لوہے کا کمر بند

(اردو کے اہم ترین افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور سفرنامہ نویس رام لعل یکم مارچ 1923 کو میانوالی (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت منتقل ہو گئے۔ انہوں نے تقسیم، ہجرت اور دوسرے انسانی المیوں کی کہانیاں لکھنے سے شہرت پائی۔ ’زرد پتوں کی بہار‘ کے نام سےپاکستان یاترا کی کہانی بھی لکھی۔ 1996 میں لکھنؤ (بھارت) میں وفات پائی۔) ٭٭٭            ٭٭٭ ​بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت

Read more

مرزا غالب کے کلام میں بادہ خواری

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا بادہ خواری: مرزا غالب کا عرف یعنی مرزا نوشہ ان کی شراب نوشی کی وجہ سے ان کے نام کا حصہ نہیں بنا۔ یہ لفظ در اصل نو۔ شاہ ”ہے۔ ننھے اسد مرزا، اپنے چچا نصر اللہ بیگ کی شادی میں شہ بالا بن کر دلی آئے تو خاندان لوہارو کی بیگمات نے“ نوشہ (نو۔ شاہ) میاں ”کہہ کر مخاطب کیا، اور یہ ان

Read more

انگریزوں کے جاسوس نے چائے کیسے چرائی

چائے ہمارے معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ چاہے وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھک ہو، خاندانی محفل ہو، یا کوئی خاص تقریب، چائے کا ہونا لازمی سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً پاکستان کے مختلف علاقوں میں چائے کی مختلف اقسام، جیسے کہ نمکین چائے (جسے عام طور پر گلگتی چائے کہتے ہیں ) کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف گرم مشروب کے طور پر استعمال ہوتی ہے بلکہ ہمارے تعلقات اور بات چیت کو

Read more

کچھ ہم جنس پسندی اور مذہبی اخلاقیات کی باتیں

پیارے درویش وجاہت مسعود! ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہمارے ادبی و سماجی محبت ناموں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھ کر محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ سلیم ملک صاحب نے تو ان کے بارے میں ایک مزاحیہ کالم بھی لکھ ڈالا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اب عورتیں لفٹ نہیں کرواتیں اس لیے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ آپ نے نہایت رومانوی عاجزی و انکسار کا مظاہرہ کیا۔ اپنے بارے

Read more

چغد

میرا وکیل مسلسل ایک ہی بات کہہ رہا تھا، ”میں جھوٹا کیس نہیں لیتا اور کبھی کوئی کیس ہارا بھی نہیں۔ مجھے مخالف فریق کے حیلے بہانوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی جھوٹی شہادتوں کی۔ اس آسان سے کیس کو ہارنا میری بدنامی کا باعث ہو گا۔“ وکیل نے تاکیداً فرمایا تھا کہ عدالت نے آخری وارننگ دی ہے اس بار سیمپل ضرور دینا ہے۔ میں نے سربمہر سمن میز کی دراز میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ ***

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی: آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟

آپ کی ادبی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر خالد سہیل حامد یزدانی سے پوچھتے ہیں ملاقات تو دراصل مسی ساگا کے ایک انڈین ریستوران میں ہونا طے پائی تھی مگر میرے اصرار پر اسے اونٹاریو جھیل کے کنارے واقع شہر برلنگٹن کے ایک افغان کباب ریستوران میں منتقل کر دیا گیا تھا اور یہ سب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کمال شفقت کا نتیجہ تھا۔ شام ڈھلنے سے کچھ پہلے جب میں ریستوران کے پارکنگ لاٹ میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب

Read more

عورت، لذّت اور گناہ

” عاتکہ! میں تمہیں بتا نہیں سکتی، کتنا مزہ آیا مجھے۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، میں یہی سوچتی رہی ہوں کہ ماں باپ کے منع کرنے اور کبھی کبھی تو مار کھانے کے باوجود لڑکیاں یہ کام کیوں کرتی ہیں؟ لیکن آج میں خود اس سے لطف اندوز ہوئی تو تھوڑی دیر کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے میں جنت کی فضاؤں میں پرواز کر رہی ہوں۔ تب میں نے سمجھا کہ لڑکیاں ڈانٹ ڈپٹ اور

Read more

ظفر اقبال کے کلام میں تمثال کاری

ظفر اقبال نام اور تخلص ظفر کرتے ہیں۔ 27 ستمبر 1933 ء کو بہاول نگر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ضلع اوکاڑہ کے معزز زمیندار تھے۔ ظفر اقبال نے ابتدائی تعلیم بہاول نگر سے حاصل کی اور میٹرک ایم سی ہائی سکول اوکاڑہ سے 1950 ء میں کیا۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان ایف سی کالج لاہور سے پاس کیا اور بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ ظفر اقبال نے ایل ایل بی کا امتحان لاء کالج جامعہ پنجاب لاہور

Read more

ایک حقیقی شاعر: رفیق سندیلوی

رفیق سندیلوی احساس، ادراک اور وجدان کے حقیقی شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے داخلی اور خارجی محرکات کو شاعری میں بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری دیگر ہم عصر شعرا کی شاعری سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ منفرد داستانوی اسلوب ان کی خاص پہچان ہے۔ انھوں نے اساطیری کرداروں اور اساطیری واقعات کو بڑی چابکدستی سے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ وہ قدیم موضوعات کو نئے انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان موضوعات کی تفہیم

Read more

خالد فرہاد دھاریوال اور پنجابی کہانی

پنجابی زبان کے ممتاز کہانی کار ملک مہر علی نے خالد فرہاد دھاریوال کے بارے لکھا ہے کہ: ”خالد نے کہانی ’گھر‘ لکھ کر خود کو امر کر دیا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ کچھ بھی نہ لکھے تو پنجابی ادب میں نام زندہ رہنے کے لئے یہی ایک کہانی کافی ہے۔“ ’پنجابی کی کلاسیک کہانیاں‘ جو کہ پنجابی کے گرمکھی رسم الخظ میں شائع ہوئی ہے، اس میں پاکستانی پنجاب سے جو واحد کہانی شامل کی گئی وہ

Read more

قیلولے کے وقت

ریل گاڑی سرنگ سے نکلی اور کیلوں کے باغات میں سے گزرنے لگی۔ ریل گاڑی کے قریب ہی سڑک پر بیل گاڑیاں بھی چل رہی تھیں۔ ہوا مرطوب تھی اور انجن کا دھواں کھڑکی سے اندر آ رہا تھا۔ ریل گاڑی سے کچھ دور شہر کے دفاتر بھی دکھائی دے رہے تھے جن میں بجلی کے پنکھے چل رہے تھے۔ صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ ابھی سورج کی حدت میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ’کھڑکی بند کر لو‘

Read more

بدلاؤ

میں اس وقت کوٹ ادو میں جاب کرتی تھی۔ ہاسپیٹل کے کوریڈور میں ایک خاتون ملی اور میرے گرد بازو لپیٹ لیا۔ ”چھومی۔“ اس نے والہانہ انداز میں کہا۔ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ پہچان نہ سکی۔ مگر خوش دلی سے مسکرائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے آفس میں لے آئی۔ میں مسلسل اس کے چہرے پر نظر رکھے، پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اور دل ہی دل میں نادم بھی کہ مجھے یاد

Read more

خالد فتح محمد کے افسانوں کی کتاب ”وقت کی قید میں“ کا ایک جائزہ

ایک مختصر کتابچہ میرے سامنے ہے۔ یہ افسانوں کی کتاب ہے جسے تحریر کیا ہے جناب خالد فتح محمد نے۔ چھوٹی کتاب کا ایک فائدہ ہے کہ اسے ایک دو نشستوں میں ختم کر دو یا پھر کتاب بہت بڑی ہونا چاہیے جو ایک لمبے عرصے تک ختم نہ ہو۔ میرے سامنے موجود کتاب کا نام ہے ”وقت کی قید میں“ ۔ خالد فتح محمد ایک بڑا لیکن کسی حد تک غیر معروف نام ہے۔ یہ کیسا درد ہے کہ

