سفر

نورما ایک امریکن نژاد مسلمان لڑکی تھی جس کے ابا و اجداد کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن وہ کبھی پاکستان نہ گئی تھی کیونکہ اس کا خاندان کئی دہائیوں سے امریکہ میں آباد تھا۔ چند سال بیشتر نورما کے والدین پاکستان گئے تھے جو ان کی زندگی کا تلخ ترین تجربہ رہا۔ شدید گرمی، ٹریفک کا بے ہنگم شور اور بہت سے دوسرے عوامل تھے جن کے باعث وہ اپنی مقررہ مدت سے قبل ہی امریکہ واپس لوٹ گئے

Read more

پشتو ادبی کانفرنس۔ تینوں رخ

  جرگہ پاکستان نہ کوئی ادبی تنظیم ہے نہ روایتی اصطلاحی معنوں میں فلاحی تنظیم۔ یہ بس چند متحرک ساتھیوں کی اکٹھ ہے اور ان کے سرپرستوں کی مہربانی کہ وہ قلیل عرصے میں کئی ایک معنی خیز اور نتیجہ خیز تقریبات منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ عابد آفریدی اور ان کے دوستوں نے انہی سرگرمیوں کی وجہ سے پشاور سمیت نئے ضم شدہ اضلاع میں ایک پہچان بنالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صدارتی ایوارڈ یافتہ

Read more

حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد

ڈاکٹر عمیر منظر اپنی تصنیف و تالیف سے مستقل اپنے قارئین کو حیران کیے رہتے ہیں۔ "راجندر رمنچندہ بانی”، ”باتیں سخن کی”، ”رشید حسن خاں (کلام غالب شارح)” جیسی تخلیقی و تحقیقی کتابوں کے بعد ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنے دادا جان کی سفر حج پر مشتمل یاد داشتوں کو جمع کرکے ”حاجی نذیر احمد کے سفر حج کی مختصر روداد” کے نام سے شائع کیا ہے۔ تقریبا نوے صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان کے ذوق، محنت

Read more

آسرا…. سفید پوشوں کا

ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً  لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے

Read more

ذلتوں کے اسیر؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ (5)

نبیل کا مذہب کی طرف رحجان اسے فیملی پلاننگ کی نوکری خلاف شرع اور حرام سمجھنے پر اکساتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ شرع کا حوالہ نبیل کے لئے ایک ایسا ہتھیار ہے جو نبیل جہاں چاہے  استعمال کرلیتا ہے اور جہاں  چاہے اس کو بھول جاتا ہے۔ ان حالات میں شادی کے بعد وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ نبیل کے ہوائی قلعے، جھوٹی انا، مذہبی رحجانات اور اپنی پسند کی گردان نے اس عشق کے غبارے سے

Read more

کانفرنس آف برڈس

کردار۔ 1۔ ایک بوڑھا درخت 2۔ کبوتر 3۔ کوئل 4۔ کوا 5۔ مینا 6۔ بلبل 7۔ ابابیل سین ایک بوڑھا درخت اکیلا کھڑا ہے۔ مایوس اور فکر مند۔ کئی لمحے گزرتے ہیں۔ اچانک ایک کبوتر اور ایک کوا اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھتے ہیں۔ کوا اور کبوتر (ایک ہی آواز میں ) : سلام۔ بوڑھے درخت۔ کیسے ہو؟ درخت ( حیران ہو کر ) : سلام میرے کوے اور میرے کبوتر۔ میرے بچو۔ بڑے لمبے دنوں کے بعد

Read more

اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں

”اردو کی سماجی لغت ملوکیت، استعمار اور صنفی امتیاز کے تناظر میں“ ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی کی تازہ تحقیقی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب معاصر شعر و ادب کا ایک توانا اور معتبر نام ہیں۔ علم و ادب کے استاد ہونے کے ناتے اپنے طالب علموں کی تعلیم کے ساتھ تربیت ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ آپ طالب علموں کے ساتھ ساتھ سماج میں منفی رویوں کی مذمت اور مثبت اقدار کے فروغ کے سلسلے میں ہمیشہ متحرک نظر

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی -40

اسد اللہ خاں غالب نے آمد بہار کی جو منظر کشی حرف آخر کے طور پر کچھ یوں کی تھی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی کچھ ایسا ہی منظر کرسمس کی آمد سے کوئی ایک ماہ قبل اپنے گرد و پیش میں پایا جانے لگا۔ بل اور ڈورنگ نے کرسمس کا تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کی خاطر نومبر کے دوران چھٹی حاصل نہیں کی تھی

Read more

کتاب کا نام : عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عاؔرف

کسی تخلیق کار کی کامیابی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیق سبک رفتار سمے کی دھول میں اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ مقصدیت، معنویت اور افادیت وہ اوصاف ہیں جو اس وجود کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ تفریحی اور رومانوی ادب کی اپنی اہمیت ہے مگر تفریحی یا رومانوی ادب میں وہ پائیداری نہیں جو ادب عالیہ میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً رومانوی شاعری میں محبوب کی گیسوئے تابدار، نسوانی حسن، غزالاں سو

Read more

ہستی ایک مٹھی ریت کی

فطرت کا انتظام ایک مکمل نظام ہے۔ جس میں ہر چیز تسلسل کے دھارے میں رواں ہے اور وقت کی بھی پابند ہے۔ انسان اگر اس میں بگاڑ پیدا نہ کرے تو یہ بنی نوع آدم کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب مخلوق کی طرف سے کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو فطرت پھر بھی کوئی نہ کوئی راہ چھورتی ہے جس پر چل کر زوال زدہ انسان یا معاشرہ اپنی ترقی کی منزل کے طرف سفر جاری رکھ

Read more

شہید عبدالصمد خان اچکزئی: سوانح عمری کی روشنی میں

محمد نعیم آزاد پشتو زبان کی ایک توانا آواز ہے جو بے شمار ادبی موضوعات پر لکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک 21 کتابیں تصنیف کر کے پشتو ادب کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی ان کتابوں میں پشتو شاعری کی 3 کتابیں، 6 تحقیقی کتابیں، 2 ناول، 9 تراجم اور 1 سفرنامہ شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب خان عبدالصمد خان اچکزئی کی زندگی اور خدمات پر مبنی ہے جس میں مصنف نے خان عبدالصمد

Read more

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

وہ ایک عجیب سی جنگ تھی۔ جس میں مقصد واضح تھا نہ طریقہ کار۔ دشمن پوشیدہ تھا اور ہم ہویدا۔ دنیا کا سب سے امیر و طاقتور ملک ایک انتہائی غریب قوم پر حملہ آور تھا۔ افغانیوں کی زیست فاقوں سے تلملاتی تھی اور امریکیوں کے بازوؤں کی مچھلیاں پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔ امریکہ نے تو یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ ’ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف‘ ان کے قدم لیں گے لیکن اب انہی

Read more

احمد جاوید اور تہذیب سخن: چند تاثرات

گزشتہ دنوں جناب احمد جاوید کے ویڈیو پروگراموں کا ایک سلسلہ دیکھ رہا تھا جس کی پہلی وڈیو میں انہوں نے اپنی فکری تشکیل کے حوالے سے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا تھا کہ وہ سولہ برس کے تھے جب شاعری اور تصوف کے قوام سے ان کا ذوق مرتب ہو چکا تھا اور یہ کہ وہ تب تک ابن عربی کو نہ صرف پڑھنے لگے تھے، وجودی تجربے کے ساتھ سمجھنے کی طرف مائل بھی تھے۔ جب

Read more

مہتاب اکبر راشدی کا مجموعۂ مضامین ”منہنجی سوچ، منہنجو قلم“ (میری سوچ میرا قلم)

ملک کی معروف دانشور اور ثقافتی شخصیت مہتاب اکبر راشدی کو پاکستان ٹیلی وژن کے 1970 ء اور 1980 ء میں شہرت پانے والی مایۂ ناز میزبان کی حیثیت سے تو اس دور کے ناظرین میں سے ہر خاص و عام پہچانتا ہے، مگر ان کی دوسری اہم شناخت ایک منجھی ہوئی قلمکارہ کی ہے، جو متعدد نثری کتب کی مصنفہ بھی ہیں، جن کی کتب میں سے اکثر پچھلے ایک عشرے میں شائع ہوئی ہیں۔ نثر ان کا کلیدی

Read more

تیاگی گئی محبتیں اور ذبح کی گئی شیر جوانیاں!

