسلام ہیں۔ آپ کی وفات کے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں بھی کسی پاکستانی کو یہ مقام و منزلت نہ ہوا۔ گو کہ 2014 میں ملالہ یوسفزئی نے بھی نوبل انعام حاصل کیا ہے البتہ یہ انعام

Read more

میاں نواز شریف: ایک لوہار کی

شاعری اور موسیقی میں اردو کی دو غزلیں کچھ وکھرا ذائقہ رکھتی ہیں۔ پہلی فیض کی یہ غزل ہے۔ ’مجھ سے پہلی سے محبت مرے محبوب نہ مانگ‘ ۔ اسے ملکہ ترنم نے کچھ ایسے گایا کہ داد میں فیض نے یہ غزل اسے ہی بخش دی۔ پھر تو فیض سے بھی اس غزل کو سننے کی فرمائش ملکہ ترنم والی غزل کہہ کر کی جاتی رہی۔ دوسری غزل سید زادے عدمؔ کی ہے۔ ’وہ باتیں تری وہ فسانے ترے‘

Read more

نہ عمران نہ نواز، بس بزدار بزدار

قبلہ ہارون رشید اور چوراہے والے حسن نثار صاحب کا حال دیکھ کر یہ جان لینا چاہیے کہ بندہ کسی کو بادشاہ بنانے کی خاطر تن من کی بازی لگاتے ہوئے اپنی زندگی بھی صرف کر دے تو بادشاہ بن جانے کے بعد وہ اس کا احسان نہیں مانتا بلکہ اسے ویسے ہی عزت و احترام سے حج کرنے بھیج دیتا ہے جیسے مغل اعظم نے بیرم خان کو بھیجا تھا۔ ساتھ بے دید ہو کر کہہ بھی دیتا ہے کہ خان بابا اب ایک گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں حکومتی معاملات میں دخل نہ دیں آپ کو ان چیزوں کی سمجھ نہیں ہے۔

Read more

حقیقت کہاں ہے، ابوالکلام سے جانیں – مکمل کالم

’مغالطہ پاکستان‘ میں ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس جماعت میں متعصب ہندو بھرے ہیں جو مسلمانوں کو شودر سمجھتے ہیں اور مکار اور سازشی ہندوؤں کا یہ ٹولہ انگریزوں سے ساز باز کر کے ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ اچھے بچوں کی طرح ہم نے یہ باتیں رٹ لیں۔ مگر اس دوران کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ مولانا محمد علی جوہر اور ابوالکلام آزاد جیسے جید مسلم علما ہندوؤں کی اس کانگریس پارٹی کے صدر بھی رہے ہیں۔

بڑے ہو کر جب ہمیں یہ بات پتا چلی اور ہم نے سوال اٹھایا کہ ابوالکلام جیسا عالم دین ایک متعصب ہندو پارٹی کا سربراہ کیسے بن گیا تو جواب میں ہمیں قائد اعظم کا وہ مبینہ جملہ سنا کر خاموش کروا دیا گیا کہ ’مولانا آزاد کانگریس کے شو بوائے ہیں۔‘ اس کے بعد اب کس میں ہمت تھی کہ قائد کے بیان کو چیلنج کرتا۔ چپ ہو گئے۔ حقیقت کیا تھی، یہ ہمیں ابوالکلام آزاد نے سمجھایا!

Read more

عشق کے کوچے سے

محبت کیا ہے؟ خود سے سوال کرتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ بھاڑ سے الگ ایک نئی دنیا کے دروازے میرے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ غیب سے ایک آواز گونجتی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو عشق کرنا جانتے ہیں۔ میرا بے خوف عشق مجھ سے اور میری روح سے وابستہ ہے۔ اس کی محبت میری ہی محبت کا پرتو ہے۔ اس کی لبیک مجھے انتہا کے دروازے تک لے آتی ہے اور محبت کا نغمہ مجھے مسحور و

Read more

شہید محبت رابعہ بلخی اور چند بہادر خواتین کا ذکر

یہ رابعہ بلخی کا مزار ہے۔ صوبے کا نام بلخ جبکہ مزار شریف اس کا دارالحکومت ہے جہاں فضل امین کا گھر ہے ، اس کے گھر سے ٹھیک پندرہ میٹر کے فاصلے پر ہم لوگ کھڑے ہیں۔ یہ بتانا تھا مریم کوشہ کا جو افغان ایڈ میں کام کرتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تحقیق اور جستجو کے لئے سفر کر چکی ہے۔ دنیا کی کئی زبانوں پر دسترس رکھتی ہے ، اس کے لئے دنیا بھر میں

