وکٹر فرینکل ۔۔۔ نازی عقوبت خانے سے زندگی کا راز چرانے والا مسیحا

"عجیب دن ہیں! اندر جان لیوا تنہائی ہے اور باہر چہار سو پھیلتا ہوا اندھیرا! نہ دل میں اترنے والی چاندنی ہے اور نہ ہی آنکھوں کو چھو جانے والی ستاروں کی جگمگاہٹ! دل پہ یاسیت چھائی ہے، روح مضمحل ہے، زندگی میں کوئی مفہوم نہیں رہا! میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی!” نصف شب کا عالم اور فون اٹھانے پہ ایک کرب زدہ بھرائی آواز نے کچھ کلمات ادا کئے۔ فون کے دوسری طرف مہربان صورت شخص نے کچھ

Read more

چین کا ثقافتی انقلاب اور اس کے تہوار

بہر حال ہم نے ثقافتی انقلاب کے بارے میں صرف پڑھا ہے، اس لئے آپ کو آنکھوں دیکھا حال سنانے سے رہے۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ہمارے سفارتکاروں تک کو صورتحال کا صحیح ادراک نہیں ہوتا تھا۔ وہ بیجنگ آ کر اسی طرح ماؤ کے قصیدے پڑھنے لگتے تھے جیسے ثقافتی انقلاب تک پوری چینی قوم پڑھتی تھی۔ ان کو اندازہ نہیں تھا کہ چینی دانشور اور دیگر پڑھے لکھے لوگ ثقافتی انقلاب کے دوران کس تکلیف سے گزرے تھے۔ دانشوروں اور فنکاروں پر کتنے ظلم ڈھائے گئے، ریڈ گارڈز نے ثقافتی انقلاب کے دوران دینگ سیاؤ پنگ کے بیٹے کو اٹھا کر ایک اونچی عمارت سے نیچے سڑک پر پھینک دیا تھا اور وہ عمر بھر کے لئے معذور ہو گیا تھا۔

Read more

مراجعت اور پیش قدمی کا موقع

تب وہ تیس سال کا کم عمر اور خوبرو نوجوان تھا وہ گیند کو اپنی پینٹ پر مسلنے کے بعد مڑ کر دوڑ لگاتا تو اس کے لمبے لمبے بال ایک انداز دلربائی کے ساتھ ہوا سے جھولتے رہتے وہ کسی صحرائی ہرن کی مانند دوڑتا اور وکٹوں کے پاس پہنچ کر چیتے کی طرح جمپ لگا کر برق رفتار گیند مخالف بیٹسمین کی طرف اچھال دیتا جس کی نہ سمجھ آنے والی سوئنگ سے دنیائے کرکٹ کے خوفناک بلے بازوں گواسکر سے گریگ چیپل اور رچرڈ سے بوتھم تک ایک بے بسی کے ساتھ اپنی وکٹیں اڑتے دیکھتے۔

اسی منظر نامے سے عمران خان شہرت اور رومانویت کی ایک دیوتائی حیثیت لے کر ابھرے۔
بعد میں اسی شہرت کو مد نظر رکھ کر عمران خان کا رخ سیاست کی طرف موڑ دیا گیا۔

Read more

اجمل کمال صاحب کے کالم کے جواب میں

پچھلے دنوں محترم اجمل کمال صاحب کا "ممتاز مفتی” کی الکھ نگری کتاب پر لکھا ہوا ایک تبصرہ نظر سے گزرا۔ الکھ نگری پر ان کے نظریات اپنی جگہ اور نہ مجھے ان پر بات کرنی ہے، مجھے تو بس یہ کہنا ہے کہ انہوں نے قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، ابنِ انشا کے ساتھ ساتھ احمد بشیر اور ان کے متعلقین کو بھی اس کھاتے میں ڈال دیا،جو شہاب صاحب کے اعلیٰ سرکاری عہدے کی وجہ سے مراعات کے

Read more

’’حفیظ شیخ کے بجٹ ‘‘ پر خواجہ آصف کا طیش

خواجہ آصف صاحب جب طیش میں آجائیں تو رونق لگادیتے ہیں۔پیر کی سہ پہر گزشتہ ہفتے حماد اظہر کی جانب سے پڑھی آئندہ مالیاتی سال کے لئے ڈاکٹر حفیظ شیخ کی تیارکردہ مالیاتی تجاویز پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز ہوا۔اس بحث کا آغاز ہمیشہ قائد حزب اختلاف کرتے ہیں۔شہباز شریف صاحب مگر کرونا کی زد میں آنے کی وجہ سے ان دنوں خود کو گھرمیں بند کئے بیٹھے ہیں۔خداانہیں جلد شفایابی عطا فرمائے۔ ان کی عدم موجودگی میں

Read more

مدینہ منورہ کی سیر و سیاحت

مدینہ منورہ میں آخری دن اس شہر مقدس کی سیر و سیاحت اور زیارات میں گزرا۔ تین برس قبل بھی میں نے زیارتوں کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس مرتبہ کا تجربہ مگر منفرد تھا۔ اور خوشگوار بھی۔ وجہ حافظ قاسم روف مدنی صاحب تھے۔ حافظ صاحب مدینہ منورہ میں حج و عمرہ کمپنی خدام الحرمین انٹر نیشنل کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ صاحب علم شخص ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ اپنی دو کتابیں لکھنے میں مصروف ہیں۔ جتنے دن ہم مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے، حافظ قاسم صاحب ہر طرح کی مدد اور رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انہوں نے زیارتوں کی پیشکش کی تو ہم سب تیار ہو گئے۔ اگلے دن وقت مقررہ پر وہ اپنی گاڑی سمیت ہوٹل پہنچ گئے۔ ہمیں کئی گھنٹے گھماتے رہے۔ ہر مقام کی تفصیلی تاریخ اور اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔ راستہ بھر اسلامی واقعات اور ایمان افروز باتیں بتاتے رہے۔

Read more

اکیڈمی ادبیات پاکستان کے ایوارڈز اور تیرا کیا بنے گا کالیا والا ڈائیلاگ

کوئی شک نہیں کہ خوف و دہشت کے دن ہیں، کورونا وائرس سے انسانیت خزاں کے پتوں کی طرح بکھرتی چلی جا رہی ہے۔ ۔ ۔ کیہ دم دا بھروسا یار۔ ۔ ۔ دم آوے نہ آوے۔ ۔ ۔ برطانیہ کے ایک ذمہ دار ادارے نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اگست میں ہر دن پاکستان میں ساٹھ ستر ہزار اموات ہوں گی۔ ۔ ۔ یقیناً یہ وہ سماں

Read more

صدر الدین ہاشوانی کا ”سچ کا سفر“

اپنے ارد گرد خوشحال چہروں کو دیکھ کر انسان اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہیں یا ان کے پیچھے برسوں کی مشقت کا تھکا دینے والا سفر ہے۔ جناب صدرالدین ہاشوانی بھی ایسے ہی چہروں میں سے ہی ایک ایسا چہرہ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو وقت آنے پر خود ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں جو

Read more

نفرت پھیلانے والی مشینیں بند کیجیے

ان نام نہاد علماء کا کچھ کرنا پڑے گا، ان کے جملوں سے اب خوشبو نہیں بدبو آتی ہے، ان کا علم معاشرے میں انتشار کا باعث بن رہا ہے یہ وہ گفتگو بھی بے دھڑک کر جاتے ہیں جو ملک کا وزیر اعظم اور آرمی چیف بھی نہیں کر سکتا، اخلاقی پستی میں بھی یہ طبقہ سب سے زیادہ گرا ہوا طبقہ ہے، اب یہ کہا جائے گا کہ سارئے علماء تو ایک جیسے نہیں ہوتے بس دو چار

Read more

فدا محمد ناشاد اور مرثیہ نگاری

” متاع فکر“ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس میں گم ہوں۔ مرثیہ ہے ”مدینہ سے کربلا تک“ مسدس کا وھی کرافٹ، الفاظ کے چناؤ میں وھی شائستگی اور احتیاط، عقیدت کا وھی انداز، وھی حفظ مراتب کا خیال جو کلاسیکل شعراء کے ہاں مستعمل ہیں اور پھر کربلا کی وھی دردناک داستان جس کے پڑھنے سے جگر لخت لخت ہو جاتا ہے۔ اردو میں لکھے گئے اس مرثیے میں سلاست، طرزبیاں اور فکری روایت مجھے میر ببر علی

Read more

شہر مر رہا ہے

ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ اس کا اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا تب بھی ڈاکٹر کے ذہن میں اس کا عکس کئی دہائیوں قبل کا تھا؛ پیچھے کو سنوارے بال، ذہانت کا اظہار کرتی گہری آنکھیں، کالے فریم کی عینک لگائے مسکراتا جوان چہرہ جس پر بچپن کی کسی شرارت کی

Read more

تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں کی خوبیاں

آپ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بطور مثال لے لیجیے۔ ان کے ساتھ آپ کے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں آپ ان کی باتوں پر لعنت بھیج سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ علمی باتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور دلیل جس چیز کا نام ہے یہ لوگ ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔ آپ یقین کیجیئے یہ لوگ بحث کے دوران لڑنے پر اتر آتے ہیں اور کبھی کبھار تو لاتوں، گھونسوں اور مکوں سے بھی کام چلا

Read more

سندھو تیرا مان رہے!

(حیدرآباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، عرفانہ ملاح اور ان کے ساتھیوں کے نام) سندھو بہتا جائے میٹھے میٹھے، مہکے مہکے گیت سناتا جائے سندھو بہتا جائے لمبی راہ میں ہر راہی پر اپنا پیار لٹائے صدیوں سے پیاسی دھرتی پر ہریالی لہرائے سندھو بہتا جائے شاہ لطیف کی آنکھوں میں ٹھنڈک بن کر چمکے سچل کے بولوں میں میٹھا رس بن کر مہکے ہاری کے سوکھے ہونٹوں پر آس کا دیپ جلائے کیکر کے پیڑوں کو چھاؤں کا

Read more

ڈرٹی نیلی کی گیبریلا اور مردوں کی محبت

ڈرٹی نیلی سڈنی یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سے میری دوسری ملاقات ڈرٹی نیلی میں ہوئی تھی۔ ڈرٹی نیلی سڈنی کا مشہورآئرش پب ہے۔ آئرلینڈ کا ماحول، آئرش طرز پر بیٹھنے کا انتظام، آئرلینڈ کی مشہور سیاہ گنیز بیئر اور ساتھ میں آئرلینڈ کی ہی باغی اور لوک موسیقی۔ روز شام کے وقت یہاں کوئی نہ کوئی آئرلینڈ کے گانے سنایا جا رہا ہوتا ہے، آئرش لوک گانے اور آئرش باغی ترانے ان کا اپنا ایک مزا اور

Read more

خوش آدمی

تخلیق۔۔۔ سومرسٹ ماہم / ترجمہ۔۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنا کتنا خطرناک کام ہے۔ میں نے اکثرسیاستدانوں ’فلاحی کارکنوں اور اسی قسم کے دوسرے لوگوں کی خود اعتمادی کو حیرانی کی نگاہ سے دیکھا ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنی عادت و اطوار‘ نظریات اور طرز زندگی بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچتے ہوئے غیروں کو نصیحت کرنے سے احتراز کیا ہے کہ جب انسان دوسرے انسان کو اپنی ذات کی طرح

Read more

کرکٹر آصف اقبال سے میرا سوال اور ان کی حیرانی

ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 ء کی افتتاحی تقریب کے بعد ایک ہی میچ تھا۔ ہم پری میچ شو کر آئے تھے اور پوسٹ میچ تبصرے کے لیے دو تین گھنٹے کا وقفہ تھا۔ ظہیر عباس کسی کام سے چلے گئے کہ شو سے پہلے لوٹ آئیں گے۔ جب کہ ڈائریکٹر شیخ سعید، میں اور آصف اقبال بورڈ روم میں آ کے بیٹھ گئے۔ یہ پہلی بار تھا کہ آصف اقبال صاحب سے سکون کے لمحو‍ں میں بات ہو سکتی تھی۔ چھریرے بدن کے آصف اقبال بہت نرم لہجے میں، ٹھیر ٹھیر کے بات کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کی شخصیت کا سحر دو چند ہو جاتا ہے۔ میں انھیں محض ایک کرکٹر سمجھ کر کرکٹ پہ بات کر رہا تھا۔ ان سے منسوب قصوں کا ذکر کر رہا تھا۔ کرکٹ سے میرا لگاؤ دیکھ کر وہ خوش تھے۔ میں ایسے بے تکلف ہو رہا تھا، جیسے ان کے بعد کرکٹ پر ایک میں ہی اتھارٹی ہوں۔ اس دوران میں، میں نے پوچھ لیا:

”سر! آپ آج کل کیا کرتے ہیں“ ؟

Read more

حیدر آباد سے حیدر آباد تک

منیر بھائی کو حیدر آباد سے بہت مُحبّت تھی لیکن وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ 1958 کی بات ہے۔ اُنھیں حیدر آباد کی ہر چیز سے پیار تھا۔ گلابی جاڑوں سے جو ایک ہلکے سے سویٹر اور مفلر سے بہل جاتے تھے؛ گرما کی شاموں اور راتوں سے۔ گرما میں شام کے وقت آنگن میں ہونے والے چھڑکاو سے۔ چار پائیوں پر ٹھنڈی سفید چادریں اور ان پر بکھیرے ہوئے موتیے کے پھولوں کی مہک سے۔ پہلی پہلی بارش میں

Read more

سشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں؟

ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصہ ہیں، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھری سے نکالنے کا بہترین وقت ہے، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وہ جو پتھروں سے ٹکراتے تھے، دریاؤں کے سینے کو چیڑ دیتے تھے، اور جو بہتر طور پر جانتے تھے کہ زندگی میں، سب سے زیادہ اہمیت زندگی کی ہے۔ زندگی، جسے ہر طور پر قائم رکھنا ہے۔ زندگی، جسے جنگ اور بیماریوں سے فتح کرنا ہے، زندگی جس کے لئے سب سے بڑی طاقت، فطرت نے ہمیں للکارا ہے۔

ہم حبس، گھٹن، قید سے گھبرا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔ سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی۔ ہندوستان میں ہر برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے نوجوان اس وقت اداسی کا مرثیہ لکھ رہے ہیں اور اچانک ایک لمحۂ ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے جب وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سوچتے اور مر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ، وہ اپنے ماں باپ اور گرل فرینڈ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے۔ کبھی کبھی وہ ایک محبت کے فنا ہونے پر موت کو گلے لگاتے ہیں۔

Read more

رحمت علی رازی: وہی آبلے ہیں وہی جلن

اعلیٰ ظرف انسان اور بڑے آدمی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے وہ دوسروں پہ اپنے علم، مرتبہ، اور حیثیت کا رعب نہیں ڈالتا نہ ہی دوسرے کو چھوٹا ثابت کرتا ہے۔ نئے آنے والوں کے لیے کڑی دھوپ میں شجر سایہ دار ہوتا ہے۔ یہ تو چند سطری روایتی باتیں ہیں۔ رحمت علی رازی صاحب کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ محب وطن سچا پاکستانی۔ نڈر صحافی، مستند کالم نگار، تحقیقی رپورٹر، بیوروکریسی کا نبض شناس، نئے صحافیوں کا محسن، خوش اطوار، خوش اندام، خوش اخلاق، خوش کردار، خوش لباس۔

سات اے پی این ایس ایوارڈ یافتہ واحد صحافی۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈ اور سندیں سمیٹے والا متحرک آدمی۔ اپنی ذات میں انجمن، محفلوں میں جان محفل۔ رازی صاحب کا تعلق اس قبیلے سے تھا جن کو جغادری صحافی کہا جاتا ہے۔ جو نرم گرم چشیدہ لوگ تھے۔ جنہوں نے صحافت کے اساتذہ سے سیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔

Read more

وارث میرایک محب وطن دانشور تھے

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے حال ہی میں جاری کردہ ایک بیان میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سابق چیئرمین اور ممتاز دانشور جناب وارث میر کو ملک و قوم کا غدار قرار دیا ، جو نہایت قابل مذمت بات ہے۔ فیاض الحسن چوہان سوشل میڈیا اور اخبارات میں سستی شہرت کے لئے اس نوعیت کے بیانات داغتے رہتے ہیں جس سے ان کا ذاتی امیج تو خراب سے خراب تر ہوتا جا تا ہے بلکہ اس

Read more

کورونا کا حکیمی اور عمرانی علاج

مجھے پورا یقین تھا کہ یہ لوگ جو گھروں پر تراویح نمازوں کی باجماعت ادائیگی کر کے اللہ کو اپنی پر خلوص عبادت کے ذریعے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ ان کی ضرور سنے گا۔

عشق میں ڈوب کر بے خطر یوم توبہ کو اللہ سے گڑگڑا کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگنا آخر ایسی کون سے خطا ہے کہ جو رب ان کی اجتماعی توبہ اور عبادات قبول نہ کرے۔ نمرود کی آگ ٹھنڈی ہوئی تھی، کرونا بھی بھسم ہو گا۔

Read more

ایک ادیب بیورو کریٹ کی کچھ باتیں اور یادیں

یہ 1973 کے آس پاس کی بات ہے، ایف ایس سی کے امتحان کے بعد مجھے کافی فراغت تھی۔ انہی دنوں میں معروف ادبی رسالے ”نقوش“ کا کوئی شمارہ نظر سے گزرا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے ایک مضمون پر نظر پڑی جس کا عنوان تو اب یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ وہ فارسی زبان میں تھا اور مضمون نگار کا نام منظور الہٰی تھا۔ میرے لئے وہ نام اجنبی تھا مگر ابتدائی چند جملوں نے ہی مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا اور میں مضمون پڑھتا چلا گیا اور پھر اس تحریر کے حسن اور سحر نے مجھے بری طرح جکڑ لیا۔ مضمون نگار نے وہ مضمون اپنے ایک دوست امان اللہ کی وفات کے حوالے سے تحریر کیا تھا۔ محبت بھرے جذبات سے گندھی ہوئی، خوب صورت الفاظ، مربوط جملوں، اردو اور فارسی اشعار اور مصرعوں سے مزین اس تحریر نے مضمون نگار کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے پر مجبور کیا مگر شہر سے دور گاؤں میں کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہیں؟ مضمون کے اندر البتہ کچھ باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ موصوف کوئی بیوروکریٹ ہیں اور امان اللہ بھی ان کے ایک بیوروکریٹ دوست تھے جن کی یاد میں انہوں نے یہ خوب صورت مضمون قلم بند کیا تھا۔

Read more

اداس دنوں میں۔۔۔ پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا

انسان ہونے کے ناطے ہم میں سے اکثر لوگ کبھی کبھی خود کو اتنا کمزور اور بے بس پاتے ہیں کہ باہر نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی پتھر اپنے وزن کے سبب پانیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور دوبارہ سطح پر نہیں آ پاتا۔ ایسے مشکل وقت میں ایک مددگار سہارے کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمیں بے بسی کے گرداب سے کھینچ نکالے۔ ان حالات میں اپنی مدد آپ کا

Read more

جاوید اختر کی بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو: فلمی نغموں سے اکتاہٹ، گلزار سے تعلقات اور بالی وڈ کے گانوں میں گورے رنگ کا سحر

ایک مذہب کے متعلق تنقید کی تو دوسرے مذہب کے لوگوں نے گھیرا۔ دوسرے مذہب سے متعلق تنقید کی تو پہلے والوں نے گھیر لیا۔

اگر کوئی پوچھے کہ کیا نغمہ نگار جاوید اختر صرف ایک طبقے یا برادری پر ہی تنقید کرتے ہیں تو جواب میں جاوید اختر اپنا ایک گیت سنا سکتے ہیں: ’جانم دیکھو لو، مٹ گئی دوریاں، میں یہاں ہوں , یہاں ہوں، یہاں۔‘