میں کافی دیر قلم ہاتھ میں لیے ساکت رہا۔ الفاظ کے انتظار میں تھا کہ کہیں سے آ کر میری مدد کریں۔ آفات نے تو ہمارے ملک کا گھر دیکھ لیا ہے، اور ساتھ ساتھ سانحات نے بھی صدائیں لگا رکھیں ہیں کہ ہم سینہ کوبی کیوں نہیں کرتے، نوحے کیوں نہیں پڑھتے! آنسؤں کا آنکھوں میں پتھر ہونا کئی جگہ نثر اور نظم میں پڑھا تھا۔ بس آج اس کو محسوس کر لیا۔ پتھر جسم، پتھر آنکھیں اور پتھر

Read more

کابل سے بھاگنے والے اور دیگر پناہ گزین

نو دسمبر 2001 ء کی خنک صبح ہے سعودی ایرلائن کی پرواز کراچی ائرپورٹ سے ریاض روانگی کے لئے تیار ہے۔ بوئنگ 777 کے کشادہ طیارہ پر 380 مسافر سوار ہیں۔ نصف سے زیادہ ڈاکٹر، دیگر طبی عملہ اور ان کے خاندان ہیں۔ یہ سب پاکستان سے نکلنے کی منہ مانگی قیمت ادا کرتے آئے ہیں۔ فلائٹ کا ماحول بہت خوشگوار ہے۔ اکثر افراد نے تھری پیس سوٹ زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ سعودی وزارت صحت کے فراہم کردہ ٹکٹ پر سامان کی حد بیس کلو ہے لیکن ہر فرد کم از کم ایک سو کلو اسباب ساتھ لے آیا ہے۔ نئی جگہ ہے۔ کیا پتہ من پسند کھانے، کپڑے، برتن وغیرہ ملیں یا نہیں۔

Read more

ٹیلی ویژن ڈرامے "سہ پہر میں دکھ” کا فنی اور نفسیاتی جائزہ

ڈرامہ عملی زندگی کی تصویر دکھاتا ہے جس میں مختلف کردار اپنی گفتگو اور عمل کے ذریعے اسے جامع انداز میں اسٹیج پر پیش کرتے ہیں، تاکہ ڈرامہ دیکھنے والے کا دل بے اختیار ہو کر سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ زندگی میں کتنے دکھ اور سکھ ہیں۔ ان کی تعداد اور وقت کا کوئی تعین نہیں کر سکتا۔ بلاشبہ ان دکھوں کا واسطہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک جڑا نظر آتا ہے۔ انسان ہر روز

Read more

خالد مسعود خان کی خود نوشت: زمستاں کی بارش

خالد مسعود خان واقعی ایک استاد آدمی ہے، مگر وہ پڑھا لکھا استاد نہیں جو کسی مدرسہ، اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں اپنے شاگردوں کو مرئی یا غیر مرئی مولابخش کی مار، سے ڈرا، دھمکا کر نصابی کتابیں ازبر کراتا ہے۔ بلکہ خالد مسعود خان تو چٹا ان پڑھ یا واجبی سی تعلیم رکھنے والے اس سیدھے سادھے استاد کی مانند ہے جو ہمارے ملک کے ہر چھوٹے بڑے قصبہ، دیہات یا شہر کی کسی گلی نکڑ پر واقع خستہ

Read more

کیا پرچم کے سبز رنگ اور ہلال کی مذہبی بنیاد ہے؟ (2)

پہلی قسط پڑھنے کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کیجئے https://www.humsub.com.pk/513551/dr-mohammad-saleem-saudi-arabia-7/ سبز رنگ کے مقابلہ چاند یا چاند ستارہ کو زیادہ بڑی علامت کہہ سکتے ہیں۔ سبز رنگ تو کچھ ممالک کے پرچم تک محدود ہے۔ اس کے برعکس نشان ہلال (یا پورا چاند یا چاند ستارہ) بہت سے مسلم اکثریت والے ممالک کے پرچم کا حصہ ہے۔ ویسے تو دنیا کی مختلف قوموں میں چاند کو معبود یا کم از کم علامت کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ہندوستان،

Read more

’قاضی شمشیر‘ ، پاکستانی سیاست اور مولانا مودودی

معاشرہ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ زندگی اور موت، تعمیر اور تخریب کا معاشرتی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ تاہم جب موت کے سائے گہرے اور تخریب کے حوالے بڑھ جائیں تو معاشرہ بیماری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال میں زندگی اور تعمیر کی قوتوں کے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا بھرپور اور مثبت کردار ادا کر کے معاشرے کو زندگی اور تعمیر کا نمونہ بنائیں۔ پاکستانی معاشرہ بھی اسی طرح کی کش مکش سے دوچار

Read more

خالد احمد: ادب کا گگلی بولر

ادھر کینیڈا، شمالی امریکا میں موسم گرما کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ طویل اور ”پرتشدد“ سردیوں کے بعد بہار کی خوش گوار خنکی کا دورانیہ رفتہ رفتہ گرمیوں کی پرتپاک تمازت میں ڈھلتا چلا جا رہا ہے۔ جنوب ایشیائی ممالک کے برعکس یورپ اور شمالی امریکا میں اس موسم کا خیر مقدم خاصے جوش و خروش سے کیا جاتا ہے کیوں کہ اسی رت میں دھوپ سے چمکتے دنوں کے ساحل پر کچھ کھل کر کھیلا جا سکتا ہے۔ بدلتی

Read more

فلم اور ٹی وی کے لیے لکھتے ہوئے کیا خیال رکھنا ہے

داستان گو جس سے مخاطب ہے، اس کا ہاتھ ان سامعین/قارئین/ ناظرین کی نبض پر ہونا چاہیے۔ کمرشل رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے ٹارگٹ آڈینس کو سمجھنا ہے کہ ہم جو لکھ رہے ہیں، وہ کس کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر ہم اردو میں لکھتے ہیں تو یقیناً اردو بولنے والے قارئین/ناظرین کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ وہ مصنف جو پاکستانی ٹیلے ویژن چینلوں کے لیے لکھتے ہیں، انھیں پاکستان کے شہریوں کے رسم و رواج

Read more

اب دعائے نیم شب میں کس کو یاد آؤں گا میں

میرا ددھیال لکھنؤ کی ایک مضافاتی آبادی” نگرام” سے ہے جو لکھنئو سے صرف چند کوس کے فاصلے پر واقع تھا۔ نگرام اور خاص طور سے میرے خاندان میں بڑی بڑی علمی اور ادبی شخصیات نے جنم لیا جو اپنے وقت میں برصغیر کی سطح پر جانے اور مانے گئے۔ میرے والد مرحوم بھی نگرام ہی میں غالباً انیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوئے۔ میرے دادا جناب مختار احمد کے تین بیٹے تھے۔ سب سے بڑے بیٹے میرے والد

Read more

مجاہد آزادی اور پہلی پسماندہ تحریک کے بانی، مولانا علی حسین عاصم بہاری

سوانح حیات مجاہد آزادی اور پہلی پسماندہ تحریک کے بانی، مولانا علی حسین عاصم بہاری پیدائش: 15 اپریل 1890 انتقال: 6 دسمبر 1953 15 اپریل 1890 کو مولانا علی حسین عاصم بہاری پیدا ہوئے، محلہ خاص گنج، بہار شریف، ضلع نالینڈ میں، بہار، ایک غریب دیندارپسماندہ گھرانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سال 1906 میں، 16 سال کی عمر میں، عمر نے کولکتہ میں اپنا کیریئر شروع کیا۔ کام کے ساتھ مطالعہ (تحریری پڑھنے ) کے ساتھ بھی جاری رہا۔ متعدد

Read more

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

مولانا روم اپنے احباب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ رات کا وقت تھا کہ ایک تنگ گلی میں پہنچے آگے ایک بڑا تگڑا کتا سویا ہوا تھا جس کے موجب راستہ رک گیا اگر اوپر سے پھلانگ کے جائیں تو وہ کتا اٹھ جائے گا مولانا روم کھڑے ہو گئے اور تا دیر کھڑے رہے۔ ایک شخص آیا اور دور کر کتے کو پاؤں سے مار کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جس پر مولانا نے پکڑ لیا

