اخبارات کے ایک مرحوم سٹال کی یاد میں

کچھ عرصہ پہلے مجھے معلوم ہوا تھا کہ صحافی دوست انور شیخ نے اپنا چھتیس سال پرانا اخبارات کا سٹال چھوڑ دیا ہے۔ یہ سٹال جی ٹی ایس چوک گجرات میں واقع عرب کیفے ہوٹل کے کارنر پر تھا۔ جسے 1982 ء میں انور شیخ کے والد شیخ غلام صابر نے پوسٹ آفس کی اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد لگانا شروع کیا تھا۔ انور اس وقت چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ فارغ اوقات میں پڑھائی کے

Read more

عشقِ سوختہ ساماں کی لاحاصلی

میں آپ کو اپنا نام نہیں بتاﺅں گی۔ گواہی کے دوران کوئی سی سی ٹی وی کیمرے سے سوال جواب نہیں کرتا۔ میرا بیانیہ بھی کیمرے جیسا سادہ ہے۔ مجھے یوں بھی (Proxy Fame)سے کوئی دل چسپی نہیں۔ آپ اس داستان کو بھی چاہیں تو سچا قصہ سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا کے مشہور مصور پکاسو کہا کرتے تھے کہ” جو تخیل میں سماجائے، وہ سچ ہے“۔ چلیں، قصہ بیان کرتے ہیں۔ میری اس غیر مسلم دوست کو ہم سب میرو

Read more

آصف فرخی: ایک مانوس اجنبی

جب سے آصف کے ساری دنیا کو جُل دے کر دنیا سے گزر جانے کی خبر سنی ہے دل اسی طرح اداس ہے جیسے کوئی گھر کا فرد روٹھ کے چلا گیا ہو، ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتے توڑ کے۔ حالانکہ ان کی موت سے قبل باوجود کئی برس کی خط وکتابت کے وہ مجھے ذاتی طور پہ اتنے قریب محسوس نہیں ہوئے کہ میں ان سے بے تکلف دوستی کا رشتہ استوار کرتی۔ ان کی حیثیت میرے لیئے ہمیشہ

Read more

مجھے سانس لینے دو

بھائی صاحب، گاڑی میں اگر سگریٹ نوشی سے اجتناب کر لیں تو بہتر ہے یہ طبیعیت کو خرابی دے رہا ہے۔
جواب: آپ اپنی گاڑی لے لیں اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کر سکتے۔

مشوروں سے بھرپور اس طرح کے مکالمے ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر سننے کو ملتے ہیں۔ جہاں اگر ایک شخص سگریٹ سلگا لے اور دوسرا اس سے منت سماجت کرے تو اسے بعینہ لہجے میں مختلف مگر ملتے جلتے مشوروں سے نوازا جاتا ہے۔ اور کہیں کہیں یہ مکالمے باقاعدہ ہاتھا پائی پر منتج ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی آلودگی کا وہ مہلک ہتھیار ہے جو آج تقریباً سبھی جیبوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ انگلیوں کا وہ باسی ہے جو بستر پر بھی دستیاب ہے، یہ ہونٹوں سے لگتے ہی منہ، حلق، پھیپھڑوں، جگر اور معدہ کو مہلک اثرات سے سیراب کرنے لگتا ہے۔

Read more

فلم تارے زمین پرایک نظر

ایسی فلمیں بہت کم بنتیں ہیں جن میں معاشرتی مسائل اور ان کے حل سے متعلق توجہ دلائی جائے۔ فلم تارے زمین پر انہیں فلموں میں سے ایک بہترین فلم ہے جس میں بچوں کی تعلیم و تربیت کی جانب بھرپور توجہ دلائی گئی۔ 2007 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم کا مرکزی کردار ایشان (درشیل سفاری) آٹھ سال کا بچہ جو کہ ڈسلکشیا (پڑھنے لکھنے میں دشواری) میں مبتلا دکھایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے استاد اور والدین

Read more

سب رنگ ڈائجسٹ۔ ایک یاد۔ ایک رومانس

سب رنگ ڈائجسٹ نوجوانی کا رومانس تھا جو اس کی اشاعت تک جاری رہا۔ انیس سو ستر کے شروع میں ایک دن ایک بک سٹال پر بہت خوبصورت سر ورق جس پر ایک خوبصورت حسینہ براجمان تھیں دیکھا، تو فوراً ً خرید لیا۔ اس وقت اس کی قیمت پونے دو روپے تھی جو جیب خرچ سے دیتے بڑی تکلیف ہوئی۔ گھر آکر اسے پڑھا اور پھر اسی کے اسیر ہو گئے۔ کوشش کر کے پچھلے شمارے ڈھونڈ کر خریدے۔ چند

Read more

یہ زندگی ہے

انسان فطرتا بے چین اور غیر مطمئن ذہن کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ ہر لمحہ اس کی خواہشات اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ اس کی جہان فانی میں آمد سے لے کر عالم بالا روانگی تک بلا تعطل جاری رہتا ہے۔ انسانی بچے کو دیکھیں وہ پیدا ہونے کے بعد بیٹھنے، بیٹھنے کے بعد گھٹنوں کے بل رینگنے، پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی اس جستجو کے

Read more

جب چین میں ماؤ کا نام لیا …

کہتے ہیں کہ چین جادو کی سرزمین ہے جس نے دنیا کو ریشم کے دھاگے سے باندھ رکھا ہے۔ پاک چین دوستی کے چرچے بھی بہت سنے تھے مگر حقیقت چین جانے کے بعد کھلی۔ ایئرپورٹ پر میرے ادارے کا ایچ آر مینیجر اور ایک گارڈ مجھے لینے آئے تھے۔ اس گارڈ کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے تو یکایک اس کا انداز بدل گیا اور لہجے میں ایسی اپنائیت آگئی جیسے ایک عرصے سے

Read more

اقدس روشن بین ۔۔۔ ایک روشن دن کے اختتام پر لکھی سطریں

یہ کہانی ہے اقدس روشن بین کی۔ حیدر علی ایران کے شہر قزوین کے معروف ڈاکٹر تھے۔ اقدس، حیدر علی اور صفیہ کے سات بچوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ تین بہنوں اور چار بھایئوں کے ساتھ بچپن گذرا۔ حیدر علی بچوں کی تعلیم پر شدید زور دیتے رہے۔ ان کا شوق اور امید تھی کوئی ایک بچہ ان کے نقش قدم پر چلتا ہوا ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرے۔ اقدس پڑھائی میں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے زیادہ

Read more

آصف فرخی ، وہ دھیرے سے دل میں اتر جانے والا

بادل امنڈ گھمنڈ کر آرہے تھے ، کوئی کوئی بوند گرتی تھی لیکن اتنی بھرپور کہ جہاں گرتی بھگوتی چلی جاتی اورجسم میں سردی کی لہر دوڑ جاتی۔ گاڑی سے اتر کر میں نے سامان پر ایک نگاہ ڈالی اور اسے سمیٹ کر ڈیپارچر کی طرف بڑھنے ہی کو تھا کہ بادل اس زور سے کڑکا، گویا آسمان ہی پھٹ پڑے گا۔ عین اسی لمحے میں نے اپنے کاندھے پر ایک نرم ہاتھ کا لمس محسوس کیا ، اس سے پہلے

Read more

بھولستان کا باجا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بھولستان نام کا گاؤں ہوا کرتا تھا۔ جہاں ایک باجا نام کا مکھیا حکومت کرتا تھا۔ مکھیا انتہائی کاہل، نالائق اور بیوقوف ہونے کا ساتھ ساتھ گھمنڈی و کینہ پرور بھی تھا۔ گاؤں کے کچھ با اثر افراد نے (اپنے فائدے کے لیے ) اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اسے مکھیا تو بنا دیا مگر حال یہ تھا کہ گاؤں کو چلانے کے لیے اس کے پاس کوئی پلان نہیں تھا۔

اس کے پاس واحد ایک ہی کام تھا اور وہ تھا شریکوں کی منجی (چارپائی) ٹھوکنا۔ وہ سارا دن ہتھوڑا اور چھینی لیے شریکوں کی چارپائیاں اور پیڑھیاں ٹھوکتا رہتا۔ گاؤں والے خوش رہتے کہ باجا جی جان لگا کر محنت کر رہا ہے۔

Read more

اور وبا گھر تک آ پہنچی

شیخ صاحب کو اپنی قوت مدافعت پر بہت ناز تھا۔ ان کے بیٹے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تو مجبوراً انہیں بھی ٹیسٹ کروانا پڑا۔ حیران کن طور پر رپورٹ مثبت آئی اب شیخ صاحب حیران کہ انہیں کوئی علامات نہیں تو رپورٹ مثبت کیونکر آئی۔ دو لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروایا لیکن دونوں کا رزلٹ مثبت آیا۔ غصے میں شیخ صاحب گھر سے نکلے اور مارکیٹ میں جا پہنچے اور خوب خریداری کی۔ گھر والوں نے بہت سمجھایا کہ انہیں

Read more

حامد میر کھیلن کو مانگیں ونسٹن چرچل

تین جون کو محترم حامد میر صاحب نے اپنے ایک پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کو ہٹلر سے تشبیہ دی۔ مودی صاحب کو ہٹلر بنانا تو شاید اتنا مشکل نہ تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ اس ”ہٹلر ثانی“ کا علاج کیا ہے؟ جب آنجہانی ہٹلر کے تریاق کی بات ہو تو ذہن میں ایک شخصیت کا نام آتا ہے اور وہ ونسٹن چرچل کی شخصیت ہے۔ چنانچہ حامد میر صاحب نے بآواز بلند صدا بلند کی کہ

” اس اڈولف ہٹلر کو نکیل ڈالنے کے لئے ایک ونسٹن چرچل کی ضرورت ہے؟ وہ ونسٹن چرچل کہاں ہے؟ یہ پوچھیں گے وقفے کے بعد معید یوسف صاحب سے“ میرا خیال تھا کہ وقفہ ختم ہوگا تو معید یوسف صاحب جیب سے چرچل نکال کر میز پر رکھ دیں گے کہ یہ لو پکڑو اپنا چرچل۔ لیکن وہ سیانے آدمی تھے انہوں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا۔

