الہی بخش جھلا ہو گیا!

الہی بخش کے رخساروں کا گوشت سکڑ چکا ہے اور جبڑے کی مضبوط ہڈیاں اوپر کو اٹھ آئی ہیں۔ روتے ہوئے اس کے سیاہی مائل موٹے ہونٹوں کے درمیان اچھڑے پچھڑے میلے دانت باہر امڈے چلے آتے۔ غصے کی حالت میں اس کا جبڑا مضبوطی سے بھچ جاتا اور گالوں کی ہڈیاں مزید ابھر کر چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں معلوم ہوتیں۔ چہرے پر مینڈک جیسے گول گول باہر کو اُبلتے ڈیلوں پر منقش خون کی باریک رگیں پھیل کر آنکھوں کو

Read more

اکلوتی بیٹی کے باپ کے نام

15 جون کو فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ مختلف طرح سے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عموماً اس کو روایتی طرز سے منایا جاتا رہا ہے کہ لوگ اپنے والد کو تحائف، پھول اور کارڈ اچھے الفاظ کے ساتھ مزین کر کے پیش کرتے ہیں۔ اب لوگ مختلف طرح کے باپوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جیسے وہ باپ جنہوں نے مس کیرج میں اپنے بچوں کو کھو دیا یا جنہوں نے

Read more

ڈائن کا گھر

”ڈائن دا گھر وی اتھائیں تے بالاں دی کھیڈ وی اتھائیں“ ہمارے سرائیکی وسیب میں بولے جانے والی مشہور کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ جہاں بچے کھیلتے ہیں وہیں ڈائن کا گھر ہے یعنی ظلم کا ایوان بھی وہیں ہے اور معصوم بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی وہی ہے۔ ظلم اور معصومیت کب ساتھ رہ سکتے ہیں؟ یہ کہاوت آج کے جدید ترین عالمی ظلم پر صادق آتی ہے۔ کہاں ایک دیہی کہاوت اور کہاں ایک جدید،

Read more

دو عقلمند

چنے خان اور منے خان کا نام تو دوستوں کی زبانی بہت سنا تھا مگر اُن سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ لیکن جس دوست سے بھی ان کا سُنا اُس نے ان لفاظ میں تعریف کی کہ ”جہاں عام انسان کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کی سوچ شروع ہوتی ہے“ ۔ میرے اندر اُن سے ملنے کا اشتیاق حد سے بڑھ رہا تھا مگر شومئی قسمت کہ ابھی تک ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہ

Read more

والد مرحوم کے لیے 20 برس بعد لکھا گیا دوسرا مضمون

ہم نے سال 2010 میں ”رفتگان ملتان“ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ”پہلا جنازہ“ کے نام سے تحریر کیا۔ یہ مضمون ہم نے اس کتاب کی اشاعت سے قبل ایک شام اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھ کر لکھا تھا اور جب ہم نے یہ جملہ لکھا: ” کون ہو گا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہو گی؟“ تو بے اختیار ہماری آنکھیں چھلک گئیں۔ ہم نے آنکھیں پونچھ کر مضمون

Read more

اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان

” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔ آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے

Read more

معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم کا سانحہ ارتحال

معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم 22 مئی 2025 کو جناح ہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 65 برس تھی۔ تقریباً زیادہ تر شاعر، فن کار اور ادا کار زندگی کے آخری برسوں میں معیشت کی تنگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگی مشکلات میں گزرتی ہے اور موت کسمپرسی کی حالت میں ہوتی ہے۔ ہر ایسے شاعر اور فن کار کی موت پر یہ ہی تعزیتی پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی موت

Read more

تاریخ سے مکالمہ، خود کفالت کی کہانی اور دخترانِ مشقت

میرے گزشتہ دو نثر پارے کئی رقیق القلب شہری احباب کو اپنے پُرکھوں کی بُھولی یاد دلانے میں مقبول و معاون رہے اور یہ چند دن سُرعت سے معدوم ہوتی گاؤں کی مٹی، خالص گیہوں، دیسی گھی میں پکے کالے حلوے کی سوندھی مہکار کے ہجر کے نوحوں سے بھر گئے۔ نصف صدی عمر کے بھائی لوگوں کو لُو بھرے موسم میں نانی اور دادی ویہڑوں کی ٹھنڈک کے فراق نے تڑپا دیا، گرم راتوں میں صحن میں بچھی چارپائیوں

Read more

عورت کی کئی شناختیں : ایک نفسیاتی اور سماجی الجھن کا تجزیہ

عورت کو زندگی میں بیک وقت کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس کی زندگی محض ایک کردار تک محدود نہیں رہتی؛ وہ بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، پروفیشنل، طالبہ، دوست، اور بعض اوقات ان سب کرداروں کا امتزاج بھی ہوتی ہے۔ یہ شناختیں اگرچہ ظاہری طور پر مضبوط اور مکمل ہونے کا احساس دیتی ہیں، لیکن ان کے باطن میں ایک مسلسل کشمکش، بوجھ اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ ایک ایسا ذہنی دباؤ جو معاشرتی توقعات، جذباتی تقاضوں، اور

Read more

کشمکش۔ افسانہ

جنازہ اٹھنے کی دیر تھی، لوگ آہستہ آہستہ گھروں کو لوٹ گئے، وہ بھی گھر چلی آئی۔ اب وہاں بیٹھ کر افسوس کرنے سے اسے کیا ہی مل جانا تھا؟ اس کا ذہن کچھ کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ کب سے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، سب لوگ سو چکے تھے۔ اس نے سب کے اطمینان بھرے چہروں کو کس قدر حسرت سے دیکھا اور پھر تنگ آ کر اپنی چارپائی سے

Read more

فطرت روٹھ گئی ہے

کہا جاتا ہے کہ انسان فطرت کا حصہ ہے، مگر جب انسان خود کو فطرت سے ماورا سمجھنے لگے تو بگاڑ جنم لیتا ہے۔ درختوں کی چھاؤں، پہاڑوں کی خاموشی، ندیوں کا بہاؤ، ہواؤں کا نرماہٹ بھرا لمس۔ یہ سب کبھی ہمارے ماحول کا حسن ہوا کرتے تھے۔ آج یہی فطرت اجنبی ہو چکی ہے، جیسے کوئی ناراض ماں، جو اپنے بچوں کی نافرمانی پر خاموش احتجاج کر رہی ہو۔ ہم نے زمین کو صرف ایک ”وسیلہ“ سمجھا، محبت کا

Read more

تنقیدی جائزہ: ”اپنا گریباں چاک“ از جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال

مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے روشن خیال نظریات، بے باک انداز گفتگو اور تحقیقی اور تعمیری افکار کی بدولت علمی و فکری دنیا میں بہت مقبول تھے۔ ان کی آپ بیتی ”اپنا گریبان چاک“ چھپی تو ان کی شہرت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ آپ بیتی سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے 2002 ء میں شائع ہوئی۔ آپ بیتی لفظ کے معانی ”سرگزشت“ یا ”جگ بیتی“ کے ہیں۔ آپ بیتی اصل میں

Read more

چراغ سا دل

(بانو مشتاق کو 2025 کا بوکر پرائز ملا ہے۔ وہ ہندوستان کی پانچویں لکھاری ہیں جن کو یہ اعزاز ملا ہے۔ بانو مشتاق جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھتی ہیں اور وہاں کی زبان کناڈ میں لکھتی ہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعہ کا ترجمہ Heart Lamp کے نام سے دیپا بھستی نے کیا ہے اور انعام کی رقم مصنفہ اور مترجم دونوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ 200 صفحات کی اس کتاب میں 12 افسانے ہیں۔ ان

