محروم طبقات کی آواز آئی اے رحمان

ایک دن لاہور میں رحمان صاحب کے ساتھ فیض گھر جا رہے تھے ، راستے میں میں نے ان سے پوچھا سر گھر کا مطلب کیا ہے۔ رحمان صاحب مسکرائے اور کہنے لگے گھر کا تصور خاندان کے بغیر ممکن نہیں، ایک خاندان کے افراد جس عمارت میں مقیم ہوں اس کو گھر کہا جاتا ہے ورنہ وہ صرف عمارت یا مکان کہلائے گا مگر گھر نہیں کہلائے گا۔

Read more

"پریم چند گھر میں”: ایک فیمنسٹ ادیب کی زندگی کی کتھا

کسی بڑی ادبی شخصیت کا اصل روپ دیکھنا ہو تو اسے گھر میں دیکھیں. اکثر اوقات انسان دوستی اور عورتوں کے حقوق کے دعویدار دانشور جلوت اور خلوت میں بہت مختلف رویہ رکھتے ہیں. ان کا بس نہیں چلتا کہ گھر میں سوال اٹھانے والی بیوی کا منہ کس طرح بند کردیں. جبکہ باہر کی دنیا میں ان کا رویہ بالکل برعکس ہوتا ہے. مگر منشی پریم چند کا شمار ان سچی اور ستھری ہستیوں میں ہے کہ جن کا

Read more

متن: ایک معروضی مطالعہ

متن کیا ہے؟ کسی مٖصنف کی کتاب کو ترتیب دینا، کسی کتاب کو حواشی کے ساتھ نئے سرے سے شائع کرنا، ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخے کی تلاش کے بعد اسے شائع کرنا تاکہ عوام الناس کو اس سے نفع اور فائدہ پہنچے اس عمل کو تدوین متن کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ متن کیا ہے۔ اس کا تعین کیسے کیا جائے۔ متن اصل حقیقت ہے اسے بنیاد بنا کے تدوین کے عمل کو بروئے کار لایا

Read more

شاہ حسین: پنجابی شاعری میں کافی کی صنف کا علمبردار

چھتیس سال کی عمر تک بہت ہی کٹھن عبادت اور ریاضت کی۔ دن کو روزہ رکھتے، ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ پھر یہ معمول بنایا کہ رات کا پہلا حصہ دریائے راوی کے پانی میں کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے اور تہجد کے وقت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار والی مسجد میں آ جاتے۔ یہاں تہجد اور فجر کی نماز کے بعد دن چڑھے تک وظیفہ کرتے۔ پھر ایک دن یہ سب کچھ چھوڑ

Read more

”اسے پرواز کرنے دو!“ پر ایک نظر

ضیاء الدین یوسف زئی کی انگریزی کی کتاب Let Her Fly کے اردو ترجمہ پر ایک ریٹائرڈ پرنسپل کا تبصرہ کتاب زندگی ہے اور زندگی کتاب۔ اس کتاب میں خوشی ومسرت کے انمٹ وحسین رنگ شامل ہو جاتے ہیں جب کتاب کاتحفہ ڈاکیہ ہاتھ میں تھما دے۔ ”اسے پرواز کرنے دو“ ضیاء الدین یوسف زئی کی آپ بیتی (Let Her Fly) کا اردو ترجمہ ہے جسے فضل ربی راہی نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور یہ

Read more

آئی اے رحمان: ایک چراغ اور بجھا

آئی اے رحمان  (ابن عبدالرحمن) کیا کمال کے فرد تھے۔ ایک فرد جو اپنی ذات میں ایک بڑ ے ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ روشنی کا ایک ایسا مینار تھے جو لوگوں کو فلاح اور رواداری سمیت جمہوری معاشرے کا درس دینے میں پیش پیش ہوتے تھے۔ معروف دانشور، مصنف، صحافی، تجزیہ نگار، ایڈیٹر اور انسانی حقوق کی جدوجہد سے جڑا ایک بڑا معتبر نام آئی اے رحمان 90 برس کی عمر میں اللہ تعالی کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔ یہ دنیا عارضی ہے اور مجھ سمیت جو بھی دنیا میں آیا ہے ، اسے ایک دن اللہ تعالی کی عدالت میں جانا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آئی اے رحمان جو عملی زندگی میں جدوجہد کا استعارہ تھے ، وہ نیک نامی کے ساتھ ایک بڑی بھرپور زندگی گزار کر رب کے حضور پیش ہوئے ہیں۔

Read more

علامہ اقبال اور تصور پاکستان (چند عمومی مغالطے)

عظیم فلسفی کارل پوپر نے سائنس کے مورخین کے بارے میں گلہ کیا تھا کہ وہ بالعموم بہت خراب قاری ہوتے ہیں۔ مجھے اس بات سے صرف اتنا اختلاف ہے کہ بری خواندگی کو سائنس کے مورخین تک محدود کر دینا شاید درست نہ ہو کیونکہ یہ بیماری کافی ہمہ گیر ہے۔ تاریخی متون کو درست پڑھنا شاید اس لیے ممکن نہیں رہتا کہ ہم نے پہلے سے بہت سے تصورات وضع کر رکھے ہوتے ہیں اور جب ان کی

Read more

ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی: ایک قابل تقلید استاد اور محقق

سنہ 1955ء میں پیدا ہونے والے استاد محترم ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی صاحب کے انتقال کی افسوس ناک خبر 5 جنوری 2021ء کو ملی۔ ڈاکٹر صاحب کی جدائی ان سے وابستہ ہر فرد کے لیے کسی عظیم سانحے سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی صاحب سے میرا تعارف 1990ء میں ہوا جب میں جامعہ زکریا ملتان کے شعبہ ایجوکیشن کا طالب علم بنا۔ پہلے ہفتے کی تدریس کے بعد ہی ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ہم سب کلاس فیلوز کو بھا گئی۔

Read more

کیا چچ نامہ ایک سیاسی نظریہ ہے؟

چچ نامہ المعروف فتح نامہ سندھ، تاریخ سندھ کی بنیادی کتاب مانی جاتی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ہند و سندھ میں اسلام کی آمد کے متعلق اس کو ابتدائی تاریخ کا اہم ذریعہ کہا جاتا ہے۔ چچ نامہ کی بنیاد پر اس خطے کے حکمرانوں نے گزشتہ سیکڑوں برسوں تک اپنا سیاسی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ اس کتاب کا کمال یہ ہے کہ یہ ایک فریق کے لیے فتح کی تاریخ ہے تو دوسرے فریق کے لیے شکست، جبر اور زبردستی کی تاریخ۔ ایک فریق کے ہیروز دوسرے فریق کے ولن ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کے مذکورہ کتاب کی اپنی حیثیت اور اصلیت کیا ہے؟ کیا یہ آٹھویں صدی کے واقعات کے متعلق مستند تاریخ ہے، وہ وقت جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے لیے کامیاب چڑھائی کر کے راجہ داہر کو قتل کرنے کے بعد اقتدار پر اپنا قبضہ جما لیا۔ چچ نامہ کے حوالے سے جی ایم سید، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ڈاکٹر مبارک جیسے بڑے عالموں نے جو کام کیا ہے وہ قابل تعریف ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو کولمبیا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منان احمد آصف نے کیا ہے۔

Read more

وہ صورت گر کچھ خوابوں کے

کتاب شائع کر کے اسے قاری تک پہنچانے کی اہمیت کتاب لکھنے سے کسی طور کم نہیں۔ برصغیر میں فورٹ ولیم کالج نے جس روایت کا آغاز کیا اسے اوج کمال تک منشی نول کشور نے پہنچایا۔ ہندوستان کے ثقافتی ورثے خصوصاً اردو کتابوں کی نشر و اشاعت میں منشی نول کشور نے جو خدمات انجام دیں اس کے لیے محبان اردو آج تک ان کے لیے احترام سے سر جھکاتے ہیں۔ مرزا غالب کی منشی نول کشور سے خاصی دوستی تھی۔ نول کشور پریس کے بارے میں انھوں نے ایک خط میں لکھا۔ ”اس چھاپا خانے نے جس کا بھی دیوان چھاپا، اس کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔“

Read more

مشرف عالم ذوقی

وہ جو ہواؤں سے باتیں کرتا تھا اور فضاؤں سے دکھ سکھ کہتا تھا۔ جسے راستوں، دیواروں اور گھروں اور مجلسوں کے قصے کہنا اور پرندوں کے نغمے سننا اچھا لگتا تھا۔ وہ جو گزشتہ زمانوں کے ملبے سے داستانیں اکٹھی کیا کرتا تھا اور زمین میں مدفون حروف پڑھ کر آنے والی صدیوں کا بیان کر سکتا تھا۔ وہ جب چاہتا بادلوں کے رتھ پر سوار ہو کر سیاروں ستاروں اور کہکشاؤں کی سیر کو نکل جاتا تھا اور آسمانوں میں چھپی ابتلاؤں سے مکالمہ کیا کرتا تھا۔

ایک طرف وہ مذاہب کے سیاق و سباق کا مطالعہ کرتا تھا تو دوسری جانب تاریخ کے چوراہے پر بیٹھ کر تہذیبوں سے مکالمہ کرتا تھا۔ جسے کردار نگاری میں ملکہ حاصل تھا اور جو پیدا ہی کہانیاں سننے اور کہنے کے لئے ہوا تھا۔ جس کی تحریروں میں ماضی کے سارے کردار قرنوں کی گرد جھاڑتے آن موجود ہوتے اور جلال و جمال سے دہکتی صورتیں اس کے قلم کے جادو کے تابع ہو جاتیں۔

