سارہ کی دنیا مسکرانا کیسے بھول گئی؟

حامد اور سارہ آپس میں کزن ہونے کے ساتھ ہم عمر بھی تھے اور دونوں کے درمیان ذہنی مطابقت بھی کمال کی تھی۔ بنا کہے ایک دوسرے کی بات کو سمجھ لینا، روٹھیں تو فوراً ایک دوسرے کو منا لینا نہ صرف یہ بلکہ دل کی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرنا۔ سارہ کے گھر والے بہت سمجھدار اور سلجھے ہوئے جبکہ حامد کے والدین روایتی والدین کی طرح اولاد کو ڈنڈے کے زور پہ بات منوانے والے اور

Read more

صاحبِ منبر کو گارڈ تو رکھنے پڑیں گے

پاکستان میں کسی مبلغ یا عالم دین کی ریٹنگ، یا دوسرے معنوں میں مقبولیت کا پیمانہ کیا ہے؟ یہ کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ اس کے لیے کن عوامل کا ہو نا ضروری ہے؟

تنازعات پر مبنی شہرت پر لگا کر اڑتی ہے۔ پاکستان کی تیس فی صد آبادی ڈگری کی حد تک پڑھی لکھی ہے۔ علمی و ادبی معیار پر آبادی کا تناسب شاید پانچ فی صد سے بھی کم ہو۔ آج کل جیسے جیسے فاصلے سمٹ رہے ہیں، ویسے ویسے شہرت کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ہر شخص اپنی مرضی کے الفاظ سننا اور اپنی مرضی کا منظر دیکھنا چاہتا ہے۔ غور و فکر سے بے بہرا، علمی و ادبی سوچ سے بے نیاز ہجوم کو اس کی مخالف سوچ اور نظریے کے حامل لوگوں سے سے متصادم کرنے اور خطیبانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے صاحب منبر کو ایسا مواد اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ جو مخصوص سوچ کے حامل لوگوں کو وقتی تسکین کے ساتھ دوسروں کے عقائد پر ٹھٹھا لگانے کا سامان بھی مہیا کرے۔ جب الفاظ کے تیر کم پڑ جائیں تو مخالف کی جان لینے سے ہی دل کی تسلی ہوتی ہے۔ منبر پر بیٹھے شخص کا حلیہ، زبان اور حرکات و سکنات مخصوص ہوتی ہیں۔ سامنے بیٹھا ہجوم اور اس کا رد عمل بھی مخصوص ہوتا ہے۔ دوسروں کے عقائد پر کڑی تنقید کرنے اور پھبتیاں کسنے سے ہی اس کی شہرت بڑھتی ہے۔

Read more

لاہور میں ایک جج کے تجربات

دسمبر 1993 میں خیر پور ٹامیوالی سے میری خواہش کے برعکس لاہور میں تبادلہ ہو گیا۔ میں لاہور کے قرب و جوار میں پوسٹنگ چاہتا تھا مگر قدرت کو شاید ہمیں داتا کی نگری میں رکھنا مطلوب تھا۔ لاہور کے بارے میں اپنے تاثرات، تجربات اور یادیں قلمبند کرنے سے قبل ایک جملہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 1993۔ 1996 والا لاہور آج کے لاہور سے بالکل مختلف تھا۔ کوئی مناسبت، کوئی مطابقت، کوئی تقابل ممکن ہی نہ ہے۔ یہ تقابل کس طرح ممکن ہے؟ 50 لاکھ کی آبادی والا شہر 2019۔ 2020 میں ڈیڑھ کروڑ کے انسانی بحر بیکراں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور جو ٹھوکر نیاز بیگ پر ختم ہو جاتا تھا اب وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ 1994۔ 1995 میں 40 کے قریب سول جج، پندرہ ایڈیشنل سیشن جج اور تین چار ہزار ممبران پر مشتمل لاہور بار اب 225 سول ججوں، 75 سے زائد ایڈیشنل سیشن ججوں اور بیس بائیس ہزار کے قریب ممبران پر مشتمل بار ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی بار ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق لاہور بار اس وقت صرف ایشیا نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور منفرد بار ہے کہ وکلا کی اتنی بڑی تعداد دنیا کے کسی بھی شہر میں موجود نہیں ہے۔

2017 میں جب میں سیشن جج لاہور تھا تو صوبہ خیبر پختونخوا سے سینئر سیشن ججوں کا ایک 15 رکنی وفد سیشن کورٹ لاہور کے وزٹ پر بھی آیا۔ بریفنگ کے بعد میں نے انہیں وہ کمرا دکھایا جہاں ہم نے ویڈیو وال کے ذریعہ لاہور کی تقریباً 220 عدالتوں کی کوریج کا انتظام کر رکھا ہے۔ وہ سارے جج صاحبان بڑے متاثر ہوئے اور مجھ سے پوچھا اتنی زیادہ عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور میں کتنے سیشن جج کام کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ صرف ایک ہی سیشن جج ہے تو کورس کی صورت میں ان کے یہ الفاظ اب بھی کانوں میں گونجتے ہیں کہ ”یہ انسانی بساط سے باہر ہے“ ۔

Read more

اپنے جیسوں سے انسیت بارے

میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں سے دیکھ کر کہتی، ”تمہارا گھڑ سوار دوست آ گیا“ مجھے لگتا جیسے میرے دانتوں تلے ریت آ گئی ہو۔ بادل نخواستہ اسے ملنے کے لیے گھر کے دروازے سے نکل جاتا اور جتنی جلدی ممکن ہوتا اسے رخصت کرنے کی

Read more

ہر مخالف کو نہ غدار پکارا جائے!

اپنے شعبے کے استاد الاساتذہ اور ماہر پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان استاد، مفکر، دانشور اور سماجی کارکن عمار علی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دینے والے معروف کالم نگار، ادیب اور دانشور جناب محمد حنیف کو ان کے اداروں نے بیک جنبش قلم فارغ کر دیا ہے۔ اختلاف رائے کی بنیاد پر تعلیمی اداروں سے نکالے جانے والے اس سانحے کے تناظر میں ہمارے دوست اور نوجوان نسل

Read more

ترک ڈراما آتے ہی پاکستانی ڈرامے میں کیڑے نظر آنے لگے؟

جب سے ترک ڈراما ارطغرل غازی پی ٹی وی سے آن ائر جانا شروع ہوا ہے، عوام اور ادبا و قلمکار اس کے گن گاتے اور تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتے ہیں۔ سوشل اور ویب میڈیا پر اس کا موازنہ موجودہ پاکستانی ڈراموں سے کر کے مقامی مواد کے خلاف گویا ایک محاذ کھول لیا گیا ہے۔ ہمارے لالی وڈ کے فلمی ہیرو شان شاہد کو اس بات پر بے جا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انہوں نے

Read more

مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے!

” مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے” "ایسا کیا کر دیا اس نے؟” "وہ ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس سے رہ و رسم رکھے ہوئے ہے، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا” ” کیا قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟” ” یہ میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے، بیٹی نے باپ کی پگ اچھالی ہے” "مجھ سے کیا چاہتے ہو؟” "تم بحثیت وکیل مجھے بتاؤ کہ قتل کے بعد مجھے کم سے کم سزا

Read more

آدمی کس سے مگر بات کرے؟

جب ہر طرف سے غم اور بیماری نے گھیرا ہو اور کوئی دوا بھی نہ ہو تو ایسے دن وبا کے دن کہلاتے ہیں۔ دن بدلنے سے دنیا بدل جاتی ہے۔ دیرینہ آسرے چھوٹ جاتے ہیں، سدا بہار ٹوٹکے افواہوں کی طرح بے وقعت ہوجاتے ہیں۔ اطمینان کا قحط پڑ جاتا ہے، سینے بھاری اور زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ انسان غموں سے دور بھاگتا ہے مگر غم  خبر بن کر اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ بری خبروں کا ایک شور ہے جو

Read more

ڈیپریشن کی ہلاکت خیزی یا عدم قابو

آج کل ہندوستان کے ایک نوجوان اداکار کی خودکشی کا بہت ذکر ہے۔ خدا اس کی مغفرت کرے بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس کے ساتھ اخبارات رسائل اور میڈیا پے ڈپریشن سے متعلق بہت بحث ہو رہی ہے۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک بھرپور صحت مند اور توانا انسان اپنے اوپر خدا کی اتنی ساری نعمتوں کو نظرانداز کردے اوراس کی توجہ صرف محرومیوں اور مشکلات پر ہی مرکوز ہو جائے۔ یہ انتہائی ناشکرا پن ہے۔ جو خدا

Read more

بیٹی پرایا دھن: ہم والدین ہیں یا تاجر؟

لفاظی میں بے مثل ہمارے معاشرے کے رویے بدلنے میں مذہب کافی حد تک بے بس نظر آتا ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنی اخلاقیات اور مذہب کے اصولوں پر فخر تو کرے مگر عملی طور اس کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی تجارت اور دنیا داری کے اصولوں پر کی جانے، وہاں اولاد جیسے حسین ترین معجزے کا بھی نفع اور نقصان کے ترازو میں تولے جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ مذہب نے جس کو رحمت کہا اسے ہماری

Read more

جوزف مسیح کی زندگی کا ایک دن

بے موسم کی بارش رات بھر سے ایک تار برس رہی تھی اور وہ دیر سے کھڑکی میں نصب آسمان کی وسعتوں میں دور کہیں بادلوں کے گرداب میں پھنسے ایک پرندے کی ناہموار پرواز پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ جوزف چائے کی ٹرے لے کر آیا تو اس کا انہماک ٹوٹا۔ ”شاید کوئی کبوتر ہے بیچارہ، اپنی چھتری سے اڑا ہوگا کہ بارش میں پھنس گیا۔ “ اس نے عورت کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے رائے زنی کی۔

Read more

لاہور میں پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر نوجوانوں کی خود کشیاں

لاہور پولیس کے مطابق شہر میں چار روز میں دو نوجوانوں نے ویّیو گیم ’پب جی‘ کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کر لی ہے، جس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسی تمام پُرتشدد گیمز اور آن لائن پیجز کو بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست دی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق لاہور کی ملتان روڈ کے رہائشی، 16 سالہ نوجوان نے خودکشی کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اسے آن لائن گیم کھیلنے سے منع کیا اور اس نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کر لی۔