Read more

کراچی میں جماعت اسلامی کی شکست: جوش ملیح آبادی کی نظر میں

ادیب معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں، یہ وہ سب قبل از وقت دیکھ لیتے ہیں جن حقائق تک ایک عام آنکھ کی رسائی نہیں ہوتی، بانی جماعت اسلامی ابوالاعلی مودودی کی جوش ملیح آبادی کے ساتھ کافی قربت رہی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”جوش سے زیادہ جماعت اسلامی یا ان کے منشور کو کون جانتا ہو گا“ ؟ 1971 کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو بری طرح سے شکست ہوئی جبکہ پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے

Read more

طارق ملک کا استعفیٰ

دوسرے ممالک ترقی کی منازل طے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم ابھی تک دائروں میں سفر کر رہے ہیں۔ پائیدار ترقی کے لئے نظام کا تسلسل ضروری ہوتا ہے لیکن ہم ہر چند سال بعد نیا تجربہ کرتے ہیں اور یوں ہم ”زیرو پوائنٹ“ پرہی کھڑے ہیں۔ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی اپنا کام نہیں کرتا البتہ دوسرے کے کاموں میں دخل دینا فیشن بن گیا ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن

Read more

ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم

سرخیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! چوتھی قسط

ثانیہ کے ساتھ فیملی پلاننگ کے دفتر میں کام کرنے والی عورتیں بھی حالات کے جبر کا شکار ہیں۔ نوکری برقرار رکھنے اور ترقی پانے کے لئے انہیں افسروں تک رسائی رکھنی پڑتی ہے۔ رسائی یا حاضری میں افسروں کو وہ سب کچھ دینا شامل ہے جو وہ مانگیں۔

ثانیہ معاشرے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے اور ہر طرف سے مرد کے اندر پائی جانے والی کجی منعکس ہو کر ثانیہ کے سامنے منہ پھاڑے کھڑی ہے۔

ثانیہ کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والی رضیہ کا باپ مر چکا ہے۔ باپ کے مرنے کے بعد جب ماں نے گھر چلانے کے لئے کام شروع کیا تو محلے والوں نے بیوہ عورت اور اس کی تین بیٹیوں کا جینا دو بھر کر دیا۔ یہ سوال کسی کے لئے اہم نہیں تھا کہ چار افراد کے پیٹ میں روٹی کہاں سے آئے گی؟ اہم تھا تو یہ کہ ایک عورت نے گھر کی بقا کے لئے ملازمت شروع کر دی تھی۔ عورت کا گھر سے نکلنا پدرسری نظام کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے جو اس کے بنیادی مہرے مرد کو کسی طور پسند نہیں۔

Read more

شندور میلہ کیلنڈر ایونٹ اور مقامی ثقافت کی نظر اندازی

کسی بھی علاقے میں منائے جانے والے مقامی تہوار کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ ان تہواروں کی وجہ سے علاقے کی پہچان، زبان و ثقافت کی ترقی اور آپس میں بھائی چارے کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ یہیں مقامی میلے اور جشن ہوتے ہیں جن میں علاقے کے مقامی لوگوں کو اپنی روایات، ثقافت اور ادب کو دوسرے قوموں کے سامنے پیش کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ان میلوں سے مقامی گلوکاروں اور فن کاروں کی پہچان بنتی ہے

Read more

اردو افسانے کا دوسرا جنم

اردو افسانہ دوسری اصناف ادب کی نسبت ایک نووارد صنف سخن ہے جس کا ظہور گزشتہ دہائی میں مغربی ادب کے توسل سے ہوا۔ اس صنف کی خوش بختی کہ اسے اردو میں ابتدا ہی سے پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، رشید جہاں ایسے نابغہ روزگار تخلیق کار میسر آئے جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے یہ صنف ادب میں مرکزیت اختیار کر گئی۔ جدید فکری رویے، فنی میلانات، ثقافتی و تہذیبی تغیرات اور لسانی ڈھانچے جس طرح

Read more

ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان؟

ہمارے عہد کا سب سے بڑا تاریخ دان کون ہے یہ ایک سوال ہے۔ جو مجھ سے گزشتہ سال مختلف یونی ورسٹیوں کے طلبہ نے دوران لیکچرز پوچھا۔ سچ تو یہ ہے اس بات پر کبھی میں نے اس طرح غور ہی نہیں کیا تھا۔ ذہین میں جب اس سوال پر کئی ماہ غور کیا تو کچھ یہ سمجھ میں آیا۔ ایک تو یہ کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ورلڈ کلاس ایلیٹ یونی ورسٹی ہی کوئی نہیں۔ اس لئے

Read more

مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات حصہ پنجم ”منیر البعلبکی“

منیر عبد الحفیظ البعلبکی ایک لبنانی مصنف اور مترجم تھا، جسے عربی ترجمے کا ترجمان کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا، جب ہم منیر البعلبکی کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہم اس شخص کی تعریف کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے ادبی و علمی رجحان اور ذہانت کے بارے میں ہے، جو ہر عرب دانشور، محقق اور طالب علم کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔ منیر البعلبکی نہ صرف مصنف اور مترجم تھا، بلکہ اس کا اصل کارنامہ

Read more

یاسر جواد، کتاب کہانی

یہ کتاب نہیں ہے الفاظ کا سیل آب ہے جو آنکھوں کو پہلے تو دھندلاتا ہے پھر ان میں ایک پانی کی لکیر سی امنڈ آتی ہے۔ اس ’شفاف نظری‘ کے بعد تقریباً ساٹھ ستر صفحات تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آبدیدہ و چشم پرنم قاری کو لکھاری نے کس سادگی اور چابکدستی سے گھیرا اور پھر مشکیں باندھ کے کس طرح سائیکل پہ ساتھ بٹھا، کبھی غلیل اڑاتے کبھی سودا لاتے، کن بھولے بسرے جہانوں کی سیر کروا

Read more

میرے والد اور میں

ابا کی تعریف لکھنا روبوٹک اور روایتی کام ہے۔ ہر شخص اپنے ابا کو قائد اعظم یا آئیڈیل، نبی، پیغمبر کے روپ میں دیکھتا ہے۔ وہ لوگ بدقسمت ہوتے ہیں جو ابا کو ایک انسان کی طرح دیکھنے کی اہلیت حاصل کر جاتے ہیں۔ میرے والد دنیا کے شریف ترین۔ سادہ مزاج۔ آسانی سے دھوکہ کھانے والے۔ لوگوں کی بلاوجہ عزت کرنے والے اور طارق جمیل جیسی شخصیات کو اسلام اور انسانیت کی معراج جانتے تھے۔ بدقسمت رہے کہ تعلیم

Read more

کیا میر کی شہرت مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہے؟

آج تک یہی پڑھا اور سنا ہے کہ میر تقی میر اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ میر کے زمانے میں مغلیہ سلطنت ادھڑ رہی تھی۔ بنگال کی طرف سے انگریز پیش قدمی کر رہے تھے، جنوب کی طرف سے مرہٹے حملہ آور تھے اور رہی سہی کسر افغان حملہ آور پوری کر رہے تھے۔ میر کا زمانہ غدر، طواف الملوکی اور افراتفری سے عبارت ہے۔ جس نے میر کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے جن کا اظہار

Read more

فردوسی: ’عجم کو زندہ کرنے والے‘ فارسی شاعر جو محمود غزنوی سے انعام حاصل نہ کر سکے

یہ کوئی ہزار سال پرانی بات ہے جب ہندوستان پر محمود غزنوی کے پے در پے حملے ہو رہے تھے اور اس نے اپنے تقریبا 30-31 سالہ دور حکومت میں کوئی 17 بار ہندوستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے اور بڑی مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا۔

Read more

مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات (4)

لبنان میں جدید عہد کے ادبی نشاة ثانیہ کا علمبردار کہلانے والا، مارون بن حنا بن الخوری یوحنا عبود سنۂ 1885 لبنان کے علاقے جبیل کے ایک گاؤں ”عین کفا“ میں پیدا ہوا، مارون عبود نے عرب دنیا میں بطور صحافی، طنزیہ ناول نگار، نقاد، تجزیہ کار، استاد، مصنف ناول نگار اور شاعر کی حیثیت سے مقبول ہوا۔ پہلی ابتدائی تعلیم گاؤں میں۔ ہی بلوط کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر حاصل کی، پھر سینٹ سسائن، اور پھر عیسائی مشنری

