مجھے پینک اٹیک کیوں آیا؟

یہ تقریباً تین ہفتے پہلے کی بات ہے جب مجھے پینک اٹیک آیا۔ یہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ والد صاحب گھبرا گئے اور فوراً گاڑی کا بندوبست کیا اور نزدیک کے پرائیویٹ اسپتال لے گئے جہاں کچھ دیر مجھے ڈاکٹر کے معائنے میں رکھا گیا، دوائیاں دی گئیں اور ڈرپ لگائی گئی۔ روایتی ڈاکٹروں کی طرح ان صاحب نے بعد میں اپنا ناٹک پیش کیا جس میں انھوں نے میری سانس کی دقت کو ہارٹ اٹیک سے تشبیہ

Read more

رزاق شاہد کھلے آسمان سے آٹھویں آسمان تک

ہمارے سروں پر سات آسمانوں کا بار کیا کم تھا کہ رزاق شاہد آٹھواں آسمان بھی اٹھا لائے۔ اور یہ وہ آسمان ہے جو ہم پر کبھی عذاب نہیں بھیجتا، ہمارے دکھوں کو کم کرتا اور زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ رزاق شاہد کے ساتھ میری ایک یا دو مختصر ملاقاتیں ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے نقش اتنے گہرے ہیں کہ میں انہیں ہمیشہ اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ خوبصورتی ان کی تحریروں کی یہ ہے کہ ان میں

Read more

ذاکر نائیک اور کچھ باتیں

کچھ دن قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان آئے ہوئے تھے انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں تقاریر کیں۔ وہ یہاں پر ریاست کے مہمان کی حیثیت سے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی آیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جو تقاریر کیں اور پوچھے گئے سوالات پر انہوں نے جو جوابات دیے اس پر کافی تنقید ہو رہی ہے اس پر کچھ اپنی رائے ہم بھی رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آتے ہیں اپنی ریاست

Read more

گاؤں سے پرائے دیس تک

11 اکتوبر کی رات، سیاہ چادر تانے، 12 اکتوبر کی صبح کی سپیدی میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ لائبریری سے باہر کی فضا میں گہرا سکوت، گہری خاموشی، مستزاد اس پر شب کی سیاہی چارسُو پھیلی ہوئی ہے۔ لائبریری میں ہندو پاک کے مختلف شہروں، علاقوں سے اُردو زبان بولنے والے، بدخشان و خراسان کے فارسی و دری زبان والے، تُرک و آذری، فرانسوی، روسی زبان بولنے والے، مختلف تہذیب و ثقافت، زبان و ادب کے متوالے، مختلف اندازِ

Read more

پاکستانی نظام تعلیم اور ارتقا جیسے مضبوط نظریے کی تفہیم میں رکاوٹیں

بہت سے تعلیم یافتہ پاکستانیوں، خاص طور پر سائنس کی ڈگری رکھنے والوں، کا روایتی مذہبی ثقافتی رویہ اختیار کرنا بجائے سائنسی اصولوں کے، گہری تعلیمی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اس رویے کا تجزیہ کئی عوامل کے تحت کیا جا سکتا ہے پاکستان کا تعلیمی نظام، مثبت تنقیدی سوچ کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔ سائنسی نظریات کو ان کے وسیع تر نتائج سے الگ پڑھایا جاتا ہے اور طلباء کو نظریات کا تنقیدی جائزہ لینے کی تربیت نہیں

Read more

چوؔن برس قبل سوات اور باجوڑ میں

مردان سے گزرتی مرکزی سڑک کے ہوٹل میں کھانا کھا کچھ دیر آرام کے بعد ہمارا قافلہ سوات کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ ہم سالار قافلہ تھے اور دو سال پرانی ہو چکی بیگم، بڑی آپا، سات سے تیرہ برس عمر تک کی ایک بھانجی تین بھتیجے اور دو بھتیجیوں سمیت کل نو افراد اڑسٹھ ماڈل ٹویوٹا کرونا میں سیٹوں کے پاؤں میں بھی رکھے سامان کے اوپر یوں ٹھنسے تھے کہ کار کی چھت پہ لگے جنگلے میں

Read more

 Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education 

 کتاب کا نام: Palestine in Israeli School Books: Ideology and Propaganda in Education تبصرہ نگار: ڈاکٹر اصغر دشتی تعارف مصنفہ  : کتاب کی مصنفہ نورت پیلیڈ الہانان اسرائیلی یہودی شہری ہیں۔ الہانان ماہر لسانیات و تعلیم اور Hebrew یونیورسٹی یروشلم میں ادبیات و تعلیمات کی پروفیسر ہیں۔ الہانان کو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے * ”سخاروف ایوارڈ برائے آزادیِ خیال“ * سے نوازا گیا ہے۔ الہانان اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے مشہور ہیں۔ الہانان

Read more

کتاب آشفتہ بیانی: ایک مختصر تجزیہ

شاید وہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جب نوکر شاہی یا سول سروس سے وابستہ افراد اپنے تجربات و حوادث کی شکل میں اپنا سیکھا ہوا نوواردانِ جستجو و طلب کو لوٹا دیتے۔ ماضی قریب میں خارجی محققین اور تاج برطانیہ کے متعین افسران نے یہاں کے فن حکومت، ثقافت، تاریخ، جغرافیہ، قانون، علم الانساب، اور زبان و ادب پر وہ کچھ لکھا جو تاحال معتبر و مستند ماخذات سمجھے جاتے ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ

Read more

اک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی تلاش

نوابزادہ نصر اللہ خان کی وفات کے 21 سال بعد صدر آصف علی زرداری نے ان کی جمہوریت کے لئے خدمات کے اعتراف میں ”نشان امتیاز“ دینے کے لئے کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کر دی ہیں سرکاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کو ”نشان امتیاز“ بعد از موت دیا جائے گا پچھلے 21 سال کے دوران کسی حکومت کو ”بابائے جمہوریت“ نوابزادہ نصر اللہ خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کا خیال نہیں آیا

Read more

نوید صادق کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”ارتکاز“ ایک جائزہ

معاصر شعراء کے بارے میں کم لکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نقاد مخالفت مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ اگر کچھ لکھتا بھی ہے تو زیادہ تر توصیفی ہوتا ہے۔ وہ حسن و قبح کے اعلٰی معیارات سامنے رکھ کر تخلیقات کا جائزہ لینے کے بجائے مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ”ارتکاز“ میں معاصر شعراء کی شاعری پر مضامین شامل ہیں۔ یہ کتاب دو اعتبار سے اہم ہے۔ پہلا یہ کہ انھوں نے شعراء

Read more

نوبل انعام کیا ہے؟

دنیا کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک، نوبل انعام، صرف ایک ٹرافی یا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ ان غیر معمولی ذہنوں کی پہچان ہے جنہوں نے اپنی سوچ، محنت، اور لگن سے دنیا کو نئی راہوں پر گامزن کیا۔ یہ انعام اُن افراد کو دیا جاتا ہے، جن کی کاوشوں نے نہ صرف سائنس اور ادب میں انقلاب برپا کیا ہو بلکہ انسانیت کی بھلائی اور امن کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہو۔ اگرچہ نوبل انعام

Read more

 علی اکبر عباس :حروف ِتازہ عبارت ہوئے کناروں پر

یقین جانیے، وہ دن ایسے تھے کہ نئی کتاب کی آمد توجہ کھینچ لینے والی خبر ہو جایا کرتی تھی۔ ایسی خبر، جو کسی اخبار رسالے میں چھپنے کی محتاج نہ ہوتی، سینہ بہ سینہ بہت تیزی سے سفر کرتی اور محافل میں موضوع ہو جاتی۔ لگ بھگ پینتالیس چھیالیس سال پہلے میں فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر کے قرب میں واقع محفل ہوٹل میں بیٹھا تھا، وہیں جہاں شام ڈھلے ریاض مجید، احسن زیدی، انور محمود خالد، افتخار

Read more

ایک قراردادِ غیر مقاصد

ایک فُل بٹہ فُل پروفیسر اپنے وائس چانسلر کے حضور حاضر ہوئے، تو ادب کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لا کر بولے، ”سر! آپ کی ٹائی بہت پیاری ہے، آپ پر بہت سُوٹ کر رہی ہے!“ وی سی صاحب حسبِ عادت بہت خوش ہوئے اور وی سی آفس میں داخل ہوتے ہی انٹرکام پر پی اے کو حکم کیا، باہر منتظر پروفیسر عبدالگپ پگنگف خان کو اندر بھیج دیجئے۔ پروفیسر ذی وقار نے گفت و شنید کی ابتدا

Read more

سندھ گُلال: دھرتی کی محبت اور تاریخ کے ادراک کا سفر!

