عتیق احمد صدیقی کی کالم نگاری پر ایک نظر

ابلاغ عامہ میں کالم کی کوئی متعین یا طے شدہ تعریف نہیں ہے بلکہ کالم کو کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ اور تجزیہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی مخصوص فنی سانچہ بھی نہیں ہے البتہ کالموں کے موضوعات سے اُس کو شخصی کالم، سیاسی کالم، فُکاہیہ کالم، سماجی کالم، اسپورٹس کالم، اقتصادی کالم وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ زیر بحث ”تقویم“ عتیق احمد صدیقی کے کالموں کا وہ مجموعہ ہے جس کا زمانی و مکانی تعلق اکیسویں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 45 : نئی زمیں، نیا آسماں

” شوہر بیوی کے ساتھ اپنی فرض شناسی پوری کرے اور بیوی بھی شوہر کے ساتھ ویسا ہی کرے۔ بیوی اپنے بدن کی مالک نہیں بلکہ شوہر ہے، اور اسی طرح شوہر بھی اپنے بدن کا مالک نہیں بلکہ بیوی ہے۔ “ 1۔ کرنتھیوں 7 : 3۔ 4 چٹاگانگ کے لیے پی آئی اے کی پرواز آدھے راستے سے زیادہ طے کرچکی تھی۔ عارف نے اپنے اور مریم کے لیے سب سے پچھلی قطار میں سیٹیں لی تھیں تاکہ پرائیویسی

Read more

ڈاکٹر حبیبہ حسن جنگ کے دوران ایران کا حال سناتی ہیں

یہ چھ یا سات جون کی شام تھی جب میں نے ڈاکٹر حبیبہ حسن کو فون کیا اور کہا کہ دس جون کو رات کا کھانا غریب خانے پر کھائیے گا۔ ڈاکٹر شیرشاہ، گوہر تاج، شیما کرمانی اور کچھ دوست بھی ہوں گے۔ فون میں ان کی ہنسی گونجی اور آواز آئی ”میں تو نو جون کو الصبح ایران جا رہی ہوں۔ نئی ائر لائن چلی ہے، کراچی سے سیدھی تہران جائے گی اور دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے“

Read more

عائشہ خان: مُردوں کو کچھ نہیں چاہیے

منجھی اور خود میں ایک ادارہ، عائشہ خان اس جہان سے رخصت ہو گئیں۔ فنی دنیا کا ایک اور نقصان۔ پہلے پہل یہ خبریں آئیں۔ کبھی سوشل میڈیا پر، سبھی ٹی وی چینلز پر پھر یہ تفصیلات کہ کس حالت میں مردہ پائی گئیں؟ کیسے معلوم ہوا؟ کتنے دن بعد پتہ چلا؟ کیسی بے خبری، کسمپرسی اور تنہائی میں وقت نزع آیا اور ان کی روح قبض کر کے لے گیا؟ کس کو سب سے پہلے خبر ہوئی؟ کس نے

Read more

کشمیر کی چاندنی، بلبلِ کشمیر، حبہ خاتون

کشمیر صرف خوبصورت قدرتی مناظر، برف پوش سر بہ فلک پہاڑوں، سبزہ زاروں، مرغزاروں، دریاؤں، آبشاروں، اور کشادہ دامن وادیوں ہی کی سرزمین نہیں بلکہ یہ خطہ ادب، اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی نہایت زرخیز رہا ہے۔ کشمیر کئی عظیم شعرا کی جنم بھومی ہے۔ حبہ خاتون، لل دید، محمد غنی، مہجور، رسول میر، اور ارنی مل، جیسے عظیم شاعروں کی، روحانی و رومانوی شاعری، کشمیری ادب کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہے۔ لل دید جنہیں لالیشوری بھی

Read more

بیواؤں کا عالمی دن

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہر سال 23 جون کو دنیا بھر میں بیواؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بیواؤں کو زیر کفالت افراد، درپیش مسائل، غربت اور نا انصافی سے نپٹنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ وہ اس دن اپنی تمام تر مجبوریوں اور بے بسیوں کو بلائے طاق رکھ کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اگر ان کے حقوق پر ڈاکا نہ

Read more

مشترکہ فیملی نظام ایک خوبرو اور حساس نوجوان کی جان لے گیا

حادثاتی طور پر ملنے والی یہ انمول سی زندگی جسے اپنے حساب سے جینا تو درکنار سوچنا بھی جرم ٹھہرا، کس قدر روایتی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے، بظاہر آزاد پیدا ہونے والے انسان پر اس دنیا میں قدم رکھتے ساتھ ہی آبائی مذہب کی مہر چپکا دی جاتی ہے، بلوغت کی دہلیز تک پہنچتے سمے وہ کسی ایک مذہب کی تعلیمات کو حتمی سچائی کے طور پر تسلیم کر چکا ہوتا ہے، یہ جانے بغیر کہ کل کلاں کو

Read more

تنہا اور غیر شادی شدہ افراد کا مستقبل کیا ہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل رضوانہ شیخ رضوانہ شیخ کا خط تسلیمات، ڈاکٹر خالد، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے درمیان سابقہ خط و کتابت کافی مثبت رہی ہے اور اس بنا پر لکھے گئے مضامین سے کئی لوگوں کو رہنمائی ملی ہو گی۔ کچھ دنوں سے میں ایک اور معاشرتی مسئلے پر غور کر رہی ہوں اور اس کے بارے میں پڑھ کر اور دیکھ کر افسوس بھی ہوا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں بھی یہ بات آئی

Read more

مارکسی دانشور اور بابائے صحافت خورشید عالم کی یادیں

  حال ہی میں ترقی پسند خیالات کی ترویج و ترقی کی نامور علم بردار اور سوشلسٹ راہنما نزہت عباس جی کی مرتب کردہ کتاب ”خورشید عالم، یادیں، باتیں اور خطوط“ کی فیصل آباد میں تقریب رونمائی ہوئی، جِس میں نامور مارکسی دانشور اور صحافت کے درخشاں ستارے خورشید عالم کی یادوں، باتوں اور خطوط کو یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ نزہت جی کا کہنا ہے کہ ان کے خطوط اور مضامین اردو میں لکھے

Read more

ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے بات چیت (1 )

ریڈیو پاکستان لاہور میرا دوسرا گھر ہے۔ لاہور آنا ہو تو یہاں ضرور آتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ان کے براڈکاسٹنگ سفر پر بات ہوئی۔ پھر اتنے برس یہاں گزارنے کے بعد کیا وہ مطمئن ہیں؟ اور آخر میں بچتے بچاتے آج ریڈیو پاکستان کا جو حال ہے اس کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ ویسے عید تک انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے۔ آج کل چھٹیوں پر

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ سوہانہ شرما عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ و زاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 38

جب میں نے کرامت علی کو جمعیت کے ہاتھوں مرنے سے بچایا 1970 میں کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کئی سالوں کے وقفے کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کے لئے تقریب تقسیم اسناد یعنی کانووکیشن منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔ کرامت علی، رشید رضوی، عابد علی سید اور این ایس ایف کے دیگر لڑکوں نے کانووکیشن کی کارروائی کو درہم برہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ این ایس ایف کا کہنا تھا کہ ایسی ڈگریوں کا کیا فائدہ جو آپ کو

Read more

مشرقی طرزِ معاشرت: پرندوں سے ہی کچھ سیکھ لیں

میرے گھر کی بوگن ویلیا میں ہر سال کی طرح اس بار بھی چڑیوں، بلبلوں اور فاختاؤں نے گھونسلے بنائے، انڈے دیے اور بچے پالے۔ عموماً گھونسلے اونچی شاخوں پر ہوتے اور وہاں کا روزمرہ میری آنکھوں سے اوجھل رہتا۔ بس پروں کی پھڑپھڑاہٹ، اور چھوٹی چونچ کی ہلکی آوازوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ پرندوں کے بچے گھونسلوں سے باہر نکلتے اور پرندے انہیں پرواز کا ہنر سکھاتے دکھائی دیتے۔ اس بار فاختہ کا گھونسلا بہت

