گوگل تحقیق

ایک وڈیو میں ایک داڑھی والا آدمی لفظ ’نماز‘ کو سنسکرت کا شبد بتا رہا تھا۔ وڈیو بھارت کی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بحث شروع ہو گئی۔ محققین نے اکھاڑے سنبھالے۔ دھوتیاں کس کر فوراً گوگل سے رہنمائیاں لینی شروع کیں اور فوراً فتوے داغنے شروع کیے۔ جھوٹ بولتا ہے۔ نماز تو فارسی لفظ ہے۔ انٹرنیٹ اور خصوصاً سوشل میڈیا کے بعد سچ اور جھوٹ کی حد فاصل دھندلی سے دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ مجھ سمیت ہر ایک افلاطون

Read more

دریا بہنے دو

سندھ کے دریا پر مزید نہریں نامنظور یہ نعرہ محض ایک احتجاجی بینر پر لکھی تحریر نہیں بلکہ ایک تاریخ ایک جدوجہد اور ایک احساسِ محرومی کا خلاصہ ہے۔ یہ سندھ کی زمین اس کے پانی اس کی ثقافت اور اس کی بقا کی پکار ہے۔ مگر جب اس نعرے کے جواب میں کوئی کہتا ہے پنجاب تو خود دریائے سندھ کی گزرگاہ ہے کیا اسے اپنے دریا پر نہر نکالنے کا حق نہیں؟ تو یہ سوال سادہ ضرور ہے

Read more

ممی کی ڈائری: ممی اور بچوں پر کنٹرول

فاطمہ کی طبیعت کئی دن سے خراب چل رہی تھی۔ ممی کی ذمہ داریاں بڑھ گئی تھیں۔ لگے ہاتھوں آمنہ اور محمد بھی آگے پیچھے بیمار پڑ گئے۔ موسم بدلنا رنگ لا رہا تھا۔ ایک وائرس گھر میں آتا اور باری باری سب کے سب بیمار پڑتے چلے جاتے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ صبح شام دیگچے بھر بھر پانی ابل رہا تھا اسٹیم کے لئے۔ تینوں بچوں کی باری باری شفٹ لگ رہی تھی مگ بھر بھر گرین ٹی

Read more

”میرے ہم سفر“ از احمد ندیم قاسمی کا تنقیدی جائزہ

(غلام رسول مہر کے خصوصی حوالے سے ) احمد ندیم قاسمی کا خاکوں کا مجموعہ ”میرے ہم سفر“ اردو ادب کا ایک اہم اور دلنشین سرمایہ ہے، جو 2003 ء میں شائع ہوا۔ اس میں شامل تیرہ سوانحی خاکے قاسمی صاحب کے ادبی سفر کے ساتھیوں اور معاصر شخصیات پر مبنی ہیں، جنہیں انہوں نے نہایت محبت، خلوص اور گہری بصیرت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ یہ خاکے محض تعریفی نہیں بلکہ ان میں شخصیات کی فکری، تخلیقی اور

Read more

ترجمہ کرنے کا اصل طریقہ – مکمل کالم

استاذی و مرشد جناب عارف وقار ایک اعلیٰ پائے کے مترجم بھی ہیں، وہ اُس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو ادبی فن پاروں کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کا قائل ہے، اُن کی رائے میں کسی افسانے یا ناول کا ترجمہ اسی صورت میں بھلا لگتا ہے اگر ترجمہ خوبصورت نثر میں کیا جائے نہ کہ مکھی پہ مکھی ماری جائے۔ استاد کی بات سر آنکھوں پر مگر اِس ہیچمدان نے (نہ جانے اِس لفظ کا کیا ترجمہ ہے

Read more

نارسائی

سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب اور روبینہ دونوں کو مبارکباد ڈاکٹر صاحب جنہوں نے اتنی اچھی تقریب کا اہتمام کیا اور روبینہ جنہوں نے محنت اور عرق ریزی سے اتنی اچھی کتاب تحریر کی۔ لیکن میں اس کے علاوہ بھی ان کی شکر گزار ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی صبر تحمل اور کتابوں کے لیے شکریہ اور روبینہ کا اس تقریب میں شرکت اور ناول کا رویو لکھنے کی دعوت دینے کے لیے تو شکریہ ہے ہی لیکن ان سے

Read more

ہائی سکول میں داخلہ

چھٹی جماعت میں ایک تو انگریزی کا نیا مضمون شروع ہوا تھا اور دوسرا عربی، فارسی اور ڈرائنگ تینوں مضامین میں سے ایک رکھنا تھا۔ میں نے ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے عربی زبان سیکھنے کو باقی دونوں مضامین پر ترجیح دی۔ ہمارے کلاس انچارج خوشی محمد صاحب پریاں والے تھے۔ پریاں والا اُن کے گاؤں کا نام تھا۔ جہاں وہ رہائش پذیر تھے۔ وہ ہمیں ریاضی اور اُردو کے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ انتہائی محنتی اور سنجیدہ

Read more

پروفیسر پری شان خٹک اور ڈاکٹر اسرار احمد

2009 اور 2010 کے ماہ اپریل میں پاکستان کی دو نامور ہستیاں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں۔ ایک ماہر تعلیم اور ماہر اقبالیات پروفیسر پری شان خٹک اور دوسرے ڈاکٹر اسرار احمد جو ایک ماہر مبلغ اسلام اور مفسر قرآن تھے۔ ان دونوں شخصیات کی حیات و خدمات کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔ پروفیسر پری شان خٹک۔ 1932۔ 2009 پاکستان کے نامور سپوت اور فرزند، ماہر تعلیم، محقق، ادیب، دانشور، شاعر، اقبالیت کے ماہر، جامعات اور مقتدر

Read more

چالیس چراغ عشق کے : چند تاثرات

ایلف شفق کا تعلق جمہوریہ ترکیہ کی سر زمین سے ہے جس نے اورحان پاموک، احمت حمدی طانپنار، صباح الدین علی، عدالت اعولو اور یشار کمال جیسے نابغہ روزگار پیدا کیے۔ وہ ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں اور مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں متصوفانہ ادب کے حوالے سے انھوں نے اپنی ایک خاص پہچان بنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول ”Pinhan پر انھیں رومی پرائز سے بھی نوازا

Read more

کتب خانہ جوہر

مولانا محمد علی جوہر کی نسبت سے اس خوبصورت کتب خانہ کا نام ہمایوں خان نے کتب خانہ جوہر رکھا۔ چارسدہ روڈ، پشاور میں اپنے گھر میں یہ گوشۂ علم و ادب اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ ہر خاص و عام کے شوق مطالعہ کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ کتابیں جمع کرنے کا شوق اکثر لوگوں کو ہوتا ہے اور یہ شوق صدیوں پرانا ہے لیکن کتابوں کے ساتھ ساتھ ان کو نظم و ترتیب کے ساتھ

Read more

آدم و حوا: کشش اور اظہار

کائنات کے وسیع کینوس پر وجود کے رنگوں میں سے ایک اہم رنگ کشش کا ہے، جو دو روحوں اور جسموں کو ایک دوسرے کی جانب کھینچتی ہے۔ یہ کشش، خاص طور پر مرد اور عورت کے مابین، زندگی کے تسلسل، محبت کی نمو، اور انسانی تہذیب کے ارتقاء کی بنیاد بنتی ہے۔ صدیوں سے شاعر، ادیب، فلسفی، اور سائنسدان اس جذبے کی نوعیت، اس کے اظہار، اور مرد و زن کے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

