یہ ہوتا ہے لیڈر، یہ ہوتا ہے میٹر

ٹی وی پر ایک ہونہار اینکر نے شیخ رشید سے پوچھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کیسے انسان ہیں۔ شیخ رشید نے کہا اور بہت پیار سے کہا کہ وہ میٹر آدمی ہیں۔ پہلے تو مجھے بھی تھوڑا سا پیار آیا کیونکہ شیخ رشید صاحب کے لہجے میں وہ شفقت تھی جو ماں کے لہجے میں ہوتی ہے، جب بیٹا تین بار فیل ہونے کے بعد پاس ہوتا ہے یا جب رسہ گیر کا بیٹا اپنی پہلی بھینس چوری کر کے گھر لاتا ہے۔

شیخ رشید نے عید کے سیزن میں ہر ٹی وی چینل کو برابر عیدی دی ہے۔ پہلے عید شوز پر فلمی ستاروں وغیرہ کو بلایا جاتا تھا، اب کون سا شان اور کون سی ریما۔ ہر طرف شیخ صاحب ہی شیخ صاحب تھے۔

Read more

میری بیٹی جیسی لڑکی

میں اس وقت کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر واقع، لال رنگ کی بلڈنگ والے بہت بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں موجود ہوں اور وہیں سے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ کل ہی کی بات ہے۔ میں ہسپتال کے کوریڈور میں فزیشن ڈاکٹر سعدیہ شیخ کے کنسلٹنٹ روم کے باہر پریشانی اور انتظار کے عالم میں کھڑا تھا۔ مجھے انتظار تھا اپنے بلاوے کا۔ کھڑے کھڑے تھک گیا تو دیوار سے پشت ٹکادی۔ کچھ اور لوگ بھی منتظر کھڑے تھے۔ اچانک میری

Read more

محبت کیا ہے؟

محبت کیا ہے یہ سوال روزاول سے لے کر آج تک ہر زمانے میں ہر معاشرے میں اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے کیا جاتا رہا ہے اور ہر کوئی محبت کی تعریف و تشریح اپنے نقطہ نظر سے کرتا آیا ہے۔ جو بھی اپنے تجربات اور مشاہدے کی بنا پر محبت کے جس معیار پہ پہنچا اس نے وہیں پہ کہا کہ یہ محبت ہے۔ محبت کی آج تک کوئی ایسی جامع تعریف نہیں ہو سکی جو کہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ میرے خیال میں آج تک محبت کے متعلق جتنی بھی تعریف ہوچکی ہے اس کو قابل قبول اور درست تسلیم کر لیا جائے۔ محبت تو ایک جذبہ ہے ایک کیفیت ہے اور جس نے بھی اس کیفیت یا جذبے کو جس طرح محسوس کیا اس کے نزدیک وہی محبت ہے۔

Read more

اقبال اور ہم نوجوان

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے؟
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
اقبال کا پیغام اور ہم نوجوان!
ملت واحدہ کا قیام، ملت اسلامیہ کا دوام، مرد مومن کے لیے علم لولاک کا مقام ہے۔

پاکستان کی آبادی میں نوجوان 70 فیصد ہیں جو پاکستان کا مستقبل ہیں۔ پاکستان کے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ پاکستان میں ایسی مشکل صورتحال ہے جس سے آج کا نوجوان کنفیوز ہے۔ نوجوان اگر علامہ اقبال کی فکر اور فلسفے سے راہنمائی حاصل کریں تو وہ یقیناً مثالی اور معیاری انسان بن کر پاکستان کی بہتر خدمت کر کے پاکستان کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ اقبال نے اپنے نوجوانوں سے امید لگائے ہوئے ہیں لیکن علامہ اقبال اپنی نسل کے بزرگوں سے بہت مایوس تھے کیونکہ وہ جمود اور تقلید کا شکار تھے اور تبدیلی پر مائل نہیں ہوتے تھے علامہ اقبال نے بزرگ نسل کے بارے میں یہ کہا تھا

