اروندھتی رائے کی تصنیف: بے پناہ شادمانی کہ مملکت

نہ میں نے دہلی دیکھی ہے نہ کبھی کشمیر گیا ہوں۔ دہلی سے میرا پہلا تعارف خوشونت سنگھ کی ناول ”دہلی“ سے ہوا، جو ایک طوائف کی ایک شہر کی کہانی ہے۔ اشرافیہ نے جس طرح طوائف کے حسن و جوانی کے مزے لوٹے، اُسی طرح خوبصورت اور تاریخی شہر کو مسخ کر کے شاپنگ مالز اور بڑے بڑے بنگلوں کے ایک بکسے میں بدل دیا۔ جہاں اس شہر کے باسیوں کے اجداد کی قبریں تھیں اب وہاں بڑے مالز

Read more

ایک بیدار شاعر: ساحرؔ

ادیب شاعر یا کسی فنکار کے غور و خوض کا دائرہ جدا گانہ ہوتا ہے۔ فنکار جو کچھ سمجھتا ہے اس کے اظہار پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ فنکار کا مشاہدہ ہی اس کی تخلیق کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جسے وہ جذب کر لیتا ہے اور یہ جذب و انجذاب کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور فنکار اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر اسے پیش کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی اس ادیب یا شاعر کی

Read more

مصنف بیچارا اب منظر میں کیسے رہے؟

آج کل کتابیں جس تیز رفتاری سے آ رہی ہیں اسی تیز رفتاری سے پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے پہلے چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک برس تک کتاب کے نام کا دیا روشن رہتا ہے تیرہویں مہینے وہ بھی پھڑپھڑانے لگتا ہے۔ پبلشر لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ چلو پانچ سو اشاعت کے دو ایڈیشن (یعنی ہزار کتب) ایک برس میں بیچ دیے۔ سال بعد بلکہ نو ماہ بعد مصنف کی

Read more

درد کا رشتہ

ایک تو زندگی کا سفر ہے جو موت کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے اور ایک موت نامی حقیقت کے ساتھ آگہی کا سفر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ جو دوسرا سفر ہے یہ درد کے رشتے سے عبارت ہے اور اس رشتے سے ہر کوئی بندھا ہے جس نے کسی اپنے کو کھویا ہو۔ ہمارے ہاں اس درد کے رشتے کے اظہار کو افسوس یا افسوس کرنا کہتے ہیں۔ جس طرح وقت کے ساتھ باقی باتیں بدلی

Read more

گٹیالیاں پتن اور کرشن چندر کا رومانس

کرشن چندر اردو افسانہ اور ناول نگاری میں ایک بہت بڑا نام ہے۔ اُن کے والد پونچھ کے راجہ کے ذاتی معالج تھے۔ کرشن چندر کا بچپن پونچھ میں گزرا۔ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ اور بعد میں اکیلے متعدد بار اُنھوں نے پونچھ سے لاہور اور دہلی تک کا سفر کیا۔ یہ سفر پونچھ سے میرپور اور پھر گٹیالیاں پتن سے کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے جہلم سے بذریعہ ریل گاڑی لاہور اور دہلی تک کیا

Read more

انٹرفیس میگزین کا سرورق

ایک روز میں اپنی ای میل چیک کر رہا تھا۔ مجھے کسی خاص ای میل کا انتظار تو نہیں تھا۔ روز ایک جیسی ای میلز ہی ہوتیں تھیں۔ بینک کی طرف سے آئے پن کوڈ، سبسکرائب ویب سائٹس کی اپ ڈیٹ، اور ای میل سروس کی جانب سے بھیجی گئیں پروموشنز۔ لیکن اس روز ایک ای میل باقیوں پر نمایاں ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ مختلف تھی اور خلاف توقع بھی۔ اس کے مقابلے میں باقی ای

Read more

برساتی مینڈک

  (اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ ’کایا کلپ‘ سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے ) برسات کو کس نے سہانا موسم کہہ دیا؟ ہندوستان میں جو بھی آیا لوگوں نے کچھ دیکھے سوچے سمجھے بغیر اسے اپنا لیا، اس کی اچھائیاں برائیاں سب اختیار کر لیں۔ برسات مشہد و شیراز کے ٹھنڈے علاقوں میں خوشگوار رہی ہوگی۔ فارسی ادب میں اس موسم کو پیارا لکھا جاتا

Read more

کنیز فاطمہ کو گھر بسانا ہے (پانچویں قسط)

اگر بن بلائے، بن چاہے اولاد ہو، اور وہ بھی لڑکی، کی نشانیاں لیے، تو وہ بیٹی نہیں، لڑکی ہوتی ہے۔ اور لڑکی کا نام پہلے سے نہیں سوچا جاتا، بلکہ بعد میں بھی نام کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ اس زمانے میں ہسپتال میں تو بچے ہوتے نہیں تھے، کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ میں نام لکھوانے کی غرض سے نرس آئے اور نام پوچھے۔ یہاں تو ہر شیر خوار، لڑکی کو منی کہا جاتا، چوتھی لڑکی تک تو کنیز فاطمہ

Read more

امید پرسش غم کس سے کیجیے ناصر

اداسی، تنہائی، یاسیت اور رات کا شاعر ناصر کاظمی اپنے کلام سے اردو ادب کا دامن بھر گیا۔ کسی بھی شاعر یا ادیب کے کلام میں اس کے عہد میں ہونے والی سرگرمیاں بھی تخلیق میں اپنی جھلک دکھاتی ہیں۔ تخلیق کار جس ماحول میں پرورش پاتا ہے اور جو کچھ اس کے گرد و نواح میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ اس کے کلام پر بھی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ جن

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ پہلا حصّہ

اگر ہم یہ کہیں کہ مغربی ادب کے مطالعے نے ادب کے متعلق ہمارے روایتی فکری رویّوں کو چیلنج کیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ مگر چونکہ ہماری ادب کی جڑیں مشرقی طرزِ فکر کی سرزمین میں پیوست ہیں تو ہمارا تخلیقی ادب اکثر اسی طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا نظر آئے گا۔ مغرب اور مشرق کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب ”ڈارک ایج“ سے نکلنے کے بعد ایک واضح ڈائریکشن پہ اپنی سمت

Read more

زندگی جہد مسلسل: حصہ سوئم

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل خیرات میں تو چاند ستارے نہیں ملتے آج اپنی سالگرہ پر اپنی زندگی کے حالات و واقعات پر جو سلسلے وار کالم لکھنے کا آغازکیا تھا اس کا حصہ سوئم لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنی سالگرہ کے دن کو خوشی کے طور پر مناؤں کہ اس دن دنیا میں میری آمد ہوئی یا اس دن کو سوگ کے طور پر منایا جائے کہ