Read more

حکومت اور کالعدم تحریک لبیک میں ’مذاکرات‘: صورتحال بیان کرنے کے لیے سوشل میڈیا صارفین کو اشعار کا سہارا لینا پڑا

سڑکوں پر بگڑتی سنبھلتی صورتحال کا احاطہ کرتے وقت اکثر افراد کھلے عام اس متنازع موضوع کے بارے میں کھل کر تبصرے نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اپنے الفاظ کم پڑ رہے ہوں وہاں اشعار کا سہارا لیا جا رہا ہے اور مبہم انداز میں اپنی دل کی بات کہی جا رہی ہے۔

Read more

ابا! میں بھلا آپ کا شکریہ کیسے ادا کر سکتی ہوں؟

جہاں تک میں جانتی ہوں میرے والد محبت، درد مندی اور انکساری کی مجسم تصویر ہیں۔ انھوں نے مجھے محبت کا درس محض الفاظ کے ذریعے نہیں دیا بلکہ اپنے عمل سے محبت اور مہربانی کے کام کر کے دکھایا۔ میں نے اپنے والد کو کسی کے ساتھ بد تہذیبی اور بے انصافی پر مبنی سلوک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ خواہ مسلمان ہو یا عیسائی، گورا ہو یا کالا، غریب ہو یا امیر، مرد ہو یا عورت، سب ان کی نظر میں برابر ہیں۔ اسکول کے پرنسپل، ایک سوشل ایکٹیوسٹ اور فعال سماجی کارکن کی حیثیت سے وہ ہر ایک کا خیال رکھتے، انھیں احترام دیتے اور مدد کرتے تھے۔ ہر شخص ان سے پیارکرتا تھا، اس لئے وہ میرے لئے محبوب ترین ہستی بن گئے تھے۔

Read more

چالان بر گردن راوی

اگر مزاح نگار طنز نگاری شروع کر دیں تو سمجھیں کہ کہ ملک سنسرشپ کا شکار ہے اور اگر وہ پھر سے مزاح نگار بن جائیں تو سمجھ جائیں کہ مارشل لاء لگ چکا ہے۔ اس فلسفے کی آمد تب ہوئی جب لوگوں نے پوچھا کہ نئے طریقے سے ایسا مزاح کیسے تخلیق کیا جاسکتا ہے؟ جو اپنا اپنا معلوم ہوتا ہو۔ دیکھی، سنی، سامنے کی بات لگتی ہو۔ یہ پوچھنے والے دراصل ہمارے حصے کے بے وقوف تھے۔ وہ

Read more

اولڈ راوینز یونین الیکشن: کیا گورنر پنجاب لاعلم تھے؟ (مکمل کالم)

ایوب خان کے آمرانہ دور میں سخت گیر گورنر ملک امیر محمد خان نے داخلے کے لئے ایک غیر مستحق طالب علم کی سفارش کی۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید نذیر احمد نے سفارش کو میرٹ کے روبرو پرکھا اور پھر سفارش کو نظرانداز کر دیا۔ انہیں سزا کے طور پر ٹرانسفر کیا گیا تو کالج کے طالب علم سڑکوں پر آ گئے۔ وہ نعرے لگاتے کہ ”ہمارا باپ واپس لاؤ۔“ آمرانہ حکومت کو اپنی سخت گیری سمیت گھٹنے ٹیکنے پڑے، ڈاکٹر نذیر احمد کا تبادلہ دوبارہ گورنمنٹ کالج کر دیا گیا، اس مرحلے پر طالب علموں نے والہانہ محبت دکھائی، وہ ڈاکٹر نذیر احمد کو کندھوں پر بٹھا کر واپس لائے مگر آج کے عہد میں محبت کا یہ عالم کہاں؟

Read more

امریکہ، طالبان اور افغانستان

طالبان نے استنبول افغان امن کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ہے ، عبوری حکومت کے قیام اور عام انتخابات بارے تمام امریکی تجاویز یکسر مسترد کر دی ہیں اور دوحہ معاہدے کی روشنی میں تمام غیر ملکی افواج کے فوری اور بلا تاخیر انخلا کا مطالبہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے تازہ اعلان پر طالبان نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چونکہ فوجوں کے انخلا میں چند ماہ کی تاخیر

Read more

امر تو امر ہے

امر کا ہندی زبان میں مطلب ہے جو کبھی فنا نہ ہو یعنی لافانی۔ امر جلیل سندھی زبان کا وہ لکھاری ہے جو برسوں سے نوجوان ہے۔ اس لیے ہی وہ امر ہیں۔ میں امر جلیل کی کتابیں اپنے اسکول کے دنوں سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کی ہر کہانی، افسانہ یا تحریر مجھے اپنی لگتی ہے۔ انہیں پڑھ کر ہی مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ میری امر جلیل سے کبھی رو بہ رو ملاقات نہیں ہوئی۔ ان

Read more

کچھ ناروے کی ثقافت کے بارے میں

یہ ثقافت آخر ہے کیا چیز؟ ثقافت کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخر ہے کیا؟ کیا یہ کوئی ورثہ میں ملنی والی شے ہے جسے ہم جوں کی توں سنبھالے چلے جا رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ ثقافت خود کوئی چیز نہیں۔ یہ بہت سی چیزوں سے مل کر ایک چیز بنتی ہے۔ جیسے ہانڈی پکاتے ہوئے کئی اشیا ڈالتے ہیں۔ گوشت، سبزی، تیل، مصالحے وغیرہ۔ اور جب یہ سارے لوازم پک جا ہوں تو ہم

Read more

یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

پاکستان کے قیام سے لے کر موجودہ صورتحال تک فی الحال کوئی ایک جملہ جو مجھے تسلی دے رہا ہے تو وہ ایک ایسے شاعر کا مصرعہ ہے ، جس نے ہم سب سے پہلے زندگی کی حقیقتوں کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس محسوس کی گئی تلخی کو الفاظ کا روپ دے کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا

اور وہ مصرعہ ہی اس تحریر کا عنوان ہے ”یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں“

Read more

اردو زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور ڈاکٹر جمیل جالبی کی دوسری برسی

تاریخ اردو ادب کی تخلیق سے اردو ادب کو جلا بخشنے والے ڈاکٹر جمیل جالبی کو بچھڑے آج پورے دو برس گزر گئے، اگرچہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی علمی و ادبی خدمات کا احاطہ ممکن نہیں تاہم قومی انگریزی اردو لغت اور مثنوی کدم راؤ پدم راؤ جیسے بے مثال کام نے انہیں اردو ادب کی تاریخ میں امر کر دیا ہے۔ انہوں نے صرف اردو لسان و ادب کے میدان میں ہی اپنی تفہیم و دانش کے جوہر نہیں بکھیرے بلکہ ہر ادارے میں اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔

پاکستان میں علم و حکمت، فکر و ثقافت اور زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور، جنہوں نے اپنی اعلیٰ سرکاری ذمہ داریوں کے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان اور اردو لغت بورڈ کے صدر نشین کی حیثیت میں مثالی علمی و تعلیمی اور انتظامی خدمات سرانجام دیں۔

Read more

کیا آپ انسانی لاشعور کے تالے کی کنجیوں کو جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر ہوائی جہاز میں ایک بلیک باکس ہوتا ہے۔ اگر ہوائی جہاز کا حادثہ ہو جائے تو اس بوکس کو کھولا جاتا ہے کیونکہ اس ڈبے میں جہاز کے سب راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جہاز کی طرح انسان کے اندر بھی خفیہ رازوں کا ایک بلیک بوکس ہوتا ہے جو لاشعور کہلاتا ہے۔

پچھلی کئی صدیوں سے بہت سے شاعر اور دانشور ’ماہرین سماجیات و نفسیات انسانی لاشعور کے تالے کی کنجی تلاش کر رہے ہیں۔ اس کالم میں میں ان چار ماہرین کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس تالے کی چار کنجیاں تلاش کی ہیں۔ عین ممکن ہے وہ کنجیاں آپ کو بھی تالا کھولنے کی تحریک بخشیں۔

Read more

جوش شاعر جو نہ ہوتے تو مصور ہوتے

میں جوش صاحب سے ملتی تو یہ بات پوچھتی، مگر میں جوش صاحب سے کبھی نہیں ملی ، اگر موقع بھی ہوتا تو شاید میں سامنے نہ جاتی، اس ڈر سے کہ کسی لفظ کا غلط تلفظ منہ سے نکل گیا  کیا ہو گا۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ وہ غلط تلفظ یا خط املاء ہرگز برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ فوراً ٹوک دیتے تھے۔ کسی نے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہا سوال پوچھا نہیں جاتا کیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا میں آپ کو کار تک چھوڑ آؤں۔ کہا کیا میں کوئی بکری یا بندر ہوں جو آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔ وہ مشہور واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ باتوں میں عصمت آپا نے کہیں دِماغ کہہ دیا۔ جوش صاحب نے فوراً ٹوکا، دِماغ نہیں دَما۔ غ۔ عصمت آپا آخر چغتائی تھیں فوراً بولیں،