Read more

مٹتی تہذیب کا نوحہ گر۔ فیض احمد فیض

فیض کے زمانے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی، سماجی اور تہذیبی طور پر بہت سی تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں۔ دو عالم گیر جنگوں کی وجہ سے ہندوستان کی اقتصادی، سیاسی اور سماجی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ لوگ بھوک اور ناداری کے شکار ہو رہے تھے۔ ملک کے استحصالی عناصر نے غریب اور پس ماندہ طبقوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم روا رکھا۔ سامراجی قوتوں نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ظلم و

Read more

سائنس دان بھی، فن کار بھی : ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی جہتیں

سائنس، فلسفہ، ادب اور فنونِ لطیفہ میں بیک وقت مہارت رکھنا صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کا امتیازی وصف ہوتا ہے۔ یہ انسانی فطرت، ذہنی ساخت، رجحانات اور مزاج کی وہ ہم آہنگی ہے جو کسی فرد کو بیک وقت مختلف علوم و فنون پر عبور عطا کرتی ہے۔ اگر اس پر مختلف زبانوں کا ادراک بھی شامل ہو جائے تو وہ شخص نہ صرف ایک انفرادی شناخت قائم کرتا ہے بلکہ علمی افق پر اپنے ان مٹ

Read more

کینٹین میں بیٹھ کر یونیورسٹی ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ تجربہ کاروں کی زبانی

ہم بدلے، وقت بدلا، ڈگری بدلی اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئے مگر اس سب میں نہیں بدلا تو وہ ہے ہمارے تعلیمی ماحول کی آب و ہوا۔ تبدیلی غیر آرام دہ چیز ہوتی ہے، لیکن خدا بھلا کرے ہمارے تعلیمی نظام کا، جو اس قدر مہربان ہے کہ طلبہ کو کسی قسم کی غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالنے سے مکمل پرہیز برتتا ہے۔ اسکول نے ہمیں جو کچھ کھانے کو دیا، وہی کچھ کالج

Read more

مسلم انصاری کی کتاب ’کابوس‘ پر تبصرہ

کئی دہائیوں سے، غیر ملکی کہانیوں، ان کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار، غیر ملکی کہانی کاروں کے بارے میں تبصرے ایک ٹرینڈ بن چکے ہیں۔ پھر ذرا نظر گھماتے ہیں تو چار، پانچ دہائی پہلے کے ادیبوں پر ٹھہر جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے ادیبوں پر نہ کوئی بات کرتا ہے، نہ ان کی کتابوں اور تحریروں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ مبصرین اب تبصرے کرنے میں مصروف ہیں ان کے پاس موجودہ ادیبوں کی کتابوں کو پڑھنے کے

Read more

ہمارا فرسودہ خاندانی نظام بدلنے کی ضرورت

ہم اپنی انشورنس کمپنی کی ششماہی بزنس کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کے میریٹ ہوٹل میں مقیم تھے۔ میں جو صبح کی فلائیٹ سے کراچی پہنچا تھا، دن بھر کی میٹنگ اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایک پرانے دوست کی دعوت پر اُس کے گھر جانے کی بجائے ڈنر کے لیے ہوٹل کے ریستوران میں ہی بیٹھ گیا تھا۔ میں نے کھانے کا آرڈر دیا۔ کھانے کا آرڈر دیے ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ سینٹرل پنجاب

Read more

کچھ پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں

’ بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے‘ ۔ اس مقولے کو مجسم دیکھنا ہو تو پروفیسر خورشید احمد کو دیکھئے۔ ان کے آبا و اجداد جالندھر کی خاک سے اٹھے اور دلی کے ہو گئے پھر رشتوں ناتوں کا سلسلہ ترکی تک دراز ہو گیا، یوں اس خاندان میں وہ کیفیت پیدا ہوئی جسے اقبال نے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہہ کر بیان کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کے والد نذیر احمد قریشی

Read more

بال نوتے اور نائی

بال، کھال، نوتے اور نائی کا گٹھ بندھن صدیوں پرانا ہے، کہنے کو تو ”بال کی کھال نکالنے“ کے محاورے کی پیدائش بھی کم و بیش صدیوں پرانی کہی جا سکتی ہے اور قوی خیال یہی ہے کہ نائی کے کام کے طریقے اور سلیقے کے عیوض نائیوں کے ہاتھ کی صفائی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ضمن میں ہی ”بال کی کھال“ والا محاورہ وجود میں آیا ہو گا، اس محاورے کی پیدائش کی علت و علل کو

Read more

ایک خط جو بستر مرگ پر پڑھا گیا

لسانی مباحث سے خاص رغبت رکھنے والے ممتاز محقق پروفیسر غازی علم الدین سے میری بس ایک ہی ملاقات رہی ہے اور وہ بھی میرپور آزاد کشمیر کی ایک تقریب میں۔ ہم اسٹیج پر پاس پاس بیٹھے رہے دوچار باتیں تب ہوئیں اور کچھ باتیں تقریب کے بعد ۔ انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ مجھے ان کی کتب پر ردعمل دینا چاہیے تھا۔ کچھ ایسا ہی مطالبہ وہ اپنے خطوط میں بھی کر چکے تھے۔ اس بار ان کی

Read more

افسانہ: قربانی کی عورت (آخری حصہ)

کنزا جب کنیز یوسف کے بتائے ہوئے ہوسٹل میں پہنچی تو وہاں کی مالکہ تمکنت اعجاز بذاتِ خود، اُس کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہی کنزا کو یقین ہو گیا کہ وہاں اُس کی ہر مطلوبہ سہولت موجود ہے۔ مسز تمکنت کے رویّے سے یہ شہادت بھی مل گئی کہ وہ بیگم کنیز یوسف کا بہت احترام کرتی ہیں اور شاید اُن کی احسان مند بھی ہیں۔ اب کنزا کے یہاں آنے سے، انہیں

Read more

”اسرائیل۔ فلسطین تنازع کی مختصر تاریخ“ ایک جائزہ

حال ہی میں شائع ہونے والی ایلان پَاپے کی کتاب ”اسرائیل فلسطین تنازُع کی مختصر تاریخ“ ”A VERY SHORT HISTORY OF THE ISRAEL PALESTINE CONFLICT“ BY: ILAN PAPPE اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازُع کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاپے نے صیہونیت کے ارتقا، اس خطے پر بین الاقوامی پالیسیوں کے اثرات، فلسطینی مزاحمت، اور اسرائیل کے اندرونی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موجودہ صورتحال کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اس قضیے کے تاریخی

Read more

”غالب کے خطوط“ مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

مصنفین: نذیر علی سعدیہ اعجاز پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اُردو زبان و ادب کی تحقیق و تنقید میں خلیق انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ خلیق انجم اُردو کے ممتاز محقق، نقاد، مدوِن، ادیب، ماہرِ غالبیات اور انجمن ترقیِ اردو (ہند) کے نائب صدر تھے۔ انجمن ترقیِ اردو کے نائب صدر کے عہدے پر کم عمری میں فائز ہوئے اور اپنے انتقال تک بِراجمان رہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم 22 دسمبر 1935 ء

