عاطف توقیر کا شعری مجموعہ: "رد”

عاطف توقیر 23 جولائی 1979 کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک شاعر، مصنف اور میڈیا میں محقق ہیں۔ ”رد“ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 2022 میں عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ عاطف توقیر آج کل جرمنی میں مقیم ہیں اور وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں عطف توقیر نے اس شعری مجموعہ ”رد“ میں یہ واضح کیا ہے کہ ایک فرد خود اپنے اندر کیا محسوس کرتا ہے اور ایک فرد جو معاشرے میں

Read more

شعر و سخن کی تابندہ روایت کا متمنی

تجسس انسانی فطرت کا انمول خاصا ہے۔ اس کی بدولت دلچسپی کا محور بنتا ہے۔ سرگرمیاں جنم لیتی ہیں۔ تجربات و مشاہدات معرض وجود میں آتے ہیں۔ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ شعور و آگاہی ملتی ہے۔ تحقیق و جستجو کا چراغ جلتا ہے۔ قلم اٹھانے کی ہمت بڑھتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی لفظ کی مرہون منت پروان چڑھ کر تخلیق کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پھر اسے محفوظ رکھنے کے لیے صفحہ قرطاس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

Read more

کچھ لہریں روح میں اتر جاتی ہیں

  موسیقی ایک لازوال اور عظیم فن ہے جس نے صدیوں سے انسان کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ انسان کی جذباتی اور ذہنی کیفیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موسیقی کی ابتدا کا ذکر کسی خاص جگہ اور وقت سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ فن تقریباً ہر تہذیب میں پایا گیا ہے۔ تاہم، تاریخ کے اوراق میں قدیم مصر، چین اور

Read more

کُھل کر کھیل۔ کرکٹ ماڈل

سب سے پہلے مجھے گوگل نے مبارکباد دی۔ آتش بازی یہ سطور لکھنے تک بدستور جاری ہے۔ ( پاکستان کرکٹ سرچ کریں۔ ) حیرت مجھے بھی ہوئی لیکن پھر اسی نے بتایا بائیس سال بعد یہ خاص موقع آیا ہے۔ لیکن ابھی ٹیکنیکل تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ بس یہ سمجھیں کہ ایک آدھ تمغہ، ٹرافی پر تو حق بنتا ہے ہمارا بھی۔ لیکن یہاں ہم عام فین کے طور پر اس میچ اور جیت کا جائزہ نہیں

Read more

پاکستان کی مشکلات کا حل: جدید تعلیم

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان ایک عظیم تہذیب کے بانی رہے ہیں۔ بغداد، دمشق، اور قرطبہ جیسے شہروں میں جب مسلمان حکمرانی کر رہے تھے، تو دنیا ان کی علم و حکمت کی مثالیں دیتی تھی۔ طب، فلکیات، فلسفہ، ریاضی اور دیگر علوم میں مسلمان سائنسدانوں نے بے مثال کارنامے انجام دیے لیکن جب مسلمانوں نے علم اور ترقی کے بجائے اختلافات اور عیش و عشرت میں وقت گزارنا شروع کیا، تو زوال کا آغاز ہوا۔ بغداد کو حملے

Read more

ناول ”سندھو“ کا تہذیبی مطالعہ

ایک عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں لاعلم تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برِ صغیر میں انسانی تہذیب کا آغاز آریاؤں کی آمد سے ہوا ہے جو 2500 ق م سے 1500 ق م تک ہندوستان میں وارد ہوتے رہے۔ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں جب سندھ کی قدیم تہذیب کی دریافت ممکن ہوئی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں، ایک ایسی تہذیب موجود رہی ہے جسے ترقی یافتہ تہذیبوں

Read more

اورویلین /Orwellian

جارج اورویل شدید کمیونسٹ مخالف تھے، ان کی یہ رائے سپین میں جاری خانہ جنگی اور روس میں موجود فاشسٹ کمیونسٹ حکمران جماعت کو پھلتے پھولتے دیکھ کر قائم ہوئی۔ ڈرامہ نگاری میں اگر برنارڈ شا کو پروپیگنڈا مواد لکھنے والا ڈرامہ نگار کہا جائے تو ناول نگاری میں طنز و تنقید کے نشتر برساتے جوناتھن سوئفٹ کے بعد ہمیں جارج اورویل نظر آتے ہیں۔ جارج اورویل نے اپنا ناول Animal Farm 1943 میں لکھنا شروع کیا، 1944 کی جنگ

Read more

منیر مومن: بلوچی شاعری کا ایک چراغ

بلوچی ادب میں منیر مومن ایک الگ مقام رکھتے ہیں اور ایک نمایاں نام ہے۔ موجودہ عہد میں بلوچی زبان کے باقی شعرا جو شاعری کر رہے ہیں یا منیر سے انسیت رکھتے ہیں وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہم عہدِ منیری میں زندہ ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم منیر کے عہدِ میں شاعری کر رہے ہیں۔ بلوچ شاعروں کی محبت دیکھیں تو منیر کی شاعری کا اندازہ ہو جائے گا۔ جس دن

Read more

نسل نو کی نفسیات ہندوستانی معاشرتی تناظر میں

نوے کی دہائی میں جنم لینے والی نسل آج جذباتی تنہائی اور اداسی میں گرفتار ہے۔ عہد جدید میں وقت کی رفتار نے اشیاء کو اتنا متغیر کر دیا ہے کہ یہ پر تغیر حالات اور مشینی دنیا سے الگ خود کو ایلیئن اور کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھنے لگی ہے۔ جدید اصطلاح میں انہیں ’جنریشن می‘ (یعنی ’میری ذات پہلے‘ کی سوچ رکھنے والی نسل) کہا جاتا ہے۔ ان کی نفسیات، جذبات و خیالات، اور رویوں پر موجودہ

Read more

برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط ( 5)

رمضان میں یونیورسٹی بند ہونے اور عید پر گھر جانے کا پوچھنے پر میں نے فوراً کہا تھا۔ ”ارے نہیں آپا عید اپنی کلاس فیلو کے ساتھ باریسال منانے جاؤں گی۔ اپنے دیس کے اِس حصے کے رمضان کی رونقیں اور عید کو بھی تو دیکھوں۔“ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ عظیم اور لافانی شخصیت جن کی شاعری، مصوری، افسانہ، ناول، ڈرامہ، موسیقی، مقالہ نویسی غرض کہ کون سی صنف ایسی تھی جس کے وہ شہسوار نہ تھے۔ قلم اُن

Read more

افسانوں کا مجموعہ : خاموش دستک

حبیب شیخ کے 46 افسانوں پر مبنی کتاب ”خاموش دستک“ رواں سال پاکستان سے شائع ہوئی ہے۔ میں حبیب شیخ صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ یہ کتاب مجھے بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ ٹورانٹو سے کیلگری بھجوائی۔ کتاب کا تعارف ’پیش در پیش‘ کے عنوان سے مصنف نے خود تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے تخلیقی سفر کی کہانی بہت دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے۔ یہ کہانی

Read more

داریوش مہر جوئی اور ایرانی سنیما

ایرانی سینما کی نئی لہر کے بانیوں میں سے ایک داریوش مہر جوئی اور اُن کی مصنفہ اہلیہ واحدہ محمدی اکتوبر 2023 میں ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور انہیں تہران میں چاقو کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ان کی اموات سے ایرانی سینما کا ایک طویل باب ختم ہو گیا۔ مہر جوئی چوراسی برس کے تھے اور یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ایسے جوڑے کو اس طرح کیوں قتل کیا گیا

