جون ایلیا، نوجوانوں کا نیا کیوپڈ

انسان ساری زندگی محنت کر کے اپنا ایک بت تراشتا ہے، اس شکل کا جیسا وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے۔ واحسرتا کہ خود اپنی باقی زندگی وہ اسی بت کو ٹکڑوں کی صورت میں گرتا دیکھتا ہے۔ کچھ کے ٹکڑے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں، جون ایلیا ایک ایسے ہی بت تھے جنہیں پاش پاش ہوتا خود وہ تو دیکھتے ہی رہے، ان کے سب ہم عصروں نے بھی دل بھر کے دیکھا۔ وہ اوائل عمری ہی میں ’دی

Read more

خوشبو کی شاعرہ، پروین شاکر کی یادیں

تیس دسمبر کی شام جب نیا سال صرف ایک دن کے فاصلے پر تھا اور پوری دُنیا کی توجہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاندار آتش بازی کی طرف تھی، ہم اسی سنہرے ساحلوں والے شہر سڈنی میں ایک خوبصورت ادبی محفل سجائے بیٹھے تھے۔ اس تقریب کا مہمان ِخاص اُردو کی معروف ترین شاعرہ جسے خوشبو کی شاعرہ بھی کہا جاتا ہے، پروین شاکر کا فرزند سید مراد علی تھا۔ مُراد علی پچھلے بیس برس سے اہلیہ اور دو

Read more

اقبال، شبلی اور عطیہ بیگم کی عشقیہ مکتوباتی تثلیث

امتداد زمانہ کے ساتھ سائنس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی روز افزوں ترقی کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں مکتوب نگاری کی وہ اہمیت نہ رہی جو کسی زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ سرکاری سطح پر خطوط کے بین الاداراتی ارسال اور تبادلے کے سوا، نجی اور ادبی مکتوب نگاری کی روایت تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔ اگرچہ خط بالمشافہ ملاقات کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم خیالات اور محسوسات کی ترسیل کی بنا پر اسے آدھی ملاقات ضرور

Read more

اجنبی آنکھ سے تین قطرے

نئے سال کی سرد شامیں جب مختصر دن کے نرم و نازُک سورج کو خُدا حافظ کے پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو جدید دور کے بنتے بِگڑتے حالات سے بے خبر ایک نوجوان اس سورج کو کچھ الگ انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس ڈوبتے سورج کو وہ ایک ایسی ڈوبتی ہوئی کشتی سے جوڑ رہا ہوتا ہے جس کے مُسافر گہری نیند میں مدہوش ہوں۔ وہ نہ جانے کیوں خُشک آنکھوں میں ایک ہلکی نرم و نازُک

Read more

تعلیمی معیار کا زوال: ایک علمی و فکری جائزہ

کیا ہمارا تعلیمی نظام تخلیقی طلبا پیدا کر رہا ہے یا صرف ڈگری یافتہ افراد؟ اس سوال کے گرد چند دن قبل، ایک محفل میں کچھ دوست گفتگو کر رہے تھے۔ ہمارے ایک دوست نے یہ نقطہ پیش کیا کہ تعلیمی زوال کی اصل جڑیں نویں سے بارہویں جماعتوں کے درمیان ہوتی ہیں، جب طلباء نقل کے رجحان اور پیسوں کے عوض نمبر حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اول تا آٹھویں جماعتوں میں

Read more

پی ایچ ڈی یورپ اور ہم (2)

ہم دیبرسن ہنگری پہنچ کر کورین ہاسٹل میں ایک رات گزار چکے تھے، کمال صاحب کے کمال سے استفادہ کرنے سے معذرت بھی کر چکے تھے اور عجیب لباس میں ہنگری کی پہلی صبح کی بادِ صبا سے لطف اندوز ہو کر واپس آئے، ناشتے کی سبیل کی اور پھر رجسٹریشن کے متعلق سوچنے لگے۔ عمیر بھائی نے حُسام صاحب سے رابطہ کیا، حُسام صاحب کا تعلق عراق سے تھا اور دیبرسن یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، عمیر بھائی نے

Read more

ملتے ہیں اگست میں: پوشیدہ جسمانی تعلقات اور جنسی خواہشات پر مبنی ایک دل چسپ ناول

اس ناول کے مصنف گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو

Read more

چھارو مچھی آبشار: قدرت کا جیتا جاگتا شاہکار

بلوچستان کے دلکش اور دل موہ لینے والے مناظر کے درمیان چھپی ہوئی ایک خوبصورتی، چھارو مچھی آبشار، وہ مقام ہے جہاں قدرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہ آبشار وادی خضدار کے قریب واقع ہے اور تقریباً تین گھنٹے کی موٹر سائیکل سواری کے بعد وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سفر کسی عام سفر کی طرح آسان نہیں ؛ یہ ایڈونچر، ہمت اور استقامت کا امتحان ہے۔ ہمارا سفر رات 8 بجے خضدار

Read more

سندھ کی سہ رخی شخصیت ممتاز مرزا

سندھی ادب، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کا جب بھی ذکر آئے گا تب ممتاز مرزا کا نام لازمی لیا جائے گا۔ جن کی شخصیت سہ رخی بن کر ابھری اور ہر شعبے میں اپنا نام نمایاں کیا۔ ممتاز مرزا کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز مرزا کا تعلق حیدرآباد کے قدیم علاقے ٹنڈو آغا سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی

Read more

صحیفوں کا سفر ( 100 سے زائد کتابیں پڑھنے کی کتھا)

چند روز قبل ہارورڈ بزنس ریویو میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا: How I Read 100 Books in a Year! یقیناً آپ کے طبق روشن ہوئے ہوں گے ۔ میرے بھی ہوئے تھے۔ جلدی سے پورا مضمون پڑھا۔ مصنف یوٹیوبرز سے متاثر تھا، لہٰذا اس نے آئیں بائیں شائیں تو خوب کی مگر کہیں بھی ایک سو کتابیں، پوری ایک سو وہ بھی ایک سال میں، جو پڑھیں ان کا ذکر نہ کیا۔ میں نے اس دن کے بعد سے

Read more

 ”سرخ رنگ“ کا تجزیاتی مطالعہ

عَہد حاضر کے نوجوان لکھاریوں میں ایک اہم نام کرن احمد کا ہے جس سے میرا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا۔ آپ ایک عمدہ افسانہ نگار، کالم نویس، مبصر اور شاعرہ ہیں۔ آپ کی اُردو ادب سے الفت، محبت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ”سرخ رنگ“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اکیس افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر قدرتی رنگ اور معاشرتی حقیقتوں کو سمائے ہوئے ہے۔ کرن احمد نے اپنے افسانوں کے

Read more

فرحت عباس کو شاعروں سے کیا مسئلہ ہے؟

فرحت عباس شاہ اُردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بطور شاعر انھیں عرصے سے اپنی شاعر برادری سے کچھ تحفظات رہے ہیں، جن پر گاہے گاہے تحریر و تقریر میں ان کی رائے سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں رابطوں میں سہولت کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہاں ایک قباحت یہ در آئی ہے کہ جسے نہیں سننا چاہتے، اُسے زبردستی سنوایا جا رہا ہے، جسے نہیں پڑھنا چاہیے اُس کی تحاریر

