دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

امیر المومنین کیسے کیسے بہانے بنائیں گے؟

مشیر اچھے نہیں تھے، وزیر اچھے نہیں تھے، حالات بھی خراب تھے۔ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی؟ ان کے لیے اچھے سے بہانے سوچو۔ اردشیر عرف آقا ایران اور توران کی مٹی ٹوکروں میں بھر لایا تھا لیکن امیر المومنین نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ایران اور توران پر حملہ کر کے انھیں فلاحی ریاست عطا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کی حمیت انصاف ایسی پھڑکی کہ انھوں نے میرے پاکستانیوں کو بھی

Read more

تحریک آزادی کشمیر میں ادب کا کردار!

  شعبہ اُردو ’جامعہ کشمیر میں جناب ڈاکٹر یوسف میر‘ صدر نشین شعبہ اُردو کی خصوصی دلچسپی سے امریکہ کے شہر نیویارک میں مقیم فرزند ِکشمیر جناب پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری جو کہ پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں ’ایک سے زائد زبانوں پر شاعری کرنے والے شاعر بھی ہیں۔ آج کے قدیم و جدید شعراء نے بھی اپنے اپنے انداز میں‘ بالواسطہ یا بلاواسطہ ’کم یا زیادہ انسانیت اور انسانی حقوق کی بات ضرور کی ہے۔ اِنہی میں

Read more

تحریک انصاف کی جسٹس منصور علی شاہ سے ”محبت“ کا انجام

رات بے خوابی میں کروٹیں لیتے گزری ہے۔ ممکن ہوتا تو کالم لکھنے سے گریز کرتا۔ یوں مگر کام چوری ہو جاتی۔ قلم اٹھاتے ہی لیکن منیر نیازی کا ایک شعر یاد آیا ہے۔ بے خوابی کی وجہ سے ماﺅف ہوئے ذہن سے اگر ایک آدھ لفظ مذکورہ شعر میں آگے پیچھے ہوجائے تو معاف کردیجئے گا۔ بہرحال جو شعر ذہن میں آیا ہے وہ ہر اس شخص کے مرجانے کا اعلان کرتا ہے ”میں جس سے پیار کرتا ہوں۔“

Read more

مدارس میں پڑھانے والے بعض معلمین کا نفرت آ میز رویہ اور بڑھتی ہوئی لا مذہبیت

کہا جاتا ہے کہ مذہب کو اتنا نقصان لامذہب ”ایتھیسٹ“ نے نہیں پہنچایا جتنا خود مذہبی طبقے نے پہنچایا ہے، دعویٰ اور حقیقت کے بیچ فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ جنہیں پاٹنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ تصورات بہت اچھے ہو سکتے ہیں، ان میں پرفیکشن، اعلیٰ، عظیم، بالا اور سر بہ فلک ایسے رومانوی سے رنگ ضرور بھرے جا سکتے ہیں لیکن ان کے قابل عمل ہونے کی ضمانت اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب

Read more

ہر دن ماں کا ہے

یہ مضمون میں نے اس دنیا کی تمام ماؤں کی عزت و احترام میں لکھا ہے، جو میری اپنی ماں سے متاثر ہے۔ آج صبح جب اپنی بوڑھی ماں کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ میں نے اب تک بہت سارے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے مگر اپنی ماں پر آج تک ایک جملہ بھی نہیں لکھ پائی۔ مگر جب ماں پر کچھ لکھنے کے لیے اپنا قلم اٹھایا تو ماں کی اہمیت کا اندازہ

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کے انتہائی اہم مدبر اور کلاسیکل شاعر ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اردو ادب بلکہ اردو ڈکشن اور لسانیات کو بھی نیا موڑ بخشا ہے۔ جنہوں نے اردو ادب کو کلیدی لغت دی اور کلی طور پہ فکر اور فن کو جدت بخشی۔ جس سے اردو ادب نے اپنی الگ حیثیت حاصل کی اور مقبولیت پروان چڑھی۔ اور اس دور کی مقبول ترین زبان فارسی کو نہ صرف ٹکر دی بلکہ اردو زبان کو اس

Read more

نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟

کہتے ہیں کہ ناموں کا انسانوں کی زندگی پر اثر ہوتا ہے۔ شاید مقامات کے ناموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ سنا ہے کہ اسلام آباد کا اصل نام راج شاہی تھا۔ ایک راج شاہی ہمارے سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں بھی ہے۔ وہاں کے کیڈٹ کالج سے کئی نامور حضرات کا تعلق ہے جن میں ایک توحید حسین بھی ہیں۔ وہ اس وقت ڈاکٹر محمد یونس کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے 1981 میں بنگلہ

Read more

میری "پادری” مشہور ہونے کی حسرت

کسی ٹی وی شو میں شریک ہوتا ہوں تو میرے نام کے نیچے ٹی وی سکرین پر ”سینئر تجزیہ کار“ لکھا جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ جی ہاں عمر تمام صحافت کی نذر کر دی۔ انتہائی لگن سے کوشش یہ بھی رہی کہ بطور صحافی تنخواہ کے علاوہ دیگر ترغیبات و سہولیات سے گریز ہی اختیار کئے رکھوں۔ عمران خان کے کسی ایک عاشق کے سامنے مگر آپ میرا نام لیں گے تو وہ مجھے ”لفافہ“ پکارے

Read more

سول میں تصورِ جاناں (مکمل کالم)

ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ پاکستان میں معجزہ رونما ہو گیا ہے اور وہ معجزہ یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ کو احساس ہو گیا ہے کہ ملک اِس طرح نہیں چل سکتا لہذا انہوں نے اللے تللے اور عیاشیاں ختم کردی ہیں، قانون کی آڑ میں حاصل کردہ مراعات سے دستبردار ہو گئی ہے اور معاشی پالیسیوں کا تعین یوں کر دیا ہے کہ صرف قومی مفاد پیشِ نظر ہے۔ اسی معجزے کے سبب تمام اسٹیک ہولڈرز نے

Read more

سیول میں تصورِ جاناں – مکمل کالم

ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ پاکستان میں معجزہ رونما ہو گیا ہے اور وہ معجزہ یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ کو احساس ہو گیا ہے کہ ملک اِس طرح نہیں چل سکتا لہذا انہوں نے اللے تللے اور عیاشیاں ختم کردی ہیں، قانون کی آڑ میں حاصل کردہ مراعات سے دستبردار ہو گئی ہے اور معاشی پالیسیوں کا تعین یوں کر دیا ہے کہ صرف قومی مفاد پیشِ نظر ہے۔ اسی معجزے کے سبب تمام اسٹیک ہولڈرز نے

Read more

بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور۔ پہلی قسط

رابندر ناتھ ٹیگور سے میرا پہلا تعارف پانچ جولائی 1969 کی اُس شب ہوا جس کی دوپہر کو میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل رقیہ ہال میں بورڈر ہوئی تھی۔ آڈیٹوریم میں اُن کا ڈرامہ چترا نگدا سٹیج ہو رہا تھا۔ رم جھم برستی بارش میں رقص اور ان کی شاعری کے سنگ ڈھاکہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی یہ پیش کش حد درجہ کمال کی تھی۔ بنگالی زبان سے اِسے میں نے اُردو میں جیسور کی اُردو اسپیکنگ فاخرہ آصف سے

