سب رنگ کہانیاں۔ سب رنگ کا عشق مشترک

سب رنگ ہم نے اس کی اشاعت کے پہلے یا شاید دوسرے سال میں پڑھنا شروع کیاتھا اور اس کی اشاعت کے آخری سال تک پڑھا۔ اس میں تب کی پڑھی ہوئی کہانیاں آج چالیس پینتالیس سال بعد بھی یاد ہیں۔ پرانی کتابوں کی الماری سے اگست 1971 کا سب رنگ کا شمارا چند دن قبل ملا تو اس میں ماں پر موپساں اور ولیم سمرسٹ ماہم کی کہانیاں پڑھ کر ماضی میں سب رنگ میں پڑھی ہوئی بہت سارے

Read more

جنرل ضیاء کے جوتے اور جمہوریت سے انتقام

جنرل ضیاء الحق صاحب کا زمانہ تھا۔ جنرل صاحب حسب روایت سرکاری غیر سرکاری تقریبات کی رونق بڑھاتے۔ جنرل صاحب حج زکوٰۃ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ جنرل صاحب کی عادت تھی جہاں نماز کا وقت ہوا وہیں سر بسجود ہو گئے۔ یہ سلسلہ یہ عادت سفر و حضر میں بھی جاری رہتی۔ جنرل صاحب ایک تقریب میں تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہنے لگے تو انہیں کچھ دشواری ہوئی جوتا تنگ تھا یا جراب کا مسئلہ۔

کچھ دنوں بعد جنرل صاحب ایسی ہی کسی دوسری تقریب میں رونق افروز تھے کے نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد جنرل صاحب جیسے ہی جوتا پہننے لگے اک صاحب فوراً جوتا پہنانے میں مدد دینے ولا آلہ لے کر دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ جنرل صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ مگر پاس کھڑے ساتھی نے کہا خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ( دنیا حاسدین بد سے خالی نہیں ) ۔ اس سے اگلی تقریب میں جب جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہننے کے لیے کرسی پہ تشریف فرما ہوئے تو وہی صاحب جوتا پہننے میں مدد دینے والا آلہ لے کر قدموں میں بیٹھ گئے۔

Read more

وہ ایک جیتی جاگتی حسین و خوبصورت انسان ہے

کتنی خوش تھی وہ جب اس کی شادی ہوئی۔ جب اس کو مایوں کا پیلا جوڑا پہنایا گیا اورپھوپھو جو فیصل آباد کے مشہور کپڑا بازار سے اس کے لیے گوٹے کناری سے کڑھے ہوئے مہندی کے جوڑے کے لیے ست رنگی دوپٹہ لائی۔ اس دوپٹے پر تو جیسے اس کا دل ہی رک گیا ہو۔ کہاں سوچا تھا کہ کبھی ایسا فیشن ایبل دوپٹہ وہ ٹی وی ڈراموں میں ہی نہیں اپنی زندگانی میں اور وہ بھی اتنے خاص

Read more

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی: ایسی عظمت کو سلام

اللہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ قرآن پاک میں بار بار ارشاد ہوا ہے کہ میں بڑا حکمت والا ہوں۔ بلاشبہ اللہ بڑا حکمت والا ہے۔ وہ انسان کو ایک خاص مدت کے لیے اِس دنیا میں بھیجتا ہے اور وہ بھی کسی مقصد کے تحت۔ جب مقصد پورا ہو جاتا ہے تو اُسے اُٹھا لیتا ہے۔ ہر انسان دنیا میں پاکیزہ پیدا ہوتا ہے بقول ولیم ورڈزوتھ جہاں سے بچہ آتا ہے

Read more

یادیں آصف فرخی کی

میرے ہاتھ میں نوائے معانی زندگی کا مسودہ تھا اور آصف فرخی کا ایک ایک افسانوی مجموعہ میری نظروں سے گزر رہا تھا۔ شام کے سائے ڈھل چکے تھے، میں چھت پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بہت دن ہوئے ڈاکٹر آصف فرخی سے بات نہیں ہوئی وہ نئے لکھے جانے والے دس افسانے کب بھیجیں گے اور میں ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ کب مرتب کروں گی۔ انہوں نے تو 22 اپریل 2020 کو فون پر بتایا تھا

Read more

ایڈی پس، ہیملیٹ اور ہمارا مردہ احساس گناہ

سفید سفید ہوتا ہے اورسیاہ سیاہ، سفید سیاہ نہیں ہوتا، سیاہ سفید نہیں بن سکتا۔ زمانہ قدیم سے ہی نیکی اور بدی کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی۔ زمانے آئے اور چلے گئے، لو گ آئے اور چلے گئے، قومیں آئیں اور چلی گئیں، مگر سفید سفید ہی رہا سیاہ سیاہ۔ بدی کو نیکی کہنے سے انکار کی پاداش میں لوگوں نے یہاں زہر بھرے پیالے بھی پئے، مگر آج تک پینے والا زندہ ہے اور پلانے والے

Read more

شاہ عنایت قادریؒ، ہاری اور جاگیرداری

شاہ عنایت کی جھوک حیدر آباد سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پہ ہے۔ سڑک کہیں مناسب اور کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ کہیں روڑی، پتھر اور ریت، راستے پہ ستاروں کی طرح بچھے تھے۔ ڈیڑھ گھنٹے میں یاتری وہاں تھا۔ سفید بالوں والے نانک پنتھی پروفیسر ناگ پال کی باتوں سے سندھ کی خوشبو آتی ہے۔ ان سے ملاقات اسلام آباد میں مادری زبانوں کے میلے میں ہوئی تو معلوم نہ تھا کہ زندگی کے سندھی موڑ پر ”مچاٹا“ ہوگا۔ وہ صوفیوں اور سنتوں کے قصہ گو ہیں۔

اڈیرو لال کے قصے سے یہ راز کھلا کہ سندھو، نے دھرم کو کربلا نہ سجانے دی اور ظالم کا راستہ روکا، کہ سندھ فرات نہیں ہے! اپنے سورماؤں کی موت پر سیلاب نہ لا سکے تو کناروں سے سر ٹکراتا رہتا ہے۔ صوفی شاہ عنایت قتل ہو کر سندھ کے سورماؤں کی دیو مالا کا حصہ بن گئے۔ شاہ لطیف کی ست سورمیون مر کر وصل اور وصال سے ماورا ہو جاتی ہیں۔ سوائے نوری کے جس کا وصل کامل تھا کہ اس کا عاشق پورا آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ بالعموم عاشق مرد اور عورت اس طرح کیوں مرتے ہیں؟ محمود درویش جواب دیتے ہیں :

Read more

منافقت نہیں، انسانیت چاہیے

گزشتہ دنوں ایک وائرل وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک تین سالہ کشمیری بچہ ایک لاش کے اوپر بیٹھا رو رہا تھا۔ دوسری کلپ میں دیکھا کہ بچہ ہچکیوں سے روتا ہوا بمشکل بتاتا ہے کہ وہ لاش اس کے نانا کی تھی جنھیں بھارتی فوجیوں نے اس کی آنکھ کے سامنے گولیوں سے قتل کر دیا۔ بچے کے ننھے منے ہاتھوں میں چپس، بسکٹ کی تھیلیاں دیکھ کر اس پر مزید پیار آنے لگتا ہے۔ معصوم بچے کے

Read more

غزر حلقہ نمبر 1 کی سیاست پر ایک نظر

گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈر کے تحت وجود میں آ نے والی دوسری جمہوری حکومت 24 جون 2020 کو اپنی مدت پوری کر نے کے بعد گلگت بلتستان کا نظام و انصرام نگران وزیر اعلیٰ کی بارہ رکنی ٹیم کے سپرد کر کے رخصت ہو گئی۔ صدر پاکستان نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات کی سمری پر دستخط کر کے اٹھارہ اگست 2020 کو گلگت بلتستان میں عام انتخابات کرانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ اور الیکشن

Read more

حسن صباح اور ڈاکٹر فرحان کامرانی کی روایتی تحقیق

یوں تو قرآن پاک اوراحادیث نیوی ﷺ میں باربار عقل کے استعمال، غور و فکر، علم، سوال اور تحقیق سے متعلق بہت سی ایسی ہدایات ہیں، جن پر اہل علم اور اہل تحقیق تواتر کے ساتھ لکھتے آئے ہیں اورلکھتے رہیں گے۔ اور تحقیق ایک ایسا کام ہے، جس میں بہت ہی زیادہ عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قرآن پاک اور احادیث کی مذکورہ ہدایات کا نچوڑ تحقیق ہے۔

Read more

درخشندہ قبائلی روایات کا امین حاجی فیض محمد لالا

بلاشبہ یہ دنیا فانی ہے اور اس میں رہنے والی ہر شے نے آخرکار ابدی نیند سو جانا ہے، عمر کے اس مختصر دورانیہ میں ہم نے بہت سے لوگوں کو اس دنیا سے کوچ کرتے دیکھا جن کے انتقال پر یقیناً دل غمزدہ ہوا اور ان کے لئے خیر اور مغفرت کی دعاؤں کے لئے ہاتھ فضا میں بلند کیے۔ قبرستان ایسے بے شمار انسانوں سے بھرے پڑے ہیں جن کو اپنی آنکھوں کے سامنے دفن ہوتے دیکھا۔ مگر کچھ ہستیاں اپنی عظمت، سخاوت بہادری اور کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں، ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے اور ان کی رحلت ایک ناقابل تلافی نقصان تصور کیا جاتا ہے، جن کے وصال کا کئی دن، کئی مہینوں تک یقین تک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

Read more

نوکری یا داخلے کے لیے پرسنل اسٹیٹمنٹ کیا ہے اور کیسے لکھی جائے؟

14 مارچ پر جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا کو عالمی وبا قرار دیا تو دنیا میں موجود تمام انسانوں کی زندگی پر اس کا اثر پڑا ہے۔ امریکی حکومت کی نا اہلی اور عوام کا پاگل پن تمام دنیا کے سامنے ایک تماشا بن گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ جو کلینک میں آتے ہیں یا ٹیلی میڈیسن سے رابطے میں ہیں وہ ایسے نہیں ہیں کہ ماسک نہ پہنیں اور دوسروں پر کھانسیں۔ اس طرح کے لوگ میں بھی باقی اور لوگوں کی طرح انٹرنیٹ پر ہی دیکھ رہی ہوں۔

پچھلے تین مہینے شدید مصروفیت رہی۔ سفر بند ہوجانے کی وجہ سے اینڈوکرنالوجی کی روٹیشن ایک ٹیلی روٹیشن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان اسٹوڈنٹس کے دوسرے ملکوں اور ریاستوں میں ہونے کی وجہ سے وقت مختلف ہونے کی وجہ سے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ زندگی میں سب کچھ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تبدیلیوں کے ساتھ نئی چیزیں سیکھنا ہوتی ہیں۔ سارا دن مریض دیکھنے اور ان کے درمیان پڑھانے میں گزر جاتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی : سو گئے روشنی کے پہلو میں

