انتساب، اس آدمی کے نام
جس نے اپنی خونریزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”جب میں نے ایک بڑھیا کو مارا تو مجھے ایسا لگا مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔
الُہنا: ”دیکھو یار، تم نے بلیک مارکیٹ کے دام بھی لئے اور ایسا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔ “
آرام کی ضرورت: ”مرا نہیں۔ ۔ ۔ دیکھو ابھی جان باقی ہے“۔ ”رہنے دو یار۔ ۔ ۔ میں تھک گیا ہوں۔ “
”پوں پوں۔ ۔ ۔ پوں پوں۔ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔
لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے اس کو کھولنا شروع کیا۔
”گو اینڈ گیٹ۔ “ دودھ کے کئی ٹین دونوں ہاتھوں پر اٹھائے اپنی ٹھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔
بلند آواز آئی۔ ”آؤ آؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گرمی کا موسم ہے۔ “ گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ اداکیے بغیر چل دیا۔
Read more