Read more

شہر طلسمات کا طلسم: ڈاکٹر اسلم انصاری رخصت ہوئے

یادش بخیر! بہت دنوں سے ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ان کی ملتان پر لکھی گئی نئی کتاب کے حوالے سے مکالمہ جاری تھا۔ مسودہ میرے حوالے ہوا۔ کمپوزنگ ہو رہی تھی کہ ایک دن میرے کمپوزر کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ اس کے دونوں موبائلز کوئی چھین کر چلا گیا اور یوں میرا کمپوزر کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ یہ رابطہ اس وقت ختم ہوا جب ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب کی کمپوزنگ تقریباً مکمل ہو چکی

Read more

انار کلی لاہور کی داستان

انارکلی بازار کا شمار لاہور کے قدیم ترین اور مشہور ترین بازاروں میں ہوتا ہے، اور اس کا نام بھی ایک ایسی داستان سے جڑا ہوا ہے جس نے صدیوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے رکھی ہے۔ انارکلی بازار کا نام شہنشاہ اکبر کے دور کی ایک معروف داستانی شخصیت انارکلی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ روایت کے مطابق انارکلی، جو شہنشاہ اکبر کے دربار کی ایک رقاصہ تھی، شہزادہ سلیم (جو بعد میں شہنشاہ جہانگیر بنے

Read more

جواں مرگ افغان قصہ نویس کا قصہ

افغان محقق سید محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر بریالی باجوڑی وغیرہم کے مطابق افغانستان میں ناول کی ابتدا 1938/39ع میں برہان الدین کشککی او ر محمد رفیق قانع کے ناولوں۔ ’پوشیدہ محبت‘ اور ’دو عاشق بھائی‘ سے تصور کیا جاسکتا ہے جو بعد میں اشتراکی فکر کے سرخیل نور محمد ترہ کئی نے ’بے تربیت بیٹا‘ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ تاہم اولین پشتو ناول کے درج بالا ظنی رائے کے ساتھ اختلاف کی کافی گنجایش ہے۔ بعد ازاں فارسی، روسی،

Read more

بلوچستان کے ساحل پر مینگرووز کی پیداوار میں خواتین کا کردار 

خواتین کا پودوں سے لگاوٴ ایک فطری عمل ہی اور یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی خواتین نے بھی اپنی اسی محبت کا انوکھا ثبوت پیش کیا ہے جس کی بدولت آج پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی اور ماڑہ میں مینگروو کی شجرکاری میں خواتین کا اہم کردار نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے خواتین کو ماحولیاتی تحفظ میں بہت تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں خواتین کا گھر سے نکل کر

Read more

یحییٰ سنوار امر ہو گئے

”اگر دنیا یہ چاہتی ہے کہ ہم اچھے مظلوم بن جائیں کہ وہ جب چاہیں آئیں اور ہمارے بچے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، ہماری عورتیں قتل کر دیں، ہمارے بوڑھوں کو مار ڈالیں، ہماری زمینیں ہم سے چھین لیں، ہمیں محاصرے میں ڈال دیں اور ہم پر زندگیاں تنگ کر دیں اور ہم یہ سب اخلاق اور محبت سے سہ لیں۔ وہ ہمیں ذبح کریں اور ہماری آواز تک نہ نکلے؟ یہ اب ہم فلسطینیوں سے نہیں ہو گا۔“ یہ

Read more

مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی

مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے

Read more

ریاست کا قومیت میں ڈھلنا ضروری ہے!

قائدِ اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ ملک بیوروکریسی اور صنعت کاروں کی نذر ہو گیا۔ صنعت کار اور شاہی افسران سیاسی عہدوں پر بھی قابض ہو گئے اور قومی وسائل پر بھی۔ پچھلے کئی برسوں سے ہمارے ملک میں نام نہاد بے رحم جمہوریت کا راج ہے۔ اسی جمہوریت کے بارے میں جارج برنارڈ شا نے کہا تھا: ”جمہوریت انتخابات کا وہ متبادل ہے جو چند فاسدوں کی تقرری سے عوام کے استحصال

Read more

ابو کی یادیں

انسان اپنے تجسس یا شوق کی خاطر مشکل سے مشکل کام بھی کر گزرتا ہے۔ یہ انکشاف مجھ پر اُس رات دو بجے اُٹھ کر ہوا۔ تجسس مجھے تھا اور شوق میرے ابو کا، یعنی ”مچھلی کا شکار!“ صرف تجسس اور شوق ہی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جو جاڑے کی سرد راتوں میں کسی کو گرم گرم بستر چھوڑ دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔ چنانچہ دسمبر کی اس رات میں دھندلی سڑک پر نہر کنارے موٹر سائیکل پہ

Read more

مادیت کی دوڑ اور عصر حاضر کے انسان کا المیہ

آج دنیا میں ہر طرف شور ہی شور ہے، سڑکوں پہ دوڑتی گاڑیوں کا شور، کارخانوں اور فیکٹریوں کا شور، ٹیکنالوجی کا شور، اور ہمارے ذہنوں میں برپا جذبات کا شور، سب مل کر ایک ایسی بے چینی کو جنم دیتے ہیں جس میں سکون ناپید ہو چکا ہے۔ آج کا انسان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں مادی ترقی اور خود غرضانہ خواہشات نے جذباتی اور انسانی رشتوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ زندگی

Read more

محمد سلیم الرحمان کی نظمیں: ان دیکھا سچ

محمد سلیم الرحمان کی نظمیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں۔ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے نظم کو پا لیا ہے یہ کسی ان دیکھے بن میں گم ہو جاتی ہیں۔ دور سے سنائی دیتا سر ہو جاتی ہیں۔ یہ بھول بھلیاں ہیں۔ جس میں کبھی دن ہے کبھی رات ’کبھی سہ پہر ہے اور کبھی دوپہر۔ اور کبھی کبھی تو اس سے بھی پرے ان دیکھے پہر ہیں۔ اور یہیں سے سلیم الرحمان دکھتا ہے۔ جس کی خاموشیاں بولتی

Read more

ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین

( ”اوڈیسی: نظم کی دنیا“ میں جب ابرار احمد کو ”معاصر نظم کا جمال“ کہا گیا تو مجھے اس کا تین سال پہلے محض 67 برس کی عمر میں بچھڑنا یاد آ گیا۔ 1954 ء میں جڑانوالہ پیدا ہونے والے ابرار احمد نے ایک شاعر کی حیثیت سے تب ہی شہرت پالی تھی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی بی ایس کر رہے تھے۔ لاہور میں مقیم ہوئے تو ان کی شاعرانہ شناخت مستحکم ہوتی

Read more

عورت اور مرد بالکل الگ مخلوق ہیں

یہ مرد آخر چاہتے کیا ہیں؟ ان کے دماغ میں کیا بھرا ہوا ہے؟ یہ ایسے کیوں ہیں؟ عورت آخر چاہتی کیا ہے، اس کی نفسیات کیا ہے؟ یہ ایسا کیوں سوچتی ہے؟ ہماری زمین پر انسانوں کی کھوج اگر لگائی جائے تو لاکھوں سال پہلے تک کے سراغ نکلتے ہیں لیکن اتنے زیادہ عرصے کے باوجود آج تک جو بندہ جوان ہو گیا، یہ دو سوال اس کے بعد مرتے دم تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ کتابیں بھری

Read more

مشرف مبشر کی کتاب: ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“

مشرف مبشر سے میری پہلی ملاقات ہوم اکنامکس کالج کی تقریب پذیرائی میں ہوئی۔ ان کی ملنساری اور مشفق شخصیت نے متاثر کیا۔ دوسری ملاقات گندھارا ہندکو بورڈ میں ہوئی جہاں میں نے انہیں اپنی کتاب ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ دی تو کہنے لگیں میں بڑی سخت ممتحن رہی ہوں۔ تمہاری خود نوشت پڑھ کر تنقید کروں تو خفا مت ہونا۔ میں نے کہا جیسے دل چاہے لکھو۔ پھر دو دن بعد ان کا فون آیا۔ ایک سرشاری