درمیانہ قد، مسکراتا ہوا سانولا چہرہ، جسم قدرے بھاری، دبیز شیشوں والی عینک سے جھانکتی ہوئی روشن آنکھیں، عموما سفید شلوار قمیص میں ملبوس۔ پان چباتے ہوئے بڑے میٹھے لہجے میں۔ ”شاہ صاحب ہیں“؟ میں اکثر اثبات میں سر ہلاتا اور واپس آکر شاہ جی (نانا) کو بتاتا کہ او آئے نیں۔ وہ یہ نہ پوچھتے کہ کون۔ بس اتنا کہتے، اچھا اور ملنے چلے جاتے۔ میں موقع غنیمت جان کر کھیل کود میں مصروف ہو جاتا۔ شاہ جی واپس

Read more

رنگ نسل کی نفرت، سندھ کے گلی کوچوں سے سندھ کے ایوان تک

اسی ہفتے سندھ اسمبلی کے فلور پر سندھ کی برسر اقتدار پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کی خاتون ایم پی اے کلثوم چانڈیو نے ذاتی نوک جھونک پر مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون ایم پی اے کو حقارت کے اظہار کے طور پر ”باگڑی“ کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کے بعد سندھ میں سوشل میڈیا اور دوسرے حلقوں میں یہ گرما گرم بحث چل نکلی۔ جس پر سندھ کے قدیمی قبیلے ”باگڑی“ کے ساتھ نسلی امتیاز روا رکھنے پر اہل دانش اور اہل شعور نے ایم پی اے کلثوم چانڈیو کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر وہ معذرت کرنے پر مجبور ہوئی۔

اصل میں بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی۔ اگر بات کی تہہ تک جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں تقریباً ہر گلی محلے میں رہنے والے لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اپنی گفتگو میں اس قسم کے نسلی امتیاز کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ کے بہت سے مسلمان گھر میں کسی بچے یا بڑے کو گھٹیا ثابت کرنے کے لئے اسے ”باگڑی، گرگلہ، کولھی، بھیل، مارواڑی، اوڈ یا جوگی“ کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ کو اور بھی تشویش ہوگی کہ یہ سب سندھ کے قدیمی غیر مسلم شیڈول کاسٹ ہیں۔

Read more

میرا پہلا قاری

میں نے جو لکھنا ہے وہ کوئی بیٹی یا بیٹا لکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہمہ وقت ایک ہی حال میں رہنے کا خواہش مند انسان بھول جاتا ہے کہ حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان بھی مسلسل ادھر سے ادھر جاتے رہتے ہیں۔ کائنات کی ہر شے تبدیلی کے اندر رہتی ہے۔ شہر بھی وہ ہی ہے مگر ”وہ“ انتقال کر گیا ہے۔ کیسے بتاؤں، کیسے چھپاؤں اپنے اس نئے نویلے ”غم“ کو اپنی چادر میں۔ اس نئے غم کی نویلی عمر کے ساتھ کس طرح بقیہ زندگی گزارنی ہے۔ اس کا تجربہ ہی نا تھا۔ جب شدید تعلق سے رابطہ یوں ٹوٹتا ہے تو ایک باپ نہیں مرتا، ایک انسان مرتا ہے۔ فادر ڈے سے ایک روز قبل

پہاڑوں کا باپ مر گیا۔

Read more

وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے

کتاب ”وباؤں کا خاتمہ: انسانیت کے لئے منڈلاتا ہوا خطرہ اور اسے کیسے روکا جائے“ ( 2018 ء) ڈاکٹر جوناتھن ڈی کوئیک کے خیالات۔ ”اگر آپ یا آپ سے محبت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے کوئی ایک مہلک بیماری سے ہلاک ہو سکتا ہے تو کیا ہوگا؟ آپ کو نمبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ میں نے بھی دیے ہیں، میں آپ کی آنکھوں کو قریب سے دیکھتا ہوں، تو آپ بھی میری آنکھوں میں دیکھیں، نمبر

Read more

بڑھاپا… چیخوف کی عالمی شہرت یافتہ کہانی

ازلکوف ایک کامیاب آرکیٹکٹ تھا۔ ماسکو میں رہتے ہوئے اسے تیس سال ہو چکے تھے۔ اس کے آبائی شہر کے مئیر نے اسے شہر کے سب سے بڑے چرچ کی پرانی شان و شوکت کو بحال کر نے کی دعوت دی۔ ازلکوف نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔ وہ اسی شہر میں پلا بڑھا تھا، یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کی شادی بھی ہوئی۔ ٹرین سے اترتے ہی ازلکوف کو اندازہ ہوا کہ شہر بالکل

Read more

بلوچستان: آوازیں تو اٹھتی ہیں

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ 2017 ء کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر ہے۔ وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس یو، این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے پوری دنیا پر یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کے ریونیو میں ایک بڑا حصہ بلوچستان دیتا ہے ساتھ ساتھ بلوچستان کے وسائل کو کس بیدردی کے ساتھ کسی یتیم کی جائیداد کی طرح لوٹا جا رہا ہے۔

اس وقت صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت ہے جو کہ پی ٹی آئی کی حمایتی و اتحادی ہے باوجود اس کے پاکستان کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو خاص خاطر میں نہیں لایا گیا بلکہ ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ملنے والے بلوچستان کا حصہ مزید کم کر دیا گیا ہے جب نا انصافیاں حد سے بڑھ جائیں گی تو آوازیں اٹھیں گی۔

Read more

ارطغرل ایک پروپیگنڈا: خاموش اسلامی ثقافتی ہتھیار

میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک مضحکہ خیز وقت سمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور ٹیلی ویژن کی رنگین روشنیوں کے سامنے گزارا۔ پچھلے کچھ سالوں سے انگلش ڈرامے خاص طور پہ میری توجہ کا مرکز بنے رہے۔ پریزن بریک، فرینڈز، بریکنگ بیڈ، گیمز آف تھرونز، سپار ٹکس، بگ بینگ تھیوری، وائکنگ، روم، اور منی ہا یسٹ میرے پسندیدہ ڈراموں میں سے ہیں۔ حال ہی میں ارطغرل ترکش ڈرامے کی ہائپ سنی تو سوچا یہ بھی دیکھ لیتی ہوں۔ اگرچہ بہت سے صاحب حیثیت لوگوں اور پاکستانی اداکاروں کو اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہونے پر اعتراضات بھی سنے اور اس ڈرامے سے مغربی دنیا کا خوف بھی سامنے آیا تو اپنے شوق اور تجسس کے لئے اس ڈرامے کو دیکھنا شروع کیا۔

ایک ریسرچر ہوں تو ڈرامے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت جاننے کی بھی کوشش کی، تو یہ جانا کہ یہ ڈرامہ تقریباً نوے فیصد افسانوی ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ اس میں اسلام کے تاریخی ہیرو ارطغرل اور دوسرے کرداروں کے بنیادی عقائد کو حقیقی معنوں میں من و عن پیش کیا گیا۔ پاکستانی عوام کی رائے ہمیشہ کی طرح اس معاملے پہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کے حق میں دیوانہ وار سوشل میڈیا پہ قربان ہوتے دیکھا اور کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کو ترکش کلچر کہتے ہوئے اس کے خلاف زہر اگلتے دیکھا۔

Read more

فلم ریویو: ”گریھا پرویش“ گھر کی جانب

اسکول کے دنوں میں تین فلمیں دور درشن سے دکھائی گئی تھیں انوبھو، اوشکار اور گریھا پرویش جن کی کہانی ملتی جلتی مگر اس کے باوجود وہ جدا جدا تھیں۔ پہلی دو فلموں کی کہانی بمبئی شہر میں آسودہ زندگی گزارنے والے بالائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ جوڑوں سے متعلق تھی جن کی شادی شدہ زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ سے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آیا جس رشتے میں وہ بظاہر بندھے ہوئے ہیں آیا وہ اتنا مضبوط بھی ہے جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں۔

یہ ایک انتہائی پیچیدہ سوال ہے جو کہ ایک شادی شدہ انسان اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے۔ اسی سوال کے جواب کی کھوج پانے کے لئے باسو بھٹاچاریہ نے اپنی تثلیث کی آخری فلم گریھا پرویش یعنی ”گھر کی جانب“ بنائی۔ فلم کی کہانی باسو بھٹاچاریہ جبکہ مکالمے اور گیت گلزار کے تھے۔ فلم کے گیتوں کی کومپوزیشن کنو رائے کی تھی۔ فلم کے نمایاں کردار سنجیو کمار، شرمیلا ٹیگور اور ساریکا نے ادا کیے تھے۔

Read more

علم سے رشتہ داری

کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔

Today a reader , tomorrow a leader

لائبریریاں قوم کی ترقی کی ضامن ہیں۔

کتاب کی رفاقت کردار کی لیاقت کا باعث ہوتی ہے۔

اوپر درج وہ اقوال ہیں جو اکثر و بیشتر ہمیں سکولوں، کالجوں اور جامعات کے در و دیوار پر بڑے لش پش انداز میں لکھے ملتے ہیں۔ کتاب کی افادیت بیان کرتے ایسے کئی جملے اور مضامین ہمارے درسی نصاب کا بھی حصہ ہیں۔ لوگ اس طرح کے کلمات فیسبک اور واٹس ایپ سٹیٹس پر بھی پورے خشوع و خضوع سے لگاتے ہیں۔ ان اقوال کو پڑھ کے یہ تاثر ملتا ہے کہ بس کتاب تھامنے کی دیر ہے، کتاب تھامتے ہی بندہ دنیا کی ایسی کی تیسی کر دے گا۔ میرے خیال میں کتاب کی حمد کرتے یہ قول نہایت بے کار اور گھسے پٹے ہیں۔

Read more

‘پھلوں کے بادشاہ’ آم کو کھانے کا بہترین طریقہ کیا، سوشل میڈیا پر رسیلی بحث

پاکستان میں ’پھلوں کے بادشاہ‘ کے نام سے مشہور آم کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں اور لوگ مختلف طریقوں سے اسے کھانا پسند کرتے ہیں۔ اور جب کسی غیر ملکی شہری کو سکھانا ہو کہ آم کیسے کھایا جاتا ہے، تو لوگوں کے مشہورے بھی دلچسپ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آسٹریلیا کے سفیر ڈاکٹر جیفری شا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں پاکستانی آم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دنیا بھر

