پروفیسر خورشید احمد: زندگی اور خدمات

پروفیسر خورشید احمد ( 1932۔ 2025 ) پاکستان کے ایک نامور ماہرِ معاشیات، فلسفی، اور سیاستدان تھے جن کی خدمات نے علم، اسلامی معیشت اور عوامی خدمت کے شعبوں کو محیط کیا۔ آپ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں برطانیہ میں وفات پا گئے۔ آپ کا شمار ان مایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی اقتصادیات کو باقاعدہ ایک علمی شعبہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی میں آپ کی قیادت

Read more

لائف انشورنس

کراچی کی سڑکیں دھیرے دھیرے شام کے رنگ میں ڈھل رہی تھیں۔ شہر کے ہر گوشے میں انسان اپنی اپنی کہانیوں کے پیچ و خم میں گم تھے۔ ہر چہرہ اپنی ایک داستان سناتا، ایک ایسی کہانی جو خوف اور امید کے دو دھاری تلوار کی مانند دل پر لٹکی تھی۔ عمران اپنی دکان کی شیشے سے باہر جھانک رہا تھا۔ ٹریفک کی ہلچل اور راہگیروں کے بے ترتیب سائے دھند میں ملتے جا رہے تھے، جیسے ہر کوئی اپنی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 28

انٹر سائنس کے دوسرے سال میں مجھ پر اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ میری افتاد طبع سائنس کے مضامین سے میل نہیں کھاتی، میں ٹھہری شعر و ادب کی دلدادہ۔ مجھے آرٹس پڑھنا چاہیے تھا لیکن امی کی مجھے ڈاکٹر بنانے کی خواہش آڑے آ گئی تھی۔ سائنس کے مضامین لے تو لئے تھے لیکن پڑھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی میں کبھی بھی پڑھاکو طالبعلم نہیں رہی تھی۔ مجتبیٰ صاحب نے ایک دفعہ میرے

Read more

معتبر سندھی شاعر، عالم و محقق ڈاکٹر عطا محمّد حامی

پچھلے دنوں 3 جون 2025 ء کو سندھی زبان کے قادر الکلام شاعر، معتبر عالم، محقق، معلم، سیاستدان، سماجی کارکن، سچل سرمست کے شارحین میں سے ایک اہم شارح اور مترجم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کے انتقال کو 43 برس مکمل ہوئے۔ ان کی یاد میں ”حامی یادگار کمیٹی“ کی جانب سے اس شام سچل اکیڈمی خیرپور کے آڈیٹوریم میں ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقامی ادباء و شعرا نے ان کے فن، فکر اور

Read more

ہیٹ سٹروک

میں سینٹ لوئیس یونیورسٹی، میزوری میں ایمرجنسی میں کام کر رہی تھی کہ کال آئی ہیلی کاپٹر سے ایک سترہ سالہ لڑکا کسی چھوٹے اسپتال سے ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، ہیٹ سٹروک سے حالت نازک ہے۔ جولائی کا مہینہ تھا۔ اسکولوں میں گرمی کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور یہ لڑکا کسی فارم پر کام کر رہا تھا۔ دوپہر کھانے پر نہیں آیا تو ڈھونڈنے پر بے ہوش ملا۔ گرمی کی شدت سے جسم کا درجہ حرارت 108 ڈگری

Read more

بلاول بھٹو! یہ بھی غیرت کا سوال ہے

دوپہر بارہ نیند سے بیدار ہوا بیڈ ٹی پیتے ہوئے موبائل دیکھنے لگا تو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک نو دولتیے کی ویڈیو دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے، دماغ سن ہو گیا، آنکھیں پتھرا گئیں کیونکہ ویڈیو میں دیکھا کہ ایک سفید بالوں والا فرعون صفت شخص گاڑی میں بیٹھے ایک نوجوان کے ہاتھ قابو کیے ہوا تھا اور گاڑی کے اندر بیٹھا دوسرا شخص اس نوجوان کو تھپڑ مار رہا ہے اور باہر ایک لڑکی ہاتھ جوڑ

Read more

جناب شیخ کا نقشِ قدم

پہلی ملاقات ایک ادبی کانفرس کے دوران میں ہوئی۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں سامعین میں موجود تھا۔ کچھ استثنا کے ساتھ یہ صورت ہنوز برقرار ہے۔ کئی تقاریب میں ہم اکٹھے جاتے ہیں۔ وہ سٹیج پر براجمان ہوتے ہیں اور میں انھیں سامعین میں بیٹھ کر دیکھ دیکھ جیتا ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی ادارے میں کولیگ کی حیثیت سے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ جہاں دیدہ، زیرک، معاملہ

Read more

فرحت اللہ بابر کے ساتھ میری "جَلن”

محکمہ اطلاعات سے وابستگی اور بعد ازاں پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی ترجمانی کے باوجود فرحت اللہ بابر صاحب خاموش طبع مگر شفیق و خلیق آدمی ہیں۔ ان سے ناراض ہونے کے لئے آپ کو سو بہانے ڈھونڈنا پڑیں گے۔ میں البتہ ان سے جل گیا  ہوں۔ کسی دور میں متحرک رہے ہر رپورٹر کی طرح میں نے بھی مختلف حکومتوں  اور سیاسی رہ نمائوں کے مشاہدے کے بعد بقول غالب کچھ یادیں ’’الگ باندھ رکھی ہیں‘‘۔ سوچا تھا

Read more

کانٹے کے مقابلے، نئے ریکارڈ اور لاہور کی ہیٹ ٹرک: پی ایس ایل 10 کا مکمل جائزہ

پاکستان سپر لیگ کا دسواں ایڈیشن، جسے پی ایس ایل ٹین کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسی کہانی رقم کر گیا جو نہ صرف پاکستانی کرکٹ بلکہ عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے لیے بھی ایک نئی مثال بن چکی ہے۔ یہ صرف کرکٹ کا ایک ٹورنامنٹ نہیں تھا بلکہ جذبے، مہارت، اور بے مثال تفریح کا ایک ایسا امتزاج تھا جس نے لاکھوں شائقین کو محظوظ کیا جہاں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اپنی بے پناہ مالی

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات ”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ تاریخ: 30 مئی 2025 (حسینہ معین ہال) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ کے موضوع پر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا لیکچر اردو ادب کے عالمی تشخص کے حوالے سے ایک نہایت بصیرت افروز اور فکری اہمیت کا حامل بیان ہے۔ اس میں انہوں نے نہ صرف اردو ناول کی موجودگی

Read more

شہید صحافی سید محمد شاہ: قلم کا لہو اور بے حسی کا اندھیرا

سندھ میں صحافت کرنا جہاد کرنے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا جاتا ہے، مقدمات درج کیے جاتے ہیں، ہراساں کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وجہ حق سچ کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ کاوش کے ٹی این نیوز کے بہادر صحافی جان محمد مہر کو سکھر بیچ شہر میں قتل کر دیا گیا، ماتھیلو میں نصر اللہ گڈانی،

Read more

خواب، محبت اور زندگی (26)

جب سینما دیکھنے پر تھپڑ کھایا اس زمانے میں ذاتی حوالے سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو برسوں میرے لئے شرمندگی اور ذہنی تکلیف کا باعث بنا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی۔ اس واقعے کا تعلق میری اسکول کے زمانے کی ایک سہیلی سے تھا جو پڑھائی کے ساتھ نرسنگ کا جز وقتی کام بھی کرتی تھی۔ اس لئے ہمارے مقابلے میں ایک طرح سے اسے مالی خود مختاری حاصل تھی۔ ایک روز

