کرونا کے خلاف چند نہایت مفید مگر غیر معروف تدابیر

مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ محترم عدنان کاکڑ (مدیر ادارہ ہم سب) ایک جیسے موضوع پر بار بار لکھنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ بجائے ایک ہی موضوع پر لکھنے کے، زندگی کے مختلف معاشرتی و سماجی پہلوؤں پر لکھا جائے۔ ان کی بات بالکل بجا لیکن کیا کریں بقول ڈاکٹر یاسمین صاحبہ کے کہ ہم کوئی عجیب ہی مخلوق ہیں جنہیں کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی (میں ذاتی طور پر

Read more

پاکستان میں کرونا کا جن بے قابو

پاکستان میں عیدالفطر کے بعد سے کرونا کے کیسز اور اموات میں روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے۔ ٹسٹ کیے جانے والے افراد میں انفیکٹڈ افراد کی شرح 24 فیصد کی تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ جس کی وجہ سے نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے گزشتہ روز عوام کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو پاکستان میں جولائی تک کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد

Read more

وبا کے ہاتھوں بچھڑ گئے ہم

”تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تم سے بچھڑ کر جینا کسی اذیت سے کم نہیں ہر نیا دن قیامت سا ہے تمہاری یاد عذاب بنتی جا رہی ہے۔ زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں تم نہیں۔ ۔ ۔ تم ٹھیک کہا کرتی تھی خوشیوں کو نظر لگتے ذرا سی دیر لگتی ہے۔ میں کتنے آرام سے مسکرا دیتا تھا۔ میں ہجر کے درد سے کتنا ناواقف تھا۔ میں اوپر والے کی کن سے کیوں

Read more

چیمپینز ٹرافی فائنل 2017: پاکستان کی انڈیا کے خلاف شاندار فتح کا جشن آج بھی جاری ہے

18 جون 2017 تھی۔ پاکستان نے انڈیا کو 180 رنز سے شکست دی اور پورا پاکستان جھوم اٹھا تھا۔ جمعرات کی صبح انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرکٹ اور پاکستانی شائقین کو ٹھیک تین سال پہلے آج ہی کے دن منعقد ہونے والے چیمپیئنز ٹرافی 2017 کے فائنل میں انڈیا کے خلاف شاندار کامیابی کی یاد دلائی تو ملک میں ایک بار پھر اُس جیت کی خوشی تازہ ہو گئی۔ اس موقع پر اس

Read more

سہاگ کی چوڑیاں

ارے تم نے چوڑیاں پھر اتاردیں کتنی مرتبہ بتایا ہے سہاگن کی نشانی ہوتی ہیں ہاتھوں میں کنھکتی چوڑیاں مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے تمھیں سہاگن ہونا پسند ہی نہیں۔ آپ کیوں اول فول کہنا شروع کردیتے ہیں مہوش نے بے ساختہ بابر کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ تو پھر اتاری کیوں ہیں؟ آٹا گوندھ رہی تھی سوچا خراب ہو جائے گی اور بار بار پیسے خرچ کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میں مرجاؤں تو بچاتی رہنا تم

Read more

وزیر اعظم کو وزیر اعظم ہونے کا یقین کیسے دلائیں

پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم سے کتنا سچ بولا یا قوم سے کیے گئے وعدوں کے مطابق کوئی عملی قدم بھی اٹھایا یا نہیں، ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی یہ بات لائق تحسین بھی ہے اور قابل داد بھی کہ انھوں نے اپنی ذات کے متعلق جب بھی کچھ کہا ہمیشہ سچ کہا اس لئے باقی پورے نہ ہونے والے وعدے اور دعوے اپنی جگہ، ان کی حقیقت پسندی کے آگے سارے وعدے اور دعوے

Read more

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم الطاف حسین نے دیا: عدالتی فیصلہ

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق کے قاتلوں خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی سید کو عمر قید اور دس دس لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی۔ متحدہ بانی سمیت چار مفرور ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے۔

Read more

خدارا ڈپریشن کو سریئس لیں!

زندگی کبھی کبھی آپ کو اپنے ہی پیاروں کی پہچان کروا دیتی ہے اور کبھی کسی اجنبی سے ملا کر اسے آپ کی زندگی میں ایک خاص مقام دلا دیتی ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ زندگی کسی کے بھی لیے کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ ہر انسان زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے کہیں نہ کہیں جتن کر رہا ہوتا ہے لیکن ہم سب کو کہیں نہ کہیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہماری زندگی

Read more

کورونا بھی ہے لیکن ٹڈی دل کی بھی خبر لینی چاہیے

امسال جنوری میں ٹڈی دل نے حملہ کیا۔ انڈے بھی دیے۔ ہم نے دینے دیے۔ اس کے بعد بھی ان کو نہیں چھیڑا۔ آخرانسانیت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مئی جون کے تباہ کن ٹڈی دل کے جھنڈ کے جھنڈ دیکھنا نصیب ہوا۔ واہ کیا منظر تھا۔ ۔ ۔ آسمان پر محو پرواز ٹڈیاں دیکھنے سے زیادہ مزہ زمین پر پڑنے والے ان کے گھنے سائے کے نظارے میں تھا۔ گویا تپتی دوپہر میں

Read more

کیا ہم جاہل قوم ہیں؟

اب اس بات میں رتی برابر بھی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ببانگ دہل فرمایا ہے کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔ وہ یہ باتیں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاط کے تناظر میں کہہ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔ واقعی یہ

Read more

کورونا سے کورونا تک!

اس وقت پوری دنیا میں کورونا سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں۔ انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کا برا حال ہو چکا ہے امریکہ جیسے ملک میں کروڑوں افراد بے روزگاری کے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔ یہی حالات اٹلی ’فرانس‘ جرمنی ’برطانیہ اور جاپان جیسے ممالک کے بھی ہیں لیکن ان ممالک میں عوام اور معیشت کو بچانے کے لئے یہ ممالک سر جوڑ چکے ہیں جنوبی کوریا‘ اٹلی ’چین اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک اپنے بہترین عملی اقدامات

Read more

کیرالہ نے کیسے ترقی کی؟

ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالہ ایک مدت سے بیرونی دنیا کے لئے حیرانی کا باعث ہے۔ ساڑھے تین کروڑ آبادی پر مشتمل اس ریاست میں دنیا کی پہلی جمہوری طور پر منتخب کمیونسٹ حکومتوں میں سے ایک، 1960 میں برسر اقتدار آئی، اور پچھلے ساٹھ سال سے یہاں مسلسل بائیں بازو کی مارکسی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے۔ 1969 ء میں ریاستی حکومت نے زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ تعلیم کے نظام میں بڑے پیمانے پر توسیع اور اصلاحات نافذ

Read more

بچوں کی تعلیم اور والدین کا رویہ

سکول کی دہلیز پہ پہلے قدم سے لے کر موت کو گلے لگا لینے تک اس دنیا میں یہاں کے بنائے سماجی ضابطوں کے عین مطابق جینا بھی موت ہے۔ جہاں آپ عقل و شعور کی رعنائیوں سے کوسوں دور ہوس کے کڑوے جام ہر وقت اپنے ہاتھ میں تھامے رکھتے ہیں اور کوشش یا دوڑ میں شمولیت کو اہمیت دینے کے بجائے بس کامیابی کے راگ الاپتے ہیں اور یہ کبھی بھی طے نہیں کرتے کہ اگر کامیاب نا

Read more

کرونا وبا بھی، مارکیٹ بھی

کورونا کی جارحیت میں اب واضح طور پر شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ تحریر شائع ہونے تک ملکی اعداد و شمار کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔ کورونا ہماری جان ہمیں مکمل طور پر تہ تیغ کرنے سے پہلے چھوڑنے پر تیار نہیں ہے اورہم بہادر بھی کورونا سے بچنے میں کسی طور سنجیدہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کورونا کے مطالبات کہ ہجوم نہ بنائیں، فاصلہ اختیار کریں، ماسک پہنیں، ہاتھ دھوئیں، چہرے کو نہ چھوئیں

Read more

شکیلہ یاسین بٹ: دھیان کے روشندان سے ایک بہادر ماں کو سلام

آج من پھر محو یاس ہو کر کسی خواب گراں مایہ کی حسرت میں گھر سے نکلا اور یادوں کے گھنے جنگل میں پہنچ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد یوں لگا کہ کسی گزرے ہوئے موسم کی دلدل میں دھنسنے لگا ہوں کہ اچانک بھائیوں جیسے دوست عاطف رزاق بٹ کی آواز آئی، کدھر جا رہے ہیں شیخ صاحب۔ ؟ میں نے عرض کیا کہیں نہیں۔ کئی دن کی یادوں کی مسلسل مسافت نے تھکا دیا ہے، ویسے بھی چہروں

Read more

چائے

میں سوچ رہا ہوں چائے پر ایک کالم لکھوں جو نہیں پیتے انہیں کمبخت اور خانہ خراب لکھوں۔ ویسے بھی وہ دوست جو چائے نہیں پیتے خزانے کی طرح ہوتے ہیں۔ دل کرتا ہے ان کو زمین میں گاڑ دوں۔ ویسے بھی دل ظرف اور چائے کا کپ ہمیشہ بڑا ہونا چاہیے دور حاضر میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ وہ شخص ہوگا جو کہے گا میں ناشتے میں چائے نہیں لیتا۔ کڑک چائے اور خالص محبت کم ظرفوں کے لیے

