وجاہت مسعود کے نام محبت نامہ اور این سیکسٹن کی کہانی

قبلہ و کعبہ! مجھے آپ کے نظریات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، WE ARE BOTH ON THE SAME PAGE۔ اور اس اتفاق رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مکالمے، جمہوریت اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ایک پرامن انصاف پسند معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اپنے تمام تر اتفاق رائے کے باوجود میں قدرے اختلاف کا پہلو اس لیے نکال لاتا ہوں تا کہ آپ سے ادبی مکالمے کا بہانہ ملے۔ میں

Read more

اظہار الحق: نئی زمینیں اور نئے آسماں

مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اظہار الحق میرے گنتی کے محبوب شاعروں میں سے ایک ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں انہیں ان کے ہم عمر ہم عصروں ہی میں نہیں اردو غزل کی مجموعی روایت میں ایک ایسے منظر نامے اور ایسی فضا کو ایزاد کرتے دیکھتا ہوں جو بڑی حد تک انہی سے منسوب ہے۔ ہر دس پندرہ برس بعد غزل کو نیا کرنے والے

Read more

غروب شہر کا وقت: کتاب پر تبصرہ

اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ پڑھنے کے دوران مجھے بار بار یہ احساس ہوتا رہا جیسے میں بلندی سے نیچے جانے والی سیڑھیاں ایک کے بعد ایک طے کرتا جا رہا ہوں۔ سیڑھیاں جو جگمگاتی ہوئی زمین پر نہیں بلکہ کسی لامتناہی اندھیرے میں اتر رہی ہوں۔ زوال کے اصل معنی شاید یہی ہوتے ہیں۔ ایک شہر جو ثقافتی اور اخلاقی اعتبار سے ڈوبنے کے بعد اقدار کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں پر تعمیر ہو رہا ہے۔ لاشیں

Read more

”لنگڑے“ آم کو خوش آمدید

ریاست بہاولپور کی شدید گرمی جہاں بے شمار انسانی مشکلات کا باعث بنتی ہے اور لوگ گرمی سے بلبلانے لگتے ہیں۔ ایسے میں جب گرمیوں کے موسم کے بارے میں سوچ کر ہی الجھن اور گھبراہٹ سی ہونے لگتی ہے وہیں اس شدید گرمی میں یہاں کے لوگوں کے لیے ایک خوشگوار خبر یہاں کے خوش ذائقہ آموں کی آمد ہوتی ہے جس کا یہاں کے لوگ پورے سال شدت اور بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ یہاں کے آموں

Read more

بک کارنر جہلم : معیار، اعتماد اور کامیابی کے پچاس سال

کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔ کتاب بہترین دوست اور ساتھی ہے۔ یہ جملے اکثر ہم اپنی کتابوں میں بچپن میں پڑھا کرتے تھے۔ آج کی نسل شاید ان جملوں سے اتنی واقف نہ ہو کیوں کہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل کمیونیکیشن کے میڈیمز نے نوجوان نسل کو پڑھنے سے زیادہ دیکھنے پر مائل کر دیا ہے۔ میں خود ڈیجیٹل میڈیا کا بندہ ہوں اور ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دیتا ہوں۔ لیکن یقین مانیے مجھے آج بھی

Read more

پاپی ”عُرف قُربِ قیامت کی نشانیاں“

(یہ تحریر ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کی مشترکہ کتاب ”پاپی“ کی فیملی آف دی ہارٹ کے زیرِ اہتمام ٹورانٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ رُونمائی میں پڑھی گئی) …………………………… ! خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار میرا بچپن لاہور کے ایک قدیم علاقے مزنگ کی گلی نمبر چالیس میں گزرا۔ (قہقہہ) ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں میرا یقین کیجیے میں بھی کبھی بچہ رہا ہوں یہ وہی مزنگ ہے جس میں نام ور شاعر مِیرا جی

Read more

خواب بُننے والوں کے خواب – ریجنل کلچرل کانفرنس بہاول پور 2024

مورخہ گیارہ جولائی کو بہاول پور آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام پہلی ایک روزہ ریجنل کلچرل کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ اِس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تو صبح ساڑھے دس بجے ہونا تھا، لیکن میں نو بجے ہی گھر سے نکل آیا۔ راستے میں احمد پوری گیٹ، درواڑی گیٹ اور فرید گیٹ دکھائی دیے تو طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔ صادق

Read more

”علم الاقتصاد“ اور آج کے معاشی تقاضے

علم الاقتصاد علامہ اقبال کی نثر و نظم میں پہلی کتاب ہے جو 1904 میں شائع ہوئی۔ یہ برصغیر میں اکنامکس کے موضوع پر اردو زبان میں پہلی مطبوعہ کتاب تھی۔ کسی نے کہا یہ واکر کی political economy کا اردو ترجمہ ہے تو کسی نے اسے اقبال کی طبع زاد کتاب کہا۔ مگر حقیقت میں یہ تصنیف اقبال کی تبحرِ علمی اور معاشی امور پر اقبال کی گرفت کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر کچھ باتیں ضمنی طور پر

Read more

ہم چلے صدرِ پاکستان بننے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم چونکہ زمانہ طالبِ علمی میں اسکول کی بزمِ ادب کے صدر رہ چکے تھے اور اسٹیج پر جا کے بات کرنے کا شوق اور تجربہ بھی رکھتے تھے اور سونے پے سہاگہ کہ یار دوست مائیک پر بات کرنے کے ہمارے انداز و آواز کو بھی پسند کرتے تھے لہٰذا ہم دوستوں کے بہکاوے میں آ گئے۔ اُن کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے گئے۔ قصہ یوں ہے کہ دوست کہنے لگے کہ

Read more

ماضی کا دریچہ اور جفا کی رِیت

ویسے تو زندگی کی بہت سے جہتیں ہیں۔ میرے خیال میں وہ لوگ جو زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک کامیڈی ہے اور جو لوگ زندگی میں سوچتے ہیں ان کے لیے زندگی ایک ٹریجڈی ہے۔ آئیے ذرا تاریخ عالم سے اس کا مطلب سمجھتے ہیں۔ زندگی اپنے تمام تر جوبن پر اگر کسی میں نظر آتی ہو تو وہ شے زمانے کے مروجہ اصولوں کے خلاف بغاوت کا آموختہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بدھا

Read more

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

اکثر یہ بات سننے پڑھنے میں آتی ہے کہ شیعہ اگر ملحد بھی ہو جائے تو رہتا شیعہ ہی ہے۔ پورا سال نہیں تو محرم کے 10 دن تو وہ ضرور امامی اور کربلائی نظر آئے گا۔ جون ایلیا کے اس مشہور شعر سے یہ بات ادبی دلیل بھی حاصل کر لیتی ہے خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ غضب خدا کا ، ہم اپنے امام کے نہ رہیں جوش ملیح آبادی کے الحاد اور

Read more

اُداس نسلیں : ایک انسانی زاویہ سے نوآبادیاتی تاریخ کی داستاں

ننگی شاخوں پر پرندے خوراک کی امید میں بیٹھے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو دلاسا دے رہے ہیں۔ نیچے ان کے خداؤں کے کارواں اپنی حمد و ثناء گاتے ہوئے گزر رہے ہیں پر پیڑ کہاں ہیں؟ میں دنیا کے چوراہوں میں بیٹھ کر بھیک مانگتا ہوں۔ اور دنیا میں پیغمبر آنا بند ہو چکے ہیں۔ اب لوگ صرف کہانیاں سنا کر چلے جاتے ہیں۔ پر لوگ کہاں ہیں؟ ( 478) یہ نسلیں اپنی ذہنوں پر اُداسی کے بوجھ کے

Read more

پنجاب: لواخ کے بدلتے معنی کے تناظر میں

وہ شاعر اور ادیب جو مٹی کے بیانیے پر حملہ آور فاتحین کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں، مقامی کلچر اور زبان کے دشمن ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پستی کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی نظریہ ساز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مٹی سے جڑے ادیب اور شاعر اپنی اصل شناخت کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں ؛اختر رضا سلیمی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔

Read more

شاعروں کی شاعرانہ خصوصیات

شعرا کبھی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے تاہم بقول ڈاکٹر اشفاق احمد ورک شعرا ”تعارف“ کے سوا دنیا کی ہر چیز کے محتاج ہوتے ہیں۔ شعرا اپنی زندگی کا کچا چٹھا ببانگِ دُہل کھول سکتے ہیں۔ ان کے ہاں کردہ تو کیا نا کردہ سر گرمیوں کا بیان بھی خلعتِ فاخرہ سے کم نہیں ہوتا۔ شاعرات تک اپنے دل کی بات کھلے بندوں کہہ کر طشت از بام کر دیتی ہیں مگر عملی زندگی میں اپنی ہی کہی یا

Read more

 ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر

”ٹورنٹو دبئی اور مانچسٹر“ شاہد صدیقی صاحب کی آپ بیتی بھی ہے، رپورتاژ بھی یاد نامہ بھی مگر اس کو سفرنامہ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی پیشانی پر درج ہے دل فریب شہر دل کش کردار دل ربا کہانیاں انتساب کیا ہے اس کتاب کو اپنے مینٹور راج کے نام گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جدید سفر نامے کا کینوس وسیع ہوتا جا رہا ہے لیکن اسے پڑھ کر مجھے شفیق الرحمن کی برساتی کی فضا کا ایک

Read more

شمالی امریکہ کی شاعرات: ناہید ورک کے تراجم

ترجمہ وہ علاقہ غیر ہے جہاں جانے سے پہلے آپ سوچتے ہیں کہ اس علاقے میں جائیں کہ نہ جائیں۔ کچھ جیالے اور جیالیاں اس دریا میں بے خطر بھی کود پڑتے ہیں اور ان میں جو شناور ہوتے ہیں وہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر بھی دکھا دیتے ہیں۔ مگر یہ بہت سنجیدہ کام ہے اور تخلیق سے زیادہ صبر طلب بھی ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے جب ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو ایسے سنجیدہ کام

Read more

بصارت بصیرت اور تیسری آنکھ

  انسان کی تمام ترقی بصارت اور سماعت کی مرہون منت ہے۔ اگر یہ دونوں قوتیں انسان کو حاصل نہ ہوتیں تو ترقی کا سفر ناممکن تھا۔ قدرت نے بصارت کے لیے آنکھیں عطا کیں اور آنکھیں بصیرت کا موجب بنتی ہیں۔ بصیرت کا دائرہ صرف دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھنے کا نام نہیں ہے۔ موجود اشیا کا آنکھوں سے دیکھنا بصیرت کا ایک جز ہے۔ بصیرت کا میدان وسیع ہے۔ اس میدان میں شرم و حیا کے ٹھکانے بھی

Read more

علامہ اقبال کا پورٹریٹ

گھر کے سامان سے لدا ہوا ٹرک ایک قدرے خاموش گلی میں آ کر رکا۔ ہم مزدوروں کے شانہ بشانہ سامان چار منزلہ عمارت میں واقع ایک فلیٹ میں منتقل کرنے لگے۔ میرے ماموں نے کچھ عرصہ قبل اس شہر میں نیا کلینک شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فیملی کو بھی وہاں شفٹ کر لیا۔ اور میں میٹرک کی چھٹیاں گزارنے ان کے ساتھ چلا آیا تھا۔ وہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ گلی کی

Read more

پروفیسر ساجد صاحب کے ساتھ ایک ملاقات

دو روز پہلے، مجھے، فیس بک پر فعال ”پاکستانی ان ڈوئچ لینڈ“ نامی گروپ کے روحِ رواں، میونخ میں مقیم، عزیزی شارق جاوید صاحب کا فون آیا کہ وہ برلن میں ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ، بروز اتوار، مورخہ چودہ جولائی قبل از دوپہر، ایک پاکستانی ریستوران میں مل کر ناشتہ کرنے کا پلان بنایا ہے جس میں وہ مجھے مدعو کر رہے ہیں۔ اس غیر رسمی ملاقات کا کوئی باقاعدہ

Read more

وہ دور جب محبت کو ’بیماری‘ سمجھا جاتا اور مریض کو مرغی کا گوشت کھانا اور سرکہ پینا پڑتا

پرانے زمانے میں محبت کو کئی نام دیے گئے، مذہبی نقطہ نظر سے اس اصطلاح کا مطلب تھا اپنے پڑوسی کے لیے رضاکارانہ طور پر کچھ صدقہ وغیرہ کرنا۔ اس قسم کی محبت کا ذکر بائبل کے نسخوں اور ادب میں بھی ملتا ہے۔

Read more

قوم کے انہدام کا فسانہ

بحیثیت پاکستانی قوم ہماری شناخت قائم ہوئے لگ بھگ ستتر سال گزر چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ان ستتر سالوں میں سے چار عشرے ہم آمریت کی اندھیر نگری میں خوف، لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے مہیب بادلوں کے سائے میں بے سدھ پڑے رہے اور باقی عرصہ جمہوری آدرشوں کا علم تھامے نا انصافی، ظلم اور مساواتی کتاب کا پاٹھ پڑتے ہوئے پر پیچ راستوں پر پیش قدمی کرتے رہے۔ مگر سفر ہنوز جاری است ہمارا ماضی کسی

Read more

جنت کا ایک پلاٹ (مکمل کالم)

مراکش سے لندن کی پرواز قدرے تاخیر سے روانہ ہوئی، جہاز کے کپتان نے اس کے لیے معذرت بھی کی جسے سن کر یوں لگا جیسے وہ لطیفہ سنا رہا ہو، بعد میں پتا چلا کہ وہ واقعی لطیفہ تھا۔ ہوائی جہاز میں کیے جانے والے اعلانات ایسے ہی ہوتے ہیں، کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کپتان کیا کہہ رہا ہے، نہ جانے یہ مائک کو منہ کے بالکل ساتھ لگا کر کیوں بولتے ہیں۔ لندن اترے تو احسان شاہد

Read more

شعرا میں دائیں اور بائیں رجحانات کا خاتمہ

درست یہی ہے کہ رومان اردو شاعری کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ اظہار محبت کے ہزار ہا قرینوں کے باوجود مزید امکانات موجود ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ شعرا اس خاص اور پسندیدہ موضوع کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ محبت کے دائرے کو وسعت دے کر عوامی مشکلات کو زیر بحث لایا جائے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کے باوجود محبت کی شاعری کا جواز سمجھ

Read more

کالم: کالرج کے قبلائی خان سے بسمل کے رہتل تک

جن دِنوں میں ادب و تاریخ میں ماسٹرز کر رہا تھا تب ہمارے استادِ محترم نے اک خاص نکتہ بتایا وہ فرمانے لگے : ”بلال بیٹا! تاریخ میں اہم واقعات ہوتے رہے ہیں۔ ہم ’ارمیسو پوٹیمیا‘ سے ادبی تاریخ کا آغاز اسی سبب کرتے ہیں کہ وہاں پہ ہمیں اولین تاریخی شواہد ملے۔ ثبوت کی اہمیت جتنی قانون میں ہے وہی اہمیت ادب و تاریخ میں بھی موجود ہے۔ ہم کئی صدیوں پہلے اسکندریہ کی جلائی اور دریا بُرد کی

Read more

مرزا ابن حنیف: مرد افگن عشق

یہ کیسا ستم ہے جو مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے کہ جب میں ملتان جاؤں گا تو بیکن بکس کے سامنے یا کہیں آس پاس ابن حنیف مجھے نظر آ جائیں گے۔ سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پرانا بیگ دائیں بغل میں دابے، سفید کرتا اور شلوار پہنے، سڑک سے کچھ ہٹ کر سر جھکائے ہوئے، ارد گرد سے بالکل بے خبر اور بے نیاز ہو کر پیدل چلتے ہوئے مل جائیں گے۔ میں ایک دم ان کے سامنے

Read more

ہم بدلیں گے تو معاشرہ بدلے گا

حال ہی میں معروف ٹی وی اینکر آفتاب اقبال اور کامیڈین سہیل احمد کے درمیان میڈیا پر جو تو تو میں میں ہوئی اس میں آفتاب اقبال نے بتایا کہ ان کے پروگرام میں جو کامیڈین کام کرتے ہیں ان کی ماہانہ تنخواہ 35 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام ہفتے میں صرف دو یا تین دن ہوتا ہے۔ یہ کامیڈین سٹیج ڈرامے اور ملک اور بیرون ملک شوز بھی کرتے ہیں جہاں سے انہیں معقول

