پیغلہ (دوشیزہ) ناول

پیغلہ ناول صاحب زادہ محمد ادریس کا لکھا ہوا پشتو ناول ہے۔ جسے حیران خٹک نے دوشیزہ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ناول پشتو میں 1949 میں منظر عام پر آیا ہے۔ اور یہ ناول پشتو کے اولین و سابقین ناولوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو حیران خٹک نے بہت ہی کمال مہارت سے ترجمہ کیا ہے بلکہ ترجمے سے زیادہ یہ ایک طبع زاد ناول معلوم ہوتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر سعادت سعید کا سماجی شعور

فرد سماج کی اکائی تصور ہوتا ہے اور اکائیاں مل کر سماج کی تشکیل کرتی ہیں۔ عام آدمی گزشتہ سے پیوستہ سماجی زندگی میں ڈھلتا چلا جاتا ہے لیکن ادیب سماج کی ناہمواریوں کو محسوس کرتا ہے اور اُس کی تشکیلِ نو چاہتا ہے۔ وہ تنہا نہیں رہ سکتا اور موجود ناہمواریوں سے سمجھوتے پر بھی تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہاں سے تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے جو فکری سطح پر قطع و برید کے بعد نظریے کی صورت میں

Read more

ادب برائے؟

ایک زمانے میں جب کمیونسٹ پارٹی میں ہوا کرتے تھے تو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی یا ادب برائے مقصد یا ادب برائے نظریہ کی پرانی بحث کبھی پڑھنے کو مل جاتی، کبھی سننے کو تو کبھی اس ضمن میں کچھ کہنے کو۔ نظریہ نظریہ کی تکرار، پیچھے امام کے اللہ اکبر کہنے والوں کی قسم کے احباب ویسے ہی کیا کرتے جیسے طالبان بعد میں شریعت شریعت کی یا ان سے پہلے تبلیغی جماعت والے پورا کا

Read more

گیتا گیان

آریہ قوم تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں ہندوستان میں آ کر آباد ہوئی اور پیش قدمی کرتے ہوئے کوہ ہمالیہ تک پہنچ گئی۔ ایک وقت میں پنجاب سے بندھیاچل تک کا علاقہ ”آریہ ورت“ کہلاتا تھا۔ یہ دور ہندوستان کی تاریخ میں ویدک دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آریہ قوم نے مذہب پر توجہ دی اور ویدوں کو لکھ لیا گیا۔ قربانی کے بھجنوں پر مشتمل مجموعے شام وید اور یجر وید کی صورت میں نمو پذیر ہوئے۔

Read more

The 25th Hour ۔ وجاہت مسعود کا فلمی تبصرہ بھی مسترد ہو گیا

آمریت قوم کی ایسی جامع بے حرمتی ہے جس میں کسی ادارے کا وقار، کسی شہری کا کردار اور کسی اصول کی توقیر قائم نہیں رہتی۔

Read more

جنگِ تربوز

آج ہم آپ کو ”جنگِ تربوز“ کے بارے میں بتائیں گے۔ اس جنگ کا ذکر آپ کو ”مطالعۂ وطن“ کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ یہ جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ امریکہ اور پانامہ کے مابین ہوئی تھی اور اس کا محرک تیل نہیں، تربوز تھا۔ یہ پندرہ اپریل، اٹھارہ سو چھپن عیسوی کی ایک شام کا واقعہ ہے۔ پانامہ کے بازار سے ایک امریکی گزر رہا تھا۔ بیچارے نے تھوڑی

Read more

چاؤ چترال کا

چار بجے ہم ریسٹ ہاؤس سے نکل آئیں۔ اب میں نے چترال کے ناک نقشے پر توجہ مرکوز کی۔ کوہ ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں میں چاروں طرف سے گھری ہوئی یہ وادی اپنی چند خصوصیات کی بنا پر ہر سیاح کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ شور مچاتا کف اڑاتا دریائے چترال شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ چُیو پل پر کھڑے ہو کر شہر کا نظارہ کریں یا کسی اور جگہ سے شاہی مسجد کے بلند و بالا مینار اس کا مغلیہ طرز تعمیر اس کے شاندار گُنبد سنگ مر مر اور سرخ اینٹیں آپ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مشابہت شاہی مسجد لاہور سے جوڑیں گے۔ کسی اونچی جگہ کھڑے ہو جائیں تو پچیس ہزار فٹ سے بھی بلند تر ترچ میر کی برف سے ڈھنپی چوٹی خوبصورت اور منفرد نظر آتی ہے۔

Read more

آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں

آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے

Read more

محمد حفیظ خان کا ناول : ہر ایک جنم کی جانما

حال ہی میں شائع ہونے والا محمد حفیظ خان کا ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ ایک تاریخی ناول ہے۔ اردو میں تاریخی ناول نگاری کی تاریخ اگرچہ پرانی ہے مگر ماضی قریب میں اس کا چلن ہمیں نسیم حجازی، ڈاکٹر وحید احمد (زینو) ، خوشونت سنگھ (ٹرین ٹو پاکستان) اور امرتا پریتم (پنجر) کے ہاں نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں اس روایت کو حفیظ خان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کا ناول ”انواسی“ تاریخی

Read more

مجھے بچہ نہیں چاہیے

ہر چرچ، ہر میوزیم میں موجود مجسموں اور اکثر کرسچن گھروں میں موجود مصوری کے شاہکاروں میں خدا کا بیٹا کہہ لیں یا پرتوِ خدا، مقدس ماں کی گود میں لپٹا لپٹایا نظر آتا ہے۔ پرتگال کے اس میوزیم میں زیر نمائش یہ ایک ایسا مجسمہ ہے جس میں وہ پالن ہار دودھ پیتا نظر آ تا ہے۔ ماں اور بیٹے کا یہ مجسمہ تمام مذہبی استعارات کی طرح وہمی مورت سجھائی دیتا تھا جنہیں چھوا نہیں جا سکتا؛ وہ

Read more

غلام حسین ساجد اور جمالِ دشت ِحیرت

گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائیاں اردو ادب اور شاعری کی ہنگامہ خیز دہائیاں ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ سماج کو لکھ لیں گے تو فرد بھی اس میں آ جائے گا کہ ترقی پسندوں کا یہی دعویٰ تھا اور اب تک انہی کا سکہ چل رہا تھا۔ سماجی طبقات اور ان کی الجھنیں اس قدر توجہ پا رہی تھیں کہ فرد دھندلا تا گیا۔ جب اسے ایک خرابی کی صورت میں شناخت کیا گیا تو

Read more

ہم تو چلے کیلاش

پشاور سے چترال کے لیے جہاز میں بیٹھنے سے قبل چیکنگ سکریننگ اور جہاز کی سیڑھیوں سے آگے دروازے تک کے مرحلوں میں میں نے اپنی تمام تر چالاکیوں اور ہوشیاریوں سے اپنے آپ کو کھڑکی کے ساتھ سیٹ لینے کے چکر میں گھُما پھرا کر آگے آگے رکھا۔ پر اس ساری تگ و دو پر پانی پھر گیا جب ایر ہوسٹس نے بورڈنگ کارڈ مانگا جو مجھے جلدی میں سٹیورڈ سے لینا یاد نہیں رہا تھا۔ نتیجتاً نیچے جانا پڑا۔ اور جب واپس آئی پروین عاطف کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر قبضہ جما چکی تھی۔ ہانپتے ہوئے میں سیٹ پر ڈھے سی گئی۔

Read more

ایک جھیل کی کہانی

اس جھیل کی کوئی کہانی نہیں۔ اس پہ کوئی پری نہانے آتی ہے نہ اس پہ کوئی دیو پہرہ دیتا ہے۔ اس جھیل سے کوئی رومان وابستہ ہے۔ نہ ہی کسی لشکر کے پڑاؤ کا کوئی تذکرہ۔ ہاں مگر یہ جھیل خود ایک کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں جانے کتنی آہیں، کتنی چیخیں، کتنی ہی سسکیاں دفن ہیں۔ کتنے ہی ارمان، امیدیں، ارادے اور کتنی ہی خواہشیں اس کی تہہ میں بیٹھ چکی ہیں۔ یہ جھیل ان آنکھوں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (8)

”میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ یُوحناّ 13 : 34۔ 35 میں جیسے ہی انکل شاہد کی گلی میں مڑا، ان کے گھر سے شور کی آواز سنائی دی۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچا، شور بڑھتا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ بہت سے

Read more

وائٹ گولڈ (کپاس) اور ہماری معیشت

گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے سے مایوس کسان اب اپنی امیدوں کو کپاس سے جوڑ رہا ہے۔ حکومتی ادارے بھی کپاس کی کاشت اور اس کی حفاظت کی مہم زور شور سے چلا رہے ہیں۔ کپاس جسے وائٹ گولڈ یعنی ( سفید سونا ) بھی کہا جاتا ہے اور اس کی فصل کو کیش کراپ (یعنی نقد آور فصل ) کہا جاتا ہے اس کے ریشے سے ایک جانب ہمیں پہننے کے لیے کپڑا اور دھاگہ حاصل ہوتا ہے

Read more

دنیا جائے بھاڑ میں

جب گھر کے باقی تمام افراد اپنے اپنے کاموں کے لئے چلے گئے تو ماں نے گھر کی ملازمہ کو بھی مارکیٹ بھیجا اور باہر کا گیٹ بند کر دیا۔ پھر اندر آئی، کمرے کو لاک کیا، بیٹی کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور بولی۔ ”ہاں اب بتاؤ مسئلہ کیا ہے؟“ ۔ بیٹی نے اُلٹا سوال کیا ”کاہے کا مسئلہ امّی جان؟“ ۔ ”ایک تو کوئی مجھے سمجھائے کہ آج کل کی بیٹیاں بڑی ہو کر یہ کیوں سمجھنے

Read more

کیا سیاست ہمارے رویّے میں شدت پیدا کرتی ہے؟

اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ایک ذاتی سا احساس شیئر کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مقیم اپنے بعض پرانے دوستوں سے جب کبھی فاصلاتی رابطہ ہو تو میں ان کی اور اپنے دوستوں کی خیریت جاننے کا متمنی ہوتا ہوں۔ پوچھتا ہوں: ”یار، فلاں دوست کیسا ہے؟ کافی روز سے بات نہیں ہوئی۔“ دوسری جانب سے ناگواری سے جواب ملتا ہے: ”ارے، کس بے ایمان کی بات کر رہے ہو۔ کراہت

Read more

کیا آپ تخلیقی اقلیت سے واقف ہیں؟

دنیا کے ہر معاشرے میں افراد کے دو گروہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت۔ روایتی اکثریت پر مشتمل افراد مروجہ معاشرتی رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سوچ اور ترجیحات معاشرے اور خاندان کے بنائے گئے سانچوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ جن سے انحراف گناہ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ روایتی اکثریت میں تخلیقی اذہان نہ ہونے کے برابر ہوتے

Read more

ہبہ ابو ندیٰ کی غزہ سے آخری نظم

کہا جاتا ہے کہ غزہ کی 32 سالہ شہید شاعرہ اور فکشن نگار ہِبہ کمال صالح ابو ندیٰ کی آخری نظم ”پناہ“ ہے۔ وہ 20 اکتوبر 2023 ء کو اپنے گھر میں موجود تھیں کہ اسرائیلی طیارے ان کے گھر پر بم برسا کر اور اسے ملبے کا ڈھیر کر کے ان کی قبر بنا گئے تھے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا ہے۔ پوری دنیا سراپا احتجاج ہے مگر عالمی طاقتوں کی پشت

Read more

جانا ہمارا کیلاش

یہ بات ہے اُن دنوں کی جب پروین عاطف اپنے ایک ڈرامے کے لئے اپنی ٹیم کے ساتھ کیلاش جا رہی تھی۔ نیلم احمد بشیر نے یونہی مجھ سے پوچھا کالاش جانا ہے؟ بھئی نیکی اور پوچھ پوچھ۔ جانے کے لئے جو جھمیلے سُننے کو ملے وہ میرے لئے قطعی اجنبی تھے۔ پروین عاطف فون پر بڑی دلگیر سی تھیں۔ مشی خان پلہ نہیں پکڑا رہی ہے وہ سید نور کی ”بلی“ کی شوٹنگ میں مصروف ہے میری ہزار خواریوں

Read more

منو بھائی: نایاب ہو تم

میری پسندیدہ ادبی شخصیت ”منو بھائی“ کو ہم سے بچھڑے کئی سال بیت گئے لگتا ہے گویا صدیاں بیت گئی ہیں۔ انہیں خراج تحسین پیش کرنا میرے لیے ہمیشہ ہی مشکل رہا ہے کیونکہ باوجود کوشش کے وہ لفظ ملنا ناممکن ہو جاتے ہیں جو ان کی تعریف میں لکھے یا بیان کیے جا سکیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ منو بھائی ایک عظیم شخصیت تھے وہ بہت زبردست دانشور، شاعر ڈرامہ نگار اور ایک عظیم مصنف تھے۔ جنہوں نے

Read more

”ادارہ یاد گار ِ غالب“ (2)

”ادارہ یادگار غالب“ 1968 ءسے 1984 ءتک اپنے تشکیلی دور میں رہا۔ 1975 ءتک مرزا ظفر الحسن نے پچاس سے زائد علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کروائیں۔ جن میں مرزا غالبؔ کی صد سالہ برسی، دو ادبی اجلاس، کتابوں اور تصاویر کی دو نمائش، کل پاکستان محفل موسیقی، اور کل پاکستان مشاعرہ شامل ہے چودہ کتابیں شائع کیں۔ جن میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور بنگلہ سے کیے گئے اردو تراجم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسی دور میں

Read more

کاسنی پھول

گاڑی پارکنگ میں پارک کر کے میں نے ہسپتال کی طرف جانے والا اندرونی راستہ (pedway) لیا۔ آج خوش قسمتی سے دوسری منزل پر پارکنگ مل گئی تھی۔ میں پیڈوے میں داخل ہوئی تو مشرقی جانب کے بڑے بڑے شفاف شیشوں سے بنی دیوار میں سے چنتی ہوئی نرم دھوپ نے میرے وجود کو چھوا۔ میں نے اپنے قدم ارادتا آہستہ کر لئے۔ دھوپ کی طرف اپنا چہرہ موڑ لیا۔ اس کی نرم تمازت کو اپنے وجود میں داخل ہونے

Read more

عجب آزاد مرد تھا: ڈاکٹر اجمل نیازی

کسی فن کار، ادیب اور شاعر کو ایسا شخص میسر آ جائے جو اس کے جملہ فن کو دُنیا کے سامنے لے آئے، یہ کسی فنکار، ادیب اور شاعر کی خوش نصیبی ہو گی، ہزاروں فن کار، اُدبا اور شعرا دُنیا میں آئے، اپنے فن کا لوہا منوایا اور رخصت ہو گئے، چند خوش نصیب ایسے ہیں جنھیں تحقیق کی غرض سے کہیے یا محبت و اِلتفات کی نگاہ سے کسی نے مُقفل الماریوں سے باہر نکالا اور ازسرِنو دُنیا

Read more

عالم میں تجھ سے لاکھ سہی، تو مگر کہاں

رب کائنات نے ہر زمانے میں ایسے مردانِ کار پیدا کیے ہیں، جنھوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی جیسے سائنس، طب، سیاست، ادب اور سماجی بہبود کے میدانوں میں ایسے محیر العقول اور نادر کارنامے انجام دیے ہیں، جنھیں نہ صرف ان کے زمانے میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا بلکہ ان کے بعد کے زمانے بھی ان کے معترف اور باج گزار رہے ہیں۔ اُن کے کارنامے اُن کے اخلاص اور ایثار سے معمور ہوتے ہیں اس لیے ان