Read more

لورالائی کی ثقافت اور ماحولیاتی تبدیلی

لورالائی، جو جنوبی بلوچستان کے نیم پہاڑی اور نیم میدانی علاقے میں واقع ہے، محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی اور ثقافتی اکائی ہے، جو نسلوں سے زرعی معیشت، چراگاہی زندگی، آبادی کی سادہ طرزِ حیات، مقامی اقدار، اور قدرتی وسائل پر انحصار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قدرتی ماحول میں تبدیلی واقع ہوئی، بارشوں کی مقدار میں کمی آئی، چشمے سوکھنے لگے اور کاریزات بند ہونے لگے، تو اس کے اثرات

Read more

لیاری۔ مارا ماری سے کانا یاری تک

ملک کے ناخداؤں نے لیاری میں دانستہ خون ریزی برپا کی۔ جب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے والے ساتھیوں میں ایسے اختلافات پیدا کیے گئے کہ بچھے ہوئے دسترخوان پر ہی دوست کے ہاتھوں دوست قتل ہوئے اور پھر دوستی سے دشمنی کی داستان نسل در نسل چلتی چلی گئی۔ جی ہاں بالکل گینگ آف واسع پور کی طرح لیاری کی گینگ وار بھی ایک ایسی ہی فلمی کہانی لگتی ہے لیکن یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ رونگٹے

Read more

نظام انصاف کی زبوں حالی اور عدالتی اٹکھیلیاں

قانون و انصاف کا مضبوط اور غیر جانب دار نظام ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس نظام کو بہتر بنائے بغیر عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی ملک میں کوئی مستقل سیاسی اور معاشی استحکام آ سکتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ وطن عزیز میں سیاسی عدم استحکام ہی اس وقت کے سیاسی مقدمات اور ان کے ریڈی میڈ فیصلوں میں نئے نئے شگوفوں اور پھلجھڑیوں پر مبنی نقاط اور نئی آئینی تشریحات

Read more

مرنے سے پہلے قبر بنوانے کا ڈسکاؤنٹ آفر پیکیج

پچیس مئی 2025 کی دوپہر تھی۔ گھر سے باہر کچھ لوگوں کے بولنے اور ٹھک ٹھک کی آوازیں آئیں۔ باہر نکل کر کر دیکھا تو محکمہ سوئی گیس والے ٹھیکیدار اور لیبر کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ پوچھنے پہ بتایا کہ پراجیکٹ آیا ہے کہ سوئی گیس سپلائی کا جو پائپ زمین سے نکل کر میٹر میں جا رہا ہے وہاں نیچے سے لوہے والے پرانے پائپ کی جگہ ہارڈ پلاسٹک کا پیلے رنگ کا پائپ لگا دیا جائے تاکہ

Read more

معاہدہ کراچی : گلگت بلتستان کا غیر قانونی الحاق

جب ایک قوم کی تقدیر اس کی عوام کی مرضی کے بغیر بدل دی جائے جب ایک علاقے کا مستقبل محض چند طاقتور سیاست دانوں کے درمیان خفیہ معاہدوں میں طے ہو تو اس عمل کو نہ صرف غیر قانونی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس میں اخلاقی اور سیاسی جواز کی بھی کمی ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان 16 نومبر 1947 سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر سے

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ

جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب

Read more

باکسر عالیہ سومرو۔ لیاری سے ابھرتی امید کی کرن

پاکستان میں فٹ بال اور باکسنگ جیسے کھیلوں کو نظر انداز کیا جانا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں میں، اور کرکٹ میں ان خطوں کی کم نمائندگی محض اتفاقی نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی مسائل بلکہ کہا جائے تو کسی حد تک تعصب کی وجہ سے بھی ہے۔ کرکٹ اپنی ثقافتی اہمیت، تاریخی کامیابی اور تجارتی اپیل کی وجہ سے پاکستان کے کھیلوں کے منظر نامے پر حاوی ہے، خاص طور پر پاکستان سپر لیگ کے

Read more

کوہی گوٹھ ہسپتال: عظیم ویژن کی عملی تصویر

خواب ہم سب دیکھتے ہیں، لیکن ویژن بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ خوابوں کی تعبیر ممکن ہے، لیکن ویژن کی تکمیل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جس کے لیے انتھک محنت اور کئی نسلوں کی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ میں خواب دیکھنے پر یقین رکھتا ہوں اور خواب کی طاقت سے بخوبی واقف ہوں، لیکن کھلی آنکھوں سے کسی عظیم ویژن کی تکمیل دیکھنا ایک بالکل مختلف منظر اور تجربہ ہوتا ہے۔ آج کی یہ تحریر خوابوں

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

برین ڈرین: کہیں ہمارے پاس صرف خواب ہی نہ رہ جائیں

پاکستان میں آج کل سب سے زیادہ بحث جس موضوع پر ہو رہی ہے، وہ ہے نوجوانوں کا بیرون ملک جانا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ صرف نوکری کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاموش سانحہ ہے جو ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے؟ گزشتہ سال 2024 میں پاکستان سے تقریباً 8 لاکھ افراد نے ہجرت کی، جن میں سے اکثریت تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے

Read more

مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ

مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی

Read more

شناخت کے دھاگے، قوم کے ستون: سندھ کی لازوال میراث

اجرک کے شوخ رنگ اور سندھی ٹوپی کی پیچیدہ دست کاری محض روایتی لباس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ وادی سندھ کی تہذیب کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں، ایک ایسی شناخت سے ٹھوس روابط جو اس سرزمین پر ہزاروں سالوں سے پروان چڑھی ہے۔ یہ علامات، جو سندھ کی مقامی ہیں اور بلوچستان نیز جنوبی پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں بھی (مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے امتزاج کے ساتھ) قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، ایک ایسے ثقافتی

Read more

سوتیلے باپوں کا بچوں پر تشدد

اکثر سوچتی ہوں کہ سوتیلی ماؤں کے ظلم و ستم کے بارے میں تو بے شمار کہانیاں اور قصے لکھے گئے لیکن سوتیلے باپوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انسانی حقوق اور عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے یقیناً سوتیلے باپوں کے بچوں پر تشدد کے واقعات کا علم رکھتے ہیں مگر انہیں قلم بند کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کچھ سال پہلے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ایک

Read more

رقص نامہ: پر ایک نظر

  اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

جنہوں نے خاموشی بیچی وہ آج بولنے کا حق نہ لیں

وفاقی حکومت کا سندھو دریا پر کینالز بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا دراصل سندھ کے عوام کی زبردست جدوجہد اور مسلسل مزاحمت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی آئینی، اخلاقی یا پارلیمانی اصول کی پاسداری کا ثبوت۔ وفاقی حکومت کی یہ پسپائی واضح کرتی ہے کہ جب تک عوام سڑکوں پر نہ آئیں اپنی زمین، پانی اور شناخت کے لیے آواز بلند نہ کریں اس نظام سے کسی خیر کی توقع عبث ہے۔ وفاقی حکومت کا فیصلہ عوامی دباؤ

Read more

چاغی کی گواہی: جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے تاریخ رقم کی

پاکستان کی تاریخ میں چند ایام ایسے ہیں جو قوم کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ 28 مئی 1998 ء کا دن، جسے ہم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتے ہیں، انہی میں سے ایک ہے۔ یہ دن صرف ایٹمی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری، سائنسی، عسکری اور قومی جدوجہد کا عملی اظہار تھا۔ مگر اگر اس دن کی کوئی آواز ہے، تو وہ سب سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے، جنہوں نے علم، عزم اور