Read more

سچ کی عدالت میں دانشوروں کا مقدمہ

یہ وہ دور ہے جب پاکستان میں نہ صرف آئین و قانون کو روندنے کی رسم عام ہو چکی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار، اختلافِ رائے اور سوال اٹھانے کی ہر کوشش کو غداری، فتنہ، سازش یا ایجنڈا قرار دے کر کچلا جا رہا ہے۔ یہاں سچ بولنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے لکھنے پر سیاہی خون سے بدل جاتی ہے اور سوچنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کے

Read more

ابو ظہبی کی الشیخ زید بن سلطان النہیان گرینڈ مسجد

چمکتی دھوپ میں ابو ظہبی کی انتہائی جدید طرز تعمیر کی بلند و بالا عمارتوں سے گزرتے اب ہمیں ایک شاندار بے شمار گنبدوں اونچے میناروں والی مسجد سامنے نظر آ رہی تھی۔ ہماری منی بس کا ڈرائیور ہمیں ان عمارتوں کے متعلق اپنی معلومات سے آگاہ کرتا آیا تھا۔ اور اب سامنے نظر آتی جامع الشیخ زید کبیر مسجد کے متعلق بتاتا ایک لمبا چکر گھومتے وسیع پارکنگ لاٹ میں کھڑی بے شمار سیاحتی بسوں اور وینوں کے ساتھ

Read more

رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان

ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر

Read more

نذرانہ عقیدت

دنیا کے کسی بھی خطے کا ادب پڑھیں اور سمجھیں تو معلوم ہو گا کہ نہ صرف اس زمانے کے مخصوص حالات اور واقعات نے اس عہد کے ادب اور ادیبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس عہد میں موجود یا اس عہد سے بہت پہلے گزرے ہوئے ادیبوں نے بھی ان پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان ادیبوں یا لکھنے والوں کی بہت سی چیزوں کو اس عہد کے بعد کے لکھنے والے ادیبوں نے اپنا کر اور

Read more

نثری نظم کو گود لینے والے مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے

مجھے سویڈن سے سائیں سچا اور فریدہ کے پیغامات آئے کہ ہمارے مشترکہ شاعر دوست مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے۔ میری مسعود قمر سے آخری ملاقات بھی سائیں سچا اور فریدہ کے گھر میں ہی ہوئی تھی جب سائیں سچا نے ایک ادبی محفل کا اہتمام کیا تھا اور جن دوستوں کو دعوت دی تھی ان میں مسعود قمر بھی شامل تھے۔ جب میں نے اور عظمیٰ عزیز نے ان کی خدمت میں اپنی مشترکہ کتاب عزیز الحق: لاہور

Read more

بھگت سنگھ زندہ ہے

یہ واقعہ ہے 23 مارچ 1931 ء کا کہ جب لاہور کے سینٹرل جیل میں چار بجے دن سے کچھ کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ وارڈن نے قیدیوں کو اپنی اپنی کوٹھریوں میں جانے کا حکم صادر کر دیا تھا۔ جیل کا نائی، برکت، قیدیوں کے سامنے سے چہ مگوئیوں کے انداز میں اطلاع دیتا ہوا گزرا کہ آج رات بھگت سنگھ، سکھ دیو گرو اور جگدیش کو پھانسی ملنے والی ہے۔ قیدیوں کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع تھا۔

Read more

حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928

Read more

سید کاشف رضا کا شعری مجموعہ: ممنوع موسموں کی کتاب

ایسے میں جب شاعر کا تیسرا مجموعہ کلام شعری دُنیا میں وارد ہونے کو ہو تب اُس کے گزشتہ کلام کا ذکر چھیڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک شخص جو ادبی منظر نامے پر کئی جہتوں اور حوالوں سے جانا جاتا ہو اُس کی اصل شخصیت کو کھوجنا کسی طور مشکل کام ہے۔ سید کاشف رضا کا نام سُنتے ہی دو حوالے تو فوراً آپ کے ذہن میں آتے ہیں، بطور مترجم اور بطور فکشن نگار۔ تعارف کا حوالہ

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟

سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور

Read more

ایک شاعرہ دو محبوب

کینیڈا کی مایہ ناز شاعرہ اسما ناز وارثی نے نہ صرف مجھے بڑی اپنائیت سے ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی بلکہ اپنی ذہین بیٹی زرین کو بھی بلایا تا کہ وہ بھی مجھ سے مل سکے۔ ڈنر کے دوران اسما وارثی نے مجھے اپنے شعری مجموعے سخن آئینہ کا ادبی تحفہ دیا تو اس کے پہلے صفحے پر نوشتہ تھا اپنے محترم دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل کے نام جن سے عقائد و خیالات میں بعد المشرقین ہونے کے

Read more

عید کا تحفہ: حفیظ جوہر کی کلیات

  باصر سلطان کاظمی لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل

Read more

عفیفہ اور شاعرِ مشرق: ایک معصومانہ عقیدت کی داستان

  عفیفہ کے سب سے پسندیدہ شاعر علامہ اقبال ہیں۔ وہ بچپن میں سمجھتی تھیں کہ شاید علامہ اقبال نے شاعری کے کسی عالمی مقابلے میں ایشیا کے تمام شاعروں کو شکست دے کر ”شاعرِ مشرق“ کا ٹائٹل جیتا ہو گا۔ جیسے کوئی پوئٹری اولمپکس منعقد ہوا ہو، جس میں چین، جاپان، ایران، منگولیا اور ہندوستان وغیرہ کے شاعروں نے پسینہ بہایا ہو، مگر آخر میں علامہ اقبال کو سونے کا تمغہ مل گیا ہو، مگر ایک دن ان کی

Read more

پاکستانی ریاست اورثقافتی بالا دستی

  ”Dominance Without Hegemony: History and Power in Colonial India“ پروفیسر رنجیت گوہا کی کتاب ہے جو 1997 میں ہارورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعے شائع ہوئی۔ یہ کتاب جنوبی ایشیا میں نو آبادیاتی ریاست کا گرامچی کے نظریہ کے تحت جائزہ لیتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ نو آبادیاتی ریاست کا کردار طاقت کے ذریعے غلبہ قائم کرنے کا تھا نہ کہ عوام کو قائل کرنے والے ثقافتی تسلط کے ذریعے۔ پروفیسر رنجیت گوہا کی زیر نظر

Read more

شیراز دستی کے ناول ”ساسا“ میں مشرقی و مغربی تہذیب کی کشمکش

ناول ’ساسا‘ کے ہیرو سلیم کو محبت کی تلاش ہے۔ وہ اپنی تلاش کا آغاز اپنے گاؤں سے کرتا ہے اور گاؤں میں اسے ختم کرتا ہے۔ وہ انسانی حقوق، شہری آزادی اور عمومی انسانی صورتحال سے متعلق دو دنیاؤں کے تہذیبی فرق اور عالمی دنیا کے تضادات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس ناول کے ذریعے قاری مشرقی اور مغربی تہذیب کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے کہیں بھی اپنی ثقافت

Read more

پالیسی میں تسلسل ضروری ہے

افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی افغانستان میں غیر ملکی افواج سے تعاون کے رد عمل میں ہوتی ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان طالبان کے مطالبے پر حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ یہ معاہدہ بھی ماضی کے معاہدوں کی طرح محض چند ماہ ہی چل سکا اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان

Read more

پیکا ایکٹ اور صحافی سے "بلھے شاہ” ہونے کی توقع؟

پیکا قانون جب متعارف کروایا جا رہا تھا تو مجھ جیسے بزدل بہت فکر مند رہے۔ یہ قانون تیار اور اسے عجلت میں پارلیمان سے منظور کروانے کے بعد لاگو کرنے والے مگر تسلیاں دیتے رہے۔ تواتر سے یہ بیان کرتے رہے کہ مذکورہ قانون سے ’’اصل صحافیوں‘‘ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اپنی زندگیاں پیشہ ورانہ صحافت کی نذر کرنے والوں کو تو بلکہ خوش ہو جانا چاہیے کہ ایسا قانون لاگو ہونے جا رہا ہے جو موبائل فون کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 5

ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو

Read more

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ”موت کی کتاب“ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن

Read more

دی کائٹ رنر: دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات پر مبنی ایک اثر انگیز ناول

دی کائٹ رنر خالد حُسینی کا پہلا ناول ہے۔ اس کی کہانی دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات سے بُنی گئی ہے۔ یہ کئی دہائیوں اور براعظموں پر محیط ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات، تفرقوں میں بٹی معاشرت، سیاسی بحرانوں اور بین الاقوامی مداخلت جیسے موضوعات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ پہلے ناول نگار کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ خالد حُسینی معروف افغان نژاد امریکی ادیب اور انسانی حقوق کے سرگرم رُکن ہیں۔ وہ پُراثر اور دل

Read more

خواب، محبت اور زندگی (4)

امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو،

Read more

نئے کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی۔

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

پیر و مرشد سلمیٰ اعوان

کل تئیس مارچ کی تقریب میں سلمیٰ اعوان کو ستارہ امتیاز ملنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں سلمیٰ اعوان کی شخصیت کا جائزہ لیں تو انتہائی عاجز، منکسر، ہمدرد اور محبت سے لبالب بھری خاتون ہیں۔ حسد، لالچ، نہ طمع نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔ زندگی بھر محبت کا چرخہ چلایا، مشقت کا دھاگہ کاتا اور پُونیاں جوت کر روشنی پھیلائی۔ سلمیٰ اعوان بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہیں۔ ساری زندگی اصولوں سے گزاری

Read more

مارچ یاد ہے لیکن بھگت سنگھ بھول گئے

23 مارچ جس کو یوم قرارداد پاکستان کہتے ہے۔ ہر سال 23 مارچ کو جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس دن بہت سے لوگوں کو سرکاری اعزازات دیے جاتا ہیں۔ اس دن وزیر اعظم اور صدر کو پروٹوکول کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ میں لایا جاتا ہے۔ اس دن وزیر اعظم اور صدر اپنے بیان میں اس ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں پتہ اصل

Read more

کہانی میرے گھر کی

ہم پانچ بھائی تھے گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا بڑے بھائی کا کمرہ ہم سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہم چاروں کے کمرے ملحقہ تھے بڑے بھائی کا نام کریم الاسلام تھا اس سے چھوٹے کا نام بشیر جس کو سب شیرا پکارتے تھے اس سے چھوٹا عبداللہ جس کو ماچھی کے نام سے بلایا جاتا اس سے چھوٹا بخت نصر جس کو سب ہلاکو خان کہتے اور سب سے چھوٹا میں تھا اصل نام میرا پتہ نہیں کیا

Read more

دی پٹھان

اس نے 1914 میں آنکھ کھولی اور 1996 میں ابدی نیند سو گئے عبدالغنی خان جو کہ لیوانی فلسفی (نادان فلسفی) کے نام سے مشہور تھے ممتاز پشتون ریفارمر، سیاست دان اور عدم تشدد کے داعی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے بڑے بیٹے تھے۔ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بدولت عبدالغنی خان پیدائشی سیاست دان تھے اور 1945 کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے، انہوں نے 1954 میں سیاست کو خیرباد کہا اور

Read more

عہد حاضر کا جدید شاعر افتخار عارف

آسمانوں پہ نظر کر، انجم و مہتاب دیکھ صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ اس شعر کے خالق نے ہندوستان سے ہجرت کر کے ارض وطن پہ تن تنہا قدم رکھا اور بغیر کسی بیساکھی اور سہارے کے اک نئی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ جی میری مراد میر و غالب کی وراثت کے امین جناب افتخار عارف ہیں۔ افتخار عارف کو جو آج مقام حاصل ہے وہ انھیں چند برسوں میں حاصل نہیں ہوا

Read more

سودائی شاعر: نصیر کوی

ایک کھوکھے پہ ٹھنڈی بوتلیں بیچنے والے شخص کی سیاسی اور سماجی فراست اہم دانشوروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اس سادہ شخص کے حلیے اور کھوکھے کو دیکھ کر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا کہ اس جسم کے اندر قومی جذبے دہکتے اور آنکھوں کے پیچھے رومانی خواب مچلتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والے اشعار مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں اور اسے تنویمی کیفیت میں لے آتے ہیں۔ وہ ایک شعر پڑھتا ہے اور

Read more

دنیا کے سب سے عقل مند آدمی کی موت – مکمل کالم

اگر دنیا میں ایسا کوئی فرضی مقابلہ ہوتا جس میں سب سے عقل مند شخص کا انتخاب کیا جاتا تو وہ مقابلہ کیسا ہوتا؟ حقیقت میں تو ایسا کوئی مقابلہ منعقد نہیں کیا جاتا البتہ جن لوگوں کو نوبل انعام دیا جاتا ہے اُن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے شعبے کے بہترین لوگ ہوتے ہیں، خاص طور سے وہ لوگ جو انسانی نفسیات، طب اور سائنس کے شعبوں میں کوئی اعلیٰ و ارفع تحقیق کر

Read more

مصر کی جادو نگری۔ کپلنگ کا سفر نامہ۔ 1913

1913 کے مصر کا تاریخی اور سیاسی پس منظر مصر 639 میں مسلمانوں کے زیرِ انتظام آ گیا۔ تاریخ کا پہیہ چلتا رہا۔ پھر 878 سال بعد 1517 میں یہ ترکی کی عثمانیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں یورپی تجارتی طاقتوں، خاص طور پر فرانس اور برطانیہ نے مصر میں عثمانیہ حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ 1798 میں اُس وقت کے فرانسیسی حکمران نپولین نے مصر پر چڑھائی کر

Read more

نغمہ کوہسار

 چلو کہ نغمہ دل سوز چھیڑ کر ہم بھی چمن پہ اپنا اثر ہم نواؤ! ڈالتے ہیں من لالہ آزادم خود رویم و خود بویم کے مصداق وادی کوہستان کی سرزمین پر کھلنے والے اس لالہ آزاد نے اپنے قلم کے سحر سے سارے عالم کو یک دم مسحور کر دیا۔ اس کے دل کی آواز ہر شخص کو حیران کر گئی کہ اس قدر پسماندہ اور دور افتادہ علاقے سے ایسا بھی گوہر پیدا ہو سکتا ہے جو انسان