Read more

الوداع، ڈاکٹر ذاکر نائیک

بچپن ہی سے سنتے آئے ہیں کہ جو شخص جتنا زیادہ بولے گا اتنی ہی غلطیاں کرے گا اور وہ اتنا ہی متنازعہ ہو گا۔ یہ مقولہ 5 اکتوبر 2024 کو حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر خوب صادق آتا ہے۔ اس دورے کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ حکومت کو ذاکر نائیک اور ذاکر نائیک کو حکومت پاکستان کی ضرورت تھی اس لیے وہ اپنی اور حکومت پاکستان

Read more

جنریشنل ٹراما، کبھی میں کبھی تم

مصطفی اور شرجینہ اس کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مصطفی شرجینہ کے ساتھ خوش ہے زندگی ہنسی خوشی چل رہی ہے۔ لیکن اچانک سے نازک موڑ آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ شرجینہ اور مصطفی صاحبِ اولاد ہونے والے ہیں۔ لیجیے صاحب پروگرام تو وڑ گیا نا۔ بہت سے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ دونوں کردار بہت ہی مختلف خاندانوں سے آئے ہیں۔ جہاں شرجینہ کو بیٹی ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا پیار ہمیشہ وافر ملا

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

امن، رواداری، مزاحمت، سرزمینِ سندھ اور عاشقانِ دھرتی

جس طرح دنیا بھر میں انسانی ذات کو سنگین مسائل کا سامنا ہے ہر طرف آگے جانے کی دوڑ میں انسانیت پیچھے جا رہی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور انسانی حقوق کی پامالی کا دور ہے۔ دنیا کہ سارے مسائل اپنی جگہ لیکن ہم اُس دھرتی کی طرف جائیں گے جس کی تاریخ انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن رہی ہے جب دنیا کے ممالک جنگی جارحیت کی لپیٹ میں تھے تب وادیِ سندھ

Read more

نگاہ دگر کی روشنی (نظمیں)

کوثر جمال کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب میرے اور ان کے افسانے محترمہ کشور ناہید کے ”ماہ نو“ میں شائع ہوتے تھے۔ پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے چین چلی گئیں اور ہمیں افسانوں کی کتاب ”چینی منگولوں کے شہر میں“ سے نوازا۔ میں انہیں بحیثیت افسانہ نگار ہی جانتا تھا اور ان کی افسانہ نگاری کا معترف بھی تھا لیکن کرونا کے دوران جب ساری دنیا آن لائن ہونے پر مجبور ہو گئی تو مجھے کوثر

Read more

کرونیکل ان ڈارک

میں نے مائکروسافٹ ورڈ میں کتابوں کی ایک فہرست تیار کی اور کنٹرول، پی دبا کر اس کا پرنٹ نکال لیا۔ اس روز میں نے دفتر سے جلدی رخصت لی اور ایک کولیگ کے ساتھ ایکسپو سینٹر میں کتابوں کی سالانہ نمائش دیکھنے پہنچ گیا۔ کتابوں کی لسٹ میرے ہاتھ میں تھی۔ ہال میں داخل ہوتے ہی میں نے کتابوں کی تلاش شروع کر دی۔ اتنا بڑا بک فیئر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہر طرف لوگوں کی

Read more

ایک ننھی سی مسکراہٹ: ہندی کہانی

(تحریر: گیتا انجلی شری، ہندی زبان سے ترجمہ: وقار احمد) اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج آفس بھی نہیں گئی۔ کھانے کا پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے راجن نے

Read more

سیاست اور سماج: ایک مثالی پاکستانی معاشرہ

پاکستان ایک مثالی معاشرہ ہے جہاں ہر ذی روح کو عزت و منزلت و برکات نصیب ہیں۔ پیارے وطن کا ہر ایک ادارہ مکمل دیانت داری، لگن، خلوص اور عمدگی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ تمام سیاستدان، ریاستی ادارے اور ہمارے محافظین، اپنی تئیں، شانہ بشانہ خدمات سے اپنے عوام کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے ہر لحظہ اور لمحہ، مسلسل، مصروفِ عمل ہیں۔ الحمدللہ! بات سادہ لوگوں یعنی معزز اور محترم شہریوں کی ہو تو ان کی

Read more

وجود میں امید کی کرن

برلن کے قلب میں ایک مدھم روشنی والے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے بارش کی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ نوروز اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، اس کا دماغ رات کے آسمان کی طرح بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ 23 سال کا نوجوان تھا، شہر کی ممتاز یونیورسٹی میں فلسفے کا طالب علم تھا۔ جب تک وہ یاد کر سکتا تھا، معنی تلاش کر رہا تھا۔ زندگی میں، رشتوں میں، وجود میں اور اس سب کچھ میں جو اس

Read more

اور میلہ کرسال بھی نہ بچ سکا

جب 1965 کی جنگ اپنے عروج پر تھی اور بھارتی طیارے پاکستانی سرزمین پر بم پھینک رہے تھے، چکوال کا تاریخی ثقافتی میلہ ”میلہ کرسال“ بلا روک ٹوک جاری رہا۔ ستمبر 1998 میں جماعت اسلامی کی نرسری سے اٹھی غازیانِ ملت کی تنظیم ”پاسبان“ کے مجاہدوں نے کرسال میلے پر یلغار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر رقص و موسیقی کی کوئی تقریب ہوئی تو پھر معاملات پاسبانیوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ کرسال میں غازیانِ ملت کے لشکر کے

Read more

پی ٹی آئی کی صفوں سے لوگوں کی تلاش

دنیا کے بے شمار افراد کی طرح میں بھی طویل عرصہ اس گماں میں مبتلا رہا کہ انٹرنیٹ کی بدولت متعارف ہوئے پلیٹ فارم ہمیں وسیع القلب بنانے کے علاوہ دیگر ممالک کے زیادہ قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ پلیٹ فارموں نے مگر ہمیں بطور فرد خود پرستی میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا سانحہ یہ ہوا کہ ہم اپنے ذہنوں کو کشادہ کرنے کے بجائے

Read more

سرسید ڈے تقریبات: کیا ہم سرسید کو اس سے بہتر خراج عقیدت پیش نہیں کر سکتے؟

ہر سال 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں علیگ برادری اور عقیدت مندان سرسید بڑے تزک و احتشام کے ساتھ سرسید ڈے مناتے ہیں۔ سیاہ شیروانیاں زیب تن کی جاتی ہیں۔ ’پارٹنر‘ اور ’جگروں‘ کی ٹولیاں ”یہ میرا چمن ہے میرا چمن“ کا ورد کرتے ہوئے جوق در جوق جلسہ گاہ کا رُخ کرتی ہیں۔ روایتی تقاریر کے ساتھ تقریب کی شروعات ہوتی ہے جس میں مقررین ”ایک ہاتھ میں سائنس اور دوسرے ہاتھ میں قرآن“ کا فلسفہ سمجھانے کی