Read more

منیر احمد شیخ کی یاد میں

پچھلے دنوں مئی کے ایک ماہ نامے میں منیر احمد شیخ کا افسانہ ”فسانہ کہیں جسے“ پڑھنے کا موقع ملا تو منیر احمد شیخ کے حوالے سے کئی باتیں یاد آ گئیں۔ اردو ادب میں ان کا نام قدرے کم معروف ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اگرچہ ان کی اٹھان ایک ادیب کے طور پر ہی تھی مگر ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بیوروکریسی کی دنیا کی نذر ہو گیا اور بیوروکریسی کا بھی وہ شعبہ جس کا کام حکومت کی کارگزاریوں کی اشاعت و تشہیر ہوتا ہے یعنی وزارت اطلاعات، اور شاید وہ اسی وجہ سے اپنے میلان طبع کی مطابق لکھنے پڑھنے کا زیادہ کام نہ کر سکے۔

Read more

یہ پہلی عید ہے جب لوگ گلے ملنا تو دور مصافحہ کرنے سے بھی کتراتے ہوئے نظر آئے

عید کا دن مسلمانوں کے لئے خوشیوں اور مسرتوں کا دن ہے، انعام کا دن ہے، جو ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے۔ عید کے دن مسرت کی ہوا رقص کرتی ہے۔ عید کا تہوار ہمیں خدا پرستی، الفت و محبت، ہمدردی، خیر خواہی اور بھائی چارے کی پاکیزہ روح سے منور کرنا چاہتا ہے۔ عید کا دن غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور بیواؤں کے ساتھ احسان و سلوک کا دن ہے۔ عید مسرت و شادمانی کا دن ہے اور اس میں ہر امیر و غریب نیز خاص و عام کی شرکت ضروری ہے۔

Read more

دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

میں نے صبح جاگ کر جب اپنے کمرے کا بلب روشن کیا تو گھڑی پر چار بج چکے تھے۔ ابھی باہر کافی اندھیرا تھا۔ پچھلے دس سالوں سے میرا اس وقت جاگنا معمول بن چکا تھا۔ صبح جاگنے کے بعد میں اپنے مویشیوں کو چارہ ڈالتا ہوں اور اس کے بعد نماز پڑھ کر باقی گھر والوں کو جگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کام میں سب سے زیادہ مشکل تب پیش آتی ہے جب میں اپنے بڑے بیٹے کو جگانے کی کوشش کرتا ہو جو ابھی دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کو جگانے کے بعد میں حسب معمول اس کا یونیفارم استری کر کہ رکھتا ہوں اور پھر قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتا ہوں۔

Read more

میک اپ اور پردہ، نسوانیت کے متضاد یا لازم جزو؟ قسط نمبر 11

اس گھر میں نازیہ بھابھی کی اگر بنتی تھی تو بڑی نند زیبا باجی سے بنتی تھی۔ ان دونوں کی سوچ پسند ناپسند سب ایک جیسا تھا دونوں مل کر بیٹھتیں تو گمراہ نئی نسل، کام چور بہوئیں اور بد کردار تقریریں جھاڑنے والی عورتوں پہ بلا تکان گھنٹوں تبادلۂ خیال کر لیتی تھیں۔

ان دونوں کو ہی نئی دلہنوں کا شوہر سے بات کرنا دن میں اپنے کمرے میں رہنا، شوہر کے ساتھ اکیلے باہر جانا گناہ جیسا معیوب لگتا اور فی الحال ان کے اس نظریے کی زد پہ بسمہ تھی۔ شکر یہ ہوا کہ باسط خود بھی زیادہ گھومنے پھرنے کا شوقین نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے گھر کی خواتین کو باہر لے کر جانا پسند نہیں دوست دیکھتے ہیں اچھا نہیں لگتا۔ اسی کے کہنے پہ بسمہ نے نقاب کے ساتھ حجاب کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ مگر ایک بات جو بسمہ نے بہت عجیب نوٹ کی وہ یہ کہ باہر بازار وغیرہ میں گھومتے ہوئے باسط کی توجہ خریداری اور بسمہ کی باتوں سے زیادہ اردگرد کھڑی عورتوں پہ ہوتی اور پھر وہ ان کے آگے بڑھتے ہی ان کی ڈریسنگ، فگر اور بے پردگی پہ کافی کھلے الفاظ میں تنقید کرتا تھا۔

Read more

رضاکار بنانے والی فیکٹری

آپ کسی کی بات کیوں مانتے ہیں؟ اس کی دو سادہ سی وجوہات ہیں۔ یا تو آپ اس سے محبت کرتے ہیں اور یا پھر آپ کا اس سے مفاد وابستہ ہوتا ہے۔

