ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں

کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔

Read more

کورونا وائرس اور ٹرانس جینڈرز کی معاشی بدحالی: وبا سے متاثرہ خواجہ سرا کمیونٹی تو ’کسی کھاتے میں نہیں‘

خواجہ سرا شنایا خان اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں کرائے کے فلیٹ میں رہتی تھیں اور شہر کے نواح میں موجود فارم ہاوسز کی نائٹ پارٹیز میں رقص کر کے اپنا روزگار کما رہی تھیں۔ ان کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ان کا بہت آرام سے گزر بسر ہو رہا تھا۔ ’مجھے کسی چیز کی بھی کمی نہیں تھی۔ اکیلے پن کا احساس ستاتا تھا لیکن مالی لحاظ سے بہترین گزارا ہو رہا تھا۔‘ شنایا

Read more

منفی شرح نمو ایک نئی تاریخ مرتب کرے گی

گزشتہ جمعہ کی سہ پہر میں نے ڈاکٹر حفیظ شیخ کے تیار کردہ بجٹ کو حماد اظہر کی زبانی اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر ٹی وی کے ذریعے سنا۔ معاشیات کے علم کی بابت قطعی جاہل مجھ جیسے شخص کو اعدادوشمار کی بنیاد پر اٹھائی کہانی سمجھ ہی نہیں آئی۔حماد اظہر کی پڑھی ایک گھنٹہ لمبی تقریر کو سنتے ہوئے البتہ کئی بار ’’سوت نہ کپاس کولہو سے لٹھم لٹھا‘‘ والا محاورہ یاد آتا رہا۔ پاکستان ٹیلی وژن کو

Read more

مزید سخت مالی سال!

کورونا زدہ ماحول میں 2020-21 ء کے لیے 7.3ٹریلین روپے پر مشتمل قومی بجٹ پیش کر دیا گیا۔ ویسے تو اس پر بڑا فخر کیا جا رہا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن چونکہ تاریخی طور پر بجٹ محض اعداد وشمار کا گورکھ دھندا بن کر رہ گیا ہے اس لیے قوم پر نئے ٹیکس نہ لگا کر جو ’’احسان عظیم‘‘ کیا گیا ہے، اس پر زیادہ شادیانے بجانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی پاکستان

Read more

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دم توڑتی سیاست

سیاحت کے شعبے کو دوبارہ کھولنے کے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اس کاروبار سے وابستہ افرد نے خوشی کے شادیانے بجائے ۔ اگرچہ طبی ماہرین کی رائے عمومی طور پرا س کے برعکس ہے لیکن لوگ بے روزگاری اور قرضوں تلے دب کر مرنے سے کورونا سے مقابلہ کرنے کا خطرہ مول لینا بہتر خیال کرتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں اور خاص طور پرآزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کی

Read more

پنجابی ہونا جرم کیوں؟

میں عام طور پہ کوشش کرتی ہوں کہ ہمیشہ وہ لکھ سکوں۔ جو لکھنے کے لیے مجھے لفظ اور واقعات بنانے نہ پڑیں۔ میں اپنے مشاہدات و زندگی سے حاصل کیے تجربات کی روشنی میں کسی بھی چیز کو جانچتی ہوں۔ میں نے اپنے گھر میں زیادہ وقت اپنے نانا کے ساتھ گزارا۔ اور مجھے فخر ہے کہ ان کی شخصیت کا عکس مجھ میں نظر آتا ہے۔ بچے کی نفسیات اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت متاثر ہوتی ہے۔

Read more

میرے (دانت) درد کو جو زبان ملے

میں نے ایک ہفتہ قبل جاوید ہاشمی صاحب کی نئی تصنیف ”زندہ تاریخ“ پڑھنا شروع کی۔ اب تک 450 صفحات پڑھ چکا ہوں۔ ان 450 صفحات میں سے تقریباً 300 صفحات پہ معمولات جیل و دانت کے درد اور دانت کی جراحی اور اس سے گزرنے والے کرب کی روداد درج ہے۔ اس کا میں نے اتنا اثر لیا کہ میری اپنی داڑھ میں درد شروع ہو گیا ہے اور تا حال جاری ہے۔ آپ شاید اسے حسن اتفاق کہیں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ کیونکہ دانت کا درد نہ ہی حسین ہے اور نا ہی حسن اتفاق کے زمرے میں آتا ہے۔

آج کل میری تعیناتی بلوچستان کے ایک دور افتادہ علاقے میں پاکستان ایران بارڈر پر ہے جس کا نام تفتان ہے۔ یہ ضلع چاغی کی سب تحصیل ہے۔ ضلع چاغی کو کئی حوالہ جات کے اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہے۔ مثلاً یہ وہ جگہ ہے جہاں پہ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ دوسرا یہ کہ یہ ضلع رقبہ کے لحاظ سے نا صرف بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع ہے بلکہ پاکستان کا بھی سب سے بڑا ضلع ہے اور اس کا رقبہ 44748 مربع کلومیٹر ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ پاکستان اور بلوچستان کا واحد ضلع ہے جس کا بارڈر دو ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ لگتا ہے۔

Read more

سرکاری ملازمین، تنخواہ اور بجٹ

ہر سال بجٹ کے موقع پر پاکستان کے اکثر سفید پوش اور کم آمدن والے گھرانوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق بحث شروع ہو جاتی ہے۔ قیاس آرائیاں ہوتی ہیں۔ لوگ امیدیں باندھتے ہیں۔ جو بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ ملازمین جو تھوڑا بہت تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے اس پر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور اگلے سال کے بجٹ تک اپنی امنگوں کو لگام ڈالتے ہیں۔

اس سال پچھلے سالوں سے مختلف یہ ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے تنخواہوں و پینشن میں رتی برابر بھی اضافہ نہیں کیا۔ ظاہر ہے حکومت نے یہ فیصلہ اپنے پاس موجود وسائل کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ اس پر وفاقی سرکاری ملازمین کی آہ و بکا ایک قدرتی بات ہے جو کہ اس ناچیز سمیت سب سرکاری ملازمین کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اب اس پر ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا ہے۔

Read more

غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنا ہوں گے

مالی سروے 20۔ 2019 پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر مشیر خزانہ کا کہنا تھا موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا، جب ہم نے اقتدار سنبھالا ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔ برآمدات میں اضافے کی شرح صفر تھی جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری 2 سالوں میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16۔ 17 ارب ڈالر سے گر کر 9 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کورونا کی وبا سے مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، مشیر خزانہ نے بتایا کہ ہمارے دور میں جاری خسارے میں کمی ہوئی ہے، اسٹیٹ بینک سے ہم نے کوئی قرضہ نہیں لیا، بیرونی سرمایہ کاری 137 فیصد بڑھی، جبکہ مہنگائی 9.1 فیصد رہی، اور ہم اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ کورونا وائرس کے باعث 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ گیا، جزوی لاک ڈاؤن پر زرعی اور غیر زرعی شعبے میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے ایک کروڑ 55 لاکھ، مکمل لاک ڈاؤن پر ایک کروڑ 87 لاکھ افراد سے ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگاری کا خدشہ ہے۔

Read more

جو گرجتے ہیں، وہ برستے نہیں

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، یہ کہاوت ہم میں سے تقریباً ہر شخص نے ضرور سن رکھی ہوگی۔ اس کا عملی مظاہرہ ملک کے موجودہ وزیراعظم کی حالیہ تقاریر کو سننے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ کورونا وائرس کے آتے ہی دنیا کے تمام ممالک نے اپنی اپنی بصیرت کے مطابق اس وائرس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کی، اور اسے پوری قوت کے ساتھ نافذ بھی کیا۔ ان کامیاب حکمت عملیوں میں ماسک پہننے کی پابندی، سماجی فاصلے کو یقینی بنانا اور محدود عرصے کے لئے مکمل بندش (لاک ڈاؤن) شامل تھیں۔ نتیجتاً بیشتر ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں اب زندگی اپنے معمول کی طرف گامزن ہے۔ سیاحتی مقامات کو کھولنے، سفری پابندیاں ہٹانے اور روزمرہ کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کرنے کی تیاری ہو چکی ہے۔

Read more

جب زندگی آپ کو نیچے لانے کی کوشش کرتی ہے تو، صرف رقص کرو!

صوبہ جیانگ میں 45 سالہ پینگ شیؤنگ اور اس کے 49 سالہ شوہر فین ڈیڈو کا یہ پیغام ہے۔ چین کا یہ جوڑا۔ وہ کسان جو رویان، وینزو میں میو بستی میں آدھی ہیکٹر کھیت میں مکئی کاشت کرتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے ایجاد کیے ہوئے رقص کے رقص کے ذریعہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے۔ انہوں نے لاکھوں چینیوں کو خوش کیا ہے جنہوں نے جوڑے کے مسکراتے چہروں اور زندگی میں آسانی سے چلنے والے انداز کا جواب دیا ہے۔

Read more

ھم نے ماسک نہیں پہننا

آج کل ہم جو بھی اخبار پڑھنے کے لئے اٹھائیں تو خبروں کے ساتھ ساتھ اخبار کا اداریہ اور اس کے ساتھ دو، تین کالمز کرونا کے حوالے سے قارئین کو پڑھنے کو ملیں گے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ کرونا نے ہمارے پیارے ملک پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطۂ زمین کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہیں، ہزاروں لوگ اس وبا کی وجہ سے جان سے گئے، لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

Read more

اب کچھ بھی کر لیا جائے کچھ ہونے کا نہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لیا جائے گا اور خلاف ورزی کی مرتکب مارکیٹوں، فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں حتیٰ کہ رہائشی کالونیوں تک کو بند کر دیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور جولائی میں اس میں مزید اضافہ ہوگا جس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنا بے حد ضروری ہوگیا ہے، حکومت اب ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لے گی جس کی روزانہ کی بنیاد پر مجھے رپورٹ بھی دی جائے گی اور یہ کہ میں وزیراعظم ہاؤس سے اس تمام عمل کی خود نگرانی کروں گا۔