Read more

دودھ کی تھیلی

” کاشف، دودھ، کاشف۔“ یہ سوچ سوچ کر تیس سالہ خوبرو خدیجہ کا سر پھٹا جا رہا تھا۔ ”ایک کاشف جس نے دودھ کے گلاس کو دھکیل دیا، اور دودھ کو چکھا تک نہیں۔ اور دوسرا کاشف چائے میں دودھ کی چند بوندوں کے لئے ترستا رہا۔“ پھر اس کا ذہن بیگم صاحبہ کی طرف چلا گیا۔ ”وہ بھی کوئی میری عمر ہی کے لگ بھگ ہو گی۔ جب پرسوں مجھے اس کے سامنے لے جا کر زمیں پہ بٹھایا

Read more

عورت کس کے اعصاب پر سوار ہے؟

علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں ہند کے شاعروں، صورت گروں اور افسانہ نویسوں پر طنز کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ‘آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار’۔ 1936ء میں شائع ہونے والی اس تصنیف کو حضرت اقبال نے ‘دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ’ کا ذیلی عنوان دیا تھا۔ اس کتاب میں عورت کے موضوع پر نو مختصر نظمیں شامل ہیں۔عورت کے حقوق, آزادی اور مساوات کے تصورات یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کے زیر اثر اٹھارہویں

Read more

مائکرو فکشن – 3 مائکروف

1- زیرِ زمیں سے آتی آوازیں ہم جانتے ہیں کہ وہ آج پھر آئے گا۔ اس بڑے نیم تاریک کمرے میں، جہاں صرف دو زرد بلب روشن ہوتے ہیں۔ جب ہمیں لایا جاتا ہے، کچھ دیر بعد وہ آ جاتا ہے۔ وہ ہم سے خطاب کرتا ہے لیکن اپنے خطاب کو گفتگو کہتا ہے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی، جس کے سامنے ہم زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں، وہ آغاز کر دیتا ہے۔ لہجے میں مصنوعی شیرینی گھول کر وہ ہمارا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے لئے ’فروغ گلشن و صوت ہزار‘ کا پیغام

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا شفقت نامہ ’ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور گناہِ پُرلذت‘ کے بامعنی عنوان سے یکم اگست کو موصول ہوا۔ مندرجات ایسے بصیرت افروز اور نکتہ آفریں تھے کہ فوراً قلم اٹھانے کر ’جواب دوست‘ رقم کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ آپ جیسے ہمہ وقت سرگرم عمل دوست سے اپنی مصروفیت کا ذکر چھیڑنا رفعت تخلیق کی نسیم سبک رو کے سامنے مکروہات دنیا کے کباڑ خانے کی نمائش کے مترادف ہے لیکن اے

Read more

خوشحال خان خٹک اور علامہ اقبال میں مشترک نکات

ہماری تاریخ کی دو یادگار شخصیات خوشحال خان خٹک اور علامہ محمد اقبال کے گہرے ورثے کی اہمیت پر موجودہ حالات کے تناظر میں گفتگو کرنا وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ درحقیقت ان دو بلند پایہ شخصیات کی ہمارے ثقافتی، فلسفیانہ اور سیاسی مناظر میں شراکت سے نہ صرف ان کے اپنے ادوار کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ اس دور میں بھی یہ دو عظیم شخصیات ڈنکے کی چوٹ پر ہمیں اپنی اہمیت کی گونج سنائی دیتے نظر

Read more

گارسیا مارکیز کی ذات، تخلیقات اور نظریات

لاطینی زبان کے مقبول، معزز اور معتبر ناول نگار گارسیا مارکیز کا نوجوانی کا خواب تھا کہ وہ ایک معرکتہ الآرا ناول لکھیں۔ انہوں نے کئی مختصر اور طویل کہانیاں رقم بھی کیں لیکن وہ اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب ایک لکھاری کسی بڑی کہانی سے حاملہ بن جاتا ہے۔ وہ لمحہ اس وقت آیا جب گارسیا مارکیز اپنے خاندان کے ساتھ ایکاپولکو کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ سفر پر آگے بڑھنے کی بجائے وہ

Read more

سفر تو آغاز ہو چکا ہے: ایک پہر نجیب احمد کی شاعری کے ساتھ

اُڑ نہ جائیں پھر درختوں سے ہرے پتوں کے غول اِک یہی ڈر تھا، مرا کچھ اور سرمایہ نہ تھا اس پُر تاثیر شعر کی وجدانی کیفیت کی گونج میں جھومتے ہوئے، سرمائے شمالی سے ٹھٹھرتے اِس شفّاف دن کی آخری ساعتوں سے ہم نگاہ، میری آنکھیں آسمان کے وسیع رنگین کینوس پر آج جو براہِ راست فضائی مظاہرہ دیکھ رہی ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہے اور دل کش بھی۔ فلیم بورو کی نِیم شہری آبادی سے گریزاں اس

Read more

لالہ بختیار کا چلہ

لالہ بختیار سے رابطہ کرنا بہت آسان ثابت ہوا کیونکہ ان کا ایک ہی ٹھکانہ تھا۔ قاضی بک پبلشرز شکاگو کو فون کیا اور وہ وہاں موجود تھیں۔ ان کی گفتگو میں بہت اپنائیت تھی۔ مجھے اچانک اس خاتون کی ذات سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی اور میں ان سے ملاقات کے لئے بے چین ہو گئی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ شام پانچ بجے تک قاضی بک پبلیشرز کے بک سٹور میں مل سکتی ہیں۔ اتفاق سے

Read more

ایک پاگل خانے کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ملک فارس میں۔ ارے یار کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ لفظ فارس نہیں پارس ہے۔ ہم تو ہمیشہ سے فارس ہی سنتے آئے ہیں۔ ہمیشہ سے تو آپ تھے بھی نہیں اور ہمیشہ سے یہ بھی فارس نہیں تھا۔ اصل لفظ ”پارس“ تھا۔ پھر چودہ سو سال قبل حملہ آور آئے۔ حملہ آوروں کی زبان میں ”پاک“ کی ”پا“ نہیں تھی تو پارس کی پا کہاں سے آتی؟ انہوں نے پارس کو فارس بنا

Read more

فرخ اور عرفان کا "قائد اسکواڈ”: ناول میں متوازی تاریخ کا تجربہ

  حضرات، میں روز ہی مزار قائد کے سامنے سے گزرتا ہوں، وہاں کا شور، ٹریفک، پریشان حال چہرے میرے لیے معمول کا واقعہ ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اگر کسی روز اچانک میری نظر وہاں موجود ایک پراعتماد نوجوان پر پڑے، جو اوروں سے کچھ مختلف ہو، اور جس میں محمد علی جناح کی جھلک نظر آتی ہو، تو وہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہوگا۔ یہی غیر معمولی واقعہ اس ناول کا مرکزی خیال ہے، جس کا عنوان قائد اسکواڈ

Read more

شاعروں اور ادیبوں کے بغیر معاشرہ نامکمل ہے

ادیب اور شاعر شاعر لوگ معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ جن معاشروں میں ادیب اور شاعر نہیں ہیں وہ معاشرے مکمل معاشرے نہیں کہلاتے۔ معاشرے کے سبھی افراد اپنے اپنے مفاد کی خاطر اور اپنے اپنے غرض کی خاطر سوچتے ہیں۔ لیکن شاعر و ادیب لوگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ وہ معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں پر گہرا نظر رکھتے ہیں۔ ان کی قوت حس بہت تیز ہوتی ہے۔ اور وہ ہر چیز

Read more

نظموں کا جیب کترا

پچاس برس گزرے لائلپور کا مہینوال جنوب کی جانب روانہ ہوا۔ دشت دشت کی سیر کرتے سندھو کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے شہر لیہ کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک لڑکی سے ایسا ٹکرایا کی پھر اکیلے واپسی کا سفر ناممکن ہو گیا۔ اس سوہنی نے مسعود قمر کے دل میں یوں پڑاؤ ڈالا کہ پھر کبھی ہجرت نہ کر سکی۔ لیہ کی سوہنی اتنی عقلمند تو تھی کہ کچے گھڑے پر اعتبار کرنے کی بجائے پکا رشتہ