پولیس کے مطابق خودکشی کرنے کے بعد بھی اس کے موبائل پر پب جی گیم چل رہی تھی۔ اس واقع سے دو روز قبل بھی شہر کے ایک اور 20 سالہ نوجوان نے اسی گیم کی وجہ سے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر اپنی جان لے لی تھی۔

Read more

سب رنگ نگار خانہ: ایک خواب کی تعبیر

”سب رنگ ڈائجسٹ“ اور شکیل عادل زادہ کے ان گنت عاشق ہیں۔ انھی میں ایک حسن رضا گوندل کا نام نمایاں ہے۔ حسن کا تعلق منڈی بہا الدین سے ہے، لیکن روزگار کے سلسلے میں برمنگھم میں مقیم ہیں۔ دو ہزار سولہ کے آخری مہینوں میں حسن میرے پاس کراچی آئے۔ غرض یہ تھی کہ شکیل عادل زادہ سے ملاقات کی جائے، نیز انھیں اس بات پر قائل کیا جائے کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کیا جائے۔ ایسا کئی بار ہوا، جس کسی پبلشرز کے علم میں آتا، میرا شکیل عادل زادہ سے انس کا تعلق ہے، وہ مجھ سے ضرور یہ مطالبہ کرتا کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کرنے کی اجازت لے دوں۔ میں نے ایک پبلشرز سے پوچھا، کیا شکیل بھائی کو کچھ رقم دی جائے گی؟ جواب یہ رہا، بدلے میں، وہ میرا ناول مفت میں چھاپ دے گا۔ اس پیش کش سے اندازہ ہوتا ہے، ہمارے یہاں لکھنے والا اپنی کتاب شایع کروانے کے لیے جیب سے خرچ کرتا ہے۔ میں نے موصوف کو انھی کے لہجے میں جواب دیا، ”جب میں ناول لکھوں گا، تب آپ سے رابطہ کروں گا“ ۔

Read more

ٹوٹتے گلیشیئر کے نیچے خواب کی زمین پر چہل قدمی۔۔۔

زندہ سچائی، زندہ واقعات اور زندہ لوگوں سے اس کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کہانی کا مردہ لوگوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ***    *** ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے نیند میں ہوتے ہیں تو ہم زیادہ جاگتے ہیں۔ جیسے آنکھوں کے آگے دور تک پھیلی ہوئی نہ ختم ہونے والی دھند ہوتی ہے۔ یہ دھند ہمیں گلیشیئر پر تیرتے خواب سے برآمد کرتی ہے۔ ۔ ۔

Read more

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی: بن ٹھن کے کہاں چلے!

 ”بھئی یہ بندش کون سے راگ میں ہے؟ “  ”کون سی بندش، ڈاکٹر صاحب؟ “  ”بن ٹھن کے کہاں چلے! ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم نے گائی ہے۔ مدت ہوئی سنی تھی۔ اب یاد نہیں آرہا۔ آپ آئے تو خیال آیا کہ پوچھ لوں۔ آپ نے تو ضرور سنی ہوگی! “  ”نہیں سر، اتفاق سے میں نے یہ بندش نہیں سنی! آپ نے توجہ دلائی ہے تو کھوجتا ہوں۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ موسیقی سے اس قدر

Read more

واہیات ڈرامے اور رشتوں کے تقدس کی پامالی

پاکستانی ڈراموں میں بے ہودہ پن اور عریانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب بظاہر معاشرے کا ماڈرن طبقہ بھی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان واہیات ڈراموں کے ٹرینڈ چل رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ اب مکمل طور پر جنسیت، مختصر لباس، ناجائز تعلقات اور بے ہودگی و لچر پن کے گرد گھوم رہا ہے۔ ڈراموں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سپورٹ اور دھڑا دھڑ بنائے جا رہے ہیں۔

Read more

انڈیا: جگناتھ ‘رتھ یاترا’ کا مطالبہ کرنے والا مسلمان شخص کون ہے؟

کورونا وائرس کے خطرے کے باعث انڈیا کی سپریم کورٹ نے اٹھارہ جون کو ایک فیصلے میں بھگوان جگناتھ کے صدیوں پرانے سالانہ جلوس پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اس فیصلے پر نظر ثانی کی متعدد اپیلیں کی گئیں جن میں ایک مسلمان شخص کی اپیل بھی شامل تھی۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے باعث انڈیا کی سپریم کورٹ نے اٹھارہ جون کو ایک فیصلے میں بھگوان جگناتھ کی صدیوں پرانے سالانہ یاترا (جلوس) پر پابندی لگا

Read more

کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں کیا عید قربان کے لیے جانور کی خریداری کرنے مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا ایس او پیز کا تعین ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی کا آغاز کر دیا گیا ہے، ہر برس یہ مویشی منڈی ملیر کینٹ بورڈ کے زیر انتظام قائم کی جاتی ہے۔

کراچی کو اندرون ملک سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ کے قریب اس مویشی منڈی کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں ساہیوال کے مشہور بیلوں سے لے کر نوشہرو فیروز کے خوبصورت بکروں، غیر ملکی نسل کے جانوروں کے ساتھ صحرائی اور ساحلی علاقوں سے سیاہ اونٹ اور برفانی علاقے سے یاک بھی لائے جاتے ہیں۔

Read more

آپ اپنی زندگی میں کن محاذوں پر جنگ لڑتے ہیں؟

مجھ سے کئی نوجوان دوست پوچھتے ہیں
”ڈاکٹر سہیل! ہم آپ کو ایک کامیاب رائٹر اور ڈاکٹر، ہیومنسٹ اور سائیکو تھراپسٹ کے طور پر جانتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ آپ اس منزل تک کیسے پہنچے۔ آپ کو اس کامیابی کے راستے میں کن دشواریوں اور کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ ان سے کیسے نبرد آزما ہوئے؟“

آج میں آپ سے اپنی زندگی کی چند آزمائشوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور زندگی کے ان محاذوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن پر میں کئی سالوں بلکہ کئی دہائیوں سے جنگ لڑ رہا ہوں۔

جب مجھے اپنی نوجوانی میں اندازہ ہو گیا کہ میں ایک غیر روایتی انسان ہوں تو مجھے یہ بھی احساس ہو گیا کہ مجھے اپنی راہ خود بنانی ہے اور مجھے اپنی غیر روایتی زندگی کے لیے قربانی بھی دینی ہے۔

Read more

میں، گرونیا اور اس کا شوہر

میں ڈبلن پہنچ کر اس سے فوراً ملنا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسے فون کروں۔ وہ میری عزیز از جان دوست، میری سب کچھ، میری محبوبہ، ہم دونوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے والی، میری جنم جنم کی ساتھی گرونیا کا شوہر تھا۔ اس نے ہی مجھے گرونیا کے موت کی خبر دی تھی، میں نے اسے آنسوؤں سے بھرا ہوا جواب دیا اور نہ جانے کیوں میرے اندر ایک زبردست قسم کی خواہش جاگ اٹھی تھی کہ میں اس سے ملوں۔ آخر کار وہ میری گرونیا کا شوہر تھا۔

گرونیا نے اس کی بانہوں میں جان دی ہوگی۔ اس نے اسے پکڑ کر بٹھایا ہوگا، اس کے بالوں کو سنوارا ہوگا، درد کی شدت میں وہ تڑپی ہوگی اور اس وقت وہ اس کا سہارا ہوگا۔ نہ جانے کیوں میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس سے اس کے بارے میں، گرونیا کے بارے میں باتیں کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے خبر سننے کے ساتھ ہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ڈبلن پہنچ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوٹل کے اس اداس کمرے میں بیٹھا ہوا گرونیا کے بارے میں سوچتے ہوئے سشمیش اوڈینو کو فون کرنے میں کچھ عجیب سی ہچکچاہٹ سی ہو رہی تھی۔

Read more

دریا کے دوسرے کنارے والی لڑکی

تانیا سے میری ملاقات ہوئی جب میں نے نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے کمپیوٹر اینڈ انفورمیشن میں ماسٹرز کر رہا تھا۔ وہ ہمارے ہی گروپ میں تھی۔ تعارف ہوا تو بولی۔ ” تمہارا نام حسن ہے۔ پاکستانی ہو کیا؟” میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ” میں انڈین ہوں۔ مسلم فیملی سے ہوں۔ حیدرآباد میرا شہر ہے” ” اردو آتی ہے؟” میں نے اردو میں پوچھا۔ ” ہاں ہاں مجھے بہت اچھے سے اردو بولنا آتا ہے” اس کے

Read more

ڈاکٹر میمونہ اور اس کی ”گگو“ !

ہماری پیاری، انوکھی، لاڈلی اور اکلوتی بیٹی میمونہ اظہر کہ اس وقت میڈیکل کالج میں سال آخر کی طالبہ ہے، اور لاک ڈاؤن کے سبب آج کل الائیڈ ہسپتال کے کسی وارڈ کی بجائے گھر میں اپنی ماما کے ساتھ کچن میں ہاؤس جاب کر رہی ہے، اس نے ایک پرشین کیٹ پال رکھی ہے۔ ۔ ۔ لیکن وہ فارسی نہیں بولتی ’عام پنجابی بلیوں کی طرح ہی میاؤں میاؤں کرتی ہے، شاید قوم، قبیلہ اورعلاقہ بھول گئی، کسی نسلی

Read more

سگریٹ نوشی کے فضائل

تجھے سگریٹ سے جو پیار نہیں، اس کے کش کا تجھ پہ کوئی وار نہیں تمباکو کے زہر میں جو مٹھاس ہے، تیرے لیے وہ بے کار ہے سگریٹ پر لکھنا چاہتا تھا پر کوئی جہاندیدہ بندہ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ جو اس کے متعلق معلومات دے، پھر اچانک رات کے تین بجے اس مہربان سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے پوچھا: کدھر؟ کہتے ؛ سگریٹ نوشی اور اس کے جسم پر اثرات پر لیکچر سننے جا رہا ہوں۔ میں

Read more

خاموشی اور تنہائی

دھوپ بڑی خاموشی سے غائب ہوگئی، اور آسمان پر بادلوں نے قدم جمالیے، پھر اچانک ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا، وہ سڑک کنارے چلتے چلتے، کافی دور نکل آیا تھا، آج اسے دن بڑا لمبا لگ رہا تھا، سوچیں اس کے قدموں کا ساتھ نہیں دے پارہی تھیں، خیال کہیں اور منزل کا کچھ علم نہیں تھا، رات بھی آنکھوں میں گزاری، یادوں کا ایک سمندر تھا، جس میں وہ غوطہ زن رہا، کبھی ماضی کے اچھے دن اور