Read more

سگریٹ سے ماسک تک

یہ بات شاید والٹیئر نے کہی ہے کہ ہر دور میں دنیا کے اندر اکثریت جاہلوں کی رہی ہے۔ اس بات سے آپ کو اختلاف کا حق ہے۔ لیکن میں والٹیئر سے متفق ہوں۔ وجہ سیدھی سے ہے۔ اس کورونا وبا کو ہی لے لیجیے، عالمی طور پر جو بتایا جا رہا ہے، ہماری حکومت اور عوام اس پر عمل کرنے کو ہی تیار نہیں۔ سگریٹ نوشی: ٹھہریں ہم بات کورونا سے نہیں سگریٹ پینے کے عوامی مقامات اور عوامی

Read more

غریب کَش بجٹ

ان دنوں میڈیا و سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے سالانہ بجٹ پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ کوئی پیش کردہ بجٹ کو حکومت کی کفایت شعاری سے تعبیر کرتا ہے تو کسی کے نزدیک یہ بجٹ عوام کش بجٹ ہے۔ سرکاری ملازمین بھی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر برانگیختہ ہیں اور سرکاری ملازمین کی اکثریت حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا رہی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سپورٹرز بنا سمجھے بجٹ کو قبول ہی نہیں کرتے بلکہ حکومتی ناکامیوں اور نچلے طبقے کے استحصال پر سوال اٹھانے والوں کو مطعون بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام الناس کو بجٹ کے بنیادی عناصر اور وہ اصول و قوانین معلوم ہوں جن کی بنیاد پر ہر سال بجٹ پیش کر کے منظور کروایا جاتا ہے اور پھر پورا سال ملکی معیشت اسی بجٹ پر انحصار کرتی ہے۔

Read more

جب ہم نے جہالت کو اہلیت سمجھنا شروع کیا

تجزیہ نگاروں نے کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی کئی اندازے سائنسی انداز میں لگانے شروع کر دیے تھے۔ یہ اندازے بے شک 2 اور 2 جمع 4 یا 2 اور 2 ضرب 4 کی طرح اٹل اور قطعی تو نہیں تھے لیکن پھر بھی جہاں جہاں اب تک اس کا پھیلاؤ نظر آیا ہے قریب قریب ان کے اندازوں کے مطابق ہی سامنے آ رہا ہے۔ ان اندازوں میں ایک اندازہ کچھ یوں بھی تھا کہ ہر 10 سے

Read more

سماجی فاصلے کی ہدایت اور بے عملی تصویر

سماجی فاصلے کا جو مذاق ہم لوگ اڑاتے ہیں شاید ہی دنیا میں کوئی قوم ایسا کرتی ہو۔ دنیا میں جن اقوام نے سماجی فاصلے پر عمل کیا تو مثال قائم کر دی اور جن نے مخالفت کی تو کھلے عام اس کا اظہار بھی کیا کہ وہ ایسی کسی حکمت عملی پر نہ تو یقین کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل۔ مشایدے میں یہ بھی آیا کہ دنیا کی بیشتر آبادی نے کرونا کی وبا کو مذہب

Read more

امریکہ سے ٹرمپ کی عاقبت نااندیشی کے علاوہ بھی کچھ سیکھا جا سکتا ہے؟

دنیا کی آبادی کو صرف کورونا وائرس سے  ہی خطرہ لاحق نہیں ہے،  متعدد  لیڈروں نے اس وبا  کو سیاسی مقبولیت کا ہتھکنڈا بنا کر بظاہر عوام دوستی لیکن درحقیقت   اپنے لوگوں کو موت کی  طرف دھکیلنے کا اہتمام کیا ہے۔  ایسے عاقبت نااندیش لیڈروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام سر فہرست ہے لیکن برازیل کے صدر بولسونارا اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان  بھی ان کے مد مقابل ہیں۔ امریکہ میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 

Read more

وبا کے موسم میں عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی اور گلزار دہلوی کا ماتم

وبا کے خمار میں ڈوبی موت کا رقص اپنے جوبن پر ہے۔ یہاں سے وہاں تک خوف کی چھتری تنی ہوئی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اس خوف میں مرے جا رہے ہیں کہ کہیں اجل ان کو نہ آ پکڑے اور جو اس وبا سے ملک عدم کے راہی ہوئے وہ شاید اس آس میں پھر سے زندگی کی تمنا کرتے ہوں گے کہ اب کے ایسے حالات میں مریں گے جن میں کم از کم اتنا تو ہو کہ لحد کی دہلیز تک رخصت کرنے کے لئے سارے احباب آ سکیں۔

جب زندگی کے چراغ کی لو بے یقینی کے جھکڑ میں بار بار جھک کر زمین سے لگی جا رہی ہو تو فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ جانے والوں کا ماتم کریں یا خود کی خیر منانے میں لگ جائیں؟ کیسے کیسے فنکار اس نفسانفسی میں ہی قریب سے اٹھ کر چلے گئے لیکن کس کا زور تھا جو ہاتھ پکڑ کر روک لیتا؟ ان سب کی موت وبا سے نہ ہوئی ہو لیکن حالات نے ان کے جانے کا زخم کچھ اور گہرا ضرور کر دیا۔ عرفان خان نے آنکھیں بند کیں تو کتنی ہی آنکھیں ویران ہو گئیں۔

Read more

ہم شکی مزاج قوم ہیں

ہمارے مرحوم استاد محترم یوسف مسیح صاحب ہمیں ڈویلپمنٹ سپورٹ کمیونیکیشن کا مضمون پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن کلاس میں انہوں نے ہمیں عمرانیات کی ایک تھیوری پڑھائی جس کے مطابق سماج پانچ حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے درجے پر تخلیقی سماج یہ طبقہ نئی ایجادات، نئی فکر اور سوچ کے تخلیق کا ر ہوتے ہیں دوسرے درجے پر ایرلی ایڈوپٹر یعنی جلدی قبول کرنے والا طبقہ پہلے طبقے کی سوچ اور فکر کو جلد ہی قبول کرلیتا ہے، تیسرے

Read more

ہنوز دلی دور است… لیکن کورونا آن پہنچا

سنہ 1719 میں دہلی کی مغل سلطنت پر محمد نصیر الدین روشن اختر بہادر تخت نشین ہوا جو تاریخ میں اپنی طبیعت کی جولانی اور رنگینی کے سبب محمد شاہ رنگیلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا رقص و سرود کی محفلوں کا دلداہ تھا اور شمشیر وسناں اس کے بس کا روگ نہیں تھا۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکومت کا زیادہ تر وقت عیش و نشاط میں گزارا۔ بادشاہ کی عیش پرستی اور بے

Read more

مہدی حسن عظیم گلوکار ہی نہیں، عظیم انسان بھی تھے

میں خود کو خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں جس نے موسیقی کی دینا کی عظیم ہستی شہنشاہ غزل مہدی حسن خان صاحب کے ساتھ دو دن گزارے، فن کے حوالے سے ان کا فین تو تھا ہی مگر کبھی زندگی میں خواب بھی نہیں دیکھا کہ اس عظیم ہستی سے ملاقات ہوگی اور اتنی محبت ملے گی وہ بھی ملتان جیسے شہر میں رہتے ہوئے۔ جولائی یا اگست 1998 کا مہینہ تھا، میں نوائے وقت ملتان میں شوبز ڈیسک کا

Read more

ڈاکٹر نورین عامر: مسیحائی کی بے وفائی کا نوحہ

قیامت کی گھڑی تھی جو اس شام آئی اور جسم و جان کو مضمحل کرتے ہوئے یاد کے منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے رات کے تاریک دامن میں اتر گئی۔ ابھی تو آصف فرخی کا نوحہ پڑھ کے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک اور شام غریباں آ ٹھہری! نئے گھر میں اترے دوسرا تیسرا روز تھا۔ ہر طرف سامان بکھرا پڑا تھا، کچھ کھلا کچھ بندھا۔ چھوٹی سی بچی گود میں، اوائل گرما

Read more

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد: حمزہ شفقات کے بیان ’میرے پاس سرکاری گھر نہیں‘ پر سوشل میڈیا پر بحث

اگر آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو آپ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے نام سے واقف ہوں گے اور اگر پہلے نہیں تھے تو کورونا وائرس کی وبا کے دوران تو آپ نے یہ نام لازمی سُنا ہو گا۔ وفاقی دارالحکومت میں کیا چل رہا ہے، کورونا متاثرین کی تعداد کتنی ہے، کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں، احتیاطی تدابیر نہ کرنے والوں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے

Read more

کیرالہ کی چودہ سالہ دیویکا

یکم جون کو انڈیا کی ریاست کیرالا کی ایک چھوٹی بستی میں ایک کچے گھر کے پاس سے چودہ سالہ بچی کی لاش ملی۔ پولیس کو اطلاع ملی تو فوراً لاش کو قبضہ میں لیا گیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ دوسری جانب کیرالا کی ریاست میں کئی مہینوں کے لاک ڈاؤن کے بعد بلآخر یکم جون کو آن لائن کلاسز کا آغاز کر لیا گیا۔ حکومت اور تعلیمی ادارے اپنے کامیاب پالیسی کے گن گا رہے تھے کہ

Read more

غفور صاحب کے گھر کرونا سیزن میں مہمان آیا

غفور صاحب نے فون رکھا اور صدا لگائی ”اجی سنتی ہو، جلدی سے کچھ تیاری کر لو۔ گھنٹے بھر میں بھائی شکور آ رہے ہیں“ ۔

باورچی خانے سے تھال گرنے کی جھنکار سنائی دی اور پھر بیگم غفور اسی تیزی اور طنطنے کے ساتھ دھواں چھوڑتی آگ اگلتی برآمد ہوئیں جیسے شب برات پر شرلی۔ ”کیا کہا؟ کیا آپ نے انہیں مطلع نہیں کیا کہ کرونا پھیلا ہوا ہے اور ہم مکمل طور پر قرنطینہ میں ہیں؟ میل جول سے ہی وائرس پھیلتا ہے۔ شکور بھائی ٹک کر اپنے گھر کیوں نہیں بیٹھتے؟“ ۔