Read more

تعلق کا نا دیدہ بوجھ: نادرہ مہر نواز کی کتاب پر تبصرہ

نادرہ مہر نواز کی تحریریں بہت عرصے سے پڑھ رہی ہوں۔ ایک بار ان سے روبرو ملاقات بھی ہوئی، جو سو ملاقاتوں پر بھاری ہے۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ایک ہی ملاقات میں سامنے آ گئے۔ اس وقت سمجھ نہیں آ رہا، کہ ان کی تحریر پر تبصرہ کروں یا شخصی خاکہ لکھوں۔ انسان کو پڑھنا، سمجھنا میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ نادرہ اپنی تحریروں کی طرح سچی اور بے باک ہیں۔ وہ کھل کر ہنستی اور کھل کر

Read more

اسرار الحق مجاز: ادبی اہمیت

  مجازؔ کی انقلابی اور رومانی نظموں اور غزلوں پر گفتگو کے بعد یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ مجاز کی ادبی اہمیت کیا ہے۔ بالخصوص آج کے سیاق میں، کیا مجاز صرف عہدِ گزشتہ کے شاعر ہیں؟ یا شعری مزاج میں تبدیلی کے بعد آج وہ صرف ادبی تاریخ کا ایک ورق ہیں۔ جس کے بارے میں منظر سلیم نے لکھا ہے : ”یہ نغمے تیزی سے بدلتے ہوئے شعری مزاج کے ساتھ ساتھ پرانے ہوتے جا

Read more

زمیں یاں کی چہارم آسماں ہے

ادبیات اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے ہمارے ہاں عام طور پر اس قبیل کی بحثیں تو ہوتی رہی ہیں کہ فن زندگی کے تابع ہے، یا زندگی فن سے اثر پذیر ہے، لیکن اس کے مقابلے میں فن کار، فن کارانہ عمل اور فنونِ لطیفہ کے اسرار و رموز کو سمجھنے یا سمجھانے کی طرف توجہ کم رہی ہے۔ البتہ تخلیق کے پُراسرار عمل کو تخلیق کار ضرور نرگسیت کے پیرائے میں اپنی تحریروں میں ڈھالتے اور محدب عدسے

Read more

شعر کی شعاع، ذہنوں کی جِلا

تعلیم کے افق پر ہمارے سامنے موجود اہم ترین کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ بچوں کو تجریدی فکر، مجرد خیالات کو گرفت میں لانے میں کس طرح مدد کی جائے۔ کیا یہ ایک تعجب انگیز امر نہیں کہ شعر، جو کہ اپنی سادہ ترین صورت میں محض الفاظ کا مجموعہ ہے، بچوں کے ذہنوں کو تجریدی سوچ کی جانب رہنمائی کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے؟ یقیناً شعروں کی دنیا جذبات، مخصوص اشیاء، مناظر، لوگوں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 35 : فرار

  ” وہ شخص مبارکباد کے قابل ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے کیوں کہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ “ یعقوب 1 : 12 میں نے کیفے جارج میں داخل ہوتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالی تو دس بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ دائیں جانب سامنے ہی ہماری مخصوص میز پر دانی ایل بیٹھا

Read more

پھولوں کے کاغذ پہ آگ کی لکھت

  ”میری تحریر، کیا نظم اور نثر، میں جانتی ہوں غیر قانونی بچّے کی طرح ہیں۔“ یہ الفاظ پنجابی کی مشہور ادیبہ امرتا پریتم کے ہیں جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھنے سے پہلے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی آپ بیتی صرف دس سطروں میں لکھے گی، جس کی پہلی سطر یہی ہو گی۔ سچ میں اگر آپ دیکھ لیں تو اعلیٰ پائے کا ادب جس میں صدیوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہ سماجی

Read more

پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی روایت

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے بولنے اور سننے کا ہنر بھی عطا کیا، بولنے اور سننے کا تعلق کسی نہ کسی زبان سے ہوتا ہے جو ہر انسان بولتا یا سنتا ہے، کرہ ارض پر اس وقت اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں زبانیں لازمی بولی جاتی ہیں، کچھ زبانوں کو بولنے والے دستیاب نہیں رہے تو وہ معدوم ہو چکیں، کچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں سیکھنے

Read more

سنگھاسن بتیسی : ایک موضوعاتی مطالعہ

  کتاب: سنگھاسن بتیسی مصنف: نا معلوم مترجم: انتظار حسین سنگھاسن بتیسی۔ (سنگھاسن یعنی تخت اور بتیسی یعنی بتیس 32 ) یہ سنسکرت کی مشہور منظوم داستان کا اُردو نثری ترجمہ ہے۔ اس سے ملتی جلتی ایک اور داستان بیتال پچیسی ہے۔ متن اس کا یہ ہے کہ راجہ بھوج اجین نگری میں راج کرتا ہے، اس کی سلطنت میں ایک شخص ایک کھیت کی رکھوالی کے لیے ایک مچان پر چڑھتا ہے، چڑھتے ہی بلند آواز سے حکمیہ انداز

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

گوتم سے ملاقات

1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ

Read more

طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست

اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد

Read more

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں

فیض میلہ سج چُکا ہے بلکہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ فیض احمد فیض صاحب پر بات کرنا یا کچھ لکھنا جیسے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ فیض صاحب کی شاعری محبت، مزاحمت اور اُمیدوں کے ملے جُلے نرم جذبات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے شعری اسلوب میں بہت دل کشی سے وہ سادہ باتیں کیں جن میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ قاری کے دل میں اُتر کر لبوں

Read more

اللہ سئیں دے بندے اساں شاعر محمد یونس۔ کافی کا ریویو

کافی پنجابی، سندھی اور سرائیکی میں استعمال ہونے والی شاعری کی ایک شاخ ہے۔ وہ شاعر جو روشنی اور آگہی کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ یعنی، صوفی ازم وہ تخلیق کار یعنی خدا سے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے لئے گہری محبت کا اظہار کرنے اور اپنی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے ذریعہ اظہار کے طور پر کافی کا استعمال کرتے ہیں۔ حضرت بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، سچل سرمست اور کچھ دیگر ہستیوں

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں (2)

پچھلے چھے مہینے میں ایسا کوئی پاکستان کا پبلشر نہیں جس کے منہ سے ہم نے اپنی کتاب کے بارے میں کچھ اچھا نہ سنا ہو، مگر عملی طور پر اس نے اپنے الفاظ کے بالکل برعکس نہ کیا ہو۔ آج سے چھے مہینے پہلے ہم اپنی کتاب کے مسودے کو لے پہلے پبلشر کے دربار میں حاضری دی۔ جناب نے کتاب کو چاروں طرف سے ایسے گھما گھما کر دیکھا، جیسے ڈاکٹر مریضوں کے ایکسرے دیکھتے ہیں۔ اور درمیان