Read more

زہر کا ٹیکا اور ہم ڈاکٹر

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تمازت سے چمک رہا تھا۔ گرمی اور حبس سے برا حال تھا۔ میری ڈیوٹی میڈیکل ایمرجنسی میں تھی۔ ایمرجنسی میں داخل ہو کہ کرونا کے باعث سب سے پہلے حفاظتی لباس پہنا پھر چہرے پہ ڈبل ماسک اور حفاظتی عینک پہننے کے بعد سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ شدید گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی سائڈ کے مریض جا کہ دیکھنے شروع کیے۔ دوسرے ہی بیڈ پر ایک بابا جی لیٹے ہوئے تھے جو کہ غنودگی کی حالت میں تھے ان کی تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پچھلے ایک سال سے بیمار ہیں دو دفعہ فالج کا اٹیک ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور بستر تک ہی محدود ہیں۔ مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے ان کی کمر پہ ایک زخم بھی بن چکا تھا۔ جو کہ اب انفیکٹ ہو چکا تھا۔ ابھی دو دن سے انھیں بخار بھی تھا اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکے تھے۔ ان کے ساتھ تین خواتین اور کچھ مرد بھی تھے۔ ان کا معائنہ کر کے چند ضروری ٹیسٹ کروا کہ انھیں دوائیں شروع کروا دیں۔

Read more

میں سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرے بہت ہی پیارے اللہ!
میں ایک چھوٹا سا بچہ ہوں، عمر کے بارہویں سال میں ہوں، تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوں اور تجھ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں جو تیرے لیے تو ”کچھ“ ہے لیکن میرے لیے ”سب کچھ“ ہے۔ تو تو بن مانگے بھی دیتا ہے لیکن آج میں خود ہاتھ پھیلائے تیری بارگاہ میں آیا ہوں اور کچھ مانگ رہا ہوں۔

Read more

میاں صاحب مائنس کرنے کو تیار نہیں ہوئے

روایت ہے کہ ایک دور دراز کے گاؤں میں ایک میاں صاحب رہتے تھے۔ نہایت وجیہہ و شکیل تھے۔ رنگ ایسا جیسا پنجاب آٹا نمبر ایک میں شہد گھول کر بنفشہ بھی ڈال دیا گیا ہو۔ جسامت ایسی کہ کسرت کرنے والے پہلوان لگتے تھے۔ ویسے تو وہ نہایت متقی اور پرہیزگار تھے مگر ان کے بعض شریک بتاتے تھے کہ میاں صاحب اندھیرے اجالے چوکتے بھی نہیں، جہاں ہاتھ پڑے پڑوسی کی مرغی پار کر کے کڑاہی بنا لیتے ہیں۔ بہرحال یہ بات دوست دشمن سب مانتے تھے کہ بستی میں موجود دیگر شریکوں کے مقابلے میں وہ ازار بند کے پکے تھے۔

Read more

حکومت کو بیل آؤٹ نہیں ملے گا، اپوزیشن تماشا دیکھے گی

کرونا ٹرمپ کو لے بیٹھا ہے۔ ٹرمپ اکانومی جو آسمانوں کی طرف جا رہی تھی۔ اب منہ کے بل زمین سے لگی پڑی ہے۔ چین سے تجارتی میچ لگا کر امریکہ ”میں اب بھی پہلوان ہوں“ گانا چاہ رہا تھا۔ وہ گیت بھی پورا سر نہیں پکڑ سکا۔

چین کو نکرے لگانے کے لیے بھارت مہان میں ہوا بھری گئی تھی۔ ہمارا بھارت مہان چینیوں سے چپیڑیں (چمانٹ) کھا کر اب ایسے پرسکون ہے جیسے بدمعاش تو وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ البتہ روس سے تازہ اسلحہ ڈیل کر کے، روسیوں کو تین ارب ڈالر پکڑا کر پرانے کچرا روسی طیارے لے کر امریکہ کو ضرور کھجلی لگا دی ہے۔

Read more

عزیز احمد کے ناول ’آگ‘ میں سلگتا ہوا کشمیر

ایک جہنم وہ ہے جو افلاطون کے بیان کردہ عالم امثال میں ہے اور جو ہمارے اجتماعی لاشعور سے منعکس ہوتا ہوا ہمارے شعوری تصورات میں مبہم طور پر موجود رہتا ہے۔ مختلف اقوام کی اساطیر سے لے کر الہامی کتب تک جابجا اس جہنم کا بیان نافرمانی کے مرتکب لوگوں کے لیے سامان عبرت کے طور پر موجود ہے۔ مغرب میں نشاۃ ثانیہ کے اریب قریب دانتے نے ”ڈیوائنا کامیڈیا“ میں اپنے پر بہار تخلیق کے زور پر اس

Read more

صحرا کا رُومانس(2)

برصغیر کی تقسیم سے قبل تھرپارکر میں 80 فیصد ہندؤ اور 20 فیصد مسلمان آباد تھے۔ تقسیم کے بعد دونوں اطراف میں ہجرت ہوئی۔ جس سے یہ تناسب 41 فیصد ہندؤ اور 59 فیصد مسلمان آبادی ہو گیا۔ مگر آج بھی مٹھی اور اسلام کوٹ تحصیلوں میں بالترتیب 80 فیصد اور0 9 فیصد ہندؤ برادری آبادہے۔ یوں تھر پارکر پورے پاکستان میں ہندو آبادی کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ تھر کی تہذیب و تمدن کی بنیادیں تکثیریت ا ور

Read more

یہاں پارسا بننا جتنا مشکل ہے دکھنا اتنا ہی آسان

گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کر دیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔ آنٹیاں نہ سہی انکل اور بھائی سہی۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم

Read more

کتابیں: محبت کی پیامبر

میری کتابوں سے محبت بہت چھوٹی عمر سے شروع ہویٰ اور شاید اس کی وجہ تھی کہانی کی کتابیں، کہانی کی کتابیں جو پڑھنے والے کو کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ اس دنیا میں جہاں تصور کی سلطنت میں مادی رکاوٹیں اس حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں جو کہ حقیقی دنیا میں وہ رکھتی ہیں۔ کہانی کی دنیا تو تصور کی آزادی اور خیال کی پرواز کی دنیا ہے، جہاں آپ وہ سوچتے اور پڑھتے ہیں جس کا

Read more

شہید نانا کی لاش پر بیٹھے کمسن نواسہ کی کہانی

مقبوضہ کشمیر کے پینسٹھ سالہ بزرگ بشیر احمد خان کو اپنے تین سالہ نواسہ عیاد جہانگیر کے ساتھ بے حد محبت تھی۔ وہ عیاد کو ہر وقت گود میں اٹھائے رکھتے۔ عیاد کو بھی اپنے نانا ابو سے بہت انس تھا اسی وجہ سے عیاد زیادہ تر اپنے نانا ابو کی گود میں ان سے کھیلتا رہتاتھا، نانا ابو جہاں بھی جاتے، عیاد ان کی گود میں ہی ہوتا۔ بدقسمتی سے اس دن بھی کمسن عیاد اپنے نانا ابو کی

Read more

پارلیمنٹ کو رہا کیا جائے

اختلاف رائے کسی بھی جمہوری انتظام کا حصہ ہوتا ہے لیکن اگر اختلاف الزام تراشی، عناد، دشمنی اور ضد میں تبدیل ہوجائے تو ملک میں جمہوریت کے علاوہ سلامتی کو بھی اندیشے لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس کے مظاہر اس وقت پاکستان میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت نہ عسکری حلقوں کی طرف سے جمہوری انتظام لپیٹنے کا اندیشہ ہے اور نہ ہی عدالت عظمی براہ راست حکومت یا پارلیمنٹ کے اختیار کو چیلنج کرے گی لیکن حکمران جماعت نے احتساب

Read more

خوشونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے قربت کی خواہش کیوں نہیں کی؟

خوشونت سنگھ کی کتاب "The Good, the Bad and the Ridiculous” میں شامل ہر خاکہ ہی کچھ نہ کچھ انوکھی معلومات کا خزانہ ہے۔ خوشونت سنگھ بتاتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو، جن کا شمار دنیا کے سب سے پڑھے لکھے وزرائے اعظم میں ہوتا تھا ( وہ ڈبل پی ایچ ڈی تھے)، لعل کرشن آڈوانی جی ”نکما “ کہتے تھے۔ جب کہ وہ خود یعنی آڈوانی جی، خوشونت سنگھ کے مطابق ایک پیکر منافقت

Read more

’خاتون کو جس سے محبت تھی اسے ہی گولی مار کر ہلاک کردیا‘

اسے انتقام کا نام دیں، غیرت کے نام پر قتل کہیں یا اپنی عزت کا تحفظ سمجھیں، جب ایک خاتون اسلحہ اٹھا کر ایک ایسے شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کردے جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہو لیکن اس میں رکاوٹیں اور مسائل پیدا ہو جائیں۔ یہ واقعہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں بری کوٹ کے مقام پر پیش آیا ہے۔ مینا بازار میں کپڑے کی دکان میں ٹوپی والا برقعہ پہن کر خاتون نے

Read more

کون مظلوم مصنف؟ پبلشر؟ یا قاری۔ ؟

یقین کریں کچھ صحافیوں ادیبوں میں بلا کا مطالعہ ہو تا ہے۔ وہ کتاب سے محبت اور عشق کرنے میں انگریز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ جو کہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ ان سے بڑا کتب بین کوئی کیا ہوگا۔ پچھلے تین چار ماہ سے کرونا نے سب لکھنے پڑھنے والوں، آوارہ منش ادباء اور شعراء اور سفر نامہ نگار سیلانیوں کو گھر بٹھا دیا ہے۔ ان میں جو سیانے نکلے انہوں نے تخلیق کے کرب کو انجوائے اور قلم

Read more

زندگی لمحۂ موجود میں ہے

ٹویٹر پر ایک خوبصورت ٹویٹ دیکھی: Life is NOW واقعی زندگی لمحۂ موجود کا نام ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ ماضی کی ندامتوں اور مستقبل کے خدشات سے پریشان اپنے حال کو خراب کر لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً ماضی کو بدلنا اور مستقبل کی درست پیش بینی کرنا شاید کسی کے بھی بس میں نہیں۔ جب زندگی موجودہ وقت کا نام ہے تو حال میں رہنا سیکھنا چاہیے۔ کچھ لوگوں کو یہ بات جلد سمجھ آ جاتی ہے، کچھ

Read more

گالیاں دینے سے حالات نہیں بدلا کرتے دوست

سوشل میڈیا پہ ہر شخص خود کو برائیوں سے مبرا، سخی، حساس اور اچھا پیش کرتا ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پہ نظر ڈالیں تو ہر شخص آپ کو فرشتہ محسوس ہو گا مگر حقیقت اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ جب آپ تحریر پڑھتے ہیں تو صاحب تحریر سے قاری کا اک تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ مجھے آب بیتیاں پڑھنے کا بہت شوق ہے آپ کسی بڑے شاعر ادیب اور بیوروکریٹ کی آب بیتی پڑھیں تو ایسا لگے گا