Read more

کیا آپ کی بیگم کھانا اچھا بناتی ہیں؟

ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے ایک تحقیق سامنے آئی کہ حسین بیویوں کے شوہروں کو ہارٹ اٹیک کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہ اس دنیا فانی سے جلد کوچ کر جاتے ہیں۔ ابھی عید گزری ہے، قربانی کی عید۔ گوشت سے لت پت ہم پاکستانی مسلسل شدید گرمی میں گوشت ٹھونسے جا رہے ہیں کیوں؟ خوراکی مزاج میں بھی ہوس آ گئی ہے حالانکہ اس گوشت کو بھی ہمارے جسمانی گوشت کے ساتھ قبر کے کیڑے مکوڑوں

Read more

صحیح راستہ کیا ہے؟

ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ صحیح راستے پر سفر کیا جائے، خاص طور پر دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملات میں۔ یہ لین دین یا تو انفرادی سطح پر ہو سکتا ہے یا پھر خاندان، برادری یا قوم کی سطح پر۔ سوال یہ ہے کہ صحیح راستہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے منزل کی بات کرتے ہیں۔ ایک صالح زندگی کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں؟ ایک مثالی معاشرے کے ہمارے خواب کیا ہیں؟ ایک مثالی

Read more

”رف رف رفتن“ کا راشد جاوید

فنکار غبارے میں ہوا کی طرح آسمان پر سفر کرتا ہے۔ تحریر کا وزن اس کے تخلیقی سفر کا اعادہ کرتا ہے۔ راشد جاوید بھی جس غبارے میں سوار ہیں اس کی ہوا خاصی مضبوط اور گرہ سخت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ”رف رف رفتن“ پڑھ کر ہوا۔ اس سے قبل ان کے پنجابی کے دو افسانوی مجموعے ”مٹی اتے لیک“ اور ”جنگل اگی چپ“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی کہانیوں کا مجموعہ ”Fructured

Read more

زبانیں جو دریا بن گئیں

  شام کے سات بج رہے تھے، لیکن کراچی کا آسمان اب بھی سورج کے کچھ ذرے تھامے ہوئے تھا۔ باہر سڑک پر چائے والے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی، اور اندر سارہ ندیم کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی تھی۔ نیویارک، برلن اور کراچی ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔ زوم میٹنگ میں تین چوکٹھے تھے، تین وقت، تین زبانیں، لیکن ایک ہی دھڑکن۔ ایک ہی سوال سب کے ذہن میں گونج رہا تھا:

Read more

ٹک ٹاکر کا قتل

فی الحال سوچنے پر پابندی نہیں لگی لیکن جلد لگ جائے گی پھر حکم ہو گا فلاں شخص کو درخت سے لٹکا دو، ذبح کردو یا سینے میں گولیاں اُتار دو۔ بہر صورت جب سبجیکٹ تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے اس کا نظارہ قاتل کو نشے کی سی سرشاری دیتا ہے۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بھٹو یا کینیڈی کیونکر مرے، میرے سامنے تو ایک خوبصورت عورت کی شبیہ ہے جس کی گردن گلوٹین سے اڑا

Read more

غنی خان اور اپنا ادبی فلسفہ

غنی خان بابا جدید پشتو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور ان کا اپنی شاعری میں فلسفیانہ لب و لہجہ ہے۔ شاعر اپنی کلیات میں زندگی کا ایک فلسفہ پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم بلا کے سامنے کتنے ہی بے بس کیوں نہ ہوں، ہمیں کم از کم احساس تو ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے ساتھ جینے اور روحانی پاکیزگی کی قدر سیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ غنی خان انسانوں کو اپنی زوال

Read more

ماں کی بے بسی اور تعلیم یافتہ اولاد کی بے مہریاں

ابھی پچھلے دنوں ہی کی یہ داستان ہے ایک ایسی حقیقت کی جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں گہری جڑیں پکڑے ہوئے ہے، ایک ایسی کہانی جو آنکھوں کو نم کر دیتی ہے اور دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ کہانی ہے ایک سابق وائس چانسلر کی اہلیہ کی، ایک ایسی خاتون جو بظاہر ایک معزز اور پڑھے لکھے خاندان کا حصہ تھیں، جن کے بیٹے اور بیٹیاں معاشرے میں اونچے مقام پر فائز تھے۔ ایک بیٹا امریکہ سے تعلیم یافتہ، ایک

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول۔(13)

تب ان سب نے پوچھا۔ ” ہوں، تو شلپی کوئی نئی خبر؟“ اور اماوس رات کے ان لمحوں میں، جب ہوا بانس کے درختوں سے ٹکرا کر سائیں سائیں کرتی تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ اب انہیں کیا بتائے کہ اس کے پاس نت نئی خبروں کا سارا سٹاک ختم ہو گیا ہے اور اپنے ساتھیوں پر معلومات کا رعب جھاڑنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا۔ پھر بھی وہ بولا۔ ” دادو کہتے ہیں کہ اب پاکستان بن

Read more

سانجھ: جہاں کتابیں بکتی نہیں، بانٹی جاتی ہیں

کتابوں کی دکانوں کا تذکرہ ہو تو ذہن میں اکثر وہی روایتی منظر ابھرتا ہے۔ شیلفوں پر سجی کتابیں، بے رونق چہروں والے دکاندار، اور ایک سودا سا، جیسے الفاظ کو ترازو میں تولا جا رہا ہو۔ اگر آپ لاہور کی ٹیمپل روڈ سے صفاں والے چوک سے گزر کر مزنگ اڈے کی طرف مڑیں، تو بائیں ہاتھ ایک گلی میں ’سانجھ‘ نام کی ایسی کتابوں کی دکان واقع ہے جو دکان سے کہیں زیادہ ایک تہذیبی بیٹھک ہے، ایک

Read more

اولاد کی قاتل ماں

دنیا میں صرف ایک رشتہ ایسا ہوتا ہے جو بنا کسی لالچ کے، بنا کسی مشروط محبت کے، انسان کے وجود کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ رشتہ ”ماں“ ہے۔ ماں کی آغوش وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے نے ہنسنا، رونا، بولنا، جینا سیکھا۔ مگر جب یہی آغوش مقتل بن جائے، جب محبت کے مقدس ترین نام پر دھبہ لگے، جب ممتا کا رشتہ اپنے ہی وجود سے نفرت کرنے لگے تو سمجھ لیجیے ہم صرف زمانے کے نہیں، زمانوں

Read more

ڈراما ”چاند گرہن“ کا خلاصہ

  ناول کا مرکزی کردار لال حسین شاہ ہے۔ جو کہ ایک سیاست دان ہے۔ ڈرامے کی کہانی لال حسین شاہ کے بنگلے سے شروع ہوتی ہے وہاں ایک میز پر دو ٹیلی فون رکھے ہیں دو ملازم کرسیوں پر بیٹھے کاغذ قلم سامنے رکھے فون پر الیکشن ایجنٹوں کی طرف سے نتائج نوٹ کر رہے ہیں۔ اور ملازم آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن کے نتائج اچھے نہیں آئے اس کا مطلب شاہ جی ہار