جاوید اختر اپنی ہی تنقید میں اتنے ’بہادر‘ نظر آتے ہیں کہ وہ یہاں اور وہاں یعنی دونوں طرف گِھر جاتے ہیں۔

اپنے تیور میں ’شعلہ پن‘ اختیار کرنے والے جاوید اختر کو منطقی باتوں اور سیکولرازم کو اہمیت دینے کے لیے جون سنہ 2020 میں رچرڈ ڈاکنز ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Read more

ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں

کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔

Read more

جو گرجتے ہیں، وہ برستے نہیں

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، یہ کہاوت ہم میں سے تقریباً ہر شخص نے ضرور سن رکھی ہوگی۔ اس کا عملی مظاہرہ ملک کے موجودہ وزیراعظم کی حالیہ تقاریر کو سننے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ کورونا وائرس کے آتے ہی دنیا کے تمام ممالک نے اپنی اپنی بصیرت کے مطابق اس وائرس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کی، اور اسے پوری قوت کے ساتھ نافذ بھی کیا۔ ان کامیاب حکمت عملیوں میں ماسک پہننے کی پابندی، سماجی فاصلے کو یقینی بنانا اور محدود عرصے کے لئے مکمل بندش (لاک ڈاؤن) شامل تھیں۔ نتیجتاً بیشتر ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں اب زندگی اپنے معمول کی طرف گامزن ہے۔ سیاحتی مقامات کو کھولنے، سفری پابندیاں ہٹانے اور روزمرہ کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کرنے کی تیاری ہو چکی ہے۔

Read more

اکیڈمی بنائیں، لاکھوں کمائیں

کیا آپ عشق میں ناکام ہو چکے ہیں؟ محلہ بدر کر دیے گئے ہیں؟ کیا محبوب جوتے مار کے چھوڑ گیا ہے؟ کیا رسوائی آپ کا مقدر ہو چکی ہے؟ کیا ناکامیوں نے گھر کا راہ دیکھ لیا ہے؟ تو بالکل بھی مت گھبرائیے۔ آپ کے ہر مسئلے کا حل ہے ہمارے پاس۔ بلکہ صرف آپ پہ ہی کیا موقوف، ”صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے“ ۔ آہا! ایک شاعر بھی ہمارے ہم نوا ہو گئے ہیں :

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر راہ رکھ دیا

Read more

مہدی حسن عظیم گلوکار ہی نہیں، عظیم انسان بھی تھے

میں خود کو خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں جس نے موسیقی کی دینا کی عظیم ہستی شہنشاہ غزل مہدی حسن خان صاحب کے ساتھ دو دن گزارے، فن کے حوالے سے ان کا فین تو تھا ہی مگر کبھی زندگی میں خواب بھی نہیں دیکھا کہ اس عظیم ہستی سے ملاقات ہوگی اور اتنی محبت ملے گی وہ بھی ملتان جیسے شہر میں رہتے ہوئے۔ جولائی یا اگست 1998 کا مہینہ تھا، میں نوائے وقت ملتان میں شوبز ڈیسک کا

Read more

کورونا وائرس: باغوں کا شہر سنگاپور جنگلی حیات سے محبت کرنا سیکھ رہا ہے

سنگاپور خود کو باغوں کا شہر کہلانا پسند کرتا ہے، سڑکوں کے کنارے قطار اندر قطار لگے درخت، سرسبز پارکس اور شہر کی عمارتوں کے گرد لگے پودے اسے جاذبِ نظر بناتے ہیں۔ سنگاپور کے باغیچے اور پارکس ہمیشہ اچھی دیکھ بھال کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں موجود درختوں کی تراش خراش بہتر انداز میں ہوتی ہے، گھاس مناسب طریقے سے کٹی ہوتی ہے اور پارکس کی بھی مسلسل دیکھ بھال ہوتی ہے۔ تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث

Read more

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد: حمزہ شفقات کے بیان ’میرے پاس سرکاری گھر نہیں‘ پر سوشل میڈیا پر بحث

اگر آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو آپ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے نام سے واقف ہوں گے اور اگر پہلے نہیں تھے تو کورونا وائرس کی وبا کے دوران تو آپ نے یہ نام لازمی سُنا ہو گا۔ وفاقی دارالحکومت میں کیا چل رہا ہے، کورونا متاثرین کی تعداد کتنی ہے، کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں، احتیاطی تدابیر نہ کرنے والوں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے

Read more

مظلوموں کی تعلیم

مظلوموں کی تدریس پاولو فرارے کی لکھی ہوئی کتاب ہے جس کو تعلیم کے میدان میں وہی مقام حامل قرار دے سکتے ہیں جو انگریزی ادب میں شیکسپیئر کے ڈرامے جولیس سیزر کو حاصل ہے۔ پاولو فرارے موجودہ دور کے چند گنے چنے ماہرین تعلیم میں سے ہیں جنہوں نے تعلیم کے تصور کو اور فلسفے کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اگر آپ تعلیم کو ترقی، خود اعتمادی، سماجی انصاف کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس کتاب

Read more

کورونا: ایک منصف جلاد

نہیں معلوم کہ انسانی تاریخ میں اس سے قبل ایسا ہوا ہو کہ کسی آفت نے بلا تفریق رنگ و نسل، ملک و ملت، حسب و نسب، مال و دولت، اور مذہب و عقیدہ، تمام انسانوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہو۔ کسی امتیازی سلوک کے بغیر، کسی پسند و نا پسند کے بغیر، کسی دوست اور دشمن کی تخصیص کے بغیر۔ اور انسانی تاریخ میں اس قربانی کو بھی بھلایا نہیں جا سکے گا جو اس آفت

Read more

بالی وڈ: وہ فلمی ستارے جنھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں کیا

بالی وڈ میں یہ پہلی خودکشی نہیں

سوشانت سے پہلے بھی بہت سے معروف فلمی ستاروں نے اپنی زندگی وقت سے پہلے ختم کرتے ہوئے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لی ہے۔

اس رپورٹ میں ہم ایسے ہی فنکاروں کی زندگی پر روشنی ڈالیں گے۔

Read more

چشم بینا کا سفر

ہم ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں؛ اس کا احساس گواہیوں کے زمانے سے قبل ہو جائے تو تمام گواہیاں سچ ہوں اور گناہ کی جھولی خالی برتن جیسی پڑی رہے گی۔ بس ایسی صورت میں مالک جو چاہے اپنی freewill سے اس کی بھرائی کر لے۔ ہم جو شکل اختیار کرتے ہیں، ہمارا ضمیر اور خیال بھی ان ہی کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ موجودہ دور ”کورونا دور“ کے نام سے تاریخ کے

Read more

پاکستانی عورتوں کی زندگی میں رومانس

پاکستانی خواتین کی زندگی میں رومانس کی ایک ہی انتہاء ہے اور وہ ہے شادی، ہم بھی ان عقلمندوں میں سے ایک تھے جنہیں یقین تھا کہ شادی کے بعد زندگی بہت رومانٹک ہوتی ہے اس میں ہمارا زیادہ قصور نہیں تھا، زیادہ قصور ہمارے ادبی عقائد کا تھا جنہوں نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا۔ اس ادبی عقیدہ رومانس کا تعلق بانو قدسیہ سے جڑا تھا۔ انہوں نے مجھے یہ ایمان دیا کہ رومانس اور محبت بھی کوئی چیز

Read more

کیا آپ گلزار کو جانتے ہیں؟

گفت پیغمبر کہ بردست صبا از یمن می آیدم بوئے خدا (پیغمبر نے کہا کہ ہوا کے زور پر یمن سے مجھے خدا کی خوشبو آ رہی ہے ) وہاں خدا کی خوشبو کا جلوہ تھا اور یہاں انسانی رشتوں کی خوشبو کا آبشار۔ آدم نے گندم کا قرض لیا اور دنیا میں بھیج دیے گئے۔ شجر ممنوعہ میں انسانی رشتوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان پوشیدہ تھی۔ اور مقام حیرت یہ کہ انسانی رشتوں کی پرتیں کھولنے

Read more

ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہے۔ ہمارا متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ذات پات کی مساوات کے ضمن میں تکلیف دہ حد تک بے لچک واقع ہوا

Read more

سیکس تھیراپسٹس کو کیسی کیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں؟

انتباہ: نتاشا پریسکی کی بی بی سی تھری سے اس گفتگو میں جنسی مسائل پر کھل کر بات کی گئی ہے جو صرف بالغوں کے لیے پڑھنا مناسب ہے۔

جنسی مسائل کا علاج کرنے والے دیگر سیکس تھراپِسٹ کی طرح پیٹر سیڈنگٹن کی اپنے مریضوں سے گفتگو ہمیشہ خفیہ رہتی ہے اور وہ ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیں گے۔

اپنےمریضوں کی جو کہانیاں وہ مندرجہ ذیل تحریر میں بیان کر رہے ہیں ان کی بنیاد نوجوان افراد کے ساتھ سالہا سال سیکس تھیراپسٹ کے طور پر ان کے کام سے متعلق ہیں۔

Read more

چوتھی قسط ثقافتی انقلاب۔ شروع سے آخر تک غلط

جب ہم وہاں پہنچے تو میڈیا اور ادب میں چار کے ٹولے کے خلاف بہت کچھ لکھا جا رہا تھا۔ کیسے لوگوں کی زندگی کے قیمتی سال ضائع ہوئے، ان پر کیا کیا ظلم ہوئے۔ ایسی کامیڈی فلمیں بن رہی تھیں جن میں ثقافتی انقلاب کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ ”یہ پڑھے لکھے لوگ آخر اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں؟ کسان اور مزدور ان کی نظروں میں حقیر ہیں۔ اسپتال میں سرجن صاحب بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں خود کو جب کہ ہم تو انسانی مساوات میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم ایک کسان کو سرجن کی ملازمت دیں گے اور سرجن کو کھیتی باڑی کرنے کے لئے گاؤں بھیج دیں گے“ ۔