Read more

سات جنم: ناول یا ہمارے زوال کی کہانی

وہ ایک مصنف سے ملاقات اور کتاب کے اجرا کی تقریب تھی۔ ایک مختلف تقریب جس میں ادیب خال خال تھے مگر اسلام آباد کلب کا ملٹی پرپز ہال موجودہ اور سابق بیوروکریٹس سے چھلک رہا تھا۔ کتاب پر بات کرنے والے ہم تین تھے اور چوتھے شکیل جاذب جو ناظم ہو گئے تھے۔ ان چاروں میں، میں اکیلا تھا جو اکثریتی شمار قطار میں نہ آتا تھا۔ شکیل جاذب، ظفر حسن رضا، ڈاکٹر وحید احمد نے ساری کہانی کھول

Read more

کلاسیکی چینی ادب کا شاہکار ناول ”دریائے ہولن کی کہانیاں“ ۔ ایک تعارف

معروف چینی ادیبہ شیاؤ ہونگ 1911 میں، شمال مشرقی چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے ایک امیر زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا پیدائشی نام چنگ ناین تھا۔ وہ نو سال کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہو گیا، اور شیاؤ ہونگ کی ذمہ داری ان کے سرد مہر اور سخت گیر والد پر آن پڑی، لیکن ان کی پرورش ان کے محبت کرنے والے دادا کے ہاتھوں میں ہوئی جنھوں نے انھیں کلاسیکی شاعری پڑھائی۔

Read more

مردے کی آنکھیں کھلیں تھیں (بقیہ) سلیم رضا ٹھاکر

بیٹا سائیکل نہ مل سکنے کی وجہ سے سال بھر روتا رہا، اس کے ہم عمروں کے پاس سائیکلیں تھیں، میری اوقات نہیں تھی، اس کو کیوں نہیں پتہ چلا؟ میں اس کے لیے ایک بے کار تھا، میرے جینے مرنے سے فرق نہیں پڑتا۔ اچھا چلو سمجھ جائے گا، وقت سمجھا دیتا ہے، ویسے بھی یتیموں کو جلدی سمجھ آ جاتی ہے۔ جتنے شیشم کے تنے سے لپٹے تھے، تقریباً اتنی ہی تعداد میں کچھ ایک ٹولی کی شکل

Read more

رات، اور مَیں سفر میں: جدید آئرش شاعر جوزف کیمبل اور اُن کی نظمیں

اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے کا شوق مجھے بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ یہ ”بچپن سے“ محاورتاً نہیں لکھ رہا۔ واقعتاً لکھ رہا ہوں۔ گھر میں والد صاحب جناب یزدانی جالندھری کی کتابوں کا جو ذاتی ذخیرہ تھا اُس میں کتنی ہی زبانوں کی کتب اور جرائد موجود تھے۔ میں طبع زاد اردو ادب کے ساتھ ساتھ ان کی محفوظ کی ترجمہ شدہ کتابیں بھی ”چٹ“ کر جاتا تھا۔ مثلاً کی کتابوں میں مجھے قیامِ پاکستان

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (7)

”میں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسول کہتے ہیں اور ہیں نہیں، تُونے اُن کو آزما کر جھوٹا پایا۔ اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطر مصیبت اٹھاتے اٹھاتے تھکا نہیں۔“ مُکاشِفہ 2 : 2۔ 3 پادری پال کے گھر کے دروازے پر کنڈی میں ایک موٹا سا زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا۔ انہوں نے

Read more

’اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں‘

احمد مشتاق کے ساتھ ایک دن – 26 جون 2023ء ۔ امریکا میں ہوسٹن شہر کے ایک ہوٹل کے باہر ڈرائیو وے کے فٹ پاتھ پر، اپنی کافی اور سگریٹ لے کر بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک ایسے شخص کا انتظار ہے جس کو مل کر عمر رفتہ، جو کبھی نہیں لوٹتی، والہانہ انداز میں مجھ سے لپٹ جاتی ہے۔ میں اس کے انتظار میں ساری عمر اسی طرح فٹ پاتھ پر بیٹھ سکتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی آ

Read more

میں اور ریڈیو پاکستان: لمحہ بہ لمحہ

فی زمانہ جہاں لوگ پیسہ کمانے کی غرض سے بھی اپنا سرمایہ اور پیسہ لگا نے کا خطرہ مول نہیں لیتے صرف اس خیال سے کہ آیا اس کا ریٹرن ملے گا یا نہیں یا یہ کہ کہیں اس کاروبار میں نقصان نہ ہو جائے یعنی سو وسوسے اور خیالات ذہن میں آتے ہیں کہ کہیں سرمایہ ڈوب نہ جائے۔ اور یہ بھی اس صورت میں کہ جب اس میں کاروبار کی کامیابی اور منافع کے بھی امکانات موجود ہوتے

Read more

تقسیم کے بنیادی ہتھیار تشدد اور توڑ پھوڑ ہوتے ہیں

یہ دریائے راوی ہے جس کا پانی عاشقوں کی آنکھ سے زیادہ صاف اور اِس کی چراہ گاہیں باغ اِرم سے زیادہ خوشگوار تھیں۔ یہ دریا تہذیبوں کا امین اور رازوں کا مکین ہے۔ یہ دریا گورو نانک جی مہادیو کے جنم استھان ( ننکانہ صاحب) سے لے کر اُن کے دُنیا سے کنارہ کرنے تک (کرتار پور) کی زندگی کا چشم دید گواہ ہے۔ گورو نانک جی مہادیو کی سادہ سی تعلیمات نے ہند کے سماج میں ایک زبردست

Read more

بے ثمر راہ کی ثمر

ثمر نے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولی۔ رزق اور بہن بھائیوں کی فراوانی میں زندگی خوبصورت اور مصروف تھی۔ باپ اچھے سرکاری عہدے پر تھا اور فضل ربی پر بھی یقین رکھتا تھا سو گھر میں خدا اور بندوں کا دیا سب کچھ تھا۔ یہ شہر ملک کا وہ علاقہ ہے جسے کوئی صوبہ دل سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی کے زمانے میں اس شہر نے پوری پوری قیمت چکائی اور ہنستا بستا شہر بارود کا

Read more

فضیلت بوا کا فیض اور ہماری اماں

یہ تحریر مجھے لکھنی تو ماؤں کے عالمی دن پر تھی مگر بس کیا کیجئے کہ آج کل جس کیفیت سے گزر رہی ہوں اس میں چیزوں اور وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ نورانی سفید چہرہ۔ چاندی کی طرح چمکتے سفید بالوں کی لمبی سی چٹیا جسے تیل لگا کر کس کے باندھ کر پیچھے ڈال دیا جاتا تھا۔ نماز کی طرح بندھا ہوا سفید براق دوپٹہ ہمیشہ خوبصورت دمکتے دودھیا سفید چہرے کے گرد ایک نورانی ہالہ بنائے

Read more

بہت خوبصورت امی جان اور ان کے بہت سے دکھ

ماں کسی کی بھی ہو ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہے اور ہمیشہ دکھ جھیلنے کے لیے ہی اس دنیا میں ‌آتی ہے۔ شاکر کی امی تو بہت خوبصورت تھیں ‌اور اسی لیے بہت سے دکھ جھیل کر آج اس جنت کی طرف روانہ ہو گئیں جو ان کے قدموں کے نیچے تھی۔ میں نے امی کو پہلی بار کالج کے زمانے میں دیکھا تھا۔ شاید 1981 کے ستمبر اکتوبر کی بات ہو گی جب یہ فیملی خونی برج سے چاہ بوہڑ

Read more

پھوہڑ عورت

اسے یقین ہو گیا تھا کہ عورت کی تعریف صرف اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اس کی ماں نے اس کی تعریف کی کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ کبھی تعریف نہ کرنے والی ماں کے منہ سے تعریف سن کر وہ ہواوں میں اڑنے لگی تھی۔ وہ شوق اور محنت سے سارے خاندان کے لیے پکاتی رہی۔ ماں کو باورچی خانے کی قید سے رہائی مل گئی اور اسے تعریف کے