Read more

آٹھ سالہ زہرہ شاہ بنام پیاری ماں

پیاری اماں! مجھے بہت دور جانا ہے بہت دور! ایک مہربان صورت والے انکل مجھے لینے آئے ہیں، انہوں نے میری انگلی تھام لی ہے۔ لیکن میں تمہیں دیکھے بنا نہیں جانا چاہتی تھی اماں! ایک دفعہ، آخری دفعہ تمہاری صورت دیکھنے کی ،تمہاری آغوش میں آنے کی تمنا تھی۔ انکل نے مجھے بتایا کہ میں اب تم سے گلے نہیں مل سکتی، میرے اور تمہارے درمیان دو دنیاؤں کا فاصلہ حائل ہے، میں تم سے جدا ہو چکی ہوں۔

Read more

کورونا وائرس: مستقبل میں سفر کیسا ہو گا؟

شمس الدین گذشتہ 40 سالوں سے ٹور گائیڈ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان برسوں میں انھوں نے آگرہ میں تقریبا 40 مشہور شخصیات کو تاج محل کی سیر کرائی ہے۔

ان میں سے ایک برطانوی شہزادی ڈیانا بھی ہیں جنھیں انھوں نے تاج محل کی سیر کروائی تھی۔ اب چونکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہمیں کچھ وقت کے لیے کورونا وائرس کے ساتھ ہی جینا پڑے گا ایسے میں شمس الدین کا خیال ہے کہ سیاحت کا کاروبار مکمل طور پر بدل جائے گا۔

Read more

فرض کریں اگر ہیلری کلنٹن امریکہ کی صدر منتخب ہو جاتیں؟

ناول ‘روڈھم’ میں حقیقت کے قریب کی ایک ایسی دنیا کا تصور کیا جاتا ہے جہاں سب کچھ مختلف ہوتا۔ کیرِن جیمز سوال کرتی ہیں کہ کیا تصوراتی دنیا ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟

سنہ 2016 میں امریکہ نے قریب قریب ہِیلری کلنٹن کو صدر منتخب کر لیا تھا جب کہ برطانیہ نے قریب قریب بریگزٹ کو مسترد کردیا تھا۔ فرض کریں اگر بعد کے واقعات مختلف رخ اختیار کر لیتے؟

Read more

جنت کی سوداگر: مائیں

ویسے تو مدرز ڈے تو گزر گیا جب ماؤں کو ہوا لگوائی گئی تھی سوشل میڈیا پہ۔ پر ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے لیے ایک دن مختص کرنا زیادتی ہے۔ اور ماں کی محبت پہ شک توبہ توبہ، بلکہ اکثر تو کہتے ہیں ماں کی محبت پہ شک خدا کی محبت پہ شک کے برابر ہے۔ پر محبت میں صرف حقوق ہی نہی فرائض بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں حقوق و فرائض میں ہمیشہ اولین ترجیح

Read more

ایسے مرد کی خواہش کبھی نہ رکھو جو برابر کی عزت نہ کرتا ہو

وہ پچھلے ایک گھنٹے سے میرے سامنے بیٹھی مسلسل رو رہی تھی۔ روتے ہوئے اس نے سامنے پڑے ٹشو کے ڈبے سے ایک اور ٹشو پیپر نکالا اور اپنی آنکھیں صاف کیں جو مسلسل رونے سے سرخ ہو رہی تھیں۔ میں نے اسے پانی کا گلاس پیش کیا مگر اس نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان ایک دفعہ پھر وہ اپنی بات جاری رکھتے بولی، ”میم میں اس کی ساری باتیں مانتی ہوں، ہر طرح سے اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہوں، صرف اس لئے بات ختم کر دیتی ہوں کہ کوئی بات اسے بری نہ لگ جائے، مگر وہ ذرا سی، بظاہر بالکل بے ضرر بات کو بہانہ بنا کر مجھ سے لڑتا ہے، برا بھلا کہتا ہے، طعنے دیتا ہے اور بات چیت بند کر دیتا ہے، اس وقت تک جب تک میں اپنے گھٹنوں پر جھک کر معافی نہ مانگ لوں، یہ تسلیم نہ کر لوں کہ غلطی میری تھی“ ۔ اس نے ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں اور ناک کو ٹشو پیپر سے رگڑا۔

Read more

شیطان اور کراماتی میڈیا کے خوفناک کھیل

آنکھوں کے آگے اس معصوم بچے کا چہرہ ابھرتا ہے جس سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر خوفناک شیر اچانک جنگل سے نکل کر تمہارے سامنے آ گیا تو کیا کرو۔ اور بچے نے معصومیت سے جواب دیا تھا کہ میری ہستی ہی کیا۔ جو کچھ کرے گا وہ شیر کرے گا۔ سن دو ہزار بیس تک آتے آتے دنیا ایک ایسے نظام کا حصہ بن گئی ہے جہاں سائنس اور ترقی کی ریس ہے، دہشت ہے، خوف ہے،

Read more

آصف فرخی کی یاد میں

جب آصف فرخی نے دنیا زاد کے نام سے سے ایک منفرد ادبی جریدے کا آغاز کیا تو جلد ہی اس کی خوش بو ادبی دنیا میں چار سو پھیل گئی۔ مجھ جیسے نو آموز لکھنے والے نے بھی ہمت کی اور ایک نظم جو کہ مشہور لوک فنکار علن فقیر کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں تحریر کی تھی دنیازاد کے لیے بھیجی۔ ایک روز کراچی میں، مبین مرزا کے آفس میں آصف فرخی سے ملاقات ہوئی

Read more

امی، کیا میری جان ان کے طوطوں میں بند تھی؟

پیاری امی جان! جس وقت تمہیں یہ خط وصول ہوگا، اس وقت میں آپ سے اور اس بے حس دنیا سے بہت دور جا چکی ہوں گی، مگر یہ خط لکھنا بہت ضروری تھا اس لئے میں نے یہاں ایک فرشتے سے خاص طور پر درخواست کر کے یہ خط لکھوایا ہے کیونکہ ابو نے تو ہم سب کو اسکول کی کبھی شکل دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دی ورنہ میں یہ خط خود لکھتی۔ امی میں یہاں بہت خوش

Read more

ملک ریٹائرڈ جرنیل اور حکومت ٹائیگر فورس چلائے گی

ایک ایسے وقت میں جب اس بات پر حیرت و استعجاب کا اظہار سامنے آرہا ہے کہ ملک کے اہم ترین اداروں میں حاضر سروس یا ریٹائرڈ جنرل سربراہان کے طور پر مقرر کئے گئے ہیں، وزیر اعظم نے نو ساختہ رضاکاروں کی ’ٹائیگر فورس‘ کے ذریعے اہم قومی مسائل سے نمٹنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ایک ٹیلی ویژن خطاب میں عمران خان نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے چیلنج کامقابلہ کرنے کے علاوہ اب یہ رضاکار فورس ٹڈی

Read more

کیا آپ صفائی کا جنون کی حد تک خیال رکھنے کے مرض کا شکار ہیں؟

میری عمر بتیس سال ہے، میری بیوی مجھ سے پندرہ سال بڑی ہے، ہماری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں، ہمارا پانچ سال کا ایک بیٹا ہے۔ ہماری پیار کی شادی تھی، میری بیوی اب بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔ میری ساس انتہائی وہم کا شکار خاتون ہیں، جس سے یہ بیماری ان کی بیٹی یعنی میری بیوی کو بھی منتقل ہوئی ہے۔ جب میں باہر سے گھر میں داخل ہوتا ہوں، تو سب سے پہلے مجھے کپڑے تبدیل کر کے نہانا پڑتا ہے، اس سے پہلے میں کسی سے نہ مل سکتا ہوں نہ بات کر سکتا ہوں، یہاں تک کہ عید کی نماز پڑھ کر جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرا بیٹا دوڑ کر میرے پاس آیا اور میرے گلے لگ کر عید مبارک دی، مگر اس کی ماں نے دور سے غصے میں اسے آواز دی کہ ”پاپا ابھی گندے ہیں، جب نہا کر پاک ہوجائیں گے، تب مل لینا“ مجھے اس کے اس رویے سے اتنی تکلیف ہوئی کہ بہ مشکل میں نے خود کو اور اپنے جذبات کو قابو کیا۔

Read more

دل و نگاہ کا قرار بچے

اللہ رب العزت نے تمام مخلوق بنائی اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا دیا اس شرف والی مخلوق کو بے شمار خوبیا ں اور صلاحیتیں بخشیں اس مخلو ق کو ہر عمر میں حسن و خوبی عطا کی لیکن بچپن کو سب سے زیادہ پیار ا اور پسندیدہ ترین کر دیا جس کی ایک بڑی وجہ معصومیت اورسیکھنے کی زبردست صلاحیت اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی تربیت سے پیدا کی گئی صلاحیت آخری دم تک ساتھ رہتی

Read more

رائے عامہ بنانے والے

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں چند شہرت یافتہ لوگ ہماری مجموعی سوچ پر اثرانداز ہو کر ہماری رائے بدلتے ہی نہیں بلکہ اپنے لحاظ سے ایک خاص پیرائے میں عوام کی رائے بنا بھی دیتے ہیں۔ پھر اس رائے کو اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی کو بھی ہیرو بنانا ہو کسی کی بھی تذلیل کرنی ہو کسی بھی خبر کو پردے سے غائب کروانا ہو یا کسی بھی خبر کو اپنا بہت

Read more

ایک نئے فطری معاہدے کی ضرورت

مشکل وقت ہے، گزر جائے گا۔ لیکن اب کے یہ مشکل وقت، کرے کے کسی ایک حصے میں، یا کسی ایک قطعۂ ار اضی کے لئے نہیں آیا۔ کرۂ ارض پر موجود خشکی کے سبھی علاقوں کے لئے آیا ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی۔ اور یہ وہ کلیشے ہے کہ جو مبنی بر حقیقت ہونے کے باعث، کثرت استعمال کے با وجود، گھسنے والا نہیں بلکہ اس کلیشے کے اور اس کے حقیقی ثابت ہو جانے کی وجہ

Read more

نفرت کے قبیلوں کے لوگ

محبت کی وادی کے اس پار نفرت کے جزیرے ہیں۔ اور انسان کبھی اس پار کبھی اس پار، نفرت اور محبت کی پنڈولم پر لٹکتا ہوا ایک پتلا ہے۔ اس چھوٹی سی زندگی میں کچھ بھی نہیں سیکھ سکے لیکن اگر سیکھا تو وہ یہ ہے۔ کہ انسان کے لیے، اگر دنیا میں کچھ نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ نفرت ہے جس طرح محبت ایمان کو تقویت دیتی ہے بالکل اسی طرح نفرتیں کفر تک لے جاتی ہیں۔

Read more

بچوں کے نفسیاتی مسائل

میں ایک سائیکالوجسٹ ہوں میں نے آج سوچا کے کیوں نا آج سے والدین کو اپنے بچوں کے متعلق کچھ آگاہی دی جائے تا کہ وہ بچوں کو سمجھیں اور ان سے جڑے نفسیاتی مسائل کے حل میں ان کی مدد کریں اور ان کا حوصلہ بنیں۔ بچوں کے بارے میں عام طور پر مختلف مذاہب میں مختلف کہاوتیں ہیں۔ جیسا کہ بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں یا بچے بھگوان کا روپ ہوتے ہیں۔ برائے مہربانی ان پھولوں کی

Read more

افریقی غلاموں کی نجات دہندہ: ہیریٹ ٹب مین

ایک سیاہ فام لڑکی نے آزادی کا خواب دیکھا اور برسوں غلامی میں جکڑے رہنے کے بعد بھی اپنے اس خواب سے دستبردار نہ ہوئی اس نے 28 سال کی عمر میں آزاد ہونے کے بعد اپنے جیسے غلاموں کو آزادی دلانے کا عہد کیا اور اپنے مقصد کے لیے ڈٹ گئی۔ اس کی گرفتاری پر انیسویں صدی کے وسط میں 40 ہزار ڈالر کا انعام رکھا گیا۔ 93 برس کی عمر میں بھی اپنے مقصد سے دستبردار نہ ہونے

Read more

آصف صاحب!