ایک بحث بہت تواتر سے سننے کو مل رہی ہے کہ لوگ لاک ڈاؤن میں حکومتی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ ہمارا عمومی رویہ کلاس روم میں پچھلی نشستوں پر بیٹھے طلبا والا ہے انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کلاس روم میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ استاد زیادہ سخت مزاج کا حامل ہو تو پھر اپنی رف کاپی پر جملے لکھ کر ساتھیوں کو پاس کرنے یا چھوٹی چھوٹی رسید نما پرچیاں بناکر اپنے دل میں اٹھنے والے جوار بھاٹا کو قریبی ساتھیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

Read more

جہاز کے مسافر: پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی

اس جمعہ کو ہم تین دوستوں نے ورچوئل سحری کا اہتمام کیا تھا، وٹس ایپ کانفرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کافی گپ لگائی۔ ہمیشہ کی طرح میں تھوڑا لیٹ ہو گئی، جب میں نے کانفرنس کال کو جوائن کیا تو وہ دونوں سحری کر کے چائے کے مزے لے رہے تھے۔ میں نے سحری میں کافی اہتمام کیا ہوا تھا۔ گارلک پراٹھا انڈے کے ساتھ بنایا جس کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔ خیر سحری کے ساتھ ساتھ میرے دونوں عزیز دوست مجھ سے اٹلی کے لاک ڈاؤن کا احوال پوچھ رہے تھے۔

ہماری گفتگو کا محور کرونا وائرس اور اس کے اثرات تھے۔
ھم سب مل کر ”چین“ کو کوس رہے تھے۔ ۔ ۔ مستقل باتیں کرتے کرتے ہم نے چائنا کا نام بھی بدل دیا تھا۔

Read more

پی کے 8303 کی ہونہار نیلم برکت علی

جمعۃ الوداع کی روز گرنے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں ہواباز اور کپتان سجاد گل سمیت ستانوے روشن چراغ گل ہو گئے۔ ہر متاثرہ شخص اپنی زندگی میں چمکتا دمکتا ستارہ تھا۔ اپنے خاندان کے باغ کا گل تھا، جن کے دم سے بہار بھی بہار تھی اور خزاں بھی دل کش معلوم ہوتی تھی۔ افسوس کہ ان سب گلوں میں نامکمل رنگ بھرے گئے تھے، جن کی زندگیوں کے الاؤ بیچ آسماں کے بجھنے تھے سو زندگی کی اوطاق پر جلتی سب روشنیاں مدھم ہوگئیں جو دوبارہ کبھی روشن نہ کی جائیں گی۔

Read more

گزشتہ راکھ کی چنگاریاں اور انتظار حسین

7 دسمبر 1923ء کو بلند شہر، میرٹھ میں پیدا ہونے والے انتظار حسین نے خوفناک بندروں کے اس میلے کو اتنے قریب سے دیکھا کہ ہجرت کے بعد بھی ماضی کی گٹھری اور پوٹلی سے خود کو آزاد نہ کرسکے۔ وہ ایک ایسے داستان گو تھے جس کا مکمل اثاثہ ماضی کی وہ داستانیں تھیں، جسے عمر کے آخری دور میں بھی، آخری ناول ’سنگھاسن بتیسی‘ کی تخلیق تک وہ خود سے الگ نہیں کرسکے۔ برسوں پہلے دوردرشن ٹی وی

Read more

نعیم چشتی کے ڈاکٹر خالد سہیل سے دس نفسیاتی سوال

چشتی صاحب! آپ کے سوال بظاہر سادہ لیکن در پردہ بہت گمبھیر ہیں۔ ہر سوال کے جواب میں ایک پورا مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ میں ان سوالوں کا اختصار سے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ پہلا سوال : نفسیاتی طور پر صحتمند انسان کیسا ہوتا ہے؟ جواب : آج سے ایک سو سال پہلے کسی نفسیات کے طالب علم نے سگمنڈ فرائڈ سے پوچھا تھا کہ ذہنی صحتمند انسان کی دو نشانیاں بتائیں تو انہوں نے فرمایا تھا