Read more

بہو اور نوکر میں فرق ہوتا ہے

میں صبح سے کام پہ لگی تھی، مہمان بس آنے ہی والے تھے۔ بیس پچیس لوگوں کا اکیلے کھانا بنانا آسان تو نہیں لیکن بن ہی جاتا ہے۔ کہ یہ تو تقریباً روز ہی کا کام ہے۔ چاروں نندیں اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ ہر اتوار کو آتیں۔ ساس کا فرمان ہے کہ دامادوں کو ہاتھ میں رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں کھلا کھلا کر مارو۔ اتوار کی چھٹی پہ وہ اپنے ماں باپ سے ملنے

Read more

انکار پر سزائے موت اور ناحق قتل پر؟

  ثناء یوسف والے واقعے کے بعد دل بہت غمزدہ ہے۔ اسے صرف دوستی سے انکار پر قتل کیا گیا۔ ایسا ہی واقعہ چند ماہ پہلے ایک دوسری ٹک ٹاکر کے ساتھ بھی پیش آیا تھا جس نے ایک آدمی کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ دوستی، تعلقات اور شادی سے انکار پر قاتلانہ حملہ، جنسی حملہ، آبروریزی یا تیزاب گردی۔ متواتر ایسے واقعات مردوں اور لڑکوں کے لیے عورتوں کے دل میں نفرت پیدا کرنے کا سبب

Read more

بجٹ اور حقائق :عدد کون اتنے شمارے ترے

  ”بجٹ“ کا خوف ہر سال کروڑوں پاکستانیوں کی جان جکڑے رکھتا ہے اس کی آمد ہو گئی ہے۔ اس وقت کروڑوں پاکستانی مہنگائی اور بجلی بلوں سے ادھ موئے ہو رہے ہیں۔ اناپ شناپ ٹیکس ان کی مالی حالت اور پتلی کر رہے ہیں۔ انور مسعود نے بجٹ کی حقیقت انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کی ہے۔ بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے انوکھے انوکھے خسارے ترے اللے تللے ادھارے ترے بھلا کون قرضے اتارے ترے گرانی کی

Read more

لڑکی کو قتل کر دیا، افسوس ہوا لیکن وہ

  پڑھنا چاہتی تھی۔ نوکری کرنا چاہتی تھی۔ برقع نہیں پہنتی تھی۔ نقاب نہیں لیتی تھی۔ چادر نہیں لیتی تھی۔ دوپٹہ نہیں لیتی تھی۔ شادی کرنا چاہتی تھی۔ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنی مرضی کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا کرتی تھی۔ فیملی پلاننگ کرنا چاہتی تھی۔ طلاق لینا چاہتی تھی۔ شوہر سے مار نہیں کھانا چاہتی تھی۔ شوہر کی عزت نہیں کرتی تھی۔ دوبئی میں رہنے والے شوہر کی عزت کی حفاظت نہیں کر رہی

Read more

غصے کی خود کاشتہ فصل

اسد محمد خان بے شک اس عہد کم کمال میں اردو ادب کے ترکش کا خدنگ آخریں ہیں۔ کراچی میں مقیم اس مشت لعل و جواہر سے تعلق آشکار یا ربط دروں نہ رکھنے والے بدنصیب کو بلاتاخیر کور چشم اور کم سواد ننگ اسلاف کی فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔ اسد محمد خان نے کہانی کی بنت میں ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے کہ وہی اس رنگ کے خاتم ہیں۔ برصغیر کے دور دراز منطقوں کے جغرافیے کے

Read more

ایک افریقی سیاسی راک اسٹار کی تقریر (حصہ سوم)

(گنی بساؤ کے صدر کیپٹن ابراہیم ترورے کی سوشل میڈیا وائرل تقریر کا آخری حصہ)۔ پیارے افریقیو، خود کفالت کا مطلب مغرب کی نقالی ہرگز نہیں۔خودکفالت کے سفر میں ہم سے غلطیاں بھی ہوں گی، ہم لڑکھڑائیں گے بھی۔مگر وہ ہماری اپنی غلطیاں ہوں گی۔ انھی سے ہمیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔کوئی نجات دھندہ نہیں آئے گا۔نجات دھندہ یہیں موجود ہے اور وہ ہم ہیں۔لہٰذا لاحاصل انتظار اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ اب رک جانا چاہیے۔

Read more

نوزائیدہ بچّوں کے مزید عام مسائل، ان کی گھریلو دیکھ بھال (حصّہ دوم)

پچھلے مضمون میں ہم نے نوزائیدہ بچّوں کے کچھ مسائل پر گفتگو کی تھی۔ آج ہم کچھ مزید مسائل پر بات کریں گے۔ 4۔ پاخانے یا اسٹول کی تعداد و نوعیت: ‎ نوزائیدہ بچّوں میں اسٹول یا پاخانے کی نوعیت اور رنگ بڑے بّچوں کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہے۔ ابتدائی چند دنوں کے دوران پاخانے عام طور پر سیاہ یا سبز رنگ کے اور چپ چپے ہوتے ہیں اور نوعیت میں نرم ہوتے ہیں۔ زندگی کے پہلے ہفتے کے

Read more

انسانی ماؤں کا جذباتی آنول کو کاٹنا

ڈاکٹر سارہ علی کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط صبح کے دس گیارہ بجے کا وقت تھا میں اپنی واک اور ناشتے سے فارغ ہو کر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر کام کر رہی تھی اور بہت الگ سا احساس ہونا شروع ہوا شاید اس لیے کہ میں اپنے جسم کی طرف زیادہ متوجہ تھی کیونکہ میں پریگننٹ تھی اور ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے گائناکولوجسٹ سے چیک کروا کے آئی تھی اور اس نے مجھے آگاہ کیا تھا کہ

Read more

آٹیزم یا آٹیزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر

آٹیزم (Autism) یا آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) ایک اعصابی و ارتقائی بیماری ہے جو بچوں میں ابتدائی عمر ہی سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔ یہ بیماری فرد کی سماجی مہارتوں، بول چال، رویے اور سیکھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آٹیزم کو ”اسپیکٹرم“ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مختلف افراد پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے، کسی کو معمولی دشواریاں ہوتی ہیں تو کسی کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آٹیزم کی علامات

Read more

فرخندہ شمیم: ایک مکمل عہد کی ترجمان

فرخندہ شمیم، یا مسز احمد، ایک ایسا نام ہے جسے روایتی حلقوں میں زیادہ شہرت نہیں ملی، مگر دراصل یہ نام ایک عہد کی داستان ہے جو حوصلے، قربانی، شعور، خلوص اور بے مثال قیادت کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ کراچی کے کاروباری افق تک پہنچنے والا یہ نام، نہ صرف ایک خاتون کی شخصی ترقی کا سفر ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی کشمکش کا آئینہ بھی ہے۔ فرخندہ کی شخصیت کی اولین تشکیل اُن کی

Read more

راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ

1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔

Read more

والدین کی قربانی کو خراجِ عقیدت

تاریخِ انسانیت۔ بلکہ ماقبلِ تاریخ سے یہ سچائی گونجتی آئی ہے کہ والدین نے ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں صرف جذباتی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ والدین اپنی زندگی، خواب، اور مستقبل کو اپنے بچوں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ وہ ایسی خاموش قربانی دیتے ہیں جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ان کی یہ آمادگی اور انمول پہچان کہ خود دکھ اٹھائیں، حتیٰ کہ جان تک دے دیں۔ صرف اس