Read more

چٹھی مانے کے نام، چٹھی میرے خان کے نام

وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اظہار کا طریقہ کیا ہوگا؟ اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں کہا۔ ”ٹویٹر، فیس بک بہتر رہیں گے“ ۔ ”ارے نہیں برقی خط بھیجو“ ۔ ایک اور بولی۔ ”چٹھی لکھو لمبی چوڑی سی کچھ تو ہمارے احساسات کی ترجمانی ہو۔“ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑی دلکش

Read more

کھلاڑیوں کا کھلاڑی ”کورونا“

لالی وڈ ہو یابولی وڈ، اب تک بے شمار فلموں کے ٹائٹل میں لفظ کھلاڑی استعمال کیا گیا جیسے، ہم کھلاڑی پیار کے، کھلاڑی، کھلاڑیوں کا کھلاڑی، میں کھلاڑی تو اناڑی، انٹرنیشنل کھلاری، مسٹر ایند مسز کھلاڑی، کھلاڑی 420، سب سے بڑا کھلاڑی، کھلاڑی 786 وغیرہ۔ رومانس اور ایکشن سے بھرپوران تمام فلموں کا کھلاڑی ہیرو ہوتا ہے جبکہ حقیقی زندگی میں جس طرح کورونا دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو ہوگیاہے اس سے تویہ لگتا ہے کہ اب کھلاڑیوں کا

Read more

عقلی زندان اور معنی کے خزانے

زبان و بیاں کو معنی کے پس منظر میں دو لیولز پہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لیول معلومات کے تبادلے کا ہوتا ہے اور اس کا زیادہ تر تعلق ان مادی حقائق کے اظہار اور ابلاغ سے ہوتا ہے جن کا ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً موسم کا حال، اخبار میں چھاپی گئی کوئی خبر، کسی سائنسی مفروضے یا تجربے کا بیان، کسی قانونی حکم کا متن، یا کھانا پکانے کی کوئی ترکیب وغیرہ۔

Read more

پنجاب کی سرزمین اور بلونت سنگھ

وہی زمین۔ وہی مٹی۔ وہی خوشبو۔ جگا سے کالے کوس تک کے فاصلے کو بلونت سنگھے کے افکار وخیالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مطالعہ اوران کے تجربات ومشاہدات نے ان کے تخلیقی سفر میں نئی نئی راہیں کھولیں اور وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ پنجاب، پنجاب کے رہن سہن، رسم ورواج کوموضوع تحریر بنانے والوں کی کمی نہیں رہی۔ مگرمیراخیال ہے کہ بلونت سنگھ کا پنجاب اورتھا اور وہ انوکھا پنجاب جو ان کی تخلیقات میں نظرآتا ہے صرف اورصرف

Read more

ہم پاکستانی اور وبا کے یہ دن

وطن عزیز میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے (یہ سرکاری اعداد وشمار ہیں، طبی ماہرین کے مطابق تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ) ۔ اگرچہ اب نئے کیسیز کم رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن وبا کے پھیلاؤ کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے، اسی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ملک کے مختلف شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نئے کیسیز بتدریج کم

Read more

خدا کے لیے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں

آج کل ایک پروگرام دیکھا جو نہایت دردناک سچے واقعے پر مبنی تھا۔ اس میں دکھایا گیا کہ ایک غریب ماں کو اپنے بیٹے کے سر پر سہرا باندھنے کی خواہش کتنی مہنگی پڑی۔ اس کے دو بیٹے تھے جو رنگ روغن کا کام کرتے تھے۔ کام کبھی ملتا تھا اور کبھی نہیں ملتا تھا۔ لڑکا تنگدستی کی وجہ سے شادی کے لیے نہیں مان رہا تھا۔ لیکن ماں کے بار بار اصرار اور شادی کے لیے اپنی ماں کا

Read more

بے نظیر۔ ایک سوانحی ناول

سوانح عمری ایک انسان کی پیدائش سے موت تک کے افعال کا بیان ہے۔ یا یوں کہیے کہ ایک انسان کی حیات یا تاریخ ہے۔ سوانح نگاری کے سلسلے میں اردو ادب میں نیا تجربہ سوانحی ناول کی صورت میں کیا گیا جو کا میاب رہا۔ سوانحی ناول، سوانح اور ناول کا حسین امتزاج ہے۔ کسی سوانح کو جب افسانوی رنگ دے کر ناول کی تکنیک برتتے ہوئے پیش کیا جائے تو وہ سوانحی ناول کہلاتی ہے۔ سوانحی ناول میں

Read more

لاہور کے حبس زدہ موسم میں مہکتی بہار کی آمد۔ ۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف

کون کہتا ہے کہ پرستان سے پریاں نہیں اترتیں۔ ۔ ۔ ؟ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ درویشوں اور محبت کرنے والوں سے یہ دنیا پاک ہو گئی۔ ۔ ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ ہم ان سے لڑ لیتے تھے، گلہ کر لیتے تھے، روٹھ جاتے تھے لیکن وہ ہمیں منانے کی ماہر۔ ۔ ۔ ہماری دکھتی رگوں کو جانتی، سمجھتی، پہچانتی ہنستی مسکراتی پاس سے گزر جاتی۔ ۔ ۔ ہم اندر سے سمجھتے تھے کہ جب تک یہ

Read more

ڈاکٹر مغیث شیخ۔ ۔ ۔ کیا کمال کا فرد تھا

سوچتا ہو ں کہ ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے پاکستانی صحافت کے استادوں کے استاد، ممتاز دانشور، تجزیہ نگار، مصنف، میڈیا کی تعلیم میں نئی سے نئی جہتوں کو متعارف کروانے والے عظیم راہنما ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی رب کے حضور پیش ہوگئے۔ کیا کمال کے فرد تھے جو اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ کوئی پچیس برسوں پر محیط تعلق تھا اور تعلق بھی ایسا

Read more

لوگ کس نفسیاتی وجہ سے خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا لیڈر فریبی یا جھوٹا نہیں؟

اگر انسان خود یا کسی کے مجبور کرنے پر کوئی ایسا عمل یا فیصلہ کرے جس پر یقین نہ رکھتا ہو یا ذہنی و جذباتی طور پر آمادہ نہ ہو تو اس عمل/فیصلے کے حوالے سے ذہن میں خلش رہتی ہے۔ اسی طرح اگر ماضی میں کوئی عمل کیا یا فیصلہ لیا جو حال میں درست ثابت نہ ہو رہا ہو تو بھی ذہنی طور پر بے چینی ہوتی ہے۔ عمل چونکہ ماضی میں کیا ہوتا ہے، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا تو لہذا موجودہ سوچ کو ماضی کے عمل/فیصلے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے، جواز تراشا جاتا ہے۔

انسان ہمہ وقت اپنی سوچ، برتاؤ اور عقیدے (عقیدے سے مراد مذہبی عقیدہ نہیں۔ اس سے مراد یقین ہے جو کہ کسی بھی شے کے حوالے سے ہو) کو ہم آہنگ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے وہ جواز اور جواب دونوں تراشتا ہے۔ لیکن وہ دورانیہ جس میں عقیدہ، رویہ اور برتاؤ آپس میں میل نہیں کھا رہے ہوتے اور انسان ذہنی کشمکش میں ہوتا ہے، اس کو Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کا فیصلہ سازی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کیفیت کے محرکات سے آگاہی ہو تو غلط فیصلوں کو ٹھیک کرنے اور نئے درست فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Read more

نفسیات، پاکستان اور کرپشن

آپ نے سیاستدانوں اور دنیا کی دیگر اہم شخصیات کے نفسیاتی تجزیے ضرور پڑھے ہوں گے۔ ماہرین نے ھٹلر، مسولینی، اسٹالن اور صدام حسین کی شخصیات کے معرکۃالآرا تجزیے تحریر کیے ہیں۔ ان ماہرین میں ایرک فرام اور ہنری مرے جیسے ماہرین شامل ہیں۔ اس ضمن میں چند ماہرین کے تازہ تجزیے بھی شامل کیجیے۔ ہندوستان کے معروف ماہر نفسیات اشیش نندی نے نریندرا مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین کے انٹرویوز کے بعد اپنے تجزیے تحریر کیے تھے۔

Read more

اماں بمقابلہ بشریٰ انصاری، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔

پنجابی زبان کے وہ کھلے ڈلے الفاظ جو عموماً مائیں گھر میں اپنے بچوں کے لیے بولتی ہے بلاگر ‘اماں’ انہی الفاظ میں ڈرامے کے کرداروں کی ‘کلاس’ لیتی ہیں۔ جس کردار پر پیار آ جائے اس کی بلائیں بھی خوب لیتی ہیں۔۔۔ بالکل کسی ماں کی طرح۔ اسی لیے بلاگر ’اماں‘ کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک عام گھریلو عورت ہیں، کوئی نقاد نہیں۔ ایسے میں جب یو ٹیوب پر ان کے ایک بے لاگ تبصرے کے بعد

Read more

سب سے بڑی مردانہ کمزوری

کورونا کی وبا سے پہلے جب تھکا ہارا مرد کام سے واپس آتا تھا تو امید کرتا تھا کہ اس کا استقبال ایسے کیا جائے جیسے میدان جنگ سے آنے والے فوجی کا کیا جاتا ہے۔ اب کبھی لاک ڈاؤن تو کبھی سمارٹ لاک ڈاؤن اور کبھی آج جانے کی ضد نہ کرو ٹائپ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی مرد حضرات گھروں میں بند ہونے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے گھر کو ہی میدان جنگ سمجھ لیا ہے اور یہ بھی خود ہی طے کر لیا ہے کہ اس میدان جنگ کا آخری مورچہ کچن بنے اور چونکہ ہر مرد میں ایک چھوٹا موٹا مجاہد موجود ہے، تو فیصلہ ہو گیا ہے کہ اپنے ازلی دشمن کے چھکے کچن میں ہی چھڑائے جائيں گے۔

Read more

کورونا : مجھ پر کیا بیتی ( 2 )۔

ایک اوردوست جو نامور ڈرامہ ڈائریکٹر ہیں ان کے گھر کے پانچوں افراد اس موذی وبا کی زد میں آ گئے۔ پہلے سوچا ٹیسٹ کرا لیں پھر حساب لگایا کہ چالیس ہزار روپے صرف ایک بار کے ٹیسٹوں پر اٹھ جائیں گے، اگلی بار پھر کم از کم اتنے ہی روپے خرچ ہوں گے۔ علامات واضح تھیں لہٰذا فیصلہ کیا کہ ٹیسٹوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے اچھی خوراک اور ضروری نگہداشت پر صرف کی جائے۔ ماشاء اللہ اب تمام افراد صحت مند ہیں۔ لوگ لیبارٹریز کے معیار اور مہنگے ٹیسٹوں کے باعث اب ان سے رجوع نہیں کر رہے جس سے حکومت سمجھ رہی ہے کہ کورونا کم ہورہا ہے۔

سنامکی کے قہوے اور صرف گرم پانی نے میرا پیٹ ہی خراب نہیں کیا جسم کو توانائی کی مہیا کرنے والے پورے نظام کو نقصان پہنچایا۔ یقیناً یہ جڑی بوٹیاں مفید ہوتی ہیں لیکن ان کے استعمال کی مقدار اور طریقہ کسی حکیم سے ہی دریافت کیا جائے۔ عائشہ غذا سے علاج کرتی ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں ان دنوں ان کے مریضوں نے جلد صحت یابی پائی ہے۔ انہوں نے کچا ادرک تھوڑا تھوڑا کھانے کا مشورہ دیا، اس سے بہتری آئی۔ انہوں نے نیم، سہانجنا اور زیتون کے پتوں کے قہوے پینے کو بھی وٹامن کے حصول کا بہترین ذریعہ بتایا۔

Read more

کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟

جسم فروشی دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ آیا یہ مجبوری ہے یا اپنا انتخاب ہے؟ اب اگر جسم فروشی ایک پیشہ ہے تو اسے ایک پیشے کے طور پر ہی کیوں نہیں لیا جاتا؟ اور اگر یہ ایک برائی ہے تو اسے مٹایا کیوں نہیں جاتا؟ اور اگر یہ جرم ہے تو اب تک جاری کیسے ہے؟ یہ پیشہ جتنا پرانا ہے اتنا ہی نا پسندیدہ اور ظالمانہ ہے اسے انسانی حقوق

Read more

یہ لنگڑی نہیں سندھڑی حکومت ہے!

