آہ بشارت اللہ کھوکھر۔ ایک فرد اور ایک ادارہ!

عام طور پر ان لوگوں کی اموات یا برسیوں کے مرثیے لکھے جاتے ہیں جنہیں مشہور شخصیات کے طور پر جانا یا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کونے کے آس پاس بہت سے گمنام ہیرو موجود ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زندگیوں کو بہت سے طریقوں سے اور بہت ساری زندگیوں کو کچھ طریقوں سے متاثر کرتے ہیں۔ وہ کمیونٹی، ساتھیوں، دوستوں، قبیلوں اور ذاتوں اور گوتوں کے سامنے ایک ماڈل ہوتے ہیں۔ بشارت اللہ کھوکھر بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔

Read more

ضلع گجرات کا پہلا امریکی گورنر، جوسایہ ہرلن ( 1832۔ 1835 )

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کی تاریخ میں بہت سے غیر ملکی فوجی افسران تھے جن میں سے کچھ نے خالصہ دربار میں ملازمت کے لیے برطانوی بھگوڑے ہونے کا غلط دعویٰ کیا تھا لیکن ان میں سے ایک منفرد شخص جوسایہ ہرلن نمایاں تھا جو امریکی شہریت کا سچا دعویٰ کرتا تھا جسے بعد میں رنجیت سنگھ نے گجرات کا حکمران تعینات کیا۔ جوسایہ ایک ماہر معالج کے طور پر اپنے فوجی کیریئر کا آغاز برطانوی فوج میں کولکتہ

Read more

سائنس دان بھی، فن کار بھی : ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی جہتیں

سائنس، فلسفہ، ادب اور فنونِ لطیفہ میں بیک وقت مہارت رکھنا صرف غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کا امتیازی وصف ہوتا ہے۔ یہ انسانی فطرت، ذہنی ساخت، رجحانات اور مزاج کی وہ ہم آہنگی ہے جو کسی فرد کو بیک وقت مختلف علوم و فنون پر عبور عطا کرتی ہے۔ اگر اس پر مختلف زبانوں کا ادراک بھی شامل ہو جائے تو وہ شخص نہ صرف ایک انفرادی شناخت قائم کرتا ہے بلکہ علمی افق پر اپنے ان مٹ

Read more

کیا بھوک کے بت، ابراہیم علیہ السلام کے کعبے کے بتوں سے بھی بڑے ہیں؟

بھائی صاحب آپ دس قدم کی دوری پر آئے ہوتے ہیں۔ ہماری طرف لوگ ویسے ہی کم ہوتے ہیں۔ گاڑی بھیجتے ہیں لیکن آپ کبھی آتے ہی نہیں۔ مجلس اور درس میں آ جایا کریں۔ کیا آیا کروں؟ اتنے سال بعد آیا ہوں لیکن تم لوگوں کا تبرک چنے والوں چاولوں سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہماری طرف تو اب غریب سے غریب بھی چکن پلاؤ اور بریانی سے کم بات نہیں کرتا۔ اور خود میں تو روسٹ بانٹتا ہوں۔ اوپر

Read more

کینٹین میں بیٹھ کر یونیورسٹی ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ تجربہ کاروں کی زبانی

ہم بدلے، وقت بدلا، ڈگری بدلی اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئے مگر اس سب میں نہیں بدلا تو وہ ہے ہمارے تعلیمی ماحول کی آب و ہوا۔ تبدیلی غیر آرام دہ چیز ہوتی ہے، لیکن خدا بھلا کرے ہمارے تعلیمی نظام کا، جو اس قدر مہربان ہے کہ طلبہ کو کسی قسم کی غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالنے سے مکمل پرہیز برتتا ہے۔ اسکول نے ہمیں جو کچھ کھانے کو دیا، وہی کچھ کالج

Read more

ذکر کچھ ملاقاتوں کا

تقریبات میں جانے سے عمومی طور پر میں گریزاں رہتی ہوں۔ گھریلو اور دفتری مصروفیات سے ہٹ کر کہیں آنے جانے کا وقت کم ہی نکلتا ہے۔ تاہم جب دیرینہ دوست احباب کی ہدایت ملتی ہے تو حاضری لازم ہو جاتی ہے۔ میری گل سے میری شناسائی برسوں پرانی ہے۔ میری سابق رکن پنجاب اسمبلی ہے۔ یہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور ہر دم متحرک۔ سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ غالباً کسی مجبوری یا ترجیح کی

Read more

بہار آئی کہ جیسے یک بار کھل اٹھے ہیں گلاب سارے

شاہدہ سردار کا میسج آیا کہ روٹری کلب کی جانب سے عید ملن گالا کا اہتمام کیا گیا ہے جو اس دفعہ میجر عامر کے فارم ہاؤس میں ہونا قرار پایا ہے۔ میں، جو بوجہ بیماری دو ڈھائی سال سے کاروانِ حوّا کی ساتھیوں اور ایسی تمام محفلوں سے دور رہی لیکن اب دل نے کہا کہ چلو چلو نیسا پور چلو کچھ بہار کے رنگ دیکھو، چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے پھول کھلے

Read more

مسلم انصاری کی کتاب ’کابوس‘ پر تبصرہ

کئی دہائیوں سے، غیر ملکی کہانیوں، ان کے بارے میں پسندیدگی کا اظہار، غیر ملکی کہانی کاروں کے بارے میں تبصرے ایک ٹرینڈ بن چکے ہیں۔ پھر ذرا نظر گھماتے ہیں تو چار، پانچ دہائی پہلے کے ادیبوں پر ٹھہر جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے ادیبوں پر نہ کوئی بات کرتا ہے، نہ ان کی کتابوں اور تحریروں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کیونکہ مبصرین اب تبصرے کرنے میں مصروف ہیں ان کے پاس موجودہ ادیبوں کی کتابوں کو پڑھنے کے

Read more

اختلاف کیا کیجئیے

اختلاف رائے رکھنا یا اختلاف کرنا نفرت کی علامت ہے نہ دشمنی کا آغاز۔ اختلاف، مختلف سے ماخوذ ہے اور کسی شے کے دوسرے سے جدا ہونے ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ اختلاف دراصل دو ایک دوسرے سے جدا اجسام کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ اختلاف ہی سے نظام مادیات نمو پایا ہے اور جب اختلاف ختم ہو جائے تو وجود ختم ہو جاتا ہے یا یوں کہیے کہ وجود ختم ہو جائے تبھی ممکن ہے کہ اختلاف ختم

Read more

اخلاقیات اور روایات کی سیاست کا امین تاج حیدر

آج کا دن اس شخص کے نام جس نے 83 برس کی عمر پائی اور اس کی یہ 83 برس کی زندگی بناوٹ اور ظاہری چاہ و حشمت سے پاک تھی۔ آج بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہماری سیاست بناوٹ کے اصولوں پر قائم ہو گئی ہے اور اس نے ہمارے پورے سماج کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے کردار بھی موجود ہیں جو روز اول ہی سے احترام، محبت اور مکالمہ نگاری، برداشت

Read more

خواب، محبت اور زندگی (10)

وزیر خان کی مسجد کے پیچھے لاہور میں ہمارا قیام ابی کی مرحومہ پھوپھی کے مکان میں رہا (جن کی بڑی بیٹی سے ابی کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی تھی) ۔ یہ مکان وزیر علی خان کی تاریخی مسجد کی عقبی گلی میں واقع تھا۔ لاہوریوں کی موجودہ نسل اسے اب وہاں نہیں پائے گی کیونکہ برسوں پہلے اسے مخدوش قرار دے کر منہدم کیا جا چکا ہے لیکن میری یادوں میں وہ آج تک اسی طرح قائم و