Read more

شعیب بن عزیز بیا بیا

(شعیب بن عزیز صاحب کے اعزاز میں واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب میں پڑھا گیا) عزیز دوستو، ساتھیو، مہربانو، قدر دانو، آپ سب کی خدمت میں ہمارا محبت بھرا سلام پہنچے۔ کیا عجب موقع ہے کہ آج یہاں، ایک شاعر، یعنی شعیب بن عزیز اور منکہ ’من آنم کہ من دانم‘ امریکہ میں ایک ہی سٹیج پر اکٹھے بیٹھے ہیں اور اپنے پاکستانی دوستوں کی محبتیں سمیٹ رہے ہیں۔ اے فلک صد رنگ و صبا رفتار، تو نے یہ کیا

Read more

نلتر داستان ( سفرنامہ ) کا ایک مطالعہ

سفرنامہ ایک ایسی بیانیہ صنف ادب ہے جس میں سفرنامہ نگار اپنے اسلوب سے تحریر کو دلچسپ اور پرکشش بناتا ہے ۔ مغربی مفکرین نے ” ہیرو ڈوٹس” کو پہلا سفرنامہ نگار قرار دیا ہے ۔ اردو زبان میں سفرنامہ نگاری کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا ۔ یوسف خان کمبل پوش کے سفرنامے ” تاریخ یوسفی ” اور عجائبات فرنگ” کو اردو کے اولین سفرنامے کہا گیا ہے ۔ یہ سفرنامے 1847 میں دہلی سے شائع ہوئے۔ آغاز میں

Read more

پروفیسر زیڈ بی مرزا کی آخری کتاب

  ”Dynamics of Highlands Ecosystems of Pakistan“ زیڈ بی مرزا صاحب کی چھبیسویں کتاب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے حوالے سے وہ پر امید بھی تھے اور بڑی حد تک بے یقینی جیسی کیفیت سے دوچار بھی تھے۔ اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری جب میرے ذمے آئی تو ایک ہفتے تک کتاب کی ضروری ایڈیٹنگ میں لگا۔ کتاب کا موضوع میرے شعبے سے الگ تھا تو کافی حد تک دشواری بھی ہوئی۔ ابتدائی ضروری ایڈیٹنگ کے بعد

Read more

پہلوی ترقی: شکست تخت پہلوی (9)

 نیاوران محل روایتی پرشین تعمیر کے امتزاج کا نمونہ تھا جس میں یورپین اور امریکی آرکیٹیکچر کی جھلکی بھی تھی۔ پہلی نظر میں یہ کوئی ملٹری کی تنصیب نظر آتا لیکن اس کے گرد فرش سے چھت تک کی آرائش آنے والوں کو خوش آمدید کا پیغام دیتی تھی۔ ریسپشن کا ایریا ملکہ فرح کے ہنر کا نمونہ تھا۔ یہاں کا ماحول گرم، گھلا ملا تھا اور سلیقہ ظاہر کرتا تھا۔ قیمتی قالین، فن کے نمونے، پینٹنگز، پردے اور ایرانی

Read more

فاطمہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

مرحوم ڈاکٹر محمد اقبال کے ہاں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ مکرر ماضی پرستی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بسا اوقات حکمتِ گم گشتہ کی بازیافت اور تاریخی واقعات کو تلمیحاتی رنگ میں نظم کر کے حاضر و موجود سے جوڑنے میں انہیں بے مثل ملکہ حاصل ہے۔ خطبات کی بات البتہ مختلف و منفرد ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے مولانا جلال الدین رومی کے بعد پوری اسلامی دنیا میں فکری اور نظریاتی اعتبار سے ان کے فکر و

Read more

ادب اور اخلاقیات

ادب کی باقاعدہ اور مربوط تعریف عموماً نہیں کی جا سکتی البتہ ادب کو زندگی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ گویا ادب ایک ایسا جہاں تخلیق کرتا ہے جہاں زندگی کے ادھورے خواب پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انسان جس منظم اور اخلاقی زندگی کا خواب سجائے رہتا ہے اس کی تعبیر اسے ادبی شہ پاروں میں مل جاتی ہے۔ ادب چونکہ زندگی کے ان پہلوؤں کو روشن کرتا ہے جو اب تک قاری کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے

Read more

پنڈی جو اک شہر ہےـ 2-

راجہ رجب عمرِ رفتہ کا ذکر جاری رکھے ہوئے تھے۔ میرے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں شہر میں بھکاری ڈھونڈنے پہ بھی نہیں ملتے تھے۔ ہمارے محلے میں مہینے دو مہینے بعد باری باری دو فقیر آیا کرتے تھے۔ ایک تو بڑے کرو فر سے گھوڑے پہ سوار آتے تھے۔ داڑھی مونچھ ندارد۔ بس اپنی دھن میں گلی گلی چکر لگاتے۔ کوئی علیک سلیک کرے تو جواب دیتے مگر مزید بات چیت نہیں کرتے تھے۔ دوسرے سفید ریش تھے۔

Read more

لیفٹیننٹ ضرار شہید کی یاد میں

وہ دوپہر سرگودھا شہر کے لحاظ سے موسم گرما کی ایک عام سی دوپہر تھی، عام سی دوپہر کہ درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کو پہنچا تھا۔ گلیاں سنسان تھیں اور تمام ذی روح سایوں میں دبک کر بیٹھے تھے، مگر سول ہسپتال سرگودھا کی سٹاف کالونی کے درمیان واقع میدان میں کچھ بچے اپنے ماں باپ سے نظر بچا کر اُس تپتی دوپہر میں جمع تھے۔ سول ہسپتال کی سٹاف کالونی میں داخل ہوں تو پہلے ڈاکٹروں کی

Read more

چائے کی معنویت

دنیا کارگہِ مجموعہ ہائے حقیقت ہے اور اس کارخانہِ قدرت میں بہت سی سچائیاں پائی جاتی ہیں۔ اکثر سچائیوں کا تعلق کسی خاص علاقے یا کلچر سے ہے جب کہ چند ایک سچائیاں ایسی ہیں جنہیں عالمگیری سچائیاں کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ کتاب کی افادیت، زمین کا گھومنا، وہموں کا پایا جانا، اور چائے کا کسی نا کسی صورت میں عالم کے تمام ممالک میں موجود ہونا۔ جہاں تک چائے کی بات ہے چائے کتاب اور موسم ایک

Read more

ساون ٹیج (تیج) کا تہوار

جنوبی ایشیا کے بڑے ریگستان میں ساون تیج کے تین تہوار منائے جاتے ہیں پہلا ہریالی (سبز) تیج، دوسرا کجاری/کجلی تیج اور تیسرا ہرتلیکا تیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صحرا تھر میں ساون تیج کے دو تہوار مقبول ہیں ایک ساون ماہ کا چاند دیکھنے کے بعد تیسرے دن جس کو چھوٹی تیج یا گجوا تیج کہتے ہیں، دوسرا تہوار پورے چاند کے بعد تیسرے دن ہوتا ہے جو بڑی تیج یا ساون تیج کے نام سے مشہور

Read more

مائکرو فکشن (تین کہانیاں)

کہانی چل رہی ہے ”باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ آتے ہیں کچھ باتوں کے شوقین۔ پوچھتے ہیں کیا کہانی ہے تمہاری، کہاں سے آئی ہو؟“ پر وہ کم ہی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر تو ۔ ہاہاہاہا۔ اب میں تمہیں کیا بتاؤں۔ ایک دن کی بات سنو۔ بس اتنا کہا ”کنڈی لگا دو “ میں دروازہ لاک کر کے پلٹی تو توبہ۔ وہ الف ننگا کھڑا تھا۔ لو جی بس یہی تین لفظ بولے اُس نے پوری ملاقات میں۔ کئی باتونی

Read more

چترال کا شاہی قلعہ اور البیلی ماہ لقا

یہاں برق گرانے والی ایک اور خبر تھی کہ ”شاہی محل کی وہ مہ لقا جسے دیکھنے کی میں آس لیے پھرتی تھی عرصہ سات سال سے زمین کا رزق ہو چکی تھی۔“ مسز تاج کے یہ الفاظ آتش شوق پر تیل اور تیلی گرانے کے مترادف تھے۔ چترال میں اس جیسی حسین اور طرحدار عورت کب دیکھنے میں ملے گی۔ اسے تو گھنٹوں دیکھو اور جی نہ بھرے والی بات تھی۔ اس ڈپریشن کو کم کرنے میں بیچارے قہوے کی