Read more

پوسٹ رومینٹک محبت کا منفرد تصور

محبت ایک گہرا، ہمہ گیر اور کثیر پہلو جذبہ ہے جو انسان کے شعور اور لاشعور دونوں میں جڑیں رکھتا ہے۔ یہ محض ایک رومانوی کشش نہیں بلکہ ایک وجودی کیفیت ہے، جس میں قربت، خلوص، ایثار، ہمدردی، اور گہرے جذباتی بندھن شامل ہوتے ہیں۔ محبت فرد کو اپنی حدود سے نکال کر دوسرے کی بھلائی کرنے و جینے کا تحریک عطا ہے، اور فرد اسی میں وہ سکون اور تکمیل محسوس کرتا ہے۔ فلسفہ، صوفیانہ ادب، اور نفسیات تینوں

Read more

الوداعی پیغام: آصف حمید صاحب کی خدمات کا اعتراف اور قومی فریضہ

جب بھی کوئی سفارتی نمائندہ، خواہ وہ کسی بھی منصب پر فائز ہو، اپنی ذمہ داریاں مکمل کر کے رخصت ہوتا ہے، تو یہ محض ایک تقرری یا تبادلہ نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ درحقیقت اس جذبہ خدمت کا اعتراف ہوتا ہے جو وہ اپنے ساتھ لاتا اور اپنی محنت سے چھوڑ جاتا ہے۔ آصف حمید صاحب کا ناروے میں بحیثیتِ ویلفیئر اتاشی کی ذمہ داریاں انجام دینا، صرف ایک سرکاری فریضہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے رشتے کی تکمیل تھی

Read more

عائشہ خان کی رخصتی اور تنہائی کی اذیت

چند روز قبل پاکستانی اداکارہ عائشہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ایک نامور فنکارہ، جنہوں نے کئی برسوں تک ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا، اب خاموشی سے اس جہانِ فانی کو چھوڑ گئیں۔ مگر اس رخصتی میں جو پہلو سب سے زیادہ دل کو چھو گیا، وہ تھا اُن کی آخری دنوں کی تنہائی، وہ سناٹا جو اُن کے اردگرد تھا، وہ چہرے جو نہیں آئے، وہ رشتے جو پیچھے رہ گئے۔ یہ صرف ایک

Read more

ابا جی کی یاد میں

میں تقریباً پیدائشی یتیم ہوں۔ پانچ چھ برس کا تھا جب سایہ پدری سے محروم ہو گیا تھا۔ مجھے ابا جی کا ہلکا سا ہیولا یاد ہے۔ ابھرے ہوئے رخسار، بڑی آنکھیں، چھوٹی داڑھی، سر پر پگڑی، کرتا اور تہبند میں ملبوس، کمزور جسم۔ ابا جی گاؤں میں تو کافی خوشحال اور فکر معاش سے آزاد تھے۔ لیکن اچھے مستقبل کے لیے جوں ہی گاؤں سے شہر نقل مکانی کی تو ان کی خوشحالی ختم ہو گئی۔ شہر میں آ

Read more

اداکار عامر خان کا انٹرویو اور ہندوستانی مسلمان کا مستقبل

بھارت میں رہنے والے مسلمان کس حد تک مجبور اور بے بس ہو چکے ہیں اس کا اندازہ مشہور اداکار عامر خان کے ٹی وی انٹرویو سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ انٹرویو ’حال میں آپ کی عدالت‘ نامی ٹی وی شو میں لیا گیا۔ انٹرویو میں سپر سٹار عامر خان کو دیش بھگت نہ ہونے، لالچ اور آدھا ہندو آدھا مسلمان ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ حتّی کہ اپنے بچوں کے مسلم ناموں کی وضاحت کرنا پڑی۔

Read more

خواب، محبت اور زندگی 37

جب فیض ہم سے ملنے آئے ہوسٹل میں میری نسرین تالپور سے دوستی ہو گئی۔ طارق فتح، شہریار مرزا اور انیس باقر ان دنوں جیل میں تھے۔ میں ایک مرتبہ نسرین کے ساتھ ان سے ملنے جیل بھی گئی۔ ہمارے ساتھ جامعہ ملیہ کا جاوید بھی تھا۔ ایک مرتبہ ہوسٹل میں ہمیں خبر ملی کہ حبیب جالب کراچی آئے ہوئے ہیں۔ میں ان سے ملنا چاہتی تھی۔ میں نے نسرین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے والد رسول

Read more

خون سے کھیلتی جنگ یا سیاست

دنیا کی فضا میں آج بھی بارود کی بو بسی ہوئی ہے۔ ہوا میں گولہ بارود کی سیٹیاں، ماؤں کے آنسو اور بچوں کی معصوم آنکھوں میں خوف کے شعلے یہ سب کچھ ایک ایسی المناک داستان بیان کرتے ہیں جس کا ہر لفظ خون سے لکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر انسانیت کو سب سے بڑے امتحان میں لا کھڑا کیا ہے یہ جنگ نہیں ایک اجتماعی انسانی المیہ ہے جہاں

Read more

ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟

ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔ عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ وزاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا نہیں بلکہ اپنی

Read more

نئی غزل کا نیا موسم

  (ناصرہ زبیری کی شاعری کا نیا مجموعہ ”بے موسمی خواہشیں“ ) شاعری میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے دلوں میں گھر کرتی ہیں، مگر ایک بار اگر سن لی جائیں تو پھر مدتوں ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ ناصرہ زبیری کی آواز بھی ایسی ہی ہے۔ مہذب، شائستہ، دھیما لہجہ، جس میں نہ بلند آہنگی ہے نہ خطابت کی جھلک، بس ایک خاموش مکالمہ ہے جو قاری کے باطن میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ اُن کی تازہ کتاب

Read more

جس کا نکاح ہو چکا تھا…

وہ لڑکی میرے آفس آئی۔ نقاب میں لپٹی، چہرہ ڈھکا ہوا مگر لہجہ ایسا دھیما اور مدھم جیسے کوئی کان کے قریب چپکے سے کہہ رہا ہو: ”سر، میں اس لڑکے سے نکاح کر چکی ہوں۔ مگر اب وہ انکاری ہے۔“ شہر کے شمالی حصے میں ایک شام ایسی بھی آئی تھی جس نے سورج سے روشنی چھین لی تھی اور گھروں کے اندر قفل لگے چہروں پر صرف اندھیری دھوپ اتری تھی۔ دل کے موسموں میں بھی کبھی کبھی

Read more

بے بنیاد و جھوٹی خبریں پھیلانے میں سوشل میڈیا کا کردار

جب ہم نئے دور کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کو خبروں کے لیے زیادہ تر سوشل میڈیا پر انحصار کرتے دیکھا گیا ہے۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب مصدقہ خبر اور حالاتِ حاضرہ کے لیے اخبار پڑھا جاتا تھا۔ صبح سویرے ہر گھر میں اخبار کا آنا معمول کا حصہ تھا اور اخبار میں خبر اسی وقت شائع ہوتی تھی جب اس کی قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق ہو جاتی تھی ’خبر لگاتے وقت بہت احتیاط برتی جاتی

Read more

ٹرمپ، فیلڈ مارشل ملاقات: ’’عاشقان‘‘حقائق سمجھنے سے قاصر

امریکہ میں مقیم عاشقان عمران خان کو اپنے گھر تک محدود ہوا یہ قلم گھسیٹ دیوانوں کی طرح اس کالم کے ذریعے سمجھاتا رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پاکستان میں ’’اصل جمہوریت‘‘ کی بحالی کے لئے اپنے قائد کی رہائی یقینی بنانے کی توقع نہ باندھیں۔ مجھے مگر نہایت رعونت سے یہ بتایا گیا کہ جو عاشقان اپنے محبوب کی رہائی کے لئے متحرک ہیں وہ امریکہ کے سیاسی نظام اور اس پر اثرورسوخ کی حامل قوتوں اور افراد کو