اول اول کی محبت کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، چاہے انسان سے ہو یا کتاب سے۔ انسان سے ہو تو معاملہ عموماً ً یوں ہوتا ہے کہ تیرا ہی تذکرہ کرے ہر شخص یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے لیکن محبت اگر کتاب سے ہو تو اسے پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے تبادلہ خیال کا موقع ملے جس نے یہ کتاب پڑھی ہو۔ عرصہ ہوا نوبل انعام یافتہ ادیب ہرمن ہیسے کی

Read more

ایک تھی سارہ – شاعرہ جو مرنے کے بعد اساطیری داستاں بن گئی

4 جون 1984 کی صبح دس اور گیارہ بجے کے درمیان ایک ٹرین شارع فیصل کراچی پر کالونی گیٹ کے قبرستان کے نزدیک ایک تیس سالہ خاتون کے پرخچے اڑاتے ہوئے گزر گئی۔ خاتون کی شناخت قرۃ العین حیدر کی کتاب "شیشے کے گھر” کی مدد سے سے ہوئی جو مرتے وقت اس کے ہاتھ میں تھی۔ کتاب پر اس کا نام سارہ شگفتہ اور گھر کا پتہ وضاحت سے تحریر تھا۔ مرحومہ کے ہاتھ میں اگربتیوں کا ایک پیکٹ

Read more

مولوی حور سے کم پہ راضی نہیں

مولوی اس معاشرے کا ایک اہم رکن ہے اتنا اہم کہ اس کے بغیر انسان نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں بلکہ کئی دفعہ تو انسان مر کر بھی چین نہیں پاتے اور خوابوں میں آ آکر گھر والوں کو مولوی سے رجوع کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مولوی اتنا اہم ہے کہ اس کی مداخلت کے بغیر تو دو جی ایک بھی نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ مقام شکر ہے کہ ایک ہوئے جوڑے کو پھر سے

Read more

آہ ڈاکٹر پھاگ چند۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جس نے معزز پیشوں کو بھی کاروبار بنایا ہوا ہے، جب میرا تعارف پہلی مرتبہ کامریڈ غفران احد سے ہوا تھا تو انہوں نے اپنے تعارف میں کہا تھا کہ وکیل ہوں اور انصاف بیچتا ہوں، کامریڈ نے ان الفاظ میں اس ظالمانہ اور گلے سڑے نظام کو گالی دی تھی جس نظام نے انسان کو پست زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہوا ہے، جہاں پر عزت اور شرافت کے جعلی معیار کی بنیادیں عقیدے، رنگ و نسل اور عہدہ و دولت ہیں۔

Read more

” اپنے حق میں بولنا نہ آئے تو ہر کوئی بے عزتی کرتا ہے“ قسط نمبر 12

ایک دن رات کھانے کے بعد انہوں نے مجھے سٹنگ روم میں ہی روک لیا کہ کوئی اہم بات کرنی ہے۔ ”نفیس ہماری شادی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ آج ہم اس موضوع پہ بات کر لیں تو بہتر ہے۔“ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاید ہمارے ازدواجی تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور میرا اندازہ درست نکلا۔ ”کیا تم نے کبھی مجھ میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس

Read more

تکون (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)۔

”زری، یہ پتھر جب پانی سے لہر اور لہر سے دائرہ بناتا ہے، تب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ جب زندگی کے اس بحر عمیق میں انسان اپنا جسم چھوڑتا ہے، تب کوئی بھی لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ کوئی بھی لہر کسی دوسری لہر کو نہیں ہلاتی اور زندگی کا کوئی بھی مسئلہ، دائرہ بن کر نہیں گھومتا۔“

”توبہ، آخر تمہیں ہوا کیا ہے۔ تم مجھے یہاں اس لیے لائے تھے کہ میں یا تو بیٹھی تمہارا منہ تکتی رہوں اور تم لہریں گنتے رہو، یا پھر میں بیٹھ کر تمہاری تقریریں سنتی رہوں۔“

”یہی تو بات ہے زری، تم مجھ سے مطمئن نہیں ہو۔ مجھ سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ مگر یقین مانو کہ میں بھی کسی سے مطمئن نہیں ہوں۔ ۔ ۔ سوائے ایک ہستی کے، جس سے لاپروا ہو کر میں خود کو جیسے دوسری الجھنوں میں الجھا دیتا ہوں۔ اگر وہ ہستی میری الجھن ہو تو میں ان دوستی کے مسائل کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔“

Read more

ناں! آصف مسکرانے پر تمہارا کچھ خرچ ہوتا ہے

اپنی اب تک کی زندگی میں ایسا وقت تو کبھی نہیں آیا تھا جب ہر صبح آنکھ کھلنے کے ساتھ ایک اندوہناک سے دکھ، مایوسی، نا امیدی اور خوف کی لہریں سارے شریر میں سر تا پیر دوڑنے لگتی ہوں۔ صبح صادق کی سپیدی بدترین حالات میں بھی اکثر امید کا پیغام ہی دیتی ہے۔ یکم جون کی رات کوئی تین بجے آنکھ کھل گئی۔ رات کے اس پہر کی اذیت کو کم کرنے کے لیے موبائل کھولا۔ جیسے کلیجے پر گھونسہ پڑا۔ آصف فرخی کے دنیا سے چلے جانے کی خبر تھی۔ ”نہیں نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے کون سے مرنے کے دن تھے۔ ہم جیسے بوڑھے لوگ بیٹھے ہیں۔“ اب اضطراری حالت میں حمید شاہد کی پوسٹ پر لکھ رہی ہوں۔ ”حمید یہ کیسے ہوا؟“ سعدیہ قریشی سے پوچھ رہی ہوں۔

Read more

جنت میں پہلا زُوم مشاعرہ

کرونا سے وفات شُدہ پاکستانی جب جنت پہنچے تو وہاں بھی باز نہیں آئے۔ زیتون و انجیر کے باغ باغیچوں میں گھوم گھام، بازاروں میں سو فیصد رعایت پر خریداری کر، دودھ اور شہد کی نہروں میں نہا دھو کر اُنہوں نے فرشتوں اور حوران و غلمان میں بھی کرونا پھیلا دیا۔ کچھ ہی دنوں میں سب چھینکنے کھانسنے لگے تو داروغۂ جنت کو مجبوراً مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ دودھ کی نہروں کی روانی بند، چکنی حُوروں کی فراوانی

Read more

آصف فرخی: کیا آدمی تھے وہ، کیسے چلے گئے!

سوموار یکم مئی 2020 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے میں نے آصف صاحب کو فون کیا تو فون ان کے چھوٹے بھائی طارق نے اٹھایا۔
”ڈاکٹر صاحب آصف بھائی کی تو طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔“ طارق کی گھبرائی ہوئی آواز آئی تھی۔

”گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت خراب تھی۔ آٹھ دن قبل انہوں نے کچھ کھایا تھا جس سے ان کا پیٹ خراب ہوگیا تھا۔“ ہمارے مشترکہ دوست عرفان خان صاحب نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ”آصف صاحب کو متلی ہو رہی ہے اور پیٹ خراب ہے۔“

میں نے فوراً ہی ان کے بھی دوست اور بہت اچھے جنرل پریکٹشنر ڈاکٹر سجاد کو فون کر کے کہا کہ وہ آصف کو فون کر لیں اور انہیں فوڈ پوائزنگ کے لیے کوئی دوا بتائیں۔ سجاد نے فوراً ہی فون کیا اور انہیں پیٹ میں درد اور ہاضمے کی خرابی کی دوا فون پر ہی بتائی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ پینے والے نمکیات ( او آر ایس ) کے ساشے منگوا لیں ا ور دن میں کم از کم تین ساشے پئیں۔

Read more

دوست کی بیٹی کو کورونا، اللہ میاں سے گلہ اور گزشتہ الیکشن

میرے اک قریبی دوست کی بیٹی کو کرونا ہو گیا ہے۔ آج اس بیماری سے لڑتے ہوئے ہماری بیٹی کو تیسرا دن ہے اور ان کی صحت و حالت درست نہیں۔ رینڈم نیس اور بے مقصدیت کے بنیادی اصولوں پر چلتی ہوئی اس دنیا میں، ویسے ہی رینڈم اور بے مقصد انسانی زندگی کے پیراڈائم میں، ہماری بیٹی کے لیے اگلے چند دنوں میں کیا موجود ہے، میں نہیں جانتا۔ مگر اس معاملہ نے بہت شدت والا غم دے ڈالا ہے اور ذہن پر بہت دباؤ کی کیفیت ہے۔

Read more

جہادی دلہنیں: گوری سیج پہ، دلہا چنے کے کھیت میں

جہادی دلہنوں سے مراد ایسی خواتین ہیں جو شام میں لڑنے والے جہادی مردوں سے شادی کی غرض سے وہاں جاتی ہیں۔ اس ضمن میں پہلا سوال تو یہی ہے کہ ان کے دلہے کون ہیں؟ یہ جہادی دلہنیں کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ایک وقت میں مغربی شام سے لے کر مشرقی عراق تک 88000 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر قابض تھی۔ جہاں اس نے تقریباً 80 لاکھ افراد پر بہیمانہ طریقے

