او آئی سی ایک ناکام تنظیم کیوں ہے

ماضی قریب میں او آئی سی کے وزرا خارجہ کا اجلاس ابو ظہبی میں منعقد ہوا۔ یہ معمولی اجلاس اس وقت اچانک غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا جب پاک بھارت جنگی صورتحال کی حدت اجلاس تک جا پہنچی۔ اجلاس دنیا بھر کی توجہ مرکز بن گیا کیونکہ اس میں بھارت کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے شرکت کو بھارت کی عدم حاضری سے مشروط کردیا۔ اس موقع پر او آئی سی نے سفارتی روایات کی بجائے مقامی روایات کو ملحوظ خاطر رکھا اور اجلاس کو اس معاملے سے لاتعلق رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔

Read more

میڈم پرائم منسٹر آپ جیسا کوئی نہیں

ہمارے ملک میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں کو بم سے اڑا دیا گیا اور کئی مسیحی برادری کے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کیا کبھی ہمارے کسی لیڈر نے ان کی عبادت گاہوں میں جا کر اور شمع روشن کر کے ان سے اظہارٍ یکجہتی کرنے کی ہمت دکھائی ؟ چلیں ان کی عبادت گاہوں میں جانا یا ان جیسا لباس پہن لینا آپ کے ایمان کو گوارا نہیں تھا تو کم از کم اس دن اسمبلی میں صلیب سامنے رکھ کر چند ہمدردی کے کلمات بولے گئے ؟ہزارہ اور پارہ چنار میں شیعہ برادری کی لاشوں کے انبار لگا دئیے گئے۔ کیا کبھی کوئی لیڈر کالا لباس پہن کر یا علم اٹھا کر وہاں کی یا کہیں کی بھی اما م بارگاہ میں جا کر دو لفظ ہمدردی کے بول پایا ؟

Read more

برینٹن ٹیرنٹ کا حملہ اور بڑے ممالک کا دوغلا پن

نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے نے جہاں کئی گھروں کو ماتمکدہ بنا کے رکھ دیا۔ کئی لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہوئے وہیں اس حملہ نے دنیا کے حکمران ممالک خصوصاً امریکہ کی دوغلی پالیسی کو بھی واضح کیا۔ آسٹریلوی شہری برینٹن ٹرینٹ نے جس بے دردی سے گولیاں چلائیں اور ویڈیو کو براہ راست شئیر کیا، ایک عجیب قسم کی سفاکیت اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پر اصل میں جو چیز اہم ہے وہ اس دہشتگرد کا اپنی سوچ کی تشہیر کرنا ہے۔ جو کچھ اس نے اپنے اسلحے پر لکھا تھا اس پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

Read more

سادگی ہی زندگی ہے

پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں کچھ ایسے واقعات نے جنم لینا شروع کیاجن کے بارے میں جان کر، پڑھ کر، سن کر یا پھر ٹی وی اسکرین پر ہاتھ دل پر رکھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے اور اپنی اولاد کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ ہمارے بچوں کی حفاظت کر ان کو نیک راہ پر چلنے کی توفیق دے ان کو حادثات سے بچا کر رکھ ہماری عزتوں کی حفاظت کرنا صرف تیرے ہاتھ میں ہے تو ہی کرسکتا ہے۔

Read more

شوہر مارچ ضروری ہے

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں پائی جانے والی مخلوقات میں پہلے نمبر پہ مظلوم ترین شوہر ہیں، اس کے بعد بھی مظلومیت کے درجے پر فائز خاوند ہی ہیں۔بے عزتی سے باعزتی تک کا سفر سوچتا ہر کوئی ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانا خاصا سہل ہوتا ہے، اور باہمت لوگ ہی کر گزرتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے خاوند حضرات بھی بے عزتی سے با عزتی کی جانب رخت سفر باندھنے کا صرف سوچتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں کر پاتے، وہ چاہتے تو یہی ہیں کہ معاشرے میں جس طرح ان کی تکریم ہے، اسی طرح کا عزت و مرتبہ انہیں گھر میں بھی ملے مگر وہ کیسے ملے گا؟ یہ سوچتا ہر شوہر ہی ہے مگر بے چارہ کر کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا رہتا ہے، تدابیر کرتا رہتا ہے اور جب ان پر عمل در آمد کا سوچتا ہے تو سہم جاتا ہے۔

Read more

غریب بزدار کی ناکامی

دنیا میں کسی بھی معاشرے میں جب کوئی چیز میرٹ پہ نہیں ہوتی یا کسی غلط جگہ پہ فٹ ہوتی ہے یا پھر یوں کہہ لیں کہ جیسے عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب بنا دیا گیا ہو! تو آپ ننانوے فیصد منفی نتائج ہی دیکھیں گے۔ ایک فیصد کا مارجن اس لے رکھا، کہ معجزات بھی دنیا میں ہو جاتے ہیں۔ اب یہاں وزیر اعلی پنجاب کا کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ان کو تو دائیں، بائیں رہنے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے لگایا گیا اور لودھراں ٹو بنی گلا کی فلائیٹ لینے والوں کو بھی راضی کرنا تھا۔ اس لیے ریموٹ کنٹرول بندہ چاہیے تھا۔ اور پھر عثمان بزدار کی بھی قسمت اچھی تھی کہ وہ سرکاری جہازوں، کاروں اور بڑے بڑے پروٹوکول ان کے نصیب میں تھے۔ یہاں عمران خان صاحب کی مجبوری نے بزدار صاحب کی قسمت چمکا دی۔

Read more

عدالتوں نے کبھی بھی لیڈروں کو جنم نہیں دیا ہے

مقننہ اورعدلیہ کا تعلق کسی بھی ملک میں چولی دامن کے مانند ہوتا ہے، جہاں پر عوام کے منتخب نمائندے ملک کے بہتری اور عوام کے فلاح و بہبود کے لئے قوانین اور آئین بناتے ہیں جس کے تحفظ کے لئے عدلیہ اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ عدلیہ کے پاس اس بات کا بھی اختیار ہے کہ وہ مقننہ کو اس بات سے روکیں کہ کوئی قانون آئین کے خلاف نہ بنایا جائے جس میں عوامی بنیادی حقوق سلب ہوتے ہوں جبکہ عدلیہ کا نظام اور طریقہ کار بذات خود مقننہ تعین کرتی ہے۔

Read more

دوستی انمول رشتہ ہے!

زندگی میں رشتوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ہر رشتہ اپنی جگہ انمول ہوتا ہے اور اپنی اہمت رکھتا ہے۔ زندگی میں رشتے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ خون کے رشتے اور منہ بولے رشتے مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں ”زندگی“ ملا کرتی ہے اور وہ ”رشتہ“ ہے ”دوستی کا رشتہ“۔ دوست ہمیں قدرت کی طرف سے تحفے میں ملتے ہیں جو بغیر کسی غرض اور فائدے کے ساری زندگی ہماری خوشی اور دکھ میں ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔زندگی میں ہر چیز کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہوتی ہے جس طرح ایک پیاسے کے لئے پانی بہت ضروری ہوتا ہے ایسے ہی زندگی میں رشتوں کے ان جھرمٹ میں دوست بہت ضروری ہوتے ہیں۔ اچھے اور مخلص دوست کسی خزانے سے کم نہیں ہوتے جنہیں کھونے سے ہم ہر وقت ڈرتے ہیں۔

Read more

اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے کمزور پوائنٹس

احتساب اور نیب کی کارروائی کی صورتحال میں بلاول بھٹو زرداری نے کالعدم تنظیموں کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کے بعد نیب میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں اس موضوع پر مزید سخت بیان دیا ہے۔ بلاول نے کہا کہ ”کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن کی بات میں نہیں مانتا، ہم یہ بار بار کہتے آ ئے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کیے جانے کی بات ہم نہیں مانتے، آپ کہتے ہو کارروائی کی گئی ہیں، میں نہیں مانتا، آپ کہتے ہوآپ نے اریسٹ کیا ہے، میں کہتا ہوں کہ نہیں آپ نے ان کو ’پرو ٹیکٹیو کسٹڈی‘ میں ڈالا ہے تا کہ ان

Read more

بلوچستان میں سر عام توہین عدالت

پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔بلوچستان ایک ایسا صوبہ جہاں پر حکومتی معاملات رشتہ داریوں اور دوستیوں کی نذر کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے خراب نظام کو مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ ہر حکومتی افسر یہ سمجھنے لگا ہے کہ تعلقات کی بنا پر وہ اپنے افسر کی بات نہ مانے تو اس کی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اگر وہ توہین عدالت کرے تو وہ محفوظ رہ سکتا ہے۔

Read more

وسائل اور مسائل کا درمیانی راستہ!

مجھے آج کل محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے درمیان، ہمارے بیچ نفسیاتی مریضوں کی پوری اک کھیپ پروان چڑھ رہی ہے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہم بہت چاہ کے بھی ہاتھ سے روک نہیں پا رہے اور آج کل ہر دن ایک نیا مسئلہ ہمیں ہارٹ سٹروک دینے کے لئے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو واقعی لگتا ہے سینے سے دل گیا۔ مگر کس کے؟ میں اور میرے جیسے بہت سے لوگ صبح شام شاید اسی سوچ کی تیزابیت سے مر رہے ہیں۔ اور اس خوف و ہراس میں پھر بھی جی رہے ہیںآج دوپہر سے ایمبر الرٹ چل رہا تھا کہ ایک باپ جو قانونی طور پر اپنی بچی سے نہیں مل سکتا تھا اپنی بیٹی کو سکول سے زبردستی اٹھا کے لے گیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے پورے ٹورنٹو نے ایک معصوم گیارہ سالہ بچی ریا کے باپ کے ہاتھوں قتل پر کئی دن سوگ منایا۔ دل نہیں مانتا نا۔ بالکل بھی نہیں مانتا۔ رات گیارہ بجے کے قریب پورے ٹورنٹو کے فونز پر ایمبر الرٹ بجے تھے اور سارا تھکا ہوا شہر اپنی تھکاوٹ بھول کر بچی کی سلامتی کے لئے اپنی اپنی کوششوں میں لگ گیا تھا۔

Read more

انسانیت اور مذہب

احد کا پہاڑ اس لرزہ خیز منظر کا گواہ ہے جب ہندہ نے شہید حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ یہ ہندہ وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمّد مصطفٰے صلعم پر گندگی پھینکا کرتی تھی اور جس کا خاوند ابو سفیان آپ کے خلاف تمام جنگوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ جب یہ مفتوح ہوئے تو اللہ کے پاک پیغمبر نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا بلکہ ان کے گھر کو جائے امان بنا دیا۔

Read more

ہولی ہے بھئی ہولی ہے

دنیا کے تمام جشن ہی حسین اور دلکش ہوتے ہیں۔ یہ فیسٹیول، میلے، تہوار ہی زندگی کی سچی اور اصلی حقیقتیں ہیں۔ انسان کی زندگی کلرفل ہونی چاہیے۔ رنگوں کی وجہ سے ہی انسان کے جذبات میں محبت، امن، پیار اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس لئے ہولی، کرسمس اور عید جیسے تہوار کا انسانی زندگی میں ہونا بہت اہم ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ہولی ہندوؤں کا تہوار ہے یا عیسائیوں کا۔ لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ اس تہوار میں رنگ، خوشی، رقص، نغمے اور زندہ دلی ہے۔ میں ایک بات جانتا ہوں کے ہزاروں انسان ہولی کے تہوار یا فیسٹیول کے موقع پر اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے پر مختلف اقسام کے خوبصورت رنگ پھینکتے ہیں، قہقہے بکھیرتے ہیں، مسکراتے ہیں، نغمے گاتے ہیں اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے۔

Read more

سیاست میں جھوٹ کو کیش کروانے کے ایسے ویسے تماشے!