Read more

"خواب سراب” اور یوسا کا فن

صاحبِ کتاب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن ایک اچھی تخلیق منظر عام پر لانے سے نام پیدا کیا جاسکتا ہے۔ عمارہ علی کی کتاب ”خواب سراب“ کا فنی و تکنیکی تجزیہ، ؛ یوسا کے تصور فن کے تناظر میں ؛ پڑھی جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ عمارہ علی لیکچرار اردو ہیں اور ان دنوں اردو میں ڈاکٹریٹ کر رہی ہیں۔ کتاب ہذا ان کے ایم۔ فل کا مقالہ ہے جسے بہت عرق ریزی سے لکھا گیا

Read more

ادارہ یادگار غالبؔ (1)

”ادارہ یادگار غالبؔ“ کراچی ماضی میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ رہا ہے۔ فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن کا شمار اس ادارے کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ غالبؔ کی صد سالہ برسی کے موقع پر کراچی میں 1969 ءمیں قائم کیا گیا۔ غالبؔ لائبریری کا قیام بھی اسی ادارے کے تحت عمل میں آیا۔ اس ادارے کے پہلے صدر فیض احمد فیض اور جنرل سیکرٹری ظفر الحسن منتخب ہوئے۔ غالبؔ

Read more

تین شاعر ایک خیال

ساحر لدھیانوی۔ احمد فراز اور مسرور انور اپنے عہد کے بے مثال شاعر تھے جنہوں نے روایتی شاعری کے علاوہ فلمی شاعری میں بھی خوب نام کمایا۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ میری اس تحریر کا مقصد کیسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ہرگز نہیں بلکہ ان تینوں کے خیالات کا اظہار ایک ہی موضوع پر پیش کرنا ہے جس سے اختلاف ممکن ہے۔ فراز کی نظم ”پیغام بر“ واقعی کمال ہے اور آج

Read more

عورتیں اور زندگی کا مختلف دائرہ

گزشتہ دنوں انقرہ یونیورسٹی، ترکیے کی بین الاقوامی اردو کانگریس میں بطور مہمان مقرر آن لائن شرکت رہی اور ”اردو ادب میں عورت کے تصور“ پر بات کر کے لگ بھگ انہی باتوں کو دہرایا جو اس موضوع پر میں گاہے ماہے کرتا آیا ہوں۔ میں نے باقی مقررین کو بھی توجہ سے سنا، اچھا لگا اور شدت سے احساس ہوا کہ بعض باتوں کو دہرایا جانا بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے اس کانگریس کا اہتمام انقرہ یونیورسٹی،

Read more

مردے کی آنکھیں کھلی تھیں

اچھا، بھلا، پڑھا لکھا، خوبرو، بہت سوں سے اچھا کردار و روزگار، میل ملاپ والا اڑتیس سالہ، چھے بچوں کا باب۔ احساس ذمہ داری داری محسوس کرتے ہوئے ڈبل ڈیوٹی تو اس نے تیسرے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع کردی تھی، رات کو کبھی گھر آ جاتا کبھی وہاں ہی روکھی سوکھی لے کر سر چھپا لیتا۔ مل مالک نے مزدورں کی بھلائی کے لیے خدا خوفی کرتے ہوئے تیزابی پانی کے اخراج والی طرف ایک لمبا سا

Read more

شکست تخت پہلوی (3) – بوڑھا شیر

4 فروری 1949 کی ایک زرد دوپہر تہران یونیورسٹی کی فضا گولیوں سے گونج اٹھی جہاں لوگوں کا مجمع شاہ کی آمد پر جمع ہوا تھا۔ شاہ کھلی جگہ پر درجنوں لوگوں کے درمیان سے گزر رہے تھے جب ایک شخص نے کیمرے میں چھپا ریوالور نکالا، ان کے سر کا نشانہ لیا اور نزدیک سے فائر کر دیے۔ شاہ کہتے تھے۔ ”پہلی تین گولیاں میرے سر کو چھوئے بغیر میری ملٹری کیپ سے ہوتی ہوئی گزر گیں۔ لیکن حملہ

Read more

افسانہ۔ کالی شلوار والی – منٹو کے جنم دن پر انہیں خراجِ عقیدت

نئی سرکار نے آتے ہی ملک میں انقلابی تبدیلی کے لئے ہر شعبے میں اکھاڑ پچھاڑ کا آغاز کر دیا تھا۔ دوسرے شعبوں کی طرح ادب پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور ملک کے ادیبوں کے لئے کچھ قاعدے قانون بنائے، جن پر عمل درآمد کا آغاز ایک شاندار سیمینار سے کیا جا رہا تھا جو اُس چوٹی کے ادیب کے اعزاز میں تھا جسے کبھی کسی سرکار نے بھولے سے بھی یاد نہیں کیا تھا۔ مگر نئی سرکار

Read more

ساجن پور کی رادھیکا

اس نے اب دن گننا چھوڑ دیے تھے۔ ایسا نہیں کہ کبھی حساب نہیں رکھا۔ کچھ مہینے تک وہ گنتی رہی۔ شاید چھ یا سات مہینے لیکن اب اسے مکمل یقین تھا کہ وہ مر چکی ہے اور سزا کے طور پر وہ مسلسل ایک ہی دن کو بار بار جیئے جا رہی ہے۔ ہر صبح اٹھ کر وہی دن اس کے سامنے ہوتا جس کو وہ کئی عرصے سے روز گزارتی تھی۔ اس دن ہونے والے تمام واقعات اسے

Read more

ماں بننے کے خواب اور عذاب

ڈاکٹر سارہ علی ڈاکٹر خالد سہیل ۔ ۔ ڈاکٹر سارہ علی کا خط ۔ ۔ میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، کچھ دن پہلے ایکس (ٹویٹر ) پر میں ایک ایسے باپ کے متعلق خبر پڑھی جو امریکہ میں ایک میراتھون ریس میں حصہ لے رہے تھے اس ریس کا مقصد بوسٹن کے بچوں کے ہسپتال کے لیے فنڈ اکٹھے کرنا تھا کیونکہ یہ وہ ہسپتال تھا جہاں پیڑرک کلینسی کے بچوں کو ان کے آخری لمحات میں ’جب ان

Read more

کریم منزل اور میرا بچپن

2010ء میں روزنامہ جنگ کے میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے میں نے ملتان کے طرز تعمیر اور ایسی عمارتوں پر فیچر لکھوائے جو قیام پاکستان سے پہلے تعمیر ہوئیں اور جن پر ہندو طرز تعمیر کے اثرات تھے۔ ایسی عمارتیں آج بھی ملتان کے مختلف مقامات پر موجود ہیں لیکن ان دنوں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ فوری طور پر اس حوالے سے جو عمارتیں ذہن میں آئیں ان میں بوہڑ گیٹ، اندرون نواں شہر اور صدر بازار سے

Read more

خود کشی سے پہلے آخری خط

انگلستان کی مایہ ناز ادیبہ ورجینیا وولف نے مارچ 1941 میں فیصلہ کیا کہ وہ ڈپریشن کی اذیت سے اتنا تھک چکی ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبوں کو بھاری پتھروں سے بھرا اور اپنے گھر کے قریب دریا میں اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ واپس لوٹ کر نہ آئیں۔ خودکشی کے لیے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے شوہر لینرڈ وولف کے لیے ایک خط چھوڑ گئیں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 6 : دعوت اسلام

”اپنے پڑوسی کے خلاف برائی نہ سوچو، جو تمہارے پاس اعتماد سے رہتا ہے۔“ امثال 3 : 29 غریب آباد کی بستی اسم با مسمیٰ تھی۔ جھگیوں کی اس بستی میں کچھ کچے پکے مکانات بھی تھے۔ ایک روز شام کو میں وہاں سے گزر رہا تھا کہ اچانک پادری پال سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ سامنے سے سائیکل پر آرہے تھے۔ مجھے دیکھا تو اتر گئے۔ ”آؤ میرے ساتھ، میں نے تمہارے لیے ایک کتاب رکھی ہے،“ وہ میرے کندھے