Read more

ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں

رانڈ رہے جو رنڈوے رہنے دیں رنڈی کس کی جورو، بھڑوا کس کا سالا زیرِ نظر مضمون کا موضوع کوئی رنڈی، بھڑوا یا سالا نہیں بلکہ ہندوستانی خطیب مولوی عقیل الغروی کا شاعر میر انیس کے فن پر وہ تبصرہ ہے جو پاک و ہند کے بعض عوامی اور علمی و ادبی حلقوں میں شدت کے ساتھ محل نزاع ہے، چند ثانیوں پر مشتمل موردِ بحث مقتبس ویڈیو کا پس منظر بتاتا ہے کہ یہ ادبی نشست انجمن ترقی اردو

Read more

فرانز کافکا کا نفسیاتی و رومانوی تجزیہ

فرانز کافکا کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی تھی کہ اس نے ان کی تخلیقیت کو بھی پراسرار بنا دیا تھا۔ بیسویں صدی کے عالمی ادب کی تاریخ میں کوئی اور ایسا ادیب نہیں ملتا جس کا نام استعاراتی اہمیت کا حامل بن گیا ہو۔ اسی لیے انگریزی زبان میں جب کوئی تحریر یا صورت حال نہایت دشوار، پیچیدہ، گنجلک اور پریشان کن ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ KAFKAESKE ہے۔ ادب کی دنیا میں کافکا کا نام پراسراریت کا

Read more

نکلسن روڈ کے بھیا جی

 پاکستان نیا نیا بنا تھا ۔ لاہور میں بے شمار مکان اور دکانیں خالی تھیں لیکن مہاجر قافلوں کے ساتھ آنے والے ایک میاں بیوی نے نکلسن روڈ پر ایک شیشم کے پیڑ کے نیچے ڈیرہ لگا لیا۔ انہوں نے یہاں پان سگریٹ کا خوانچہ رکھ لیا۔ قریب ہی پیتل کے بڑے سے برتن میں پانی پر پان کے ہرے ہرے پتے تیرتے ۔ سگریٹ سلگانے کے لیے دیا جلتا رہتا تھا۔ دن بھر میں تھوڑی بہت بکری ہو جاتی

Read more

برج کا شیام۔ کرشن کہانیوں کی دوسری کتھا

برج ایک بستی یا گاؤں نہیں تھا۔ برج ایک پوری تہذیب تھی مہاراجا شورسین کے نام پر اسے شورسینی تہذیب کہا جاتا ہے۔ برج میں دیوکی نندن (دیوکی ماتا کے بیٹے ) کے پیروں کی رَج (دھول) پڑی تھی جسے یمنا ندی نے چوراسی کوس تک پھیلا دیا تھا۔ یوں یہ برج، برج نہیں رہا دھام ہو گیا تھا ابھی کچھ دیر قبل ہی میں یہاں پہنچی ہوں۔ اس سفر کی طویل داستان میں کئی پڑاؤ ہیں۔ یہاں پہنچتے ہی

Read more

پنڈی جو اک شہر ہے

اپنے پنڈی وال دوستوں میں راجہ رجب کی ایک نمایاں حیثیت ہے۔ ہم تمام دوست دوسری جگہوں سے آ کر راولپنڈی میں مقیم ہوئے۔ لیکن ہم سب میں بڑے پنڈی وال راجہ رجب ہی ہیں کیونکہ آپ کا آبائی تعلق بھی ضلع راولپنڈی سے ہے۔ والد راجہ لہرا سب 1965 کی جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد تحصیل کہوٹہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور ایک رشتہ دار کی مدد سے بوہڑ بازار میں پرانی کتابوں کی ایک دکان

Read more

جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر

”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“ شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔ سال انیس سو اٹھاسی ہے۔ شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔ لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے

Read more

فردوس گم گشتہ

اس شہر کا نام تھا، فردوس بریں۔ سائنسی ترقی کے سامنے دنیا بھر کی مشکلات سرنگوں ہوئیں تو انسان کی سب خواہشات بھی پوری ہو گئیں۔ چمکتا سورج اور روشن نیلا صاف آسمان، عالی عمارتیں، لوازم شاہانہ سے آراستہ اور ان کے شیشے جیسی شفاف رنگت کے سٹیل کے مینار، ابدیت کا استعارہ تھے۔ ان کے سامنے طاق کسریٰ و قصرِ نعمان سب ہیچ، دولت بے زوال کا احوال بیان سے باہر۔ باغات پھولوں سے لدے، آب و ہوا وہاں

Read more

عام آدمی اور شاعر

سماجی زندگی پیچیدگیوں سے عبارت ہے۔ ہم مزاجی کو ذات، عمر، نسب، اور مذہب پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر اطمینان محسوس کرتے ہیں جن سے ہم آہنگی ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر انسان اپنے مزاج، نفسیات اور جذبات کے تابع ہوتا ہے اور اکثر اس کے مطابق اپنا حلقہ احباب بناتا ہے۔ مجبوری، مفاد اور محبت کی وجوہات الگ ہیں۔ ہماری سوشل زندگی میں اتار چڑھاؤ بھی آتے ہیں لیکن حلقہ احباب تبدیل

Read more

مختار مسعود

  شہر سیالکوٹ کئی خصوصیات کی بنا پر جانا جاتا ہے۔ صاف ستھرا چھوٹا سا شہر ہے۔ کاروباری مراکز سے بھرا ہوا ہے کاروباری برادری نے اپنی مدد آپ کے تحت ائرپورٹ بنوا لیا۔ علامہ اقبال اور فیض احمد فیض جیسے قادر الکلام شعرا کی جنم بھومی ہے۔ مگر کم لوگوں کے علم میں ہو گا شہرِ سیالکوٹ میں 15 دسمبر 1926 کو ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس نے تاریخ کے اوراق کو مجبور کر دیا کہ جلی

Read more

زندگی ریل کا سفر تو نہیں

شاعرانہ تخیل اور فکری جہت، اپنے لیے اظہار کے قالب کا اہتمام خود ہی کیا کرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ تخیل کی موزونیت وہ نکتہ ہے جو کسی شعری صنف میں جان ڈالتا ہے، باقی شاعر پر منحصر ہے کہ وہ علائم کی پہلو داری اور لفظیات کی لطافت سے اس صنف کو ، چاہے تو بامِ عروج پر پہنچا دے، چاہے تو عامیانہ بنا دے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے نثری نظم نے متنازع ہو نے کے باوجود اپنے

Read more

آغا گل: بلوچستان میں افسانوی ادب کا کوہ قامت استعارہ

آغا گل بلوچستانی ادب کا ایک معتبر نام ہے جو 1951 کو کوئٹہ کے ایک دور افتادہ قصبے ہرنائی میں پیدا ہوئے۔ بہ حیثیت لیکچرار اردو اپنے کیریئر کا آغاز کیا، لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پوسٹ ماسٹر جنرل رہے۔ اپنے والد اکبر خان (ماہر تعلیم، افسانہ نویس اور کہانی کار) سے آزادی افکار اور جرات اظہار خیال کا درس لے کر اپنے بلند پرواز تخیل کی بدولت ادبی دنیا میں بحیثیت نقاد، محقق،

Read more

انگریزی ادب پڑھانے والا ایک استاد

اس زبان سے ایک خاص چِڑ سی رہی ہے، بقولِ انور مسعود صاحب؎ دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے لیکن کیا کیجئے اس نامراد میں بقولِ بابا جی فیل ہو جائیں تو آپ ڈگری (اصلی والی) نہیں حاصل کر سکتے چاہے آپ نے بقیہ تمام مضامین میں ٹاپ و ٹاپ کیا ہو۔ ہم ٹھہرے ٹاٹ و گورنمنٹ سکول والے، اس لئے پڑھنے کی طرف جو تھوڑی سی رغبت ہے وہ اردو ہی