یوں تو عام طور پر سیاست میں سچ کا سکا ذرا کم ہی چلتا ہے۔ تقاریر سے بیانات تک کئی سیاستدان تھوڑا تھوڑا جھوٹ کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ سیاست کو تمام اخلاقی اور انسانی اقدار سے بھی الگ رکھا جائے یا پھر سیاستدانوں کو بول چال کے معاملات میں کوئی خاص استثنا حاصل ہے۔ جو چیز اخلاقی طور پر غلط ہو گی، وہ سیاست میں درست نہیں ہو سکتی۔ مگر پچھلے چند

Read more

ڈائبٹیز پیشینٹ ایجوکیشن، اہمیت اور ضرورت

ذیا بیطس ایک ایسا مرض ہے جو ایک دفعہ لاحق ہو جائے تو باقی زندگی اس کے ساتھ گزارنی پڑتی ہے۔ اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ اگر ہمیں بخار، کھانسی یا زکام ہو جائے تو اس کی دوا استعمال کرنے کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن ذیابیطس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔

Read more

مشرق کیا ہے، مغرب کیا ہے

عام آدمی کی تو بات ہی کیا ہمارے اہلِ دانش کے ہاں یہ روش عام ہے کہ وہ پوری دنیا کو دو دھڑوں میں منقسم دیکھتے ہیں۔ ایک دھڑا ”مغرب“ ہے تو دوسرا ”مشرق“۔ اُن کے ہاں مغرب کوئی جغرافیائی نہیں بلکہ ایک سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی حقیقت ہے۔ مغرب یا ویسٹ کا لفظ آتے ہی سیکولرازم، جمہوریت، فرد کی آزادی ایسے تصورات فرض کر لیے جاتے ہیں۔ اور مشرق کو روحانیت یا مذہبیت کے مترادف مان لیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ لفظ ”مشرق“ کو اسلام کے متبادل کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد اسلامی تہذیب لے لی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر دو دھڑوں کے بارے میں بات ایسے انداز سے کی جاتی ہے کہ گویا ان دو کے درمیان کچھ مشترک نہیں اور اس دنیا میں بسنے والی دیگر تمام اقوام اسی ثنائی نظام کے حوالے سے ہوسکتی ہیں۔ 

Read more

ہم لڑیں گے: شاعر کا اعلان

ڈاکٹر آکاش انصاری کا شمار سندھی ادب میں نازک نفیس جذبات رکھنے والے رومانی اور انقلابی شاعروں میں ہوتا ہے۔ جنرل ضیا کے آمری دور میں انہوں نے جو انقلابی شاعری کی ان کے وہ گیت اور نظم آج بھی سندھ کے نوجوانوں اور جمہوری تحریکوں میں حصہ لینے والوں کو زبانی یاد ہیں۔ وہ شاعر جو دار کے درد کو بھی ایک لذت بھرا درد قرار دیتے ہوئے نظم لکھتا ہے (تم پوچھتے ہو صنم میں چلا کیوں گیا۔ دار کے درد میں ایک لذت تھی جو کھینچ گئی مجھے)۔ اس سمیت سیکڑوں ایسے نظمیں گنوائی جا سکتی ہیں، جنہوں نے اس دور کی سیاسی تحریکوں میں جان ڈالی اور انقلابیوں کی اکثر محفلوں میں ان نظموں کو گنگنایا جاتا تھا۔ وہ شاعر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کی رہنمائی کر رہے تھے۔ بدیں کو پانی دو، بدین کو تباہی سے روکو، بدین سے ظلم بند کرو، کے نعرے لگاتے احتجاج کرتے ہوئے لوگوں میں اکثریت لکھاریوں، شاعروں اور نوجوانوں کی تھی۔

Read more

سماج کے مزدور اور پروفیشنل ازم

سماجی تبدیلی کی جستجو سے لیس اور ذریعہ، معاش کے لبادے میں مقید (ذا تی اندازے کے مطابق) کم و بیش سوا لاکھ کے قریب ایسے افراد جو غیر سرکاری فلاحی اداروں سے وابستہ ہیں یا اپنے دور معاش کے اختتام کے قریب ہیں ان تمام افراد کی جستجو تقریبا انٹرن شپ سے شروع ہوتی ہے اور شاذ و نادر ہی کسی تنظیم کے مستقل کثیر المعاوضہ و مراعات یافتہ سطح کے رکن تک پہنچتی ہے۔ باقی ماندہ اکثریت روڈ پر بیٹھے ان مزدوروں سے خاصی مماشلت رکھتی ہے جو ہر صبح ہر چھوٹے بڑے شہر میں کسی نہ کسی مزدور چوک میں پر امید ہو کر کسی چھوٹے یا بڑے پروجیکٹ کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

Read more

پیپلز پارٹی، ن لیگ اتحاد اور احتساب؟

موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تومسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی احتسابی اداروں کے زیر عتاب ہیں ملک کی دو بڑی طاقتور سیاسی جماعتوں کے قائدین کرپشن اور منی لانڈرنگ الزامات کے سلسلے میں احتسابی اداروں اور عدالتوں میں جاری کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کے بیانات موجودہ ملکی حالات میں احتساب کے عمل کو روکنے کے لئے صرف حکومت اور احتسابی اداروں کو دباؤ میں لانے کی حد تک تو

Read more

دہشت گردی کی اگلی قسط اورانسان دوستی

پاکستانی نژاد نعیم رشیدکی دہشت گرد کو روکنے کی کوشش بھی لائق ستائش ہے اورسانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد وہاں کی وزیراعظم نے جس دانش مندی اور انسان دوستی کا مظاہر کیا وہ بھی کمال ہے۔ ایک لڑکے ول کانولے کا آسٹریلوی سینیٹرفرانسر ایننگ کے سر پر انڈا ا پھوڑنا بھی اگرچہ اس لڑکے کی جرات اور شدت پسندی سے نفرت کا اظہار ہے لیکن اس واقعے سے زیادہ توجہ کے حقدار اس سانحے سے جڑے کچھ دیگر واقعات ہیں۔

Read more

دعا کی کیا ضرورت ہے؟

ایک دن نجانے اس کے ذہن میں آیا کہ دعا کی کیا ضرورت ہے۔ میں انتہائی مشاق ماہر اور محتاط ڈرائیور ہوں۔ میری بائیک سپرفٹ ہے اس کی بریکیں دیگرتمام پارٹس وغیرہ سب بالکل صحیح ہیں۔ میں ہر وقت چوکس ہوں ایک بریک میرے ہاتھ میں اور دوسری بریک پر میں پاؤں رکھتا ہوں۔ ایسی صورت میں میرا ایکسیڈنٹ کیسے ہوسکتاہے؟ شہزاد بہت ہی محتاط ذہن کا آدمی تھا۔ وہ ہر معاملے میں مثبت اورمنفی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر

Read more

پاکستان: غلطی ہمارے ستاروں میں نہیں ہے

کجھ شہر دے لوگ وی ظالم سن، کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی (منیر نیازی) جی جناب! یہ اشعار بعض لوگوں کو بہت ہی دکھی لگ رہے ہوں گے، کی کریے سجنا دے دکھ ہی اے ہو جے ہوندے نے، بہرحال اس دکھی فضا میں ہمیں ہمارے پیارے دوست کی بات یاد آ گئی جن کا دل بھی بری طرح ٹوٹا ہے اور اسی دکھ کی شدت نے انہیں شاید اس سنجیدہ نتیجے پر لا کھڑا کیا ہے، کہ شاعر

Read more

جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے یا جو دکھاؤ گے وہی دیکھا جائے گا؟

پیمرا کے مطابق اس وقت پاکستان میں 90 کے قریب لائسنس یافتہ ٹی وی چینل ہیں۔ ان چینل کوپروگرام کی نوعیت کے لحاظ سے تفریح، خبرو حالات حاضرہ، مذہب، مارننگ شوز، کارٹون، کھیل اور صحت کے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر میڈیا ہاوٗسز میں جس حکمت عملی کو مرکز بنا کر سارے پروگرام بنائے جائے جاتے ہیں وہ ہے، جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ دکھایا جائے جو لوگ ٹی و ی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس چیز کا ادراک کرنے کے لئے چینل ریٹنگ کا استعمال کرتے ہیں۔سو، اس لحاظ سے یہ سوال اہم ہے کہ لوگ ٹی وی دیکھتے کیوں ہیں؟ ایک تحقیق کے مطابق لوگ روزمرہ کے معمولات سے ہٹ کر کچھ اچھا وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ چونکہ، ٹی وی ایک خاندان کو جوڑنے کا بھی باعث ہے سو لوگ اس بہانے مل جل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کیونکہ تفریح انسان کی بنیادی ضرورت ہے لہذہ ٹی وی ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنی پسند کی چیزوں (پروگراموں ) سے دل بہلانا انسان کو نفسیاتی طور پر ہلکا کرتا ہے لہذہ ٹی وی ترجیح بن جاتا ہے۔

Read more

البراک ٹیکسی اور تبدیلی

گزشتہ برس میں لندن میں تھا جبکہ میری فیملی لاہور میں، ایک شب گھر سے کال موصول ہوئی کہ چھوٹے بیٹے کی طبیعت خراب ہے، میں نے اے ٹیکسی A Taxi بلوانے کو کہا۔ نصف گھنٹہ کے اندر ٹیکسی دروازے پر موجود تھی اور تھوڑی ہی دیر میں نزدیکی ہسپتال کی جانب رواں ہوگئی، ڈاکٹر سے دوا لینے کے بعد البراک ٹیکسی کی خدمات دوبارہ حاصل کی گئیں۔ اور دل ہی دل میں اس سروس کی موجودگی کا شکریہ ادا کیا گیا۔

Read more

شکریہ کیوی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن

ہم سے ہزار کوس دور نیوزی لینڈ ایک ایسا خطہ جو ہماری دسترس سے کہیں دور رہا۔ تاریخ میں آج تک کسی بھی مسلم حکمران یا داعی نے اس طرف نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی کوئی باقاعدہ دعوتی مشن اس طرف روانہ کیا گیا۔ 1850 ء میں جب برصغیر میں اسلامی حکومت پر زوال آیا تب ایک انڈین گجراتی مسلم فیملی نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں آ بسی۔ اس کے بعد کچھ دیگر ممالک کے مسلمان مہاجرین اس

Read more

مضامین چوروں سے ہوشیار!