غفور صاحب کچھ ہڑبڑائے۔ شکور بھائی ایک نہایت بذلہ سنج عزیز تھے اور بیگم غفور نے ہمیشہ ان کی آمد پر خوشی ظاہر کی تھی۔ یہ ردعمل ان کی توقعات کے خلاف تھا۔ ”دیکھو بیگم تم جانتی ہی ہو کہ شکور بھائی کتنے ملنسار ہیں۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ سب کا حال چال پوچھتے ہیں۔ خود چاہے تکلیف میں ہی مبتلا ہوں مگر کسی خوشی غمی کا سنیں تو فوراً پہنچتے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ چار گلیاں چھوڑ کر ان کے پھوپھا کے بہنوئی کا گھر ہے، ہفتہ دس دن پہلے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی اور آج ان کے دسویں میں آئے ہوئے ہیں اور فارغ ہو کر ہماری خیر خیریت پوچھنے آئیں گے“ ۔

Read more

ادب میں موجود امتیاز اور جنسی تشدد کی زبان

زباں ایسا آئینہ ہوا کرتی ہے جس کے تحت دنیا کو دیکھا، سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ اس سے ناصرف انساں اور معاشرت کا ادراک کیا جاتا ہے ساتھ ہی میں زباں ہی انسانی جذبات کے اظہار کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے۔ ربط کی ابتدا کا مرکز ہی ادب اور زباں ٹھہرتے ہیں۔ زباں کی مدد سے ہی ہمارے درمیاں موجود اشیا، رشتوں، افراد، ضروریات اور جذبات کو شناخت ملتی ہے۔ مختصراً، یہ انسان کی تخلیق کردہ روابط کا

Read more

جولائی کے آخر تک پاکستان میں 10 سے 12 لاکھ کرونا متاثرین ہوسکتے ہیں: اسد عمر

پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر نے اسلام آباد میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو جولائی کے آخر تک ملک میں 10 سے 12 لاکھ متاثرین ہوسکتے ہیں۔

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (5)

حسب معمول تہجد سے کچھ دیر پہلے میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی خیمے میں سبھی سو رہے تھے۔ میں بیڈ سے اٹھ کر خیمے سے باہر آیا۔ طہارت خانہ بالکل خالی تھا۔ آرام سے غسل کیا اور تہجد کی نماز ادا کی۔ خیمے میں اب کافی لوگ بیدار ہو گئے تھے۔ فجر کی نماز سب کے ساتھ باجماعت ادا کی پھرآکر بستر پر لیٹ گیا۔ دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد بیدار ہوا۔ جبار صاخب مکتب سے سب کے

Read more

چشم بینا کا سفر

ہم ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں؛ اس کا احساس گواہیوں کے زمانے سے قبل ہو جائے تو تمام گواہیاں سچ ہوں اور گناہ کی جھولی خالی برتن جیسی پڑی رہے گی۔ بس ایسی صورت میں مالک جو چاہے اپنی freewill سے اس کی بھرائی کر لے۔ ہم جو شکل اختیار کرتے ہیں، ہمارا ضمیر اور خیال بھی ان ہی کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ موجودہ دور ”کورونا دور“ کے نام سے تاریخ کے

Read more

قرنطینہ کے بائیس دن

کوویڈ 19 سے پہلے زندگی بہت ہموار تھی۔ اس وبائی مرض سے پہلے بھی بیماریاں اور پریشانیاں تھیں لیکن اس سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔ راتیں اتنی لمبی اور خوفناک محسوس ہوتی ہیں کہ ہر سیکنڈ ایک دہائی کی طرح گزرتا ہے۔ تنہائی اور اکیلا پن ایک سست زہر کی طرح ہے جو دماغ اور جسم کو آہستہ آہستہ متاثر کرتا ہے۔ خوف میں رہنا ایک اور مسئلہ ہے جس کا ہر لمحہ کئی طوفانوں پر مشتمل ہوتا ہے

Read more

کشمیری خاتون صحافی کا اعزاز

کشمیری خاتون صحافی نے اعلیٰ ترین فوٹو جرنلسٹ کا ایوارڈ حاصل کر لیا۔ کشمیری خاتون صحافی کو یہ ایوارڈ بھارت کے کڑے ظلم و ستم اور کرفیو کے دوران سنگین حالات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے پر دیا گیا۔ انٹرنیشنل وویمن میڈیا فاؤنڈیشن کی جیوری کی طرف سے 2020 ء کا انجالڈرنگوس کریج ایوارڈ کی نامزدگی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کو یہ ایوارڈ دیا گیا کسی کشمیری خاتون کی طرف

Read more

ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہے۔ ہمارا متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ذات پات کی مساوات کے ضمن میں تکلیف دہ حد تک بے لچک واقع ہوا

Read more

آج جناح بھی ہوتا تو ہاتھ اٹھا لیتا

جب افکار تازہ کو دماغوں میں گھسنے سے روکنے کے تمام ہتھیار اور حربے یکے بعد دیگرے کند ہونے لگیں تو پھر تازہ نمو بخش نظریات کو وبائی شکل میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک آخری ہتھیار میدان میں لایا جاتا ہے، ’ہماری ثقافتی اقدار خطرے میں ہیں، ہمارا اسلام، ہندوتوا، عیسائیت، یہودیت، بودھ مت، لادینیت خطرے میں ہے۔‘

یوں اذہان کی تشکیل نو کا عمل مزید کچھ عرصے کے لیے ملتوی تو ہو جاتا ہے۔ البتہ حالات کا جبر بھی ساتھ ساتھ بطور سود مرکب بڑھتا جاتا ہے اور ایک دن ہر بند ٹوٹ جاتا ہے اور سب اچھا برا بہا لے جاتا ہے۔ اب یہ آپ کی قسمت کہ اس سیلاب کے دوران انقلاب کے موتی ہاتھ آتے ہیں کہ انارکی و بربادی کا کوئی طویل سیاہ دور۔

Read more

مستقبل طے شدہ ہے، مگر ہمیں معلوم نہیں: مکمل کالم

ہماری کہکشاں کے پہلو میں جو قریب ترین کہکشاں ہے اس کا نام ہم نے اینڈرومیڈا گلیکسی رکھا ہوا ہے، ستاروں کا یہ جھرمٹ زیادہ نہیں فقط پچیس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ میں نے خود تو کوئی تجربہ نہیں کیا البتہ سنا ہے کہ جس دن فضا صاف ہو، آسمان پر نگاہ پھسلتی جاتی ہو، آلودگی کم ہو تو اس کہکشاں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کہکشاں کو ’دیکھنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو روشنی وہاں سے پھوٹ رہی ہے وہ پچیس لاکھ سال بعد ہم تک پہنچی ہے۔

عین ممکن ہے کہ جب ہم اس کہکشاں کا نظارہ کر رہے ہوں تو اس کا وجود ختم ہو چکا ہو کیونکہ لمحہ موجود میں ہونے کے باوجود ہم اس کہکشاں کو پچیس لاکھ سال ماضی میں دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ہمارے ’وقت‘ کے حساب سے اینڈرومیڈا گلیکسی ابھی ’موجود‘ ہے مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ ’حقیقت‘ میں فنا وہ ہو چکی ہو۔ اینڈرومیڈا گلیکسی کے حوالے سے ایک بہت دلچسپ ’پیراڈوکس‘ بھی سائنس دانوں نے تخلیق کیا ہے۔ پیراڈوکس کا سیدھا سا ترجمہ فدوی کے نزدیک تو معمہ ہے مگر کچھ بزرگ باراں دیدہ اسے ’تضاد امری‘ بھی کہتے ہیں۔

Read more

سیکس تھیراپسٹس کو کیسی کیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں؟

انتباہ: نتاشا پریسکی کی بی بی سی تھری سے اس گفتگو میں جنسی مسائل پر کھل کر بات کی گئی ہے جو صرف بالغوں کے لیے پڑھنا مناسب ہے۔

جنسی مسائل کا علاج کرنے والے دیگر سیکس تھراپِسٹ کی طرح پیٹر سیڈنگٹن کی اپنے مریضوں سے گفتگو ہمیشہ خفیہ رہتی ہے اور وہ ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیں گے۔

اپنےمریضوں کی جو کہانیاں وہ مندرجہ ذیل تحریر میں بیان کر رہے ہیں ان کی بنیاد نوجوان افراد کے ساتھ سالہا سال سیکس تھیراپسٹ کے طور پر ان کے کام سے متعلق ہیں۔

Read more

ٹوٹکے بھیجنے والے

کورونا کی وبا آخر کار پھوٹ پڑی اور پاکستانیوں کی سب خوش فہمیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ نہ بی سی جی کی ویکسین کام آئی، نہ ریسوچن کی گولیوں نے کام دکھایا اور نہ ہی ہمارا مشہور زمانہ موسم گرما ہی اس کا کچھ بگاڑ سکا۔

یہ وبا آفت کی صورت، دندناتی ہوئی آئی اور ہماری گلیوں بازاروں میں پھیل گئی۔ کئی دہائیوں سے سکھ چین کی زندگی گزارنے والے انسانی ذہن نے اس وبا کو رد کر دیا۔ عین اسی طرح جیسے کچھ لوگ اپنے پیاروں کی موت کو قبول نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زندہ ہیں۔ صدمہ ان کے اعصاب کو شل کر دیتا ہے۔

Read more

یہ سفید پوش کہاں جائیں؟

پچھلے کالم میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس حوالے سے داتا دربار کے لنگر کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اس کے علاوہ مخیر اصحاب نے شہر کے مختلف علاقوں کی دکانوں میں دستر خوان کھول رکھے ہیں، جہاں صبح شام غریبوں کو کھانا مل جاتا ہے اور چند ہوٹل اور بیکریاں بھی مفت کھانا تقسیم کرتی ہیں۔ یہ لکھنا تھا کہ ہمارے اوپر چاروں طرف سے جو لعن طعن شروع ہوئی، وہ اب تک جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تمہیں وہ غریب تو یاد رہ گئے جو ان دسترخوانوں پر جا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں، لیکن ان سفید پوش غریبوں کو بھو ل گئے جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔

وہ تو اپنے پڑوسی تک کو یہ بتاتے شرماتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کس طرح بھرا۔ ان کی بات بھی صحیح ہے۔ بھلا سو چئے، ان سفید پوشوں کی طرف کون نظر ڈالتا ہے۔ یہ کون سوچتا ہے کہ ان دنوں یہ سفید پوش کس طرح گزارہ کر رہے ہیں؟ حکومت نے احساس جیسے پروگرام شروع کر رکھے ہیں، لیکن معلوم نہیں یہ پروگرام ان سفید پوشوں تک بھی پہنچتا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے یہ اصحاب کسی سے مانگنے والوں کی فہرست میں اپنا نام تو نہیں لکھوا سکتے، خواہ وہ حکومت کے ادارے ہی کیوں نہ ہوں۔

Read more

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

وہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوا۔ پھٹے پھٹے کالے بد وضع پاؤں، جیسے ساری عمر جوتا نہ پہنا ہو۔ ٹیڑھی نچی کھچی ٹانگیں، پرانے لیکن دھلے ہوئے، صاف ستھرے کپڑے جو گھس گھس کر اتنے باریک ہو چکے تھے کہ ان کے اندر بھوکا پیٹ، خشک جلد اور سوکھا پنجر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ پسلیوں کی ہڈیاں اور ان سے جڑا چمڑا دیکھ کر دھونکنی کا گماں ہوتا تھا۔ سکڑے ہونٹ، پھیلے نتھنے، جھریوں والے گال، خوف و اضطراب اور خوشی کی آمیزش سے مسکرانے کی کوشش کرتی، بڑے بڑے گڑھوں کے اندر سے دکھائی دیتی ہوئی آنکھیں، اس کے بولنے سے پہلے ہی تمام کہانی سنا رہی تھیں۔

میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ لکڑ بنا کھڑا رہا۔ ”تم اس عمر میں یہ کیوں کروانا چاہتے ہو۔“

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 9)۔

عالمی بنیادی مدد کیا ہے؟

عالمی بنیادی مدد کا مطلب انسانوں کی بنیادی ضروریات کی دیکھ بھال کرنا ہے، تاہم اس امر کے لیے کوئی قابل قبول تعریف نہیں ہے۔ خالصتاً بیالوجی کے نقطہ نظر سے ایک سیپئن کو زندہ رہنے کے لیے پندرہ سو سے دو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ کی طلب عیاشی ہے۔ تاہم تاریخ میں ہر ثقافت نے اس بنیادی حیاتیاتی ضرورت سے زائد خواہشات کو بھی بنیادی ضرورت کے زمرے میں شامل رکھا ہے۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں چرچ کی خدمات کو کھانے پینے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے آپ کے جسم کی بجائے آپ کی ابدی روح کا خیال رکھا تھا۔ آج کے یورپ میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اب انٹرنیٹ تک ہر مرد، عورت اور بچے کی رسائی ضروری ہے۔ اس کرہ ارض پر موجود ہر شخص کو (ڈھاکہ کی طرح ڈیٹرائٹ میں بھی) بنیادی مدد فراہم کرنے کے لیے اگر 2050 میں متحدہ عالمی حکومت گوگل، ایمیزون، بیدو اور ٹین سینٹ کو ٹیکس دینے پر راضی کرلیتے ہیں تو وہ دو الفاظ ’بنیادی‘ اور ’ضروریات‘ کے فلسفہ کو کس طرح سے سلجھا پائیں گے؟

مثال کے طور پر بنیادی تعلیم میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا بنیادی تعلیم میں محض لکھنا اور پڑھنا سیکھنا کافی ہے یا پھر اس میں کمپیوٹر

Read more

آپریشن ٹیبل پہ پڑی لاش

ڈاکٹر سلمان کو شاید میں نے ایک آدھ بار دیکھا ہو۔ اس کی روشن آنکھوں میں زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ چمکتی تھی۔ اس کی تصویر دیکھتا ہوں تو دل میں ایک تیر سا لگتا ہے۔ دکھ خودبخود روح کی گہرائی تک کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ سلمان کی موت نہیں، اس ایک موت نے ایک نظام کی مردہ لاش کی طرف اشارہ کیا۔ ایک نظام جس کا بے گورو کفن لاشہ بیچ چوراہے پڑا تعفن چھوڑ رہا ہے۔ اس ایک واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک قاتل قوم ہیں۔

Read more

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

دو دن پہلے بلوچستان کی ایک بیٹی حسیبہ قمبرانی جب اپنی ایک ویڈیو میں اپنے لاپتہ بھائیوں کے لیے اس ریاست سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی۔ تو اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کیونکہ جس درد بھرے لہجے، بہتے آنسوؤں اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ وہ فریاد کر رہی تھی۔ اس سے کسی بھی انسان کا کلیجہ منہ کو آ سکتا ہے۔ مگر معصوم حسیبہ کو شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ جس ریاست سے وہ انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے، اس کو نہ تو اس کے آنکھوں کے آنسو نظر آئیں گے اور نہ ہی اس کی سسکیاں اور آہیں سنائی دیں گی۔ کیونکہ وہ ریاست اندھی اور بہری ہے۔

Read more

آخر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا!

کرونا وبا کی روک تھام کے لئے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی ذمے داری کس پر عائد ہونی چاہیے، اس کا جواب عوام سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ یہ وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے کہ بیرون ملک آنے والے شہریوں کو سیکورٹی کے لحاظ سے چیک کرے اور پھر کرونا کے بعد ان کے فرائض بڑھ گئے کہ کرونا متاثرہ شہری حکومتی نگرانی کے بغیر آبادی میں داخل نہ ہونے پائے۔ اس امر میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہی کہ کرونا وائرس، پاکستان میں پیدا نہیں ہوا، بلکہ بیرون ملک شہریوں کی زمینی و فضائی راستوں کی آمد کے باعث پھیلا۔

Read more

انسداد وبا اور اقتصادی سماجی ترقی کا چیلنج

دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں اس وقت عالمگیر وبا کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور نفسیاتی مسائل سمیت متعدد سماجی چیلنجز کا سامنا ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لیے دانشمندی، تحمل اور مضبوط بروقت فیصلہ سازی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ ان تینوں عوامل کا ذکر اس وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے کہ دنیا کو یاد ہو گا کہ دسمبر کے اواخر اور رواں برس کے اوائل میں دنیا بھر میں ایک ہی نام گونج رہا تھا ”ووہان“ ۔ چین میں تقریباً سوا کروڑ آبادی والے اس شہر کو ناول کورونا وائرس کا ابتدائی مرکز قرار دیا گیا تھا مگر بعد میں اس شہر نے وبا کو شکست دینے میں ایک ایسی مثال رقم کی جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

Read more

کورونا کی تنہائی اور کنفیوژن

گورنمنٹ کرے تو کیا کرے؟ لوگ کریں تو کیا کریں؟ عوام کرے تو کیا کرے؟ اس وقت ملک بھر میں کورونا مریضوں کا شدید امتحان ہے۔ لاہور میں لوگوں نے بداحتیاطی کی تمام حدیں پھلانگ دیں۔ اس وقت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی سکت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ دنوں سے کوئی دلاسا دینے والا نہیں رہا۔ ایک عجب سی تشنگی سی چھا گئی ہے ہر طرف۔ کتابوں میں پڑھا کرتے تھے زندگی ایک معمہ ہے نہ سمجھ میں آیا ہے نہ آئے گا۔

Read more

خود ہی اپنا علاج کرنا، خطرۂ جاں

ہمارے ایک ملنے والے ہیں ان کو دوائیاں کھانے کی بیماری ہے وہ کڑوی سے کڑوی گولی مزیدار ٹافی کی طرح نگل جاتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی ڈرامے میں ایک ایسے ہی کردار کو دیکھ کر مجھے کتنے ہی لوگ یاد آ گئے جنہیں دوائیاں کھانے کا شوق ہے۔

میرے ابا بھی ’شوقین ادویات‘ میں شامل ہیں ان کے پاس دواؤں کا ایک وسیع ذخیرہ رہتا ہے جس میں سے وہ اور ہمارے بہت سے قریبی عزیز فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا شخص گولیاں کھانے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ذرا سا سر درد ہوا ڈسپرین پانی کے ساتھ نگل لی، تھکن محسوس ہوئی تو دو پیناڈول کھا لی۔ پیناڈول ہماری ’قومی دوا‘ بن گئی ہے۔

Read more

نیا بجٹ: عوام کو سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا اعلان

وفاقی وزیر صنعت و قومی پیداوار حماد اظہر اور وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی حکومتی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبہ میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کئے جاسکتے البتہ نجی شعبہ کو محاصل اور ٹیکس میں چھوٹ دینے کے علاوہ رعایتی قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ صنعت کار اور تاجر نوجوانوں

Read more

میری۔ ۔ کرونا کہانی، میری زبانی۔ ۔

آج سے ٹھیک4 ماہ اور 9 روز قبل کی بات ہے، میرا یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ اپنا پورا دن خوش و خرم طریقے سے بتانے کے بعد گھر آئی تو چھوٹے بھائی نے ہمیشہ کی طرح مجھے کورونا کے نام سے مخاطب کر کے سلام کیا، اور میں نے ہمیشہ کی طرح اسے نظر انداز کر کے اپنے کمرے کی جانب رخ کیا اور سکون سے وہاں جا کر بیٹھ گئی۔ پانچ ہی منٹ بعد میں نے اپنے بیگ

Read more

گجی اور گجا پیر

”نعرہ تکبیر۔ ۔ ۔ اللہ اکبر“ کی آوازوں نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کسی نے زور دے کر کہا ”کمرہ تھوڑی دیر کے لئے خالی کر دیں۔ امیر صاحب شہید کی والدہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ذرا جلدی کریں“ ۔

تھوڑی دیر بعد امیر صاحب اپنے محافظوں اور ساتھیوں کی معیت میں اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے جو اس سے پہلے محلے کی عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ شہید کی والدہ کی دلجوئی میں مصروف تھیں۔

”السلام علیکم بہن جی۔ مجھے تو آپ کے پاس شہید کے جنازے کے ساتھ آنا چاہیے تھا مگر تنظیمی معاملات اور حفاظتی اقدامات کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ ویسے بھی شہادت کے جس بلند رتبے پر آپ کا بیٹا فائز ہو چکا ہے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سب آپ کی قدم بوسی کریں مگر اسلام میں اس کی مخالفت ہے۔ آپ کی تعظیم اور قدر ہم سب پر لازم ہے کیونکہ آپ کے شہید فرزند نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ دشمن کے درجنوں سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتا۔ وہ اپنے والدین کی بخشش کا باعث بھی بنتا ہے اور رب سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بار بار زندہ کیا جائے تا کہ وہ شہادت کی لذت سے آشنا ہو سکے۔