Read more

ہسٹری ہینکر اور راکھ کا شہر

یو ٹیوب چینل ہسٹری ہینکر کی نئی پوسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ نئی پوسٹ معلوماتی سے بڑھ کر اچھی خاصی ہولناک اور دہشتناک تھی۔ وحشت اور ہولناکی ہسٹری ہینکر کے لفظوں اور چہرے کے تاثرات سے تو اتنی عیاں نہیں تھی جتنی ماحول سے چھلک کر اعصاب پہ اثر انداز ہو رہی تھی۔ ہسٹری ہینکر اس دفعہ دنیا کے ویرانے و عجائبات و قدامت دریافت کرتے ہوئے سدوم وعمورة کی عذاب الہی سے اب تک جھوجھتی برباد بستیوں پہ جا

Read more

قطبی ستارہ: کامریڈ ظفر محی الدین

ظفر محی الدین 3، جنوری، 1948 ء کو حیدرآباد دکن (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے بعد ان کے والدین نے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں سکونت اختیار کی۔ ان کے والد غوث محی الدین جو جامعہ عثمانیہ کے گریجویٹ اور معروف رسالہ ماہ نامہ ”سویرا“ حیدرآباد، دکن کے مدیر اعلی تھے ان کے فکری اور علمی حوالے سے استاد تھے جن کی خصوصی تربیت نے انہیں مطالعے، مشاہدے اور قلم و قرطاس کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ 1960

Read more

باپ: اولاد کے لئے سائبان

مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر ادب کا ایک گہرا سمندر بہتا ہے جس کو مجھے دنیا کو دکھانا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا بہت کٹھن امر ہے۔ اپنے کاموں میں معروف تھا کہ خیال آیا کہ جون میں ”فادرز ڈے“ منایا جاتا ہے جو اس سال اتوار 18 جون کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائے گا تو آج اس آرٹیکل میں باپ کی قربانی، عظمت اور کردار پر

Read more

مسیحی علما کی عربی زبان کی خدمات (3)

  دو صدیاں بیت جانے والے اس شخص کا تعارف وہ لقب ہے جو اسے عربی زبان کی خدمت میں استاد کی حیثیت سے ملا، جب عرب ثقافت ڈوب رہی تھی تو انہیں وہاں ”روشن خیالی کا باپ“ اور ”عرب نشاتہ ثانیہ کے علمبرداروں کے علمبردار“ کہا گیا، بطرس البستانی لبنانی مصنف، تاریخ دان عرب دنیا کے ادبی حلقوں میں ”المعلم بطرس“ کے خطاب سے معروف ہونے والا، عرب نشاتہ ثانیہ کے سب سے بڑے ستونوں میں سے ایک تھا،

Read more

فیضؔ کی جمالیاتی اور معنیاتی قدر اور گوپی چند نارنگ

نظریاتی شاعروں کی بڑی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ انھیں ان کی فکر (آئیڈیالوجی) سے باہر نکل کر دیکھنے کی کوشش بالعموم نہیں کی جاتی۔ ان کے موضوع یا معنی کو جمالیاتی سطح سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یوں ان کی شاعری کے جمالیاتی پہلو کو ان کے نظریے یا آئیڈیالوجی کے اندر جکڑ کر مار دیا جاتا ہے۔ اردو میں اس کی دو بڑی مثالیں اقبالؔ اور فیضؔ کی ہیں۔ فیضؔ کو ایک عرصے تک (اور

Read more

آئی جی پی عثمان انور پنجاب پولیس اور حقائق

عثمان انور صاحب آئی جی پنجاب ہیں۔ میری مرحوم سی سی پی او عمر شیخ سے یاد اللہ تھی۔ ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی صاحب سے احترام والا رشتہ ہے۔ ڈی پی او وسیم گورمانی میرے سکول سینئیر اور قریبی ہمسائے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے پیشے کے تقاضوں کی بدولت درجنوں ڈی پی اوز سے واسطہ رہا ہے۔  میرا مجموعی تجربہ کہتا ہے کہ اکثر افسران وہ ہیں جو ادھیڑ عمری کی وجہ سے یا شاید عہدے کے کروفر

Read more

ہم لڑکیوں کی دوستی

جب لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں تو سب سے پہلے ان کی دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی دوستی کو مذاق اور ٹھٹھے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی دوستی کو حسد اور کپڑوں جوتوں کی سیاست کے نام دے رکھے ہیں مگر حقیقت تو ہمیں معلوم ہے۔ جو محبت سہیلیوں کو ایک دوسرے سے ہوتی ہے، وہ تو کبھی عام کی ہی نہیں گئی۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں مگر ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم

Read more

مسیحی علما کی عربی زبان کی خدمات (2)

لبنانی مصنف، زبان داں اور شاعر ناصیف بن عبد اللہ بن جملات بن سعد ال یزجیجس کے بارے میں مشہور تھا کہ "یہ وہ عیسائی اہل علم تھا جو قرآن کریم کی ایک کے بعد ایک آیت یاد کیا کرتا تھا, اور انہیں قرآن حفظ تھا، متنبی کے اشعار زبان ازبر تھے، عربی کہاوتیں، محاورے لطیفے و کہانیاں ہر گفتگو میں اس کی زبان پر ہوتی تھیں، عربی محاوروں کی اصل، عرب اشعار کے شعراء کے ریفرنسز اس کے کمال

Read more

خبط عظمت کا وہم

ایک صاحب کو وہم ہو گیا کہ وہ شیشے کے بنے ہوئے ہیں، کسی نے انہیں چھو بھی لیا تو چکنا چور ہو جائیں گے۔ ماہرین نفسیات نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ مصر رہے کہ میرا بدن شیشے کا ہے۔ ایک حکیم نے دعویٰ کیا کہ وہ مریض کو 5 منٹ میں ٹھیک کر دے گا۔ گھر والوں نے خوشی خوشی اسے بلا لیا۔ حکیم صاحب نے آتے ہی ڈنڈا نکالا اور ”مریض“ کی دھلائی شروع کر دی۔ لوگوں

Read more

جب استاد دامن نے مشاعرہ لوٹا

(افضال احمد کیا نتھری ہوئی نثر لکھتے تھے۔ نثر ایسا بلوریں پیالہ ہے کہ لکھنے والے کی ذات کسی پردے کی اوٹ نہیں لے سکتی۔ نثر میں ایک بے محل لفظ سب کیا دھرا بے نقاب کر دیتا ہے۔ افضال صاحب کی نثر میں ایسے شخص سے ملاقات ہوتی تھی جسے اپنی ذات اور کردار پر پورا اعتماد ہو۔ حسن معراج کے توسط سے "ہم سب” پر نمودار ہوئے۔ گنتی کی  چند تحریریں ہی لکھی تھیں کہ اجل کی فہرست

Read more

سوشل میڈیا پر خواتین سے رابطے کے آداب

آداب! میں نے آپ کو بارہا سمجھایا تھا کہ میرے اور آپ کے درمیان تمیز اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف دوستی ہو سکتی تھی اور اب وہ بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ کئی بار تنبیہ کے بعد بھی آپ باز نہیں آرہے ہیں اور مجھے مستقل ہراساں کر رہے ہیں۔ آپ کی آخری ای میل اس بات کا ثبوت ہے اور یہ تمام حرکتیں سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ میں آپ کو ای میل سے

Read more

اقبال کی عصری معنویت

علامہ محمد اقبال جس عہد میں شاعری کر رہے تھے صرف اسی تک محدود نہیں رہے۔ وہ اپنے عہد سے ماورا اور دور اندیش تھے۔ اور مستقبل میں دیکھنے والی نظر رکھتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں شاعری کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے انھوں نے اکیسویں صدی کے موجودہ حالات کو بھانپ لیا تھا۔ اقبال کی شاعری ہمارے عہد کی عکاس ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اقبال اکیسویں صدی کے شاعر ہیں۔ اور ہمارے عہد حاضر کے حالات و

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (آخری قسط)