Read more

صرف روماسا جامی ہی کیوں؟

  جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ تمغے اور ترقیاں شجاعت و بہادری کے اعزاز صرف میدان جنگ کے کیمپوں میں نقشوں پہ جھکے جرنیلوں کو ہی ملتے ہیں۔ وطن کی بقا قوم کی آزادی کے لئے سینے پہ گولی کھانے والے عام سپاہی کی قبر کے نشان بھی کہیں نہیں ملتے۔ وہ فراموش کر دیے جانے کے لئے مرتے ہیں جن کے سینوں میں وطن کی محبت سے بڑھ کر کسی اور اعزاز کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تیرہ اکتوبر

Read more

ڈرامہ دنیا پور اور فن کے نام پر عورت کی تذلیل

فلم اور ڈرامہ فنون لطیفہ کے نہایت اہم شعبے ہیں جو کسی قوم کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ قوموں کی شناخت، ان کے فکری ارتقاء اور سماجی شعور کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندوستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے، جہاں فلم اور ڈرامہ نے نہ صرف ملک کی قومی شناخت کو مستحکم کیا، بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار

Read more

جب بل نے خود کشی کرنے کی کوشش کی

میموریل یونیورسٹی کینیڈا میں ہمارے معزز و محترم پروفیسروں میں سے ایک ڈاکٹر یوجین وولف تھے جو انگلستان سے دو سال کے لیے کینیڈا تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر وولف ایک سائیکوتھراپسٹ تھے۔ انہوں نے جب گروپ تھراپی کا پروگرام شروع کیا تو انہیں ایک ایسے طالب علم کی ضرورت تھی جو ان کے ساتھ کام کرے۔ یہ میری خوش بختی تھی کہ انہوں نے تیرہ طلبا و طالبات میں سے مجھے چنا اور مجھے ان کے ساتھ دو سال کام

Read more

رواداری مارچ کو رواداری کیوں نا ملی

معدومیت کی جانب مائل پنجابی جیالے بہت دلچسپ ہیں۔ بھٹو اور بی بی سے ان کی وابستگی قابلِ ستائش ہے لیکن پی پی کی سندھ پولیس کا لاٹھی چارج کسی طور بھی دفاع کے قابل نہیں تھا لیکن لوگ کرتے رہے۔ سازشی تھیوریز گھڑتے رہے نا جانے کس امید کے ساتھ۔ 2024 کی پی پی ایک نئی پیپلز پارٹی ہے۔ جہاں بلوچستان میں ماضی کے بدنامِ زمانہ سرفراز بگٹی اس کا سیاسی چہرہ ہیں وہاں سندھ میں مراد علی شاہ

Read more

بیٹیوں کے باپ

آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا

Read more

کابل کی پنجاب سے دشمنی رؤف کلاسرہ کی زبانی

رؤف کلاسرا نے اپنی تازہ تحریر مطبوعہ روزنامہ دنیا بتاریخ چار اکتوبر میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں موصوف نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اس کی جماعت کی طرف سے پنجاب پہ چڑھائی کو افغانستان اور سنٹرل ایشیا سے آنے والے حملہ آوروں سے تعبیر کیا ہے۔ اس پہ موصوف کالم نگار نے سابق وزیر اعظم (جس کی شخصیت اور حکومت کے وہ ماضی میں ہمیشہ بڑے

Read more

ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کا قتل

امرکوٹ جو ایک پرامن شہر ہے جس سے تھر کی مٹی کی خوشبو بھی آتی ہے تو ماروی کی اپنے دیس باسیوں کے ساتھ محبت بھی نظر آتی ہے اس پرامن شہر میں 12 ربیع الاول کو کچھ شرپسند افراد نے امرکوٹ کے مقامی ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کی سوشل میڈیا سے پوسٹ جاری ہوئیں کہ انہوں نے توہین مذہب کیا ہے جس کو ہرحال میں قتل کا جائے اور وہاں پر موجود ملا عمر سرہندی نے تو باقاعدہ اعلان کیا

Read more

فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ

فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں

Read more

حرکت میں برکت

بعد از نمازِ عصر کچھ افراد کا قافلہ، گول آستین والی قمیض پہنے اور شلوار کے پائنچے اوپر کیے ہوئے گلی کوچوں میں گھومتے نظر آتے ہیں، سروں پر ٹوپی، چہروں پر داڑھی، ہاتھوں میں تسبیح، لوگوں سے مل مل کر ایک آدھ منٹ بات کرتے ہوئے۔ ایسی واضح علامتیں رکھنے والے گروہ کے ساتھ کافی لوگوں کا واسطہ پڑا ہو گا۔ یہ مانگتے کیا ہیں لوگوں سے؟ تھوڑا سا وقت، مسجد میں آنے اور اُن کی بات سننے۔ ایک

Read more

مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ

”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے

Read more

ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات اور ممکنہ حل

ضلع کرم جو کہ پاکستان کے جغرافیائی سیاسی تاریخی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے قدرتی حسن اور ذخائر سے مالامال دلفریب وادی کئی دہائیوں سے اس خونریزی جنگ کے لپیٹ میں ہے۔ ضلع کرم میں بنیادی طور پر دو مکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں ایک اہل تشیع جو 43 فیصد ہے اور دوسرا گروہ اہل سنت کا ہے جو 57 فیصد ہے دونوں فریق ایک دوسرے کی خون کے پیاسے ہیں جس میں ایک بنیادی

Read more

رواداری مارچ: پیپلز پارٹی اتنی مجبور کیوں نظر آ رہی ہے؟

اکتوبر 2024 کو سندھ کی سول سوسائٹی نے رواداری اور امن مارچ کے لیے کراچی میں کال دی تھی، جس میں سول سوسائٹی کے دوستوں کو کلفٹن تین تلوار سے پریس کلب تک سندھ میں امن اور رواداری کے لیے مارچ کرنا تھا۔ یہ رواداری مارچ 15 دن پہلے کیا گیا تھا، جسے سندھ کے لوگوں نے بھرپور حمایت دی۔ سندھ کے تمام شہروں کے لوگوں نے سندھ کو پرامن اور روادار رکھنے کے لیے کراچی آنے کا عہد کیا۔

Read more

پلاؤ کھائیں گے احباب، فاتحہ ہو گی!

صاحبو، سوچ تو ہم عرصے سے رہے تھے کہ کیا ہو گا؟ بعد مرنے کے میرے کیا ہو گا؟ دل ناداں بہت کچھ کا تمنائی تھا جس میں پلاؤ اور زردہ سر فہرست تھے کہ دونوں ہمیں بہت پسند ہیں اور اس وقت تو نشہ ہو جاتا ہے جب ہم دونوں کو قورمے کے ساتھ ملا کر کھائیں ( چمچ کے ساتھ ) ۔ کئی لوگوں کی آنکھیں باہر نکل آتی ہیں اور زیرلب پینڈو کا لفظ بھی ہم سن

Read more

شہر میں اک چراغ تھا، نا رہا

لیفٹننٹ جنرل (ر) مصطفی کمال اکبر۔ ایک عظیم استاد، پاکستان کے چوٹی کے ماہر امراض چشم، اور پاکستان آرمی کے سرجن جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے والی انتہائی قابل احترام شخصیت۔ کی وفات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کی زندگی بے شمار خوبیوں اور یادگار لمحات سے مرصع تھی۔ وہ پاکستان کا قومی سرمایہ تھے۔ ایم بی بی ایس کے دوران ہمیں ان کی شاگردی میں رہنے کا شرف حاصل