سندھ، سندھو ماتھری، تہذیبِ سندھو اور اس کے لوگوں کی تاریخ بے شمار حُسناکیوں، نشیب و فراز، رومانوی اور رزمیہ قصوں کہانیوں اور داستانوں خواہ حادثات و المیات سے بھری ہوئی ہے۔ ایک طرف صدیوں سے نو آبادیاتی اور ان کے حواری مقامی حکمران طبقات اور گماشتوں نے سندھ اور سندھ کے لوگوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب سُمنگ چارن اور بھاگُو بھان کی لوک رزمیہ شاعری سے لے کر شاہ

Read more

اللہ کا بڑا فضل ہے

اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان …. ایک وہ زمانہ جہالت تھا کہ جگہ جگہ کچہریاں تھیں۔ ہائی کورٹیں تھیں۔ تھانے تھے ، چوکیاں تھیں، جیل خانے تھے، قیدیوں سے بھرے ہوئے۔ کلب تھے جن میں جوا چلتا تھا۔ شراب اڑتی تھی۔ ناچ گھر تھے ، سینما تھے ، آرٹ گیلریاں تھیں اور کیا کیا خرافات نہ تھیں …. اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے صاحبان۔ کوئی شاعر دیکھنے میں آتا ہے نہ موسیقار …. لاحول ولا۔ یہ موسیقی

Read more

کیا آپ باچا خان کی خدمات سے واقف ہیں؟

جب ہم باچا خان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم ان کی سات دہائیوں پر پھیلی سماجی کاوشوں اور سیاسی کوششوں اور ان کی جماعت خدائی خدمتگار کی پختونوں کے لیے قربانیوں کو بڑی آسانی سے تین خانوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ 1۔ باچا خان ایک سماجی رہنما 2۔ باچا خان تعلیم کے علم بردار 3۔ باچا خان ایک سیاسی لیڈر سماجی رہنما کی حیثیت سے باچا خان پختون سماج میں بہت سی مثبت تبدیلیوں کا محرک بنے۔

Read more

پنجاب کے آخری شمالی شہر میں

یادش بخیر! شیرگڑھ شہر میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد جیسے ہی گاڑی میں قدم رکھا، اُس کے منہ زور انجن نے بھرپور طاقت کے ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ چند ہی لمحوں میں کنڈیکٹر بادشاہ نے بلند آواز میں نعرے لگانے شروع کیے ”تخت بھائی والے، تخت بھائی والے اترنے کی تیاری کریں، گیٹ پر آ جائیں“ تخت بھائی کا نام سُن کر دل کباب کھانے کو مچل اٹھا۔ بھلا یہاں سے گزرتے ہوئے کباب کھائے بغیر کیسے

Read more

ڈی چوک میں لال گلاب کا تختہ

لکھنے والے بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں کئی دنیاؤں میں بسیرا کرنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی گلی کوچوں میں بسنے والی سادھارن مخلوق سے الگ کسی کھپریل کے نیچے جا بیٹھتے ہیں۔ کوئی ٹکسالی گیٹ کے حجرے میں جا بیٹھتا ہے تو کوئی دریا کے کنارے کسی بے آباد عبادت گاہ کے خاموش کونے میں چند بوسیدہ کتابوں اور اپنے ہی لکھے پرانے کاغذوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہ لوگ کسی کو فائدہ پہنچاتے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف(6)

وہ عرب دنیا کا ایک منتخب نام جس کی زندگی کا ہر اُتار چڑھاؤ، ہر موڑ، ہر تجربہ قاری کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اتنا سارا مال و متاع اس نے عربی زبان اور لوگوں کو تحفے کی صورت دیا۔ ابھی جو دو نظمیں آپ نے پڑھی ہیں۔ اِن میں مناظر رنگ، بچپن کی یادوں کی خوشبوئیں اور اس کے کرب کا اظہار نمایاں ہے۔ وطن سے جو قدم نکلا

Read more

کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں

کتابوں نے سوال کرنے شروع کر دیے تو مجھے خیال آیا، یار! یہ جنہیں بِن پڑھے ہم سجائے رکھتے ہیں، انہیں شو کیس میں زندہ دفناتے ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں سوال کرتی ہیں، آپ لوگوں کو تو زندہ درگور کرنے سے منع کیا گیا تھا، جنہوں نے فرمایا تھا کہ بیٹیوں کو زندہ نہیں دفناتے، آپﷺ کی بیٹیوں کی حد تک مان لی، لیکن تحقیق اور تعلیم کی اہمیت، اور اس وقت آپﷺ نے اہتمام کیے وہ ہم بھول گئے۔

Read more

جونؔ ایلیا کو کس بات کا غصہ ہے؟

مری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا اُردو شاعری میں جعفر ؔزٹلی سے شروع ہونے والا مزاحمتی سلسلہ کئی ادوار کا سفر طے کر کے مرزا غالبؔ تک پہنچا۔ غالب ؔ نے رہی سہی کسر نکال دی، غالبؔ کے بعد جونؔ ایلیا کی باری آتی ہے جس نے اُردو غزل کو سراپا مزاحمت کا استعارہ بنا ڈالا۔ جون ؔایلیا کے ہاں کوئی ایسا موضوع چُھوٹ نہیں گیا جس پر جونؔ نے اپنی رائے

Read more

مُرکم: فطرت کی دیوی

تحریر۔ عزیز علی داد ترجمہ۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔ گلگت کی دیومالائی کونیات کی دیویوں میں مرکم دیوی شاید سب سے اہم اور مشہور دیوی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نسوانی دیویوں کے نام اور ان سے منسوب خاصیتیں اور رسومات گلگت کے لوگوں کی یاداشت سے تقریباً محو ہو گئی ہیں، تاہم مرکم دیوی ایک استثنا اس لئے ہے کیونکہ وہ لوگوں کی ثقافتی یاداشت میں آج تک زندہ ہے اور سماج میں اس سے متعلق تصورات اور رسومات کی

Read more

ڈاکٹر خورشید رضوی کا نعتیہ مجموعہ ”نسبتیں“ ایک جائزہ

ڈاکٹر خورشید رضوی کا مجموعہ ”نسبتیں“ حمد، نعت، سلام اور منقبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ مجموعہ عصری لب و لہجہ، زبان و بیان اور انداز و اُسلوب سے مزین خاص رنگ و آہنگ کا مرہونِ منت ہے۔ چاروں اصناف میں زبان کی چاشنی اور خیال کی تازگی جھلکتی ہے۔ وہ اپنے دلکش پیرایۂ اظہار کی بدولت قاری کو گرفت میں لینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ہر صنف سخن میں انھوں نے کمال تکنیک کے ذریعے خیال کو ترتیب دینے

Read more

استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو

  الف انار ب بکری سے عصری علوم کی شروعات ہوئی۔ الف زبر آ الف زیر ای الف پیش اُو آ ای او سے دینی علوم کی شروعات ہوئی۔ غالباً تین سال کی عمر سے مکتب و مدرسہ جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہنوز رسمی علوم سیکھنے کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔ عصری و دینی علوم کے حوالے سے مختلف مراحل میں مختلف اساتذہ کے سامنے زانو تلمذ تہہ کرنے کا موقع ملا۔ آج یوم

Read more

استاد تعلیم و تربیت کا منبع

بلا شبہ استاد جسمانی اور روحانی احساس کا وہ پیکر ہے جس سے تعلیم و تربیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ وہ اپنی پیشہ ویرانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایسے ہیروں کو تراش دیتا ہے جن کی قدر و قیمت دنیا کے کونے کونے میں بڑھ جاتی ہے۔ اسے آسمان سے ایک منصب سونپ دیا گیا ہے۔ وہ اسی لحاظ اور تڑپ میں ہونہار شاگرد پیدا کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔ اگر ہم روئے زمین پر

Read more

کوئی سکھ دا سنیہا آیا؟

پنجابی زبان میں عنوان باندھا ہے۔ نسرین انجم بھٹی حیات ہوتیں تو نہال ہو جاتیں۔ مفہوم سادہ ہے کہ کہیں سے کوئی خوشی کی خبر آئی؟ صحافت مگر وحشی صفت پیشہ ہے۔ اساتذہ نے خبر کی تعریف یہ باندھی کہ اس میں کچھ نحوست، ملال یا کم از کم خرق عادت پہلو پایا جائے۔ بزرگوں کا احترام بر چشم ما لیکن بندہ تہی کیسہ آج اچھی خبروں کا پشتارہ لایا ہے۔ نوع انسانی نے زبان ایجاد کی تو اس کی