  عطا الحق قاسمی کی نظم ٹریفک سگنل اپنے اندر ایک عجیب، تاثر، جاذبیت اور غم کی کیفیت سموئے ہوئے ہے۔ قاری یہ نظم پڑھ کر خود کو اداس محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر قاری حساس ہو تو وہ اپنی آنکھوں کو نمناک ہونے پر قابو نہیں رکھ سکے گا۔ ملاحظہ فرمائیے نظم ٹریفک سگنل نظم : ٹریفک سگنل، نظم نگار : عطا الحق قاسمی، ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی Poem : Traffic Signal , Poet : AttauL_Huq Qasmi

Read more

مبشر سعید کی خواب سرا کے بھید

مبشر سعید معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کا ایک اہم نام اور معتبر حوالہ ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب گاہ میں ریت“ کے عنوان سے شائع ہو کر اہل علم و ادب سے پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ حال ہی میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ”خواب سرا کے بھید“ اردو غزل کی دنیا میں ایک خوبصورت اور دل کش اضافے کی صورت منصہ شہود پر آیا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے کے بعد ان کی

Read more

مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات: لوئیس معلوف

خطہ عرب میں ایک عرصہ حکمرانی ترکوں کی عثمانی سلطنت کے زیر سایہ قائم رہی تھی، اس عہد میں مقامی عرب ترک سلطنت سے کئی معاملات میں نالاں رہے، ایک بڑی وجہ ترکوں کی اس خطے میں اپنے پسندیدہ افراد کو گورنری دے کر ہر معاملے سے بے خبری اور ترکوں کی سویلائزیشن کو زبردستی نافذ کرنے کی وجہ سے عربوں میں نیشنلزم کی تحاریک اٹھی تھی۔ جس میں عرب ثقافت کے تحفظ اور زبان کے فروغ شامل رہا، عرب

Read more

پاکستان کا انتخاب: امریکا یا چین؟

ہم میں سے کون ہے جس نے منٹو کا افسانہ ٹھنڈا گوشت نہیں پڑھا۔ بڑے ادب کی نمود ایک سہ نکاتی قوس بناتی ہے، استرداد، قبول عام اور پھر ضرب المثل۔ سنسر کے محتسب، صحافت کے متحجر کتبے اور کور ذوق مدرس البتہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں، تخلیقی عمل اور تہذیب کا سفر ان حیاتیاتی حادثات سے بے نیاز ہوتا ہے۔ چوہدری محمد حسین اور میر نور احمد کو کون جانتا ہے؟ لمحاتی پذیرائی کے غلغلے میں لکھے

Read more

رابندرناتھ ٹیگور کا دوسرا جنم

بشیر بہروپیا کون تھا کہاں سے آیا تھااس بات سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔وہ بستی میں ایسے رچ بس گیا تھا جیسے صدیوں سے یہاں کا باسی ہو۔ وہ واحد شخص تھا جو ریلوے کا ملازم نہیں تھا پھر بھی ریل کی اس بستی میں آباد تھا۔ بستی کے لوگ اسے اپنا حصہ سمجھتے تھے۔ وہ بچوں کو پڑھاتا مگر اس کے پڑھانے کا طریقہ بڑا مختلف تھا۔ وہ سہ پہر بچوں کو اکٹھا کرکے بستی کے بڑے

Read more

عطا الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ (4)

عطاالحق قاسمی صاحب کو بحیثیت نظم گو شاعر کے بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ نظم کے ایک توانا شاعر کے طور پر بھی ان کی انفرادیت کو برملا تسلیم کیا گیا۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ نظم نگاری بھی عطاالحق قاسمی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید اردو نظم میں بھی ان کا منفرد اور جداگانہ لہجہ ان کی پہچان بنا۔ اس مناسبت سے پہلے تو ملاحظہ فرمائیے عطاالحق قاسمی صاحب کی

Read more

ہریش میسی: انسانی ترقی کا سفیر

ہمارے معاشرے اور ترقی یافتہ معاشروں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہاں کام نہ کرنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کام کرنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔ مجھے ہمیشہ ایسے لوگ انسپائر کرتے ہیں جو انسان یعنی فرد کی ترقی، خوشحالی اور بحالی کے لئے کام کرتے ہیں۔ جناب ہریش میسی سے بھی میرا تعلق اس احساس کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ میں ان کی شخصیت سے بہت سال پہلے سے واقف تھا، ان

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 3 )

ہمارے گھر قافلے کے ماہانہ پڑاؤ میں عطا الحق قاسمی صاحب کے جگری یار بھی بڑی باقاعدگی کے ساتھ آتے تھے۔ ان میں خالد احمد، امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر اجمل نیازی شامل ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی سے عطا الحق قاسمی کی قرابت داری اور دوستی کے بہت سے قصے مشہور ہیں لیکن بیگم عطاء الحق قاسمی اور بیگم رفعت اجمل نیازی آپس میں دوپٹہ بدل بہنیں بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی عطاء الحق قاسمی نے تعلق داری کے

Read more

ہنری کسنجر کی ڈپلومیسی

ہنری کیسنجر سے ہمارا پہلا تعارف کئی برس قبل اپنے ایم فل کے دنوں میں ہوا تھا، جب مغرب کے جدید تنقیدی و فکری مباحث پڑھنے کے دوران ہمیں اقبال احمد کے مضامین اپنے نصاب میں پڑھنے کو ملے۔ معروف فلسطینی مستشرق ایڈورڈ سعید کے قریبی دوست اور سامراجی ممالک کے سخت ترین نقاد اقبال احمد جن کے نام ایڈروڈ سعید نے اپنی معروف کتاب ثقافت اور سامراج کا انتساب کیا تھا، تیسری دنیا کی مزاحمتی تحریکوں کے سرخیل اور

Read more

سفرنامہ ”نیپالی نینھن“، بھیگی یادیں اور صحبت بلوچ

سفرنامہ ایک یادوں کا گلدستہ ہوتا ہے جس میں لکھاری کئی رنگ بھر کے اسے حسیں کر دیتا ہے۔ سفرنامے کو پڑھنے والا اس میں کھو جاتا ہے اور ان دیکھی وادیوں میں گھومتا پھرتا رہتا ہے، اسے نہ فقط اس علاقے کے سماجی، معاشی، ثقافتی، علمی و ادبی، تہذیب و تمدن، تاریخ کا علم مل جاتا ہے پر ساتھ ساتھ سفری ضروریات اور ضروری کاغذات سے بھی آشنا ہو جاتا ہے۔ صحبت بلوچ صاحب جو دادو شہر میں رہائش

Read more

مزاح لکھنا مشکل کیوں ہے؟

اللہ کو جان دینی ہے، جتنا مشکل کام مزاح لکھنا ہے اتنا مشکل شاید بچہ جننا بھی نہیں۔ مجھے بچہ جننے کا کبھی تجربہ تو نہیں ہوا (اور مستقبل میں بھی کوئی ارادہ نہیں) البتہ مزاح میں منہ مارتا رہتا ہوں اسی لئے جب بھی یہ سوچ کر لکھنے بیٹھتا ہوں کہ آج شگفتہ سی تحریر لکھوں گا تو دانتوں تلے پسینہ آ جاتا ہے۔ اردو ادب میں ایسی شگفتہ تحریر کو غالباً انشائیہ کہتے ہیں۔ انشائیہ لکھنے کا فائدہ

Read more

بجٹ، نوآبادیاتی عہد کی ایک یاد

ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے، جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اس کے علاوہ ادبی میلے بھی سجائے جاتے ہیں جس میں ادب سے محبت کرنے والے افراد جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔ بیساکھی کے علاوہ دیگر میلوں کو سجانے اور ان کی کامیابی کو

Read more

کتاب، رند، لاشار جنگ ایک نظم

زیر دید کتاب ایک تاریخی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب رند لاشار جنگ ایک نظم کے نام پر 2018 میں سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی جانب سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کا مصنف غلام رسول کلمتی ہے جو ایک مورخ، دانشور، مفکر، شاعر اور ماہر لسانیات، ماہر لوک ادب، محقق اور ایک بزرگ شخصیت ہیں۔ ان کے چند اور کتابیں منظر عام پر آئی ہیں لیکن یہاں میرا موضوع مذکورہ کتاب ہے۔ اس کتاب کو مصنف نے

Read more

عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 2 )