Read more

پاکستان کا کرونائی بجٹ 2020۔ 21

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے گزشتہ روز پی ٹی آئی حکومت کا 7.14 ٹریلین کا دوسرا بجٹ اپوزیشن کے شور شرابے میں پیش کر دیا۔ جس کا حجم 2019۔ 20 کے بجٹ کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہے اور اس میں 3,500 بلین خسارہ دکھایا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں اس بجٹ کو کرونائی ہنگامی بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت کورونا کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی حکومتوں کو خراب معاشی صورت حال اور بے روزگاری کے طوفان جیسے گمبھیر چیلینجوں کا سامنا ہے۔

حکومت اسے عوام دوست ریلیف بجٹ قرار دے رہی ہے کیونکہ حکومت کے مطابق اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ بجٹ کا خاص پہلو یہ ہے کہ دفاعی بجٹ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر اب حکومت کے لئے انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ قیمتوں اور افراط زر پر کنٹرول اور کمی کے لئے ٹھوس اقدامات کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ ورنہ عام آ دمی کے لئے حالات اور بھی مشکل ہوسکتے ہیں۔

Read more

سہیل وڑائچ اور میرے چند دوست

سجاد حیدر یلدرم نے اپنے دوستوں کا ذکر نہایت ہی دلفریب انداز میں اپنے مضمون ”مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ“ میں کیا ہے۔ دوستوں کا ساتھ دوستی قائم رہنے تک نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک دائم حقیقت لازوال ہے۔ سجاد حیدر یلدرم کے ایک زمیندار دوست جو ان کی ادبی تخلیق کے بڑے معتقد تھے یا نہیں مگر ایک بات وہ بخوبی جانتے تھے کہ یلدرم جیسے وسیع المتخیل ادبا ہی کو یہ مقام امتیاز حاصل ہے کہ وہ خیال و گیان کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر تخلیق فن و ادب کے بیش بہا موتی چن سکتے ہیں اور پھر انہیں قلم و قرطاس سے ہم آہنگ و ہمکلام کر کے الفاظ کا ایسا پیرہن پہنا سکتے ہیں کہ زندگی عمر رفتہ کی بندشوں سے نکل کر حیات جاویداں کی بلندیوں کو چھو لے۔

Read more

لڑکی تو بہت اچھی ہے بس ذرا۔۔۔

آریان آئے، ترک آئے، انگریز آئے اور ایسے آئے کہ گنگا اور سندھ کے درمیان بستے لوگ، جنہیں خدا نے گندمی حسن بخشا تھا، اپنے رنگ پر پشیمان ہوتے ہوتے اور صدیوں کے پہیے میں گھومتے، آج کی اس دکان تک جا پہنچے جہاں تیز کیمیائی کریمیں دس روپے کے ساشے میں بکتی ہیں۔ ان کریموں کے اشتہاروں پر بتدریج گوری ہوتی تصویریں ہمارے سماج و پہچان کے خالی برتن پر، جہالت کی آگ سے لگی کالک ہے۔ ٹی وی

Read more

کورونا وائرس: کووڈ 19 کے بعد مستقبل کی نائٹ لائف کیسی ہو سکتی ہے؟

ایک نائٹ کلب کا کارکن سپین کے ایک بار میں حفاظتی سکرین لگا رہا ہے ، جہاں 50 افراد ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں جب گذشتہ ماہ برطانیہ میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ لاک ڈاؤن کے بعد وہ پہلا کام کیا کرنا چاہیں گے تو ’دوستوں اور گھر والوں سے ملاقات‘ دو ایسی ترجیحات تھیں جنھیں گھر سے باہر شام گزارنے سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اور اب جب میل جول کے محدود مواقع ممکن ہونے لگے ہیں

Read more

تمہیں خیال ذات ہے، شعور ذات ہی نہیں

اس وقت پاکستان بھی علم، عقل اور عمل کے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ 70 سالوں میں جو بھی لوگ پاکستان کے حکمران رہے ان کے پاس شور کرنے کو بہت کچھ تھا مگر شعور نہ تھا۔ جب پاکستان بنا تو یہ مسلمانوں کے شعور کی وجہ سے بنا اور اس وقت کے لوگوں کے پاس عمل تو بہت تھا مگر عقل کی کچھ کمی سی تھی اور عمل کے معاملہ میں بھی وہ یکتا نہ تھے۔ پہلے کچھ سال تو جمہوریت کا کمزور پودا ملک کا نظام چلانے کی کوشش کرتا رہا اور پاکستان سیاسی اور سماجی طور پر کمزور ہوتا گیا اور ہمارے حکمران دوسروں کے مفادات کے لئے عوام کو حقیر اور فقیر بناتے رہے اب الزام مارشل لا پر لگایا جاتا ہے کہ ایوب خان نے خود سری کی مگر ہمارے سیاسی لوگ مفادات کی جنگ میں اتنے شریک تھے کہ ملکی اداروں کو سوچنا پڑا کہ وہ ملک کو بہتر چلا سکتے ہیں، دنیا میں آزادی اور خود مختاری کے دعویدار دوست ممالک بھی اپنے مفادات کے کارن پاکستان کو خراب کرتے رہے۔ اس وقت کے عوامی نیتا ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کے نتائج پر غیر جمہوری رویہ اپنایا، اس وقت کی سیاست اور جہموریت نے پاکستان تقسیم کر دیا۔

Read more

انصاف کے پلڑے میں سب برابر

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن فضائیہ نے برطانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی تو جرمن بمباری سے گھبرا کر عوام نے برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل سے استدعا کی تو جواب میں چرچل نے ایک سوال پوچھا: ”کیا ہماری عدالتیں انصاف مہیا کر رہی ہیں؟“ جب جواب ملا کہ برطانوی عدلیہ لوگوں کو انصاف مہیا کر رہی ہے تو چرچل نے سکھ کا سانس لیا کہ عدالتیں فعال ہیں تو دشمن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ پاکستان جو اس وقت دوسری جنگ عظیم کے مساوی بحران سے گزر رہا ہے اور کورونا وبا کے باعث لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں تو پاکستان اس آزمائش سے باہر نکل آئے گا اگر ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں۔

الحمدللہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے کورونا وبا کا سو موٹو نوٹس لیا اور حکومت وقت کو ہدایات جاری کیں کہ اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے کون سی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے اور عوام کو کس طرح سکون فراہم کیا جائے۔

Read more

سخت سیلیکٹو لاک ڈاؤن – ایس او پیز پر انتظامیہ، ٹائیگر فورس عملدرآمد کرائے گی: عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آئندہ سے عوامی مقامات پر کسی کو ماسک کے بغیر نہیں جانے دیں گے۔ سختی کرنے کا وقت آ گیا، وبا کا پھیلاؤ روکنا ہے، جہاں سے زیادہ کیسز سامنے آئیں گے، انہیں ڈھونڈیں گے اور پھر وہاں پر سخت لاک ڈاؤن کر دیں گے۔ جولائی کے ماہ میں وائرس بڑھے گا، کافی مسئلے مسائل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ کورونا وائرس کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، پاکستان سنگارپور، نیوزی لینڈ جیسا ہوتا تو لاک ڈاؤن کرنا آسان ہوتا، پاکستان جیسے ملک کے لیے لاک ڈاؤن نہیں سمارٹ لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے۔

Read more

آصف زرداری اور نواز شریف کا بھیانک منصوبہ

کہا جاتا ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔ یہ ایسے ہی نہیں کہا جاتا۔ آصف علی زرداری کی ذہانت کا اعتراف دوست تو کرتے ہی ہیں، دشمن بھی ایول کی پخ لگا کر انہیں جینئیس تسلیم کرتے ہیں۔ بڑے بڑے منصوبہ سازوں کے منصوبے وہ اسی بے نیازی سے تلپٹ کرتے ہیں جیسے شطرنج کا جینئس کیپابلانکا بظاہر کوئی خاص چال چلے ہی شطرنج کی بازی جیت کر اٹھتا تھا اور مخالف ٹاپتا ہی رہ جاتا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔

Read more

دھونس کی وبا اور پون صدی کو محیط بلوچستان کا لاک ڈاؤن

پینسٹھ کی جنگ میں انتظار حسین نے شاکر علی سے پوچھا، وطن کے دفاع کے لیے بھی آپ کچھ کر رہے ہیں کہ نہیں؟ شاکر علی نے کہا، میں تو ان دنوں چاند پینٹ کر رہا ہوں۔ تعجب سے انتظار صاحب نے پوچھا، جنگ کے دنوں میں چاند پینٹ کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ بولے، چاند ہندوستان میں بھی چمکتا ہے اور پاکستان میں بھی۔

کوئی پانچ برس قبل اپنے ہفتہ وار کالم میں وجاہت مسعود نے یہ حوالہ باندھا تو جنوں کی حکایتیں لکھنے والے قلم کاروں نے وہ سارے کینوس نکال کے سامنے رکھ دیے جو انہوں نے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھے تھے۔ کسی کینوس پر درد کے کھینچی ہوئی آدھ ادھوری لکیریں کھنچی ہوئی تھیں اور کسی پر جنگ زدہ عمارتوں سے جھانکنے والی سہمی ہوئی زندگی کو پینٹ کیا گیا تھا۔ ان میں ایک کینوس ایسا بھی تھا جو در اصل کینوس نہیں تھا۔ یہ بہن کا سفید دوپٹہ تھا جس پر کسی بے چین روح نے خاک ہوئے ارمان پینٹ کیے ہوئے تھے۔ کچھ حسرتیں بھی پینٹ کی ہوئی تھیں جو ناتمام رہ گئی تھیں۔ اس میں ایک کینوس دھول سے اٹا ہوا تھا جو بلوچستان سے آیا تھا۔ یہ در اصل چیخوں اور آنسووں کی گواہی دینے والے اخبار نویس ارشاد مستوئی کا دامن تھا، جسے دکھائی نہ دینے والے کچھ لوگوں نے دفتر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عابد میر غم کی سیاہ راتوں میں اس دامن پر خاموشی پینٹ کر رہے تھے۔