Read more

مکالمہ ایک پروڈیوسر سے

میڈیا کنٹرولر دراصل اذہان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب کوئی یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ رپورٹنگ بزنس کر رہے ہیں یا ذہن سازی کا پروپیگنڈا، تو پھر باشعور لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں انفارمیشن کے لئے ”ناسمجھ“ کو چھوڑ کر سمجھ کی جانب جانا ہے، کسی سمجھوتہ کی جانب نہیں۔ پرنٹ میڈیا ایک معتدل مزاج رفتار کا حامل تھا جس میں رک رک کر چیک کیا جاتا، غور کیا جاتا اور سمجھ لیا جاتا تاہم الیکٹرانک میڈیا وہ

Read more

آئین کا غدار کون کون؟

خاکسار نے گزشتہ تحریر میں حامد میر صاحب کے ایک کالم پر تبصرے کا آغاز کیا تھا۔ حامد میر صاحب نے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، بار بار میڈیا پر اس قسم کے خیالات سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اس لئے ان خیالات کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے۔ ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے لیکن احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔

Read more

ترقی کا محرک

دنیا نے آج تک جتنی ترقی کی ہے اس کے پیچھے جن چیزوں کا ہاتھ ہے اس میں پہلے نمبر پر تجسس اور محرک آتے ہیں اور ان دونوں کا کام سب سے زیادہ ہے۔ یہ تجسس ہی ہے جو سوال کو جنم دیتا ہے اور پھر ہم اس سوال کے جواب ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہ تجسس ہی ہے جس کی وجہ سے آدم دنیا میں بھیجے گئے۔ انسان جب غاروں میں رہتا تھا اور اس کے پاس پہنے کے

Read more

جنابِ وزیرِاعظم! لفظ ’بربریت‘ آئندہ اِستعمال نہ کیجیے

وزیرِاعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے 27 ستمبر کو اَقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جس سے اہلِ پاکستان کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ اُنہوں نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلیوں کے مظالم کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کی اور عالمی برادری کے سربراہوں پر زور دِیا کہ محض بیانات جاری کرنے کے بجائے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ وہ اِس عزم کا بھی

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف:5

”میں وہ ہوں جس کے لکھے ہوئے کو اندھا بھی پڑھ سکتا ہے۔ میری شاعری جادوئی اثر رکھتی ہے۔ جسے بہرہ بھی سن سکتا ہے۔ جو کام تلوار اور تیر کرتے ہیں۔ میرا کاغذ، قلم اور حرف اُس سے زیادہ موثر ہیں۔“ المتنابی بازار اسی شاعر کی یاد میں ہے۔ میں کتابوں کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی۔ یہ کتابوں کا جہان تھا۔ یہاں کتابوں کی دنیا آباد تھی۔ صاف ستھرے فرشوں پر بکھری ہوئیں، تھڑوں پر دھڑوں کی

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا پہلا عشق

یوسفی نے اپنی پوری زندگی میں پانچ عشق کیے۔ ہو سکتا ہے اور بھی کیے ہوں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا ہو جیسے بعض نیک اور پارسا لوگ اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یوسفی نے اپنی میوس سے اپنے پانچ عشقوں کا برملا اظہار اور اقرار کیا اور زندگی میں اپنے مزاحیہ خاکوں اور مضامین کے پانچ

Read more

موٹیویشنل نوسر بازی

میرے دوست کو اپنا کاروبار کرنے کی کھرک تھی، اکثر مجھے کہتا دیکھو یار! کاروبار نسلیں سنوارتا ہے، نوکری سے بس ضرورتیں پوری ہوا کرتی ہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ اس طرح کے سنہری اقوال کی آمد موٹیویشنل سپیکروں کو سن اور دیکھ کر اسے ہو رہی تھی۔ مجھے جب بھی کاروبار کے فضائل اور نوکری کے رذائل سناتا میں پورے خشوع و خضوع سے سنتا۔ کیونکہ میں کسی کو مشورہ نہیں دیا کرتا۔ بہر حال ہمارے دوست نے اچھی

Read more

قلم کی طاقت اور دوستوں کی محفلیں

تحریر ایک ایسی طاقت ہے جس کا اثر نسلوں تک رہتا ہے۔ جب بھی کوئی قوم، معاشرہ، یا فرد زوال پذیر ہوتا ہے، تو یہ قلم ہی ہوتا ہے جو اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ الفاظ نے جنگیں روکی ہیں، انقلاب برپا کیے ہیں، اور وہ خواب حقیقت بنائے ہیں جن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ چاہے علامہ اقبال ہوں جنہوں نے اپنی شاعری سے نوجوانوں کے ذہنوں کو

Read more

انوار فطرت اور ”سمندراااااا “

یہ لگ بھگ بائیس تئیس برس پرانی بات ہوگی میں نے معروف برطانوی شاعر ٹیڈ ہیوز پر ایک مضمون لکھا تھا۔ ظاہر ہے اس میں سلویا پلاتھ کا ذکر بھی آنا تھا کہ اس شاعرہ کی زندگی اور موت کے ساتھ یہ نام جڑا ہوا تھا۔ ان دنوں ہمارے درویش صفت شاعر اور صحافی انوار فطرت روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی کا ہفتہ وار ادبی صفحہ ترتیب دیا کرتے تھے۔ میں نے یہ مضمون انہیں بھیج دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ

Read more

یونیورسٹیوں کی گورننس ڈی کالونائزڈ کرو

نوآبادیاتی ہندستان میں، 1858 ء میں برطانوی حکام نے یونیورسٹیوں کے قیام کا آغاز اس لیے ہوا کہ بڑھتی ہوئی بیوروکریسی کے لیے تعلیم یافتہ ہندوستانی تیار کیے جا سکیں۔ نوآبادیاتی انتظامیہ کا بنیادی مقصد حکمرانی اور سلامتی تھا، جس کی وجہ سے انڈین سول سروس اور فوج جیسے ادارے بنائے گئے۔ تاہم، اعلیٰ تعلیم کو ایک ماتحت کردار میں رکھا گیا، جو حکومتی کنٹرول میں، مالی معاونت سے اور تعلیمی آزادی سے محروم رہی۔ یوں، ذہین طلباء کو راغب

Read more

حسن منظر کے ناول دھنی بخش کے بیٹے پر ایک تبصرہ

حسن منظر عہد حاضر کے منفرد اور منجھے ہوئے تخلیق کار اور اردو ادب کا معتبر حوالہ ہیں۔ ان کا شمار عصر حاضر کے سنجیدہ اور باشعور تخلیقی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، گھوم کر اپنی کہانیاں اکٹھی کرنے والے حسن منظر نے اردو ادب میں پہلے بطور افسانہ نگار کام کیا اور پھر کئی بہترین ناول اردو ادب کو دان کیے۔ نائیجیریا میں ان کی زندگی کے یادگار دنوں پر مبنی یادداشتوں پر تحقیقی و تنقیدی

Read more

بک کلب، سہراب سپہری کی شاعری اور مرغوب حسین طاہر کی گفتگو

دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے ذہنوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ دن بہ دن ہمارے سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مطالعہ کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے، کتب الماریوں کی زینت بنتی جا رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے جہاں کتب تک رسائی کو ممکن بنایا ہے، وہیں کتاب سے براہ راست تعلق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تمام تر مایوسیوں کے باوجود پھر بھی کہیں کہیں امید کی

Read more

پچاس کی دہائی کا پاک ٹی ہاؤس

سید راشد اشرف بے پناہ آدمی تھے۔ اردو ادب کے قبیلے میں کون ہے جو سید راشد اشرف کو نہیں جانتا۔ اور جو نہیں جانتا، اس کے جانے یا نہ جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جون 1932 میں پیدا ہونے والے سید راشد اشرف تو مارچ 2023 سے وجود اور عدم سے ماورا اس پینگ کے ہلارے میں ہیں جہاں شفق رنگ بدلیوں میں اڑان بھرتے پرندے ان کی ہر آن بلائیں لیتے ہیں۔ ***       