Read more

واپسی کا پتہ

عجیب الجھن ہے۔ یہ پانچواں تحفہ ہے جو میرے رہائشی پتہ پر موصول ہوا ہے۔ میں نہ چاہنے کے باوجود ان کو وصول کرتی ہوں اور پھر اگلے دن دفتر میں لا کر شہنیلا کو دے دیتی ہوں۔ شہنیلا جو میری نئی کولیگ ہے، اسے ہمارے دفتر میں آئے ہوئے تین مہینے ہوئے ہیں۔ بڑی باتونی لڑکی ہے، دنوں میں پورے دفتر سے دوستی گانٹھ لی اور سب ہی کے ذاتی حالات سے واقف ہو گئی۔ جب اسے معلوم ہوا

Read more

افسانہ: قربانی کی عورت (آخری حصہ)

کنزا جب کنیز یوسف کے بتائے ہوئے ہوسٹل میں پہنچی تو وہاں کی مالکہ تمکنت اعجاز بذاتِ خود، اُس کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہی کنزا کو یقین ہو گیا کہ وہاں اُس کی ہر مطلوبہ سہولت موجود ہے۔ مسز تمکنت کے رویّے سے یہ شہادت بھی مل گئی کہ وہ بیگم کنیز یوسف کا بہت احترام کرتی ہیں اور شاید اُن کی احسان مند بھی ہیں۔ اب کنزا کے یہاں آنے سے، انہیں

Read more

کینیڈی، کاسترو اور مانرو کی کہانی

جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجازت دی ہے کہ صدر کینیڈی کے اندوہناک قتل کے اسی ہزار صفحات، جو اب تک صیغہ راز میں تھے، عوام و خواص پڑھ سکتے ہیں، صدر کینیڈی کی شخصیت، ان کی کیوبا کے فیڈل کاسترو سے سیاسی رقابت اور ایکٹریس مارلن مانرو سے رومانوی محبت کے دلچسپ واقعات دوبارہ موضوع بحث بن گئے ہیں۔ جون ایف کینیڈی اس وقت امریکہ کے صدر بنے جب ان کی عمر صرف ترتالیس برس تھی اسی لیے

Read more

پیکا“ ۔ بھیا! ای کا ہے؟”

جب ”پیکا“ کے چرچے سُنے تو ہم سوچ میں پڑ گئے کہ بھیا! ”ای کا ہے؟“ کھا پی کر اونگھتے اور بس پی کر جھومتے لوگ دیکھے، لیکن یہ ”پی کر“ ہے نہ ”پی کے“ ، خواتین دوپٹے سنوارنے کے لیے ان پر پیکو کرواتی ہیں، لیکن ”پیکا“ کا سنوارنے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ خیال آیا کہ کہیں یہ ہمارے دوست رفیق عرف فیکا کا چھوٹا بھائی تو نہیں، مگر یہ کسی ”بگ برادر“ کا برادر خورد تو

Read more

مرتی ہوئی روشنی میں اوجھل ہوتے چراغ

غالب نے ’زندگی میں مرگ کا کھٹکا‘ لگا ہونے کا اشارہ دیا تھا۔ خواہی کھٹکے کو اندیشہ جانو، خواہی اس کواڑ کی چٹخنی جسے کسی بھی لمحے فنا کے اندھیرے میں کھل جانا ہے۔ فنا کے بے کنار خلا میں سود و زیاں اور صحیح یا غلط کے سب سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ وجود کا واقعہ نامعلوم رفتار سے فراموشی کی پاتال میں اتر جاتا ہے۔ محض یہ نکتہ باقی رہتا ہے کہ ہونے سے نا ہونے کے سفر

Read more

ہم حادثہ ہیں، پر انتشار سے خالی نہیں

تمہاری زندگی ایک حادثاتی پیدائش کا نتیجہ ہے، یہ بات سنتے ہی تم حیران ہو گے۔ اگر تم غور کرو تو لاکھوں تولیدی خلیات کی دوڑ میں صرف تم ہی کیوں کامیاب ہوئے؟ یہی کامیابی تمہارے وجود کی بنیاد بنتی ہے۔ تو اس پر اترانا کیسا؟ فخر کیسا؟ یا اسے تحفہ سمجھنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ کیا تمہاری پیدائش کے عمل میں کوئی قدرتی منصوبہ بندی تھی یا محض حیاتیاتی عمل؟ کیا اس پیدائش سے قبل تمہارا کوئی وجود

Read more

بڑا کم ظرف تھا جو کر گیا ویراں شاموں کو

30 نومبر 1967 کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوان احمد رضا قصوری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان کے خاندان نے 1970 سے پہلے کبھی کسی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیتا تھا۔ 7 دسمبر 1970 کو پاکستان کے پہلے اور تباہ کن عام انتخابات میں احمد رضا قصوری بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن کچھ عرصے بعد اپنے مزاج کی

Read more

جام صاحب کی سٹائلش محبوبہ

جام صاحب ایک سال سے یونیورسٹی کے ایک ”پلاٹ“ پر نظریں جمائے ہوئے تھے، روز وہاں جا کر نظر دوڑاتے کہ یہ اب تک خالی ہے یا پھر کسی اور نے بکنگ کروا لی؟ لیکن ہم سے یہ خفیہ مہم ایسے چھپائی گئی جیسے پلاٹ نہ ہو کوئی نیوکلیئر پروگرام ہو۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہمیں ”پلاٹ وزٹ“ کی دعوت ملنے لگی، یعنی چلو تمہیں بھی دکھائیں تاکہ ہم اپنی ماہرِ نفسیات جیسی آنکھوں سے اندازہ لگائیں کہ وہ

Read more

سفر حجاز: کیا تیاری ہو؟

خانہ کعبہ پہلی مرتبہ نظروں کے سامنے آئے تو یہ دعا مانگنی ہے۔ طواف کرتے ہوئے ان کلمات کا ورد اور ذکر کرنا ہے۔ سعی کی دوڑ کرنی ہے تو یہ گڑگڑا کر کہنا تو ہرگز نہیں بھولنا۔ روضہ رسول ﷺ پر حاضری ہو گی تو یہ التجا کرنا تو بالکل نہیں بھولنی۔ فلاں کا سلام، فلاں کی دعا تو لازمی پہنچانی ہے، اور ایسی کئی باتوں کی تیاری جو روح کو مطمئن کرنے کا سبب بنیں، سبھی حاجی اور

Read more

اڈیالہ جیل پر ناکامی اور پی ٹی آئی کا المیہ

اڈیالہ روڈ، راولپنڈی کی ایک ایسی شاہراہ ہے جسے عمومی طور پر ایک درمیانی درجے کی رابطہ سڑک سمجھا جاتا ہے، مگر جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے اعتبار سے اس کی حیثیت کسی مرکزی شاہراہ سے کم نہیں۔ یہ سڑک نہ صرف راولپنڈی کے وسطی علاقوں کو دیہی پٹیوں سے جوڑتی ہے بلکہ اسلام آباد، روات اور چکری انٹرچینج کے ساتھ براہ راست ربط قائم کرتی ہے۔ تقریباً چونتیس سے پینتیس کلومیٹر پر محیط اس سڑک پر واقع ذیلی راستے

Read more

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

1960 سے 1974 تک میں حصول تعلیم کے سلسلہ میں بوریوالا مقیم رہا۔ پرائمری تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ میں کیسا طالب علم تھا۔ کیوں کہ حساب پڑھتے ہوئے کبھی کبھار ابا جی سے ٹھکائی ہو جایا کرتی تھی لیکن پانچویں جماعت کا امتحان دینے کے بعد حصولِ وظیفہ کے لیے امتحان دینے والے طلبا میں میرا شمار ہوتا تھا۔ ہماری پانچویں کلاس کے ٹیچر بھا جی مختار تھے۔ بہت چاق و چوبند، خوش لباس، دبنگ