عطاء الحق قاسمی صاحب کے کچھ اشعار ضرب المثل بن چکے ہیں۔ یہ خوبی بہت کم شعراء کے نصیب میں آئی ہے۔ عصر حاضر ہی کے ایک اور شاعر ہیں شعیب بن عزیز۔ ان کا ایک شعر بھی ایسا ہے جو موقع محل کی مناسبت سے بڑی بڑی ہستیوں کی زبان پر ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری صاحب سے بھی کئی محفلوں میں ان کا یہ شعر سنا گیا۔ شعر یہ ہے اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

Read more

لفظوں کا توپچی: صولت رضا

صولت کے ساتھ پہلی ملاقات مجھے اب بھی یاد ہے۔ نومبر 1970 کے دوسرے ہفتے کا کوئی دن تھا۔ ڈھائی تین ہفتے پہلے ہی میرا کراچی ٹیلیویژن سے لاہور سنٹر پہ تبادلہ ہوا تھا۔ ان دنوں لاہور سنٹر ایبٹ روڈ پہ نہیں تھا۔ شملہ پہاڑی والے چوک سے ریلوے سٹیشن کی طرف جائیں تو ایمپریس روڈ یا شارع عبدالحمید بن بادیس پر بائیں ہاتھ ریڈیو پاکستان کی عمارت ہے۔ جس احاطے میں یہ عمارت واقع ہے، اس کے صدر دروازے

Read more

بیڈن روڈ کی بیلا

برطانیہ میں برمنگھم کے ہرٹ لینڈ ہسپتال کے بستر پر بیٹھا آج میں اپنی زندگی کی بیلنس شیٹ متوازن کرنے لگا ہوں تو پتہ نہیں ذہن کے کون کون سے کونوں کھدروں سے بے شمار یادیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں نکل آئی ہیں۔ رات کی ڈیوٹی پر معمور افریقن نرس اکثر مجھ سے ہنسی مذاق کرتی رہتی ہے۔ آج شام مجھے پوچھ رہی تھی ”سر! آپ نے اپنے ہسپتال میں داخلے کا کسی کو بتایا نہیں، ایک ہفتہ سے آپ

Read more

عطاالحق قاسمی کے تخلیقی رنگ

پی ٹی وی کے ایم ڈی، ناروے میں پاکستان کے سرکاری سفیر، ادبی مجلے معاصر کے مدیر اعلیٰ، چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل، اردو ادب کے استادوں کے استاد عطا الحق قاسمی کے ادبی اور تخلیقی رنگ بلاشبہ ہم سب نے دیکھے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پنجاب آرٹس کونسل کا قبلہ درست کرنے کے لئے جو حکمت عملی اپنائی، اس کے اثرات و ثمرات سے فن کار اور ان اداروں کے ملازمین بھی فیضیاب ہوتے رہے اور فنون

Read more

متاع وقت اور کاروان علم

ابن الحسن عباسی صاحب کے نام سے کون واقف نہیں۔ شباب کی سرمستیوں سے لے کر زندگی کی آخری گھڑی تک قرطاس و قلم سے محبت و عشق کا سلسلہ جاری رکھا۔ علم و دانش کے جویا۔ زبان و ادب کے رسیا۔ مطالعہ و تحقیق کے میدان میں پابہ جولاں۔ ہر خاص و عام کی علمی سطح کے مطابق متنوع موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی۔ اردو زبان کے معیار کو بڑھانے، اس کی ساخت و ساز اور لسانی قد و

Read more

اقبال اور تہذیب مغرب

علامہ اقبال نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مغربی دنیا کا سفر کیا۔ مغربی علوم اور جدید فلسفہ و ادب سے تو انھوں نے استفادہ کیا لیکن مغربی تہذیب سے وہ متفق نہ ہو سکے۔ وہ جس قدر مغربی تہذیب کے قریب تر ہوتے گئے ان کے ذہن جب اس کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا گیا۔ قیام یورپ کے دوران ہی مغربی تہذیب کے بارے میں اقبال نے یہ رائے قائم کر لی تھی: تمہاری تہذیب، اپنے خنجر سے

Read more

نشے کی لت میں مبتلا والدین، غربت، استحصال: ’میں سب کو بتاتی ہوں کہ مجھ جیسے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں‘

کترینا و سلیوان کا خاندان غریب تھا، ان کے والدین، ہیروئن کے عادی تھے، وہ ان کی یا ان کے بھائی کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور بہت چھوٹی عمر سے ہی انھوں نے ایسی مشکلات کا سامنا کیا جن پر قابو پانا دوسروں کے لیے ناممکن لگتا ہے۔

Read more

آصف فرخی: اردو سندھی ادب کا بندھن

( 2 جون 2023 کو معروف افسانہ نویس اور مترجم جناب آصف فرخی کی یاد میں آرٹس کونسل کراچی کی لائبریری میں کانفرنس کے دوران مختصر گفتگو) میں یہاں کوئی ”پدرم سلطان بود“ کہنے نہیں بلکہ آصف فرخی صاحب کی یاد میں حلقہ ارباب کے ساتھ لفظوں کی خاموشی میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں چونکہ ان کی وفات کے سال میں ان سے دو چار مرتبہ فون پر بات ہوئی اور کووڈ کے

Read more

غلام عباس کا افسانہ ”اوور کوٹ“

غلام عباس کے افسانہ ”اوور کوٹ“ پر ژونگ کی پہلی آرکی ٹائپ Persona کے اثرات ہیں۔ یہ وہ آرکی ٹائپ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہے۔ مثال کے طور پر ہم شروع سے ایک بات سنتے آ رہے ہیں ”با ادب با نصیب“ یہ چیز نسلوں سے گزر کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ Persona کو ہم ماسک کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا Public face ہے۔ یہ آرکی ٹائپ ہم نے اپنے اجتماعی لاشعور سے لی ہے۔ افسانہ

Read more

ثریا شہاب: کومل لہجہ اور ریشم کے تار سی آواز

”آواز کی دنیا کے دوستو! آداب!“ یہ جملہ 1960 کے عشرے میں کئی برس تک، آغاز صبح کے ساتھ، ریڈیو زاہدان کے سٹوڈیوز سے ابھر کر، ہوا کے دوش پر سفر کرتا ہوا، دنیا بھر میں اردو بولنے اور سننے والے کروڑوں لوگوں کے کانوں میں رس گھولتا رہا۔ خوبصورت دلنشیں آواز، گداز کومل لہجہ، جیسے حریر و دیبا کے جھولے پر مدھر گیت کے ہلکورے۔ ریڈیو زاہدان سے یہ ریشمی آواز کسی ایرانی دوشیزہ کی نہیں، ایک پاکستانی خاتون

Read more

پارو پگلی مٹی میں کیا ڈھونڈتی ہے؟

ایک دن پارو مجھے یونیورسٹی کی کینٹین میں مل گئی۔ بس اچانک ہی۔ شاید سات آٹھ سال بعد ۔ اب ہم دونوں بچپن کی حدود پار کر چکے تھے۔ میری بارہ تیرہ سال کی عمر تک تو باقاعدہ ان کی امی برقعہ میں لپٹی اپنے تین بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آتی رہی تھیں مگر پھر وقت اور بڑھتی مصروفیات کے ساتھ ملنا جلنا منقطع سا ہو گیا۔ لیکن بھئی سب کچھ بھلایا جاسکتا ہے پر پارو کی موٹی کجریلی

Read more

درخانئی۔ مستقبل کی ملالہ یوسفزئی

درخانئی کی عمر بمشکل پانچ سال ہوگی۔ یہ سکول میں داخلہ لینے اور سکول جانے کی وہ عمر ہے جس میں بچے سکول سے چھٹی کرنے کے لئے ہر روز نیا بہانہ ڈھونڈنے کے درپے ہوتے ہیں مگر حیران کن طور پر علم سے محبت کے لئے پانچ سالہ بچی درخانئی کی تڑپ نے حجرے میں موجود درجن بھر افراد کو اشکبار کر کے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر شانگلہ گرلز سکول میں وہ کون سی کشش ہے