Read more

تنہا: سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا ناول (11)

آج جب اس نے اپنی دھوتی کے ڈب سے ایک پیسہ نکالا تو اسے دکھ ہوا فیری گھرڑ گھرڑ کرتی کنارے سے لگ گئی تھی۔ لوگ دھڑا دھر اتر رہے تھے۔ اور جب وہ اپنے سبز رس دار خوشبوئیں اڑاتے آموں کے ٹوکرے کو اٹھانے کے لئے جھکا تو بڑبڑایا۔ ”یہ حرامزادہ اب یہیں بیٹھا رہے گا ہماری چھاتی پر مونگ دلنے کو۔ جا کیوں نہیں چکتا کلکتے، یہ دیش اب ہمارا ہے اس کا یہاں کوئی کام نہیں۔“ ابھی

Read more

”رقصِ وجداں“ : ساحر راہُو کا آٹھواں مجموعۂ کلام

ساحر راہُو دورِ حاضر کے سندھی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں اور غزل کی صنفِ سُخن ان کی پہچان ہے۔ ان کی شاعری کے 7 مجموعہ ہائے کلام اس سے پہلے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبولیت پا چکے ہیں۔ جن میں سے ایک مجموعۂ کلام اردو میں بھی ہے۔ ان کی طبع شدہ شاعری کی کتب کی تفصیل کچھ یوں ہے : 1۔ خواب کھتُھوریٔ چند (خواب، خوشبو اور چاند) 2۔ سانوری شام (سانولی شام) 3۔ ”نینڑ سجدے

Read more

سنا ہے وہ لوٹ آئے گا

کورٹ روم میں بیٹھی اس لڑکی کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو اکثر عورتیں طویل تماشے کے بعد لاتی ہیں بلکہ ایک تھکا ہوا اقرار تھا جیسے کسی نے بہت چیخا ہو، بہت سہ لیا ہو، اب لفظ بھی ہار گئے ہوں۔ ”سر۔ خلع چاہیے مجھے۔“ رات کے آخری پہر جب خاموشی تنہائی کا کفن اوڑھ لیتی ہے تو کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں نیند کی بجائے یادیں جگاتی ہیں۔ ایک ادھورا لمس، ایک بے نام

Read more

پریوں جیسی ثنا یوسف: جو نہ جھکی، نہ ٹوٹی

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو کہ ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے بچپن میں پریوں کی کہانیاں سنی تھیں۔ نازک، ہنستی مسکراتی، روشن چہرے والی، جہاں جاتیں خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیرتی۔ ثنا یوسف کو دیکھ کر بھی کسی پری کا گمان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس معصوم سے واقفیت اس کی موت کے بعد ہوئی لیکن جتنا اسے دیکھا اس کی خوبصورتی، اس کا بچپنا سب نگاہوں میں گھوم رہا ہے۔ اس کی عمر محض 17 برس وہ

Read more

آکاس بیل

باجی پہلے مجھے مہندی لگائیے! ایک بچی ہمک کر بولی، دوسری اٹھلائی، نہیں پہلے مجھے! میری خالہ زاد غزل کی شادی کی تقریبات زور شور سے جاری تھیں، رات بھی کافی حد تک بھیگ چکی تھی، شادی شدہ خواتین، لڑکیوں اور بچیوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔ وہ تھی کہ اپنے کام میں مصروف ہر اک کی خواہش پر مسکرا دیتی اور سامنے بیٹھی لڑکی کے نرم گداز ہاتھوں کے دونوں اطراف، گوری چٹی کلائیوں، حد یہ کہ مخملیں پاؤں

Read more

کیا فلسفی سپینوزا خدا کے منکر تھے؟

بارک سپینوزا ایک یہودی اور پرتگالی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے خاندان نے پرتگال سے ایمسٹرڈیم اس لیے ہجرت کی تھی کہ پرتگال میں یہودی ہونے کی وجہ سے ان کی جان خطرے میں تھی۔ سپینوزا 1632 میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی چھ برس کے ہی تھے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ چھ برس سے نو برس تک ان کی نانی نے انہیں پالا۔ اس کے بعد ان کے والد نے

Read more

نوزائیدہ بچّوں کے مزید عام مسائل ان کی گھریلو دیکھ بھال (حصّہ اوّل)

نوزائیدہ بچّوں میں کچھ مسائل بہت عام ہیں جو اکثر والدین کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں کچھ مسائل بہت معمولی ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی خاص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا غیر ضروری علاج نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ مسائل بہت سنگین ہوتے ہیں اور کبھی کبھی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں اگر ان کا بر وقت علاج نہ کیا جائے۔ آج ہم انہی مسائل پر بات

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک

Read more

مریم نواز ہیلتھ کلینک: مسائل، امیدیں اور خدشات

مشترکہ ہندوستان میں مغربی طریقہ علاج کی تاریخ 1600 کی ہے، جب پہلے ڈاکٹر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ سرجن کے طور پر ہندوستان پہنچے۔ 1757 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی قائم کی جس کی وجہ سے سول اور ملٹری سروسز کی ترقی ہوئی۔ بنگال میں 1764 میں کمپنی کے فوجیوں اور ملازمین کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک طبی شعبہ قائم کیا گیا۔ ہندوستان کا پہلا ہسپتال مدراس جنرل

Read more

ثنا یوسف میں شرمندہ ہوں

سب جانتے ہیں میں کتنا کٹر، مذہبی، بنیاد پرست اور قدامت پسند واقع ہوا ہوں۔ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے اور خانوادے سے ہے۔ ہمارا شجرہ ہمیں جیلان تک لے جاتا ہے ؛ سو قادریت ہماری رگ و پے میں ہے۔ میرے ابو جی کٹر مذہبی، میرے دادا پکے بنیاد پرست الغرض آٹھ صدیوں کا جینیاتی سفر اسی مذہبی شناخت کا سفر ہے۔ میں بھی خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ یونی ورسٹی میں بھی میری سر توڑ کوشش رہی کہ

Read more

مارکیٹنگ کا جوہر۔ احساسات، تجربات اور وعدے

مارکیٹنگ کا اصل مقصد صرف مصنوعات کو فروخت کرنا نہیں بلکہ صارف کے دل و دماغ کو جیتنا ہے۔ آج کے دور میں جب ہر طرف اشتہار بازی کا شور ہے اور ہر کمپنی اپنی مصنوعات کو بہتر، سستا یا جدید ترین قرار دے رہی ہے، تو وہ برانڈ کامیاب ہوتا ہے جو صرف پراڈکٹ نہیں، بلکہ ایک احساس، ایک امید، ایک تجربہ، اور ایک تاثر بیچتا ہے۔ صارفین اب وہ نہیں رہے جو صرف قیمت یا معیار کی بنیاد

Read more

انکار کا حق

ہمیں یہ کب سمجھ آئے گا کہ ”انکار، انکار ہوتا ہے“ No means No. کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انکار کے باوجود آپ پر دباؤ ڈالے یا آپ کے انکار کو اقرار میں بدلنے پر مجبور کرے۔ ہر گزرتے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر کوئی زندگی چھین لی جاتی ہے، تو کبھی کسی کا انکار اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ اسلام آباد میں 17 سالہ