Read more

کوتوال: امی کا خاکہ

پیار پیار یا پھر چھیڑ چھاڑ میں بہن بھائیوں اور دیگر خاندان والوں کی طرف سے عطا کیے گئے عرفی نام عموماً معنی خیز اور شخصی غماز ہوتے ہیں۔ عرفیت برجستہ اور با ربط ہو تو تمام عمر ساتھ جیتی ہے۔ کوتوال ایک عمدہ لفظی ترکیب تھی جو بڑے بہن بھائیوں یا شاید کسی خاندانی بزرگ کی طرف سے ودیعت ہوئی۔ برطانوی راج میں ذیلدار، تحصیلدار اور مختارِکار کو کوتوال پکارا جاتا تھا۔ کوٹ یعنی قلعہ اور وال کا مطلب

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (30)

”میں نے اس شخص کی طرف مُڑ کر دیکھا جس نے میرے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے سات سونے کے چراغ دان دیکھے اور ان چراغ دانوں کے درمیان ایک شخص دیکھا جو ایک انسان کی طرح تھا۔ اس نے پاؤں تک کا ایک لمبا چوغہ پہن رکھا تھا اور اس کے سینے پر سونے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا سر اور بال اون کی مانند سفید تھے جیسے برف۔ اس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی

Read more

ازل سے : ایک مطالعہ

ڈاکٹر ضیاء الحسن کی کتاب ”ازل سے“ اردو ادب میں ایک اہم تصنیف ہے جو فکری گہرائیوں اور تخلیقی اظہار کا شاندار امتزاج ہے یہ کتاب فلسفہ، تصوف اور جدید فکریات کو ایک منفرد انداز میں بیان کرتی ہے جس نے اسے اردو ادبی حلقوں میں مقبولیت دی ہے کتاب کے نام سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ ضیاء صاحب نے وقت، وجود اور بقا کے موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ”ازل“ کو محض وقت کا آغاز

Read more

2024 ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کر گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہر سال کی طرح 2024 بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوب صورت بنایا اور کچھ ایسی ہیں جو قومی یا عالمی منظر نامے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ برس ہم نئے سال میں اپنے دوستوں امجد حیات سدوزئی، حسنین اصغر تبسم اور ارشاد امین کے بغیر داخل ہوئے تھے اور 2024 میں ہمیں

Read more

پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری۔ عہد بہ عہد جائزہ

پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلموں کے ارتقاء اور مقبولیت میں پہلے پہل ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن، پھر پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر اور بعد ازاں نجی ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز نے اہم کردار ادا کیا ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب کے ارتقاء اور فروغ کی اگر بات کی جائے تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن یکم ستمبر 1950 میں قائم ہوا، اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود

Read more

شکستِ ناتمام

دنیا میں کوئی بھی معاشرہ یا کوئی بھی کمیونٹی پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ ہر معاشرے میں کچھ خامیاں اور چند خوبیاں لازمی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً کسی قوم کے بارے میں کہا جائے کہ وہ بہادر ہیں یا بزدل ہیں تو یہ سراسر غلط بیانی ہوگی کیونکہ پوری قوم نہ تو بہادر ہو سکتی ہے، نہ بزدل۔ نہ پوری قوم وفادار ہو سکتی ہے اور نہ ہی چالباز۔ ہر قوم میں مختلف ذہنیت رکھنے والے گروہ پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک

Read more

اُردو میں نسائی ادب کی اہمیت و افادیت

برصغیر کا روایتی معاشرہ ہو یا یورپ کا آزادانہ لبرل ماحول، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں ازل سے ہی وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگا رنگی نظر آتی ہے۔ مرد و زن دونوں کا وجود لازم و ملزوم ہے۔ ایک سکے کے دو رخ اور ایک گاڑی کے دو پہیے، جیسے پھول میں خوشبو کا ہونا اور جسم کے لیے روح کا ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح مرد کے لیے عورت کا وجود بھی ضروری

Read more

پشتو ادب میں چاربیتہ نویسی : مختصر مطالعہ

پاکستانی زبانوں کے روایتی ادب میں رو بہ زوال شعری صنف چاربیتہ پشتو روایتی ادب میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ صنف محض ایک تخلیقی عمل اور شعر گوئی نہیں بلکہ پشتو ٹپہ کی طرح متعلقہ ادوار کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی، ادبی، اور سماجی تاریخ کو بھی اپنے دامن میں سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں جہاں ایک شاعر کے شعری قد و قامت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ اس کی چاربیتہ گوئی سے لگایا جاتا تھا،

Read more

بپسی سدھوا ( 1938۔ 2024 ) ۔ عالمی ادب کی ایک انمول شخصیت

بین الاقوامی انگریزی زبان کی شہرت یافتہ مصنفہ اور ادبی شخصیت بپسی سدھوا 25 دسمبر بروز بدھ کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں وفات پا گئیں۔ وہ 86 برس کی تھیں۔ بپسی سدھوا ایک پاکستانی ناول نگار تھیں جنہوں نے انگریزی زبان میں لکھا اور وہ امریکہ میں مقیم تھیں۔ سدھوا انڈو۔ کینیڈین فلمساز دیپا مہتا کے ساتھ اپنے مشترکہ کام کے لیے مشہور تھیں۔ وہ اپنے پُرجوش ناولوں کے لیے مشہور تھیں، بپسی نے عالمی ادب میں انمول حصہ ڈالا۔ ان

Read more

غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ

شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔

Read more

حمیرا رحمن کی غزل پر ایک نوٹ

حمیرا رحمٰن کا پہلا شعری مجموعہ ”اندمال“ ٹھیک چالیس برس پہلے آیا تھا۔ اس مجموعے کی ایک غزل کا شعر ہے : سوچ کا کیسا کھیل تھا وہ بھی جو میں اپنے آپ سے کھیلی ”اندمال“ کے تیرہ برس بعد اُن کا مجموعہ ”انتساب“ آیا جبکہ زیر نظر تیسرے مجموعے ”بہت سے کام کرنے ہیں“ اور دوسرے مجموعے کے درمیان ستائیس برس پڑتے ہیں۔ میرا دھیان ان کے پہلے مجموعے کے مذکورہ شعر کی جانب یوں گیا ہے کہ شعر

Read more

یونس ایمرے۔ عشق و محبت کا تُرک شاعر

2019 میں کورونا وائرس کے پھیلتے کچھ اچھا خاصا وقت میسر آیا۔ اگر چہ ہم سے سرکاری نوکری کی وجہ سے ذمہ داری نہیں چھوٹی لیکن پھر بھی قدرے کچھ وقت ناسازگار حالات اور کو وِڈ کے پھیلنے سے بہرحال ملا۔ اس دوران پڑھنے کو کچھ خاص نہیں ملا، البتہ ترکی کے کچھ سیریل دیکھنے کا وقت ملا۔ ان میں ترکی کے عظیم قومی صوفی شاعر اور فلسفی یونس ایمرے کی زندگی، ان کے روحانی سفر اور تصوف کی تعلیمات

Read more

چھبیس دسمبر۔ مشہور پاکستانی شعراء پروین شاکر اور منیر نیازی کا یوم وفات

  پروین شاکر کی آج 30 ویں برسی ہے۔ 26 دسمبر 1994 کی صبح کو اسلام آباد میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ پروین گاڑی پر دفتر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔ دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پھسلن کے باعث گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی اور پروین شاکر موقعہ پر ہی زیست کی بازی ہار گئیں۔ پروین شاکر 24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ پروین کا