Read more

نکمے سرکاری ملازم اور تنخواہ میں اضافہ

وفاقی حکومت نے بجٹ پیش کر دیا اور شاید یہ پہلا موقع تھا کہ اس میں سرکاری ملازمین کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ بجٹ کے اعداد وشمار اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ عام آدمی کو اس کے ثمرات اور نقصانات کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ روزمرہ کی خریداری کرنے کے لیے منڈی کا رخ کرتا ہے اور تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہوئی دیکھتا ہے۔ یہ سلسلہ پورا سال جاری رہتا ہے اور عوام اپنے ذرائع آمدن

Read more

اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری

ناول نگاری ادبی اصناف میں ایک ایسی صنف ہے جو مصنف کے خیال کے اظہار کے لیے اپنا دامن اتنا وسیع کر دیتی ہے کہ جس کی وسعت کو سمندری وسعت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ ناول بے شتر مہاڑ گھوڑا ہے جس کی کوئی روک ٹوک نہیں بل کہ جتنا وسیع خیال کا دامن ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ محنت اور جتن ناول نگار کو لکھنے کے دوران میں کرنے پڑتے ہیں۔ وہ تب جاکر

Read more

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں سیاحت پر پابندی: ’یہ موسم ہاتھ سے نکلا جارہا ہے‘

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جہاں پاکستان میں صحت کا بحران پیدا ہوگیا ہے تو وہیں سیاحت سمیت بیشتر شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومتی احکامات پر ملک بھر میں سیاحت مارچ کے تیسرے ہفتے سے بند ہے۔ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سیاحت کو معیشت کے لیے اہم سمجھتی ہے لیکن موجودہ حالات میں سیاحتی و تفریحی مقامات کو کھولنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ اسی لیے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے سیاحت پر

Read more

ہمارے وزیر اعظم جیسا پوری دنیا میں کوئی نہیں

اسی کی دہائی کے بھارت کے تیسرے درجے کے گیند باز راجر بینی اگر عمران خان کو گیند بازی کے گر سکھانے کی پیشکش کرتے تو دنیا کیا کہتی؟ ہمارے منصور اختر اور رضوان الزمان سنیل گواسکر، ویوین رچرڈ اور جاوید میانداد کو بلے بازی کے ٹپس دینے کی بات کرتے تو آپ کو کیسا لگتا؟ ہماری قومی فٹبال ٹیم کے کپتان رونالڈو اور میسی کو فٹ بال میں مہارت تام حاصل کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے تو

Read more

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ

روئے زمین پر قدرت کی طرف سے بکھری ہوئی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی دولت، اور سب سے انمول نعمت ماں کا عظیم سرمایہ ہے ’، اسی دولت کے دم سے زندگی میں بہار ہے‘ ، دنیا میں پھیلی ہوئی محبت کی شعاعیں اسی ماں کی ممتا کے خورشید جہاں تاب کا جلوہ ہے، اولاد کے تئیں ایثار وقربانی، اخلاص و وفا، الفت محبت، وارفتگی وجاں نثار ی کے حوالے سے ماں وہ بے نظیر اور روشن استعارہ ہے

Read more

لگے رہو منا بھائی

کرونا کی عالمی وبا، جسے ہمارے عوام و خواص نے شروع سے ہی بہت آسان اور سادہ سمجھا وہ بھی اس زعم میں کہ ہم پاکستانیوں نے ہر طرح کا آلودہ پانی پی رکھا ہے اور ہر قسم کی ملاوٹ زدہ خوراک کھا رکھی ہے اور یہ جراثیم وغیرہ کو ہم بھلا کیا سمجھیں۔ لیکن اب جبکہ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہسپتالوں میں صحت یابی کی منتظر ہے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں ”نو ویکنسی“ کے بورڈ نظر

Read more

کرونا وبا کے بھیانک سائے

پاکستانی معاشرہ ایک منقسم معاشرہ ہے۔ بد قسمتی سے بحثیت قوم ہم کبھی بھی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ پاکستان میں کرونا وائرس خوفناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بڑے بڑے لوگ اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ اب تک چالیس کے قریب گراں قدر ڈاکٹرز۔ متعدد فرنٹ لائن پیرا میڈیکل اسٹاف ممبرز اور درجنوں ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ کئی اعلیٰ سرکاری افسر بشمول عسکری اداروں کے اہلکار اس نامراد وبا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ستم بالائے

Read more

خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق: کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے

رصغیر پاک و ہند کے ممتاز ماہر لسانیات، نامور محقق، مؤرخ اور بلند پایہ ادیب خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق کا شمار فارسی، عربی، اردو اور پنجابی زبانوں کے اکابر اساتذہ میں ہوتا ہے ان کا تعلق خطۂ یونان کی شہرت رکھنے والی سرزمین گجرات سے تھا۔ حکومت پنجاب کی ایک پرانی سول لسٹ کے مطابق تحصیل گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کے گاؤں حاجی والہ میں اگست 1887ء کو قاضی محمد دین کے ہاں پیدا ہوئے۔ قاضی محمد دین آبائی

Read more

کورونا کے سائے میں سفر۔۔ دمشق سے اسلام آباد

دوستان گرامی کی خدمت میں اس بار اسلام آباد سے آداب۔ اگرچہ کرونا کے زیرِ سایہ گزرتے شب و روز پر مزید لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن مرحوم – کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے یہ سابقہ لکھا ہے- آصف فرخی سے وعدہ تھا کہ ایک آخری باب قلم بند کیا جائے گا۔ اس یارِ مستعجل نے اس سے پہلے ہی گٹھڑی باندھ کر لاد چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ تم کون سے تھے ایسے کھرے

Read more

کورونا بجٹ: جمہوریت، تعلیم، صحت اور دفاع میں دلچسپ مقابلہ کون جیتا؟

یہ کہنا مشکل ہے کہ وزیر اعظم نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں بھارت کو تکنیکی تعاون کی جو پیشکش کی تھی، اس پر بھارت کے روکھے اور سخت جواب کو درحقیقت افسوسناک کہا جائے، منہ توڑ سمجھا جائے یا شرمناک قرار دیا جائے۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ نے بھارتی جواب کو ’مسترد‘ کرتے ہوئے اسے عمران خان کے جذبہ خیر سگالی سے انکار قرار دیا۔ لیکن وزیر اعظم خود بنفس نفیس قومی اسمبلی میں وزیر

Read more

کرونا: کیا واقعی نیوزی لینڈ اور پاکستان کا موازنہ بنتا ہے؟

”I did dance little“
یہ الفاظ تھے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کے۔ جنھوں نے بڑے فاتحانہ انداز میں 8 جون کو نیوزی لینڈ کو کرونا سے پاک ملک قرار دیا اور ملک تمام پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آج دنیا بھر میں جہاں اس وائرس نے تباہی مچائی اور دنیا کے طاقتور ممالک جیسے امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اس وبا کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں ایسی صورت میں نیوزی لینڈ سے یہ خبر کا آنا سب کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

Read more

ذمہ دار کون؟

ہم ناکام کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں درجنوں نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، مختلف وجوہات پر بحث کی جا چکی ہیں اور سینکڑوں صفحات سیاہ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان نظریات میں ایک نظریہ قدرے دلچسپ اور کافی مقبول ہے، اس نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ ہم دراصل من حیث القوم محب وطن نہیں ہے، ہمارے سیاستدان، افسران او عوام سب ہی اور جذبہ حب الوطنی سے عاری ہیں اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ ہے۔

Read more

اس سے پہلے کہ ہمیں مے ڈے، سنائی دے

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس وقت کرونا کے لحاظ سے دنیا کے دس خطرناک ترین ممالک میں شامل ہوچکا ہے، پاکستان میں اس وقت کرونا کے متاثرین کی شرح 24 %تک پہنچ چکی ہے جو ایک خطرناک ترین شرح ہے اگر ایک کروڑ افراد کا ٹیسٹ کیا جائے تو ان میں سے چوبیس لاکھ لوگ کرونا مثبت نکلیں گے جبکہ یہ شرح پانچ فیصد سے کسی بھی صورت زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

یہ ہماری سراسر غلط فہمی ثابت ہوئی کہ کرونا کو ہم نے عید کی چھٹیوں پر گھر بھیج دیا ہے اور ہم اس کی عدم موجودگی میں نئے کپڑے پہن کر خوب اچھل کود لیں، حالانکہ ہمیں علم ہونا چاہیے تھا کہ کرونا دیار چین سے آیا ہے اس کا عید سے کوئی واسطہ نہیں اس نے

Read more

عالمی وبا اور ہیں ہمارے بھی غمخوار کیسے کیسے

ابتلاء کا دور ہے، ملک بھر میں مہلک وائرس (کووڈ۔ 19 ) سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں بات کورونا وائرس اور اس کے اثرات پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ایسی وبائیں بھی پھوٹ پڑی ہیں جن کا تعلق کسی وائرس سے نہیں بلکہ براہ راست انسانوں سے ہے جو وہ بغیر کسی وائرس کے سہارے کے پھیلانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کو اس وقت صرف کورونا وائرس کی عالمی وبا کا سامنا ہی نہیں بلکہ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا اور جہالت کی مہلک وبائیں بھی پھوٹ پڑی ہیں۔

Read more

کرونا نر ہے یا مادہ

کسی بھی تحریر و تقریر میں ذکر کیا گیا واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں استعمال کیے گئے الفاظ کی بھی ہوتی ہے۔ یعنی تحریر و تقریر کی خوبصورتی الفاظ کے انتخاب اور اس کے بعد صحیح اور برمحل استعمال میں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تحریر و تقریر تو بہت شاندار ہوتی ہے لیکن دو چار الفاظ اس کا مزا کرکرا کردیتے ہیں۔ نادانی یا نادانستگی میں ہم الفاظ کو صحیح طور ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی مذکر و مؤنث کی چھوٹی سی غلطی تحریر و تقریر کو پھیکا کر دیتی ہے تو کبھی ”کا، کے، کی، ہے، ہیں“ وغیرہ کا غلط استعمال تحریر و تقریر کو اڑان بھرنے سے روک لیتا ہے۔ جیسا کہ ایک بار خان عبدالولی خان سے کسی صحافی نے اصلاح کی غرض سے کہا کہ جناب آپ نے اپنی تقریر میں ”قوم“ کو مذکر استعمال کیا ہے حالانکہ یہ مؤنث ہے۔ خان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھئی آپ کی قوم مؤنث ہوگی ”ہمارا“ قوم تو مذکر ہے۔