Read more

اپنے بچوں کو کامیاب ضرور بنائیں مگر۔ ۔ ۔ مکمل کالم

کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں سچ مچ کا دانشور بن جاؤں، یعنی ایسا شخص جو ہر معاملے پر اپنی دو ٹوک رائے رکھتا ہے، اُس کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے اور لوگ اُس سے یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ ولی اللہ قسم کی کوئی چیز ہو۔ بظاہر یہ مقامِ معرفت حاصل کرنا بہت مشکل ہے مگر یار لوگوں نے اِس کا ایک آسان حل تلاش کر رکھا ہے اور وہ یہ کہ

Read more

بالزاک کا ناول یویجن گرینڈ

فرانسیسی مصنف ہنری ڈی بالزاک ( 1799۔ 1850 ) نے اپنی مختصر زندگی میں سو سے زائد ناول، ڈرامے اور کہانیوں کے مجموعہ جات تحریر کیے۔ بالزاک نے اپنے منفرد اسلوب کی مدد سے فرنچ معاشرے کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی ہے۔ بالزاک کی پیدائش پیرس کے نواحی علاقے میں ہوئی جہاں اُس کا باپ سرکاری ملازم تھا۔ جوان ہوا تو باپ کی خواہش پر پیرس منتقل ہو کر ایک وکیل کے ہاں منشی کی نوکری کرنا شروع کر دی۔

Read more

منظور حسین کرلو، رچناوی تہذیب کا امان اللّٰہ

تلمبہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا مگر تاریخی شہر ہے۔ لیکن اس نے علم، ادب اور فنون لطیفہ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کو بڑے بڑے نام دیے ہیں۔ وہ عالمی مبلغ طارق جمیل ہوں، یا باکمال شاعر فیصل عجمی تلمبہ کسی بھی میدان میں پاکستان کے بڑے شہروں سے پیچھے نہیں ہے۔ معروف قوال عزیز میاں نے بھی اپنے عمر کا ایک بڑا حصہ تلمبہ میں گزارا ہے۔ موضع رام پور مگھہ اور تلمبہ کے درمیان

Read more

خوش نصیب موسیقار اختر اللہ دتّہ

فن و موسیقی سے پیار کرنے والے ای ایم آئی سے متعلق تنویر آفریدی اور پی ٹی وی کے پروڈیوسر قیصر امام نقی صاحبان سے علم ہوا کہ میرے پیارے دوست اختر اللہ دتہ کراچی میں علیل ہیں۔ تب سے میں اُن کے بیٹے علی سے رابطہ میں ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت عطا فرمائے۔ آمین! اختر صاحب سے میری پہلی ملاقات مجھ کو پی ٹی وی کراچی کے شعبہ پروگرام میں آئے ابھی دو ہی ماہ ہوئے

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر: سعدی یوسف

”دیکھو نا۔ ماموں نے میری طرف دیکھا تھا۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ آپ اپنے وطن نہ جا سکیں۔ صدی کا چوتھائی حصّہ یعنی پورے پچیس سال ہوتے ہیں وہ عراق نہیں گیا۔ اس نے بغداد نہیں دیکھا۔ وہ بصرہ نہیں گیا۔ بصرہ جہاں اس نے جنم لیا، جہاں اس کا بچپن گزرا، جہاں اس کا خاندان ہے، جہاں اس کی ماں جیسی بڑی بہنیں اس کی راہ تکتی ہیں۔ اس کا گہرا دوست الجواری بھی ابھی تک دمشق میں

Read more

مشترکہ محبوبہ اور مولوی صاب

ہم سب پر یارِ مہرباں ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا تازہ کالم ”میری دو کمزوریاں میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ“ پڑھا اور حسبِ سابق اوّلین فرصت میں پڑھا۔ ان کے کالم کا مرکزی موضوع ”شوگر“ یعنی ذیابیطس جیسا موذی مرض ہے جو دنیا بھر میں انسان کی جان کو آیا ہوا ہے۔ کالم میں اس تشویش ناک امر کا اعلان بھی ملتا ہے کہ ستّر برس کے ہمارے یہ نوجوان، فعال اور سرگرم لکھاری، دانش ور اور مفکر دوست بھی

Read more

چکوال کا نور خان گاندھی

چکوال شہر سے جانب شمال بمشکل آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دس بارہ گھروں پر مشتمل ڈھوک سارنگ آباد ہے۔ جب اٹھارہویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں چوہدری سارنگ خان نے اپنی اس بستی کی بنیاد رکھی تو اس وقت ”ڈھاب پڑی“ گاؤں کچھ فرلانگ کے فاصلے پر تھا لیکن انتظامی ریکارڈ میں ڈھوک سارنگ کو چک نورنگ جو ڈھوک سارنگ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر آباد تھا کا داخلی گاؤں قرار دے دیا گیا۔

Read more

وارث علوی: اردو کا چومکھا نقاد

ہندوستان کے اردو نقادوں میں ہمارے ہاں شمس الرحمن فاروقی کے بعد سب سے زیادہ، اور جائز، شہرہ شاید وارث علوی کا ہوا جو اپنے بے باک انداز، جارحانہ اسلوب اور تابڑ توڑ تنقید کی وجہ سے بدنامی کی حد تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں تنقید صرف ادبی تنقید نہیں رہتی بلکہ باقاعدہ مار کٹائی اکھاڑا بن جاتی تھی۔ یہ نہیں کہ ان کے قلم سے کسی کی تعریف نہیں نکلی۔ ضرور نکلی مگر یہ کہ جس پہ مرتے

Read more

سندھ کے معروف لوک گلوکار: فقیر امیر بخش

تحریر: شیخ عزیز ترجمہ: یاسر قاضی سندھی موسیقی کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کی ماہیت کسی اور خطے کے نظامِ موسیقی سے مستعار لی ہوئی ہے، بجا نہ ہوگا۔ کیونکہ سندھی موسیقی کی ترتیب اور اندازِ پیشکش کچھ اس قسم کا ہے، کہ اس کو کُلی طور پر لوک موسیقی میں بھی شامل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس کو خالصتاً کلاسیکی موسیقی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ پر اُسے باآسانی

Read more

اردو تاریخ نگاری میں جذبات کی آمیزش

ایک دن شعبہ فلسفہ میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم تشریف لائے۔ وہ مجھ سے مدد کے خواہاں تھے۔ انھوں نے اپنا تحریر کردہ خاکہ دکھایا جس کا سرآغاز کچھ یوں تھا: مغرب کی حیا باختہ، اخلاق سوز تہذیب۔ ان سے عرض کیا یہ پی ایچ ڈی کے مقالے کی زبان نہیں ہے۔ یہ تو طعن و تضحیک ہے۔  تحقیقی مقالے کی زبان کا انداز معروضی اور علمی ہوتا ہے  نیز اسے جذبات سے پاک ہونا

Read more

اردو ادب اور اس کا مقام

اردو ادب برصغیر پاک و ہند کی ایک اہم ادبی روایت ہے جو فارسی، عربی، ترک، اور ہندی کے علاوہ کئی دوسری زبانوں سے متاثر ہو کر وجود میں آئی۔ اس کا مقام دنیا کے دیگر بڑے ادیبوں کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اردو ادب نے اپنی زبان کی نرمی، لطافت اور اظہار کی وسعت کی بدولت خاصی ترقی کی ہے۔ اردو ادب کے اہم پہلو: 1۔ شاعری: اردو شاعری میں غزل، نظم، قصیدہ، اور مرثیہ اہم اصناف ہیں۔

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

یہ نظم نمائندہ تھی اُن مظلوم، لاچار اور بے بس عراقی لوگوں کے جذبات و احساسات کی۔ جن پر امریکہ اور اس کی لونڈی اقوام متحدہ نے زندگی کی بنیادی سہولتوں کی کھلی فراہمی پر پابندیاں لگادی تھیں۔ یہ بہت لمبی نظم تھی۔ میں تو دم بخود تھی۔ ساکت تھی۔ شاعر کی جی داری اور جرات رندانہ پر حیران تھی۔ امریکہ تو پھیتی پھیتی ہو کے فضا میں بکھرا پڑا تھا۔ شاعر نے کچھ بھی تو نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے

Read more

”یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے“ تسنیم جعفری کے سفرنامۂ چین پر تبصرہ

تبصرہ نگار: نصرت نسیم بہت سندر نام اور بہت پیارے انتساب کے ساتھ تسنیم کی طرف سے یہ گراں قدر تحفہ موصول ہوا۔ کتاب کے پبلشر پریس فار پیس فاؤنڈیشن یوکے کے ساتھ ایسا قلبی تعلق ہے کہ اسے ہم اپنا ہی ادارہ سمجھتے ہیں۔ اس کے روح رواں برادر مکرم ظفر اقبال صاحب عزت و احترام سے نوازتے ہیں اور کتابوں کے تحفے ان کی طرف سے موصول ہوتے رہتے ہیں مگر چین کا یہ سفرنامہ تسنیم جعفری نے