Read more

اقبال کا فلسفۂ خودی و بے خودی

  علامہ اقبال ایک ایسے لالہ کے پھول کی مانند ہیں جو تپتے صحراؤں میں حیاتِ نو کا پیامبر بن کر ابھرتا ہے۔ اقبال ایک ایسے گلِ نو بہار کی مانند ہیں جو خزاں کے وجود سے بوسیدہ فضاؤں کو اپنی مہک سے تازگی بخشتا ہے۔ اقبال ایک ایسے مرغ ِ خوش نوا کی مانند ہیں جس کی نوا سوز و ساز سے معمور ہوتی ہے اور ظلمت کی خاموشیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ اقبال روشنی کا ایک ایسا مینار

Read more

سعیدہ گزدر۔ ترقی پسند ادب کا ستارہ

پاکستان میں ترقی پسند خیالات کے داعی ایک ایک کر کے ہم سے بچھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ راحت سعید جو ”ارتقا“ ادبی و سماجی مجلے کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ترقی پسند تحریک کو جاری رکھنے میں مصروف عمل تھے 23 اکتوبر کو کوچ کر گئے۔ اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسند ادب کی مایہ ناز شخصیت سعیدہ گزدر بھی روانہ ہو گئیں۔ اُن کا انتقال 7 نومبر 2024

Read more

التوا میں پڑے خواب

جب سفاک نوآبادکار یورپی سوداگروں نے افریقیوں کو غلام بنانے کا پہلا پراگا تیار کیا تھا اور اُنہیں زنجیروں سے باندھ جکڑ کر 1619 ء میں حیوانوں کی طرح امریکہ لایا گیا تھا تو یہیں سے وہ زمانہ بھی آغاز پاتا ہے جب امریکہ کے اصل باسیوں / ریڈ انڈینز کو ٹھکانے لگایا جا رہا تھا۔ تب ڈھٹائی سے ایسے قوانین بنوا لیے گئے تھے کہ غلاموں کی خرید و فروخت جائز ہو گئی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ

Read more

کافکا کا میٹا مارفوسس

تصور کریں کہ آپ رات کو طویل اور پر سکون نیند لیں اور صبح اٹھنے پر احساس ہو کہ آپ انسان نہیں رہے بلکہ ایک کاکروچ نما کیڑے میں بدل چکے ہوں تو آپ پہ کیا گزرے گی؟ ایسا سوچنا ہی کتنا عجیب لگے گا۔ میٹامارفوسس کافکا کے مختصر ناول یا طویل کہانی کا مرکزی گردار ”گریگر سامسا“ ایک صبح اسی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے۔ آنکھ کھلنے پر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کاکروچ نما کیڑے میں بدل

Read more

انیسویں صدی کے یورپ کے اردو سفرناموں پر سرسری نظر

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ سفر کی کئی اقسام ہیں جیسے تعلیمی سفر تعلیم کے لئے، تبلیغی سفر، تجارتی سفر، سیاسی سفر (یورپ میں ریفیوجی بننا) ، شاہی سفر بادشاہ یا حکمراں کا، جنگی سفر، مہماتی سفر ایڈونچرز کرہ شمالی جانا ماؤنٹ ایورسٹ، تصوراتی سفر چاند یا مریخ پر جانا، ہجرت کا سفر کسی دوسرے ملک چلے جانا، مذہبی سفر حج بیت اللہ یا در گاہ، سفیروں کے سفارتی سفر، ادبی سفر مشاعرے یا لیکچرز، تفریحی سفر۔ سر سید نے

Read more

فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا ناول پھانسی

وکٹر ہیوگو ( 1802۔ 1885 ) فرانس کے نامور ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس اور سیاست دان تھے۔ وہ اپنے رومانوی اندازِ تحریر کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ انہیں ان کے عہد کا عظیم ترین فرانسیسی ادیب گردانا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلے وکالت کی تربیت حاصل کی مگر پھر ادبی دنیا کی طرف راغب ہو گئے۔ ان کے تخلیق کردہ ادب کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور

Read more

دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال

عالیہ مرزا کی کتاب کا عنوان ہی اتنا انوکھا اور دلکش ہے کہ آپ پہلے سے ہی سوچ لیتے ہیں کہ آپ اس کتاب کو پڑھیں گے ضرور اور ممکن ہوا تو اس کے بارے میں کچھ لکھیں گے بھی۔ ”دوسرے کمرے میں بیٹھا خیال“ کے عنوان سے شائع ہونے والی عالیہ کی نثری نظموں کی پہلی کتاب گلزار جیسے معتبر اور بے مثال نثری نظمیں لکھنے والے کے تبصرے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس پر ہم ان کی

Read more

"اسد محمد خان اور ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ

اسد محمد خان اپنے افسانے ”رگھوبا اور تاریخ فرشتہ“ میں حقیقت نگاری کو اختیار کر کے اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی تقدیر الجھے ہوئے بالوں کی مانند ہے اور چاہے ہم ان الجھے ہوئے بالوں کو اپنی پوری قوت سے کنگھی کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہم بالوں کی الجھی ہوئی اذیت کی گرہ کو نہیں کھول سکتے۔ لیکن جب ہم ضعیف ہو جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسی تکلیف کی گرہ

Read more

زرد گلاب

اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے

Read more

افسانہ جوتے: انتون چیخوف

مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت کا پلستر گرا ہے یا اس نے ابھی اپنے کمرے میں کوئی بھوت دیکھا ہے۔ ”سیمیون خدا کو مانو!“ خادم کو اپنی طرف سرعت سے آتا

Read more

حمید خالو کے کچالو

ہر خاندان میں عموماً ایک جھکّی ہوتا ضرور ہے اور خدا کی قدرت دیکھیے زیادہ تر وہ بھی مرد۔ مردانگی کے زعم میں اِن کی جھک وقت کے گزرنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور پھر یہ جھک اپنی معراج پر پہنچ کر اچھی خاصی سنک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ خاندان بھر میں اِن کی جھک کے قصے اِن کی زندگی میں ہی مزے لے کر سُنائے جاتے ہیں اور اگر اِن جھکی حضرت کی اولادیں اور اولادوں کی

Read more

سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی

Read more

ابو العلاء المعری: بصارت سے محروم اور بصیرت کا امام

ابو العلائ المعری عربی شاعری میں بقائے دوام کے دربار کی صف اول کا بے بدل چہرہ ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور گیارہویں صدی میں وفات پائی۔ کہاں کا باشندہ تھا؟ بھائی، یہی ملک شام جہاں کے حالیہ سیاسی مدوجزر پر ان دنوں انقلاب اور ارتقا کی حرکیات سے ناآشنا طفلان گلی کوچہ نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اور ملک شام میں بھی شہر حلب کا باسی جہاں زہد و پارسائی کی توبہ شکن حسینہ کے چند

Read more

پاسکوال ڈوارٹے کا خاندان: ہسپانوی ادب کے شاہکار کا اردو ترجمہ

کامیلو ہوزے چیلا کی تصنیف ’دی فیملی آف پاسکوال ڈوارٹے‘ ایک ایسی کہانی ہے جو تشدد، تقدیر اور مایوسی کے موضوعات کو دیہی ہسپانوی پس منظر میں پیش کرتی ہے۔ کامیلو ہوزے چیلا، اسپین کے اہم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ ناول اس وقت لکھا جب اسپین شدید کشمکش کا شکار تھا۔ 1942 میں شائع ہونے والے اس ناول کا تعلق ہسپانوی خانہ جنگی ( 1936۔ 1939 ) سے ہے، جو اسپین کے معاشرتی تانے بانے پر