Read more

ماں کو حنوط کرنا

کوئی رات اس پر اتنی بھاری نہیں تھی۔ کسی رات کا سکوت اتنا گہرا نہیں تھا۔ آج تو دنیا کی ہر چیز، ہر ذرہ اس خاموشی سے چھو کر ایک سکتے میں بدل گیا تھا جیسے بن چاند کی رات میں سمندر کی ہر موج سکوت آموز ہو جاتی ہے۔ یہ گہرا سکوت دنیا کے نشیب و فراز پر بھی طاری ہو چکا تھا۔ گہری تاریکی کو توڑتی ایک کافوری شمع کی ٹمٹماتی لو اس سکون مطلق کی ہیبت کو

Read more

بیگم صاحبہ

آج بھی نواب صاحب کے کمرے سے آنے والے بازاری عورت کے قہقہے بیگم صاحبہ کی نماز میں مخل ہو رہے تھے لیکن وہ حسب معمول جائے نماز پر بیٹھی نواب صاحب کے حق میں دعائیں کر رہی تھیں۔ وہ کئی سال سے یہ بازاری آوازیں سن رہی تھیں مگر مجال ہے جو خاندان کے کسی فرد سے نواب صاحب کی رنگین مزاجی اور اپنی مظلومیت کے تذکرے کر کے ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کی ہو۔ خدا خود ہی جانے

Read more

کیا آپ سلویا پلاتھ کی شادی، شاعری اور خودکشی کی کہانی جانتے ہیں؟

سلویا پلاتھ کی کہانی اس لکھاری کی کہانی ہے جو اپنے مرنے کے بعد ادب عالیہ کی دنیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فن ان کے پاگل پن اور شاعری ان کے اقدام خود کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ سلویا پلاتھ 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا

Read more

فرزین کی خوشیاں بانٹتی کہانیاں – محمود شام کی تحریر

محمود شام کی تحریر خوش رہے فرزین لہرا کہ اس کی ٹہلتی مچلتی لکھت یہ اطمینان دلا دیتی ہے۔ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے کیبورڈ والی پیڑھی لوح و قلم سے دور نہیں ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی بہت سلیقے سے سنوارے گئے چمن میں قدم رکھا ہے۔ پھول کلیاں ٹہنیاں سب ”جی آیاں نوں“ کہہ رہے ہیں۔ ہر طرف ایک تازگی۔ شگفتگی۔ نغمہ سرائی۔ ہم اپنی تحریروں میں زبردستی اپنا بڑا پن۔ عقلمندی مسلط کرتے ہیں۔ مگر

Read more

فضائل ماہ مئی

قومی تاریخ میں شمسی کیلنڈر کا پانچواں مہینہ، مئی المبارک، سید الشہور یعنی مہینوں کے سردار کی حیثیت رکھتا ہے جسے دیگر مہینوں پر ڈھیروں فضیلتیں حاصل ہیں۔ اکتیس ایام پر مشتمل مئی ہمیشہ مئی میں ہی آتا ہے۔ یہ مہینہ یوم پاکستان سے سوا ماہ اور یوم آزادی سے اڑھائی ماہ کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ مہینہ عجیب و غریب واقعات و سانحات، معجزات و کرامات، جشنیات و تہنیات اور واہیات و شطحیات کے امتزاجات کا حامل ہے۔

Read more

اوجڑی کیمپ کا سانحہ

یوں لگتا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا تھا۔ خوب صورت شہر کہوٹہ میں مجھے عارضی طور پر تعینات کیا گیا تھا اور میں جب اس شہر کی طرف پہلی بار آ رہا تھا تو وہاں کی ریسرچ لیبارٹری کے جتنے قصے کہانیاں سن چکا تھا، ان کے سبب ایک بھید سا اس شہر سے وابستہ ہو گیا تھا۔ میں تجسس میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ نیم پہاڑی راستے پر گاڑی آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھتی جا

Read more

ناول: زوربا یونانی کا تعارف

زوربا یونانی نامور یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس ( 18 جنوری 1883۔ 26 جنوری 1957 ) کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ نیکوس کیزنزاکیس سلطنت عثمانیہ کے شہر اکلیون میں پیدا ہوا تھا جو اب یونان کے پاس ہے۔ زوربا یونانی پہلی بار 1946 میں یونانی زبان میں چھپا۔ 1953 میں کارل وائلڈ مین نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اور اب یہ اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اس اہم

Read more

استاد رشید

ہمیں یقین ہے کہ ترک شیرازی نے کبھی انسانی ہیلی کاپٹر نہیں دیکھا ہو گا۔ خدا بخشے، یہ ہمارے استاد رشید، ملک خدا بخش کی ذاتی ایجاد تھی۔ شہر میں اس ایجاد کا بہت شہرہ تھا اور دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے تھے۔ بعد میں مقامی اسکولوں کے دیگر اساتذہ نے بھی ان کی نقالی کرتے ہوئے انسانی ہیلی کاپٹر تیار کیے مگر ان میں وہ بلند پروازی نہیں تھی۔ مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔

Read more

دوسرے کا عیب ہی آپ کو سچ بولنے پے مجبور کیوں کرتا ہے؟

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، اور سچ کا دل نہیں ہوتا۔ سچ کا بول بالا اور جھوٹ کا منہ کالا، اسی محاورے کے مصداق سچ بولنے کو ایک طاقت سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ سچ بولنا اکثر اوقات آپ کو مشکلات میں بھی ڈال دیتا ہے، تو پھر یہ تاویل دی جاتی ہے کہ سچ کڑوا ہے نا، ہضم نہیں ہوتا۔ جو سچ آپ بول رہے ہوتے ہیں، وہ کڑوا اس لیے ہوتا ہے، کیونکہ وہ کسی کا عیب ہوتا ہے۔

Read more

صلیبیں اپنی اپنی

”مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین ورثے میں پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راست بازی کی بھوک اور پیاس رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سیر ہوں گے۔ “ متی 5 : 5۔ 6 میرا روزانہ کا معمول تھا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انکل شاہد کے گھر جاتا تھا۔ جیسے ہی دروازے میں لگی ہوئی کنڈی بجاتا، کسی بچے کی آواز آتی، ”سر آ گئے۔“ حالاں کہ دروازہ کھلا رہتا تھا مگر میں انتظار کرتا

Read more

ورجینیا وولف’ ڈپریشن اور نسوانی ادب

تخلیق : ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ: ہما دلاور ورجینیا وولف بیک وقت خوش نصیب بھی تھیں اور بد نصیب بھی۔ ایک طرف انہوں نے تخلیقی اظہار کی بلندیوں کو چھوا اور ایسے ناول لکھے جو ان کی وفات کے پچاس سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی عالی قدر مقام رکھتے ہیں، دوسری طرف انہیں بار بار ڈپریشن کے دورے جھیلنا پڑے اور آخرکار انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبیں پتھروں سے بھریں اور پانی کی جانب

Read more

بھگوان کا گورکھ دھندا

میرا خیال تھا کہ بھگوان سے ملنا بہت آسان ہو گا۔ خاص طور پر اگر آپ کو سورگ میں جگہ مل گئی ہو تو آپ اپنے آپ کو ایک طرح سے وی آئی پی ہی سمجھتے ہیں۔ ایک انتہائی اہم شخص جس پر مرنے کے بعد جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں جسے بھگوان کی آشیرباد میسر ہو، جس سے بھگوان سہمت ہو، اسے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہ تو چنیدہ ہے جو چاہے کرے، جو سمجھے، اس

Read more

گلفام نقوی کی شاعری میں محبت کی باز گشت

گلفام نقوی کا تعلق سید گھرانے سے ہے۔ آپ کے جد امجد سید زین العابدین نے چنیوٹ سے ہجرت کر کے پیر محل میں سکونت اختیار کی۔ آپ ولی اللہ تھے۔ تصوف، تقوی اور پرہیزگاری کی وجہ سے آپ پورے علاقہ میں مشہور تھے۔ آپ نے یہاں آ کر بہت ہی خوبصورت حجرہ تعمیر کروایا جو اپنی شان و شوکت اور طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ تھا۔ لوگ آپ کے حجرے کو پیر محل کے نام سے پکارنے لگے اور