Read more

پاکستانی میڈیا پر چھایا جمود

یوں تو میڈیا ہر دور میں خود کو ریاست کا چوتھا ستون کہتا آیا ہے مگر موجودہ دور میں کسی بھی قوم کی رائے بنانے سے اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے تک ہر جگہ میڈیا کا ہی عمل دخل نظر آتا ہے۔ جب میڈیا کی بات کی جائے تو اس میں روایتی میڈیا (اخبار، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما، کتابیں ) ڈیجیٹل میڈیا (سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز، ویب سائٹس، سرچ انجنز وغیرہ ) اور تشہیری ذرائع (بل بورڈز،

Read more

ایک انسان کی زندگی اور مبتدی تاریخ دان

گزشتہ اظہاریے میں ہندوستان پر برطانوی تسلط کی تاریخ کے بارے میں چند سوال اٹھائے تھے۔ یہ اشارہ مقصود تھا کہ دونوں ملکوں میں تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی نسلیں تاریخ کا نامکمل اور گمراہ کن تصور رکھتی ہیں۔ اخباری کالم ایک مشکل صنف ہے۔ لفظوں کی تعداد طے ہے اور حقائق سے انحراف کی وہ آزادی بھی میسر نہیں جو فکشن نگار کو حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ تحریر پر ایک مہربان نے اپنے مخصوص انداز میں کاٹ دار

Read more

ہم نام کا روزنامچہ

وحید الزمان طارق، میرے ہم پیشہ و ہم راز نہیں ہیں۔ وہ کبھی میرے ہم پیالہ و ہم نوالہ بھی نہیں رہے لیکن وہ میرے ہم نام ضرور ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ وحید ِ یگانہ ہیں اور میں سبزۂ بے گانہ۔ وہ مردِ سپاہ ہیں اور میں روسیاہ۔ وہ طارق ہیں اور میں متروک۔ وہ سفینہ سوز ہیں اور میں غرقِ دریا۔ غرض یہ کہ ہم دونوں میں بعد المشرقین ہے لیکن کبھی کبھی ہمارے ستارے ایک

Read more

قمر رضا شہزاد کے نواح میں

قمر رضا کے ساتھ میری رفاقت کئی عشروں پر محیط ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”وابستگانِ ملتان“ ملتان میں قمر رضا شہزاد کی ملتان آمد پر لکھا تھا کہ پانچ ہزار سال پرانا شہر ملتان آباد ہی قمر رضا شہزاد کے لیے کیا تھا کہ وہ آئے اور یہاں بسرام کرے۔ قمر رضا شہزاد نے ملتان کو اپنا مسکن تو کوئی کم و بیش پندرہ برس قبل بنایا لیکن وہ پہلے بھی تو میرے نواح میں رہتا تھا۔ ہم نے

Read more

تھل کا وارث شاہ سجاد کلیم

یہ ان دنوں کی بات ہے جب تھل دھرتی کی پیاس کے قصے زبانوں پہ چھالے ڈالتے، کانوں میں اترتے تو پیاس و تنہائی کے خوف سے دل اچھل کر حلقوم میں اٹکتے چبھتے دھڑکنوں کی ترتیب بھولنے لگتے۔ ریگستان کے میدانوں کی وسعتیں ہوا کے جھونکوں کو مہمیز کرتیں تو ریت کی ہولی اڑاتے بگولے دھرتی کو اتھل پتھل کرتے دندناتے لگتے۔ تند و تیز ہواؤں کے ان خاکی طوفانوں کے گرداب میں پھنستے کئی خاکی خاک میں خاک

Read more

ایک بے خواب دوپہر کا فلیش بیک: چند تاثرات

اردو افسانے کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو ابتدا ہی سے خواتین افسانہ نگار، افسانے کے اُفق پر جلوہ افروز دکھائی دیتی ہیں۔ حجاب امتیاز علی، قرۃ العین حیدر، رشید جہاں، عصمت چغتائی اور ممتاز شیریں سے لے کر عصرِ حاضر تک ایک طویل فہرست ہے جن کے محض نام بھی درج کیے جائیں تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ ان خواتین کے افسانے سیاسی، سماجی اور فنی پختگی کا صریح ثبوت ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت

Read more

ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی، مرزا فرحت اللہ بیگ کی زبانی

مولانا محمد حُسین آزاد کی آبِ حیات کے بارے میں محمود الحسن سے ہمکلام ہوتے ہوئے انتظار حُسین صاحب نے کہا تھا ”میں اسے ناول کہتا ہوں۔ اس میں پورا عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ شاعر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، لڑتے بھڑتے دکھائی دیتے ہیں، محفلیں تصویریں بن کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اس میں ناول کے امکانات نظر آتے ہیں۔“ کہنے کو ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی ادب کی فارم کے مطابق خاکہ ہے اور بیشتر نقاد

Read more

فوزیہ قریشی کے افسانوں کا مجموعہ: رقصِ مرگ

مدت ہوئی مرزا غالب کہہ گئے تھے : قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل کھیل بچّوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا غالب کے اس خوبصورت شعر پر فیض احمد فیض نے دستِ صبا کے دیباچے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فنِ سخن (یا کوئی اور فن) بچّوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے تو غالب کا دیدۂ بینا بھی کافی نہیں، اس لیے کافی نہیں کہ

Read more

مصباح نوید، غلام معاشرہ اور غلام گردشیں

مجید امجد کے شہر ساہیوال کے ساتھ میری وابستگی کوئی 45 برس پر محیط ہے۔ 1978 میں جب میں نے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی غزلیں بھیجنا شروع کیں تو انہی دنوں جعفر شیرازی صاحب سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ خط و کتابت کا زمانہ تھا اور اخبارات میں قلم کاروں کی تخلیقات کے ساتھ ان کے پتے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ سو شیرازی صاحب کے ساتھ قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ شیرازی صاحب اسی زمانے میں ڈپٹی

Read more

شاعرہ: ایمی لوئیل

(Amy Lowell) شاعرہ: ایمی لوئیل مترجم: ناہید ورک ایمی لوئیل ( 1874۔ 1925 ) کا شمار ایک ایسی امریکی نژاد شاعرہ کے طور پر ہوتا ہے جو اپنی زندگی میں شاعری کے اُفق پر ایک توانا نام تو سمجھی گئی لیکن اپنے شعری سفر میں کم قدری کا شکار رہتے ہوئے کم کم مانی گئی۔ ایمی لوئیل اپنی نظم ”Lilacs“ کو اپنی پسندیدہ نظموں میں سے ایک شمار کرتی ہے۔ یہ نظم ایمی لوئیل کی اُن نظموں میں سے ایک

Read more

چوڑیاں لیتا جا وے باؤ ونگاں لیتا جا

ایک نفیس سریلی ونگاں لیتے جانے کی فرمائش کرتی آواز پہ وہ مڑ کے دیکھتا ہے تو چوڑیاں بیچنے والی سانولے رنگ کی بنجارن اسے ونگاں خرید لے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ پیشکش کرتے بنجارن کے چہرے پہ بھی چوڑیوں کے خوبصورت رنگ چڑھ چکے۔ بازو آگے کرتے پوچھ بیٹھا کہ کیا میں یہ چوڑیاں پہنوں گا؟ تو جواب میں دلکش مسکراہٹ لئے اپنی کسی دوست کسی سہیلی کے لئے لے جانے کی فرمائش ہوتی

Read more

آگ کتنی روشن ہے: اختر حسین جعفری صاحب کی نظم پر ایک تاثریہ

زندگی کے سفر میں اپنی تنہائی کو مہکانے کا جو نسخہ میرے ہاتھ لگا ہے وہ یہ ہے کہ کسی اچھی نظم کے ساتھ وقت گزارا جائے اور اگر وہ اجازت دے تو اس سے مکالمہ کیا جائے۔ ایسے میں میں نے محسوس کیا ہے کہ نظم پڑھتے ہوئے میرا ذہن تخیل کے پروں پر سوار ہمیشہ کسی نئے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے۔ کبھی منظروں میں کھو جاتا ہے اور کبھی مصرعوں کے ساختیاتی حُسن میں گُم ہو جاتا