Read more

زندگی سے پیار کیجئے

میں بالی ووڈ کی فلمیں نہ دیکھتا ہوں اور نہ ہی ان کو فالو کرتا ہوں البتہ انڈین پنجابی فلمیں کبھی کبھار دیکھ لیتا ہوں۔ کچھ دیر قبل ایک خبر نظروں سے گزری کہ بالی ووڈ کا ایک نوجوان اداکار سوشانت سنکھ نے خودکشی کر لی۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی وقتاً فوقتاً مختلف معروف شخصیات کے بارے ایسی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ آج کے دور میں ہر شخص ٹینشن یا ڈپریشن

Read more

ٹانک میں سائیکل پر پابندی

سائیکل اور انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ جب انسان کے پاس سفر کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا تو یہ سائیکل ہی تھا جو اس کی اکلوتی سواری بنی رہی۔ بچے سکول جانے کے لئے، بابو حضرات دفاتر جانے کے لئے، گوالا دودھ کی فروخت کے لئے، اخبار فروش اخبار گھر گھر تک پہنچانے کے لئے سائیکل ہی استعمال کرتے۔ فی زمانہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کا استعمال متروک ہوچکا ہے بلکہ اب بھی ترقی

Read more

ٹیکس فری وفاقی بجٹ میں ریلیف کے لیے سراپا احتجاج عوام

2011 کا سال تھا بجٹ کی تیاری بڑی زور شور سے جاری تھی، معاشی مسائل بھی بہت تھے، دہشتگردوں کے خلاف سوات آپریشن جاری تھا ملک میں امن وامان کی صورتحال خاصی تشویشناک تھی، بجٹ کی تیاری اس وقت بھی آئی ایم ایف سے امپورٹڈ یہی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ صاحب کر رہے تھے فرق صرف اتنا تھا کہ وہ اس وقت پیپلز پارٹی کے منتخب سینیٹر کی حیثیت سے وزیر خزانہ بنے تھے مگر نوکری آئی ایم ایف

Read more

ایک کوچوان قومی محافظ

وہ فوجی نہیں تھا، نا ہی وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز تھا وہ ایک معمولی کوچوان تھا سواریوں کو ان کی منزل پر چھوڑتا چند پیسے کماتا اور اپنے معاشی معاملات چلاتا تھا اس نے ایک دن ایک چور سے ایک عام شہری کو بچایا بزرگ نے بہت سی دعائیں دی وہ نظر رکھتا تھا کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں ہو رہا اس کا نام تھا عمر آفندی ایک عام شہری لیکن کافی حد تک ذمہ داری کا

Read more

چودہ دن کی روٹی

کہانی بہت دردناک و المناک ہو چکی۔ ۔ ۔ محمد خالد شاندار دانشور تھے، حلقہ ارباب ذوق آتے تو ان کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا، لیکن کورونا وائرس نے انہیں نگل لیا۔ ۔ ۔ صغیر تبسم ہمارے دوست ہیں، پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور استاد ہیں، ان کی والدہ ماجدہ بھی انتقال کر گئیں۔ بالی ووڈ کے خوبصورت ینگ ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کئی دن سے قرنطینہ میں تھے، بالاخر خودکشی کرکے مر گئے۔ ریلوے کے

Read more

بیجنگ میں جنگی پیمانے پر انسداد وبا کے اقدامات

ایک ایسے وقت میں جب دو کروڑ سے زائد آبادی کے شہر بیجنگ میں معمولات زندگی تیزی سے بحال ہو رہے تھے اور مسلسل چھپن روز تک کوئی ایک بھی نوول کورونا وائرس کا نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا، یک دم گیارہ جون سے تواتر سے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس وقت دوبارہ جنگی بنیادوں پر وائرس کی روک تھام و کنٹرول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بیجنگ میں وبا کی اس نئی لہر کا تعلق ایک ہول

Read more

عمران خان: سمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد  سمارٹ خود احتسابی کی طرف

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کیس میں سرکار کے وکیل فروغ نسیم نے   دعویٰ کیا ہے کہ  وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کے  نام سے  بیرون ملک کوئی جائیداد موجود ہو تو اسے نیلام کرکے پیسہ قومی خزانہ میں جمع کروا دیا جائے۔ فروغ نسیم کو وزیر اعظم کی  یہ  خواہش  بیان کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ گزشتہ روز  سپریم کورٹ  کے دس رکنی بنچ کے نام ایک خط میں جسٹس   قاضی فائز عیسیٰ نے  انکشاف

Read more

پاکستان میں مینڈیٹ چرانے کے سات طریقے

پاکستان کی پون صدی کی تاریخ میں کم از کم سات ایسے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں جن کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ کو چرایا جاتارہا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ سات طریقے یا ہتھیار پاکستان کے قیام کے بعد ابتدائی دس بارہ سال میں ہی تیار کرلیے گئے تھے اور پھر ان ہی کو بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ تو یہ رہا کہ

Read more

طارق عزیز کی نوجوانی کی جدوجہد

طارق عزیز اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گیا اور میرا اور اس کا ستر سال کا ساتھ ختم ہو گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ کل رات میری ٹیلی فون پر اس سے بات ہوئی تھی۔ میرے ایک پرانے، سوشل زندگی میں بہت active شاگرد جو پنجاب کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز رہ چکے ہیں، طارق عزیز سے منیر نیازی کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ میں نے طارق کو ٹیلی فون کیا تو اس نے کہا کہ اس

Read more

19برس پہلے: اس پراسرار فائل میں کیا تھا؟

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔ 21 اپریل 2001 کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے

Read more

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس: کب کیا ہوا؟

ڈاکٹر عمران فاروق (بائیں جانب)، الطاف حسین (دائیں جانب) 18 جون کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے اہم کیس کا فیصلہ سنانے جارہی ہے۔ پانچ سال تک چلنے والا یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم کیس ہے جس میں اگر ملزمان پہ سازش کر کے قتل کرنے کا جرم ثابت بھی ہوجائے اور عدالت انھیں سزائے موت سنا بھی دیتی تب بھی اس کیس میں

Read more

بجٹ، کرونا اور ہماری ’’جہالت‘‘

یاسمین راشد صاحبہ نے اُکتا کر لاہوریوں کو ’’جاہل‘‘ قرار دیا تو مجھے کئی دوستوں نے فون کئے۔ انہیں یقین تھا کہ میرے اندر بیٹھا جماندرو لاہوری ان کے کلمات سن کر چراغ پا ہوگیا ہوگا۔ ایمان داری کی بات اگرچہ یہ ہے کہ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ نے لاہوریوں کے بارے میں کہاں اور کس وقت کیا فرمایا ہے۔ لفظ ’’جاہل‘‘ کا ذکر ہو تو مجھے کئی برسوں سے بلھے شاہ کا ’’علموں بس کریں

Read more

وبا کے دنوں میں ڈپریشن اور سوشل میڈیا کی ماڈل لڑکی

بہت دنوں بعد ایک دوست سے یونہی سر راہ ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ اچھے خاصے فریش چہرے پہ اداسی رقم ہے۔ یہ ان دنوں کا اثر ہے کہ ہر طرف ایک اداسی کی فضا ہے سوگواری ہے۔ اتنی اموات بھی تو ہو رہی ہیں۔ چاہے پرائے لوگ ہوں پر ساری انسانیت ایک کرب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایک نقطے پہ آکے پھنس سے گئے ہیں نکلنے کی سمت بھی متعین نہیں۔ اور یہ اتنے سارے انسانوں کی

Read more

کورونا اور پاکستانی عوام کی بہادری

ہم پاکستانی بھی دنیا کی ایک عجیب و غریب قوم ہیں۔ ایسی اعلی و ارفع روایات کے نقیب ہیں کہ اس گلزار ہست و بود میں کوئی قوم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگست کا مہینہ آئے تو سچے پاکستانی۔ رمضان المبارک ہو تو پکے نمازی۔ بھلے سے روزہ ہو نہ ہو دعوت افطار سے روگردانی کفران نعمت سمجھتے ہیں۔ جنگ کے حالات ہوں تو پوری قوم دفاعی تجزیہ نگار نظر آتی ہے۔ الیکشن کے موسم میں سب لوگ سیاستدان

Read more

جاہل عوام اور پڑھی لکھی حکومتیں

لیجیے حضور، غربت، عسرت، بے روزگاری، بھوک، سیاسی ابتری، سماجی و طبقاتی تفریق، معاشی عدم مساوات، تعلیمی و طبی پس ماندگی اور معاشرتی بدحالی اعزازنے کے بعد عوام پاکستان کے سینے پر حکومت وقت نے جہالت کا تمغا بھی سجا دیا ہے۔ ویسے تو روزانہ کی بنیاد پر فرمانروائے حال، اپنی آمد و رفت پر لگائے گئے شاہی روٹوں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تھانوں، کچہریوں میں متعین مشاق، اعلی تربیت یافتہ اور عمدہ اخلاق و کردار کے مالک اہلکاروں کے ذریعے

Read more

بکھرتا سماج اور مذہبی انتشار

کالم کا عنوان معروف دانشور فرخ سہیل گوئیندی سے مستعار لیا ہے۔ سماج کی ابتری پر ان کے کالموں کے مجموعے کا عنوان ”بکھرتا سماج“ ہے۔ سماجی زوال کے پیش آنے والے چند تجربات میں اس تحریرکے ذریعے آپ کو شریک کرنا چاہوں گا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کتابوں کی ایک بہت بڑی دکان ہے۔ چند ماہ قبل میں دکان سے نکلا تو پارکنگ میں ایک صاحب ہاتھوں میں دو تھیلے لیے کھڑے تھے اور لگ رہا