Read more

جمہوریت کیسے مرتی ہے؟

ریاست کے طاقتور بیانیے سے چار ہاتھ آگے نکل کے فرمان امروز کو بار بار دہرانے والے خوفزدہ نفسیات کے مریض اور ذاتی عزائم کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان کی لغت بدلتے موسموں کے تابع ہوتی ہے۔ ان کی یادداشت کا دورانیہ ذاتی مفادات کی نسبت سے بڑھتا گھٹتا رہتا ہے۔ انہیں پاسٹر ناک ، سخاروف ، کنڈیرا ، رابرٹ فسک اور ایڈورڈ سعید کے حوالے دینے کا شوق ہوتا ہے۔ اپنے وطن سے حقیقی محبت بلند آہنگ نعروں کی

Read more

مشہور ٹی وی اداکار طلعت حسین کی پہلی برسی، 26 مئی 2025

پاکستان کے معروف صدا کار، پی ٹی وی کے عہد ساز اور مشہور ادا کار، طلعت حسین 26 مئی 2024 کو کراچی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ ایک نجی ہسپتال میں داخل تھے اور کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ وہ 1940 میں بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہیں کراچی مرکز کے ڈرامہ سیریل ہوائیں میں لازوال ادا کاری کر کے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے لندن سکول آف میوزک اور

Read more

کالم لکھنا ہے

منگل 20 مئی کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ کالم قریب قریب مکمل ہو چکا تھا۔ اچانک برادرم فتح نصر نے حسب عادت Dictation بیچ میں چھوڑ کر تازہ خبروں پر ایک نظر ڈالی اور چونک کر ایک بڑی خبر سنائی۔ درویش ایک لحظے کو سکتے میں آ گیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد دھندلے پڑتے حافظے کی تختی پر عربی زبان کے دو جملے ابھرے۔ بے ساختہ کہا ’فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ جزاکم اللہ احسن الجزائ۔‘ انسانی

Read more

سفر حج۔ حصہ سوئم

میں اس وقت مدینے میں ہوں اور اپنے حج کے سفر کا تیسرا حصہ لکھ رہا ہوں۔ پہلے حصے میں بلاوا، دوسرے میں دوستوں کا پیار اور اب دوست، احباب کے پیغامات اور محبتیں سمیٹتے جہاز کے منتظر تھے جہاں 3 فلائٹیں یکے بعد دیگرے نکلنی تھیں جدہ کی فلائیٹ پی آئی اے کی تھی اور فلائیٹ 10 بجے نکلنی تھی اور مسافروں کو شام 4 بجے سے ائر پورٹ بلوایا ہوا تھا جو احرام باندھ کر آئے تھے ان

Read more

پرانی یادیں: اسکول میں داخلہ

میرے والد محکمہ موسمیات میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس محکمے میں لوگوں کا ایک یا دو سال ایک جگہ گزارنے کے بعد کافی باقاعدگی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جب 1957 میں ان کی پوسٹنگ کراچی میں تھی تو انہیں پشاور جانے کے لیے تبادلے کے احکامات ملے۔ پشاور میں انہوں نے محکمہ موسمیات سے وابستہ جس آفس کو جوائن کیا اس کا نام Upper Atmospheric Research Station (UARS) تھا۔ اگرچہ یہ دفتر

Read more

کیا لوگ تھے جو راہِ جہاں سے گزر گئے

(سندھ اور بالخصوص کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں یہودیوں کی آمد انیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی راج میں شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بیشتر یہودی ایرانی نسل کے تھے۔ یہ تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقہ تھا۔ کراچی کے علاقے منوڑا، گارڈن، لی مارکیٹ، لیاری، رنچھوڑ لائن، پان منڈی، سولجر بازار، جوڑیا مارکیٹ اور رام سوامی میں یہودیوں کے کئی محلے آباد تھے۔ پرانے کراچی کی سینکڑوں قدیم عمارتوں کے ماتھے پر آج بھی نشان داؤدی موجود

Read more

خواب، محبت اور زندگی 24

لاہور واپسی لاہور میں ہم نے کرشن نگر کی ایک نو تعمیر شدہ عمارت میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔ یہ ایک اچھا کشادہ فلیٹ تھا۔ امی کے زیادہ تر رشتہ دار لاہور میں مقیم تھے۔ ان میں سے زیادہ تر پارٹیشن کے وقت امرتسر سے آ کر لاہور کی گوالمنڈی میں رہنے لگے تھے۔ جب کہ چند گلبرگ میں رہ رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ امی کے ساتھ ہم خالہ کے دیور ہمایوں صادق کے گھر

Read more

خواب، محبت اور زندگی (23)

ابی کے اسپتال میں داخلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ کراچی میں ہماری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ابی خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ظاہر ہے یہ بات ان کے لئے سوہان روح تھی۔ انہیں یہی فکر ستاتی رہتی تھی کہ ہمارا گزارا کیسے ہو گا۔ اس لئے کچھ عرصہ بعد وہ موقع پاتے ہی ہسپتال سے فرار ہو کر گھر آ گئے اور اخبار میں

Read more

اماں کے فون سے لے کر بھارتی میڈیا تک: فیک نیوز کی جنگ

رات کا پہر، کراچی کی خاموش فضا  اور میں اپنے بستر پر نیم دراز، لیپ ٹاپ پر پاک بھارت کشیدگی کی تازہ ترین خبریں کھنگال رہا تھا۔ بھارتی میڈیا نے ایسی ”جنگی صورتحال“ تراشی ہوئی تھی جیسے پورے لاہور کو بندرگاہوں کا گڑھ بنا دیا گیا ہو، اور خبر دے دی کہ بھارتی فوج نے کراچی کی بندرگاہ پر قبضہ جما لیا ہے۔ میں ابھی ان ”نئی نویلی“ جنگی خبروں  پر قہقہے مار ہی رہا تھا کہ اماں کا فون

Read more

یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن ملازمین کے ساتھ ظلم و زیادتی

وطن عزیز میں طویل عرصہ سے ایک نرالی روایت قائم ہے، جس کے تحت ملک کے اقتصادی مسائل کی آڑ میں آئے روز معاشی نا انصافی کے شکار عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقے کے اللے تللوں اور عیاشیاں کم کرنے کے بجائے، ان میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی نہ انصافی کا شکار پاکستان بھر سے یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین ہیں، جنھیں ارباب اختیار نے یک جنبش قلم

Read more

آندھی میں دیا کس نے جلایا؟

حساس اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری نے جانے زندگی کے کن تجربات کی بنا پہ یہ شعر لکھا ہو گا۔ آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہو گا لیکن آج مجھے پتہ ہے کہ یہ شعر کوہی گوٹھ کے مستعد، مخلص اور دیانت دار عملہ بالخصوص ممتاز اور مادھوری پہ  صادق آتا ہے، جو الفارابی ہسپتال کی دو مستعد مڈوائفز ہیں۔ یہ ادارہ کوہی گوٹھ ہسپتال کا ایک ذیلی مرکز

Read more

جوہر کانفرنس کراچی، 2049

نیورو کلچرل سینٹر کا بلوری گنبد رات کے نیلے آسمان تلے روشنی بکھیر رہا تھا۔ یہ وہ کراچی نہیں تھا جسے ہم نے دیکھا تھا۔ شور و غل سے بھری سڑکیں، دھول مٹی، اور ہجوم۔ یہاں سب کچھ بدل چکا تھا۔ فضا میں اڑتے ٹرامز، بایومیٹرک درخت، اور جذبے کو پڑھنے والے سینسرز شہر کی نئی زبان تھے۔ سینٹر کی عمارت، جو خود ایک سائبر خواب تھی، کے گرد روشنی کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ ہر دیوار پر الفاظ جگمگا