” جوش صاحب دَماغ آپ کا ہو گا، ہمارا تو دِماغ ہی ہے۔“

Read more

قرآن کے دو مرکزی مضامین

کیا قرآن مجید سے بڑھ کر امید جگانے والی اور کمزوروں کے لیے کھڑی ہونے والی دنیا میں کوئی اور کتاب ہے؟ یقیناً نہیں، اس سوال کا جواب ہر حال میں اور ہر زمانے میں نفی میں ہی ہو گا۔ قرآن بے شک کتاب ہدایت ہے۔ اور ’کتاب ہدایت‘ ہونا قرآن مجید کا سب سے اہم اور مرکزی تعارف بھی ہے۔ تاہم قرآن کے اور بھی اہم پہلو ہیں، اور بھی بہت سی جہتیں ہیں، نیز اور بھی کئی تعارف

Read more

مقصودگل کا نونہالوں کے لئے کہانیوں کا سندھی مجموعہ: ”ہٹھیلی ہرنڑی“ (مغرور ہرنی)۔

سندھی ادب کے ماضی قریب میں مقصودگل کا نام اور ادبی مقام کسی بھی رسمی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ شاعر ابن شاعر، ابن شاعر کی حیثیت سے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کے قادرالکلام اور صاحب طرز سخنور کی حیثیت سے تو اپنی پہچان رکھتے ہی ہیں، مگر ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے مترجم، محقق، صحافی، مدیر، کالم نویس، افسانہ نویس، حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اور بچوں کے ادیب کی حیثیت سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔

Read more

ہمارے بچے کتب بین کیوں نہیں؟

گزشتہ دنوں، ہمارے چست، تندرست اور توانا وزیراعظم بھی کورونا میں مبتلا ہو گئے۔ قرنطینہ نشین ہونے کے بعد ان کی جو پہلی تصویر منظر عام پر آئی وہ ہمیں بہت خوش کر گئی۔ کیونکہ ان کے ہاتھ میں کتاب تھی۔ ان کی تقریروں سے لگتا ہے کہ وہ ایک صاحب مطالعہ شخص ہیں۔ عمران خان اقوام عالم کی ترقی و تنزلی کے راز ہائے سربستہ پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں اور تقابلی جائزہ بھی لیتے رہتے ہیں۔ ریاست

Read more

جہلم کا خرقہ پوش

شاہد حمید نامی مرد ہنرکار بھی رخصت ہو گیا۔ رخصت تو ایک نہ ایک دن ہم سب نے ہو جانا ہے لیکن تیزی سے بانجھ ہوتی اس دھرتی میں کتنے ہوں گے جو رخصت ہو جائیں اور انھیں اس طرح یاد کیا جائے جیسے گھر کا کوئی فرد جدا ہو گیا ہو، جیسے کوئی یار عزیز بچھڑ گیا ہو، جیسے کوئی ہمدم دیرینہ الوداع ہو گیا ہو۔

وہ کوئی نامور لکھاری نہ تھا۔ میڈیا کی چکا چوند سے بھی اس کا کچھ تعلق واسطہ نہ تھا۔ وہ کسی بڑے صحافتی ادارے کا مالک و منتظم بھی نہ تھا۔ وہ اہل سیاست میں سے بھی نہ تھا کہ لوگ اس کی شعلہ فشاں تقریروں اور آئے دن کی سیاسی کروٹوں کے حوالے سے اسے جانتے پہچانتے۔ وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے کسی بڑے شہر کا باسی بھی نہ تھا کہ وہاں کی علمی، ادبی اور سماجی تقریبات اس کی پہچان بنتیں۔ وہ تو ہنگامہ ہائے زیست سے بہت دور جہلم نامی ایک چھوٹے سے شہر میں کسی درویش خدا مست کی طرح بکل مارے بیٹھا تھا۔ اس کی اپنی دنیا تھی اور اپنا جہان۔ اپنی زمین اور اپنا آسمان۔

Read more

ہر پل کا شاعر: ساحر لدھیانوی

گزشتہ صدی میں برصغیر کے ترقی پسند ادب میں دو نام معتبر اور غالب رہے ہیں. ان میں ایک مجاز اور دوسرے ساحر ہیں۔ لدھیانہ سے تعلق رکھنے والا عبدالحئ جو بعد میں ساحرلدھیانوی کے نام سے متعارف اور معروف ہوا ، ایک پسماندہ طبقے کا فرد تھا جس نے اپنے اردگرد معاشرے میں پھیلی ناہمواریوں کا احساس کیا اور قلم اٹھایا۔ نہ صرف زبان و بیان سے ان ناہمواریوں کے خلاف بات کی بلکہ عملی جدوجہد سے اپنے سچے اور مخلص ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

اس نے اپنی شاعری کے ذریعے غریب اور پسے ہوئے طبقات میں جتنی مقبولیت حاصل کی ، وہ فیض کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہ ہوئی۔ ساحر نے اگر فلمی شاعری کو ذریعۂ اظہار بنایا تو وہاں بھی لب و رخسار اور عشق و محبت کے تذکروں سے زیادہ انہی معاشرتی مظالم اور ناہمواریوں کو موضوع بنایا۔

Read more

ہمیں بابے اچھے نہیں ملے

”ایک وقت تھا جب کھوٹا سکہ چلانا ہی سب سے بڑی بے ایمانی ہوتی تھی“ اگر آپ بھی سوشل میڈیائی بابوں کی یہ ناسٹیلجک پوسٹ کہیں دیکھیں تو کمنٹس میں ضرور لکھیں کہ ”جی اب وہی نسل بڑی ہو گئی ہے اور سب اسی کا کیا بھگت رہے ہیں“

ہمارے سماج میں تو بابوں کا عمل دخل بہت پہلے سے تھا۔ البتہ ادب میں ان کی انٹری اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی کی مرہون منت ہے۔ ان حضرات کا کم و بیش سارا ادب ہی بابوں سے عبارت ہے۔ وہ اردگرد ہونے والی ہر اچھی بات کسی نہ کسی بابے کے سر ڈال دیا کرتے تھے۔ لیکن آپ ہمارا دکھ بھی ملاحظہ کریں کہ ہمیں بابے ہی اچھے نہیں ملے۔

Read more

فکری بونے پن کی وجوہات

انسان کی تمام تر صلاحیتیں، خواہ وہ جسمانی ہوں یا ذہنی اور روحانی، بقاء اور ترقی کے لئے ورزش کی محتاج ہیں۔ جسمانی طاقت کو جتنا زیادہ استعمال کیا جائے، وہ اتنا بڑھتی ہے اور اگر اسے استعمال کرنا چھوڑ دیا جائے تو وہ گھٹتی جاتی ہے۔ اگر کسی ایسے شخص کو جسے پیدل چلنے کی عادت نہ ہو پیادہ پا سفر کرنا پڑ جائے تو وہ زیادہ دور تک نہیں جا سکتا۔ لیکن اگر وہ اپنی ہمت کے مطابق روزانہ پیدل چلنے کی عادت ڈالے تو چند ہی دن میں اس کی حد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی اصول ذہنی صلاحیتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چاہے یادداشت ہو، قوت متخیلہ ہو، تجزیاتی صلاحیت ہو یا منطق، جتنی استعمال ہو، اتنی بڑھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اضافہ لامحدود نہیں ہوتا لیکن قابل ذکر فرق ضرور پڑ جاتا ہے۔

Read more

میشا یوسف: نوجوان پاکستانی امریکی جو مغربی معاشرے میں اپنی الگ شناخت پر فخر کرتی ہیں

میشا یوسف کہتی ہیں کہ ان کے پروگرام کا مقصد ہے کہ وہ ایک محفوظ جگہ نوجوانوں کو فراہم کریں جس میں وہ بات کریں اپنی شناخت کے بارے میں، اس سے لڑنے پر، اور بغیر کسی فیصلے کے اپنی کمزوری پر بات کریں۔

Read more

رمضان نشریات

جوں جوں رمضان کا مہینہ نزدیک آتا ہے ٹی وی اور سٹیج کے معروف چہرے اسلامی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں یعنی وہ اداکار ، گلوکار اور فنکار جو پورا سال ہمیں اپنے اداکاری، گلوکاری اور ڈانس سے لطف اندوز کرتے ہیں وہ رمضان میں ہمیں اسلامی رسومات و عبادات کی تلقین کرتے نظر آئیں گے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پوری دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب آپ کو نظر نہیں آئے گا جس کے

Read more

آج کے دور کا سکون آف لائن ہونا ہے

چند دن پہلے ہمارا اسمارٹ فون خراب ہو گیا تھا، اور اتنی بری طرح خراب ہوا کہ آن ہو کر نہ دیا اور جب ٹھیک کرانے کے واسطے دکان پر لے گئے تو دکان دار نے یہ کہا کہ موبائل ڈیڈ ہو گیا ہے، اب نہیں چلے گا۔ ہمارا دل بیٹھنے لگا کہ اب کیا ہو گا، کیونکہ نیا لینے کے لئے گنجائش نہیں تھی۔ سیلری آنے میں بھی 2 ہفتے باقی تھے۔ خیر جیسے تیسے ایک 3 ہزار والا

Read more

میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں

جاوید دانش کا اپنے فیس بک لاؤ پروگرام۔ آوارگی۔ کے لیے خالد سہیل سے انٹرویو ڈاکٹر خالد سہیل دانش : ڈاکٹر صاحب! کرونا وبا نے آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کیا؟ سہیل: کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنہائی کے ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملا۔ میں نے کرونا وبا اور تنہائی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناتے بھی اور ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے بھی ایک لکھاری ہونے کے ناتے