مکرمی حضرات قلم و قرطاس کی داستان بہت پرانی ہے شروع زمانے میں چمڑوں پر تحریر لکھی جاتی تھی جیسے جیسے انسانوں نے ترقی کی منازل کو طے کیا اور اپنی عقل کو دوڑایا تو اس پر خدا وند عالم کی عظیم ترین نعمتوں کا علم ہوا عقل سلیم ہی اللہ تعالیٰ کی کتنی عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان نے اپنی عقل کا‌ استعمال کر کے نئے نئے چیزیں قدرتی وسائل کے ذریعے ایجاد کی اور آج ہم

Read more

دہشت گرد مذہب نہیں انسان ہوتے ہیں

جب بھی کوئی انسان اپنے آپ کو دنیا سے کمتر، کمزور اور حقیر سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی انا کی تسکین کے لئے دنیا پہ اپنا رعب دھونس دھاندلی کے ذریعے جمانے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا میں تخریب کاری، نفرت اور خوف قائم کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ بے گناہ انسانوں کا خون کرنے سے بھی گرہیز نہیں کرتا ہے۔ ان تمام عوامل کو آج کی جدید اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں دہشتگردی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی مذہب کے نام پہ کی جا رہی ہے حالانکہ مذہب کی ابتدا انسان کی پیدائش کے بعد شروع ہوئی ہے۔حضرت آدم (ع) کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو انا کی تسکین، احساس کمتری اور حسد کی بنا پہ قتل کر کے دنیا میں دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مذہب کی آڑ میں دہشت گردی کو جنم دینے والوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دہشت گرد کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوتا بلکہ انسان خود ہی دہشت گرد ہوتے ہیں جن کا تعلق دنیا کے کسی بھی نسل خطے اور مذہب سے ہو سکتا ہے۔

Read more

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا الیکشن جیتنے کے لئے پاگل پن

بھارتی وزیر اعظم نریندر موددی الیکشن جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے میں مصروف ہیں۔ اس کا جنگی جنون اتنا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے لئے کچھ بھی کرنا ہو کرنے کے لئے تیار ہے چاہے وہ انسانی جانوں کا نقصان ہو چاہے اپنے ملک میں یا کسی دوسرے ملک میں۔  حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم کی ایما پر پاکستان پر جیش محمد کے کیمپ کے نام پر حملہ کیا گیا اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی اور اس کو ایسے پیش کیا گیا جیسے نہ جانے بہت بڑی سلطنت کو فتح کرلیا ہو۔

Read more

آرمی کیپ اور بھارت کی شکست

کیپ/ٹوپی کو اسلامی روایات کے سمیت ہر مذہب میں ایک خاص مقام حاصل ہے بلکہ اس کو اپنی عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے مہذب لوگ اس کے وقار کی سربلندی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ’طاقیہ‘ عربی لفظ ہے جو ٹوپی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ سعودی عرب اور دیگر عربی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بر صغیر بھارت اور پاکستان میں اس طاقیہ کو ٹوپی کہتے ہیں۔ لفظ ٹوپی اردو اور ہندی میں استعمال ہوتا ہے۔ برطانیہ اور امریکا میں یہی ٹوپی ”کوفی“ جب کہ افغانستان میں ”پکول“ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔

Read more

نجی تعلیمی اداروں کا تعلیمی نظام، بد حالی کا شکار کیوں؟

شب و روز جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو اس دنیا کے عجیب و غریب منظر آنکھوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ انسانوں کے ناقابل برداشت اور افسوسناک رویے سوچ کی تنگ گلی میں قید ہو جاتے ہیں۔ جو چاہتے ہوئے بھی اس گلی کی قید سے آزاد نہیں ہو پاتے۔ دور ایسا آ چکا ہے کہ خلوص کا فقدان ہے۔ وہ شخص اس دور میں خوش قسمت ترین ہے، جسے مخلص محسنوں، رفیقوں، اور دوستوں کا ساتھ حاصل ہوا۔ میں نے جب بھی اپنے ماضی کی کتاب کو کھولا، میرے سامنے حادثات واقعات کے بیسیوں پرندے چہچہانے لگے۔ موجودہ دور میں مخلصی کو انسانیت کا زیور گردانتا ہوں۔

Read more

زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ

جسمانی طور پر جدید انسان کو زمین پر زندگی گزارتے تقریباً سوا تین لاکھ سال کا عرصہ ہو نے کو ہے۔ زرعی انقلاب تقریباً دس ہزار سال پہلے وقوع پذیر ہوا اور سائنسی دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ سرمایہ دارانہ صنعتی انقلاب اٹھارہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ جس کا تسلسل آج انسان کو زمین کی طنابیں توڑ کر خلاؤں کی خاک چھاننے کے قابل بنا چکا ہے۔ ایک طرف جہاں سائنس اور تکنیک کی ترقی نے زندگی کو سہل بنایا وہیں دوسری طرف سرمائے کی ہوس نے وحشت اور بربریت کی تمام حدیں توڑ دیں۔ لیکن آج سرمائے کی ہوس صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کی حیات کے لئے خطرے کا سبب بن چکی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں آج اس نہج تک پہنچ چکی ہیں کہ اگر جلد ان کو روکا نہ گیا تو زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ ہے۔

Read more

نقل سے توبہ

فخر ایک شرارتی لڑکا تھا۔ وہ پڑھائی میں بالکل دل چسپی نہ لیتا۔ دن بھر نت نئی شرارتوں کے منصوبے بنایا کرتا۔ کبھی کسی کے دروازے کی گھنٹی بجا کربھاگ جانا، کبھی کسی جانور کو اذیتیں دینا، کسی خوانچہ فروش کی نقل کرنا، کسی بھکاری کو زچ کرنا۔ حتی کہ اسکول میں بھی اس کا ذہن شرارتوں ہی کی طرف مائل رہتا۔ وہ کبھی ایک طالب علم کی چیزیں چھپا کر کسی دوسرے کے بستے میں ڈال دیتا، کلاس میں ہوٹنگ کرتا، جماعت کے نظم و ضبط کو خراب کرتا، اسکول کے چوکیدار کو تنگ کرتا، الغرض نت نئی سازشیں، نت نئی چالیں۔اگراس کے اساتذہ اور والدین اس کی توجہ تعلیم کی طرف دلاتے تو انہیں سہانے خواب دکھا دیتا۔ اپنی فرضی محنت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا۔ وہ امتحانات کے سلسلے میں بہت پر امید بلکہ پراعتماد تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ بہت ذہین ہے اوراپنی ذہانت کے استعمال سے وہ نقل کے لئے ایسے نئے نئے حربے آزمائے گا جن کا توڑ کسی کے پاس نہ ہو گا۔ اس نقل سے نہ صرف وہ پاس ہو جائے گا بلکہ اعلیٰ نمبر حاصل کر لے گا۔

Read more

سول ملٹری حکمران اور عوام

پاکستان میں پینتیس سال ڈائریکٹ فوجی حکمرانوں نے حکومت کی ہے اور اس باقی عرصے میں بھی اپنے من پسند جاگیردار، سرمایہ دار یا ذاتی وفاداروں کو حکومت کرنے دی ہے جس کو جمھوریت نہیں کہہ سکتے لیکن با امر مجبوری چلو اس کو ہم جمھوریت مان لیتے ہیں کیونکہ تھی تو سول حکمرانوں کی حکومتیں جو ان جرنیلوں کے بنائے ہوئے لوگ تھے لیکن پھر یہی اپنے لوگ بھی جرنیلوں کو کچھ عرصے بعد برے لگتے ہیں۔ ان میں سے جب بھی کسی نے عوام کی بات کی ہو تو ان کے متبادل تلاش کرتے ہیں۔ستر سال سے یہ کھیل تماشا جاری ہے عوام کے ووٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اقتدار پہلے سول اورملٹری اسٹبلشمنٹ دونوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا، اب یہ کام تن تنہا ملٹری اسٹبلشمنٹ کر رہی ہے۔ معاشی، خارجہ، داخلہ اور دفاع کی پالیسیاں ہمیشہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اختیارمیں رہی ہیں۔ اختیار ان کے پاس لیکن ذمہ داری سول حکومت پر ڈالتے ہیں۔ جو حکومت چھوڑ کے جاتے ہیں وہ چور ڈاکو اور لٹیرا اور جن کو اقتدار دیتے ہیں ان کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

Read more

پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، اپنے حقِ آزادی کی منتظر

امریکہ کی قید میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، معاشرے کے اندھیروں کو دور کرنے والا ایسا چراغ ہے جس کو بجھانے میں عالمی مُنصِفوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ”عافیہ صدیقی اپنی ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ جہاں جائے گی تبدیلی لائے گی۔ “ پروفیسر نوم چومسکی کا یہ قول عافیہ صدیقی کی قابلیتوں اور کارناموں سے بھرپور مختصر زندگی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی بیک وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تحریری و تقریری صلاحیتوں کی مالک تھی۔ قرآن اور دینی علوم سے دلچسپی اور ان پر عبور اس کی اضافی قابلیت تھی۔ گلستان شاہ لطیف اسکول سے لے کر ایم آئی ٹی (MIT) برینڈیز (Brandeis) جیسی امریکہ کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول تک ان کا تعلیمی ریکارڈ نہایت شاندار رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کا مضمون ”ایجوکیشن“ تھا۔ دین کے علم کی پیاس بجھانے وہ خاص طور پر امریکہ سے پاکستان آئی۔ شوق کے ساتھ قرآن حفظ کیا۔ قابل شخصیات کی معاونت کے ساتھ ”اسلام، عیسائیت اور یہودیت“ کے موضوع ہر تحقیق کی۔ انہوں نے ”پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور خواتین پر اس کے اثرات“ کے موضوع پر بھی تحقیق کی اور کیرول وِلسن ایوارڈ حاصل کیا۔

Read more

طلبا اپنی زندگی سے مایوس کیوں؟

 پاکستان میں طالب علموں میں خود کشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں سالانہ پانچ ہزار افراد خود کشی کرتے ہیں جن میں طالب علموں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ حال ہی میں ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں طالب علموں نے اپنی زندگی سے تنگ آکر خود کشی جیسی حرام موت کو گلے لگا لیا۔ آج کل یہ موضوع بھی زیرِ بحث ہے کہ ان واقعات

Read more

برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں مسلمانوں پہ اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کرنے پر علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ کا مصرع یاد آ گیا کہ ”برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر“۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ان شہید اور زخمی ہونے والے مسلمانوں کا کیا قصور تھا جن کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف اتنا کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں عبادت میں مصروف تھے۔ حالانکہ کہ ساری دنیا کے مذاہب کے افراد کو ان کی عبادت گاہوں

Read more

عورتوں کے حقوق: حقیقت کا ایک پہلو

ابن آدم سہل پسند ہے بغیر تگ و دو کے میسر آنے والی ہر چیز اس کی فطرت کو خوب بھاتی ہے۔ بھوک لگنے کی صورت میں گھر بیٹھے ’فوڈ پانڈا‘ سے کھانا منگوا لینا کہیں جانے کے لیے ’کریم‘ یا ’اُبر‘ کی سہولت سے لطف اندوز ہونا یا کسی عزیز کی عیادت کے لیے جانے کی بجائے فون کال کے ذریعے طبیعت دریافت کرنا بھی اب انسان کی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن یہ سہل پسندی علم

Read more

”نچ کے یار مناون دے“

منانے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریق یہ ہے کہ ”نچ کے یار مناون دے“ اس کو تصوف میں ایک خاص رنگ میں لیا گیا۔ فی الحال مدنظر یہ نقطہ نظر نہیں۔ لیکن دنیا میں کسی کو منانا باقاعدہ ایک فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو اس فن میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں ان کو معاشرہ ایک خاص طرح کا مقام دیتا ہے۔ سیاسی میدان تو اس فن کے بغیر ہمیشہ ہی ادھورا رہا ہے بلکہ جس کو

Read more

اسلامو فوبیا ہی کیوں

دہشت، خوف اور درد یہ تین لفظ انسانی فطر ت کے لیے کبھی بھی قابل قبول نہیں رہے ہیں۔ جب کبھی یہ لفظ انسان کے دماغ میں آئے تو دماغ میں ایک انجانا ساوسوسہ پیدا ہواکہ نجانے کیا ہو گیا ہے، کیا ہو رہا ہو گا یا کیا ہو گا۔ ان لفظوں کوسننے کے بعد دماغ میں جو بھی رزلٹ آ تا ہے وہ ان ہی لفظوں کی طرح خوفناک ہی ہوتا ہے۔ دہشت خوف اور درد یہ تین لفظ ہمیشہ غیر معمولی اور دہشت زدہ واقعا ت کے متعلق ہی ہوتے ہیں چاہے وہ قدرت کی طرف سے بھجیی ہوئی کوئی مصبیت ہوئی یا انسان کی خود کی تخلیق کردہ۔ان دونو ں کی جب اصلی حالت سامنے آتی ہے تو لال رنگ خون سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ خون کسی بھی حا لت میں انسانی فطرت کے لیے موزوں نہیں رہا۔ جذباتی اور حیرت زدہ صورتحا ل اس حا لت کی عکاسی کرتاہے۔ دہشت خوف اور درد کی صورتحال اگر انسانی فطرت سے پیدا ہوئی ہے تو اس کے اثرات پورے انسانی معاشرے میں ایک فرق ایک رنگ پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ واقعہ یا وہ حا دثہ ہمیشہ اسی فرق اور رنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا آج گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔

Read more

اورموم بتیاں جلتے جلتے بجھ گئیں

پاک بھارت جنگ کی باتیں سن سن کر جب میں تنگ آگیا تو سائیں بابا سے ملنے اندرون شہر لاہور چلا گیا۔ بابا اپنے کمرے میں بیٹھے کتاب پڑھ رہے تھے۔ کمرے کے درو دیوار اداسی کا منظر پیش کرتے نظر آئے۔ ایسا لگا جیسے میں کسی اداس اور سنسان درگاہ پر آگیا ہوں۔ مصنوعی روشنی کی بجائے کمرے کے چاروں اطراف موم بتیاں جل رہی تھی۔ بابا ان موم بتیوں کی روشنی میں اسٹڈی میں مصروف تھے۔ سیاہ کپڑوں

Read more

کامران اکمل کو ورلڈ کپ 2019 ٹیم میں لے لیا جائے

آئیں مِڈ جنوری 2019 میں چلتے ہیں۔ناظرین پاکستان جنوبی افریقہ سے ٹیسٹ سیریز 3۔ 0 سے ہارگیا۔ جیسا کہ اکثر ہمارے میڈیا و عوام کو ایک آدھ مرغا فوراً پکڑنا ہوتا ہے جس کی قربانی چڑھا کر شکست کا رونا رو لیا جائے۔ قربانی کیا وہی دیسی جملے بازیوں کی صورت میں کسی پیشہ ور کے ذاتی معاملات کو ادھیڑ دینا۔ امام الحق کی سب سے بڑی ذاتی کمزوری ان کا انضمام الحق کا بھتیجا ہونا ہے، جو کب سے عوام کے ہاتھ لگی ہوئی ہے۔ کسی پیشہ ور کے رشتہ دار کا اسی فیلڈ میں قدم رکھنا کوئی نئی یا عجیب بات نہیں۔

Read more

ستائیس فروری کو دراصل کیا ہوا تھا؟

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جس روز پاکستانی حکام نے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کیا تھا اور اس کی آنکھوں پر بندھی پٹی اور ہتھکڑیوں والی تصویر بھارتی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، اسی شام بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے ایک ’محفوظ‘ ٹیلی فون لائن پر پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ عاصم منیر سے بات بھی کی تھی۔ جس میں اجیت دوول نے بغیر اہداف کی تخصیص کیے پاکستان پر کم از کم چھ میزائل فائر کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جواب میں جنرل عاصم منیر نے اجیت دوول کو صاف صاف بتا دیا کہ، اگر آپ ہم پر ایک میزائل فائر کریں گے تو جواباً ہم سے تین میزائلوں کی توقع رکھیں۔اجیت دوول کے پاس جنرل عاصم کی بات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا، کیونکہ پاکستان ستائیس فروری کی صبح ہی اپنی جوابی وار کرنے کی صلاحیت ہندوستان پر اچھی طرح سے ثابت کر چکا تھا۔

Read more

شرح ِ تبدیلی

موجودہ سیاسی حالات میں تبدیلی کی بابت ہر شخص اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ دیکھا جائے تو سالِ رواں میں تبدیلی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اولین تبدیلی تو یہ آئی کہ پچھلی سرکار، موجودہ سرکارِ میں بدل گئی۔ حکمران، وزیر، محکمے، نعرے اور تنخواہیں سب بدل گئے۔ پچھلا برس 2018 ء تھا جو بدل کر 2019 ء ہوچکا ہے اور آنے والا سال 2020 ء ہوگا۔ غیر مقبول اور نا پسندیدہ لوگوں کی جگہ

Read more

نئے پاکستان میں چرسیوں کا مستقبل

نشے میں مبتلا چرسی بھی ایک زمانہ میں عام انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے باہر آنے کے بعد اپنی ماں کا دودھ پیا کرتا تھا مگر افسوس کہ وقت و حالات نے اسے چرس پینے پر مجبور کر دیا کیونکہ برا وقت ان چرسیوں کو بتا کر نہیں آیا۔ جناح یونیورسٹی کراچی میں منشیات کے استعمال کے خلاف منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں

Read more

اپنے وطن سے رخصتی: کچھ تاثرات

لفظوں کے استعمال سے قبل ان کے معنی کا ادراک لازم ہے۔ ہم بولتے، ہیں سنتے ہیں، لکھتے ہیں مگر معنی اور مفہوم کو درگزر کرتے ہیں۔ اور جب ”سمجھ“ آتی ہے تو مادہ، مادے میں اور ہایڈروجن فضا میں دوبارہ سے کشت میں لگ جاتی ہے۔ بہر حال جب تک اس ہم ”لائف فارم“ میں ہیں، ہمارے پاس کچھ استحقاقی اختیارات ہیں۔ مبادا ان کا اختیار اس حالت جمال تک ہی ہو؛ جیسا کہ ”لا آف دی لینڈ“ ہوتا

Read more

خواتین مارچ حقوق کی خاطر یا جسم فروشی کی آزادی….

یہ جو ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ ہے یہ برابری کے لئے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کے پیچھے سوائے فحاشی کے فروغ کے اور کوئی ایجنڈا نہیں۔ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے اس میں ہمیں پوری زندگی گزارنے کے طور طریقے بتائے گے ہیں اسلام نے عورت کو پورے پورے حقوق دیے ہیں اسلام سے پہلے عورت کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا یہ اسلام ہی تھا جس نے عورت کو اس کے حقوق

Read more

نیوزی لینڈ میں کیا ہوا؟

اہل علم و دانش سے سناتو یہ تھا، کہ انسانیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ مگر جب انسانیت، حیوانیت میں بدلنے لگے۔ جب مقام اور مرتبے کا فیصلہ کردار کی بجائے رنگ اور نسل پر ہونے لگے۔ جب نفرت، محبت سے زیادہ بکنے لگے۔ جب انتہاپسندی، اعتدال پسندی پر حاوی ہونے لگے۔ جب جنگ کو امن پر ترجیح ملنے لگے۔ جب معاشرے میں اسلحہ مہنگا اور انسانی جان سستی ہونے لگے۔ جب ظلم کو انصاف پر ترجیح ملنے

Read more

نیوزی لینڈ حملہ : شُوٹنگ یا کھلی دہشت گردی

نیوزی لینڈ شہر کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں جمعہ کو ہونے والا فائرنگ حملہ اس ملک کی تاریخ کا سب سے سفاک حملہ تھا۔ اس حملے میں پچاس بے گناہ نمازی پل بھرمیں شہید اور اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ خون کی یہ ہولی اس وقت کھیلی گئی جب ڈینزایونیوکی ”النور“ اور لن ووڈ مسجدمیں سینکڑوں مسلمان جمعہ کی نمازکے لئے جمع تھے۔ دونوں ہاتھوں سے کلاشنکوف تھامے اور نمازیوں پراندھا دھند فائرنگ کرنے والے اس سفاک انسان

Read more

یہ جو سوہنی دھرتی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

ستائیس فروری 2019 پاکستان کی تاریخ کا ایک اور یادگار دن ہے۔ اس دن نے چھ ستمبر 1965 کے دن کی یاد کو تازہ کیا ہے۔ دن کے اجالے میں پاکستان ایئر فورس کے اسکوڈران لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے راشد مہناس اور ایم ایم عالم کی روحوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کو سرخرو کیا۔ اس پاکستان ایئر فورس نے ثابت کر دیا، کامیابی کے ہم نوا رات کے اندھیرے نہیں بلکہ

Read more

علاج ِ ظلمت ِ شب

سوچیں مصلوب ہورہی ہیں اور مفکرین کو سولی پر لٹکا یا جارہارہے ہزار ہا غم ہیں کہ جو ہستی کو لاحق ہیں۔ اس صورت میں اگر افکار پر پابندی لگ جائے تو یقینا تاریکیاں مقدر بن جائیں گی اور ظلمتیں تقدیر کی طرف سے ہمیں بھی تقسیم ہو جائیں گی جیسا کہ اندھیرے اس وقت ہم سب کا مقد ر ہیں۔ اندھیروں کا رواج آج کل اقدار کے طور پر معروف ہے۔ جس کا اطلاق ہماری قدریں بن چکا ہے ان حالات کو دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ اقدار جو فی زمانہ رائج ہیں معاشرے کا مثبت پہلو اور اہم نکتہ ہیں

Read more

کراچی کی واہ سندھ کی آہ!

دسمبر رات 8 بجے کراچی کا ٹکٹ تھا۔ ہم وقت سے پہلے ہی فیصل آباد کے ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی رات گزری، صبح ہوئی اللہ اللہ کر کے 42 گھنٹے کا سفر طے کر کے اگلی رات 8 بجے کراچی کے ڈرگ روڈ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے۔ 02 دن کراچی میں گزارنے کے بعد اندازہ ہوگیا کہ کراچی واقعی میں ایشیاء کا پیرس اور روشنیوں کا شہر ہے۔ اس شہر کی روشنیاں رات کو دن میں بدل دیتی ہیں۔ اسی لئے گلگت بلتستان سے لے کر بلوچستان تک کے لوگ آپ کو یہاں نظر آئینگے ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پورا پاکستان کراچی میں آن بسا ہے۔

Read more

عورتو، صبح ہی صبح تمھیں کیا ہوگیا؟

آج بہت دنوں بعد ددّا صبح ہی آگئی تھیں۔ مَیں نے پوچھا ددّا خیریت تو ہے اتنے دنوں بعد کیسے آنا ہوا؟ بس یہ پوچھنا تھا کہ لگیں اپنے سر کو پیٹنے۔ مَیں نہ کہتی تھی بیٹا کہ اس کے مرنے کے بعد دیکھ لینا سب مشکل میں آجائیں گے، زندگی اجیرن ہوجائے گی، اب اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کیا ہوا؟ کون مر گیا۔ خیریت تو ہے۔ کس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ ارے یاد نہیں بیٹا میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ دوپٹہ مرگیا دیکھ لو کتنی مشکل ہوگئی۔

ارے نہیں ددّا! آپ دیکھتی نہیں ابھی اکثریت کے کندھوں پہ دوپٹے جھول رہے ہیں۔ ارے چھوڑو! تم کیا باتیں کرتی ہو بیٹا اب کندھوں پہ پڑے دوپٹوں کو چھوڑویہاں توپورا منظر ہی دُھواں دُھواں ہورہا ہے۔ جانتی نہیں تم جو کچھ یہ مُوئی عورتوں نے 8 مارچ کو آزادی کے نام پہ کیا؟ جانتی ہو مارچ کا بنیادی مطلب تو ہے کہ باوقار انداز سے قدم سے قدم ملا کر چلنا لیکن اس روز تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔ ہاں ددّا! میں بھی سوچ رہی ہوں ایک زمانہ تھا جب امرتا پریتم نے عورت کے استحصال پہ خون کی ندیاں بہہ جانے پہ کُرلا کُرلا کر وارث شاہ کو آواز دی تھی۔