غالب آم شناس تھے، وہ پانچ الفاظ پر مشتمل ایک جملہ کہہ گئے، آم ہوں اور عام ہوں۔ یہ ایسا شیریں جملہ ہے اگر گرمی کے دن نہ بھی ہوں تو جاڑے میں بھی اسے پڑھ کر آم کا مزہ آتا ہے۔ ایسا دو موسمی مزہ کسی اور پھل میں بھلا کہاں؟ اسی لئے اسے پھلوں کا بادشاہ کہتے ہیں اور بادشاہ موسمی نہیں بلکہ سدا بہار ہوتا ہے۔

آم پاکستان کا قومی پھل ہے اور مختلف قوموں پر مشتمل بھارت کے باشندے بھی آم کے دلدادہ ہیں، اسی لئے بھارت سرکار نے بھی اسی قومی پھل کا درجہ دے رکھا ہے۔ فلپائنی بھی آم پر مر مٹنے والی قوم ہے۔ سری لنکا والوں کی آم سے محبت بس اتنی ہے کہ انہوں نے آم کے درخت کو قومی درخت کا درجہ دے رکھا ہے اس میں بھی صاحبو کوئی حکمت ہوگی اور مہاتما بدھ کی آم کے پیٹر تلے عبادت گزاری تو ویسے ہی مشہور ہے۔ معلوم نہیں اس عبادت میں کتنی مٹھاس ہوتی ہو گی۔

Read more

میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم (مکمل کالم)۔

چند دنوں میں کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں رخصت ہو گئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف کمپیئر طارق عزیز صاحب، ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم صاحب، معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری صاحب، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور دانشور سید منور حسن صاحب، ممتاز ماہر تعلیم اور جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے معمار پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب۔ اللہ پاک ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ڈاکٹر مغیث مجھ

Read more

کورونا : مجھ پر کیا بیتی

درجہ حرارت میں یکایک اضافے نے حسب روایت اثر دکھایا۔ عید کا دن خیریت سے گزرا۔ اگلے دن بدن میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی، گھروالے اوکاڑہ جا رہے تھے، میں نے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ چند گھنٹوں کے بعد غنودگی ہونے لگی۔ فریج میں بوتل بند مشروبات، دہی اور کچھ جوسز پڑے تھے۔ گرم ہوتے مساموں نے ٹھنڈے کا تقاضا کیا تو ایک ایک کر کے پینا شروع کر دیے۔ اگلے دن دفتر آ گیا۔ دفتر کا کام نمٹایا ہی تھا کہ بخار کی شدت محسوس ہونے لگی۔

دو روز اس بخار اور مسلسل غنودگی کے نام ہو گئے۔ معلوم نہیں کس نے عید کی مبارکباد دی، کس نے فون کیا، کس نے ایس ایم ایس کیا۔ ہر روز دو تین سو خبروں میں سے اہم ترین معاملے کو الگ کر کے اس پر لکھنا فرائض میں شامل ہے۔ وہ کام بھی میرے رفقاء کے کندھوں پر آ پڑا۔ دو روز بعد کچھ افاقہ ہوا تو دفتر آ گیا۔ سہ پہر کو دفتر میں بیٹھے بیٹھے لگا کہ سانس بند ہورہا ہے۔ فوراً اٹھا، ساتھیوں نے پانی پلایا، گھر فون کیا، بھائی گاڑی لے کر آ گیا۔

Read more

جذباتی ذہانت کہ سادہ ذہانت؟

”مکالمہ“ کی ویب سائٹ پر کامران طفیل صاحب کی تحریر ”جذباتی ذہانت“ پڑھی۔ جذباتی ذہانت پر لکھتے لکھتے، کامران صاحب کو ایک نہیں دو کالمز لکھنے پڑے کیوں کہ قارئین نے جذباتی ذہانت کو سادہ ذہانت سے مکس کر دیا تھا۔ جیسے آج کل موت کی خبرکے بعد پہلاسوال ہو تا ہے کرونا سے یا سادہ؟ سادہ ذہانت کوناپنے کا معیار ”آئی کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے جب کہ جذباتی ذہانت کا ”ای کیو ٹسٹ“ ہو تا ہے یہ آئی

Read more

ڈاکٹر کے گھر کا خرچہ بھی پیسے سے چلتا ہے دعا سے نہیں

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک خبر سوشل میڈیا پر بہت گرم تھی کہ ایک ڈاکٹر کو محض اس لئے ٹانگ میں گولی ماری گئی کہ اس نے ایک مریض کو ایک ایسی دوا نہیں دی جس کی اس کو ضرورت ہی نا تھی۔ اس ایک خبر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں اس وقت عدم برداشت کا کیا عالم ہے اور ایک ڈاکٹر کو یہاں کتنا تحفظ حاصل ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بچے کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ بلکہ پورا خاندان یہ خواب دیکھنا شروع کر دیتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اک قابل ڈاکٹر بنے گا۔

Read more

قحطِ جناح میں مبتلا

آج مجھے مسز سیال کو کتابیں واپس دینے جانا تھا جب میں گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو وہ بالوں میں کوئی غیر معروف سا پھول سجائے پودوں کی آبیاری کر رہی تھی۔ دن ڈھلنے کو تھا لیکن تپش کا احساس برقرار تھا۔ ان کے نزدیک ہی ان کا آٹھ سالہ نواسہ ویل چیئر پر بیٹھا تھا جبکہ ایک نوعمر لڑکی اس کے سامنے بیٹھی جھاگ کے بلبلے بنا رہی تھی جن کو ہوا میں اڑتے گھومتے دیکھ کر وہ مبہم آوازیں نکالتا اور ہاتھوں سے تالیاں بجانے کی کوشش کرتا تھا۔

میرے جانے پر مسز سیال میری جانب پلٹیں اور مسکرائیں۔ وہ ایک عہد کا چہرہ تھا جو نجانے کیا کیا دکھ جھیل چکا تھا۔ سلام دعا کے بعد ہم ان کے گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل دیے۔ میں نے ان سے کتابیں دیر سے لوٹانے پر معذرت کی اور انہیں بتایا کہ جون میں کرونا وائرس کے بہت زیادہ پھیلاؤ کے سبب میں نے خود کو بالکل گھر تک محدود کر لیا تھا لیکن آج آپ سے ملنے کو بہت دل چاہ رہا تھا اس لیے آ گئی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولیں، ’احتیاط اچھی ہے اور ویسے بھی آپ اس قوم کا حصہ ہیں جو لاوارث ہے۔

Read more

سعادت حسن منٹو؛ وہ جو تھا اک مسیحا

اردو ادب میں اگر کسی ایسے لکھنے والے کا نام پوچھا جائے جو انسانی نفسیات کے سپید و سیاہ رنگ روپ اپنے قلم کی سیاہی سے کاغذ پر منعکس کرتا رہا ہے تو میں سعادت حسن منٹو کا نام لوں گا۔ سعادت حسن منٹو کا ادب شاید آج تک متنازع نگاہوں سے پڑھا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ ان کی بے باکی اور صاف بیانی ہے۔ ایک ایسا افسانہ نویس جس نے انسانی شخصیت اور انسانی نفسیات کے

Read more

استاد اور معاشرہ

ادنیٰ جماعت سے پانچویں جماعت تک کا زمانہ گویا قابل رشک زمانہ تھا۔ ہم صبح اٹھتے، منہ ہاتھ دھو کر پہلے ”تختی“ چھاپتے، پھر سلیٹ دھوتے اور اس کے بعد کاپی مکمل ہے یا نہیں یقین دھانی کے لئے چیک ضرور کرتے تھے۔ یہ کام کر لینے کے بعد ہم اپنا بستہ لیکر، بستے میں موجود تمام چیزیں چیک کرتے، اور ٹھیک وقت سے پانچ منٹ پہلے سکول پہنچ جایا کرتے تھے۔ یہ گاؤں کا سرکاری، پرائمری سکول تھا، جس

Read more

عورت کا المیہ

رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے زہرہ اس اندھیرے میں آنکھیں کھولے کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اسے روشنی سے زیادہ اندھیرے میں دکھائی دے رہا ہو کبیر کو اس سے روٹھے ایک لمحہ ہوا تھا وہ ایک لمحہ قیامت بن کر زہرہ پر ٹوٹا تھا کبیر سے تعلق جس کمزور ذریعے سے بنا تھا ابھی تک اسی کمزوری کا شکار تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ فیس بکی تعلق جس کا آغاز رنگین

Read more

مبارک ہو چاند ہوا ہے

ابھی عید الفطر پہ ملنے والا زخم تازہ تھا کہ نیا گھاؤ مل گیا، یہ کیا کیسے اور کیوں ہوگیا، تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ اب تو لگتا ہے تبدیلی سر پہ ہی سوار ہوگئی ہے۔ یہ کیا غضب کہ ملک اس مسئلہ پر ایک ہوتا نظر آ رہا ہے جس مسئلہ ٔ پر دو صوبوں کے مفتی کبھی نہ ایک ہو سکے۔ میں چاند ڈھونڈنے کے مسئلہ ٔ کی بات کر رہی ہوں۔ کہ اب یہ مسئلہ ٔ مسئلہ