Read more

” بارہ ماسوں“ کی جمالیات اور شکیل الرحمٰن

شکیل الرحمٰن اُردو میں جمالیاتی تنقید کے نمائندہ ناقد ہیں۔ اس کام کے لئے وہ جمالیات کی نئی نئی شقیں دریافت کرتے رہتے ہیں اور موضوعات کے انتخاب میں اپنی جدت طرازی اور عمل مطالعہ کا لوہا بھی منواتے رہتے ہیں۔ اب کے انھوں نے ”بارہ ماسے“ کی جمالیات پر گفتگو کی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ چھوٹی سی کتاب ”اُردو میں بارہ ماسے کی روایات : مطالعہ و متن“ ان کی تخلیقی تنقید کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

Read more

ڈاکٹر حامد عتیق سرور – ستارہ امتیاز 2025

ڈاکٹر حامد سے پہلی ملاقات سنہ 2011 میں سول سروس اکادمی میں معاشیات کی کلاس میں ہوئی۔ یہ مضمون ہمیں کبھی پسند نہ تھا اور پڑھانے والے کے بارے میں بھی یہی جذبات تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں اکنامکس پڑھاتے رہے اور ہمیں یاد نہیں کب ہم نے انہیں غور سے سننا شروع کیا، اتنا سمجھ بھی آنے لگا کہ کلاس میں ہونے والے تدریسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کلاس میں چند فقرے کَس کر، لطیف

Read more

روشنی کے ساتھ رہئیے روشنی بن جائیے

این بی ایف سے نکلے تو موسم کی دلربائی اور سبزہ و گل کی زیبائی قلب و نظر کے لئے باعث تسکین بنی۔ ابھی ہمیں اپنے شہر کے ایک نامور سپوت، فرزند کوہاٹ کموڈور محمود الرحمن کے گھر جانا تھا، ان کا دو دفعہ فون آ چکا تھا کہ ہم کہاں ہیں۔ محمود الرحمن صاحب کی خود نوشت ”پہاڑی لڑکے سے تباہ کن کپتان“ تک شائع ہو چکی ہے جس کی شاندار تقریب پذیرائی میں بوجوہ شریک نہیں ہو سکی۔

Read more

انوکھی لٹک اس کی باتوں میں ہے

(ارشد معراج کے لئے ایک اظہاریہ) دن کا پہلا پہر ہزارہ ایکسپریس نے جب ذرا ٹھیکی لی تو پتہ چلا یہ بھلروان ریلوے اسٹیشن ہے۔ پلیٹ فارم پر لگے سائن بورڈ پر نظر پڑتے ہی ذہن میں بے ساختہ ایک نام گونجا: ارشد معراج۔ کیوں؟ ابھی چند سال قبل تک یہ شہر اور اس کا نام میرے لیے بالکل اجنبی تھا مگر جب سے ارشد معراج کا لکھا ”بھلروان ریلوے اسٹیشن“ پڑھا مجھے یوں لگا یہ سب تو جیسے میرا

Read more

دو خوش قسمت شاعر: یزدانی جالندھری اور حامد یزدانی

دو دنیائیں ہم سب انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک خارج کی دنیا ایک داخل کی دنیا ایک باہر کی دنیا ایک اندر کی دنیا ایک حقائق کی دنیا ایک خیالوں کی دنیا حامد یزدانی اپنی تخلیق ”سوسن کے پھول“ کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں : ’ باہر بھلے کوئی سا موسم ہو میرے اندر تو ہر دم ایک ہی رت کا ڈیرہ رہتا ہے۔ میں یادوں کے رنگا رنگ موسم میں بستا ہوں‘ حامد یزدانی

Read more

بارڈر تھنکنگ اور سبالٹرن نالج: نان ویسٹرن علمی و فکری نظریہ

زیر نظر مضمون بنیادی طور پر میرے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے مرکزی آڈیٹوریم میں دیے گئے ایک لیکچر کی تحریری شکل ہے۔ بارڈر تھنکنگ (Border Thinking) ایک ایسا علمی و فکری نظریہ ہے جسے ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ماہر بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، علم علامات، ادبی نظریات و تعلیمات، ڈائریکٹر سینٹر فار گلوبل اسٹڈیز اینڈ ہیومینیٹیز، ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا، امریکہ کے پروفیسر والٹر ڈی مگنولو نے اپنی کتاب ”Local Histories، Global Design: Coloniality، Subaltern Knowledge and

Read more

اے جوانانِ عجم

پوٹھوہار کی ریکارڈڈ تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو نوآبادیاتی آقاؤں کو اپنے عسکری مقاصد کی خاطر اس خطے پہ بُری نظرِ (اور قدم) رکھنے کی وجہ یہی نظر آئے گی کہ یہاں کے باشندے تحرک پسند تھے / ہیں تبھی ولائتی سرکار نے بصرہ، فلانڈر، برما اور رنگون کے فرنگی محاذوں پہ پوٹھوہاری دیسی گندم اور گھی سے پلے نوجوان سپاہئیوں کو ”لام“ کی بھینٹ چڑھایا۔ اُن کی ہری فصلیں، بوڑھے والدین اور جوان بیوائیں دھاتی تمغوں اور انگریزی سیلوٹوں

Read more

اماں کا دل ایسا ہی تھا

اور جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مُٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دی جاتیں، حتیٰ کہ

Read more

طاقت اور طاقتور: ایک ابدی کھیل

”طاقت بدعنوان کرتی ہے اور مطلق طاقت مکمل طور پر بدعنوان کر دیتی ہے۔“ (لارڈ ایکٹن) ۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں رہی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنایا گیا۔ کبھی بادشاہوں نے طاقت کے نام پر رعایا کو غلام بنایا، کبھی مذہبی طبقے نے فتووں کے ذریعے ذہنوں کو قید کیا، تو کبھی سرمایہ داروں نے معیشت پر قابض ہو کر عام آدمی کو بے بس کر دیا۔

Read more

گورنمنٹ کالج، چترال: چند وضاحتیں

کچھ عرصہ پہلے چترال کے دو گورنمنٹ کالجوں کا موازنہ کیا تھا۔ اس سے اختلاف کرنے کی گنجائش موجود تھی لیکن چند نو تعینات لیکچرار صاحبان کی طرف سے اسے ایسا رنگ دیا گیا جیسے میں نے گورنمنٹ کالج کے خلاف کوئی سازش کی ہو یا اساتذہ کو، خدانخواستہ، نا اہل کہا ہو۔ پہلی بات یہ کہ دس سال پرانے اور موجودہ کالج کا موازنہ کروں تو میں بلا جھجک یہ کہہ سکتا ہوں کہ گورنمنٹ کالج پڑھائی کے معاملے

Read more

آزاد مہدی کا ناول ”پیرو“ میری نظر میں

میں کبھی بھی کوئی ناول تو کیا، کوئی افسانہ بھی بھاگتے دوڑتے نہیں پڑھتا۔ مجھے اس کام کے لئے پوری یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اچھے فکشن کی قرات کا پہلا تقاضا ہی یہی ہے کہ قاری کہانی کے ماحول میں پہنچے اور اُس کے اہم کرداروں سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرے۔ اس لئے صرف 176 صفحات کے ناول ”پیرو“ کو پڑھنے میں میرے دو دن لگ گئے۔ بقول جگر مراد آبادی اک آگ کا دریا ہے