Read more

تمام مذہبی سکالرز کا احترام، فرقہ وارانہ حدود سے بالاتر

میں ذاتی طور پر تمام مذہبی سکالرز کا احترام کرتا ہوں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب / فرقہ سے ہو۔ شرط صرف ان کے سکالر ہونے کی ہے، مذہب شرط نہیں ہے۔ میرا مذہب اسلام ہے، اور آپ کا کوئی بھی مذہب ہو، میرے لیے وہ ایسے ہی محترم ہے جیسے میرے لیے میرا مذہب اسلام ہے۔ میں صرف ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہوں جو مذہب کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں یا شدت

Read more

دادا، دادی اور نانا نانی کا عالمی دن

رشتوں کی اپنی ایک عجیب کائنات ہوتی ہے۔ ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ اہم اور معتبر ہوتا ہے اور ہر رشتے کی محبت کا اپنا ہی ایک پیمانہ ہوتا ہے۔ دنیا میں آج تک ان قدرتی رشتوں کی محبت اور پیار کو ماپنے کا کوئی پیمانہ نہیں بن سکا۔ یہ رشتے قدرت کے تخلیق کردہ ہوتے ہیں اور ان کی محبت بھی قدرت کی جانب سے ودیعت کی جاتی ہے۔ ان ہی رشتوں میں ہمارے بزرگوں سے قائم بچوں کی

Read more

ہم کیوں ہیں الجھے ہوئے؟

ہماری موجودہ نسل ایک سنگین بحران جھیل رہی ہے جو ہماری شناخت، اخلاقیات، اور معاشرتی رشتوں کی تشکیل کو متاثر کر رہا ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں خاندانی نظام کی ناکامی، تعلیمی نظام کی خامیاں، معاشرتی دباؤ، ثقافتی اثرات، اقتصادی مسائل، اور تاریخی پس منظر شامل ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور اس بحران سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ پاکستان کا

Read more

ویرانیاں

ویرانیاں ایک جگہ ہی نہیں ہوتیں، ویرانی کا معنی آنکھ میں بس جانا ہے۔ قطرہ بن کر غائب ہو جانا ہے۔ سمندر میں کسی قطرے کا گم ہو جانا ہے۔ ہوا کی بھیڑ میں درخت سے الجھے پتے کا کھو جانا ہے۔ سیاہ رات میں چاند کو تکتے رہنا ہے۔ درد کے ساحل پر قطرہ قطرہ پگھلتے رہنا ہے۔ درد کے موضوع پر قلم کا چلتے رہنا ہے۔ ان تھک راہوں میں کسی تھکی ہوئی بستی میں ٹھہر جانا ہے۔

Read more

ہجر و وصل

ہجر کیا ہے؟ اور وصل کیا ہے؟ اس پر بات کرنا اور اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنا تو آسان ہے لیکن اس کی حقیقت کو جاننا اتنا ہی مشکل ہے۔ ہجر و وصل کی گہرائیوں میں اتر کر اس کو سمجھنا نہایت مبہم عمل ہے۔ ہجر کا معنی فراق، جدائی، دوری، کے ہیں۔ یہ دوری محب کی محبوب سے عاشق کی معشوق سے اور طالب کی مطلوب سے ہے۔ سب سے پہلے اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ

Read more

چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں

مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں

Read more

دس اکتوبر عالمی یوم ڈاک کے حوالے سے مضمون

ڈاک صندوق یا لیٹر بکس سے میری آشنائی بہت پرانی ہے، اس سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا جب سے میں نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ بچوں کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں قلمی دوستی کا صفحہ بھی ہوتا تھا جس میں بچوں کی تصاویر اور ان کا مختصر تعارف چھپا ہوتا تھا۔ ان میں سے جو اچھا لگتا اسے خط لکھ کر قلمی دوستی شروع کر دیتے۔ اس وقت پوسٹ کارڈ

Read more

کتاب آشفتہ بیانی: ایک مختصر تجزیہ

شاید وہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جب نوکر شاہی یا سول سروس سے وابستہ افراد اپنے تجربات و حوادث کی شکل میں اپنا سیکھا ہوا نوواردانِ جستجو و طلب کو لوٹا دیتے۔ ماضی قریب میں خارجی محققین اور تاج برطانیہ کے متعین افسران نے یہاں کے فن حکومت، ثقافت، تاریخ، جغرافیہ، قانون، علم الانساب، اور زبان و ادب پر وہ کچھ لکھا جو تاحال معتبر و مستند ماخذات سمجھے جاتے ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ

Read more

خان پور اور تعلیم

یوں تو اکثر و بیشتر میرا موضوع قومی و بین الاقوامی سطح کے حالات و واقعات ہوتے ہیں۔ مگر ”خان پور“ کے عوام الناس کے موجودہ حالات و واقعات و معاملات زندگی خاص طور پر انسانی ترقی بڑھوتری کی بجائے ترقی پذیر بلکہ پسماندگی و تنزلی پسند معاشرے کی جانب گامزن ہیں۔ اور خان پور کے ترقی پذیر و پسماندگی کے رجحان نے میرے قلم کی توجہ اہم قومی و دیگر مسائل کو چھوڑ کر اپنی جانب مبذول کروا لی۔

Read more

لینن اور چولہا بنانے والا

تحریر: چیبیکن روسٹیسلاؤ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ مجھے یاد ہے کہ ایک چولہا بنانے والے آدمی یاکوف کونڈراٹی پیٹرووچ، سشینسکوئے (سائبریا) گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی مہارت اور ہنر کے باعث پورے ضلعے میں مشہور تھا۔ اس نے ہمیشہ بہترین چولہے بنائے۔ کیوں کہ اسے اپنا کام پسند تھا۔ وہ اکثر کہتا: ”اگر آپ کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا تو مجھ سے رابطہ کریں میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔“ اس باعث کونڈراٹی کو ہمیشہ بہت پیار

Read more

سوئٹزرلینڈ میں پہلا دن

ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے قریب کولمار سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں عمیر کے ایک دوست کا فون آ گیا جو پچھلے ہفتے سوئٹرزلینڈ سے ہو کر گیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں اپنی معلومات شیئر کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب آپ سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوں تو بارڈر سے 45 یورو میں ونگٹ ضرور خرید لیں۔ یہ دراصل ٹول ٹیکس کی ادائیگی کی رسید ہے جو ایک سال کے لیے جاری کی جاتی ہے

Read more

شادی کے لیے صحیح آدمی

بولی ووڈ اور اب ہمارے پاکستانی ڈراموں نے یہ عام مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شادی یا محبت اس آدمی سے ہوتی ہے جسے دیکھ کر دل میں ہلچل مچ جائے۔ سانسیں تیز تر ہوتی جائیں اور دھڑکنیں پاگل ہو جائیں۔ نو عمری کی حسن پرستیوں کے لیے تو یہ بات سچ مانی جا سکتی ہے لیکن بہت سی خواتین / بچیوں کو اس پھول چاکلیٹ والے عشق کے پیچھے جینا برباد کرتے دیکھتی ہوں تو کہنے پہ خود

Read more

حسد اور چغل خوری: عورت کی فطرت یا عادت؟

پاکستانی معاشرے میں خواتین کے درمیان تعلقات کے معاملے میں حسد اور چغل خوری خاص مقام رکھتے ہیں جو انہیں ایک دوسرے سے بدظن کرنے، سازشیں کرنے، نفرت پیدا کرنے اور بڑھانے، لڑائی جھگڑے کا سبب بننے اور آپس کے تعلقات توڑنے اور تڑوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح عورتیں ایک دوسرے سے ساتھ برسرپیکار رہتی ہیں، ان کے جھگڑے اور نا اتفاقیاں انہیں متحد نہیں ہونے دیتیں اور یہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے متحد