Read more

اسامہ، بیلی خان اور شکیل آفریدی: شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا ہے، پاکستانی اشرافیہ کی انتہا پسندوں سے محبت نئی نہیں ہے اس سے پہلے حکیم اللہ محسود کی موت پر چوہدری نثار بھی غمزدہ ہوئے تھے اور جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن مرحوم نے اسے شہید قرار دیا تھا۔ اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا اور اس کی اس دہشت ناک کارروائی نے پوری دنیا میں

Read more

زاہد کاظمی کا وجاہت مسعود پر بہتان در بہتان اور میری تابڑ توڑ حیرانی

”وجاہت بھائی کہتے ہیں، تم سیدھے لفظوں کو مشکل بنا دیتے ہو“ ۔
”یہ وجاہت مسعود صاحب نے کہا؟“
”ہاں! انھوں نے فرمایا، تم ’خوش‘ اور ’بو‘ کو توڑ کے لکھتے ہو تو ایسا پڑھا جاتا ہے، جیسے ’خوش ہو‘ لکھا ہے۔ زاہد بھائی میں نے اب سابق املا سے رجوع کر لیا ہے۔ میں نیک پرویز بن چکا ہوں۔ آئندہ تمام الفاظ جوڑ کے لکھا کروں گا۔ ’خوشبو‘ بھی نہیں، بلکہ خ کے بعد کا واؤ حذف کر کے ’خشبو‘ لکھوں گا۔
”ایسے لکھنا بھی ٹھیک ہے۔ لیکن وجاہت صاحب آپ کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ دو لفظوں کو توڑ کے لکھتے ہیں، تو اس سے معنی واضح ہوتے ہیں“ ۔
”میں غلط ہوں۔ بس میں تسلیم کر چکا“ ۔

ہمارے دوست زاہد کاظمی ہری پور میں ہوتے ہیں۔ کتابوں سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں تیس ہزار سے زائد کتب ہیں۔ یہ تعداد سننے میں بہت نہیں لگتی، لیکن حقیقت میں ایک فرد کے لیے اتنی کتابیں اکٹھی کرنا معنی رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے انھوں نے ”سنگی اشاعت گھر“ کے نام سے ادارہ بنایا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے وہ معروف و غیر معروف شخصیات کی آپ بیتیوں کو شایع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ زاہد کاظمی نے مجھے ایک کتاب دی کہ آپ اس کی پروف ریڈنگ کر دیں۔

Read more

وزیروں اور منتخب نمائندوں کی بھڑاس

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وزارت اطلاعات بالخصوص موجودہ حکومت جو میڈیا پر اپنا میسج بطریق احسن پہنچانے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہی کوشاں رہتی ہے، کے وزیر اطلاعات جوحکومت کے چیف ترجمان ہوتے ہیں، کی میڈیا پر ٹاک شوز میں حاضر باشی ہمہ وقت رہتی ہے۔ خیال تھا کہ فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لے کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کا سونپ دیا گیا ہے لہٰذا وہ کھڈے لائن لگ کر منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن انہوں نے اس وزارت کے ذریعے رویت ہلال کے معاملے پر علما سے پھڈا ڈال لیا نیز خود کو اپنی وزارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر روز شام کو ملکی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو اخبارات کی شہ سرخی بن جاتی ہے۔

فواد چودھری کا تعلق جہلم کے ایک مسلم لیگی خاندان سے ہے اور اس لحاظ سے ایک گھاک وکیل ہونے کے علاوہ سیاست کے مدوجزر کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی میں رہے اور ن لیگ سے بھی ”فلرٹ“ کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ فواد چودھری نے وائس آف امریکہ کو جو انٹرویو دیا ہے وہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ہے۔ انہوں نے وہ باتیں برملا کہہ دیں جو اکثر سیاسی مبصرین بالخصوص تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے لیے تو نئی نہیں تھیں۔

Read more

مورخین جو بتا گئے، کیا وہی سچ ہے؟

ڈاکٹر رام پنیانی بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن برصغیر کی تاریخ پہ ان کی تحقیق اپنے آپ میں ایک سند ہے۔ بہت سے ایسے واقعات جو ہم تاریخ کی مروجہ کتب سے نہیں جان پاتے وہ ان کے ویڈیو لیکچرز کے ذریعے جانے جا سکتے ہیں۔ اس وقت کے حالات کا پس منظر، لوگوں کا رد عمل اور بعد میں آنے والی نسل کا نظریات استوار کرنا، یہ سب اپنے لحاظ سے کھوجنے لائق ہے۔ ۔

Read more

ذہنی دباؤ سے آزاد معاشرہ

گاہے بگاہے زندگی میں ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ ذہنی یماریاں ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں پر ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات یہ کسی وجہ سے ہوتی ہیں اور کبھی بغیر وجہ کے شروع ہو جاتی ہیں۔ عموماً ہم اس اداسی سے خود بھی چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں بعض دفعہ دوستوں سے بات کر کے یا علاج کے ذریعے۔

Read more

پولیس اور عوام: کیا تبدیلی آئی؟

ریاست ہوگی ماں کے جیسی، یہ ہمیں 2007 میں جناب اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور بہت سے قد آور وکلاء نے بتایا تھا، عوام جوق در جوق باہر نکلے تاکہ ریاست کو ماں جیسا بنایا جا سکے، اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر افتخار چوہدری نے چوبیس گھنٹوں میں طٰے کیا، جس گاؤں شہر سے موصوف گزرتے عوام کا ایک جم غفیر استقبال کے لیے موجود ہوتا، اور پھر آخر کار محترم بحال ہوگئے، لیکن ریاست ویسی کی

Read more

شعر گوئی کا شوق اور۔۔۔ ایتھے رکھ

برمحل شعر پڑھنا گفتگو کو چار چاند لگا دیتا ہے لیکن جن صاحب کی ہم بات کر رہے ہیں وہ بے بات بلکہ بغیر کسی سیاق و سباق کے شعر کہنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ ان حضرت سے خاصے راہ و رسم یوں تھے کہ ہمارے کولیگ واقع ہوئے تھے سو دامن چھڑانے کی کوئی نوبت میسر نہ تھی۔ ہفتے کے چھ دنوں میں کام کے اوقات کے علاوہ قریبا ایک گھنٹہ ان کی ہمراہی میں گزرتا۔ اس ایک گھنٹے

Read more

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ مظفر آباد اور آزاد کشمیر کے عوام

ماضی میں جب بھی پاکستان کے وزراے اعظم آزاد کشمیر تشریف لاتے، تو نہ کوئی سڑک بند کی جاتی اور نہ ہی عوام کی نقل و حرکت پر کوئی ناجائز قدغن لگائی جاتی، بلکہ یہ لیڈرز، چاہے وہ محمد خان جونیجو ہوں، راجہ پرویز اشرف ہوں یا نواز شریف ہوں، وہ کھلے عوامی اجتماعات سے بڑے بڑے جلسوں میں خطاب کرتے اور ان کی سیکیورٹی کے لیے کوئی سڑک، کوئی راستہ کبھی بند نہیں کیا جاتا رہا۔ آج وزیر اعظم

Read more

بے یقینی سے بے یقینی تک

بہت دنوں کی بات ہے ’اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی ’نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج

Read more

پٹرول کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ، ایک بال سے دو وکٹیں

ہمارے ویژنری کپتان نے ایک مرتبہ پھر ماسٹر سٹروک کھیل دیا اور ایک ہی بال سے دو اہداف کو ایسا زور سے نشانہ بنایا کہ لوگ شائیں شائیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ شائیں عربی کا لفظ ہے۔ اردو میں اس کا تلفظ کچھ مختلف ادا کیا جاتا ہے۔

بہرحال اس وقت ملک خدا داد کو دو بڑے مسائل درپیش تھے۔ پہلا مسئلہ کرونا کی وبا کا تھا۔ کپتان نے لاکھ سمجھایا کہ ٹک کر گھر بیٹھو۔ اس سے بیماری نہیں پھیلے گی۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ کپتان کسی قیمت پر لاک ڈاؤن نہیں کرے گا کیونکہ اس سے غریب بھوکا مر جاتا ہے۔ اشرافیہ نے ٹل کا زور لگا لیا مگر کپتان نے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ ہاں بعض مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن ضرور کیا۔ عام لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن میں فرق یہ ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن صرف سمارٹ لوگ ہی دیکھ سکتے ہیں، یہ عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ یہ پرانی حکمت ہے۔ اس سے پہلے ایک بادشاہ بھی سمارٹ کپڑے سلوا کر پہن چکا ہے اور جب بھی عقل و دانش کا ذکر ہو تو اسی کی مثال دی جاتی ہے۔

Read more

زرتاج گل بمقابلہ فواد چوہدری

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا اندازہ قائم کرنا قطعی ممکن نہیں کہ کب تک سوشل میڈیا کی حکمرانی انسانی اقدار اور اقوام کی سوچ پر حاوی رہے گی، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حقیقتاً بہت پرانے گم ہوئے روابط اسی سوشل میڈیا کی مرہون منت بحال ہوئے۔ بچپن کے ساتھی پچپن برس میں دوبارہ سے ایک

Read more

جوائنٹ فیملی کا عذاب اور ہماری عورت

پروین بی بی کی عمر تئیس برس ہے اس کی شادی کو سات سال ہو گئے ہیں۔ اس کے تین بچے ہیں۔ بڑی بیٹی چھ سال کی ہے اور سکول جاتی ہے۔ پروین ایک جوائنٹ فیملی میں رہتی ہے۔ اس کی دو نندیں، ایک دیور اور ساس سسر بھی ساتھ رہتے ہیں۔ پروین کی اپنی سسرال کے ساتھ نہیں بنتی۔ اس کا سسر اکثر اسے ڈانٹ دیتا ہے اور گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ اس نے کئی دفعہ پروین

Read more

ارد شیر کاﺅس جی: امریکا یا بھارت کے لئے ان سے بہتر سفیر ممکن نہیں تھا

کاﺅس جی ایک دن ہمارے ہوم سیکرٹری بریگیڈئیر مختار شیخ صاحب سے ملنے آئے۔ ساتھ کے کمرے میں ہم موجود تھے۔ بورڈ پڑھا تو سیدھے اندر چلے آئے۔ وہاں سے پیغام بھجوایا کہ بریگیڈئیر کو بول جنرل کاﺅس جی آیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو جرنلسٹ کی بجائے عام آدمیوں کو مرعوب کرنے کے لیے جنرل بولتے تھے۔ کاﺅس جی سے ہم نے پوچھا کہ یہ کیا مکر ہے کہ خود کو جنرلسٹ سے جنرل بنا لیا۔ اس پر انکشاف

Read more

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

معمول کے مطابق پروگرام کرنے والی ریڈیو ہوسٹ اچانک ’’کیو شیٹ‘‘ سے راہ فرار اختیار کر گئیں تو اس روز رات گئے پرانے نغموں پر مبنی گیت مالا کی میزبانی دو گھنٹوں تک ہمیں نبھانا پڑ گئی۔شیو کمار بٹالوی، فراز، جون ایلیا اور آخر میں عباس تابش کے کلام کا سہارا لیتے لیتے پروگرام کھڑکا دیا، واپسی پر تینتس نمبری تو دستیاب نہیں تھی سو لفٹ لینا پڑی، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہاسٹل نمبر سترہ پہنچے تو کمرہ نمبر ایک