Read more

خواب، محبت اور زندگی 36

Return of the crush who turned turncoat ایک روز ڈیپارٹمنٹ سے ہوسٹل کی طرف جاتے ہوئے عقب سے کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو کوریڈور کے کونے پر وہ صاحب کھڑے تھے جن پر فرسٹ ائر میں مجھے کرش ہو گیا تھا۔ کیا میں خواب دیکھ رہی تھی؟ نہیں یہ حقیقت تھی۔ وہ واقعی مجھ سے ملنے یونیورسٹی آ پہنچے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اب وہ کالج کی بجائے ایک غیر

Read more

حیات دُکھ ہے، ممات دُکھ ہے

میں یاسر جواد کو نہیں جانتا۔ اچھی بات شاید یہ ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ میرا ان سے تعارف ان کی آپ بیتی ”کتاب کہانی“ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے ایک مشکل زندگی گزاری اور اس سفر کے دوران بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان میں بقول مختار مسعود قحط الرجال پڑ چکا ہے۔ ٹھیک آدمی تو نُسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتا۔ زندگی

Read more

زندہ رود از جاوید اقبال: علامہ اقبال سے ملنے کا اک بہانہ ہی تو ہے

علامہ اقبال ہماری تاریخ کی وہ بڑی شخصیت ہیں جن سے تعارف اب ہماری تہذیب، تمدن اور ماحول کا حصہ ہے۔ نا چاہ کر بھی ہم اقبال سے واقف رہتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ اقبال کی شخصیت، فکر، شاعری، فلسفہ، سیاست اور کردار غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار ان چند شخصیات مین ہوتا ہے جن کو اپنی زندگی کے اولین دور میں ہی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ مفکر پاکستان اور حکیم الامت

Read more

حاجی فضل کریم چوہدری ایک نام، ایک نظریہ

صحافت صرف خبروں کی ترسیل نہیں، بلکہ ایک مشن، ایک جدوجہد اور ایک کردار کی آزمائش ہے۔ جب کوئی شخص اس میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ صرف قلم نہیں اٹھاتا، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لیتا ہے۔ ایسی ہی عظیم اور باوقار شخصیات میں سے ایک نام ہے حاجی فضل کریم چوہدری صاحب کا جو اس وقت علیل ہیں اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔ حاجی فضل کریم چوہدری، چیف ایڈیٹر ڈیلی فریش نیوز جھنگ،

Read more

“ایران میں رجیم چینج آپریشن: خود ”اندھیرے“ میں ہیں دُنیا کو دِکھاتے ہیں ”چراغ

نیتن یاہو اور امریکہ ایران میں، ”رجیم چینج“ (منتخب حکومت کی تبدیلی) کے لیے ایک عرصے سے امریکہ اور اسرائیل نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ قسم، قسم کی سازشیں، خفیہ حملے اور ہر ممکن پابندیوں کے علاوہ ایرانیوں کی ذہن سازی کے لیے ڈالروں کی برسات۔ لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے اپوزیشن گروپس بھی موجودہ رجیم کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ایرانی عوام اس مقصد

Read more

ٹیگور کی نوبل انعام یافتہ کتاب: ”گیتانجلی“ (آفاقی محبت کے گیتوں کی مالا) کا تعارف اور تبصرہ

رابندر ناتھ ٹیگور صرف بنگال کے نہیں بلکہ برصغیر کے فکری، ادبی اور روحانی افق کے ایک درخشاں ستارے تھے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس، فلسفی، موسیقار، تعلیم دان، مصور، اور سب سے بڑھ کر ایک مفکر تھے۔ انہیں ”گرو دیو“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور اردو میں اکثر رابندر ناتھ ٹھاکر لکھا جاتا ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری، افسانے، ناول، ڈرامے، سفرنامے، مضامین، اور گیت، انہوں نے

Read more

’سالک‘ کی باتیں

نعیم اشرف کا خالد سہیل کو خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل تسلیمات! مجھے اُمید ہے کہ میری یہ چٹھی آپ کو ہمیشہ کی طرح ہرا بھرا اور باغ و بہار پائے گی۔ میں نے SEEKER کے نام سے آپ کی سوانح حیات 2018 ء میں پڑھ لی تھی۔ اس کے چھ سال بعد جب یہی کتاب سالک کے نام سے اردو میں شائع ہوئی تو دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ پھر جب اس سال فروری میں کتاب کی

Read more

سپینوزا کا پرستار۔ آئزک سنگر کے افسانے کی تلخیص اور ترجمہ

( 1 ) ڈاکٹر نیہم فچلسن اپنے کمرے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ وہ کمرہ جس گھرکا حصہ تھا وہ وارسا کی مارکٹ سٹریٹ میں واقع تھا۔ ڈاکٹر فچلسن چھوٹے قد کے کبڑے سے انسان تھے۔ ان کی داڑھی سفید ہو رہی تھی اور سر کے بال غائب ہو رہے تھے۔ ان کی ناک کسی پرندے کی چونچ کی طرح مڑی ہوئی اور آنکھیں کسی جانور کی آنکھوں کی طرح بڑی تھیں۔ اگر چہ وہ گرمی کا موسم تھا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 35

ابتدائی سیاسی مہم جوئیاں یونیورسٹی میں میرے ابتدائی دنوں میں ایوب خان نے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک میرے یونیورسٹی میں کسی سے سیاسی روابط نہیں تھے۔ اور کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہ خبر سن کر بہت غصہ آیا۔ اور میں نے اپنی ہوسٹل کی چند دوستوں کو احتجاج پر آمادہ کر لیا۔ ہم نے مل کے بھٹو کی رہائی کے مطالبے کے لئے پوسٹرز تیار کیے۔ اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی

Read more

توشہ: ایک میٹھی مشرقی روایت

پورا ہفتہ محنت مشقت کے بعد پردیس یعنی کینیڈا میں دیسی یعنی پاکستانی دوست مل بیٹھتے ہیں اور دکھ سکھ سانجھے کرتے ہیں۔ گزشتہ اتوار بھی ایسی ہی ایک محفل برپا ہوئی۔ ہمارے میزبان ادب نواز اور مشرقی روایات کے امین ہیں۔ شام کی پُرتکلف دعوت کے بعد جب تمام دوست رخصت ہونے لگے تو ہر مہمان کو توشہ کے ساتھ وداع کیا گیا۔ گویا یہ کوئی معمولی رخصتی نہ تھی بلکہ اس میں مشرق کی صدیوں پرانی مہمان نوازی

Read more

اباجی اور ان کی زراعت سے محبت

شادی کے چار سالوں میں ایک شہر، دو گھر وہ بدل چکے تھے۔ وجہ نوکری تھی۔ وہ ابھی جوان تھے۔ پہلی پہلی نوکریوں کی محنت اگلی بہت بہتر مواقعوں کی صورت ان کے سامنے آ رہی تھیں۔ اس لئے وہ ’رسک اور مشقت‘ سے نہیں گھبراتے تھے۔ ایبٹ آباد سے اسلام آباد ان دنوں، دونوں ہی اب سے زیادہ خوشگوار تھے۔ تیسرا گھر اسلام آباد ایکسپریس وے پر راولپنڈی کی ایک پرانی لیکن اچھی رہائشی کالونی میں تھا۔ جس کے

Read more

احساسِ کمتری سے انتقام تک: نوجوانوں کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کی داستان

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک ایسے المیے کی زد میں ہے جو صرف غربت، بدامنی یا سیاسی بحرانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے معاشرتی اور نفسیاتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ ہم آئے روز کسی نہ کسی دل دہلا دینے والے سانحے کا سامنا کرتے ہیں، اور ہر واقعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اپنی نئی نسل کی ذہنی و جذباتی تربیت میں ناکام ہو چکے ہیں۔ حالیہ واقعہ، جس میں ثنا یوسف