Read more

بیرسٹر عبدالحمید بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے

امیر جعفری کا جب پیغام آیا کہ ہمارے مشترکہ دوست بیرسٹر بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے تو میں چند لمحوں کے لیے ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا اور میرے ذہن کے نہاں خانوں میں چند یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں مجھے وہ شام یاد ہے جب میرے کامریڈ دوست سید عظیم نے مجھ سے کہا تھا "میں ایک وکیل دوست سے ملنے گیا تھا۔ ان کا نام عبدالحمید بھاشانی ہے۔ میں سمجھا تھا وہ کمیونسٹ ہوں

Read more

ابو ظہبی کی الشیخ زید بن سلطان النہیان گرینڈ مسجد

چمکتی دھوپ میں ابو ظہبی کی انتہائی جدید طرز تعمیر کی بلند و بالا عمارتوں سے گزرتے اب ہمیں ایک شاندار بے شمار گنبدوں اونچے میناروں والی مسجد سامنے نظر آ رہی تھی۔ ہماری منی بس کا ڈرائیور ہمیں ان عمارتوں کے متعلق اپنی معلومات سے آگاہ کرتا آیا تھا۔ اور اب سامنے نظر آتی جامع الشیخ زید کبیر مسجد کے متعلق بتاتا ایک لمبا چکر گھومتے وسیع پارکنگ لاٹ میں کھڑی بے شمار سیاحتی بسوں اور وینوں کے ساتھ

Read more

سیاسی انبوہ میں تنہا، تاج حیدر

ستر کے عشرے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف (رشید حسن خان گروپ) کے طلبہ کراچی کے جن نوجوان رہنماؤں اور دانشوروں سے متاثر تھے۔ ان میں سر فہرست معراج محمد خان اور تاج حیدر تھے۔ تاج حیدر کی شادی اسی زمانے میں ہوئی تھی اور ہمارے گروپ کے طلبہ ان کے ولیمے میں مدعو تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ریگل چوک سے انہیں تحفے میں دینے کے لئے داس کیپیٹل کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ خریدا

Read more

کبھی اپنے گھر کی کھڑکی بند کر کے دوسروں کو جینے دیں

کبھی آپ نے غور کیا کہ کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں اس طرح دلچسپی لیتے ہیں جیسے اُن کا اُس پر حق ہو۔ کسی کی شادی، نوکری، بچے، طلاق حتیٰ کہ کسی کے لباس یا چہرے کے تاثرات تک سب کچھ اُن کے تبصروں کی زد میں ہوتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سوالات کرتے ہیں بلکہ خود ہی جواب بھی بنا لیتے ہیں۔ کسی نے شادی کیوں نہیں کی؟ بچے کیوں نہیں ہوئے؟ نوکری کیوں چھوڑی؟ کپڑے ایسے

Read more

صورت کسی کی، عمرہ اماں کا

’توں اداس نہیں ہوندی، میں تاں بڑی اداس آں‘ (تو اداس نہیں ہوتی؟ میں تو بہت اداس ہوں ) ۔ فون بوتھ کے ایک طرف یہ آواز ابھرتی تو دوسری طرف خاموشی ہوتی۔ اظہار کرنے والی تو کہہ کر ہلکی ہو جاتی۔ اور جدھر خاموشی ہوتی ادھر یہ الفاظ دل پر لکھے جاتے۔ ان مٹ رہتے۔ ہفتے میں ایک مرتبہ جامعہ سے گھر بات ہونے پر وہ یہ یا اس سے ملتا جلتا جملہ سنتی۔ سو روپے کا کارڈ ڈالنے

Read more

رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان

ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر

Read more

اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا! مکمل کالم

آج صبح موبائل فون دیکھا تو اُس پر سبوخ سیّد کا پیغام تھا ”سلام، سر اِس پر ضرور لکھیں۔“ پیغام کے ساتھ اُن کی تحریر تھی۔ جو لوگ سبوخ کو نہیں جانتے اُن کے لیے عرض کیے دیتا ہوں کہ سبوخ ایک صحافی ہیں، آئی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نام سے خبروں اور تجزیوں پر مبنی ویب سائٹ چلاتے ہیں، صاحب مطالعہ ہیں، مذہبی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، بلکہ میں تو انہیں اچھا خاصا عالم دین

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط 11

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ آج کیا کھانا پکایا جائے اور اگر موڈ نہ ہو تو گھر میں سب کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانا باہر سے منگوا لیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی خوش نصیبی پر شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ دنیا میں لاکھوں کروڑوں لوگ ہیں جو غذائی قلت کی وجہ سے زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بیسوی صدی میں سات کروڑ پچاس لاکھ لوگ قحط کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 9

یہ دن جنوبی ایشیا کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ امی نے کئی مرتبہ یہ واقعہ ہمیں کچھ اس طرح سنایا: ”میں عروسی لباس میں ملبوس سہیلیوں میں گھری بیٹھی تھی۔ گھر میں رشتہ دار اور پڑوسی جمع تھے۔ اچانک باہر شور اٹھا، ملی جلی آوازیں آنے لگیں ’انہوں نے گاندھی کو مار دیا۔ گاندھی کو گولی مار دی گئی۔ گاندھی کا قتل ہو گیا‘ یہ سنتے ہی سب لوگ باہر بھاگ گئے اور میں کمرے

Read more

نذرانہ عقیدت

دنیا کے کسی بھی خطے کا ادب پڑھیں اور سمجھیں تو معلوم ہو گا کہ نہ صرف اس زمانے کے مخصوص حالات اور واقعات نے اس عہد کے ادب اور ادیبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس عہد میں موجود یا اس عہد سے بہت پہلے گزرے ہوئے ادیبوں نے بھی ان پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان ادیبوں یا لکھنے والوں کی بہت سی چیزوں کو اس عہد کے بعد کے لکھنے والے ادیبوں نے اپنا کر اور

Read more

نثری نظم کو گود لینے والے مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے

مجھے سویڈن سے سائیں سچا اور فریدہ کے پیغامات آئے کہ ہمارے مشترکہ شاعر دوست مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے۔ میری مسعود قمر سے آخری ملاقات بھی سائیں سچا اور فریدہ کے گھر میں ہی ہوئی تھی جب سائیں سچا نے ایک ادبی محفل کا اہتمام کیا تھا اور جن دوستوں کو دعوت دی تھی ان میں مسعود قمر بھی شامل تھے۔ جب میں نے اور عظمیٰ عزیز نے ان کی خدمت میں اپنی مشترکہ کتاب عزیز الحق: لاہور

Read more

انٹلکچول ٹی

چائے کے شوقین حضرات اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چائے کا ذائقہ ہم مشروب کی تبدیلی سے بدل جایا کرتا ہے۔ آپ سب نے چائے کے کئی کپ لنڈھائے ہوں گے مگر وہ چائے کہاں بھولتی ہے جس میں چینی کے بجائے انسیت کی چاشنی ہو۔ ہمارے سماج کا، باقی المیوں کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے لوگ آپسی دوستانہ مراسم سے محروم رہتے ہیں۔ ہمارا بھی ایسے ہی