Read more

گوری کا دلدار کالا ہے

گوری بیاہ کے سسرال آئی تو وہاں محمود اور ایاز ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ گوری تھوڑی الگ دکھائی دیتی، بجائے اس کے وہ لوگ گوری کو اپنے رنگ میں رنگتے انھوں نے گوری کا رنگ اپنانے کی کوشش شروع کر دی۔ گوری ان کو دیکھ دیکھ شکر ادا کرتی لیکن انھیں گوری کو دیکھ کر صبر نہیں آتا تھا۔ لہذا وہ لوگ گورے ہونے کے مختلف ٹوٹکے آزماتے تو کبھی مشہور ڈرماٹالوجسٹ کی خدمات لیتے، نتیجہ یہ کہ

Read more

روزی کی یاد میں

ماضی کے دریچوں سے ایک بھرپور منظر ایک گروپ فوٹو کی صورت میرے سامنے ہے۔ جس میں روزی بھی موجود ہے۔ وہ روزی جس کے ساتھ میری زندگی کے بہترین ماہ و سال گزرے۔ اس یاد گار تصویر میں زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور مسکراتے اور گہماگہمی سے منور دمکتے چہروں میں مجھ سمیت سولہ مردوں اور چودہ خواتین میں روزی بھی موجود ہے۔ 1999 ء کا یہ منظر جناح پبلک سکول و کالج گجرات کا ہے۔ اور سکول کے

Read more

ہیپی فادرز ڈے

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ دوستوں کے فادرز ڈے کے میسجز پوسٹ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آج کل کے رواج کے مطابق ہر خاص دن کے میسج لوگ رات بارہ بجے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی سالگرہ ہو یا شادی کی، فادر ڈے ہو یا مدر ڈے، رات بارہ بجے ہی میسج کرنا اور کیک کٹنا فیشن بن گیا ہے۔ میں خاصی دیر سے ابا مرحوم کی تصویریں ڈھونڈ رہا تھا، مگر ایک تو

Read more

بینظیر بھٹو، پاکستانی سیاست کی ساحرہ

بینظیر بھٹو پاکستانی سیاست کی ساحرہ تھیں۔ تھیں کہنا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ وہ اب بھی پاکستانی سیاست کی ساحرہ ہیں۔ 86 میں وطن واپسی اور 88 میں وزارت عظمیٰ سے لے کر مرتے دم تک بلکہ آج تک ہماری سیاست ان کے سحر سے باہر نہیں آ سکی۔ یہی کمال ان کے والد مرحوم کا تھا۔ کئی دہائیوں تک لوگ ان سے تعلق میں گرفتار رہے۔ چاہے وہ تعلق محبت کا تھا یا نفرت کا۔ مجھے اعتراف ہے کہ

Read more

حکومت سنڈیکیٹ ایکٹ پاس کرانے میں بےبس یا بےچین ؟

وہ دن اور یہ دن، حکومت جب سینٹ میں کم حکومتی اراکین ہونے کے باوجود 2019 میں جیت گئی اور اکثریت سے مالامال اپوزیشن شکست سے دوچار ہوئی تب سے "فتح” سے ہمارا پیار کا رشتہ ہے۔ ہر کام میں بےشک حکومت دیر کر دے، ہم پھر بھی سمجھتے ہیں کہ آخری فتح حکومت ہی کی ہے۔ نیب سے استفادہ کرنا ہو، کورونا سے لڑائی، سندھ کو سبق سکھانا ہو یا برے بجٹ پر بھی واہ واہ کرانا ہو، بہرصورت

Read more

پاکستانی فلمی دنیاکے نامور موسیقار اے حمید

یہ 1933 کا سال تھا جب ’دیو سماج‘ کالج، امرتسر میں موسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ نومولود کے چچا ایم اسلم بھی بمبئی میں اس وقت جانے پہچانے اداکار تھے۔ بچے کا نام شیخ عبدالحمید رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے اس بچے نے موسیقی میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خودبچے کے والدموسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر تدریس کے علاوہ عملاً گیتوں کی دھنیں بھی ترتیب دیتے تھے۔ موصوف نے غیر منقسم ہندوستان میں

Read more

بھارت میں ’’کمیونل فسادات‘‘ کی تیاری

گزشتہ جمعہ کے روز صبح اٹھنے کے بعد میں نے چند طویل مضامین اور ایک کتاب بہت چائو سے بستر کے سرہانے رکھی۔ ارادہ باندھا کہ یہ کالم لکھنے کے لئے دو دنوں کا جو وقفہ ملا ہے اس کے دوران انہیں غور سے پڑھا جائے۔ یہ سمجھنے کی کوشش ہو کہ لداخ کی سرحد پر چین اور بھارت کے مابین کیا گیم چل رہی ہے۔1984سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر گہری نگاہ رکھنے کی بڑھک لگاتا رہا ہوں۔ لداخ

Read more

کیا بہاولپور کے لوگ ریڈ انڈین ہیں؟

یہ چونکا دینے والے الفاظ بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب کے ہیں۔ جنہوں نے 19 جون 2020 کو اسمبلی اجلاس میں خطاب کیا اور اپنے خطاب میں بہاولپور کے رہائشیوں اور صحرائے چولستان کے باسیوں کا مقدمہ ایوان میں پیش کیا۔ ان کا کہا ایک ایک لفظ بہاولپور کے لوگوں کی بے بسی و کسمپرسی کا آئینہ دار تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے کچھ طاقتور حلقوں کے بہاولپور اور چولستان کی زمینوں پر قبضے

Read more

تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوئی

علامہ طالب جوہری وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ کیا اہل علم بھی وفات پا جاتے ہیں؟ علامہ خود جواب عطا فرماتے ہیں کہ: کانچ کے کھلونوں پر اعتبار کیا کرنا وہ بھی ٹوٹ جاتے ہیں جو خدا بناتا ہے جو پیدا ہوا، فنا اس کا مقدر ہے، جو اجزا ظہور ترتیب ہوئے، ان عناصر کی شیرازہ بندی کا پریشان ہونا، امر ربی ہے۔ اسی امرروایت پر علامہ طالب جوہری نے کہا: ہم نے بھی ترک کر

Read more

غلاف کعبہ کا حصول گھر بیٹھے کیسے ممکن ہو سکا

مکہ معظمہ میں قیام کے دوران مجھے ہر لمحہ یہ خیال رہتاکہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں جو اس شہر مقدس میں، مسجد حرام کے عین سامنے واقع ہوٹل میں رہائش پذیر ہوں۔ اس روئے زمین پر واقع کوئی شہر، کوئی مقام، کوئی علاقہ مکہ معظمہ سے بڑھ کر حرمت اور عظمت والا نہیں۔ یہ شہر اللہ رب العزت اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البلد میں

Read more

کھویا ہوا جزیرہ

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس

Read more

مقتدر حلقے اور قاضی کا کٹہرہ

قاضی فائز عیسی بالآخر سرخرو ٹھہرے! سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی طرف سے بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس بھی خارج کیا گیا اور جج صاحب کے خلاف شو کاز نوٹس بھی واپس لے لیے گئے۔ اور ان کی اہلیہ کی جائیداد کے معاملے کو 3۔ 7 کی اکثریتی رائے سے ایف بی آر کو بھجوا دیا گیا جو محض اب ایک ٹیکس کا معاملہ ہے۔ اور جس جائیداد کی منی ٹریل جج صاحب کی اہلیہ سپریم کورٹ کی کارروائی میں

Read more

انسانی فیصلوں کا ماخذ کہاں ہے؟

انسان کا نظام ہستی اس کے جذبات کا مست ہاتھی اور اس کی خود کار عادات چلاتی ہیں۔ عقل کی دستار فضلیت بالعموم جذبات کی سرخ آندھی لے اڑتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کے اندر فیصلہ سازی کی دو قوتیں پائی جاتی ہیں۔ ہم پر فیصلہ سازی کی جو قوت عام طور پر اور غیر ارادی صورت میں بر سراقتدار رہتی ہے وہ ہمارے اندر ردعمل کی نفسیات کو جنم دیتی ہے۔ یہ عجلت پسند قوت فیصلہ ہر

Read more

خفیف مخفی کی خواب بیتی

علی آفتاب سعید کمال کے آدمی ہیں۔ فلسفے کو سر تال اور سر تال کو ہاتھ کی معمولی جنبش میں سمو سکتے ہیں۔ اگلے روز ایک نشست میں پنڈت وی ڈی پالسکر کے خیال سے لطف اٹھایا جا رہا تھا۔ پنڈت جی نے ہمیں پوری طرح گرفت میں لے رکھا تھا۔ راگ ختم ہوا تو فرمایا، یہ استاد کا کام ہے۔ سولہ ماترے میں کھیل رہے تھے۔ ہمیں مجبوراً اسے چار ماترے میں رکھنا پڑتا کیونکہ سننے والے اب کم

Read more

ہمارے ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے

اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ اپنے ابا کی شخصیت کی ایک خوبی بتاؤ جو نظر کو خیرہ کرتی ہو، صرف ایک! کیا کہیں گے ہم؟ سوچ کے سمندر میں غوطہ لگا کے کیا چننا چاہیں گے؟ ذہانت؟ آزادی نسواں کی حمایت؟ کتابوں کے رسیا؟ خلق خدا سے محبت؟ مصفح گفتار؟ مروت و انکساری؟ مہمان نواز؟ کشادہ دل؟ شفقت ومحبت؟ احساس کی دولت سے مالا مال؟ شریک حیات سے بے پناہ محبت؟ صلہ رحمی ؟ یک لخت دماغ میں ایک

Read more

’جمہوریت کی آخری نشانی‘ اور آزاد عدلیہ کی ’ضرورت‘ شناس فعالیت

صدر محمد رفیق تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ خود جنرل پرویز مشرف نے قرار دیا تھا۔ ابتدائے عشق کی ایک دو بےتکلف محفلوں میں جنرل صاحب نے صدر تارڑ سے کہا ’’سر صحافیوں کے شوشوں پر نہ جایا کریں۔ آپ ’جمہوریت کی آخری نشانی‘ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمیں سفارتی محاذ پر بڑی مدد ملتی ہے۔ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دینگے‘‘۔ ایک دن اپنے دو رفقاء کی موجودگی میں جب جنرل مشرف نے تیسری بار صدر