Read more

خواجہ سرا بچوں کو والدین کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟

آج کل جس دور میں ہم رہ رہے ہیں وہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہیں۔ دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک دوسرے سے روابط رکھنا اور دوسروں کے خیالات جاننا اب مشکل نہیں رہا۔ اس دور میں لوگ تبدیلی کے حامی ہیں اور جانتے ہیں کہ کسی دماغی یا جسمانی بیماری کا ہونا ایک عام بات ہے۔ ڈپریشن، گھبراہٹ (اینگزائیٹی) ، یادداشت کی کمزوری، ڈسلیکسیا، شیزوفرینیا، فوبیا وغیرہ اب عام بیماریاں سمجھی جاتی ہیں جو قابل علاج ہیں، تو خواجہ سرا ہونا ایک گناہ کیوں تصور کیا جاتا ہے؟

Read more

بلال احمد نورزئی اور طاہر ہزارہ کا مدلل بیان

میں متعصب ہوں نہ مجھے کسی سے کوئی ذاتی چپقلش ہے۔ تمام انسانوں کی طرح میرے احساسات و جذبات ہیں۔ میں جانتا ہو کسی حقیقت پسند لکھاری کے لئے تحریر اور حقیقت پسند مقرر کے لئے تقریر، اس وقت سخت ترین بن جاتی ہے، جب تحریر یا تقریر اس کے لسانی، سیاسی، مذہبی یا پھر دنیاوی، یا کوئی مشترک مفاد منسلک ہونے کا شبہ کیا جا سکے۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر الزام ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ ہوتے ہیں جن کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے، تو ایک بنتی بدلتی عوامی آرا کی صورت پریشر اور طرف داری کا الزام لگایا جاتا ہے۔

Read more

وہ دن پھر لوٹ کر آئیں گے

زندگی سہم گئی ہے محبوس ہو کر رہ گئی ہے! ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں کوئی ”خوف“ گھات لگائے نہ بیٹھا ہو۔ مگر ایسا جینا کب تک؟ ہمیں اس افسردہ و آزردہ فضا سے نجات کب ملے گی، کچھ معلوم نہیں؟ اتنا مگر ضرور ہے کہ ملے گی سہی، کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے، لہٰذا وہ منصوبہ ناکام ہو گا!

اب حالت یہ ہے کہ لوگ ایک طرح سے مقید ہیں، وہ پہلے کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا۔ کیوں؟ کیوں کہ کہا جا رہا ہے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے جی بالکل خطرہ ہے، مگر اتنا نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے، اگر وہ چند اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، پھر سب ٹھیک ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہیں روشنیوں میں آنے دیا جائے، سورج کو دیکھنے دیا جائی!

Read more

ٹالبوٹ اور عرفان صدیقی کی گواہی- ایٹمی دھماکا کرنے کا فیصلہ کس نے کیا؟

وہ ایک صحافی تھا جو سیاستدان بن گیا لیکن پھر صحافت اور سیاست کے درمیان پھنس کر رہ گیا۔ سٹروب ٹالبوٹ معروف امریکی جریدے ”ٹائم“ سے وابستہ تھا لیکن جب بل کلنٹن امریکا کے صدر بنے تو اپنے زمانہ طالبعلمی کے دوست سٹروب ٹالبوٹ کو سیاست میں لے آئے اور انہیں امریکا کا ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ مقرر کر دیا۔

مئی 1998 میں بھارت اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ٹالبوٹ کا کافی وقت جنوبی ایشیا میں گزرا۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔

Read more

کنے کنے جانا بلو دے گھر: ابرارالحق کے لیے نیک خواہشات

کل ابرار الحق صاحب کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے یہ خبر پڑھی کہ وہ کورونا کا شکار ہو گئے ہیں تو دل پریشان سا ہوگیا اور ساتھ ہی ماضی کی وہ یادیں بھی تازہ ہوگئی جو ان کے گانوں کی وجہ سے قائم ہوئیں۔ ہم بچپن میں یہ گانا بہت مزے سے سنا کرتے تھے ٹی وی پہ لگا ہونا تو بہت مزے کے ساتھ سننا اور پھر جب سکول میں آنا تو اس گانے کو عملی شکل دینا کہ بچوں

Read more

لاک ڈاؤن، ہم اور اردو افسانہ

باہر سناٹا ہے
طوطے اڑ گئے
انسان گھروں میں قید ہو گیا

انیس سو اڑتالیس میں ژاں پال سارتر کی اہم کتاب منظر عام پر آئی تھی۔ ادب کیا ہے۔ اس کتاب میں، سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا۔ سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اور لفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اور نئی سیاسی صورتحال سے گریز کر ہی نہیں سکتا۔ سارتر نے صاف طور پر کہا۔ ۔ ۔ ایک مصنف کے طور پر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اور اپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔

سارتر نے یہ بھی کہاکہ شاعری میں ہم زبان کے ساتھ کھلواڑ تو کر سکتے ہیں، تجربے بھی کر سکتے ہیں مگر فکشن کے لیے یہ تجربے خطرناک ہوں گے۔ سارتر کی نظر میں لکھنے والے کا کام ہتھیار کو ہتھیار کہنا ہے، یعنی جیسا کہ وہ ہتھیار ہے۔ اگر لفظ، مرض میں مبتلا ہیں تو پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مرض (لفظ) کا علاج کریں۔ شاید اس لیے سارتر نے جدید ادب کو ایک اور نام دیا۔ لفظوں کا کینسر۔

Read more

حکومت کے اپنے چیلنج

پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عوام پر ہمیشہ حکومت ہی کی گئی ہے۔ ان کی خدمت کا جذبہ کہیں نظر نہیں آیا۔ قائد اعظمؒ کے بعد کوئی لیڈر ایسا نہیں آیا جو ہمارے مسائل کے بارے سنجیدہ ہو اور انہیں حل کرنا چاہتا ہو۔ پاکستان کے مسائل ابتدا میں کم تھے مگر جیسے جیسے ہمارے راج کرنے والے حکمران آتے گئے ان مسائل میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت اس مملکت خداداد پر کسی بھی ادارے کا کوئی قرض نہیں تھا۔

Read more

عورت، ماں اور اسلام

صدیوں سے عورت خواہ وہ بہن ہو بیوی ہو یا ماں اپنے حقوق کی تکمیل کی طلبگار ہی رہی ہے۔ اور صدیوں سے ہمارے غریب طبقے کی عورت اپنی اس کوشش میں ناکام رہی ہے جبکہ امیر طبقے کی خاتون نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنی اہمیت اور حقوق کو ثابت کر دیا ہے، گو کہ عورت کے حوالے سے احکام الٰہی چودہ سو سال پہلے ہی بذریعہ پیغمبر اسلام ﷺ کتاب اور حدیث سے ثابت ہوچکے ہیں، مگر دنیا کے مختلف کونوں بالخصوص پاکستان میں ان حقائق کو منوانے کے لئے عورت کو آج بھی بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے اور تاحال وہ اپنی اس کوشش میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو سکی جو کہ اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہوئے ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے، اگر کوئی سمجھے تو !

Read more

پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ ۔ شخصیت اور ادبی خدمات

3 جون کو سندھ اور سندھی کے ممتاز شیریں بیاں شاعر، محقق، عالم، مترجم اور حضرت سچل سائیں ؒ کے شارح، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کو ہم سے بچھڑے 38 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دار فانی سے ہر کسی نے کوچ کر جانا ہے اور یہاں کسی نے باقی نہیں رہنا، مگر جو لوگ اپنے حصے کا کام ایمانداری اور جانفشانی سے کر گزرتے ہیں، وہ اپنی عمروں سے زیادہ جیتے ہیں۔ سندھی علم اور ادب کی

Read more

مائنڈ میک اپ، برین واشنگ۔ ۔ ۔ سے کرونا تک

ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں صرف لاہور میں ہی کرونا تباہی مچانے والا ہے۔ اور ملک بھر میں جنازوں کی گنتی، اور قبرستانوں کے رقبے میں اضافے کی زیادہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ گویا ہم نے علاج کرنے اور علاج کے لئے اقدامات سے ہار مان لی ہے۔ جنت کے باغوں کے خوابوں کی بجائے، دوزخ کی آگ کا خوف دیا جا رہا ہے۔ خوف بذات خود موت ہے۔ اور ابھی بھی بہت سی اموات صرف خوف کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

Read more

ہم سب کی انفرادیت!

آن لائن جرنلزم یا نیو میڈیا کے ناموں سے معروف ڈیجیٹل جرنلزم یا ڈیجیٹل صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ادارتی مواد انٹرنیٹ کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ تحریر، سمعی اور بصری مواد کے ذریعے پیش کی جانے والی خبریں، تجزیے، فیچرز ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی کے ذریعے وزیٹرز تک پہنچائے جاتے ہیں۔

ہم سب ایک ایسا علمی، بر حقائق پلیٹ فارم ہے، جو ہر لمحہ قارئین کو حالات و واقعات سے حقیقی آگاہی فراہم کر تا ہے، وہ تلخ حقائق بھی جو شاہد ہی کہیں اور ملتے ہوں۔ میں ہم سب کی جملہ ٹیم سے بے حد متاثر ہوا ہوں، جدت و معیار ایک ساتھ اس ادارہ کا طرہ امتیاز ہے۔ لکھاری حضرات کو کالم موصول ہونے، اور پھر کالم کی اشاعت پر باقاعدہ بذریعہ ای میل آگاہی فراہم کی جانے کے علاوہ چیک لسٹ بھی مہیا کی جاتی ہے۔ جو کہ یقیناً اعلیٰ ظرفی کی ایک تابناک مثال ہے۔ یہ مثال بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

Read more

ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

آج اس کی کالی سیاہ چمکتی جلد والی بھینس نے دودھ میلہ جیت لیا تھا۔ صبح اس نے تیرہ سیر دودھ دیا ا ور شام کو اس کے تھنوں سے رستا ہوا دودھ دیکھ کر بہت سے گوالے اپنی بھینسوں کو مقابلے میں لائے ہی نہیں تھے۔ بالٹی میں اب دس سیر سے زائد دودھ تھا۔ ایک سیر فی گھنٹہ سفید سونا اگلتی لاڈو نے میدان مار لیا تھا۔ منشی لدھا رام کے باغ میں ہونے والا یہ سالانہ میلا کالے گجر کی بھینس نے دو سال بعد جیتا تھا۔ اس سے پہلے کئی سال سے وہ ہی یہ میلا جیتا کرتا تھا۔ پھر اس کی بھینس کو کسی نے زہر دے دیا۔ اب اس کی ہی یہ کٹری جوان ہوئی تھی۔ یہ لاڈو کا پہلا سووا (حمل/ پیدائش) تھا۔