Read more

خوابوں کے صورت گر احفاظ الرحمن کا شکریہ

ہم پہ بہت سے لوگوں کے احسان ہوتے ہیں جن کی شکرگزاری کا کبھی ہم اظہار کرتے ہیں اور کبھی اپنا حق سمجھ کے نہیں بھی کرتے۔ لیکن جب کوئی آپ کی پہلی کتاب اس وقت چھپوائے جب آپ کو یقین ہی نہ ہو کہ کتاب چھپنے کا یہ خواب کبھی پورا بھی ہو سکتا ہے تو وہ احسان معمولی نہیں ہوتا۔ اور ہم سب کو پتا ہے کہ صحافی احفاظ الرحمن ہر کام غیر معمولی ہی ہوا ہے۔ آخرکار

Read more

ٹیڑھا لگا ہے قط، قلم سرنوشت کو

(نوٹ : ادارہ تالیف و ترجمہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر زاہد منیر عامر کی طرف سے میرے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا، اس تقریب میں پڑھی گئی تحریر پیش کر رہا ہوں۔) میرے لیے یہ ایک خاص الخاص لمحہ، بلکہ نادر و نایاب لمحہ ہے۔ میری سبک دوشی پر منعقد کی گئی یہ تقریب کئی لحاظ سے نادر و نایاب ہے۔ یہ کسی اور زمان و مکان میں بھی ہو سکتی تھی مگر اے بسا آرزو کہ خاک

Read more

رفاقت حیات کا ناول: رولاک

ناول اگر ضخیم ہو تو اس کے یک نشستی مطالعے کے لیے ذہنی یکسوئی اور فراغت کا ہونا لازمی عنصر ہے۔ اگر فراغت کے ساتھ ذہنی یکسوئی میسر نہ ہو تو یک نشستی مطالعے میں ختم نہ ہونے کی وجہ سے ناول کی طوالت قاری کے لیے بار گراں بن جاتی ہے اور نتیجتاً وہ دلچسپی کھو دیتا ہے اور ناول کے حقیقی حسن کمال سے حظ اٹھانے میں ناکام رہتا ہے اور یوں اپنی ناکامی کی جھنجھلاہٹ میں وہ

Read more

پہلوٹھی اولاد کا عذاب: ایٹگرکیریٹ کی کہانی

{ایٹگرکیریٹ کی کہانی Plague of the Firstborn کا اردو ترجمہ} مترجمہ: اسما حسن جون کے آخر میں، مینڈکوں کے طاعون کے بعد ، لوگوں نے وادی کو گروہ در گروہ چھوڑنا شروع کر دیا۔ جو لوگ استطاعت رکھتے تھے انہوں نے اپنی املاک پر ایک نگراں مقرر کیا، اپنے خاندانوں کو ہمراہ لیا اور نوبیا کے طویل سفر پر روانہ ہو گئے جہاں وہ عبرانیوں کے خدا کے غضب کے ٹھنڈا پڑ نے اور طاعون کے ختم ہونے کا انتظار

Read more

سب کچھ حرام جو تم کرنا چاہو : کیف الحال سےگاڑی نہ چلانا بے بے

سعودی خواتین کی ڈرائیونگ اور سفر سے وابستہ مسائل پر بیس بائیس سال پرانی طنزیہ اور معلوماتی تحریر۔ آج کا سعودی عرب بہت بدل چکا اور عورتوں کے لئے اتنی مشکلات نہیں رکھتا جو اُس وقت موجود تھیں اور لکھنے والے نے لگی لپٹی رکھے بغیر تحریر کی تھیں۔ یہ اور بات کہ کوئی اخبار اس وقت سعودی حکومت کی ناراضگی کے سبب اسے چھاپنے پر تیار نہ تھا۔ اور نہ کوئی سرکاری ادارہ ایسی تحریر کو اپنے کسی ملازم

Read more

چاند کے ليے عنقريب الگ ٹائم زون کا تعيّن

”ناسا“ ، چاند کے لیے الگ ٹائم زون کا تعین کرنے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہی کہ بہت جلد چاند پر آمدورفت کا ایک ہجوم لگنے والا ہے اور ہمیں جلد ہی چاند پر وقت کے ایک درست اور جامع نظام (ٹائم کِیپنگ سسٹم) اور ایک مشترکہ گھڑی کی ضرورت پڑنے والی ہے، تاکہ وہاں جانے والے مشنز (مُہموں ) کو مربوط بنایا جا سکے اور ان کو پیش آنے والی ممکنہ آفات سے

Read more

صدیق عالم کا تازہ ناول ”مرگِ دوام“۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اجمل کمال نے اپنے جریدے سہ ماہی ”آج“ میں مکمل ناول شایع کیا بلکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا کرچکے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے انہوں نے صدیق عالم کے تازہ ناول ”مرگِ دوام“ کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے آخر میں ایک جملہ لکھا جس کا مفہوم یہ بنتا تھا : ”میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی موت سے پہلے یہ ناول

Read more

لیمپ۔ ایک روسی کہانی

لیمپ۔ چیبیکن روسٹیسلاو۔ جب گاؤں کے کونے کونے سے فساد اور قتل عام کی خبریں آنے لگیں تو میرے پر نانا نے میز پر بیٹھ کر مٹی کے تیل کا لیمپ جلایا اور تورات پڑھنے لگے۔ آخر وہ فساد ان کے گھر سے دو گھروں کے فاصلے پر آ کر رک گیا اور کسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کی اصل وجہ تورات نہیں بلکہ لیمپ ہے۔ تب سے نانا نے لیمپ کئی بار جلایا۔ یہاں تک

Read more

علامہ اقبال کا تصورِ وطنیت

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہائے آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق و مغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی

Read more

سفر گزشت نہیں، رومان بھرا ناول

کہنے کو شاہد صدیقی نے اپنی تازہ کتاب ”ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر“ کو اپنے سفری تجربات پر مشتمل تحریریں کہا ہے اسی سے شاید گماں باندھ لیا گیا ہے کہ یہ کتاب تین سفرناموں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ دھوکا ہے جس کا اہتمام مصنف نے نہ صرف کتاب کا نام رکھتے ہوئے کیا ہے، اپنے پیش لفظ میں بھی کر رکھا ہے، جہاں وہ یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ کتاب میں شامل تحریروں کا تعلق ٹورنٹو، دبئی اور

Read more

عنوان: چیخوف کی سوانح عمری، تعارفی خاکہ: قسط اول

مصنف: کانسٹینس گارنیٹ انگریزی سے ترجمہ: علی حسن اویس 1841 ء میں روسی رئیس کے ایک کمیرے نے فی کس 700 روبل ادا کرتے ہوئے اپنی اور اپنے خاندان کی آزادی 3500 روبل کے عوض حاصل کی، جبکہ اس کی چھوٹی بیٹی الیگزینڈرا کو بغیر کسی معاوضے کہ آزاد کر دیا گیا۔ مصنف آنتون چیخوف اسی کمیرے کا پوتا تھا۔ جبکہ اس رئیس کا بیٹا تہرتکوف، ٹالسٹائین 1 نظریات کا حامی اور ٹالسٹائی کا دوست تھا۔ ( 1۔ ٹالسٹائی کے

Read more

دارا شکوہ کے مذہبی، سماجی نظریات اور دور حاضر

دارا شکوہ گوتم بدھ کے ہندوستان کا باسی تھا۔ راگ وید، سام وید، یجر وید، اتھرو وید اور مہا بھارت کے پڑھنے والوں کے درمیان زیست کے ماہ و سال گزار رہے تھے۔ ایک طرف آپ خدا کے عرفان حاصل کرنے کی سعی و جستجو کے آرزو مند تھے تو دوسری طرف آپ مذہبی ہمہ گیریت کے قائل تھے۔ اس کے باوجود کہ کچھ ہی عرصہ پہلے مجدد الف ثانی نے مذہبی ہمہ گیریت کے خلاف جلال الدین اکبر پر

Read more

علامہ اقبال کی شاعری میں تصورِ وطنیت کے بدلتے زاویے

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہاۓ آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق ومغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی ہیں۔