Read more

انڈیا اور پاکستان میں جنگ ہارتی غربت

رواں سال 2025 کا ماہ مئی اپنے دوسرے نصف میں داخل ہو چکا ہے۔ انڈیا اور پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ دوپہر کے وقت ایسا لگتا ہے سورج اوپر سے اتر کر ٹھیک سوا نیزے کی بلندی پہ آ کر زمین پہ چلتے انسانوں پہ آگ اگل رہا ہے۔ ایسے میں بہاول پور کے پوش علاقوں سے غربت کی تصویر پیش کرتی عورتیں جنہیں ماسیاں کہا جاتا ہے بنگلوں اور کوٹھیوں پہ کام ختم کر کے پیدل ہی

Read more

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کا تصور صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں اور آزادی کے بعد سے کشمیر کے تنازعے پر کئی بار فوجی تصادم ہو چکے ہیں۔ اگرچہ سفارتی کوششوں، خفیہ مذاکرات اور بین الاقوامی مداخلتوں نے اب تک مکمل جنگ کو روکے رکھا ہے، لیکن جوہری تصادم کا امکان اب بھی موجود ہے، اور اگر ایسا ہوا تو اس کے

Read more

ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا پھیلاؤ اَور زرعی زمینوں کا تحفظ۔ ایک قومی چیلنج

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی جانب نقل مکانی نے رہائش کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا جال بچھ چکا ہے۔ یہ سوسائٹیاں بظاہر جدید، منظم اور پرکشش نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی توسیع کے پیچھے ایک سنگین حقیقت پوشیدہ ہے۔ یعنی ہمارے قیمتی زرعی وسائل کا خاتمہ ہے۔ جب کبھی ہم لاہور سے ملتان کا سفر کرتے تھے تو ملتان میں داخل ہونے سے

Read more

ششی تھرور صاحب، کشمیر اور میری لائبریری

بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ ہوئی شکر ہے کہ سیز فائر ہو گیا۔ ہم سکرینوں سے چپکے ہوئے سنتے رہے کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے۔ کراچی اجڑ رہا ہے۔ نہ صرف کراچی بلکہ لاہور کی بندرگاہ بھی تباہ ہو گئی۔ راولپنڈی ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ بھارتی سینا بین الاقوامی سرحد عبور کر کے داخل ہو گئی۔ (اس اعلان پر مسرت پر بھارتی صحافی تالیاں بجاتے اور ہوا میں بازو لہراتے نظر آتے تھے ) ۔ پھر

Read more

بھارت کے عوام بیوقوف نہیں

بھارت کے ایک نو عمر لڑکے کی بات تو سو فی صد ٹھیک ہے وہ بھارتی صحافی کے پاکستان کے خلاف اُکسانے پر کہتا ہے دنیا میں سب کو جینے کا حق ہے ہندو مسلمان بھارت میں بھی ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں۔ بھارتی صحافی بار بار کو اس کو پاکستان مخالف بیان دینے پر مجبور کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان مردہ باد نہیں کہے گا۔ بھارتی صحافی کہتا ہے کہ ”آپ کو شرم نہیں

Read more

دس مئی کی صبح، بھارتی شکست اور ڈونلڈ ٹرمپ

دس مئی کی صبح حیرتوں کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سرحدوں کے دونوں طرف لوگ قبل از وقت بیدار ہو گئے۔ آسمان وقت سے پہلے روشن ہو گیا۔ اس روشنی کا ماخذ پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جارحیت کا وہ جواب تھا، جو اب لازم ٹھہرا تھا۔ ”آپریشن بنیان مرصوص“ کا آغاز ہوا۔ پاکستان نے فتح میزائل، جے ایف 17، جے 10 سی طیاروں، ڈرونز اور سائبر ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار اپنی فضائی برتری کی ایسی دھاک

Read more

پروفیسر فریدہ فیض اللہ

  ایک بار ایک حد تم نے پار کرلی اور نئی اُڑان بھر لی تو سمجھو زمین کی قید سے آزاد ہوئی اب خلا اور وقت آواز اور روشنی کی حدوں کو پار کرنا ممکنات میں ہے تخیل (پسٹن) کو بھڑکاتا ہے پہلے جذبہ اونچا اُڑتا ہے پھر راکٹ گھن گرج کے ساتھ نکل جاتا ہے درج بالا اشعار دراصل پروفیسر فریدہ فیض اللہ کی انگریزی شاعری کا ترجمہ ہے۔ پروفیسر صاحبہ کراچی کے عبداللہ کالج میں انگریزی کی استاد

Read more

کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ دوم)

میں اب کالج میں جانے والا تھا، مجھے پرائیویٹ کالج میں جانا تھا کیونکہ میں نے سرکاری جامعات میں اساتذہ کا طالب علموں سے رویہ بہت تحقیر آمیز دیکھا تھا۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون: والدین اور اساتذہ کی طرف سے رہنمائی کا فقدان پہلے تو پاپا نے کہا کہ ہاں میں کسی نجی کالج میں داخلہ کروا دوں گا  لیکن ہمارے کاروبار کے حالات بہت خراب چل رہے تھے اور یہ بات میرے نانا، ماموں کو بھی پتا تھی تو میرے

Read more

بنگلہ دیش میں چند دن۔ قسط : 10

تحریر: ڈاکٹر شیرشاہ سید ترجمہ اور تخلیص :گوہر تاج ڈھاکہ کو ضیاء بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دیا گیا لیکن حسینہ شیخ نے کمال ہوشیاری سے اس کا نام تبدیل کر کے شاہ جلال ہوائی اڈہ رکھ دیا۔ شاہ جلال 1271 ء میں پیدا ہونے والے ایک صوفی بزرگ تھے جن کا تعلق یمن سے ہے۔ شاہ صاحب نے اس علاقے میں اسلام کو پھیلایا۔ حسینہ شیخ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی اس نام کو تبدیل کرنے

Read more

تجھے میں کیسے بھلا دوں

”ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ میں نے یہ جملہ کچھ برس پہلے پڑھا تھا۔ جملہ ایسا تھا کہ اس کی گونج ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی تھی۔ یوسفی صاحب کی وفات کے بعد پرسے کے لگ بھگ ہر مضمون میں یہ جملہ مقتبس ہوتا رہا۔ ایسے میں ظہیر فتح پوری کی طرف دھیان کا جانا فطری تھا کہ یہ انہی سے منسوب تھا؛ سو، میرا دھیان بھی ادھر ہوا۔ جستجو ہوئی کہ وہ مضمون تلاش

Read more

خواب، محبت اور زندگی 21

  اس وقت تک ہمارے لئے محمودہ خالہ کا گھر اور وہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہی کراچی تھی۔ ہمارے لئے ہر چیز نئی اور مختلف تھی۔ ساتھ والے گھر میں بادام کا گھنا درخت لگا ہوا تھا جس سے کچے بادام ٹوٹ ٹوٹ کر ہمارے صحن میں گرتے تھے۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کچے بادام دیکھے۔ محمودہ خالہ کے سب سے چھوٹے بیٹے جنہیں گھر والے بادشاہ کہتے تھے نے ہمیں بتایا کہ ان کچے باداموں کو پسی ہوئی