Read more

حضرت کا حجرہ اور مثنوی بے معنوی

آج کا سیٹ اپ کچھ اور طرح کا تھا۔ صوفہ نیا تھا اور کرسیوں کی بھی اچھی طرح چھاڑ پونچھ کر دی گئی تھی۔ میز پر تازہ پھولوں کا گلدستہ بھی تھا۔ عبدل عبدل آج دروازے پر کھڑے تھے اور ایک ایک آنے والے کو بصد احترام و تکریم سیٹوں پر بٹھا رہے تھے۔ حضرت کی کرسی ابھی خالی تھی لیکن برابر والی کرسی پر ایک نسوانی پیکر نشستہ تھا۔ خاتون حضرت کی نئی دریافت تھیں اور چھلانگ مار کر

Read more

بھٹو صاحب ڈاکٹر محمد اجمل پر ناراض کیوں ہوئے؟

ڈاکٹر ظفر الطاف کو عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی، ان چار افراد سے خصوصی عقیدت و انسیت تھی۔ ان میں سے تین بزرگوں کا تعلق لاہور سے اور ایک یعنی ڈاکٹر طارق صدیقی کا لکھنو اور کراچی سے تھا۔ جان لیں گنتی کے حساب سے تو یہ بزرگ بشمول ڈاکٹر ظفر الطاف پانچ ہی بنتے ہیں مگر چونکہ ڈاکٹر صاحب ان چاروں کو مرشد اور مکرم مانتے تھے لہذا ہم ان کا شمار نصف

Read more

میرا بچپن، میرے جگنو، میری گڑیا لا دو

بچپن کا دور کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے یادگار دور ہوتا ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جس کے کھونے کا اور دوبارہ نہ پا سکنے کا دکھ اسے ساری زندگی رہتا ہے۔ بچپن کا دور بے فکری کا دور ہوتا ہے۔ جو خوشیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس دور میں اگر دکھ بھی ملیں تو ہنس کر سہنے اور انہیں دل سے نہ لگانے کی عجیب خاصیت انسان میں موجود ہوتی ہے۔ بچپن کی اہمیت تب سمجھ آتی ہے جب ہم بچپن کی دہلیز پار کر چکے ہوتے ہیں۔ بچپن ہماری حسین یادوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ یادوں کی وہ پٹاری ہے جسے ہم تا مرگ سنبھال کر رکھتے ہیں۔ کہنے کو تو بچپن چار حروف کا مجموعہ ہے مگر یہ اپنے اندر ایک الگ ہی دنیا رکھتا ہے۔ بقول شاعر

Read more

کلٹ گروپس کیوں اور کیسے بنتے ہیں؟

انسانی تاریخ کی یادداشت سے بھلا ایک دن میں ہونے والی نو سو سے زیادہ افراد کی اجتماعی خودکشی کا واقعہ کیسے محو ہو سکتا ہے کہ جب اٹھارہ نومبر 1978 کو اپنے مذہبی پیشوا جم جونز کے کہنے پہ اس کے ماننے والوں نے سائنائڈ ملا مشروب پی کر موت کو گلے لگا لیا۔ کیونکہ وہ ان کے مسیحا اور پیغمبر کا درجہ رکھتا تھا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے جم جونز کا تعلق ایک ایونجلسٹ گروپ سے تھا، جہاں اس نے چند لوگوں سے اپنے گروپ (جو بعد میں پیپلز ٹیمپل کہلایا) کو شروع کیا اور بتدریج اپنی کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پہ ایک قابل تعظیم رتبہ حاصل کر لیا۔

اس کا دعوی تھا کہ وہ ذہنوں کو پڑھتا اور اس پر یقین رکھنے والوں لوگوں کو شفایاب کرتا ہے۔ اس نے انسان دوستی اور رنگ و نسل کی بنیاد پہ انسانی تفریق کو رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گروپ میں اکثریت معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے ایفرو امریکیوں کی تھی۔ جم جونز ایٹمی جنگ کے خوف کے پیش نظر یہ گروپ امریکہ سے ساؤتھ امریکہ چلا گیا جہاں جم نے انہیں ”گیانا“ کے جنگلات میں واقع جیمز ٹاؤن میں یوٹوپیا (تصوراتی مقام) کا وعدہ کیا تھا۔