Read more

مجسمے گرانے کی تحریک: ’تاریخ میں مظلوم قوموں کی آواز بھی شامل کرنی چاہیے‘

امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف جاری مظاہرے دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں اور اس میں غلامی کی علامتوں کو عوامی مقامات سے ہٹانے کی تحریک نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ تو برطانیہ میں برسٹل کے مقام پر دیکھنے میں آیا جب سترہویں صدی کے غلاموں کے ایک تاجر ایڈورڈ برسٹل کے مجسمے کو مظاہرین نے اتار کر دریا برد کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں کولمبس کا مجسمہ بھی توڑ

Read more

کورونا کے ساتھ جینا ہے یا مرنا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ جینا پڑے گا لہذا اپنا خیال خود رکھیں۔ ریاست ماں ہے مگر بچوں کا خیال رکھنے سے قاصر ہے۔ لیکن تذبذب کی شکار حکومت اقدامات سے اب لگ رہا ہے کہ کورونا کہ ساتھ جینا نہیں مرنا پڑے گا۔ اب کورونا گلی گلی، نگر نگر پہنچ کر اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ ڈر اور خوف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وجہ کورونا ہو یا کچھ اور زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انتقال کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ہر طرف سے افسوسناک خبریں۔ اور ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ معاملہ ریاست کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں عوام کس ماں سے دلاسے اور تسلیاں تلاش کریں؟

لبرٹی مارکیٹ کے تاجروں میں کورونا پھیل گیا بعض دکانیں بند کر کے بیٹھ گئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 10 سے 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کورونا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔ تلس پورہ میں 60 سالہ محمد سلیم انتقال کر گئے۔ مغلپورہ رام گڑھ کے علاقے میں 30 سالہ عمر سانس کی تکلیف اور ٹائیفائڈ کی وجہ سے انتقال کر گیا مگر کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا اور نہ حکومت نے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ اس کے ایک سالہ بیٹے کی اسی دن سالگرہ تھی جس دن وہ اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کے غمزدہ باپ اور بیوہ سے پوچھیں کہ ’مدینہ کی ریاست‘ ان کے جوان بیٹے اور خاوند کی جان بچانے میں کیسے ناکام رہی۔

Read more

میری کھڈیاں کہاں گئیں؟

سنہ 1972۔ حقیقی واقعے پر مبنی افسانہ

دبلے پتلے دراز قد کے حامل وقار نے جب دیکھا کہ کھڈیوں پہ سے اس کا نام مٹا دیا گیا ہے تو وہ دیوانہ وار دوڑ کر ان سے لپٹ گیا۔ ’یہ میری کھڈیاں ایں، انہیں کوئی اور نہیں لے سکتا۔‘ پھر اس نے چاروں طرف دیکھا۔ ’تم لوگ چپ کیوں ہے؟ عمر بھائی کہاں ہے؟‘
یہ شور سن کر نحیف جسامت کا خان کمرے سے باہر آیا اور اس نے چوکیدار کو اشارہ کیا۔ لمبا چوڑا چوکیدار وقار سے نمٹنے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔

’اپنے نام کو صاف صاف لکھو اور اس گوند سے اچھی طرح اپنی اپنی کھڈیوں پر چپکانا۔ بڑی زبردست گوند ہے یہ!‘ ہفتہ بھر پہلے کی بات ہے کہ عمر بڑے رعب سے احکامات جاری کر رہا تھا۔ اس کی پیشانی پہ ایک عجیب و غریب چمک تھی۔ باقی سب مزدور خوشی خوشی اس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

Read more

کرونا وائرس اور ویکسین کے بارے میں معلومات

کرونا وائرس کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں تباہ کاریاں جاری ہیں۔ قیمتی انسانی جانوں کی اموات سے معاشی خساروں تک کرونا سے اس وقت کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ یہ شاید انسانی تاریخ میں ان چند وباوں میں سے ایک ہے جس نے اس شدت کہ ساتھ انسان پر حملہ کیا ہے۔ اور اسے اب صدیوں تک یاد بھی رکھا جائے گا۔

اس سے پہلے بھی کئی وباوں نے انسان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ہے جن میں، 250 قبل مسیح یونان میں پھیلا طاعون، 1346 سے 1353 تک ایشیاء سے یورپ تک تباہی مچاتی وبا جسے بلیک ڈیتھ کا نام دیا گیا، امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور مختلف خطوں میں مختلف وقتوں میں پھیلے طاعون، پولیو، خسرہ، اور 1918 سے 1920 تک کا سپینش فلو جس سے دنیا میں 500 ملین لوگ متاثر ہوئے اور 1 / 5 لوگ اس فلو سے لقمہ اجل بنے۔ اس کے علاوہ ایشین فلو، سارس، ایبولا، برڈ فلو، ایڈز، زیکا اور سینکڑوں دیگر وباوں نے انسانوں پر حملہ کیا ہے۔

کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے انسان کے پاس صرف ویکسین ہی ایک ہتھیار ہو سکتا ہے۔ دنیا کو دوبارہ پہلے کی طرح معمول پر لانے کے

Read more

یہ سب مغرب کی سازش ہے

پچھلے دنوں ایک تقریب میں کچھ لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں سے ایک صاحب نے بطور پروفیسر، دوسرے نے وکیل اور تیسرے نے کاروباری شخصیت متعارف کروایا۔ ایک اور صاحب جو پچھلے بیس سال سے انگلینڈ میں مقیم ہے، وہیں پر موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا محور کرونا کی طرف منتقل ہو گیا۔ پروفیسر صاحب جو پچھلے بیس سال سے ایک سرکاری کالج میں پڑھا رہے ہیں، کورونا کو ایک وبائی مرض تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ اسے بین الاقوامی سازش کا حصہ قرار دے رہے تھے اور اس کے تانے بانے بل گیٹس اور ٹرمپ سے جوڑ رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جو شخص پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے اور پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے، اسے کرونا نہیں ہو سکتا۔

وکیل صاحب جو پچھلے پچیس سال سے وکالت سے شعبہ سے منسلک ہے، کرونا کو نہ صرف افواہ کے طور پر لے رہے تھے بلکہ جن لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے ان کو طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وکیل صاحب نے کرونا کے خلاف دلائل دے کر کچھ بچوں اور کچھ جوانوں کے ماسک بھی اتروائے۔ اس کے بعد فاتحانہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے رہے۔

Read more

حکومت آگے بڑھ کر عوام کو حوصلہ دے!

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی انتظامی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔ پہلے بھی ڈھیلی ہی تھی مگر اب تو وہ کمزوری کے آخری درجے پر دکھائی دیتی ہے؟

اس وقت جب ملک عزیز پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، ہر طرح کے مافیاز اپنی من مرضی کر رہے ہیں۔ اشیائے خور و نوش سے لے کر دواؤں تک کی قیمتیں اپنے طریقے سے بڑھا رہے ہیں۔ بالخصوص دواؤں کو فروخت کرنے والا مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔ اسے منافع حاصل کرنا مقصود ہے لہٰذا وہ معمولی سے معمولی دوا جو موجودہ بیماری کے لیے استعمال میں لائی جا سکتی ہے کو بلیک میں بیچ رہا ہے۔ یہ تو آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہو چکا ہو گا کہ ایک ٹیکہ جو دو تین میں ہزار روپے میں مل جاتا تھا، اب قریباً تین لاکھ میں بڑی کوشش کے بعد دستیاب ہوتا ہے۔

Read more

وکٹر فرینکل ۔۔۔ نازی عقوبت خانے سے زندگی کا راز چرانے والا مسیحا

"عجیب دن ہیں! اندر جان لیوا تنہائی ہے اور باہر چہار سو پھیلتا ہوا اندھیرا! نہ دل میں اترنے والی چاندنی ہے اور نہ ہی آنکھوں کو چھو جانے والی ستاروں کی جگمگاہٹ! دل پہ یاسیت چھائی ہے، روح مضمحل ہے، زندگی میں کوئی مفہوم نہیں رہا! میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی!” نصف شب کا عالم اور فون اٹھانے پہ ایک کرب زدہ بھرائی آواز نے کچھ کلمات ادا کئے۔ فون کے دوسری طرف مہربان صورت شخص نے کچھ

Read more

کیا ملک میں جمہوریت کا مقدمہ مضبوط ہو رہا ہے؟

گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں ’کورونا بجٹ‘ پیش کرنے کے بعد سے کابینہ کے معزز اراکین نے ملکی معیشت کی بحالی میں حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کے قصے سنائے ہیں۔ تحریک انصاف کے زعما عوام کو مسلسل یہ باور کروانے پر مصر ہیں کہ اگر یہ کورونا وبا بیچ میں نہ آجاتی تو پاکستان اس وقت عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق جنت نظیر خطہ بن چکا ہوتا۔ اس کے بعد ایک’ لیکن‘ ہوتی ہے اور درجنوں عذر تراش

