راشد عباسی: پہاڑی زبان و ادب کی ترویج کے لئے سرگرداں شخصیت

فیس بک پر بہت سے قریبی لوگ اجنبی سے محسوس ہوتے اور کچھ لوگ، جن سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی پھر بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ چند سال قبل راشد عباسی صاحب سے فیس بک پر تعلق جڑا تو تھوڑے دنوں بعد ہی اجنبیت اپنائیت میں بدل گئی۔ فیس کے بعد واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو قربت مزید بڑھ گئی۔ راشد عباسی صاحب پہاڑی زبان اور اردو کے نامور لکھاری ہیں۔ وہ دونوں زبانوں میں

Read more

احمد ندیم قاسمی کی برسی کے حوالے سے مضمون

10 جولائی 2006 کو حضرت احمد ندیم قاسمی کا انتقال ہوا۔ ان کی برسی کی مناسبت سے کچھ یادیں پیش ہیں۔ مضمون میں جس دفتر کا ذکر ہے اس میں آج کل جناب عباس تابش جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ (ش، ن) ۔ ۔ ۔ کیا میں سورج پہ روشنی ڈالوں! تحریر : شہزاد نیر اردو کی دسویں جماعت کی کتاب میں ایک کہانی تھی ”گھر سے گھر تک“ ۔ سکول میں پڑھنے سے پہلے ہی گھر پہ پڑھ لی۔ پھر

Read more

فلسطین، مغربی حکومتیں اور عالمی رائے عامہ: ڈاکٹر خالد سہیل کی رائے

میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر صاحب میرے لیے سات اکتوبر سے جون دو ہزار چوبیس تک کا سفر بہت تکلیف دہ رہا کیونکہ جہاں فلسطینیوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا نہ صرف بہت بہادری سے سامنا کیا بلکہ انہوں نے ان مظالم کو ڈاکومنٹ کیا اور ساری دنیا نے پہلی دفعہ مقتول کی آنکھ سے قتل عام کی دہشت کو دیکھا۔ کچھ واقعات آپ کے اندر بہت دکھ اور خاموشی پیدا کرتے ہیں۔ آپ کا ہر

Read more

یہ سیر تن نحیف و نزار کی

سارتھی کہہ رہے تھے کہ نئی ٹریل دریافت کی ہے اور اس نئی ٹریل پر یارڑے کے خرام کی بات ہی اور ہو گی۔ رستے میں نصرت فتح علی خان کی قوالیاں سنتے رہے۔ آنکھ اٹھتی رہی اور محبت انگڑائیاں لیتی رہی۔ کوئی پینتالیس بار ایسا ہوا تو ہم اونگھنے لگے۔ اسی رنجیدہ سی غنودہ حالت میں وہاں پہنچے تو سارتھی ابھی سفر کر رہے تھے۔ اتنے عرصے میں گردوپیش کے جائزے کے بعد معلوم ہوا کہ وہی بلند ضلع

Read more

صدا کر چلے

”اوم بائی! چڑیا آئی ی ی! ” فجر کی نماز کے بعد جب مسجدوں سے تہلیل کی آوازیں آنا ختم ہو جاتیں اور گلیوں میں صبح کا ہلکا ہلکا اجالا پھیلنا شروع ہو جاتا تو ایسے میں کہیں سے ایک زور دار آواز گونجتی۔ ”اوم بائی! چڑیا آئی! ” یہ ایک خاصے عمر رسیدہ فقیر بابا تھے جو معلوم نہیں کیا کیا کہتے ہوئے گلی سے گزر جاتے تھے۔ سر پہ سفید لٹھے کی لکھنوئی ٹوپی پہنے ہوئے ہوتے۔ ان

Read more

ایک تھا ایمرسن کالج کا پروفیسر، شاہ جی۔

سگریٹ اور شاہ جی کا ”چولے“ دامن کا ساتھ ہے۔ ایک زمانہ تھا ہمارے یہاں دیہات میں عام رواج تھا کہ لڑکا سکول میں تب داخل کرایا جاتا جب وہ دو کپڑوں میں آ جاتا۔ اگر کبھی کوئی سنگدل باپ اصرار کرتا کہ بچہ بڑا ہو گیا ہے اسے سکول بھیجا جائے تو ماں اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگا لیتی اور کہتی ہائے میرے لعل پر یہ ظلم نہ کریں ابھی تو ایک ”چولے“ میں ہے۔ شاہ جی

Read more

نذر عابدؔ : ایک درویش شاعر

مرے وجود کے روزن سے روشنی پھوٹے میں وہ چراغ جلا کر مکان میں رکھوں (شہرِ صدا) سہ ماہی مجلہ ”دھنک رنگ“ جنوری تا مارچ 2024ء ڈاک کے ذریعے موصول ہوا تو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ادارے نے اس شمارے میں اُردو ادب کے ایک منجھے ہوئے ادیب، شاعر، نقاد اور استاد ڈاکٹر نذر عابد کے حوالے سے ایک خصوصی گوشہ شامل کیا ہے جس میں ملک بھر سے ان کے چاہنے والوں نے اُن کی

Read more

خود کلامی: اختر رضا سلیمی کا تخلیقی سفر

(بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کے بعد وادیِ تفہیم کی طرف ایک سفر) بلیک ہول میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ میں نے رات گئے پوری توجہ سے سنی۔ ڈاکٹر روش ندیم صاحب، محترمہ ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر قاسم یعقوب صاحب کی گفتگو سنی تو نیند اڑ گئی۔ وہ گوشے جو تاریکی میں تھے ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آتے چلے گئے۔ سونا سوگند ہوا تو خود کلامی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل

Read more

1948 ء میں لکھی گئی متنازع امریکی کہانی: ”دی لاٹری“

مصنفہ: شِرلی جیکسن 27 جون کی صبح، پورے موسم گرما کی دن کی تازہ حدت کے ساتھ، شفاف اور دھوپ زدہ تھی؛ پھول بہت زیادہ کھل رہے تھے اور گھاس بہت زیادہ سبز تھی۔ دس بجے کے قریب، گاؤں کے لوگ، ڈاک خانے اور بینک کے درمیان، چوراہے میں جمع ہونا شروع ہو گئے ؛ کچھ قصبوں میں اتنے زیادہ لوگ تھے کہ اسے مکمل ہونے میں دو دن لگے، جس کا آغاز 27 جون کو ہوا تھا، لیکن اس

Read more

(12) گرانڈ پیانو: صلیبیں اپنی اپنی

”تم بگل کی آواز کے ساتھ خداوند کی ستائش کرو۔ بربط اور ستار کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ دف کے ساتھ اور ناچتے ہوئے اُس کی ستائش کرو۔ تار دار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ بلند آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی ستائش کرو۔ اونچے آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔“ زبور 150 : 3۔ 6 پادری پال ان دنوں شیر خوار بچوں کی طرح قلقاریاں مار رہے

Read more

شعر کی جمالیاتی اپج

حسن عسکری نے اپنے مضمون ’کچھ فراق صاحب کے بارے میں‘ میں لکھا ہے ؛ ”شعر ایک جمالیاتی چیز سہی لیکن انسانی تجربے اور کائنات کی ماہیت کی تفتیش کا ذریعہ بھی ہے۔“ پیش منظر سے قطع نظر جزوی طور پر اردو شعر کی معنوی روایت میں ایسا بھاری بھر کم مقولہ شاید ہی کہیں زیرِ بحث لایا گیا ہو۔ خود حسن عسکری اسی کے آگے لکھتے ہیں ؛ ”یہ بات بلند بانگ معلوم ہوتی ہے، اسے بھی چھوڑیے۔“ جس

Read more

مجید امجد اور باطن کی مٹی

(اورینٹل کالج میں مجید امجد کی برسی پر پڑھی گئی ایک تحریر) صدر محترم، یہ کوئی علمی یا تدریسی مقالہ نہیں بلکہ میرے کچھ تاثرات ہیں جن کو میں اپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے محترم ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کی طرف سے جو موضوع دیا گیا ہے وہ ہے ’مجید امجد اور ثقافتی جڑیں‘۔ میں نے سوچا شاید اس کے لیے مجھے جڑانوالہ جانا پڑے گا لیکن پھر خیال آیا کہ ثقافتی جڑوں کا قصہ تو ڈیڑھ