Read more

غالب کی جدیدیت اور دانیال طریر

  جدیدیت سے مراد رائج الوقت اعتقادات، معروف نظریات، تسلیم شدہ اقدار اور رسمی روایات کو رد کرنا اور ان کے متبادل میں نئے اعتقادات، نظریات، اقدار اور روایات کی داغ بیل ڈالنا ہے۔ یعنی ان تمام روایات کی نفی و تردید ہے جو تخلیق کار کے نزدیک انفرادی و اجتماعی بدحالی و پستی کے باعث ہیں، اور ان کی جگہ نئی روایات کو تشکیل دینا ہے، جو خارج سے متاثر ہو کر تخلیق کار کے داخلی تجربے کے تحت

Read more

افسر علی افسر۔ غزل کا مزاج شناس

نوے کی دہائی میں خطہ ملتان سے جو نئے لکھنے والے سامنے آئے، ان میں کئی نام اب ہماری شاعری کا معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ ویسے تو نئے سے نئے تخلیقی اذہان طلوع ہوتے رہتے ہیں مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو آگے چل کر اپنے نقوش کچھ ایسے ثبت کرتے ہیں کہ ان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا اور وہ رد و قبول سے بے نیاز کئی دہائیوں پر محیط سفر کے تسلسل سے اپنی

Read more

جامعۃ الرضا اسلام آباد کے طلبا اور یومِ اقبال

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ یہ مصرعہ آنلائن مجلسِ مذاکرہ کا عنوان تھا۔ محترم منظور حیدری نے اس پروگرام کو مرتب کیا۔ نظامت کے فرائض مرتضیٰ علی حیدری انجام دے رہے تھے۔ اس آن لائن مجلسِ مذاکرہ کے پہلے مقالہ خوان، جامعۃ الرضا اسلام آباد کے سابق طالب علم اور جامعۃ المصطفیٰ قم کے برجستہ محقق محترم منظوم ولایتی تھے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں انسان کے افکار و نظریات پر ماحول اور حالات کے اثرات کا

Read more

اقبال، چند خیالات

علامہ اقبال سے پہلا کتابی تعارف نانا مرحوم کی وجہ سے ہوا، انھوں نے اپنے کمرے میں چھوٹی سی لائبریری بنا رکھی تھی، میں جب کبھی ان کے ہاں جاتا تو ان کی کتابوں کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن واپسی پہ اماں سے ضد کی کہ نانا سے ”بالِ جبریل“ لے کے دیں، اماں نے ڈرتے ڈرتے نانا سے کہا کہ یہ کسی کتاب کی ضد کر رہا ہے، نانا نے کہا: ”اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے، کتاب

Read more

علامہ اقبال، ہائیڈل برگ اور ‘ایک شام’

‘بانگِ درا’کے حصہ دوم میں شامل نظموں اور غزلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قدرے دشوار سا ہے کہ ان میں سے کون کون سی نظم یا غزل جرمنی میں قیام کے دوران لکھی گئی ہو گی، ان کی نظم ‘ایک شام’میں چونکہ ذیلی عنوان میں دریائے نیکر کی صراحت موجود ہے، اس لیے ہر کوئی جانتا ہے کہ انھوں نے یہ نظم ہائیڈل برگ میں اپنے زمانہ قیام کے دوران کہی. جرمنی اور اقبال کے باہمی روابط اور

Read more

ادب کا تاریخ سے تعلق: تاریخ کیا ہے؟

تاریخ کیا ہے؟ بظاہر یہ بڑا آسان سوال محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں بڑا مشکل سوال ہے یقین نہ آئے تو دو چار حضرات سے پوچھ لیجیے آپ کو ایک ہی سوال کے مختلف جواب ملیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سب کے جوابات بھی ایک دوسرے سے تضاد رکھتے ہوں۔ تاریخ کسی کے لیے ماضی کی بے معنی کہانی، سلطنتوں کے عروج و زوال کے قصے، درباروں کے جاہ چشم کی کہانی، اقتدار کی کشمکش اور

Read more

اقبال کے شاہین اور خوشحال خان خٹک کے باز کا تقابلی جائزہ

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ بیک وقت ایک شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان اور فلاسفر تھے۔ آپ نے دو زبانوں اردو اور فارسی میں شاعری کی۔ آپ کی شاعری کا بنیادی مضمون تصوف اور احیائے امت (قوم کی احیاء) تھا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے نئی نسل کی روح کو جگانے کے لیے شاہین کا تصور پیش کیا۔ شاہین علامہ اقبال کا پسندیدہ پرندہ تھا۔ آپ شاہین کی صفات جیسے

Read more

آخر مرزا صاحب نے کون سا چاند دیکھا؟

  طارق محمود مرزا کی کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ جسے انہوں نے ’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘ کا نام دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پہ اک سفرنامہ ہے جو انہوں نے چند ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے لینڈ اسکیپ پہ لکھا ہے۔ مرزا صاحب کا ادب بالخصوص سفرنامے کی دنیا میں یہ پہلا قدم نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ سفرِ عشق، تلاشِ راہ، خوشبو کا سفر اور دنیا رنگ رنگیلی لکھ چکے ہیں۔ ہم سفر

Read more

قدیم یونانی مذہب کی ابتداء اور اختتام

یونانی مذہب کے ابتدا کی کہانیاں بہت قدیم اور حیرت انگیز ہیں، ان کہانیوں کے آغاز کی صحیح تاریخ کا تعین کرنا مشکل ہے، لیکن محققین کا اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 3000 سے 1200 قبل مسیح کے دوران تشکیل پانا شروع ہوئیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابتدائی یونانی تہذیبیں، جیسے مائینوئن (Minoan) اور مائسینیئن (Mycenaean) تہذیبیں، فروغ پا رہی تھیں۔ یہ کہانی اُس وقت کی ہے جب انسانی شعور قدرت کی طاقتوں کو سمجھنے اور وضاحت

Read more

ہم فکری اختلاف سے گریزاں کیوں ہیں؟

بچہ کتنے سال کا ہو گیا ہے؟ جناب پانچ سال کا ہو گیا ہے۔ اچھا! ماشاءاللہ ابھی کل ہی کی بات ہے جب اپ نے فیس بک پر نوزائیدہ بچے کی تصویر ڈالی تھی۔ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ سکول داخل کروایا ہے؟ ہاں ہاں پچھلے سال پلے گروپ میں داخل کروایا تھا۔ اور دینی تعلیم کا کیا کیا ہے؟ مسجد جا رہا ہے۔ کون سی والی بھیج رہے ہو؟ وہ۔ اپنے والی! دوسرا منظر۔ گل پکی سمجھو

Read more

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات

منیر نیازی کی شاعری کی خصوصیات: ؎ ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں قیام پاکستان کے بعد شعراء میں منیر نیازی کی شاعری انفرادیت کا نشان ہے۔ انہوں نے فرد کے باطن کی گہرائی میں اتر کر فکر کے ایسے موتی دریافت کیے جن کی چمک دھمک بالکل نئی تھی اور ایسا پیرانہ شاعری اختیار کیا جو ایوان شاعری میں نئے موز کی اطلاع دیتا دکھائی دیتا ہے۔ منیر نیازی کا تعارف:

Read more

ہوچی منہ: ایک انقلابی درویش

تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ نجیب کاظمی ہوچی منہ جو بظاہر منحنی قد و قامت کے ناتواں سے انسان نظر آتے تھے مگر حقیقت میں اپنے سیاسی اور نظریاتی تیقن کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک انسان تھے جنہوں نے بیک وقت بیسویں صدی کی دو سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ انہیں اپنے عوام اور آدرشوں پر یقین کامل تھا انہیں بھروسا تھا کہ ویت نام نہ صرف آ زادی سے ہمکنار ہو گا بلکہ