Read more

حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928

Read more

شاہی سمر پیلس: چترال کی مہمان نوازی کا دروازہ

دریائے چترال کے اِس پار شاہی سمر پیلس جہاں محبت اور مہمان نوازی کا راج ہے لواری کی برف پوش چوٹیاں جب مسافروں کی پشت پر رہ جاتی ہیں اور چنار کے درختوں کی سرسبز چادر آنکھوں کے سامنے بچھتی ہے، تو دریائے چترال اس پار ایک شاہی قلعہ اپنے بازو پھیلائے مسافروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ قلعہ، چترال کی ریاست کا پہلا چہرہ، تاریخ کے اوراق میں صرف اینٹ اور لکڑی کی عمارت نہیں، بلکہ مہمان نوازی،

Read more

سید کاشف رضا کا شعری مجموعہ: ممنوع موسموں کی کتاب

ایسے میں جب شاعر کا تیسرا مجموعہ کلام شعری دُنیا میں وارد ہونے کو ہو تب اُس کے گزشتہ کلام کا ذکر چھیڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک شخص جو ادبی منظر نامے پر کئی جہتوں اور حوالوں سے جانا جاتا ہو اُس کی اصل شخصیت کو کھوجنا کسی طور مشکل کام ہے۔ سید کاشف رضا کا نام سُنتے ہی دو حوالے تو فوراً آپ کے ذہن میں آتے ہیں، بطور مترجم اور بطور فکشن نگار۔ تعارف کا حوالہ

Read more

4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا

Read more

خواب، محبت اور زندگی – 8

آج کل کے دور میں یہ سوچنا بھی مشکل لگتا ہے کہ اس ”پرانے“ دور میں امی اور ابی کے درمیان رومانس کیسے پروان چڑھا ہو گا؟ موجودہ نسل کے لئے تو اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ لیکن جمشید پور کے امتیاز علی نے اپنی فلم ”لو آج کل ”میں ان کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ میرے خیال سے وہ بھی اسی راہ سے گزرے ہوں گے جس سے سیف علی خان اور ان کی محبوبہ یعنی

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

پاکستان کرکٹ مسیحی ٹیم کے سپُرد کرنے کا دلچسپ مطالبہ

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی اس خبر سے کرکٹ کی دیوانی مگر اب کرکٹ ٹیم سے مایوس پاکستانی پبلک میں خوشی کی لہر دوڑی ہے کہ پاکستان کی مسیحی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا میں منعقد ہونے والے جنوبی ایشیا کرکٹ کپ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بلکہ نجی محفلوں میں اب اس بات کا اظہار بھی ہونے لگا ہے کہ پاکستان قومی ٹیم کی پے در پے شکستوں کے بعد اب قومی کرکٹ ٹیم

Read more

کیا مجھے موت سے خوف آتا ہے؟

یہ سوال مجھ سے ابھی کچھ دیر پہلے کسی نے ان۔ باکس میں پوچھا، میں لمحے بھر کو خاموش رہا۔ پھر گہری سانس لی اور کہا ”نہیں، مجھے موت سے نہیں ڈر لگتا۔ مگر موت کے تکلیف دہ عمل سے، مہینوں بسترِ علالت پر پڑے رہنے سے، اسپتال کے ناقابلِ برداشت بِلوں سے، اور بے بسی کی اس کیفیت سے خوف محسوس ہوتا ہے، جہاں زندگی اور موت کے درمیان انسان محض ایک تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔“ اچانک

Read more

طارق جمیل کا مہک ملک کو گلے لگانا اور مناہل ملک کی ننگی تصاویر کا اسکینڈل

انسانی زندگی اور ذہن انتہائی گنجلک اور پیچیدہ قسم کا مظہر ہے، جو سامنے یا بظاہر دکھائی دیتا ہے وہ کچھ اور ہوتا ہے اور جو مخفی ہوتا ہے اس کی حقیقت بالکل ہی مختلف ہوتی ہے، کمال دیکھنے والی کی آنکھ میں اور سمجھنے والے کے دماغ میں پنہاں ہوتا ہے کہ وہ اس منظر یا حقیقت کو کیا معنی دیتا ہے؟ معروف سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل کے خوبصورت الفاظ انسانی زندگی کی اس پیچیدگی کی بخوبی عکاسی کرتے

Read more

انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت؟

”کیا انسانیت سے پیار اور انسان سے نفرت ممکن ہے؟ جی ہاں، نہ صرف ممکن ہے بلکہ آج کل تو ممکن ہی یہی ہے۔ کیونکہ“ انسانیت ”ایک مثالی تصور ہے۔ ایک ایسا خواب جہاں سب برابر، مہربان، اور معصوم ہوتے ہیں۔ اس سے محبت کرنا آسان ہے، کیونکہ یہ ایک دور کی خوبصورتی ہے، ایک خیال، جس میں نہ کمزوریاں ہیں، نہ تضاد۔ لیکن انسان؟ وہ تو غلطیوں، حسد، غصے اور کمزوریوں کا پیکر ہے۔ انسان سے محبت قربانی مانگتی

Read more

عفیفہ کے لیے پیپرز کی تیاری کے تیر بہدف مشورے

امتحانات کی تیاری ایک سنجیدہ کام ہے، مگر سنجیدگی انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے عفیفہ اور ان جیسے تمام ذہین و فطین طلبہ کے لیے پیش خدمت ہیں چند ایسے نادر و نایاب ”امتحانی گُر“ ، جو نسل در نسل کامیاب طلبہ آزماتے آئے ہیں! 1: نیند پوری کرنا۔ کیونکہ نیند ہی زندگی ہے! سب سے پہلا اور اہم اصول یہ ہے کہ جیسے ہی پیپرز قریب آئیں، نیند پوری کرنے کا سنہری موقع ہاتھ

Read more

یہ دشت کی تنہائیاں اور درد کا تنہا سفر: سفرنامہ جاپان

ہیرو شیما کی وحشتوں سے نکل کر ہم کیوٹو پہنچ چکے تھے ہمارے سامنے وسیع جنگل تھا حد نگاہ تک سرسبز و شاداب فصلیں اور درخت ہی درخت تھے جس طرح اشجار کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ اسی طرح میرے اندر لا متناہی خیالات اور الجھنوں کی کشاکش جاری تھی اگرچہ میرے ارد گرد میرے ساتھی تھے جن کا اس تمام عرصے خوبصورت ساتھ رہا۔ مسٹر چڑراج دادا رحمنٰ اور سیکوسن ان کے ساتھ گزرے بے مثال دن یاد گار راتیں

Read more

امریکی ویزا، ایڈولیسنیس اور چودہ سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل

پچھلے ہفتے بہت سی باتیں ہوئیں اور سب ہی سنانے کو جی چاہتا ہے۔ امریکہ جو ہمارا محبوب بھی ہے اور دشمن جاں بھی، جہاں پہنچنے کو ہر کسی کا جی چاہتا ہے مگر گالی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ عجیب محبت و نفرت کا رشتہ ہے۔ پچیس تیس برس پہلے پاکستانی عوام ان ممالک میں شامل تھے جو ویزا لاٹری میں درخواست ڈال سکتے تھے۔ سچ پوچھیے تو لاٹری وغیرہ پہ یقین کچھ کم ہی تھا کہ ہمارا

Read more

اپنی زنجیریں ہمیں خود توڑنا ہوں گی

پاکستان جیسے ملک کبھی ’’تیسری دنیا‘‘ کا حصہ تصور ہوتے تھے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں تقریباََ اکثریت کی حامل یہ دنیا خود کو سرمایہ دار اور کمیونسٹ کیمپوں سے الگ سمجھتی تھی۔ سامراج کی غلامی سے آزادی کے بعد بھی لیکن ان ممالک کی حکمران اشرافیہ کو سرد جنگ کے دوران مذکورہ بالا کیمپوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا ضروری تھا۔ یہ ساتھ ملک میں ’’استحکام اور خوشحالی‘‘ کی خاطر جائز ٹھہرایا جاتا۔ ہماری حکمران اشرافیہ