Read more

حجاب امتیاز علی کی افسانہ نگاری میں تانیثی عنصر

افسانوی مجموعے "صنوبر کے سائے اور رومان” کا تیسرا افسانہ” مرد اور عورت ہے”۔اس افسانے میں دو جنسوں مرد اور عورت کے متعلق معاشرے میں پائے جانے والے تضاد کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔  اس افسانے میں حجاب امتیاز علی نے ہمارے اجتماعی احساس کو جھنجھوڑتے ہوئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک حقیقت کو خیال کا جامہ پہنایا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عورت جس سے محبت کرتی ہے وہ اس کے سوا کسی دوسرے

Read more

پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ایک طلسماتی شخصیت

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

غلام عباس اور ”آنندی“

غلام عباس آپنے افسانہ ”آنندی“ میں طنزیہ لہجہ اور مزاحیہ بیانیہ انداز کی ہم آہنگی کر کے معاشرے کے دوہرے پن پر تنقید کرتے ہوئے انسانیت کی مضحکہ خیزی کو اجاگر کرتے ہیں۔ افسانہ نگار کے نزدیک، اخلاقی منافقت اتنی ہی میلا کچیلا اور حقیر ہے، جتنی ہی لذت گرایانہ آرزو۔ اگر چہ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ روایتی اخلاقی تعلیمات اور تہذیبی اقدار دقیانوسی ہو چکی ہیں، لیکں انفرادیت اور مادیت کے غلبے میں، انسان، روحانی نجات

Read more

سب کچھ حرام جو تم کرو : ٹی وی حرام مگر ہمارا چینل دیکھنا کار ثواب

آج دل چاہتا ہے ایک انتہائی حساس مسئلہ پر دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں۔ اور وہ ہے ہماری زندگیوں میں مقامی مفتیان کے فتاوی کی رو سے کیا حرام ہے اور کیا حلال۔ الحمدللہ کسی بھی پڑھے لکھے مفتی سے پاکستان میں کسی نئے معاملے پر بات کریں۔ وہ ’نہیں‘ سے بات شروع کرے گا یعنی حرام ہے۔ بمشکل کوئی ایسا ہو گا جو کہہ دے کہ ناکافی معلومات کی روشنی میں فی الوقت مکروہ ہے یا جتنا ممکن ہو

Read more

تیقّن بھری تشکیک اور ادبی روایت

ٹی۔ ایس ۔ ایلیٹ کہتے ہیں کہ کوئی شاعر یا فن پارہ  کسی بھی  طرح  خود مکتفی نہیں ہوتا۔اس کی شناخت اوراہمیت  گزشتہ فن کاروں اور شعرا سے تعلق میں مضمر ہے ،اس کی الگ اکائی کے طور پر اہمیت متعین نہیں کی جا سکتی،  گذشتہ شعرا اور فن کاروں کے ساتھ تقابل و تفاوت  کے بعد ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی شاعر ادبی  روایت میں کیا مقام رکھتا ہے۔ ایک  شاعر کےلیے سب

Read more

اشعر نجمی کا ناول ’جوکر‘: کردار نگاری کی بہترین مثال

اشعر نجمی (سید امجد حُسین) معروف بھارتی شاعر و فکشن نگار  ہیں جو ساماہی مجلہ اثبات کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کا تعلق جمشید پور سے ہے مگر اب انہوں نےممبئی میں ہی سکونت اختیار کر رکھی ہے۔اشعر نجمی کے اب تک تین ناول منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اُن کا پہلا ناول ‘اس نے کہا تھا’ جس کا موضوع ہم جنس پرستی پر مبنی ہے 2021 میں شائع ہوا۔،اس کے بعد 2022 میں ان کا ناول ‘صفر کی توہین’

Read more

ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی: زمانہ طالب علمی اور میری خوش قسمتی

پہلی جماعت سے ایم فل تک بہت سارے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ جن میں سے کئی یاد رہے اور کچھ کا صرف نام تک یاد ہے۔ نام یاد رہنے اور یاد رہنے میں بہت فرق ہے۔ ایک جماعت میں تقریباً 50 ہم جماعت ہوتے ہیں لیکن دوست چند ہی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح استاد ہو کر استاد بھی کوئی ہی بنتا ہے۔ 18 سالہ تعلیمی سفر میں مجھے جو صحیح معنوں میں استاد ملے اور جو استاد کہلائیں تو

Read more

شکست تخت پہلوی (2) – تخت و تاج

خزاں کی ایک سرد دوپہر 26 اکتوبر 1919 – نیم تاج نامی ایک نوجوان عورت تہران میں اپنے خاندانی گھر میں درد زہ میں مبتلا تھی۔ اس کا شوہر رضا خان ایران کی شاہی فوج کے خاص گروپ قزاق رجمنٹ میں بریگیڈیر تھا۔ باہر برآمدے میں بے چینی سے سگریٹ نوشی کرتا خبر کا منتظر تھا۔ رضا کی پہلی بیوی تاج ماہ ایک بچی کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئی تھی۔ دوسری شادی اس نے اپنے کمانڈنگ افسر کی

Read more

وردیوں، کلغیوں اور مرضیوں کے تصادم

تہذیبوں کے تصادم قصہ پارینہ ہوئے۔ آج ہم تہذیبوں کے اندر سے ہزاروں تصادم دریافت کر رہے ہیں۔ ویسے تو ہر قوم اپنے وقت پر اپنی اوقات اور آپے سے باہر نکلی مگر ہمیں تو کچھ زیادہ ہی ثبات حاصل رہا ہے۔ مسلمان کے پیدا ہوتے ہی اس کی گھٹی میں ممکنہ دشمنوں کی تلاش کی صلاحیت ودیعت ہو جاتی ہے۔ سو اس کی پوری زندگی دشمنوں کی کھوج میں کھپتی ہے۔ دشمن نہ ملیں تو خود تراش کر دشمنی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 4 : قربان گاہ

”اور میں تجھ سے کہتا ہوں، تو پطرس ہے، اور اس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا، اور موت کے دروازے اس پر غالب نہ آئیں گے۔“ متی 16 : 18 پادری پال کا چرچ کنٹونمنٹ کے علاقے میں ایک پہاڑی پر واقع تھا۔ اس کی 1870 میں تعمیر شدہ عظیم الشان مگر سال خوردہ عمارت عہد رفتہ کی طرف انگلی اٹھاتی تھی۔ اب تو خیر اس کے گرد مکانات بن گئے ہیں مگر ایک زمانے میں شام کو

Read more

اسلامی سوشلزم – حنیف رامے کے جریدے البیان سے فتح محمد ملک کا مضمون

محمد حنیف رامے کی ارادت میں شائع ہونے والے نصرت رسالے کے اسلامی سوشلزم نمبر کے دوسرے ایڈیشن کے اجرا کے موقع پر مدیر نصرت فتح محمد ملک کا پیش لفظ یہ مجلہ ایک ایسے زمانے میں منظر عام پر آدھا ہے جب اسلامی سوشلزم کا تصور ایک مرتبہ پھر دھند لانے لگا ہے۔ ہماری فکری تاریخ میں بارہا یہ تصور نکھری ستھری صورت میں جلوہ گر ہوا اور بار ہا مخصوص مفادات کی چاکری میں مصروف اہل فکر کی

Read more

غزہ والوں کی نسل کُشی اور ایک نظم

عین ایسے سفاک موسم میں کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کے کلی اتلاف پر تلا بیٹھا ہے۔ جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں پر امداد کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں اور مغرب کے انسان دوست عوام، اپنے حکمرانوں کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، پاکستان میں مشاعروں کا موسم چل ہے۔ ملکی میڈیا سیاست سیاست کھیل رہا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے عوام کے حواس کا ناس مار رکھا ہے۔ جی،

Read more

سلیم رضا ٹھاکر کا پنجابی ناول: ’مانتا‘

مانتا ناول کا آغاز بالکل تنہائی کے سو سال کی مانند ہوتا ہے، یعنی ایک اہم واقعہ جس کی نسبت سے کہانی کا آغاز ہو۔ ہم عہد نامہ عتیق کی کہانیوں میں بھی یہ طرز تحریر پاتے ہیں۔ کہ کس طرح ”عظیم سیلاب“ سے پہلے کی دنیا اور اس کے بعد کی دنیا۔ بالکل جادوئی حقیقت نگاری کی طرز پرایک ایسا برگد کا درخت جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر پورے گاؤں کی آبادی مع چرند و پرند اپنی زندگی