Read more

کون صاحب؟

میں رات کے وقت ایک کزن کے ساتھ اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ان دنوں بہت زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی۔ گلی میں گھپ اندھیرا تھا۔ آس پاس کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ گلیاں ہماری دیکھی بھالی تھیں۔ سو ہم اندازے تخمینے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ میرے کزن کا ہیولا چل رہا تھا۔ دونوں طرف تاریکی میں ڈوبے مکانوں کے آثار تھے۔ ہمارے پیروں کو چھوتا گلی کا فرش ٹھیک سے دکھائی

Read more

کٹار

اور پھر یوں ہوا کہ گہرے کالے اندھکار کے بیچوں بیچ اجیارے کا ننھا سا بیج پھوٹا اور دھیرے دھیرے بڑا ہونے لگا۔ آگے کو بڑھنے لگا۔ اور پھر بڑھتے بڑھتے پورن ماشی کے چندرما جتنا بڑا اور گول ہو گیا۔ پھر جیسے اس چندرما کی جیوتی میں جان پڑ گئی۔ پہلے دو گول نین ابھرے۔ پھر ما تھا۔ پھر وہ تیکھی دھار جیسی ناک۔ اور پھر وہ دو رسیلے مدھ بھرے لب جو دھیرے دھیرے آگے بڑھے اور اس

Read more

سرمد نے دارا کو کونسی سلطنت بخشی؟

اُس دن شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ عام شہریوں میں یہ دہشت پھیلا دی گئی تھی کہ قانون کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔ ہندوستان کے دارالحکومت نے سیاہ ماتمی لباس پہن لیا تھا۔ جس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا اُس کا نام سرمد تھا۔ قتل کا یہ فتویٰ جمعرات کو دیا گیا اور اُس کے شارع عام کے لئے اگلا دن جمعہ کا روز مقرر کیا گیا تھا۔ یہ 1661.62ء کا خونی سال

Read more

سائنس کونسل ملتان سے آرٹس کونسل ملتان تک

کلمہ چوک ملتان، جو کبھی پل موج دریا کہلاتا تھا، فلائی اوورز کے اُس جال کے نیچے آ کر دب گیا ہے، جو پہلے فیصل مختار کی ضلعی نظامت اور پھر یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران تعمیر ہوئے۔ کلمہ چوک لاہور کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کچھ ہوا، لیکن بہرحال اس کی ذمہ داری فیصل مختار اور یوسف رضا گیلانی پر عائد نہیں کی جا سکتی، ہر شہر اپنے مسیحا اور آمر آپ پیدا کرتا

Read more

مائکرو فکشن (5 کہانیاں)

"دو ہزار بندے” استاد بندے علی خاں آنکھیں بند کیے سر سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ٹھمری کی تانیں سامعین پر سحر طاری کر رہی تھیں۔ واہ واہ، سبحان اللہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ سازندوں نے جیسے سازوں میں جادو بھر لیے تھے۔ وہ استاد کی طرف دیکھتے ہوئے انگلیوں کو سروں کی رفاقت میں جنبش دے رہے تھے۔ رات کے سناٹے میں سماں بندھا ہوا تھا کہ اچانک پچھلی قنات کھل کر سٹیج پر آ گری۔ اس

Read more

اپنی بہترویں سالگرہ پر اپنے دوستوں کے لیے ایک ادبی تحفہ

جب مجھ سے ایک روایتی اور مذہبی دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! کیسے مزاج ہیں؟ اور میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ زندگی ایک محبوبہ کی طرح مہربان ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی پراسرار تھی۔ عین ممکن ہے ان کی زندگی میں جو محبوبہ آئی ہو وہ مہربان نہ ہو۔ اس نے ایک مشرقی اور روایتی محبوبہ کی طرح اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے بہت ظلم ڈھائے ہوں۔ ان کی محبوبہ

Read more

جیب کترے: نیر اقبال علوی کی افسانہ نگاری

نیر اقبال علوی معاصر عہد میں ان افسانہ نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں جنھوں نے اُردو افسانے کے معیار اور وقار کو اعتبار بخشا ہے۔ اب تک ان کے سات افسانوں کے مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں ”عالمِ سوز و ساز“ ، ”جہانِ رنگ و بو“ ، ”سلسلۂ روز و شب“ ، ”ہنگامۂ رنگ و صوت“ ، ”پاگل خانہ“ ، ”باؤلے کتے“ اور ”می رقصم“ شامل ہیں۔ ان افسانوں کے توسل سے انھوں نے قارئین

Read more

ادبی و پیشہ ورانہ زندگی کا رشتہ

خالد سہیل کا خط ! محترمی و مکرمی و معظمی حامد یزدانی صاحب میں جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنی نوجوانی میں میں ایک شاعر اور فلاسفر بننا چاہتا تھا اور میری والدہ مجھے ایک ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں چنانچہ میں ایک ماہر نفسیات بن گیا جس میں ایک شاعر ’ڈاکٹر اور فلاسفر آپس میں بغل گیر ہو گئے۔ کینیڈا آنے سے پہلے مجھے وہ دن رات اب بھی یاد ہیں

Read more

چنگیز خان کا ڈنڈا

بننا تو میں ہیڈ بوائے چاہتا تھا لیکن میرا قد اِتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کبھی مانیٹر کے لیے بھی شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا۔ چھٹی جماعت تک یہی صورتِ حال رہی۔ آخر میری دعائیں، تعلیمی کارکردگی اور جوڑ توڑ کی صلاحیتیں رنگ لے آئیں اور ساتویں جماعت میں مجھے مانیٹر بنا دیا گیا۔ کلاس انچارج، سر افضل بودلہ سے ملا اور اپنی ذمہ داریوں کے متعلق استفسار کیا تو اُنہوں نے لکڑی کا ایک ڈنڈا بنا کر لانے کی

Read more

نوآبادیات سے نبرد آزما لواخ

اختر رضا سلیمی کا تیسرا ناول لواخ گزشتہ برس شائع ہوا۔ سلیمی کے پہلے ’ناول جاگے ہیں خواب میں‘ نے ادبی حلقوں میں بطور ناول نگاران کا ایک بھرپور تعارف کروا یا اور جندر نے اس پہچان پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ میں ان تینوں ناولوں کو ایک تسلسل میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی کسی معروف ناول نگار کا قول ہے کہ ناول نگار زندگی بھر ایک ہی ناول لکھتا ہے۔ میرا بھی خیال یہی ہے کہ کہانی ایک

Read more

خلیل جبران: محبّت کے افسانے

کچھ ادیب ایسے ہوتے ہیں جو نیند، غذا اور سانس کی طرح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے آپ کا بچپن، اوائل عمری اور جوانی گزرتی ہے۔ آپ ان کی لکھی ہوئی کتابیں بار بار پڑھتے ہیں۔ ان کے لفظوں سے آپ کی مڈبھیڑ قدم قدم پر ہوتی ہے۔ المختصر، ایسے ادیب آپ کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن جاتے ہیں۔ میری زندگی میں ایسے ہی ایک ادیب ”خلیل جبران“ ہیں۔ میں جب اپنی مختصر

Read more

تھامس مان کا افسانہ: الماری

وہ سرد اور دھند آلود شام تھی۔ جب برلن سے روم جانے والی تیز رفتار ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن کے قریب پہنچی۔ درجہ اول کے ایک ڈبے میں تنہا سفر کرنے والا مسافر البرخت وان ڈیر کوالن ایک کشادہ اور پھولدار جھالر لگی مخملی نشست پر بیدار ہو گیا۔ جوں ہی وہ جاگا۔ اس نے اپنے منہ میں کڑواہٹ محسوس کی اور جسم نے اس ناخوشگوار احساس کا تجربہ کیا جو اچانک لمبے سفر کے رک جانے پر ہوتا

Read more

میرا داغستان: یوسف ابراہیم، شاہجہان اور میں

عید کے تیسرے روز بدھ کے دن صبح سویرے میں نے قسمت آزمائی کے لیے یوسف ابراہیم صاحب، شاہجہان اور دیگر صاحبان کے لیے پیغام چھوڑا کہ یارو! ملاقات کی کوئی صورت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کے ہم سب پھر کھیتوں کھلیانوں کو سینچنے اور سنوارنے کے لیے لوٹ جائیں اور پھر کسی اور تہوار کا انتظار کریں۔ یوسف صاحب کا جواب آیا کہ کچھ پرانے دوستوں کے نرغے میں ہوں اور وہ مجھے گھیر کر گورونانک پورہ