Read more

چلتا پھرتا ٹی ہاؤس

یوں تو ریل کی سیٹی ہماری گھٹی میں شامل ہے کہ بابا مرحوم ایک زمانے ریل کے نوکر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں کوئی کلاک نہیں تھا۔ گاڑیوں کے ٹائم پر ناشتہ ہوتا۔ ماں آواز لگاتی اٹھو! ریل کار گزر گئی، تم ابھی سو رہے ہو۔ لنچ تیزگام کی آمد پر ہوتا۔ ڈنر خیبر میل کے ڈیپارچر پر۔ بچپن میں چھپن چھپائی ریل کے پرانے بوسیدہ انجنوں کے بیچ ہوا کرتی۔ خیر یہ تو غیر ضروری تمہید باندھی گئی

Read more

آرٹیفیشل سپر انٹیلجنس، آخری انسانی ایجاد

حالیہ ایک تحقیق کے مطابق ایک ایسے مستقبل کا تصور جہاں مشینیں ہمیں صرف شطرنج یا شاعری میں شکست نہیں دیں گی بلکہ بنیادی طور پر انسانیت کو ان طریقوں سے پیچھے چھوڑ دیں گی جن کو ہم بمشکل سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سائنس فکشن نہیں ہے یہ ایک ایسا منظر نامہ ہے جس کے بارے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس محققین کا خیال ہے کہ یہ ہماری زندگیوں میں عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ آج کے مصنوعی ذہانت کے

Read more

اپریل 2022 کے بعد پہلا ناقابل اشاعت کالم (بھلا ہوا میری گاگر ٹوٹی)

ہر اشاعتی ادارے کی ایک پالیسی ہوتی ہے اور کچھ خارجی تحدیدات بھی۔ ادارتی صفحے پر لکھنے والے کا ادارے سے معاہدہ ضرور ہوتا ہے لیکن کسی موقر ادارے میں کالم لکھنے والے کو ہدایت نامہ جاری نہیں کیا جاتا۔ لکھنے والا اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہے۔ دوسری طرف ادارے کو استحقاق ہے کہ اگر کسی تحریر کو کسی بھی وجہ سے شائع نہ کرنا چاہے تو اسے روک لے۔ آخر لکھنے والا بھی تو ایک فرد ہی

Read more

ڈاکٹر ضیا الحسن: خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

اورینٹل کالج میں ایم۔ اے اُردو کا پہلا روز تھا۔ کلاسز کا آغاز ہوا تو اساتذہ تشریف لاتے اور اپنے ابتدائی لیکچر میں طلبا و طالبات سے ان کا تعارف پوچھتے۔ پہلے روز یونہی دو تین لیکچر بیت گئے پھر ایک استاد تشریف لائے۔ خوبصورت پروقار چہرہ، خندہ پیشانی، جس پر بالوں کی لٹ دورانِ کلام گرے تو بڑھ سلیقے سے اس کو درست کرتے، زلف گھنی جس میں چاندی چمک رہی ہے، ماتھا شکن سے پاک، آنکھوں پہ نظر

Read more

صادقہ نصیر کی خرد افروز کتاب: روز مرہ کی نفسیات

دنیا میں جیسے جیسے علم کی روشنی پھیلتی گئی اسی تیزی کے ساتھ علوم کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ پھر وقت ذرائع اور ریسرچ نے ان کی مزید شاخوں کو علوم میں تبدیل کر دیا۔ یہ سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ آج بھی جاری و ساری ہے۔ انسان کی مسلسل تحقیق و جستجو نے اسے منفرد مقام عطا کیا ہے۔ اوج ثریا پر فائز کیا ہے۔ بدلتی رتوں اور آبادی کے خاطر خواہ اضافے نے بنی نوع انسان کے

Read more

لیا درس نسخۂ عشق کا

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا مگر یہ اصل نام نہیں۔ ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور، نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔ ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔

Read more

معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز

مارینا کراوچینکو اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر

Read more

حقیقی ترقی کا فارمولا

پرسنل ڈیویلپمنٹ کا موضوع اس وقت سیلف ہیلپ لٹریچر اور موٹیویشنل تقریروں میں بہت عام ہے۔ میں ذاتی طور پر پرسنل ڈیویلپمنٹ کی اصطلاح کو مناسب نہیں سمجھتا ہوں، بلکہ اس کے لیے پیپلز ڈیویلپمنٹ زیادہ موزوں ہے، جسے اجتماعی ترقی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس نظریے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی ترقی کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کریں۔ اس تحریر میں جو مفہوم بیان کیا ہے، وہ دراصل اس بات کی

Read more

شورش کاشمیری ؒکی یادیں پارٹ 1۔

نام عبدالکریم لیکن شہرت پائی آغا شورش کاشمیری ؒکے قلمی نام سے۔ ان کا جنم 14 اگست 1917 ء کا لاہور میں ہوا اور 25 اکتوبر 1975 ء کو اسی شہر میں پائی ان کا مدفن میانی صاحب کا شہر آفاق قبرستان ہے جس میں ملک کی اہم شخصیات ابدی نیند سو رہی ہیں۔ لاہور پنجاب کا دل ہے۔ آغا شورش کاشمیریؒ کی پوری زندگی لاہور کی ہنگامہ خیز سیاسی زندگی میں گزری لاہور کی ہنگامہ خیزیوں کا ذکر آغا

Read more

ایک سوال ایک جواب۔ مذہبی مجمع بازی

​سوال: کیا وجہ ہے کہ ذاکر نائیک کو سننے کے لیے لاکھوں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہوجاتا ہے جبکہ کسی سیکولر دانشور کو سننے کے لیے مختصر تعداد میں حاضرین پائے جاتے ہیں؟ (شجعیہ بلند) جواب: شجعیہ، اگر ہم براہ راست ذاکر نائیک کو پوائنٹ آؤٹ کرنے کے بجائے کسی بھی مذہبی مقرر، گرو یا پنڈت کی بات کریں تو اس بات کا عمومی جواب تو یہی ہے کہ کیونکہ مذہب نسبتاً زیادہ آبادی کا سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ

Read more

شہر سے بڑا آدمی

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی، شہر سے بڑا ہو جاتا ہے لیکن اس رمز کو سب لوگ کہاں جانتے ہیں۔ اسلم انصاری صاحب کا معاملہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے شہر سے بڑے ہو گئے تھے۔ ایک بار انصاری صاحب سے کسی نے کہا کہ اگر آپ لاہور میں ہوتے تو زیادہ معروف اور ممتاز ہوتے۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ملتان اتنا چھوٹا شہر نہیں کہ یہاں کتابیں نہ پہنچتی ہوں۔ گویا انصاری صاحب

Read more

گلوبل ویلج، تاریخی سنگ میل

مدرسری نظام کے خاتمے کے بعد دنیا ہزاروں سال سے جنگ و جدل، نفرت، خون اور تباہیاں دیکھ رہی ہے۔ دنیا کے باسی زمین، زمینی وسائل اور طاقت کی حفاظت کرتے ہوئے کروڑوں کی تعداد میں جان کی بازی ہار گئے۔ آہیں سسکیاں ہواؤں میں گھل گئیں، درد و تکلیف کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا، کئی نسلیں اور پیڑھیاں اسی طرح سے سخت مصیبتیں جھیل کر سسک سسک کر گزر گئیں، جنہوں نے چالیس سے پچاس سال کی عمریں

Read more

گاندھی اور ٹیگور کی سماجی رفاقت اور نظریاتی رقابت کی کہانی

بیسویں صدی میں مشرق کی ان شخصیات کی فہرست میں، جو مغرب میں بہت مقبول ہوئیں، موہن داس گاندھی اور رابندرا ناتھ ٹیگور کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔ گاندھی نے مارٹن لوتھر کنگ جونیر جیسے سیاسی رہنماؤں اور ایرک ایرکسن جیسے ماہرین نفسیات کو بہت متاثر کیا۔ ایرکسن نے گاندھی کی ذات اور نظریات پر ایک ضخیم کتاب مرتب کی جس کا نام GANDHI’S TRUTH ہے۔ رابندرا ناتھ ٹیگور وہ واحد ہندوستانی ادیب ہیں جنہیں اپنی نظموں کی