ایسا ہی کیا گیا اور پھر آپریشن تھیٹر میں مزاحیہ انداز میں کسان کو آپریشن کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ اس چینی کامیڈی فلم کا ذکر ہے جو ہم نے چین میں ثقافتی انقلاب کے بارے میں اپنے 1985۔ ۔ ۔ 93 کے قیام کے دوران دیکھی تھی۔ کتابوں کی کتابیں اساتذہ اور دانشوروں کی کہانیوں سے بھری ہوئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ چار کے ٹولے اور ان کے زیر اثر ریڈ گارڈز نے ان کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں کی تھیں، کیسے زمیندارانہ پس منظر رکھنے والوں اور انٹلکچوئلز کی تذلیل کی جاتی تھی۔

یونیورسٹیاں بند کر دی گئی تھیں اس لئے تعلیم کا بہت ہرج ہوا۔ ہمیں وہاں رہتے ہوئے ثقافتی انقلاب کے حوالے سے جو کچھ پڑھنے کا اتفاق

Read more

کورونا کی تنہائی اور کنفیوژن

گورنمنٹ کرے تو کیا کرے؟ لوگ کریں تو کیا کریں؟ عوام کرے تو کیا کرے؟ اس وقت ملک بھر میں کورونا مریضوں کا شدید امتحان ہے۔ لاہور میں لوگوں نے بداحتیاطی کی تمام حدیں پھلانگ دیں۔ اس وقت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی سکت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ دنوں سے کوئی دلاسا دینے والا نہیں رہا۔ ایک عجب سی تشنگی سی چھا گئی ہے ہر طرف۔ کتابوں میں پڑھا کرتے تھے زندگی ایک معمہ ہے نہ سمجھ میں آیا ہے نہ آئے گا۔

Read more

مولانا رومی اور شیخ سعدی کی حکایات

ایک دن میں نے شاہد اختر سے پوچھا، کیا آپ میرے رفیق ہیں یا رقیب؟
شاہد اختر بہت حیران ہو کر کہنے لگے میں تو آپ کو اپنا رفیق اور اپنا دوست سمجھتا ہوں آپ مجھے کیوں اپنا رقیب سمجھتے ہیں۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا وہ اس لیے کہ ہم دونوں کی مشترکہ محبوبائیں ہیں اور وہ عالمی ادب کی کہانیاں ہیں جن کے ہم دونوں بڑے ذوق و شوق سے اردو میں تراجم کرتے ہیں۔
اس نیم مزاحیہ اور نیم سنجیدہ گفتگو کے دوران ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے تراجم کو یکجا کر کے ایک مشترکہ کتاب بنائیں گے اور اس کا نام ”نگر نگر کی کہانیاں۔ ۔ ۔ عالمی ادب کے اردو تراجم“ رکھیں گے۔ اس سلسلے میں شاہد اختر روسی اور یورپی ادیبوں کی اور میں ایشیائی اور شمالی امریکی ادیبوں کی کہانیاں ترجمہ کر رہا ہوں جن میں سے چند، ہم سب، پر چھپ چکی ہیں۔ آج میں آپ کو مولانا رومی اور شیخ سعدی کی تین چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے ترجمے سناتا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئیں گے۔

Read more

قبر میں گلاب کے گجرے پروتی لڑکی اور حقیقی زیادتی

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک صاحب نظر حضرت کا گزر کسی قبرستان سے ہوا۔ قبرستاں کا خوف گوشے گوشے میں طاری تھا، موت کی ایسی ویرانی تھی کہ اشجار سے پرندے تلک اڑ چکے تھے۔ اطمینان نوچ دینے والے سکوت کے باوجود حضرت کی آنکھوں نے دل چسپ و عجیب منظر دیکھا۔ شہر خموشاں کی ہولناکی میں بھی کچھ حیران کن دل فریبی موجود تھی۔ صاحب حضرت فرماتے ہیں کہ ایک قبر چاک تھی، جس میں ایک نوجوان لڑکی

Read more

ماں کی مامتا اور اولاد کا اخلاق سوز رویہ

روئے زمین پر قدرت کی طرف سے بکھری ہوئی نعمتوں میں سے سب سے قیمتی دولت، اور سب سے انمول نعمت ماں کا عظیم سرمایہ ہے ’، اسی دولت کے دم سے زندگی میں بہار ہے‘ ، دنیا میں پھیلی ہوئی محبت کی شعاعیں اسی ماں کی ممتا کے خورشید جہاں تاب کا جلوہ ہے، اولاد کے تئیں ایثار وقربانی، اخلاص و وفا، الفت محبت، وارفتگی وجاں نثار ی کے حوالے سے ماں وہ بے نظیر اور روشن استعارہ ہے

Read more

ماسی شریفاں پولیس کے ساتھ کیوں آئی؟

جس زمانے میں نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والے ہر بچے نے ہوش سنبھالا وہ دور پنجابی فلموں کے عروج کا زمانہ تھا۔ باجرے دی راکھی، اور میرا لونگ گواچا جیسے گانوں کو الاپتی انجمن اور مسرت شاہین ہر گھر کی رونق تھی۔ انٹرنیٹ سے بے خبر عوام کے پسندیدہ گانوں کی پذیرائی ہاری کے گھر میں کبھی کبھار پکنے والے بکرے کے گوشت کی طرح کی جاتی۔ ایک گھر سے مغنیہ کی پاٹ دار آواز سنتے ہی جیسے

Read more

لگے رہو منا بھائی

کرونا کی عالمی وبا، جسے ہمارے عوام و خواص نے شروع سے ہی بہت آسان اور سادہ سمجھا وہ بھی اس زعم میں کہ ہم پاکستانیوں نے ہر طرح کا آلودہ پانی پی رکھا ہے اور ہر قسم کی ملاوٹ زدہ خوراک کھا رکھی ہے اور یہ جراثیم وغیرہ کو ہم بھلا کیا سمجھیں۔ لیکن اب جبکہ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہسپتالوں میں صحت یابی کی منتظر ہے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں ”نو ویکنسی“ کے بورڈ نظر

Read more

خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق: کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے

رصغیر پاک و ہند کے ممتاز ماہر لسانیات، نامور محقق، مؤرخ اور بلند پایہ ادیب خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق کا شمار فارسی، عربی، اردو اور پنجابی زبانوں کے اکابر اساتذہ میں ہوتا ہے ان کا تعلق خطۂ یونان کی شہرت رکھنے والی سرزمین گجرات سے تھا۔ حکومت پنجاب کی ایک پرانی سول لسٹ کے مطابق تحصیل گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کے گاؤں حاجی والہ میں اگست 1887ء کو قاضی محمد دین کے ہاں پیدا ہوئے۔ قاضی محمد دین آبائی

Read more

لفافہ صحافی اور ناخن کا قرض

اگرچہ دانا لوگ اس راز کو کھولا نہیں کرتے لیکن آپ سے کیا پردہ، درویش ایک لفافہ صحافی ہے۔ ضمیر کی کیا پوچھتے ہیں؟ خانہ برباد نے مدت ہوئی، گھر چھوڑ دیا۔ احوال واقعی یہ ہے کہ جس ادارے کا ملازم ہوں، اس کا سیٹھ ٹھیک تین مہینے سے ایک ایسے سنگین الزام میں گرفتار ہے جسے اب تک باقاعدہ مقدمے کی شکل بھی نہیں دی جا سکی۔ خبر یہ ہے کہ صحافت ایک ناپسندیدہ شعبہ قرار پا چکا۔ کوئی

Read more

ذمہ دار کون؟

ہم ناکام کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں درجنوں نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، مختلف وجوہات پر بحث کی جا چکی ہیں اور سینکڑوں صفحات سیاہ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان نظریات میں ایک نظریہ قدرے دلچسپ اور کافی مقبول ہے، اس نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ ہم دراصل من حیث القوم محب وطن نہیں ہے، ہمارے سیاستدان، افسران او عوام سب ہی اور جذبہ حب الوطنی سے عاری ہیں اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ ہے۔

Read more

محبت ایک اور عنوان ہزاروں

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا، شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق، یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان نہیں کی جا سکی جو بتا سکے کہ آخر محبت ہے کیا؟

جہاں محبت ایک خوبصورت لفظ ہے وہاں محبت نام ہے احساسات کا جذبوں کا، قربانی کا ایثار کا۔ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کا برا نہیں سوچ سکتے اس شخص کو دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتے ہیں اپنا آپ بھول جاتے ہیں بس یاد رہتا ہے تو وہ جس سے ہمیں محبت ہوتی ہے۔

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر محفوظ ہے

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔ کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔ جدھر دیکھتی ہوں ادھر کرونا کی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ اسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پینا والا معاملہ ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس قوم کو پاگل کر دینا ہے۔ فضول لایعنی خبروں کو اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سات آٹھ بار دہرانا لازمی ہے۔ ذرا دیکھئیے اور سر دھنیے۔ شہروز سبزواری نے بالآخر ماڈل صدف کنول سے نکاح کر لیا۔ کتنا بڑا کام؟

پہلی شادی کی خبر، طلاق کا ذکر۔ ایک بار دو بار دل پر پتھر آنکھوں پر جبر کر کے گنتی کی۔ سات بار۔ ہائے جی چاہتا تھا اختیار میں ہو تو لتروں سے وہ ٹھکائی کروں کہ نانی یاد آ جائے۔ نواز شریف ریسٹورنٹ میں چائے پیتے دیکھے گئے۔ پورے چھ بار ایک بوریت کن تسلسل کے ساتھ۔ نواز شریف اپنے بیٹے حسن کے ساتھ واک کر رہے ہیں۔ تو بھئی ہم شادیانے بجائیں۔ آخر کیا کریں۔