Read more

صفدر زیدی کا ناول ”بنت داہر“: تنقیدی جائزہ

فاتح قوموں کا نفسیاتی حربہ ہوتا ہے کہ وہ مفتوحہ قوم پہ غالب آنے کے بعد اسے اس کی تاریخی ہیئت سے کاٹ کر الگ کھڑا کر دیتی ہیں، جس کا سب سے پہلا اور گہرا وار علم و ادب پہ کیا جاتا ہے۔ تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو کتنے ہی عظیم کتب خانے، ودیا شالا اور پاٹھ شالائیں راکھ کا ڈھیر بنا کر مفتوحہ قوموں کو ناکارہ اور فضول بنا کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر

Read more

آکاش کی میراث: آخری سانس تک جدوجہد

ڈاکٹر آکاش انصاری کی زندگی اور موت ایک ایسی داستان ہے جس میں شاعری، سیاسی سرگرمیاں، اور انسانی خدمات باہم منسلک ہیں۔ 25 دسمبر 1956 کو سندھ کے ضلع بدین کے ایک گاؤں سعید پور میں پیدا ہونے والے آکاش کا سفر ایک سادہ پس منظر سے شروع ہو کر ایک مشہور شاعر اور سماجی کارکن تک پہنچتا ہے، جو ان لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو سماجی بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کہانی صرف ذاتی کامیابی

Read more

پہلے خواب اور پھر آکاش خود قتل ہوئے

جدائیوں، محرومیوں اور جبر کے خلاف لڑنے والے سندھی زبان کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا ہے، جیسے سیاسی سفر میں ان کے خوابوں کا قتل ہوا۔ ان کو رہبر سے رہزن ثابت ہونے والوں سے گلا تھا، جس کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔ سندھ میں وہ رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک کے متحرک رہنما رہے اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نعپ (نیشنل عوامی پارٹی) کے

Read more

جب تیز ہوا کا جھکڑ جہاز ہی پلٹا جائے

ایوی ایشن پر آج کل برا وقت چل رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک جہاز کے کریش ہونے کی خبریں آ رہی ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان واقعات کی نوعیت بھی عجیب ہے۔ مثال کے طور پر لینڈنگ بہترین ہو جاتی ہے لیکن آگے سیسہ پلائی دیوار آ جاتی ہے جس سے ٹکرا کر جہاز پاش پاش ہو جاتا ہے۔ پھر امریکہ جیسے ملک میں جہاں ترقی پذیر ممالک کے برعکس سیفٹی اور سیکیورٹی کے اعلیٰ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 34 : احساسِ محرومی

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں دعا اور منت کے ساتھ شکرگزاری کے ساتھ اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کرو، اور خدا کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے، وہ تمہارے دلوں اور خیالات کی مسیح یسوع میں حفاظت کرے گی۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے اتوار کو حسب معمول انکل شاہد، آنٹی اور بچوں کے ساتھ سینٹ فلپس چرچ روانہ ہو گئے۔ ان کے گھر سے چرچ کا آدھا گھنٹہ پیدل کا

Read more

”بغیر عنوان کے“ از سعادت حسن منٹو کا تجزیاتی مطالعہ

اُردو ادب کے معروف افسانہ نگار ”سعادت حسن منٹو“ کو اُردو ادب میں افسانہ نگاری کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اپنے بے باک لہجے، سادہ و سلیس زبان اور مخصوص اسلوبِ تحریر کی وجہ سے انہیں اُردو ادب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ بقول ڈاکٹر انور احمد: ” منٹو اپنی نوعیت کا اکلوتا افسانہ نگار ہے اور جس نے بھی اس کی نقالی کی وہ پنپ نہ سکا۔“ اگر منٹو کی افسانہ نگاری کی

Read more

کتاب : دھواں

انسانی ذہن کی اختراعات ہیں ساری۔ دیر سویر بھی اسی ذہن کے کام ہیں۔ سوچتے سوچتے بھی دیر ہو جاتی ہے۔ جن دنوں ”گر یاد رہے“ پڑھی تھی اس کے بعد جلد ہی ”ڈیوڑھی“ اور ”دھواں“ پڑھی تھیں۔ یہ گلزار صاحب کی شخصیت کا اثر ہے مجھ پر، ان کے ساتھ محبت کی وجہیں تلاش کرتا رہتا ہوں اور میرے پاس ان کے ساتھ کرنے کی باتیں نہیں ہوتیں، سوائے الٹے سیدھے سوالات اور بے سرو پا باتوں کے جن

Read more

ادریس بابر کی شاعری میں سائنسی شعور (شعری مجموعہ ’یونہی‘ کے تناظر میں)

معاصر اردو شاعری کے افق پر ادریس بابر کی شاعری اپنے منفرد انداز میں جگمگا رہی ہے۔ ادریس بابر کی شاعری جدید لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ وہ معاصر اردو شاعری میں معیاری اور اہم مقام رکھتے ہیں۔ شعری تصانیف میں غزلوں کا مجموعہ ”یونہی“ 2012 میں شایع ہوا جسے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا جب کہ 2022 میں ان کی نظموں کا مجموعہ ”عشرے“ شایع ہوا۔ بابر کی شاعری جدید انسان کے معاملات و مسائل

Read more

دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

احوال سفر ترکیہ: قسط نمبر 1

فروری 2022 میں دو ہفتے قبل ہی شیخ الجامعہ نے نوید سفر مع اذن سفر و قیام کی دی۔ منزل تھی استنبول، اسکشہر و قونیہ۔ شیخ الجامعہ نہ صرف بین الاقوامی علمی رابطوں کے پرجوش داعی ہیں بلکہ فیکلٹی و تکنیکی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے وقتاً فوقتاً انعقاد کے راست اقدام کے حامی اور خالص پیشرو بھی، دلم اور عزیزی ڈاکٹر زاھد مجید جامعہ کے ڈائریکٹر بین الاقوامی علمی روابط ہیں۔ ان کی پیہم سعی کاملہ کی بدولت

Read more

گزشتہ کراچی

آج جب کراچی کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس شہر کو بڑی پلاننگ سے برباد کیا گیا اور اب تو یہ حال ہے کہ یہ شہر برباد کسی یتیم بچے کی طرح لاوارث ہو چکا ہے لیکن اس کے دامن میں اب بھی بہت کچھ ہے جو ہر آنے والے کو اپنے اندر سمو لیتا ہے یہ اور بات ہے کہ اس شہر کے وسائل سے تو سب کو دلچسپی ہے