کالا گجر راوی کے بیلے کا بے تاج بادشاہ تھا۔ سینکڑوں بھینسوں کا مالک۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ اس کی یہ خوشی لاڈو میراثن کو ملے بغیر ادھوری تھی۔ وہی لاڈو جس کی رس بھری شاداب گولائیوں دیکھ کر ہی اس نے اپنی بھینس کا نام لاڈو رکھا تھا۔ دربار پر سالانہ عرس چل رہا تھا۔ آج اس کا خاص مجرا تھا۔ اسے پتا تھا کہ نتھی بائی نے دور دراز کے بڑے بڑے رئیسوں کو دعوت دی ہوگی۔ زمیندار اور جاگیر دار بھی ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مقابلہ بھی وہ ہی جیتے گا۔

Read more

اللہ سائیں مینہ وسا

ہمارے گاؤں اور بادلوں میں ان بن سی رہتی تھی۔ تبھی بادل گاؤں میں کم کم ہی آتے تھے۔ کبھی بھولے سے آ نکلتے تو اکثر بن برسے ہی لوٹ جاتے۔ کبھی کبھار یوں امڈ کے آتے لگتا کہ جل تھل کر دیں گے۔ ایسی کالی گھٹائیں اٹھتیں کہ دھوپ سے بھرے دن میں بھی رات سا اندھیرا چھا جاتا۔ پھر بھی بادل چھٹ جاتے تھے۔ جیسے گاؤں میں آکر ایک دم انہیں معلوم ہوتا کہ اس گاؤں میں تو برسات نہیں کرنی۔

گرمی میں جھلسے بدن، لو میں جلتے پیڑ، تنور سی دہکتی زمین سبھی بارش کی تمنا لیے آسمان تکتے رہتے۔ لیکن بادل تھے کہ آنکھ بچا کر ادھر ادھر اٹکھیلیاں کرتے گزر جاتے۔

مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار جب پورا ساون سوکھا بیت گیا تو گاؤں کے سبھی مردوں نے ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں اکٹھے ہو کر بارش کے لیے نماز پڑھی اور امام صاحب نے بازو لمبے اور ہتھیلیاں الٹی کروا کر دعا مانگی تھی۔ دعا اتنی لمبی ہو گئی تھی کہ بازو تھک گئے اور کافی سارے نمازیوں نے بازو نیچے کر لیے تھے۔ اس دن بوٹی والے کھوہ کے اوپر سے سیاہ بادلوں کا ہجوم امڈ آیا تھا۔ لگتا تھا کہ دعائیں بارآور ثابت ہوئیں اور بادل دعا مانگتی الٹی ہتھیلیوں پہ ہی برسنے لگیں گے۔ لیکن اس روز بھی گھٹاؤں نے برسنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔

Read more

دودھ پر پلے بیٹے اور پانی کو ترستی مائیں

دودھاں نال پُت پال کے، پچھوں پانی نوں ترسدیاں مانواں۔ گاڑی میں ماں کی یاد میں کیول گریوال کے گائے ہوئے یہ بول سن کر بے اختیار اپنی والدہ یاد آ گئیں اور آنکھیں بے اختیار چھلک پڑھیں۔ ہم دونوں میاں بیوی بہت برس بعد پچھلی عید پر اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد سوچا کچھ رشتہ داروں کو ملتے ہیں۔ ایک رشتے کی خالہ کے گھر گئے۔ سہ پہر

Read more

زخمی عورت کا پیشاب

وہ بری طرح سے زخمی تھی۔ دانت ٹوٹے ہوئے، ہونٹ پھٹے ہوئے، دونوں آنکھوں کے گرد خون جمع ہوا۔ ایک طرف کا کان نیچے سے کٹا ہوا، ناک سے خون بہہ کر ہونٹوں پر جم کر پپڑی سا بن گیا تھا، گردن پر زخموں کے نشان، چھاتیوں کو بڑی بے دردی سے شاید گھونسے مارے گئے تھے، پیٹ، کمر، رانوں اور کولہوں کو شاید جوتے والی لاتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ شدید تکلیف میں نیم بے ہوشی کے

Read more

فوکر جہاز میں دو قیدی اور موہنجوداڑو ائرپورٹ پر گلاب کے اداس پھول

اکتالیس سال قبل کی ایک سہ پہر کراچی سے ملتان براستہ موہنجو داڑو جانے والی پرواز میں مسافر بیٹھ چکے تھے۔ مجھے بائیں کھڑکی کے ساتھ والی نشست ملی تھی۔ میری پچھلی چند نشستیں خالی تھیں۔ مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد گزرنے کے باوجود دروازے بند ہوئے نہ سیڑھی ہٹی تھی۔ میں پی آئی اے کا ”ہمسفر“ رسالہ دیکھنے لگ گیا۔ اچانک پچھلی طرف ہلچل شروع ہوئی کچھ مسافروں کی آمد لگی ساتھ ہی بہت غصہ بھری تیز۔ اونچی۔ شستہ انگریزی میں ایک خاتون کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر مڑ کے دیکھنے لگا۔ ۔ ۔ خدایا کیا دیکھ رہا ہوں۔ راہداری میں دو پولیس افسر ان کے پیچھے ایک خاتون پولیس والی۔ اس کے پیچھے بی بی بے نظیر اور ابھی دروازہ کے پاس ہی کھڑی غصہ سے سرخ محترمہ نصرت بھٹو کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہ تھا۔ دستی سامان رکھنے کے بعد مسافروں کو میزبان لڑکی نشستوں پر بٹھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ممتاز بھٹو بھی آئے اور میرے بالکل عقبی نشست پر براجمان ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بیٹھے ان کے برابر والی دونوں دائیں جانب کی نشستوں پر کھڑکی ساتھ پورے کالی شلوار قمیض دوپٹہ والی نصرت بھٹو تشریف فرما ہوئیں اور اندر والی نشست پر سرخ و سفید پھولوں والی کالی قمیض اور کالی شلوار سفید دوپٹہ میں غم کی تصویر بے نظیر بیٹھ گئیں۔

Read more

جنرل ضیا الرحمن اور بنگلہ دیش میں طاقت کی کشمکش کی خون ریز تاریخ

25 مئی سنہ 1981 کو بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیا الرحمن نے اپنے فوجی سیکریٹری سے کہا کہ وہ 29 مئی کو چٹاگانگ کا دورہ کریں گے۔ اس فیصلے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں تشویش پیدا ہو گئی کیونکہ جب ضیا نے چٹاگانگ جانے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے چٹاگانگ کے جی او سی میجر جنرل محمد ابوالمنظور کا تبادلہ ڈھاکہ کرنے کے حکم پر بھی دستخط کردیے۔

جنرل منظور کو یہ تبادلہ پسند نہیں آیا۔ حالانکہ انھیں اس عہدے پر فائز ہوئے ساڑھے تین سال ہوچکے تھے۔ ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے جنرل ضیاء نے انھیں یہ بھی کہلوا دیا تھا کہ 29 مئی کو جب وہ پاٹینگا ہوائی اڈے پر پہنچیں تو انھیں وہاں موجود رہنے کی ضرورت نہیں۔

اس کے لیے یہ عذر پیش کیا گیا کہ صدر سیاسی دورے پر جارہے ہیں لہذا جی او سی کا ہوائی اڈے پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ منظور نے جنرل ضیا کے اس حکم کو اپنی ذاتی بے عزتی کے طور پر لیا۔ اس کے پیچھے کچھ وجوہات تھیں۔

Read more

اسلامی بیماریاں

کرونا پہلے پہل چمگادڑ کا سوپ پینے سے ہوتی تھے۔ چینی دہریے جو ہر بلا کھا جاتے ہیں اللہ کی پکڑ میں آ گئے تھے۔
یورپ اور امریکہ میں سور کا گوشت کھانے سے یہی بیماری پھیل گئی۔ کئی علاقوں میں شرابی اس عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
پاکستان کے سچے پکے مسلمانوں میں یہ بیماری بقول ایک ممتاز عالم دین ماڈرن لڑکیوں میں بے حجابی اور فحاشی سے پھیلی۔ کیونکہ ایسی عریانی اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔

Read more

بکھری ہوئی بک بک برکھا․․

ہماری اماں (دادی) کہا کرتی تھیں کہ اس کی زبان کے آگے تو ایک نہیں دو، دو خندقیں ہیں۔ اگر کوئی ایک میں گرنے سے بچ جائے تو دوسری میں تو ضرور گر جائے گا۔ وہ اکثر حیران ہو کر امی سے پوچھا کرتی تھیں۔ دلہن! کیا تم نے اسے کوے کی زبان بھون کر کھلائی ہے جو یہ اتنا بولتی ہے؟ سنا ہے کہ ہمارے عرفان بھائی جان بہت کمزور سے پیدا ہوئے تھے۔ دو سال کی عمر تک

Read more

ارطغرل اور مقامی مواد کا مسئلہ

’ارطغرل غازی‘ نے ہمارے سماج کے تمام ہی طبقات کو بڑی شدت سے متاثر کیا ہے۔ عوام کی اکثریت کو یہ ڈرامہ پسند ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جو کہ اس کے حق میں اور اس کے خلاف فتوے دے رہا ہے۔ بہت عرصے بعد ان میں سے کئی کو تصویر اور ٹی وی دیکھنے پر شریعت کا حکم یاد آ گیا ہے۔ کچھ کو تصوف کے خلاف بڑی شدت سے مروڑ اٹھ رہا ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جن

Read more

آصف فرخی بھی رخصت ہوئے

سنہ 1980 کے عشرے کا کوئی ابتدائی سال تھا۔ میں روزنامہ امن میں کام کرتی تھی۔ چھوٹا سا دفتر تھا۔ ایڈیٹر افضل صدیقی کے کمرے میں ایک کونے میں میری میز ہوتی تھی۔ ایڈیٹر کا کمرا تھا لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک روز ایک نوجوان آیا اور افضل صدیقی صاحب کو ایک کتاب دے کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی افضل صاحب نے وہ کتاب مجھے تھما دی کہ کتابوں پر تبصرہ میری ذمہ داری تھی۔ ا س روز تو میرا اس سے تعارف بھی نہیں ہوا تھا مگر پہلی کتاب بھی پہلی محبت کی طرح انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ آصف فرخی کی پہلی کتاب پر پہلا تبصرہ میرا تھا۔ اس نے ہمیشہ اس بات کو یاد رکھا اور بارہا دہرایا۔ برسوں بعد جب یونیسیف کے دفتر میں میری بیٹی کی اس سے ملاقات ہوئی تو اسے بھی اس نے یہی کہا ”آپ کی امی نے میری پہلی کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔“

