ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں
کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔
بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔
Read more





























































