Read more

تخلیق کا کرب

تیز ہوا کا ایسا جھونکا آیا کہ ننھی کلی کی باغ عدن میں آنکھ کھلی۔ اُسکے پیر ٹہنی پر جم نہیں رہے تھے۔ کبھی دائیں اور کبھی ہائیں گرتی پڑتی۔ تیز ہوا میں سورج کی کرن ایک طرف پتوں کی اوٹ سے کیاری میں داخل ہو رہی تھی۔ سب پودے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی شعاع ان کے وجود سے ٹکراتی پھول تو انگڑائیاں لیتے کھل جاتے اور ہوا میں جھومنے لگتے۔ یہ کلی ابھی

Read more

ہٹی دا ٹائم

’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا

Read more

علامہ اقبال کے مکمل اردو کلام کا منظوم فارسی ترجمہ

علامہ اقبالؒ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد جب 1908 ء میں انگلستان سے واپس ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت انہیں یورپی ادبیات کی حالت بھی ویسی ہی محسوس ہوئی جیسے مشرقی ادبیات کی تھی جو اپنی تمام تر ظاہری دل فریبیوں اور دلکشیوں کے باوجود روح اور جذبے سے خالی تھیں۔ اقبال مشرقی ادبیات میں روح پیدا کرنے کے لیے کوئی ایسا وسیلہ تلاش کر رہے تھے جس کی مدد سے ادبیات میں اک نئی روح پیدا کی

Read more

شبانہ

 ’مولانا آپ نے شبینے تو بہت دیکھ رکھے ہوں گے، آج شبانہ کو دیکھیے‘ میں نے احترام الحق تھانوی صاحب سے شبانہ اعظمی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، مولانا جو کراچی کی نصف شب میں سر پر چار کونی کلف لگی ٹوپی، سفید براق لباس مین ناقابل یقین حد تک سیاہ لشکتی ہوئی ڈاڑھی، سرمہ لگی روشن انکھوں اور اپنے بوٹا سے قد کے ساتھ ہماری محفل میں شامل ہوئے تھے۔  ’بھئی یہ تو شبانہ ہیں اور ہم روزانہ ہیں‘

Read more

جب عورت منہ پھٹ بنتی ہے: معاشرتی تلخیوں کا عکس

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں عورت کو پردے، حیاء، نرمی اور بردباری کا پیکر سمجھا جاتا ہے وہاں ایک منہ پھٹ یا سخت لہجے والی عورت لوگوں کے لیے کسی عجیب مخلوق سے کم نہیں ہوتی۔ اسے فوراً ناپسندیدہ، بدتمیز، تربیت سے عاری اور ضدی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک عورت ایسی بن کیوں جاتی ہے؟ آخر کیا مجبوری ہوتی ہے کہ وہ عورت جسے صبر اور خاموشی کی تعلیم دی گئی ہو

Read more

اکلوتی بیٹی کے باپ کے نام

15 جون کو فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ مختلف طرح سے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عموماً اس کو روایتی طرز سے منایا جاتا رہا ہے کہ لوگ اپنے والد کو تحائف، پھول اور کارڈ اچھے الفاظ کے ساتھ مزین کر کے پیش کرتے ہیں۔ اب لوگ مختلف طرح کے باپوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جیسے وہ باپ جنہوں نے مس کیرج میں اپنے بچوں کو کھو دیا یا جنہوں نے

Read more

محبت بھری دوستی کی خوشبو

امیر حسین جعفری کا خط محترم خالد سہیل صاحب میری صحتیابی کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر چھپی آپ کی تحریر نہ صرف قارئین کو پسند آئی بلکہ کسی سطح پر ان کی حیرت اور استعجاب کا باعث بھی قرار پائی اس استعجاب کا ایک سبب میرا خدا پرست ہونا بھی ہے۔ یقینآ ہماری دوستی شعر و ادب، انسان دوستی اور بائیں بازو کے نظریات، فلسفہ اور الہٰیات کے مطالعے کی بنیادوں پر استوار ہے۔ میرے والد جناب اختر حسین

Read more

ایرانی یوتھ اور زن زندگی آزادی بزبان نیتن یاہو

2003 میں ڈنکی ( غیر قانونی طور پر بارڈر کراسنگ) لگا کر میں ایران گیا تھا اور تقریباً ڈیڑھ دو ماہ وہاں قیام کیا تھا۔ تب بھی وہاں مجھے اس قدر سخت گیری یا مذہبی آمریت نظر نہیں آئی تھی جس قدر دنیا میں اس کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ رقص و سرود، محافلِ عیش و نشاط، برانڈڈ مشروب مغرب، ٹن پیک، 200 ایم ایل کے ساشے پیک، بوتلوں کی شکل میں اور دیسی مشروب بیسیوں مختلف اقسام میں عام

Read more

پاک فضائیہ کا ایک افسانوی عقاب: گروپ کیپٹن سیف الاعظم

پاک فضائیہ کی تاریخ میں انتہائی حیرت انگیز فضائی معرکے سرانجام دینے والے بہت سے مایہ ناز اور دلیر لڑاکا ہواباز گزرے ہیں۔ جن میں عالمی شہرت یافتہ لڑاکا ہواباز ائر کموڈور ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) کا نام سرفہرست ہے۔ جنہوں نے ستمبر 1965 ء کی پاک و ہند جنگ کے دوران ایک ہی فضائی مشن میں سرگودھا کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے حملہ آور دشمن بھارت کے پانچ طیاروں سے تن تنہا نبرد آزما ہو کر

Read more

خواب، محبت اور زندگی (34)

ہوسٹل میں پہلی رات یوں میری یونیورسٹی کی زندگی کا آغاز ہوا۔ گرلز ہوسٹل کی خوبصورت عمارت اسی سال مکمل ہوئی تھی۔ سفید رنگ کی سنگ مرمر جیسی دو منزلہ عمارت کے درمیان ایک ہرا بھرا لان تھا۔ کھانا حیدرآباد کالج کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر تھا مگر پھر بھی مہینے میں ایک آدھ مرتبہ لڑکیوں کے کسی نہ کسی گروپ کا کھانے کی کوالٹی یا مینو کے حوالے سے وارڈن سے جھگڑا ضرور ہوتا تھا۔ ممتاز اور تین

Read more

ڈائن کا گھر

”ڈائن دا گھر وی اتھائیں تے بالاں دی کھیڈ وی اتھائیں“ ہمارے سرائیکی وسیب میں بولے جانے والی مشہور کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ جہاں بچے کھیلتے ہیں وہیں ڈائن کا گھر ہے یعنی ظلم کا ایوان بھی وہیں ہے اور معصوم بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی وہی ہے۔ ظلم اور معصومیت کب ساتھ رہ سکتے ہیں؟ یہ کہاوت آج کے جدید ترین عالمی ظلم پر صادق آتی ہے۔ کہاں ایک دیہی کہاوت اور کہاں ایک جدید،

Read more

دو عقلمند

چنے خان اور منے خان کا نام تو دوستوں کی زبانی بہت سنا تھا مگر اُن سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ لیکن جس دوست سے بھی ان کا سُنا اُس نے ان لفاظ میں تعریف کی کہ ”جہاں عام انسان کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کی سوچ شروع ہوتی ہے“ ۔ میرے اندر اُن سے ملنے کا اشتیاق حد سے بڑھ رہا تھا مگر شومئی قسمت کہ ابھی تک ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہ

Read more

مصوری کی روایت

زمانہ قدیم میں دیواروں اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر تصاویر بنائی جاتی تھیں بتوں پر بھی رنگ و روغن کیا جاتا تھا تا کہ وہ اصل کے مطابق ہو سکیں۔ یونانی اپنے گلدانوں وغیرہ پر اپنی روز مرہ کی زندگی کے متعلق تصاویر بناتے تھے۔ چین بھی مصوری میں مشہور رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں مانی اور بہزاد کا نام اس سلسلے میں زندہ جاوید ہے۔ جدید طرز کی مصوری اٹلی میں تیرہویں اور چودھویں صدی میں

Read more

مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن اور گہری عالمی سازشیں

اسرائیل، ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے دوسرا اسرائیل اپنی دفاعی طاقت کے زور پر مشرق وسطیٰٰ کے بعض ممالک میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے اردن، مصر اور شام وغیرہ میں جبکہ خود کو یمن اور لبنان کے اطراف سے غیر محفوظ تصور کرتا ہے اسرائیل کا موقف ہے کہ ایران اس کے خلاف مختلف گروہوں کی ہر طرح کی معاونت کرتا رہتا ہے اور یہ گروہ اسرائیل پر حملے کرتے رہتے ہیں اصل بات

Read more

اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان

” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔ آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے

Read more

منٹو کے افسانوں میں سماجی اخلاقیات

سماجی اخلاقیات سے مراد وہ اصول و ضوابط ہیں جن کی ایک معاشرہ اپنے افراد سے بطور طرز عمل توقع رکھتا ہے۔ دراصل یہ انسانی ہمدردی کے وہ اخلاقی اصول ہیں جو گروہوں اور معاشروں کی بہبود کا وسیلہ ہیں۔ یہ اجتماعی خیر اور انسانی عزت و عظمت کو ترجیح دینے کا دوسرا نام ہیں۔ ان سماجی اخلاقیات میں سچائی، دیانت، ہمدردی، انصاف، مساوات، رواداری اور احترام آدمیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ یہ انفرادی اخلاقیات سے اس لیے ممتاز ہیں کہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 33

بوڑھی عورت اور چین کا ثقافتی انقلاب یہ بات مجھے بہت عرصہ بعد سمجھ میں آئی کہ جب میں اور فہمیدہ اپنی چین نوازی اور روس نوازی کے حوالے سے بحث میں مصروف تھے تو احفاظ خاموشی سے کھڑے مسکرا کیوں رہے تھے۔ احفاظ ہماری شادی سے پہلے بھی 1969 میں اپنی نوجوانی کے زمانے میں چین گئے تھے۔ (یہ وہی سال تھا جب میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا) ۔ احفاظ کا تعلق بھی چین نواز کیمپ

Read more

عورت کی کئی شناختیں : ایک نفسیاتی اور سماجی الجھن کا تجزیہ

عورت کو زندگی میں بیک وقت کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس کی زندگی محض ایک کردار تک محدود نہیں رہتی؛ وہ بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، پروفیشنل، طالبہ، دوست، اور بعض اوقات ان سب کرداروں کا امتزاج بھی ہوتی ہے۔ یہ شناختیں اگرچہ ظاہری طور پر مضبوط اور مکمل ہونے کا احساس دیتی ہیں، لیکن ان کے باطن میں ایک مسلسل کشمکش، بوجھ اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ ایک ایسا ذہنی دباؤ جو معاشرتی توقعات، جذباتی تقاضوں، اور

Read more

بے سمت تربیت۔ ایک سنگین خاموشی

ریشم کا کیڑا اپنی چند دن کی زندگی کا تقریباً اسی فیصد وقت صرف کھانے میں گزارتا ہے، اور پھر مرنے سے قبل تقریباً نو سو میٹر (لگ بھگ ایک کلو میٹر) تک انسانیت کے کام آنے کے لئے خام ریشم چھوڑ جاتا ہے۔ جو کچھ بھی اس کے پاس ہوتا ہے، وہ زندگی کی آخری سانس تک لٹا دیتا ہے۔ مگر انسان؟ وہ جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے؟ آج کے انسان کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے قتل

Read more

فطرت روٹھ گئی ہے

کہا جاتا ہے کہ انسان فطرت کا حصہ ہے، مگر جب انسان خود کو فطرت سے ماورا سمجھنے لگے تو بگاڑ جنم لیتا ہے۔ درختوں کی چھاؤں، پہاڑوں کی خاموشی، ندیوں کا بہاؤ، ہواؤں کا نرماہٹ بھرا لمس۔ یہ سب کبھی ہمارے ماحول کا حسن ہوا کرتے تھے۔ آج یہی فطرت اجنبی ہو چکی ہے، جیسے کوئی ناراض ماں، جو اپنے بچوں کی نافرمانی پر خاموش احتجاج کر رہی ہو۔ ہم نے زمین کو صرف ایک ”وسیلہ“ سمجھا، محبت کا

Read more

چراغ سا دل

(بانو مشتاق کو 2025 کا بوکر پرائز ملا ہے۔ وہ ہندوستان کی پانچویں لکھاری ہیں جن کو یہ اعزاز ملا ہے۔ بانو مشتاق جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھتی ہیں اور وہاں کی زبان کناڈ میں لکھتی ہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعہ کا ترجمہ Heart Lamp کے نام سے دیپا بھستی نے کیا ہے اور انعام کی رقم مصنفہ اور مترجم دونوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ 200 صفحات کی اس کتاب میں 12 افسانے ہیں۔ ان

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

داخلِ انسان سمندر لا محدود

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ وہ اس دنیا میں مختلف لوگوں سے تعلق استوار کرتا ہے۔ تعلقات کی استواری کا سلسلہ اس کی پیدائش سے شروع ہو جاتا ہے اور موت تک جاری رہتا ہے۔ زندگی کے سفر میں انسان کے ساتھ مختلف لوگ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ مختلف افراد انسانی زندگی میں موقع و محل کے مطابق آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ان افراد میں انسان کے رشتے دار، دوست احباب شامل ہوتے

Read more

”فیل می“ ایک سماجی برائی

ہمارے سماج کو بہت سی سماجی برائیوں کا سامنا ہے لیکن سوشل میڈیا کے عروج اور موجودہ منظر نامے میں سب سے بڑی بیماری ”Feel Me“ ہے۔ یہ ایک نفسیاتی الجھن ہے جو ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس بیماری کی علامات نہ صرف ہمارے ناخواندہ طبقے میں نظر آتی ہے بلکہ پڑھے لکھے طبقے میں بھی کافی حد تک اس کے آثار اب دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بیماری

Read more

قہقہے کے پیچھے آئینہ

کہتے ہیں ایک بستی تھی جو الفاظ سے بنی تھی۔ یہاں خیالات درختوں پر پھلتے، اور سوالات کی جڑیں زمین میں اترتی تھیں۔ اسی بستی میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کی آنکھوں میں کائنات کی حیرانی بسی ہوئی تھی۔ ان ابھری ہوئی آنکھوں نے اس کا نام رکھا جاحظ۔ چہرہ ایسا جیسے عقل مذاق کر رہی ہو، اور مزاح کسی فلسفے کی صورت اختیار کر گیا ہو۔ جب دوسرے بچے گیند سے کھیلتے، وہ نقطوں اور ویرگول سے کھیلتا۔

Read more

صحیح راستہ کیا ہے؟

ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ صحیح راستے پر سفر کیا جائے، خاص طور پر دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملات میں۔ یہ لین دین یا تو انفرادی سطح پر ہو سکتا ہے یا پھر خاندان، برادری یا قوم کی سطح پر۔ سوال یہ ہے کہ صحیح راستہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے منزل کی بات کرتے ہیں۔ ایک صالح زندگی کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں؟ ایک مثالی معاشرے کے ہمارے خواب کیا ہیں؟ ایک مثالی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (32)