Read more

آرٹ پر ایک مکالمہ – مکمل کالم

”اگر آرٹسٹ پولیٹکلی کمٹڈ نہیں ہے تو اُس کا آرٹ ریلیونٹ نہیں ہے، کیوں ڈاکٹر؟“ ”مجھے اِس بحث میں کیوں الجھا رہے ہیں؟“ ”سیریسلی!“ ”آرٹسٹ کسی بھی پولیٹیکل آئیڈیولوجی میں یقین رکھے یا کسی بھی پولیٹیکل پارٹی کا ممبر بن جائے یہ اُس کا نجی فیصلہ ہے، میں اِس کے اُس کے آرٹ کے ریلیونٹ ہونے کی شرط نہیں مانتا لیکن ایک بات طے ہے، اعلیٰ ادب اور آرٹ، بیسویں صدی میں تو خاص کر، کسی نہ کسی قسم کے

Read more

ایک روشن و دلربا دن کی کتھا

مہر عالم تاب نے اپنے جلوے بکھیرے اور پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تو اپنے نصف بہتر کے ہمراہ گھر سے نکلے۔ حسب معمول اپنے سفر کا آغاز دعاؤں اور مناجات سے کرتے ہوئے موٹر وے پر آئے تو دل مسرت سے لبریز تھا۔ سال بھر کی علالت، چلنے پھرنے سے معذوری، کہیں آنے جانے سے لاچاری تو آج جب میں پشاور جا رہی ہوں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں تو یہ بات باعث مسرت بھی ہے اور

Read more

ڈاکٹر ضیاء الحسن کا مجموعہ کلام: بار مسلسل

ضیاء الحسن ایک ممتاز پاکستانی دانشور ادیب نقاد اور استاد ہیں وہ اورینٹل کالج لاہور میں اردو ادب کے پروفیسر ہیں انہوں نے اپنی تعلیم اورینٹل کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد میں اسی ادارے سے وابستہ ہو گئے جہاں انہوں نے اردو ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ان کا شمار ان علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو ادب کو علمی اور فکری بنیادوں پر مضبوط کرنے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں انہوں نے

Read more

رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)

اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور

Read more

آغا صاحب

آغا صاحب بھی چلے گئے اور گئے بھی تو بالکل اسی طرح جیسا وہ کہا کرتے تھے کہ ”جب مر جاؤں گا تو کسی سے خبر مل ہی جائے گی“ ۔ اور یہی ہوا بھی۔ شاید جانے والے کو کچھ آگہی ہوجاتی ہے۔ وہ میرے لڑکپن کے دوست تھے ان کا نام آغا فردوس رضا تھا۔ کچھ ان کو رضا اور اکثر آغا کے نام سے پکارتے۔ میں انہیں آغا ہی کہا کرتا تھا۔ ان کے والد بڑے آغا صاحب

Read more

ایک استاد کے لیے محبت

اردو زبان و ادب کے آسمان پر کئی روشن ستارے چمکتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ راہ دکھاتی رہے گی اور ان کو ایک زمانہ یاد رکھے گا۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کا شمار بھی اُن چند ممتاز اور منفرد شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی تدریسی زندگی کا ایک بڑا حصہ اردو زبان کی ترویج و فروغ کے لیے وقف کیا۔ 28 اکتوبر 2024 کو جامعہ پنجاب لاہور کے

Read more

میری این نےخوشی کا راز کیسے پایا؟

ہر حال میں پُر امید رہنا اور تصویر کا روشن پہلو دیکھتے رہنے کا مطلب اوپٹم اِزم یعنی رجائیت پسندی ہے۔ زندگی کے تلخ معاملات میں بھی ہر دم پُر امید رہنے والا کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ مایوسی اکثر سیاہ بادلوں کی طرح لوگوں کے دلوں پر چھا جاتی ہے مگر وہ انسان جو خوش اور اُمیدانہ ہوتا ہے کبھی اندھیروں کا شکار نہیں ہو سکتا ۔ مغربی ادب میں تو اس پر بے شمار کتابیں لکھی جا

Read more

پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں

ہمیں کچھ عارضے ایسے لاحق ہوتے ہیں کہ ہم اپنے من چاہے پکوان نہیں کھا سکتے بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم مشروبات کا پرہیز کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں، ایسے میں اگر یہ بھی ہو جائے کہ سادہ پانی بھی ممنوع قرار پائے تو پھر سوچیئے کہ آپ پر کیا گزرے گی اور آپ کسے پکاریں گے۔ ایسی ہی مشکل زندگی سے اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک شفیق دوست نبرد آزما ہیں۔ گزشتہ

Read more

سید توصیف کی کتاب ”دوستی کی زنجیر“ بہترین خراجِ عقیدت ہے

میں اس معاملے میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ دُنیا کے متعدد ممالک میں میرے احباب موجود ہیں۔ میں جب بھی ان ملکوں میں بغرض سیاحت جاتا ہوں ان دوستوں کی مہمان نوازی اور محبت سے راحت قلب و جاں حاصل ہوتی ہے۔ میرے حالیہ دورہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی بہت سارے دوستوں نے اپنی محبت اور مہمان نوازی سے میرے خانہِ دل میں جگہ بنائی۔ ایسے ہی ایک میرے ایک بہت اچھے دوست کینیڈا کے

Read more

یاد رفتگاں: عارف نقوی صاحب مرحوم

برلن کی ہر دلعزیز شخصیت، بہت بڑے ادیب اور میرے مینٹر اور استاد محترم جناب عارف نقوی بھائی اب ہم میں نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کے اہلِ خانہ اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین عارف نقوی صاحب مرحوم، 20 مارچ 1934 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انجمن ترقی پسند مصنفین لکھنؤ کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ 1961 میں ہندوستان سے ہجرت کر

Read more

کیا خوشی ایک سراب ہے؟

  پچھلے دنوں میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ کراچی میں ایک پروگرام بنام ”داستان گوئی اینڈ ریڈنگ فرام کافکا ٹیکسٹس“ میں شریک ہوا، جس میں سعادت حسن منٹو اور کافکا کی تصنیف کردہ کہانیاں پیش کی گئیں۔ کافکا اور منٹو کی تصاویر کو ایک ہی اسٹیج پر دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ ان دو شخصیات کو ایک ہی نشست میں جوڑنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ حالانکہ دونوں مختلف ثقافتوں، زبانوں، اور دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن

Read more

دلدار پرویز بھٹی

دلدار پرویز بھٹی پاکستان کے ایک معروف مزاحیہ اداکار، صدا کار، پیش کار، ٹی وی میزبان اور لکھاری تھے۔ ان کا تعلق گوجرانوالا سے تھا۔ وہ 1946 میں امرتسر میں پیدا ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ساتھ گوجرانوالا میں آ بسے۔ سارے تعلیمی مراحل گوجرانوالا اور لاہور میں ہی طے کیے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالا کے سابق طالب علم تھے۔ کالج میں دوران تعلیم ہی ان کے

Read more

ادب، نقاد اور عہدِ جنگ میں ادبی نقاد کا کردار

تاریخی کتب ان باتوں یا واقعات سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں سیاست داں نے فلاں جنگ میں کیا رول ادا کیا، کیا اُس کی کوششوں سے جنگ رُک گئی اور کیا مزید جانیں تلف ہونے سے بچ گئیں، کس سیاست داں نے ثالثی کا رول ادا کیا۔ کس نے جنگ کو مزید ہوا دی۔ اس طرح سیاست یا میڈیا کے رول پر ہمیشہ بحث ہوتی آ رہی ہے۔ کیا میڈیا غیر جانب دار رہا، کیا میڈیا نے دونوں فریقوں