Read more

شاعر ،شاعری اور خواب در خواب

’خواب در خواب‘ ڈاکٹر خالد سہیل کے چار شعری اشاعت شدہ کتابوں کی کلیات ہے۔ کلیات ہمیشہ ضخیم ہوتی ہیں۔ یہ برس ہا برس کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔ تلاش پہلا مجموعہ آزاد فضائیں دوسرا خواب نگر تیسرا اور ادھورے خواب چوتھے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بالترتیب انیس سو چھیاسی، انیس سو نوے، اور دو مجموعہ کلام سن دو ہزار اٹھارہ میں پبلش ہوئے۔ سب سے پہلے میرے خواب آسا ذہن کو خواب در خواب کھٹکا خواب در خواب

Read more

غنیمت ہے زندگی: تیرہ فروری

 سردیوں کے خشک اور سرد ترین دن تھے، لاڑکانہ میں سردی بھی شدید اور گرمیاں بھی شدید ہوتیں ہیں، وہ بھی ایک سرد ترین دن تھا، فروری کی تیرہ تاریخ تھی، تیرہ کا ہندسہ امریکہ کینیڈا میں منحوس سمجھا جاتا ہے یہ بات ہمیں بڑے ہو کر معلوم ہوئی بہر حال اب کچھ نہیں ہو سکتا شکر ہے تاریخ تیرہ تھی لیکن دن بدھ کا، یعنی بدھ ہر کام سدھ یہ بڑوں کا کہنا ہے۔ تو جناب صبح کا وقت

Read more

”صد رنگ“ کی جلوہ گری

صد رنگ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر دو کالم شائع ہوئے ہیں۔ جو در اصل ہم سب کے مدیر وجاہت مسعود صاحب کے ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے لئے ہوئے، انٹرویوز ہیں۔ مسعود صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو خوب کنگھالا ہے۔ علم و ادب کی باتیں کیں، شعر و شاعری کا ذکر ہوا۔ شاعروں کو مقبول شعروں کے حوالے سے یاد کیا۔ یورپی نفسیات دانوں کو متعارف کرایا گیا، جو عام لوگوں کی نظر

Read more

فینی انجلینا ہیس: وہ خاتون جنھوں نے باورچی خانے کے ایک جزو سے مائیکرو بایولوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کیا

ایشیائی کھانوں کا یہ بنیادی جزو تقریباً 140 سال پہلے لیبارٹریوں میں کیسے پہنچا؟ یہ فینی انجلینا ہیس کی بدولت تھا ایک ایسی خاتون جن کے بارے میں بہت کم لوگوں نے سنا ہے۔ جن میں بہت سے مائکرو بایولوجسٹ بھی شامل ہیں۔

Read more

بھیشم ساہنی کی یاد میں

راولپنڈی، مارچ 1947ء ، ہندو مسلم فسادات کا زور ہے۔ گلیوں محلّوں میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ ایسے میں ایک جوان رضاکار اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گلی گلی جاکر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس دوران اُسے ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سا کنواں ہے اور عورتیں اپنی آبرو بچانے کے لیے بھاگ بھاگ کر اُس کنویں میں کود رہی ہیں،

Read more

تاریخ ادب کا ایک نادر تخلیقی شاہکار

داؤد کی لے ہے کہ ملائک کی صدا ہے اک اسم گرامی ہے کہ رس گھول رہا ہے سید تابش الوری 19 مئی 1939 ء کو پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار پاکستان کے صف ِ اول کے معروف و مشہور شعرا و ادبا کی فہرست میں ہوتا ہے شاعری کے علاوہ وہ صحافت اور عملی سیاست سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ تادم تحریر اُن کے تین اہم شعری

Read more

پُراسرار نینا ۔ فلم نگری کی جاگتی راتیں

شاہدہ جو کہ محسن عبداللہ کی فرماں بردار بیوی تھی اور اپنے گھرمیں خوش تھی اس لیے کہ علی گڑھ میں میاں بیوی کی محبت ہوئی تھی اور یہ محبت ان دونوں کے دلوں میں ایک عرصے تک برقرار رہی۔ شاہدہ اس قسم کی لڑکی تھی جو اپنے خاوند کے سوا اور کسی مرد کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی لیکن محسن عبداللہ ایسا نوجوان تھا جومختلف میوے چکھنے کا عادی تھا۔ شاہدہ کو اس کی اس عادت

Read more

عابد جنجوعہ: پوٹھوہاری گیت نگاری کا اہم نام

1983 ء میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں پنجابی پوٹھوہاری ادبی پروگرام ”پنجاب رنگ“ کے لئے پنجابی مشاعرے کی ریکارڈنگ ہوئی جس کے میزبان اختر امام رضوی اور پروڈیوسر شاہد اختر چک تھے، شعرا میں سید ضمیر جعفری، جلیل عالی، دلپذیر شاد، امداد ہمدانی، ماجد صدیقی، ڈاکٹر سعد اللہ کلیم، عابد جعفری، رشیدہ سلیم سیمیں، فضل الٰہی بہار، الطاف پرواز اور عابد حسین جنجوعہ تھے، مشاعرے میں ایک نوجوان نے پہلی بار شرکت کی اور اپنی پہلی پنجابی غزل پیش کی،

Read more

نعت نجات: سجاد حیدر، تجلیوں کی دھنک

حضورِ اقدس کی ذاتِ مبارکہ کے اوصاف اعمال کا تذکرہ نعت کہلاتا ہے۔ نعت لفظ اپنی بنیاد میں تعریف ہے، تاہم اصطلاح بن کر اس لفظ کا تعلق حضرت محمد کی تعریف سے جڑ گیا ہے اور یوں اس لفظ کا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک عظیم الشان شخصیت کی تعریف کے لیے منتخب ہو گیا ہے۔ نعت روایت اپنی زمانوی حدود و قیود سے آنحضرت سے ہی آغاز لیتی ہے۔ چوں کہ ہمارے یہاں ادب

Read more

ہیچ ہیں سب درد مرے

یہ شاید میرے ہی ساتھ ہوتا ہو کہ جب کوئی اچھی کتاب ختم کر لی جائے تو اس پر جلد کوئی رائے یا تبصرہ تحریر نہیں ہو پاتا۔ کچھ دن اس کتاب کو محسوس کرنے میں گزر جاتے ہیں۔ چند دن تک ذہن اس کی باز آفرینی اور فکری باریکیوں میں الجھا رہتا ہے اور معنی کی نت نئی تہیں خاموشی سے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لکھنے والے کی فنی مہارت سے تخلیق کیے گئے کئی دلگداز مناظر بار بار

Read more

بہتر برس کا نوجوان: ڈاکٹر خالد سہیل

آج نو جولائی انیس سو چوبیس ہے اور آج کے دن۔ ۔ ۔ مگر ٹھہریئے، آج پر بات کرنے سے پہلے اسّی کی دہائی کا ایک واقعہ سُن لیجیے۔ لاہور کے ہوٹل فلیٹیز کے کشادہ مرکزی ہال میں پاکستانی ثقافت پر ایک تقریب بپا تھی جس کی صدارت فیض احمد فیض صاحب کر رہے تھے۔ تقریب کے اختتام پر جب انھیں اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تو انھوں نے اپنی گفت گو کا آغاز کرتے ہوئے جہاں اس تقریب

Read more

بریانی، اُبلے انڈے اور تنقیدی شعور

امی یاد ہے آپ کو جب ہم مختلف تہواروں پہ ہونے والی دعوتوں میں جایا کرتے تھے۔ ہماری بیٹی چہک رہی تھی۔ ہاں بالکل۔ کیا دن تھے وہ بھی۔ خواب ہوئے اب تو۔ ہم نے اداس ہوتے ہوئے کہا۔ مزے کی بات بتاؤں؟ بتاؤ۔ کبھی کبھار ایسی دعوت بھی ہوتی تھی جہاں بہت مزیدار بریانی بنی ہوتی تھی مگر۔ ۔ ۔ مگر کیا؟ خوب لوازمات والی بریانی کے اوپر ابلے ہوئے انڈوں کی سجاوٹ۔ اف۔ بریانی بے چاری کا کنیا