Read more

"تضادات”: چند تاثرات

ملک کے بائیں بازو کے حلقوں میں رشید مصباح سے کون واقف نہیں۔ ان کا تعلق تو لائلپور سے تھا، اور انھوں نے انقلابی سیاست کا آغاز بھی لائلپور ہی سے کیا اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہات ہیں، وہ سیاست دان بھی تھے، افسانہ نگار بھی تھے، ترقی پسند تجزیہ نگار بھی تھے اور اس کے علاوہ مدرس اور منتظم بھی تھے۔ نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے لے کر پاکستان انقلابی پارٹی

Read more

کیا آپ بھی نثری شاعری کے خلاف ہیں؟

ایک شام ہمارے عزیز دوستوں ہما دلاور، زبیر خواجہ اور ایڈن نے ہمیں اپنے گھر ڈنر کی دعوت دی۔ اس دعوت میں انہوں نے فیمیلی آف دی ہارٹ کے جن دیگر ممبران کو بھی مدعو کیا ان میں امیر حسین جعفری، سیمیں جاوید، عظمیٰ بنت عزیز، زہرا نقوی اور عسکری نقوی بھی شامل تھے۔ لذیذ کھانوں کے بعد ادبی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو نثری شاعری پر آ کر رک گیا۔ ہما دلاور نے ہمیں بتایا کہ جب انہوں

Read more

فرانز کافکا اور اردو فکشن

3 جون 1924 ء کو جب فرانز کافکا، تپِ دق کی تاب نہ لاتے ہوئے، ویانا کے سینی ٹوریم میں، مادی عالم سے ماورائی عالم میں منتقل ہوا تو ادبی دنیا میں کوئی ہلچل محسوس نہ ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اس وقت جرمن زبان کا ایک غیر معروف فکشن نگار تھا۔ جس لمحے وہ فوت ہوا اس کی کئی تحریریں غیر مطبوعہ تھیں جن کے بارے میں اس نے سخت نصیحت کی تھی کہ ان کو جلا دیا جائے

Read more

ترکیہ اور پاکستان :ادبی اور ثقافتی رشتے

(یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ، پاکستان، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”اکیسویں صدی میں ادب، تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں ترکیہ پاکستان کے باہمی روابط“ میں بہ بطور مہمان خصوصی پیش کی جانے والی چند سطور) جب ترکیہ کو خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا تھا تب سے ہمیں یہ ملک اپنا اپنا لگتا ہے ؛ ہمیشہ سے دل کے قریب۔ جدید

Read more

بہت بولتی ہو رضیہ!

جس رضیہ کا ذکر ہے وہ امریکہ میں رہتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب تک غنڈوں میں نہیں پھنسی۔ وہ جن غنڈوں سے نمٹتی ہے ان میں سی پیک سے زیادہ گھاگ چینی، مغرور کورین اور امیر مینائی کی معشوق جیسے مہذب مگر سفاک جاپانی شامل ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ امیر مینائی نے تو ساری عمر دس ہزار فیٹ کے فاصلے سے بھی کسی جاپانی کو اور شدید پردے کی وجہ سے گھر کے باہر

Read more

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی دور کے اثرات

پاکستانی لٹریچر پر برطانوی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے، ہمیں تاریخی، ثقافتی، اور ادبی پس منظر کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ برطانوی راج کے دوران، تقریباً دو سو سال تک، برصغیر کے ادبی اور ثقافتی میدان پر گہرا اثر پڑا۔ اس اثر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے، ہمیں مختلف زاویوں سے اس کا جائزہ لینا ہو گا: برطانوی نوآبادیاتی دور ( 1858۔ 1947 ) نے ہندوستانی معاشرت، سیاست، اور ثقافت پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزی زبان نے

Read more

ایک کلرک کی موت: (اینٹون چیخوف کا افسانہ)

ترجمہ: مسعود صابر وہ ایک بڑی شاندار رات تھی جب شاندار کلرک آئیوان دمتریچ چرویا کوف، انفرادی نشستوں کی دوسری قطار میں بیٹھا ’لا کلوچز دی کورن ول‘ کا اوپرا گلاسز کی مدد سے لطف اٹھا رہا تھا۔ وہ سٹیج کو دیکھ رہا تھا اور خود کو فانی انسانوں میں مسرور ترین تصور کر رہا تھا جب اچانک۔ ’اچانک‘ ایک گھسی پٹی ترکیب ہے مگر مصنفین اسے کیسے استعمال نہ کریں جبکہ زندگی حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ اچانک

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (11)

”یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا، لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کیوں کہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب

Read more

کون سمجھے گا میرا درد یہاں

(گزشتہ دنوں لندن میں ایک مختصر اردو تمثیلچہ پیش کیا گیا جس میں مرکزی کردار ارم طور صاحبہ نے ادا کیا۔ اس کھیل کا سکرین پلے نیلم احمد بشیر نے لکھا۔) (سٹیج پر اندھیرا ہے۔ دھیرے دھیرے روشنی پڑتی ہے تو ایک لڑکی بُت بنی دکھائی دیتی ہے، اسکے چہرے پر ایک گھونگھٹ ہے۔ وہ رقص کے لباس میں ہے، بیک گراؤنڈ میں ایک گانا بجتا ہے، دو لائنز ہی بجائیں۔) گھونگھٹ کے پٹ کھول رے تجھے پیا ملیں گے

Read more

منیر نیازی سے ایک یاد گار ملاقات

حامد یزدانی کے ادبی محبت نامے کا جواب محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے میں اپنے والد یزدانی جالندھری صاحب کے بارے میں مختصر مگر جامع تعارف رقم کیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس سے ’ہم سب‘ کے قارئین کو ان کی تخلیقات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کی تحریک و ترغیب ہوگی۔ یہ بات آپ کی مجھ سے بے پناہ محبت کی عکاس ہے کہ آپ کو مجھ میں اور اپنے

Read more

میل پتھروں کے درمیان

محبی نیر مصطفیٰ کا واٹس ایپ پر صوتی پیغام ملا کہ آتی جمعرات کو ملتان آرٹس کونسل میں اس کے اعزاز میں ایک تقریب ہے آپ ضرور آئیے گا۔ ملتان آرٹس کونسل کا نام سنتے ہی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی اور وہ سینہ زور رقاصائیں یاد آ گئیں جن کے دم سے آرٹس کونسل آباد تھی۔ بچارے نثر نگار تو اردو اکادمی یا ملتان آرٹس فورم تک ہی پر مار سکتے تھے۔ پھر اچانک ذہن میں آیا کہ ادھر

Read more

ڈائینوسس

اپالو اور ڈائینوسس حسن کے دو متضاد کُرے ہیں۔ اپالو تفکر، تعقل، توازن اور ترتیب کا استعارہ ہے ؛ ڈائینوسس جوش، جرات، جذبے اور جنون کی علامت ہے۔ اپالو کا حسن دھیما اور باوقار ہے ؛ ڈائینوسس کا حسن وحشت اور دیوانگی سے لبریز ہے ؛ اپالو کی خوب صورتی آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں نور پیدا کرتی ہے ؛ ڈائینوسس کی خوب صورتی جلا کر راکھ کر دیتی ہے ؛ اپالو تخلیق کا دیوتا ہے، ڈائنوسس تخریب کی

Read more

مسجد کا پانچواں بینر

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یوں بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا ہو چکا تھا جو اتنا خوفناک تھا کہ میں لرز اٹھا۔ وہ پانچواں بینر تھا جس نے مجھے ہلا ڈالا اور کڑوی حقیقت کا روپ دھارے میرے سامنے دیوار پر چسپاں تھا، جس سے مجھے نہایت خوف آ رہا تھا کیونکہ اس کی کلر سکیم جتنی وحشتناک تھی الفاظ اس سے بھی زیادہ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پانچواں بینر کیا ہے؟ پوری بات سمجھنے کے