Read more

عید، مزاحمت اور بلوچ

چاند رات کو جب فیس بک پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پیج پر پوسٹ چیک کر رہی تھی تو دیکھنے میں آیا کہ عید کے پہلے دن وہ دنیا بھر سے بالخصوص بلوچ قوم سے اپنے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جس کا عنوان انہوں نے ”عید، مزاحمت اور بلوچ“ رکھا تھا۔ اس پوسٹ کو دیکھ کر میں سوچنے لگی کہ بلوچستان تو صدیوں سے ریاستی جبر و تشدد کے آگ میں سلگ رہا ہے، انگنت

Read more

کیا فرائیڈ کو ازسرِ نو پڑھنے کا وقت آ گیا ہے؟

سگمنڈ فرائیڈ گزشتہ صدی کے چند ایسے انسانوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے علمِ نفسیات، سینما اور ادب پہ گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ بالخصوص نفسیات کے شعبہ میں ان کے ذکر کے بغیر مضمون کا تعارف ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک مشہور تھیوری یعنی نفسیاتی تجزیہ Psychoanalysis کی بنیاد رکھی۔ میں نے اپنے ادبی سفر اور سکول و کالجز میں درس و تدریس کی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ مذکورہ تھیوری کو اک باقاعدہ علم کے طور

Read more

متنازع کینالز کے خلاف سندھ میں احتجاج، قیادت کون کر رہا ہے؟

سندھ میں احتجاجی تحریک کون چلا رہا ہے؟ پیپلز پارٹی اتنی دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیوں ہو گئی ہے؟ اس کا کس طرح سے حل نکالا جا سکتا ہے؟ ملک کے بڑے بڑے تجزیہ کار جب اپنی رائے دیتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف لگتا ہے کہ وہ سندھ کی زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے پیر پگارا کی فنکشنل لیگ اس احتجاج کو لیڈ کر رہی ہے، کوئی جی ڈی اے میں شامل

Read more

ایک شاعرہ دو محبوب

کینیڈا کی مایہ ناز شاعرہ اسما ناز وارثی نے نہ صرف مجھے بڑی اپنائیت سے ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی بلکہ اپنی ذہین بیٹی زرین کو بھی بلایا تا کہ وہ بھی مجھ سے مل سکے۔ ڈنر کے دوران اسما وارثی نے مجھے اپنے شعری مجموعے سخن آئینہ کا ادبی تحفہ دیا تو اس کے پہلے صفحے پر نوشتہ تھا اپنے محترم دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل کے نام جن سے عقائد و خیالات میں بعد المشرقین ہونے کے

Read more

بچپن کی عید اور آج کی عید۔ خوشیوں کا بدلتا رنگ

عید کا نام سنتے ہی خوشبوؤں، رنگوں اور محبتوں کا ایک حسین امتزاج ذہن میں آ جاتا ہے۔ چاند رات کا انتظار، دادی کے ہاتھ کی بنی میٹھی سویاں، ابو کی طرف سے عیدی، اور سہیلیوں کے ساتھ نئے جوتوں کی دوڑ، بچپن میں عید کا ہر لمحہ ایک یادگار خوشی کا سبب تھا۔ وہ وقت جب چاند رات کو آسمان پر چمکتا چاند دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھتا تھا۔ امی فوراً آواز دیتیں، ”چاند نکل آیا، آؤ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 7

خالہ کی طرح ابی بھی سرکاری ملازم تھے اور انہیں بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے یا پاکستان جائیں گے۔ ابی نے تنہا پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شاید اس فیصلے کی تین وجوہات رہی ہوں گی: اول یہ کہ دادا نیشنلسٹ تھے اور قیام پاکستان کے حامی نہیں تھے۔ ویسے بھی وہ چاند والی حویلی کو چھوڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے، امیتابھ بچن کی مشہور فلم دیوار کی طرح ابی کا

Read more

ٹرمپ کی دھمکیاں اور ایران کا جواب

امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو خوفناک بمباری کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شرارت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ گو کہ اس بات کا فوری امکان نہیں ہے کہ امریکہ، ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ تاہم ایسی صورت میں ایران کی طرف سے جوابی کارروائی

Read more

عید کا تحفہ: حفیظ جوہر کی کلیات

  باصر سلطان کاظمی لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل

Read more

کمر۔ کس، ناٹی اولڈ مین اور نیویارک پبلک لائبریری

( 1 ) کمر۔ کس ہماری من پسند اس دکان پر کیا کیا مسالہ نہیں ہوتا، کون سا تیل ہے جو خالص اور دستیاب نہ ہو۔ اسلامی شہد ان کے ہاں بھی البتہ جعلی ہوتا ہے سو ہم نہیں خریدتے۔ مین ہیٹن نیویارک کے ”ٹریڈر۔ جوز“ جہاں بہت بھیڑ ہوتی ہے اس کے خالص شہد پر بھی ہمیں شک ہی رہتا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ ایک پاؤنڈ یعنی 453.592 گرام کے لگ بھگ شہد پیدا

Read more

خواب، محبت اور زندگی 6

چاند والی حویلی کے باہر اگر کانگرس اور مسلم لیگ کی انگریزوں سے آزادی کی تحریک زوروں پر تھی تو حویلی کے اندر اب جو اسٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، اسی قسم کے ڈرامے چلتے رہتے تھے۔ برسوں پہلے جب میری دادی حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ابی کی پھوپھیاں ہمارے دادا کے لئے نئی دلہن بیاہ کر لے آئی تھیں۔ پہلے تجربے نے انہیں بھی محتاط

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 37 : بردکھاوا

” جو شخص خداوند کی طرف سے دولت، جائیداد اور اختیار کا تحفہ حاصل کرتا ہے اور اپنی محنت میں خوشی مناتا ہے، وہ واقعی خدا کا عطیہ ہے۔“ واعظ 5 : 19 عادل پیٹر کا شمار چٹاگانگ کے سربرآوردہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ سرکاری اور تجارتی حلقوں میں شاید ہی کوئی اہم شخص ہو جو انہیں نہ جانتا ہو۔ وہ چٹاگانگ کے چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور لائنز کلب کے فعال ترین ممبر تھے۔ فلاحی کاموں میں

Read more

مزاح نگار مرزا یاسین بیگ سے سنجیدہ ادبی دوستی کی کہانی

ڈنر اور ڈائلاگ کینیڈا کے مایہ ناز مزاح نگار سے سنجیدہ ملاقات کی خواہش نے دل میں سرگوشی کی تو میں نے انہیں ان کے شہر مسی ساگا (جسے کینیڈا کے مشرقی مہاجرین مسز آغا کے نام سے پکارتے ہیں ) کے نروانا ریسٹورانٹ میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ اس ڈنر کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی دوست شکیلہ رفیق کی مغفرت کی دعا کرنے کے لیے

Read more

شیراز دستی کے ناول ”ساسا“ میں مشرقی و مغربی تہذیب کی کشمکش

ناول ’ساسا‘ کے ہیرو سلیم کو محبت کی تلاش ہے۔ وہ اپنی تلاش کا آغاز اپنے گاؤں سے کرتا ہے اور گاؤں میں اسے ختم کرتا ہے۔ وہ انسانی حقوق، شہری آزادی اور عمومی انسانی صورتحال سے متعلق دو دنیاؤں کے تہذیبی فرق اور عالمی دنیا کے تضادات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس ناول کے ذریعے قاری مشرقی اور مغربی تہذیب کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے کہیں بھی اپنی ثقافت