Read more

آئیے اپنے گریبان میں جھانکیں

ہمارے کچھ اسلامی مجاہدین اور اچھے پکے مسلمان جن کے تئیں دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ امریکی سازش یا مغربی ممالک کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہوتا ہے حتی کہ بہت سوں کے نزدیک کرونا بھی ان مشرکوں کی سازش ہے، خیر تو یہ مجاہدین اس بات پر پھولے نہیں سما رہے کہ دیکھو امریکہ جو کہ اپنے آپ کو عالمی حقوق کا چیمپئن بتاتا ہے اس کے معاشرے میں کتنی نسلی منافرت اور عدم مساوات ہے۔ لیکن یہ طعنہ دینے سے پہلے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ نسلی تعصب ان کے اپنے معاشرے اور ان کے اپنے اندر ہے، امریکی معاشرہ تو ابھی زندہ ہے، جونہی ویڈیو وائرل ہوئی وہاں پر غم و غصہ کا طوفان برپا ہوگیا، پورا امریکہ اس واقعے کے بعد سڑکوں پر تھا اور ہے، یہ وہی معاشرہ ہے جب ٹرمپ نے سات اسلامی ملکوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کیں تو امریکہ میں ایک طوفان برپا ہو گیا، احتجاج ہوا، وکلاء نے لوگوں کے مفت کیس لڑے، اور سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اس قدم کو کالعدم قرار دے دیا۔ آخری جیت قانون اور آئین کی ہی ہوئی۔

لیکن ہمارے وطن اور معاشرے میں یہ نسلی منافرت، اونچ نیچ، ذات پات نہ صرف بین المذاہب موجود ہے بلکہ خود ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں پر ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ وہ کام مخصوص کر دیے گئے ہیں، جنہیں مذہبی اکثریت نیچ کام سمجھتی ہے، کوڑا کرکٹ اٹھانا، گٹر کھولنا، نالیوں کی صفائی غرض کہ ہر کام جو کہ غلیظ اور گندا سمجھا جاتا ہے وہ ان کے سر تھوپ دیا گیا ہے ، اور پھر اسے گالی بھی بنا دیا ہے حتیٰ کہ ہمارے تو اخباروں میں بھی کچھ اس طرح کے اشتہارات حکومت کی طرف سے چھپتے ہیں کہ خاکروب درکار ہیں صرف خاص مذہب کے لوگ اس نوکری کے لیے درخواست دیں، صرف یہی نہیں ہمارے ہاں تو غیر مسلموں کو ناپاک بھی تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے فتاویٰ جا بجا پائے جاتے ہیں کہ اگر کوئی مشرک آپ سے تر ہاتھوں سے مصافحہ کر لے تو آپ ناپاک ہو جاتے ہیں، آپ پر ہاتھ دھونا فرض ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذات پات کی تقسیم مذہب کے اندر بھی پائی جاتی ہے، گاؤں دیہات میں تو یہ غیر انسانی تقسیم بہت ہی واضح، گہری، نمایاں اور خوف ناک ہے، اور اس کو قابل قبول اور بلا حیل و حجت تسلیم کروانے کے لیے مذہب کا جواز بھی تراشا جاتا ہے۔

Read more

لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔

اس وقت جب تم اپنے گلاس میں اسکاچ انڈیلتے ہو،
کاکروچ مارتے ہو
یا اپنی گھڑی دیکھتے ہو
جب تم اپنی ٹائی درست کرتے ہو۔ ۔ ۔ لوگ مر رہے ہیں
یہاں مرنے کی مہلت بھی نہیں دی جاتی
۔ ۔ مگر لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔ اس وقت جب تم تغافل اور ضبط نفس وغیرہ
کے نئے پیغمبروں کا انتخاب کر رہے ہو۔ ۔ ۔
لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔
(جوزف براڈسکی A Tune for Bosnia )

مردہ لاشوں کے درمیان حیران، روتے بچے کو کس نے جواب دیا تھا، کہ یہاں انسان نہیں رہتے۔ بچے نے انسان کا مطلب بھی کب سمجھا

Read more

مجسمے گرانے والے انقلابی – مکمل کالم

تین سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں۔ پہلا۔ کیا اخلاقی اقدار کا کوئی ایسا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے جو آفاقی ہو اور جس پر کُل عالم کا اتفاق ہو جائے؟ دوسرا۔ کیا آج کے دور میں ایسی شخصیات کے مجسمے گرانا درست اقدام ہے جنہوں نے اپنے وقت میں غلامی اور نسل پرستی کو غلط سمجھنے کی بجائے الٹا اس کی ترویج کی ہو؟ اور تیسرا۔ کیا گوشت کے بغیر کریلے، شلجم اور بھنڈی کو اتنا خوش ذائقہ بنایا

Read more

ڈاکٹر قدیر خان نے کیا راز فاش کر دیا؟

17اگست 1988 کے بعد 12 اکتوبر 1999 کا خوانِ نعمت گیارہ برس کی تشنگی بجھا چکا تھا۔ وزیر اعظم اپنی حکومت سمیت لقمہ تر بن چکا تھا۔ اگلے برس 2000 کے آغاز میں خوئے شکار نے انگڑائی لی تو اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے لئے پی سی او کا ہانکا لگایا گیا۔ چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت متعدد خودسر ججوں کا لہو دلوں کو گرما گیا۔ اب 2001 گزرا جا رہا تھا اور شکار گاہ سونی پڑی تھی۔

Read more

چینی صدر شی جن پنگ کا اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم

انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے انتہائی خراب صورت حال کے پیش نظر اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے اور ملک کی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے کہا ہے

دنیا بھر میں کہیں بھی جب کبھی عالمی طاقتوں میں کوئی بھی کشیدگی کا شکار ہوتی ہے تو سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر تیسری عالمی جنگ سے متعلق ٹرینڈ ضرور چلتا ہے۔

Read more

اداکار سوشانت سنگھ کی موت: معروف شخصیات کی موت کو تماشہ کیوں بنا دیتا ہے میڈیا؟

جس ٹیلی ویژن نے انھیں سٹار بنایا تھا، کامیابی دی تھی اب وہی ان کو مار رہا ہے۔ پچھلے کچھ گھنٹوں سے انھیں بار بار ٹی وی سکرین پر مارا جا رہا ہے۔ اس مضمون کو تحریر کرتے وقت بھی وہ لوگ اسی کام میں مصروف تھے۔ ان کی زندگی، ان کے کام، رشتے اور یہاں تک کہ ان کی خود کشی کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جارہا تھا۔ ہر ایک چیز کی بخیہ گری ہو رہی تھی۔

Read more

نجی سکولوں کے اساتذہ کو بے یار و مددگار مت چھوڑیں

کرونا کی وبا نے جس طرح دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ وہ ایک بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں بیماری کی وجہ سے اموات میں اضافے نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تو دوسری طرف بے روزگاری جیسے مسائل نے سر اٹھالیا ہے جنھوں نے مرے کو مارے شاہ مدار کی مصداق زندگی دشوار کردی ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف مایوسی بلکہ بہت نفسیاتی بیماریوں کو بھی جنم دیا ہے۔ حالات کی سنگینی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ہر روز کرونا کے باعث بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد آنے والے دن میں امید کی بجائے نا امیدی کا شکار کر رہی ہے۔

روز گار نہ ہونے کے سبب سب سے زیادہ متاثر یا تو روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ ہیں جس پھر نجی اسکول کے اساتذہ جو نہ صرف یہ کہ بعض اسکولوں سے نکالے جانے کے بعد روزگار کے لیے پریشان اور پھر چپس کا ٹھیلا لگائے اپنی تعلیمی صلاحیت کو چپس بیچنے پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ محنت میں کوئی عار نہیں لیکن کیا اس شخص نے اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال اور سرمایہ خرچ کر کے تعلیم اس لیے حاصل کی کہ وہ بہ جائے اس کے اپنی ذہانت اور قابلیت سے ان بچوں کی رہنمائی کرے۔ ابھی ایسی صرف ایک مثال سامنے آئی ہے۔ نہ جانے آنے والا وقت ایسے کتنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس طرح سڑکوں پر لے آئے گا۔

Read more

’’حفیظ شیخ کے بجٹ ‘‘ پر خواجہ آصف کا طیش

خواجہ آصف صاحب جب طیش میں آجائیں تو رونق لگادیتے ہیں۔پیر کی سہ پہر گزشتہ ہفتے حماد اظہر کی جانب سے پڑھی آئندہ مالیاتی سال کے لئے ڈاکٹر حفیظ شیخ کی تیارکردہ مالیاتی تجاویز پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز ہوا۔اس بحث کا آغاز ہمیشہ قائد حزب اختلاف کرتے ہیں۔شہباز شریف صاحب مگر کرونا کی زد میں آنے کی وجہ سے ان دنوں خود کو گھرمیں بند کئے بیٹھے ہیں۔خداانہیں جلد شفایابی عطا فرمائے۔ ان کی عدم موجودگی میں

Read more

بابو گوپی ناتھ ڈاکٹرائن اور کرنل صاحب کی پنشن

ادب اور تاریخ میں کیا فرق ہے؟ تاریخ گزری ہوئی حکایت ہے۔ اس کا انجام معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ابھی تک سانس لے رہے ہیں تو تاریخ کے کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ ادب ایک فتنہ پرور ہنر ہے۔ لکھنے والا نامعلوم کو معلوم میں اس طور ملا دیتا ہے کہ ماضی کے حادثے اور حال کے اندیشے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ پڑھنے والا اپنی ذات سمیت ایک ایسی

