ثانیہ کے ساتھ فیملی پلاننگ کے دفتر میں کام کرنے والی عورتیں بھی حالات کے جبر کا شکار ہیں۔ نوکری برقرار رکھنے اور ترقی پانے کے لئے انہیں افسروں تک رسائی رکھنی پڑتی ہے۔ رسائی یا حاضری میں افسروں کو وہ سب کچھ دینا شامل ہے جو وہ مانگیں۔
ثانیہ معاشرے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے اور ہر طرف سے مرد کے اندر پائی جانے والی کجی منعکس ہو کر ثانیہ کے سامنے منہ پھاڑے کھڑی ہے۔
ثانیہ کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والی رضیہ کا باپ مر چکا ہے۔ باپ کے مرنے کے بعد جب ماں نے گھر چلانے کے لئے کام شروع کیا تو محلے والوں نے بیوہ عورت اور اس کی تین بیٹیوں کا جینا دو بھر کر دیا۔ یہ سوال کسی کے لئے اہم نہیں تھا کہ چار افراد کے پیٹ میں روٹی کہاں سے آئے گی؟ اہم تھا تو یہ کہ ایک عورت نے گھر کی بقا کے لئے ملازمت شروع کر دی تھی۔ عورت کا گھر سے نکلنا پدرسری نظام کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے جو اس کے بنیادی مہرے مرد کو کسی طور پسند نہیں۔
Read more