Read more

عورت یا جنسی مشین

رات کافی بیت چکی تھی۔ سڑکیں ویران اور گلیاں سنسان تھیں۔ پورا شہر خاموشی کی اندھی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ بس کہیں کہیں کسی کتے کے رونے کی لمبی آواز، خاموشی کے اس عفریت کا سینہ چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے میں ایک بڑی سی گاڑی آ کر اس عالی شان گھر کے گیٹ پر رکی۔ یہ گھر دور سے دیکھنے پر بھی اس پورے علاقے میں نمایاں نظر آتا تھا۔ اس گاڑی کی قیمت، کسی بڑے

Read more

ٹانگ کی بوٹی

”یہ مرغی صبح تک بچنے والی نہیں، مولوی صاحب سے چھری پھروا لو“ پڑوس والے قاضی صاحب نے بیمار مرغی کی حالت دیکھتے ہوئے کہا تو کُکو کو بیک وقت مرغی کی ممکنہ وفات پر افسوس اور گھر میں مرغی کا سالن پکنے کی امید پر ایک گونہ خوشی بھی محسوس ہوئی۔ لاہور کے مضافاتی علاقے میں رہن سہن شہری اور دیہاتی طرزِ معاشرت کا گنگا جمنی مزاج رکھتا تھا۔ لوئر مڈل کلاس کے گھر میں مرغی کا سالن پکنے

Read more

دُنیا داری سے دلداری تک: سفرنامہِ ٹورانٹو (2)

اتوار 9 جون 2024 ء کی شام کو تھارن کلف میں ہمارا استقبال طحہٰ مسعود لودھی نے کیا۔ تھارن کلف ٹورانٹو کے مضافات میں ایک ٹاؤن ہے جس کی آبادی کم و بیش 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہوگی۔ اس آبادی کا پچاس فی صد پاکستانی، بنگالی اور افغانی باشندوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ دیگر نصف سفید فام، سیاہ فام فلپائن اور کورین تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ وہاں جا کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جگہ پر پاکستانی،

Read more

طلعت حسین۔ ایک بے مثل اداکار و صدا کار اور باکمال افسانہ نگار

*ریڈیو، ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم کے بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز اداکار اور صدا کار اور افسانہ نگار جناب طلعت حسین صاحب جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ جناب طلعت حسین صاحب متعدد یادگار ملاقاتیں آج بھی حافظے میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے تین ملاقاتیں جناب طلعت حسین صاحب کے خوبصورت افسانوں سے متعلق ہیں۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے جناب طلعت حسین صاحب کے بہت قریب بیٹھ کر، ان سے افسانے سنے ہیں۔

Read more

غلام حسین ساجد کے مجموعے ”تجاوز“ میں آئینے کا شعری اظہار

اردو شاعری میں مختلف لفظوں کا استعاراتی، علامتی اور تلمیحاتی استعمال خیال کو وسعت عطا کرنے کا بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم سے قطع نظر شعری پیرائے میں لفظ خاص معنی کو اجاگر کرتا ہے تو خیال میں ندرت، وسعت، رعنائی اور رفعت پیدا ہوتی ہے۔ شاعری میں کثیر الفاظ اپنے لغوی معنی کے بجائے خاص معنوں میں جلوہ گر ہیں۔ آئینہ حیرت انگیز طور پر اردو کے تمام شعراء کا مشترکہ پسندیدہ لفظ قرار دیا جاسکتا

Read more

ایاز میلو: وزیر اعلیٰ سندھ کے نام کھلا خط

جناب وزیراعلیٰ صاحب امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے صوبہ سندھ کے منتظم اعلی سے بذریعہ سوشل میڈیا مخاطب ہونے کے اس طریقہ کو سخت ناپسند کرتے ہوئے بھی بالآخر آپ سے مخاطب ہونے کا یہی واحد میسر وسیلہ استعمال کرنے پہ معافی چاہتی ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جمہوری دور میں جمہوری وزیراعلی تک رسائی کے تمام راستے کم از کم میرے جیسی شہری کے لیے ناممکنات میں سے ہیں۔ عوامی طاقت پہ یقین رکھنے والے

Read more

قلمکار صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں

بعض قلمکار اپنی تحریر سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنی انہیں اپنے بچے سے انسیت ہوتی ہے۔ اپنی تحریر سے لگاؤ رکھنا برا نہیں۔ اسی لگاؤ کا نتیجہ ہے کہ بعض اپنی تحریروں کو نکھارتے اور سنوارتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اگر کوئی مشورہ دے یا کمیوں اور خامیوں کی طرف توجہ دلائے تو خندہ پیشانی سے اس مشورے کو قبول کرتے ہیں اور وہ کمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو

Read more

دیواروں پہ لٹکی تصویریں

میں نے جب پہلی دفعہ کینیڈا میں اپنے سائیکو تھراپی کلینک کی دیواروں پر قدرتی مناظر، جانوروں اور پرندوں کی تصویریں لٹکائی تھیں تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کا کوئی تعلق نفسیاتی علاج سے بھی ہو سکتا ہے لیکن میری مریضہ نیٹیلی نے مجھے ان کے بارے میں نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ویسے تو مجھے بچپن سے تصویریں اتارنے کا شوق تھا لیکن اس شوق میں اضافہ اس وقت

Read more

اپنی ذات کے اہرام میں چھپے خزانے کی تلاش

ایک لکھاری کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے، اپنے وجود کا مقصد تلاش کرنے اور اپنے دل کی آواز کو قارئین تک پہنچنے کے قابل ہونے کے لئے کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، اور کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ شاید آپ کو اس کا اندازہ اس فلم Paulo Coelho’s Best Story (2014) سے کسی حد تک ہو سکے۔ یہ فلم اس صدی کے سب سے مقبول اور پڑھے جانے والے ناول الکیمسٹ کے خالق پاؤ لو کوئیلو کی

Read more

کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں (۱)

پاکستان میں مقیم ان لوگوں کے نام جو بظاہر بڑی چھوٹی اور معصوم سی فرمائش سعودیہ جانے یا وہاں رہنے والوں سے کرتے ہیں، مگر! یہ تحریر 1998 سے 2002 کے تجربات کا نتیجہ تھی اور 2002 میں لکھی گئی کتاب کیف الحال کا حصہ ہے۔ بائیس سال بعد سعودیہ میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور ضیوف الرحمن یعنی رحمان کے مہمانوں کے لئے بے انتہا سہولیات اور آسانیاں موجود ہیں۔ مگر ہم برصغیر کے لوگ، ہماری کیا

Read more

یزدانی جالندھری: بحیثیت والد، بطور تخلیق کار

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب (ممنون ہوں کہ آپ نے پروفیسر محمد حسن صاحب سے متعلق اپنے مکتوب کے آخر میں مجھ سے ”ہم سب“ کے قارئین کے لیے اپنے والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری (جنھیں ہم پاپا جی کہتے تھے کے بارے میں کچھ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ آپ کی یہ فرمائش کیسی بروقت و برمحل ہے کہ اسی ماہ یعنی جون ہی میں دنیا بھر میں ”فادرز ڈے“ بھی منایا جاتا ہے۔ یزدانی جالندھری صاحب میرے والد

Read more

میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

میری اس سے پہلی ملاقات اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہوئی تھی۔ متواتر تین دن تک اس کا وہ کسا ہوا بدن، لمبوترا جسم اور نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی والا خوبصورت مشرقی چہرہ میری توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا۔ مجھے نہیں پتہ کب مگر وہ یونہی اچانک کہیں سے نمودار ہو کر میری نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ گھنٹوں سمندر کے سنگی پشتے پر کھڑا بندر گاہ کے گدلے پانیوں کو گھورتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بادام

Read more

مجید امجد کا تخلیقی جوہر

جس طرح کسی شاگرد کو اچھا استاد مل جائے تو اس کی زندگی سنور جاتی ہے اسی کے مصداق اگر کسی اعلیٰ تخلیق کار کو کوئی سمجھدار نقاد مل جائے تو اس کی آخرت سنور جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مجید امجد کو اگر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نہ ملتے تو شاید وہ یا تو گم نام رہ جاتے یا جلدی نہ پہچانے جاتے۔ اگرچہ اس میں بہت حد تک صداقت ہے کہ چشم عصر نے دیکھا ہے کہ