Read more

الوداع الوداع سید بادشاہ الوداع

سید منور حسن بھی چل بسے، بلند آہنگ اورروشن چہرے والا سید بادشاہ توکل اوردرویشی کی مجسم تصویرتھا۔ ایسے مقرر بے بدل کہ سماں باندھ دیتے تھے۔ ان کے اٹھ جانے سے آج جماعت اسلامی توکل اور درویشی سے بھی خالی ہوگئی۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ اب الاستاذ سلیم منصور خالد کے ذریعے ہی حال احوال کا پتہ چلتا تھا۔ خاکسار جب کبھی کراچی جاتا تو بالالتزام قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا کرتا تھا۔ اس کالم نگار

Read more

ڈھاڈری۔۔۔ ایک سوانحی ناول

اردو ادب میں سوانح نگاری اور ناول نگاری دو الگ اصناف نثر ہیں۔ سوانح ناول کی گنجائش قارئین کی دلچسپی کے عنصرکو بڑھانے کے لیے نکالی گئی لیکن کسی ناول کو سوانح قرار دینا ایسا کچھ آسان بھی نہیں جب تک متن میں ہر دو اصناف کے بنیادی اجزا دکھائی نہ دیں۔ ناول نگار کا نقطہ نظر ہی ناول کی ہیئت کا تعین کرتا ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ناول ڈرامائی فارم اختیار کرلیتا ہے تب جس زاویے سے

Read more

منشیات ایک ناسور

حالیہ عرصہ میں منشیات نے بہت زور پکڑ لیا ہے۔ جس سے ہماری نوجوان نسل تباہی کی طرف جارہی ہے۔ کہتے ہیں نوجوان کسی بھی ملک کا پہیہ ہوتے ہیں مگر ہمارے نوجوانوں کو خود کسی سہارے کی ضرورت آپہنچی ہے۔ شروع شروع میں کوگ فیشن کے طور پر اس کا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک دو بار استعمال کے بعد سوچتے ہیں ہم اس سے چھٹکارا حاصل کر لے گے۔ مگر

Read more

فی جوڑا ایک بچہ

ہمارے چین میں قیام کے دوران فی جوڑا ایک بچہ کی پالیسی پر زور و شور سے عملدرآمد ہو رہا تھا۔ پاکستان میں ہم بچپن سے خاندانی منصوبہ بندی کے محکمے کے اشتہارات دیکھتے اور سنتے چلے آ رہے تھے جن پر لوگوں کی اکثریت نے عمل کر کے نہ دیا۔ یہاں تک کہ محکمہ سے تنخواہ وصول کرنے والوں نے خود پانچ سات بچے پیدا کیے لیکن ریڈیو اور ٹی وی پر ’بچے دو ہی اچھے‘ کا راگ الاپا

Read more

نرگسیت کا مرض

نرگسیت ایک خطرناک نفسیاتی مرض ہے۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو اس عفریت نے ہر دوسرے شخص کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ معاشرہ فرد سے بنتا ہے اور جب ایک فرد کا طرزعمل، اس کے نظریات، احساسات اور نفسیات خود پسندی اور انا پرستی کا تعفن زدہ لبادہ اوڑھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں تو یہ ناسور آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس مرض کا

Read more

ٹام آلٹر: امریکی نژاد بھارتی اداکار جس نے مولانا آزاد جیسے کردار ادا کیے

بھارتی فلموں میں گورے عام طور پر عیار، مکار اور بے رحم دکھائے جاتے ہیں مگر ٹام آلٹر نے یہ تصور بدل دیا۔ آلٹر سن دو ہزار انیس میں ممبئی کے ایک ہسپتال میں سڑسٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اگر وہ مزید زندہ رہتے تو یقیناً بھارتی سینما کے ایک عظیم بابے کے طور پر جانے جاتے اور بزرگان بالی ووڈ میں شمار ہوتے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی چالیس سالہ فلمی زندگی میں جو کچھ حاصل کیا وہ انہیں ایک شاندار اداکار اور تھیٹر کا بہترین فن کار بنانے کے لیے کافی تھا۔

ٹام آلٹر کے باپ دادا، امریکی پادری تھے جو مسیحیت کی تبلیغ کے لیے ہندوستان میں آباد ہو گئے تھے مگر ٹام آلٹر اداکار بن گئے۔ وہ بہت سی صلاحیتیوں کے مالک تھے اور اداکاری کے علاوہ ایک قلم کار، پروڈیوسر، ٹی کے میزبان، کالم نگار اور کرکٹ کے ماہر کے طور پر بھی پہچانے گئے۔

Read more

گمان

کشتی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ بوڑھا ملاح اپنے کم سن پوتے کے ساتھ جانب منزل تھا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ بوڑھے ملاح نے فکر مندی سے غروب ہوتے سورج کو دیکھا، سفر کافی زیادہ تھا لیکن اس کے ناتواں بازوؤں میں اتنا طاقت نہ تھی کہ کشتی کی رفتار بڑھا سکے۔ بچہ گہری نیند کی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ سمندر کے درمیان ایک چھوٹے بچے کا ساتھ اور طوفان کے بارے میں

Read more

اسد عمر کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟

اپریل دو ہزار بارہ کی شام سیکٹر جی فائیو کی ایک گلی میں بہت رونق تھی۔ بڑی بڑی چھتریوں والی میڈیا کی گاڑیاں قطار سے ایک گھر کے باہر کھڑی تھیں۔ اندر بھی بڑی گہما گہمی تھی۔ یہ پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی دفتر تھا۔ ان دنوں عمران خان آئے روز ہی پریس کانفرنس کرتے تھے۔ لیکن اس شام میڈیا کو تاکید سے بلایا گیا تھا کہ ایک اہم اعلان کیا جانا ہے۔

سفید شلوار قمیض میں ملبوس عمران خان کے بائیں طرف شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین اور مرحوم نعیم الحق براجمان تھے جب کہ ان کے دائیں ہاتھ پتلون قمیض میں ملبوس ایک نامانوس چہرہ تھا۔ جاذب نین نقش والے۔ دراز قد۔ یہ اسد عمر تھے۔ جن کی پارٹی میں شمولیت کے اعلان کے لئے یہ محفل بڑے تپاک سے سجائی گئی تھی۔ عمران خان نے شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سالوں کی تپسیا رنگ لائی ہے اور ایک بہت بڑی کمپنی کا سربراہ نوکری کو لات مار کر ان کی جماعت میں شامل ہورہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا نئے پاکستان کی معاشی پالیسی اسد عمر وضع کریں گے۔

Read more

پریمی، پریمیکا اور کورونا

آپ نے اکثر یہ محاورہ سنا ہوگالڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی، اب صورتحال کچھ بدل گئی ہے لڑکا لڑکی اور قاضی تینوں راضی ہیں لیکن کو روناراضی نہیں۔ کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ جملہ سال 2020 میں تبدیل ہو کر کچھ یوں بن جائے گا ”لڑکا لڑکی راضی، کورونا لے گیا بازی“

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں ہزاروں یا شاید لاکھوں لوگوں کی شادیاں ملتوی ہوئی ہوں گی۔ کورونا نے دنیا میں بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے جن میں سے ایک شادی بیاہ اور اس کی رسمیں ہیں۔ لڑکے لڑکی کا رشتہ دیکھنے سے لے کر دلہن کی رخصتی تک، کورونا نے سے سب کچھ بدل دیا ہے۔ کورونا سے قبل شادی بیاہ کی تقریبات بڑے دھوم دھام سے بڑے بڑے ہوٹلز، شادی ہالوں اور کھلے میدانوں میں بڑے بڑے ٹینٹ لگا کر ہوا کرتی تھیں۔ شادی کی یہ تقریبات کئی کئی ہفتوں تک جاری رہتیں تھیں ان تقریبات میں منگنی، ابٹن اور مہندی کی رسمیں نمایاں حیثیت رکھتی تھیں۔

Read more

سدا نہ باغ میں بلبل بولے

بنی نوع انساں میں پیدائش کے جھولے سے موت کا جھولا جھولنے تک بہت سے مراحل آتے ہیں اور ہر مرحلہ اپنے اپنے نشیب و فراز بھی ساتھ لاتا ہے۔ کچھ واقعات سے گزرنے کے لئے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں پڑتی اور کچھ واقعات کو ہم اپنے ہم جنسوں کے تعاون سے گزار لیتے ہیں۔ محض چند ایک ہی معاملات ایسے ہیں جہاں زیادہ پس و پیش چلتی نہیں۔ یہ معاملات انسانی زندگی کے لئے نا صرف ناگزیر

Read more

قوم کے بچے ہود بھائی اور حنیف نہیں، فیاض الحسن چوہان پڑھائیں گے!

قوم کے بچوں کو اقبالیات، ڈرامہ، تاریخ، جاگرافی، ماحولیاتی سائنس، طبی سائنس اور دفاعی علوم سمجھانے کے لیے جب پروفیسر عمران احمد نیازی، پروفیسر فیاض الحسن چوہان، پروفیسر فیصل واوڈا اور پروفیسر زرتاج گل موجود ہیں تو ڈاکٹر ہودبھائی، عمارعلی جان اور محمد حنیف جیسوں کو یونیورسٹیز میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ رہ گئے روحانی علوم تو ان کے لیے خاتون اول کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ جو لوگ فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی ( ایف سی کالیج )

Read more

مختصر مختصر

مختصر لکھنا بہت طویل کام ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آسان لکھنا بے حد مشکل ہے۔ دنیا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے آنے سے برق رفتار ہو گئی ہے۔ آنے والے دور کے ادب میں دو چیزیں ہوا کریں گی اختصار اور زبان سے بے نیازی۔ اردو شاعری کے بڑوں نے یہ بات غالباً بہت پہلے بھانپ لی تھی جبھی غزل دو مصرعوں میں ان پڑھ کو بھی مکمل بات سمجھا دیتی ہے۔ نظم میں بھی اس طور کے تجربات ہو چکے ہیں۔ منیر نیازی کی ایک نظم کا عنوان ہے ”وقت سے آگے نکل جانے کی سزا“ اور پوری نظم اس واحد مصرعے پر مشتمل ہے کہ ”آدمی تنہا رہ جاتا ہے“ ۔ ظفر اقبال تو ثروت حسین کی ایک نظم ”بند دروازہ“ بھی سناتے ہیں۔ جس کے مصرعے ہیں کہ

”مجھے نہ کھولو
مرے اندھیرے میں ایک لڑکی
لباس تبدیل کر رہی ہے

Read more

بنات گل آفریدی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ سا کہاں ڈھونڈیں