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ تیسرا حصّہ

دریا کے کنارے عورتوں کا ایک بڑا گروہ بیٹھ کے کپڑے دھو رہا تھا۔ کپڑے دھوتے وقت ان کے سروں پہ دو پٹّے نہیں تھے اور جب وہ ہلتے تھے تو ان کے سینے کے اُبھار اور بھرے کولہوں کی تھر تھراہٹ میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ ہم جیسے ہی کشتی سے اُترے تو اس خوبصورت منظر نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹیگور جی آگے آگے جا رہے تھے اور میں ان کے پیچھے ننگے پاؤں چلتے چلتے کنارے پہ

Read more

برمنگھم میں قائداعظم ٹرسٹ کے زیر اہتمام یومِ پاکستان کی تقریب

قائداعظم ٹرسٹ یوکے کے زیر اہتمام یوم قرار داد پاکستان 23 مارچ 1940 کے حوالے سے 23 مارچ 2025 کو برمنگھم میں ”سہارا گَرِل ریستوران“ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ٹرسٹ کے چیئرمین راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ پاکستان سے نجی دورے پر آئے ہوئے محکمہ تعلیم صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری چوہدری ضیغم نواز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ آخری حصّہ

ریلوے پلیٹ فارم پہ اتنی بھیڑ تھی کہ پیر دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ غریب ملکوں کا المیہ یہی ہے کہ بچّے اتنے پیدا ہوتے ہیں جن کے دسویں حصّے کو بھی سنبھالنا ریاست کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایسے ملکوں میں ہر انسان اتنا مردم بیزار نظر آتا ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی چمکتا دمکتا چہرہ نظر نہیں آتا۔ پبلک پلیسز پہ تو حالت یہ ہوتی ہے کہ کوئی معذور انسان بھیڑ میں گھس جائے تو پھر اس

Read more

سالک ایک منفرد کتاب

لاہور انٹرنیشنل بک فیئر پر جہاں بہت سی کتب خریدیں وہیں کچھ کتابیں دوستوں کی طرف سے بھی ملیں۔ بہت دنوں سے انہی کتب میں سے ایک کتاب میری توجہ کی منتظر تھی، اس کتاب کا عنوان اور انتساب دونوں ہی چونکا دینے والے تھے۔ مصنف سے کسی حد تک تعارف تھا لیکن ان کی پہلی مکمل کتاب پڑھی ہے جس کے بعد خواہش ہوئی کہ مصنف کی مزید کتب پڑھی جائیں۔ خیر ایک روز میں نے سچ کی تلاش

Read more

خواب، محبت اور زندگی 5

ابی کے والد، میرے دادا ضیا الدین حافظ قرآن تھے اور رمضان میں دہلی کی جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک ماہر خطاط تھے اور دیوان سنگھ مفتون اور دیگر اپنی تصنیفات کی کتابت کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی کمال الدین عمارتوں کے نقشے بنایا کرتے تھے۔ دونوں بھائی گھر کی عورتوں کے معاملات اور جھگڑوں سے الگ رہتے تھے۔ ابی تھوڑے بڑے ہوئے تو

Read more

شہنشاہ جذبات ادا کار محمد علی کا 19 واں یوم وفات

پاکستانی فلمی صنعت کی مختصر تاریخ ادا کار محمد علی کے ذکر کے بغیر بالکل ہی ادھوری رہے گی۔ انہوں نے 33 برس تک پاکستانی فلمی صنعت پر راج کیا۔ 1962 ء میں ہدایت کار فضل کریم فضلی کی، فلم چراغ جلتا رہا، سے اپنا فلمی عہد شروع کیا۔ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا اور یہ فلم کراچی کے نشاط سنیما میں نمائش پذیر ہوئی۔ چراغ جلتا رہا اتنی کامیاب فلم ثابت نہ ہوئی لیکن یہ

Read more

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر ہے کہ معاصر ہندوستانی ادیب پروفیسر خالد جاوید کا ناول ”موت کی کتاب“ ایڈیشن بنیان کے زیرِ اہتمام شائع ہو کر منصۂ شہود پر آ گیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ فرانسیسی زبان میں اردو ادب کے تراجم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب ہمارے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاندار اقدام کے لیے ڈیوڈ ایمے کو ہم مبارک باد دیتے ہیں اور روزن

Read more

کائنات اور خوابوں کے تعاقب میں لکھی کہانی ”الکیمسٹ“

  ”جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو تو پوری کائنات اس چیز کے حصول میں تمہاری مددگار ہے۔“ ” یہ بہت اچھا ہوا کہ تم جان گئے کہ زندگی میں ہر چیز کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ یہی چیز تو روشنی کے لیے جنگ کرنے والے سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ ایسے کئی شاندار جملوں پر مشتمل کتاب ”الکیمسٹ“ پائلو کوہیلو نے لکھی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص اسے اپنے فہم کے مطابق سمجھ پاتا

Read more

بنوں گی ڈاکٹر

  صنوبر بیٹا اِدھر دیکھو جب میں تم سے مخاطب ہُوں، اپنے بھائی کی فکر چھوڑو اسے کھلونوں میں ہی مگن رہنے دو۔ بڑا منہ کھولو آ آ یہ کھیر بھی تو جلدی سے ختم کرنی ہے۔ ”ماما آپ ڈوکر کے پاس کیوں گئے تھے“ ۔ ڈوکر نہیں بیٹا، ماما کو ہائی ہوئی تھی۔ اس لیے ڈاکٹر سے بینڈیج کرانے گئی تھی۔ آپ سو رہے تھے اس لیے آپ کو دادو کے پاس ہی چھوڑ گئی تھی۔ اگلی دفعہ آپ

Read more

دی کائٹ رنر: دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات پر مبنی ایک اثر انگیز ناول

دی کائٹ رنر خالد حُسینی کا پہلا ناول ہے۔ اس کی کہانی دوستی، بے وفائی اور ندامت جیسے احساسات سے بُنی گئی ہے۔ یہ کئی دہائیوں اور براعظموں پر محیط ہے اور انسان کی اندرونی کیفیات، تفرقوں میں بٹی معاشرت، سیاسی بحرانوں اور بین الاقوامی مداخلت جیسے موضوعات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔ پہلے ناول نگار کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ خالد حُسینی معروف افغان نژاد امریکی ادیب اور انسانی حقوق کے سرگرم رُکن ہیں۔ وہ پُراثر اور دل

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 10 )

  آدمی زیادہ تر اپنے سے طاقتور اور با اثر آدمی کی عزت کرتا ہے مگر کمال تو جب ہے جب وہ ان لوگوں کی عزت کرے جو دنیاوی اعتبار سے اس سے رتبے اور مرتبے میں کم ہوں۔ ہمیں یہ ہی سکھایا گیا کہ انسان کی عزت کرنی چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ہمارے گھر میں شروع سے ملازمین کا گھر والوں کی طرح خیال رکھا جاتا اور ان کے اور ہمارے لئے ایک سا کھانا بنتا تھا۔

Read more

حصول امن کے لئے محرکات

”make love not war“ یہ جملہ، سب سے پہلے، کس نے کہا تھا، حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ ویت نامی جنگ مخالف مظاہروں میں، یہ جملہ نعروں یا پوسٹروں پر لکھت کی صورت میں مستعمل تھا۔ انیس سو پینسٹھ میں ڈیان نیویل مائر نامی، اوریگن یونیورسٹی کی طالبہ، ایک جنگ مخالف مظاہرے میں ایک کتبہ اُٹھائے ہوئے تھی جس پر یہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ کچھ ذرائع کے مطابق، ایلن گنز برگ نامی شاعر بھی اس جملے کو