Read more

ابلیس کا گیم چینجر فیصلہ

اور پھر ایک مناسب سا پڑھا لکھا آدمی جو دنیا کے ہر مسئلے پر قطعی رائے رکھتا ہے۔
چوبیس میں سے تئیس گھنٹے کامن سینس برتتا ہے، میرے آپ کے چھوٹے موٹے گھریلو، معاشی، طبی، اخلاقی مسائل کا جھٹ سے تیر بہدف ٹوٹکا علاج یا معقول حل تجویز کر دیتا ہے۔ مگر جب اپنی یا اپنے پیاروں کی جان بچانے کا سوال آتا ہے تب اس کی کامن سینس جو میرے مسائل کے حل کے لیے ٹکے سیر دستیاب ہے جانے کہاں گھاس چرنے چلی جاتی ہے اور تب ہی پلٹتی ہے جب اس کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی۔

وہی آدمی جو مجھے ہر وقت سمجھاتا ہے کہ ڈاکٹر سے پوچھے بغیر دوا ڈائریکٹ میڈیکل اسٹور سے نہیں لینی چاہیے۔ یہ میڈیکل اسٹور والے دس میں سے آٹھ بار تو صحیح دوا دے دیں گے مگر پھر کوئی ایسی دوا تھما دیں گے کہ آپ الٹ کے رہ جاؤ گے اور جب تک آپ کو کوئی ڈاکٹر سیدھا کرے بات ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔
اب اسی افلاطون کا بڑا بیٹا بخار سے پھنک رہا ہے، قوت ذائقہ و شامہ جواب دے چکی ہیں۔ سانس بلا رکاوٹ نہیں آ پا رہا۔ مگر صاحبزادے کو اسپتال لے جا کر معائنہ کرانے پر تیار نہیں۔

Read more

جاہلوں اور ان کی حکومت میں ایک سیانا، ندیم افضل چن

ڈاکٹر یاسمین راشد فرماتی ہیں ’ہمارا موازنہ باہر کے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔ وہ تو بالکل کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور ہر چیز کو بطور تماشا دیکھتے ہیں جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ ۔ ۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’بتائیے یہ کوئی بات ہے کہنے والی، ہم کس طرح کے لوگ ہیں۔ ۔ ۔ بالکل جہالت۔ میں تو کہتی ہوں شاید کم ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔‘

پیر کی رات شو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا ’ہم نے لوگوں کو سمجھانے اور بتانے کی پوری کوشش کر لی کہ شاید سوا مہینے کے اندر عوام ہماری کوئی بات سن لے لیکن اب ہم نے دوبارہ اپنے اوپر ذمہ داری لے لی ہے۔ ۔ ۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ تحریک انصاف نے کہا ہے ماسک پہننا ہے اس لیے ہم نہیں پہنیں گے۔ ۔ ۔‘

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی کابینہ ابھی یکم اپریل کو مریخ سے اتری ہے جو انہیں اپنے عوام کا نہیں پتہ؟ اپنے عوام کو نہیں جانتے تو یہ کیسے سیاست دان ہیں۔ پھر تو ان سے بہت بہتر ندیم افضل چن ہیں، جو کرونا پھوٹنے سے پہلے ہی عوامی زبان میں مختیارے کو معاملات کی سنگینی سمجھا رہے تھے۔

Read more

نفرت پھیلانے والی مشینیں بند کیجیے

ان نام نہاد علماء کا کچھ کرنا پڑے گا، ان کے جملوں سے اب خوشبو نہیں بدبو آتی ہے، ان کا علم معاشرے میں انتشار کا باعث بن رہا ہے یہ وہ گفتگو بھی بے دھڑک کر جاتے ہیں جو ملک کا وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی نہیں کر سکتا، اخلاقی پستی میں بھی یہ طبقہ سب سے زیادہ گرا ہوا طبقہ ہے، اب یہ کہا جائے گا کہ سارئے علماء تو ایک جیسے نہیں ہوتے بس دو چار

Read more

عمومی حکومتی و عوامی رویے اور موجودہ صورتحال

پاکستان کی حد تک تو یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ یہاں سیاست عوامی فلاح کے امور سے یکسر الگ ہے۔ اس کی بنیاد شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور حصول کو یقینی بنانے کی بجائے مخالفوں سے نفرت میں پنہاں ہے۔ اور شاید اسی لئے یہاں ریاستی مسند تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مخالف سیاستدانوں کو لتاڑنے کا نسخہ نہایت کارآمد اور آزمودہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب نئی حکومت تشکیل پاتی ہے تو عوام حکومت

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی بات کا سیاق و سباق سمجھنا چاہئے: حامد میر

معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا لاہوریوں سے متعلق بیان ایک خاص پس منظر میں ہے اور ہمیں اس پر بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے الفاظ کے چناﺅ میں احتیاط نہیں برتی لیکن مجموعی طور پر وہ یہ بات کر رہی ہیں کہ موت ہمارے سامنے کھڑی ہے اور ہم سمجھ نہیں رہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان کا ایک خاص پس

Read more

کورونا اپنے پیچھے کیا چھوڑ جائے گا؟

ہم میں سے ہر آدمی موجودہ صورتحال کی وجہ سے پریشان ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ وبا کے پھیلاؤ کے سبب پریشان ہیں اور باقی معاشی حالات کی بے یقینی کے سبب الجھن کا شکار ہیں۔ اس دوران قدرتی ماحول ہم سے بے نیاز، اپنے بناؤ سنگھار میں مصروف نظر آتا ہے۔ فضا میں آلودگی کا تناسب گھٹ رہا ہے، شور اور دھویں میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سماجی فاصلے، بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک

Read more

کرونا وائرس: ہم اور ہماری بے حسی

جی ہاں بالکل چائنا میں کورونا چمگادڑ کھانے کی وجہ سے آیا، امریکہ میں اس عذاب کی وجہ امریکہ کا مسلم ممالک پر کیے جانے والا ظلم تھا، انڈیا اس موذی مرض کا شکار کشمیریوں پر جاری بربریت کی وجہ سے ہوا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جناب ہم تو مسلمان ہیں الحمدللہ نہ ہم نے چمگادڑ کھائے نہ ہی پاکستان نے دوسرے ممالک پر ایٹمی ہتھیار چلائے، نہ ہی کشمیر یا کسی اور ملک پر مظالم ڈھائے۔

Read more

ہمیں اقلیتوں کی خبروں میں کوئی دلچسپی نہیں

ویسے تو سوشل میڈیا کی حیثیت تمام فکری نظریات کو آزادانہ اور بغیر کسی رقم کی ادائیگی کے پیش کرنے والے ایک اسٹیج کی سی ہے۔ جہاں ہر شخص مفکر، ادیب، خبررساں سے لے کر تجزیہ نگار دانشور اور نہ جانے کیا کیا بنا ہوا ہے۔ لیکن پاکستانی سوشل میڈیا کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ جہاں روز ایک نیا تماشا ٹرینڈ یا ہیش ٹیگ کی صورت میں آپ کو اپنا منتظر ملے گا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا سے

Read more

کورونا وائرس: ڈیکسامیتھازون زندگی بچانے والی پہلی دوا ثابت ہوگئی

کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈز دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔ یہ دوا عالمی پیمانے پر جاری علاج کی اس بڑی آزمائش کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مروجہ ادویات میں سے کورونا وائرس کے خلاف کوئی

Read more

ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں

ایک طرف تو دنیا کرونا کی وبا کی زد میں ہے اور نحوست اور مایوسی کے سائے دن بدن گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ سمیت پوری دنیا میں جارج فلائڈ کی موت سے اٹھنے والی اک لہر ہے جو آسٹریلیا تک آ پہنچی ہے۔ ملبورن میں منظم احتجاج کا یہ دوسرا ہفتہ ہے اور دو نوجوان لڑکیوں نے سڈنی شہر میں آسٹریلیا کو دریافت کرنے والے کیپٹن جیمز کک کے مجسمے پر سپرے کر

Read more

انڈیا میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن: وزیر اعظم نریندر مودی کے خط پر مزدوروں کا جواب

انڈیا میں کورونا کی وبا پھیلی ہی تھی اور جیسے ہی اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے رات و رات ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ایک بڑا المیہ سامنے آیا۔ وہ یہ کہ اپنے گھروں سے دور مزدور واپسی کا راستہ کیسے طے کریں گے۔ اس سفر کے دوران پیدل چلتے، سائیکل چلاتے، اور بسوں اور ٹرکوں میں سوار ہونے کے لیے جدوجہد کرنے والے مزدوروں کی تصاویر طویل عرصے تک لوگوں کے دل و

Read more

فدا محمد ناشاد اور مرثیہ نگاری

” متاع فکر“ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس میں گم ہوں۔ مرثیہ ہے ”مدینہ سے کربلا تک“ مسدس کا وھی کرافٹ، الفاظ کے چناؤ میں وھی شائستگی اور احتیاط، عقیدت کا وھی انداز، وھی حفظ مراتب کا خیال جو کلاسیکل شعراء کے ہاں مستعمل ہیں اور پھر کربلا کی وھی دردناک داستان جس کے پڑھنے سے جگر لخت لخت ہو جاتا ہے۔ اردو میں لکھے گئے اس مرثیے میں سلاست، طرزبیاں اور فکری روایت مجھے میر ببر علی