Read more

ساناز داؤد زادہ فر: ایران کی معروف شاعرہ

ساناز داؤد زادہ فر (Sanaz Davood Zadeh Far) کا شمار ایران کی معروف شاعرات میں ہوتا ہے۔ یہ ایران میں پیدا ہوئیں لیکن آج کل جرمنی کے شہر لگزمبرگ میں مقیم ہیں۔ ساناز نے شعری سفر کا آغاز پابند شاعری سے کیا لیکن بہت جلد آزاد شاعری کی طرف مائل ہوئیں اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”روی حروفِ مردہ راہ می روم“ کے نام سے شائع ہوا۔ فروغ فرخ زاد کے بعد یہ پہلی ایرانی

Read more

کلیات جمال احسانی پر ایک مطالعہ

جمال احسانی اردو ادب کے ایک اہم شاعر ہیں جنہوں نے جدیدیت کے رجحانات کو اپنایا اور اپنی شاعری میں زندگی کے گہرے تجربات اور جذبات کی عکاسی کی۔ ان کی شاعری میں جو گہرائی اور نیا پن ہے وہ انہیں اردو ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے جمال احسانی 21 اپریل 1951 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ تقریباً بیس سال کا عرصہ انہوں نے سرگودھا میں گزارا۔ پھر سرگودھا چھوڑ کر کراچی چلے آئے۔ انہیں تمام عمر

Read more

کانٹے اور سرخ رنگ کا ایک تیز خوشبودار لونگ کا پھول

تبصرہ نگار۔ ساجدہ فرحین فرحی The Thorn the Carnation یہ وہ ناول ہے جو یحییٰ سنورنے جیل میں لکھا یہ ناول ایک زمانے میں سب سے زیاد فروخت ہوا یہاں تک کہ اسے صیہونی حکومت کے دباؤ میں سائٹس سے ہٹا دیا گیا برطانیہ کے وکلاء برائے اسرائیل (UKLFI) نے ایمیزون کو بتایا تھا کہ یہ ایک ”غیر قانونی کام“ ہے۔ 18 اپریل 2024 کو UKLFI نے Amazon کو مطلع کیا کہ اس نے برطانیہ کے ”انسداد دہشت گردی“ قوانین

Read more

"شہزاد نئیر کی ”کہانی چل رہی ہے

شہزاد نئیر جدید اردو نظم و غزل گوئی میں بہت بڑا نام ہے۔ ان سے پہلا تعارف بھی ان کی بے باک غزلوں اور نظموں سے ہوا، جب 2020 ء میں جہلم لٹریری فیسٹیول میں میری پہلوٹی کتاب ”ڈھولکی“ کی تقریبِ پذیرائی تھی اور ہمیں لاہور سے ایک ساتھ سفر کرنا تھا۔ تب رَستے میں جو نظمیں اور غزلیں اِنھوں نے سنائیں، اُنھوں نے ورطہ حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔ مزید ملاقاتوں کے سلسلے چل نکلے اور ہر محفل میں

Read more

سِتاروں کے جُھرمٹ میں خورشید تاباں

بچپن کے امتحانوں میں ایک سوال کثرت سے آتا تھا کہ اپنے پسندیدہ استاد پر مضمون قلم بند کریں مگر اس وقت استاد کی قدروقیمت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ جب ”استاذ“ کے صحیح معنی سمجھ آنے لگتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کسی استاذ کی شان عظمت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا ذخیرہ بھی بے معنی ہے۔ بسا اوقات کسی شخصیت کا احاطہ کرنا کارِ محال نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ خاص طور پر استاد

Read more

سندھ کا نسائی فلسفہ و تصوف

قدیم سندھ کے نسائی فلسفہ اور تصوف کے کلاسیکی رجحانات کی ماورائے تعقل تفہیم سے مزیّن رانا محبوب کی کتاب ”سندھ گُلال“ اگرچہ بجائے خود سندھ کی معرفت پہ مبنی ایسے منفرد سفرنامہ پہ مشتمل ہے جو بادی النظر میں انسان کے اجتماعی شعور کی صورت گری کے برعکس دھرتی سے مجازی محبت کے افسانوں کو حقیقت کے لبادے پہنانے کی مساعی نظر آتی ہے تاہم پیش نظر کتاب ”سندھ گُلال“ میں قرون وسطیٰ کے عربی، ایرانی، ہندوستانی اور یونانی

Read more

ڈرامہ نگار اور نقاد ظہیر انور کا ادبی تحفہ

آج ایک تحفہ موصول ہوا۔ ایک ادبی تحفہ جس کا نام ”بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ“ ہے۔ میری نگاہ میں کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں جو ایک ادیب دوسرے ادیب کو بھیج سکتا ہے اور وہ بھی اپنی تخلیق کردہ کتاب اور وہ بھی ایسے دوست کی جو دوست ہی نہیں ہمراز و ہمزاد بھی ہو۔ میری خوش بختی کہ میں ظہیر انور کے تخلیقی سفر کا چار دہائیوں سے چشم دید گواہ ہوں۔ وہ ایک ہمہ جہت

Read more

ایک عورت ہزار دیوانے

اس سماج میں عورت سے جو رویّہ اختیار کیا گیا ہے اس سے عورت کی سماجی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ عورت کو بس ایک سیکس اوبجیکٹ سمجھا جاتا ہے اور ہر مرد کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اس گوشت کے ٹکڑے سے کھیلنے کا موقع ملے۔ یہ انسان کی فطری جبلت ہے یا سماجی تربیت کا نتیجہ ہے جو بھی بولیں مگر اس معاشرے میں عورت کی حیثیت اتنی سی ہے۔

Read more

روہتاس کی سرمئی دوپہر

تاریخ کے دریچوں سے گزرنا بڑا دلفریب، پرکیف اور کٹھن ہوا کرتا ہے۔ محض در و دیوار کو دیکھ لینے سے بھی صدیوں کی بنتی بگڑتی کہانیاں خود پر گزرنے لگتی ہیں۔ مجلسِ اقبال ایسے ہی دریچوں سے بچوں کو آشنا کروانے 26 اکتوبر کو قلعہ روہتاس لے گئی۔ گاتے، مسکراتے لاہور سے جہلم کی طرف روانہ ہوئے مگر حقیقت میں یہ سفر اکیسویں صدی سے سولہویں صدی کی طرف تھا۔ صدیوں کی داستان کو نئے سرے سے یوں لکھا

Read more

معاشرے اور زندگی میں رنگ بکھیرنے میں ادب و آرٹ کا کردار

سائنس اور ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے طالب علم اکثر اوقات ادب و آرٹ کو معاشرے کا بلا ضرورت موضوع اور مضمون سمجھتے ہیں۔ ایسے دوست عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادب کے بارے میں اپنی فرسودہ رائے قائم کرتے ہیں کہ ادب و افکار اور فلسفے کا معاشرے میں اب کوئی کردار نہیں رہا۔ ادب کے ادنیٰ سے شاگرد کی حیثیت میں میرا ادب و آرٹ کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ ایسا اس لئے نہیں کہ ادب و

Read more

نیلام گھر۔ طارق عزیز شو، بزم طارق عزیز

طارق عزیز اور ان کا ذہنی آزمائش کا پروگرام نیلام گھر لازم ملزوم بن گئے ہیں، جب ایک کا تذکرہ ہو گا تو دوسرے کا بھی تذکرہ ہونا لازم ہے۔ 49 برس پہلے تخلیق کیے گئے نیلام گھر کا احوال ماضی کے دریچوں سے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا سب سے زیادہ طویل المدتی ذہنی آزمائش اور گفتگو کا پروگرام جو جنوب مشرقی ایشیاء میں ٹی وی پر نشر ہونے والا سب سے مقبول ترین اور اولین شو تھا۔ اس پروگرام

