تیرے جانے کے بعد!
جب کبھی بھی ذہن کے قرطاس پر گانا ”کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے“ گونجنے لگتا ہے تو دل میں تیری یاد ابلتی ہے۔ روح یاد کے جنگل کی آگ میں جھلسنے اور تڑپنے لگتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میرا وجود خاک ہونے والا ہو! میری ہستی کی کشتی آگ کے دریا کی لہروں پر تیرتے ڈوبنے والی ہو۔ جیسے۔ سوہنی مہینوال کی طرف جاتے ڈوب گئی ہو جس کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے ایک
Read more

















































