Read more

ثمرا کوثر کی کتاب علیم الحق حقی اور تصوف پر ایک نظر

راجپوت اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ثمرہ کوثر نے ساہیوال کی تحصیل چیچا وطنی کے ایک گاؤں میں انکھ کھولی۔ بچپن ہی سے لکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا پانچویں کلاس کے بچے جب کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں تب انہوں نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم کو پڑھ لیا تھا۔ جیسے جیسے شعور کی پختگی ہوئی تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی راغب ہوئی۔ ان کی ابتدائی تحریریں آنسو اور

Read more

شاہد صدیقی صاحب کا طلسم

شاہد صدیقی صاحب کو پڑھتے ہوئے مجھے اپنے آنگن میں اترتی ہوئی وہ شامیں یاد آئیں کہ جب ٹیلی ویژن سیٹ چلانے کے لیے ہم بچہ پارٹی مل کر گھر والوں کے ساتھ اہتمام کیا کرتے تھے۔ کچی مٹی کے صحن میں چھڑکاؤ کرنے کے لیے نلکے سے بالٹی بھر بھر لانی، چھڑکاؤ کرنے کے بعد گیلی مٹی سے اٹھتی ہوئی مہک سارے گھر میں پھیل جاتی تھی، ٹی وی کے ارد گرد چارپائیاں بچھا دینی، چارپائیاں پر کھیس اور

Read more

کھیل انڈوں کا ہوا

لڑنا لڑانا اچھی بات نہیں۔ اس کام میں دونوں فریق خسارے میں رہتے ہیں۔ ایک کی چونچ اور دوسرے کی دم گم ہو جاتی ہے۔ لڑائی سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دانا لوگ تو آنکھیں لڑانے سے بھی گریز کرتے ہیں کیوں کہ اس کھیل میں بھی دھول دھپے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لڑائی کی ایک صورت البتہ ایسی ہے جس میں عزت محفوظ رہتی ہے، خواہ آپ سادات ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ایک معصوم سی صورت ہے۔

Read more

دوسرا بوسہ

”وقت کا دیوتا کرونس مر گیا ہے۔ وہی کرونس جس نے اپنا مادہ منویہ دھرتی کے تنگ دروں میں ڈالا تو تمام دیوی دیوتا پیدا ہوئے۔“ ”دیوی دیوتا تو لافانی ہوتے ہیں۔ وہ کسے مر سکتا ہے؟“ ”میں نے اس کا وجود ہی مٹا دیا ہے۔“ ”کیوں؟“ یہ دیوی دیوتا کائنات کے بنیادی اصول علت و معلول پر پورا نہیں اترتے۔ اس لیے میں نے اسے مار دیا۔ مندروں کی گھنٹیاں جو زور زور سے مسلسل بج رہی تھیں یہ

Read more

ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر: ایک مطالعہ

شاہد صدیقی اپنی اس کتاب کا ست ان سطور میں پیش کرتے ہیں : ”میں عالم محویت میں راج کی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ جب بات کرتا تو سننے والے کا جی چاہتا کہ یہ گفتگو بھی ختم نہ ہو۔ راج کہہ رہا تھا۔ زندگی اتفاقات کا کھیل ہے۔ چلتے چلتے کسی موڑ پر کوئی حیرت ہماری منتظر ہوتی ہے۔ کبھی اس حیرت کا مرکز کوئی منظر ہوتا ہے، کبھی کوئی چہرہ کبھی کوئی واقعہ اور کبھی کوئی مشاہدہ۔“

Read more

آئی اے رحمان کے مطالعہ کی وسعت

مسعود اشعر صاحب نے اپنے کالم میں آئی اے رحمان صاحب کی اردو ادب پر گہری نظر کی بات کی جس کا اندازہ انھیں ایک ادبی فیسٹیول میں ان کا خطبہ سن کر ہوا۔ اتفاق کی بات ہے جس روز رحمان صاحب کی رحلت ہوئی، معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ مجلس ترقیٔ ادب کے ناظم تھے تو ایک دفعہ وہ ان کے دفتر تشریف لائے تھے۔ ان کی

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال کی کتاب: پلیٹو سے ما بعد جدیدیت تک مغربی ادب

زیر نظر کتاب ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جس نے ایک نہایت دلچسپ محرک کے تحت کتاب لکھی یہ تحریک شاید ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ دراصل یہ مصنف کی ایک دلچسپ ادا معلوم ہوتی ہے لیکن اس ادا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مجھے پڑھنے کو کوئی کتاب نہیں مل رہی تھی سوچا کہ کیوں نہ کتاب خود لکھ لی جائے اور اسے پڑھا جائے“ یہ

Read more

سر پہ کفن اور موت سے پہلی آشنائی

ننگے پاؤں ( 11 ) آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا پیر و مرشد غالب کے اس شعر کا مطلب تو دیر میں سمجھ آیا مگر اس محاورے سے واقفیت سکول کے زمانے ہی میں ہو گئی تھی۔ ہمارے ایک استاد تھے مرزا مجید بیگ جو ہمیں سوشل سٹڈیز اور جنرل نالج پڑھاتے تھے مگر ان کے اندر ایک اداکار چھپا ہوا تھا اور اسی لیے

Read more

سٹے سے کمائی کے 101 طریقے

اگر آپ واقعی اسی نیت سے یہاں پہنچے ہیں، جو عنوان کی سرخی ہے تو معذرت۔ یہ صرف ”ڈیجیٹل دانہ“ ڈالا ہے۔ اصل موضوع مختلف نوعیت کی ٹریڈنگ (بالخصوص پاکستان اسٹاک ایکسچینج) اور وہاں سٹے بازی ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہے۔ جس سے کسی کا متفق ہونا یا نہ ہونا اس کی اپنی مرضی ہے۔ گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر نئی تحریر بھیجنے کے لئے پچھلی تحریروں کا پٹارا کھولا تو کتاب ”کیف الحال“ سے ایک پچیس

Read more

دوپہر کا چاند ؛ ایک تاثر

”دوپہر کا چاند“ نذیر قیصر کی شاعری کا گیارہواں مجموعہ ہے۔ اس تازہ کتاب کے مقدمے اور غزلوں کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا ہے ان کے لیے شاعری محض فنی اظہار نہیں ہے زندگی کرنے کا اسلوب ہے۔ وہ جو بلھے شاہ نے کہا تھا کہ ”رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی“ تو اس کی ایک تفسیر آپ کو یہاں ملے گی۔ اپنے اشعار میں اور ’پہلا حرف‘ کی نثر میں بھی، متن تشکیل دیتے

Read more

نیر اقبال علوی: معاصر حالات کا ترجمان

نیر اقبال علوی سے میرا تعارف ان کے مجموعے ’جہان رنگ و بو‘ کے توسط سے ہوا۔ اس مجموعے میں مقامی اور عالمی صورت احوال کی جو عکاسی کی گئی ہے اس کی توقع کسی ماہر اور مشاق قلم کار ہی سے رکھی جا سکتی ہے جن کا فن پختہ اور فکری کینوس وسعت کا حامل ہو۔ انھوں نے اردو ادبی منظر نامے کو اپنے افسانوں کے کئی نمایاں مجموعوں (باؤلے کتے، پاگل خانہ، می رقصم، عالم سوز و ساز،

Read more

ایک ادبی میلے کی روداد

اس دفعہ بڑے عرصے بعد ایک ادبی میلے میں چلے گئے۔ ہماری ایک دوست ہیں بڑی اچھی افسانہ نگار، ان کا افسانہ سننے کے لیے۔ لیکن اس سے پہلے بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑنا۔ پہلے مرحلے میں سب دیے گئے ہوئے موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ بہت سارا وقت اپنے مربی کے قصیدوں میں بتا دیتے، جو تھوڑا بچتا، وہ اپنی تعریفوں کی نذر کر دیتے۔ گفتگو بڑی جذباتی ہو رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہنسی کوئی بیتی ہوئی

Read more