Read more

انسانی جان اور ہمارے ادارے

گھر کی مددگار آج پھر کافی تاخیر سے آئی تھی۔ خاتون خانہ آج دفتر سے چھٹی پر تھی۔ ہاں تھوڑا بہت ضروری ساتھ ہو بھی رہا تھا کہ طبیعت کچھ نڈھال تھی۔ لیکن ملازمہ کا دیر سے آنا اسے آرام سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ خیر جب وہ آئی تو اس نے شکر ادا کیا۔ ابتدائی دعا، سلام کے بعد کہنے لگی۔ آج بہت پریشان ہوں۔ پھر گھر پر لڑائی ہوئی ہے۔ نہیں باجی۔ تو پھر پیسوں کی وجہ

Read more

پاک بھارت جنگی جنون میں امن پسند ادب کی تلاش

پہلگام واقعہ کیا ہوا کہ دو ہفتے بعد مودی سرکار کی طرف سے پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ شروع ہو گیا جس کا پاکستانی افواج کو ’بنیان مرصوص‘ سے جواب دینا ہڑا۔ اس جنگی جنون سے جہاں امن کی کاوشوں کو ریورس گیئر لگا وہیں دونوں ملکوں کے امن پسند عوام کا پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایک بار پھر ادب، فن اور آرٹ کا سرحدوں سے ماورا ہونے پر یقین متزلزل ہو گیا۔ امن کی فاختہ زخمی ہوئی تو

Read more

سرحد کے دونوں پار مٹھائی اور کیک کو پہرہ درکار ہے

دیوانوں کی اُس بستی میں مٹھائی، کیک اور بسکٹ بھی جنگی جنون کی نفرت کی نذر ہو گئے۔ تازہ پاک بھارت تناؤ کے دوران ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری کو نام کی سزا دے کر انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ دوران تقسیم 1947 میں حیدرآباد سندھ سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی کی قائم کردہ کراچی بیکری بمبئی میں تو کافی عرصہ ہوا نفرت نفرت کھیلنے والوں نے دھمکیاں دے کر بند کروا

Read more

جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں ہے

کہا جاتا ہے کہ جنگ میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے، اور ہماری نسل نے پہلی بار بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگ میں سچائی کے قتل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تاریخ دان بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ جنگ سے متعلق کسی بھی رپورٹ کو پڑھتے وقت اس کے ماخذ کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس جانب سے لکھی گئی ہے۔ اگر کوئی غیر جانب دار تاریخ دان لکھتا ہے تو اس پر

Read more

طاہرؔ سردھنوی کی شاعری: درویشی، درد اور فنی عظمت کا امتزاج

  کتاب: ہجوم آرزو شاعر: طاہر سردھنوی مرتبین: ڈاکٹر نجم الحسن/ابرار حسین اکبر ناشر: اطراف مطبوعات، اٹلانٹس پبلی کیشنز، کراچی، 2025 طاہر سردھنوی سردھنہ ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جھنگ میں رہائش اختیار کی۔ طاہرؔ سردھنوی کا شمار جھنگ کے نمائندہ شعرا میں کیا جاتا ہے۔ وہ ریل بازار میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں مظفر علی ظفر کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ اکثر ان سے ملنے جھنگ جایا

Read more

لاہور شہر، جنگ، اور موت کے سائے

وہ کیا محاورہ ہے، ”سر منڈواتے ہی اولے پڑنا“ ؟ ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا اور ایسا ہوا کہ اولے تو کیا گولے برس پڑے۔ قریب دس برس کے بعد ہمیں سوجھی کہ اب مغرب کی چکاچوند کو خیرباد کہا جائے۔ کبھی واپسی کا دل کیا تو سوچیں گے لیکن فی الحال یہاں سے بوریا بستر لپیٹا جائے۔ جس چاردیواری کو بھلے لوگ گھر کا نام دیے ہوئے ہیں اس کا سامان تتر بٹر کیا جائے۔ برتنوں کو

Read more

درویش کی آہ نے گودی میڈیا کا منہ کالا کر دیا

کمرے میں گمبھیر خاموشی چھائی تھی۔ ایک پرکشش اور بارعب شخص سب کا مرکز نگاہ تھا۔ کہنے کو تو وہ عمر رسیدہ تھا۔ چہرے کی جھریاں اور سر کی چمک اس کی عمر ستر برس سے اوپر بتا رہے تھے۔ لیکن اس کے چست کسرتی جسم کی حرکات و سکنات کہہ رہی تھیں کہ وہ جوانوں سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ چہرے پر جلال ایسا تھا کہ نگاہ بھر کر اسے دیکھنا ممکن نہ تھا۔ اس شخص کا نام کیا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (20)

یہ 1963 کا ذکر ہے۔ میری عمر چودہ سال تھی۔ اس زمانے میں کولرز تو متعارف نہیں ہوئے تھے۔ چلتے وقت امی نے ایک صراحی میں پانی بھر کر رکھ لیا تھا۔ حیدرآباد کے آس پاس کہیں پانی ختم ہوا تو امی نے اسٹیشن سے دوبارہ صراحی میں پانی بھروا لیا۔ پانی کا پہلا گھونٹ لیتے ہی مجھے احساس ہوا کہ لائلپور کا پانی کتنا میٹھا تھا جب کہ یہ نیا پانی کھارا اور نمکین سا تھا۔ شاید مجھے لائلپور

Read more

جنگ بندی، گودی میڈیا:کھسیانی بلی

ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ بھارتی حکومت مگر اصرار کئے چلے جا رہی ہے کہ پانچ دنوں تک پھیلے ’’تخت یا تختہ‘‘ دِکھتے تنائو کے بعد پاکستان اور بھارت ’’ازخود‘‘ جنگ بندی کو آمادہ ہو گئے۔ کسی تیسرے ملک خصوصاََ امریکہ نے اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے مودی سرکار حیران کن حماقت سے اس حقیقت کو نظرانداز کردیتی ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کی پاکستان اور بھارت کے کئی شہروں اور جنگی

Read more

7مئی: یومِ دفاعِ پاکستان۔ ایک نئی تاریخ کا آغاز

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جو ناقابلِ فراموش ہوتے ہیں۔ جیسے 6 ستمبر 1965 کو قوم نے اپنی سرزمین کا دفاع کیا، ویسے ہی اب 9 مئی کو ”یومِ دفاعِ پاکستان“ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں، چپکے سے، چوروں کی طرح میزائل فائر کیے۔ خیال تھا کہ پاکستان سو رہا ہو گا، مگر دشمن یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قوم

Read more

پاکستان میں تنگ پٹڑی کی تاریخ: نیرو/ میٹر گیج ٹریکس کی کہانی

  (آخری حصہ) میٹر گیج؛ ریلوے ٹریک کا یہ گیج تنگ گیج کی ہی ایک قسم ہے جس میں دو پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ صرف 1 میٹر ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں یہ ٹریک انتہائی کم ہیں لیکن سوئٹزرلینڈ اور اسپین جیسے ملک سیاحتی مقاصد کے لیے انہیں اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ویتنام، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں میٹر گیج ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف دو میٹر گیج لائنیں ہیں جو صوبہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی: ہیرو سے نشئی بننے تک (19)

ہم سب بے حد خوش تھے کہ ابی واپس ہماری زندگی میں آ گئے تھے لیکن ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک ڈراؤنا خواب ہمارا منتظر تھا۔ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں پیتھیڈین کے انجکشن لگانے کی عادت پڑ گئی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کوکین کے خواص سے مشابہ ایک ٹیکہ تھا۔ دراصل اس خاتون کے ساتھ رہتے ہوئے ابی جب بھی امی اور ہمارے لئے پریشان ہوتے تھے تو وہ ان کا ذہنی دباؤ