Read more

لاڑکانہ کے میکنک کے بیٹے کی سی ایس ایس افسر بننے کی کہانی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے زوہیب قریشی کے لیے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر تھا۔ جس کے ہر قدم ایک نئی مشکل اور پہلے سے زیادہ جدوجہد درکار تھی۔ زوہیب قریشی کا سی ایس ایس میں کامیابی کا نمبر 260 واں ہے۔ اکتوبر سے شروع ہونے والی تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ لینڈ اینڈ ریونیو کے محکمے میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

زوہیب قریشی نے اپنی کہانی بی بی سی کے لیے صحافی زبیر خان کو سنائی ہے۔ ان کی کہانی ان کی ہی زبانی۔

Read more

معصومیت

سب تو مہنگی ہندی اے معصومیت، سوہنے تاں انج لوک بتھیرے ہندے نے۔ ۔ ۔
یہ شعر ڈاکٹر ستندر سرتاج کے ایک گیت سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یوں تو بے شمار لوگ حسین و جمیل اور خوبصورت ہوتے ہیں مگر معصومیت کا کوئی مول نہیں۔

بظاہر تو یہ ایک سادہ سا شعر ہے مگر غور کرنے پہ اس کے اندر پنہاں راز افشا ہوتے ہیں۔ میں نے اس فلسفے کو حقیقت میں سمجھنے کی کوشش کی تو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مجھے حقیقی زندگی میں اس کی کوئی مثال نہ مل سکی مگر میری جستجو جاری رہی۔

Read more

آصف فرخی کا اپنے پیاروں کو دلاسہ

آج صبح سویرے انتظار حسین بڑی بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے انہیں جب سے پتہ چلا کہ آصف فرخی میرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تو ان سے ملنے کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ آصف سے ملے بہت دن ہو گئے تھے ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ آصف فرخی ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھامے چلتے آ رہے ہیں انتظار حسین نے بڑھ کر گلے لگایا خوشی اور رنج کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا اور پھر بولے ارے آصف! اتنے بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر اس شہر میں کیوں آ گئے ہو؟

Read more

باپ۔ مانند سورج

دنیا بھر میں جون کے تیسرے اتوار کو باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے ورنہ باپ کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے حروف تہجی کا کوئی بھی مجموعہ لفظ باپ کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے لئے ایک عظیم تحفہ باپ ہے۔ باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے۔ ہمارے مذہب اسلام

Read more

فیض ؔ والا لوو

” تونے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ۔“ سے محبوب اور رقیب کی فینٹسی شروع ہوئی۔
مہ رخوں کے لیے مصوری سیکھنے کا خوب جتن کیا مگر پورٹریٹ تو درکنار، تجرید بھی میسر نہ آ پائی ؛ خاکسار کا فنی سفر، ناشپاتی اور امرود سے ذرا پہلے منقطع ہو گیا۔

صورت گری میں ناکام رہنے کا دکھ بالآخر لفظوں سے تصویریں بنانے کی حسرت ناتمام میں ڈھل گیا۔
لفظوں سے تصویریں تو کجا، معنی بھی برامد نہ ہو پائے۔

Read more

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا آخری سلام

تین دن پہلے جب طارق عزیز صاحب کے جدا ہونے کی خبر ملی تو جہاں دل کو اداسی اور غم نے گھیر لیا۔ وہاں ان سے جڑی حسین یادوں کے بند کواڑ بھی کھل گئے۔ پچھلی صدی کی نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ کیا حسین زمانہ تھا۔ میری عمر کوئی آٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی جب طارق عزیز صاحب سے میرا پہلا تعارف میرے دادا جی کے توسط سے ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہمارے گاؤں والے گھر کے صحن میں دادا جی کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی چل رہا ہوتا تھا اور جمعرات کی رات آٹھ بجے سب گھر والے ”نیلام گھر“ دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہوتے تھے۔ دادا جی مجھے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ کھانا کھلاتے تھے اور ساتھ ساتھ جو جو کچھ نیلام گھر میں ہورہا ہوتا تھا، وہ بتاتے جاتے تھے۔

Read more

ادیب، ادب اور آزادی: ژاں پال سارتر کا مضمون

جب ہم ادب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اہم سوالوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے
ادب کیا ہے؟
ادب کا فن اور زندگی سے کیا رشتہ ہے؟
ادیب کیوں اور کن لوگوں کے لیے لکھتا ہے؟

جب ہم ادب کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں الفاظ اور معانی کے کئی تصورات ابھرتے ہیں۔ ویسے تو ادیب بھی کسی پینٹر اور موسیقار کی طرح ایک فنکار ہوتا ہے لیکن ان سب کے دائرے مختلف ہیں۔ پینٹر رنگوں سے اور موسیقار آوازوں سے اپنے فن کا اظہار کرتا ہے جبکہ ادیب الفاظ کا سہارا لیتا ہے۔

Read more

جب میری بیٹی جنس بدل کر بیٹا بنی

فرزانہ میری ایسی دوست ہے جس کی فرزانگی، علم دوستی اور خلوص و محبت نے مجھے اس وقت سے ہی اپنا بنا لیا تھا جب میں ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ اب گزشتہ سات سالوں سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ریاستوں میں رہتے ہیں، ہمارے درمیان قربت اور اعتماد کا رشتہ ابھی بھی برقرار ہے۔ جبھی تو اس نے کچھ سال قبل مجھے وہ ای میل لکھی جو کوئی اپنے با اعتماد دوست کو ہی لکھ سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ کے متعلق جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہوگا۔

اس نے لکھا۔ ”اب جبکہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کسی اور سے یہ بات پتہ چلے کہ میری بیٹی فرحین ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ٹرانس جینڈر ہے۔ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر ہے، بالخصوص فرحین کے لیے کیونکہ ابھی وہ طبی تجزیے، سرجیکل اور قانونی مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسے ایک لڑکی سے لڑکا بننے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ویسے ابھی وہ تعلیم کے مراحل میں بھی ہے۔ گو ہم خاندانی پرائیویسی پہ یقین رکھتے ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سچی اور شفاف زندگی گزاریں۔“

Read more

حقیقی باپ اور سپرم ڈونر میں فرق جان کر جیو!

دنیا کے انمول رشتوں میں سے ایک رشتہ باپ کا ہے۔ ماں کی طرح باپ کی محبت بھی مثالی سمجھی جاتی ہے۔ باپ کی شخصیت اور عادات و اطوار بیٹی اور بیٹے کے ذہنی اور جذباتی نشونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ اثرات اگر اچھے ہوں تو ایسے بچے صدقہ جاریہ بنتے ہیں اور برے ہوں تو ان کے ہاتھوں بچے خود اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حقیقی باپ کی زندگی قربانی سے عبارت ہے۔

Read more

کوئی استاد لاولد نہیں ہوتا

”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ ۔ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جن کا قد کاٹھ ماپنے کے لیے علم و ادب کا پیمانہ چاہیے۔ اب ہم کہاں سے لائیں وہ الفاظ، وہ ادائیگی، وہ لب و لہجہ اور آواز جو کانوں سے ہوتی ہوئی سیدھا دل میں اتر جاتی تھی۔ نیلام گھر پاکستان ٹیلے ویژن کا وہ پروگرام تھا جو اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھا، ازاں بعد اسے طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

زندگی تو خاکی ہے بالآخر اس نے ایک دن خاک میں خاک ہی ہوجانا ہے۔ علم و آگہی کے ان گنت چراغ جلانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت اپنے خالق حقیقی سے ملنے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ موت اس فانی دنیا کا خاتمہ ضرور ہے لیکن پھاٹک ہے اس جہاں کا جو امیدوں، جگنوؤں، پھولوں، مخملی گھاس اور مشک و عنبر کی بسی ان وادیوں میں کھلتا ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب نے یقیناً اس گرم جوشی سے اہل جنت کو بھی سلام کہا ہوگا اور ”پاکستان زندہ باد“ کا گرجتا نعرہ لگایا ہوگا۔

Read more

تینتالیس برس پہلے عالم بالا کو گئے ابا کے نام خط

ابا، مجھے اس روز اتنی حیرت ہوئی تھی جب آپ ٹامی اور جیمی کو نہلانے نہر پر لے جا رہے تھے۔ چونکہ ہم سب آپ سے ڈرتے تھے شاید اس لیے کہ جونہی آپ ایک عرصے کے بعد اپنے کاروباری مقام سے گھر آتے تو اماں کہتی ”قل ہو اللہ پڑھو تمہارا باپ آ رہا ہے“ میں کبھی کبھار آپ کو اور شیطان کو ایک سا سمجھ لیا کرتا تھا کیونکہ اماں شیطان سے بچنے کی خاطر بھی اسی سورت کا ورد کرنے کو کہا کرتی تھیں۔ تو میں بات کہہ رہا تھا آپ سے اپنے متحیر ہونے کی جس میں تھوڑی سی نفرت بھی شامل ہو گئی تھی۔

میں چونکہ چھپ چھپ کے آپ کے پیچھے پیچھے گیا تھا اس لیے آپ مجھے دیکھ نہیں پائے تھے۔ ٹامی بہت زیادہ بھونک رہا تھا آپ نے اسے سوقیانہ الفاظ میں وہ کہا تھا جو آج ہندوستانی فلموں کی وجہ سے پھٹنے کے حوالے سے گھروں میں بظاہر شریف لڑکیاں بھی باپ بھائیوں کے سامنے کہنے لگی ہیں مگر ہمارے گھر میں جو اصل میں اماں کے زیر اثر تھا ماسوائے الو، گدھا کے کوئی بھی برا لفظ کہنا ممنوع تھا۔

Read more

نوازشریف اور قاضی فیض عیسیٰ میں فرق

دوسری دفعہ کا ذکر ہے۔ اک شخص نے اک شریر سا جانور پال لیا۔ بڑے بوڑھوں نے، دوستوں نے سیانوں نے سمجھایا یہ تم نے کون سی سی دانشمندی دکھائی ہے۔ یہ جانور تو مداری پالتے ہیں۔ تم خاندانی آدمی ہو۔ کوئی شیر رکھو، چیتا پالو۔ بھینس رکھو گھوڑا پالو۔ مگر اس نے سنی ان سنی کردی۔ وہ شخص کہتا یہ میرا دوست ہے۔ عشق کی لگے راہ دے نال ( عشق کو راستے سے کیا سروکار ) ۔ اب