Read more

سیاسی اشرافیہ کی غیر سیاسی ”اشرفیاں“

بچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں پاکستان کے معنی پاک لوگوں کی سرزمین کے ہے۔ اللہ کرے تاقیامت اس کے یہی معنی رہیں شاد رہے، آباد رہے۔ اس کی سلامتی ہماری سلامتی ہے اس کی خوشحالی ہماری خوشحالی اور اس کی۔ ۔ ۔ اشرافیہ ہماری اشرافیہ ہے کیونکہ ایک مکتبہ فکر کے نزدیک جیسی روح ویسے فرشتے، عوام جیسے ہوں گے حکمران بھی ویسے ہوں گے۔ دوسرا مکتب فکر سمجھتا ہے عوام حکمران کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ حکمران جو کریں گے عوام بھی ویسا کریں گے۔

اس کرنے نہ کرنے کی بحث میں کرنے کی بات یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ ’تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے‘ کے مصداق ہو چکی ہے۔ یہ پیار کا نشہ ایسا نشہ ہے جس میں نشہ مخالف داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو پھر نشہ باز آپے میں نہیں رہتا، ہلڑ بازی کرتا ہے اور پھر مخالف کو ایسے پٹختا ہے جیسے جھارا پہلوان انوکی کو پٹخا کرتا تھا۔

Read more

ٹیپ ریکارڈ اور آڈیو کیسٹ کے رومانس میں ہمکتے سنہرے دنوں کی یاد

یہ قصہ پارینہ بن جانے والے عہد گم گشتہ کی سنہری سجیلی یادوں کی دلستاں بازیافت ہے جو گاہے دل میں لہکتی اور روح میں ہمکتی ہے۔ ایک سچی، فطری اور بے ساختہ زندگی کی مونجھ جو نمود ذات کی تمنا میں بے ثمر بیت گئی۔ جولائی 1991 ء کی ایک حبس زدہ دوپہر کی اونگھتی ہوئی ساعتوں میں بھائی جان پہلی بار شہر سے نیشنل پیناسونک کمپنی کا ایک ٹیپ ریکارڈ اور چند آڈیو کیسٹیں لے کر گاؤں کے

Read more

ٍٍڈپریشن اور خودکشی کا رجحان

امید اور مایوسی۔ اگر کوئی مجھ سے ان الفاظ کا مفہو م پوچھے، تو میں کہو ں گی۔ ایک زندگی اور ایک موت۔ ممکن ہے کئی لوگ میرے اس بیان سے متفق نہ ہوں، انہیں یہ جملے بہت سخت لگیں، لیکن اگر گہرا ئی سے جائزہ لیا جائے تو شاید حقیقت بہت مختلف نہ ہو۔ گزشتہ دنوں ایک چودہ سالہ لڑکے کی خودکشی کی افسوس ناک خبر پڑھنے کو ملی۔ اتنی کم عمری میں کوئی بچہ کیسے اس طرف مائل

Read more

مشک: پاکستانی ڈرامہ، فلم اور تھیٹر کا معیاری امتزاج

پاکستان فلم انڈسٹری یقیناً اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جب ایک مخصوص قسم کی فلموں کی بھرمار تھی غیر معیاری اداکاری، بے ربط ایڈیٹنگ، شہوت زدہ موسیقی، بے رنگ پرنٹ اور غیر حقیقی ڈبنگ۔ جس کی وجہ سے ناصرف معیاری اور گھریلو گھریلو قسم کی تفریح کے خواہاں سینما سے دور ہوگئے تھے بلکہ سینما بھی بند ہوتے چلے گئے، کئی سینیماز کی جگہ شاپنگ مالز نے لے لی۔ انہی دنوں میں ہمارے شہر کا آخری بچ جانے

Read more

چین میں آٹھ سال – تیسری قسط

پیپلز ڈیلی سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار تھا۔ ہم غیر ملکیوں کے لئے انگریزی میں شائع ہونے والا چائنا ڈیلی اخبار ایک نعمت سے کم نہیں تھا کیونکہ۔ ”زبان یار من چینی و من چینی نمی دانم“ والا معاملہ تھا۔ آٹھ سال تک ہم نے ”جنگ“ اور۔ ”اخبار جہاں“ میں جو ہفتہ وار مکتوب چین ’اور مکتوب بیجنگ‘ باقاعدگی سے لکھا جس پر چینی حکومت نے ہمیں ’تمغۂ دوستی‘ سے بھی نوازا، اس میں ہمیں اس اخبار سے بہت مدد ملتی تھی۔

Read more

کیا ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی یقینی بنا سکتی ہے؟

کپتان کی پیار سے بنائی گئی ٹائیگر فورس کو مخالفین نے دوران کورونا رلیف کا کام کرنے نہیں دیا، یہاں تک کے ٹائیگر کا نام سنتے ہی صف دشمناں کا ہر دستہ ان کے خلاف متحرک ہوگیا۔ کپتان اپنی فورس کی ٹویٹر پر کارکردگی اور کام دیکھ کر روزانہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ جنہیں ٹائیگر فورس کے کورونا میں سونپے گئے کام اور اس کے نام پر اختلافات ہیں وہ کچھ بھی کہیں کپتان نے اپنی اس افسانوی سیاسی فورس سے اب کوئی کام تو لینا ہی ہے۔

وہ کام ٹڈیاں پکڑنے کا بھی ہو سکتا ہے، پیٹرول کی عوام کے لیے سرکاری داموں پر دستیابی یقینی بنانے کا بھی ہو سکتا ہے تو جو اشرافیہ سخت لاک ڈاؤن چاہتی ہے اس کو سمارٹ لاک ڈاؤن کے فوائد سمجھانے کا بھی ہو سکتا ہے۔ کپتان کو کام سے اور اس کے چیتوں کو کپتان کے دعوت کام سے پیار ہے۔ اب کوئی چاہے تو صف دشمناں کو اطلاع کر سکتا ہے۔ جلد ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی کے لیے ”ٹویٹر ہینڈلوں“ کو چھوڑ کر میدان میں ہوگی، مطلب پیٹرول پمپس پر ہوگی۔ انتظار صرف کپتان کے ایک حکم کا ہے۔

Read more

مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کا خواب اور امریکی معاشرے کا ارتقا

قوموں کی زندگی میں بعض اوقات چھوٹا سا واقعہ بہت بڑی سیاسی، سماجی اور معاشرتی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ زندہ قومیں ایسے واقعات سے اپنے اجتماعی شعور کا ارتقاء کرتی ہیں اور تبدیلی کی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتی ہیں۔ 25 مئی 2020 ء کو امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیپو لس میں ایک سیاہ فام باشندے جارج فلوئڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کے بعد شدید مگر مختصر احتجاج کو دیکھ

Read more

تمہارے سوا، تمہارا کوئی نہیں، کورونا نے سمجھا دیا

مجھے پورا یقین تھا کہ یہ لوگ جو گھروں پر تراویح نمازوں کی باجماعت ادائیگی کر کے اللہ کواپنی پر خلوص عبادت کے ذریعے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ ان کی ضرور سنے گا۔ عشق میں ڈوب کر بے خطر یوم توبہ کو اللہ سے گڑگڑا کر اپنی خطاؤں کی معافی مانگنا آخر ایسی کون سے خطا ہے کہ جو رب ان کی اجتماعی توبہ اور عبادات قبول نہ کرے۔ نمرود کی آگ ٹھنڈی ہوئی تھی، کرونا

Read more

وینس: پانی پر تیرتا شہر

وینس جانے کی آرزو ہر سیاح کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں موجود ہوتی ہے۔ وقت، حالات اور مقدر کے الٹ پھیر کا کیا پتہ کہ کون سی آرزو کب پوری ہو جائے۔ یہ وسط جولائی کے دن تھے اور مجھے اٹلی کے تاریخی شہر اور فیشن کے مرکز میلان آئے دو دن ہوگئے تھے۔ میری فلائیٹ تین دن بعد کی تھی۔ اب ان تین ورکنگ ڈیز میں کوی اور کام بھی نہیں تھا۔ میری برسوں کی خواہش

Read more

خدا کے دفتر کی کچھ فائلیں

گاؤں میں صبح اٹھتا ہوں۔ آنکھیں جھپک کر یقین حاصل کر لیتا ہوں کہ ایک دن اور روشن ہوا۔

دروازے سے نکلتے ہوئے دیوار کے ساتھ گلی میں ہمارے گھر کے باہر ایک پلاسٹک کا پائپ کنکریٹ کی دیوار سے۔ یہی کچھ چار انچ باہر نکلا ہوا ہے۔ گھر کا آلودہ پانی اس کی تھوتھنی سے دن بھر بہتا ہی رہتا ہے۔ نتھنوں سے لٹکتی کائی پر ننھے بچے کی رالوں کا گماں ہوتا ہے۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے یہ اس پلاسٹک کے پائپ کے لیے ایک بوریت سے بھرپور کام ہو گا۔ لیکن ایک دن نظر پڑی کہ اس کی گردن کے پاس سے کنکریٹ میں سے ہی ایک ننھا سا پودا بھی نکلا ہوا ہے۔ اس کے قامت کا بیشتر حصہ زمین کے متوازی ہے پھر کہیں چھاتی سے آگے جا کر وہ اپنا سر آسماں کی جانب کر لیتا ہے۔ میں گھر سے نکلتے ہی اس بے جوڑ رشتے کو دیکھتا ہوں۔ پائپ اپنی تھوتھنی سے آلودہ پانی اگلتا رہتا ہے۔ نہ بھی اگل رہا ہو تو رالیں بہتی رہتی ہیں۔ اور اس کی بغل میں ننھا پودا وقت گزاری کا ساماں پیدا کرنے کے لیے جھومتا رہتا ہے۔ گلی میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بے معنی ہیں۔ لیکن میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں تو آنکھوں سے مسکراہٹ بھرا بلبلہ اس بے جوڑ رشتے پر پھینکتا جاتا ہوں۔

Read more

باؤلی

”چل نکل ادھر سے۔ کمبخت ماری، نیستی، بدبخت“
”چلی جاؤں گی جی۔ ۔ ۔“
”کب جائے گی؟“
”بس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھنے دیں۔“
”تیری تھوڑی دیر تو گھنٹوں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔“
”میں بس ایک گھنٹے کے لیے بیٹھوں گی۔“
”ایک گھنٹہ کیا ایک منٹ بھی نہیں۔ ۔ ۔ چل اٹھ۔ ابھی نکل۔ ابھی کے ابھی نکل۔“