Read more

پچاس لاکھ گھر یا آخری آرام گاہیں؟

موجودہ حکومت کورونا کے احسانات تلے دبی چلی جا رہی ہے۔ مورخ اس پہلو پر ضرور لکھے گا کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت بھی برسراقتدار آئی تھی جو بظاہر انصاف کے نام پر قائم ہوئی تھی لیکن ایک کورونا نامی وبا نے اس کو بیساکھیاں فراہم کیں اور ان بیساکھیوں کے سہارے یہ حکومت دیگر حکومتوں کی نسبت زیادہ چلتی ہوئی دکھائی دی۔ کورونا کا تازہ ترین کمال یہ ہے کہ اس نے پیرس کلب کو پاکستان کے قرضے چھ ماہ کے لئے اور جی 20 کو ایک سال کے لئے مؤخر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ وہ قرضے تھے انہیں مؤخر کرنے کے لئے عمران خان سارے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو بھی ساتھ لے جاتے تو قرضے مؤخر نہ کرا پاتے لیکن کورونا کا تاج پہنے ہوئے حکومت کو دیکھ کر پیرس کلب اور جی 20 والے قرضے مؤخر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کورونا کے حیران کن کمالات دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہی ”مہرہ“ ہے کیونکہ حکومت کے خلاف یہ الزام تو اب سچ ثابت ہو ہی چکا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار تک رسائی کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور مدد کی وگرنہ ہنوز دلی دور است کا معقولہ تحریک انصاف کے لئے ہی تھا۔

Read more

ساری دنیا ہمارے خلاف سازشیں کیوں کرتی ہے

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تباہ کاری کے اثرات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ اٹلی، سپین اور یو کے اس سے بہت زیادہ متاثر تھے لیکن اب وہاں کورونا پر تقریباً قابو پایا جا چکا ہے۔ امریکہ میں بھی حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ اس کے بر عکس وطن عزیز میں کورونا بے قابو ہو چکا ہے۔ کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ گزشتہ روز تقریباً چھ ہزار نئے مریض سامنے آئے اور سو سے زیادہ اموات ہوئیں۔ یاد رہے کہ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔ ہر روز اس تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایسے میں ایک دوست سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے صورت حال پر پرمغز تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کورونا وائرس بھی ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ خیال محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہمارے کروڑوں پاکستانیوں کی یہی رائے ہے۔ آپ نے یہ تو سنا ہی ہو گا کہ ”لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے“ واقعی یہ ہمارے خلاف ایک سازش ہے۔ دنیا میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہو رہا ہے اور ہمارے ہاں یہ عروج کی طرف رواں ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست کے ٹڈی دل

آپ نے وہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ ”اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی“ ۔ پاکستانی سیاست کے لئے بھی بالکل اس محاورے کے مصداق کہا جاسکتا ہے کہ ”پاکستانی سیاست ری سیاست تری کون سی کل سیدھی“ ۔ ہماری سیاست کا ایک کل ہی کیا اس کا حال چال، ماضی اور طور اطوار سب کچھ ہی کتے کی دم کی طرح سیدھے ہیں۔ اونٹ کے حوالے سے ہم یہ محاورہ بھی سنتے آرہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا لیکن پاکستانی سیاست کا اونٹ اسی کر ونٹ بیٹھتا ہے جس کر ونٹ اسے اس کا ماسٹر جوکی بٹھانا چاہتا ہے اور اگر اونٹ اس کروٹ سے بیٹھنے سے انکار کردیتا ہے تو پھر اسے لٹا دیا جاتا ہے اور ماسٹر جوکی اس پر اپنی مرضی کا کوئی اور جوکی سوار کرا دیتا ہے یا پھر قومی مفاد میں خود سوار ہوجاتا ہے۔

Read more

چوہیا کیسے گا سکتی ہے؟

فنکار کا سماج ،فرد اور دوسرے فنکاروں سے کیا رشتہ ہے؟ اس پر کوئی نئی بات کہنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے آس پاس کچھ نئے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہمیں اس سوال کو نئے سرے سے سمجھنے پر مجبورکرتے ہیں۔ہم اس سوال کو کوئی سو سال پہلے کی ایک تحریر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ادب کی دنیا میں سو سال معمولی مدت ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شے وقت کو مات دینے کی جرآت کرتی

Read more

بھینس کے آگے بین بجالی جائے

چین کے شہر ووہان میں کورونا نے تباہی مچا دی، کورونا فلو کی طرح کا وائرس ہے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کورونا خطرناک وبا ہے، اٹلی میں کورونا سے اموات بڑھ رہی ہیں ہمیں لاک ڈاؤن کرنا ہوگا، امریکہ جیسے ملک نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہم کیسے لاک ڈاؤن جاری رکھ سکتے ہیں۔ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہے۔ ڈاکٹر کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ڈاکٹر (محاذ جنگ سے ) ہڑتال پہ چلے گئے۔

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر محفوظ ہے

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔ کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔ جدھر دیکھتی ہوں ادھر کرونا کی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ اسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پینا والا معاملہ ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس قوم کو پاگل کر دینا ہے۔ فضول لایعنی خبروں کو اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سات آٹھ بار دہرانا لازمی ہے۔ ذرا دیکھئیے اور سر دھنیے۔ شہروز سبزواری نے بالآخر ماڈل صدف کنول سے نکاح کر لیا۔ کتنا بڑا کام؟

پہلی شادی کی خبر، طلاق کا ذکر۔ ایک بار دو بار دل پر پتھر آنکھوں پر جبر کر کے گنتی کی۔ سات بار۔ ہائے جی چاہتا تھا اختیار میں ہو تو لتروں سے وہ ٹھکائی کروں کہ نانی یاد آ جائے۔ نواز شریف ریسٹورنٹ میں چائے پیتے دیکھے گئے۔ پورے چھ بار ایک بوریت کن تسلسل کے ساتھ۔ نواز شریف اپنے بیٹے حسن کے ساتھ واک کر رہے ہیں۔ تو بھئی ہم شادیانے بجائیں۔ آخر کیا کریں۔

Read more

حکومت کی نااہلی پر عالمی ادارہ صحت کی مہر تصدیق

ملک اس وقت ایک ناکام اور غیر مقبول حکومت کی گرفت میں ہے جسے پالیسی سازوں نے اپنی بیساکھی کے سہارے کھڑا کر رکھا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ حکومت نہ صرف اپنی پہ در پہ ناکامیوں کے اعتراف سے گریزاں ہے بلکہ اپنی چرب زبانی سے عوام کو لگائے زخموں پر نمک پاشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

تیزی سے ابھرتی ملکی معیشت کو ڈبونا اس حکومت کی ناکامیوں میں سرفہرست ”کارنامہ“ ہے اور اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ روزگار کے لیے کروڑوں نئی آسامیوں کا پیٹا جانے والا ڈھول پھٹ چکا ہے، روزگار کے نئے مواقع مہیاء کرنے کے بجائے روزگار سے وابستہ شہری بھی روزگار سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ سستے انصاف کا وعدہ صرف وعدہ ثابت ہوا، صحت عامہ کی صورتحال پہلے سے زیادہ برباد ہو چکی ہے اور تعلیم کا شعبہ بری طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

Read more

ایک بوڑھے کی دو کہانیاں

پہلی کہانی بانوے سال کا بوڑھا شخص دو سال کے بعد اسی دکان پر واپس گیا، جہاں سے نوے سال کی عمر میں اس نے کفن خریدا تھا۔ دکان پر پہلے ہی کچھ گاہک موجود تھے، اس کے باوجود دکاندار نے مسکرا کر نئے گاہک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "آگے آجائیں جناب، کیا چاہیے؟” بوڑھا پیچھے ہی کھڑا رہا اور کھانستے ہوئے کہا، "آپ گاہکوں سے فارغ ہو لیں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔” دکاندار دوسرے گاہکوں کے ساتھ

Read more

قومی زبان پر سیاسی مشاہیر کی رائے

تحریک پاکستان، قیام پاکستان، 1973 ء کی آئین سازی اور 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین پر نظرثانی تک قومی زبان کی حیثیت کے مختصر پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح، علامہ محمد اقبالؒ، قائد ملت لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح سمیت تحریک پاکستان کی تمام بزرگ ہستیوں اور مشاہیر نے ریاست پاکستان کے لیے قومی زبان کے طور پر اردو کو ہی منتخب کیا۔ اس سلسلے میں جامعات اور

Read more

سندھ کا قدیم روایتی کھیل ”چیکلو“ کیا ہے؟

سندھ میں بچوں کے جو کھیل نایاب ہوتے جا رہے ہیں ”چیکلو“ بھی ان میں سے ایک ہے۔ ”چیکلو“ جسے لاڑ یعنی بدین اور ٹھٹہ اضلاع میں ”چیچڑو“ اور ”چینگھو“ بھی کہتے ہیں۔ وادی سندھ کے خصوصاً دیہاتی بچوں کا من پسند کھیل رہا ہے۔

”چیکلو“ مال مویشیوں کے باڑے میں اور گاؤں کے بیچ لگا ہوا ملتا ہے۔ جس پر صبح و شام بچوں کا ہجوم نظر آئے گا۔
”چیکلو“ نامی یہ سادہ سا جھولا انڈس ویلی سویلائزیشن کی قدیمی ایجاد ہے۔
کچھ ماہر لسانیات کا ماننا ہے کہ لفظ سرکل اور سائیکل اسی چیکلو سے ماخوذ ہیں۔

Read more

افواہ پھیلی ہے کہ وبا نہیں کوئی

نسل انسانی کو پہلی بار وبا کا سامنا نہیں۔ اس سے قبل بھی کئی ایک وبائیں مختلف ادوار میں دنیا کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر چکی ہیں۔ علاج دریافت ہونے تک احتیاط ہی واحد راستہ تھا جس کی بنا پر بیماری کا شکار افراد کی شرح مختلف معاشروں میں مختلف رہی۔