Read more

د یکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام

طارق عزیز بلاشبہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ان تاریخ ساز لوگوں میں ہیں جنہوں نے پہلی نشریات سے لے کر طارق عزیز شو تک بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کے معروف الفاظ۔ ۔ ۔ د یکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام۔ ۔ ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی اجتماعی یاداشت کا حصہ ہیں۔ طارق عزیز اب بھی ٹویٹر پر اپنے لاکھوں مداہوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے موضوعات مذہب، سیرت النبی، عائلی زندگی اور ملکی

Read more

میری نانی کا گھر

بچپن کی یادیں نانی کے گھر کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ یہ ایک ایسا مقناطیسی مرکز ہوتا ہے جس کے گرد سب بہن بھائیوں اور ان کے بچے گھومتے رہتے ہیں یہاں تک کے ایک دن نا نانی رہتی ہے نا نانی کا گھر۔ ہماری نانی نے اپنی سات بیٹیاں پورے پاکستان میں جگہ جگہ بیاہی ہوئی تھیں۔ دو بیٹوں میں سے ایک کا خاندان تو عرصے سے پردیس میں آباد تھا اور ایک بیٹا بہو اپنے تین بچے چھوڑ

Read more

جون 1818۔ سقوط ملتان

سرزمین اولیا ملتان اس جہان تگ و دو میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اور نا ہی ملتان کا حوالہ صرف گرد، گرما اور گورستان ہے۔ بلکہ ملتان کی مٹی میں جذبہ حریت، یہاں کے پانی میں عزم وہمت اور یہاں کی سخت آب وہوا میں مٹی سے محبت کی ٹھنڈک اور بیرونی حملہ آوروں کے خلاف نفرت کی لو بھی شامل ہے۔ وادی سندھ کا تہذیبی و ثقافتی مسکن ملتان نے ہر عہد میں ایک نئے بحران کا

Read more

تسلیم فاضلی: ایسا فاضل جسے تسلیم کیا جا چکا

اظہار انور المعروف تسلیم فاضلی نے 1947 میں دہلی کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے تذکروں میں تاریخ پیدائش 1941 بھی ملتی ہے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے گھر بھر کی آنکھ کا تارہ اور لاڈلے تھے۔ والد سید مرتضیٰ حسین دعاؔ ڈبایؤی اور دو بڑے بھائی صباؔ فاضلی (یہ جوانی میں ہی انتقال کر گئے) اور نداؔ فاضلی شاعر اور ادیب تھے۔ اس طرح گویا لکھنا لکھانا اور شعر گوئی تسلیم

Read more

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائی حیرت زبان بستہ و چشم کشادہ رکھتے ہیں (غالب) ’میں مختلف طریقے سے ظاہر ہونے والی آواز ہوں۔ میں اس لا محدود کی آواز ہوں، جس کے بے شمار پہلو ہیں اور یہ پہلو مختلف نوعیت کے ہیں۔ میں اس کبھی نہ ختم ہونے والی مسرت کی آواز ہوں، جو تمام چیزوں میں جاری و ساری ہے۔ مسرت میرے تخلیق کا بنیادی نقطہ ہے اور میری زندگی کا مقصد بھی (رابندر ناتھ ٹیگور) بچپن

Read more

بس کم ہونا چاہیے

اقوام عالم کی تاریخ دیکھی جائے تو ان کی تہذیب و تمدن، علم سے محبت اور خصوصاً معاشرتی رویوں میں ان کے عروج کا راز پنہاں نظر آتا ہے۔ مگر ان سنہری اصولوں کو خاک پا کر دینے کی جو صنف ہم نے پائی ہے وہ تاریخ کی کتب میں ڈھونڈے نہیں ملتی۔ ہر امر کا جواز اور کسی بات کا جواب رکھنے میں ہمارا جواب نہیں۔ ہمارے بیشتر اخلاقی کھوکھلے پن اور تربیت سے عاری اعمال کا ہمارے پاس یہی نادر نسخہ ہے کہ ”بس کم ہونا چائدہ اے“ (بس کام ہونا چاہیے) ۔

Read more

بیرون ملک میں مسلمان سمجھا جانے والا اپنے ملک کا کافر

خاکسار مضمون کی ابتدا میں سب سے پہلے پاکستانی احمدیوں کو مبارک باد دینا چاہتا ہے جن کی قیمت شدت پسندوں کی جانب سے دس روپے سے بڑھا کر ہزار روپے کردی گئی ہے۔

Read more

راجہ عادل غیاث: ایک صلح جُو اور رابطہ کار صحافی کی موت

کہتے ہیں کہ بیسویں صدی انقلابات کی صدی تھی اور اکیسویں صدی مذاکرات، مفاہمت اور مکالمہ کا دور لے کر آئی ہے۔ گزشتہ صدی میں کئی ممالک میں انقلابات اور دو عظیم جنگیں لڑنے کے بعد دنیا اس نتیجے پر پہنچی کہ ہر مسئلے کا حل بہتر رابطہ کاری اور صلح جوئی کے ساتھ مذاکرات اور مکالمہ کے ذریعے ممکن ہے۔ سیاست کی طرح صحافت کی بھی دو اقسام ہیں، مزاحمتی صحافت اور مفاہمتی یا مصالحتی صحافت۔ مگرسیاست کی طرح

Read more

ڈاکٹر آصف فرخّی کا ریڈیو پاکستان کے لئے انٹرویو

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جہاں بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، وہیں پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ستمبر 1959 ء میں کراچی میں آنکھ کھولی۔ وہ معروف معلم اور ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے ہیں۔ کم سنی

Read more

رینی ڈیکارٹ

ڈیکارٹ 1596 میں فرانس میں پیدا ہوا۔ وہ جدید فلسفہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے پیش رو فلسفیوں کے کاموں کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فلسفے کی از سر نو تشکیل کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے اپنے فلسفیانہ انداز بیان کو آسان رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے ہمیشہ اپنا اور کلیسا کا تعلق بنائے رکھا۔ مگر اس کے باوجود اس کو بدعتی اور ملحد کہا گیا۔ اس پر حملے بھی ہوئے۔ وہ کلیسا کے کرتا دھرتاؤں سے ملتا رہا اور کلیسا کو جدید سائنس کے متعلق نرم رویہ رکھنے کی درخواست کرتا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو جیسا گلیلیو کے ساتھ ہوا۔

Read more

کیا آپ کامیاب ادیب بننے کے راز جانتے ہیں؟

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! میں آپ کے کالم بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ ان سے مجھ پہ نفسیات کے بہت سے در وا ہوتے ہیں۔ آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے بہت سے لوگ دیکھے ہوں گے جو کثیرالجہت منصوبے تشکیل تو دے لیتے ہیں۔ مگر ان کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ مجھے افسوس ہے کہ کبھی تو اس وقت منزل ہاتھ سے نکل جاتی ہے جب دوگام کا سفر باقی نظر آنے لگتا ہے۔

Read more

ٹھیکے دار کی بیٹی کا متبادل بیانیہ

حاجی الیاس پٹیل کی واٹس اپ پر مس کال آئی تو ہم نے عشا کی نماز سے فارغ ہوکر کال بیک کیا۔ وہ اُن میمن بوڑھوں میں سے ہیں جو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کو بھی مس کال مارتے ہیں۔ ہمارے بڑے قیام پاکستان کے وقت جب ممبئی ایرپورٹ سے کراچی کا سفر کرتے تھے، حاجی الیاس کے بڑے بزرگ فلم” دل لگی“ میں ثریا اور شیام کا گیت ’تو میرا چاند میں تیری چاندنی‘ گاتے ہوئے رم پی کر

Read more

فخر اور اس جیسے 22 کروڑ

فخر الدین سیّد یوں چلا گیا جیسے جھونکا ہوا کا جاتا ہے۔ اس جوانان مرگ سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی لیکن ایک زمانہ تھا ،صبح شام اس سے بات ہواکرتی۔ جیسا کہا جاتا ہے کہ: ’’ سنو اور اطاعت کرو‘‘فخر کا معاملہ کچھ ایسا ہی تھا۔اِسے جو کہا جاتا، خاموشی کے ساتھ سنتا اور پھر کام میں جت جاتا، کچھ دیر کے بعد وہ مشکل سے مشکل مہم بھی سر ہو جاتی جس کا بیڑا اٹھانے سے بڑے بڑے

Read more

جب آپ فکشن نگار سے کچھ زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔ ۔ ۔

میں نے کیی دفعہ محسوس کیا، قاریین کا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو مجھے ایک ایسے منصب پر دیکھنے کا خواہشمند ہے، جہاں میں چٹکی بجاتے ہی اس دنیا سے، نفرت کے رنگ کو غائب کر دوں گا۔ فنکار یا ادیب کے پاس نہ الہ الدین کا چراغ ہے نہ توقع اور خواہشوں کو پورا کرنے والا جن۔ ادیب کچھ سطحوں پر اتنا کمزور اور چھوٹا ہوتا ہے کہ بادل کی گھن گرج سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ آنکھوں

Read more

وقت کا قلم اور کتاب زندگی

کتاب زندگی کے اوراق پر وقت تیزی سے خامہ پرداز ہے۔ ہر گزرتا لمحہ زندگی کی قیمتی یادوں کو محفوظ کر رہا ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ یہ یادیں اچھی ہوں یا بری، یہ بس رقم کرتا رہتا ہے۔ اس قلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ رکتا ہے اور نا ہی لکھتے ہوئے تھکتا ہے۔ بس چلے جا رہا ہے۔ اور یہ آگے مزید کتنا لکھے گا اس بارے میں پیش گوئی کرنا محال ہے۔ پر اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ آپ اس کے صفحے پلٹ کر ماضی میں جھانک سکتے ہیں۔

Read more

کتابیں پڑھنے کا نقصان

”علم کتابوں سے نہیں، استادوں سے حاصل ہوتا ہے“ ۔ ہم اس نو جوان کی بات سن کر سمجھنے کی کوشش میں تھے کہ وہ دوبارہ گویا ہوا، ”آپ مسلمان ہیں۔ آپ قرآن کے ہر حرف پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ کو یقین ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس میں جو بھی لکھا ہے، وہ حق اور سچ ہے۔ پھر آپ غور کیوں نہیں کرتے کہ اسی قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ اس قرآن کو پڑھ