Read more

کتب بینی و ادب کے فروغ میں آمنہ احسن کی بے لوث عظیم خدمت

نارمن جودک کہتا ہے کہ ”ادب مراد ہے اس تمام سرمایہ خیالات و احساسات سے جو تحریر میں آ چکا ہے اور جسے اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔“ ادب کی ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو، ایک مشکل کام ہے۔ بعض دانش ور مثلاً میتھیو آرنلڈ ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے، ادب قرار دیتے ہیں۔ والٹر پیٹر کا خیال ہے کہ ”ادب، واقعات

Read more

امید اور حوصلے کا شاعر: اشہر اشرف

شاعر دوطرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جہنیں بہت جلد شہرت اور مقبولیت ملتی ہیں۔ ان کی شاعری کے گرویدہ اور پرستار بہت سارے لوگ بہت جلد ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مداح ان کی شاعری کو نگر نگر پھیلانے اور شہر شہر پہچاننے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ ان میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو مشہور تو ہوتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں وہ دم خم اور پائیداری نہیں ہوتی۔

Read more

‘رحمان صاحب، اگلی ملاقات تک خدا حافظ‘

رحمان صاحب سنہ 1984 میں پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے قیام کے وقت اس کے بانی شریک چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ اس فورم کا ایک چیئرمین پاکستان سے ہوتا تھا اور ایک انڈیا سے۔

Read more

خالد ہمایوں : علم و ادب کا کوزہ گر

اک روز ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی معیت میں علم کی وادیوں، سبزہ زاروں اور منطقوں میں گھوم رہا تھا کہ ان کے منہ سے مولانا فیض الحسن سہارنپوری کا نام سنا۔ یہ نام کچھ نیا تھا۔ پہلے کبھی سننے میں نہ آیا مگر تبسم صاحب، مولانا کا ذکر جس عقیدت و مودت سے کر رہے تھے یوں محسوس ہوتا گویا آپ ان کے سامنے زنوائے تلمذ تہہ کر چکے ہوں۔ حسن اور عشق اک دوسرے سے ملتے نظر آ رہے

Read more

پردہ ، وزیراعظم کا بیان اور لبرل طبقہ

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہے تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ہمارے لئے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم ابھی تک پستی اور غلامی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر میں کہوں کہ ہم ذہنی غلامی کا شکار بن چکے ہیں تو شاید

Read more

افکار علوی کی کوٹ ادو آمد

آج کل کے ’بڑے‘ شاعر نرگسیت کی اس بلندی پہ جا بیٹھتے ہیں کہ ان کے چاہنے والے چاہ کر بھی ان تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر شاعر خود پسند ہوتا ہے۔ ظفر اقبال کے بقول ان کے پاس اچھے شعروں کی تعداد غالب سے بھی زیادہ ہے، منصور آفاق کے نزدیک فراز میر سے بڑا شاعر تھا۔ ایک وقت تھا جب لاہور میں بیٹھا شاعر کمرشلائز ہو کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتا جب کہ مظفرگڑھ ،

Read more

زہرا تنویر کا افسانوی مجموعہ: من کی آواز

زہرا تنویر سوشل میڈیا کی پہلی لڑکی ہے جس کو سیل فون کا نمبر دیا تھا، لیکن ہم دونوں نے کبھی پہروں گفتگو نہ کی، نہ ہی کبھی چغلیاں یا غیبت کی، ہم من کی کہانیاں کہتے رہے، رشید جہاں، عصمت چغتائی، خالدہ حسین، رخسانہ احمد۔ خدیجہ مستور، کیتھرین مینسفیلڈ، جین آسٹن کی کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے رہے، سلویا اور فہمیدہ کی جرأت مندانہ اظہاریے پر مبنی نظموں، اور پروین شاکر کی نرم مزاجی کو موضوع بناتے ہوئے ہم حالیہ دور کی نرم مزاج اور تند مزاج ادیباؤں اور شاعرات کو پڑھتے رہے، میرا مزاج کبھی یکساں نہیں رہتا، لیکن پھر بھی زہرا میرے من کی آواز سن لیتی ہے، اور اس پر دلچسپ تبصرہ بھی کر دیتی ہے، اور میں اس کی مختصر گفتگو اور کہانی کے ذریعے اس کے من میں الجھتی، سلجھتی، روپہلی، نمکین و رنگین آواز سن لیتی ہوں۔

Read more

ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا افسانوی مجموعہ: کتبوں کے درمیان

کہانی کو انسانی زندگی میں ازل سے ہی بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کہانی لکھنے والے نے کہانی کو دو مقاصد کے تحت تحریر کیا ہے۔ ایک تسکین یا راحت کے سامان کے طور پہ جب کہ دوسرا مقصد ہماری زندگی کے حقائق اور معاملات کو سامنے لانا۔ دونوں مقاصد میں کہانی کا تعلق بہرحال انسان سے ہی جڑا رہا ہے، گویا کہانی نے انسانی زندگی اور کائنات کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا۔ اردو ادب میں ابتدا

Read more

سرگودھا یونیورسٹی میں چوتھے سرگودھا لٹریری فیسٹیول کا انعقاد

سرگودھا یونیورسٹی نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے رواں سال بھی لٹریری فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ موجودہ کووڈ کی صورتحال کے پیش نظر سرگودہا یونیورسٹی نے گھروں میں بیٹھے افراد کو لٹریری فیسٹیول کا حصہ بنانے اور کورونا احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے سرگودھا یونیورسٹی کا چوتھا سالانہ لٹریسی فیسٹیول ورچوئل کرانے کا فیصلہ کیا۔ تین روزہ فیسٹول کے دوران 14 سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی

Read more

زندگی کی واپسی

مارچ کا کوئی دن تھا۔ میرا بیٹا بیرسٹر وقاص فاروق مجھے لے کر لاہورپروفیسرڈاکٹر عاطف کے ہاں پہنچا۔ بہت سے ٹیسٹ لئے گئے۔ سینے کا سی ٹی اسکین ہوا۔ ناک میں روئی ڈال کر کرونا ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان ٹیسٹوں کے نتائج آنے سے پہلے ہی پروفیسر صاحب نے کرونا کا اعلان کر دیا۔ 73 سالہ بوڑھے کے لئے کرونا کا یہ اعلان موت کی خبر تھی۔ میں نے ڈرائیور سے گاڑی اپنے شہر گوجرانوالہ موڑنے کو

Read more

مردہ خانے میں عورت: مشرف عالم ذوقی کا فاشزم کو للکارتا ناول

جدید ہندوستان میں فاشزم دسمبر میں آیا جب لوگوں کو غسل کیے کئی کئی دن ہو جاتے ہیں اور ان کے کپڑے کالے پڑجاتے ہیں اور اسے لانے والے خانہ بدوش تھے جنھیں ’گھومنتو‘ کہا جاتاتھا اور ان میں سے ایک مارخیز کے شہر سے آیا تھا۔ وہ بوڑھا تھا، بندروں کی نسل کا، جس کے سرکے بال اڑگئے تھے، وہی ہندستان میں فاشزم کا مبلغ اور داعی تھا۔ اس اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں ترشول تھے، لمبے

Read more

کیا آپ کا بڑھاپا آپ کی زندگی کا سنہرا دور ہے؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کینیڈا کی گلیوں ’بازاروں اور چوراہوں میں چہل پہل ہوا کرتی تھی اور چاروں طرف زندگی کی گہما گہمی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ لوگ ہنستے کھیلتے مسکراتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے تھے اور بڑے تپاک سے گلے ملتے تھے۔ ان دنوں نہ تو کرونا وبا کا خوف و ہراس تھا اور نہ ہی لوگ دو دو ماسک پہنے چھ چھ فٹ کے فاصلے سے ڈرتے گھبراتے ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے

Read more

انگلش لوپ سیاسی خرگوش …

25 اپریل 1996ء… یہ ہے وہ تاریخ سازدن جب ورلڈ کپ کے فاتح نے سیاسی میدان فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران احمد خان نیازی نے ’تحریک انصاف‘کی بنیاد رکھی۔ ’ انصاف، انسانیت اور خود داری‘ پارٹی کا نعرہ تھا مگر آل راوَنڈر کرکٹر کے لیے سیاسی کھیل توقع سے بھی زیادہ کٹھن اورصبر آزما ثابت ہوا۔ ہر کوشش اور جتن کے باوجود دو دہائیوں تک کپتان سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہی رہا۔ آخرکار ایک بات عمران خان کی سمجھ

Read more

مجلس ترقی ادب،ڈاکٹر تحسین فراقی اور محبان منصور آفاق

گزشتہ ہفتے کی سب سے اہم ادبی خبر مجلس ترقیٔ ادب میں نئی تقرری ہے۔ نامور محقق ’استاد اور دانش ور جناب ڈاکٹر تحسین فراقی کو عرصہ ملازمت مکمل ہونے سے (چودہ ماہ) قبل ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس بارے میں تاحال کوئی حکومتی موقف سامنے نہیں آیا کہ یہ بھونڈی حرکت کیوں کی گئی اور اس سارے معاملے میں کون لوگ ملوث ہیں۔ ہاں نئے تعینات ہونے والے شاعر منصور آفاق کی حمایت کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ فراقی صاحب چونکہ بزرگ ہو چکے تھے اور منصور آفاق ابھی نوجوان ہیں، حکومت سے ذاتی تعلقات بھی ہیں ، لہٰذا حکومت سے مجلس کے نام پر فنڈ نکلوانے کا کام منصور آفاق زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