Read more

گڑیا گھر کے جھوٹ سے نجات کا وقت

مرد اور عورت! اس کائنات کا اولین تعلق، اٹل حقیقت اور ابدی سچائی! پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ بپا طوفان نے کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ ایک روتی التجا کرتی آواز گونج رہی ہے، ” میں ایک عورت ہوں اور میں نے وہ کیا ہے جو ہر شادی شدہ عورت کرتی۔ اپنا گھر بچانے کے لئے، اپنے شوہر کو دوسری عورت کے چنگل سے چھڑانے کے لئے میں نے یہ سب کیا ہے " ہم ہک دک سوچ

Read more

روشن کردار کے حامل استاد: چوہدری فضل کریم

دل کو باتیں جو ان کی یاد آئیں کس کی باتوں سے دل بہلائیں بہترین سماج کی تشکیل کے لیے بہترین نظام تعلیم ناگزیر ہے۔ نظام تعلیم میں خود تعلیم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اور نصاب تعلیم اس نظام کے مقاصد کی تکمیل کا تحریری ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ متعلم کی شخصیت پر سب سے قوی اور فوری اثر نہ نظام تعلیم سے مرتب ہوتا ہے اور نہ نصاب سے۔ اس جادو کا سرچشمہ

Read more

آصف صاحب – کچھ یادیں کچھ ملاقاتیں

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہوچکا ہے۔

انیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کے مطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اور چند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

Read more

کورونا کی دستک

فون کی گھنٹی بجی، میں شاید اسی کا منتظر تھا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر صاحب،دوسری طرف بول رہے تھے ”یار، بدقسمتی سے رپورٹ پازیٹو آئی ہے،،۔ میں نے اسی روانی میں پوچھ لیا ”اچھا،میں نے بھی وہی کچھ کرنا ہے، جیسی ہدایات پہلے دی تھیں؟،،۔ وہ بولے ”جی، اور بیٹے کی طبیعت سے آگاہ کرتے رہیے گا،،۔ آخر کا وہ میری دہلیز پر دستک دے چکی تھی، لیکن تین روز پہلے وہ مہمان جسے وبال جان ٹھہرایا جا چکا ہے، بہت

Read more

فیمنسٹ، کمیونسٹ کہیں کی

ہائے اللٰہ! میری ایک بچی ہے کمیونسٹ کہیں کی۔ جی صحیح سنا ہے آپ کی سماعتوں نے کمیونسٹ ہوگئی ہے۔ ایسی ایسی سخت اور موٹی انقلابی باتیں کرتی کہ پرہیز گار بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ صرف کمیونسٹ ہی نہیں، حقوق نسواں پر بھی خوب پر پرزے نکل آئے ہیں۔ غضب خدا کا ناجانے کہاں سے ایسی باتیں سیکھ سیکھ کر آ رہی ہے، ہم نے تو ایسی تربیت کی نہ کبھی حرام کا لقمہ کھلایا، پتا نہیں کن گناہوں

Read more

کس کی ماں کو ’’ماسی‘‘ کہیں

اس ہفتے کا آغاز ہوتے ہی میں نے پیٹرول کی نایابی کی بابت دہائی مچادی تھی۔وہ کالم لکھتے ہوئے میں اس امر پر بھی بہت پریشان ہوتا رہا کہ 24/7 نیوز سائیکل والے قوم کو ہرلمحہ باخبر رکھنے کے دعوے دار کئی ٹی وی نیٹ ورک کے ہوتے ہوئے بھی مجھے اس مسئلہ کی جانب توجہ دلانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ مان لیتے ہیں کہ میڈیا ان دنوں اتنا آزاد اور بے باک نہیں رہا جتنا ’’چوروں اور لٹیروں‘‘

Read more

گرد میں لپٹی کتابیں اور ہوسٹل کا کمرہ

جامعہ نعیمیہ میں یہ میرا تعلیمی آخری سال تھا۔ ستمبر 2012 میں میٹرک کا امتحان مناسب نمبروں کے ساتھ پاس کرنے کے بعد والد صاحب نے مجھ سے میرے مستقبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا مجھے لاہور پڑھنے کے لئے بھیج دیا جائے؟ ”جی، جہاں آپ بھیجیں گے میں پڑھوں گا“ میں نے جواب دیا۔ ابا مجھے لاہور لے آئے، یہ بات نا انھیں ٹھیک سے معلوم تھی کہ وہ مجھے کہاں داخل کروائیں گے اور نا میں

Read more

پاکستان کا نظام تعلیم

قومیں تعلیمی ترقی سے نمو پاتی ہیں۔ جو افراد جتنے تعلیم یافتہ ہوں گے اسی قدر مہذب، شائستہ اور خوددار بھی ہوں گے۔

یہ بات اکثر لوگوں کے لیے باعث حیرت ہو گی کہ میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند میں 1858 ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ذہانت اور صلاحیت میں ہم سے نصف کے مالک ہیں اس لیے ہمارے پاس ”پاسنگ مارکس“ 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860 ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کر دیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت اور صلاحیت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

Read more

ہر دلعزیز شخصیات کی چند عادات

ہم روزمرہ کے سماجی روابط اور میل جول میں کئی طرح کی شخصیات سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں کہ بندہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے کہ ان سے ملے ہی کیوں۔ اور کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ چند بنیادی باتیں اگر کسی کی شخصیت کا حصہ ہوں تو وہ فرد ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے مل کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کسی فرد کا جینوئن ہونا اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔

Read more

طلبا: انہیں اہم جانیے

انسان تمام عمر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ترجیحات کی صورت بٹا رہتا ہے۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ معاشرے میں معاشی اور معاشرتی مقام حاصل کرنا ہے۔ عورت ہو یا مرد، چند کو چھوڑ کر زیادہ تر کے تخیل و مقاصد کی پرواز ایک دن ہی ہوتا ہے۔ اور ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے، انسان اپنی بے پایاں توانائی کا اندازہ نہیں کر پاتا اور یوں اپنے کردار کا مناسب تعین کیے بنا زندگی کی سٹیج سے اتر جاتا ہے۔

اور ہمارے بہت سے المیوں میں سے ایک المیہ اپنے کردار کو معمولی سمجھنا ہی ہے۔ حالانکہ خالق کے وسیع کینوس پر ہم بہت ہی چھوٹا ٹکڑا کیوں نہ ہوں آخر اس کی شاہکار تصویر کا حصہ ہیں۔ یہ عموماً اس لیے ہوتا ہے کہ ہم معاشرے کی عینک اپنی آنکھوں سے نہیں اتار پاتے جبکہ انسان بہت حد تک اپنے معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے۔

Read more

ریسرچ روم سے ہاسٹل تک ایک واک

یہ 2017 کی بات ہے جب میں اپنے ایم فل کا کورس ورک مکمل کرچکا تھا اور ایک تحقیقی مسئلہ کی تلاش میں تھا۔ ایم فل یا ایم ایس کی ڈگری دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے حصے میں کچھ کورسس پڑھنے پڑھتے ہیں اور جب وہ تمام ضروری کورسس پڑھ لیں تو دوسرا مرحلہ آتا ہے، تھیسس لکھنے کا۔ ہم اس دوسرے مرحلے کو اپنی زبان میں ”ریسرچ فیز“ کہتے ہیں۔ اس دوسرے مرحلے کا بنیادی مقصد یہ سکھانا ہوتا ہے کہ تحقیق کیسے کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں ہم سائنسدانوں کے لکھے گئے تحقیقی مضامین جو مختلف بین الاقوامی جریدے شائع کرتے ہیں، انہیں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے اساتذہ، سینئرز، ریسرچ سکالرز اور اسی تحقیق سے جڑے دوست موجود ہوتے ہیں۔

Read more

نعت گوئی، اجمالی تعارف

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
دنیا کی ہر زبان میں معنی کے اعتبار سے الفاظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں اور اصطلاحی معنوں میں۔

نعت کے لغوی معنی تعریف یا توصیف بیان کرنے کے ہیں۔ لیکن اپنے ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے یہ لفظ اصطلاحاً نبی معظم، رسول مکرم حضرت محمد ﷺ کی تعریف و توصیف کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ لہذا اب جب بھی یہ لفظ بصارتوں میں رنگ بکھیرتا ہے یا سماعتوں میں رس گھولتا ہے تو پردہ ذہن پر صرف اور صرف آقا دو جہان ﷺ کی مدح و توصیف ہی کی قوس قزح بنتی ہے۔

Read more

محبت ایک اور عنوان ہزاروں

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا، شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق، یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان نہیں کی جا سکی جو بتا سکے کہ آخر محبت ہے کیا؟

Read more

ابتدائی بچپن کی تعلیم (2)

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بچے کی پیدائش سے قبل اور پیدائش کے بعد ابتدائی ماہ و سال میں رونما ہونے والے واقعات اس پر زندگی بھر کے لئے اثراندازہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ اپنی والدین، ابتدائے بچپن کے اساتذہ اور نگہداشت کرنے والے افراد سے جس قسم کی تربیت پاتا ہے اسی سے اس امر کا تعین ہوتا ہے کہ وہ اسکول، معاشرہ اور اپنی عمومی زندگی کے درمیان کس طرح ربط پیدا

Read more

رمضان نے ہمیں کیا دیا؟

خلق خدا سے محبت!