Read more

فریحہ نقوی کی غزل کا مختصر جائزہ

برس ہا برس سے اُردو غزل کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اُردو غزل کی صنف اپنے اندر ایسے لطیف پیرائے رکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی اِس صنف سے خود کو بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کسی نہ کسی موڑ، گام، لمحے اور کیفیت میں انسان کا من چاہتا ہے کہ اُس کے لب خود بہ خود پھڑک اُٹھیں اور کوئی مصرع موزوں ہو جائے یا کسی کا موزوں کیا ہوا مصرع زبان تلک آ جائے تاکہ دل کی

Read more

روح کی ڈھولک پہ شاداں: غلام حسین ساجد

موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اردو غزل ہر عہد میں

Read more

خواب سے خواب تک (آٹوبائیوگرافک افسانچہ)

آنکھ کھلی تو بیڈروم کا اندھیرا سیل فون کی اسکرین کے روشن ہونے کی وجہ سے ایک کونے میں سمٹتا چلا گیا، ڈاکٹر خالد سہیل کا نام اسکرین کے مرکز میں چمک رہا تھا۔ میں نے سیل فون کان پر لگا کر تشویش سے کہا ہیلو، خیریت تو ہے نا ڈاکٹر صاحب، اس وقت؟ ڈاکٹر صاحب عموماً رات کے پچھلے پہر کال نہیں کرتے تھے ؛ حضور والا آپ کے والد محترم رات میرے خواب میں آئے تھے اور آپ

Read more

علم بیان و بدیع کی روشنی میں کلام ولی دکنیؔ کا جائزہ

ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہل گجرات انھیں گجرات کا باشندہ ثابت کرتے ہیں اور اہل دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا۔ ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ ولی اللہ ولی، سلطان عبد اللہ قطب شاہ، قطب شاہوں کے ساتویں فرماں روا کے عہد میں 1667 ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آ گئے۔ جو اس زمانے

Read more

گل ورین اشاعت خاص اور مجلاتی صحافت

پشتو افسانہ نویس فہمیدہ کمال کی ادارت اور جوان سال نثر نگار آفتاب گلبن کی سعی تمام سے تسلسل اور جدت و تنوع کے ساتھ شائع ہونے والا پشتو سہ ماہی۔ ’گل ورین‘ ( گل پاش) گزشتہ کئی سالوں سے علم و ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ مردان سے شائع ہونے والے اس ادبی، علمی اور ثقافتی کتابی سلسلے کی خاص بات مختلف موضوعات جیسے کرونائی ادب، خواتین افسانہ نویس نمبر، اور دوسری متفرق اشاعتیں ہیں۔ موضوعات اور ادبی

Read more

ایک انسان دوست ’سالک‘ : ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، آپ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں اور اپنے شعبے میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ ایسے اہم پیشے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ادب کے میدان میں بھی ایک منفرد اور اعلیٰ مقام پر متمکن نظر آتے ہیں۔ آپ ادیب، شاعر، ترجمہ نگار، خود نوشت نگار، ٹک ٹاکر اور کالم نگار ہیں۔ آپ پچیس سے زائد کتابوں کے

Read more

موت، محبت اور مزاحمت کی نظمیں

مجھے لاہور کے دانشور اور سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے جو ساری دنیا کے مختلف ممالک کے بیس شاعروں کی ساٹھ نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں کے مجموعے کو پاکستان کی شاعرہ رمشا اشرف نے مرتب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے دو ہزار سترہ میں لکھاریوں کے بین الاقوامی پروگرام میں خود بھی شرکت کی تھی اور اس اینتھالوجی میں ان کی اپنی معنی خیز نظمیں بھی شامل ہیں۔ اس مجموعے

Read more

من کا اجلا: ناصر کالیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہم سب ویسٹ انڈیز اور پاکستان کا میچ ”نوائے وقت“ کے نیوز روم میں دیکھ رہے تھے۔ فیصلہ کن لمحات تھے۔ سب سانس روکے ہوئے ایک ایک بال کا لطف لے رہے تھے۔ اس سناٹے میں ایک جملہ نیوز روم میں گونجا۔ ”شاہ جی ( عاشق علی فرخ ) کالا تو میں بھی ہوں لیکن یہ ب۔ چ تو بہت ہی کالے ہیں۔ قسم سے شاہ جی بہت ہی کالے ہیں۔ نہیں نہیں شاہ

Read more

فیس بک ناولز اور ادب کی بے توقیری

”تعلیم انسان کو پڑھنا سکھا دیتی ہے، لیکن یہ نہیں سکھاتی کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا۔“ اس کا ثبوت دیکھنا ہو تو فیس بک پر شیئر ہونے والے اردو ناولز پر نظر کریں۔ یہ ایسے ناولز ہیں جن کو ناول کہنا ہی لفظ ناول کی توہین ہے۔ یہی ناولز، ان کے سینز، ان کے کردار انسٹاگرام ریلیز اور یوٹیوب پر آڈیو پلس پیج ویو کے ساتھ اپ لوڈ ہو کر تشہیر پا رہے ہیں۔ آپ ان کے

Read more

‎اپنی لِکھت میں بولتا تخلیق کار۔ مظہر عباس رضوی

دُکھ یا غم کی کیفیت میں غیر تخلیقی یا نیم تخلیقی شخص کے ہاں چیخ کی شدت فضا میں ارتعاش پیدا کر کے اِس کا حصہ بن جاتی ہے، جو ماحول کو سوگوار تو کرتی ہے لیکن اس کا تاثر تا دیر نہیں رہتا اور وہ ہوا کی لہروں کا حصہ بن کر جلد ختم ہو جاتی ہے اس کے برعکس تخلیق کار کے ہاں ایسی کیفیت میں دُکھ کا بیج فکر، جذبے اور احساس کے زیر اثر رہ کر

Read more

یوسف خالد کے شعری مجموعہ ”درِ امکاں پہ دستک“ کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ

یوسف خالد 1954 ء میں سرگودھا کے قریب چک نمبر 47 ء شمالی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے پنجابی اور ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ یوسف خالد صاحب گزشتہ 32 سال سے ایک ادبی تنظیم چلا رہے ہیں جس کا نام سرگودھا رائٹرز کلب ہے۔ یہ ایک ادبی مجلہ ”نردبان“ کے چیف ایڈیٹر بھی رہے لیکن وہ مجلہ اب کسی وجہ سے بند ہو چکا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں زرد موسم

Read more

بیانیات کے دو تَصَوُّرات کے تحت ایک مطالعہ

  یہاں، اس مضمون میں، یہ دِکھانا مطلوب ہے کہ کیا غزلیہ اشعار اور افراد پر بیانیات/نیراٹالوجی کے دو تصورات: دِکھانا (Showing) اور بتانا (Telling) ، مُنطبِق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ تو سب سے پہلے ہم کہانی بیان کرنے کے دو فنی حربوں، دِکھانا اور بتانا کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟ ”ان بابا جی کی عمر چار سو برس تھی۔ ستّر برس میں کایا پلٹ کرتے تھے۔ اس طرح کہ چھ مہینے تک ایک کوٹھڑی میں

