قطر: اتریں گے پار ہم ہیں تہیہ کیے ہوئے
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی پسماندہ ترین بستی دوحہ کے باسی ایک صدی پہلے مچھلیاں پکڑ کر گزر بسر کیا کرتے تھے، غربت و تنگدستی اور قدرتی و انسانی آفات کے باعث یہاں آبادی گھٹتی چلی گئی۔ 1922 ء میں جو آبادی تیس لاکھ تھی 1950 ء میں صرف چوبیس ہزار رہ گئی۔ دوحہ اب ترقی یافتہ شہر اور قطر دنیا کا امیر ترین ملک ہے، آنکھوں کو خیرہ کردینے والی روشنیاں اور فلک بوس عمارتیں دیکھ کر یقین نہیں آتا
Read more







































