Read more

سمپورن سنگھ کالرا : سرحد کے دونوں جانب مہکتا گلزار

دُنیا سے عدم اطمینان کا اظہار ہر بڑے فن کی بنیاد بنتا ہے۔ ہر نئی ایجاد، نئی کہانی یا نئی نظم، گویا دُنیا کو بہتر بنانے کی کوشش ہے یا پھر کسی خلا کو پُر کرنے کی کاوش۔ شاعر اور ادیب نغموں، نظموں اور کہانیوں میں دُنیا کی ایک اپنی تصویر بناتے ہیں۔ اِن کی تحریر میں ایک نئی دُنیا بستی ہے جو پڑھنے والوں کی آنکھوں میں بھی بَس جاتی ہے۔ یہ دُنیا در دُنیا بساتے ہیں۔ پھر ایک

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت

محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں فرض

Read more

قُرۃ العین حیدر کا ناول ”آگ کا دریا“: تاریخ، تہذیب اور سماج کا لافانی سفر

”میں ایک دریا ہوں، میرے اندر تاریخوں کا ایک وسیع خزانہ چھپا ہوا ہے۔ ہر تہذیب، ہر زوال، اور ہر بلندی میرے وجود میں سموئی ہوئی ہے۔ میں پرسکون انداز میں بہتا ہوں، لیکن جب میرے سینے میں ان سب کا بوجھ بھر جاتا ہے، تو میں انہیں آگ کی طرح باہر پھینک دیتا ہوں۔ پھر میں آگ کا دریا بن جاتا ہوں۔ ” ناول“ آگ کا دریا ”کی مصنفہ قُرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927 کو اُتر پردیش کے

Read more

فیصل عظیم کی شاعری: میری آنکھوں سے دیکھو

کوئی کرتب ہے گویا زندگی بھی کہ رسی پر چلیں اور ڈگمگائیں! سال رواں کے جون میں جب یہ مسافر ٹورنٹو کے دورے میں وہاں کی ادبی تنظیم فیملی آف دی ہارٹ کی ادبی فضا سے لُطف اندوز ہو رہا تھا ، احباب کی محبتیں سمیٹ رہا تھا اور وہاں کی تخلیقی فضا کے تازہ جھونکوں میں سانس لے رہا تھا تو اس کو بڑی چاہت سے چند ادبی تحائف بھی پیش کیے گئے ۔ان ادبی تحائف میں سے ایک

Read more

اسد محمد خان کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ

طیبہ طارق chainofmotivation@gmail.com تعارف : اسد محمد خان وسط ہند کے علاقے کی ریاست بھوپال میں 4 ستمبر 1932ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں عزت محمد خان علاقے کے ہائر سیکنڈری سکول میں مصوری کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ والدہ منور بیگم مرزا غالب کے شاگرد نواب یار محمد خان شوکت کی پوتی تھیں۔ اس طرح اسد محمد خان ننھیال کی طرف سے نواب خاندان اور ددھیال کی طرف سے پٹھانوں کے آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ میرائی

Read more

سنہری خیمہ بستی: شکست تخت پہلوی (8)

پرسیپولس میں جشن تاج پوشی کا تصور گیارہ سال پہلے شجاع الدین شفا نے پیش کیا جو ایرانی اسکالر تھے۔ شاہ نے اس کی منظوری دے دی اور ایک بجٹ کمیٹی بنا دی لیکن ملک میں غیر یقینی حالات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے منصوبے کو پورا ہونے میں دس سال لگ گئے۔ 1970 کے موسم سرما میں شاہ نے اعلان کیا کہ وہ ایک ایسا جشن منانے کا اہتمام کر رہے ہیں جو دنیا نے اس سے

Read more

وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

کالم نگار: بلال مختار (آسٹریلیا) کیٹگری: کتاب تبصرہ تجسس بھی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ میرے ادبی تجسس کی کارستانی ہے۔ جس سبب میں اک اہم ادیب سے جا ملا۔ احباب! ماجرا اک وائرل ویڈیو سے شروع ہوتا ہے۔ کلپ میں ہلکے سانولے، جنٹل مین تراش خراش کے ساتھ نظر کی عینک پہنے اک شاعر تھے۔ وہ لہک لہک کر اپنی شاعری سامعین کو سنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اک شعر کہا تو سکرین کے

Read more

جی چاہتا ہے اور اندھیرا دکھائی دے

لیاقت علی عاصم کی شاعری کے ساتھ شب گردی کینیڈا کی معروف ماہرِ رقص خاتون شینن لٹسن برگر اِس بار اپنے آبائی اور انتہائی سرد شمالی صوبے سسکیچوان گئیں تو وہاں انہیں گراس لینڈز نیشنل پارک کی سیرِ شب کا موقع بھی ملا۔ گراس لینڈز پارک کینیڈا کے ان چودہ پارکوں میں سے ایک ہے جنہیں سرکاری طور ہر ”ڈارک سکائی ریزرو“ کا درجہ حاصل ہے۔ گراس لینڈز کینیڈا میں اس نوعیت کا سب سے بڑا نہ سہی سب سے

Read more

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ، ساختیاتی وظائفیت کے تناظر میں اکیسویں صدی کے اُردو ناول پر نظر ڈالی جائے تو کئی نام ناول کے منظر نامے پر دکھائی دیتے ہیں جن میں شمس الرحمان فاروقی، مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، عاصم بٹ، طاہرہ اقبال، خالد فتح محمد، محمد الیاس، رحمان عباس، صدیق عالم، سید محمد اشرف اور اختر رضا سلیمی کے نام بطورِ خاص نمایاں ہیں۔ ان ناول نگاروں نے جدید انسان کے مسائل اور اکیسویں صدی میں

Read more

نئی تنقید اور ابہام کی سات قسمیں

آئی۔ اے رچرڈز، ایف آر لیوس اور ولیم ایمپسن جیسے ماہرینِ ادبیات نے نئی تنقید کے دبستان کی فکری بنیادیں استوار کیں۔ ان نئے ناقدین نے ادب کے مطالعہ کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی پوری توجہ متن کی Close reading پر مرکوز تھی۔ یعنی اس کی توجہ کا مرکز، متن کی زبان، بحر، منظر کشی، تشبیہ و استعارہ اور کئی قسم کی صنعتوں اور تجانیس جیسے متنی پہلو تھے۔ اس میں تاریخ، مصنف کی سوانح حیات جیسے

Read more

قصہ سات نسلوں کا: تنہائی کے سو برس

اس غیر معمولی تخلیق کے مصنف گابرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل

Read more

کتاب: اے چراغِ عشق (شاعری)

شاعر: نعیم حیدر (برطانیہ) اظہارِ رائے : ناہید ورک (مشی گن، امریکہ) ۔ ۔ ۔ چراغِ عشق کا نور بہت کم ایسے شاعر ہیں جو خوش سخن ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گلو بھی ہوں اور وہ بھی ایسے کہ جن کا ترنم ان کی اپنی شاعری کو بھی پیچھے چھوڑ دے یا پھر ان کی شاعری ان کے ترنم سے مزید ابھر کر سامنے آئے۔ یہ بات برطانیہ میں مقیم ایک ایسے خوش گلو شاعر پر فٹ آتی ہے

Read more

مائکرو فکشن (چار کہانیاں)

اخبار کے داغ وہ خوش بھی تھا اور پر عزم بھی۔ کہنے لگا اب مجھے قومی اخبار میں نوکری ملی ہے۔ میں مزید محنت سے رپورٹنگ کروں گا۔ تنخواہ فی الحال مقامی اخبار جتنی ہے لیکن امید ہے میرا کام دیکھ کر مالکان بڑھا دیں گے۔ چند دن بعد پھر ملا تو خاصا پرجوش تھا۔ اسے چونکا دینے والی ایک سٹوری ملی تھی جو مشہور بس کمپنی کی خواتین میزبانوں سے متعلق تھی۔ اسے پتہ چلا تھا کہ غریب گھرانوں

Read more

رابرٹ چانڈیو کا پہلا مس فائر

”اے سالک، اب کیسٹ کو اندر ڈال کے دیکھ بابا، ایسی ظالم گراری سیٹ کی ہے اب مکھی نہیں آئے گی فلم میں“ ۔ دینو نے نیشنل کمپنی کے وی سی آر کے ہیڈ کو دس روپے کے کرارے نوٹ اور سپرٹ سے صاف کرتے ہی سالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ سالک نے کیسٹ اندر ڈالی اور تھوڑی سی گھوں گھوں کرنے کے بعد ٹی وی کی اسکرین پر بناکا گیت مالا کا پہلا گانا شروع ہوا اور مادھوری