Read more

خُدا کی گمشدگی کا مقدمہ

امر جلیل ایک ہمہ جہت فنکار ہیں۔ میں اُنہیں اُردو کے کالم نگار کے طور پر ہی جانتا تھا اور برسوں اُن کی پُر مغز تحریروں سے لطف اندوز ہوتا رہا ہوں لیکن بھلا ہو یا بُرا ہو اِس پردیس کا کہ اُس نے مجھے پاکستانی صحافت کے اثرات سے دور اور محفوظ کردیا ہے۔ اب اُتنا ہی پڑھ پاتا ہوں جتنا انٹرنیٹ پر دستیاب ہو اور چونکہ پردیس اور عمر رسیدگی کے اپنے الگ تقاضے ہیں اس لیے امرجلیل

Read more

خواجہ احمد عباس، ایک لڑکی اور عمران خان کا نمل کالج

قریب اسی برس پہلے شاہد احمد دہلوی کے رسالے ساقی میں خواجہ احمد عباس کا ایک افسانہ شائع ہوا تھا، عنوان تھا ’ایک لڑکی‘۔ آپ تو خواجہ احمد عباس کو اچھی طرح جانتے ہیں، مطالعہ پاکستان پڑھنے والی نسل کے لئے عرض کرتا ہوں کہ 1914 میں پانی پت میں پیدا ہونے والے خواجہ احمد عباس کمال کے افسانہ نگار تھے۔ ہندوستانی سنیما میں ہدایت کاری اور اسکرین پلے میں حقیقت پسند رجحانات خواجہ صاحب نے متعارف کروائے۔ اکتوبر 1946 میں پہلے کانز فلم فیسٹیول میں بتیس سالہ خواجہ احمد عباس کی لکھی فلم ’نیچا نگر‘ کو اعلیٰ ترین ایوارڈ ملا تھا۔ تو ذکر تھا خواجہ صاحب کے افسانے ’ایک لڑکی‘کا جو برصغیر میں مسلمان ذہن کی آہستہ خرامی پر کاٹ دار تبصرہ ہے۔

Read more

اردو کانفرس کا احوال اور مہجری ادب کی صورت حال

ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس انتشار کا شکار ہوتے ہیں، ادب ان سب کو الفاظ دیتا ہے۔ اور الفاظ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی وطن۔ اس لئے ادب کے کان میں اذان دینے یا اسے بیپٹائز کر نے کی کوشش ایک بھونڈی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب مقصدیت سے خالی ہو۔ مقصدیت کوئی برائی نہیں ہے مگر اس میں ہنرمندی ہونی چاہیے۔ ادب ادب ہی رہنا چاہیے نہ تو اسے اصلاح کے نام پر منبر سے جاری ہو نے والے خطبے میں بدل دینا چاہیے اور نہ ہی آزادی اظہار کے نام پر اسے کسی پھکڑ پن یا فخش نگاری کے ساتھ یک جان کر دینا چاہیے۔ ادب عالیہ کے اپنے تقاضے ہیں ان پر پورا اترنا بہرحال لازم ہے۔

Read more

سالگرہ کا تحفہ

ہ پارہ کو اچانک خیال آیا کیوں نہ سالگرہ پر یہ وائرلیس بلو ٹوتھ ہیڈ فون ہی دے دیں۔ کامیڈی ویڈیوز کی سمع خراشی سے بھی نجات ملے گی۔ وہ ہاتھ میں اٹھا کر جائزہ لینے لگیں۔ بے شمار خصوصیات اور قلیل مدتی پیشکش کی تکرار سے متاثر ہو کر وہ لینے ہی لگی تھیں کہ سیلزمین کے ایک فقرے پر ٹھٹک گئیں۔ وہ کہہ رہا تھا ”اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نوائز فری ہے“

”مطلب؟“
”، مطلب یہ کہ صرف آپ کی آواز کالر تک جائے گی بیک گراؤنڈ آوازیں نہیں“

Read more

ملکی ترقی کیلئے عوام کا سرکار پر اعتماد ضروری ہے

پرانے زمانے کے اکثر بادشاہ بھی درویش صفت ہوا کرتے تھے۔ اہل علم کی قدر کرنا، ادباء اور شعراء کی عزت افزائی اور بزرگوں کا احترام ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا۔ عالموں اور بزرگوں کا ادب اتنا ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی مسئلہ کا حل معلوم کرنے کی ضرورت پڑ جاتی تو عالموں اور بزرگوں کو دربار میں طلب کرنے کی بجائے بادشاہ خود چل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

اسی قسم کا ایک مسئلہ ایک نیک دل بادشاہ کو اس وقت پیش آیا تو بادشاہ اپنے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ کی خدمت حاضر ہوا تاکہ ان سے دعائیں بھی لے سکے اور امور مملکت چلانے کے لئے نکتے کی باتیں بھی جان سکے۔

Read more

کیا آپ دیومالائی دانشور جوزف کیمبل کے خیالات اور نظریات سے واقف ہیں؟

بیسویں صدی کے مشہور دانشوروں میں امریکہ کے جوزف کیمبل ایک مستند ، معتبر اور معزز دانشور سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے دیومالائی ادب پر بے شمار کتابیں لکھیں وزڈم لٹریچر پر بصیرت افروز انٹرویو دیے اور عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئے۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے نفسیات، سماجیات اور روحانیات کے علوم کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں دیومالائی ادب کے ساتھ جوڑا۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے اور مکالمے سنتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ایک دانا بزرگ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہوں اور تاریخ کے آتے جاتے قافلوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کر کے اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہوں۔

Read more

شاہ سالار کا فہم فحاشی اور جہادی ٹک ٹاک

شاہ سالار نے فرمایا ہے فحاشی بہت بڑھ گئی ہے اس کو روکنا ہو گا۔ ہمارے ملک کا معاملہ ہے واقعی اس بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے ، جیسے کہ شاہ سالار کہتے ہیں کہ وہ روزانہ جہاد پر جاتے ہیں، تو ہم عامیوں کو بھی چاہیے کہ ہم سب بھی فحاشی روکنے کے جہاد پر نکلا کریں۔ اس کے لئے سب سے پہلے اپنے اپنے سیل فون سے ٹک ٹاک ایپ اور

Read more

ملک بھر کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کا امر جلیل کی حمایت میں بیان

ہم زیر دستخطی، ملک بھر کے مختلف حصوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، دانشور، انسانی حقوق کے کارکن، وکلاء، صحافی، ڈاکٹر، اساتذہ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری حالیہ دنوں میں ملک کے معروف ادیب،کالم نگار اورمفکر جناب امر جلیل صاحب کو دی جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ہم ریاستِ پاکستان، وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے جناب

Read more

موسم خوش رنگ: زندگی سے مکالمہ کرتی تحریریں

شاہد صدیقی کی کتاب ”موسم خوش رنگ“ زندگی کے شدتوں اور حدتوں بھرے موسموں کی داستان ہے۔ جس میں تاریخ ہر جملے میں زندہ اور لطیف پیرائے میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ قاری صدیوں کا سفر ایک جست میں طے کر لیتا ہے۔ وہ خوبصورت اسلوب کے ساتھ ساتھ مشکل سے مشکل موڑ، بنا بھولے بھٹکے پار کر لیتے ہے۔ معاصر صورت حال کا تجزیہ ایسے انداز میں کیا گیا ہے کہ جیسے کوئی قصہ گو رات

Read more

”بے سمتی کے دن“ کی بے چہرگی

مجھے کیا معلوم تھا کہ آج صبح جب میں ”بے سمتی کے دن“ کھولوں گا تو ایک جہان حیرت میں غرق ہو جاؤں گا۔ آج کی صبح کا منظر بہت جان لیوا تھا۔ ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں اور نیو ہاسٹل کے لان میں لگے پام کے درخت رقصاں تھے۔ بادلوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اپریل کی گرماہٹ کو زیر کر رکھا تھا۔ ایسے میں عرفان شہود کی آزاد نظموں کی پہلی کتاب ”بے

Read more

پاکستانی ڈراموں کے زوال کی وجہ کیا ہے؟

آج کل پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں کا پرانے ڈراموں سے موازنہ کریں تو ایک فیصد بھی ان ڈراموں جیسی حقیقت پسندانہ بات نظر نہیں آتی۔ سب ڈراموں میں ایک ہی تھیم مختلف انداز میں دکھائی جاتی ہے۔ کہانی کو غیر ضروری طول دیا جاتا ہے۔ ہر ڈرامے میں ہدایت کار کی توجہ کا مرکز کہانی سے زیادہ گلیمر پر ہوتا ہے۔

سب سے پہلے ڈراما تھیمز کی جانب آتے ہیں۔ اگر گزشتہ کچھ عرصے کے ڈراما سیریلز پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی تھیمز طلاق، حلالہ، معاشقہ، بیوفائی اور گھریلو سازشوں پر مبنی ہیں۔ کہیں بھابھی اپنے دیور کو پسند کرتی ہے تو کسی ڈرامے میں سالی کا بہنوئی پر دل آ جاتا ہے۔ کہیں پر نند اپنی بھابھی کی طلاق کرواتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امیر لڑکی غریب لڑکے کو پسند کرتی ہے یا پھر اس کے الٹ امیر لڑکا غریب لڑکی کو پسند کرتا ہے۔

Read more

سلیم سہیل کے مضامین کا مجموعہ ’حرفِ حیرت‘

سلیم سہیل ہمارے عہد کے ان چند نقادوں میں آتے ہیں جنہوں نے تنقید کو محض لفظوں کی جگالی نہیں سمجھا اور نہ ہی مکھی پر مکھی ماری بلکہ اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کیا ، یہی وجہ ہے کہ سلیم سہیل نے کم لکھا مگر معیار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ جس فن پارے پر بات کی، انتہائی ذمہ داری سے کی اور تنقید کو ایک سنجیدہ عمل کے طور پر لیا۔ ورنہ ہمارے ہاں نقادوں کی تعداد