Read more

”چُپ رہا نہیں جاتا“ کے چُپ چاپ مصنف کی گُل افشانی پرایک نظر

اگر آپ میری طرح طنزو مزاح نگار محمد عثمان جامعی سے بخوبی واقف ہیں تو اُس کی کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے پوری کتاب پڑھنی ضروری نہیں۔ یہ فتویٰ خاکسار نے بہت سوچ سمجھ کر صادر فرمایا ہے، مگر براہِ کرم آپ اسے اپنے حق سند سمجھتے ہوئے، ”مُفتہ“ مت طلب کیجئے گا، کیونکہ ہر ”مُفتہ“ پا نے والا، باقاعدہ مُفتی نہیں ہوتا۔ عثمان کی طنزیہ نگارشات میں شعوری محنت کار فرما ہے جو اَپنے قارئین کو

Read more

دوسرا گھر

”رات کو کہاں سوو گے؟“ ہفتے کے روز امی نے میرے بال بناتے ہوئے پوچھا۔ ”دوسرے گھر!“ میں نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا۔ گویا یہ کسی ان لکھے مگر پیشگی طے شدہ ضابطے کا حصہ تھا کہ ہفتے کے دن اگر امی وہ سوال کریں تو اس کا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں بنتا۔ جبکہ اگلے روز اتوار ہو اور چھٹی ہو۔ اس جواب کے لئے ہرگز کسی سوچ بچار کی ضرورت نہیں تھی: ”دوسرے گھر۔“

Read more

کرہ ارض کی پہلی و قدیم یونیورسٹی

آج آپ کوایک ایسی قدیم درسگاہ بارے بتاتے ہیں۔ جسے پہلی و قدیم یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مراکش کے تاریخی شہر فیض کو کرہ ارض کی پہلی یونیورسٹی قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس شہر کی ایک مسجد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 859 ء میں یہ ترقی کرتے کرتے ایک درسگاہ بن کر دنیا کے نقشے پر ابھری۔ یہ اسلامی سنہری دور کی درسگاہ جو نہ صرف تصوف میں یگانہ، بل کہ تعلیم کے میدان

Read more

راشد عباسی: پہاڑی زبان و ادب کی ترویج کے لئے سرگرداں شخصیت

فیس بک پر بہت سے قریبی لوگ اجنبی سے محسوس ہوتے اور کچھ لوگ، جن سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی پھر بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ چند سال قبل راشد عباسی صاحب سے فیس بک پر تعلق جڑا تو تھوڑے دنوں بعد ہی اجنبیت اپنائیت میں بدل گئی۔ فیس کے بعد واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو قربت مزید بڑھ گئی۔ راشد عباسی صاحب پہاڑی زبان اور اردو کے نامور لکھاری ہیں۔ وہ دونوں زبانوں میں

Read more

احمد ندیم قاسمی کی برسی کے حوالے سے مضمون

10 جولائی 2006 کو حضرت احمد ندیم قاسمی کا انتقال ہوا۔ ان کی برسی کی مناسبت سے کچھ یادیں پیش ہیں۔ مضمون میں جس دفتر کا ذکر ہے اس میں آج کل جناب عباس تابش جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ (ش، ن) ۔ ۔ ۔ کیا میں سورج پہ روشنی ڈالوں! تحریر : شہزاد نیر اردو کی دسویں جماعت کی کتاب میں ایک کہانی تھی ”گھر سے گھر تک“ ۔ سکول میں پڑھنے سے پہلے ہی گھر پہ پڑھ لی۔ پھر

Read more

استعمار زدہ معاشرے میں دانش اور دانشور

اطالوی مفکر، مصنف، اور ایکٹیوسٹ انتونیو گرامشی اور فرانسیسی فلسفی مشعل فوکو کے بعد ایڈورڈ سعید وہ مصنف ہے جس نے انسانی معاشروں میں موجود دانش اور دانشور کے کردار پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے گرامشی اور فوکو کے نظریات کی تشریح، توسیع اور نظری اطلاق کا کام کیا ہے۔ گرامشی کے پیش نظر فسطائیت کا شکار اٹلی تھا جبکہ سعید کی توجہ ان مغربی دانشوروں پر رہی جو مشرق اور بالخصوص اسلام پر اپنے متعصبانہ نظریات

Read more

سفید پرندے کا نوحہ: جنگ اور موت کی نظمیں

تاریخ عالم کو دیکھیں تو طاقت اور سلطنت کی ہوس میں جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آتا ہے۔ ادبیات عالم کا مطالعہ کریں تو دنیا کا بڑا اور معروف ادب رزمیہ شکل میں ملے گا۔ وہ گل گامش کے قصے ہوں، ہومر کی اوڈیسی ہو، عرب کی رجزیہ شاعری ہو، مہا بھارت یا رامائن ہو یا اصناف ادب مرثیہ ، شہر آشوب اور جنگیں۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا انسان جنگ

Read more

شاید نہیں: رفیع حیدر انجم کے افسانے

کائنات کا وجود میں آنا اور اس کے اندر فنا کا راز رکھ کر زندگی کو تجسس میں رکھنا کہانی ہے۔ کب کیا ہو گا، کی سوچ کہانیوں کو جنم دیتی ہے، تحیر اور وسعت سے ہمرکاب کرتی ہے۔ اپنے اطراف سے ایسی ہی ڈھیروں المیہ، طربیہ اور تجسس سے معمور کہانیاں ہم کہانی کار اپنے مزاج کے سانچوں میں ڈھالتے ہیں۔ دو چار کہانیاں مصنف کا اسلوب بتا دیتی ہیں۔ کہانی کار بیانیہ انداز اپناتا ہے لیکن کچھ کہانی

Read more

72 سالہ خالد سہیل سے اختلاف اور ماﺅں سے متعلق تجویز

آج 9 جولائی ہے، میرے عزیز دوست، استاد، ماہر نفسیات، صاحب دانش اور صاحب السیر ڈاکٹر خالد سہیل آج ٹھیک بہتر برس کے ہو گئے۔ 9 جولائی 1952 کو پیدا ہو کر خیبر میڈیکل کالج پشاور سے تعلیم پانے کے بعد پانچ دہائیوں سے دور دیس بسرام کرنے والے خالد سہیل نے کیسی تخلیقی، محبتوں سے لبریز، رنگوں میں ڈوبی اور حرف و دانش میں شرابور زندگی گزاری ہے۔ آج یار عزیز کا کچھ ذکر رہے۔ اس سے پہلے مگر

Read more

فلسطین، مغربی حکومتیں اور عالمی رائے عامہ: ڈاکٹر خالد سہیل کی رائے

میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر صاحب میرے لیے سات اکتوبر سے جون دو ہزار چوبیس تک کا سفر بہت تکلیف دہ رہا کیونکہ جہاں فلسطینیوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا نہ صرف بہت بہادری سے سامنا کیا بلکہ انہوں نے ان مظالم کو ڈاکومنٹ کیا اور ساری دنیا نے پہلی دفعہ مقتول کی آنکھ سے قتل عام کی دہشت کو دیکھا۔ کچھ واقعات آپ کے اندر بہت دکھ اور خاموشی پیدا کرتے ہیں۔ آپ کا ہر

Read more

کیا آپ موت کا انتظار کر رہے ہیں؟

میں یہ مضمون اپنے ایک بچپن کے دوست کے والد کی زندگی کی کہانی سے شروع کر رہا ہوں۔ میرے دوست ارشد محمود کے والد چوہدری سلیم احمد 1950 میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک مضافاتی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے میاں محمد بخش کالج میرپور سے گریجویشن کرنے کے بعد واپڈا میں ملازمت اختیار کر لی جہاں وہ انسپکٹر آف ورکس تعینات ہو گئے۔ اگلی ایک دہائی کے دوران ان کے ہاں تین بیٹیاں اور ایک بیٹے نے

Read more

خواجہ سرا،تاریخ ، تہذیب اور جدید دور

یوں تو اکثر ہم مذہب کے معاملات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسی وجہ سے جو کوئی ہمارے اردگرد مذہب کا لبادہ اوڑھ لے یا مذہب کا استعمال کرے تو وہ ہمارے لیئے محترم اور قابل احترام بن جایا کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی ظالم ، منافق اور مذہب کش روایات کا پیروکار ہی کیوں نہ ہو یعنی ہم یہ کہ سکتے ہیں ہم بطور معاشرہ اور قوم بالکل ہی اسلام دشمن اور انسانیت دشمن سرگرمیوں میں ملوث