Read more

گونگے کا خواب: طارق بلوچ صحرائی کی کتاب

  کتب کے مطالعے اور تحریر کے اپنے ذوق کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک کی میموریز میں ایک پرانی تحریر سامنے آئی، جس میں، میں نے ایک کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ کتاب معروف مصنف طارق بلوچ صحرائی کی ہے، جس کا نام ”گونگے کا خواب“ ہے۔ یہ کتاب میں نے 2017 میں پڑھی اور اس پر ریویو لکھا تھا۔ اس

Read more

باپ کے گھر کی چابی

کہانی: لیانا ڈسکالووا (بلغاریہ) مترجم: جاوید بسام (کراچی) سات بار ناپیں، ایک بار کاٹیں، ایک مشہور روسی کہاوت ہے۔ کیوں کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کا سدباب ممکن نہیں، دوسرے لفظوں میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے سوچ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح عمل کر رہے ہیں۔ مگر لڑکے؟ کیا بے صبرے لڑکے یہ کرتے ہیں؟ ایک دن پیٹرچو نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ اسے کہاں اور کیسے

Read more

افسانوی مجموعے ”انگارے“ کا موضوعاتی مطالعہ

اردو ادب کے فروغ کے لئے بہت سی تحریکوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے جس میں ایک نمایاں نام ترقی پسند تحریک کا ہے۔ ترقی پسند تحریک رومانوی تحریک کی ضد تھی۔ اس کا بنیادی طور پر آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے زندگی کے مادی وجود سی نجات حاصل کر کے تخیل کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنے اصل سے غافل ہو گئے۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر آئی وہ دراصل 1917 میں

Read more

بندر، ٹائپ رائٹر اور فسانۂ عجائب

کبھی کبھی تو غیب سے ایسے نادر مضامین خیال میں آتے ہیں کہ ہم خود دنگ رہ جاتے ہیں۔ زبان و ادب کی حد تک تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ہم اس میدان کے شہ سوار ہیں اور اس دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزری ہے لیکن جب سائنس کے اسرار بھی ہم پر کھلنے لگتے ہیں اور لبوں پر سائنس کے ’ایجادِ بندہ‘ نظریات جاری ہو جاتے ہیں تو اپنے ذہنِ رسا پر رشک کرنے کے

Read more

گورکھ دھندا

ثانیہ کو اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا تھی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ وہ جمال احمد کے لیے اتنی اہم تو نہ تھی کہ تعلق ٹوٹنے سے اسے کوئی فرق پڑتا مگر کیا اتنی غیر اہم تھی کہ اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا، یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ ان کی گفتگو انسانی ذہن کی وسعتوں میں سمانے سے قاصر اعداد و شمار اور علامتوں کے انوکھے تال میل کا روپ ڈھالتی، روشنی کے موتیوں

Read more

دل تھا کہ پھر بہل گیا

میلبورن میں اردو مشاعرہ، جیسے صحرا میں بارش، برف میں پھول یا چراغ تلے روشنی۔ دراصل امریکہ یا یورپ کے برعکس یہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے کم ہیں اور اردو کے لیے وقت نکالنے والے ان سے بھی کم۔ راقم کو چند روز قبل میلبورن میں منعقدہ اردو مشاعرے میں بطور سامع شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اب بھلا کون ایک مشاعرے کی روداد لکھے اور کون اسے پڑھے۔ لیکن لکھنا ضروری ہے کہ قریباً ایک سال قبل راقم

Read more

ہزارہ داستان اور ادبی میلہ

خیبر پختونخوا کا ہزارہ تاریخی، سیاسی، علمی، ادبی اور ثقافتی جہتوں سے مالامال ہے۔ دوسری صدی عیسوی کے راجہ رسالو کے داستان اور ذکر، اپریل 326 قبل مسیح میں سکندر یونانی کے ضلع بٹگرام تھاکوٹ کے مغرب میں، حالاً ضلع شانگلہ میں واقع ’پِیر سر‘ یا موجودہ بونیر کے کوہ ایلم کے آخری محاصرہ، جس کو یونانی مورخین بلندی اور الگ تھلگ ہونے کے باعث ’اورنوس‘ یعنی ’ماورا پرواز‘ لکھتے ہیں، سے لے کر مانسہرہ میں اشوکا سے منسوب خروشتی،

Read more

نوبل انعام یافتہ کورین مصنفہ ہان کانگ کا ناول شاکا ہاری

ہان کانگ جنوبی کوریا کی ایک معروف اور باصلاحیت مصنفہ ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اور تخیلاتی نثر کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ وہ 27 نومبر 1970 کو جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کا بچپن سیول میں گزرا۔ ہان کانگ کا ادبی سفر ان کے انگریزی ادب کے مطالعے اور شاعری کے شوق سے شروع ہوا، جس نے انہیں کہانیوں اور ناول نگاری کی جانب راغب کیا۔ ہان کانگ نے اپنے

Read more

اک گوشہ نشیں لکھاری پہ تحقیق

مجھے ہمیشہ سے نت نئے لکھاریوں کا کھوج لگانے کا شوق رہتا ہے۔ بالخصوص اردو ادب کے ایسے رائٹرز جو نمایاں لکھ رہے ہیں مگر ان پہ لکھا کم جا رہا ہے۔ یا ایسے تخلیق کار جن کے کام کو پڑھتے ہوئے جینوئن اردو ادیبوں کا سا احساس ملتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ صوفیہ کاشف کا ہے۔ جو خاموشی سے اپنے کام میں مگن معلوم ہوتی ہیں۔ وہ مختلف اخبارات و آن لائن پلیٹ فارمز پہ فکشن و نان

Read more

کشتیوں کا پل اور 25 کروڑ مسافر

یہ 19 ویں صدی کی باتیں ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1843ء میں سندھ اور 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ ابھی یہاں بنیادی بندوبست کے معاملات چل رہے تھے کہ 1857ء کا ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ایک برس بعد 1858ء میں برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر کے ہندوستان پر براہ راست حکومت شروع کر دی۔ 1881ء میں پہلی بار ہندوستان میں مردم شماری کی گئی تو پنجاب کی آبادی دو کروڑ جبکہ سندھ کی آبادی

Read more

کافر عشقم

کافر عشقم آغا گل کا تازہ ترین رومانوی ناولٹ ہے، جس میں ملک سے باہر کوئٹہ والوں کی پرخلوص محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ‏فرید اور ہیروئن ایک خوب صورت گوری لڑکی کینوی ہے۔ متوازی کرداروں میں داروخان، بلال، اشیش، آرعیا اور اوبون شامل ہیں۔ ‏ ناولٹ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ فرید کے بابا اور دادا اکبر خان کی خواہش ہے کہ اپنے اکلوتے وارث فرید کو بلوچستان میں جاری قتل و غارت، ‏دہشت

Read more

مسخاکے بائی علی نعیم

علی نعیم بنیادی طور پر ایک مجسمہ ساز ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جنوبی پنجاب کے اہم چوراہوں پر جتنے بھی مجسمے نصب ہوئے، وہ سب اُسی کی دِین ہیں، لیکن اُس نے کبھی اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ایک منکسر المزاج فن کار ہے، جو نام سے کہیں زیادہ اپنے کام سے وابستہ ہے۔ اُس کے مجسمے ہماری ثقافتی زندگیوں کا ایک انمٹ حصہ ہیں، مگر اُس نے کبھی یہ باور نہیں کروایا۔ سچ کہوں