Read more

تبلیغی جماعت اور نور کی چادر

وہ مجھے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں لے جانا چاہتے تھے تبلیغ اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں بنیادی طور پرایک غیر مذہبی قسم کا انسان ہوں۔ جب چھوٹا تھا تو گھر قرآن بھی پڑھایا گیا، نماز بھی سکھائی گئی۔ اسکول میں بھی نماز پڑھتا تھا اور گھر میں دادی جان ہمیشہ نماز کے وقت ٹوک دیا کرتی تھیں کہ نماز پڑھ لو۔ جب تک وہ زندہ رہیں میں پابندی سے نماز پڑھتا رہا۔ ان کی موت کے بعد بھی کافی دنوں تک نماز میں بے قاعدگی نہیں ہوئی مگر کالج آکر کچھ ایسا ہوا کہ ظہر کی نماز پابندی سے چھوٹنے لگی۔ پھر نہ جانے کیسے میں نے پانچ وقت نماز پڑھنی چھوڑ دی تھی۔

Read more

میرا جی: جنسی مریض یا جینئس؟

دو ہزار دس فیض صدی تھی، دو ہزار گیارہ راشد صدی، دو ہزار بارہ منٹو صدی۔ اس دوران اردو کے ان کوہ قامت نابغوں پر درجنوں تحقیقی و تنقیدی کتابیں چھاپی گئیں، پر مغز سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں، الیکٹرانک میڈیا نے خصوصی پروگرام ترتیب دیے، ادبی رسالوں نے خاص نمبر چھاپے۔ لیکن اس تمام ہاؤ ہو میں کسی کو ایک نام یاد ہی نہ رہا، یا اگر یاد بھی رہا تو محض سر سے بوجھ اتارنے کی مانند۔

Read more

جنسی آسودگی کا خواہشمند شاعر: میرا جی

ایسی شاعری جس کی دنیا میں تخلیقی اظہار کے حدود اخلاقیات کے دائروں میں محدود ہوں۔ جہاں عاشق کا پیشہ محبوب کے حسن کے بیان اور وصال کے تصور پر قائم ہو۔ ہجر اور فراق کے راگ الاپنا اس کا مقدر قرار دیا گیا ہو۔ وہاں عورت کے جسم کے حصول کی باتیں کرنا۔ یا اس سے وابستہ مرد کی جنسی خواہش اور نفسیاتی الجھنوں کے زائیدہ کرب کا اظہار روایتی شعر ی طریقہ کار سے سراسر انحراف ہی ہوسکتا

Read more

گھر کا راستہ بھول جانے والے کا جنم دن

میری تمہاری یہی کہانی ہے! ہمیں گوجرانوالہ سے محبت سی ہو گئی ہے، شاید کہ پرکھوں کا تعلق اس مٹی سے تھا! یہ وجہ ممکنات میں ہو سکتی ہے لیکن ہم سے پوچھیے تو اس محبت کا تار میرا جی سے جا ملتا ہے، جی وہی میرا سین والے دیوانے فرزانے میرا جی! میرا جی کی شاعری کے فسوں نے ہمیں دھیرے دھیرے اپنے حصار میں لیا۔ پھر ان کے اہلے گہلے الفاظ کی بھول بھلیوں میں کھو کے جی

Read more

عید کے رنگ بچوں سے ہیں

عید نام ہے خوشیوں، رنگوں اور قہقہوں کھلکھلاہٹوں کا۔ عید کا دن پیغام ہے امن و محبت، بھائی چارے اور رواداری کا۔ عید کا دن مسرتوں سے بھرپور دن ہوتا ہے ہر طرف کھلکھلاتے مسکراتے چہرے بہار کا سماں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک گہما گہمی کا دن جس میں ایسا شورو غل کہ پاس کھڑے انسان کی آواز سنائی تک نہ دے لیکن اس شور و غل میں بھی محبتیں اور خوشیاں محو رقصاں ہیں۔ عام دنوں میں دیر سے اٹھنے والے بچے عید کے روز والدین کے بیدار سے ہونے سے قبل ہی جاگے ہوتے ہیں۔

بچیاں بیدار ہونے کے بعد جلدی سے پانی کی طرف رخ کرتی ہیں تاکہ ہاتھ دھونے کے فوراً بعد مہندی کا رنگ دیکھ سکیں