حصہ دوم۔ دی لیفٹ یہ حصہ بنیادی طور پر میرے لیفٹسٹ آدرشوں اور خوابوں سے لے کر عملی جدوجہد کا حصہ بننے تک کے سفر کی کہانی ہے۔ میں کیسے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن NSFکا حصہ بنی۔ میں نے کیسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے کامیاب انتخابی مہم چلائی اور کراچی یونیورسٹی کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کی اکنامکس سوسائٹی کی پہلی ترقی پسند لیفٹسٹ خاتون نائب صدر منتخب ہوئی۔ اور بہت سے فیصلہ کن لمحات اور واقعات کے ساتھ

Read more

”رف رف رفتن“ کا راشد جاوید

فنکار غبارے میں ہوا کی طرح آسمان پر سفر کرتا ہے۔ تحریر کا وزن اس کے تخلیقی سفر کا اعادہ کرتا ہے۔ راشد جاوید بھی جس غبارے میں سوار ہیں اس کی ہوا خاصی مضبوط اور گرہ سخت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ”رف رف رفتن“ پڑھ کر ہوا۔ اس سے قبل ان کے پنجابی کے دو افسانوی مجموعے ”مٹی اتے لیک“ اور ”جنگل اگی چپ“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی کہانیوں کا مجموعہ ”Fructured

Read more

ہم اس دنیا کو جنت کیسے بنا سکتے ہیں؟

دنیا آج جس مقام پر کھڑی ہے، وہاں ایک طرف سائنس، ٹیکنالوجی، ترقی اور دولت کے حیرت انگیز مناظر ہیں تو دوسری طرف انسانیت، محبت، اخلاص اور امن کے بحران کی بدترین صورت حال بھی موجود ہے۔ معاشرتی بگاڑ، جھوٹ، لالچ، منافقت اور نفرتوں کا زہر ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم ترقی تو کر گئے مگر انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دنیا کو امن، محبت اور بھائی چارے

Read more

زبانیں جو دریا بن گئیں

  شام کے سات بج رہے تھے، لیکن کراچی کا آسمان اب بھی سورج کے کچھ ذرے تھامے ہوئے تھا۔ باہر سڑک پر چائے والے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی، اور اندر سارہ ندیم کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی تھی۔ نیویارک، برلن اور کراچی ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔ زوم میٹنگ میں تین چوکٹھے تھے، تین وقت، تین زبانیں، لیکن ایک ہی دھڑکن۔ ایک ہی سوال سب کے ذہن میں گونج رہا تھا:

Read more

غنی خان اور اپنا ادبی فلسفہ

غنی خان بابا جدید پشتو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور ان کا اپنی شاعری میں فلسفیانہ لب و لہجہ ہے۔ شاعر اپنی کلیات میں زندگی کا ایک فلسفہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم بلا کے سامنے کتنے ہی بے بس کیوں نہ ہوں، ہمیں کم از کم احساس تو ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے ساتھ جینے اور روحانی پاکیزگی کی قدر سیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ غنی خان انسانوں کو اپنی زوال

Read more

ماں کی بے بسی اور تعلیم یافتہ اولاد کی بے مہریاں

ابھی پچھلے دنوں ہی کی یہ داستان ہے ایک ایسی حقیقت کی جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں گہری جڑیں پکڑے ہوئے ہے، ایک ایسی کہانی جو آنکھوں کو نم کر دیتی ہے اور دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ کہانی ہے ایک سابق وائس چانسلر کی اہلیہ کی، ایک ایسی خاتون جو بظاہر ایک معزز اور پڑھے لکھے خاندان کا حصہ تھیں، جن کے بیٹے اور بیٹیاں معاشرے میں اونچے مقام پر فائز تھے۔ ایک بیٹا امریکہ سے تعلیم یافتہ، ایک

Read more

گلابی کاپی کے اوراق

اسکول جانا شروع ہوئے تو قاعدہ، تختی، قلم، دوات، سیاہی اور پھر پنسل، پنسل تراش، سلیٹ اور پھر اس پر لکھنے کو چاک اور سلیٹی جیسی نئی اور دلچسپ چیزوں سے واسطہ پڑا تو بڑا عجیب لگتا تھا۔ پہلے پہلے تو زمین کی مٹی یا ریت پر لکھ کر ہاتھ سے مٹا دیتے تھے اور روزانہ تختی کو گاچی لگا کر اسے صاف کرنا پھر لکھنا اور پھر صاف کرنا سلیٹ پر سفید سلیٹی یا چاک سے لکھنا اور اپنے

Read more

کیا پاکستان چین کا اسرائیل ہے؟

اگر آپ سے کہا جائے کہ پاکستان چین کا اسرائیل ہے تو کیسا لگے گا؟ مجھے نہیں یقین کہ زیادہ لوگوں کو یہ بات پسند آئے گی۔ مگر یہ بات اپنے اشارے اور استعارے میں بہت گہری بات ہے جو چائنہ پاکستان تعلقات کی گہرائی اور گیرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ جملہ اینڈریو سمال کی کتاب چائنہ پاکستان ایکسز کا پہلا جملہ ہے۔ یہ جملہ چائنیز خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل شانگ وانگ کائے نے 1990 کی دہائی میں

Read more

ہاں! میں پیرونائیڈ ہوں

آپ کا تو نہیں معلوم اپنا بتائے دیتی ہوں۔ قندیل بلوچ کے قتل میں جب اس کا اپنا بھائی وسیلہ بنا تو میں کئی دنوں تک اپنے سگے بھائی سے نظریں نہ ملا پائی۔ مجھے کسی اور بھائی کے کرموں کے کارن اپنے بھائی سے اس قدر خوف لاحق ہو گیا کہ اگر کبھی گھر پہ ہم دونوں اکیلے ہوتے تو میں ڈر کے مارے کمرہ اندر سے لاک کر لیتی۔ پھر نور مقدم کے بہیمانہ قتل پر تو میں

Read more

سانجھ: جہاں کتابیں بکتی نہیں، بانٹی جاتی ہیں

کتابوں کی دکانوں کا تذکرہ ہو تو ذہن میں اکثر وہی روایتی منظر ابھرتا ہے۔ شیلفوں پر سجی کتابیں، بے رونق چہروں والے دکاندار، اور ایک سودا سا، جیسے الفاظ کو ترازو میں تولا جا رہا ہو۔ اگر آپ لاہور کی ٹیمپل روڈ سے صفاں والے چوک سے گزر کر مزنگ اڈے کی طرف مڑیں، تو بائیں ہاتھ ایک گلی میں ’سانجھ‘ نام کی ایسی کتابوں کی دکان واقع ہے جو دکان سے کہیں زیادہ ایک تہذیبی بیٹھک ہے، ایک

Read more

شہناز رحمت اللہ۔ بلبلِ بنگال

جنریشن ایکس کرہِ ارض پر پائی جانی وہ نسلِ انسانی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہوئی۔ پوری دنیا کے تناظر میں بات کی جائے تو یہ نسل شہری حقوق کی تحریکوں، انسان کے چاند پر قدم رکھنے اور ویتنام کی جنگ جیسے واقعات کی شاہد ہے۔ ہمارا تعلق بھی جنریشن ایکس سے ہی ہے۔ جو اپنے بچپن سے ہی مشہور شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی کے لکھے ”سوہنی دھرتی اللہ رکھے“ ، اور ”جیوے جیوے پاکستان“

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 44 : عہد و پیماں

” جو شخص اچھی بیوی پاتا ہے تو سمجھو اس کو اچھی چیز ملی۔ یہ خداوند کی طرف سے تحفہ ہے۔ “ امثال 18 : 22 پادری پال نے کئی ہفتے پہلے سے مریم کی شادی کے سلسلے میں انتظامات کرنے شروع کر دیے تھے۔ انکل شاہد اور آنٹی چاہتی تھیں کہ شادی کی رسومات سینٹ فلپس چرچ میں ہوں جو اُن کا فیملی چرچ تھا، مگر انہوں نے مریم کی خواہش کا احترام کیا، جسے پادری پال سے خصوصی