Read more

لکھنے میں شانتی ہے

میں آٹھویں جماعت میں تھی جب پہلی بار میں نے ایک شعر لکھا، ”نور ابھی چھوٹی ہو“ ، ابھی کچھ پڑھ تو لو پہلے ”، لکھنے کے لیے عمر پڑی ہے کورس کی کتابوں سے دل لگاؤ“ میرے لیے یہ بڑی بات تھی کہ علامہ اقبال کے مضمون کے علاوہ اگر دو ٹوٹے پھوٹے مصرعے میں نے لکھ لیے تو کیا ہو گیا سب کو! میں نے جتنی خوشی سے سبھی کو بتایا اتنی ہی میں افسردہ ہو گئی۔ بہرحال

Read more

دنیا کا سب بڑا فلائی وہیل انرجی سٹوریج سسٹم

انکل وجاہت مسعود اور میری کہانی اس حد تک ایک جیسی ہے کہ دونوں انٹر میں میڈیکل پڑھتے تھے اور باوجود انتہائی اچھے نمبر آنے کے میڈیکل کی بجائے ہم نے اپنی سمت کسی اور طرف موڑ لی۔ وہ ادب، قانون اور فلسفہ کو پیارے ہو گئے اور میں اکاؤنٹینسی، مالیات اور مال میں برکت ڈالنے کی سمت چل پڑی۔ یوں اب ہم سے ملنے والا ہمیں سائنس سے لگ بھگ فارغ ہی سمجھتا ہے۔ جب کہ ہم اب بھی

Read more

ایک ادبی مرکز کی مسماری

شام آئے اور گھر کے لئے دل مچل اٹھے، شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو اسلام آباد شہر کی رنگینیاں دیکھ کر کوئی گزرتا مسافر اس شہر میں اپنے لیے گھر بنانے کی خواہش لیے چلا جاتا ہے، مگر اس شہر کا دوسرا روپ یہاں کئی سالوں سے بسے لوگ ہی جانتے ہیں کہ دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے دن رات سانس لیتا یہ شہر اندر سے کتنا کھوکھلا ہے۔ یہاں لوگ صرف کام کو جانتے

Read more

جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ: لوحِ طلسم

”لوح ِطلسم“ جاوید اختر چودھری کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوی مجموعوں ”اک فرصت ِگناہ“ ، ”حرفِ دعا“ اور ”ٹھوکا“ کو یکجا کر کے کلیات کی شکل میں شائع کیا ہے۔ لوح ِطلسم کے پہلے حصہ میں ”اک فرصتِ گناہ“ کے 9 افسانے ہیں اور دوسرے حصہ میں ”حرف ِدعا“ کے 8 افسانے شامل ہیں۔ تیسرا حصہ ان کے 2012 ء میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے ”ٹھوکا“ کے 19 افسانوں پر مشتمل ہیں۔ 318 صفحات پر

Read more

ماموں جان

ماموں جان محمد ظہیر فرخ (قلمی نام ایم زیڈ فرخ) 17 اکتوبر 1931 کو دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے اور 16 اگست 2024 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اپنی 93 سالہ زندگی میں انہوں نے خاندان، کمیونٹی اور اصولوں کے ساتھ گہری وابستگی کے ذریعے ہر اُس شخص پر گہرا اثر ڈالا، جو انہیں جانتا تھا۔ وہ امرتسر کے معروف معلم صوفی محمد صغیر حسن اور بریلی کی ممتاز شاعرہ رابعہ پنہاں کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

Read more

بچوں کے ادب کی فرانسیسی کہانیاں

نٹ کھٹ اور چلبلے بچپن کے شرارتی کارناموں کے نمائندے ننھے نکولس کی کہانیاں پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے بچپن کی البیلی یادیں امڈ کر نہ آئیں یہ ممکن نہیں۔ ہم سب کی زندگی کا سب سے سنہرا دور بچپن کا ہوا کرتا ہے، شاید اس کی وجہ ہمارے ان پیاروں کا تب ہماری زندگی میں موجود ہونا ہے، جو وقت کے بے رحم ہاتھوں زندگی کی اگلی منزلوں میں ہم سے چھن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ترس آتا

Read more

پاکستان کی اشرافیہ کے نام ایک خط

جان کی دشمن پاکستان کی ”پیاری“ اشرافیہ! السلام علیکم! امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گیں کیوں اس عہدِ پُر فتن میں اگر کسی کو عافیت حاصل ہے تو وہ آپ ہیں۔ میں جب بھی ملک کے ابتر معاشی حالات دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو بے یقینی اور بدحالی کے گرداب سے نکالنے کے لیے مختلف ادوار میں چند دردِ دل رکھنے والے اربابِ

Read more

قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی گلگت میں بیتے لمحات

یہ ہمارے شباب اور عین جوانی کی بہار تھی۔ مارچ کا مہینا اور 2015 ء کا سال تھا۔ تاریخ ٹھیک سے یاد نہیں ’مگر وہ دل نشین لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے‘ جب میں نئے ارادوں، نئے جذبوں، امیدوں اور حسرتوں کو لیے جامعہ قراقرم کی دہلیز پر پہلا قدم رکھا تھا۔ صبح دس بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔ گلگت میں مارچ کا مہینا بہت خوش گوار ہوتا ہے۔

Read more

تصور عورت، کیلا اور مسوجنی!

نئی نویلی دلہن اٹھلا اٹھلا کر ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں سنا رہی ہے۔

ہمارے ہوسٹل کے سامنے ایک چھوٹا سا بازار تھا۔ تنگ سی سڑک پہ دو رویہ دکانیں اور بیچ میں لگی ریڑھیاں۔ ہم سب اسے گندا بازار کہتے تھے۔

جب گھر فون کرنا ہوتا تب گندے بازار میں لگا پی سی او کام آتا۔ بسنت میں پتنگیں اور ڈور خریدنے جاتے۔ موسمی پھل بھی وہیں سے خریدتے۔ مجھے کیلا پسند تھا وہ خریدتی۔ سلاد بنانے کے لیے کھیرے، مولیاں بھی۔

کیا؟ کیا چیز؟ دولہا نے چونک کر کہا۔
کیلے، کھیرے مولیاں اور گاجریں۔
کس لئے؟

کیا مطلب۔ کس لئے؟ ظاہر ہے سبزیاں سلاد بنا کر کھانے کے لیے اور پھل تو ویسے ہی صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔ جب کھانا انتہائی بد ذائقہ ہوتا۔ دو تین لڑکیاں بھاگ کر جاتیں اور ریڑھی سے خرید کر لے آتیں۔

Read more

یہ تصویر تو قابل داد ہے!

ہمارے ملک پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہوتا، ہر چڑھتے سورج کے ساتھ کئی عجیب و غریب خبریں بھی نمودار ہوتی ہیں جنہیں سن کر الامان الحفیظ کا ورد کرتے ہوئے حیرت کے جزیروں میں غرق ہونا پڑتا ہے کہ آخر کیوں یہ سماج یہ معاشرہ اس نہج پر آں پہنچا ہے کہ جہاں جھوٹ، بے ایمانی، دھوکہ دہی اور یہاں تک کہ کسی غریب آرٹسٹ کے فن پاروں کی چوری جیسے عمل کو بھی غلط یا گناہ نہیں سمجھا

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

عراق داخلی کشمکش کا خونیں انداز میں اظہار کر رہا تھا۔ صدام بائیں بازو کے ترقی پسندوں کا بیج مار دینا چاہتا تھا۔ ترقی پسند بھی سرکشی اور بغاوت کی انتہاؤں پر پہنچے ہوئے تھے۔ عراق کے شاعروں اور ادیبوں نے جھکنے اور مفاہمت کے الفاظ اپنی لغت سے خارج کر دیے تھے۔ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد صدام کا فیصلہ تھا کہ وہ بائیں بازو کی قیادت کا خاتمہ کردے گا۔ سعدی یوسف تو بڑی انقلابی نظمیں لکھ

Read more

مصنوعی ذہانت۔ مشتری ہوشیار باش

آج کل ہر طرف مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا چرچا ہے۔ جسے دیکھو کوئی نہ کوئی اے آئی ٹول استعمال کرنے میں لگا ہے۔ طلبہ اپنی اسائنمنٹس اور پروجیکٹس بنانے میں استعمال کر رہے ہیں تو احباب تدریسی نصاب اور تحقیق میں اس پر بے دھڑک اعتماد کر رہے ہیں۔ مزید بات کرنے سے پہلے میں اپ کو اے آئی ٹولز کی مختصر سی تاریخ بتا دینا چاہتا ہوں۔ 2022 کے آخر میں ہم نے چیٹ جی پی ٹی

Read more

خرابی ہمارے مقدر میں نہیں، ہم میں ہے!