Read more

رو رہی تھی عید کے دن کسی غریب کی بیٹی

یہ ایام عید ہیں۔ محروم، بے حس اور ستم رسیدہ معاشرے میں اس دن سے منسوب خوشیوں کا احساس ایسے پھیل جاتا ہے جس طرح کسی خشک تپتے صحرا میں بارش ہوتی ہے۔ نخلستانوں میں تو یہ بارش مزید ہریالی اور شادابی لاتی ہیں۔ لیکن صحرا میں یہ پھوار ایسے غائب ہوجاتی ہیں جیسے کبھی برستے بادلوں کا گزر ہوا ہی نہیں تھا۔

Read more

کشمیر میں عید

عید کی صبح واٹس ایپ کے ایک پیغام سے ہوئی۔ عید پر پیغامات کی بھرمار سے واسطہ تو سب کو ہی پڑتا ہوگا مگر یہ پیغام منفرد تھا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولا سے آیا یہ پیغام اس محبت اور خلوص کی عکاسی کر رہا تھا جو بنا کسی غرض اور حصول کے وفاؤں کی ڈوری ٹوٹنے نہیں دیتا۔ میں اس تحریر کو کشمیریوں سے روایتی اور بے سود اظہار ہمدردی اور یکجہتی کے طور پر قطعی ثابت کرنے کی خواہش نہیں رکھتی مگر ان بے غرض ناتوں کی حرمت ضرور منوانا چاہتی ہوں۔

Read more

چند سیکنڈ میں رن وے تک : ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی

کراچی میں جناح ائرپورٹ کے رن وے کے قریب پی آئی اے ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی۔

اس کی عمر 34 سال تھی۔ وہ لندن میں پی ایچ ڈی کی سٹوڈنٹ بھی تھی۔ اللہ نے اس کو تین خوبصورت بیٹے عطا کیے تھے۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کے خطرناک دنوں میں وہ بہت اداس رہتی تھی۔ ہر روز شام کو اپنے گھر کی بالکونی پر کھڑے ہو کر وہ اپنے شوہر سے کہتی ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں۔ مجھے پاکستان لے چلو“۔

Read more

اور پھر جمہوریت کفر نہ رہی۔۔۔

ہمارے دیس کا ہر شہر اپنی مثال آپ ہے۔ مگر جس جگہ آپ کا جنم ہوتا ہے بچپن اور جوانی گذرتی ہے وہ جگہ آپ چاہتے ہوئے بھی بھول نہیں سکتے اس جگہ سے پیار ایک فطری عمل ہے۔ ساندل بار کی اس بستی کا تین بار نام بدلنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہمارا یہ وسیب جہاں ماں باپ سے زیادہ بستی کے لوگ ایک دوسرے کا خیال کرتے تھے۔ بزرگ برا بھلا سمجھایا کرتے تھے۔

Read more

سرائیکی زبان میں آقائے دو جہاں سے محبت کے اظہار کا عقیدتوں بھرا سفر

وجہ تخلیق کائنات کی شان، فضیلت، تعریف بیان کرنے کو اردو میں نعت کہتے ہیں جبکہ عربی زبان میں نعت کے لئے لفظ ”مدح رسول“ استعمال ہوتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی انداز بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدا میں بہت سے صحابہ اکرام نے نعتیں لکھیں اور حضورؑ کی شان کو بیان کرنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری و

Read more

زندگی ہے۔۔۔ تو موت بھی ہو گی

زندگی کو طویل کرنے کی تگ و دو تو بہت عرصہ سے جاری ہے۔ انٹی بائیوٹکس کی ایجاد کے بعد اور صحت سے متعلق نظام بہتر ہونے سے، گزشتہ سو برس میں مختلف ملکوں کے انسانوں کی زندگیوں میں، اوسطا ”بیس تا چالیس برس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعوٰی ہے کہ صرف دس برس بعد یعنی 2030 تک ممکن ہو جائے گا کہ جو چاہے 500 سے 1000 سال کی عمر خرید سکے گا البتہ حادثات، معاہدے

Read more

آقا آپ عظیم ہیں، ظلم نہ کریں

ہم سب اپنے اپنے دنیا میں مگن تھے۔ ہمیں کون سا ایک دوسرے کی پرواہ تھی۔ ہم تو ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے، ملنا جلنا کم کرنے اور اپنے گھروں تک محدود رہنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ کورونا آ گیا ہمیں ایک جاندار بہانہ مل گیا۔ ہم نے مادہ پرستی کو پیشہ ور اور انا پرستی کو خودی کا نام دیا۔ یہ سب گلے شکوے ہیں اب بولنے کا کیا فائدہ، اور رہی بات زمینی حقائق کی۔ اب