Read more

چھوٹی سی عورت بھی کبھی۔۔۔

آج کا یہ گنجان آباد، گندا مندا قصبہ، ابھی تیس سال قبل ایک خوبصورت گاؤں ہوا کرتا تھا۔ خیر اُس کی بات بعد میں۔ ابھی تو چلتے ہیں یہاں موجود بابا لکڑ شاہ کے مزار پر ۔ یہ بابا لکڑ شاہ کون تھا؟ اس بارے بھی کافی متضاد معلومات ملتی ہیں۔ کچھ زیادہ پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ پینتیس چالیس سال کا سرخ و سفید باریش آدمی کبھی کسی شمالی علاقوں سے یہاں آیا اور اُس نے جلانے والی

Read more

 مگس، پروانہ اور امریکہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا سنا ہے آج کل یہ شعر امریکہ میں بچے بچے کی نوکِ زبان پر ہے۔ خاص طور پر واشنگٹن کے ایلیمنٹری اسکول کے اطفالِ گریزپا تو لہک لہک کر یہ شعر گنگناتے ہیں۔ ہم بھی لڑکپن سے یہ شعر سنتے آئے ہیں لیکن ایک مدت تک یہ معما حل نہ کر پائے کہ آخر مگس کو باغ میں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ چلو،

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: پھر تمہارا خط آیا

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل یہ عنوان ابن انشا کی محبت کے موضوع پر ایک سادہ سی نظم سے لیا ہے۔ چند سطریں ملاحظہ فرمائیے۔ ’شام حسرتوں کی شام / رات تھی جدائی کی / صبح صبح ہر کارہ / ڈاک سے ہوائی کی / نامہ وفا لایا / پھر تمہارا خط آیا‘۔ ابن انشا بے پناہ تخلیقی آدمی تھے، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا مزاح، کسی گھر بند نہیں تھے۔ رومانوی طبیعت پائی تھی۔ شادیوں اور محبتوں

Read more

ناصر عباس نیر کی میرا جی پر کتاب

ناصر عباس نیر کی حیثیت اردو زبان و ادب میں ایک نابغۂ روزگار کی ہے۔ ہر زبان کو اس امر کا جشن منانا چاہیے جس میں ناصر عباس نیر جیسا اوریجنل اور بلند پایہ ناقد اور بڑا ادیب پیدا ہوا۔ فی زمانہ تو اس جشن کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ زبان و ادب پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ تخلیقیت اور سستی شہرت کے حصول نے زیادہ تر ادیبوں کے علمی نیز تخلیقی کردار کو آلودہ

Read more

میں تری جستجو میں رہتا ہوں

شکور احسن سے سلام و دُعا تقریباً دو عشروں پر محیط ہے، ایک دو مواقع پر تعلقات میں ہلکے پھلکے اتار چڑھاؤ یا ادبی نوک جھوک کو چھوڑ کر اب یہ مراسم دوستانہ دائرہ سے نکل کر برادرانہ تعلقات کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں، ہمارے اس بیبے گوجر خانیے دوست کا تعلق یوں تو پنجاب پولیس سے ہے لیکن سر تا پا اپنے ادبی مزاج کے باعث وہ پولیس کی نوکری کے لئے ”مسِ فٹ“ بلکہ یوں کہیے

Read more

بیٹیوں کے نام: دو نظمیں

طلاق یافتہ بیٹی قبول نہیں بیٹا طلاق نہیں ہونی چاہیے دنیا والے کیا کہیں گے ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے جہیز میں تو ہم نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق تھی پھر ایسا کیا ہوا جو بات طلاق تک پہنچی ضرور تیری ہی غلطی ہوگی گز بھر زبان ہے تیری سمجھوتہ کر کے رہنا سیکھ ہم سب نے بھی یہی کیا ہے تیری دادی، نانی اور میں ہم نے

Read more

جدیدیت اور غالب: دانیال طریر کی نظر میں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شخصیت اور فن پر کئی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر دانیال طریر کی کتاب ”جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب“ تفہیم غالب کے سلسلے میں ایک نایاب اضافہ ہے۔ یہ کتاب کم و بیش 130 صفحات اور چھے مضامین پر مشتمل ہے۔ کتاب کی سادہ اور پرخلوص زبان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دانیال طریر نے یہ کتاب طلبہ کے لیے لکھی ہے۔ غالب پر لکھی گئی اکثر کتابوں سے طلبہ اس لیے بھی

Read more

غلام جائیداد۔ دوسری اور آخری قسط

اب للؔی ماں بننے والی تھی۔ مسٹر سینڈز ایک دن دوپہر کے وقت ایک ڈاکٹر کے ساتھ آیا۔ ڈاکٹر نے للؔی کے معائنے کے بعد مسٹر سینڈز کو بتایا کہ وہ اس حمل کو گرا سکتا تھا۔ لیکن مسٹر سینڈز نے للؔی کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئیے کہا۔ ”یہ ایک بد چلن لڑکی ہے، یہ اب اپنے کیے کا انجام بھگتے گی۔“ اس کے بعد للؔی کا جنسی استحصال کم ہو گیا۔ اب ایک دائی ہر ہفتے اس کے

Read more

کچھ انیس احمد کے ناول ’نکا‘ کے بارے میں

انیس احمد کا اس سے پہلے ایک ناول ”جنگل میں منگل“ شائع ہو چکا ہے، ویسے تو ”نکا“ بھی 2019 میں شائع ہوا مگر ناروے میں ان کے دوست سید مجاہد علی کے مطابق 2019 میں اس کی ”ناقص طباعت“ نے انہیں اتنا مایوس کیا کہ انہوں نے مزید لکھنے سے ہاتھ اٹھا لیا۔ تا آنکہ سید مجاہد علی نے انہیں عکس لاہور کے محمد فہد کو آزمانے کا مشورہ دیا۔ اب 511 صفحات کا یہ ناول قارئین کے سامنے

Read more

میکالے اور مشرقی ادب: چند نکات

لارڈ میکالے برصغیر کے جدید لبرل اشرافیہ کے حقیقی فکری جد امجد تھے۔ نو آبادیاتی نظام کی مطلوبہ سانچوں میں میکالے نے مقامی اشرافیہ کی ذہن سازی کی جس کے نتیجے میں غیر سفید فام مقامی کالے انگریز پیدا ہوئے۔ ذہنی طور پر آدھے تیتر، لباس و ثقافت میں آدھے بٹیر۔ لارڈ میکالے خوبصورت انگریزی لکھتے تھے۔ الفاظ کا پختہ و ماہرانہ چناؤ، بلوریں و منور crystal and metallic جملے، مضبوط و مربوط taut and tight خوش نما پیراگراف لکھنے

Read more

وجاہت مسعود کے نام محبت نامہ اور این سیکسٹن کی کہانی

قبلہ و کعبہ! مجھے آپ کے نظریات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، WE ARE BOTH ON THE SAME PAGE۔ اور اس اتفاق رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مکالمے، جمہوریت اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ایک پرامن انصاف پسند معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اپنے تمام تر اتفاق رائے کے باوجود میں قدرے اختلاف کا پہلو اس لیے نکال لاتا ہوں تا کہ آپ سے ادبی مکالمے کا بہانہ ملے۔ میں

Read more

دائرہ توڑنے کی ممکنہ کوشش کا نتیجہ

سیاست میں جماعت، نظریہ، عقیدہ، برادری اور علاقائی تعصبات کے نتیجے میں غلط اور درست کے معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ یہ تعصبات انسانی ذہن کو جکڑے رکھتے ہیں اور سیاسی وابستگی کو متزلزل نہیں ہونے دیتے ہیں۔ کبھی کبھی حکومت کا کوئی غیر مقبول فیصلہ جزوقتی ذہنی تبدیلی کا باعث بنتا ہے مگر بہت جلد ذہن گزشتہ وابستگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ موجودہ مہنگائی کی وجوہات سے قطع نظر عوام میں مہنگائی کے خلاف ممکنہ ردعمل دکھائی نہیں دیتا