Read more

آصف فرخی پر مضمون جو مل ہی نہیں رہا

میرا یقین مانیے، مضمون تو میں نے قلم برداشتہ یکم جون 2020 ہی کو لکھ لیا تھا اور تین جون کو اسے حتمی شکل میں کمپیوٹر میں محفوظ کر دیا تھا یہی سوچتے سوچتے کہ اسے کس دوست کو سناؤں؟ کہاں اشاعت کے لیے بھیجوں؟ بس سوچتا ہی رہ گیا۔ آج کوئی تین برس بعد پرانا لیپ ٹاپ کھولنے کا موقع ملا تو ڈیسک ٹاپ پر یہ ان پیج فائل دکھائی دی ہے۔ فائل پر کلک کرتا ہوں تو پیج

Read more

وسعت اللہ خان کے نام

مکرمی وسعت اللہ خان صاحب! آداب امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے اور مظفرآباد یاترا سے اپنے وطن واپس پہنچ گئے ہوں گے۔ میں ایک مدت سے بی بی سی اردو اور دیگر اردو اخبارات میں آپ کے کالم اور مضامین جو ”بات سے بات“ کے عنوان سے پبلش ہوتے ہیں باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ میں تاریخ، سماجیات اور سیاسیات کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناتے اس حقیقت کو مان چکا ہوں کہ سماجی اقدار جو برصغیر

Read more

مزاحمت، تخلیق اور سیاسی شعور میں تعلق

کچھ حلقوں میں ان دنوں مزاحمتی ادب کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ غالباً تقاضا یہ ہے کہ ان احباب کے حالیہ سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کی جائے۔ گویا تخلیقی عمل بھی کسی خانہ ساز لیڈر کی میز پر رکھی نیلی پیلی پنسلوں کا فرومایہ ڈھیر ہے جو کسی کاٹھ کے ارطغرل کی خواہش کے تابع حرکت میں آئے اور اس کے کاسہ سر کے خلائے بسیط میں اٹھتے ہذیانی بخارات کو جنبش کلک سے حسب ضرورت خد و

Read more

بیاد آصف فرخی

کہتے ہیں، سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ ادب کا موضوع زندگی ہے اور تنقید کا موضوع ادب۔ زندگی میں ایکشن اور ادب میں اسلوب بندے کو دوسروں سے الگ اور ممتاز کرتے ہیں۔ آصف فرخی نے جس طرح ادب میں اپنی الگ شناخت اور اسلوب بنایا تھا وہ انھوں نے زیست نامکمل کے بعد زیست مکمل میں بھی منتقل ہونے سے پہلے پہلے بقول میر اس کا اہتمام کیا تھا کہ مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو

Read more

بچوں کا ادب اور ہماری ذمہ داریاں

بچوں کے نام ور ادیب، ممتاز کہانی نویس، ہر دل عزیز مصنف اور سیرت النبی کے موضوع پر صدارتی ایوارڈ یافتہ قلم کار محمد فہیم عالم صاحب کا اسلوب نگارش کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ پاکستان چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور اسی ادارے کے زیر اہتمام لاہور سے شایع ہونے والے ماہ نامہ ’بچوں کا باغ‘ ، ماہ نامہ ’بچوں کی دنیا‘ ، ماہ نامہ ’جگنو‘ اور ماہ نامہ ’اقراء‘ کے مدیر اعلا کے طور پر ذمہ داریاں

Read more

یہودیت سے تائب ہو کر مسلمان ہونے والے صوفی سرمد جن کا ’برہنہ رہنے‘ اور کلمہ پورا نہ پڑھنے‘ پر سر قلم کیا گیا

صوفی سرمد مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے آخری عہد میں دلی آئے تھے۔ انھوں نے جامع مسجد کے مشرقی دروازے کی سیڑھیوں کے پاس اپنا مسکن بنایا تھا۔ وہ اپنے وقت کے بہت مقبول صوفی تھے۔ وہ برہنہ رہنے لگے تھے اور کلمہ کا صرف ’لا الہ‘ یعنی ’کوئی خدا نہیں ہے‘ والا حصہ ہی پڑھتے تھے۔

Read more

نیلم احمد بشیر بطور مصنفہ

ہ کچھ دن قبل کی بات ہے جب نیلم احمد بشیر صاحبہ سے ان کے درویش کدے پہ ملاقات ہوئی۔ اتنے عشروں کی ملاقاتوں کا حاصل سلمی اعوان کے جملے پہ ہوا کہ ”اس کی ذات کے ساتھ ایک طلسم بندھا ہوا تھا۔ اس نے اسے دو جملوں سے اڑا دیا۔“ حسن اتفاق کہئے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع بھی مل گیا اور کہاوت کہ انسان کا علم سفر اور کھانے کی میز پہ ہوتا ہے۔

Read more

ریاست بہاول پور کا شاہ جہاں، نواب صبح صادق خان عباسیؒ

جس خطے میں ریاست بہاولپور موجود تھی یہ علاقہ تاریخ کے آغاز سے ہی انسانی آمدورفت کا اہم راستہ رہا ہے۔ ریاست بہاول پور اس عظیم جغرافیائی و ثقافتی خطے کا اہم حصہ ہے جسے ہم وادی سندھ کی تہذیب کہتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں دفن تاریخ کے کئی قیمتی خزانے دریافت کر کہ اس خطے کے ہڑپہ و موہنجوداڑو سے ثقافتی و تہذیبی روابط کا کھوج لگایا ہے۔ آج اس خطے کا بیشتر حصہ صحرا پر مشتمل

Read more

لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر

ادبی دنیا میں ایک وبا تیزی سے پھیل چکی ہے کہ کچھ نیم ادیبائیں اور متشاعرات اپنی اداؤں، بول چال، چھیڑ چھاڑ اور جھوٹی محبت جتانے کر اپنا نام کمانے، شہرت پانے اور اپنا الو سیدھا کرنے میں لگی ہیں۔ وہ اپنے ناز و ادا دیکھا کر ادیبوں کو لبھانے کی کوشش کرتی ہیں، ان سے عشقیہ گفتگو کرتی ہیں، نازیبا حرکات کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتیں۔ اس کے عوض ان کے مضامین اور تحریروں کو اپنے نام سے

Read more

پاکستان لٹریچر فیسٹیول اور کشمیر کے موضوع پہ اہم تقریب

پاکستان آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام آزاد کشمیر حکومت کے تعاون سے مظفر آباد میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا ہے۔ دو روزہ لٹریچر فیسٹیول میں کشمیر کلچرل ہیریٹیج، کشمیرز لٹریچر آف ریزیسٹنس، کشمیر ٹورسٹ ہیون، جرنی آف کشمیری ویمن، ہاؤ آرٹیکل 35 A اینڈ 370 افیکٹس پیوپل آف کشمیر، دبستان کشمیر کے نقوش، کشمیر ایشو پہ میڈیا کا کردار کے موضوعات پہ تقریبات کے علاوہ مشاعرہ، کتابوں کی رونمائی، آرٹس اینڈ کرافٹس، میوزک و ڈانس اور

Read more

انسانیت کا احترام اور دعوت دین

چند برس پہلے کی بات ہے، سات آٹھ افراد کے ہمراہ مجھے ایک دعوت پر سرکاری وفد کے ساتھ ہندستان جانے کا اتفاق ہوا۔ جب ہم دلی ائرپورٹ پر اترے تو وہاں بہت زیادہ ہجوم تھا۔ تاہم، پاکستانیوں کے لیے ایک ہال مخصوص تھا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اب آگے کہاں جانا ہے؟ ایک خالی کاؤنٹر نظر آیا، تو میں وہاں جاکر کھڑا ہو گیا۔ سامنے ایک صاحب ماتھے پر تلک لگائے بیٹھے تھے۔

Read more

عالمگیریت، گلوبل ویلج اور رشین آسٹن مارکیٹنگ

گلوبل ویلج یا گلوبلائزیشن دنیا کو جوڑنے اور فاصلوں کو ختم کرنے کی ایک آسان اور خوبصورت عالمی اصطلاح ہے۔ اس مد میں متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں واقع ’گلوبل ویلج‘ اور رشین گلوبل مارکیٹنگ کمپنی ’آسٹن‘ عملی اور قانون طریقوں سے پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی اصطلاح کو سب سے پہلے اقتصادیات اور مینیجمنٹ کے لٹریچر میں ہارورڈ بزنس سکول کے سابق پروفیسر تھیوڈورے