Read more

مولانا طارق جمیل، انجینئر مرزا فیکٹر اور ارشاد بھٹی

ارشاد بھٹی ان دنوں خاصے متحرک ہیں، پہلے انجینئر محمد علی مرزا سے دوبدو باتیں کیں اور پھر مولانا طارق جمیل کے آستانے پر جا پہنچے، اپنے تئیں خاصے چبھتے ہوئے سوال پوچھے، اب مولانا جس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں تو صبر و تحمل کی باقاعدہ مشق کروائی جاتی ہے، کوئی کچھ بھی کہتا رہے آگے سے کسی بھی ردعمل کا اظہار بالکل بھی نہیں کرنا۔ تبلیغی بزرگ بیچارے روایات کے قیدی بن کے رہ گئے اور میڈیا

Read more

تنہائی کے ایک سو سال

گیبرئل گارشیا مارکیز بیسویں صدی کے سب سے ممتاز ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ گیبرئل جادوئی حقیقت نگاری میں مہارت اور انسانی تجربات کی گہرائی سے تحقیق کے لیے مشہور ہیں۔ 1927 میں ارکاٹاکا، کولمبیا میں پیدا ہونے والے مارکیز نے اپنے کیریبین جڑوں سے متاثر ہو کر دیومالائی، تاریخی، اور عوامی داستانوں کو آپس میں جوڑ کر ایسی کہانیاں تخلیق کیں جو عالمی موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے کام خاص طور پر شاہکار ”تنہائی کے سو

Read more

مولانا کوثر نیازی

ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا

Read more

پوٹھوہاری زبان میں نعت نگاری

نعت نگاری یا نعت گوئی کی بات کریں تو خالق کائنات نے قرآن کریم میں جابجا اپنے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ کی تعریف و توصیف میں نعتیہ آیات نازل کی ہیں، سیدنا ابو طالبؓ سے شروع ہونے والا نعت گوئی کا سلسلہ آج بھی اسی عقیدت و محبت کے ساتھ جاری و ساری ہے، نعت گوئی کسی ایک علاقے، زبان یا مذہب تک محدود نہیں، کرہ ارض پر موجود ہر علاقے، ہر زبان اور ہر مذہب کے ماننے والوں

Read more

خوشامد کی ‘انڈسٹری’ کے قلم مزدور

پاکستان میں شاعروں، ادیبوں کی طرف سے حکمرانوں کی خوشامد کی صنعت نے ایوب خان کے دور میں خاصی ترقی کی، اس موضوع پر گزشتہ چند سال سے مسالہ اکٹھا کررہا ہوں جو ہوتے ہوتے اتنا ہوگیا ہے کہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اس مواد نے حیرت کے کئی در وا کیے، بڑے بڑوں کے بھرم ٹوٹے، آج میں نے دو معروف فکشن نگاروں اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے رشحات قلم کے بارے میں کچھ لکھنے کی ٹھانی ہے

Read more

ذہانت و بصیرت: انسانیت کا جوہرِ کمال

اردو ادب کی فصاحت و بلاغت میں، ”ذہانت“ اور ”بصیرت“ (Intelligent vs Intellect) وہ دو اہم اصطلاحات ہیں جو انسانی ذہنی قوتوں کی گہرائی اور وسعت کو بیان کرتی ہیں۔ ذہانت، جو کہ عموماً ذہنی استعداد، فہم، اور اکتسابی صلاحیت کے معنوں میں مستعمل ہے، وہ قوتِ ذہن ہے جو ہمیں مسائل حل کرنے، نئی معلومات اخذ کرنے اور متغیر ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی قدرت بخشتی ہے۔ اس کے برعکس، بصیرت، ذہانت سے ایک درجہ بلند تر مقام

Read more

آشیانہ در قفس

میں نے اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی کہانیوں کے مجموعہ ”پنجرے وچ آہلنا“ کو فارسی عنوان اپنی فارسی دانی کے اظہار کی خاطر نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ جب جدید فارسی افسانہ نگاروں اور شاعروں نے بول چال کی زبان استعمال کی اور می شود کو میشے لکھنا شروع کیا تو نہ صرف فارسی ادب کی شان بڑھی تھی بلکہ قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا لیکن اکمل نے نئی چال یہ چلی کہ

Read more

دسمبر، شاعری، اور مونی بھائی کی کانپتی ہوئی محبت

جیسے ہی دسمبر آتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر شاعروں کی کوئی بین الاقوامی کانفرنس شروع ہو گئی ہو۔ فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر ہر طرف ”دسمبر اور جدائی“ کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ مہینہ صرف بچھڑنے، ٹوٹنے، اور اداس ہونے کے لیے بنایا گیا ہو۔ ہمارے دوست مونی بھائی اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں۔ عام دنوں میں ان کے اندر شاعری ایسے غائب رہتی ہے جیسے چاند گرہن میں

Read more

خالد سہیل اور حامد یزدانی کی مشترکہ محبوبہ

کتاب کے سرورق پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا عنوان سامنے آتے ہی دل میں ایک شرارتی سی جنبش ہوتی ہے اور پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ کسی سانجھی معشوقہ کی داستانِ دلفریب کا بیانیہ ہو گا۔ یا کوئی جادوگر حسینہ کی کتھا جو دو افراد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اور اب اپنی کتھا سنا رہی ہے۔ مگر اس دلفریب عنوان کے نیچے اس مخمصے کو ایک بریکٹ کے اندر یہ تحریر لکھ کر دور کر دیا گیا کہ

Read more

افسانوی ادب میں اساطیری اور دیومالائی عناصر

مافوق الفطرت اور دیومالائی عناصر کے بغیر افسانوی داستانیں نامکمل اور ادھوری تصور کی جاتی ہیں۔ اُردو ادب کی ابتدائی داستانوں میں دیومالائی اور اساطیری عناصر کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ یہ قصے کہانیاں مختلف مذاہب کی مذہبی کہانیوں سے ماخوذ ہیں جن میں مافوق الفطرت عناصر کے ساتھ ساتھ اُن مذاہب کے اہم کرداروں سے منسوب داستانوں کو قصوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اسطورہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے

Read more

غالب جو ایک شاعر تھا عالم میں انتخاب

دنیا میں سخنوروں کی کمی نہیں لیکن غالب کا اندازِ بیاں واقعی اور ہے۔ کہیں نہ کہیں سب مغلوب ہوئے مگر غالب ہر جگہ، غالب ہی ہے۔ شاعری فقط قافیہ پیمائی اور لفاظی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا شاعر ایک ہی وقت میں دانشور، عیب جُو، مورخ، حاذق، سیاستدان، عالمِ، فلسفی، طنز کار، مصلح اور صوفی بھی ہوتا ہے۔ اقبال جوانوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ غالب ادھیڑ عمروں کا شاعر ہے اور جوانوں کے واسطے چچا غالب ہے۔

Read more

دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی

Read more

بنگالی ناول ”گورا“ کا اردو ترجمہ

  نوبل انعام یافتہ رابندرناتھ ٹیگور کا مشہور بنگالی ناول ”گورا“ بنگالی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں سماجی، مذہبی اور سیاسی مسائل کو گہرائی سے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ناول کا اردو ترجمہ یزدانی جالندھری اور رفیق رام سرن بھاردواج نے مشترکہ طور پر کیا ہے اور اسے ”شمع الفت“ کے عنوان سے پہلی بار 1942 ء میں لاہور سے شائع کیا گیا تھا۔ حالیہ عرصے میں، رنگ ادب پبلی