Read more

اظہار الحق: نئی زمینیں اور نئے آسماں

مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اظہار الحق میرے گنتی کے محبوب شاعروں میں سے ایک ہیں اور اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں انہیں ان کے ہم عمر ہم عصروں ہی میں نہیں اردو غزل کی مجموعی روایت میں ایک ایسے منظر نامے اور ایسی فضا کو ایزاد کرتے دیکھتا ہوں جو بڑی حد تک انہی سے منسوب ہے۔ ہر دس پندرہ برس بعد غزل کو نیا کرنے والے

Read more

سیاہ آسمان: جدید اردو فکشن کے خاموش معمار اکرام اللہ کا شاہکار

اندھیری سیڑھیاں پاؤں سے ٹٹول ٹٹول کر چڑھتے چڑھتے دم پھول گیا تو سانس بحال کرنے کے لیے دیوار کا سہارا لے کر رک گیا اور ہاتھ یونہی غیرارادی طور پر سر کے ارد گرد کسے لوہے کے کڑے کو چھونے لگا۔ میں اس بلڈنگ میں باقس کے فلیٹ پر پہلے ہزار مرتبہ آ چکا ہوں مگر پہلے نہ تو سیڑھیاں کبھی اتنی اندھیری پائیں اور نہ اس قدر لق و دق خالی۔ یوں ہوا کرتا تھا کہ یہی کوئی

Read more

پاپی ”عُرف قُربِ قیامت کی نشانیاں“

(یہ تحریر ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کی مشترکہ کتاب ”پاپی“ کی فیملی آف دی ہارٹ کے زیرِ اہتمام ٹورانٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ رُونمائی میں پڑھی گئی) …………………………… ! خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار میرا بچپن لاہور کے ایک قدیم علاقے مزنگ کی گلی نمبر چالیس میں گزرا۔ (قہقہہ) ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں میرا یقین کیجیے میں بھی کبھی بچہ رہا ہوں یہ وہی مزنگ ہے جس میں نام ور شاعر مِیرا جی

Read more

غلام جائیداد

گھوڑوں کا اصطبل دو گھنٹے کی بارش سے کیچڑ ہو گیا تھا۔ پندرہ سالہ سیاہ فام للؔی اصطبل کے ایک کونے میں کیچڑ پہ کچھ اور غلاموں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بارش رکی تو اصطبل کے ملازم نے سب غلاموں کو مکئی کی ڈبل روٹی کے پانچ پانچ ٹوسٹ دیے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبا کوڑا تھا اور کمر سے ایک چمڑے کا تھیلا لٹک رہا تھا جس میں کچھ اوزار تھے۔ ملازم نے ان بیس غلاموں کو

Read more

ہمارے ڈسکہ میں محرم کے وہ دن

آپ سمبڑیال روڈ سے محلہ ٹھٹھیاراں کی گلی میں داخل ہو چکے ہیں اور آپ کو انچائی چڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اب آپ کے بائیں جانب گردوارے کی عمارت ہے، ہمارے محلے کی پرشکوہ عمارت، اور دائیں جانب بھلے کے بھائیوں کی پتیسہ بنانے کی دکان ہے، اس پتیسہ جیسا ذائقہ اب ان کی دکان کے ساتھ ہی تمام ہو چکا ہے۔ ان کی دکان کے ساتھ جونی کا گھر ہے، ان کے گھر کے ساتھ چاچو ایوب اور

Read more

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

اکثر یہ بات سننے پڑھنے میں آتی ہے کہ شیعہ اگر ملحد بھی ہو جائے تو رہتا شیعہ ہی ہے۔ پورا سال نہیں تو محرم کے 10 دن تو وہ ضرور امامی اور کربلائی نظر آئے گا۔ جون ایلیا کے اس مشہور شعر سے یہ بات ادبی دلیل بھی حاصل کر لیتی ہے خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ غضب خدا کا ، ہم اپنے امام کے نہ رہیں جوش ملیح آبادی کے الحاد اور

Read more

یوم عاشورہ پر جنگ کی ڈائری

انتفاضہ (احتجاج میں شریک امریکی طلبہ کے نام) یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کچھ نیا نہیں ہے لال مرے ایسا ہی ہوتا آیا ہے سچ بولنے کی پاداش ہے یہ تو یہ سب کچھ سہنا ہو گا دشوار سہی رستہ لیکن اس پر چلتے رہنا ہو گا یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کل یہ تیرا گہنا ہو گا ***         *** آج کی کربلا حسین آپ کے ماتم گزار ہیں ہم لوگ

Read more

پنجاب: لواخ کے بدلتے معنی کے تناظر میں

وہ شاعر اور ادیب جو مٹی کے بیانیے پر حملہ آور فاتحین کے بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں، مقامی کلچر اور زبان کے دشمن ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پستی کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی نظریہ ساز ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مٹی سے جڑے ادیب اور شاعر اپنی اصل شناخت کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں ؛اختر رضا سلیمی کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔

Read more

کیسے کیسے لوگ تھے

میرے ابا کے چچا زاد تھے۔ اُن کا اپنا نام ”مثل خان“ تھا لیکن ہم سارے کزنز اُن کو علاقائی لہجے میں ”غوٹ یعنی غٹ ابا یعنی بڑے ابا“ کہتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ تین بھائیوں میں وہ پہلے نمبر پر تھے۔ جسامت کے لحاظ سے انھیں ”نرے ابا“ کہنا چاہیے تھا۔ درمیانہ قد، ہلکی سفید داڑھی اور آنکھوں پر نظر کا چشمہ جس کا ہینڈل دھاگے سے بندھا ہوتا تھا۔ مستقلاً سفید دستار سر

Read more

 ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر

”ٹورنٹو دبئی اور مانچسٹر“ شاہد صدیقی صاحب کی آپ بیتی بھی ہے، رپورتاژ بھی یاد نامہ بھی مگر اس کو سفرنامہ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کی پیشانی پر درج ہے دل فریب شہر دل کش کردار دل ربا کہانیاں انتساب کیا ہے اس کتاب کو اپنے مینٹور راج کے نام گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جدید سفر نامے کا کینوس وسیع ہوتا جا رہا ہے لیکن اسے پڑھ کر مجھے شفیق الرحمن کی برساتی کی فضا کا ایک

Read more

تو صاحبو، یہ تھے حسن مثنیٰ۔۔۔

رات کے آخری پہر کسی وقت محمود حسن صاحب کا پیامچہ ملا (اور میں نے صبح پڑھا) کہ ان کے والد گرامی کچھ دیر پہلے راہی ملک عدم ہو گئے ہیں۔ محمود حسن محمد حسن مثنیٰ کے بڑے صاحبزادے اور انہی کے حوالے سے میرے کرم فرما ہیں۔ مثنیٰ صاحب محمد حسن عسکری کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی عسکری برادران کا سلسلہ اختتام کو پہنچا۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔ رہے نام اللہ کا! بھائیوں

Read more

شعرا میں دائیں اور بائیں رجحانات کا خاتمہ

درست یہی ہے کہ رومان اردو شاعری کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ اظہار محبت کے ہزار ہا قرینوں کے باوجود مزید امکانات موجود ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ شعرا اس خاص اور پسندیدہ موضوع کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ محبت کے دائرے کو وسعت دے کر عوامی مشکلات کو زیر بحث لایا جائے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کے باوجود محبت کی شاعری کا جواز سمجھ

Read more

کیا وقت بیت المقدس کے در و دیوار سے ٹپکتے غم کو مٹا پائے گا؟

رنگوں سے سجی، خوشبوؤں سے معطر، حسین سوچوں کا امتزاج یہ پینٹنگ جو وہ جانتا تھا کہ اس صدی کی بہترین پینٹنگ بننے والی ہے۔ سنہرے رنگ سے بڑے گول گنبد کو سجانے کے بعد اس نے پوری پینٹگ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی مگر جانے کیوں پوری پینٹگ پر ایک اداسی کی لہر تھی۔ اچانک ہی محرابوں سے خون ٹپکنا شروع ہو گیا تھا۔ اس نے تیزی سے برش اٹھا کر سفید محرابوں کو اور سفید کرنا شروع