”قرآن کا مشن“، ”تعمیر انسان“ اور ”تعمیر جہان“ ہے۔ ایک خاص طرز کا انسان اور ایک خاص طرز کا جہان۔ قرآن اور صاحب قرآن (ﷺ) نے ایسے ”انسان“ و ”جہان“ کی خوبصورت وضاحت کی ہے اور فرمایا ہے کہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے اس میں اس خاص قسم انسان و جہان کی جھلک بھی ہے اور اس مشن کی یاد دہانی بھی۔

Read more

کرونا رویہ۔ ۔ ۔ ایک ”حیرت انگیز کا قصہ“۔

ہمارے ایک بزرگ تھے۔ کوئی دلچسپ بات بتانی ہوتی تو کہتے۔ آؤ تمہیں ایک حیرت انگیز کا قصہ سناؤں۔
تو آئیے میں بھی آپ کو ایک حیرت انگیز کا قصہ سناؤں۔

گاؤں میں ایک جگہ بیٹھا تھا جہاں سات آٹھ افراد اور بھی بیٹھے تھے، ان کے مابین ہونے والی گفتگو پڑھیے۔ گفتگو پڑھنے کے دوران شرکا کے لہجوں کے تیقن کو تخیل میں ضرور لائیے گا۔

ایک نے دو واقعات بتائے کہ کیسے ان کے بہت قریبی جاننے والوں کو زہر کے انجکشن دیے گئے اور میتوں کو بغیر بتائے دفنا دیا گیا۔ ایسے میں ایک اور صاحب اٹھے اور کہنے لگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ کوئی مریض کسی اور مرض میں ہسپتال لے کر جائیں اور ڈاکٹروں کے کہنے پر اس کو کرونا کا مریض قرار دے دیں تو ایک لاکھ روپے ملتے ہیں جبکہ اگر آپ انکار کر دیں اور آپ کا مریض مر جائے تو جہاں بھی آپ دفنانے کے لیے قبرستان لے کر جائیں گے آپ کے پیچھے پیچھے اہلکار پہنچ جاتے ہیں جو آپ سے اڑھائی لاکھ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کو یہ رقم نہ دی گئی تو وہ میت یہاں سے لے جائیں گے۔

Read more

اعظم گڑھ کا ہندو کیسے مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی کا معلم بن گیا

یہ 2005 کا زمانہ تھا۔ روزنامہ نوائے وقت میں معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب کا ایک کالم بعنوان ”گنگا سے زم زم تک۔“ شائع ہوا۔ کالم میں انہوں نے بھارت کے ایک کٹر ہندو نوجوان کا تذکرہ کیا تھا۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جس نے اسلام قبول کیا۔ نوجوان پر اس قدر احسان الٰہی ہوا کہ وہ دل و جان سے اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہوگیا۔ مدینہ منورہ اور مصر کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے منسلک ہوا۔

سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور ڈین کے عہدے تک جا پہنچا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقات اسلامی میں جت گیا۔ عربی اور ہندی میں درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کتب کا ترجمہ دنیا کے مختلف ممالک کے دینی مدارس کے نصاب کا حصہ ہے۔ اس قدر با سعادت ٹھہرا کہ مسجد نبوی ﷺ میں حدیث کا درس دینے لگا۔ کفر کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے روشن راستوں پر گامزن ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے سفر سعادت کے بارے میں لکھا گیا یہ کالم میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہو سکا۔

Read more

شیخوہ پورہ والی خالہ اور گھرانے میں کورونا کی چہل پہل

عید کے تیسرے دن میری ایک آنٹی جی، شیخوہ پورہ میں فوت ہو گئیں۔ شوگر کی مریضہ تھیں اور اسی سلسلے میں دو سال پہلے ڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی تھی کہ جو عضو، جسم پر بوجھ بن جائے اس کا الگ کرنا ہی بہترین ہوتا ہے۔ ان کا زندگی کی طرف مثبت رویے کا یہ عالم تھا کہ ان کے چہرے پر مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی مسکراہٹ رہتی تھی اور توکل کا تو

Read more

علم تاریخ، تمثیل اور نوجوان نسل

انسانی علوم میں علم تاریخ کی اہمیت اس لئے بھی مسلمہ ہے کہ اس کے مطالعے سے نہ صرف انسان اور معاشرہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتا ہے بلکہ کچھ تاریخی واقعات اقوام عالم کے لئے ایک تازیانہ کا کام کرتے ہیں اور اپنے رستے سے بھولی بھٹکی قوم کے لئے اپنی منزل کے تعین میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ علم نہ صرف کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا امین ہے بلکہ نوجوان

Read more

ت سے ترکی۔ ش سے شیم لیس

شیم لیس ایک امریکن ٹی وی کامیڈی ڈرامہ ہے جس میں ایک چھ بچوں کے باپ کو شرابی اور خاندانی زندگی سے لاپروا فرد دکھایا گیا ہے، بچوں کی ماں بھی ایک ایسی عورت ہے جو گھریلو زندگی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری کے بجائے اپنی دنیا میں مگن رہتی ہے، اکثر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ڈرامہ سن دو ہزار گیارہ سے آن اسکرین ہے، آخری سیزن بوجوہ وبائی صورتحال شوٹ نہیں ہو سکا ہے، ڈرامے کے تین سیزن دیکھے ہوئے ہیں مزید بھی دیکھوں گی، ڈرامے میں شرابی باپ اور بے پرواہ ماں کی ذمہ داریاں ان کی نوجوان بیٹی اٹھا رہی ہے اپنے پانچ بہن بھائیوں کو مشکلات کے ساتھ پال رہی ہے، امریکن فیملی ڈراموں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بڑی خوبی کے ساتھ انسانی نفسیاتی و خانگی برتاؤ دکھاتے ہیں جب ان کے معاشرے میں فیملی نظام ٹوٹنے لگتا ہے تو ستر کی دہائی میں وہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل جیسا ڈرامہ بنا کر خاندان کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

Read more

گلوبل وزڈم کا زمینی فرد ۔ آصف فرخی

ڈاکٹر آصف فرخی کی ناگہانی رخصت نے ہم سب کو ششدر کر دیا ہے۔ ہم سب حالت غم میں ہیں۔ میں جب ان کو یاد کرنے بیٹھتی ہوں تو یادوں کے دھاگوں کی الجھی ہوئی پوتھلی میرے آگے پھیل جاتی ہیں کون سا دھاگہ کیسے کھولوں۔ وہ میرے ہم پیشہ ڈاکٹر تھے۔ اس حوالے سے ان کی کمیونٹی ہیلتھ کے بلند منصب اور کام گنواؤں، ادیب، افسانہ نگار، نقاد، کالم نگار، مترجم، معلم، مدیر کے حوالے سے کچھ لکھوں یا

Read more

پاکستان میں زراعت کا زوال اور کسان کی بے بسی

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں کا کسان محنتی اور زمین سے محبت کرنے والا ہے۔ انگریزوں نے اس خطہ کا پوٹینشل دیکھتے ہوئے یہاں ایک شاندار نہری نظام کی بنیاد رکھی اور پنجاب ایک اناج گھر کے طور پر ابھرا۔ بے آب و گیاہ زمینوں کو آباد کیا گیا اور کئی نئے شہر بسائے گئے جن میں منٹگمری، لائلپور اور سرگودھا قابل ذکر ہیں۔ یہاں پہ پیدا ہونے والی گندم سے دونوں عظیم جنگوں میں انگریزوں نے استفادہ کیا اور یہاں پر پیدا ہونے والی کپاس سے برطانیہ میں انڈسٹری چلائی گئی۔

یہاں کے زمینداروں نے قیام پاکستان سے پہلے کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ پنجاب میں یونینسٹ حکومت زمینداروں کے حقوق کی چیمپئن بن کر ابھری۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سر چھوٹو رام نے کسانوں کی بنیے کے پاس رہن شدہ زمینوں کو واگزار کرانے کے لئے اہم ترین قانون سازی کروائی اور وہ آج بھی کسانوں کا ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی بیراج ڈیم اور نہریں بنا کر زراعت کو ترقی دی گئی۔ زراعت سے وابستہ صنعت کاری کو فروغ ہوا اور مختلف زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑی زمیندار یاں توڑ کر مزار عین کو زمینوں کا مالک بنایا گیا۔

Read more

کیچ سے آہٹ کی پکار

کیچ محبتوں کی دھرتی، پنو ہوت کی سر زمین جہاں سسی کی محبوب پیدا ہوئے۔ سسی اور پنو کی محبت بارہویں صدی میں پروان چڑھتی ہے۔ بچھڑنے کے بعد ایک دوسرے کی تلاش میں کیچ اور بھنبھور کے درمیان بیلہ کے مقام پر دونوں کی محبت زمین کی آغوش میں جا کر ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتی ہے۔ کیچ تب سے درد کی پکار کو سمجھتا ہے جب پنو کا عشق اس کو مجبور کرتا ہے اور وہ سسی سسی

Read more

لفظ بہرحال نہیں مرتے

کسی بھی غور طلب خبر کو پڑھنے کے بعد مجھے لوگوں کی رائے جاننے میں بھی دلچسپی رہتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ اس خبر کو دیکھنے کے اور کیا زاویے ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بارے میں عمومی معاشرتی رویہ اور فکر کس سمت جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ سے پہلے کچھ صحافی حضرات کا نکتہ نظر ٹی وی یا اخبار کے ذریعہ معلوم ہو جاتا تھا مگر عام آدمی کا زاویہ جاننے کا ذریعہ

Read more

کچھ باتیں علی سفیان آفاقی کی

ہم سب ڈاٹ کام میں میری تحریروں کو باقاعدہ پڑھنے اور پھر ان میں کمی بیشی کا بتانے اور تبصرہ کرنے والے تمام خواتین اور حضرات میرے محترم ہیں! ایسے ہی دو کرم فرما : اجیت کمار اور سہیل الزمان کی فرمائش پر آج علی سفیان آفاقی صاحب پر لکھ رہا ہوں۔ کسی مصنف کے اچھا لکھنے کے کئی پیمانے ہو سکتے ہیں لیکن سب پیمانوں سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ پڑھنے والا جب اس کی کتاب پڑھنا شروع