Read more

کچھ مزید باتیں جون ایلیا کی

وہ شام جون ایلیا کے نام تھی اور آب حیات پینے کے بعد جون نے حیات نو پالی تھی۔ اس کے منحنی لاغر چہرے پر تمازت آ گئی تھی۔ موسم اگرچہ گرم تھا مگر اس شام ہلکی آندھی آئی تھی جو مشاعرہ شروع ہونے تک متوازن قسم کی ہوا میں بدل چکی تھی۔ مشاعرے کے لئے کالج کے وسیع لان میں فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ چاروں طرف پنکھے لگائے گئے تھے۔ کالج کے اردگرد کی زمین ریتلے ٹیلوں پر

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان پر سوشل میڈیا پر سخت ردِ عمل: ’یاسمین صاحبہ! اگر ہم لاہوری جاہل ہیں تو آپ بھی اسی قوم سے ہیں‘

پاکستانی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بحث کے دوران معاملات اکثر ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور حکومتی وزرا اور مشیروں کے منھ سے کوئی نہ کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کے بعد عوامی ردِ عمل کے نتیجے میں کئی بار تو انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیر کی رات نجی ٹی وی کے پروگرام میں پیش آیا جس نے سوشل میڈیا پر ایک نہ ختم ہونے والی

Read more

میری شناخت اور اساس

میں اپنی شناخت کی تلاش میں ہوں، آپ کو ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ میرا ملک 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس دن سے اب تک میری شناخت اور اساس کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔ میرے دانشوروں اور سیاست دانوں کے مطابق میری شناخت کے تانے بانے جناب فاتح سندھ محمد بن قاسم سے ملتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے عرب بھائیوں سے تعلق جوڑنے لگتا ہوں تو وہ مجھے اپنانے سے مکمل انکار کرتے ہیں

Read more

حالیہ بجٹ اور ناامیدی

ریاست مدینہ میں مدینہ کی ریاست کا کوئی اصول اب تک نظر نہ آ سکا۔ جہاں انصار اور مہاجر کو ایک دوسرے کا بھائی بنا کر نہ صرف معاشی اسباب سے تقویت دی گئی بلکہ معاشرتی طور سے بھی اس بھائی چارے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ موجودہ حکومت سے عوام بے حد مایوس ہو چکی ہے یہ مایوسی نا امیدی میں تب تبدیل ہوئی جب رواں سال کا بجٹ پیش ہوا۔ اس بجٹ سے جہاں عوام کی امیدیں وابستہ

Read more

شہر مر رہا ہے

ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ اس کا اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا تب بھی ڈاکٹر کے ذہن میں اس کا عکس کئی دہائیوں قبل کا تھا؛ پیچھے کو سنوارے بال، ذہانت کا اظہار کرتی گہری آنکھیں، کالے فریم کی عینک لگائے مسکراتا جوان چہرہ جس پر بچپن کی کسی شرارت کی

Read more

سوشانت سنگھ کی موت، بالی وڈ کی اقربا پروری پر سوشل میڈیا منقسم

سوشانت سنگھ اداکارہ بھومی پڈنیکر کے ساتھ انڈیا میں بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی جواں سال خودکشی نے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بحث نے بالی وڈ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور یہ مباحثہ جاری ہے کہ بالی وڈ میں بظاہر دو خیمے ‘باہر والے’ اور ‘اندر والے’ ہیں۔ بہت سے صارفین نے بالی وڈ میں پھیلی اقربا پروری کو سوشانت سنگھ کی خود کشی کی وجہ قرار دیا ہے جبکہ بعض نے

Read more

عوام دوست بجٹ 2020ء

وفاقی حکومت نے 12 جون کو اپنا دوسرا سالانہ ”عوام دوست“ بجٹ پیش کر دیا جس کا حجم 60,295 ارب روپے رکھا گیا ہے اور حسب معمول ایوان میں اپوزیشن جماعتوں نے بینرز اٹھا کر احتجاج ریکارڈ کروایا کہ یہ بجٹ عوام دوست ہونے کی بجائے عوام دشمن ہے۔ سوشل میڈیا سمیت دیگر ابلاغ کے ذرائع پر جن موضوعات کو سب سے زیادہ تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ تعلیم اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ ہے۔ ہر

Read more

ہم جیسی باشعور اور سمجھدار قوم کوئی نہیں

اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ پاکستان جیسی باشعور اور سمجھدار قوم خدا نے روئے ارض پر نہ پہلے پیدا کی نہ قیامت تک ایسی سمجدار اور احتیاط کرنے والی قوم پیدا ہونے کا امکان ہے۔ جو ہم نے کیا ہے اور کر دکھایا یے دنیا حیران ہے۔ شروع شروع میں جب کرونا وائرس چین سے شروع ہوا تو ہرعقل و شعور رکھنے والے نے تسلیم کر لیا تھا کہ چونکہ چینی بہن بھائی حرام حلال میں تمیز کیے بغیر

Read more

سزائے موت کا منتظر ناکردہ جرم

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کال کوٹھڑی میں محصور ہوئے سزائے موت کے منتظر کسی قیدی کے کیا احساسات ہوتے ہوں گے؟ وہ کیا سوچتا ہو گا؟ اس کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے۔ آنے والا وقت کا تصور کیسے اس کو گہن کی طرح چاٹتا ہو گا۔ کیسے اس کی صحت روز بروز گرتی جاتی ہو گی۔ عام طور پر ہر ملزم اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتا ہے لیکن کوئی ایسا مجرم جس کو

Read more

سشانت کی موت

موت ایک اسرار ہے ایک بھید ہے ایک چھپی ہوئی چیز ہے کوئی پتہ نہیں کہ موت کے پردے کے پیچھے کیا چھپا ہے ایک اندھیرا ہے جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں موت ایک ایسی حقیقت ہے جیتے جی جس سے آنکھیں چار نہیں ہو سکتی موت کا راز پانے کے لئے مرنابہت ضروری ہے۔ کوئی آج مرا کوئی کل مرا ہر کسی نے ایک دن دنیا کے اس عارضی ٹھکانے سے کوچ کرنا ہے سانسیں جو ہم لکھوا کر

Read more

14 جون: خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن

14 جون کا دن خون کا عطیہ دینے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی تو خون بہانے کے علاوہ پریمی کو ”اصیل عاشق“ ہی نہیں مانتے۔ وہ خون، جو زندگی کی علامت ہے۔ ۔ ۔ جو جب تک رگوں میں دوڑتا ہے، ان کو رباب بنائے رکھتا ہے، تو زندگی بولتی ہے۔ ۔ ۔ گاتی ہے۔ ۔ ۔ رنگ بکھیرتی ہے اور ایسی ہلچل مچائے رکھتی ہے، کہ عرش والے بھی حیرت

Read more

تعلیم کا حصول اور قوموں کی ترقی

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم صرف ذریعہ معاش کے لئے ہی نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کے لئے بھی ایک اہم اور بنیادی جزو کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ Covid 19 سے جہاں دنیا بھر کی دیگر سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں وہاں تعلیم کے شعبے کو بھی بے انتہا چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر طبقہ طالب علم ہیں، جنہیں اس عالمی وبا کی وجہ سے بے انتہا مشکلات درپیش ہیں۔ ۔ ۔ دنیا میں تمام

Read more

کووڈ-19 (COVID-19) سے کیا مراد ہے

میرے سمیت ہر عام شخص ہمیشہ اس کشمکش میں مبتلا رہتا ہے کہ مختلف وائرس اور بیماریوں کے مختلف نام کس بنیاد پر اور کیسے رکھے جاتے ہیں۔ آئیے اس پر کچھ حد تک روشنی ڈالنے اور سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ صرف بیماریوں کے نام جانتے ہیں جبکہ وائرس یا کسی اور جراثیم مسلاً بیکٹیریا وغیرہ کے نام سے واقف نہیں ہوتے۔ ان کے نام رکھنے کے پیچھے بہت سارے عوامل اور مقاصد کار فرما ہوتے

Read more

ڈرائیو اِن سینما: ایک متبادل تفریحی اور کاروباری ذریعہ

گزشتہ دنوں ایک یورپی ملک میں ڈرائیو ان سینما اور وہاں فلم کی نمائش کے بارے میں مضمون پڑھا تو خیال آیا کہ پاکستان میں بھی کرونا کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں جبکہ نارمل اور روایتی سینما ز بند پڑ ے ہیں، تو ڈرائیو ان سینما تفریح اور کاروبار کا ایک متبادل اور موثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس وقت کئی بڑے فلم سازوں اور تقسیم کاروں نے نہ صرف فلموں کے شوٹس بلکہ ان کی ریلیز بھی

Read more

نیم حکیم خطرہ جان

ایک بادشاہ تھا اس نے اپنی سلطنت میں ایک جاہلانہ نظام یہ بنا رکھا تھا کہ جب کوئی بادشاہ مرے تو اگلی صبح جو پہلا شخص محل میں داخل ہو اسے پکڑو اور ملک کا سربراہ بنا دو۔ چنانچہ جب اس بادشاہ کا انتقال ہوا تو محل میں تعزیت میں آنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کھانے پکانے کے انتظامات کیے جانے لگے اور ایک باورچی کو بلایا گیا۔ اگلی صبح سب سے پہلے وہ باورچی محل پہنچ

Read more

گجرات کے فسادات سے دہلی کے چکلے تک

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا لا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے

Read more

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی مشین بتا رہی ہے کہ ابھی جتنا اندازہ تھا اتنا نقصان نہیں ہوا۔ پھر یہی مشین دکھا رہی ہے کہ اندازہ تھا کہ اتنا نقصان ہو گا۔۔۔ مشین کے سینے میں دل کہاں، مشین تو مشین ہے، نہ سانس لیتی ہے نہ جذبات ہیں نہ احساسات، نہ ہی خدشات۔ مشین بے حس ہوتی ہے، بے پرواہ اور بے نیاز ہوتی ہے۔ مشین کو کیا پتہ کہ عمر گزار دینے کے باوجود ماں باپ

Read more

خوش آدمی

تخلیق۔۔۔ سومرسٹ ماہم / ترجمہ۔۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنا کتنا خطرناک کام ہے۔ میں نے اکثرسیاستدانوں ’فلاحی کارکنوں اور اسی قسم کے دوسرے لوگوں کی خود اعتمادی کو حیرانی کی نگاہ سے دیکھا ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنی عادت و اطوار‘ نظریات اور طرز زندگی بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچتے ہوئے غیروں کو نصیحت کرنے سے احتراز کیا ہے کہ جب انسان دوسرے انسان کو اپنی ذات کی طرح

Read more

یقین اور بے یقینی میں کورونا کہانیاں

میں ٹیلی فون پر ہمیشہ سے مختصر گفتگو کا عادی رہا ہوں۔ خود کو تاریخ ساز ’’انقلابیوں‘‘ میں کبھی شمار ہی نہیں کیا۔ ہمیشہ یہ اطمینان رہا کہ ممکنہ ’’تخریب کاروں‘‘ پر نگاہ رکھنے والوں کو میرا ٹیلی فون سننے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ 90کی دہائی میں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں برطرف ہوئیں تو ان کے خلاف الزام یہ بھی لگا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین اور ناقد صحافیوں کے ٹیلی فون

Read more

کورونا وائرس: پاکستانی میڈیا ورکرز وبا سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے تحفظ کے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں سے وابستہ ملازمین بھی کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چند رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مختلف چینلز کی انتظامیہ کی جانب سے ایسے ملازمین کو بھی دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے مجبور کیا جا رہا جن میں پہلے ہی کورونا کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں یا ان کی رپورٹس مثبت آ چکی ہیں۔ تاہم نجی چینلز کی انتظامیہ

Read more

معیشت اور بجٹ 2021 ایک بے ضرر تجزیہ

ہمارے ہاں ہر شخص ہر بات کا ماہر ہی نہیں بلکہ ماہروں کا بھی استاد ہے اور معیشت کو بھی اس سے استثنا حاصل نہیں۔ ہر کس و ناکس معیشت پر اور ہر سال بجٹ پر ایسے محکم یقین کے ساتھ تقریریں کرتا ہے کہ ہم جیسے جو اپنی پڑھائی اور نوکری کی وجہ سے معیشت اور بجٹ کو کچھ کچھ سمجھتے ہیں چپ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کچھ عرصے سے لوگ جی ڈی پی اور افراط زر کا گراف لگا کر حکومت کو کوسنے دیے جا رہے ہیں۔ جی ڈی پی اور افراط زر معیشت کے ان اہم مضامین میں سے ہیں جن پر ہزار ہا قسم کی تھیوریز ہیں اور باقی مضامین کی طرح یہ بھی ایک موضوعی باتیں ہیں جو کہ ہر بندے کی سمجھ کے حساب سے مختلف معنی رکھتی ہیں۔

Read more

معاشی وبا اور آئی ایم ایف کی بے اثر دوا

وفاقی بجٹ پیش کئے جانے سے ایک روز قبل 11 جون کو عالمی مالیاتی اداروں کے کارندے اور پاکستان کی تبدیلی سرکار کے مشیر خزانہ محترم حفیظ شیخ نے با جماعت پریس کانفرنس کی۔ خیال تھا کہ وہ ملکی معیشت کی قبل از اور مابعد کرونا صورتحال اور معیشت کے متعلق مختلف گوشوں کے متعلق اپنی ماہرانہ رائے اور حکومتی پالیسی کے معاشی خدوخال کی وضاحت فرمائیں گے بلاشبہ جناب حفیظ شیخ اپنے سبجیکٹ (سرمایہ دارانہ استحصال) کے تمام رموز

Read more

”ٹیکس فری“ یا ”غریب فری“ بجٹ

قارئین کرام! پچھلے برس بجٹ پر اپنے ادنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کسی شاعر کی مانند محبوب کی یاد میں کھونا پڑا تھا بلکہ راقم کو خشک پتوں کی مانند اسلام آباد کی سڑکوں پر بکھرنا بھی پڑا تھا۔ امسال ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔ نا تو کسی اردو دان کی لکھی ہوئی بجٹ تقریر تھی اور نا ہی حالیہ بجٹ کی تیاری میں کسی ماہر غذائیت کی خدمات لی گئیں۔ نا تو ریاست مدینہ ثانی کا ذکر اور نا ہی ٹیکس کی منصوبہ سازی۔ پس یہ ثابت ہوا کہ بجٹ 2020۔ 21 سابقہ ادوار میں پیش ہونے والے بجٹ میزانیوں / تخمینوں سے بالکل مختلف ٹھہرا نا تو الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور نا ہی ٹیکس کا گورکھ دھندہ۔ فقط تبدیلی زدہ حکومت کا اک تبدیلی زدہ بجٹ۔ جو گردان تھی ٹیکس فری ’ٹیکس فری اور ٹیکس فری کی۔

Read more

پاکستان میں کرونا ایک منافع بخش بزنس کی شکل اختیار کر گیا ذمہ دار کون؟

کرونا نامی وبا جو موت کے پنجہ گاڑے ہر ذی روح کو نگلنے کے لئے تیار ہے۔ ایک وبائی مرض جو دیکھتے ہی دیکھتے ان چند ماہ میں ساری دنیا کی معیشت برباد کر گیا اور جہاں ساری دنیا اس وبائی مرض کے ہاتھوں بے بس دکھائی دی وہاں پاکستانی قوم نے یہاں بھی اپنے کاروباری دماغ کا خوب استعمال کیا اور جان کی پرواہ کیے بنا صرف ایک کوشش جاری رکھی کہ اس بیماری کو بھی آمدنی کا ذریعہ

Read more

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

کرونا کی عالمی وبائی پھوٹ کے بعد سے لے کر آج تک زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کی طرح انسانی نفسیات بھی اس وبا کے زیر تسلط ہیں۔ بھارت میں گائے کا پیشاب پینے سے لے کر پاکستان میں چھتوں پر بے وقت اذانیں دینے تک اور افریقہ میں قبرستانوں کے اندر چیخ چیخ کر رونے سے لے کر امریکی چرچ کے زنگ آلود تالے کو رو رو کر کھولنے تک سب کچھ ہوا لیکن یہ سب کر کے کوئی بھی وائرس سے نمٹنے کے لئے ویکسین نہیں بنا پایا۔ اب چونکہ اس بیماری کا موجب ایک مخصوص وائرس ہے اور وائرس سے جان چھڑانے کے لئے ویکسین بنانے کی ضرورت ہے جس پر ہمارے سائنسدان پوری آب و تاب کے ساتھ لگے ہوئے ہیں لیکن جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی تب تک ہم اپنے اطمینان کے لئے دعا اور احتیاط کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرنے کے باوجود ہم بطور معاشرہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنا خالص ہمارے احتیاط کے رحم و کرم پر ہے۔

کرونا کی وبا عالمی ہے اور اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ وبا ایک بڑے حد تک انسان کے نفسیات پر سوار ہو چکی ہے۔ ایک لحاظ

Read more

بنیادی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا

کرونا کے بحران میں جو شعبہ سب سے زیادہ برے طریقے سے سامنے آیا وہ ریاستی و حکومتی تناظر میں صحت کا شعبہ ہے۔ صحت کا شعبہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جو ریاست اور حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتاہے۔ لیکن ریاست اور ماضی یا حال کی تمام حکومتوں نے شعبہ صحت کے ساتھ جو سلوک کیا وہ آج ہم بنیادی طور پر ایک بڑے جرم کے طور بھگت بھی رہے ہیں۔ اس وقت کرونا کے بحران کے تناظر میں جو حالات ہمارے ہسپتالوں اور ا س میں موجود سہولتوں کی ہے یا جو ڈاکٹرز سمیت دیگر عملہ وہاں خدمات انجام دے رہا ہے ان کو جو شدید مشکلات کا سامنا ہے وہ کافی تکلیف دہ امر ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ جو لوگ بھی کسی مرض کی بنیاد پر سرکاری ہسپتالوں کی طرف رخ کر رہے ہیں ان کے لیے کوئی بڑی جگہ ہی موجود نہیں۔ خاص طور پر وینٹی لیٹرز کی کمی کے بحران نے کئی لوگوں کو زندگی سے موت کی طرف دھکیلا ہے۔

اس وقت ہر بندہ کسی نہ کسی بڑی سفارش کی تلاش میں نظر آتا ہے کہ کوئی اسے یا اس کے خاندان کے فرد کو ہسپتال داخل کروا دے یا

Read more

آپ کی خیریت نیک مطلوب ”چاہتا“ ہوں

گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے میرے کزن نے جو کہ میرا دوست بھی ہے، چند دن پرانا اخبار میرے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ کالم پڑھو۔ میں نے کالم پر ایک نظر ڈالی اور اخبار فوراً پچھلی سیٹ پر یہ کہہ کر پھینک دیا کہ یہ کالم میں پہلے ہی پڑھ چکا ہوں جس میں کالم نویس نے ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور دوائیوں کے خرچوں سے بچنے کے لیے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم کھانا کھائیں تاکہ وہ بیشتر بیماریوں سے بچ سکیں۔ میرا کزن کچھ دیر خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا۔