Read more

معاشی ترقی بذریعہ عوامی چیخیں

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفینگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے فرمایا کہ مہنگائی میں اضافے سے عوام کی چیخیں تو نکلیں گی۔ پر مہنگائی تب بڑھتی ہے جب معیشت بحال ہو رہی ہوتی ہے۔ موصوف نے معاشی ترقی کو چیخوں سے بالواسطہ جوڑ کر نا صرف دریا کو کوزے میں بند کر دیا بلکہ ان حاسدین کی ”چیخیں“ بھی نکال کر رکھ دیں جن کی ملکی معیشت پر آہ و زاریاں وقفے وقفے سے سننے کو ملتی تھیں۔ وفاقی وزیر کی قابلیت پر سوال اٹھانے والے شاید یہ بھول گئے کہ ایسے تاریخی کلمات سے دنیا بھر کے معشیت دانوں کی معیشت دانیاں الٹانے والا شخص نا صرف ملک کے معروف تعلیمی ادارے آئی بی اے کے فارغ التحصیل ہیں۔

Read more

عورت مارچ اور اسلامی لبرلزم

چند روز قبل عورت مارچ میں عورت کے حقوق کے نام پر جس بیہمانہ طور سے عورت کی بے ہرمتی کی گئی ہے اس پر حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا ہے کہ معاشرے کے ایک انتہائی سنگین مسئلے کو چند مغرب زدہ عورتوں نے مسخرہ پن بنا دیا۔ اس میں ہرگز کوئی شبہ نہیں ہے کے اس معاشرے میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوتاہے اور اس پر کھل کر بات ہونی بنتی ہے لیکن کچھ سو کالڈ لبرل خواتین نے مسائل سے زیادہ جنسی معاملات کو پوسٹرز کی زینت بنا کر خود کو بولڈ منوانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لئے عورت مارچ بھی بس ایک ایونٹ سے بڑھ کر کچھ نہ تھا جس میں وہ اپنے آزاد، بولڈ اور لبرل ہونے کا راگ الاپتی رہیں۔

Read more

چڑیا کا انتقام

بعض اوقات انسان جانے انجانے میں ایسے افعال کرگزرتا ہے جن کے نتائج بہت بھیانک اورہولناک ہوتے ہیں۔ جب نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان۔ جیسا کہ چڑیا ایک چھوٹا سا پرندہ ہے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کسی سے اپنا انتقام لے گی لیکن۔یہ لگ بھگ 65۔ 1960 کی بات ہے۔ اس زمانہ میں پاکستان کے اکثر علاقے بجلی کی سہولت سے محروم تھے۔ بالخصوص دیہی اورنواحی علاقے بہت زیادہ پس ماندہ تھے۔ اس لئے رات ہوتے ہی تاریکی کا راج ہوتا۔ یعنی راتیں روشن تونہ تھیں لیکن لوگوں کے دل محبت وہمدردی کے نور سے منور تھے۔ لوگ بہت ملنسار تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے میں دلی اطمینان وسکون محسوس کرتے تھے۔

Read more

اشرف المخلوقات

”سائیکل بالکل کھپڑ ہو گئی ہے۔ کوئی سواد نہیں رہا۔ “ دین محمد منشی، جون کے غضب ناک سورج کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا۔
”سواد کس چیز کا؟ تم بھی تو بوڑھے ہو گئے ہو دین محمد! “
”صبح دیر سے اُٹھوں گا۔ کوئی جگائے مت۔ “ اس نے چارپائی پر لیٹنے سے پہلے یہ بات اتنی بار دہرائی تھی کہ سب کے ذہنوں میں اچھی طرح سے نقش ہو گئی۔
”سجاک ابا جی! ملک سائیں نے بلوایا ہے۔ “
”اوئے ستیاناس تمہارا۔ پہلے یہ تو پوچھ لیتے بات کیا ہے؟ “

Read more

دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں

مجھے آج سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کہوں۔ کیا الفاظ اس قوم کی نذر کروں۔ مجھے اس قدر افسوس ہورہا ہے کہ ہمارے مسلمانوں پہ دہشتگردی کا سٹیمپ لگا دیا گیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حادثے نے مجھے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ سارا انٹرنیشنل میڈیا یہی کہ رہا ہے کہ یہ مسلمان نہیں اس لیے یہ دہشتگرد نہیں ہے بس ایک شوٹر ہے۔ اس کائنات میں جتنے لوگ ہیں سب کو اس ایک خدا نے

Read more

گلگت بلتستان کی سیاحت دہشتگردی کی لپیٹ میں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کی دو مساجد میں گھس کر 49 نمازیوں کو شہید کردیا گیا۔ تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہوگا جہاں دنیا بھر میں امن و امان کے لحاظ سے معروف علاقے میں اس قسم کی وحشت بھری کارروائی کی گئی ہے کہ جس میں باقاعدہ کیمرہ لگا کر سوشل میڈیا میں لائیو دکھاتے ہوئے کارروائی کی گئی ہو۔ اس دردناک واقعہ کے مرکزی ملزم کی ’برنٹن ٹارنٹ‘ نام سے نشاندہی کی جارہی ہے

Read more

دنیا و آخرت کی چار بہترین نعمتیں

ساری زندگی ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمیں اس دنیا کی بہترین چیزیں حاصل ہوجائیں تاکہ ہم ایک پرسکون اور خوشگوار زندگی گزارسکیں۔ مال و دولت، عزت وشہرت بظاہر ایک خوشگوار زندگی کے اسباب معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری تخلیق کے موافق ہمیں ایسی تعلیمات دی ہیں کہ اگر ہم ان پر عمل پیرا ہوجائیں تو مال و دولت، عیش و عشرت اور ظاہری عزت و شہرت کے باوجود بھی

Read more

مرد کی جمع کیا ہے؟

مرد و زن کی کسی مخلوط مجلس میں ایک مرد بڑے طمطراق کے ساتھ چیلنج کرنے لگا کہ خاتون کی جمع تَو خواتین ہے لیکن کوئی مائی کا لال مرد کی جمع ڈھونڈ کر لائے۔ اس پہ ایک معزز خاتون تُرنت بولی: ”مردود۔ “ اب خداجا نے، مرد کی جمع نہ ہو نے کی طرف اشارہ کرنے سے اس نا ہنجار مرد کا مقصد کیا تھا؟ بہرحال اتنی سی بیوقوفی کر کے وہ کُلہم مرد قبیلے کے ماتھے پر کلنک

Read more

عرب بہار کی نئی لہر؟

نوجوان محمد البوعزیز ی کا تعلق تیونس سے تھا، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود بیروزگاری کا شکار محمد ٹھیلہ لگا کر اپنی معاشی ضروریات پوری کرتا تھا۔ مقامی بلدیہ کے اہلکاروں نے سبزی فروش محمد البوعزیزی کوایک دن کسی بات پر تھپڑ رسید دیا، جس پر پہلے سے دلبرداشتہ نوجوان زندگی سے مایوس ہوگیا، اور 17 دسمبر 2010 کو شہر کے وسط میں عوام کے سامنے خود کو آگ لگادی۔ محمد البوعزیزی کے اس عمل تیونس میں غم و غصے کے لہر دوڑ گئی اور عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔تیونس کے صدر اس وقت زین العابدین بن علی تھے، جو 23 سال سے برسراقتدار تھے، اور اپنے اسلام مخالف اور ظالمانہ طرز حکمرانی کے حوالے سے بدنام تھے۔ محمد البوعزیزی کی خودکشی کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کچھ دنوں میں ملک بھر میں پھیل گئے اور قریبا ایک ماہ بعد زین العابدین کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔

Read more

انسانیت انسانوں سے پناہ مانگتی ہے

آج صبح نہیں بلکہ رات کے آخری پہر آنکھ کھلی اور غیر سردی طور پر میرا ہاتھ ٹی وی کے ریموٹ پر جا پڑا سی این این پہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے اندہناک واقع کی خبر تھی بس اب کیا سونا تھا دل مضطرب ہو گیا اور میرے ذہن میں آج تک ہونے والے دہشت گردی کے واقعات فلم کی طرح چلنے لگے۔ پاکستان میں اگر بم دھماکوں کی آوازیں معصوم انسانوں کی چیخوں میں ڈھل کر انسانیت کا منہ چڑھاتی رہیں وہیں ویسٹ میں ماس مرڈر اور فائیرنگ سپری جیسے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہے اور ہر دو نے مل کر انسانی زندگیوں کا چیونٹیوں اور کیڑوں مکوڑوں سے بھی کم تر سمجھنا اور نظام قدرت و فطرت میں اپنی حد بندیوں کی پرواہ تک نہ کرنا انسانیت کی سب سے بڑی شکست ہے۔

Read more

خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت

خواتین کے عالمی دن پر اس سال کراچی میں عورت مارچ کے نام سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین نے کچھ نعروں پہ مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر جو نعرے درج تھے وہ تاحال موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں اور مذہبی طبقوں کی جانب سے اس معاملے پر لبرلز اور فیمینزم کے حامیوں کی خاصی لے دے ہوئی ہے۔ ان پر ہماری نظریاتی شناخت کی پامالی کا الزام لگایا جا رہا ہے اور عورت مارچ کو ایک ڈھونگ اور واہیات جلسے کا نام دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس مارچ میں جو خواتین شامل تھیں ان کی اکثریت ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن کے محل نما گھروں میں رہتی ہے اور زندگی کی ہر وہ آسائش انہیں میسر ہے جس کا کوئی عام عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پلے کارڈز پہ جو نعرے درج تھے ان میں ”مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے“، ”عورت بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں ہے“، ”دوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو خود لے لو“ جیسے نعرے بھی درج تھے۔ یہ مارچ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو ”میرا جسم میری مرضی“ سے شروع ہوئی تھی۔

Read more

اسرائیل، پاکستان اور عمران خان

کہنے والے کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ سازشی نظریات ( Conspiracy theories) کا معاشرہ ہے۔ بہت سے لوگ بہت سے دعوؤں پر ہنستے ہیں۔ مثلاً بہت سے افراد کے لئے یہ ایک ہنسی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ عرصہ قبل اسرائیل کا ایک جہاز وارد ہوا تھا اور دس گھنٹے تک رک کر گیا تھا۔ چلئے زور سے ایک مرتبہ اس بات پر قہقہہ مار کر ہنسئے! مگر ہمارا موضوع مبینہ اسرائیلی جہاز ہر گز نہیں ہے۔

Read more

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والے واقعہ پہ نجانے کیوں مجھے شاعر مشرق علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال یاد آرہے ہیں۔ آواز گنگ ہے اور الفاظ دل میں اٹھنے والے دکھ کو معانی کا جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔ زبان سے جو نکل رہا ہے وہ یہی ہے۔ کہتقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سےہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

Read more

پاکستان کی قومی زبان اور علمی ادارے

بچپن سے پی ٹی وی پر دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی بھی قومی دن کے موقع پر قومی ٹی وی پر چاروں صوبوں کی ثقافت۔ زبان۔ لباس۔ خاص خاص رسوم و رواج اور روایتی پکوانوں کا تعارف و تذکرہ ہوتا اور یہ سب کچھ پاکستان کی قومی زبان اردو میں بہت ہی نفاست و فصاحت و بلاغت سے بیان کیا جاتا کہ ٹی وی کے ناظرین اور ریڈیو کے سامعین جھوم اٹھتے۔ یہ حقیقت ہے کہ زبان کسی بھی