حالیہ کورونا وبا ایک مریض سے شروع ہو کر دنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔ بہت سے ممالک میں وائرس اجتماعی نا اہلی کے باعث، خوفناک رفتار سے بڑھتے ہوئے اپنا خراج وصول کر رہا ہے۔ جبکہ کچھ ممالک میں مضبوط حکومتی کوششوں اور سماجی تعاون سے وبا کو نہ صرف محدود بلکہ خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

Read more

عید شاپنگ نے کورونا کے نئے ریکارڈ بنا دیے

دنیا بھر میں کورونا وائرس جس قدر تیزی سے پھیلا اور ہلاکتیں ہوئیں، الحمدللہ پاکستان میں اتنی تیزی سے نہیں پھیلا حالانکہ کورونا وائرس کا سب سے پہلے حملہ پاکستان کے ہمسایہ ملک چین میں ہوا تھا۔ چین سے یہ وائرس دنیا بھر میں پھیلتا رہا، اس دوران خوش قسمتی سے یہ وائرس چین کے ذریعے پاکستان میں داخل نہیں ہوسکا۔ پاکستان میں یہ وائرس کس طرح اور کہاں سے آیا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہ ایک حقیقت

Read more

ہم نے پاکستان کی معیشت کی بنیاد کیسے ٹیڑھی رکھی؟

ہمارے بہت سے گناہ ہمارے اجتماعی گناہ ہیں جن کی ذمہ داری کسی ایک فرد، جماعت، سوچ یا عقیدے پر ڈال کر کفارہ ادا کرنے کی کوشش نے ہمیں مسلسل ناکامیوں سے دو چار کیا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا گناہ آنکھوں کے سامنے موجود حقیقت کو نہ دیکھنا ہے۔ دوسرا گناہ اپنے اندر موجود بے رحمی سے آنکھیں بند کرنا ہے ذرا غور کیجئے تو آپ کو دو دلچسپ حقیقتیں واضح طور پر نظر آئیں گی۔ ایک یہ کہ

Read more

کرونا وائرس وبا: پارلے جی کی ریکارڈ فروخت، لاک ڈاؤن میں بسکٹ کمپنیوں کا بول بالا

اس سال جتنی بات لاک ڈاون کی ہو رہی ہے پچھلے سال اتنی ہی بات سلو ڈاون یا معاشی مندی کی ہو رہی تھی۔ اس وقت ایک خبر پر کافی بات ہوئی تھی کہ معاشی مندی کا عالم یہ ہے کہ مزدور پانچ روپے کی پارلے جی بسکٹ تک نہیں خرید پا رہے، اور فروخت کم ہونے کی وجہ سے کمپنی کو بڑے چیلینج کا سامنا ہے۔ اور اس سال لاک ڈاون کے دور میں یہ پانچ روپے والا بسکٹ

Read more

کورونا وبا: پاکستان پانچواں سوار بننے کا دعویدار

ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کسی سرکاری ادارے کو خبر نہیں ہے کہ چند روز یا ہفتوں بعد وائرس کی ہولناکی کیا صورت اختیار کرے گی۔ ملک میں مسلسل دوسرے روز 6 ہزار سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے اور مرنے والوں کی تعداد ایک سو افراد روزانہ سے بڑھ چکی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کورونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آیا ہے۔ اور قومی اسمبلی میں کورونا کے بارے میں حکومت کی ناقص

Read more

باؤلی

”چل نکل ادھر سے۔ کمبخت ماری، نیستی، بدبخت“
”چلی جاؤں گی جی۔ ۔ ۔“
”کب جائے گی؟“
”بس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنے دیں۔“
”تیری تھوڑی دیر تو گھنٹوں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔“
”میں بس ایک گھنٹے کے لیے بیٹھوں گی۔“
”ایک گھنٹہ کیا ایک منٹ بھی نہیں۔ ۔ ۔ چل اٹھ۔ ابھی نکل۔ ابھی کے ابھی نکل۔“

Read more

فیر آیا جے غوری

علامہ اقبال کی ایک نظم ہے ”ایک پہاڑ اور گلہری“ ۔ یہ نظم علامہ اقبال کی کتاب ”بانگ درا“ میں درج ہے۔ بانگ درا کا اسلوب ”بال جبریل“ سے خاصا مختلف ہے۔ دوسرا یہ نظم علامہ اقبال نے ایمرسن سے متاثر ہو کر لکھی یعنی ماخوذ از ایمرسن ہے۔ یہ نظم پہاڑ اور گلہری کے درمیان مکالمہ ہے جس میں پہاڑ گلہری کو اس کی چھوٹی جسامت کا طعنہ دیتا ہے۔ اپنی آن بان شان بڑائی بیان کرتا۔ اس کے جواب میں گلہری اس سے مرعوب نہیں ہوتی بلکہ اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے۔

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

Read more

ہما دلاور کے دس سوال

ہما دلاور کے ڈاکٹر سہیل سے دس سوال سوال نمبر 1۔ دانائی کیا ہے؟ سوال نمبر2۔ دانائی کا منبع کہاں ہے؟ سوال نمبر 3۔ زندگی گزارنے کے لئے دانائی کتنی اہم ہے؟ سوال نمبر 4۔ کیا دانائی سیکھی یا سکھائی جا سکتی ہے؟ یا سوال نمبر 5۔ کیا دانائی کوئی خزانہ ہے جسے تلاش اور حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سوال نمبر6۔ کیادانائی اور علم کا کوئی رشتہ ہے؟ اور اگر ہے تو کیا رشتہ ہے؟ سوال نمبر 7۔ کیا

Read more

بلوچستان کی آواز سنیے

ایک متحرک اور مستقبل کے بارے میں پر جوش یقین رکھنے والا سماج لازمی طور پر چند بنیادی انسانی اوصاف یعنی تحفظ ذات اور جمہوری اقدار پر مبنی اختلاف و اتفاق رائے کے حق پر یقین رکھنے سے ہی قائم ہوتا ہے۔ بلا شبہ جمہوری رجحانات راسخ العقیدہ نہیں ہوتے۔ یہ محض آزادی اظہار کے حصول کے مطالبے تک محدود سوال نہیں بلکہ وسیع تر معنوں اور معاشرتی تعامل میں انسان دوستی اور اپنی رائے قائم کرنے اسے ظاہر کرنے

Read more

کوئٹہ کے گورکن کی ساری قبریں بک چکی ہیں

اسلم گزشتہ آٹھ سالوں سے دن قبرستان میں اور رات گھر پر بسر کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کا نان نفقہ قبرستان سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے ہمسائے صبح گھر سے بازار کی طرف چل پڑتے ہیں اور وہ بیلچہ اور کدال کاندھے پر اٹھائے قبرستان کی جانب نکل جاتے ہیں۔

اسلم اور ان کے دیگر تین ساتھی صبح سے لے کر شام تک قبریں کھودتے ہیں۔ کبھی آرڈر پر قبر کھود لی تو کبھی پہلے سے تیار شدہ قبر بیچ ڈالی۔ میرے دوست فون پر میری بات اسلم سے کروانے کے لئے ان کے پاس گئے تو اس وقت مجھے بیلچے اور کدال کے زمین کو چیرنے اور پتھر ہٹانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

Read more

روشن کردار کے حامل استاد: چوہدری فضل کریم

دل کو باتیں جو ان کی یاد آئیں کس کی باتوں سے دل بہلائیں بہترین سماج کی تشکیل کے لیے بہترین نظام تعلیم ناگزیر ہے۔ نظام تعلیم میں خود تعلیم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور نصاب تعلیم اس نظام کے مقاصد کی تکمیل کا تحریری ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ متعلم کی شخصیت پر سب سے قوی اور فوری اثر نہ نظام تعلیم سے مرتب ہوتا ہے اور نہ نصاب سے۔ اس جادو کا سرچشمہ

Read more

آصف صاحب – کچھ یادیں کچھ ملاقاتیں

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہوچکا ہے۔

انیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کے مطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اور چند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

Read more

کورونا کی دستک

فون کی گھنٹی بجی، میں شاید اسی کا منتظر تھا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر صاحب،دوسری طرف بول رہے تھے ”یار، بدقسمتی سے رپورٹ پازیٹو آئی ہے،،۔ میں نے اسی روانی میں پوچھ لیا ”اچھا،میں نے بھی وہی کچھ کرنا ہے، جیسی ہدایات پہلے دی تھیں؟،،۔ وہ بولے ”جی، اور بیٹے کی طبیعت سے آگاہ کرتے رہیے گا،،۔ آخر کا وہ میری دہلیز پر دستک دے چکی تھی، لیکن تین روز پہلے وہ مہمان جسے وبال جان ٹھہرایا جا چکا ہے، بہت

Read more

ایک بے حس قوم کا کورونا سے مقابلہ

کورونا کے مہلک وائرس کے ہاتھوں دنیا بھر میں جانی اور معاشی نقصانات کا سلسلہ تھمنے کی بجائے بدستورجاری ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ آفت مزید کتنی انسانی جانوں کو نگل لے گی اور دنیاکومزیداس سے کتنے ٹریلین ڈالر کا مالی نقصان ہوگا۔ ترقی پذیر ملکوں میں چند ایک ممالک کے سوا باقی ملکوں میں اس وبا سے نقصانات ضرور ہوئے ہیں تاہم یورپ اور امریکہ کی نسبت یہ نقصانات اب بھی بہت کم ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان چند

Read more

تحقیق اور پاکستانی معاشرہ

انگریز کون؟ ہر کوئی جن کی رنگت گوری ہو۔ چاہے وہ فرانسیسی بولتے ہوں یا جرمن، ہسپانوی بولتے ہوں یا کوئی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چونکہ ان کی رنگت گوری ہیں لہذا وہ انگریز ہیں۔ اور انگریز سارے مکارہوتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ناخواندہ یا نیم خواندہ افراد کی جہاں بہتات ہوں وہاں ایسے ہی تصورات جنم لیتے ہیں، حتٰی کہ ”اگر انگریز اسلام سے متعلق ریسرچ کرتے ہیں توبھی وہ

Read more