Read more

سوشل میڈیا، الفاظ کا چناؤ اور بٹن کا دباؤ

سوشل میڈیا جہاں ہم ایک ہی وقت میں لاتعداد لوگوں سے مخاطب ہو سکتے ہیں، ان کے منفی اور مثبت اظہار رائے کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ اپنی تحریر کے لیے جہاں اخبار اور رسائل میں اشاعت کے لیے منتظر رہنا پڑتا تھا اب ایک کلک پہ اپنی تحریر کسی بھی پلیٹ فارم پر شائع کی جا سکتی ہے۔ ایک تصویر یا ویڈیو کے ذریعے یہاں تک کہ ایک جملے کی منفرد ادائیگی سے کوئی راتوں رات مشہور ہو جاتا

Read more

پروین بابی: چھوٹے شہر سے آ کر بالی وڈ پر چھا جانے والی لڑکی کی کہانی

70 کی دہائی میں بالی ووڈ اداکارہ پروین بابی سنیما کے پردے پر وہ سب کچھ کررہی تھیں جو اپنی محبت جدیدیت اور خود انحصاری کے لیے عورتیں آج کرنا چاہتی ہیں۔

Read more

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

آسیب سے وابستہ پراسراریت نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب کھینچا۔ایک تو یہ دکھائی نہیں دیتے مگر کام پورا پورا کرتے ہیں۔انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کسی انسان پر قبضہ کر کے اپنی کارروائی ڈالتے ہیں۔گویا ایک خاص عرصے کے لیے آپ کو ہیک کر کے معمول بنا لیتے ہیں اور پھر ایک دن معمول کو بے یار و مددگار چھوڑ کے چمپت ہو جاتے ہیں اور کسی اور جسم میں حلول کر جاتے ہیں۔ کچھ آسیب جسم

Read more

کچھ آئین، نصاب اور تعلیم کے بارے میں

محترم وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ وہ ہر صبح اپنے دفتر نہیں جاتے، بلکہ جہاد پر نکلتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں کہ ہر روز نیکی کے بوریے سمیٹتے ہیں۔ اس ملک میں لاکھوں نصیب جلے ہر صبح روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں، شام ڈھلے افسردہ چہروں اور پٹپٹاتی آنکھوں کے ساتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، خدا معلوم اپنے بچوں کو کیسے تسلی دیتے ہوں گے۔ درویش کی افتاد ان دو انتہاﺅں کے بیچ کہیں واقع ہوئی ہے، جسے

Read more

زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے

4اپریل کے ابھرتے سورج کی کرنیں گڑھی خدا بخش کے درودیوار کومذید اداس کر دیتی ہیں۔ آج کے دن پاکستان کے شہروں، گوٹھوں اور کٹڑیوں میں رہنے والے غمزدہ افراد کو یوں لگتا ہے گویا ان کے آنگن میں سینٹرل جیل راولپنڈی سے آئی وہ میت رکھی ہے جسے دیکھ کر انہیں اپنے بے یار و مددگار ہونے کا دکھ کھا گیا تھا۔ وہ اس آواز کو یاد کرتے ہیں جس نے کہا تھا کہ میں ہراس غریب کے گھر میں رہتا ہوں جس کی چھت بارش میں ٹپکتی ہے۔

Read more

امر جلیل اور ممتاز مفتی کا خدا

ہمارے پہاڑوں میں ایک کہاوت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک گڈریا نظر آیا جو ریوڑ کو چرنے کے لیے چھوڑ کر خود ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام قریب گئے اور ان کی باتیں سننے لگے۔ گڈریا کہہ رہا تھا کہ اے خدا تو میرے پاس ہوتا تو میں تیرے بالوں پر تیل لگاتا، کنگھی کرتا، تیرے آنکھوں میں سرما ڈالتا،

Read more

علامہ ابن کثیر سے لے کر امر جلیل تک

حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی۔ وہ اپنے خدا کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہو تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیری خدمت کروں، تجھے کھانے پینے کے لیے کچھ پیش کروں، اگر تو بیمار ہو تو تیری تیمار داری کروں، اگر مجھے تیری رہائش کا علم ہو تو میں صبح شام تمہارے

Read more

وتایو فقیر، امر جلیل اور خدا

پہلی بار ممتاز مفتی کا سفرنامہ لبیک پڑھا اور کعبے کے لیے کوٹھے کا استعارہ اور اللہ سے آنکھ مٹکے کی بات دیکھ کر چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا مگر پھر مولوی احمد دین کا سنایا ہوا موسیٰ اور گڈریے کا قصہ یاد آ گیا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

بھٹو نے جنرل ضیا کو آرمی چیف کیوں لگایا؟

سولہ دسمبر 1971 ء سانحہ مشرقی پاکستان ہوا۔ پاکستانی قوم کو تاریخ کے شدید ترین بحران کا سامنا تھا۔ پاکستان کا وجود پارہ پارہ ہو چکا تھا۔ دشمنوں اور اپنوں کے دیے ہوئے زخموں سے خون رس رہا تھا۔ قوم کے حوصلے پست ہو چکے تھے ایسے میں بھٹو اقتدار سنبھالتے ہیں۔ قوم کی امیدوں کا محور ذوالفقار بھٹو تھے انھوں نے بھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ قوم کی امنگوں کے عین مطابق ایک بہترین منتظم، زیرک سیاست دان کے طور پر کام کیا۔ انھوں نے بعض انقلابی اقدامات کیے جس سے مایوسی اور نامرادی کے اندھیروں سے امید کی کرن پھوٹی۔

بھٹو صاحب کو تختہ دار تک پہنچانے میں عالمی اسٹیبلشمنٹ ملوث تھی جس نے مقامی اسٹیبلشمنٹ کو مہرے کے طور پر استعمال کیا ہوا کچھ یوں کہ 1973 ءکے اوائل میں قومی اسمبلی نے متفقہ آئین منظور کیا آئین کی منظوری سے عین قبل 14 فضائیہ اور 21 آرمی افسران کو منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا اٹک قلعہ میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی کورٹ مارشل کی صدارت میجر جنرل ضیاءالحق نے کی۔

Read more

خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

Read more

حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے

استاد ذوق کا یہ شعر مختلف مواقع پر بروقت استعمال کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آپ قبرستان جائیں تو کئی کتبوں پر یہ شعر کندہ نظر آئے گا۔ ویسے تو کتبے پڑھنا کوئی دلچسپ امر نہیں مگر پڑھتے رہنا چاہیے کہ غلام عباس کا ’کتبہ‘ کتنی ہی قبروں پر ایستادہ دعوت فکر دیتا ہے۔ اسی طرح طنز و مزاح نگاروں کے ہاں بھی یہ مصرعہ خاص پسندیدگی کا حامل رہا ہے۔ تاہم مقصد

Read more

مونا لیزا کی مسکراہٹ والی اداکارہ دیبا

ساٹھ اور ستر کی دہائی کا عرصہ کئی اعتبار سے ہماری فلمی دنیا کا سنہری دور ہے۔ اس دور میں فلم نگر کے گلشن میں مختلف شعبوں میں نئے لوگ متعارف ہوئے جنہوں نے آگے جا کر اپنے اپنے میدانوں میں نئی تاریخ رقم کی۔ ایسا ہی ایک نام اداکارہ دیبا کا بھی ہے۔ حال ہی میں ان سے ایک نشست رہی جس کی کچھ دل چسپ باتیں قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں : ” فلم میں کام کرنا

Read more

قبل از مرگ واویلا اور عجلت پسند دانش

قوموں کا زوال قومی اسمبلی کے حلقہ 75 کی دھند نہیں کہ چنیدہ پولنگ اسٹیشنز پر اترے اور باقی منطقوں میں نگہ رسا متاثر نہ ہو۔ عزیز حامد مدنی نے زوال کی حرکیات کو کس بلاغت سے سمیٹ لیا، یورش باد واپسیں مجھ پہ چہار سو سے ہے…. زوال کے یہ زاویے جہالت، حماقت، جرم اور سازش کی چار جہتوں سے تشکیل پاتے ہیں اور قوم کا کوئی فرد، کوئی شعبہ اور کوئی ادارہ اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔

Read more

ناروے میں اپنا مقام بنانے والے پاکستانی

ناروے میں پاکستانی سیاست بھی کر رہے ہیں اور بہت سے دیگر شعبوں میںبھی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان سے ناروے آنے والی پہلی نسل کے لوگ کام کرنے آئے تھے، بہت محنت سے کام کیا اور آجروں کے دل جیت لیے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں پاکستانی نہ ہوں۔ پاکستانی سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں۔ پاکستان میں بھی سیاست ان کا مرغوب ترین موضوع ہے اور یہاں ناروے میں بھی وہ صرف پاکستانی سیاست

Read more

بھٹو – کھر پھڈا اور فیصل آباد

اسی سال کی عمر میں ریٹائرڈ فارغ اور کرونا کے بندھن کے باندھے گھر بیٹھے بندے کے لئے کمپیوٹر۔ آئی پیڈ موبائل فون انٹرنیٹ بہت سہارا ہیں۔ عمر عیار کی اس زنبیل میں ہاتھ نہیں ڈالنا پڑتا۔ انگلی گھمانے سب سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ اور آج میری انگلی نے آئی پیڈ کی سکرین پر فوٹو البم لا کھڑی کی تھی اور سید طاہر احمد شاہ کی تصویر آرام کرسی پہ نیم دراز میرے سامنے تھی۔ اور پینتالیس سال کی