Read more

مرزا ابن حنیف: مرد افگن عشق

یہ کیسا ستم ہے جو مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے کہ جب میں ملتان جاؤں گا تو بیکن بکس کے سامنے یا کہیں آس پاس ابن حنیف مجھے نظر آ جائیں گے۔ سیاہ رنگ کا چھوٹا سا پرانا بیگ دائیں بغل میں دابے، سفید کرتا اور شلوار پہنے، سڑک سے کچھ ہٹ کر سر جھکائے ہوئے، ارد گرد سے بالکل بے خبر اور بے نیاز ہو کر پیدل چلتے ہوئے مل جائیں گے۔ میں ایک دم ان کے سامنے

Read more

شاعر ،شاعری اور خواب در خواب

’خواب در خواب‘ ڈاکٹر خالد سہیل کے چار شعری اشاعت شدہ کتابوں کی کلیات ہے۔ کلیات ہمیشہ ضخیم ہوتی ہیں۔ یہ برس ہا برس کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔ تلاش پہلا مجموعہ آزاد فضائیں دوسرا خواب نگر تیسرا اور ادھورے خواب چوتھے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بالترتیب انیس سو چھیاسی، انیس سو نوے، اور دو مجموعہ کلام سن دو ہزار اٹھارہ میں پبلش ہوئے۔ سب سے پہلے میرے خواب آسا ذہن کو خواب در خواب کھٹکا خواب در خواب

Read more

غنیمت ہے زندگی: تیرہ فروری

 سردیوں کے خشک اور سرد ترین دن تھے، لاڑکانہ میں سردی بھی شدید اور گرمیاں بھی شدید ہوتیں ہیں، وہ بھی ایک سرد ترین دن تھا، فروری کی تیرہ تاریخ تھی، تیرہ کا ہندسہ امریکہ کینیڈا میں منحوس سمجھا جاتا ہے یہ بات ہمیں بڑے ہو کر معلوم ہوئی بہر حال اب کچھ نہیں ہو سکتا شکر ہے تاریخ تیرہ تھی لیکن دن بدھ کا، یعنی بدھ ہر کام سدھ یہ بڑوں کا کہنا ہے۔ تو جناب صبح کا وقت

Read more

بھیشم ساہنی کی یاد میں

راولپنڈی، مارچ 1947ء ، ہندو مسلم فسادات کا زور ہے۔ گلیوں محلّوں میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ افراتفری کا عالم ہے۔ ایسے میں ایک جوان رضاکار اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گلی گلی جاکر لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس دوران اُسے ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سا کنواں ہے اور عورتیں اپنی آبرو بچانے کے لیے بھاگ بھاگ کر اُس کنویں میں کود رہی ہیں،

Read more

تاریخ ادب کا ایک نادر تخلیقی شاہکار

داؤد کی لے ہے کہ ملائک کی صدا ہے اک اسم گرامی ہے کہ رس گھول رہا ہے سید تابش الوری 19 مئی 1939 ء کو پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار پاکستان کے صف ِ اول کے معروف و مشہور شعرا و ادبا کی فہرست میں ہوتا ہے شاعری کے علاوہ وہ صحافت اور عملی سیاست سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ تادم تحریر اُن کے تین اہم شعری

Read more

پُراسرار نینا ۔ فلم نگری کی جاگتی راتیں

شاہدہ جو کہ محسن عبداللہ کی فرماں بردار بیوی تھی اور اپنے گھرمیں خوش تھی اس لیے کہ علی گڑھ میں میاں بیوی کی محبت ہوئی تھی اور یہ محبت ان دونوں کے دلوں میں ایک عرصے تک برقرار رہی۔ شاہدہ اس قسم کی لڑکی تھی جو اپنے خاوند کے سوا اور کسی مرد کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی لیکن محسن عبداللہ ایسا نوجوان تھا جومختلف میوے چکھنے کا عادی تھا۔ شاہدہ کو اس کی اس عادت

Read more

کہانیاں مرتی نہیں ہیں

کوئٹہ کی تنگ و پر پیچ گلیوں میں کسی ویران کمرے میں جہاں کوئی اکیلا ہو اور صرف کتابیں سانس لیتی ہوں تو کہانیاں پڑھنا بہترین مشغلہ ہے۔ ایسے میں اگر کہانیوں کی ایسی کتابیں میسر ہوں جن کے موضوعات ہمارے اپنے معاشرے سے ہوں تو پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے۔ میں اردو فکیشن بہت پڑھتا ہوں۔ انگریزی میں چونکہ مجھے وہ مزہ نہیں آتا اور بلوچی فکشن میں بہت کم کتابیں ایسی ہیں جو واقعی پڑھنے لائق ہوں۔

Read more

عابد جنجوعہ: پوٹھوہاری گیت نگاری کا اہم نام

1983 ء میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں پنجابی پوٹھوہاری ادبی پروگرام ”پنجاب رنگ“ کے لئے پنجابی مشاعرے کی ریکارڈنگ ہوئی جس کے میزبان اختر امام رضوی اور پروڈیوسر شاہد اختر چک تھے، شعرا میں سید ضمیر جعفری، جلیل عالی، دلپذیر شاد، امداد ہمدانی، ماجد صدیقی، ڈاکٹر سعد اللہ کلیم، عابد جعفری، رشیدہ سلیم سیمیں، فضل الٰہی بہار، الطاف پرواز اور عابد حسین جنجوعہ تھے، مشاعرے میں ایک نوجوان نے پہلی بار شرکت کی اور اپنی پہلی پنجابی غزل پیش کی،

Read more

ایبنارمل سے نارمل کا سفر

دریچے کے پار سسکیاں گونج رہی ہیں اور باہر آسمان پر کھڑا چاند شرمندگی سے آنکھیں موندے کالے بادلوں کی آغوش میں اس سارے تماشے سے گویا خود کو چھپائے ہوئے ہے۔ آہ و بکا کرتی دیواریں اور نوحہ کناں ہوائیں بے چینی سے رات کی سیاہ چادر میں ایک اور خواب کو جذب ہوتا دیکھ رہی ہیں اور ان سب سے لاپروا ایک گڑیا دسمبر کی ساری سردی اپنی آنکھوں میں سجائے ساکت کھڑی اپنی ایبنارمل سے نارمل ہونے

Read more

ہیچ ہیں سب درد مرے

یہ شاید میرے ہی ساتھ ہوتا ہو کہ جب کوئی اچھی کتاب ختم کر لی جائے تو اس پر جلد کوئی رائے یا تبصرہ تحریر نہیں ہو پاتا۔ کچھ دن اس کتاب کو محسوس کرنے میں گزر جاتے ہیں۔ چند دن تک ذہن اس کی باز آفرینی اور فکری باریکیوں میں الجھا رہتا ہے اور معنی کی نت نئی تہیں خاموشی سے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لکھنے والے کی فنی مہارت سے تخلیق کیے گئے کئی دلگداز مناظر بار بار

Read more

دوسرا گھر

”رات کو کہاں سوو گے؟“ ہفتے کے روز امی نے میرے بال بناتے ہوئے پوچھا۔ ”دوسرے گھر!“ میں نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا۔ گویا یہ کسی ان لکھے مگر پیشگی طے شدہ ضابطے کا حصہ تھا کہ ہفتے کے دن اگر امی وہ سوال کریں تو اس کا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں بنتا۔ جبکہ اگلے روز اتوار ہو اور چھٹی ہو۔ اس جواب کے لئے ہرگز کسی سوچ بچار کی ضرورت نہیں تھی: ”دوسرے گھر۔“

Read more

غلام عباس اور خواتین کا رنگ حرام

غلام عباس اپنے افسانے ”سایہ“ ، ”انندی“ اور ”اس کی بیوی“ میں قدامت پسندی، سماجی پردوں کو اٹھاتے ہوئے مذہبی اور خاندانی توقعات کے تحت دبائی ہوئی خواتین کی تقدیر، امید اور عواطف کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک، خواتین کی وجودگی، آواز، اور خواہشات اکثر برقع کے پیچھے چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور فنکار کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ان دقیانوسی تصورات سے نجات حاصل کرے جس نے خواتین کے فطری انسانی کردار کو

Read more