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 23 : خوف

” محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے، کیونکہ خوف میں سزا ہے اور جو شخص خوف کرتا ہے اس میں محبت کامل نہیں ہوئی۔“ یوحنا 4 : 18 سینٹ میریز کونوینٹ کی چہار دیواری کی ایک دیوار، گلی میں تھی جس کے نکّڑ پر کوڑے کا ڈھیر تھا، جسے محلے کے آوارہ کُتّے کریدتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار دو ایک گدھ بھی وہاں خوراک کی تلاش میں آ جاتے اور جوں ہی

Read more

ایک ہندی اسطورہ: عقل و دانش کا دیوتا، گنیش

آپ نے شری گنیش کو دیکھا ہے؟ آپ کہیں گے بھلا ہم کیوں دیکھیں اور ہمارا بتوں سے کیا واسطہ۔ ہے ناں؟ بالکل ٹھیک۔ اچھا خدا جانتا ہے ویسے تو یہ ذکر یاد تک نا آتا لیکن محترم المقام نے خود ہی اتنی محنت کر دی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی یاد آ گیا ہے۔ گزرے برسوں کی بات ہے ہم شاید کالج میں تھے پوری دو دہائیاں قبل۔ پیس ٹی وی پر ایک بہت بڑے آڈیٹوریم کی لائیو

Read more

جنٹل مین

آخر کون ہوتا ہے یہ جنٹل مین؟ کیا وہ سوٹِڈ بوٹِڈ سی ایس ایس افسر جو کہنے کو تو عوام کا خادم یعنی پبلک سرونٹ ہوتا ہے، مگر در حقیقت گردن میں سریا فٹ کیے ہوئے عوام پر حاکم بنا ہوتا ہے اور اپنے لامحدود اختیارات کو عوام کے حقوق غصب کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے؟ یا جنٹل مین وہ وردی والا پولیس کا افسرِ اعلیٰ ہوتا ہے جو یوں تو قانون کی پاسداری اور قانون کے نفاذ اور

Read more

ڈی سی آفس گجرات کے منشی خاں بھی رخصت ہوئے

1990 ء کی دہائی کے آخری سالوں میں گجرات میں ایک ڈپٹی کمشنر آ کر لگے جن کا نام ملک خیر محمد ٹوانہ تھا۔ سرگودھا کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ملک خیر محمد ٹوانہ 28 مارچ 1997 ء سے 23 نومبر 1999 ء تک پونے تین سال گجرات میں ڈی سی تعینات رہے۔ گجرات کا ڈی سی آفس ان دنوں انگریز دور میں تعمیر کی ہوئی ایک پرانی بلڈنگ میں واقع تھا۔ موجودہ ڈی سی آفس

Read more

سندھ گُلال: دھرتی کی محبت اور تاریخ کے ادراک کا سفر!

سندھ، سندھو ماتھری، تہذیبِ سندھو اور اس کے لوگوں کی تاریخ بے شمار حُسناکیوں، نشیب و فراز، رومانوی اور رزمیہ قصوں کہانیوں اور داستانوں خواہ حادثات و المیات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف صدیوں سے نو آبادیاتی اور ان کے حواری مقامی حکمران طبقات اور گماشتوں نے سندھ اور سندھ کے لوگوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب سُمنگ چارن اور بھاگُو بھان کی لوک رزمیہ شاعری سے لے کر شاہ

Read more

سیاسی جماعتوں کی خیبر پختونخواہ سے بے نیازی

صحافت کے شعبے میں ذرا قدم جما لئے تو افغانستان میں ”جہاد“ شروع ہوگیا۔ اس کے بارے میں میرا دل شکوک و شبہات سے بھرارہا۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ ”جہاد“ کے سرپرست جنرل ضیا الحق تھے جنہوں نے جولائی 1977ء میں مارشل لاءلگانے کے بعد صحافیوں کی زباں بندی کیلئے ایسے منصوبے بنائے جن میں ہمارے چند ساتھیوں کو برسرعام کوڑے مارکر ”عبرت کا نشان“ بنانے کا عمل بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں 1980ء کی دہائی کے آغاز

Read more

عامر ہاشم خاکوانی اتنی جلدی میں کیوں رہتے ہیں؟

کچھ لوگ بچپن کا رومانس ہوتے ہیں، ان کی تحریریں خاصی متاثر کن لگتی ہیں، کبھی کبھار تو یہ سوچ بھی ابھرتی ہے کہ لیکھک اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں؟ ظاہر ہے اڑن کھٹولے اور جادوئی قالین کو حقیقت سمجھ لینے والی عمر کے اس ناپختہ سے پڑاؤ میں اس سے بڑھ کر اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے؟ دوسروں کی طرح عمر کے اس حصہ میں ہمیں بھی جاوید چوہدری، عامر خاکوانی، نسیم حجازی، ممتاز مفتی

Read more

اللہ کا بڑا فضل ہے

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی

Read more

پی ٹی وی ادا کار مظہر علی کا سانحہ ارتحال

پی ٹی وی کے مشہور اداکار مظہر علی آج کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ ناظم آباد کی ایک مسجد میں ادا کی گئی۔ مظہر علی امریکی شہر ہیوسٹن میں مقیم تھے۔ ان کے دیگر اہل خانہ کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے دل اور پھیپھڑوں کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ آج کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں اسی عارضے کے باعث وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی دو بیٹیاں

Read more

سنہری آنکھوں والی لڑکی: بالزاک کا ہم جنس پرستی پر لکھا جانے والا حیرت انگریز ناول

سُنہری آنکھوں والی لڑکی بالزاک کے ناول ’دا گرل ود دا گولڈن آئیز‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ہم جس ترجمے سے مستفید ہوئے ہیں وہ روف کلاسرا نے کیا ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1835 میں فرانسیسی زبان میں چھپا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1930 میں نیویارک سے شائع کیا گیا۔ بالزاک نے ناول میں انیسویں صدی کے فرانسیسی معاشرے بالخصوص پیرس کے سیاسی و اخلاقی حالات، کو انتہائی گہرائی اور وسعت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اُس نے

Read more

قیامت کب کی آ کر گزر گئی

صبح 6 بجے اٹھ کر خوشی خوشی سکول کے لئے تیار ہوئی، وین نے ہارن بجایا تو بھاگ کر وین میں بیٹھ کر سکول کی طرف روانہ ہو گئی۔ سب دوستوں سے ہنسی خوشی باتیں کرتے کرتے سکول کب آ گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح کے50 :8 بجے تھے، ابھی دن کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک سکول کی عمارت ہلنے لگی ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین گول گول گھوم رہی ہے، دروازے کھڑکیاں زور زور سے

Read more

مرنے کے بعد کیا ہوگا؟

خرم غضنفر میرے نوجوان ادبی، علمی و فکری دوست ہیں۔فلسفیانہ سوچ کے حامل خرم ایک با عمل نوجوان ہیں ۔ کچھ باتوں پر نظریاتی اختلاف کے باوجود ہمارے درمیان ایک گہری دوستی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنا اپنا موقف بیان کرتے ہیں مسلط نہیں کرتے اور نہ اس کے درست ہونے پر زور دیتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں میرا خرم کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