Read more

کیا مُسکراہٹ واجب القتل ہے

میں تھائی لینڈ سے واپس آیا تو دوست میرے گرد اکٹھے ہو گئے، ایک نے کہا سُنا ہے تھائی لینڈ میں بڑی فحاشی ہے۔ آپ نے تو خوب مزے کیے ہوں گے ۔ میرے لیے ایک وقت میں دو بیانات جس میں ایک خیال تھا اور دوسرا سوال تھا کافی عجیب سی بات تھی۔ کیونکہ خیال نے مجھے حیرت میں ڈالا دیا اور سوال نے تذبذب میں۔ یہ خیال اور سوال دونوں ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے تھے کہ اگر

Read more

فرد فرد مجموعہ خیال

میں نے اپنے دیرینہ شناسا اور ایک عرصہ سے دوست ڈاکٹر ساجد علی کی کتاب ”فرد فرد مجموعہ خیال“ آخر کار پڑھ ہی ڈالی۔ اتنی دیر بعد کیوں؟ وجہ یہ کہ کچھ مضامین پہلے سے پڑھے ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی کتابیں موصول ہوئیں جن میں فیاض باقر جو ہیں تو پی ایچ ڈی ہی لیکن ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے کہ باہر کے ملکوں میں رواج نہیں، کی انگریزی کتاب تھی جو بھیجے

Read more

خوبصورتی، ترتیب کا دوسرا نام

خوبصورتی ہمیشہ سے انسان کو لبھاتی رہی ہے۔ قدرتی مناظر، آرٹ، خوش الحانی، خوش پوشی، یہ سب خوبصورتی کی نمائندہ علامتیں ہیں، لیکن جب ہم کسی ملک، شہر، یا معاشرے کو ”خوبصورت“ کہتے ہیں تو یہ صرف اس کی ظاہری دلکشی کی بات نہیں ہوتی۔ اصل میں خوبصورتی نظم و ضبط، صفائی، ترتیب اور قانون کی حکمرانی کا دوسرا نام ہے۔ وہ سڑکیں جو سیدھی اور محفوظ ہوں، وہ بازار جہاں شور شرابا نہ ہو، وہ رہائشی علاقے جہاں سکون

Read more

ٹنڈو بہاول اور مورو کے سانحات میں پریشان کن مماثلتیں اور اسباق

ٹنڈو بہاول اور مورو کے سانحات سندھ کے دو المیے۔ جو تین دہائیوں سے زیادہ کے فاصلے پر ہیں۔ حکمرانوں اور عوام کے پیچیدہ تعلقات کی واضح مثال ہیں۔ 1992 کا ٹنڈو بہاول قتل عام اور مئی 2025 کا مورو کوئی پہلا اور آخری سانحہ نہیں، بلکہ ناکامیوں کی وہ علامات ہیں جو ملکی انداز حکمرانی کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ یہ دونوں واقعات، جو دیہی سندھ میں جڑیں رکھتے ہیں، سیاسی اور سماجی زیادتیوں، وسائل کے تنازعات، اور

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول ( 10)

اس نے خود سے کہا۔ ”شریر جانے مٹی کیوں ہوا جار ہا ہے اور من بھی کیسا اجڑا، اجڑا ہے؟ کسی کام کے کرنے پر طبیعت ہی مائل نہیں۔“ یوں کام کرنے کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس گھر میں تھوک کے حساب سے نوکر تھے۔ پر رسوئی گھر کا بیشتر کام اسے ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس کا سسر ڈاکٹر جو چند سال قبل بنگال کا وزیر صحت تھا کھانے پینے اور برتنوں کی صفائی میں کچھ زیادہ

Read more

کائنات کا نیلا موتی۔ سیارہ زمین

کائنات بہت خوبصورت اور وسیع ہے جس میں ہمارا سیارہ زمین ایک نخلستان کی مانند ہے۔ کائنات میں ہماری زمین کی اہمیت ایک نیلے موتی کی طرح ہے کیونکہ ہماری زمین کائنات کا سب سے خوبصورت سیارہ ہے کیونکہ یہاں زندگی ہے۔ ہماری دنیا کے تمام بر اعظم اور سمندر خوبصورتی میں یکتا ہیں اور زمین کا ستر فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ خواہ کالے ہوں یا گندمی، سفید رنگت کے ہوں یا کسی اور رنگت کے ہم سب

Read more

روبوٹ رابعہ

ناصر کی شادی رابعہ سے ہوئی۔ خاندان کی تاریخ میں ایک نئی مثال، ایک ایسا باب جو خوش رنگی اور تکلف کی تمام جہتوں کو چھو آیا۔ شہر کے مایہ ناز شادی ہال میں جب وہ تقریب منعقد ہوئی، تو یوں لگا جیسے کئی صدیوں پر محیط تہذیب ایک شام کے لیے یکجا ہو گئی ہو۔ فانوسوں کی مدھم روشنی، طاؤس جیسے پیٹرن والے قالین، مہندی کے رنگ میں رچے ہوئے ہاتھ، اور تصویریں۔ جو بعد میں فوٹوگرافر نے البم

Read more

افسانوی مجموعہ ”پہلی چپ کا شور“

افسانہ نگار :ماہ جبین آصف تبصرہ نگار: شاہانہ جاوید ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا، ہماری دوست ماہ جبین کے افسانوں کی کتاب ”پہلی چپ کا شور“ کو چھپے دو سال ہونے کو آرہے ہیں، پچھلے سال گھر کی شفٹنگ کی تو ان کی کتاب کسی کارٹن میں لاپتہ ہو گئی، اور ہم مسنگ کتاب کے مجرم ٹھہرے، گھر کی سیٹنگ، اور نئی جگہ کے مسائل کتاب مل کر ہی نا دی، جبکہ ہمارا وعدہ تھا کہ اس

Read more

اُجڑی دہلیزوں کی صلح

وہ بوڑھا شخص میرے آفس میں آیا تو ہاتھ میں ایک پرانی فائل اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ کر اس نے اپنی دردناک کہانی سنائی۔ دھوپ زوال پر تھی۔ سورج کے جھکتے سائے کچی اینٹوں والی گلیوں میں ایک لمبی تھکن کی مانند پھیل رہے تھے۔ بوڑھے شجر کے نیچے بیٹھا وہ شخص وقت کی گرد میں لپٹے کسی شکستہ مینار کی مانند لگتا تھا جسے اس کی اپنی بنیادوں نے چھوڑ دیا

Read more

کوکھ سے جڑے روگ کی کہانی

وہ ایک پرکشش جسم کی حامل خاتون تھی جسے سجنا، سنورنا پسند تھا۔ اسے اچھا لگتا تھا کہ اس کا شوہر اس کے پہنے گئے کپڑوں کی تعریف کرے، اس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کو دیکھ کر پاگل ہو جائے اور اس کے جسم پر فدا رہے لیکن اب اسے یہ بوسے کسی بنیے کے قرض کی طرح وبال لگ رہے تھے جن کی ادائیگی میں شاید وہ خود خرچ ہو جائے لیکن قرض نہ اترے۔ اسے اس قربت

Read more

بچپن میں شادیوں کے لیے ملاؤں کی مہم جوئی

مولانا فضل الرحمان اور دیگر ممتاز مذہبی لیڈروں نے ملک میں بچوں کی شادیوں کی ممانعت کرنے والے قانون کی مخالفت کی ہے۔ اب جمعیت علمائے اسلام (ف) نے خیبر پختون خوا میں بچوں کی شادیوں کے ’حق‘ کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی 17 مئی کو قومی اسمبلی سے قانون منظور ہونے کے بعد اس قانون کی مخالفت کی تھی اور صدر آصف زرداری سے مطالبہ کیا تھا کہ