Read more

حیات روغانی کے پشتو ناول ’نیم زاد‘کا اردو ترجمہ

نیم زاد پشتو ناول نینزک کا اردو ترجمہ ہے جو پشتو میں حیات روغانی کا لکھا ہوا ہے اور اردو میں پروفیسر گوہر نوید نے ترجمہ کیا ہے۔ پروفیسر گوہر نوید نے اس ناول کو بہت احسن طریقے سے ترجمہ کیا ہے۔ اور پشتو کے بنیادی ناول کی بنیادی تھیم کو بھر پور طریقے سے اردو کے سانچے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ناول بنیادی طور پر نیم زاد یعنی ہیجڑوں کی زندگی پر لکھا گیا ہے۔ ایک نیم زاد

Read more

جمیل نقش کی یاد میں

یہ ایک مختصر سا تاثراتی مضمون ہے۔ کل دو ملاقاتوں پر محیط۔ ان دونوں ملاقات کا کل ملا کر دورانیہ تین گھنٹے سے شاید ہی کچھ زیادہ ہو۔ ہمارے ایک ماتحت ان دنوں بلدیہ جنوبی میں ڈائریکٹر پارکس ہوتے تھے۔ نستعلیق، خوش مزاج اور بڑے ہی باذوق، سندھ کے ایک بڑے شاعر کے داماد مگر بیگم سے نالاں۔ مصور جمیل نقش کے کوئی عزیز ان کے ماتحت ہوتے تھے۔ یوں ان کے جمیل نقش صاحب سے روابط ہو گئے۔ دنیا

Read more

شاہد حنائی: خواب سا، فسانے سا…

شاہد حنائی صاحب نے آج تک کبھی فیس بک پر اپنی کوئی ایک تصویر بھی پوسٹ نہیں کی! اس لیے مجھے ان کے ساتھ اپنی تصویر فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت مانگی پڑی اور انہوں نے مروّت و محبت کی وجہ سے مجھے اجازت دے دی۔ شاہد حنائی صاحب اردو کے نامور لکھاری ہیں اور تواتر سے سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شہرت سے دور بھاگتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے

Read more

جون ایلیا کے شعری عجائبات

عجیب شاعر ہے ایک سرا پکڑتا ہوں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ شاعری اور شخصیت میں یکساں عجائبات حیرت و انبساط کا سبب بنتے ہیں۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود طبیعت و مزاج میں حد درجہ لا ابالی پن عجیب دکھائی دیتا ہے۔ شاعری سے لگاؤ گھریلو ماحول کا نتیجہ تھا۔ پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا، ملاحظہ کیجیے۔ چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

Read more

دُنیا داری سے دلداری کا سفر- سفرنامہِ ٹورانٹو ( 1 )

کینیڈا میں رہتے ہوئے مجھے اب ایک سال ہونے کو ہے۔ میں صوبہ ’البرٹا‘ کے شہر کیلگری میں رہتا ہوں۔ ایک مترجم، کتاب دوست اور لکھاری ہونے کے ناتے تخلیقی اور ہم خیال شخصیات کے ساتھ میری نسبت و قربت رہتی ہے۔ کیلگری میں ادبی تنظیمیں تو موجود ہیں مگر ابھی تک ان میں شمولیت نہیں ہو سکی۔ البتہ چار گھنٹے کے ہوائی فاصلے پر موجود ٹورانٹو کی ادبی تنظیم : ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے ساتھ منسلک ضرور ہوں۔

Read more

فہمیدہ ریاض: ایک بہادر اور نڈر ادیبہ

کوئی صورت کوئی تدبیر نکالی جائے آبرو عشق و محبت کی بچا لی جائے مشورہ میرا بس اتنا ہے نئی نسلوں کو اپنے اجداد کی پگڑی نہ اچھالی جائے (بے باک امروہوی) جب بڑے مر جاتے ہیں تو چھوٹے بڑے ہو جانے کی اداکاری کرنے لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ بڑے مر کر بھی بڑے رہتے ہیں خاص طور پر وہ بڑے جو ٹرینڈ میکر ہوتے ہیں، جو دنیا میں کچھ الگ یا منفرد کردار نبھا کے دنیا سے رخصت

Read more

خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟

ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کر کے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام آدمیت اور اقبال سے الفت محمد سیکھی۔ میرا جی کو جنگلوں میں میرا کی تلاش میں سرگرداں پایا، راشد کو انتقام میں جمالیات کا حظ اٹھاتے دیکھا، مجید امجد کو وقت کے بھید میں مقید پایا، منیر نیازی کو

Read more

سورج کے ساتھ ساتھ

ہم شاہ رخ خان کے عہد میں پیدا ہوئے۔ ہم نے ”ڈر“ ، ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ ، ”کبھی خوشی کبھی غم“ ، ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ ، ”دل تو پاگل ہے“ اور ”محبتیں“ جیسی رومان انگیز فلمیں دیکھیں اور اپنے آپ کو ایک چھوٹا موٹا راہول یا راج آریان سمجھنے لگے۔ ہم نے شدید خوابوں، خیالوں جیسا لڑکپن گزارا۔ ہماری زندگی کا واحد مطمعِ نظر کسی سمرن یا پوجا کی تلاش تھا، اور مزے کی بات یہ

Read more

ستاروں سے پیچھے جہاں اور ہیں

ابنِ انشا نے سجنی سے بہانہ تو یہ کیا تھا کہ چین سے ایک مشہور ادیب آیا ہے، ذات کا مزاح نگار ہے، میرے سفرنامے کے جواب میں پاکستان کا سفرنامہ لکھنا چاہتا ہے، شام کو سفارت خانے نے اس کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے جہاں اس چینی ادیب سے میری ملاقات ہو گی اور میں اسے انشا پردازی کے کچھ گُر سکھاؤں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انشا جی، ایک سبزہ زار میں دوستوں

Read more

”صد رنگ“ میں ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو (2)

آداب! آج ہماری ممتاز دانشور، شاعر، افسانہ نگار، ماہر نفسیات، سائنس دان، کالم نگار اور ادبی نقاد محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے دوسری نشست ہے۔ ڈاکٹر صاحب گزشتہ نشست میں جہاں پہ ہم نے گفتگو ختم کی تھی وہیں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ نے نفسیاتی علاج کا جو طریقہ کار دریافت کیا ہے آپ اسے ‘گرین زون’ فلاسفی کہتے ہیں اور فرد کی جو بھی مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں ان کو آپ نے سبز، پیلے اور سرخ رنگوں

Read more

امریکی اور پاکستانی شاعرات کے تخلیقی سفر کا مَوازنہ

شاعری ہمیشہ سے ہمارے ذاتی تجربات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا مرکز ہے اور اس قابل ہے کہ اسے سب سے زیادہ طاقتور اور انسان کو بدل دینے والا فن سمجھا جائے۔ جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو لکھنے کا عمل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے سوچ کو تحریک ملتی ہے، جہاں لاشعور شعور میں جنم لیتا ہے اس لیے شاعروں اور ادیبوں کا ایک خاص کردار ہے جو اپنے معاشرے کے لحاظ

Read more

شاہزادہ سخن امیر حسن جعفری کا جشنِ صحت

خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار اردو شعر و ادب کی تاریخ، یوں تو، ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج مجھے سن اٹھارہ سو چوّن کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب بہادر شاہ ظفر ابھی شہنشاہِ ہند نہ بنے تھے بلکہ ولیِ عہد یا شہزادے تھے اور اچانک بیمار پڑ گئے تھے۔ شہزادے کو صحت ہوئی تو والد گرامی یعنی بادشاہ سلامت نے ان کے لیے سرکاری طور پر جشنِ صحت منانے کا اعلان کیا۔

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ (3)

ایک اور بے حد نازک معاملہ جس کا ڈائریکٹ تعلق تو اب ذہنی صحت سے نہیں رہا کیونکہ اسی کی دہائی کے بعد اسے بیماریوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا وہ ہے جنسی میلان کا۔ چالیس کی دہائی میں اس کو زیر بحث لانے پر عصمت چغتائی کے قلم کو تو لوگ داد دیتے ہیں مگر سینکڑوں سال پہلے اردو شاعری اور دیگر فنون لطیفہ میں اس کے اظہار کو بھول جاتے ہیں۔ مغرب والوں نے تو

Read more

ابا پیارے۔ باپ کی سوانح عمری بیٹیوں کی زبانی

عشق کے لاتعداد درجے ہیں۔ بعض لوگوں کے عادات و اطوار، گفتار و کردار، تحریروں سے، ان کی محنت سے، ان کے کام کرنے کے جذبے اور لگن سے عشق ہوجاتا ہے۔ ایسا غائبانہ اور مقدس عشق مجھے ”شمع اختر انصاری“ کی تحریروں سے ہے۔ ان سے تعارف کا سبب فیس بک بنا۔ فیس بک کے ذریعے جس نے ان کی ایک بھی تحریر پڑھ لی وہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے ان کی مزید تحریریں تواتر سے

Read more

رشتے بوجھ نہیں ہوتے!