Read more

کچھ ہم عصر جنگی دُکھڑے

  جنگیں سب سے پہلے اندر کے دشمن بے نقاب کرتی ہیں۔ کشیدگی بخیر، ہر دھڑے کے موجودہ حالات میں اپنے اپنے دکھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔ بلوچستانی دکھڑے : مدت سے پنجابی ہمارا حق کھاتے آ رہے ہیں۔ اس جنگی صورت حال نے اب مزید واضح کر دیا ہے کہ پنجاب ہمارے حصے کے میزائل اور ڈرون تک کھا رہا ہے۔ پختون دکھڑے : صدیوں سے ہمارے بزرگ جب بھی اس خطے میں آئے تو کبھی

Read more

گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور

  گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کا ماحول بڑا یبوست زدہ سا تھا۔ یاس نا اُمیدی، اکتاہٹ، مایوسی، حزن و ملال اور افسردگی اس کے درو دیوار سے ٹپک رہی تھی۔ یہاں کا ہر باسی زندگی سے مایوس اور اُکتایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ یہ ماحول پیدا کرنے میں اس کالج کے اساتذہ کا بڑا کردار تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اساتذہ کرام ہمہ وقت اپنی امنگوں، آرزوؤں اور خواہشوں کے لاشے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ماتم کناں اور نوحہ

Read more

جنگ شدید ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے!

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دوسرے پر ڈرون حملے کرنے اور ان کی تردید کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارت کو حملوں کا اتنا ہی شوق ہے تو بے فکر رہیں پاکستان اپنے وقت اور اپنی مرضی کے مطابق جواب دے گا۔ ادھر برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ نے اطلاع دی ہے کہ بھارت نے سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس جنگی بحری بیڑا پاکستان کی جانب روانہ کیا ہے۔ اس طرح جوہری ہتھیاروں

Read more

پاکستان ناگزیر تھا

مودی سرکار جو آر ایس ایس کے فلسفے ہندو توا پر پوری طرح کاربند ہے، اُس نے منگل کی شب لائن آف کنٹرول اور اِنٹرنیشنل باؤنڈری پر چھ مقامات سے پاکستان کے شہریوں پر میزائل داغے جس کے باعث 26 سویلین شہید اور 46 شدید زخمی ہوئے۔ اِس کے لیے پہلے سے ماحول تیار کیا گیا تھا۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام لگایا کہ وہاں سے کچھ دہشت گرد 200 کلومیٹر کا فاصلہ

Read more

کوہی گوٹھ ہسپتال میں والینٹیر

میں خواب دیکھنے کی عادی ہوں۔ دو سال قبل میرا خواب کوہی گوٹھ میں مڈ وائیفری طالبات کے لیے بحیثیت تھریپسٹ والینٹیر کرنے کا تھا لیکن دوسرا خواب تھا ان طالبات کے ساتھ اپنی دوست پروفیسر فریدہ فیض اللہ کے ساتھ ایک لیکچر کروانے کا۔ فریدہ کالج میں میری ساتھی استاد تھیں۔ میں نے عبداللہ کالج میں بطور مائیکرو بیالوجی استاد دس سال پڑھایا۔ جبکہ فریدہ انگریزی پڑھاتی تھیں۔ پھر میں نے دیار غیر، امریکہ، کی راہ پکڑی اور انہوں

Read more

ایسا کیوں ہے

یہ 1970 کی بات ہوگی جب ہماری نانی کے چچا زاد بھائی کی شادی ٹھہری اور برات کو میرپور خاص جا نا تھا۔ شادی کا سندیسہ اس خبر کے ساتھ آیا کہ برات بذریعہ سڑک جائے گی۔ اس وقت تک بذریعہ سڑک جانے کا تصور ہمارے ذہن میں واضح نہ تھا کہ آنے جانے کے معاملات بذریعہ ٹرین ہی طے ہوتے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میرپور خاص کہاں ہے؟ کیسا ہے؟ یہ بھی کچھ خاص واضح نہ تھا۔

Read more

ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن اور ہم جنس پرستی

یکم دسمبر ہر سال بطور ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد لوگوں کو اس سے بچانا اور محفوظ رکھنا ہے۔ اسی سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف تقریبات و سیمینارز کا انعقاد اور اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں حالات کی سنگینی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تحقیقاتی اور تجزیاتی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن کو پہلی مرتبہ 1987 میں

Read more

جادوئی تھر کا سفر: سندھ کے چھپے ہوئے خزانوں کی کھوج قسط (2)

ہمارا سفر نئے جوش کے ساتھ شروع ہوا جب کراچی سے مزید مہمان ہمارے قافلے میں شامل ہوئے۔ ہماری اگلی منزل پاکستان ہندوستان سرحد کے قریب واقع گوگاسر، ایک پوشیدہ جواہر۔ کیا خوبصورت منظر تھے بارش کے بعد صحرا سبزے سے بھرپور تھا۔ ہر طرف ناچتے مور ریت پر بھاگتے اونٹ صحرا کی وسعت سبزہ اور کہیں کہیں آبادی کے آثار۔ سانپ کی طرح چلتی سڑک ہمیں صحرا کے بیچ و بیچ گوگا سر لیے جا رہی تھی۔ آنکھیں اس

Read more

دیر کی سفید ٹوپی: ہماری پہچان، ہماری ثقافت

  دیر کی سفید روایتی ٹوپی صرف سر ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیب، ثقافت اور شناخت کی علامت ہے۔ بچپن سے اس ٹوپی کو پہنے بزرگوں کو دیکھتا آیا ہوں، اور وقت کے ساتھ یہ احساس اور گہرا ہوتا گیا کہ یہ محض کپڑے اور دھاگے سے بنی چیز نہیں، بلکہ ایک پوری تاریخ ہے جو سر پہ رکھی جاتی ہے۔ یہ ٹوپی صدیوں سے دیر کی خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی آ رہی ہیں۔ سب سے

Read more

سوچ سمجھ کر شیئر کریں – مکمل کالم

”چند ماہ قبل میری بہن نے ایک واٹس ایپ نمبر کے ذریعے نوکری کے لیے درخواست دی، یہ نمبر اسے ملازمت کے متلاشیوں کے ایک مشترکہ گروپ سے ملا تھا۔ اِس نمبر کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کراچی کے کسی تجارتی مرکز سے منسلک ہے۔ بہت سے امیدواروں کی طرح، اُس نے بھی اپنا تعارف (سی وی) بھیج دیا جس میں اُس کی ذاتی تفصیلات درج تھیں اور جواب کا انتظار کرنے لگی۔ پہلے پہل تو

Read more

ملازمت کا آغاز

بی ایس سی کا امتحان دینے کے بعد میں گاؤں میں چلا آیا۔ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گاؤں میں گزارا۔ میں ذہنی طور پر گو مگو کی کیفیت میں تھا۔ کورس کی کتابیں پڑھنے کو دل نہ کرتا کیوں کہ میں تو امتحان دے چکا تھا لیکن فیل ہونے کا ڈر لگا رہتا۔ ایک ڈیڑھ ہفتے بعد میں اکتا کر دوبارہ بوریوالا چلا آیا۔ یہاں بازار میں مجھے بشیر شاہین مل گیا۔ پوچھنے لگا کہ آج کل کیا کر رہے ہو