Read more

حسن بن الصباح سے الطاف حسین تک

یہ سنہ 1094 ء کی بات ہے۔ مصر کے حکمرانوں میں حکومت پر تلواریں نکلیں۔ الافضل شہنشاہ نامی وزیر نے اپنے پسندیدہ شہزادے مستعالی کو خلیفہ بنایا اور حقیقی ولی عہد، نزار بھاگ کر سکندریہ چلا گیا جہاں اس نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ دونوں بھائیوں میں جنگ ہوئی اور مستعالی نے نزار کو شکست فاش دے کر اس کی سرعام گردن کٹوا دی۔ مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔ نزار کا حسن بن الصباح نام کا ایک چاہنے

Read more

باپ تن آور درخت اور گھنا سایہ

والدین کی اہمیت کیا ہوتی ہے کوئی ان سے پوچھے جن کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا۔

ماں سے محبت اور ماں کی قربانیوں کے بارے میں ہر وقت بات کی جاتی ہے۔ لیکن باپ کی محبت کسی بھی طرح ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی لیکن کیونکہ ماں کے ساتھ ہمارا وقت زیادہ گزرتا ہے اس لئے مانوسیت زیادہ ہوتی ہے۔ ماں دوست کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جس کا کہا برا بھلا سب پیارا لگتا ہے۔ چونکہ والد سارا دن معاش کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں بن پاتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت دونوں طرف برابر ہوتی ہے۔

ماں ہو یا باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو محبت کا اظہار بہت کم کرتی ہے اپنا پیار، جذبات اور احساسات دل میں چھپا کر رکھتا ہے باپ ایک گھنا سایہ ہوتا ہے جس کے سائے تلے سکون ہی سکون ہوتا ہے۔

Read more

معاف کر دینے میں بڑی قوت ہے

صاحبو، غالب کے ہاں تو ”غیب سے آتے تھے مضامیں خیال میں“ ۔ ہم ٹھہرے غریب آدمی۔ لکھنے کو ادھر ادھر سے خیالات کشید کرتے ہیں۔ اور آج کل ادھر ادھر فقط انتشار ہے، اور بے شمار ہے۔ ورق از خود تلخی سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں، کچھ تو امید سے لبریز کتابوں اور کچھ صوفی منش دوستوں کی صحبت کے زیر اثر، سکون کے متلاشیوں پر قلم اٹھایا، تو حلقۂ یاراں اس ماہیت قلب پر بڑا خوش ہوا۔ کچھ خیرخواہوں نے تو پرنم آنکھوں کے ساتھ مبارک باد دے ڈالی۔ کہا شکر ہے میاں، قلم تمھارا یاسیت، قنوطیت سے نکلا۔ ذرا رجائیت پسند بنو، زندگی کا روشن پہلو پیش نظر رکھو۔ تحریک بھی دی کہ اب اسی مدعا پر کچھ اور لکھو۔

ہمیں ترغیب دینے والوں میں کچھ ایسے، جو ہمیں بے حد عزیز۔ چند کے ہم مقروض۔ تو مناسب جانا کہ جو وہ کہتے ہیں، کر گزریں۔ بھلائی اسی میں ہے۔

Read more

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو پروفیسر فتح محمد ملک

خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان علامہ محمد اقبال کے شدائی موجود ہیں۔ یہ ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کر رہے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال فراموشی سے بھی روشناس کر رہے ہیں۔ اور اقبال اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف مذہب اور اعتدال پسند پروفیسر بھی اور طبیعت ایسی کہ آپ ان کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان،

Read more

کرشن چندر کیوں بڑا ہے؟

بڑے ادیب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ خواب دیکھتا ہے اور خواب میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ غور کریں تو 05 سے زائد ناولوں اور پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھنے والے کرشن چندر نے ساری زندگی خوابوں کے دروازے پر دستک دی۔ غلامی سے آزادی کا سفر بھی خواب تھا اور آزادی کے بعد ننگے بھوکے ہندوستان کو خوشحالی کے راستہ پر دیکھنا بھی ایک خواب۔ کرشن چندر اس خواب میں رومانیت کوشامل کر

Read more

یہ دوہرا معیار آخر کیوں ہے؟

پاکستان کے ہر بچے بوڑھے اور نوجوانوں کے دل افواج پاکستان کی محبت سے سرشار ہیں۔ جس طرح پاکستانی فوج مشکل حالات میں اپنی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح یہ قوم بھی اپنی افواج کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیتی ہے۔ جنگ 1965 ء کی ہو یا 1971 ء کی وطن عزیز سے دلی محبت رکھنے والی عوام ملک دشمن قوتوں کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔

جدھر پاکستانی مسلح افواج بیرونی دشمنوں سے ہماری حفاظت کرتی ہے اسی طرح اندرونی دشمنوں اور مختلف قسم کے جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کا ادارہ اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں پولیس کے شعبہ کو ایک گالی سمجھا جاتا ہے۔ جدھر پبلک پاک فوج سے محبت کا جذبہ رکھتی ہے وہیں پولیس کے شعبہ سے اپنی نفرت کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ شاید اس کی وجہ پولیس کی وردی میں چھپی ہوئی چند کالی بھیڑیں ہیں جن کی وجہ سے پولیس ڈیپارٹمنٹ بدنام ہے

Read more

فراست صاحب! ہم آپ کو نہیں بھولے

بہت سے لوگ محمد فراست اقبال صاحب کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے وابستہ ایک باصلاحیت اور محنتی بیوروکریٹ کے طور پر جانتے ہوں گے، لیکن بیوروکریسی کے روایتی پروٹوکول کی ہاہاکار اور اعلی عہدے کی چکاچوندی سے ہٹ کر وہ علم و آگہی کی روشنی سے منور ایک درویش اور بے نیاز قسم کی باذوق اور وضع دار ادبی شخصیت تھے۔ بیوروکریٹک رویے سے بالکل پاک اور سادہ انسان۔ ان کی دانش، برمحل اشعار سے مزین برجستہ گفتگو، حاضر دماغی

Read more

لمحوں کی فتح اور زندگی کی کہانی ہوئی ختم

کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔ حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہو کر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حالاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اس کے مذہب، شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔

Read more

!طارق عزیز کو پاکستان کا سلام پہنچے

”ابتدا ہے۔ رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید“ ۔
اسکے بعد کوئی معلوماتی بات، خاص لیکن مختصر قصہ یا واقعہ ہوتا تھا۔
کچھ جملے کیسے ہوتے ہیں نا۔ زندگی بھر کے لیے آپ کے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں اور آپ ان چند لائنوں کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لوگوں کی یادداشتوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔

Read more

ایک اسسٹنٹ کمشنر کی دوران ڈیوٹی بے بسی کی موت

کئی دونوں سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن قلم الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ نظام کا وجود اپنے اختتام کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ 8 جون کو تقریباً 6 بجے شام مجھے میسیج موصول ہوتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔

بایزید بھائی میں وکیل کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر (خالق آباد) منگوچر کا بھائی ہوں ان کو ڈیوٹی کے دوران کورونا کا مرض لاحق ہوگیا تین دن تک وہ اپنی جائے تعیناتی پر بے یارو مددگار اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پڑے رہے بعد میں ہمیں ان کی بیماری کی خبر ہوئی تو ہم ان کو علاج کی غرض سے کوئٹہ لے کر آئے اور وہ 26 مئی 2020 سے شیخ زائد ہسپتال کوئٹہ میں بد قسمتی سے داخل ہیں۔

بھائی نے آپ کا نمبر دیا ہے اور آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ ہم مایوس اور بے بس ہو کر آپ کو میسیج کر رہے ہیں۔ کل رات کو یک دم سے پورے ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر میں پریشر ختم ہوگیا ہے جس سے تین کورونا کے مریضوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ وہیں وکیل کاکڑ کی طبیعت بھی سخت بگڑ گئی اور مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے

اس تحریر سے میں ایسا آسان راز بتانے جا رہا ہوں۔ جس کے بعد باقی تمام زندگی آپ ہر لمحے خوش رہ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی ایک انسان ایسا نہیں ہے جسے دکھ، درد اور تکلیف میں رہنا پسند ہو۔ دنیا کا ہر انسان خوش و خرم رہنا چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا کی کسی تعلیمی درسگاہ میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ انسان کیسے ہمیشہ خوش رہ سکتا ہے؟ سوچیں آپ کے پاس بے تحاشا دولت ہے، گاڑیاں اور بنگلے ہیں۔ لیکن آپ خوش نہیں ہیں؟

کیا اس سے بڑا کوئی اور مسئلہ ہو سکتا ہے؟ کہ سب کچھ ہے خوشی نہیں ہے؟ کچھ ہو نہ ہو لیکن اگر انسان خوش ہے تو زندگی انجوائے کرنے کا سب سے بڑا آرٹ یہی ہے۔ ہم کیا انسان ہیں جنہیں خوش رہنے اور خوشی کا اظہار کرنے میں بھی ڈر لگتا ہے۔ یاد رکھیں اس دنیا کو پرمسرت اور خوش رہنے والے انسانوں کی ضرورت ہے۔ یہاں پہلے ہی بہت دکھ اور تکالیف ہیں۔ ایسے خوش رہیں جیسے بچے خوشی کو انجوائے کرتے ہیں۔ ہمارا ایشو یہ ہے کہ ہم صرف ایک دوسرے میں اچھائی برائی تلاش کرتے ہیں، ایک دوسرے میں کمیاں نکالتے رہتے ہیں، اس لئے دکھی رہتے ہیں؟