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور دن بدن اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر بے شمار ایسی تصاویر آئیں اور آ رہی ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا اور یہ تصاویر اپنے اندر ایک پوری کہانی سمائے ُہوتی ہیں اور لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو بے حد متاثر کرتی ہیں۔ ایک تصویر جس کا عنوان ”گدھ اور ننھی بچی“ تھا اس نے پوری دنیا کو

Read more

سیان فہمیاں میری نظر میں

یوں تو ہمارے ارد گرد زندگی سے جڑے مسائل، غم اور خوشی کے بہت سے موضوعات اور معاملات بکھرے پڑے ہیں اور دعوت فکر و نظر دیتے ہیں تاہم ان موضوعات کو دیکھنے اور شدت سے محسوس کرنے کے لئے اس آنکھ اور اس حساس طبیعت کی ضرورت ہے جو ان موضوعات اور ان کے کرداروں کو نہ صرف دیکھے محسوس کرے بلکہ ان پر اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار کے لئے باقاعدہ قلم اور کاغذ کا سہارا لیتے

Read more

لاہور کہاں ہے؟

سوچتا ہوں کہ پانچ برس تو ہو ہی گئے ہوں گے میرے شہر لاہور کو یونیسکو کی جانب سے ”شہرِ ادب“ کا اعزاز پائے ہوئے۔ مجھے یاد ہے اس اعزاز کے اعلان سے اگلے روز ہی لاہور سے تخلیق کار دوست راجا نیر کا پیغام موصول ہوا تھا کہ ایک مقامی اخبار کے لیے انھیں میرے تاثرات درکار ہیں۔ میں نے قلم برداشتہ چند سطور رقم کیں اور انھیں بھیج دیں۔ وہ سطور کچھ یوں تھیں : لاہور کی حسین فضاؤں

Read more

نظر آئے اک شکل مہتاب میں : میر کا خلل دماغ۔ 2

اب آتے ہیں انزائٹی پر۔ بے چینی کہیں تو بیماری کا گماں گزرے۔ اضطراب کہیں تو تخلیقی عمل سے نسبت محسوس ہو۔ جینیاتی عوامل کے بعد بے چینی کے محرکات میں بچپن کی اٹیچمنٹس اور کچھ چیزوں سے خوف کا منسلک ہونا ہے۔ پھر یہ بے چینی دوروں کی صورت میں کبھی کبھار کسی خاص چیز کا سامنا کر کے آئے یا بغیر کسی وجہ کے آئے یا ہر وقت ہی اضطراب کا عالم طاری رہے۔ اس حالت میں دل

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ

ذہنی و نفسیاتی صحت، مکمل صحت کا اہم اور بڑا جزو ہونے کے باوجود سٹگما کا شکار ہے۔ وجہ، گرتی ہوئی نفسیاتی صحت کا غماز، انسانی رویے اور برتاؤ میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ہے۔ سائیکارٹری کے شروع سے اینٹی۔ سائیکارٹری مہم کا سایہ بن کر ساتھ چلنا ایک دلچسپ بات ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ سائیکارٹری ایک چھتری ہے، تمام ایسے انسانی رویوں کے لئے جو معمول سے ہٹ کے ہیں۔ انسانی رویوں کے کچھ ماہرین کا

Read more

امیر حسین جعفری: انسان دوست شاعر اور ہر دلعزیز دوست

ایک ایسی جگہ پر جہاں خالد سہیل اور امیر جعفری دونوں موجود ہوں اور ایک میزبان محفل ہو اور دوسرا مضمونِ محفل تو میرے لیے بہت مشکل ہے کہ میں کس پر پہلے بات کروں یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ہی میرے محترم عزیز دوست ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں یہاں ہر کھڑے ہو کر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں تو یہ بہت رسمی سا جملہ ہے حقیقت یہ ہے

Read more

کیمرے کی آنکھ

”کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے“ یہ جملہ اب اکثر مقامات پر لکھا نظر آتا ہے۔ جو کسی بھی انسان کو خبردار کر رہا ہوتا ہے کہ آپ کی حرکات و سکنات کوئی اور بھی دیکھ رہا ہے۔ میری پوری زندگی بینک ملازمت میں گزری ہم بہت کوشش کرتے تھے لیکن ہمارے سٹاف اور خصوصاً کیشیر کی شکایات بہت ہوتی تھیں لیکن جب سے یہ کیمرے کی سہولت آئی ہے یہ شکایت ختم ہو چکی ہے کیونکہ کیمرے

Read more

کچھ محبت کچھ بے بسی

انور سن رائے اور عذرا عباس دونوں پاس پاس بیٹھے ہوں تو ان کی میٹھی میٹھی نوک جھوک مزا دیتی ہے اور وہ بے پناہ محبت بھی جو ان کے تیکھے جملوں کے اندر سے ابلتی مچلتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ دونوں تخلیق کار ہیں اور اپنے اپنے الگ تخلیقی وجود میں مست اور رُجھے ہوئے۔ ہم لکھنے والوں کو بھی ان دونوں کی پر خلوص محبت حاصل ہے۔ جب جب کراچی جانا ہوتا ہے اس تخلیق کار جوڑے

Read more

کیا سب عورتیں ماں بننا چاہتی ہیں؟

مدرز ڈے کی آمد ہے اور آپ جس مارکیٹ، دکان کا رخ کریں وہاں آپ کو رنگے برنگے تحفے اپنی طرف متوجہ کرتے ملیں گے جس سے آپ اپنی ماں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ آپ کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ آن لائن شاپنگ اور ان کے اشتہار ہمہ وقت ہر سائٹ کھولتے ہی آپ کے انتظار میں لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں جو آپ جو بتاتے ہیں کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں آپ

Read more

سودائے جنوں

سودائے جنوں حنا خراسانی کی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے ان کہانیوں کو جاسوسی کہانیوں کے زمرے میں لکھا ہے۔ سودائے جنوں میں کل سات افسانے ہیں۔ ابتدا کے دو افسانے کافی طویل ہیں۔ جبکہ بقیہ نارمل افسانے بلکہ ایک آدھ بہت مختصر افسانہ بھی ہے۔ در اصل یہ افسانے تفتیش پر مبنی افسانے ہیں۔ اس کتاب میں موجود ہر افسانہ ایک کیس سٹڈی ہے۔ ان افسانوں میں ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ کی طرح، رپٹ نمبر، وقت اندراج رپورٹ، وقت

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ آج ریکسڈیل کمیونٹی سنٹر کا ہال بھرا ہوا تھا اور امیر حسین جعفری کے دوست اپنی تمام تر دلچسپیوں اور مصروفیتوں کو

Read more

کافرستان کی پریاں اور ان کا رقص

صد شکر کہ یہاں پروانہ راہداری پاکستانیوں کے لیے بیس اور غیر ملکیوں کے لئے پچاس روپے تھا۔ چلو کہیں تو فارنرز کے مقابلے میں ان بے چاروں کو بھی عزت و تحریم ملی۔ چیک پوسٹ کا انچارج بڑا خوش و خرم اور چہچہانے والا مرد تھا۔ اس کی چترالی ٹوپی پر لہراتے مرغ زریں کے پر سیاہ لباس گوری رنگت اور ہنستا مسکراتا چہرہ بے رونق پہاڑوں سے گھری اُس اُداس سی شام میں تھوڑی سی رنگینی اور زندگی پیدا کرنے کا موجب تھا۔ انگریزی میں سڑک کے ایک طرف نصب بورڈ پر سیاحوں کے لیے ہدایت نامہ درج تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔

جب راستے کی تنگی کشادگی میں بدلنے لگی جب ہرے بھرے کھیتوں درختوں اور شام کی سرد ہواؤں نے استقبال کیا۔ تب اُس لڑکے کی دندل ٹوٹی۔ پتہ نہیں کیسے وہ بولا اور خوب بولا۔ ”بمبوریت تقریباً بارہ گاؤں پر مشتمل کالاش کی سب سے بڑی وادی ہے۔ چترال سے اس کا فاصلہ کوئی 38 کلو میٹر ہے۔ پہلوواندہ، کندیسار، احمد آباد میں مسلمانوں کی اکثریت جبکہ کراکال، انثیر برون اور بتریک میں کالاشیوں کی کثرت اور شیخاندہ میں مکمل مسلم آبادی ہے۔ “

Read more

مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں

خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف

Read more

کہانی ایک نظم کی

ٹی ایس ایلیٹ کے اُس لخت لخت مسودے کہ کہانی کسی ناول سے کم دلچسپ نہیں ہے جو 1915 ء سے بھی پہلے سے ٹکڑوں میں لکھا جا رہا تھا اور کہیں 1922 ء میں ایک شاندار ماڈرنسٹ نظم ”دا ویسٹ لینڈ“ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ ”دا ویسٹ لینڈ“ کی اشاعت کو ایک صدی سے بھی زیادہ کا دورانیہ بیت چلا ہے مگر اس کے بھید اب بھی توجہ کھینچتے ہیں بہ طور خاص جس طرح ایذرا پاؤنڈ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 10 : سسٹر میری

”اور وہاں کے بِیماروں کو اچھا کرو اور ان سے کہو کہ خُدا کی بادشاہی تُمہارے نزدِیک آ پہنچی ہے۔“ لُوقا 10 :‏ 9 پادری پال سے ملاقات ہوئے بغیر ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا تھا۔ اس دوران پڑھائی کی مصروفیت خاصی تھی کیوں کہ امتحانات نزدیک تھے۔ تُوما رسول پر اُن کی دی ہوئی کتاب بھی واپس کرنی تھی۔ اسی لیے میں نے اپنی میز پر کتابوں کے اوپر ہی رکھ دی تھی۔ دل چسپ کتاب تھی۔ میں

Read more

کچھ باتیں ڈاکٹر وزیر آغا  کی (1)

1988 میں، مَیں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کی جلد بندی کروائی تو جلد کے اندر کی جانب جو اخباری کاغذ لگائے گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ پر ایک پرکشش اور بارعب تصویر چَھپی ہوئی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا، "وزیر آغا، ایک ہمہ جہت ادیب”۔ جانے کیوں وہ تصویر میرے دل پر نقش ہو گئی۔ کوئی دو برس بعد اتفاقاً اردو بازار گوجرانوالہ سے مشفق خواجہ کے رسالے "تخلیقی ادب”

Read more

کوہ قاف کی پریوں سے ملاقات کے لیے روانگی

جیپوں میں سامان کی لد لدائی اور ٹھونسا ٹھونسی بے سلیقگی اور بے ہنگم پن کو نمایاں کرتی تھی۔ پر جونہی ان پر کاجل سے بھری آنکھیں مٹکاتے اور ادائیں دکھاتے دو وجود بیٹھے سب کچھ جیسے پس منظر میں چلا گیا تھا۔

گاڑیاں پشاور روڈ پر تیزی سے آگے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ تقریباً کوئی پون گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد سب سے اگلی گاڑی مین روڈ چھوڑ کر ڈھلانی راستے سے نیچے اُترنے لگی۔ ”آیون آ گیا ہے۔“ ڈرائیور نے کہا میں نے داہنی طرف دیکھا تھا اور ڈرائیور کو گاڑی روک دینے کے لیے کہا۔ نیچے اُتر کر سامنے دیکھا۔ سورج کی سنہری چمکیلی چھتنار کے نیچے بلندوبالا سنگلاخ خاکستری پہاڑوں کے دامن میں گہرے سنہرے میں لپٹی وادی نظروں کو حُسن کے نشیلے جام پلانے لگی تھی۔ دریائے چترال اس وقت چاندی کی کسی موٹی لکیر کی مانند آیون کے گرد نیم دائرہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چوکور اور تکونے کھیتوں کے ٹکڑے یوں جان پڑتے تھے جیسے وسیع و عریض قطعہ پر جا بجا سبز قالین بچھے ہوں۔ بلندی سے نشیب کے اس منظر کی دید اسے کچھ زیادہ ہی قاتل بنا رہی تھی۔

Read more

میرا جی کی شاعری میں مصطلحات موسیقی

پچیس اکتوبر انیس سو بارہ میں گوجرانوالہ کے ڈار خاندان کے سربراہ محمد مہتاب الدین کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی جس کا نام انہوں نے محمد ثناءاللہ ڈار رکھا۔ محمد مہتاب الدین کو اس بات کا ذرا علم نہ تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا معرا نظموں کا مستند حوالہ بنے گا، لیکن مشہور میرا جی کے نام سے ہو گا۔ میرا جی بحیثیت ایک تخلص کے سوا کچھ نہیں، مگر اس تخلص کے پیچھے کی کہانی

Read more

عرب ملوکیت اور فلسطینی بچے کا وصیت نامہ

کسی زمانے میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان او آئی سی کے پلیٹ فارم پر سنائی دیا تھا۔ آہستہ آہستہ مسلم ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف رغبت پیدا ہو رہی تھی۔ ستتّر سالوں میں تھوڑی بہت رغبت پیدا نہ ہونا قدامت پسندی کے رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو قدامت پسند کہلوانا پسند نہیں کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے لیکن موجودہ حماس اور اسرائیل

Read more

حیرت اور دریافت کا کھیل (وجیہہ وارثی کا شعری مجموعہ )

کسی بھی کھیل کا کھلاڑی جب بھی کھیل کھیلتا ہے تو وہ اس کھیل کے تمام تر داؤ پیچ یا تیکنیک نہ صرف جانتا ہے بلکہ بروئے کار بھی لاتا ہے اسی طرح جب کوئی اداکار، صداکار یا گلوکار جب اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنی چھپی ہوئی تمام صلاحیتوں کو آزماتا ہے۔ اور جب ایک تخلیق کار اداکار اور صداکار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہو تو وہ پھر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لمحات

Read more

ترقی پسند نقاد پروفیسر محمد حسن کے حوالے سے مکالمہ

حامد یزدانی کا خط ۔ ۔ ! محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب میں زندگی میں اتفاقات پر بھی یقین رکھتا ہوں مگر ان سے کہِیں زیادہ حادثات پر ۔ کیوں کہ حادثات، میرے خیال میں، اتفاقات سے زیادہ پیش آتے ہیں انسان کو ۔ یا شاید یاد زیادہ یہی رہ جاتے ہیں۔ نہیں کیا؟ بہرحال، سرِ دست کسی حادثے پر بات کرنا مقصود نہیں۔ ایک اتفاق بلکہ حسیں اتفاق آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے میں

Read more

یہ تقریب نہیں ہو سکتی

عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔

Read more

مشی خان کی چترال بازار میں مست خرامیاں

کہاں اور کیوں پینی باجی۔ ”آپ کی جیب میں پرنس محی الدین کاجو کارڈ ہے یہ کب کام آئے گا؟ میں قلعے کے اندر محل میں جانا چاہتی ہوں۔ جہاں اس جیالے مہم جو اور بہادر پرنس سیف الرحمٰن کی پری پیکر محبوبہ ہے جو دیر کے نواب کے کسی بیٹے کی منگیتر تھی۔ وادی کی سڑکوں پر سپورٹس کار دوڑانے اور ان خوفناک پہاڑوں میں جہاز اُڑانے والے اس شہزادے نے سینہ تان کر کہا تھا۔ وہ میری پسند

Read more

ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری

ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے بانی ڈاکٹر جمیل جالبی ہیں۔ جنھوں نے 14 اگست 2016ء کو ”ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری“ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ سنگِ بنیاد کی تنصیب جامعہ کراچی میں محمود حُسین لائبریری کے ساتھ خالی قطعہ اراضی پر ہوئی۔ جمیل جالبی فاؤنڈیشن کے منصوبے نے تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کیے۔ یہ منصوبہ ڈاکٹر خاور جمیل اور خانوادہ جمیل جالبی کے تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ (1) ڈاکٹر جمیل جالبی 12 جون 1929ء کو

Read more

آدمی کہانی ہے!