Read more

"قدرِ مشترک : "درُونِ ذات کی سُلگ

سمیع اللہ عرفی سے اپنا تعارف اتنا پُرانا تو نہیں لیکن اپنائیت کا احساس ایسا ہے جیسے ہم کئی جنموں سے دوست ہوں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُن سے میری پہلی ملاقات حلقہ اربابِ ذوق، لائلپور کے ایک اجلاس میں ہوئی جس میں اُن کی ایک نظم تنقید کے لئے پیش کی گئی تھی۔ نظم، جدید استعارات و علامات کا مرقع تھی مگر نقاد روایتی تنقیدی و ادبی اوزاروں سے لیس ہو کر اس کے پیکر کے اندرون میں

Read more

نذر عابدؔ : ایک درویش شاعر

مرے وجود کے روزن سے روشنی پھوٹے میں وہ چراغ جلا کر مکان میں رکھوں (شہرِ صدا) سہ ماہی مجلہ ”دھنک رنگ“ جنوری تا مارچ 2024ء ڈاک کے ذریعے موصول ہوا تو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ادارے نے اس شمارے میں اُردو ادب کے ایک منجھے ہوئے ادیب، شاعر، نقاد اور استاد ڈاکٹر نذر عابد کے حوالے سے ایک خصوصی گوشہ شامل کیا ہے جس میں ملک بھر سے ان کے چاہنے والوں نے اُن کی

Read more

ہمیں بھی جینے کا حق چاہیے

زندگی کا ہر دن اس قدر مشکل اور درد ناک ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ میرے نزدیک تو یہ جبر مسلسل ہے جو ہم برداشت کر رہے ہیں۔ اس قدر مجبور اور بے یار و مددگار ہم ٹھہرے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ثابت ہوتی ہے کہ ہم پہلے بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ہیں۔ ہم اپنی زندگی کو رواں رکھنے اور بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے لیے حلال رزق کی خاطر اپنی زندگی

Read more

اکیسویں صدی کے طالب علم

پطرس بخاری نے اپنے  ایک مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں اپنے زمانے کے طالب علموں کی اقسام بیان کی ہیں ۔ مضمون کو منظر عام پہ آئے تقریباً ایک صدی کا عرصہ ہونے کو ہے اور اس دوران علم اور اس کے طالب کئی ارتقائی و ڈھٹائی تبدیلیوں اور ان نیچرل سلیکشن سے گزرے ہیں ۔ اس لیے اس نوع کی ہم عصری درجہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ مضمون ہذا میں اس نوع کو ان کے مضمون اور مزاج

Read more

جی ہاں، پانی چلتا رہے گا

چھوٹی عمر میں جو خفیہ حسرتیں پوری ہوتے ہوتے رہ گئیں اُن میں گرمی کی چھٹیوں میں دھاری دار پاجامے کو آدھا کر کے ’کاچھا‘ بنا لینے کی آرزو بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہ پرانے براؤن سینڈل کو کاٹیں اور سلیپر میں ڈھال لیں، جیسا کہ اپنے ارد گرد کئی بار ہوتے دیکھا۔ سیالکوٹ کے آبائی محلے میں البتہ ہم دونوں بھائی ذرا ’وکھری ٹائپ‘ کے بچے تھے جو گلی میں لاٹو اور چکئیاں چلانے یا ’سچل اور جھوٹل،

Read more

خود کلامی: اختر رضا سلیمی کا تخلیقی سفر

(بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کے بعد وادیِ تفہیم کی طرف ایک سفر) بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ میں نے رات گئے پوری توجہ سے سنی۔ ڈاکٹر روش ندیم صاحب، محترمہ ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر قاسم یعقوب صاحب کی گفتگو سنی تو نیند اڑ گئی۔ وہ گوشے جو تاریکی میں تھے ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ سونا سوگند ہوا تو خود کلامی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل

Read more

ہلکا نیلا نقطہ اور ہم: کائنات (13)

کائنات کا شہری بننے کا خواب دو ہزار سال پہلے اسکندریہ شہر میں دیکھا گیا تھا، جس کا نام اس کے مردہ فاتح سکندر اعظم نے رکھا تھا۔ ٹولیمی، یونانی بادشاہ جنہوں نے سکندر کی سلطنت کا مصری حصہ وراثت میں حاصل کیا، اس لائبریری اور اس سے منسلک تحقیقی ادارہ بنایا۔ شاذ و نادر ہی، اگر کبھی، پہلے یا اس کے بعد ، کوئی ایسی حکومت رہی ہو جو علم کے حصول پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا اتنا

Read more

بیت المقدس کے مسلمانوں سے دو مرتبہ چھن جانے کی وجہ

  جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ دو مرتبہ مسلمانوں کو بیت المقدس چھوڑنا پڑا۔ جس طرح قوم یہود کو ان کی غلطیوں کے باعث بیت المقدس چھن گیا تھا اسی طرح مسلمانوں کی بھی غلطیوں سے ایسا وقوع میں آیا۔ کیونکہ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کا مثل قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح سے آنحضرت ﷺ کو موسٰی علیہ السلام کا مثیل قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ کی امت بھی موسٰی علیہ السلام کی امت کے شانہ

Read more

ہیوبرس (Hubris): انا پرستی کی بدترین قسم

ہیوبرس یونانی زبان لفظ ہے جس کا مطلب ایک پر غرور اور تکبرانہ عمل جس سے دیوتا ناراض ہوتے ہیں۔ ڈیوڈ اوون 1980 ء میں برطانیہ کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کا لیڈر رہ چکا ہے۔ پیشہ کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر اور نفسیات اس کا شعبۂ خصوصی ہے۔ اس نے ڈیوک میڈیکل سنٹر نارتھ کیرولینا کے ایک ماہرِ نفسیات جوناتھن ڈیودسن کے ساتھ مل کر ایک میڈیکل جرنل ”برین“ میں ایک مضمون لکھا کہ ہیوبرس با اقتدار لوگوں اور

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ایک نوجوان کا ادبی سفر

کسی بھر سفر کے آغاز سے پہلے اگر آپ کی ملاقات کسی ماہر مسافر سے ہو جائے تو آپ کا سفر نہ صرف شاندار بلکہ یادگار بھی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی کچھ عرصہ قبل میرے ساتھ عملی زندگی میں ہوا، جب مجھے اپنے ادبی سفر کے آغاز سے پہلے کراچی میں میری ملاقات نامور شاعر اور معروف مصنف ڈاکٹر خالد سہیل سے ہوئی۔ وہ ان دنوں پاکستان اور خاص طور پر کراچی اپنے نوجوان دوست ایاز مورس سے ملنے

Read more

مریم نواز: احمد فراز اور فہمیدہ ریاض کا لطیفہ

مریم نواز نے جب پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو ان کے مخالفین کو بہت اعتراضات تھے جن میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں لیکن آج کے کالم کا مقصد وہ اعتراضات دہرانا یا ان کے جوابات لکھنا ہرگز نہیں ہے بلکہ مریم نواز کو ایک خطرے سے آگاہ کرنا ہے جو بہت ہی معمولی نظر آتا ہے لیکن سیاسی جان لیوا ہوتا ہے۔ آئیے پہلے مریم نواز پر اٹھنے والے اعتراضات اور ان کے جوابات کا

Read more

شعر کی جمالیاتی اپج

حسن عسکری نے اپنے مضمون ’کچھ فراق صاحب کے بارے میں‘ میں لکھا ہے ؛ ”شعر ایک جمالیاتی چیز سہی لیکن انسانی تجربے اور کائنات کی ماہیت کی تفتیش کا ذریعہ بھی ہے۔“ پیش منظر سے قطع نظر جزوی طور پر اردو شعر کی معنوی روایت میں ایسا بھاری بھر کم مقولہ شاید ہی کہیں زیرِ بحث لایا گیا ہو۔ خود حسن عسکری اسی کے آگے لکھتے ہیں ؛ ”یہ بات بلند بانگ معلوم ہوتی ہے، اسے بھی چھوڑیے۔“ جس