Read more

سندھی ادب و ثقافت کی ہمہ جہت شخصیت: ایاز عالم ابڑو

ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بے شمار کام کرنے کے باوجود، ان کی عادت میں شور مچانا شامل نہیں۔ وہ محفلوں کے شوقین کبھی نہیں رہے۔ اگر کسی قریبی دوست کے اصرار پر کسی تقریب میں شرکت کرتے بھی ہیں تو خاموشی سے کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں، اور بات کرنے کے بجائے سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاموشی سے بس کام کیا ہے، اور ہمیشہ ان کے کام کی خوبصورتی نے

Read more

دبئی میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی محنت کش۔ کچھ گپ شپ

شیخ محمد بن راشد بلیوارڈ دبئی، اڑتیسویں منزل کی مشرق کو کھلتی بالکونی سے طلوع آفتاب کا دل کش منظر، طلوع آفتاب کے بعد آسمان کو چھوتے پلازوں کے سورج کی سنہری کرنوں سے چمکتے شیشے، اور ان کے چاروں طرف کی بلڈنگز سے منعکس ہوتی لہروں کے نظر آتے منفرد و فرحت بخش نظارے دیکھتے بالکل سامنے والی اسؔی نوؔے منزلہ بلڈنگ کی چھت کے پیچھے نظر رک گئی۔ برج خلیفہ اپنے ہی رنگ میں ڈھکا ہوا تھا۔ اتفاقا

Read more

اردو بولنے والوں کی گمشدہ آواز: شناخت کا بحران

وہ جو کل تک شہر کراچی کی شناخت تھے آج اسی شہر میں اجنبی بن چکے ہیں۔ اردو بولنے والے آج ایک ایسی خاموش اکثریت ہیں جن کی آواز کہیں پر بھی سنائی نہیں دیتی۔ یہ تحریر مہاجر سے معدوم ہونے کے اس عمل کی داستان ہے جس میں شناخت کا محاصرہ بھی ہے اقتدار سے بے دخلی بھی اور سیاسی خلا میں معلق ایک نسل کی بے وطنی بھی۔ بے وطنی اب صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں رہی بلکہ

Read more

پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد

اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے

Read more

سیدو شریف ائرپورٹ، پاکستان بھارت کشیدگی کے تناظر میں پھر فعال

سرکاری نام سیدو شریف ائرپورٹ، لیکن مشہور ہے سوات ائرپورٹ کے نام سے جو کہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے قریب کانجو میں واقع ہے، 1978 میں تعمیر ہوا اور کئی دہائیوں تک اس نے سیاحتی اور مقامی فضائی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ائرپورٹ اسلام آباد، پشاور، لاہور، چترال کے مسافروں کے لیے ایک اہم فضائی راستہ تھا، اگرچہ کراچی اور لاہور سے براہ راست پروازیں نہیں ہوتیں، لیکن ان شہروں سے مسافر اسلام آباد پہنچ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 40 : خدشات

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا وہ اطمینان جو سمجھ سے بالاتر ہے، تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے دن یومِ آزادی کی چھٹی تھی۔ پچھلی رات کو پوری فیملی تھکن سے چور تھی۔ عارف بھی اپنے والدین کے گھر رک گیا تھا

Read more

آئینہ سفاک ہے

آئینہ تو ہمیشہ سے سفاک ہی ہے۔ چاہے ہمارے اندرون خانہ کا آئینہ ہو، دیوار پر لگا ہو، حمام کی دیوار پر چمکتا ہو، آرائش کے لئے کسی دیوار پے آویزاں ہو، کھڑکی میں جڑا ہو، کوئی چہرہ مانند آئینہ دکھتا ہو یا دل آئینہ کی طرح شفاف ہو، آئینہ تو بس آئینہ ہی ہے۔ سات سمندر پار کی رہنے والی جو کبھی کراچی کی باسی ہوا کرتی تھیں۔ وہ مشی گن کی ریاست سے بمع ”سفاک آئینہ“ شہر میں

Read more

ہونڈورس والے ابو عمر کی دوسری شادی

آئیں آپ کو اپنے تاجر میمن ایکسپورٹر دوست ابو عمر کاپڑیا سے ملوائیں۔ بحر الکاہل اور کیریبئن سمندر کے درمیاں آباد اس وسطی امریکہ کے ملک کا نام ہے ہونڈورس۔ مگر ہسپانوی زبان میں ہ کو ڈراپ کر کے بولا جاتا ہے اسی لیے وہاں مقامی لہجے میں اسے اون دو رس پکارتے ہیں، جب کہ امریکہ میں اسے ہونڈورس پکارتے ہیں۔ اب وہ وہاں رہتا ہے۔ ابو عمر پہلے ایسا نہیں تھا۔ اب عیاش بھی بہت ہو گیا ہے۔

Read more

کینیڈا کا الیکشن اور ہماری ننھی ننھی حسرتیں

اس بار کینیڈا کے الیکشن کے بارے میں شنید تھی کہ کچھ گہما گہمی ہو گی۔ جسٹن ٹروڈو کی ٹرم ختم ہونے سے پہلے ریزائن۔ ارلی الیکشن کا غوغا، مہنگائی، جاب مارکیٹ کے دگرگوں حالات، کساد بازاری اور امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات نے فضا ہی کچھ ایسی بنا دی کہ ایسا سوچنا کچھ غلط بھی نہیں تھا۔ ٹرمپ فینامنا امریکہ تک ہی محدود نہیں اس کی ایک کاربن کاپی یہاں بھی موجود ہے۔ ایسا وہ لوگ بھی کہتے ہیں

Read more

قبیلہ کیا سوچے گا! مکمل کالم

میرے حلقہ احباب میں ایک صاحب ہیں جن کی شرعی داڑھی ہے، ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنتے ہیں، پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں۔ گویا اپنے چہرے مہرے، حلیے اور اعمال سے کٹر مسلمان لگتے ہیں اور اسی وجہ سے اہل علاقہ انہیں مولوی صاحب کہہ کر پکارتے ہیں حالانکہ نہ انہوں نے کبھی مدرسے کی شکل دیکھی اور نہ کسی مسجد میں امامت کی۔ اُن کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور فلسفہِ موت

کیا زمیں کے اوپر کی زندگی زمیں کے نیچے کی زندگی سے بہتر ہے؟ اگر صحت ایک سنجیدہ موضوع ہے، تو کیا موت ایک طنزیہ موضوع ہو سکتا ہے؟ کیا صحت مند زندگی گزارنا اچھی زندگی گزارنے کے مترادف ہے؟ ہماری آخری نبض اور سانس کس کے لئے ہوتی ہے؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”پڑیے گر بیمار“ میں طنز کے لب و لہجہ کو اختیار کرتے ہوئے اپنے فلسفہِ موت کو پیش کرتے ہیں۔ یوسفی کے نقطہ نظر کے

Read more

تحقیق و دریافت: ایک مطالعہ

تحقیق کسی بھی شعبے میں ترقی اور جدت کی بنیاد ہے۔ یہ نیا علم دریافت کرنے، موجودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چاہے وہ سائنس ہو، ادب ہو، تاریخ ہو یا کوئی اور مضمون۔ یہ ہمیں تنقیدی طور پر سوچنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیمی لحاظ سے،

Read more

رین واٹر ہارویسٹنگ: ایک ممکنہ بحران کا حل

انڈیا ہمارے حصے کے دریاؤں پر بند باندھ کر ہمارے دریاؤں کا پانی تو روک سکتا ہے، اس کا رخ موڑ سکتا ہے لیکن کیا وہ ہمارے خطے میں برسنے والی بارشوں کو بھی روک سکتا ہے؟ کیا وہ ہمارے خطے میں آنے والے سیلابوں کو بھی روک سکتا ہے؟ کیا وہ ہمارے خطے پر چلنے والی مون سون کی ہواؤں کو بھی کنٹرول کر سکتا ہے؟ کیا وہ ہمارے ان بڑے زیرزمین آبی زخائر کو بھی ختم کر سکتا