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

طارق عزیز، نیلام گھر سے ہسپتال میں آخری ایام تک جو ہم نے دیکھا

طویل برآمدے میں گول کمرے کے عین دروازے میں، ٹی وی کی بلیک اینڈ وائٹ سکرین روشن ہوتی۔ برقی پتلے اس سکرین پہ نمودار ہوتے۔ اماں جی شام کے دو گھنٹے سات سے نو بجے تک ٹی وی دیکھنے کی اجازت دیتیں۔ برآمدہ محلے کے لڑکے لڑکیوں سے کھچا کھچ بھر جاتا۔ ہم آلتی پالتی مار پھسکڑا جما کے سیمنٹ کے چکنے فرش پہ بیٹھ جاتے۔ بڑے بوڑھے چارپائیوں اور پیڑھیوں پر قبضہ جما لیتے۔ انہیں دنوں میری دیکھتی آنکھوں نے طارق عزیز کو دیکھا اور سنتے کانوں نے اس کی بھاری بھرکم آواز کو سنا۔

جو لوگوں کا ہجوم، اس کے پروگرام نیلام گھر کے دن ہمارے برآمدے میں ہوتا، بعد میں جب میں پڑھنے کے لیے شہر آیا تو وہی رش میں نے کئی سپرہٹ کھڑکی توڑ فلموں کی نمائش میں سنیما گھروں میں دیکھا۔ طارق عزیز کے پروگرام کا دھندلا خاکہ جو ابھی تک میرے دماغ کے خانوں میں محفوظ ہے، اس کے ابتدائی جملے تھے، ابتدا ہے رب جلیل کے با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام۔ کوئی ڈھائی دہائیاں قبل سنے گئے یہ فقرے میں محض اپنی یادداشت کے بل بوتے پر لکھ رہا ہوں ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

Read more

طارق عزیز: کامیابی اور ناکامی

طارق عزیز ایک کامیاب شخص، ایک دنیا جس کی دیوانی تھی۔ ستر، اسی اور نوے کی دہائی کا کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا، جو اس کو نہ جانتا ہو۔ شو بز انڈسٹری کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کی چمک دمک میں انسان کی اصلیت دب جاتی ہے۔ کہیں کھو جاتی ہے۔ طارق عزیز کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور انجام میں اس کی شخصیت کا وہ پہلو، جو شاید اس کا آئیڈیل تھا، کہیں نظر نہیں آتا۔

ستر کی دہائی میں پی ایس ایف پنجاب یونیورسٹی کے لیڈر، بھٹو کے مشیر برائے لیبر اینڈ سٹوڈنٹ یونینز، راجا انور، اپنے ناول ’جھوٹے روپ کے درشن‘ میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں :

Read more

کرونا سے کرو۔ نا، اور لاک ڈاؤن سے مذاق ڈاؤن

مولانا مفتی قوی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک خبر چل رہی ہے کہ وہ بھی کرونا کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں، لو جی صیاد آپ ہی اپنے دام میں آ گیا۔ لیکن اصل مسئلہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحبان کے لئے ہے کہ مولانا کو بیماری سے بچایا جائے یا ڈیوٹی پر موجود نرسوں کو مولانا سے محفوظ رکھا جائے۔

کرونا کو کرو۔ نا اور لاک ڈاؤن کو مذاق ڈاؤن خیال کرنے والی یہ قوم دونوں صورتوں میں سنجیدہ نہ ہونے پر اس لئے مضر ہے کہ کرونا مضر صحت نہیں تو لاک ڈاؤن کیسا؟ کرونا کو پاکستان میں کس قدر سنجیدہ لیا گیا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت باوجود یکہ سماجی فاصلہ کی تشہیر کے، گائناکالوجسٹ کے ہاں چیک اپ کرانے والی خواتین کا رش ہے۔ میری ایک دوست گائناکالوجسٹ نے اپنی ایک مریضہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ خاتون تمہیں کرونا اور آبادی کے بے تحاشا بڑھنے سے خوف نہیں آتا کیونکہ تمہارے تو پہلے ہی پانچ بچے ہیں۔ بغیر شرمائے کہنے لگی کہ ہاں ہیں تو مگر یہ بچہ قرنطینہ کی وجہ سے مکمل انہماک، وقت اور محبت کی پیداوار ہوگا، اس لئے کہ مکمل لاک ڈاؤن میں ڈاؤن لوڈ ہو رہا ہے۔ تو کیا پہلے پانچ جلدی میں ہوئے تھے کیا؟ جی ہاں۔

Read more

ایک خبطی علامہ کے چند قصے

لوگوں کو کئی طرح کے خبط ہوتے ہیں۔ کچھ طنز میں بجھی ہوئی تلوار ساتھ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس گالیوں کا وافر ایمونیشن ہوتاہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ادھر کسی کو کوئی کام کرتا دیکھیں گے اور ادھر ان کے اندر کا نقاد جاگ اٹھے گا۔ ہمیں ایک ایسے صاحب سے واسطہ پڑا جو نا صرف ’عالم ہر شے‘ تھے بلکہ دوسروں کو اس کی بار بار یاددہانی بھی کراتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل ہم ’لاعلمی‘ کی دولت سے مالامال تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری کئی اصطلاحات پر اپنے ’کالے علم‘ کا پوچا پھیر دیا ہے۔ ہم جو ان تمام اصطلاحات کو اپنی عقل سے حسب حال کر چکے تھے اور جیسے چاہتے تھے، استعمال کرتے تھے اب اس ’عیاشی‘ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

دراصل ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنی علمیت کے قصے سناتے سناتے ایک سیمینار میں نکل گئے۔ سیمینار میں بیسویں لڑکیاں پونی ٹیل کیے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل پونی ٹیل سے متعلق ہمارا مشاہدہ رومان سے بھرپور تھا۔ یہ بالوں کا خاص سٹائل تھا جو نوجوان لڑکیوں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال حضرت عالم نے بتایا کہ ’پونی ٹیل‘ گھوڑے کی دم (بلکہ انہوں نے تو پونچھ کہا تھا) کو کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر پونی ٹیل بنائے لڑکیوں نے ربڑ بینڈ اتار ڈالے۔ اگر وہ کھلے بالوں میں مزید قیامت نہ ڈھا رہی ہوتیں تو ہم عالم کی اس تھیوری سے انکار بھی کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ہمارے ایک رومانوی احساس کو مٹی میں ملا دیا۔ اب جہاں بھی کوئی لڑکی پونی ٹیل میں دکھے اپنا آپ گھوڑا گھوڑا سا لگنے لگتا ہے۔

Read more

پرنم آنکھوں اور دکھی سماعتوں کا طارق عزیز کو آخری سلام

دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام اور پھر ایک لمحاتی وقفہ اور اس کے بعد اک اسٹائل سے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بالوں کی گہری لٹ کو بائیں ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ہمارے وقت کا یہ ہیرو جو صرف شوبز کی دنیا ہی کا ستارہ نہ تھا بلکہ وہ ہر گھر کا فرد تھا۔ آج ہم سے جدا ہوا۔ پروگرام تھا نیلام گھر اور اس کے ہیرو ہمارے وقت کے معروت اداکار، صداکار، شاعر، میزبان

Read more

دل کی صداقتوں سے منور : سید محمد شاہ کاظمی

لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمیٹیں کیوں کر میں کیسے کر پاؤں گا اظہار عقیدت تجھ سے کہتے ہیں کہ رفتار سفر اگر ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو ہر شے دھندلا جاتی ہے۔ دور کی چیزوں کے خدوخال گو پھر بھی قدرے واضح نظر آتے ہیں تاہم پیش منظر کی دھندلاہٹ ان پر دھیان دینا ناممکن بنا دیتی ہے۔ اس صورتحال میں منزل بے اصل پاکر ایکسپریس ٹرین کے مسافر اپنی اپنی کتابوں یا خیالات میں کھو

Read more

پاک فضائیہ کا عقاب سیف الاعظم : ڈھاکہ کی فضاؤں میں کھو گیا

ڈھاکہ میں متحدہ پاکستان کا معرکہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اب بھی رنگ و روپ بدل بدل کر چند لمحوں کے لئے منظر کو خیرہ کرکے یادیں تازہ کرکے وقتی طور پر اوجھل ہوجاتا ہے کل اس پرشکوہ کھیل کا مرکزی کردار 80 سالہ گروپ کیپٹن سیف الاعظم تھے بنگلادیشی پارلیمان کے بزرگ رکن، لیکن متحدہ پاکستان کا عظیم اور بہادر بیٹا سیف الاعظم جس نے وصیت کی تھی کہ خاموشی سے اس کے کفن میں دل

Read more

سید معظم علی: اک اور خواب گزیدہ رخصت ہوا

معظم سے میری پہلی ملاقات ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کراچی کے دفتر میں ہوئی۔ یوں تو اس دفتر میں بہت سے کوآرڈینیٹر آئے اور گئے لیکن جتنی سنجیدگی اور ذمہ داری سے وہ کام کرتے تھے، شاید ہی کسی نے کیا ہو، وہ تو جب ہماری دوستی ہوئی اور چرچ ورلڈ سروس پاکستان – افغانستان میں ہم نے اکٹھے کام کیا تو پتا چلا کہ دوستوں کے درمیان ان سے زیادہ غیر سنجیدہ، ہنسوڑ، چٹکلے باز اور لا ابالی

Read more

میراثی کا انصاف

بنارس ہندؤں کا مقدس ترین شہر ہے۔ پڑھے لکھے مسلمان اسے بنارس اور عقیدت مند ہندو ’کاشی‘ کے نام سے پکارتے چلے آئے ہیں۔ تقیسم ہند کے بعد سرکار نے اسے ورناسی کا نام دیا۔ یہ ہر دل عزیز شہر ہے۔ پیار سے لوگوں نے کئی نام رکھے اور نفرت میں کئی بدلے۔ الہ آباد کے مقام پر گنگا اور جمنا بغلگیر ہوکر بنارس کی طرف ہو لیتی ہیں، بنارس پہنچ کے گنگا انگڑائی لیتی ہے تو دریا کی ہلالی

Read more

چھانگیا رکھ – بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی

’چھانگیا رکھ‘ بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی ہے جو سن دو ہزار دو میں پنجابی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم کیے جا چکے ہیں۔ دو ہزار دس میں آکسفورڈ پریس نے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ یوں ’چھانگیا رکھ‘ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں تک پہنچ گئی۔

’چھانگیا رکھ‘ کو ’دلت لٹریچر‘ میں اہم مقام حاصل ہے۔ دلت لٹریچر میں ہندوستان کے اچھوت ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ دلت لٹریچر مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی پکار ہے۔