Read more

ڈی چوک میں لال گلاب کا تختہ

لکھنے والے بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں کئی دنیاؤں میں بسیرا کرنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی گلی کوچوں میں بسنے والی سادھارن مخلوق سے الگ کسی کھپریل کے نیچے جا بیٹھتے ہیں۔ کوئی ٹکسالی گیٹ کے حجرے میں جا بیٹھتا ہے تو کوئی دریا کے کنارے کسی بے آباد عبادت گاہ کے خاموش کونے میں چند بوسیدہ کتابوں اور اپنے ہی لکھے پرانے کاغذوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہ لوگ کسی کو فائدہ پہنچاتے

Read more

مظہر علی سر سید کے پڑپوتے نہیں تھے

عروسہ میں انتہائی منفی اور چبا چبا کر جملے ادا کرنے والے خوش شکل اداکار مظہر علی کی سناؤنی آج چلتے ٹی وی نے دی۔ وہی ٹی وی جس پہ وہ چھائے رہتے تھے ایک طویل عرصے اس پر سے گم بھی رہے۔ گمشدگی اپنی جگہ لیکن دلوں پر ان کی حکومت ایسی تھی کہ ایک لحظے کو محسوس ہوا جیسے وقت واپس اس زمانے میں پہنچ گیا ہے جب ہم لوگ رات آٹھ بجے اپنے دوسرے کرش کے انتظار

Read more

محبت اور ملکیت

محبت انسان کی زندگی میں ایک بنیادی اور اہم جذبہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور دنیا کو ایک خوبصورت مقام بناتا ہے۔ اس جذبے میں خوشی، قربانی، احساس، اور ایک دوسرے کے لیے خود کو وقف کرنے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ لیکن جب محبت کو غلط سمجھا جائے اور اسے ملکیت کا روپ دے دیا جائے، تو یہ جذبہ اپنی اصل سے ہٹ کر ایک قید و بند میں بدل جاتا ہے، جس میں آزادی کی کوئی

Read more

گناہ گار عورتیں

معاف کیجئے گا کہ حاضری میں تاخیر ہوئی۔ لیکن۔ ٹھہریے، یہاں کون سی رول کال لگ رہی ہے کہ آنے جانے کا وقت مختص ہو۔ جہاں گھڑیال اور پڑتال نہ ہو وہاں کیسی جلدی اور کیسی دیری۔ موت کی طرح زندگی میں دیگر حوادث کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ہمارا آنا اب ہی ٹھہرا تھا۔ معافی واپس کیجئے۔ کسی مناسب موقعے پر لے لیجیے گا۔ اب مدعے پر آئیں؟ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں لہذا کئی

Read more

پلوشہ… تیرا سوال تلوار ہے

ذاکر نائیک جب سے پاکستان پدھارے ہیں متنازع خبروں کے حوالے سے کافی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ حال ہی میں پلوشہ سے ان کی بحث سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی۔ اس پہ بہت سے لوگوں نے بات کی۔ اچھی باتیں کی۔ لیکن میرے لیے جو خوش کن بات تھی کہ پدر سری معاشرہ اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود پاکستانی عورت سے پشتون عورت سے سوچنے کا حق نہیں چھین سکا۔ یقین جانیے دل کو اطمینان ہوا۔ اس

Read more

گرین زون فلسفے کے چار ستون

  اسلام علیکم خواتین و حضرات، سب سے پہلے بہت مبارکباد ثمر اشتیاق اور ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی کا وقت میرے لیے بہت دلچسپ ہے کہ اس پراجیکٹ کا آغاز کووڈ کی وبا میں کیا گیا اور اس کی رونمائی اس وقت ہو رہی ہے جب ہم ایک apartheid state کی طرف سے مسلسل genocide کے eye witness ہیں اور اپنی آنے والی نسل کے لیے خدا مذہب انسانیت کو غزہ میں دفن کر چکے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف(6)

وہ عرب دنیا کا ایک منتخب نام جس کی زندگی کا ہر اُتار چڑھاؤ، ہر موڑ، ہر تجربہ قاری کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اتنا سارا مال و متاع اس نے عربی زبان اور لوگوں کو تحفے کی صورت دیا۔ ابھی جو دو نظمیں آپ نے پڑھی ہیں۔ اِن میں مناظر رنگ، بچپن کی یادوں کی خوشبوئیں اور اس کے کرب کا اظہار نمایاں ہے۔ وطن سے جو قدم نکلا

Read more

کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں

کتابوں نے سوال کرنے شروع کر دیے تو مجھے خیال آیا، یار! یہ جنہیں بِن پڑھے ہم سجائے رکھتے ہیں، انہیں شو کیس میں زندہ دفناتے ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں سوال کرتی ہیں، آپ لوگوں کو تو زندہ درگور کرنے سے منع کیا گیا تھا، جنہوں نے فرمایا تھا کہ بیٹیوں کو زندہ نہیں دفناتے، آپﷺ کی بیٹیوں کی حد تک مان لی، لیکن تحقیق اور تعلیم کی اہمیت، اور اس وقت آپﷺ نے اہتمام کیے وہ ہم بھول گئے۔

Read more

جونؔ ایلیا کو کس بات کا غصہ ہے؟

مری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا اُردو شاعری میں جعفر ؔزٹلی سے شروع ہونے والا مزاحمتی سلسلہ کئی ادوار کا سفر طے کر کے مرزا غالبؔ تک پہنچا۔ غالب ؔ نے رہی سہی کسر نکال دی، غالبؔ کے بعد جونؔ ایلیا کی باری آتی ہے جس نے اُردو غزل کو سراپا مزاحمت کا استعارہ بنا ڈالا۔ جون ؔایلیا کے ہاں کوئی ایسا موضوع چُھوٹ نہیں گیا جس پر جونؔ نے اپنی رائے

Read more

بھاری بستے اور خالی دماغ

اسکول اور مدارس میں فرق اتنا ہے کہ والدین بچے کو دنیاوی طور سے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو اسکول بھیج دیتے ہیں۔ مذہبی بنانا چاہتے ہیں تو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں۔ اسکولوں کی بھی مختلف اقسام ہیں مثلاً سرکاری اور پرائیویٹ اور پھر پرائیویٹ اسکولوں میں اعلیٰ اور ادنیٰ کی بحث الگ ہے۔ یہی نہیں اب مدارس کی اقسام کو ہی دیکھ لیں شیعہ، دیو بندی، اہلسنت و الجماعت تمام فرقوں کے اپنے اپنے مدارس ہیں۔ اسکولوں میں

Read more

مُرکم: فطرت کی دیوی

تحریر۔ عزیز علی داد ترجمہ۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔ گلگت کی دیومالائی کونیات کی دیویوں میں مرکم دیوی شاید سب سے اہم اور مشہور دیوی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نسوانی دیویوں کے نام اور ان سے منسوب خاصیتیں اور رسومات گلگت کے لوگوں کی یاداشت سے تقریباً محو ہو گئی ہیں، تاہم مرکم دیوی ایک استثنا اس لئے ہے کیونکہ وہ لوگوں کی ثقافتی یاداشت میں آج تک زندہ ہے اور سماج میں اس سے متعلق تصورات اور رسومات کی

Read more

ابے مرد بن مرد! شیر بن!