Read more

پہاڑ کی آواز: جاپانی ادب کا ایک شاہکار ناول

پہاڑ کی آواز نوبل انعام یافتہ جاپانی ادیب یاسوناری کاواباتا کا معروف ترین ناول ہے۔ اس میں ایک بوڑھے شخص کی کہانی بیان کی گئی ہے جو عمر کے آخری حصے کو پرسکون گزارنے کا خواہش مند ہے مگر نہ چاہتے ہوئے بھی بگڑتے ہوئے گھریلو معاملات میں دخل دینے پر مجبور ہے۔ مصنف نے ناول میں خاندان کے آپسی تعلقات کی نزاکت کو لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1954 میں جاپانی زبان میں چھپا۔

Read more

گلزار کی شاعری

  چلو لمحے چھیلیں! مروڑیں اسے، انگلیوں میں لپیٹیں، اڑائیں ستاروں کی ڈھیری میں ڈھک دیں! کبھی چھیل کر، ایک لمحے میں جھانکو تو اس میں بھنور، جیسی نا بھی ملے گی تمہیں کال کی۔ جہاں سے وہ لمحہ چلا تھا وہیں پہ ڈبو دیں؟ چلو لمحے چھیلیں! گزشتہ و موجودہ صدی کی جدید اردو شاعری میں نمایاں نام ”گلزار“ ہے۔ ان کے لہجے میں روایت اور جدت کا الگ امتزاج ہے۔ گلزار کو میں نے سب سے پہلے ایک

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

ایک بیدار شاعر: ساحرؔ

ادیب شاعر یا کسی فنکار کے غور و خوض کا دائرہ جدا گانہ ہوتا ہے۔ فنکار جو کچھ سمجھتا ہے اس کے اظہار پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ فنکار کا مشاہدہ ہی اس کی تخلیق کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جسے وہ جذب کر لیتا ہے اور یہ جذب و انجذاب کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور فنکار اپنے فن کے قالب میں ڈھال کر اسے پیش کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی اس ادیب یا شاعر کی

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (3)

تمہید میں ایک حرف تشکر واجب ہے۔ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت میں مغربی پاکستان کے 16اخبارات میں مشترکہ اداریے کا ذکر آیا تھا۔ برادر گرامی امجد سلیم علوی نے متعلقہ ریکارڈ سے نہ صرف ان سات اخبارات کی فہرست عنایت کی جنہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر حکومت پنجاب سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ 16 مئی 1949 کو روز

Read more

زبانوں کی ترقی کا نوآبادیاتی بیانیہ

پاکستان جیسے پوسٹ کالونیل ملک میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے اثرات اس قدر گہرے ہیں کہ 77 سال بعد بھی پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ ایسٹ انڈیا کمپنی ( 1857 کے بعد برطانیہ ) کی قبضہ گیر حکمرانی کو باعث شرف سمجھتے ہوئے اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں۔ علمی، تاریخی اور تہذیبی طور پر نو آبادیاتی عوام کی نفسیات اور ان کا تشخص اس قدر مسخ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی فاتحین اور قابضین کی

Read more

مصنف بیچارا اب منظر میں کیسے رہے؟

آج کل کتابیں جس تیز رفتاری سے آ رہی ہیں اسی تیز رفتاری سے پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے پہلے چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک برس تک کتاب کے نام کا دیا روشن رہتا ہے تیرہویں مہینے وہ بھی پھڑپھڑانے لگتا ہے۔ پبلشر لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ چلو پانچ سو اشاعت کے دو ایڈیشن (یعنی ہزار کتب) ایک برس میں بیچ دیے۔ سال بعد بلکہ نو ماہ بعد مصنف کی

Read more

کھانے دار مشاعرہ

اردو ادب کی تاریخ میں مشاعروں کا ایک نمایاں مقام ہے جس نے اردو زبان کی ترویج و ترقی کے علاوہ ہندوستان کو نامی گرامی شاعر بھی عطا کیے۔ ان محافل کی سرپرستی پہلے بادشاہ، ریاستوں کے نواب اور رئیس زادے فرماتے تھے مگر پھر دور بدلا تقاضے بدلے تو اس روایت کے اصول و محاسن بھی بدل گئے۔ لیکن ہر دور میں مشاعروں کا انعقاد ہوتا رہا ہے جو اب بھی جاری و ساری ہے۔ اسی ضمن میں ایک

Read more

دیانتداری، فرض شناسی اور خوش کلامی کی روایت کے علم بردار: اصغر عابد

ادارے کے سارے دفاتر تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف ایک کمرہ ایسا ہے جہاں تاریکی نے تا حال اپنا ڈیرہ نہیں ڈالا، باہر سے گزرنے والا کوئی بھی شخص پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ یہ کمرہ کس کا ہے۔ اس کمرے میں ایک ایسا سادہ لوح شخص بیٹھتا ہے جسے شاید خود اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ فرض شناسی میں جنون کی کس بلند سطح پر آ چکا ہے۔ کام، کام اور صرف

Read more

شہاب نامہ پر ایک اعتراض کے جواب میں

شہاب نامہ کا بار اول یعنی پہلا ایڈیشن سن 1987 کے ماہ اگست میں اور دوسرا اسی سال میں اس کے ایک ماہ بعد ۔ اگر ساحر لدھیانوی کی تلخیاں شاعری کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے تو شہاب نامہ کو ایسی ہی فوقیت اردو سوانح عمری کے باب میں حاصل ہے۔ کتاب کی اشاعت سے کئی برس پہلے اس کے ابواب سیارہ ڈائجسٹ میں چھپا کرتے تھے اور شاید ان میں کچھ اسلام آباد کی ایک

Read more

مونی صاحب کا نئے زمانے پر عدم اعتماد: کچھوا، سائیکل اور نوکیا 3310

یہ دنیا ترقی کی راہ پر سرپٹ دوڑ رہی ہے، مگر مونی صاحب اب بھی پرانے وقتوں کے عاشق اور نئے دور کے کٹر دشمن ہیں۔ ان کے مطابق ہر نئی ایجاد اصل میں قیامت کی نشانی ہے، اور ہر بدلتی ہوئی چیز شیطان کی چال! دنیا چاند پر پہنچ گئی، لیکن مونی صاحب اب بھی کچھوے کے فلسفے پر کاربند ہیں۔ ان کے نزدیک جو بندہ کم چلے، زیادہ کھائے اور آرام کرے، وہی کامیاب ہے۔ کچھوا ان کا

Read more

سیٹ ون سی

کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو آپ کو مجبوراً پڑھنا پڑتی ہیں اور دوسری وہ جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ظفر مسعود کی کتاب ’سیٹ ون سی‘ کا شمار مؤخر الذکر کتابوں میں ہوتا ہے۔ ظفر مسعود پیشے کے اعتبار سے بینکر لیکن مورثی اعتبار سے فلسفی، نفسیات دان اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق اس خانوادے سے ہے جس کی رگوں میں نانا سید محمد تقی، رئیس امروہوی اور جون ایلیا کا خون