Read more

ہم پاکستانی

کہتے ہیں کہ ایوب خان کے دور حکومت ( 1958 ء تا 1969 ء) میں پاکستان ترقی کی راہ پر خوب گامزن تھا۔ ایسی ترقی جس کا راز جاننے کے لئے آج کل کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیے جانے والے ممالک ملایشیا، تھائی لینڈ اور چائنا وغیرہ کے سرکاری وفود آیا کرتے، وہ ایوب خان کے متعارف کردہ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ سازی اور انفراسٹرکچر کے معلومات اکٹھی کر کے اپنے ملک میں ایسی ہی ترقی کی خواہش لئے واپس تشریف لے جاتے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس عشرے کو ”عظیم عشرے“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

Read more

امریکہ میں درد کش ادویات کا استعمال اور موت کی وبا۔ کیوں اور کیسے؟

کچھ سالوں قبل میڈیا میں ایک سنسنی خیز تصویر بڑی وائرل ہوئی جس میں کار کی اگلی سیٹ پہ نیم مردہ والدین بیہوش حالت میں پڑے تھے اور ان کا چار سالہ بچہ خوفزدہ حالت میں پچھلی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ اس کے والدین ہیروئن اوور ڈوز (overdose) کا شکار ہوئے تھے۔ یہی نہیں اس وقت امریکہ جیسے خوشحال ملک میں قانونی اور غیر قانونی درد کش ادویات سے مرنے والوں کی کہانیوں کا دفتر سا کھل گیا۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق 2018 میں 128 روزانہ اموات محض ڈرگ اوور ڈوز کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔

Read more

گورنر پنجاب: از کار رفتہ پارسائی یا دیوانہ بکار خویش ہوشیار

موم کی ناک میں تو پھر کچھ مزاحمت ہوسکتی ہے لیکن وطن عزیز میں مذہب پر اتنے تجربے کئے جا چکے کہ یہ سیال مادے کی طرح ہر برتن میں، ہر من چاہی شکل میں سما جاتا ہے۔ شاید مذہب فروشی ہے ہی اتنی آسان کہ جب چاہا مذہب کو اپنے مقصد کے لئے ڈھال بنا لیا، جب چاہا تلوار۔ شب موم کر لیا، سحر پتھر بنا لیا۔ مذہب کے نام پہ ظالم بھی بن گئے، مظلوم بھی۔ کسی سے

Read more

سوشانت سنگھ راجپوت کی موت اور ہمارے جنازہ خوار

یقیناً یہ سال ہندی سینما اور مداحوں سمیت دنیا بھر کے فلم بینوں کے لئے نہایت ہی افسردہ اور غم کا سال ہے۔ جہاں اس سال نے عرفان خان، رشی کپور اور واجد خان جیسے سورج کی طرح روشن ناموں کو بجھا دیا وہی سوشانت سنگھ راجپوت جیسے ہر فن مولا اور محنتی اداکار کو اپنے چاہنے والوں سے الگ کر دیا۔ انہوں نے 21 اگست 1986 کو انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں آنکھ کھولی اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے خواب کی تکمیل کے لیے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

Read more

نیک دلی کا بحران اور واٹس ایپ کا دکھ

واٹس ایپ میں فجر کے آغاز سے ہی ریٹائرڈ فوجی، باریش ڈی ایم جی والے افسروں، رمضان عمرے کے بوجھ سے سرشار سود خور، لوٹ مار کو منافع سمجھنے والوں تاجروں کی دعائیں ملتی ہیں تو جی اوب جاتا ہے۔ فون کرو تو ایسے ایسے خطبے اور نعتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ایک دفعہ تو گمان ہوتا ہے کہ فون کہیں غلطی سے مصر کے گرانڈ مفتی شیخ ابراہیم عبدالکلیم عالم کے نمبر پر تو نہیں لگ گیا۔ حلال

Read more

پنجاب میں گورنر لگنے کے لیے اسلامی علوم میں مہارت لازم قرار دی جائے

پنجاب میں ایک نہایت ہی اچھا کام ہوا ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے کہ پنجاب کی تمام جامعات میں لیکچرار طلبا کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھائیں گے اور طلبا کے لیے اس لیکچرر میں شرکت کرنا اتنا ہی لازمی ہوگا جتنا ان دنیاوی علوم کے لیکچروں میں ہوتا ہے جن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے ہیں۔ اس نیک کام کے روح رواں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ قرآن مجید ہمارے لیے اصل رہنمائی کا ذریعہ ہے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت سنواری جا سکتی ہے۔

ماہ مئی میں گورنر ہاؤس لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز اختر، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اب پنجاب بھر کی یونیورسٹیز میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔

Read more

سشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں؟

ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصہ ہیں، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھری سے نکالنے کا بہترین وقت ہے، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وہ جو پتھروں سے ٹکراتے تھے، دریاؤں کے سینے کو چیڑ دیتے تھے، اور جو بہتر طور پر جانتے تھے کہ زندگی میں، سب سے زیادہ اہمیت زندگی کی ہے۔ زندگی، جسے ہر طور پر قائم رکھنا ہے۔ زندگی، جسے جنگ اور بیماریوں سے فتح کرنا ہے، زندگی جس کے لئے سب سے بڑی طاقت، فطرت نے ہمیں للکارا ہے۔

ہم حبس، گھٹن، قید سے گھبرا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔ سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی۔ ہندوستان میں ہر برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے نوجوان اس وقت اداسی کا مرثیہ لکھ رہے ہیں اور اچانک ایک لمحۂ ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے جب وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سوچتے اور مر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ، وہ اپنے ماں باپ اور گرل فرینڈ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے۔ کبھی کبھی وہ ایک محبت کے فنا ہونے پر موت کو گلے لگاتے ہیں۔

Read more

عذاب کیا ہوتا ہے؟

جب سے پوری دنیا میں کرونا وائرس کی وبا عام ہوئی ہے اس وقت سے مختلف حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا یہ وائرس عذاب الہی کی ایک شکل ہے یا نہیں؟ اگر کرونا وائرس عذاب الہی کی ایک شکل ہے تو کیا اس امت پر عذاب آ سکتا ہے؟ اگر آ سکتا ہے تو پھر یہ کس قسم کا عذاب ہے؟ یہ اور اس سے متعلقہ بہت سے دیگر سوالات بالعموم بہت سے حلقوں کی طرف سے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان تمام سوالات کے جواب کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عذاب کسے کہتے ہیں؟ جب تک عذاب کی معرفت نہیں ہوگی۔ اس وقت تک ان سوالات کا نہ تو درست جواب دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے عذاب کو سمجھنا ضروری ہے۔ عربی زبان کی مشہور لغات میں عذاب کے معنیٰ سزا، تکلیف، وبال جان یا ہر وہ چیز جو طبعیت پر شاق ہو اور اس سے اذیت محسوس ہو کے بتائے گئے ہیں۔ (المنجد)

Read more

عمران خان، ڈاکٹر الف نون اور پیجو نائی

گلی میں میں ڈھول کی آواز آ رہی تھی، گاؤں دیہاتوں میں آج بھی گھروں کے دروازے سارا دن کھلے ہی رہتے ہیں، بس برائے نام ایک پردہ وغیرہ ہی لٹکا ہوتا ہے یا پھر وہ بھی نہیں۔ پنوں مراثی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں ایک ایک پمفلٹ بھی پھینکتا جا رہا تھا۔

اس وقت ہمارے لیے مارکیٹنگ کا یہ طریقہ بالکل نیا تھا۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہم نے یہ دیکھا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت سے پہلے ہیلی کاپٹر سے انتخابی پمفلٹ پھینکے گئے تھے اور ہم کھیتوں میں نوٹوں کی طرح انہیں پکڑنے کے لیے بھاگتے رہے تھے۔

پنوں مراثی ہر ایک کو خوشخبری سنا رہا تھا کہ ساتھ والے محلے میں ڈاکٹر الف نون آ گئے ہیں۔ اس پمفلٹ پر ڈاکٹر صاحب کے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس، ایم ایس اور کئی دیگر ڈگریوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے، جو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا تھے۔

Read more

اداس دنوں میں۔۔۔ پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا

انسان ہونے کے ناطے ہم میں سے اکثر لوگ کبھی کبھی خود کو اتنا کمزور اور بے بس پاتے ہیں کہ باہر نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی پتھر اپنے وزن کے سبب پانیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور دوبارہ سطح پر نہیں آ پاتا۔ ایسے مشکل وقت میں ایک مددگار سہارے کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمیں بے بسی کے گرداب سے کھینچ نکالے۔ ان حالات میں اپنی مدد آپ کا

Read more

لاہور کے مختلف علاقوں کو کل سے 2 ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان

لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور کے مختلف علاقوں کو 2 ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کل رات بارہ بجے کے بعد لاہور کے کئی علاقوں کو بند کر دیا جائے گا، کم سے کم ان علاقوں کو دو ہفتے کے لیے بند کیا جائے گا اور بعد ازاں صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں گے تاہم ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا اور فارمیسی کھلی رہے گی۔

Read more