Read more

عید کے بارے میں چند معلومات

عید عربی زبان کے لفظ ”عود“ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ”لوٹنا یا پلٹ کر آنا ہے۔“ مطلب وہ ”دن جو ڈھیر ساری خوشیوں سمیت بار بار لوٹ کر آئے“ ، یہ عید کا لفظی اور جنرل یعنی عمومی تعریف ہے۔ عید ایک وسیع اصطلاح ہے، دراصل عید سے مراد تہوار کے طور پر منایا جانے والا وہ دن ہے جس روز کسی فرد یا قوم و ملت کے اللہ‎ کے فضل و کرم سے مشکلات سے نکل کر

Read more

پھیکے خربوزے، میٹھے روزے اور شوال کا چاند

جب آپ فروٹ منڈی یا کسی فروٹ شاپ / ریڑھی سے خربوزے خریدتے ہیں تو آپ کا پہلا سوال اس خربوزے بیچنے والے سے یہ ہوتا ہے کہ ”بھائی میٹھے تو ہوں گے“ ، آپ کی تسلی کی خاطر وہ ایک دو خربوزوں کو آگے پیچھے کرے گا، ایک دو کو ہاتھ سے تھپ تھپائے گا، پھر جو دانہ آپ کو دینا ہو اس کو اپنے منہ کہ قریب کر کے کہے گا صاحب آپ کو بالکل میٹھے دانے نکال

Read more

مختصر سی زندگی اور وقت کا ضیاع

زندگی بہت مختصر سی ہے، بچپنا تھا ختم ہوا، اب جوانی ہے ختم ہو جانی ہے، کیسے اور کہاں گزر گئی پتا بھی نہیں چلنا پھر بڑھاپا آ جانا ہے یہ سب آنکھ جھپکنے میں گزر جاتا ہے۔ بڑھاپے میں ویسے بھی انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی مرضی سے نہیں ہو سکتا کچھ ہمت ہم ہار بیٹھے ہیں کچھ طرح طرح کی بیماریاں جان نچوڑ دیتیں ہیں۔ مختصر زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو دل و

Read more

رند و زاہد بہک رہے ہیں

ارسطو ( 384۔ 323 ق م) سے منسوب اس قول کو عمرانیات اور سیاسیات کے دانشور صدیوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں کہ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ جہاں ارسطو نے کم سے کم الفاظ میں جو کہنا تھا وہ کہہ ڈالا وہیں اس نے انسان اور جانور کا موازنہ بھی کر ڈالا ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان! بعد کے دانشوروں نے وہی بات اپنے اپنے الفاظ میں ایسے ادا کی کہ سچ بھی بیان ہو جائے اور

Read more

میں ڈائجسٹ ریڈر تھا

ساٹھ کی دہائی میں ہر مہینے ڈاک کے ذریعے خواتین کے دو ماہنامے ”حور“ اور ”زیب النساء“ ہمارے گھر میں آتے تھے۔ دور دیہات میں رہنے کے باوجود یہ رسالے بہنوں کے پڑھنے کے لئے والد صاحب نے لگوائے ہوئے تھے۔ اس دور میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے ابا جان کی روشن خیالی آپ جان سکتے ہیں۔ بہنیں تب رسالے میری پہنچ سے بچا کر رکھتی تھیں مبادا میں انھیں پھاڑ نہ دوں۔ والد صاحب جب بھی شہر سے واپس آتے، ان کے تھیلے میں سے ایک دو کتابیں ضرور نکلتی تھیں جو وہ اپنی الماری میں سنبھال کے رکھتے تھے۔

Read more

بادشاہ کی رحم دلی اور انصاف کی تلوار

برسوں پہلے کا قصہ ہے۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا رہتا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے رہتے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی کیوں نہ پیتے بادشاہ سلامت جو انصاف پسند ہوئے۔ انصاف بھی وہ جس کے چرچے چار سو۔ کامیابی وہ جو دشمن مانے۔ اپنے تو اپنے بیگانے بھی بادشاہ سلامت کے انصاف کے تعریف کیے بنا نہ رہتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی مقدمہ اگر بادشاہ سلامت کے حضور پہنچا تو پھر انصاف ہو کے رہے گا۔