Read more

برگر شوارمے والے کتاب میلے کی روداد

کتابیں ہوں، بہت کتابیں ہوں، اور ہر طرف کتابیں ہوں۔ پچھلے ہزاریئے میں جنم لینے والوں میں یہ خواہش اتنی غیر معمولی نہیں تھی، اس لئے جب پچھلے ہزاریئے سے قدم نکال کر ہم نے ایکسپو سینٹر میں قدم رکھا تو ہمیں اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ پہلے تو کچھ وقت ہم بولائے بولائے، آنکھیں پھاڑے ویسے ہی دکان دکان گھومتے رہے جیسے گاؤں کا غریب بچہ شہر کے میلے میں آ کر کھو جاتا ہے۔ کچھ ہی دیر

Read more

امجد اسلام امجد

اردو ادب کا عظیم سرمایہ 10 فروری 2023 کو لاہور میں منعقدہ پاکستان ادبی میلہ کے دن اپنے چاہنے والوں کو بندش قلب کے باعث داغ مفارقت دے گیا۔ وہ 4 اگست 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شاعر، ادیب، دانشور اور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کو ڈرامہ وارث تحریر کرنے پر ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ جب ڈرامہ وارث نشر ہوتا تو پاکستان کی گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں۔ ڈرامہ وارث کو ہندوستان اور چین میں بھی بہت

Read more

سفر جاری ہے

وہ لوگ جن کو کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کے لئے بیرون ملک جانے کا موقع ملتا ہے، واپس آ کے صرف دفتری رپورٹ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عام قارئین کو اپنے کام کی تفصیلات بتانے کے ساتھ ان ممالک کے تاریخی، ثقافتی اور تفریحی مقامات کی سیر بھی کراتے ہیں۔ اردو ادب کی ایک قاری کی حیثیت سے سفر ناموں کا مطالعہ بچپن سے میرا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ ان سفر

Read more

تیری خیراں

تم بیڈ پہ پڑے کیا کر رہے ہو، اتنا نہ ہو سکا آ کر ماں کے پاس ہی بیٹھ جاؤ۔ مانا تیری خیراں گھر نہیں، پر تیری ماں تو گھر ہی تھی۔ لیکن تم اس موئے موبائل سے باہر آؤ تو پھر ہے نا، جانے کس ماں کے ساتھ لگے رہتے ہو۔ گھر اور گھر والی کی فکر ہی نہیں تجھے۔ دفتر سے واپس آتے ہو اور اسے لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ بند کرتی ہوں تیرا یہ موبائل دیکھنا،

Read more

جیل بیتی۔ 2

زندانی ادب کی دو مثالیں اسی راولپنڈی جیل سے نسبت رکھتی ہیں جس کا بڑا ذکر راجہ انور کی کتاب ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ میں ملتا ہے۔ ان دو کتابوں میں سے ایک قیدی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور دوسری اس جیلر کی جو اس مشہور قیدی کی قید کے دوران یہاں کا سیکیورٹی چیف تھا۔ قیدی کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا اور جیلر کا نام کرنل رفیع الدین۔ ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ بھٹو صاحب

Read more

رجب علی بیگ سرور اور ”فسانہ عجائب“ کے فکری و فنی نقطہ نظر

فکری موزونیت اور اسلوب کی فنکاری کو ہم آنگ کرنا ایک قابل تحسین عمل ہے، کسی طرح انسانیت کی گردش تقدیر پر زبان کی تاثیر سے روشنی ڈالنا ایک معمولی پیشہ نہیں، معجزہ ہے۔ ادیب رجب علی بیگ سرور اپنے ”فسانہ عجائب“ میں قارئین کے لئے ایک ادبی امتحان پیش کرتے ہیں کہ قاری کس حد تک طرز مبالغہ آرائی کو برداشت کر سکتا ہے؟ میرے نزدیک، سرور کی ادبی طاقت اور ان کی فنکارانہ کارکردگی اس بات پر منحصر

Read more

آسماں در آسماں : بر صغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں کی داستان

چند ماہ پہلے بھارت کے جاوید صدیقی کی برصغیر پاک و ہند کے فنکاروں کے خاکوں پر مشتمل کتاب ”میرے محترم“ پڑھنے کا موقع ملا۔ خوش قسمتی سے عزیزم گگن شاہد کے توسط سے جاوید صدیقی سے فون پر بات چیت بھی ہوئی۔ ان کی کتاب میں فن اداکاری، مصوری اور ادب سے تعلق رکھنے والوں کے خاکے شامل ہیں۔ آج ڈاکٹر شاہد صدیقی کی برصغیر کے ہجرت کرنے والے فنکاروں پر لکھے گئے خاکوں پر مشتمل کتاب ”آسماں در

Read more

اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں

چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔

Read more

روحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش

عنوان نے آپ کو چونکا دیا ہو گا۔ بات ہے بھی چونکنے والی، کہنے کو بہت کچھ ہے بات کیسے شروع کی جائے، دیکھیے اپنا افسانہ علم الاسماء لکھتے سمے یہ بھید مجھ پہ کھلا تھا کہ یہ کائنات یونی ورس نہیں ملٹی ورس ہے، بلکہ اس کائنات میں یہ جو ہمارا چھوٹا سا کرہ ہے، یہ ہماری زمین، اس پہ زندگی کے کتنے رنگ ہیں، اس دنیا میں کتنی دنیائیں ہیں ہم نہیں جانتے۔ ایک دنیا مادے کی ہے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

نہر کنارے

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

محمد حسن عسکری بطور نقاد

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919 ء کو ضلع میرٹھ کے ایک قصبے ”سراوہ“ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اظہار الحق تھا جبکہ گھر میں انہیں ”بھولے میاں“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ محمد حسن عسکری کا بچپن سرواہ کی گلیوں میں کھیلتے گزرا۔ ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز مذہبی تعلیم سے ہوا جبکہ رسمی تعلیم کے لیے انہیں سراوہ کے پرائمری سکول بھیجا جانے لگا۔ مگر جلد ہی انہیں اس سکول سے ہٹا کر،

Read more

اسد محمد خان کے افسانوں میں نو آبادیاتی جبر اور اس کے خلاف ثقافتی ردعمل

نو آبادیات سے مراد وہ استعماری طاقتیں ہیں جو کمزور قوموں پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے نہ صرف ان کے وسائل پر قبضہ جماتی ہیں بلکہ ان کی ثقافت، تہذیب، تمدن، تعلیم، روایات اور اقدار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ذہنی غلامی مسلط کر دی جاتی ہے۔ برطانوی استعمار نے برصغیر میں اپنے تسلط کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا، ان کے تمدن کو کمتر اور خود کو مہذب ثابت