Read more

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی عالمگیر خوشحالی کی دعا

شاہ عبداللطیف بھٹائی ( 1689۔ 1752 ) دنیا کے عظیم صوفی شاعروں میں سے ایک ہیں، جن کی شاعری ثقافتی، مذہبی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے۔ ان کی شاعری صوفیانہ فلسفے پر مبنی ہے، جو محبت، ہمدردی اور تمام انسانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتی ہے۔ بھٹائی کے اشعار میں الوہی محبت اور عالمی بھائی چارے کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو اکثر فطرت اور روزمرہ زندگی کے مناظر سے مزین ہوتے ہیں۔ ان کے ایک بیت میں

Read more

نیچرلزم ادبی تحریک کو سمجھنے کی مختصر کوشش

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں مچھروں کی 3,500 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں؟ 200 کے قریب مچھر انسانی خون پینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مچھر اور جراثیم مسلسل نئی مزاحمت پیدا کر رہے ہیں، یہاں تک کہ بیکٹیریا اور وائرس وقت کے ساتھ اپنے جینیاتی قوانین اپنی نئی نسل میں منتقل کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دوائیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً، ہر سال لاکھوں انسان اور جانور ملیریا، ڈینگی، یا

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 8 )

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا گیا کہ استاد کی عزت کرو ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا کہ جو استاد کی عزت نہیں کرتا وہ بے ادب رہ جا تا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لئے استاد کی عزت ضروری ہے۔ آج کے بچے ماں باپ اور استاد سے دور ہو گئے ہیں اور گوگل سے قریب۔ کوئی مسئلہ پیش آیا نہیں کہ گوگل سے مدد مانگ لی۔ جب ہم کسی مسئلے میں ہوتے تو والدین کی مدد چاہتے تھے جس

Read more

انٹرفیس میگزین کا سرورق

ایک روز میں اپنی ای میل چیک کر رہا تھا۔ مجھے کسی خاص ای میل کا انتظار تو نہیں تھا۔ روز ایک جیسی ای میلز ہی ہوتیں تھیں۔ بینک کی طرف سے آئے پن کوڈ، سبسکرائب ویب سائٹس کی اپ ڈیٹ، اور ای میل سروس کی جانب سے بھیجی گئیں پروموشنز۔ لیکن اس روز ایک ای میل باقیوں پر نمایاں ہو رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ مختلف تھی اور خلاف توقع بھی۔ اس کے مقابلے میں باقی ای

Read more

برساتی مینڈک

  (اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ ’کایا کلپ‘ سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے ) برسات کو کس نے سہانا موسم کہہ دیا؟ ہندوستان میں جو بھی آیا لوگوں نے کچھ دیکھے سوچے سمجھے بغیر اسے اپنا لیا، اس کی اچھائیاں برائیاں سب اختیار کر لیں۔ برسات مشہد و شیراز کے ٹھنڈے علاقوں میں خوشگوار رہی ہوگی۔ فارسی ادب میں اس موسم کو پیارا لکھا جاتا

Read more

نئی کینالز، سندھ کے تحفظات کو نظرانداز کرنا بڑی غلطی ہوگی

چولستان کے بنجر صحرا کو آباد کرنے کے لیے کینالز بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے، اطلاعات ہیں کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو دعوتیں دی جا رہی ہیں، ملک کے امیر اور مراعات یافتہ شخصیات کو مخصوص مدت کے لیے پانچ پانچ ہزار ایکڑ رقبہ دیا جا رہا ہے، واحد شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت میں سارا رقبہ آباد کرنا ہے، ٹیوب ویلز، ڈرپ اریگیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہو

Read more

ارتقا کا سفر بہت سست رو ہے

ڈاکٹر شفاعت علی کا خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب! آپ سے میرا تعارف تو ”ہم سب“ کے ذریعے ہوا مگر میرے خود سے تعارف کے جاری سفر میں آپ کی تحاریر بشمول آپ کی کتب بلامبالغہ اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ ایسی علم دوست اور انسان دوست شخصیت سے میری نسبت میرے لیے باعث مسرت اور فخر ہے۔ آپ کے تحریری الفاظ کی توسط سے تو آپ کے خیالات اور نظریات سے رابطہ رہتا

Read more

یوم نسواں پہ کچھ اچھے مردوں کو سلام

عام عورت چاہے وہ ورکنگ ہو یا خاتون خانہ مجھے ہمیشہ مصلحت کی دریدہ چادر اوڑھے جبر کی مختلف صورتیں سہتی یہی کہتی ملتی ہے ”تم جانتی ہو یہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں“ یہ اعتراف نہیں اعتراف شکست ہے ؛ مرد کی بدزبانی پہ، اس کی پینترے بدلتی بلکہ کینچلی بدلتی فطرت اور بے وفائی پہ۔ یہ اعتراف شکست ہے اس کے رکھے ناروا سلوک پہ اور یہ سب سہ کر ہم اپنی بیٹیوں کو بھی یہی مصلحت بھری

Read more

مارچ، مارچ اور مارچ

مارچ گریگورین تقویم کا تیسرا مہینہ ہے۔ اسلامی یا قمری تقویم کا ہر مہینہ شمسی مہینے میں دس دس دن کے فرق سے تین برس تک رہتا ہے۔ اس کے بالمقابل بکرمی تقویم کے گیارہویں اور بارہویں مہینے پھاگن اور چیت آتے ہیں۔ پھاگن 13 فروری سے شروع ہو کر 13 مارچ تک اور چیت 14 مارچ سے لے کر 12 اپریل تک رہتا ہے۔ 13 اپریل کو بکرمی تقویم کا دوسرا مہینہ بیساکھ شروع ہوتا ہے اور اس ہی

Read more

کمرشل، اوسط اور اعلٰی ادب – مکمل کالم

میں ناول پڑھنے کا شوقین نہیں ہوں، اِس کام کے لیے جس صبر کی ضرورت ہے وہ مجھ میں نہیں، چیدہ چیدہ ناول میں نے ضرور پڑھ رکھے ہیں مگر زیادہ لُطف مجھے افسانے اور کہانیاں پڑھنے میں آتا ہے۔ تاہم دو سال پہلے انیس اشفاق کا ناول خواب سراب نظر سے گزرا، پڑھنا شروع کیا اور پھر پڑھتا چلا گیا، شاید دو یا تین نشستوں میں وہ ناول میں نے ختم کر لیا۔ ایسی عمدہ نثر، ایسا اچھوتا پلاٹ

Read more

ادب، فن تنقید اور قارئین کی نا انصافی

دنیا کے ہر کونے کے لوگ ارسطو کی ذہانت کے قائل ہیں، اس کا فلسفہ اور کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ارسطو ایک عظیم انسان تھا کہ اس نے لوگوں کو سوچنے کی راہ پر لگایا۔ لیکن وہ ایلیٹ کی حکومت (Aristocracy) کا حامی تھا، وہ غلامی کے حق میں تھا، اور اسے ”نظامِ قدرت“ قرار دیتا تھا۔ عورتوں کے بارے میں اس کے نظریات متعصبانہ اور برے تھے۔ جارج واشنگٹن نے امریکہ کو آزادی دلوائی، وہ گریٹ تھا،

Read more