Read more

ساڈا حق ایتھے رکھ، صارفین کا نعرہ

15 مارچ کو ”صارفین کے حقوق“ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن میری طرح ہم میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جن کو شاید صارف کا مطلب تو پتا ہو پر اس لفظ سے منصوب شخص کے حقوق کا علم بالکل بھی نہیں ہو گا۔ اور جنہیں صارف کا مطلب معلوم نہیں تو بھائی انگریزی میں کنزیومر یا کسٹمر کو اردو میں صارف کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ نے کوئی چیز خریدی تو آپ صارفین کی فہرست میں شامل ہو گئے جو کہ آپ اسی زمانے سے اس فہرست میں شامل ہیں جس زمانے میں آپ ٹافیاں خریدنے دکان پر جاتے اور کہتے انکل 5 روپے کی یہ چیلی ملی ٹافی دے دیں۔آب اپ کو یہ معلوم ہونا چاہتے کہ بھئی بطور صارف آپ کے حقوق کیا ہیں؟ بچپن میں تو وہ چیلی ملی کا ریپر کھولتے اگر اند سے نکلی ٹافی پوری ہونے کی بجائے آدھی ہوتی تو ہم صرف اپنی قسمت کو کوستے تھے، یہ نہیں تھا کہ جا کر انکل کو کہہ دیتے کہ انکل آپ نے پورے پیسے لئے اور ٹافی آدھی نکلی۔ بس یہ ہی حال ہے بچے تھے معلوم نہیں تھا کہ حق یہ ہے کہ جا کر انکل کو کلیم (claim) کریں۔ میرے ساتھ تو بہت بار ایسا ہی ہوا، قسمت تو خراب تھی ہی ساتھ ہی ساتھ میں بطور صارف بچپن میں شریف النفس انسان تھی۔

Read more

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اِسے غیرتحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے آغاز اور فروغ پر سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی کے پہلے سالوں میں مارشل لاء ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا طوطی بولتا تھا۔ انہی کے زمانے میں 26 نومبر 1964 ء کو پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا۔پی ٹی وی آنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی پاک بھارت سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا انجام ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت بڑی لڑائی کی صورت میں ہوا۔ جب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے حکومت سنبھالی تو اُس وقت ملک میں ٹی وی زیادہ عام نہیں تھا۔ ٹی وی سیٹ کی قیمت زیادہ تھی اور لوگوں کو ٹی وی دیکھنے کا خبط بھی نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت یعنی 80 ء کی دہائی میں پاکستان میں ٹی وی بہت عام ہوگیا، اُس کی دستیابی بہت آسان ہوگئی اور قیمت کم ہو جانے کے باعث لوگ ٹی وی کی خرید کی طرف متوجہ ہوئے۔

Read more

جو دیکھیں گے وہی سیکھیں گے

ہم آج ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں اور ہمیں ٹیکنالوجی نے کچھ اس طرح زیر کیا ہے کہ ایک جملہ آج کل روانی اور یقین کے ساتھ کہا جاتا ہے اور وہ ہے آج کل بچوں کی تربیت والدین سے زیادہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کرتے ہیں اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ پھر ہمارا ہی رویہ کچھ جگہوں پر ایسا ہوتا ہے جو ہمارے اس جملہ کو اس طرح سچ ثابت کرتا ہے کہ ہم حیران رہ جاتے ہیں۔اگر ہم نوے کی دہائی کی بات کریں تو گوکہ بچے کارٹون دیکھتے تھے ٹوم اینڈ جیری، جینجہ ٹرٹل، کھل جا سم سم یہ اس وقت کے مشہور کارٹون تھے جنھیں مخصوص اوقات میں دیکھا جاتا تھا اور اس کے بعد سائیکل، کرکٹ، چھپن چھپائی، کھو کھو، برف پانی کھیلا جاتا تھا ا اماں ابا کے ساتھ بیٹھاجاتاتھا اور سونے سے پہلے اور سونے سے پہلے کتب بینی کرکے سویا جاتاتھا اس قسم کے اوقات کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ جسمانی اوردماغی دونوں طور پر بچے صحت مند رہتے تھے۔ بچوں کے ساتھ مائیں بھی اپنی صحت کا خیال رکھتی اور ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتی کہ ان سے کوئی ایسی بھول چوک نہ ہو جو کل کو ان کی شخصیت کی بربادی کا سبب بنے۔

Read more

کرائسٹ چرچ حملہ : تہذیبی تصادم کی تمہید

پی ہنگٹن نے اپنی کتاب ”تہذیبوں کا تصادم“ میں موجودہ دنیا کو آٹھ تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ہمارے مغربی تہذیب کے ساتھ سوائے اسلام کے باقی چھ تہذیبیں موافقت رکھتی ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب ہی مستقبل قریب میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید وہ لکھتے ہیں کہ اسلام کے ساتھ تعاون کرنے والی تہذیب کنفیوشش تہذیب ( چاینیز اقوام کی) ہوگی۔ مغرب میں اسلاموفوبیا ہر دور میں رہا ہے لیکن

Read more

صحرا میں سونا، خوابوں سے حقیقت تک!

سونے کی تلاش انسانی فطرت کے لیے ہمیشہ متجسس مشغلہ رہا ہے۔ یہ قیمتی دھات کبھی ملکیت پسند آنکھوں میں دلربا خواب بن کر چمکتی رہی ہے، تو کبھی لوگوں کے لبوں سے دلچسپ موضوع بن کر اچھلتی رہی ہے۔ ایسے ہی لبوں نے کئی عشرے قبل یہ بات پھیلائی تھی کہ صحرائے تھر کے جنوب مشرق میں واقع کارونجھر کے پھاڑوں میں پارس پتھر موجود ہے، جو لوہے کو سونا بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پہاڑوں میں ایسی نایاب جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں، جو لاعلاج بیماریوں میں شفا بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سونا بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

Read more

23 مارچ اور قرارداد

مارچ آتا ہے تو 23 مارچ 1940 کی قرار دادِ لاہور (قرار دادِ پاکستان) کی یاد تازہ کرتا ہے، قرار داد پاکستان ہمارے ملک کے قیام کی بنیاد بنی اور 23 مارچ 1940 کو شروع ہونے والا سفر پندرہ اگست 1947 کو اپنی منزل پر پہنچا۔ مارچ کے مہینے ہی میں 12 مارچ 1949 کو قرار دادِ مقاصد منظور کی گئی۔ ہماری پہلی دستور ساز اسمبلی کی پاس کردہ یہ قرار داد ایک تاریخی ڈاکیومنٹ ہے، جو 1956 اور 1973 کے دساتیر کا حصہ بنی۔ اس قرار داد کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریکِ پاکستان کے اہم لیڈر لیاقت علی خان نے پیش کیا اور اسے مسلمانان پاکستان کی آرزوؤں کا ترجمان اور اسلامی جمہوریت کا نمونہ قرار دیا۔

Read more

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر حملہ: ایک تجزیہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشتگرد حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کے پاس پانچ بندوقیں تھیں اور ان کے پاس اس کا لائسنس بھی تھا۔ 28 سالہ حملہ آور برینٹن کو سنیچر کو عدالت میں ہیش کیا گیا جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔ برینڈن کے علاوہ حکام کی تحویل میں

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اتفاق سے عورتوں کے دن پر ہونے والی کچھ ریلیوں کے بینر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں سے کچھ کو پڑھ کر افسوس ہوا۔ کچھ کو پڑھ کر شرم محسوس ہوئی۔ کچھ کو پڑھ کر دُکھ ہوا اور کچھ تو اچھے خاصے مضحکہ خیز بھی لگے۔ میں خود بھی ایک عورت ہوں اور باقی عورتوں کو بھی ایک انسان سمجھتی ہوں اور اسی طرح مردوں کو بھی انسان ہی کی نظر سے دیکھتی ہوں اور انہیں بھی خاک کا پتلا ہی سمجھتی ہوں۔

اس لیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نہ سب عورتیں اچھی ہوتیں ہیں اور نہ سب مرد بُرے ہوتے ہیں۔ سب انسان ہوتے ہیں اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ، خطا کار سب کمزور، سب اپنی زندگیوں میں غلطیاں بھی کرتے ہیں ان کو سُدھارتے بھی ہیں اُن سے سبق بھی سیکھتے ہیں۔ پھر عملی طور پر اگر ایک عورت کو اپنی ذاتی زندگی میں کوئی بہت نزدیکی رشتہ اچھا نہ ملے یا اُسے تکلیف پہنچائے تو وہ سارے مردوں کو اُسی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔

Read more

مسلم کشی اور عالمی منافقت کا چاک ہوتا پردہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کی نماز کے دوران دو مساجد پر گورے دہشت گردوں کے حملے کا شکار ہونے والے شہدا کی تعداد 49 ہوگئی اور 48 افراد زخمی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی اور حیرت انگیز طور پر اس واقعے کو دہشت گردی قرار دینے سے بھی بڑے ممالک کے رہنما اور ذرائع ابلاغ کتراتے نظر آئے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ

Read more

انسانی حقوق اور من چاہا اندھا پن

انسانی حقوق بھی بڑی ہی عجیب شے ہیں۔ دوستوئفسکی کے ناول شیاطین ( Possessed) میں ایک مقام پر نکولس اسٹاورجن اپنے ناہنجار سالے کیپٹن لبیاٹکن سے کہتا ہے کہ جتنی دیرمیں گھر میں ہوں، تم میری یہ چھتری لو اور باہر انتظار کرو۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ سالا دریافت کرتا ہے کہ ”حضور کیا میں چھتری کے قابل ہوں؟ “ جواب ملتا ہے ہاں ہر انسان کو چھتری کا حق حاصل ہے، جس پر کپتان بڑی لجاجت سے کہتا ہے کہ ”حضور نے تو انسانی حقوق کی تعریف بڑی خوبصورتی سے متعین کر دی۔ “

ساری دنیا میں انسانی حقوق بڑی حد تک اسی طرح معین ہو رہے ہیں۔ طاقت ور کے حقوق مختلف ہیں، کمزور کے حقوق جدا ہیں۔ پھر کسی کو ایک قسم کے کمزور مظلوم تو نظر آ جاتے ہیں مگر دوسری قسم کے مظلوم نظر ہی نہیں آتے۔ اس کیفیت کو اردو میں کیسے ظاہر کریں گے یہ تو ہمارے لئے بتانا مشکل ہے مگر انگریزی میں اس لئے ایک بڑی ہی پیاری سی اصطلاح ہے۔ ”Selective blindness“

Read more

پچاس سالہ بزرگ کے لئے ضرورتِ رشتہ کا اشتہار

 مجھے اخبار اور بریکنگ نیوز جیسی فضول چیز سے حد درجے چڑ رہی ہے۔ کسی سوشل میڈیا گروپ میں دو منٹ بیٹھ کر یہ عقدہ ضرور کھل جاتا ہے کہ باڈر پر جنگ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ وہیں سے کان لپیٹ کر نکل جانا میری پہلی ”درست حرکت“ ہوتی ہے۔ میرے خیال میں جنگ بارود میزائل یا جو بھی اس سے بڑی توپ چیز چلنی یا شروع ہونی ہو گی، تو مجھے میرے اپنے گھر کا دروازہ کھولنے کے

Read more

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پچھلے دو دنوں سے طبیعت بہت نا ساز رہی۔ کچھ لکھنے کی جانب طبیعت مائل ہو کر نہیں دے رہی تھی۔ سندھ کے ایک پسماندہ علاقے میں درویش رہائش رکھتا ہے، جہاں مختصر وقفوں کے سوا دہائیوں سے روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کی دعویدار پیپلز پارٹی حکمران رہی۔ اس حکمرانی کی برکات کے طفیل صحت سے متعلقہ معمولی مسائل کے لیے بھی تمام سندھ کے شہریوں کو کراچی یا حیدرآباد کا سفر بیماری کی حالت میں طے کرنا

Read more

بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات!