Read more

سفوکلیز کی اینٹی گنی، یونان کے ناراض دیوتا اور وزیر اعظم عمران خان

حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے تقریباً پانچ سو برس پہلے کی بات ہے کہ ایتھنز یونان کے پوش علاقے میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ امیر خاندان آباد تھا جن کے لوہے کے کارخانے تھے۔ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ”سوفوکلیز“ رکھا گیا۔ دنیا کے قدیم ترین لٹریچر میں ٹریجڈی کے تین ڈرامے اب تک بہت مشہور ہیں۔ انہی میں سے ایک ”اینٹی گنی“ ہے جس کا رائٹر ”سوفوکلیز“ تھا۔ اس ڈرامے کا نچوڑ اس

Read more

انڈیا امریکہ تعلقات میں دو رکاوٹیں: روس اور پاکستان

امریکی صدر ٹرمپ کے ایڈوائزر، چینی امور سے متعلق امریکہ کے سب سے بڑے ماہر مائیکل پلزبری نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات آئندہ بیس سال میں بڑی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں اور یہ انڈیا کے لئے موقع ہے کہ وہ وقتی فائدے کے بجائے چین کا مقابلہ کرنے کے لئے آئندہ بیس سال کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے، تاہم ابھی تک انڈیا ایسا کرتے نظر نہیں آ رہا۔ بھارت کا امریکہ کے

Read more

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہاں پر بچپن سے ہی انسانی ذہنوں کو مختلف قسم کے تقدیسی پنجروں میں قید کر لیا جاتا ہے۔ بچوں کو ایک ایسے بندھے بندھائے اور رٹے رٹائے تسلسل کا ایک ایسا ذہنی غلام بنا دیا جاتا ہے، جس سرکل سے وہ پوری زندگی باہر نہیں نکل پاتے اور پھر یہ سلسلہ نسل در نسل ایک ظالمانہ چکر کا روپ دھار لیتا ہے۔

بچوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو روایتی اور گھسے پٹے جوابوں سے بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی پٹی سے آگے بڑھ کر سوچنے کی بہت زیادہ ممانعت کی جاتی ہے۔ ہم اپنی نسلوں کو رنگ برنگی سوچوں کے سر چشموں سے سیراب ہونے کی آزادی نہیں دیتے کیونکہ ہمیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ ہماری نسل بھی منصور، گلیلیو، سقراط اور چارلس ڈارون کی طرح آؤٹ آف دی باکس نہ چلی جائے اور روایتی حقائق کو ترک کے نئے حقائق کی تلاش کی لت میں مبتلا نہ ہو جائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اس مقدس شکنجے کی گرفت کو ڈھیلا کر دے گا جو کہ مختلف روایتی حربے استعمال کر کے ہمارے ذہنوں کے گرد کسا جاتا ہے۔

میں آج آپ کو ایک ایسے ہی کٹر مذہبی باپ کی سچی کہانی شیئر کرنا چاہوں گا۔ اس باپ کا نام عبدالقیوم ہے اور

Read more

آمنہ، عظمیٰ، عثمان کیس کے چند اہم پہلو اور ان کا علمی تجزیہ

ہم یہاں ان کرداروں کو جنرالائز کر کے، عمومی طور پہ اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ یوں تو یہ ایک روایتی تثلیث ہے۔ دو عورتیں اور ایک مرد۔ مگر اس موضوع کے تحت ہمیں معاشرے کے کئی کرداروں کے تجزیے کا موقع ملے گا۔ مثلاً ایک بیوی، ایک داشتہ، ایک شوہر، ایک ماں، ایک غاصب عورت، ایک زنا کار مرد، ایک بے شرم طوائف، اور ہنگامے سے پرے گلی میں کھڑے بہت سے کردار جو اپنے اپنے تئیں اس پہ تبصرہ کرنے میں لگے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

پہلو نمبر ایک : کیا کسی کے گھر پہ یوں دھاوا بولنا درست ہے؟

کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یعنی قانونی طور پہ ایسا کرنا قطعی درست نہیں۔ میں یہاں لارنس کوہلبرگ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھانا چاہوں گی جو بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات گزرے ہیں جنھوں نے بعد میں مورل ایجوکیشن یعنی کردار کی تعلیم کے میدان میں بہت کام کیا۔ ان کا ایک تجربہ جس کا یہاں ذکر بے حد ضروری ہے، انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ اس کو ہائنز ڈلیما یعنی ’ہائینز کی الجھن‘ کا نام دیتے ہیں۔

یورپ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہائینز کی بیوی کو ایک خاص قسم کا جان لیوا کینسر ہو گیا جس کے علاج کے لئے ریڈیم سے بنی دوا درکار تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ دوا مہنگی تھی مگر اس دوا کو خرید کر ایک دوا ساز نے اس کے دام دس گنا بڑھا دیے۔ یعنی چار سو ڈالر کی دوا وہ چار ہزار ڈالر میں بیچنے لگا۔ ادھار پکڑ کے، جیسے تیسے کر کے ہائینز نے دو ہزار ڈالر جمع کیے اور اس دوا فروش کے پاس پہنچا کہ یہ پیسے لے کر اسے دوا دے دے۔

اس کی بیوی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مگر اس دوا فروش نے سفاکی سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہائینز رات کے

Read more

یوکلیپٹس کے درخت جنہوں نے گولان پر اسرائیل کا قبضہ کروا دیا

کئی عشرے پہلے برطانیہ والوں نے اپنی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے حوالے سے ایک خیالی کردار کو جیمز بانڈ کا روپ دے کر فلمیں بنانا شروع کیں جنہوں نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔

پھر شرلاک ہومز کی باری آئی اور یہ کردار کتابوں کی دنیا سے نکل کر سکرین پر چلنے پھرنے لگا۔ امریکا والے کب کسی سے پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے بھی اپنی ایف بی آئی اور سی آئی اے کے کارناموں پر مشتمل ٹی وی سیریز، ڈراموں اور فلموں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ نیٹ فلکس پر اسی سلسلے کی تازہ پیشکش ”دی سپائی“ سیریز ہے جسے اردو میں ”ایک تھا جاسوس“ کہا جا سکتا ہے۔

چھ قسطوں پر مشتمل اس منی سیریز کی کہانی الی کوہین نامی شخص کی ہے جسے بعد میں اپنے ملک کے عظیم

Read more

رسول حمزہ توف: ”داغستان“ سے محبت کا اصل نسخہ جاننے والا

میرے ساتھ اس کا پہلا تعارف فیض صاحب نے کرایا، جب انٹرنیٹ والے گورکھ دھندے سے بہت پہلے فیض کی کتابوں میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم پڑھے۔ فیض صاحب کے قلم سے کیے ہوئے یہ تراجم، نہ فقط اصل شاعر کی شاعرانہ عظمت کا بیان تھے، بلکہ ان نظموں میں فیض صاحب کی اپنی دانشورانہ نکہت بھی شامل تھی اور ساتھ ساتھ یہ تراجم فیض صاحب جیسے بڑے شاعر کی جانب سے اپنے ہمعصر ایک دوسرے بڑے اور

Read more

چودھری محمد علی رودولوی کا کلاسیک افسانہ: تیسری جنس

مدی کا اصل نام احمدی خانم تھا۔ تحصیلدار صاحب پیار سے مدی مدی کہتے تھے، وہی مشہور ہوگیا۔ مدی کا رنگ بنگال میں سو دو سو میں اور ہمارے صوبہ میں ہزار دو ہزار میں ایک تھا۔ جس طرح فیروزے کا رنگ مختلف روشنیوں میں بدلا کرتا ہے اسی طرح مدی کا رنگ تھا۔ تھی تو کھلتی ہوئی سانولی رنگت جس کو سبزہ کہتے ہیں۔ مگر مختلف رنگ کے دوپٹوں یا ساڑیوں کے ساتھ مختلف رنگ پیدا ہوتا تھا۔ کسی

Read more

بچی ہوئی شادی شدہ زندگی!

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت اچھلی۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو ان کی محبوبہ کے گھر میں جا پکڑا۔ چونکہ یہ ویڈیو کسی طرح لیک ہوگئی یا کر دی گئی تو اس پہ طرح طرح کے تبصرے ہوئے۔ ان خاتون کے بقول وہ اپنی شادی شدہ زندگی بچانے کے لیے یہ سب کر رہی تھیں۔ مشرق میں عموماً اور پاکستان اور انڈیا میں خصوصاً شادی ایک رومانی تصور ہے۔ لڑکا پیدا ہوتے ہی اس کے سہرے گائے جانے

Read more

بھارت کو تاریخی رسوائی پر شرم نہیں آتی!

چین نے بھارت کے ساتھ وہی کیا جو ایک آزاد ’خود مختار غیرت مند ریاست کو زیب دیتا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی طرح لداخ کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کے فوجیوں نے لداخ کی سرحد پر متنازعہ علاقے میں خرمستیاں شروع کر دیں‘ چین نے ایک دو بار وارننگ دی کہ بھارت اپنی چھیڑ خانیوں سے باز رہے، مگربھارتی حکومت نے شریفانہ تنبیہ کی پروا نہ کی اور اپنی چھیڑ چھاڑ جاری رکھی، جس

Read more

جہاں بیٹی ماں کی کوزہ گری کرتی ہے

ایک عجیب سے خلجان میں مبتلا ہیں ہم! سمجھ ہی نہیں پاتے کہ اس سے ہمارا رشتہ ہے کیا؟ ایسا کب ہوا؟ احساس میں تبدیلی کب آئی،کچھ خبر نہیں۔ گزرے برسوں میں پلٹ کے دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت نامعلوم طور پہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنی جگہ بدلی ہے اور روایتی رشتہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں بے شمار ذمہ داریوں کی گھٹڑی زاد سفر کے طور پہ ساتھ

Read more

کنول جھیل کا رستہ اور وہ لڑکی

میرا پاؤں کیبل میں الجھا، ایک سرے سے ٹرائی پاڈ پر رکھا کیمرا ڈول گیا، اور دوسرے سرے پر بوم راڈ کھنچ گیا، سبھی میری طرف متوجہ ہوئے، جس ناہنجار کی وجہ سے رکارڈنگ کا عمل ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ہدایت کار نے نا گواری سے کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ تمھارا دھیان کہاں ہے“ ؟ یقیناً میرا چہرہ شرمندگی سے لال پڑ گیا ہو گا۔ میں واقعی وہاں تھا، نہیں تھا، کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ جس چاند میں کھویا تھا، کنکھیوں سے اسے دیکھا وہ میری حالت پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔ یہی کوئی چوبیس پچیس سال پرانی بات ہے، کنول جھیل کے اطراف میں ایک ٹی وی ڈرامے کی رکارڈنگ تھی۔ آج قریب اتنے ہی برس ہوئے، میں پلٹ کے کنول جھیل نہیں گیا۔