Read more

اجلا، کملا، اکتایا ہوا منیر نیازی اور پاکستان

بابا بلھے شاہ، استاد دامن، اور امرتا پریتم کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے دور میں ایک اور ادبی جن، جن کی وجہ سے مجھے پنجابی ادب سے محبت ہو گئی، وہ منیر نیازی تھے۔ ماہ و سال گزرے۔ گزرے وقت کے ساتھ زندگی بھی گزاری جا رہی تھی، ”کہاں کی رباعی، کہاں کی غزل“ کے مصداق۔ ایک دن کشور آپی (کشور ناہید) کا پیار بھرا حکم آیا کہ آج کی شام منیر نیازی کے نام ہے، آ جانا۔ اس

Read more

شہرِ ہزار دَر اور ماہ تمام

سمَاعتوں کو نوید ہو کہ ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر دریچۂ گُل سے آ رہی ہیں برسوں ہوئے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں، ایک کچی عمر کی لڑکی نے اپنے رب سے دعا مانگی کہ وہ اُس پر اُس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کر دے۔ دُعا قبول ہوئی اور اس لڑکی کو چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہِر ہزار دَر کا اسم عطا کر دیا گیا۔ پھر جب موسم آیا

Read more

بیدار عورت

(صوفیہ بیدار کی کتاب ’رنگریز‘ کی تقریب رونمائی پر پڑھا گیا۔) بہت خوشی کا عالم ہے کہ آج ہم اپنی دوست منجھی ہوئی ادیبہ صوفیہ بیدار صاحبہ کی اولین کتاب کی تقریب پذیرائی کے بہانے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہی بہت منفرد ہے۔ رنگریز۔ اور اس میں بیان کردہ کہانیاں دلچسپ۔ پرمغز۔ رنگ رنگ کی۔ ایسی کہ انسان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیں۔ طاہرہ اقبال جیسی مہان ادیبہ صاحبہ صدر ہوں۔ دنیائے

Read more

حسن منظر کے ناول ”العاصفہ“ پر تبصرہ

حسن منظر کا شمار عہد حاضر کے منفرد تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ حسن منظر ایسے ادیب ہیں جو اپنی زندگی میں مسلسل لکھتے رہے۔ اس دوران انھوں نے تسلسل سے اتنا عمدہ لکھا کہ عہد حاضر میں اپنی تحریر و تخلیق سے ایک نمایاں، بلند اور معتبر مقام حاصل کیا۔ ماہر نفسیات ہونے کے سبب انہوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے اور مختلف شہروں اور ملکوں میں گھوم کر کہانیاں اکٹھی کیں۔ اس لیے ہمیں ان کے

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

غزلیہ اشعار کا بیانیاتی نیراٹالوجیکل مطالعہ

ہماری اردو ادب کی دنیا میں بیانیات کی مُباحِث شعری تنقید کی طرح معروف نہیں۔ لہٰذا غزلیہ اشعار کے بیانیاتی نقطۂ نظر سے جائز لینے سے قبل یہ جاننا مناسب رہے گا کہ بیانیات کیا ہے؟ ”افسانوی ادب کی تنقید کے لیے پہلے فکشن کی تنقید کی ترکیب مستعمل تھی؛ پھر کرِکشن کی اِصطلاح وضع ہوئی جسے کرِٹیسزم اور فکشن سے بنایا گیا تھا مگر اُس کا چلن نہ ہو سکا۔ فی زمانہ ’بیانیات‘ کی اِصطِلاح رائج ہے اور اِسی

Read more

خصم؛ سرہانے کا سانپ

میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا تھا۔ ویرانی ہی ویرانی۔ ایک تھڑے کے نیچے لیٹے، بوری کا لبادہ اوڑھے شخص سے اس کے بارے میں پوچھا تو انوکھا ہی جواب پایا، ”کیوں ملنا چاہتی ہو؟“ ”سنا ہے وہ سکھ بانٹتی ہے۔“ ”دکھ کی اس آماجگاہ میں

Read more

شارجہ بنا کتابوں کا شہر

پبلشرز کانفرنس کے اختتام کے بعد اب مجھے شارجہ بک فیئر کو دریافت کرنا تھا۔ یہ بک فیئر دنیا کا دوسرا بڑا بک فیئر ہے اور میں نے اس کے آغاز سے قبل اس کی تیاریوں کو بھی دیکھا تھا۔ جس وسیع پیمانے پر اس کتابی میلے کی سجاوٹ جاری تھی۔ اسے دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ ترقی یافتہ قومیں کس قدر محنت اور جانفشانی سے کسی بھی تقریب کو کامیاب بناتی ہیں۔ میری خواہش تھی کہ میں

Read more

جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم: حصہ اول

ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟ میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا محبت اور دانائی بھرا سوال نامہ جب مجھے ملا تو ان دنوں میں آپ کی ہی کتاب گرین زون فلسفے کو

Read more

فرخ سہیل گوئندی کا نگار خانہ (The Thirty Two)

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں ایک بات تو وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، یہ آدمی امریکہ کے سفر پر ہو یا دنیا کی کسی سرزمین پر جہاں گردی کرتا ملے اس کا دل اپنے آبائی شہر سرگودھا کے لئے دھڑک رہا ہو گا، آنکھیں لاہور کی شاموں و سیاسی محفلوں کی راہ دیکھ رہی ہوں گی، اور ذہن رفتگاں کی یاد سے خالی نہ ہو گا۔ فرخ سہیل گوئندی کی اس کتاب The Thirty Two کے بارے

Read more

جا جاپان کے چولہے سے آگ لئی لے

عالی مقام مرد کی زبان پھسلے یا پیکر تمکنت و دلربائی کسی نازنین کا لباس، اس میں مزہ دوسروں کو ہی آتا ہے۔ سجیلی بانکی بیبیوں کا لباس کی بغاوت جسے انگریزی میں وارڈ روب۔ میل۔ فنکشن کہتے ہیں، وہ برپا ہو تو نیٹ پر بہت دنوں تک وائرل ہوتا ہے۔ نیک دل فوجی افسر اور بوڑھے سرکاری افسران واٹس ایپ گروپ میں ایسے کلپ ہدیہ تبرک سمجھ کر گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ فرحت ہاشمی کے درس ہدایات کی طرف

Read more

کہ جس کو چھو لیا جائے اسے پوجا نہیں کرتے

تخیل کی پرواز لا محدود نہیں ہوتی، انسان اپنے ماحول، مہیا وسائل اور علم کے دائرے میں جی رہا ہے۔ تخیل کی پرواز ان سب کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔ ہم گاؤں میں زندگی گزار رہے تھے۔ لائبریری جیسی عیاشی تو کجا ہمارے سکول کی عمارت ہی کوئی نہیں تھی۔ کمرہ نہیں، کلاس روم نہیں تو باقی دنیا سے مقابلے کی سوچ کہاں سے پیدا ہوتی! اپنے ماحول سے بیزاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ بیزاری موازنے سے پیدا ہوتی

Read more

شرمگاہ کی کہانی

میرے ماں باپ جغرافیائی اہمیت کی حامل ایک وادی میں، گاؤں والوں کی مرضی سے مل جُل کر دُکھی رہتے تھے۔ میرے خوش شکل ماں باپ کے سر ایک ہی سائز اور شکل کے تھے گویا کسی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔ وادی میں تفریح کے مواقع بہت کم تھے اور جو تھے وہ بہت مہنگے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایک کھلونا گھر لانے کا سوچا۔ لہذا جب میں اس دنیا میں لائی گئی تو میں بہت خوبصورت تھی