Read more

سرمد سلطان: ’غائب کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں‘

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے ناقد سمجھے جانے والے سوشل میڈیا پر سرگرم سماجی کارکن سرمد سلطان کے ’لاپتہ‘ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

Read more

انوکھی شادی

آج کے مادہ پرستی کے دور میں جب ہرشخص تمام رشتے بھلاکر دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، دولت کے لئے اس دوڑنے معاشرہ میں کافی بگاڑ پیدا کیاہے اور کئی خرابیوں کوجنم دیکرمعاشرتی اقدارکی دھجیاں بکھیردی ہیں مگراس دور میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جواپنے آبا و اجداداور اسلامی اقدار کوزندہ رکھے ہوئے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال ایک انوکھی شادی ہے جس میں دلہن نے مہر میں کتابیں دینے کامطالبہ کیا۔ عام طور پردلہنیں حق

Read more

ترقی پسند، جمہوری اور سامراج دشمن قوتوں کا وسیع تر اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے: عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ

لیڈز، 29 مارچ 2021، پاکستان میں جاگیرداری، قبائلی نظام کے باقیات، فوجی و سول نوکر شاہی اور سامراجی اداروں کے اجارہ داری کو توڑے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ پاکستانی اشرفیہ اور بیوروکریسی کی لوٹ مار اور نا اہلیوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور حکمران طبقہ ان کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کے درپے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عوامی

Read more

سندھ کی ایک غیر معمولی نوجوان آرٹسٹ سحر شاہ: آرٹ سے انقلاب

سندھو کی تہذیب کے ان گنت رنگ ہمیں سندھو دریا کے وشال کناروں پہ ہر سو بکھرے نظر آتے ہیں اور یہی ہریالی کے رنگ ہماری آنکھوں کی کائنات کی بی پناہ وسعتوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ سورج جب ان لہلاتے کھیتوں پر اپنے سرخ لبوں کی پہلی کرنیں پھلاتا ہے تو پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر چیں چیں کی مدہر اور دلفریب آوازوں کے ساتھ، کھلے آسمان کی وسعتوں میں بکھر کر اپنا دانا، پانی تلاش کرنے

Read more

شیخ صلاح الدین …. اپنے عہد کا علمی استعارہ

شاید دسمبر کا مہینہ اور 1973 کا سال تھا۔ اتوار کے دن میں اپنے دوست باصر کاظمی کے گھر پہنچا تو ڈرائنگ روم میں ایک بھاری بھرکم شخص ، سوٹ ٹائی میں ملبوس، کوٹ کے نیچے کارڈیگن پہنے، چہرے پر عینک لگائے، آرام کرسی میں تشریف فرما تھے۔ باصر نے بتایا کہ اس کے ابا کے دوست شیخ صلاح الدین صاحب ہیں۔ میں بھی سلام کرکے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کئی اور دوست بھی موجود تھے۔ مجھے خود سے

Read more

محمد سلیم الرحمان اور شیخ صلاح الدین میں دوستی

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمان صاحب نے بہت سے لوگوں کے علمی و ادبی سفر میں معاونت کی۔ انھیں آگے بڑھنے کا رستہ دکھایا۔ ان سے تعلق استوار ہونے کے بعد مجھے اس بات کا تجسس رہا کہ 1952میں علی گڑھ سے لاہور آنے کے بعد، میدانِ ادب میں کوئی ایسی ہستی ضرور رہی ہوگی، جس نے ان کا بھی ہاتھ تھاما ہو گا۔ ادبی دنیا میں قدم جمانے میں مدد کی ہوگی۔ آخر ایک دن مجھے اس سوال کا

Read more

کیا قدیم مقدس ویدیں پنجاب اور ہریانہ میں لکھی گئیں تھی؟

رگ وید میں صرف گنگا سے مغربی سمت بہنے والے شمال مغربی دریاؤں کا ذکر ہے۔ گنگا جمنا کا سرسری سا ذکر ملتاہے۔ ویدوں کے مصنف رشیوں کے لیے تب گنگا شاید اتنا اہم نہیں تھا۔ زیادہ تعریفیں سندھو اور سرسوتی (ہاکڑا) کی ملتی ہیں۔ ویدوں کے مطابق یہی دو سب سے مقدس دریا ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب ویدیں لکھی گئیں، چلیں تحریری صورت لکھی نہ بھی گئیں ہوں مگر صدیوں تک نسل در نسل زبانی

Read more

امر جلیل کی کہانی پر ردعمل

امر جلیل سندھی ادیب ہیں، میں نے کبھی اس کا کوئی افسانہ نہیں پڑھا ہے، ایک زمانے میں روزنامہ جنگ میں ان کی فکاہیہ و طنزیہ تحریریں پڑھتا رہا ہوں، سماجی مسائل پر اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں، صوفی منش اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والے انسان ہیں، ان کی شخصیت کی کئی پرتیں اور کئی پہلو ہوں گے، سوچنے لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا اپنا انداز ہوگا، جن سب سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ ہی واقف ہونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

Read more

درویش کی کٹیا، زرتشت اور گاتھاز

مجھے نوجوانی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی محبوب کتابوں کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ میں پشاور صدر کی آرٹس کونسل کی لائبریری میں باقاعدگی سے جاتا اور ہر ہفتے دو چار کتابیں لے آتا۔ جب وہ کتابیں واپس کرنے جاتا تو چند اور کتابیں لے آتا۔ ہر کتاب پر خفیہ نشان لگاتا تا کہ پتہ چلے کہ میں نے کون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ ہر دفعہ لائبریری کے کسی اور حصے کے شیلف سے کتابیں لیتا

کبھی ادب کبھی فلسفے کے شیلف سے
کبھی مذہب کبھی روحانیات کے شیلف سے
کبھی نفسیات کبھی سماجیات کے شیلف سے
کبھی شاعری کبھی افسانوں کے شیلف سے

Read more

جنرل ضیا الحق: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سابق فوجی حکمران کے خطاب سے قبل تلاوت ہوئی تھی یا نہیں؟

تلاوت کروانے کا فیصلہ ہو گیا لیکن اس میں ایک عملی رکاوٹ حائل تھی کہ جنرل اسمبلی کے پروٹوکول کے مطابق سربراہان ریاست کے خطاب کے دوران کوئی دوسرا شخص روسٹرم پر آسکتا ہے اور نہ ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی دوسری بات کہی جا سکتی ہے۔ اس مشکل کا حل کیسے نکالا گیا؟

Read more

اوشو رجنیشں: روحانی شخصیت یا سیکس گرو؟

دنیا میں ہمیشہ سے ذہین لوگ پیدا ہوتے رہے۔ ان افراد نے شعوری اور سماجی ارتقا میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ فلسفہ، سائنس، ادب، فنون لطیفہ اور سیاست کے میدانوں میں ترقی انہی ذہین افراد کی مرہون منت ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے مقابلے میں مذہب اور روحانیت پیچھے نہ رہے۔ مذہبی شخصیات نے مذاہب اور روحانی شخصیات نے روحانی کرتب دکھائے۔ روحانیت کی بنیاد بھی اعلیٰ درجے کی وہ ذہانت اور بے مثل شعوری صلاحیت ہے جس کے

Read more

حسینہ! کہاں چلی گئی ہو

زندگی میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن سے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوتی مگر جب بھی کہیں ان کے بارے کچھدیکھیں یا پڑھیں تو عجیب سی مسرت ہوتی ہے، وہ بہت اپنے اپنے محسوس ہوتے ہیں اور ہم یہ اعتراف کرتے ہیں حسینہ کہ تم بھی ان ہی لوگوں میں سے ہو، تم ہمارے لڑ کپن اور جوانی کی سنہری یاد ہو۔ حسینہ کہاں ہو تم، کہاں چلی گئی ہو؟ میں تم سے ناراض ہوں کہ تمہیں کیاحق ہے

Read more

راگنی کی کھوج

”راگنی کی کھوج“ نجیبہ عارف جیسی بلند پایہ ادیب اور شاعرہ کے کمال فن کا شاہکار ہے۔ کتاب کوئی تین ماہ پہلے ملی۔ سچی بات ہے نام کچھ کچھ پراسراریت لیے ہوئے تھا۔ گو میں اس عنوان کے تحت مبین مرزا کے جریدے ”مکالمہ“ میں اس کی دو قسطیں پڑھے بیٹھی تھی۔ ایک آپ بیتی سے متعلق دوسرے میں نجیبہ کے اندر کی بے چینی اس کا اضطراب، تجسس اور کھوج کی خواہش نمایاں تھی۔ میری پرورش وہابی گھرانے کی تھی مگر ایک تو میں بڑی باغی قسم کی لڑکی دوسرے گھر والوں میں بھی کچھ معاملات میں کٹر پن نہیں تھا۔

تاہم بابوں وابوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ”شہاب نامہ“ میری پسندیدہ ترین کتاب ہوتے ہوئے بھی اس کا نائٹی والا قصہ مجھے ہمیشہ ایک افسانہ ہی لگا۔ ہاتھ نے جب کتاب تھامی۔ ٹائیٹل متوجہ کرنے والا تھا۔ کچھ سوال اٹھاتا تھا۔ پشت پر بلند قامت ادیب کی تحریر تھی۔ ”قوسین“ نے اسے چھاپا تھا۔ کاغذ طباعت ہر چیز بولتی تھی کہ اندر کچھ بہت خاص ہے۔ میری ایک گندی عادت ہے کہ میں کتاب کو مرحلوں میں پڑھتی ہوں۔