Read more

سالک ’کی کہانی، درویش کی زبانی

خواتین باوقار اور حضراتِ خوش اطوار! چلیے، آج دَرویش اور دُرویش میں فرق پر بات نہیں کرتے اور سیدھے ’سالک‘ پر آ جاتے ہیں۔ جن ’سالکین‘ سے میں، نام کی حد تک ہی سہی، بچپن سے آشنا تھا ان میں سے مولانا علم الدین سالک اور پروفیسر عبدالمجید سالک کے نام میں کبھی فراموش نہ کر سکا کیوں کہ و الدِ گرامی جناب یزدانی جالندھری ان علمی ہستیوں کا ذکر علامہ تاجور نجیب آبادی اور مولانا افسر امروہوی کے تذکرہ

Read more

نرناری

(دو فروری: آج انتظار حسین کی نویں برسی ہے) مدن سندری کتنی خوش تھی کہ دیوی نے اس کی سن لی، نہیں تو بھیا اور پتی دونوں ہی کو وہ کھو بیٹھی تھی۔ بھیا جب سدھارنے لگا تو اس کی خوب بلائیں لیں۔ گوپی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، دعا دی، دعا لی، اور چلا گیا۔ گوپی کے چلے جانے کے بعد بھی مدن سندری دیوی کے گن گاتی رہی، دھا ول اس کی ہاں میں ہاں

Read more

تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

تماشا (2015): قلم برداشتہ تاثرات

راقم دو معیارات کی بنیاد پر موویز کا ناظر ہے ؛ ایک ڈائریکٹر، دوسرا کریکٹر۔ ایکٹر اور آئی ایم ڈی بی ریٹنگ کو معیار بنا کر مووی دیکھنے پہ میری وہی تنقید ہے جو یار لوگوں کی جمہوریت پہ ہے۔ اب جب کہ کنزیومرزم کا دور دورہ ہے وہاں فلم، مووی، سینما دیکھنے کا تجربہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ آپ کو مووی کنزیومرز تو بہت ملیں گے، مووی لوَّر شاید ہی کوئی ڈھونڈنے سے ملے۔ امتیاز علی کی

Read more

اکیلے لوگوں کا ہجوم : تعارف و تجزیہ

اردو افسانے کے آغاز کو تقریباً سوا سو سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں اُردو افسانے کی تاریخ میں کئی رجحانات پیدا ہوئے اور پھر ماند پڑ گئے۔ اس ضمن میں سماجی حقیقت نگاری، رومانویت، اشتراکی حقیقت نگاری، تجریدیت، علامت پسندی اور شعور کی رو وغیرہ کے تجربات، نمایاں ہیں۔ ان تحریکوں اور بیانیہ تکنیکوں کی بدولت جہاں افسانے کے موضوعات میں تنوع آیا، وہیں فنی لحاظ سے اس میں گہرائی اور گیرائی بھی پیدا ہوئی۔ ترقی پسند تحریک

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

کافکا کا ناولٹ: کایا کلپ

کایا کلپ کے مصنف فرانز کافکا ( 1883۔ 1924 ) جرمن زبان بولنے والے ایک یہودی ادیب تھے جن کی پیدائش پراگ (چیک جمہوریہ) میں ہوئی۔ کافکا کا شمار بیسویں صدی کے با اثر ترین عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط یہودی خاندان سے تھا۔ وہ یونیورسٹی آف پراگ سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے انہوں نے قانون کی تعلم حاصل کی۔ وہ زندگی بھر انشورنس کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں وہ معاشی طور پر

Read more

ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (2)

سوال: آپ کے اس مقدمہ کی رُو سے یہ اخذ کرنا درست ہے کہ مشرقی فلاسفہ میں زندگی سے رغبت اور قربت زیادہ پائی جاتی ہے؟ جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ ایک جاپانی فلسفی کیتارو نیشیدہ اپنی کتاب ’این انکوائری اِن ٹُو دا گُڈ‘ میں سوال اٹھاتا ہے کہ خیر کہاں ہے؟ اُس کے مطابق خیر روزمرہ زندگی میں ہی موجود ہے۔ ایک مقام پر اس نے لکھا کہ میں چالیس برس تک ڈائس کے اس جانب بیٹھ کر اساتذہ

Read more

مالک کی بیٹی اور کرخت شکل آدمی

میرا جنم کوڑے کے ڈھیر پر ہوا تھا۔ ماں باپ کا کچھ پتہ نہ تھا، مر گئے کہ زندہ ہیں۔ شاید کسی نے ترس کھا کر مجھے کبھی گود لے لیا ہو گا لیکن گھر میں اس نے بھی نہیں رکھا۔ میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو گلیوں میں آوارہ گھومتے ہوئے ہی پایا۔ کہیں سے کچھ کھانے کو مل جاتا تو ٹھیک ورنہ کچھ دن پانی پی کر بھی نکل جاتے تھے۔ رات گزارنے کے لیے میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 32 : پچھتاوا

” خدا جو امید کا سرچشمہ ہے، تمہیں ہر طرح کی خوشی اور سکون سے بھر دے، تاکہ روح القدس کی قدرت کے وسیلے سے تمہاری امید زیادہ ہو جائے۔“ رومی 15 : 13 میں چھوٹکی گِٹّی کی طرف سے شاہی بازار میں داخل ہوا تو سامنے ہی مٹھائی کی دکان کے برابر دین دنیا بک ڈپو سے انکل شاہد نکل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، مٹھائی والے کی ایک بات بتاتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں

Read more

علامہ اقبال اور ہائیڈل برگ میں شبنم اور ستاروں کا ایک مکالمہ

کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بہ طور اقبال شناس اور بہ طور قوم اس عالی دماغ کے پیغام کو تو رسمی طور پر بہت غیر معمولی طور پر اہمیت دی لیکن بہ طور فن کار ہم نے کبھی انھیں جاننے کی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال بہ طور مفکر تو بہت بلند ہوتے چلے گئے لیکن بہ طور تخلیقی فن کار ہم ان سے زیادہ آشنا نہ ہو سکے۔

Read more

اساتذہ کرام، دوست اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور

بک شاپ سے شروع ہونے والا سفر کمرہِ جماعت اور بخاری آڈیٹوریم سے ہوتا ہوا اوول گراؤنڈ میں اختتام پذیر ہوا۔ پہلا ایوننگ سیشن 2020 تا 2024۔ ڈگری بی۔ اے (آنرز) اُردو۔ اس سفر کی ابتدا میں 24 سواریاں تھیں۔ جن میں سے نصف کسی مجبوری، مرضی یا مصلحت کے تحت مختلف مقامات پر اتر گئیں۔ نصف (یعنی بارہ) مسافر ہی منزل تک پہنچ سکے ہیں۔ میں اس سفر کے احوال و مشاہدات و تاثرات قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔

Read more

مرزا واحدی

امتیاز مرزا عرف مرزا واحدی (م: 3 ؍جون 1995 ء) جے پور، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جہاں اُن کا خاندان دہلی سے ہجرت کر کے آباد ہو گیا تھا۔ اُن کے والد اُمراؤ مرزا ریاست کے کامیاب وکلا میں سے ایک تھے۔ بدقسمتی سے بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے سبب خاندان کی کفالت کی ذمّہ داری مرزا واحدی اور اُن کے بڑے بھائی اعجاز مرزا (م: 2000 ء) کے کاندھوں پر آ گئی مگر

Read more

”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ

اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی

Read more

Colonial Lahore: A Post-dated Letter for Future Generations

In this book, “Colonial Lahore”, Professor Aziz ud Din Ahmad has encapsulated a transformational century of Lahore in a rhapsodic note which is simultaneously a panegyric tribute and a pyrrhic elegy. The city of Lahore is to this part of the world what cities like Paris, St. Petersburg, London, Delhi, Shanghai, Vienna and New York are to their respective lands. John Milton included Lahore in his inventory of the finest cities of the world in “Paradise Lost”. Lahore has had

Read more

راموز

اشاعت سے قبل اس رزمیہ نظم کا نام ”نئی آگ کا عہد نامہ“ تھا۔ یہ نظم اٹھارہ الواح (ابواب، فصل یا حصوں ) پر مشتمل ہے۔ راموز میں الواح کو ترتیب خالد احمد انصاری نے دی ہے اور مصوری دانش رضا نے کی ہے۔ اس نظم کی کئی الواح کے گم ہونے کے متعلق بھی افواہیں زیر گردش ہیں، مگر اس کی توثیق اب تک نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، یہ متفقہ امر ہے کہ راموز ایک نامکمل نظم ہے۔ جون

Read more

شکیب جلالی اور نو آبادیاتی عہد کی تلخیاں

شکیب جلالی ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے تلخ واقعات برداشت کیے اور ان واقعات کو برداشت کرتے کرتے ان کا ضبط جواب دے گیا جس کی بنا پر انہوں نے خودکشی کر لی۔ شکیب جلالی نے اتنی تکلیف دہ زندگی جینے کی بجائے موت کو ترجیح دی۔ شکیب جلالی کا شمار اردو ادب کے نامور شعراء میں ہوتا ہے۔ شکیب جلال اردو شاعری پر شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوئے اور پھر دیکھتے

Read more

شکیلہ رفیق کی یاد میں

شکیلہ رفیق بائیس جنوری دو ہزار پچیس کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ وہ ایک حق گو انسان تھیں اور ایک مخلص دوست۔ ان کی افسانہ نگاری اور عصمت چغتائی سے ان کے انٹرویو کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار شاعری بھی کرتی تھیں۔ میں ان کی یاد میں آپ کے سامنے وہ مضمون پیش کرتا ہوں جو میں نے ان شاعری کے حوالے سے لکھا

Read more

درد کی غیر موجودگی: جینیاتی تغیر کے فوائد، نقصانات اور نفسیاتی و جذباتی پہلو

ایک دلچسپ اور نادر طبی اور جینیاتی کیفیت جہاں کسی فرد کو درد محسوس نہیں ہوتا، جسے ”کانجینیٹل انسینسٹیوٹو پین“ (Congenital Insensitivity to Pain) یا ”کانجینیٹل اینالجزیا“ کہا جاتا ہے، انسانی جسمانیات اور جینیات کے میدان میں ایک منفرد معمہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف فرد کی جسمانی حساسیت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے نفسیاتی، سماجی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ درج ذیل طبی، سائنسی، اور نفسیاتی تجزیوں کے ذریعے اس

Read more

انور پیرزادو: مقدور ہو تو خاک سوں پوچھوں۔۔۔

مہناز رحمان صاحبہ کی انور پیرزادو پر لکھی ہوئی خوبصورت تحریر نظر نواز ہوئی۔ ان کا بہت شکریہ۔ انور پیرزادو (یاد رہے انور اپنا آخری نام پیرزادہ کے بجائے سندھی روایت کی پیروی میں پیرزادو لکھنا پسند کرتے تھے ) اپنی شخصی وجاہت، اصول پسندی اور علمیت کی بنیاد پر بجا طور پر صرف سندھ ہی نہیں پاکستان کی قد آور شخصیات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ وہ ان شخصیات میں سے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

منٹو، ہم اور ہمارا عہد

اگر یہ کہا جائے کہ یہ عہد سعادت حسن منٹو کا عہد ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ آئے دن جس طرح معصوم لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس عہد کو ایک منٹو کی بہت ضرورت ہے۔ اتنی ضرورت جتنی شاید 1947 ء میں ہندوستان یا پاکستان کو بھی نہ تھی۔ وہی منٹو جو نہ صرف اردو کا بلکہ دنیائے ادب کا بڑا افسانہ نگار ہے اور جس نے اپنے

Read more

پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ

”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے

Read more

اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں تاریخی شعور

تاریخ، واقعات کو محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے سوالات کا نام ہے جو واقعات کے نتائج سے برآمد ہوتے ہیں۔ ماضی کا دھارا حال میں موجود ہوتے ہوئے، مستقبل کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کے ذریعے قومیں اپنے اعمال کا موازنہ اپنے رفتگاں سے کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیا وہ فاتح قرار پائیں گی یا شکست ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ یوں محاسبے کے عمل سے گزرتے ہوئے،

Read more

احمد سلیم کا ناولٹ تتلیاں اور ٹینک: موت، مزاحمت اور محبت کی داستان

احمد سلیم ایک ایسے نظریے کا نام ہے جس میں مساوی معاشرے کا خواب پوشیدہ ہو تا ہے۔ جس کی تعبیر کے لیے انہوں نے عملی زندگی کے ہر ممکنہ گوشے پر شبانہ روز محنت کی۔ احمد سلیم نے اس روشنی کی پوَ کو پھوٹنے ہوئے دیکھنے کے لیے جاگتی آنکھوں سے عمر گزار دی۔ اس خوبصورت زندگی کے دبے پاؤں نوید لانے کے انتظار میں، دل کا ہر دروازہ کھولے رکھا۔ یوں تو اس خواب کی تعبیر ہنوز باقی

Read more

محسن نقوی رخصت ہوتے ہیں

جنوری میں کُہر اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ سردی کی اک مخصوص کاٹ رگ و پے میں اُترتی محسوس ہوتی ہے۔ جنوری کے ساتھ ہی اداسی کا ایک منفرد رنگ پورے کینوس پر پھیل سا جاتا ہے۔ ہر چیز کو اداسی کی سفید چادر اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وہ بھی ایک ایسی ہی اداس سی شام تھی۔ 15 جنوری 1996 کی یخ بستہ اُداس شام۔ مون مارکیٹ لاہور کے باہر ٹریفک کا اژدہام اپنی معمول کی افراتفری کے ساتھ