Read more

پدرسری نظام سے مردوں کو لاحق مشکلات

9میں اس کالم کی پیش کش اس نکتے پر کر رہی ہوں کہ میں ایک فیمینسٹ کی حیثیت سے شناخت رکھتی ہوں۔ جب میں یہ دعوی کرتی ہوں کہ صنفی حقوق سب کے لئے ہیں، تو میں پوری سمجھ سے یہ کام کرتی ہوں کہ خواتین کو تاریخی طور پر حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہے، اور اب بھی جاری ہے۔ لیکن جو بھی شخص جس نے حقوق نسواں کی باہمی فطرت پر توجہ دی ہے وہ

Read more

تاریخی حقائق اور پیریڈ پارٹی

انسانی زندگی پیدائش سے موت تک مختلف مدارج طے کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں پر خوشی اورغمی کے اظہار کے لیے ہر دور میں انسان مختلف رسوم و رواج اپناتا رہا ہے۔ وہ جب مذہب کے تصور سے آشنا نہیں ہوا تھا اس وقت بھی اپنے مردوں کو دفناتا تھا اور کچھ رسوم ادا کرتا تھا۔ یہی رسوم بعد میں مذاہب کی بنیاد بنیں۔ قدیم حجری دور میں مبہم اور درمیانی دور میں اس کی واضح نشانیاں ملتی ہیں۔ پنتیس سے

Read more

فنکار، فن اور پاگل پن

”شاعر ایک آزردہ ہستی ہے جس کا دل پراسرار کرب سے زخمی ہے، مگر اس کے لبوں کی حیران کن بناوٹ ایسی ہے کہ جب ان میں سے آ ہیں اور چیخیں برآمد ہوتی ہیں، تو وہ دلکش موسیقی کی طرح سنائی دیتی ہیں۔“

Soren Kierkegaard

یہ خیال نیا نہیں ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور جنون کا کوئی آپسی تال میل ہے، گو کہ دونوں عوامل اور ان کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کے ساتھ ساتھ صدیوں سے اس خیال میں تغیر وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ یونانیوں کے ہاں الوہی دیوانگی کا تصور ملتا ہے، جس سے مراد ان کا یہ عقیدہ تھا کہ دیوانگی صرف ذہنی بیماری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت بھی ہے جس میں روحیں ان پر قابض ہو جاتی ہیں اور انہیں دیوتاؤں کا وجدان حاصل ہو جاتا ہے۔

Read more

کیا محض پروفیسر، ادبی نقاد ہو سکتا ہے؟

یہ گزشتہ روز کی بات ہے بہت ہی محترم استاد اور نقاد، جو کہ بہا الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں شعبہ اردو کے سربراہ بھی رہے، کی فیس بک پر یکے بعد دیگرے چار ادبی پوسٹ نظر سے گزریں۔ ایک پوسٹ کی تحریر اور نیچے دی گئی تصاویر نے مجھے زیادہ چونکایا ”تنقید کے نئے چراغ۔ ان ہی کے دم سے روشنی ہے“ اس میں سولہ ”نئے چراغوں“ کی تصاویر تھیں۔ میری کم علمی اور کوتاہ قامتی اپنی جگہ لیکن ان سولہ میں سے دو سے تین ”نئے چراغوں“ کے علاوہ میں کسی کو پہچان نہ پایا۔

Read more

اقتدار کی رگوں میں دوڑتی تبدیلی

ہمارے ہاں ادب کی طرح سیاست کو بھی صحیح حیثیت نہیں دی گئی اور بدقسمتی سے سیاست دانوں کو بدترین مخلوق ثابت کرنے کا سلسلہ بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ حال ہی میں عظیم روسی ادیب چیخوف (Chekhov) کی ایک تحریر میری نظر سے گزری ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”ادب پارٹی آفس ہے نہ کھلنڈروں کی تفریح گاہ ہے، نہ تھکے ماندوں کی پناہ گاہ۔ ادب ایک ایسا نگارخانہ ہے جس کی رونق ان تصویروں سے ہے جو انسانی زندگی کے تجربات کا بیان ہوتی ہیں، اس لئے فن کار کی دلچسپیاں جتنی رنگا رنگ اور ہمہ گیر ہوں گی، اتنا ہی اس کا فن جاندار اور متنوع خصوصیات سے تابناک ہوگا“ ۔

Read more

عجب روایتی عورت ہے

کلینڈر کے حساب سے ہر دن کوئی دن ہو گا، ہر دن کو منانے والے بھی ہوں گے اور ہر دن کے خلاف بھی۔ حیرت اس بات پہ ہوتی ہے کیا ایک دن کافی ہوتا کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے یا ایک دن بعد مسئلہ مسئلہ نہیں رہتا، یا ہم حل طلب طبیعت رکھتے ہی نہیں، بس کچھ ہونا چاہیے دل لگی کے لئے باقی سارے دنوں پہ تو بات ہوتی رہے گی، سب سے پر لطف ٹاپک

Read more