Read more

ذِکرِ غنی، فکرِ غنی، شعر غنی

قدیم پشکلاوتی اور آج کے ہشت نگر ( چارسدہ) کے اس زرخیز اور مردم خیز خطہ نے جہاں اپنے ارد گرد کے علاقوں کو زندگی کے رمز آشنا گر سکھا دیے وہاں اصلاحی تحریک انجمن اصلاح الافاغنہ ( 1921 ) ، خدائی خدمتگار تحریک، فضل واحد المعروف بہ حاجی صاحب ترنگزئی ( 1859 ) کی اصلاحی تحریک، ہشت نگر کسان تحریک اور دیگر اجتماعی کوششوں کا مرزبوم بھی ہشت نگر ہی رہا ہے۔ مجسمہ ساز، عکاس، منفرد لہجے کے شاعر،

Read more

کچھ جنوں کے بارے میں

انسانی کیفیات مختلف محرکات کا موجب ہوتی ہیں۔ یہ اندرونی و بیرونی تغیرات سے تشکیل پاتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ذرا سی بات جوار بھاٹا بن جائے اور سخت دباؤ کے باوجود ممکنہ ردعمل سامنے نہ آئے۔ اس کی بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی حالت قرار دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فوری ردعمل یا غیر معینہ مدت کے بعد جواب آں غزل کی پیشین گوئی ممکن نہیں ہے۔ ہر دو صورتوں میں محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

Read more

نظمیں نکلتے ہوئے دنوں کی

من پسند راستوں پر چلتے اور کبھی نہ تھکتے آپ کے قدموں نے شاید ہی کبھی زمین کی اس دھڑکن کو سنا ہو، جو آپ کے پیروں کے نیچے ہمہ وقت سرسراتی ہے۔ اسے سننے کا انوکھا دعویٰ بھی شاید کبھی کسی نے نہ کیا ہو کہ زمین کے دھڑکتے احساسات و جذبات کو فقط وہی شخص اپنے دل سے سن سکتا ہے، جسے گیان و آگہی کے لمحوں میں ایسی بصیرت و عاجزی ودیعت کی گئی ہو، جو اپنی

Read more

کچھ یادیں

جون ایلیا اپنی وفات سے ایک سال پہلے ہماری دعوت پر ایک مشاعرہ پڑھنے جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال تشریف لائے تھے۔ یہ مشاعرہ سٹیزنز فورم خانیوال کے زیرنگرانی ہوا تھا۔ ڈگری کالج خانیوال کے لان میں منعقدہ اس مشاعرے میں پہلی بار خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ فرشی نشست تھی اور سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ رات گئے مشاعرہ چلتا رہا۔ جب جون ایلیا پڑھنے بیٹھے تو

Read more

ادیبوں اور لکھاریوں کے نفسیاتی مسائل

ویسے تو اس بات کا اطلاق ہر تخلیق کار یا فنون لطیفہ کی ہر صنف سے وابستہ تمام افراد پر ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن اس مضمون میں ہم خاص طور پر ادب کی اصناف سے متعلقہ لوگوں یعنی ادیبوں اور لکھاریوں کے بارے میں بات کریں گے۔ بابائے تحلیل نفسی کے نظریے کی روشنی میں پہلے تمام تخلیق کاروں کو بالعموم اور لکھاریوں اور ادیبوں کی نفسیات کو بالخصوص

Read more

لاہور کی آلودگی میں شاعروں کا کردار

لاہور شہر کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ یہ آپے سے باہر ہے۔ اس میں مقامی آبادی کم اور مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ والے مہاجر جو جبراً، مجبوراً اور شوقیہ بھی یہاں تشریف لائے اور پھر دوبارہ واپسی کی راہ بھول گئے۔ اس بڑھتی ہوئی ”اربنائزیشن“ پر بہت باتیں ہوتی رہی ہیں اور اب سموگ کے تناظر میں بھی ہو رہی ہیں کہ جی بے ہنگم ٹریفک ہے، لوڈ زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ابھی تک کسی

Read more

’مشک پوری کی ملکہ‘ اور ’بھیڑیوں کی بادشاہی کا خواب‘: ایک تقابلی جائزہ

محمد عاطف علیم، مشک پوری کی ملکہ کے مصنف، ایک معروف کالم نگار، فکشن نگار، اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ان کے ادبی سفر میں مشک پوری کی ملکہ کے علاوہ ان کا ناول گردباد اور کہانیوں کا مجموعہ شہرِ نامطلوب بھی شامل ہیں، جو قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ محمد عاطف علیم 10 مئی 1964 کو ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں گوجرانوالہ منتقل ہو گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔

Read more

 آخری خواہش۔ کہانی: اورلن واسیلیف – بلغاریہ

ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی۔ ) خزاں نے جنگل میں آباد ان خوش و خرم اور بے پروا پرندوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا جو ہر وقت درختوں پر چہچہاتے رہتے تھے۔ پہاڑوں پر سے برفیلی جسم چھیدنے والی ہوا چل رہی تھی۔ رات کو خزاں کی بارش بھی ہوئی تھی، درختوں پر سے رہے سہے پتے بھی جھڑ گئے تھے۔ جنگل میں ہر طرف نمی، کیچڑ اور ٹھنڈک تھی، لیکن بوڑھی چیونٹی کے گھر میں آتش دان گرم

Read more

فکر اقبال اور جدید سائنس

علم کے حصول میں حواس اور عقل کا استعمال جدید سائنس کی دین ہے۔ اہل مغرب نے خود کو روحانیت اور کشف و الہام سے آزاد کر کے حسی مشاہدات پر مبنی عقلی اصول قائم کیے اور اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ آج مغربی اقوام، علمی اعتبار سے دنیا میں قائدانہ صلاحیت کی حامل ہیں۔ لیکن ایک مغالطہ عام ہے کہ سائنس میں عقلی استدلال صرف ریاضی اور منطق کے اصولوں کی مدد سے ہوتا ہے۔ جدید سائنس میں صرف مضبوط

Read more

اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں

پہلی دفعہ The Case of Exploding Mangoes ”(قصہ آموں کی پیٹیاں پھٹنے کا) نامی کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تو پاکستانیوں نے اسے درخور اعتنا نہ جانا۔ پاکستانی انگریزی زبان میں اگر کسی کتاب کو پڑھنا مناسب سمجھتے ہیں تو وہ چیک بک ہے اور دوسرے خوشونت سنگھ کی کتابیں ہیں۔ ایک تو تھے بھی وہ سرگودھے کے دوسرے مذاق بھی اپنی طرف والا کرتے تھے۔ انڈین سول سروس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ“ اگر گورنر جنرل

Read more

سہیل اصغر: جو آدمی تھا ذرا وکھری ٹائپ کا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) یہ کم و بیش چالیس برس پرانی کہانی ہے۔ سال 1985ء اور مہینہ جون کا میں ملتان سے شمع ریل کار (جس کا نام بعد ازاں موسیٰ پاک ایکسپریس ہو گیا) پر لاہور جا رہا تھا ٹرین چونکہ ملتان سے ہی چلتی تھی اس لیے سیٹ بک کروانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر آتی، ہم اپنے بیگ اٹھا کر اس میں سوار ہو جاتے اور کوئی