Read more

پیپلز پارٹی کی غلطیوں کا تسلسل

سندھ ہمیشہ سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرامن خطہ رہا ہے، مگر سیاسی جدوجہد کے معاملے میں سندھ ہمیشہ آگے رہا ہے۔ چاہے وہ ون یونٹ کے خلاف تحریک ہو، جنرل ضیاء الحق کی آمریت ہو یا ایم آر ڈی کی تحریک، سندھ کے عوام نے ہر دور میں مزاحمت کی ہے۔ پانی کے مسائل پر بھی سندھ کے لوگ ہمیشہ سڑکوں پر نکلے ہیں، اور سندھ کی قوم پرست تحریکوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اس تاریخ

Read more

ملک بھر میں بچھائے گئے نیرو گیج اور میٹر گیج ٹریکس کی کہانی

1850 میں جب تاجِ برطانیہ نے سر ہنری بارٹلے فریئر کو سندھ کا چیف کمشنر بنا کے بھیجا، تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اس خطے کے لیے تبدیلی کا پروانہ بھی لے کر آیا۔ اس کے ہوتے ہوئے نہ صرف کراچی کی بندرگاہ بنائی گئی بلکہ جہازوں کے لنگر انداز ہونے کو جیٹیاں بھی تعمیر کی گئیں۔ سندھی زبان کو فروغ دیا گیا اور سندھ میں ڈاک کا مضبوط نظام بھی نافذ کیا گیا۔ بندرگاہ بنی تو اسے ملک کے

Read more

عورت: خوبصورتی اور غربت کا چکر

صبح نو بجے کا وقت دروازہ پہ دستک ہوتی ہے۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ دروازہ کے اوپری جالی دار حصے سے ایک بہت دلکش نقوش والی عورت نظر آتی ہے۔ جس کی خوبصورت کٹیلی آنکھیں کسی کو بھی مار سکتی ہیں۔ لبوں پہ مسکان سجائے وہ کہتی ہے، ”باجی میں رضیہ ہوں۔ یہاں کام کرتی ہوں۔ “ اتنے میں میری بہن کی آواز آتی ہے۔ ”ہاں دروازہ کھول دو۔ یہ ہماری کام والی ہے۔“ کراچی میں میرا قیام ہمیشہ اپنی

Read more

ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہے

ہر بات کی طرح ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ تاہم بھارت کی بے شرمی اور ڈھٹائی کی کوئی حد نہیں ہے۔ جب بھی بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔ اس ضمن میں وہ کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی اس کا یہی چلن تھا۔ آج بھی اس کا یہی وتیرہ ہے۔ پہلگام میں ہونے والی دہشت

Read more

خواب، محبت اور زندگی (14)

Murder, she saw!? مجھے اس زمانے کے قتل کے دو مشہور مقدمات اچھی طرح یاد ہیں جن کے بارے میں روز اخبارات میں خبریں شائع ہوتی تھیں اور لوگ بے چینی سے عدالت میں فریقین کی پیشیوں کا انتظار کرتے تھے۔ ایک تو منیرہ استانی کے قتل کا کیس تھا جس میں با اثر پگانوالہ خاندان ملوث تھا۔ اور دوسرا حکیم دلبر قتل کیس تھا جس میں مقتول کے بھائیوں نے سہگل خاندان کے خالد سہگل کو ایف آئی آر

Read more

پروفیسر خورشید: ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932 ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی۔ علاوہ ازیں اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ایجوکیشن میں یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی۔ پروفیسر صاحب نے برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی سے اسلامی معاشیات میں پی ایچ ڈی کی۔ پروفیسر خورشید احمد 1949 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953 ء میں انہیں ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

Read more

سپریم کونسل کا قیام

آپ کو یاد ہو گا جنرل مشرف مکے لہرایا کرتے تھے، بڑھکیں مارا کرتے تھے پھر انہوں نے اکبر بگٹی کو شہید کروا دیا، جس سے بلوچستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے، طاقت اندھی ہوتی ہے، طاقت کے پاس عقل نہیں ہوتی ورنہ یہ سوچا جا سکتا تھا کہ مکے لہرانے یا بڑھکیں مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ الجھاؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ مسائل بندوق سے نہیں، بصیرت سے حل ہوتے ہیں۔ مشرف نے جمہوریت پر شب خون مار

Read more

پوپ فرانسس: پوپائت کا ایک منفرد باب

پوپائت (Papacy) کیتھولک کلیسیا کا سب سے اہم عہدہ ہے، جو روم کے بشپ یعنی پوپ کے پاس ہوتا ہے۔ کیتھولک روایت کے مطابق، یہ عہدہ سیدنا مسیح کے حواری مقدس پطرس (Saint Peter) سے شروع ہوا، جنہیں سیدنا مسیح نے بشارت دی تھی کہ وہ ان پر کلیسیا تعمیر کریں گے۔ ویٹیکن سٹی کا نام بھی مقدس پطرس کی وجہ سے پڑا، جنہیں 64 ء یا 67 ء میں روم میں شہید کیا گیا اور ویٹیکن ہل پر دفن

Read more

کینال منصوبے کے خلاف ببرلو دھرنا

جب ہم کراچی سے ببرلو بائی پاس کے لیے نکلے تو ایک بدلا ہوا سندھ ملا، جہاں ایک حوصلہ تھا، ہمت تھی، غصہ تھا، مرمٹنے کا جذبہ تھا۔ پہلا اسٹاپ جس ہوٹل پر کیا، یہ ایک چین کا ہوٹل تھا جو ہر وقت کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں مگر اس دن ہوٹل کے صحن، ہالز اور پھٹے خالی تھے۔ محض اکا دکا لوگ ہی نظر آئے، کسی ہم سفر نے بتایا کہ ہوٹل چین کا مالک پیپلز پارٹی کا ایم

Read more

ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا بچوں کے لیے کراچی میں ادارہ ’سائنوسا‘ کیا کر رہا ہے؟

میرا تقریباً ہر دو سال پہ پاکستان آنا ہوتا ہے۔ ہر بار اس کی مدت ڈھائی تین ہفتے سے زیادہ نہیں ہوئی۔ کبھی کسی شادی میں شرکت تو کبھی کوئی اور خاص موقعہ لیکن اس دفعہ میرا ہدف ساڑھے تین ماہ قیام کا تھا تاکہ کراچی میں واقع عورتوں کے مفت کوہی گوٹھ اسپتال کی مڈوائفری طالبات کے ساتھ گروپ اور انفرادی تھرپی کا سلسلہ شروع کر سکوں۔ جو ملازمت کو خیر باد کہے بناء ممکن نہ تھا۔ اس دوران

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

عظیم کلاسیک گائیک بڑے غلام علی خان پاکستان چھوڑ کر انڈیا کیوں چلے گئے؟

سنہ 1953 میں جب بڑے غلام علی خان انڈیا منتقل ہو گئے تو ریڈیو پاکستان میں ان پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی اور لگ بھگ 56 سال تک ریڈیو پاکستان کو استاد محترم کی لافانی آواز سے محروم رکھا گیا تاہم سنہ 2009 میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے آدھی صدی سے زائد عرصہ کے بعد ریڈیو پاکستان کو اس پابندی سے آزاد کرا دیا۔

Read more