Read more

ترکی میں 2023 میں کیا ہوگا؟ حقائق اور افسانے

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان ہمیشہ سے پاکستان میں مقبول رہے ہیں، لیکن 2015 میں عسکری بغاوت کے خلاف کامیابی سے نبرد آزما ہونے کے بعد ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا، اور بالخصوص ملک کی سنی آبادی انہیں اپنا ہیرو سمجھتی ہے اور بہت سوں کو اردوغان کی شخصیت میں ایک نجات دھندہ نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سی وڈیوز، میم، اور مضامین موجود ہیں جو ان توقعات کو ایک نئی سطح تک لے جا رہے ہیں۔ انہی توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک معروف پرائیویٹ ٹی وی چینل کے معروف اینکر نے یوٹیوب پہ دو ویڈیو شیئر کیں، جو بہت مقبول ہوئیں اور انہیں کئی ملین ویوز ملے، وڈیو میں انہوں نے مندرجہ ذیل دعوے کیے ہیں۔

Read more

کرونا پر 13 ویڈیوز۔ ۔ چودھویں بنانے سے کس نے روکا؟

اپریل کے دوسرے عشرے میں مائنڈ میٹرز یوٹیوب چینل پر کرونا لاک ڈاؤن سپیشل کے نام سے ویڈیوز بنانا شروع کیں، گو کہ اس چینل کا بنیادی مقصد ملک میں سائنسی رجحان کو فروغ دینا ہے اس لیے علم کائنات، نفسیات، بچوں کی نفسیات، فزکس اور بائیالوجی وغیرہ اس کے مخصوص موضوعات ہیں لیکن کرونا وبا کے حوالے سے سائنسی نکتہ نظر سے بات کرنا بھی ضروری تھی۔ ان ویڈیوز کا مقصد وطن عزیز میں آگہی مہم تھی۔ آنے والے خطرے سے انتباہ کرنا تھا۔ حفاظتی اقدامات کی تشہیر مقصود تھی۔ اور اس ساری کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے منہ کی کھانی پڑی۔

Read more

میڈیکل ٹورزم کا خواب، اسلامو فوبیا اور ڈاکٹر چندانی!

ہندوستان میں جس طرح تمام شعبہ ہائے زندگی کو سرمایہ داروں اور کارپوریٹ نامی جانوروں نے کاروباری بنادیا ہے، اسی طرح خالص خدمت خلق کا امین اور محافظ باور کیا جانے والا شعبہ طب بھی ان کے خونیں پنجوں سے محفوظ نہیں رہ سکا اور وہاں بھی ان ساہوں کاروں اور ان کے پروردہ آلہ (stethoscope) براداروں نے ڈیرے ڈال دیے۔ آج شعبہ صحت کی حالت یہاں تک خراب ہوچکی ہے کہ آپ کسی بھی نرسنگ ہوم، میٹرنٹی سینٹراور بڑے

Read more

ابا جی کی یاد میں

ماں باپ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ ماں کا نعم البدل تو پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ باپ بچوں سے اظہار محبت کیے بغیر ان سے محبت کرتا ہے۔ جینے کا حوصلہ اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے بل بوتے پر چلنا سکھاتا ہے۔ ماں کی محبت کا اندازہ تو دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ہو جاتا ہے جبکہ باپ کی خاموش محبت خود باپ بننے پر پتہ چلتی ہے۔

Read more

اپنے محسن سہیل وڑائچ کے لئے صحت کی دعا

یہ 1998 ء کے آخری مہینوں کا قصہ ہے، میں بی اے کے پیپر دے کر مانانوالہ کی گلیوں میں آوارہ گردی کرتا اور شعر کہتا پھرتا تھا، ساتھ ساتھ چودھراہٹ۔ تھانے کے ہر ایس ایچ او سے یاری، پاکستان پیپلز پارٹی کی کبھی ہلکی، کبھی تیز و تند سیاست، ساری رات گھر سے باہر، کچھ دوستوں کے پاس میری عشقیہ داستان کے قصے، سچ ہے کہ بچپن سے ہی ایسا ہوں، آوارہ، لڑاکا اور شاعر سا، پھر خیال آیا

Read more

رند مشرب رقاصہ اور عورت کا اظہار

کاشف گرامی نے دبے لہجے میں کہا، ”یہ ماضی کی اداکارہ مہرین کی بیٹی ہے۔ مہرین جو ’اَنا‘ کی ہیروئن تھی۔ وہ دیکھیے، وہ بیٹھی ہے لیکن آپ پہچان نہیں پائیں گے“۔ وہ دھان پان سی لڑکی جو میرے بچپن میں ٹی وی سیریز ’انا‘ کے ٹائٹل رول میں جلوہ گر ہوئی تھی، اب بالکل نہیں پہچانی جا رہی تھی. جوانی انعام ہے تو بڑھاپا ضرور فطرت کا انتقام ہو گا۔ حِسین لوگوں کو بوڑھا نہیں ہونا چاہیے، یا بوڑھوں

Read more

اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کی یاد میں

یہ میری خوش بختی ہے کہ عارفؔ عبدالمتین میرے چچا تھے۔ وہ نہ صرف اردو اور پنجابی کے شاعر تھے بلکہ ایک نقاد اور دانشور بھی تھے۔ میں نے ان سے اور ان کی شاعری سے ادب اور زندگی کے بہت سے راز جانے۔ انہوں نے میری ادبی اور نظریاتی شخصیت کی نشوونما میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مجھے نوجوانی کا وہ دور یاد ہے جب میں اپنے والدین اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ پشاور میں اور میرے

Read more

فیڈریکو گارشیا لورکا: آمریت شاعر کو قتل کر سکتی ہے، شاعری کو نہیں

زندگی میں بہت سے اجنبی راستے آپ کے قدم اپنی طرف بڑھنے ہی نہیں دیتے چاہے خواہش دل کا آزار ہی کیوں نہ بن جائے۔ پراسراریت کے دھندلکوں میں چھپی سرزمینیں اور ان دیکھی محبت کا فسوں! ایسا ہی کچھ معاملہ ہمارے اور سرزمین اندلسیہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اندلسیہ اور قرطبہ، غرناطہ اور الحمرا! ہماری اندلس سے محبت میں کچھ ہاتھ تو اس آ ٹھ سو سالہ تاریخ کا تھا جو بچپن سے سنہرے ماضی کی شکل میں

Read more

جو ہو گیا سو ہو گیا!

یہ 2007 ء کی بات ہے۔ میں ادارہ برائے طبی نفسیات میں سائیکو تھراپی کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔ تب ایک نفسیاتی الجھنوں کے شکار نوجوان نے میری زندگی اجیرن کردی۔ مجھے سائیکوتھراپی میں آتا جاتا کچھ نہیں تھا اور وہ وہ بیچارا تکلیف دینے کے بڑے حربے جانتا تھا۔ اس کا سب سے خاص حربہ یہ تھا کہ اس کے ساتھ میرے کوئی پچپن سیشن ہوئے، اور ان میں سے ہر سیشن میں اس نے کم و بیش

Read more

مجھے کرونا ہے…

دوستوں کو اطلاع ہو کہ مجھے کرونا ہو گیا ہے۔ جب سے کرونا کی وبا پھیلی تھی میں بہت احتیاط کر رہا تھا۔ دستانے اور ماسک پہن کر باہر نکلتا رہا۔ سماجی دوری کا خیال رکھا۔ تقریبات میں جانا تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ معمول کی ادویات کے علاوہ کلونجی بھی پانی کے ساتھ مسلسل لے رہا تھا۔ ساتھ ہی لہسن کی تری دہی میں ڈال کر کھا رہا تھا۔ لونگ اور ادرک والا قہوہ اہلِ خانہ زبردستی پلا رہے تھے۔

Read more

غلط فہمی کا اخلاقی بحران

اسلام آباد میں آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو میاں بیوی نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ اس پر "بے لگام سوشل میڈیا” نے طوفان کھڑا کر دیا کہ زہرہ شاہ کو انصاف دو۔ آج کی بات نہیں، ان حالوں ہم کو برسوں گزرے ہپں۔ ہم نے کم سن زینب کے لئے انصاف مانگا۔ نقیب محسود کے لئے انصاف مانگا۔ ساہیوال کے بے گناہوں کے لئے انصاف مانگا۔ مشال خان کے لئے انصاف مانگا۔ پروین رحمان اور راشد رحمن کے لئے

Read more

کرونا سے مرنا نہیں۔ ۔ ۔ لڑنا تھا

نعرے لگائے گئے کہ ”کرونے سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے“ اور ہم اتنے پیار سے لڑے کہ اب صرف مرنا ہے۔ سال 2019 ء کے اختتام پر چائنہ سے شروع ہونے والی اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور جو ڈر اور خوف عوام کے دلوں میں تھا وہ وزیر اعظم کے بیان کے بعد اور لاک ڈاؤن کھلنے کے ساتھ ہی عوام

Read more

انصاف

انصاف، عدل، ان میں اخلاقی صحت، عقلیت، قانون، مذہب، مساوات اور غیر جانب داری شامل ہے۔ نصاف کی ایک قسم تو وہ ہے جو ہر شخص کسی دوسرے کے ساتھ معاملے میں راست بازی اور حقیقت پسندی سے کرے۔ یہ کام ادارہ جات اور ان کے ذمے داروں کی جانب سے بھی کیا جاتا ہے جو زیادہ فعال اور اصح افراد کو اور ذمے داری کے عہدے دیتے ہیں۔ یہ کام عدالتوں میں بھی ہوتا ہے، جو جائیداد کی تقسیم،

Read more

جاوید صدیقی کے خاکوں کا روشن دان

جاوید صدیقی کے خاکوں کی کتاب ’روشن دان‘ ایسی روشن، قیمتی اور دلچسپ شخصیات سے متعارف کراتی ہے کہ کچھ دیر کے لئے جاوید صدیقی سے حسد ہونے لگتا ہے کہ کیسی نایاب کہکشائیں انہیں میسر رہیں اور وہ ان کے ساتھ رشتوں میں جڑے رہے۔ اس کتاب میں دس شخصی خاکے ہیں۔ خاکے کیا ہے، محبت نامے ہیں اور کہانیاں ہیں جو پل پل مڑتی ایک نئی کروٹ لیتی چلی جاتیں ہیں۔ ان خاکوں کا مزاج اردو کے روایتی

Read more