Read more

کچھ پاکستانی ڈراموں کے بارے میں

میں ڈراموں کا زیادہ شوقین تو نہیں ہوں۔ لیکن پھر بھی ہلکی پھلکی نظر ضرور رہتی ہے۔ آپ کو پتا ہے اگر آپ ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوں تو ریموٹ کبھی نا کبھی ڈراموں پر بھی رک ہی جاتا ہے۔ کیونکہ اس وقت بے تحاشا پرائیویٹ چینلز ہیں، جن پر ڈرامہ، شوز اور مختلف سیریلز چل رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ٹیلی ویژن نہیں بھی دیکھ رہے ہوں تب بھی سوشل میڈیا پر ڈراموں کے بارے پتا چلتا رہتا ہے

Read more

جب میں کورنٹائین سے باہر نکلوں گی۔ ۔ ۔

جب میں کورنٹائین سے باہر نکلوں گی اس دن خود کو فطرت کی آغوش کے سپرد کر دوں گی۔ گھر کے پاس بہتی ندی جسے میں نے کورنٹائین میں سرگوشیاں کر تا ہوا ساتھی پایا ہے، اس سے جی بھر کر باتیں کروں گی۔ اس میں بچپن میں نہ کھیلے جا سکنے والے کھیل یعنی کاغذ کی کشتی چھوڑوں گی۔ کھڑکی سے باہر کے سارے منظر اپنے وجود میں بھر لوں گی۔ آسمان جسے میں نے مہربان سائبان کی طرح اپنے سر پر پایا اس کو کسی چادر کی طرح اوڑھ کر سیر کو نکل جاؤں گی۔

رات کو چاند کسی قدر بھلا لگتا ہے۔ کئی راتیں جن میں چاند کی کرنیں میری چھت پر اٹکھیلیاں کرتی ہیں، ان کو دیکھوں گی۔ اب یہ رات جو سنہری ہے کسی گندم کے لہلہاتے ہوئے کھیت کی طرح، ناز و انداز دکھا تی ہوئی۔ اس چاندنی کے سمندر میں ڈوب جاؤں گی۔ چاند کیسے بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا ہے؟ خود کو اس کھیل کا حصہ بنا کر دیکھوں گی۔ میں نے دیکھا ہے کہ رات کی ہیبت، چاند کیسے کم کر دیتا ہے۔ اسی طرح زندگی کی تاریک راہوں میں محبتیں چاند بن کر نور کا سماں باندھ دیتی ہیں۔

Read more

کورونا کی بیماری میں مجھے کس چیز نے حوصلہ دیا؟

میرے بھائی۔ ہمت نہیں ہارنا، یہ کوئی بیماری نہیں، تم جلد صحت یاب ہو جاؤ گے، بس، حوصلے سے کام لینا یہ چند دنوں کی بات ہے اور پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایسے کچھ اور الفاظ جنہوں نے اس موذی وبا کے دام میں آنے کے بعد اپنے پیاروں نے پہنچائے۔ بلاشبہ کسی مرض میں مبتلا ہونے پر عموماً عیادت کے دوران ایسے تاثرات پر مبنی جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جن کا بنیادی مقصد صرف اس بیمار کی ڈھارس بندھانا، اسے فوری طور پر پریشانی کی کیفیت سے باہر نکالنا ہوتا ہے۔

میں ان دنوں چونکہ کورونا کی نگرانی میں تھا اس لئے قریبی رشتہ دار اور دوستوں کو معمول سے ہٹ کر فکر لاحق تھی، یہ بات بڑی باعث تقویت تھی کہ سب کا مطمح نظر میری صحت کی بحالی اور زندگی کی بقا تھا۔ کورونا جیسے روگ کا شکار فرد کسی حد تک ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے، اگر اندر سے نہیں تو مشورے دینے کے بہانے مختلف واقعات سنانے والے اسے کمزور کردیتے ہیں۔ ہاں یہ تجربہ ضرور ہوا کہ بندہ مضبوط اعصاب کا ہو یا پھر اپنی قوت ارادی کا اچھے سے مظاہرہ کرے تو بہت زیادہ تنگ نہیں ہوتا۔

Read more

ملالہ یوسفزئی کی آکسفورڈ سے گریجویشن پر دنیا بھر سے پیغامات

سنہ 2014 میں صرف 17 برس کی عمر میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی لڑکی ملالہ یوسفزئی نے اس سال اپنی اعلیٰ تعلیم برطانیہ کی مشہور آکسفورڈ یونیورسٹی سے مکمل کی ہے۔ 22 سالہ ملالہ کو اس موقع پر دنیا بھر سے مبارکباد موصول ہو رہی ہیں اور ان کی طرف سے ایک خصوصی پیغام 2020 میں تعلیم مکمل کرنے والے سب طلبہ کے لیے یوٹیوب نے جاری کیا ہے۔ جمعے کو ملالہ نے ٹوئٹر پر اپنے

Read more

صحرا کا رومانس (1)

نرم و دلگیر چاندنی رات اور تاروں کی دلفریب جھلملاہٹ میں، لق و دق صحرا کے بیچ آپ کسی ریت کے ٹیلے پر بیٹھے باد نسیم کی نرم تھپکیوں سے پیدا شدہ رومان پرور ماحول سے محظوظ ہو رہے ہوں، جس میں صرف صحرائی ہوا کی سر گو شیوں کے سو ا ہر جانب سکوت طاری ہو اور اچانک کہیں دورسے کسی دل جلے صحرائی باشندے کی بانسری کی مدھر کوک سنائی دے توآپ پرسحر طاری ہو سکتا ہے۔ اگر

Read more

خوشی اور اطمینان کا تعلق دولت سے نہیں

کچھ دن پہلے ڈاکٹر خالد سہیل کا ترجمہ شدہ مضمون پڑھا جس میں ایک ڈاکٹر کا قصہ ہے۔ یہ ڈاکٹر اپنی معمول کی زندگی سے تنگ آ چکا تھا اور کسی نئی جگہ منتقل ہو جانا چاہتا تھا۔ ایک صائب شخص کے مشورے سے وہ دوسری جگہ چلا جاتا ہے۔ یہ نئی جگہ اس کی مالی آسودگی میں تو اضافہ نہیں کرتی اور وہ غریب رہتا ہے مگر ذہنی سکون اور خوشی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس

Read more

کیا آپ نے کبھی فادرز ڈے پر اپنے ابو جان کو خط لکھا ہے؟

پیارے ابو، آپ کیسے ہیں؟ جانتی ہوں ربط کا قصہ تمام ہوئے ایک عمر گزر گئی اور مزاج پرسی کا تکلف بھی جاتا رہا۔ لیکن آپ سے اور خود کلامی سے کبھی بھی دل نہیں بھرا۔ جانتی ہوں مجھ سے زیادہ آپ مجبور ہیں لیکن پھر بھی دل برداشتہ ہو کے کبھی کبھی کچھ کہنے سننے کو جی چاہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی ہی سناتی رہی اور ہماری بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ خیر وہ اس کی عادت ہے ہر پل نفسا نفسی میں ہی رہتی ہے۔ بات کو آگے بڑھاتی ہوں۔

وقت قلیل ہے اور قصہ جیسے شیطان کی آنت۔ تحریر کا سوچتے ہی سب سے پہلے گویا بچپن کا گمان ہونے لگا۔ جب آپ نے شروع شروع میں مجھے خط و کتابت کی ضرورت سمجھائی تھی۔ میں آپ کو خط لکھتی تھی اور آپ والد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد ہونے کا بھی فرض انجام دیتے تھے۔ میرا خط، خواہ میں آپ کے ساتھ اسی گھر میں ہوں یا دوسرے ملک میں، میری املاء سمیت مجھے نا صرف واپس بھیجتے تھے بلکہ اس پہ اتنا تبصرہ کرتے کہ مجھے ازبر ہو جاتا۔

Read more

شوبز ڈائری: ’سُشانت سنگھ کی بہن شویتا سنگھ کا ان کے نام خط‘

بالی ووڈ اداکار سُشانت سنگھ کی بہن شویتا سنگھ کرتی نے سوشل میڈیا پر اپنے بھائی کے نام ایک کھلے خط میں جہاں ان کے لیے بے پناہ محبت کے ساتھ ان کی موت پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے وہیں ان کے مداحوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نفرت نہ پھیلائیں۔ شویتا نے لکھا ’کسی بھی چیز کا انتخاب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے تو کیوں نے ہم نفرت پر محبت کو

Read more

ریکارڈ ساز طارق عزیز

طارق عزیز صاحب سے آخری ملاقات اسلام آباد کے پارلیمانی لاجز میں غالباََ 1998میں ہوئی تھی۔وہ ان دنوں قومی اسمبلی کے رکن ہوا کرتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ 1997کے انتخابات کے ذریعے اس ایوان میں آنے کے لئے انہوں نے لاہور کے ایک حلقے سے آج کے وزیر اعظم عمران خان صاحب کو شکست سے دو چار کیا تھا۔ بہرحال یہ آخری ملاقات لاہور ہی سے آئے ایک اور رکن اسمبلی میاں منیر صاحب کے

Read more

شہباز شریف کے پیچھے کون؟

اگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔

ایک طرف نیب ان کے گھروں پر چھاپے مار رہا تھا، ہائیکورٹ کے دروازوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے فون کر رہے تھے۔

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

وبا کے ہاتھوں بچھڑ گئے ہم

”تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تم سے بچھڑ کر جینا کسی اذیت سے کم نہیں ہر نیا دن قیامت سا ہے تمہاری یاد عذاب بنتی جا رہی ہے۔ زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں تم نہیں۔ ۔ ۔ تم ٹھیک کہا کرتی تھی خوشیوں کو نظر لگتے ذرا سی دیر لگتی ہے۔ میں کتنے آرام سے مسکرا دیتا تھا۔ میں ہجر کے درد سے کتنا ناواقف تھا۔ میں اوپر والے کی کن سے کیوں

Read more

طارق عزیز۔۔۔ ہمارے بچپن کا ادبی پہلو یتیم ہو گیا

ہمارا بچپن، عہد جدید کے بچوں کی طرح ڈیجیٹل آلات کی سہولیات اور برقی روابط کی بجائے، افراد کے آپس میں میل جول سے مزین تھا۔ واٹس ایپ اور فون میسج کی بجائے دوست کے گھر جانا، دروازہ بجانا، دوست کے والد یا والدہ کو سلام کرنا، ڈانٹ سننا اور نصیحتوں کے بعد دوست کو ساتھ لا کر کرکٹ کھیلنا، اکٹھے بیٹھ کر، عمران سیریز، ٹارزن، عمرو عیار کی کہانیاں پڑھنا اور پی ٹی وی پر سہ پہر سوا چار