Read more

منٹو نے فحاشی کے الزام پر اپنا دفاع کیسے کیا؟

منٹو کے چھے افسانوں، ”کالی شلوار“، ”دھواں“، ”بو“، ”ٹھنڈا گوشت“، ”کھول دو“، اور ”اوپر نیچے اور درمیان“ پر فحاشی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمے چلائے گئے۔ ان میں سے ابتدائی تین کہانیوں پر مقدمات برطانوی دور حکومت میں قائم ہوئے اور بقیہ تین تحریروں پر مملکت پاکستان میں درج ہوئے۔ آج پاکستان میں منٹو کی شائع ہونے والی کتابوں میں یہ افسانے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ان کے فحش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقت نے کیا

Read more

منٹو کے آخری ایام

آج منٹو کی برسی ہے۔ سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جس میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں۔ لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی، مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد وہی وارفتگی کی کیفیت ہوجاتی،

Read more

سعادت حسن منٹو: نفسیات کی روشنی میں

کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نیے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔ سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912ء کو ہوئی تھی اور شاید کسی نے سوچا بھی

Read more

منٹو کا فحش افسانہ؟ ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا۔ کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو غالباً اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا، ہاتھ میں کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔

کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا، اور وہ دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔ کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ بہت ہی زیادہ اوپر کو اٹھا ہواسینہ، تیز آنکھیں۔ بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔ ایشر سنگھ گوسرنیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا۔

Read more

لٹ خانہ، دمشق کا قاضی اور اُردو اکادمی کوئٹہ

اس بار اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول گھٹن اور حبس کی رُت میں بھی کچھ سرد لگا۔ جملہ وجوہات میں تین روزہ میلے کی جائے وقوعہ اور نواحی آبادی کی سردمہری کو سرفہرست جانیئے۔ ایسے ہی ٹھنڈے ٹھار سیشن سے نکلتے ہوئے عثمان قاضی صاحب سے سرراہ مختصر ملاقات میلے کو یادگار بنا گئی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس بے اعتنا شہر کی باسی ہونے کے سبب (جہاں ناموری ہی باعث عزت ٹھہر چکی ہے ) کے باوجود اس لمحے شادمانی

Read more

الفاظ کا مصور۔ محمد سجاد جہانیہ

یادوں کے پرندے جب خیال کے پر لگا کر اڑتے ہیں تو کہانی کار تخیل کی زمین پر کہانیاں بونے لگتا ہے۔ پڑھنے والے ان کہانیوں کی بالیوں سے اپنی اپنی سمجھ کے دانے چنتے ہیں۔ کہانی ایک ہی ہوتی ہے مگر تخیل اسے ذاتی پرواز عطا کرتا ہے۔ یادوں کا آئینہ اور تخلیق کی روشنی مل کر جس انسان کی تصویر بناتے ہیں دنیا اسے محمد سجاد جہانیہ کے نام سے جانتی ہے۔ سجاد جہانیہ، یادیں، قلم اور قرطاس

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (31)

” اپنے دل پر اور اپنے بازو پر مجھے نشان کی طرح رکھ، کیونکہ محبت موت سے بھی زیادہ پائے دار ہے۔ اس کی آگ ایسی شدید ہے کہ قبر بھی اسے نہیں روک سکتی۔ پانی کی بے شمار ندیوں سے بھی محبت بجھ نہیں سکتی، اور نہ ہی دریاؤں کا بہاؤ اسے ڈوبو سکے۔ اگر کوئی آدمی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دے دے تو یہ بے قدری سمجھی جائے گی۔“ سلیمان کا گیت 8 : 6۔ 7

Read more

سیاہ حاشیے۔ فسادات پر منٹو کی مختصر کہانیاں

انتساب، اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔

الُہنا: ”دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔ “

آرام کی ضرورت: ”مرا نہیں۔ ۔ ۔ دیکھو ابھی جان باقی ہے“۔ ”رہنے دو یار۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں۔ “

”پوں پوں۔ ۔ ۔ پوں پوں۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔
لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے اس کو کھولنا شروع کیا۔

”گو اینڈ گیٹ۔ “ دودھ کے کئی ٹین دونوں ہاتھوں پر اٹھائے اپنی ٹھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔
بلند آواز آئی۔ ”آؤ آؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گرمی کا موسم ہے۔ “ گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ اداکیے بغیر چل دیا۔

Read more

جعلی منٹو، نقلی عصمت

سنتے آئے ہیں کہ بڑا ادیب چھوٹے ادیب کو کھا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر قرین قیاس ہے، مکمل سچ نہیں کہ سنجیدہ لکھنے والا بڑے ادیب سے متاثر ہوئے بغیر رہ تو نہیں سکتا لیکن وہ اس کی نقل بھی نہیں کرتا اور اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت سے ادب کی تخلیق کرتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے نوجوان قلمکار، سب نہیں، لیکن ایک بڑی تعداد، بر صغیر کی دو اہم

Read more

سعادت حسن منٹو :اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگار

سعادت حسن منٹو، اردو زبان کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف، 11 مئی 1912 کو پنجاب ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کے قصبہ سمرالہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت، فیشن ایبل، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا، مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا، ادبا میں نمایاں شخصیت کا مالک، انتہائی کسمپرسی کے حال میں، دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا شخص 18 جنوری 1955 کو تینتالیس سال کی عمر میں اس

Read more

گستاخ منٹو کی پذیرائی

”معتوب منٹو، رجعت پسند منٹو، فحش نگار منٹو، غیر ترقی پسند منٹو، لاشوں کی جیبوں سے افسانے نکالنے والا منٹو، بے رحم اور سفاک منٹو، نرگسیت پسند منٹو، ذہنی عدم توازن کا شکار منٹو، سماج پر بوجھ منٹو، لطیفہ باز، یاوہ گو، سنکی، فحش نویس، دہشت پسند۔“ نہ جانے اس طرح کے کتنے من چاہے اور من پسند تمغے اپنی زخمی روح پر سجائے منٹو یہ کہتا ہوا اس جہان سے رخصت ہوا کہ اب یہ ذلت ختم ہونی چاہیے۔

Read more

شریفن ۔۔۔ یہ افسانہ سعادت حسن منٹو نے لکھا

سعادت حسن منٹو کا یہ افسانہ ان قیامت خیز دنوں کا ایک ورق پیش کرتا ہے جب راتوں رات انکشاف ہوا کہ ہندوستان میں ایک نہیں، دو قومیں بستی ہیں۔ ایک ہزار برس تک ایک ہی ملک میں رہنے والی ان دو قوموں نے جب الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو دونوں قوموں کے اندر سے انسانیت کا کیا روپ برآمد ہوا؟ منٹو تختہ سیاہ پر سفید چاک سے افسانہ لکھتا تھا۔ ٭٭٭       ٭٭٭ جب قاسم نے اپنے گھر کا