Read more

باپ کی ممتا

ہمارے معاشرے میں باپ کو ہمیشہ ایک مضبوط، سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی ممتا کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی طور پر ممتا کا لفظ زیادہ تر ماں سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ باپ کی محبت، قربانی اور احساسات کو ”ذمہ داری“ کے نام پر خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باپ کی ممتا بھی کسی ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی، بس

Read more

خواب، محبت اور زندگی (4)

امی ہمیشہ اپنے والد یعنی ہمارے نانا کو یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں۔ ”ابھی میں نے ٹھیک طرح سے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔“ لیکن بچپن کی کچھ خوشگوار یادیں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ اپنی سہیلیوں کا ذکر وہ بہت محبت بھرے انداز میں کرتی تھیں خاص طور پر دو سکھ بہنوں کلونت کور اور بلونت کور کا جن کے ساتھ ان کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ ”سکھ، ہندو،

Read more

مقابلہ مصوری

یونیورسٹی کے کیفے میں میرے ایک دوست نے بتایا کہ GIKI یونیورسٹی میں ایک آرٹ گالا کا انعقاد ہو رہا تھا۔ اس نے مجھے بھی شرکت کی تاکید کی۔ ہماری یونیورسٹی کی نمائندگی کے لیے ایک ٹیم جمعہ کے روز روانہ ہو رہی تھی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس دن میرا کمپیوٹر لاجک اینڈ ڈیزائن کا کوئز تھا۔ میں نے پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ وہ میرا کوئز بعد میں لے لیں تو انہوں نے مجھے عجیب نظروں

Read more

پیر و مرشد سلمیٰ اعوان

کل تئیس مارچ کی تقریب میں سلمیٰ اعوان کو ستارہ امتیاز ملنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں سلمیٰ اعوان کی شخصیت کا جائزہ لیں تو انتہائی عاجز، منکسر، ہمدرد اور محبت سے لبالب بھری خاتون ہیں۔ حسد، لالچ، نہ طمع نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔ زندگی بھر محبت کا چرخہ چلایا، مشقت کا دھاگہ کاتا اور پُونیاں جوت کر روشنی پھیلائی۔ سلمیٰ اعوان بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہیں۔ ساری زندگی اصولوں سے گزاری

Read more

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

کچھ لوگوں سے خون کا رشتہ نہیں ہوتا مگر دلی اور روحانی ایسی نسبت ہوتی ہے کہ جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے خاص طور پر جب اس رشتے کی بنیاد اللّٰہ اور اس کے حبیب کی محبت پر رکھی جائے۔ اس رشتے کی پائیداری و خلوص کے بھی کیا کہنے، بی گل سے میرا ایسا ہی رشتہ تھا کئی سال پہلے جب میری بہن اس مدرسے میں داخل ہوئیں، تب ان سے ملاقات ہوئی۔ بی گل کا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (3)

جب دل ہی ٹوٹ گیا (Broken Heart Syndrome) پارٹیشن کے وقت امرتسر کی نصف آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور انہیں یقین تھا کہ امرتسر پاکستان میں شامل ہو گا۔ اسی طرح سکھ اور ہندوئوں کو جو لاہور کی آبادی کا ایک تہائی حصہ تھے یقین تھا کہ لاہور ہندوستان کو ملے گا۔ پارٹیشن سے پہلے کے مہینوں میں ہی امرتسر میں پر تشدد مذہبی فسادات شروع ہو گئے تھے۔ امی کے چھوٹے بھائی، ہمارے نثار ماموں کی عمر اس

Read more

کہانی میرے گھر کی

ہم پانچ بھائی تھے گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا بڑے بھائی کا کمرہ ہم سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہم چاروں کے کمرے ملحقہ تھے بڑے بھائی کا نام کریم الاسلام تھا اس سے چھوٹے کا نام بشیر جس کو سب شیرا پکارتے تھے اس سے چھوٹا عبداللہ جس کو ماچھی کے نام سے بلایا جاتا اس سے چھوٹا بخت نصر جس کو سب ہلاکو خان کہتے اور سب سے چھوٹا میں تھا اصل نام میرا پتہ نہیں کیا

Read more

سرکاری اسکول اور میری قابلِ فخر بہو

رامش کی شادی کو چھ ماہ گزرے تھے کہ ایک روز میں نے اسے اور بہو (سوما) کو ایک دوسرے سے بحث کرتے اور الجھتے ہوئے دیکھا۔ سوما نے میری مدد چاہی۔ ”امی بہت پہلے میں نے گورنمنٹ اسکول ٹیچر کے لیے اپلائی کیا تھا۔ حیدرآباد میں ٹیسٹ کے لیے بلایا ہے“ ۔ بہو امید سے تھی، ”بیٹے نے اس بہانے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔ امی یہ کیسے مینج کرے گی؟“ میں نے رامش کو سمجھایا: ”بیٹا ٹیسٹ ہونے

Read more

جعفر ایکسپریس کا اغوا اور ہماری ’آزاد‘ صحافت

گزرے جمعہ کی شام سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ حکومت مقابلہ کر رہی ہے بلوچ یکجہتی کونسل کی جانب سے برپا کیے احتجاج کا۔ مذکورہ تنظیم کی پہچان ماہ رنگ بلوچ ہیں۔ ’مسنگ پرسنز‘ کے معاملہ کو کئی برسوں سے اٹھانے کی وجہ سے یہ خاتون بلوچ نوجوانوں کے وسیع تر حلقوں میں مقبول سے مقبول تر ہو چکی ہیں۔ آخری خبریں آنے تک انھیں گرفتار بھی کیا جا چکا تھا۔ وجہ

Read more

دی پٹھان

اس نے 1914 میں آنکھ کھولی اور 1996 میں ابدی نیند سو گئے عبدالغنی خان جو کہ لیوانی فلسفی (نادان فلسفی) کے نام سے مشہور تھے ممتاز پشتون ریفارمر، سیاست دان اور عدم تشدد کے داعی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے بڑے بیٹے تھے۔ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بدولت عبدالغنی خان پیدائشی سیاست دان تھے اور 1945 کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے، انہوں نے 1954 میں سیاست کو خیرباد کہا اور

Read more

عہد حاضر کا جدید شاعر افتخار عارف

آسمانوں پہ نظر کر، انجم و مہتاب دیکھ صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ اس شعر کے خالق نے ہندوستان سے ہجرت کر کے ارض وطن پہ تن تنہا قدم رکھا اور بغیر کسی بیساکھی اور سہارے کے اک نئی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ جی میری مراد میر و غالب کی وراثت کے امین جناب افتخار عارف ہیں۔ افتخار عارف کو جو آج مقام حاصل ہے وہ انھیں چند برسوں میں حاصل نہیں ہوا

Read more

قربانی کی عورت

چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ

Read more

سودائی شاعر: نصیر کوی

ایک کھوکھے پہ ٹھنڈی بوتلیں بیچنے والے شخص کی سیاسی اور سماجی فراست اہم دانشوروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اس سادہ شخص کے حلیے اور کھوکھے کو دیکھ کر گمان بھی نہ کیا جاسکتا تھا کہ اس جسم کے اندر قومی جذبے دہکتے اور آنکھوں کے پیچھے رومانی خواب مچلتے ہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والے اشعار مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں اور اسے تنویمی کیفیت میں لے آتے ہیں۔ وہ ایک شعر پڑھتا ہے اور

Read more

خواب، محبت اور زندگی( 2 )