مرد ہونے کے لیے جتنی چیزیں ضروری ہیں اس میں سوائے جسم کے، باقی سب کا سب حالات پہ ڈیپنڈ کرتا ہے۔ مطلب دنیا میں تو آنا تھا، یا مرد یا عورت یا کوئی درمیانی شکل، تو آپ آ گئے۔ اب آپ ایک عدد مرد ہیں، اوکے فائن، لیکن باقی سب کچھ جو مارکیٹ میں مردانہ پن کہلاتا ہے اگر وہ سب آپ کے اندر نہیں ہو گا تو آپ مرد کیسے کہلائیں گے؟ جیسے مرد جو ہے اس کا

Read more

ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے

Read more

چوہدری ظہور الہی کی 44 ویں برسی

27 فروری 1973 ء کو قومی اسمبلی کے ایوان میں (اس وقت سٹیٹ بنک بلڈنگ میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوتا تھا) میں 1973 ء کے آئین کے مسودہ پر پر بحث جاری تھی کونسل مسلم لیگ (جو اس وقت حقیقی معنوں میں قائد اعظم کی مسلم لیگ کی وارث تھی) کے سرکردہ رہنما چوہدری ظہور الہی دھواں دھار تقریر کر رہے تھے ان کا ساڑھے چار گھنٹے کا مسلسل خطاب یادگار تقریر تھی قومی اسمبلی میں حاجی سیف

Read more

ملازمہ

  ” میرا گھر کتنا خوب صورت ہے۔ مہنگے مہنگے برتن، اتنا بڑا اوون، جدید چولھا، ڈیپ فریزر، ائر کنڈیشنڈ ماحول یہ سارا کچن میرا گھر ہی تو ہے۔“ لاریب نے صاف ستھرے فرش پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ چونکہ اس کا زیادہ وقت کچن میں ہی گزرتا تھا۔ ” لاریب۔“ باہر سے اس کی مالکن نرگس شمیم کی آواز گونجی۔ ” جی ممی۔ آئی۔“ لاریب اسے ممی ہی کہتی تھی۔ جیسے دوسری تین بچیاں کہتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ

Read more

ہم اپنی دھرتی ماں کی چاہت کیسے بیچیں؟

1854 میں جب امریکی حکومت نے سرخ فام انڈین قبائل کو ان کی زمینیں بیچنے کی دعوت دی تو سوکوامش SQUAMISH قبیلے کے سردار چیف سئیٹل CHIEF SEATTLE نے مندرجہ ذیل جواب بھیجا: ، اے واشنگٹن کے سفید فام سردار! ہمیں پیغام آیا ہے کہ تم ہماری زمینیں خریدنا چاہتے ہو۔ تم نے اپنی دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا ہے۔ یہ تمہاری مہربانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ہماری دوستی کی بہت کم ضرورت ہے۔ ہم تمہاری دعوت

Read more

استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو

  الف انار ب بکری سے عصری علوم کی شروعات ہوئی۔ الف زبر آ الف زیر ای الف پیش اُو آ ای او سے دینی علوم کی شروعات ہوئی۔ غالباً تین سال کی عمر سے مکتب و مدرسہ جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہنوز رسمی علوم سیکھنے کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عصری و دینی علوم کے حوالے سے مختلف مراحل میں مختلف اساتذہ کے سامنے زانو تلمذ تہہ کرنے کا موقع ملا۔ آج یوم

Read more

استاد تعلیم و تربیت کا منبع

بلا شبہ استاد جسمانی اور روحانی احساس کا وہ پیکر ہے جس سے تعلیم و تربیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ وہ اپنی پیشہ ویرانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایسے ہیروں کو تراش دیتا ہے جن کی قدر و قیمت دنیا کے کونے کونے میں بڑھ جاتی ہے۔ اسے آسمان سے ایک منصب سونپ دیا گیا ہے۔ وہ اسی لحاظ اور تڑپ میں ہونہار شاگرد پیدا کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔ اگر ہم روئے زمین پر

Read more

کوئی سکھ دا سنیہا آیا؟

پنجابی زبان میں عنوان باندھا ہے۔ نسرین انجم بھٹی حیات ہوتیں تو نہال ہو جاتیں۔ مفہوم سادہ ہے کہ کہیں سے کوئی خوشی کی خبر آئی؟ صحافت مگر وحشی صفت پیشہ ہے۔ اساتذہ نے خبر کی تعریف یہ باندھی کہ اس میں کچھ نحوست، ملال یا کم از کم خرق عادت پہلو پایا جائے۔ بزرگوں کا احترام بر چشم ما لیکن بندہ تہی کیسہ آج اچھی خبروں کا پشتارہ لایا ہے۔ نوع انسانی نے زبان ایجاد کی تو اس کی

Read more

تتلیوں کا بڑا مہینہ گزر گیا

ستمبر کا مہینہ گزر گیا تتلیوں سے محبت کا مہینہ تھا اور ہم نے یہ مہینہ ان کی قربت میں گزارا۔ پاکستان بٹرفلائی سوسائٹی مسلسل دو سالوں سے اس ماہ کو تتلیوں کے مہینے کے طور پر منا رہی ہے۔ نیچر دوست ساتھی سلمان بلوچ پاکستان بٹرفلائی سوسائٹی کا سہ ماہی جریدہ اپنی فیس بک وال پر شیئر نہ کرتے تو میں موجودہ سال بھی اس قافلے کا ہمراہی نہیں بن پاتا۔ میں نے جریدہ ڈاؤن لوڈ کر کے اس

Read more

روسی موسیقی، راج کپور اور بابا مراد ہمدموف

اپنے قیام کے بعد سے یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکز یا یو ایس ایس آر ہمیشہ اپنی فوجی توسیع کے لئے جانا جاتا تھا اور اس کا تصور اس واحد ملک کے طور پر تھا جو امریکا کے خلاف جنگ کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ مگر جنگ کے علاوہ سوویت یونین کا ایک بہت ہی دلچسپ پہلو ہے جو بہت کم زیر بحث آتا ہے، وہ ہے سوویت یونین کی موسیقی۔ جب بھی ہم سوویت میوزک انڈسٹری کے بارے میں

Read more

حیاتِ مابعد۔ معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر

ہمارے اطراف میں ایسی معلومات، مثالیں یا لوگوں کے ذاتی تجربات تو موجود ہیں جو موت کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ہمارے لئے رہنمائی کا سامان کرتے ہیں لیکن حیاتِ مابعد ایک ایسا موضوع ہے جس پر سوشل ورک، سائنس اور دیگر مغربی علوم سیر حاصل معلومات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حیاتِ مابعد کی کوئی حقیقی یا حتمی تصویر نہ تو کسی کے سامنے ہے اور نہ

Read more

علم کے دشمن

ہپاٹیہ سکندریہ کے شاندار علمی دور میں پیدا ہوئی تھی۔ اُس کے والد کا نام تھیون تھا ۔وہ اپنے دور کا ماہر ریاضی دان اور ماہر فلکیات تھا ۔ اُس نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لئے ایتھنا دیوی کے شہر ایتھنز بھیجا تھا۔ ہپاٹیہ نے اپنے والد اور سکندریہ کے نامور ریاضی دانوں، سائنس دانوں سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ اُس نے ریاضی ، فلکیات ، فلسفہ کو اپنی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف:5

”میں وہ ہوں جس کے لکھے ہوئے کو اندھا بھی پڑھ سکتا ہے۔ میری شاعری جادوئی اثر رکھتی ہے۔ جسے بہرہ بھی سن سکتا ہے۔ جو کام تلوار اور تیر کرتے ہیں۔ میرا کاغذ، قلم اور حرف اُس سے زیادہ موثر ہیں۔“ المتنابی بازار اسی شاعر کی یاد میں ہے۔ میں کتابوں کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی۔ یہ کتابوں کا جہان تھا۔ یہاں کتابوں کی دنیا آباد تھی۔ صاف ستھرے فرشوں پر بکھری ہوئیں، تھڑوں پر دھڑوں کی

Read more