آج صبح ناشتہ کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میرا وزن کچھ بڑھ گیا ہے، سو فوری ایکشن لینا ضروری سمجھا گیا، اِس مقصد کے لیے قرارداد منظور کی گئی کہ کل سے واک میں کم ازکم تین ہزار قدموں کا اضافہ کیا جائے۔ صرف اسی ایک اقدام سے طبیعت بشاش ہو گئی۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ دل میں یہ قرارداد منظور کی گئی تھی مگر بوجوہ اِس پر عمل نہ ہوسکا۔ اِس مرتبہ مصمم ارادہ ہے کہ

Read more

آلودہ معاشرہ اور ماحولیاتی تناظر میں ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کی تحقیقی کاوش

ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب میں نے 1999 میں روزنامہ نیا دن کے اجراء کے لیے نوائے وقت کو دوسری مرتبہ خیر باد کہا تھا۔ اشرف جاوید پہلی بار اسی اخبار کے ساتھ صحافی کے طور پر منسلک ہوئے تھے۔ ان دنوں وہ ملتان کے مضافاتی گاؤں میں رہتے تھے اور بہت مشکل حالات سے گزر رہے تھے۔ نیا دن میں انہیں معمولی تنخواہ ملتی تھی۔ اخبار کی سرکولیشن بہت اچھی لیکن مالی

Read more

نِکا: زندگی کی پرتیں کھولتا ہوا انیس احمد کا ناول

ناول کو پڑھنے سے پہلے ہی قاری اس ناول کے عنوان سے چونک اٹھتا ہے۔ نِکا؟ ارے یہ تو کسی کردار کا نام ہے۔ ناول میں کیا ہے؟ قاری کو ناول کے نام سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ اُسے تجسس رہتا ہے اور وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا ناول نگار ہے جس نے ناول کے بارے میں کچھ بھی ناول کے عنوان میں نہیں بتایا۔ ہمارے ہاں ناول کے عنوان سے ہی ناول کا بیانیہ تشکیل

Read more

ترجمہ : اصول و مسائل

ترجمہ کا مطلب ہے ایک زبان کے متن یا الفاظ کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا، جس میں اصل معنی، مفہوم اور اسلوب کو برقرار رکھا جائے۔ ترجمہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مترجم کو دونوں زبانوں کی گہری سمجھ بوجھ ہونی چاہیے تاکہ وہ نہ صرف لفظی معانی کو منتقل کرے بلکہ ثقافتی اور جذباتی پہلوؤں کو بھی صحیح طور پر پیش کرے۔ ترجمہ کاری صرف الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں تبدیل کرنا نہیں

Read more

پشتو اکیڈمی کوئٹہ: ارتقا اور تنزلی کے دوراہے پر

قبائلی او روایتی معاشروں کے ارتقاء کی کہانی عجیب و غریب حالات میں گردش کرتی رہتی ہے، خصوصاً جب سے قومی ریاست کا آغاز ہوا ہے۔ دنیا کے روایتی معاشرے اپنے ہونے یا نہ ہونے کے عذاب سے گزر رہے ہیں۔ زبان، تاریخ، کلچر، روایات، اقدار، اور شناخت کے کئی حوالے ایسے ہیں جو اپنے وجود کے بنیادی سوال سے نبرد آزما رہے ہیں۔ پشتون سماج چونکہ اب تک قدیم روایات کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور لکھنے پڑھنے کا

Read more

قرطاس پہ دستک

1۔ ایک بے تکی زندگی کا خلاصہ میں ساڑھے چار برس کا تھا، جب مجھے علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد میں داخل کرایا گیا۔ علامہ اقبال ایک معیاری، لیکن آمرانہ مزاج کا حامل سکول تھا۔ میں ٹھہرا سدا کا کھلنڈرا اور کام چور، سیدھا ماں کے پلو سے لپٹ گیا اور لگا رحم کی دہائیاں دینے : ”نی مائے سانوں کھیڈن دے، میرا وت کھیڈن کون آسی!“ (ماں مجھے کھیلنے دے، پھر میرے ساتھ کون کھیلنے آئے گا۔) اور

Read more

کڑی دھوپ میں ”سائبان“ کی خبر

صاحبو، ایک ایسے عہد خانہ خراب میں، جب بہتوں کے لیے کوئی سائبان نہیں ہے، ہمیں ”سائبان“ میسر ہے، جو ادب اور جمالیات کا آئینہ دار ہے، جس کا مرکز لاہور ہے۔ لاہور، جہاں سے مجھے بوئے یار آتی ہے، جہاں میرا دل دھڑکتا ہے وہاں ”بہاؤ“ جیسے ناول کا مصنف بستا ہے کہ وہاں میرا دوست محمود الحسن ادب کے تانے بانے بنتا ہے۔ وہیں ایک شخص، ایک درویش، حسین مجروح بھی ہے، جو والٹیئر کے کردار کاندید کی

Read more

ہائے بلھیا ترے شہر (پنجاب) نوں نظر لگ گئی

ہائے بلھیا ترے شہر (پنجاب) نوں نظر لگ گئی-  (ہائے بلھے، تیرے شہر کو نظر لگ گئی)۔ ایک وقت تھا کہ پنجاب کا نام آتے ہی پانچ دریا، بلھے شاہ کی شاعری، رانجھے کی بانسری، ہیر کی محبت، سوہنی مہنیوال کی عاشقی، بسنت کی بہاریں۔ دیسی کھانوں کی خوشبو، کھیتوں میں پھولتی سرسوں، بانکے سجیلوں نوجوانوں کی محفلیں، باجرے اور مکئی کی تندوری روٹی کی بھینی مہک، پہلوانوں کے دنگل، سکھیوں کے نرالے کھیل، پنجابی شعرا کی میٹھی شاعری، اردو

Read more

میر تقی میر کی شاعری کی خصوصیات

  میر تقی میر ( 1723ء۔ 1810ء) اُردو ادب کے مشہور شاعر اور ایک اہم ادبی شخصیت تھے۔ ان کا اصل نام میر محمد تقی تھا۔ وہ 1723ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور اُردو شاعری میں کلاسیکی اسلوب کے معروف نمائندہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٭٭تعلیم اور زندگی٭٭: میر تقی میر نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے ادب، فلسفہ اور تاریخ میں مہارت حاصل کی۔ ان کی زندگی دہلی اور لکھنؤ میں

Read more

اسکندریہ کی ہائپیشیا اور مابعد جدید عہد

غالباً نوم چومسکی نے کسی جگہ لکھا تھا کہ آپ کون سے مابعد جدید عہد کی بات کرتے ہیں؟ آج بھی اسی فیصد امریکی ”خروج“ پر یقین رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ خروج عہد نامۂ عتیق (بائبل) کا وہ باب ہے جس میں خدا اسرائیلیوں سے کہتا ہے کہ جب حملہ کرو تو دشمنوں کو یکسر تہ تیغ کر دو ، ان کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر رحم نہ کھاؤ اور ان کے گھروں عبادت گاہوں کو بھی جلا

Read more

علم اور معلومات میں فرق اور آئینی ترمیم

انگریزی شاعری کو بے شمار نئے زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے والا نقاد وشاعر ٹی ایس ایلیٹ بہت عرصے تک مجھے سمجھ ہی میں نہیں آیا۔ ویسے بھی شاعری میرے لیے غالب کے بعد فیض سے ہوتی ہوئی منیر نیازی پر ختم ہوچکی تھی۔ کچھ عرصے کے لیے میں نے بلھے شاہ سے بھی کچھ سیکھنا چاہا۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ کسی بھی زبان میں ہوئی شاعری کو اس کی گہرائیوں سمیت سمجھنا میرے بس کی بات نہیں۔ بہرحال

Read more

خندہ نواز ( طنزیہ و مزاحیہ شاعری) کا ایک مطالعہ

مزاح نگار اپنے لفظوں کی جادوگری سے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹوں کا غازہ ملتا ہے۔ مسکراہٹوں کا یہ غازہ اُن زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے جو بصارت سے نہیں بصیرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ہنسنا انسان کی جبلت ہے۔ ایک مزاح نگار اپنے فن سے اس جبلت کو مہمیز کر تا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بیمار اور وکیل ملزم دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں مزاح نگار ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کے چہرے پر