کئی سال پہلے میں نے محمد سلیم الرحمن کے کیے ہوئے تراجم پر مشتمل کی ایک کتاب پڑھی تھی "اسیر ذہن”، مصطفیٰ شاہد کا ناول ”آدمی کہانی ہے“ پڑھ چکا تو رہ رہ کر اس کتاب کے دو مضامین یاد آتے رہے۔ پہلا جون میک مرے کا؛ “ حقیقت اور آزادی ”جب کہ دوسرا چیسلا میلوش کا مضمون، وہی جس کا عنوان کتاب کا نام ہو گیا ہے۔ اس دوسرے مضمون یعنی“ اسیر ذہن ”میں ایک غیر معمولی ناول “غیر

Read more

نسرین انجم بھٹی: پنجابی شاعری میں جدیدیت اور مزاحمت كا استعارہ (1)

27 جنوری 2016 ء کو انگریزی اخبار ڈان کے ادبی ایڈیشن ”امیج“ میں ایک خبر شائع ہوئی۔ ”پنجابی کی ممتاز شاعرہ، امن کی متلاشی، سیاسی کارکن، ریڈیو براڈ کاسٹر نسرین انجم بھٹی کراچی کے ہسپتال میں کینسر کے خلاف زندگی کی جنگ ہار گئیں۔“ اردو کے کسی اخبار میں اس خبر کو جگہ نہ ملی۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کی قدر نہیں کرتے لیکن ان کی وفات پر اُن کی تعریفوں کے پل باندھ

Read more

اکیسویں صدی نمائندہ ادیب کی تلاش میں ہے

۔کسی واقعے پر فوری تخلیقی رد عمل ادیب کی حساسیت کا غماز ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ادیب برسوں بعد کسی واقعے کے بارے میں لکھے۔ ہم ادیب کو مجبور نہیں کر سکتے ہیں کہ وہ خارجی سطح پر ہونے والے تغیرات کو احاطہ ء تحریر میں لائے۔ کبھی کبھی وہ صرف داخلی سطح پر نبرد آزما رہتا ہے اور خارج سے مکالمے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 9 : عشق کی بیل

بڑی سے بڑی پانی کی ندیاں محبت کو نہ بجھا سکیں گی اور نہ سیلاب اسے بہا لے جائے گا۔ اگر کوئی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دینا چاہے تو وہ بالکل حقیر سمجھی جائے گی۔ غزل الغزلات 8 : 7 میں نئے جوتے خریدنے کے لیے سرے گھاٹ پر ایک باٹا کی دکان پر سیلز مین سے باتیں کر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے آ کر میرے کندھے پر ایک دھپ ماری۔ میں نے مڑ کر

Read more

بوڑھا صوفہ

کوئی چھتیس سال پہلے بڑی قیمت بھر کے خریدا گیا۔ اس وقت دکان دار کو اس کا مول نہیں آتا تھا اور صوفے کا نخرا اللہ معاف کرے، بس یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ”پتا نہیں کیوں اللہ نے اسے غرور میں دھرا نہیں“ ؟ لکڑ خالص شیشم اور وہ بھی کالی سیاہ، جا بجا کَندہ کاری کے فنکارانہ جوہر۔ کُرسی کے پائے کسی ایسے ماہر خرادیے کی ایجاد جس کو شاید اللہ میاں نے پیدا ہی خراد گھڑنے

Read more

ایک فکشن پارے کی کتھا اور دوسری کہانیاں

مورخہ پچیس مئی کو میریٹ ہوٹل کراچی میں گیارہویں یو۔ بی۔ ایل آرٹس اینڈ لٹریری ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرا ایک فکشن پارہ ’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ آن لائن ادب کی کیٹیگری میں پہلے انعام کا حق دار قرار پایا۔ اب سے کوئی تین برس قبل جب ”ڈھشما“ کو نیشنل لائبریری آف پاکستان سے ایوارڈ ملا تھا تو ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا احساس ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی

Read more

دھوپ میں بھیگی سڑک کے کنارے: جرمن زبان کے شاعر رِلکے اور ان کی نظمیں

” میں آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔“ نپے تلے ریڈیائی لہجے میں ادا کیے گئے اس سادہ سے جملے نے جہاں مجھ پر ماضی کے کئی در وا کر دیے وہاں اعزاز آئندہ کی نوید بھی سنا دی۔ میں نے سامنے دھرے سکرپٹ پر سے نگاہ اٹھا کر میز کے دوسری جانب کھڑی ثریا شہاب صاحبہ کی جانب دیکھا جو سرخ سویٹر اور سفید پتلون میں ملبوس اپنے نفاست سے تراشیدہ بالوں کو دائیں ہاتھ سے کان کے پیچھے

Read more

تھامس مان کا افسانہ: چرج یارڈ کا راستہ

مترجم: جاوید بسام چرج یارڈ کا راستہ ہائی وے کے متوازی، مسلسل ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ تاآنکہ اپنی منزل یعنی چرچ یارڈ تک نہ پہنچ جائے۔ اس کے دوسری طرف ایک نئی مضافاتی انسانی بستی تھی، جس میں کچھ مکانات زیر تعمیر تھے، اس سے پرے کچھ کھیت تھے۔ سڑک پرانے سفیدے کے درختوں سے گھری تھی، اس کا جزوی حصہ پختہ اور جزوی حصہ کچا تھا۔ راستہ باریک بجری سے پر تھا۔ جس نے اسے ایک معقول فٹ پاتھ

Read more

طلعت حسین۔ اِک عہدِ تابناک جو تمام ہوا

26 مئی 24 20 ء کو پاکستان شو بزنس انڈسٹری کا شاندار اور تابناک باب بند ہو گیا۔ عالمی شہرت یافتہ اداکار و صدا کار طلعت حسین وارثی اس جہانِ فانی سے رُخصت ہو گئے۔ وہ علیل تھے اور خرابیٔ صحت کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ایک خوبصورت انسان اور ایک نفیس اداکار جسے شو بزنس کے مختلف شعبوں میں اعلٰی اور معیاری پرفارمنس کے لئے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند اعلٰی پائے کے اداکاروں میں ہوتا تھا، جنہوں نے اپنے فن ِ اداکاری سے پاکستان کو ایک پہچان دی۔

طلعت حسین 1940 ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد ایک سرکاری افسر تھے، جن کا نام الطاف حسین وارثی تھا۔ اُن کی والدہ شائستہ بیگم جو کہ ریڈیو براڈ کاسٹر تھیں۔ جب اُن کے والد کی تعیناتی راول پنڈی میں ہوئی تو پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل ہی وہ یہاں منتقل ہو گئے۔ اُن کی ابتدائی تعلیم راول پنڈی ہی میں مکمل ہوئی۔ پاکستان بن جانے کے بعد ، ریڈیو پاکستان کے قیام پر طلعت صاحب کی والدہ ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ ہو گئیں۔

Read more

شاہی مسجد و شاہی قلعہ چترال

چیو پُل کے پاس ریسٹ ہاؤس کا نوکر رجسٹر ہاتھ میں پکڑے ڈی سی آفس کی طرف جاتا نظر آیا مجھے دیکھ کر رُکا۔ میں نے پوچھا۔

”کیا ایسا ممکن ہے کہ آج تم مجھے اپنے گاؤں لے چلو میں وہاں رات گزارنا چاہتی ہوں۔“

میں نے دیکھا تھا طنز سے بھری ہوئی زہریلی ہنسی اُسکے ہونٹوں سے پھسلتی اس کی آنکھوں میں گری اور وہاں سے سارے چہرے پر پھیل گئی اور جب اُس نے رخ پھیر کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ ”آپ نے وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟“

”کچھ جاننا چاہتی ہوں تم لوگوں کے بارے میں۔ “

Read more