Read more

یہ کار محبت ہے، یہ ہوتا ہی رہے گا

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کوئی شخص آپ کو بعد میں کہیں جاکر ملا ہو مگر پہلے سے اس کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی گئی ہو، اور یوں لگے جیسے ہم تو ازل سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا ہو، نہ ہوا ہو، میرے ساتھ ہو چکا۔ میں لائلپور کی زرعی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور گاہے گاہے لاہور گھوم آتا تھا۔ وہیں لاہور کی کسی

Read more

ڈھاکہ والا گھر اور بھٹو صاحب

ایک کالم (نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟ ) جو ”ہم سب“ پر 06 اکتوبر 2024 کو شائع ہوا، میں نے اپنے مرحوم والد کے ڈھاکہ والے گھر کی بات قلمبند کی تھی۔ کچھ نے پوچھا، ”اب کون رہتا ہے؟“ میں نے کہا، ”مجھے کیا معلوم؟ میں نے تو پتا بھی پوچھ پوچھ کر لکھا تھا۔“ یہ دنیا ایک سرائے ہی تو ہے۔ اس گھر پر اب پروفیسر نظیر صدیقی کا نام نہیں لکھا ہوا ہے، جن

Read more

بیگم اختر: زندگی اور غزل کا استعارہ

بیگم اختر نے غزل کو محض گایا نہیں، بلکہ اسے بسر کیا تھا۔ ان کی غزل گائیکی ایک پوری صدی پر چھائی ہوئی ہے، جس نے ہندوستان میں گائیکی کا ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک پل باندھتے ہوئے، انہوں نے غزل اور اس کی گائیکی کو گراموفون سے جوڑ دیا۔ بیگم اختر کا انتقال 30 اکتوبر 1974 کو احمد آباد میں ہوا، جب ان کی عمر 60 برس تھی۔ اس برس ہم ان کی

Read more

ڈاکٹر کبیر اطہر کا تصور مسیحائی

مسیحائی کا دائرہ کار جسمانی اور روحانی عوارض کو محیط ہے۔ دونوں عوارض انسانی ذات سے متعلق ہیں۔ کچھ عوارض کا تعلق فرد کے بجائے سماج سے ہوتا ہے۔ یہ عوارض براہِ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سماجی، مذہبی، سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے ان عوارض کے لیے ایک مسیحا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کبیر اطہر معروف آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ اُن کی شاعری میں جابجا انفرادی اور اجتماعی عوارض کی جانب اشارہ ملتا ہے۔

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ۔ آخری قسط

تاریخ میں جب بھی میر کا ذکر ہو گا تب غالب کا ذکر ہونا لازم ہے، دونوں ایک دوسرے کی طرح قصیدہ گو اور درباری ہونے کے الزام سے کبھی آزاد نہ ہو سکے بلکہ یہ الزام مغلیہ سلطنت کے لگ بھگ سبھی شاعروں پر ہے۔ لیکن ظاہر ہے سبھی شاعروں کو ”جنرلائیزڈ“ کر کہے نہیں دیکھا جا سکتا۔ قصیدہ گوئی اور دربار کی ثنا خوانی کے زاویے میں مغلیہ دور کے شاعروں کو ان کے کلام، شعر اور خیال

Read more

بر صغیر کا نوبل ایواڑ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور – دوسری قسط (2)

سلہٹ کی خوبصورت مستورہ نے انگریزی میں مجھے اس کا ترجمہ بتایا۔ بتایا کیا اچھی طرح سمجھایا پھر لہکتے ہوئے ایک اور گیت گایا۔ جودی تور ڈاک سنے کیو نہ آشے توبے ا یکلا چولو ایکلا چولو ایکلا چولو رے اس کا بھی مطلب سمجھا اور ساتھ ہی میں نے جانا کہ یہ ٹیگور کے گیت ہیں۔ یوں اِن تین ماہ میں مجھے بنگالی کی کچھ شد بد ہوہی گئی تھی۔ اب میری شامیں اکثر و بیشتر پوکھر کنارے گزرنے

Read more

نجیبہ عارف کے لیے

”راگنی کی کھوج میں“ تخلیقی نثر میں لکھی گئی ایسی کتاب ہے کہ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے اور ہر بار ایک نیا لطف اٹھایا ہے۔ میں اسے نجیبہ عارف کی بہترین کتب میں سب سے اوپر رکھتا ہوں۔ ایک کتاب؛ جسے میں فکشن کی کتاب کے طور پر پڑھتا رہا ہوں حالاں کہ یہ فکشن کی کتاب نہیں ہے، یقیناً نہیں ہے اور نجیبہ نے بھی اسے فکشن کہہ کر پیش نہیں کیا مگر اس میں، جس

Read more

اردو اور نوجوان نسل

ہر مضمون ایک نیا راستہ ہے جو ہمیں اپنی منزل تک پہنچاتا ہے لیکن یہ راستہ ہمیں خود بنانا پڑتا ہے۔ ہماری کہانی، ہماری زندگی، ہمارا اسکوپ۔ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ تگ و دو محنت کرتا ہے کچھ لوگ اپنی زندگی کے مقصد کو جلد ہی پہچان لیتے ہیں اور اس کے برعکس کچھ لوگ اسی کشمکش میں ہی رہتے ہیں کہ آخر ان کو کرنا کیا

Read more

میرؔ تقی میر: صاحب دیوان کی دیوانگی

ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ نے ایک جگہ لکھا ہے، ”شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے درد و غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں“ ۔ میر تقی میرؔ کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میرؔ سے سب کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ! جب ہم میرؔ تقی میرؔ کی داستان حیات کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس

Read more

آہ! رانا نوشاد قاصر

گزشتہ روز ڈاکٹر اسلم انصاری کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے اپنے دفتر سے نکل ہی رہا تھا کہ واٹس ایپ پر ڈاکٹر علی اطہر کا پیغام موصول ہوا کہ رانا نوشاد قاصر دکھوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ دوستوں کو اس خبر سے آگاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے فوری طور پر نوشاد قاصر صاحب کے انتقال کی خبر بنائی اور اسے اے پی پی کو جاری کر دیا اور ساتھ ہی یہ خبر ویب سائٹ گردوپیش

Read more

’میں عجیب ہوں‘: ایک منفرد آپ بیتی

محمد عجیب سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات چند سال پہلے برطانیہ کے علاقہ یارکشائر میں منعقدہ ایک تقریب میں ہوئی تھی۔ اتنے بڑے سیاسی عہدے پر براجمان رہنے کے باوجود وہ مجھے انتہائی سادہ سے انسان لگے۔ تقریب میں ان کی مدلل اور پُرمغز گفتگو سن کر اُن کی شخصیت کے کچھ پرت وا ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد جب میں نے اُن پر لکھے جانے والی کتاب ”Muhammad Ajeeb۔ Rising above the ordinariness“ کا اردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑا

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

تحریک آزادی کشمیر میں ادب کا کردار!