بنات گل آفریدی سے پہلا تعارف ڈگری کالج سکردو کے توسط سے ہوا کیونکہ کالج بلڈنگ کی مرکزی انٹرنس کے اوپر سنگ مرمر کی مٹیالی سی تختی پر ان کا نام کندہ ہے کہ سکردو میں کالج کی بنیاد انھوں نے رکھی تھی۔ بعد ازاں کالج کی لائبریری میں جب شوق کے ہاتھوں کتابوں کے شیلف کو الٹ پلٹ کرتے رہے تو ایک کتاب ہاتھ لگی ”Baltistan in History“ تو معلوم ہوا کہ اس کی مصنف بھی بنات گل آفریدی ہیں یہ ان سے دوسرا تعارف تھا۔

انگریزوں نے جب گلگت بلتستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا تو پہلے پہل گلگت میں 1889 ء میں گلگت ایجنسی کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا اور وہاں پر پولیٹیکل ایجنٹ متعین کیے جو زیادہ تر انگریز ہی تھے۔ بلتستان، کارگل اور لداخ چونکہ اس پولیٹیکل ایجنسی سے باہر کی حدود میں تھے لہذا ان علاقوں میں وزیر وزارت کے ذریعے انتظامی کام چلایا جاتا رہا۔ 1947 / 48 ء کی جنگ آزادی کے بعد جب گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام حکومت پاکستان نے سنبھال لیا تو گلگت میں ریزیڈنٹ اور بلتستان میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ متعین ہوا جن کے پاس تمام انتظامی اور عدالتی اختیارات ہوتے تھے۔

Read more

آہ طارق عزیز۔ ۔ ۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

بٹوارے سے قریب ایک دہائی قبل کا قصہ ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر جالندھر کے میاں عبد العزیز آرائیں، جنہوں نے چوہدری رحمت علی کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت واسطے تجویز کردہ نام پاکستان کی مناسبت سے، اپنے نام کے ساتھ ”پاکستانی“ کا لاحقہ جڑ دیا تھا۔ عبد العزیز پاکستانی کے آنگن میں سنہ چالیس کی دہائی میں اک ننھے چراغ نے جنم لیا۔ جس کا نام طارق عزیز رکھا گیا۔ تقسیم کے ہنگام عبد العزیز پاکستانی کا خاندان اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان ہجرت کر کے منٹگمری (ساہیوال) آن بسا۔ طارق عزیز کی ابتدائی تعلیم و تربیت ساہیوال ہی میں ہوئی۔ بعد ازاں وہ ساہیوال سے لاہور منتقل ہو گئے۔

مردانہ وجاہت، بارعب آواز، دلکش و دلنشین انداز گفتگو، سراپا وقار و متانت، پرتاثیر لب و لہجہ کے مالک طارق عزیز کو پاکستان سے محبت ورثے میں ملی تھی۔ پاکستانیت جن کے وجود میں رچی بسی تھی۔ حب الوطنی کے اس مجسم پیکر نے اپنے ورثے کو اگلی نسلوں تک بھی بہ حسن و خوبی پہنچایا۔ اپنی ہر گفتگو کا اختتام جب وہ ”پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد“ کے فلک شگاف نعروں پر کرتے تو وطن کی محبت رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتی۔

Read more

کیا کینیڈا میں بھی پولیس متعصب ہے؟

اعجاز چوہدری، چار بچوں کا باپ، جس کی عمر 62 سال تھی اور وہ شیز وفینا کا مریض تھا۔ ایک تعارف یہ ہے اور ایک تعارف یہ بھی ہے ایک مہاجر، ایک دماغی مریض اور ایک براؤن۔ اور ایک مسلمان۔ ۔ ۔ یہ دو طریقے ہیں اس انسان کے تعارف کے جو، اب اس دنیا میں نہیں رہا ہے۔ اس کو پولیس نے ہفتے کی رات آٹھ بجے گولیوں سے بھون دیا جب اگلے دن اس کے بچوں کو اپنے

Read more

خالد محمود اور شعر زمین

خالد محمود ہمارے سرونج کے وہ گل سرسبد ہیں جن کی دلکشی اور مہک پوری اردو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بحیثیت صدر شعبۂ اردو سبک دوش ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مکتبہ جامعہ کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے، دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئر مین رہے اور آج بھی بہت سے ادبی اور سماجی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان کی اب تک تقریباً دو درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔

Read more

عاطف اسلم کے گانے پر اعتراض: ’بھائی جو بھی ہو جائے۔۔۔انڈیا ہمیشہ آپ سے محبت کرے گا‘

سچ سچ بتائیے گا، آپ عاطف اسلم کے فین ہیں؟ اگر آپ نہیں بھی ہیں تو یہ تو ماننا پڑے گا کہ زیادہ تر لوگ ہیں۔ پاکستان میں بھی اور انڈیا میں بھی۔ نہیں؟ اچھا چلیں زیادہ تر نہیں تو کافی سارے تو ہیں ہی، ہے ناں؟ ویسے چاہے آپ فین ہوں یا نہ ہوں یہ تو پتا ہی ہوگا کہ وہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں اچھے خاصے ٹرینڈ کرتے رہے ہیں۔ کہاں؟ ارے بھائی اور کہاں، ٹوئٹر پر! ایک

Read more

آسمان پر جہاز ڈھونڈنے والے بچوں کے سوال

روزشام ڈھلے، چھت پرکھلے آسما ن کے نیچے لیٹنا اور ستا رے د یکھنا اور آسما ن میں جہاز تلا ش کر نا، اور جیسے ہی جہاز نظر آ جا ئے تو ایک دو سر ے کو بتانے اور دکھانے کی وہ پیاری سی خوشی! گھرمیں مو جود آدھے درجن بچے، ہر روز میر ے ساتھ اس مشغلے میں شامل ہو تے ہیں۔ وبا کے یہ دن اپنے سا تھ کچھ خو بصورت پل بھی لائے ہیں، بے فکراور بے غرض

Read more

خواجہ احمد عباس : پروپیگنڈا نگار یا حقیقت نگار؟

خواجہ احمد عباس 7 جون 1914 کو پیدا ہوئے اور یکم جون 1967 کو انتقال کرگئے۔ 1920 سے 1960 تک کے ادب پر نظر ڈالتا ہوں تو گراہم گرین، ڈی ایچ لارنس، ژاں پال سارترے، ولیم فاکنر، سیمول بکٹ، ارٹیسٹ ہیمنگ وے، جارج آرویل، ورجینا ولف، پرل اس بک اور جیمس جوائز تک کے نام ذہن میں آ جاتے ہیں، اور بھی کئی بڑے نام ہیں۔ غور کریں تو جوائز سے سارترے اور جارج آرویل تک مغرب کا ادب محض

Read more

ورڈزورتھ بطور نقاد

ادب و شاعری ہو یا ریاست و معاشرت ہو، مذہب و اخلاق ہو یا فلسفہ و تنقید ہو، ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک ارتقا نظر آتا ہے، ہر زمانے میں ان علوم کی ماہیت کو نئے سے نئے زاویوں سے سمجھا گیا اور ان پر مباحث سے کئی ایک نئے راستے کھلے، تقریباً ہر دور میں مفکرین و فلاسفہ نے اپنی بساط کے مطابق ان علوم میں اضافے کیے، جس سے ایک فطری طور پر تغیر واقع ہوا اور

Read more

اسکول کھلیں گے پرماسک پہ لگی گندگی کو کون چیک کرے گا؟

شام کے وقت لان میں بیٹھی ساون کی پہلی رم جھم کی منتظر تھی جو بس برسنے کو تھی۔ سوچ رہی تھی کہ تیز آندھی اور ہوا سے کیا جراثیم بھی اڑ کے آ رہے ہوں گے۔ کیا مجھے ہٹ جانا چاہیے؟ مگر جب بوندیں برسیں، رم جھم رم جھم تو سکون کی سرحد کسی اور رخ لے گئی۔ یقیناً وہ کوئی پر سکون جزیرہ نہیں تھا اور پھر اچانک، ماہ جون کی تنخواہ یاد آ گئی۔ مئی کی تنخواہ

Read more

عورت کو رشتوں کے حوالے کی بجائے ایک آزاد انسان کے طورپر تسلیم کیا جائے۔۔۔

عورت کے بغیر انسانی ارتقا ممکن نہیں ہے اس سماج میں گھر سے لے کر سیاست و معاشرت تک فیصلہ کن اختیار مرد کے پاس رہا ہے، آج پاکستان میں نصف سے زائد آبادی عورتوں پر مشتمل ہونے کے باوجود نوے فیصد سماجی وسائل پر مرد کا اجارہ ہے، عورت کی شناخت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی صورت میں ہی موجود ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں مگر بطور ایک آزاد انسان عورت کا کردار اس سماج کو

Read more

ملکی سیاست میں اب ’’باصفا‘‘ کون ہے

کوئی پسند کرے یا نہیں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرح فرزندِ جہلم فواد چودھری صاحب کو بھی میڈیا سے کھیلنا خوب آتا ہے۔دورِ حاضر میں مجھ جیسے ’’گزشتہ‘‘ کہلاتے کالم نگاروں کے علاوہ ذہین اور خوب صورت اینکر خواتین وحضرات کی ایک فوج ظفر موج بھی ہے جو شام کے سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک عوام کی توجہ حاصل کرنے کو مرے جارہی ہوتی ہے۔ ’’بکائو میڈیا‘‘ کے متبادل مگر سوشل میڈیا نمودار ہوچکا ہے۔اس کی بدولت

Read more

میڈم نورجہاں کی زندگی پر ایک نظر: اللہ وسائی کو محض 18 برس کی عمر میں ’ملکہ ترنم‘ کا خطاب کس نے دیا؟

انڈیا اور پاکستان کی فلمی صنعت کی بہت سی شخصیات کو ان کے چاہنے والوں نے ایسے خطابات سے نوازا ہے جو ان کی شخصیت کے ساتھ مخصوص ہو گئے ہیں اور جب وہ خطاب زبان پر آتا ہے ذہن پر اس شخصیت کا نام دستک دینے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم ‘پری چہرہ’ کہیں تو ذہن میں نسیم بانو کا نام ابھرتا ہے۔ ‘ملکۂ موسیقی’ کے ساتھ روشن آرا بیگم کا نام مخصوص ہے۔

‘عوامی اداکار’ کہیں تو ذہن میں علاؤالدین کا نام آتا ہے۔ ‘آہو چشم’ کا خطاب راگنی کی یاد دلاتا ہے، ‘دختر صحرا’ ریشماں کہلاتی ہیں اور ‘ملکۂ جذبات’ نیر سلطانہ، ‘شہنشاہ غزل’ مہدی حسن کو کہا جاتا ہے تو ‘چاکلیٹی ہیرو’ وحید مراد کہلاتے ہیں۔

Read more