Read more

حسن مہ گر چہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

انسانی شخصیت کا راز اس کے حسن کے تاثر میں مضمر ہے اور یہ تاثر جتنا منظم اور گہرا ہو سحر انگیزی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ نفسیات کے اساتذہ اس وحدت تاثر کو انسان کے پرسنلٹی سٹائل سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ انسانی یہ تاثر اس کے بدن، عقل و دانش، کردار اور مخصوص استعداد و لیاقت کے بغیر ممکن نہیں لیکن ہم یہاں یہ افسانہ بیان کرتے ہیں کہ انسان کو اشرف ومکرم اور سب سے حسین بنا

Read more

میں اپنی زندگی میں طارق عزیز کی موت نہیں دیکھنا چاہتی تھی

ہر بدھ کو پی ٹی وی پر طارق عزیز بزم طارق عزیز نہیں پیش کیا کرتے تھے، وہ تو ہماری اخلاقیات اور کردار کو تخلیق کیا کرتے تھے۔ گھر میں صرف پی ٹی وی کا آنا بھی بہت بڑی سعادت تھا، جو تربیت ہماری نسل۔ کی اس زمانے میں پی ٹی وی کے ان ہونہاروں نے کی تھی وہ کوئی ادارہ کبھی کر ہی نہیں سکتا۔ طارق عزیز ان معلموں میں سے ایک تھے اور سب سے اول تھے۔ طارق

Read more

شکیلہ یاسین بٹ: دھیان کے روشندان سے ایک بہادر ماں کو سلام

آج من پھر محو یاس ہو کر کسی خواب گراں مایہ کی حسرت میں گھر سے نکلا اور یادوں کے گھنے جنگل میں پہنچ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد یوں لگا کہ کسی گزرے ہوئے موسم کی دلدل میں دھنسنے لگا ہوں کہ اچانک بھائیوں جیسے دوست عاطف رزاق بٹ کی آواز آئی، کدھر جا رہے ہیں شیخ صاحب۔ ؟ میں نے عرض کیا کہیں نہیں۔ کئی دن کی یادوں کی مسلسل مسافت نے تھکا دیا ہے، ویسے بھی چہروں

Read more

چائے

میں سوچ رہا ہوں چائے پر ایک کالم لکھوں جو نہیں پیتے انہیں کمبخت اور خانہ خراب لکھوں۔ ویسے بھی وہ دوست جو چائے نہیں پیتے خزانے کی طرح ہوتے ہیں۔ دل کرتا ہے ان کو زمین میں گاڑ دوں۔ ویسے بھی دل ظرف اور چائے کا کپ ہمیشہ بڑا ہونا چاہیے دور حاضر میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ وہ شخص ہوگا جو کہے گا میں ناشتے میں چائے نہیں لیتا۔ کڑک چائے اور خالص محبت کم ظرفوں کے لیے

Read more

زندگی سے پیار کیجئے

میں بالی ووڈ کی فلمیں نہ دیکھتا ہوں اور نہ ہی ان کو فالو کرتا ہوں البتہ انڈین پنجابی فلمیں کبھی کبھار دیکھ لیتا ہوں۔ کچھ دیر قبل ایک خبر نظروں سے گزری کہ بالی ووڈ کا ایک نوجوان اداکار سوشانت سنکھ نے خودکشی کر لی۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی وقتاً فوقتاً مختلف معروف شخصیات کے بارے ایسی خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ آج کے دور میں ہر شخص ٹینشن یا ڈپریشن

Read more

ایک کوچوان قومی محافظ

وہ فوجی نہیں تھا، نا ہی وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز تھا وہ ایک معمولی کوچوان تھا سواریوں کو ان کی منزل پر چھوڑتا چند پیسے کماتا اور اپنے معاشی معاملات چلاتا تھا اس نے ایک دن ایک چور سے ایک عام شہری کو بچایا بزرگ نے بہت سی دعائیں دی وہ نظر رکھتا تھا کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں ہو رہا اس کا نام تھا عمر آفندی ایک عام شہری لیکن کافی حد تک ذمہ داری کا

Read more

زندگی کی خودکشی

اجیتا ڈپارٹمنٹ کے لان میں دونوں ہاتھوں سے لپٹی کتاب پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ اکیلی بیٹھی تخیل میں ایک اوردنیا کی سیرمیں تھی۔ اس دنیا میں، جہاں احساسات اس کے دل سے ٹکرا رہے تھے، اس کے فطری اثرات لاشعوری طورپربیٹھی اجیتا کے چہرے پہ نمایاں تھے۔ کچھ ہی دیر میں کرن کی آواز کانوں پہ پڑتے ہی وہ خیالی دنیاسے واپس لوٹ آئی۔ اجیتا؟ تم یہاں بیٹھی ہو؟ ہونہہ۔ میں! ۔ میں تو سمجھو کہیں بھی نہیں

Read more

19برس پہلے: اس پراسرار فائل میں کیا تھا؟

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔ 21 اپریل 2001 کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے

Read more

ڈئیرسٹ بابا منظر امکانی کے نام

ڈئیرسٹ بابا امید ہے کہ آپ بالکل خیریت سے اور سکون سے ہوں گے اور میں بھی یہاں بالکل خیریت سے ہوں۔
ہاں لیکن آنکھوں میں نمی اب بھی ویسے ہی ہے جیسی آپ چھوڑ کر گئے تھے۔ بابا جب بھی میں سوچتی ہوں کہ آپ کے بارے میں کچھ لکھوں ہمیشہ کی طرح ہمت جواب دے جاتی ہے۔

سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا لکھوں اور کیسے لکھوں آپ کی بہادر بیٹی کی ہمت بس یہاں آکر ختم ہوجاتی ہے۔
بابا اتنی بھی بہادر نہیں ہے آپ کی بیٹی کہ اپنے آنسو چھپا کر آپ کو یہ خط لکھ سکے۔

Read more

نیلام گھر کا طارق عزیز ہم سے جدا ہو گیا

سنتی سماعتوں دیکھتی آنکھوں کو طارق عزیز کا سلام، شروع اس رب الجلال کے نام سے جس نے دونوں جہاں کو تخلیق کیا گلوں میں رنگ بھرے اور وجہ کائنات پر لاکھوں درود وسلام۔ ۔ ۔ عجیب سی کشش عجیب سی اپنائیت یہ الفاظ میں نے 1990 میں سنے تھے ہر جمعرات کو نیلام گھر پی ٹی وی پر آتا تھا چونکہ گاؤں میں ٹی وی کسی کسی کے گھر میں موجود ہوتا تھا تو زیادہ تر بچے بڑے کسی

Read more

طارق عزیز کی یاد میں

جب کبھی کسی یار آشنا، دوست، علمی، ادبی یا فن کی دنیا کے کسی جگمگ ستارے کی یا کسی عزیز کے انتقال کی خبر آتی ہے جو مجھے بُلھے شاہ اور اقبال یاد آتے ہیں اور بلند آواز میں میرے مونہہ سے نکلتا ہے : بُلے شاہ اسیں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور زندگی ایک بہتا ہوا دریا ہے جو سطحِ ارض پر کئی موڑ مُڑتا ہے، کبھی زمین کی تہوں میں چھپ کر جب سستاتا ہے تو ہم

Read more

تارکین وطن کے لئے ایک مثبت پالیسی کی ضرورت۔ وقت کا ایک اہم تقاضا

1940 سے بہت پہلے کشمیر سے لوگ برطانیہ جانا شروع ہو گئے تھے کیونکہ برطانوی مرچنٹ نیوی کو اپنے جہازوں میں کوئلہ ڈالنے کے لئے مزدورں کی ضرورت تھی۔ ان وقتوں میں کشمیر سے نزدیک کراچی اور بمبئی کی ہی بندر گاہیں تھیں۔ اس لئے لوگ ان بندرگاہوں پر پہنچتے اور جہازوں میں سوار ہو کر برطانیہ پہنچ جاتے۔ 1940 میں ہی برطانیہ کو اپنی بڑھتی ہوئی معیشت اور صنعتی ترقی کے لئے سستے مزدوروں کی ضرورت تھی جو اس وقت متحدہ ہندوستان میں میسر تھے۔

اس لئے بہت سے ہندوستانی پارٹیشن سے پہلے مزدوری کے لئے برطانیہ گئے۔ پاکستان بننے کے بعد 1950 سے 1955 تک کشمیر سے بہت سے افراد برطانیہ پہنچے جو وہاں پہلے سے موجود اپنے بھائیوں کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازم ہو گئے۔ یہاں لوگوں میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے میر پور کے لوگوں کو برطانیہ میں امیگریشن دی گئی۔ ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1958 میں ہوا، اس کی تکمیل 1967 میں ہوئی۔

Read more

یہ سب مغرب کی سازش ہے

پچھلے دنوں ایک تقریب میں کچھ لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں سے ایک صاحب نے بطور پروفیسر، دوسرے نے وکیل اور تیسرے نے کاروباری شخصیت متعارف کروایا۔ ایک اور صاحب جو پچھلے بیس سال سے انگلینڈ میں مقیم ہے، وہیں پر موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا محور کرونا کی طرف منتقل ہو گیا۔ پروفیسر صاحب جو پچھلے بیس سال سے ایک سرکاری کالج میں پڑھا رہے ہیں، کورونا کو ایک وبائی مرض تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ اسے بین الاقوامی سازش کا حصہ قرار دے رہے تھے اور اس کے تانے بانے بل گیٹس اور ٹرمپ سے جوڑ رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جو شخص پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے اور پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے، اسے کرونا نہیں ہو سکتا۔

وکیل صاحب جو پچھلے پچیس سال سے وکالت سے شعبہ سے منسلک ہے، کرونا کو نہ صرف افواہ کے طور پر لے رہے تھے بلکہ جن لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے ان کو طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وکیل صاحب نے کرونا کے خلاف دلائل دے کر کچھ بچوں اور کچھ جوانوں کے ماسک بھی اتروائے۔ اس کے بعد فاتحانہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے رہے۔

Read more