  شعبہ اُردو ’جامعہ کشمیر میں جناب ڈاکٹر یوسف میر‘ صدر نشین شعبہ اُردو کی خصوصی دلچسپی سے امریکہ کے شہر نیویارک میں مقیم فرزند ِکشمیر جناب پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری جو کہ پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں ’ایک سے زائد زبانوں پر شاعری کرنے والے شاعر بھی ہیں۔ آج کے قدیم و جدید شعراء نے بھی اپنے اپنے انداز میں‘ بالواسطہ یا بلاواسطہ ’کم یا زیادہ انسانیت اور انسانی حقوق کی بات ضرور کی ہے۔ اِنہی میں

Read more

گنجینہ معنی کا طلسم

اردو غزل کو نئی نئی بصیرتیں عطا کرنے والے میرزا یاس یگانہ چنگیزی کی غزلیات اور رباعیات کے ایک مجموعے کا نام ”گنجینہ“ ہے، اس کتاب کے لگ بھگ وسط میں وہ معروف غزل دیکھنے کو مل جاتی ہے جس کا مطلع ہے : کس کی آواز کان میں آئی دور کی بات دھیان میں آئی ڈاکٹر محمد اقبال آفاقی پر بات کرنے بیٹھا تو اس غزل کے مقطعے کی طرف دھیان چلا گیا ؛ لیجیے پہلے وہی عرض کیے

Read more

تحریک انصاف کی جسٹس منصور علی شاہ سے ”محبت“ کا انجام

رات بے خوابی میں کروٹیں لیتے گزری ہے۔ ممکن ہوتا تو کالم لکھنے سے گریز کرتا۔ یوں مگر کام چوری ہو جاتی۔ قلم اٹھاتے ہی لیکن منیر نیازی کا ایک شعر یاد آیا ہے۔ بے خوابی کی وجہ سے ماﺅف ہوئے ذہن سے اگر ایک آدھ لفظ مذکورہ شعر میں آگے پیچھے ہوجائے تو معاف کردیجئے گا۔ بہرحال جو شعر ذہن میں آیا ہے وہ ہر اس شخص کے مرجانے کا اعلان کرتا ہے ”میں جس سے پیار کرتا ہوں۔“

Read more

میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ

میر تقی میر اٹھارہویں صدی کے انتہائی اہم مدبر اور کلاسیکل شاعر ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اردو ادب بلکہ اردو ڈکشن اور لسانیات کو بھی نیا موڑ بخشا ہے۔ جنہوں نے اردو ادب کو کلیدی لغت دی اور کلی طور پہ فکر اور فن کو جدت بخشی۔ جس سے اردو ادب نے اپنی الگ حیثیت حاصل کی اور مقبولیت پروان چڑھی۔ اور اس دور کی مقبول ترین زبان فارسی کو نہ صرف ٹکر دی بلکہ اردو زبان کو اس

Read more

اسلم انصاری: وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ہونے سے ہم خود کومعتبر سمجھتے ہیں۔ وہ مسلسل کام کرتے ہیں، انتھک محنت کرتے ہیں۔ وہ کوئی شارٹ کٹ اختیار کرنے کی بجائے اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی شہرت کے لیے کسی ادبی مرکز کے محتاج نہیں ہوتے ہوتے۔ کسی بڑے شہر میں ہجرت کرنے کی بجائے اپنی دھرتی اور اپنی جنم بھومی کو اپنا مسکن اور اپنی پہچان

Read more

اپنے عظیم استاد جناب اسلم انصاری کی یاد میں

یہ سال 1991 کی بات ہے، میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول خانیوال سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے دوستوں ارشد اور اشفاق کی دیکھا دیکھی گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں داخلے کے لیے درخواست دے دی۔ ان دنوں یہ کالج جس کا اصل نام ایمرسن کالج ہے، گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا کالج سمجھا جاتا تھا۔ اس کے میرٹ پر آنا ان دنوں بہت مشکل ہوا کرتا تھا، اور داخلہ لینے والے

Read more

شعر و شاعری، ریڈیو پاکستان اور ڈاکٹر حسن زی

پاکستان میں اکثر شاعروں، فنکاروں، میوزیشنوں اور لکھنے والوں کی شروعات ریڈیو پاکستان سے ہوئی۔ جیسے، موسیقار لال محمد اور بلند اقبال المعروف لال محمد اقبال، احمد رشدی، مسرورؔ انور، جاوید اللہ دتہ اور بہت سے دوسرے۔ نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے جناب اقبال راہی (م) کی معرفت میری شاعر، مصنف، انڈیپنڈنٹ فلم ساز اور ہدایت کار ڈاکٹر حسن زی سے ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ ان کے فنی سفر میں بھی ریڈیو پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلے

Read more

اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان

18 اکتوبر 2024 ء کو انجمن ترقی پسند مصنفین اور انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، ادبی نقاد، عصرِ حاضر کے دانشور اور غیر روایتی فکر کی حامل شخصیت محترم فرحت عباس شاہ کی کتاب ”اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان“ پر سہیل یونیورسٹی کراچی میں ڈاکٹر سید جعفر احمد کی زیرِ صدارت نقدو نظر کی محفل کا اہتمام کیا گیا۔ اس علمی و فکری محفل میں ڈاکٹر سید جعفر احمد، پروفیسر شاہد کمال،

Read more

علم کا کفن

ایک وقت تھا جب دجلہ کے کنارے دلفریب نظاروں والا پُرکشش و خوبصورت شہر بغداد اپنے عروج کے دن دیکھ رہا تھا۔ علم و ادب ک محافل سجتیں، کتابوں سے بھری لائبریریاں، قدردان اُستاد، شوقِ تجسس میں ان گنت شاگرد علم سیکھنے اور جاننے کی نا ختم ہونے والی پیاس کو بُجانے کی غرض سے اس شہر کی آب و ہوا میں سانس لیتے تھے۔ مگر جہاں ایک طرف انسان اس زمین کے سینے پر روزِ اول سے امن کے

Read more

بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور۔ پہلی قسط

رابندر ناتھ ٹیگور سے میرا پہلا تعارف پانچ جولائی 1969 کی اُس شب ہوا جس کی دوپہر کو میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے گرلز ہوسٹل رقیہ ہال میں بورڈر ہوئی تھی۔ آڈیٹوریم میں اُن کا ڈرامہ چترا نگدا سٹیج ہو رہا تھا۔ رم جھم برستی بارش میں رقص اور ان کی شاعری کے سنگ ڈھاکہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی یہ پیش کش حد درجہ کمال کی تھی۔ بنگالی زبان سے اِسے میں نے اُردو میں جیسور کی اُردو اسپیکنگ فاخرہ آصف سے

Read more

شہر طلسمات کا طلسم: ڈاکٹر اسلم انصاری رخصت ہوئے

یادش بخیر! بہت دنوں سے ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ان کی ملتان پر لکھی گئی نئی کتاب کے حوالے سے مکالمہ جاری تھا۔ مسودہ میرے حوالے ہوا۔ کمپوزنگ ہو رہی تھی کہ ایک دن میرے کمپوزر کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ اس کے دونوں موبائلز کوئی چھین کر چلا گیا اور یوں میرا کمپوزر کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ یہ رابطہ اس وقت ختم ہوا جب ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب کی کمپوزنگ تقریباً مکمل ہو چکی

Read more

جواں مرگ افغان قصہ نویس کا قصہ

افغان محقق سید محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر بریالی باجوڑی وغیرہم کے مطابق افغانستان میں ناول کی ابتدا 1938/39ع میں برہان الدین کشککی او ر محمد رفیق قانع کے ناولوں۔ ’پوشیدہ محبت‘ اور ’دو عاشق بھائی‘ سے تصور کیا جاسکتا ہے جو بعد میں اشتراکی فکر کے سرخیل نور محمد ترہ کئی نے ’بے تربیت بیٹا‘ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ تاہم اولین پشتو ناول کے درج بالا ظنی رائے کے ساتھ اختلاف کی کافی گنجایش ہے۔ بعد ازاں فارسی، روسی،

Read more

مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی

مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے

Read more

سلہٹ کا الو

سلہٹ کا ضلع قدرت کا حسین انعام تھا جو تقسیم ملک کے وقت ہمیں ملا۔ آسام کے پہاڑوں کے دامن میں یہ انتہائی شاداب علاقہ باقی بنگال سے مختلف ہے۔ آبادی بھی کم گنجان۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں جو جنگلات سے ڈھکی ہوئی یا چائے کے باغات یا بانس کے جھنڈ اور سنرما دریا اور دوسری ندیاں سردی میں خوبصورت سبز پانیوں کو کھیتی ہوئی دریائے میگھنا کی جانب رواں دواں۔ اس پرفسوں ماحول پر ایک پر اسرار خاموشی کا غلاف۔