Read more

اہل غزہ: سامنا ہم تمہارا کریں کس طرح

فلسطینیوں کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ ہم پر ایٹم بم پھینک دو، تاکہ ہمیں اس اذیت ناک زندگی سے نجات ملے، غزہ میں موت بہت بڑی نعمت ہے۔ قبر والوں کی قسمت پر ناز کیا جاتا ہے کہ وہ جنت کے میوے کھا رہے ہوں گے اور ہم ایک نوالے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کاش ہم بھی شہید ہوچکے ہوتے۔ غزہ کے گلی کوچوں میں موت کا عفریت رقص کناں ہے۔ غزہ میں زندہ وہ

Read more

کیا ہماری نانیاں اور دادیاں ان پڑھ تھیں؟

صاحب عرفان اور معلم مہربان محترم رسول بخش رئیس کا تازہ کالم پیارے بابوں کے متعلق پڑھا تو خیال آیا کہ ہماری نسل اپنی بوڑھی ماؤں، نانیوں، دادیوں، خالاؤں، چاچیوں، ممانیوں اور پھپھیوں کے بارے میں کم جانتی ہے اور جو کہا جاتا ہے وہ بھی محض تقدس بھرا بیانیہ ہے، اس کے علاوہ ہم ان کی زندگیوں کو کسی اور ماڈل میں دیکھنے، سوچنے اور لکھنے میں اکثر متَامل رہتے ہیں۔ یہ گمان بھی رہا کہ ان برگذیدہ ہستیوں

Read more

پہاڑوں کی سرزمین کی صدائے محبت

میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کو ان کے ادبی سفر کی پہلی کتاب ”Echoes from the Mountains کی اشاعت پر مبارکباد دینا چاہتی ہوں اور شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اتنے خلوص سے یہ کتاب مجھے بھجوائی اس تقریب میں مدعو کیا اور مجھے اس کتاب پر رائے کے اظہار کا موقع دیا۔ یہ کتاب انسانیت، تہذیب، اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں سے محبت اور اپنے نظریات کے لیے صعوبتیں برداشت کرنے اور بہادری سے کھڑی رہنے والے

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

محکمہ تعلیم کی زبوں حالی اور اساتذہ کے مطالبات

اس وقت گلگت بلتستان میں گریڈ 14 کے اساتذہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بی ایڈ کی بنیادی پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو 16 جبکہ سی ٹی والے ٹیچرز کو 14 گریڈ میں ترقی دی جائے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ اسی نوعیت کے 200 اساتذہ کو سفارشی بنیادوں پر 16 گریڈ میں ترقی دی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ اساتذہ کو سکیل سے محروم رکھنا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔ اس حوالے سے کل

Read more

کائنات کا پہلا گیت

بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔ یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (دوسرا حصہ)

فلسطین سے محبت کی سرشاری میں جب ناول میں اس دھرتی کے شعرا کا ذکر آیا، تب بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان نظموں کا مطالعہ کروں جو ان جری شعرا  نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مٹی کی محبت میں اپنا قلم دکھ، درد اور رائیگانی کی سوز بھری روشنائی میں ڈبو کر، محبت سے رقم کیں۔ جن شعرا نے اپنی شاعری میں ابتدا ہی سے عرب اسرائیل تنازعے کو بیان کیا، ان میں نزار

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ

جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب

Read more

انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب

عنوان میں استعمال کیا جملہ ایک ناول کے ٹائیٹل؛ ’ایکسٹریملی لاؤڈ اینڈ انکریڈبلی کلوز‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ ناول جوناتھن سفران فوائر نے امریکہ میں ستمبر 2001 کی ٹریجیڈی کے بعد لکھا جس پر بعد میں ہالی وڈ میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ اس جملہ سے مراد ناول کے مرکزی کردار ایک نو سالہ بچے آسکر شیل کا اپنے باپ کو نائین الیون حملوں میں کھو چکے ہونے کے بعد کا تجربہ ہے۔ آسکر نیویارک میں اپنے باپ

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول: (9)

”ارے میرے اللہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ میں اسے اب دیکھ بھی نہیں سکتا۔ جس کے دیدار کے لئے میں یہاں آیا ہوں، پورے دس کوس کا فاصلہ طے کر کے۔ یہ ہاتھ ابھی تک سرخ ہیں، ان پر چھالے سے پڑ گئے ہیں۔ دس میل نوکا جو مجھے چلانا پڑا۔ میں اسے یہ سب کچھ کیسے بتاؤں میرے تو چاروں طرف انسانوں کا ہجوم ہے۔ جی چاہتا ہے اسے دھکیل کر اس تک جا پہنچوں۔“ ”ارے دادو میں

Read more

شادی کا قانون بدل گیا، کیا ہماری سوچ بدلے گی؟

پاکستان نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے اور معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف ایک اہم جنگ جیتنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ ”بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل“ اب باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد کم عمری کی شادی جیسی جاہلانہ رسم کا خاتمہ ہے۔ یہ بل، جسے قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی اور سینٹ میں شیریں رحمن نے پیش کیا، شدت پسند مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کے

Read more

جاوید اقبال اعوان سے آخری ملاقات

لاہور جانا ہوتا ہے تو مادر علمی گورنمنٹ کالج، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ہے، میں حاضری دینا تقریباً لازمی فریضہ ہوتا ہے۔ بالعموم شعبہ اردو کے زیر اہتمام طلبہ سے ملاقات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چونکہ یہ ناصر کاظمی کی سو سالہ ولادت کا سال ہے لہذا تقریب، جس کی منتظم صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صائمہ ارم تھیں، ’ناصر کاظمی صدی سیمینار‘ کے زیر عنوان 17 اپریل کو ہوئی۔ تقریب سے

Read more

تھی خبر گرم کہ اُڑیں گے ہمارے پُرزے

ہم نے بچپن سے زندگی کچھ ایسی نٹ کھٹ سی گزاری تھی کہ نہ کبھی شادی کا خیال آیا اور نہ ہی بچے کا شوق پالا۔ بلکہ صاف پوچھیے تو ہمیں بچے بالکل اچھے نہیں لگتے تھے (یہ بات ہمارے بچے بھی جانتے ہیں ) ۔ جونہی کسی کا بچہ رونا دھونا شروع کرتا ہماری پیشانی پہ بل پڑ جاتے، گو مُوت کے آثار دیکھ کر ہم چھی چھی کرتے ہوئے ناک آنکھیں بند کر لیتے، ممکن ہوتا تو جائے

Read more

شادی یا کانٹوں کی سیج

تقریباً شام کا وقت تھا۔ عدالت کی دیواروں سے کہیں زیادہ سناٹا اُس لڑکی کے اندر تھا جو اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ خاموشی سے میرے آفس میں داخل ہوئی۔ چہرے پر بلا کا سکون، مگر آنکھوں میں وہ طوفان جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا بھروسا شادی کے نام پر توڑ دیا جائے۔ ”میرا نام رابعہ ہے وکیل صاحب۔ نکاح کے بعد سسرال کا رویہ بدل کیوں جاتا ہے“ ؟ میں نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔

Read more

سوتیلے باپوں کا بچوں پر تشدد

اکثر سوچتی ہوں کہ سوتیلی ماؤں کے ظلم و ستم کے بارے میں تو بے شمار کہانیاں اور قصے لکھے گئے لیکن سوتیلے باپوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انسانی حقوق اور عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے یقیناً سوتیلے باپوں کے بچوں پر تشدد کے واقعات کا علم رکھتے ہیں مگر انہیں قلم بند کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کچھ سال پہلے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ایک

Read more

رقص نامہ: پر ایک نظر

  اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری

Read more

قید زَر کی کہانی

سارے دن کے معمولات سے فارغ ہو کر دفتر میں چائے پی رہا تھا کہ کلرک نے آ کر کسی مہمان کی آمد کی اطلاع دی میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ نقاب اوڑھے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک نوعمر لڑکی میرے دفتر داخل ہوئی جس کے ساتھ دیگر دو افراد تھے۔ کبھی کبھی فضاؤں میں گھُلی خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے اور سسکیاں وقت کی گرد میں دب کر صداؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ

Read more

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون

شام ڈھلنے لگی تو اورینٹل کالج سے باہر نکل آیا۔ چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف مڑ گیا۔ کالج کی دیو مالائی عمارت داہنے ہاتھ پر تھی۔ رک کر اس مادر علمی کو آخری بار دیکھا۔ اس کا نقشہ اپنی روح میں جذب کر لینا چاہتا تھا۔ تنگ سڑکوں پر گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ پیدل چلنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ بچتا بچاتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے بہت پہلے اورینٹل

Read more

کینیڈا کی مالٹن ویمن کونسل اور مہاجر خواتین کے نفسیاتی مسائل

کینیڈا میں عورتوں کی کامیابی اور خوشحالی، آزادی و خودمختاری کو فروغ دینے والے ادارے مالٹن ویمن کونسل نے اپنے تئیس مئی دو ہزار پچیس کے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کروں کیونکہ میں نے پچھلے دو سال ان کے ادارے کی نفسیاتی مسائل کا شکار مہاجر خواتین کا علاج کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ میں اپنے اس کالم میں اپنی تقریر

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول (8)

وہ یہ سوچتا ہوا اندر آیا  اور لمبے کیل کے ساتھ لٹکتی بانس کے تنکوں کی چھاج اتار کر اپنے سر پر رکھی جب دادو کی آواز اس کے کانوں میں پڑی جو اس سے کہہ رہے تھے : ”تم کیا کہیں باہر جا  رہے ہو؟ پوکھر (تالاب) پر تمہاری دادی ماں پانی لینے گئی ہیں۔ تمہیں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کی جان اب بوڑھی  ہے۔“ تب باشا کی پچھلی سمت کیلوں کے جھنڈ کی طرف قدرے ڈھلانی

Read more

الفاظ کی بغاوت

حیران  ہو رہا تھا کہ میں کچھ لکھ کیوں نہیں پا رہا۔ تم جب لکھتے ہو تو الفاظ تمہارے سامنے صف بندی کیے کھڑے ہو جاتے  ہیں کہ ان کو دامن تحریر میں لایا جائے، بابا جی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ لیکن حیران کن تھا کہ آج ایسا نہیں ہے۔ باوجود کوشش کہ میں کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ کافی دیر ساکت بیٹھا رہا، قلم انگلیوں میں گھماتا رہا۔ لیکن کچھ بھی تحریر کی صورت میں سامنے کاغذ

Read more

نوزائیدہ بچّوں کے مسائل: دودھ اور غذائیں (حصّہ دوم)

پچھلے مضمون میں ہم نے ماں کے دودھ کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ آج ہم اوپر کے دودھ اور مزید غذاؤں کے بارے میں بات کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ نوزائیدہ بچّے کے لئے بہترین دودھ اور غذا ماں کا دودھ ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسی صورت حال بھی ہو سکتی ہے جب ماں کا دودھ میسّر نہ ہو یا کچھ نا قابل عمل

Read more

عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا

عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ وہ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک، زندگی کے ہر موڑ پر، ہر لمح، ہر موسم میں صرف ایک ہی تمنا کے ساتھ جیتی ہے کہ کاش کبھی اس کا بھی کوئی گھر ہو۔ لیکن بدقسمتی سے، اس کی یہ خواہش محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ بچپن میں جب وہ ابھی کھیلنے کودنے کی عمر میں ہوتی ہے تب ہی اس کے کانوں میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ

Read more

نیتوں کے رشتے اور خاموش دیواریں

ہمارے ہاں جب کوئی شادی یا غمی کا موقع ہوتا تو سب سے پہلے ابا جی کہتے کہ چاند خان کو اطلاع دو۔ چاند خان بھی ہمیشہ تقریب کا روح رواں بن جاتا تھا۔ بوڑھے چاند خان کے سفید بالوں کے باوجود ہمارا رشتہ بھائی کا بنتا تھا۔ اس لیے کہ بھائی چاند خان ابا جی کو چچا کہتے تھے۔ وہ گھر میں خواتین بچوں اور نوجوانوں میں سب سے زیادہ مقبول اور ہردل عزیز سمجھے جاتے تھے۔ جب بھی

Read more

دادیوں والا گاؤں

گھنٹی دوسری بار بجی تو ملازم دوڑ کر دروازے کی طرف لپکا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی نوجوان ایک نوعمر بچے کی انگلی تھامے کھڑا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹا چرمی بیگ اٹھایا ہوا تھا۔ ہاں جی! کیا کام ہے جی؟ کس سے ملنا ہے؟ یہ محمد رشید کا گھر ہے؟ اجنبی شخص نے سوال کیا۔ یہاں تو مجید دادا اور ان کے بیٹے بھائی یاسین رہتے ہیں۔ کم عمر ملازم نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔

Read more

سائیکل کا جنون

مجھے سائیکل کا جس قدر جنوں رہا ہے، کسی اور سواری کے لیے دل ایسے نہیں مچلا۔ بچپن کی یاد داشتوں میں ایک ٹرائی سائیکل ہے جو میری ملکیت تھی، مگر بائیسکل کی بات سوا تھی۔ تب شاید بچوں کی بائیسکل عام نہ ہوں گی، اس لیے کسی کے پاس چھوٹی بائیسکل دیکھی نہیں، مگر گھر گھر نہیں تو اڑوس پڑوس میں بڑوں کی بائیسکل تو عام سی بات تھی۔ سہراب کی سائیکل تب ایسی بیش اہمیت کی ہو گی،

Read more

بچپن کی جگہ ذمہ داریاں، کم عمری میں شادی کے خلاف بل پر مذہبی اعتراضات کیوں؟

شانزے جو ابھی کالج سے گھر آئی تھی، ماں کے کہنے پر ڈرائینگ روم میں آ گئی۔ سامنے بیٹھے انجان چہروں نے لڑکی پسند آنے کی نوید سنائی تو مارے خوشی کے ماں نے بیٹی کا ماتھا چوم لیا۔ شانزے کی عمر ابھی 17 برس ہے اور ابھی جو وہ راستے بھر مزے سے سونے اور شام کو دوستوں سے ملنے کے پلانز بناتی آ رہی تھی ان کی جگہ اب شادی شدہ زندگی کی بھاری بھرکم ذمہ داریوں نے

Read more

چراغ کا انصاف

سہ پہر کے ڈھلتے سائے میں لاہور کچہری کے ہال میں بیٹھا میں اپنے اگلے کیس کے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر ایک نحیف سا نوجوان دکھائی دیا۔ چہرے پر تفکر کی پرچھائیاں، آنکھوں میں امید کی آخری جھلک۔ سلام کے بعد دھیرے سے بولا ”سر آپ سے مشورہ چاہیے۔“ میں نے سر ہلایا، وہ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خستہ کاغذ کا لفافہ تھا جس میں والد کی وفات کا سرٹیفکیٹ،