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

(نوٹ : یہ مضمون ایک سال پیشتر نو جون دو ہزار چوبیس کو کینیڈا کی فیمیلی آف دی ہارٹ کی ایک تقریب میں پڑھا گیا تھا۔ ) اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے

Read more

بھارت میں افسوسناک فضائی حادثہ

بھارت کے شہر احمد آباد میں انڈین ایئرلائن کی پرواز 171 کے ساتھ پیش آنے والے حادثے اور کثیر تعداد میں مسافروں و شہریوں کی ہلاکت پر بھارت کے علاوہ ہمسایہ ملک پاکستان میں بھی شدید رنج و غم محسوس کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر دفاع و پی آئی اے کے علاوہ متعدد سیاسی لیڈروں نے تعزیتی پیغامات میں بھارتی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہر کی ہے۔ انڈین ائر لائن

Read more

خواب، محبت اور زندگی 31

ان صاحب نے ہوسٹل کے پتے پر مجھے خط بھیج دیا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وارڈن یا پرنسپل صاحبہ لڑکیوں کے نام آنے والے خطوط چیک کرتی ہیں۔ ہمارے درمیان چند خطوط کا ہی تبادلہ ہوا ہو گا کہ میری پرنسپل کے دفتر میں طلبی ہو گئی۔ ان صاحب کا خط دکھا کر انہوں نے میری جو سرزنش کرنی تھی سو کی۔ اور پھر میری منت سماجت کے باوجود وہ خط شکارپور میرے والدین کو بھجوا دیا۔ جو

Read more

اولاد کی قاتل ماں

دنیا میں صرف ایک رشتہ ایسا ہوتا ہے جو بنا کسی لالچ کے، بنا کسی مشروط محبت کے، انسان کے وجود کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ رشتہ ”ماں“ ہے۔ ماں کی آغوش وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے نے ہنسنا، رونا، بولنا، جینا سیکھا۔ مگر جب یہی آغوش مقتل بن جائے، جب محبت کے مقدس ترین نام پر دھبہ لگے، جب ممتا کا رشتہ اپنے ہی وجود سے نفرت کرنے لگے تو سمجھ لیجیے ہم صرف زمانے کے نہیں، زمانوں

Read more

ڈراما ”چاند گرہن“ کا خلاصہ

  ناول کا مرکزی کردار لال حسین شاہ ہے۔ جو کہ ایک سیاست دان ہے۔ ڈرامے کی کہانی لال حسین شاہ کے بنگلے سے شروع ہوتی ہے وہاں ایک میز پر دو ٹیلی فون رکھے ہیں دو ملازم کرسیوں پر بیٹھے کاغذ قلم سامنے رکھے فون پر الیکشن ایجنٹوں کی طرف سے نتائج نوٹ کر رہے ہیں۔ اور ملازم آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن کے نتائج اچھے نہیں آئے اس کا مطلب شاہ جی ہار

Read more

وصل کی راحت کے سوا

رات کے سناٹے میں برگد کے پتے سرسرا رہے تھے جیسے ہوا نے کسی پرانی شاعری کو چھو لیا ہو۔ شکستہ خامشی کے اندر کوئی آواز سنائی دی تھی، شاید اپنی ہی۔ درخت کی جڑیں نیچے زمین میں گہری تھیں، مگر کچھ جڑیں اب بھی ہوا میں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کا جھولنا کچھ ایسا تھا جیسے کسی نے بات شروع کی ہو مگر پوری نہ کی ہو۔ وہ ان جڑوں کو دیکھتی رہی۔ ہر جڑ جیسے کسی ادھورے لمحے

Read more

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری

رات سونے سے پہلے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا کہ کل صبح سکول اسمبلی میں ہونے والی تقریر ذرا سنا دو۔ اُس نے حکم کی تعمیل کی اور فٹا فٹ رٹے رٹائے چند جملے سنا دیا اور میں نے خوش ہو کر اُسے شاباش دی۔ چند ثانیے بعد اچانک میرے ذہن میں خیال آیا تو پوچھا بیٹا! یہ تو بتاؤ اسمبلی میں قومی ترانے کے بعد علامہ اقبال ؔکی مشہور زمانہ نظم ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا

Read more

لڑکی کو قتل کر دیا، افسوس ہوا لیکن وہ

  پڑھنا چاہتی تھی۔ نوکری کرنا چاہتی تھی۔ برقع نہیں پہنتی تھی۔ نقاب نہیں لیتی تھی۔ چادر نہیں لیتی تھی۔ دوپٹہ نہیں لیتی تھی۔ شادی کرنا چاہتی تھی۔ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنی مرضی کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا کرتی تھی۔ فیملی پلاننگ کرنا چاہتی تھی۔ طلاق لینا چاہتی تھی۔ شوہر سے مار نہیں کھانا چاہتی تھی۔ شوہر کی عزت نہیں کرتی تھی۔ دوبئی میں رہنے والے شوہر کی عزت کی حفاظت نہیں کر رہی

Read more

عبدالرحمان پیشاوری’ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی‘

میں  اپنے ایک کالم میں عبدالرحمان پیشاوری کا ذکر کر چکا ہوں جس نے چھبیس سال کی عمر میں، علی گڑھ کالج کو الوداع کہا اور ترکوں کے شانہ بہ شانہ ’جنگِ بلقان‘  لڑنے ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ جا پہنچا۔ برادرِ عزیز محترم ’خلیل طوقار‘ کو میں پاکستان میں ترکی کا غیررسمی سفیر کہا کرتا  ہوں۔ وہ گزشتہ تین سال سے پاکستان میں ’’یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ‘‘ سے منسلک، خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ کمال کی اُردو بولتے ہیں۔

Read more

خواب، محبت اور زندگی 30

شکارپور کے لوگ بہت ہی مہمان نواز اور محبت کرنے والے تھے۔ یہاں تک کہ چھوٹے ملازمین میں سے بھی کبھی کوئی خالص مکھن تو کبھی کوئی چھتے سمیت شہد اور کوئی اپنے شکار کردہ تیتر لیے چلا آ رہا ہے۔ ان کی محبتیں اپنی جگہ مگر کراچی کی لڑکی کے لئے شکارپور ایک انتہائی دقیانوسی جگہ تھی۔ کہاں کراچی جہاں لڑکیوں کے باہر نکلنے پر کوئی پابندی نہیں تھی اور کہاں شکارپور جہاں کوئی لڑکی دکھائی نہیں دیتی تھی۔

Read more

محنت کش دادیاں، حلوہ کلچر اور نانی ویہڑے کی گندم

  میری گزشتہ تحریر مطالعاتِ پنجاب میں نو آبادیاتی نظام کے مدرسری رجحانات اور اُن کے جائزے کی ضرورت و اہمیت پہ تھی۔ محترم اظہار الحق صاحب کی ہمت افزائی تو دل خوش کن رہی مگر کینیڈا سے برادر عزیز فیصل سعید کے تبصرے نے تو یادوں کے در وا کر دیے۔ اُن کے تجزیے نے مشرق اور مغرب کی خواتین کے درد مشترک سے صرفِ نظر کا معاملہ اجاگر کیا۔ جو یقیناً ایک علیحدہ مضمون کا طالب ہے مگر

Read more

صرف ایک گھنٹہ خود کے لیے

یقیناً قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کا کوئی شمار نہیں۔ یہ زندگی، کائنات، رشتے، رزق سب اسی کی بخشش ہے۔ لیکن انسان کی فطرت ہے کہ وہ اکثر ان چیزوں کی قدر تب جانتا ہے جب وہ اس سے روٹھ جاتی ہیں، یا دور ہو جاتی ہیں۔ دولت کی فراوانی میں اس کی قدر کا احساس کم ہی ہوتا ہے، مگر جب ہاتھ خالی ہو جائیں تو ایک ایک پائی کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ پیار کرنے والے جب ہمارے