Read more

منٹو کی اذیت کا احساس

آج سعادت حسن منٹو کو رخصت ہوئے 70 برس گزر گئے۔ کاش ہم آج صرف منٹو کی باتیں کرتے۔ اردو کے نصابی امتحان میں ناکام ہونے والے اس صاحب قلم کی باتیں جس کے براق ذہن نے جدید اردو ادب میں ادیب کا منصب متعین کیا۔ ہندوستان کے معروف ناول نگار رحمن عباس کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ 2004 میں شائع ہوا۔ اس ناول پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ دس سال بعد ختم ہوا۔ اسکے علاوہ آپ ”ایک

Read more

”چالیس چراغ عشق کے“ ناول کے کردار

  ”The Forty Rules of Love“ تُرکیہ کی نامور ادیبہ ایلف شفق کے شاہکار ”Aşk“ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ ایلف شفق کی تحریر کو مشرق و مغرب کا حسین امتزاج کہنا کسی طور پر بھی غلط نہ ہو گا۔ ان کے اس ناول کو بی بی سی کی جانب سے ان سو ناولوں میں شامل کیا گیا ہے کہ جو ہماری دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو زبان میں اسے ”ہُما انور“ نے ”چالیس چراغ عشق

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر , ہم جنسیت ، مساس اور نسائیت !قسط نمبر 2

اگر عسکری صاحب اردو ادب کے ان پچاس لاجواب صفحات کی لا جوابی کو کھول دیتے، بڑائی بیان کر دیتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن شاید اُن کی منشا یہ نہیں تھی۔ اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔ ایک جملہ لکھنا تھا، لکھ دیا۔ اب لوگ پوچھتے رہیں اور عسکری صاحب کے پرچم بردار آنکھیں مٹکاتے رہیں، بات ادھوری رہ گئی اور ادھوری ہی رہے گی۔ لیکن خود عسکری صاحب

Read more

میر حسن بابا کے چاربیتے : مختصر تجزیہ

مرحوم پروفیسر ہمایوں ہمدرد اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں بحوالہ سید انصار ناصری کے ایک مضمون ’سرحد کی موسیقی‘ سے عبارت نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’پشتو چاربیتہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ اس میں چار شعر ہوں اس کے اشعار کم از کم سولہ اور زیادہ کی کوئی قید نہیں‘ ۔ موصوف پروفیسر کے خیال میں تا حال فنی طور پر معلوم کامل پشتو چاربیتہ نویس فدا گل پیڈیا بابا تھے جو با روایت

Read more

انحراف کی تنہائی

اپنی کتابوں پر مشاہیر سے پیش لفظ یا تبصرے وغیرہ لکھوانا بندہ کم مایہ کی طبیعت سے میل نہیں کھاتا۔ آرتھر کوئسلر نے کتابوں پر لکھے جانے والے بیشتر تبصروں کو ’قیمہ کرنے کی مشین سے نکلے ہوئے الفاظ‘ قرار دیا تھا۔ اشارہ یہ تھا کہ ان تبصروں میں ایسی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مصنف اور کتاب کا نام ہٹا کر کسی دوسری کتاب کا عنوان اور مصنف رکھ دیجئے، تفہیم میں کوئی تبدیلی آئے گا اور نہ معنویت

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

جون ایلیا کی شاعری کا منظر نامہ

اُردو زبان میں ہر دور میں مشہور شعرا کی شخصیت کا طلسم رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں قلی قطب شاہ کے کلام کا ڈنکا بجتا تھا۔ انیسویں صدی میں میرؔ، غالبؔ اور آتشؔ و ناسخؔ کا چرچا رہا۔ بیسویں صدی میں فیضؔ و اقباؔل اور ناصرؔ و فرازؔ وغیرہ کی شہرت رہی۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اور اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک نام تیزی سے اُبھر کر سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اُردو زبان بولنے، سمجھنے

Read more

سال 2024 کا پوٹھوہاری ادبی و لسانی ارتقا

سال 2024 پوٹھوہاری زبان و ادب کی ترقی و بڑھوتری کے لئے کئی حوالوں سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے، اس سال پوٹھوہاری کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی پوٹھوہاری زبان کو تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری رہا، سال 2024 کے چوتھے روز ہی یعنی 04 جنوری کو پوٹھوہاری زبان و ادب کو اپنی درجن بھر تصانیف سے بہرہ مند کرنے والے افسانہ نگار، شاعر، ڈرامہ نگار، لغت نگار اور محقق شیراز طاہر اپنے ہزاروں

Read more

طنز و مزاح: کیا یہ واقعی ادب کا حصہ ہے؟

تحریر: فینانہ فرنام کامران عباس ادب انسانی زندگی کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہے۔ یہ محبت، غم، خوشی، اور تنقید جیسے مختلف موضوعات کے ذریعے معاشرتی رویوں اور انسانی کرداروں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن ادب کی ایک صنف ایسی بھی ہے جو ہمیشہ سوالات کے گھیرے میں رہتی ہے : طنز۔ کیا طنز واقعی ادب کا ایک مثبت پہلو ہے؟ یا یہ درحقیقت دوسروں کو زچ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ مزاح اور

Read more

نازش پرتاب گڈھی ۔۔ ایک منفرد لہجے کا شاعر

مجھ کو نازش قتل کردے گا یہ کرب آگہی میری محفل میں مجھے پہچانتا کوئی نہیں۔ نامور شاعر جناب نازش پرتاب گڈھی میری والدہ کے چھوٹے بھائی اور میرے حقیقی ماموں تھے۔ ان کے والد اور نانا شیخ محمد اصغر مرحوم ایک متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ وہ تعلق دار تھے اور رئیس پرتاب گڑھ کہلاتے تھے لیکن ان میں سے رئیسوں والی خو بو بالکل نہیں تھی۔ نانا ایک متقی ور پرہیز گار بزرگ تھے جائیداد اور زمینوں کے

Read more

ڈاکیے کا تھیلا (کونسٹنٹین اوشینسکی کا افسانہ)

کولیا ایک خوش مزاج، مگر غائب دماغ لڑکا تھا۔ اس نے پیٹرزبرگ میں اپنی دادی کو ایک بہت اچھا خط لکھا۔ جس میں انہیں برائٹ ہالیڈے کی مبارکباد دی، اپنے گاؤں کی زندگی کے بارے میں بتایا، اور یہ کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، وہ اپنا وقت کیسے گزارتا ہے، سب تفصیل سے بیان کیا۔ ایک جملے میں بس یہ کہا جا سکتا تھا کہ خط بہت اچھا لکھا گیا تھا، لیکن کولیا نے خط کے بجائے خالی کاغذ

Read more