Read more

کہانیاں جہان گم گشتہ کی

  بڑے عرصے بعد کوئی ایسی چونکا دینے والی کتاب پڑھی جس نے اپنے فکری موضوعات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زرخیز تخلیقی اسلوب سے بھی بے حد متاثر کیا۔ مطالعے سے قبل یہ میرے لیے فقط ایک تخلیقی نثری کتاب تھی، مگر ان کہانیوں میں اتر جانے کے بعد یہ میرے لیے دکھ درد کی ایسی بپتا بن گئی کہ جس میں نگہت سلیم صاحبہ نے جانے کتنی محرومیوں، حسرتوں، خواہشوں اور خاک ہوتی تشنہ انسانی آرزوؤں کو یکجا

Read more

علامہ اقبال، ہائیڈل برگ اور ‘ایک شام’

‘بانگِ درا’کے حصہ دوم میں شامل نظموں اور غزلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قدرے دشوار سا ہے کہ ان میں سے کون کون سی نظم یا غزل جرمنی میں قیام کے دوران لکھی گئی ہو گی، ان کی نظم ‘ایک شام’میں چونکہ ذیلی عنوان میں دریائے نیکر کی صراحت موجود ہے، اس لیے ہر کوئی جانتا ہے کہ انھوں نے یہ نظم ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران کہی. جرمنی اور اقبال کے باہمی روابط اور

Read more

اقبال اور دانش عصر حاضر

اقبال نے ”خضر راہ“ میں نمرود کی دہکائی ہوئی جس آتش کا ذکر کیا تھا: آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے بال جبریل کی ایک غزل کے دوسرے شعر میں اسی آتش کو انہوں نے عذاب دانش حاضر سے جوڑ لیا ہے اور بہت دردمندی سے کہتے ہوئے ملتے ہیں : عذاب دانش حاضر سے با خبر ہوں میں کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل ایسا

Read more

جہاں کہیں بھی محبت نہیں ہے : افسانہ

یہ تیسری بار تھی کہ وسیم نے کسی پیشہ ور عورت کے ساتھ ہوٹل میں رات گزاری اور انجام پچھتاوے کی صورت میں ہوا۔ لڑکی تو اس بار بھی حسین و جوان تھی اور تعاون کرنے والی بھی، مگر خود اُسے ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اصل میں چاہتا کیا ہے؟ پہلے دو بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس کے انتخاب میں کوئی کمی نہیں تھی اور نا ہی اہتمام میں کوئی کجی۔ پہلی دو بار

Read more

شہزاد نئیر کی دفعہ نمبر 144

سڈنی سے شاہد صاحب کے توسط سے شہزاد نئیر صاحب کی تازہ کتاب ’کہانی چل رہی ہے‘ موصول ہوئی تو دل ہشاش بشاش ہو گیا۔ میں نے اپنے کمرے کے اس طرف کتاب کو رکھا ہے جہاں فجر ٹائم مجھے کوئل عموماً جگاتی ہے۔ آج ہلکی ہلکی بارش کے امکانات ہیں اور شہر میں بادلوں نے بسیرا کر رکھا ہے تو کتاب کو کھولا اور پڑھنے لگا۔ کتاب میں 144 مائکروف ہیں اور انہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے

Read more

روشن خیالی کے دو علمبرداروں روسو اور والٹیئر کے درمیان فکری اور ادبی تصادم

گزشتہ تحریر میں آپ کو بتایا گیا تھا کہ کیسے روسو کو اپنے انفرادی فیصلے کی وجہ سے ہَزِیمَت اٹھانا پڑی، اور معمولی ذکر کیا گیا تھا کہ والٹئر نے کیسے روسو کی عملی اور نجی زندگی کے تضاد پر کھُل کر تنقید کی۔ والٹئر اور ژاں ژاک روسو کے درمیان فکری اختلافات نہایت گہرے اور شدید تھے۔ اگرچہ دونوں فلاسفرز کا تعلق روشن خیالی کے دور سے تھا اور دونوں معاشرتی اصلاحات کے حامی تھے، مگر ان کے نظریات

Read more

ڈاکٹر ضیا الحسن: خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

اورینٹل کالج میں ایم۔ اے اُردو کا پہلا روز تھا۔ کلاسز کا آغاز ہوا تو اساتذہ تشریف لاتے اور اپنے ابتدائی لیکچر میں طلبا و طالبات سے ان کا تعارف پوچھتے۔ پہلے روز یونہی دو تین لیکچر بیت گئے پھر ایک استاد تشریف لائے۔ خوبصورت پروقار چہرہ، خندہ پیشانی، جس پر بالوں کی لٹ دورانِ کلام گرے تو بڑھ سلیقے سے اس کو درست کرتے، زلف گھنی جس میں چاندی چمک رہی ہے، ماتھا شکن سے پاک، آنکھوں پہ نظر

Read more

بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور، قسط (4)

”چلو اب سنو۔“ فاخرہ نے پھر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ کہانی کے جلد ختم ہونے پر بھی مجھے ہمیشہ اعتراض ہوتا۔ خوف، ڈر، بے قراریاں، اضطراب سب میرے اندر سے نکل کر ہونٹوں پر سوال جواب کی صورت پھُدکتے۔ جہاں کہیں کہانی میں سنسنی خیز موڑ آتا۔ اضطراب میں ڈوبا ہوا جملہ ”پھر کیا ہوا“ فوراً لبوں پر آ جاتا۔ ایک اور کام کرنا بھی میرا معمول تھا۔ وہ تھا میری ماسٹری، میری اُستادی۔ گھر کے سارے ستون کھمبے

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز

مارینا کراوچینکو اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر

Read more

اداسیوں کے البم میں ماں کی تصویر

ماں جب تمھیں سوچتی ہوں تو بہت سی منتشر یادیں میرے اردگرد جگنوؤں کی طرح بکھر جاتی ہیں اور ان یادوں میں میں خود کو ایک چھوٹی سی کمسن بچی دیکھتی ہوں کبھی نو عمر لڑکی، کبھی بچپن اور نوجوانی کی دہلیز پہ کھڑی معصوم سی بچی، حالانکہ ماں یہی تو وہ دن تھے جب تم میرے باپ کے سنگ بیاہ کر آئی تھی اور خود بھی ایک کمسن سی الھڑ سی لڑکی تھیں۔ ماں تم نے ہر لڑکی کی

Read more

ایک صوفی اور آزاد عورت کی محبت

اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے، ’برسے اسوج تو ناج کی موج‘ ۔ ہلکی ہلکی خنکی بھلی لگتی ہے۔ بارش رک گئی تو راجو بازار سے واپس چل پڑا۔ سہانا موسم اور تنہائی، وہ اردگرد لگے بل بورڈز دیکھتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف کھلی خود رو بھنگ کے پھولوں کی بھینی

Read more

ایک روشن و دلربا دن کی کتھا

مہر عالم تاب نے اپنے جلوے بکھیرے اور پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تو اپنے نصف بہتر کے ہمراہ گھر سے نکلے۔ حسب معمول اپنے سفر کا آغاز دعاؤں اور مناجات سے کرتے ہوئے موٹر وے پر آئے تو دل مسرت سے لبریز تھا۔ سال بھر کی علالت، چلنے پھرنے سے معذوری، کہیں آنے جانے سے لاچاری تو آج جب میں پشاور جا رہی ہوں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں تو یہ بات باعث مسرت بھی ہے اور

Read more