Read more

رات کی رانی ::افسانے :: رابعہ الربا

خوبصورت سرورق اور خوبصورت نام والا یہ افسانوں کا مجموعہ کچھ برس پہلے شائع ہوا لیکن شومئی قسمت سے مجھے پڑھنے کو ابھی میسر ہوا۔ اس پر بہت سے اہل قلم نے بہت کچھ لکھا ہوگا۔ کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے سوچا کہ اب اتنے عرصے بعد میں اس پر کیا لکھوں لیکن اس مجموعے کے افسانوں نے لکھنے کی انگیخت ”مٹھی“ نہیں ہونے دی۔

Read more

گل مہر آباد: ایک جائزہ

ادب زندگی اور سماج کی ترجمانی کرتاہے اسی لیے دنیائے ادب میں وہ تخلیق بہترین شمار ہوتی ہے جس میں معاشرتی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہو۔

اس تناظر میں یاد داشت، مشاہدات و تجربات عزخ پر مبنی کتاب ”گل مہر آباد“ کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی اس تخلیق میں زندگی و سماجی ترجمانی کے فرائض نیک نیتی سے انجام دیے ہیں جس کی بدولت کتاب کی بنیاد مضبوط ہے۔

Read more

افضل گرو ، مولانا روم اور انصاف

مجھے آج اچانک سے افضل گرو کیسے یاد آ گیا ؟ یہ  آگے چل کے بتاؤں گا۔مگر افضل گرو شائد آپ کو بھی یاد ہو۔وہی جسے بھارتی پارلیمنٹ پر تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے حملے کی سازش کا حصہ ہونے کے جرم میں  بارہ برس قیدِ تنہائی میں رکھنے کے بعد نو فروری دو ہزار تیرہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔اس کی اپیل ہر عدالتی فورم پر مسترد ہوئی۔بعد ازاں صدر مملکت پرنب مکھر جی نے

Read more

زعم مطالعہ

ذاتی طور پر مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو زندگی بھر کوئی کتاب نہیں پڑھتے اور مطالعے وغیرہ سے دور رہتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں پر تو باقاعدہ غصہ آتا ہے جو بے تحاشا پڑھتے ہیں لیکن ذہنی طور پر ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں۔ ایسے حضرات میں آج کل البتہ ایک خوبی ضرور دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے مطالعے کا غرور اور گھمنڈ! مطالعے کے یقیناً کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن فی زمانہ

Read more

دو قدآور فلمی شخصیات جنہیں قومی ایوارڈ نہ مل سکے

حزیں قادری 1950 سے لے کر 1980 تک پاکستانی فلمی صنعت کے ایک مصروف ترین نغمہ نکار، منظرنگار، مکالمہ نویس اور مصنف تھے۔ ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ تیس سالوں میں آپ نے ایک سے بڑھ کر ایک بہترین نغمہ لکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں فلموں کی سبق آموز کہانیاں لکھیں، جنہوں نے باکس آفس پر کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کے بہترین نغموں میں ’سانوں سجناں دے ملنے دی تاہنگ اے ‘۔ ’ٹانگے والا خیر منگدا‘، ’ٹانگہ لاہور دا ہووے پویں جھنگ دا۔‘اساں جان کے

Read more

یونیورسٹی آف لاہور میں محبت کی یادگار قائم کی جائے

لاہور یونیورسٹی میں ایک نوجوان کی طرف سے اپنی محبوبہ کو بھری محفل میں گلے سے لگانے کے واقعے کے بعد مختلف اطراف سے تبصروں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ہر کوئی اس واقعے کے بارے میں اپنی اپنی سوچ کے مطابق بات کر رہا ہے۔ چند ایک نے اس محبت کے ایونٹ پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانا شروع کردیے ہیں۔ جب کہ ایک طبقہ اس واقعے کو بے راہ روی کے طور پر لے رہا ہے

دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو گھر واپسی کا ٹکٹ تھما دیا۔ یونیورسٹی والے بڑے کٹھور ثابت ہوئے۔ انہوں نے عشق اور محبت کے سچے اور کھرے جذبے کی لاج نہیں رکھی۔ اور اس معصوم جوڑے کو چاچا کیدو بن کر ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ اب دونوں پیار کے پیاسے آپس میں مل بھی پائیں گے کہ نہیں۔ یہ ایک دکھ بھرا سوال ہے۔

Read more

حسینہ معین اب آرٹ کو تجارت کون کہے گا!

سن دو ہزار کے ابتدائی سال، پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کی بھرمار اور ان پہ ایک سے ایک فلاپ ڈرامہ۔ ایسے میں ہمیں وہ ڈرامہ نگار یاد آتے جن کے لازوال سیریل دیکھ دیکھ کر ہم بڑے ہوئے تھے۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔ پاکستان میں ٹیلی وژن ڈرامے کو زوال کیوں آ گیا، وہ سب اچھا لکھنے، اچھا پیش کرنے والے یکایک کہاں چلے گئے۔ اداکاروں کی تو مجبوری تھی کہ انہیں کام چاہیے تھا،

Read more

مستنصر حسین تارڑ کی کتاب’ہیلو ہالینڈ‘ میں علامہ اقبال کا ذکر

تارڑ صاحب کی تصنیف ”ہیلو ہالینڈ“ پڑھ  کر مجھے کافی تعجب ہوا کہ اس میں انہوں نے تقریباً چار جگہوں پر حضرت علامہ اقبالؒ کی فیملی کو موضوع بنایا ہے ، مجھے معلوم نہیں تارڑ صاحب کو علامہ اقبالؒ پر کیا غصہ تھا کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوئے حالانکہ وہ اس سے پہلے علامہ اقبال کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتے تھے۔ کیا کہیں یہ وجہ تو نہیں جس کا ذکر انہوں نے خود ”ہیلو ہالینڈ“ کے صفحہ

Read more

جزوقتی استاد کی فارن کوالیفکیشن بلال گنج کیسے پہنچی؟

’کومک ریلیف‘کا  لفظی ترجمہ ہوگا ’المیہ ڈرامے میں مسخرے پن کا وقفہ‘ جس کا مقصد ناظرین کو چند گھڑیوں کے لئے ماحول کی سنگینی سے نجات دلانا ہوتا ہے۔ مَیں بھی کووڈ کی یلغار کا اثر کم کرنے کی خاطر آپ کی انٹرٹینمنٹ کا سامان چاہتا ہوں۔ وہ یوں کہ جن لوگوں نے 1970 ء کی دہائی میں تعلیم مکمل کی اُن میں سے کئی ایک نے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ انگریزی ادب میں ایم بی بی ایس کیا

Read more

سماج کو سمجھنے کے بنیادی اصول (قسط دوم)۔

پچھلی قسط میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ چند بنیادی اصول ہیں سماجی نفسیات (Social Psychology) کے کہ جن کی مدد سے ہم اپنے معاشرتی رویوں کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور ان کی پیش گوئی بھی کر سکتے ہیں۔ پہلی قسط میں ہم نے دو بنیادی اصولوں کا ذکر کیا تھا۔ Construction of reality اور Social influence  کہ ہر شخص اپنی حقیقت تعمیر کرتا ہے یا یوں کہ ہر شخص کی اپنی حقیقت ہوتی ہے۔ اسی طرح

Read more

ساگر سرحدی کی رہنمائی کا شکریہ

نہیں معلوم وہ کون مہربان تھا جس نے یہ مشورہ دیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کہاں سے اور کتنی آسانی سے، اس کی دستیابی ہوئی کہ یہ 80 کی دہائی تھی اور وی سی آر کا ہی چلن عام تھا۔ تب یہ بھی خوش نصیبی میں شامل تھا کہ جو دیکھنے کی خواہش ہو وہ میسر آ جائے۔ ان دنوں ایسا ہو جانا، ایسا ہی تھا جیسے لکی ڈرا میں پرائز کا نکل جانا یا پرائز بانڈ کے نمبر کا، اخبار میں چھپے نمبروں سے میچ کر جانا۔

Read more

وقت آج بھی کسی دُلے بھٹی کا منتظر ہے

دُلا بھٹی کی کہانی بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔ اور زیادہ تر لوگ تو شاید نام سے بھی واقف نہ ہوں۔ میں ”کہانی“ کا لفظ اس لیے بھی استعمال کر رہا ہوں کیونکہ دلا بھٹی مؤرخین کے نزدیک بھی اہمیت کا حامل نہیں رہا اور اس کی داستان پرانے زمانے کی طرح سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچتی رہی ہے۔

Read more

کتاب خواں کہاں کھو گیا

بیان کیا جاتا ہے کہ پطرس بخاری نے ایک بار آل انڈیا ریڈیو پر ایک تقریر ریکارڈ کروائی۔ ریکارڈنگ کے بعد پتا چلا کہ ایک لفظ کا تلفظ غلط ادا ہو گیا ہے۔ پطرس نے دوبارہ ریکارڈنگ کرنے کو کہا۔ عملہ متذبذب تھا۔ کسی نے کہا سر جانے دیجیے، ہزار میں کوئی ایک ہو گا جو اس غلطی کو نوٹ کرے گا۔ پطرس نے جواب دیا مجھے اسی ایک خبیث کا ڈر ہے۔ پطرس بخاری کی تلفظ کے بارے میں

Read more