Read more

انسانی ماؤں کا جذباتی آنول کو کاٹنا

ڈاکٹر سارہ علی کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط صبح کے دس گیارہ بجے کا وقت تھا میں اپنی واک اور ناشتے سے فارغ ہو کر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر کام کر رہی تھی اور بہت الگ سا احساس ہونا شروع ہوا شاید اس لیے کہ میں اپنے جسم کی طرف زیادہ متوجہ تھی کیونکہ میں پریگننٹ تھی اور ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے گائناکولوجسٹ سے چیک کروا کے آئی تھی اور اس نے مجھے آگاہ کیا تھا کہ

Read more

راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ

1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔

Read more

دادا، دادی سے پیارا کوئی نہیں، مگر

شادی کے بعد بچوں کی پیدائش، ان کی پرورش و تربیت انسان کے اندر ایک نئی امنگ اور طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ اپنے بچوں کی صحت، خوش گوار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے وہ اپنی ساری توانائی اور اسباب اس کی منزل مقصود کو آسان بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ پھر وقت آپ کی محنت کے ثمر دکھاتا ہے بچے اونچا اڑنے کے لیے پر پھیلا چکے ہیں۔ آپ نے اڑان بھرنے کے لیے انہیں راستہ دکھایا،

Read more

والدین کی قربانی کو خراجِ عقیدت

تاریخِ انسانیت۔ بلکہ ماقبلِ تاریخ سے یہ سچائی گونجتی آئی ہے کہ والدین نے ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں صرف جذباتی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ والدین اپنی زندگی، خواب، اور مستقبل کو اپنے بچوں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ وہ ایسی خاموش قربانی دیتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ان کی یہ آمادگی اور انمول پہچان کہ خود دکھ اٹھائیں، حتیٰ کہ جان تک دے دیں۔ صرف اس

Read more

خواب، محبت اور زندگی 29

اپنے اصل شوق کی جستجو: فنون لطیفہ انٹر کے امتحانات کی تیاری کے لئے ہر مضمون کے لئے میں نے صرف چار یا پانچ دن پڑھائی کی تھی اور توقع کے مطابق میری سیکنڈ ڈویژن ہی آئی تھی۔ اس لئے امی کی ساری بھاگ دوڑ کے باوجود مجھے کسی میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ صرف ایک آپشن بچا تھا کہ میں مشرقی پاکستان جا کے داخلہ لے لوں لیکن امی مجھے اتنی دور بھیجنے کی ہمت نہیں کر

Read more

”ثنا“ کا بلیدان یا قربانی

لگتا ہے کہ اس دیس کے لوگ نابینا اور بے جان بتوں کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کر دیے گئے ہیں، 77 برس کے آمرانہ جبر اور نظام نے یہاں کے لوگوں میں ”فرسودہ عقیدے“ کی غلاظت اور تعفن سے لبریز ایسی چادر عوام کے ذہن و وجود پر لاد دی ہے جو انہیں کسی خانقاہ کے متولی کی طرح وحشی بننے سے بھی نہیں روک پا رہی ہے، لگتا ہے کہ اس سماج کے لوگوں میں

Read more

خیالی محبت اور حقیقی المیہ: پیرا سوشل ریلیشن شپس کی نفسیاتی گتھیاں

پیرا ریلیشن شپ (Para۔ relationship) خود کوئی ”بڑی ذہنی بیماری“ نہیں ہے، لیکن یہ ایک نفسیاتی مظہر (psychological phenomenon) ہے جو بعض اوقات ذہنی صحت کے مسائل سے جُڑا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ حد سے بڑھ جائے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک خبر وائرل ہوئی۔ ثنا یوسف، جو ایک معروف ٹک ٹاک انفلوئنسر تھیں، جسے عمر نامی ایک نوجوان نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ عمر اس سے دوستی کا خواہاں تھا، لیکن

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (20)

  زندگی میں ہم اکثر صحت پر اتنی توجہ نہیں دیتے جتنی ہمیں دینی چاہیے۔ ہم یہ سنتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے مگر پھر بھی ہم اس بات پر کان نہیں دھرتے جو غلط ہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں سب سے زیادہ ہماری صحت متاثر ہوتی ہے اور ہمیں اس وقت احساس ہوتا ہے جب یا تو ہم اپنی صحت خراب کر چکے ہوتے ہیں یا ایسی عادتوں کا شکار ہو جاتے ہیں

Read more

غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ

غیرت کے نام پر قتل کی واردات آئے روز ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی واردات میں تیزی سوشل میڈیا کے فروغ کے بعد زیادہ آئی ہے۔ غیرت کیا چیز ہے، غیرت کا تعلق کس بیانیے سے ہے، غیرت کے جذبے میں شدت کب پیدا ہوتی ہے۔ غیرت سے پاکستانی سماج کیا مراد لیتا ہے، غیرت لفظ کی نفسیات کیا ہے۔ غیرت لفظ کی تحلیل نفسی کیسے کی جاتی ہے۔ پدر سماج، غیرت کے تصور کو کس

Read more

ملیر جیل میں زلزلہ یا آزادی مارچ؟

کراچی کے معروف تاریخی ”سہولت خانہ“ المعروف ملیر جیل سے متعلق جو ابتدائی رپورٹ آئی ہے، وہ کسی ہالی وڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے نہایت سنجیدگی سے بتایا ہے کہ ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف سے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے باہر نکلے۔ ذرا سوچیے، وہ زلزلہ کیسا ہو گا جس نے قیدیوں کو بھی انسانی ہمدردی کے جذبے سے لبریز کر دیا جیل کی دیواریں کہیں گر نہ جائیں، چلو خود ہی باہر نکل کر

Read more

خواب، محبت اور زندگی 28

انٹر سائنس کے دوسرے سال میں مجھ پر اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ میری افتاد طبع سائنس کے مضامین سے میل نہیں کھاتی، میں ٹھہری شعر و ادب کی دلدادہ۔ مجھے آرٹس پڑھنا چاہیے تھا لیکن امی کی مجھے ڈاکٹر بنانے کی خواہش آڑے آ گئی تھی۔ سائنس کے مضامین لے تو لئے تھے لیکن پڑھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی میں کبھی بھی پڑھاکو طالبعلم نہیں رہی تھی۔ مجتبیٰ صاحب نے ایک دفعہ میرے

Read more

جبر کی گہرائیوں میں : نفرت، خود سوزی اور پاکستان کا سماجی المیہ

”تجزیہ ذات اور ذات کی آگہی پیدا کرنے کی غرض سے دو سل قبل میں نے نو سال کے ایک عزیز بچے سے پوچھا“ آپ کس چیز سے محبت کرتے ہیں ”؟“ اپنے والدین سے۔ ”گڈ“ ”اور آپ کس چیز سے نفرت کرتے ہیں؟“ ”ہندو سے اور کافر سے“ ”ہندو کون ہوتا ہے؟“ ”پتہ نہی“ ”اور کافر کون ہوتا ہے؟“ ”پتہ نہی“ عید کی چھٹیوں میں اس مکالمے کے دوسرے حصے نے مجھے سن کر کے رکھ دیا ہے۔ پھر

Read more

بھارت کی پاکستان کے”دفاعی نظام” کو مفلوج بنانے کی تیاری

مایوسی پھیلانا میرا شیوہ نہیں۔ اخبارات نچوڑ کر کام کی بات نکالنا مگر میرا پیشہ ورانہ فرض ہے۔ ٹی وی  اور یوٹیوب پر چلائے پروگراموں سے بھی ’’اندر کی بات‘‘ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے بھارت کی اندرونی سیاست پر میں بطور صحافی 1984ء  سے نگاہ رکھنے کو مجبور ہوا۔ اب اس ملک گئے پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ شاید عمر کے باقی رہ گئے حصے میں آئندہ کبھی جا نہ سکوں۔ حال ہی میں

Read more