Read more

ایک ننھے بلیک میلر کی سرگزشت

میں نے پی۔ ٹی۔ وی کی گود میں آنکھ کھولی۔ مرینہ خان میرا پہلا کرش تھی تو راحت کاظمی اور جنید جمشید میرے ابتدائی رول ماڈل۔ ماموؤں کی فراوانی تھی لیکن چچا ایک بھی نہ تھا، لہٰذا میں نے صبح کی نشریات کے میزبان، مستنصر حسین تارڑ کو اپنا چچا بنا لیا۔ چار سال کی عمر میں سکول جانا شروع کیا تو یہ جان کر سخت مایوسی ہوئی کہ میرا ہر کلاس فیلو انہیں ’ذاتی‘ چچا سمجھتا تھا۔ احساسِ ملکیت

Read more

مجید امجد اور باطن کی مٹی

(اورینٹل کالج میں مجید امجد کی برسی پر پڑھی گئی ایک تحریر) صدر محترم، یہ کوئی علمی یا تدریسی مقالہ نہیں بلکہ میرے کچھ تاثرات ہیں جن کو میں اپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے محترم ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی طرف سے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے ’مجید امجد اور ثقافتی جڑیں‘۔ میں نے سوچا شاید اس کے لیے مجھے جڑانوالہ جانا پڑے گا لیکن پھر خیال آیا کہ ثقافتی جڑوں کا قصہ تو ڈیڑھ

Read more

کون صاحب؟

میں رات کے وقت ایک کزن کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ان دنوں بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی۔ گلی میں گھپ اندھیرا تھا۔ آس پاس کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ گلیاں ہماری دیکھی بھالی تھیں۔ سو ہم اندازے تخمینے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ میرے کزن کا ہیولا چل رہا تھا۔ دونوں طرف تاریکی میں ڈوبے مکانوں کے آثار تھے۔ ہمارے پیروں کو چھوتا گلی کا فرش ٹھیک سے دکھائی

Read more

سرمد نے دارا کو کونسی سلطنت بخشی؟

اُس دن شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ عام شہریوں میں یہ دہشت پھیلا دی گئی تھی کہ قانون کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے دارالحکومت نے سیاہ ماتمی لباس پہن لیا تھا۔ جس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا اُس کا نام سرمد تھا۔ قتل کا یہ فتویٰ جمعرات کو دیا گیا اور اُس کے شارع عام کے لئے اگلا دن جمعہ کا روز مقرر کیا گیا تھا۔ یہ 1661.62ء کا خونی سال

Read more

کہ از ساحل و خلیل، بوئے خرد نمی آید

جہالت سے مراد ناخواندگی نہیں بلکہ یہ ایک وکھری ٹائپ کی ذہنی کیفیت ہے جو اچھے خاصے تعلیم یافتاؤں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ ادھر کچھ چٹے ان پڑھ افراد انتہائی معاملہ فہم اور باشعور بھی ہوتے ہیں۔ جہالت جامعات و مدارس میں نہیں، صرف عملی تربیت سے کم ہو سکتی ہے۔ تربیت کی خشتِ اول کی کجی تا ثریا دھڑلے سے ساتھ نبھاتی ہے۔ ساحل (بروزن جاہل) نے جہالت کی جدید تعریف وضع فرمائی ہے کہ کسی علم

Read more

راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل (1857۔ 1785)

راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل ( 1857۔ 1785 ) ، دھرم سنگھ گورائیہ صاحب کی 1857 کے حالات و واقعات اور رائے احمد خان کی زندگی و مزاحمت پر لکھی گئی ایک نایاب کتاب ہے۔ اس کتاب کے اندر اس وقت کے پنجاب کے علاقے گوگیرہ اور جھامرہ میں ہونے والی مزاحمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی اور ثانوی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ہوئے اس مزاحمت کو بڑے احسن انداز بیان کیا ہے۔ انھوں

Read more

ساہیوال! تیرے اِنصاف پر صدقے

ساہیوال اور اوکاڑہ سے اپنی خاندانی عقیدت ہے اور پشاور سے اٹوٹ پیدائشی محبت۔ اوکاڑہ اور ساہیوال کا درمیانی فاصلہ تقریباً 50 کلومیٹر ہے جو لگ بھگ ایک گھنٹہ کی مسافت ہے۔ اوکاڑہ ہمارے والدِ گرامی کی جنم بھومی ہے جبکہ ساہیوال میں والدہِ محترمہ نے آنکھ کھولی اور شب و روز گزارے۔ یوں اِن دو شہروں کی مٹی کے ملن سے پشاور میں اپنا خمیر اُٹھا۔ ساہیوال پنجاب کا ایک خوبصورت اور سرسبز و شاداب شہر ہے۔ اس کا

Read more

انسان دشمن جرگہ سسٹم کو ختم کیا جائے

سندھ آج سنگین اور خطرناک صورتحال سے دو چار ہے۔ ایک طرف اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے نام پر سندھ کی زمینیں، وسائل اور جزیرے غیر ملکی سرمایہ داروں کو فروخت کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب قبائلی سرداری نظام اور کاروکاری کی فرسودہ روایات نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ وڈیروں اور سرداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اغوا، جرگوں، لوٹ مار اور ڈکیتیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں

Read more

اپنی بہترویں سالگرہ پر اپنے دوستوں کے لیے ایک ادبی تحفہ

جب مجھ سے ایک روایتی اور مذہبی دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! کیسے مزاج ہیں؟ اور میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ زندگی ایک محبوبہ کی طرح مہربان ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی پراسرار تھی۔ عین ممکن ہے ان کی زندگی میں جو محبوبہ آئی ہو وہ مہربان نہ ہو۔ اس نے ایک مشرقی اور روایتی محبوبہ کی طرح اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے بہت ظلم ڈھائے ہوں۔ ان کی محبوبہ

Read more

ادبی و پیشہ ورانہ زندگی کا رشتہ

خالد سہیل کا خط ! محترمی و مکرمی و معظمی حامد یزدانی صاحب میں جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنی نوجوانی میں میں ایک شاعر اور فلاسفر بننا چاہتا تھا اور میری والدہ مجھے ایک ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں چنانچہ میں ایک ماہر نفسیات بن گیا جس میں ایک شاعر ’ڈاکٹر اور فلاسفر آپس میں بغل گیر ہو گئے۔ کینیڈا آنے سے پہلے مجھے وہ دن رات اب بھی یاد ہیں

Read more

جب فرانس کے ’مذہبی اور پرہیزگار‘ بادشاہ کو مسلمان افواج نے مصر میں قید کر کے آٹھ لاکھ دینار تاوان وصول کیا

تین جولائی 1250 کو مصر میں ایوبی کی افواج نے فرانس کے بادشاہ لوئس IX کو جنگ فارسکور میں شکست دے کر گرفتار کر لیا اور پھر انھیں مصر کے شہر منصورہ میں ابن لقمان کے گھر میں قید کر دیا۔

Read more

دوحہ اجلاس: کیا پاکستان نے افغان طالبان کو ’ٹی ٹی پی‘ کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی پیغام دیا؟

دوحہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام دو دن تک جاری رہنے والے اجلاس میں مختلف ممالک نے شرکت اور طالبان سے تند و تیز سوالات بھی کیے۔ کیا پاکستان نے بھی افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق کوئی بات کی؟

Read more

بک ریویو : دھوپ میں لوگ (ناول)

غسان کنفانی کا ناول، ”دھوپ میں لوگ“ فلسطینی ادب کے اہم شاہکاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی تخلیقات میں ناول، مختصر کہانیاں، ڈرامے، بچوں کی کہانیاں، ادبی تنقید، اور سیاسی تحریریں شامل ہیں۔ کنفانی فلسطین کی آزادی کے ترجمان تھے اور ہفتہ وار اخبار، الہدف (مقصد) کی ادارت کرتے تھے۔ اپنی بیشتر افسانوی تحریروں میں، کنفانی جدیدیت پسند بیانیہ تکنیک استعمال کرتے ہیں تاکہ اجنبیت، جلاوطنی، اور قومی مزاحمت کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ تاہم،

Read more

کائنات : 11 کیا فنا ناگزیر ہے؟

کیا ہمارا مرنا ضروری ہے؟ کیا دریائے زمانہ میں تیرنے والے ایسے وجود بھی ہیں جو کائنات میں حیاتِ جاوید رکھتے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد وقت کو چاند اور ستاروں کی مدد سے یاد رکھتے تھے۔ لیکن یہاں پانچ ہزار سال پہلے وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے وقت کو گھنٹوں اور منٹ کے چھوٹے حصوں میں بانٹ دیا۔ وہ اس جگہ کو ”اوروک“ کہتے تھے۔ ہم اسے عراق کہتے ہیں۔ یہ بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کا ایک

Read more

میں اور میڈوسا ہنستے ہیں!