زندگی۔ حصۂ اول یہ حصہ میرے بچپن یعنی پچاس اور ساٹھ کے عشرے کی یادوں پر مشتمل ہے۔ اس میں کچھ کہانیاں رومینٹک یا چٹ پٹی ہونے کی وجہ سے قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ خاص طور پر میرے والدین کی ڈرامائی لو میرج جو 1948 میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ بچپن میں ہی مجھے سرمایہ دار طبقے کی رعونت اور جوڑ توڑ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے والد کی

Read more

کیا آپ بزرگوں کی صحت کے سات سوالوں سے واقف ہیں؟

مرزا غالب بڑھاپے کے بارے میں فرماتے ہیں مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں ہمارے کئی بزرگ دوست جو اب ساٹھ ’ستر اور اسی کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں وہ خود بھی اور ان کے دوست اور رشتہ دار عزیز و اقارب بھئی ان کی جسمانی ذہنی اور سماجی صحت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ کچھ دوست چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں کچھ دوست عزیزوں کے نام اور اپنے پسندیدہ

Read more

فرشی شلوار اور یادیں کچھ خاص ملبوسات کی

آج کل جہاں دیکھو، جہاں سنو فرشی شلوار کے چرچے ہیں، نئے فیشن کی دھوم مچی ہے، فرشی شلوار کی تصویریں دیکھ کر ہمیں بھی ماضی کے فیشن، کچھ ملبوسات اور ان سے جڑی یادوں نے آ لیا۔ فیشن بھی بار بار دہرائے جاتے ہیں اور وہی پرانے فیشن نئے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے بچپن میں میری خالائیں اس طرح کے کھلے پائنچوں کی شلواریں اور لمبی قمیضیں پہنا کرتی تھیں۔ پھر میں

Read more

دنیا کے سب سے عقل مند آدمی کی موت – مکمل کالم

اگر دنیا میں ایسا کوئی فرضی مقابلہ ہوتا جس میں سب سے عقل مند شخص کا انتخاب کیا جاتا تو وہ مقابلہ کیسا ہوتا؟ حقیقت میں تو ایسا کوئی مقابلہ منعقد نہیں کیا جاتا البتہ جن لوگوں کو نوبل انعام دیا جاتا ہے اُن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے شعبے کے بہترین لوگ ہوتے ہیں، خاص طور سے وہ لوگ جو انسانی نفسیات، طب اور سائنس کے شعبوں میں کوئی اعلیٰ و ارفع تحقیق کر

Read more

عاشقانِ عمران کے لئے امریکی وزارتِ خارجہ سے آیا پیغام

کبھی کبھار مجھے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم خود اذیتی کے مریض بن چکے ہیں۔ میرے اس خیال کو تقویت ان عاشقان عمران کے رویے سے بھی ملی جو ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بے پناہ اکثریت وہاں کئی برسوں سے رہتے ہوئے بھی اس گماں میں مبتلا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں جمہوری نظام کا فروغ چاہتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکومتی بندوبست کے ہاتھوں ان کے رہ نما کے

Read more

خواب، محبت اور زندگی (1)

جوزا کچھ بھی کر سکتا ہے۔ (A Gemini can do anything) مجھے یہ کہانی پہلے، بہت پہلے لکھنی چاہیے تھی لیکن ہمیشہ کی طرح زندگی آڑے آ گئی۔ آج پچھتر سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی سرجری سے گزرنے کے بعد میں میں نہیں جانتی کہ میرے پاس اپنی کہانی لکھنے کے لئے کتنا وقت بچا ہے۔ منیر نیازی کے بقول ’ہمیشہ دیر کر دیتی ہوں میں‘ ۔ جب میں کہتی ہوں کہ زندگی آڑے آ گئی تو

Read more

” بارہ ماسوں“ کی جمالیات اور شکیل الرحمٰن

شکیل الرحمٰن اُردو میں جمالیاتی تنقید کے نمائندہ ناقد ہیں۔ اس کام کے لئے وہ جمالیات کی نئی نئی شقیں دریافت کرتے رہتے ہیں اور موضوعات کے انتخاب میں اپنی جدت طرازی اور عمل مطالعہ کا لوہا بھی منواتے رہتے ہیں۔ اب کے انھوں نے ”بارہ ماسے“ کی جمالیات پر گفتگو کی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ چھوٹی سی کتاب ”اُردو میں بارہ ماسے کی روایات : مطالعہ و متن“ ان کی تخلیقی تنقید کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

Read more

شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

ڈاکٹر حامد عتیق سرور – ستارہ امتیاز 2025

ڈاکٹر حامد سے پہلی ملاقات سنہ 2011 میں سول سروس اکادمی میں معاشیات کی کلاس میں ہوئی۔ یہ مضمون ہمیں کبھی پسند نہ تھا اور پڑھانے والے کے بارے میں بھی یہی جذبات تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں اکنامکس پڑھاتے رہے اور ہمیں یاد نہیں کب ہم نے انہیں غور سے سننا شروع کیا، اتنا سمجھ بھی آنے لگا کہ کلاس میں ہونے والے تدریسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کلاس میں چند فقرے کَس کر، لطیف

Read more

کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے؟

عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔ ‎ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں

Read more

پنسلوانیا کے پہلے بجلی کے شہر سکرینٹن کے تاریخی مقامات

سکرینٹن شہر سے ہماری پسندیدگی محبت میں بدلتی جا رہی تھی۔ ایک تو شاداب اور ترو تازہ سبزے سے ڈھکی ہوئی گلیاں جو پُر پیچ تو ہر گز نہ تھیں بلکہ اونچی نیچی گھاٹیوں پر مشتمل بَل کھاتی ہوئی سڑک نما گلیاں نہایت خوبصورت لگتی ہیں۔ لبِ سڑک ہر گھر کے آگے چھوٹے چھوٹے داخلی آنگن جو عموماً خوبصورت پتھروں سے بنے ہوتے ہیں اور صاحبِ خانہ کے مزاج کے مطابق سجے ہوتے ہیں۔ ان کی آرائش و زیبائش دیکھ

Read more

ہوائی جہاز میں

ہوائی جہاز تک پہنچتے پہنچتے تک جو ہوا سو ہوا لیکن جونہی جہاز میں داخل ہوئے تو یوں لگا کہ جوزف کونراڈ کے ناول لارڈ جم والے حاجیوں کے جہاز میں آ گئے ہیں، بس فرق اتنا ہے یہ والا ہوائی ہے۔ اپنی نشست تک پہنچے تو وہاں آب گینوں سی بزرگی بیٹھی تھی اور ہم سوچنے لگے کہ اگر ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو یہ تو ہم جو کبھی ہڑبڑا کر اور کبھی بوکھلا کر اور کبھی سوتے

Read more

شیر خوار (افسانہ)

وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہت پیارا بچہ تھا، گھنگریالے بال، گول چہرہ، دودھ ملائی سا رنگ، موتی جیسے دانت اور پھر جب وہ مسکراتا تو گالوں میں ایسا گڑھا پڑتا کہ دو بوند پانی آ کر ٹھہر جائے۔ ہم تو اسے باقی بچوں سے زیادہ چاہتے تھے۔

Read more

قیصر عباس: جن سے نہ ملنے کے باوجود، ملنے کی خواہش برقرار رہی

بزرگوں کا یہ قول نہ جانے کتنی بار نظروں سے گزرا ہو گا کہ آدمی اپنی محفل سے پہچانا جاتا ہے۔ آج اتفاق سے ایک ایسی ہی شخصیت مقابل تھی جس سے، اس سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر وہ جس محفل سے متعلق رہے تھے، اُس سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ضرور شناسائی رہی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت اُن سے ملتے ہوئے اجنبیت کا احساس قطعی نہیں تھا۔ ہاں! شعوری اور لاشعوری طور

Read more