Read more

ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین

( ”اوڈیسی: نظم کی دنیا“ میں جب ابرار احمد کو ”معاصر نظم کا جمال“ کہا گیا تو مجھے اس کا تین سال پہلے محض 67 برس کی عمر میں بچھڑنا یاد آ گیا۔ 1954 ء میں جڑانوالہ پیدا ہونے والے ابرار احمد نے ایک شاعر کی حیثیت سے تب ہی شہرت پالی تھی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی بی ایس کر رہے تھے۔ لاہور میں مقیم ہوئے تو ان کی شاعرانہ شناخت مستحکم ہوتی

Read more

مشرف مبشر کی کتاب: ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“

مشرف مبشر سے میری پہلی ملاقات ہوم اکنامکس کالج کی تقریب پذیرائی میں ہوئی۔ ان کی ملنساری اور مشفق شخصیت نے متاثر کیا۔ دوسری ملاقات گندھارا ہندکو بورڈ میں ہوئی جہاں میں نے انہیں اپنی کتاب ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ دی تو کہنے لگیں میں بڑی سخت ممتحن رہی ہوں۔ تمہاری خود نوشت پڑھ کر تنقید کروں تو خفا مت ہونا۔ میں نے کہا جیسے دل چاہے لکھو۔ پھر دو دن بعد ان کا فون آیا۔ ایک سرشاری

Read more

بچو! الوداع

میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ لفظ ”الوداع“ تعلق ٹوٹ جانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یا ایسے تعلق کے معنوں میں جس کی تاثیر تو ہوتی ہے مگر تصویر موجود نہیں ہوا کرتی۔ میرے لیے یہ ایسے معمے کی بات تھی جسے میں کبھی حل نہ کر پایا۔ ادب کا طالب علم ہونے کے ناتے، مجھ پر لازم تھا کہ اس سوال کو حل کرنے کی جستجو کرتا مگر کوئی ایسا طریقہ میسر نہ آیا کہ جس کے

Read more

سفرِ یورپ: سوئس وادی لاٹربرونن سے پیرس اور روم کی گلیوں تک

اس سال اگست میں، ایک فیلو شپ کے لیے بازل، سوئٹزرلینڈ میرا ٹھکانہ رہا۔ لیکن یورپ جیسی خوبصورت سرزمین پر رہتے ہوئے انسان اپنے تجسس کو کیسے روکے؟ چنانچہ میں نے زیورخ، برن، لاٹربرونن، جنگفرو، لوسرن، جنیوا، پیرس، میلان، روم اور جرمنی کے شہر فرائیبرگ جیسے مشہور مقامات کا سفر کیا۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جو خوابوں کی طرح گزرا۔ یورپ میں سفر کرنا ایک فلم کے کردار کی طرح محسوس ہوا۔ وہاں کی خوبصورتی، صفائی اور لوگ۔ سب

Read more

بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ

تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف)

Read more

امن، رواداری، مزاحمت، سرزمینِ سندھ اور عاشقانِ دھرتی

جس طرح دنیا بھر میں انسانی ذات کو سنگین مسائل کا سامنا ہے ہر طرف آگے جانے کی دوڑ میں انسانیت پیچھے جا رہی ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور انسانی حقوق کی پامالی کا دور ہے۔ دنیا کہ سارے مسائل اپنی جگہ لیکن ہم اُس دھرتی کی طرف جائیں گے جس کی تاریخ انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کی ضامن رہی ہے جب دنیا کے ممالک جنگی جارحیت کی لپیٹ میں تھے تب وادیِ سندھ

Read more

سیاست اور سماج: ایک مثالی پاکستانی معاشرہ

پاکستان ایک مثالی معاشرہ ہے جہاں ہر ذی روح کو عزت و منزلت و برکات نصیب ہیں۔ پیارے وطن کا ہر ایک ادارہ مکمل دیانت داری، لگن، خلوص اور عمدگی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ تمام سیاستدان، ریاستی ادارے اور ہمارے محافظین، اپنی تئیں، شانہ بشانہ خدمات سے اپنے عوام کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے ہر لحظہ اور لمحہ، مسلسل، مصروفِ عمل ہیں۔ الحمدللہ! بات سادہ لوگوں یعنی معزز اور محترم شہریوں کی ہو تو ان کی

Read more

ہسپانوی ناول ’لاثار لیودے تورمیس‘ کا جائزہ

لاثار لیودے تورمیس ہسپانوی ادب کا ایک شاہکار ناول ہے جسے سولہویں صدی میں ایک نامعلوم ادیب نے قلم بند کیا۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق پہلی بار یہ 1554 میں چھپا۔ 1559 میں ہسپانوی کلیسا کی عدالت نے ناول پر پابندی عائد کر دی کیوں کہ اس میں کلیسا کے نمائندوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ناول نے اتنی مقبولیت پائی کہ اس کا ترجمہ دنیا بھر کی زبانوں میں کیا گیا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1576 میں

Read more

فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ

فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں

Read more

میں ریپ کا درد نہیں سمجھ سکتا

ژاں پال سارتر ایک معروف فرانسیسی مفکر، ادیب اور فلسفی تھے۔ 1964 ء میں ان کے لیے نوبل انعام برائے ادب کا اعلان کیا گیا، جس کو انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ 1980 ء میں جب ان کی عمر پچھتر سال تھی، وہ فرانس ہی میں فوت ہو گئے۔ ڈاکٹر خالد سہیل لکھتے ہیں کہ ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار افراد شریک تھے۔ ژاں پال سارتر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”انسان

Read more

ارتقائی علوم اور سماجی تبدیلیاں

سماجی تبدیلیاں ارتقائی اصولوں کے مطابق وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہ حوالہ عام طور پر کارل مارکس سے جوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کارل مارکس ہی وہ پہلا فلسفی تھا جس نے مذکورہ حقیقت کو دریافت کر لیا تھا۔ مگر ہم احتیاطاً اسے کوئی حتمی یا ابدی دریافت تصور نہیں کر رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور یا ہم عصر فلاسفہ میں سے بھی کسی نے اس طرف کوئی اشارہ دیا ہو۔ مادے کے ارتقا کی

Read more

مکھوٹا: نجیبہ عارف کا طلسم کدہ

”مکھوٹا“ نجیبہ عارف کا حال ہی میں چھپنے والا 128 صفحات کا ناول ہے۔ سلیم الرحمٰن کی خوبصورت شاعری اس کا دروازہ کھولتی ہے۔ چند سطور پر مشتمل انتساب کے بعد مصنف کے بارے میں جیسے خود اس کی اپنی تحریر کا ایک مختصر سا اقتباس پڑھنے کو ملتا ہے جس سے اس کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کِس مزے کا ہے یہ ٹکڑا۔ ذرا پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصنف کو ناول لکھنے

Read more

جولگرام کی روخانہ فلاحی تنظیم کے لئے چند تجاویز

کسی فرد یا گروہ کا وہ کام جو وہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور مشکلات کم کرنے کے لیے مفت میں سرانجام دیا جاتا ہے، اس کو رضاکاری VOLUNTEERING کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء اس وقت سے ہوئی ہے جب سے انسان نے دنیا میں زندگی کا آغاز کیا ہے۔ رضاکاری کا عمل ہر وقت اور ہر زمانے میں وقت کے حالات اور انسانی سوچ کے مطابق ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر رضاکارانہ سوچ اس وقت منظرعام

Read more