Read more

زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ

یاد کی ڈاک گاڑی نامانوس گھنے جنگلوں میں پہنچ رہی ہے۔ یہاں دو وقت ملتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جنم لینے والے ققنس رخصت ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی غلامی سے آزادی کا خواب مقامی حبس بے جا میں نظر بند ہو گیا اور اس المیے سے دوبدو ہونے والی نسل رخصت ہو رہی ہے۔ ہماری نسل کے لئے زیاں اور یافت کی دبدھا کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ باہر اندھیرا پھیل رہا ہے اور اندر بھیروں

Read more

ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

بیج کو پودا، پودے کو درخت بننے میں خاصا وقت اور اچھی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔ ایک خاص عمر کے بعد اس درخت کی جسامت پر کسی خزاں اور بہار کا کوئی اثر نہیں ہوتا سوائے پتوں کے جو خزاں میں گر جاتے ہیں اور بہا ر میں نئے نکل آتے ہیں۔ بعض درخت جن کی عمریں لمبی اور چھاوں بھی گھنی ہو تی ہے۔ وہ سب کے لیے خیر اور مل بیٹھنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔ افسانوی

Read more

کیا ہماری فرصت کا کوئی اور مشغلہ نہیں ہو سکتا؟

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی رپورٹ نظروں سے گزری جس میں درج تھا کہ کرونا کی وجہ سے تنہائی اور فراغت میسر آنے کی وجہ سے اس سال دنیا میں گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ اس کار خیر میں چین، بھارت اور انڈونیشیا کے بعد چوتھا نمبر پاکستان کا ہے۔ مجھے اس رپورٹ سے حیرت ہوئی کہ کیا ہم تنہائی اور فرصت میں صرف بچے ہی پیدا کر سکتے ہیں؟ حالانکہ دیکھا جائے تو دنیا کے نامور مصنفین نے قید اور تنہائی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر دنیا کا بہترین ادب تخلیق کیا۔

Read more

خواب، ارادے اور اوقات

ایم بی بی ایس کے دوران اکٹھے پڑھنے والے ہم کلاس فیلوز کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے۔ اس میں ایک ہم جماعت دوست نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ اپنی زندگی کے کچھ ”چسکے دار“ واقعات دوستوں کی ”دل پشوری“ کی خاطر تحریر کروں۔ میں نے نیا کیا تحریر کرنا تھا، زندگی تو پہلے ہی کھول کے رکھ چکا ہوں، جس کا پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ کے عنوان سے کتابی شکل میں گزشتہ برس آ چکا تھا، دوسرا حصہ باوجود مکمل ہونے کے اس ”کورونا کرائسز“ کے باعث تا حال نہیں آ سکا ہے۔ اس دوسرے حصے کو ، جو پہلے ناول کی صورت لکھا تھا، میں ایک حد تک ”مثل برگ آوارہ“ کے عنوان سے قسط وار سوشل میڈیم پر ڈال چکا تھا جو میرے ای میل کے ڈرافٹس میں موجود ہیں۔ ان میں ہی سے کچھ اقساط دوستوں کے گروپ میں شیئر کر دیں۔

Read more

عمران خان کی خوبیاں اور خامیاں

افراط و تفریط ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔ اپنے پسندیدہ لیڈر کے اوصاف کو ہم بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور نا پسندیدہ شخص میں ہمیں کوئی خوبی نظر نہیں آتی بلکہ اس کے نقائص اس قدر زیادہ لگتے ہیں کہ اسے ہمارے لیے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ افراط و تفریط اور یہ عدم توازن ہمارے جذباتی پن کی وجہ سے ہے۔ آئیے آج وزیر اعظم عمران خان کی خوبیوں اور خامیوں کا غیر جذباتی جائزہ لیں۔

کرکٹ ہیرو سے وزیر اعظم بننے تک عمران خان نے اپنی ایمانداری اور اصول پسندی کا تاثر ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنتے ہی انھوں نے اپنے سے عمر میں بڑے خالہ زاد بھائی ماجد خان کو ٹیم سے نکال کر اپنی اصول پسندی کی دھاک بٹھا دی تھی۔

Read more

پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن: مسیحا روپ استاد کورونا سے ہار گیا

سنتے آئے ہیں کہ ڈاکٹر مسیحا کا روپ ہوتا ہے۔ جب میڈیکل کالج میں قدم رکھا تو بہت سے نام سنے اور پھر کئی معجزے دیکھے۔ اس زمیں پر اعجاز احسن کو وہ مسیحا پایا جو کہ اوتار تو نہیں تھے لیکن نو آموز ڈاکٹرز، سنئیر سرجن اور دکھیارے مریض ان کے سامنے عقیدت سے سرنگوں رہتے تھے۔ ان کے ہاتھ کا قلم و نشتر اتنے احسن طریقے سے اعجاز رقم کرتا کہ مادر زاد روگی اپنے دکھوں کی پوٹ

Read more

خاندانی لوگ اور انسانی محبت

سردیوں کی ایک یخ بستہ شام میں اور میرا بیٹا حسن اپنے فلیٹ کے فرنٹ روم میں ہیٹر کے آگے بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ بابا جان۔ میری ایک دوست اور کلاس فیلو آپ سے ملنا چاہتی ہے۔ بیٹے نے کہا۔ کیوں کوئی خاص بات ہے، میں نے پوچھا۔ باباجانی، کوئی خاص بات نہیں، بس اس نے تین چار دفعہ آپ سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ خیر رہنے دیں اگر آپ مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں پھر کبھی

Read more

بچھڑنا مقدر تھا

” بیٹا تم ایک بار پھر سوچ لو اس بارے میں۔“ ”امی، جب مجھے اتنی جلدی شادی کرنی ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی دور جانا ہے تو پھر آپ کیوں زور دے رہی ہیں؟“ اریبہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ ” جلدی تو نہیں ہے خیر صحیح عمر ہے بیٹا یہ۔ گریجویشن بھی مکمل ہو گیا ہے اور ماسٹرز تو تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو۔ بلکہ جو بھی کرنا چاہو وہ کر سکتی ہو،

Read more

رچرڈ بیوک اور شعور کا ارتقا

RICHARD BUCKEکا شمار بیسویں صدی کے صف اول کے ماہرین نفسیات و روحانیات ’فلسفیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہیں اپنی درویشانہ شخصیت کی وجہ سے اتنی بین الاقوامی شہرت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ رچرڈ بیوک 1837 میں انگلستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد HORATIO BUCKE پادری تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان سے کینیڈا ہجرت کی اور لندن اونٹاریو میں سکونت اختیار کی۔ رچرڈ بیوک نے پہلے اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں

Read more

کیا آپ محمڈن ہیں؟

محمڈن۔ کیا آپ محمڈن ہیں؟ یہ جملہ آج سے برسوں پہلے میں نے بھارت کی راج دھانی میں ایک ہندو رائٹر سے سنا تھا۔ مگر یہ فقط جملہ نہ تھا ایسی کیفیت تھی جس سے اس سے قبل میں آشنا نہ تھی۔ محمڈن۔ میں کبھی اسے بٹ بٹ دیکھتی تھی۔ اور کبھی اپنے میلے، غلیظ و جود کو، جسے اتنی بڑی فضیلت کھڑے کھڑے مل گئی تھی۔ مگر کیا میں واقعی اس قابل تھی کہ محمڈن کہلا سکوں؟ محمڈن۔ جیسے

Read more

اداکارہ عظمیٰ اور ملک ریاض کی بیٹیاں آمنے سامنے، تھانے میں کیا ہوا؟

جیسے ہی میں گاڑی سے نکلا، تھانے سے سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص باہر آیا اپنی سفید رنگ کی پرائیویٹ لینڈ کروزر میں سوار ہوا۔ اس کے ساتھ دو خواتین بھی تھیں، میں نے لپک کر ایک خاتون کے پاس پہنچنے کی کوشش کی تو اس نے گاڑی کا دروازہ تیزی سے بند کر دیا۔ اس اثنا میں پیچھے سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں کان میں پڑیں تو فوراً میری توجہ ادھر کو ہو گئی۔

یہ آوازیں پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے پر کھڑے اس سپاہی کی تھیں جو میرے کیمرہ مین غلام عباس پر چلا رہا تھا۔ تم کون ہو؟ کس سے پوچھ کر فوٹیج بنا رہے ہو؟ میں یہ کیمرہ توڑ دوں گا، کیا یہ تمہاری پرائیویٹ پراپرٹی ہے؟ چلو بھاگو یہاں قریب مت بھٹکنا۔ سپاہی کے سوالوں اور حکم نامے کا سلسلہ رکا نہ تھا کہ میں بول پڑا، رکو! میں رپورٹر ہوں۔ آپ مجھ سے بات کیجئے۔ آپ کس قانون کے تحت میڈیا کو سرکاری عمارت کی فوٹیج بنانے سے روک رہے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے اس عمارت کے ذمہ قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے؟ جواب ندارد۔

Read more

ٹھیکیدار کی بیٹی اور اداکارہ کا جھگڑا

سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل رہا ”ٹھیکیدار کی بیٹی“ ۔ یہ ٹرینڈ ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا جس میں اداکارہ اور ماڈل عظمیٰ خان اور ان کی بہن سے سے مار پیٹ کی جا رہی ہے۔ اس پر مین سٹریم میڈیا تو بجا طور پر خاموش رہا کہ مار پیٹ کرنے کا الزام ملک ریاض کی بیٹیوں اور گارڈوں پر لگایا جا رہا تھا، مگر سوشل میڈیا نے اتنا پریشر پیدا کیا کہ مرکزی نامزد ملزمہ آمنہ عثمان ملک اپنا موقف دینے پر مجبور ہو گئیں۔

انہوں نے سب سے پہلے تو یہ واضح کیا کہ ان کے شوہر عثمان ملک کا ملک ریاض سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان کے قریبی خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔ نا ہی ان کا ملک ریاض سے کوئی لینا دینا ہے۔ نیز یہ ان کے شوہر کا گھر ہے جہاں وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے گھسی ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ اور سب سے زیادہ غلطی ان کے شوہر کی ہے، جسے انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔

Read more