ترقی یافتہ ممالک میں ٹرانسپورٹ کا نظام جدید خطوط پر استوار ہے، اگر کوئی فرد کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہا ہو تو اسے پہلے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک کب پہنچے گا، اس کے برعکس پاکستان میں آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں اندرون شہر کسی لوکل روٹ پر بھی سفر کر رہے ہوں تو ڈرائیور کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں یا پھر ٹریفک نظام کے۔ مسافروں کا مقررہ وقت تک منزل پر پہنچنا تو کجا، گھنٹوں ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا نہ ہونا ہے۔

Read more

نیا پاکستان، پچاس لاکھ گھروں کا پہلا گھر

مبارک ہو پاکستانیو۔ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے۔ نیا پاکستان اسکیم کے تحت تعمیر ہونے والے پچاس لاکھ گھروں میں سے پہلے گھر کو بنانے کے لیے بل پاس کر لیا گیا ہے۔ اور باقی انچاس لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے گھر بھی جلد ہی پاکستان کے نقشے پہ ابھرے نظر آئیں گے۔ اب وہ وقت قطعاً دور نہیں ہے کہ جب ہر بے گھر کے پاس اپنا گھر ہو گا۔ ہر بے روزگار کے پاس اپنا روزگار ہو گا۔ ہر غریب کے پاس دو وقت کے کھانے کے باعزت کھانا ہوگا۔ ہر یتیم کے سر پہ ریاست باپ کا سایہ بنے گی۔ ہر بیوہ کا آسرا یہ ریاست خود بنے گی۔ اور دودھ و شہد کی نہروں سے فیض یاب ہونے کو بھی اب تیار ہو جاؤ۔ پاکستانیو جو دن پھرنے تھے وہ پھر گئے ہیں۔ وعدہ ایفا ہو گئے ہیں اور اب تم دیکھو گے کہ کیسے ہم چٹکیوں میں پچاس لاکھ گھر بنا کے تمہارے حوالے کر دیں گے۔

Read more

کلدیپ نائر کے خاکے۔ ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور عمران خان

مشہور و معروف بھارتی صحافی کلدیپ نائر 23 اگست 2018 کو وفات پا گئے تھے۔ انہوں نے تقریبا چھیانوے برس کی عمر پائی۔ وہ پاک بھارت تاریخ کے اہم واقعات کے چشم دید گواہ تھے۔ انہوں نے 1950 ء میں ایک اردو اخبار کے رپوٹر کے طور پر اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا سے منسلک ہونے کے بعد انگریزی صحافت کو اختیار کیا۔ کلدیب نائر اسٹیٹس مین۔ دہلی کے ایڈیٹر رہے مگر ان کی طویل وابستگی انڈین ایکسپریس کے ساتھ رہی۔

Read more

عالمی سطح پر کشمیریوں کی نمائندگی کی ضرورت !

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چند دنوں کی جنگی صورتحال کے بعد ”امریکی معاونت کاری“ کی بدولت خطرناک صورتحال میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ ہندوستان کے جنگی طیاروں کی پاکستان میں داخل ہو کر بالاکوٹ میں بمباری، پاکستان فضائیہ کی جوابی کارروائی میں ہندوستان کے ایک جنگی طیارے کی تباہی اور اس کے پائلٹ کی گرفتاری سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستانی جارحیت کا سخت جواب پاکستان کے دفاع کا ناگزیر ’آپشن‘ ہے۔ دونوں ملکوں

Read more

بھارت بنام پاکستان بذریعہ مسعود اظہر

بھارتی نیشنل سکیورٹی کے مشیر اجیت ڈوول کے دسمبر 1999 میں بطور چیف مذاکرات کار، قندھار ائیرپورٹ پر انڈین ائیرلائن کی فلائٹ آئی سی 814 کی واگزاری کے بدلے ایک ایلمینٹری سکول ٹیچر کے فرزند مسعود اظہر کو رہا کرنے کے فیصلے نے بھارتی دفاعی حصار پر کاری ضرب لگائی۔ حالات کی نزاکت کے اعتبار سے سوچا گیا ہوگا کہ درجنوں افراد کی جان بچانے کی خاطر حرکت المجاہدین کے اس مقرر کی رہائی کوئی بڑی قیمت نہیں کیونکہ اس

Read more

توکل یا جہالت

دانش بہت دین دار، با اخلاق اوراچھی طبیعت رکھنے والا فرد ہے۔ وہ چھوٹا بڑا ہر کام شروع کرنے سے پہلے مسنون دعائیں پڑھتا اور معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد کر دیتا ہے۔ وہ بہت راسخ العقیدہ اور باعمل مسلمان ہے۔ وہ ہمہ وقت اپنے رب کو یاد کرنے کی کوشش کرتا حتی کہ دوران سفر چلتے چلتے بھی قرآن کی تلاوت میں مشغول رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس کی کوتاہ فہمی اوراسلامی تعلیمات سے صحیح معانی

Read more

مودی کی شدت پسندی گجرات سے پلوامہ تک

نریندری مودی ہمیشہ سے انڈیا کی شدت پسند تنظیم راشتٹریہ سویم سویک سنگ (RSS) کا ایک متحرک ممبر رہا ہے۔ اس تنظیم کا بالخصو ص مسلمانوں اور بالعموم دوسری اقلیتوں کا انڈیا سے خاتمہ ایک بنیادی ایجنڈا ہے۔ یہ تنظیم ہندوستان کو صرف ہندؤں کی ذاتی ملکیت سمجھتی ہے، اس لیے مسلمان یا تو ہندو بن جائیں یا انڈیا سے ہجرت کر جائیں۔ بصورت دیگر مسلمان کو قتل کر دیا جائے، یہی اس تنظیم کی بنیادی آئیڈیالوجی ہے۔نریند ر مودی 2001 ئسے 2014 ئتک گجرات کا وزیر اعلی رہا۔ اسی کے دور حکومت میں گجرات میں 2002 میں ہندو مسلم فسادات برپا ہوئے جس میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، مسلمان لڑکیوں کے سرعام ریپ ہوئے اور ان کے گھر بار کو لوٹا گیا۔ اس شدت پسندی میں تقریبا دو ہزار مسلمان قتل کیے گئے، جس کی مثال ماڈرن انڈیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مودی کی گجرات حکومت اور پولیس نے براہ راست ہندو شدت پسند تنظیموں کا ساتھ دیا اورانسانیت پر اس ظلم کی وجہ سے امریکہ نے مودی کی اپنے ملک میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

Read more

چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی جس پر عوام چیخیں گے۔ ہمارا سوشل میڈیا واقعی بہت تیز رفتار ہے لیکن کیونکہ وہ قابل اعتبار نہیں ہے اس لئے اس کی ہر خبر کو مصدقہ مان لینا بہت مشکل ہے۔ کل رات ہی کی بات ہے کہ میں نے پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ کا مذکورہ بیان فیس بک میں پڑھا تھا لیکن میں اسے ہوائی ہی سمجھا تھا۔بیشمار خبریں اور بیانات ہوتے ہیں جو ہوائیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا کرتے۔ بالکل اسی طرح جب اسد عمر صاحب کا بیان نظروں سے گزرا تو میں اسی حسن ظن کا شکار رہا کہ کسی دل جلے مخالف نے کوئی افواہ پھیلائی ہوگی اس لئے کہ کوئی بھی وزیر حکومت میں رہتے ہوئے ”اپوزیشن“ کے لب و لہجے میں کس طرح بات کر سکتا ہے۔ ممکن تھا کہ یہ بات تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کی ہو لیکن منسوب وزیرخزانہ اسد عمر سے کردی ہو لیکن جب آج صبح کے جسارت اخبار پر میری نظر پڑی تو اس کی شہ سرخی پڑھتے ہی مجھے اپنے حسن ظن پر شرمندگی ہوئی کہ انسان کو اتنا سادہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ بعد میں وہ اپنی سادگی پر پشیمان ہوجائے۔

Read more

ذرا اس تصویر کو غور سے دیکھیں

سب سے پہلے آپ کا وقت نکال کر اس مضمون کو پڑھنا شروع کرنے کا بہت شکریہ۔ اب آپ ذرا نیچے والی تصویر پر بنے اس چھوٹے سے نقطہ کو دیکھیں جس کو ایک پیلے دائرے کے اندر ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ غور سے دیکھیں اسے۔ پتا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ہمارا گھر ہے۔ اس کائنات کے اندر ہمارا چھوٹا سا گھر۔ ۔ ”ہماری زمین“۔ وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں، میں رہتا ہوں، ہمارے رشتہ دار، دوست، احباب رہتے ہیں۔ وہ تمام بھی جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور وہ بھی جن سے ہم اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم مسکراتے ہیں، روتے ہیں، اداس ہوتے ہیں، جیتے ہیں، مرتے ہیں۔ جہاں کوئی بہت امیر ہے تو کوئی بہت غریب، بہت طاقت ور، بدمعاش قسم کے لوگ بھی موجود تو بہت سادہ، شریف اور بے بس و مجبور لوگ بھی۔

Read more

نعیم کی اپنے دادا سے پہلی ملاقات

نعیم کو شروع سے ہی ہسپتال جانے میں ایک انجانا خوف محسوس ہوتا تھا۔ کبھی کسی بیماری یا مجبوری کے تحت جانا بھی پڑ جاتا تو وہاں سارا وقت انتہائی اضطراب کی حالت میں گزرتا۔ سردیوں کا موسم دم توڑ رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی۔ انہی دنوں کی بات ہے جب نعیم کو اپنے دادا جی کے ساتھ ہسپتال کی ہوا کھانی پڑی اور اُن کی تیماداری کے لئے کچھ دن ہسپتال میں رکنا پڑا۔ اُس کے دادا جی کی عمر تقریبا نوے برس کے قریب تھی انتہائی ضعیف ہونے کی وجہ سے جسم کے کا ماس ڈھیلا اور لٹک چکا تھا اور ایک عجیب بڑھاپے کی باس دیتا تھا۔

Read more

قصور وار صرف مرد نہیں، عورت بھی برابر کی حصے دار ہے

زبان کے لفظوں کے بارے مخلتف کہاوتیں مشہور ہیں، جیسے تلوار سے تیز زبان، زبان کا لفظ کی واپسی نہیں، تیرا واپس وغیرہ، وغیرہ۔ اس سرمایہ دار معاشرے نے اس تکنیک کو بہت بہترین طریقے سے استعمال کر کے اپنے گاہکوں کو متوجہ کیا ہے۔ انہیں الفاظ کی بنا پر اب سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے پہ گانے گا کے بہت جذباتی لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ سنا ہے بدترین جرم جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ افسوسناک حد تک یہ کھیل ہمارے معاشرے میں ہر جگہ، طبقہ، رشتہ کھیل رہا ہے۔

Read more

لوگ مسلمان کیوں ہوں گے؟

ہمارے علاقے کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر مسیحی تھا۔ اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔ سکول میں بچوں پر تشدد کرتا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ سب اساتذہ بھی اس سے نالاں تھے۔ اس کا کھانا پینا سب کچھ دوسرے اساتذہ سے الگ ہوتا تھا۔ ایک دن کچھ اساتذہ کی غیرت اسلامی نے جوش مارا اور انہوں نے ہیڈ ماسٹر کو اسلام کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ سب اساتذہ مل کر ہیڈ ماسٹر کے پاس گئے اور بڑے اخلاق سے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ہیڈ ماسٹر نے بڑے ادب سے سب اساتذہ کی بات سنی اور بڑی نرمی سے کہا میں مسلمان ہونے کے لِئے تیار ہوں۔ سب اساتذہ کے چہرے کھل اٹھے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے ہیڈ ماسٹر کی آواز ابھری۔ سب اساتذہ نے غور سے ہیڈ ماسٹر کی طرف دیکھا۔ پھر جو بات ہیڈ ماسٹر نے کی جو سوال انھوں نے پوچھا وہ آج بھی مجھے چبھتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے سب اساتذہ کی طرف دیکھا اور کہا میں مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے یہ بتایا جائے میں کون سا مسلمان بنوں؟ سب اساتذہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور یکے بعد دیگرے اٹھ کر چلے گئے۔

Read more

مسلم لیگ (ن) اور آج کا نوجوان

”مسلم لیگ (ن) دائیں بازو کی ایک جماعت ہے جس کا ووٹر زیادہ تر کاروباری طبقہ کے افراد پر مشتمل ہے یہ ایک خاموش ووٹر ہے جس کو احتجاجی سیاست پسند نہیں ہے جو صرف الیکشن کے وقت سامنے آتا ہے اور میاں صاحب کے لئے ووٹ ڈالتا ہے“ یہ الفاظ بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ (بچپن سے ہماری مراد نوے کی دہائی ہے ) اور آج بھی محترم سہیل وڑائچ صاحب ٹی وی پر بیٹھے یہی تجزیہ دے رہے ہوتے لیکن پچھلے پانچ سالوں میں ایک بڑی تبدیلی اس جماعت میں دیکھنے کو ملی وہ یہ کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس پارٹی سے آ کے جڑی۔

Read more

بادشاہ سلامت!