دنیا میں پچاس برس گزارنے کے بعد جب میں کسی حد تک کچھ باتوں کو تھوڑا بہت سمجھنے لگی تو میں نے محسوس کیا کہ میں بھی لکھ سکتی ہوں۔ اپنی یادوں کے بارے میں۔ اُن یادوں کے حوالے سے جن میں ایک عورت تھی۔ ایک عورت جس کے پاس مخصوص اور مختلف یادیں تھیں۔ ایک منفرد ماضی تھا۔

لکھنے سے مجھے لگا کہ میرا حال میرے ماضی سے الگ ہو رہا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک عورت تھی جس نے لکھنا شروع کیا اور اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی یادوں کے بارے میں لکھ سکتی ہے کیوں کہ ان یادوں میں ایک عورت تھی جو اس سے ملتی جلتی تھی، شباہت میں بھی اور حالات میں بھی۔ وہ عورت مجھ سے باتیں کرتی تھی اور مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی اور جو بھی وہ مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی مجھے لگتا تھا کہ وہ سب بہت جانا پہچانا، بہت دیکھا دیکھا اور بہت بیتا برتا سا ہے۔

اس نے مجھے بتایا اُسے اُس کے جسم سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ بے جسم ہے۔ اس نے کہا باڈی لسBodyless، تو تم سمجھتی ہی ہو گی لیکن میرا یہ بے جسمی پن یا باڈی لسنیس (Body lessness) بھوتوں پریتوں والا یا آواگوون اور روحوں والا نہیں، حقیقی ہے، بالکل حقیقی۔ تم مجھے چھو کر دیکھ سکتی ہو۔

Read more

شاہ صاحب کی کرامات

  روجھان میں میرا قیام پانچ ماہ تک رہا۔ مرغوں کی لڑائیاں کروانا لوگوں کا مرغوب مشغلہ تھا۔ جس جگہ مرغے لڑ رہے ہوتے وہاں تماشبینوں کی کافی تعداد اپنے اپنے مرغوں کو بغل میں دبائے موجود نظر آتی۔ آپ یہ بات سن کر حیران ہوں گے کہ وہ لوگ اپنے اپنے مرغوں کو اس لڑائی میں استعمال کیے جانے والے داؤ پیچ سے واقفیت حاصل کروانے کے لیے یہاں لایا کرتے تھے۔ شوٹنگ والی بال بھی یہاں کا مقبول

Read more

نوآبادیات سے نبرد آزما لواخ

اختر رضا سلیمی کا تیسرا ناول لواخ گزشتہ برس شائع ہوا۔ سلیمی کے پہلے ’ناول جاگے ہیں خواب میں‘ نے ادبی حلقوں میں بطور ناول نگاران کا ایک بھرپور تعارف کروا یا اور جندر نے اس پہچان پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ میں ان تینوں ناولوں کو ایک تسلسل میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی کسی معروف ناول نگار کا قول ہے کہ ناول نگار زندگی بھر ایک ہی ناول لکھتا ہے۔ میرا بھی خیال یہی ہے کہ کہانی ایک

Read more

دریائے جہلم کے کنارے ”جنت کا ٹکڑا“

راولپنڈی سے 124 کلومیٹر دور میر پور میں دریائے جہلم کے ”کنارے پر جنت کا ٹکڑا“ آکاب اسکول آف دی بلائنڈ قائم ہے کم و بیش ربع صدی بعد گزشتہ سے پیوستہ ہفتہ مجھے میر پور جانے کا اتفاق ہوا وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے صحافیوں کا قافلہ اس وقت میر پور میں داخل ہوا جب سورج اپنی تمام تر آگ برسا کر منگلا جھیل کے اس پار غروب ہو رہا تھا شام کے وقت ہمارا قافلہ میر پور

Read more

پیار کا پہلا شہر

ناول "پیار کا پہلا شہر” معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کی تحریر ہے۔ جو بیک وقت افسانہ نگار، مضمون نگار، کالم نگار اور ناول نگار ہیں۔ جنہوں نے نا صرف اردو ادب کی راہیں ہموار کیں بلکہ ادب کی دنیا میں نام کمایا۔ اس ناول کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ماسکو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سیلیبس کا حصہ ہے۔ اس ناول کا موضوع انسان کی سوچ ہے کہ ہر انسان کس طرح اپنے اندر اور باہر کی دنیا

Read more

نام سے امکان تک

مجھ سے اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ اردو ادب کی موجودہ دور میں کیا صورتحال ہے۔ماضی میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو اک طویل بہترین نظم و نثر لکھنے والے کی قطار ملتی ہے۔بہترین افسانہ نگاروں سے لے کر آزاد نظموں اور غزل لکھنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے آنے سے کیا لکھنے والے کم ہو گئے ہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال کہ اچھے لکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ کیا

Read more

آپریشن قلب ماہیت

ہماری ریاستی مقتدرہ نے پچھلی چار دہائیوں سے پروان چڑھتی انتہا پسندی، مہیب دہشتگردی اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ذہنی و سماجی انتشار پہ قابو پا کر معاشرے کی تطہیر اور مملکت کے نظم و ضبط کو بحال کرنے کی خاطر ”آپریشن عزم استحکام“ کے نام سے جس مساعی کی شروعات کا فیصلہ کیا، وہ ماضی قریب میں کیے جانے والے آپریشنز کے تلخ تجربات، گہرے ابہام اور معاشرے و ریاست کے مابین باہمی اعتماد کے فقدان کی وجہ سے

Read more

میرا داغستان: یوسف ابراہیم، شاہجہان اور میں

عید کے تیسرے روز بدھ کے دن صبح سویرے میں نے قسمت آزمائی کے لیے یوسف ابراہیم صاحب، شاہجہان اور دیگر صاحبان کے لیے پیغام چھوڑا کہ یارو! ملاقات کی کوئی صورت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کے ہم سب پھر کھیتوں کھلیانوں کو سینچنے اور سنوارنے کے لیے لوٹ جائیں اور پھر کسی اور تہوار کا انتظار کریں۔ یوسف صاحب کا جواب آیا کہ کچھ پرانے دوستوں کے نرغے میں ہوں اور وہ مجھے گھیر کر گورونانک پورہ

Read more

اکادمی ادبیات پاکستان کے کمال فن ایوارڈ کی روئیداد

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ایک سہ روزہ قومی تقریب تقسیم اعزازات کا گیارہ تا چودہ جون اسلام آباد ہوٹل میلوڈی میں انعقاد ہوا۔ یہ تقریب پہلے ہر سال منعقد ہوا کرتی تھی لیکن بوجوہ سال 2017 سے تعطل کا شکار تھی۔ سات سال کے تعطل کے بعد چند ماہ قبل تعینات ہونے والی اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے اس اہم قومی تقریب کا سلسلہ بحال کیا گیا جس کے لئے نہ

Read more

لوریاں اور موبائل فون: ہماری ماؤں کے لیے ایک لمحہ فکریہ

دنیا اور برصغیر میں ننھے بچوں کو لوریاں سنانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما اور والدین خصوصی ماں کی محبت و شفقت کے اظہار کا ذریعہ کہلاتی ہیں۔ اور ننھے بچوں کے لیے سکون اور اطمینان کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے ”لوری“ کو ایک ماں اور اس کی ممتا کا وہ پاک محبت کا نغمہ اور گیت قرار دیا جاتا ہے۔ جو دنیا میں آنے کے بعد بچے، والدین اور

Read more

"تضادات”: چند تاثرات

ملک کے بائیں بازو کے حلقوں میں رشید مصباح سے کون واقف نہیں۔ ان کا تعلق تو لائلپور سے تھا، اور انھوں نے انقلابی سیاست کا آغاز بھی لائلپور ہی سے کیا اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہات ہیں، وہ سیاست دان بھی تھے، افسانہ نگار بھی تھے، ترقی پسند تجزیہ نگار بھی تھے اور اس کے علاوہ مدرس اور منتظم بھی تھے۔ نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے لے کر پاکستان انقلابی پارٹی