Read more

’مردوں کی بہکانے والی‘ جل پریوں کی افسانوی کہانی کیسے شروع ہوئی

اینڈرسن کی کہانی اور ڈزنی کی دونوں فلموں میں مرکزی کردار ایک خوبصورت نوجوان عورت ہے جس کی مچھلی کی دم اور دلکش آواز ہے۔ لیکن کیا جل پریاں ہمیشہ ایسی ہی ہوتی تھیں؟

Read more

صائمہ زیدی: محبت اور دانائی

ایک شام پرویز صلاح الدین کا فون آیا کہ صائمہ زیدی ٹورانٹو تشریف لا رہی ہیں اور ادبی دوستوں کی خواہش ہے کہ فیمیلی آف دی ہارٹ انہیں کینیڈا میں خوش آمدید کہے۔ میں نے کہا زہے نصیب۔ میں نے سوچا ایک وہ دور تھا جب پاکستان اور ہندوستان کے بعد اردو کا تیسرا بڑا ادبی مرکز لندن ہوا کرتا تھا کیونکہ ساقی فاروقی، فیض احمد فیض، مشتاق احمد یوسفی اور افتخار عارف لندن میں رہائش پذیر تھے۔ افتخار عارف

Read more

سرکاری نوکری والے مولانا کی بیوی

میں اس کو عرصے سے جانتا تھا۔ ان کا گھر پڑوس میں ہی واقع ہے۔ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ آج میں گیا تو دیکھا کہ سفید مکھڑے پر دکھ کی چادر تنی ہوئی تھی۔ موٹی گہری آنکھوں میں کاجل پھیل گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی مگر اس کی آنکھیں ہنس نہیں رہی تھیں۔ میں نے ہمیشہ اس کی آنکھوں کو ایک چمک کے ساتھ شعلہ بار ہوتے دیکھا تھا۔ آج وہ مغموم تھی۔ روئی ہوئی تھی۔ جیسے کوئی

Read more

رفیقِ اول: خواجہ صاحب

کچھ عرصہ قبل کا قصہ ہے کہ اک روز میں فٹ پاتھ پر چلا آرہا تھا کہ سامنے چار خواتین بہت دلکش انداز میں محوِ خرام تھیں۔ ان کے پیچھے ایک اور صاحب مجھے بہت پس و پیش میں مبتلا دکھائی دیے۔ شاید آگے نکلنے کی کوشش میں تھے۔ مگر جیسا کہ دستورِ زمانہ ہے، یا دستورِ زنانہ کہہ لیں، انہیں راستہ نہ ملا۔ جب میں بھی ان کا ہم قدم ہو گیا تو ان کی ڈھارس بندھی اور قدرے

Read more

مخلوقِ غضب اور فلاسفر شیدا

  طالب علم کی زندگی کا سب سے خراب موسم، موسم امتحان ہوتا ہے۔ بقول پطرس بخاری طلباء کی فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔ موسم گرما کی ابتدا میں اس فصل کو کاٹا جاتا ہے۔ یہاں کاٹنے سے میری مراد ذہنی عرق ریزی سے ہے نا کہ جسمانی۔ جس طرح موسم کے بدلاؤ سے فضائی رویہ بدل جاتا ہے ایسے ہی موسم امتحان آتے ہی طلباء کے رویے

Read more

مغل اعظم امریکہ کی فتح پر: ٹائم سکوائر پر 'جب پیار کیا تو ڈرنا کیا' گیت کی گونج

انڈیا کی معروف فلم ‘مغل اعظم’ کا جادو 60 سال بعد بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے اور یہ فلم اب برصغیر کی سرحدوں سے دور امریکہ میں ایک نئے اوتار میں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔

Read more

جاوید یادؔ۔ شاعر محبت

جاوید یادؔ ایک معروف، صاحب دیوان شاعر ہیں۔ ان کا ادبی سفر پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ ان کا اعلیٰ ادبی ذوق اور تخیل ان کی شاعری کی پہچان ہے۔ مقتدر ادبی حلقوں میں وہ ایک شاعر، دانشور، ادیب، کالم نگار اور سفر نامہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق صوفیاء کے معتبر شہر ملتان سے ہے، لیکن اپنی متواتر سخن آرائی اور جلوہ افروزی سے ملکی اور بین الاقوامی ادبی حلقوں میں ایک بہار آفریں

Read more

سول سپریمیسی کے لیے شفاف انتخابات کے سوا کوئی راستہ نہیں : عاصم اللہ بخش

سرخیاں : خدشہ ہے کہ سانحات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ابن انشاء کی شاعری کا حزن دل کے بہت قریب ہے، عالمی ادب میں ٹالسٹائی نے متاثر کیا ہم حادثہ سے کچھ سیکھنے کے بجائے سینہ کوبی کرتے ہیں، پھر اگلا ”حادثہ“ کر ڈالتے ہیں معروف کالم نگار، سماجی مبصر اور معالج، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش سے گپ شپ انٹرویو نگار: اقبال خورشید یوں تو ان کا اصل شعبہ طب ہے، لیکن قلم ان کا نشتر بن جائے، تو

Read more

معیشت دان قیصر بنگالی کی باتیں

”روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔“ اب اس فقرہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ میں جھانکنے کی ضرورت نہیں پاکستان جائیے اور دیکھیے کہ کتنے سیاست دان اور فوج کے اعلیٰ عہدہ دار بے حس نیرو کی شکل میں ملک کو جلتا دیکھ رہے ہیں اور چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت سری لنکا کے راستے پہ چلتے ہوئے بینکرپسی (دیوالیہ) کے دہانے پہ کھڑا ہے۔ اس ملک

Read more

اردو میں افسانوی تنقید کا نیا پیراڈائم اور آصف فرخی

(یکم جون آصف فرخی کی برسی کا دن ہے) اکیسویں صدی میں سنجیدہ تنقید کا پورا اسٹرکچر بدل گیا ہے۔ تھیوری اور فکشن کے حوالے سے بیانیات کے مباحث نے فکشن کی تنقید کا پورا پینترا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ذیل میں مغرب میں تو بے شمار کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے ہاں بھی چند ناقدین ہی سہی کچھ نہ کچھ عمدہ کام کر رہے ہیں۔ ان میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر

Read more

اردو کو اس کا حق کب ملے گا؟

اپنا کاروباری فریضہ نبھانے کے حوالے سے ہر ماہ دنیا کے کسی نہ کسی ملک جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ چونکہ میں جس کمپنی آسٹن مارکیٹنگ (Aston Marketing) کے لئے کام کرتا ہوں وہ انوسٹمنٹ کی بنیاد پر مختلف یورپئین اور کیریبئین ممالک وغیرہ کے قانونی پاسپورٹ اور شہریت بیچتی ہے تو میرا واسطہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے عام اور سرمایہ دار شہریوں سے پڑتا ہے جن میں سے اکثر ملنے والے میری پاکستانی (اور اندازاً ہندی) شکل

Read more

جشنِ جَون

”تمہارے خیال میں اِس وقت حیات، اردو کے تین مقبول ترین شاعر کون سے ہیں،“ جون بھائی نے نوے کی دہائی کے وسط میں یہ سوال مجھ سے پوچھا تھا۔میں نے جھٹ سے جواب دیا کہ پہلے نمبر پر جون ایلیا۔ میرا خیال تھا وہ میرے جواب سے خوش ہوں گے مگر جون بھائی نے مسکرائے بغیر کہا ’سنجیدگی اختیار کیجئے‘۔ ہم نے کچھ دیر اس موضوع پر بحث کی اور پھر جون بھائی نے فیصلہ کن انداز میں کہا’

Read more

پشاور ہائی کورٹ اور تجاہل عارفانہ

ہماری کم علمی اور کم مائیگی کا کیا کہئے کہ ہم کو اب تک بس صرف اتنا ہی پتہ تھا کہ یہ تجاہل عارفانہ محض اور بس محض ادبی اصطلاح ہی ہے اور یہ اس لئے ادبی اصطلاح ہے کہ زیادہ تر ادبی چشمک ادیبوں اور شاعروں کے درمیاں رہتی ہے تو ادیب ہی اس اصطلاح کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن آج ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ یہ تجاہل عارفانہ کی اصطلاح سیاسی بلکہ عدالتی اصطلاح بھی ہے۔

Read more