Read more

ویسٹ لینڈ: بیسویں صدی کے ادب کا عظیم شاہکار

ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم ویسٹ لینڈ (Waste Land) جو پہلی جنگ عظیم کے بعد انیس سو بائیس میں لکھی گئی ہے۔ اس کو جدید شاعری کے تناظر میں سب سے موثر کام کہا جا سکتا ہے۔ اس نظم میں اس زمانے کے لندن کی جنگ عظیم اول کے بعد کی عکاسی کی گئی ہے۔ اگرچہ اس میں صحرا اور سمندر کے مناظر بھی شامل ہیں۔ اس زمانے کی نسل کی مایوسی اور انتشار کو اس نظم میں

Read more

پڑھو اور پڑھنے دو

چار پانچ دن پہلے چھوٹی بہن سے پتا چلا کہ نمرہ احمد نے اپنی ایپ ”نمرہ احمد“ کے نام سے متعارف کروا دی ہے۔ وہ اپنے جس ناول پر آج کل کام کر رہی تھیں، یعنی ”مالا“ جس کی قسطیں وہ پہلے انسٹاگرام اسٹوری پر لنک لگا کر پی ڈی ایف کی صورت میں دیتیں تھیں، اب آپ وہ ان کی ایپ پر ہی پڑھ پاؤ گے۔ ایپ پر فری ورژن بھی ہے جس میں آپ تک قسط اپلوڈ ہونے

Read more

کامیابی اور میں

ایک باریک خول رکھنا مگر ایک چٹان جیسا مضبوط اندرونی جوہر ہونا ہی کامیابی کا اصل جوہر ہے۔ یہ مضمون کامیابی کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ اس میں جانے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک کامیابی کا تصور (خاص طور پر تیسری دنیا میں ) کیا ہے۔ آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں، آپ کتنے دلیر ہیں، آپ کتنے برانڈز کے دلدادہ ہیں اور آپ کتنے فیشن ایبل ہیں، یہی وہ چیزیں

Read more

جون ایلیا کے کلام میں کردار نگاری

جون ایلیا کا اصلی نام ”سید حسین جوؔن اصغر“ ہے۔ انھوں نے اپنا تخلص ”جوؔن“ لکھا۔ سادہ اور چمکتی ہوئی زبان میں نہایت گہری اور شور انگیز باتیں کہنے والے ہفت زبان، شاعر، صحافی، مفکر، مترجم، نثر نگار، دانشور اور بالاعلان نفی پرست اور انارکسٹ جون ایلیا ایک اوریجنل شاعر تھے۔ جن کی شاعری نے نہ صرف ادب نوازوں کے دل جیت لیے بلکہ آپ نے اپنے بعد آنے والے ادیبوں اور شاعروں کے لیے زبان و بیان کے نئے

Read more

ویکلاف ہیول کا ڈرامہ ’یادداشت‘ اور دیگر فتنے

’پاکستانی ادب میں مزاحمتی روایت‘ پڑھا رہا ہوں۔ حبیب جالب پر بات میانی افغاناں (ہوشیارپور) سے شروع ہوئی۔ ایوب خان کی آئینی عنایت پر لکھی نظم ’دستور‘ پڑھی گئی۔ گفتگو بے ارادہ سنجیدہ ہو رہی تھی۔ گزشتہ لیکچر میں فیروز الدین منصور پر فیض صاحب کا غزل نما مرثیہ ’تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی۔‘ پڑھتے ہوئے استاد کی آواز بھرا گئی تھی۔ کچھ لمحے خاموش رہنا پڑا۔ استاد کے لیے جذبات سے مغلوب ہونا مناسب خیال نہیں کیا

Read more

اردو حروف تہجی کا مسئلہ اور معیاری اردو املا

دنیا کی ہر زبان میں اسی زبان اور دیگر زبانوں سے لیے گیے الفاظ کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حروف تہجی کے ملنے سے الفاظ بنتے ہیں۔ اردو قواعد کی رو سے حروف کی ایسی ترکیب جس کا کوئی مفہوم اور معنی ہو لفظ موضوع کہتے ہیں۔ مگر حروف کی ایسی ترکیب جو بے معنی ہو مہمل لفظ کہا جاتا ہے۔ مثلاً روٹی ووٹی۔ یہاں ووٹی مہمل لفظ ہے۔اگرچہ یہاں اردو قواعد پر بات کرنا مقصود نہیں ہے البتہ

Read more

قلم و قرطاس کا قلندر

اپنے وادیٔ سوات میں، پشاور جی ٹی روڈ پر بری کوٹ ٹاؤن سے تین چار کلومیٹر آگے لنڈا کی چیک پوسٹ کے سنگم اور دریائے سوات کے دیار میں دو زندہ و تابندہ جڑواں بستیاں بڑی بے ہنگم طور پر پھیل رہی ہیں، نام ہیں کوٹہ اور ابوہا۔ انہیں بستیاں کہنا، لفظ بستی کی بے حرمتی ہے، کہ ان میں کل کی اُس بستی پن کی رونق آج کہاں؟ آبادی کے بے ربط و بے ترتیب بڑھوتری کے باعث دونوں

Read more

عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف

سعدی یوسف سے میرا بھرپور تعارف کروانے میں ایک کردار قدیم بغداد کے اُن قہوہ کیفوں میں منعقدہ ادبی محفلوں اور شاعروں کا بھی ہے جو میرے لاہور کی ہی طرح ادبی بیٹھکوں، گھروں اور کیفوں میں ادبی نشستوں اور مشاعروں کی صورت نئے اور پرانے شعرا کے اوپر بحث و مباحثے کے لئے اور کبھی اُن کا کلام اور مفہوم سمجھنے کے لئے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ بغداد میں میری بھی چند شامیں اسی سرگرمی کی نذر ہوئیں۔ بلا

Read more

جنسی جرائم: وقت کرتا ہے پرورش برسوں

ڈاکٹر مومیتا کیس سے پہلے بھی اور ڈاکٹر مومیتا کے کیس کے بعد بھی پاکستان میں کئی عصمت دری، قتل اور ہراساں کرنے کے واقعات بڑی شد و مد سے نظر آرہے ہیں، جن میں عورتیں بچے یہاں تک کہ مردہ خواتین بھی شامل ہیں 2020۔ 2019۔ کے ان جرائم کا ڈیٹا مستقل واقعات کی بڑھتی ہوئی سطح کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ مختلف حقوق نسواں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہونے کے باوجود کوئی خاطرخواہ پیش رفت نظر

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی خدمات

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات اور گرین زون سائیکالوجی کے بانی ہیں۔ میں نے چند سال پہلے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر خالد سے ملاقات کی تھی، لیکن اس کے بعد یہ مُلاقات ہماری دوستی میں بدل گئی اور ہم نے مختلف موضوعات پر خیالات کا تبادلہ شروع کر دیا۔ ڈاکٹر خالد سہیل نہ صرف اپنے پیشے میں ماہر ہیں بلکہ وہ ایک مصنف، شاعر اور فلسفی بھی ہیں۔ وہ خود کو انسانیت پسند کہتے ہیں۔ ان

Read more

میں کیسے لکھتا ہوں

میرے والد، ناصر کاظمی، ایک معروف شاعر تھے۔ تقریباً چار برس کی عمر میں، ایک دن اپنے صحن میں لگے پودوں کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا: ”پاپا، پتّے!“ حنیف رامے صاحب کا بیان ہے کہ اس روز ناصر نے دوستوں کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے اپنی پہلی نظم کہہ دی ہے۔ تمام زندہ مخلوقات کے لیے تخلیقی ہونا لازم ہے۔ یہ نہ صرف ان کی نشو و نما بلکہ بقا کے لیے ضروری ہے۔ اپنی خوراک ڈھونڈنے

Read more

ادب اور امن

آئے دن مختلف موضوعات کو زیر غور لایا جا تا ہے، تفکرات قلمبند کیے جاتے ہیں، تبصرے ہوتے رہتے ہیں اور لوگوں کی نظروں سے بھی گزرتے ہیں۔ لیکن آج جو موضوع زیر قلم ہے وہ ہے ”ادب اور امن“ یہ ایسے شائستہ اور اطمینان بخش الفاظ ہیں کہ انہیں سن کر دل کو خوشی اور دماغ کو سکون میسر ہوتا ہے۔ سکون اور خوشی دو ایسے کیفیات ہیں جو امید افزا ہونے کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزا بھی ہیں۔

Read more