Read more

سفر سے پہلے خواہ مخواہ سفری کالم – مکمل کالم

’مائی بیسٹ فرینڈ‘ والا چٹکلا تو آپ نے سُن رکھا ہو گا۔ ایک بچے نے مائی بیسٹ فرینڈ پر مضمون لکھ کر رَٹ لیا، اب جہاں بھی اسے انگریزی بولنے کی ضرورت پیش آتی، وہ تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ اِس مضمون کی انگریزی فر فر بولنی شروع کر دیتا۔ امتحان میں سوال آیا کہ ہوائی جہاز کے سفر پر مضمون لکھو، اُس نے لکھا کہ ”میں کراچی جانے کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوا تو یہ دیکھ کر

Read more

سرگوشیوں کا شہر

میں میکلوڈ روڈ پر واقع ایک بینک کی پارکنگ میں کھڑا ہوا تھا۔ میرے سامنے سرخ اینٹوں سے بنی لاہور ہوٹل کی عمارت تھی۔ اس کی پہلی منزل پر سہ طرفہ موٹر سائیکلوں کی ایک بڑی مارکیٹ تھی۔ دوسری منزل پر کاروں کی پارکنگ تھی۔ یہ وہی لاہور ہوٹل ہے جس کا ذکر متعدد بار اے حمید نے اپنی کتاب ”دیکھو شہر لاہور“ میں کیا تھا۔ وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ امپورٹڈ چائے پینے آتے تھے۔ بائیں جانب میکلوڈ

Read more

کیا آپ بھی نثری شاعری کے خلاف ہیں؟

ایک شام ہمارے عزیز دوستوں ہما دلاور، زبیر خواجہ اور ایڈن نے ہمیں اپنے گھر ڈنر کی دعوت دی۔ اس دعوت میں انہوں نے فیمیلی آف دی ہارٹ کے جن دیگر ممبران کو بھی مدعو کیا ان میں امیر حسین جعفری، سیمیں جاوید، عظمیٰ بنت عزیز، زہرا نقوی اور عسکری نقوی بھی شامل تھے۔ لذیذ کھانوں کے بعد ادبی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو نثری شاعری پر آ کر رک گیا۔ ہما دلاور نے ہمیں بتایا کہ جب انہوں

Read more

مکرمی مجیب الرحمن شامی صاحب کی خدمت میں ایک سوال

کچھ روز قبل سینئر صحافی مکرم مجیب الرحمن شامی صاحب کا ایک پروگرام ’دنیا نیوز‘ پر نشر ہوا۔ اس میں انہوں نے فرمایا ’ایک اقلیت تو ایسی ہے کہ ہم اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ہم انہیں قادیانی کہتے ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ آپ کو قربانی نہیں کرنے دیں گے۔ آپ کو نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔ آپ بکرے جو ہیں ہم اٹھا کر لے جائیں گے۔

Read more

دُعا عظیمی کے افسانوں کا مجموعہ : فریم سے باہر

فطرت نے ہر بچے کے اندر ایک جوہرِ خاص رکھا ہوتا ہے۔اور وہ جوہرِخاص’ تخلیقی جوہر‘ ہوتا ہے۔جس کی آبیاری اگر ایک محبت انگیز اور حوصلہ افزائی کرنے والے ماحول میں ہو تو اس کی تخلیقی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے اور وہ ایک سائنسدان، مفکر ، فلاسفر ، سیاسی لیڈر ، انقلابی رہنما، موسیقار، فنکار ، لکھاری یا شاعر بن کر اپنے معاشرے میں بسنے والے افراد کی زندگی میں محبت ، راحت اور مسرت کے رنگ بھر دیتا ہے۔

Read more

فرانز کافکا اور اردو فکشن

3 جون 1924 ء کو جب فرانز کافکا، تپِ دق کی تاب نہ لاتے ہوئے، ویانا کے سینی ٹوریم میں، مادی عالم سے ماورائی عالم میں منتقل ہوا تو ادبی دنیا میں کوئی ہلچل محسوس نہ ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اس وقت جرمن زبان کا ایک غیر معروف فکشن نگار تھا۔ جس لمحے وہ فوت ہوا اس کی کئی تحریریں غیر مطبوعہ تھیں جن کے بارے میں اس نے سخت نصیحت کی تھی کہ ان کو جلا دیا جائے

Read more

ترکیہ اور پاکستان :ادبی اور ثقافتی رشتے

(یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”اکیسویں صدی میں ادب، تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں ترکیہ پاکستان کے باہمی روابط“ میں بہ بطور مہمان خصوصی پیش کی جانے والی چند سطور) جب ترکیہ کو خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا تب سے ہمیں یہ ملک اپنا اپنا لگتا ہے ؛ ہمیشہ سے دل کے قریب۔ جدید

Read more

ژاں پال سارترکا ناول: متلی

”لا نوزے“ (La Nausée) فرانسیسی فلسفی اور ادیب ژاں پال سارتر کا مشہور ناول ہے جو 1938 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی کردار انتوان روکانتین ہے، جو اپنی زندگی کی بے معنویت اور وجود کی حقیقت کے حوالے سے ایک کشمکش میں دکھائی دیتا ہے۔ سارتر کے فلسفے کی بنیاد ”وجودیت“ ہے، جس کے مطابق انسان کی زندگی میں کوئی پیش فرض مقصد یا معنی نہیں ہوتا۔ انسان آزاد ہے اور اپنی زندگی کے معنی خود تخلیق کرنے

Read more

پسِ حرف بھی کچھ ہے

استاد کو علم تھا کہ اسے تیاری کرنی ہے، اور اس بنا پر وہ اس ملاقات کے لیے تیار تھا۔ اب یہ تو عجب بات ہے کہ استاد کو طالب علم سے میٹنگ کے لیے پہلے سے تیاری کرنی ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی استاد کے بہت اختیار ہیں، یہ اب وقت وقت اور جگہ جگہ کی بات ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں فرق ہے۔ کسی زمانے میں استاد نے جامعہ پنجاب میں پڑھایا تھا جہاں کا

Read more

علم کا سمندر اور دائرہ معارف: عبید اللہ بیگ

پی ٹی وی کو بہت سے با صلاحیت چہرے ملے جنھوں نے اپنی، ملک اور ٹی وی کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ عبیداللہ بیگ انہیں میں سے ایک ہیں۔ ان کی وفات پر ملک کے ایک بڑے اخبار نے انہیں گوگل، علم کا سمندر اور دائرہ معارف قرار دیا تھا۔ وہ اردو زبان و ادب کا حسین مرقع تھے۔ اردو کو اس کے اصل اور صحیح لب و لہجہ میں بولنا ان پر ختم تھا۔ یکم اکتوبر، 1936

Read more

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی دور کے اثرات

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے، ہمیں تاریخی، ثقافتی، اور ادبی پس منظر کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ برطانوی راج کے دوران، تقریباً دو سو سال تک، برصغیر کے ادبی اور ثقافتی میدان پر گہرا اثر پڑا۔ اس اثر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے، ہمیں مختلف زاویوں سے اس کا جائزہ لینا ہو گا: برطانوی نوآبادیاتی دور ( 1858۔ 1947 ) نے ہندوستانی معاشرت، سیاست، اور ثقافت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزی زبان نے

Read more

انجم سلیمی کے شعری مجموعہ” میں” کا تنقیدی جائزہ

پاکستان کے اہم شاعر، عالمی شہرت یافتہ، اپنے سنجیدہ لہجے کے حوالے سے معروف، انجم سلیمی صاحب 1963 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ 80 کی دہائی میں لائل پور شہر کی علمی ادبی سرگرمیوں سے منسلک ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے فیصل آباد شہر کے ثقافتی ورثے کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”سُکے اتھرو“ 1982 میں منظر عام پر آئی اور پنجابی شاعری میں اہم جگہ بنا گئی۔ 1996 میں دوسری کتاب

Read more

غیر سیاسی باتیں: جانب پردیس

پطرس بخاری بے بدل ادیب اور مزاح نگار تھے، وہ پیدا تو پشاور میں ہوئے لیکن زندگی لاہور میں بسر کی، وہ لاہور سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھتے اور عشق کرتے تھے شاید اسی لئے انہوں نے نیویارک میں قیام کے دوران صوفی تبسم کے نام ایک خط میں یہ سوال کیا کہ کیا لاہور اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟ یہ ان کی لاہور سے دیوانہ وار عاشقی کا والہانہ اظہار تھا دوسرے الفاظ

Read more