Read more

تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔( 7)

پانی میں کوئی کوس بھر کا پینڈا مارنے کے بعد جب وہ احتشام چاچا کی باشا پر پہنچے وہاں مستفیض بھیا کے دوستوں اور ملاقاتیوں میں الیکشن اور مسلم لیگ کے ٹکٹ پر لڑنے والے سبھی امیدوار زیر بحث تھے۔ مستفیض کے وجود سے پھوٹتی محبت اور خلوص کی روشنی میں پور پور نہانے کے بعد سب لڑکے مؤدب ہو کر بیٹھ گئے۔ مستفیض کی سیاہ آنکھیں چمکیں جب اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ تم سب دن رات

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

ایک زمانہ گزر گیا مگر میری دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس ملائم ڈھلکتے کپڑے کا لمس ابھی تک زائل نہیں ہوا جس کا تانا ایک رنگ کے ریشم کا تھا اور بانا دوسرے رنگ کے دھاگے کا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو تانے بانے میں ایک تند کتھئی سی تھی اور دوسری بادامی۔ بچپن میں رنگوں کی اتنی پہچان تو نہ تھی، یہ تو اب پیچھے کہیں دور جیسے مجھے نظر آتے ہیں ویسے رنگوں کے

Read more

راجہ گدھ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ

بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اُردو کے ان چند ناولوں میں سے ایک ہے جن پر تنقید بھی کی گئی اور اس کے ساتھ اُسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن اسے محدود معنوں میں لیا گیا۔ کہیں اسے رزق حلال و حرام کی بحث قرار دیا گیا تو کہیں اسے ناکام محبت کی داستان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں موضوع اس میں موجود ہیں۔ لیکن اگر

Read more

گل شیر سنگھ کی دادی حسینو کو بچھڑے بھائیوں کا انتظار

کئی دنوں سے واٹس ایپ پہ لگاتار کال آ رہی تھی اور کتنی ہی دیر گھنٹی بجتی ہی رہتی تھی۔ جب سبز بٹن دبایا تو سرحد پار کہیں سے کسی گل شیر خان کی گھگھی سی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ انڈین پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں ’چبھڑاں والی‘ سے کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان پہ بیٹھا گل شیر کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔ انیس سو سنتالیس کی ہجرت کے وقت چبھڑاں والی کا ضلع

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

سموکنگ۔ راحتِ جاں یا عذابِ جاں

عالمی ادارۂ صحت ایک عرصے سے ٹوبیکو کنٹرول یعنی تمباکو پہ قابو پانے کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔ اس کارِ خیر میں اس کے شریکِ کار دنیا کے 194 ممالک بھی ہیں جن کا مالی تعاون اور مدد اسے حاصل ہے۔ اب کچھ عرصے سے بعض ادارے، تنظیمیں، اور افراد عالمی ادارۂ صحت سے بھی چار قدم آگے بڑھتے ہوئے ’اینڈ سموکنگ‘ یعنی سگریٹ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ سگریٹ

Read more

حق اور فرض میں فرق

انسانی معاشرہ حقوق اور فرائض کی بنیاد پر قائم ہے۔ معاشرے کے ہر فرد پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں جن کی ادائیگی اس پر لازم ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر فرد کچھ ایسی چیزوں کا مطالبہ کر سکتا ہے جن کے مانگنے کی اجازت اسے مذہب، اخلاقیات، قانون اور معاشرہ دیتا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس فرد کا حق کہلاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہر فرد حق اور فرض کی اصطلاحات استعمال کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ

Read more

خاموش الزام، بے آواز سچائی

میری عدالت میں پیشی تھی۔ موسم کی خنکی میں کچھ خاص شدت نہ تھی، مگر دلوں میں کچھ ایسا ضرور تھا جو سرد مہری کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ میں اس دن عدالت میں بچوں کے نان و نفقہ کا مقدمہ دیکھ رہا تھا۔ یہ غالباً سنہ 2020 اوائل میں پاکستان میں کورونا کے باعث لاک ڈاؤن سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں ان دنوں فیملی کیسز بہت ہی کم لیتا تھا مگر ایک وکیل دوست کے اصرار

Read more

امرتا پریتم اور دکھوں کے پنجر

  ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور ہجرت پر لکھی جانے والی بعض کہانیاں ایسی سوہان روح  ہیں کہ جنھیں پڑھ کر کوئی حساس انسان سکون کی نیند نہیں سو سکتا، درد و رقت کے یہ زخم خودبخود روح کی گہرائیوں میں اتر کر آپ کا قلبی و ذہنی سکون تہس نہس کر دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جب جب سرحدی اطراف میں پھیلی نفرت کی وجوہات کا تعین کرنا چاہیں گے ہمیں تب تب تاریخ کے اس

Read more

ابھرتا ہوا ستارہ

ہم نے آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا اور بہر طور چراغوں کی حفاظت کی ہے جب کبھی ظلم ہوا ہے کہیں انسانوں پر ہم نے ہر ظلم کی پرزور مذمت کی ہے آج کی تحریر اس ابھرتے ہوئے ستارے کے نام جس کا عقیدہ، مذہب، عشق اور جنوں صرف اور صرف انسانیت ہے۔ جس کا جذبہ اس کی شاعری اور لگن اس کا کام ہے۔ وہ کوئی بھی کام کرتا ہے پوری ایمانداری اور دل کی لگن کے ساتھ

Read more

کچھ لمحات عازمین حج کے ساتھ

حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے۔ یہ ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ یہ ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک روحانی سفر ہے جو ہماری روح کی پاکیزگی کا باعث بنتا ہے، تاہم یہ سفر جسمانی مشقت سے بھی پر ہوتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر اپنے بزرگوں کے منہ سے یہ سنتے ہیں کہ حج جوانی میں کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جوانی میں انسان کے جسم میں طاقت

Read more

نوزائیدہ بچّوں کے مسائل: دودھ اور غذا کا استعمال

دنیا کی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جسے پیدا ہوتے ہی خوراک کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔ پیدا ہوتے ہی ہر مخلوق کو اپنے لئے خوراک تلاش کرنی پڑتی ہے سوائے دودھ پلانے والے جانوروں کے۔ یہ قدرت کا ایک انتظام ہے کہ بچّے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کے لئے اس کی ماں کے پاس دودھ موجود ہوتا ہے جو اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس کے بچّے کو اپنی خوراک کے لئے کہیں جانے

Read more

جہیز کا سامان اور بکھرے خواب

گاؤں کے پرانے کچے راستوں سے اٹھ کر شہر کی عدالت میں پہنچی وہ لڑکی اپنے ساتھ ایک خاموش مقدمہ بھی لائی تھی۔ جی ہاں یہ ایک ”واپسی سامان جہیز“ کا کیس تھا۔ وہ سامان جو شادی کے دن اس کے باپ نے اس کے خوابوں، اس کی خواہشوں، اس کی ماں کی چپ اور اس کے بھائی کی مزدوری سے بھر کر دیا تھا۔ مگر مقدر ہاری وہ بیچاری شادی کے چند ماہ بعد ہی مطلقہ بن گئی تھی۔

Read more