کہتے ہیں کسی کی بیماری پر بات یا اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، کیونکہ یہ آزمائش اللہ تعالٰی کی طرف سے آتی ہے، مجھے ڈاکٹری نہیں آتی اس لیے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ہے، لیکن ہمارے ملک میں ایک شاہی بیمار موجود ہیں، جن کی بیماری ایک قومی مسئلہ بن گیا ہے، ہر ٹی وی چینل، اینکر، تجزیہ کار ہر بندہ میاں نواز شریف کی بیماری کو لے کر بیٹھا ہے، پچھلے ایک ہفتے سے ایک قومی مسئلہ بن کہ رہ گیا ہے۔ کیا یہاں بے روزگاری ختم ہو گئی ہے؟

کیا فی کس آمدنی میں اضافہ ہو گیا ہے؟ کیا بیرونی قرضے اتر گے ہیں؟ کیا ساہیوال میں روتے ہوئے تین پچوں کو انصاف مل گیا ہے؟ کراچی میں پانچ بچے غیر معیاری کھانا کھانے سے موت کے منہ میں دھکیل دیے جاتے ہیں، لیکن نہیں ہمارے لیے میاں صاحب کی بیماری کی ہیڈ لائن زیادہ ضروری ہے۔ حریت یہ ہے، کہ ایک قیدی کی بیماری پر پورا پورا بلیٹن اور ٹاک شو کیے جاتے ہیں، کیا میاں صاحب کی بیماری میرے مستقبل، زندگی، بنیادی حقوق، روزگار سے زیادہ اہم ہے۔

Read more

تھل کی آواز کون اٹھائے گا؟

تبدیلی کے نعرے کے ساتھ قومی اسمبلی میں پہنچنے والے تھل (خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ جھنگ، چینوٹ) کے ارکان اسمبلی کی دھیمی، میٹھی اور جوشیلی آواز میں ان کے اپنے حلقوں کے عوامی ایشوز کے بارے میں تقریریں اور اسمبلی کے فلور پر سوال کرنے کا بے چینی سے انتظار تھا، امید تھی اب کی بار پرانا سیلبس نہیں چلیگا بلکہ تبدیلی کے نعرے میں نئی شروعات ہوں گی لیکن حکومت کو چھ ماہ کی مدت گزرنے کے بعد اتنا اندازہ تو ہوچلاہے کہ پچھلے ادوار کی طرح اس بار بھی تھل کے ارکان اسمبلی خاموشی کے روزہ کو توڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

Read more

خون کے آنسو

سکوت سا لگ رہا تھا جیسے سالوں سے ہوا کا جھونکا نہ آیا ہو۔ آرام سکوں سب تھا۔ کوئی دقت نہیں تھی۔ مگر آج کوئی دن تھا جس کا ہر مہینے مجھے انتظار رہتا تھا اور یاد بھی تھا۔ مگر میں اسے یاد نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ دل کرتا تھا بھول جاؤں۔ یا وہ دن آے ہی نہ۔ مگر پھر وہ آجاتا۔ اپنے وقت پر۔ کیوں آجاتا تھا؟آج ابھی تک وہ نہیں آیا تھا۔ میں منتظر تو تھی لیکن میں دل سے نہیں چاہتی تھی کے وہ آئے۔ شاید میں اپنے اندر ایک تبدیلی کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔ دھیرے سے ہولے سے ایک سانس میرے ساتھ سانس لے۔ ایک نازک سی کونپل مجھ سے پھونٹے۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا؟

Read more

عورت کو بے مہار آذادی نہی اس کے حقوق چاہیے

عورت کو آزاد کروانے کے لیے عورت مارچ ہوا۔ کیسا ہوا، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ اس کے اثرات معاشرے پر کیا مرتب ہوں گے، بحث طلب ہے۔ بات کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں سے آوازیں اٹھیں، صحیح غلط کا فیصلہ سماج کی نفسیات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عورت کے حقوق طے شدہ ہیں، ملتے ہیں یا نہی، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ملتے ہیں تو اچھی بات۔ نہی مل رہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟ آیا کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، معاشی یا معاشرتی ہے یا کہ مذہبی؟ کیا بات مردوں کو روکتی ہے کہ وہ جس عورت کے وجود سے وجود پاتے ہیں، اور جس عورت سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اس کے احساسات کی جمالیاتی حساسیت سے نظریں چراتے ہیں۔

Read more

سیاسی دعائیں

گزشتہ دنوں ایوان بالا میں کچھ ارکان اسمبلی کو سپیکر کے ڈائس کے سامنے نماز مغرب کی ادائیگی کرتے دیکھا تو جانے کیوں گردن کو اکڑا کران نادان لوگوں کی طرف مسکرایا جواپنے تائیں معاشرے پر ایک طاہرانہ نگاہ ڈال کرپوچھتے تھے کیا واقعی پاکستان ایک اسلامی ملک ہے!مولانا اسد محمود کے امامت میں پڑھی جانے والی یہ تاریخی ”احتجاجی نماز“ شاید ان کے ان بڑوں کی کارگردگی پر بھی پانی پھیرگئی ہو گی جنہوں نے 1974 کے پارلیمانی سیشن میں 13 دنوں کے بحث مباحثے کے بعد اس وقت خود کو ایک فرقہ قرار دینے والوں کو دھول چٹانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔

Read more

میرا جسم میری مرضی ،غلط کیا ہے

معاشرے فکری نمو سے ترقی پاتے ہیں۔ جن معاشروں میں فکر آزاد نہ ہو اور فکری آزادی مذہب، وطن پرستی اور فوج کی محبت سے مشروط کردی جائے تو پھر نیاپاکستان بنتا ہے اور نہ قوم بنتی ہے اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ جو معاشرے عورت کو عزت نہیں دیتے ہیں وہ ہمیشہ زوال پذیری کا شکار رہتے ہیں اور کبھی ترقی نہیں کرتے ہیں۔ آٹھ مارچ کو ہونے والے عورت مارچ پر تحفظات کا اظہار کرنے والے شخصی آزادی اور عورتوں کے حقوق سے واقف نہیں ہیں یا پھر عورت کے سر عام بولنے پر خفا ہیں۔متشدد اور بے راہ روی جیسی خفگی میں بظاہراچھے بھلے مہذب اور پڑھے لکھے انسان نما پتلے یہ تک بھول گئے کہ عورت مارچ میں شریک پاکستانی سماج ہی کی خواتین تھیں۔ جن میں اکثریت مسلمان خواتین کی تھی۔ نوجوان خواتین کے ہمراہ بچے اور بوڑھی خواتین بھی شریک تھی جو جو پانچ وقت کی نمازی بھی پڑھتی ہیں۔ کچھ مشرقی اقدر کی آڑ لے کر اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔ کئی مذہب کو ہتھیار بناکر حملہ آور ہیں اور مذہب کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے دے کر عورتوں کی تذلیل کرنے میں سبقت لیجانے پر کمر بستہ ہیں۔

Read more

ایک تھی حمیرا

دراصل جب ہم بات کرتے ہیں مسائل اور ان کے حل کی تو مسائل کے شکار افراد انتہائی نچلی سطح کے وہ افراد یا گھرانے ہوتے ہیں جو معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان مسائل کے حل کے لئے سیمنارز اور مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تو ان افراد کا تعلق اس طبقے سے ہوتا ہے یا اس کمیونٹی سے ہوتا ہے جو بہت اور پاور فل اور سماجی طور پر فعال رہنے والے ہوتے ہیں۔ آپ بتائیں وہ کیسے جان سکتے ہیں ان مسائل کا حل جو دو وقت کی روٹی کے لئے محنت مشقت کرنے کے تجربے سے ہی ناواقف ہوں۔

جن افراد کی دسترس میں سب کچھ ہے وہ بیٹھ کر ان مسائل کی بات کرتے ہیں اپنے ہی جیسے دوسرے لوگوں سے۔ خیر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ معاشرہ درستگی کی سمت میں پروان چڑھنے سے کیوں گریزاں ہے۔ پاکستان میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر لوگوں کو ابھی تک یہی نہیں معلوم کہ ان کے ایک دوسرے کے لئے کیا حقوق اور فرائض ہیں۔ ڈگریوں اور کتابی کہانیوں سے ان کا تو دور دور تک کیا واسطہ ہونا ہے۔ انہیں تو والدین، اولاد، بہن بھائی، اور میاں بیوی کے رشتوں میں بھی تمیز نہیں اور نا یہ شعور ہے کہ ایک کا دوسرے پر کیا حق ہے۔

Read more

اصل غریب کون؟

وہ جوان لڑکے لڑکیاں جو چُست ہیں کام کرنے کے قابل ہیں لیکن ایک امیر شخص کا انتظار کرتے ہیں جو اللہ واسطے اُن کو پچاس ( 50 ) روپے دے اور اتنی ہی دیر میں اشارہ بند ہوتا ہے۔ ایک طرف کی ساری ٹریفک رُک جاتی ہے۔ جوانوں کی بھیڑ مچ جاتی ہے جو امیر ترین گاڑی والے کی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ اللہ کے، اُن کو اُن کے بچوں کے اور والدین وغیرہ کے واسطے دیتے ہیں اور یقیناً خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتے لیکن جب میں دوسری جانب ایک محنت پسند طبقے کو دیکھتا ہوں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے، جو محنت کر کے تھوڑا بہت کما کر گزر بسر کر لیتے ہیں اور جب امیر لوگ جو گاڑیوں میں پھرتے ہیں ایسے لوگوں کی مدد تک نہیں کرتے تو بہت افسوس ہوتا ہے۔

Read more

کیا خدا خواتین کے لئے نامہربان ہو سکتا ہے؟

گردش دوراں کہیے یا نصیب کا کوئی چکر، ہمارا ہر کام اکثر الٹا ہو جاتا ہے۔ لاکھ کوشش کریں اس سے بچنے کی مگر مجال ہے جو کبھی بچ پائے ہوں۔ اب یہی دیکھ لیجیے جو مضمون ہم نے خواتین کے عالمی دن سے پہلے لکھنا تھا وہ اتنے دن بعد لکھ رہے ہیں۔ کہا ناں اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے، یہ تو بس ہمارا ”نصیب“ ہے جو لکھنے والے نے اپنی من مرضی کا تحریر کیا ہے۔ہم سب نے اس دن کے حوالے سے بہت سے مضامین شائع کیے ہیں۔ کچھ کو پڑھ لیا ہے اور کچھ انتطار کی قطار میں ہیں۔ آج کل میں پڑھ ہی لیں گے۔ ابھی تو لکھنا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے دو انتہا پسند مکتبہ فکر سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ جو عورت کی آزادی سے خائف ہیں اور عورت کو پردوں کی تہہ میں چھپا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کے لئے ”مذہب“ کا سہارا لیتے ہیں۔ اور مذہب میں سے بھی ”اپنی مرضی“ کا دین چن لیتے ہیں۔

Read more