Read more

آہ۔ ۔ ۔ خالد شیر دل: تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں

خالد شیر دل۔ ۔ ۔ اکثر لوگوں کے لئے یہ نام شاید نیا ہو، ہماری خود بھی ان کے ساتھ محض تین یا چار ملاقاتیں رہیں اور وہ بھی موبائل فون کے ذریعے۔ ۔ ۔ خالد شیر دل صاحب ہمارے ملک کے ایک متحرک بیوروکریٹ اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سرکردہ افسروں میں سے ایک تھے۔ 24 ویں سی ٹی پی میں وہ محمد فراست اقبال صاحب کے قریبی ساتھی اور انتہائی گہرے دوست تھے، گزشتہ روز کراچی میں طیارے کے افسوس ناک حادثے میں وہ انتقال کر گئے۔ ۔ ۔

Read more

کیا واٹس ایپ سٹیٹس عید کارڈ کا متبادل ہو سکتے ہیں؟

90 کی دہائی ہمارے بچپن کا دور تھا۔ اس وقت کی بہت سی خوبصورت یادیں ذہن پر نقش ہو کر رہ گئیں ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں پہنچنے کے لیے ٹیکنالوجی نے بہت جلد ترقی کی اور ہماری زندگی اتنی سہل بنا دی ہے کہ شاید دو دہائی قبل ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس ترقی اور ٹیکنالوجی کی بھینٹ چڑھ گئی اور کبھی کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتیں۔ ان کے لیے ہمیں اپنے دماغ کے دریچے میں دل سے جھانکنا پڑتا ہے اور وہ ہماری یادداشت میں کسی پرانی کتاب کے پیلے پنوں میں سوکھے گلاب کی مانند موجود ہوتی ہے اور جیسے ہی ہم اس پر لکھی گئی یادوں کی تحریر پڑھتے ہیں تو پیلے اور بوسیدہ صفحات دوبارہ سفید اور سوکھا گلاب دوبارہ سبز پتوں اور گلابی پنکھڑیوں کے ساتھ مہکنا شروع ہو جاتا ہے اور ایک خوشگوار احساس کے ساتھ دل و دماغ کو معطر کر دیتا ہے۔

Read more

پاکستان طیارہ حادثے پر انڈین سوشل میڈیا صارفین خوشی کا اظہار کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستان کے شہر کراچی میں ہونے والے مسافر بردار طیارے کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دو زخمی حالت میں زندہ بچے ہیں اور تقریبا ڈیڑھ درجن افراد کی میت کی شناخت کی جا چکی ہے۔ اس حادثے پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے لے کر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔ لیکن انڈیا میں ایک چھوٹی سی اقلیت ایسی

Read more

کورونا کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں

عرفان صاحب کے گھر میں دو کمرے ہیں اور ایک لاؤنج ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان صاحب کو کرونا کا مرض لاحق ہو گیا ہے اور وہ کافی بڑھ گیا ہے۔ شدید بخار ہے اور سر میں درد بہت زیادہ ہے۔ سانس لینے میں دشواری اتنی شدید ہے کہ اپنے ہی کمرے کے ساتھ ملحق باتھ روم تک جانے سے بھی ان کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ ان کے کمرے کے ساتھ لاؤنج ہے۔ لاؤنج میں ان کی بیگم رہ رہی ہیں۔ انہیں بھی کرونا کی علامات شروع ہوچکی ہیں اور ان کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا ہے۔

Read more

کراچی طیارہ حادثہ: ’اپنے والد کی طرح وہ وہاں موجود تھے‘

’پہلے تو ہمیں گھبراہٹ بھری آواز میں لوگوں کی کال آئی کہ آگ لگ گئی ہے، جہاز کا کوئی پرزہ گرا ہے، پھر کسی نے اطلاع دی کہ جہاز کے تیل کی ٹینکی گر گئی ہے اور بالآخر یہ معلوم پڑا کہ جہاز ہی گر گیا ہے۔‘ یہ الفاظ پاکستان کے معروف فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے ہیں جو گذشتہ روز پی آئی اے کا طیارہ گرنے کے بعد دن بھر امدادی کارکنوں اور مقامی لوگوں

Read more

قرنطینہ، عید، ہلاکت اور مسلمان

روسی تھیٹر ڈائریکٹر کیریل سیربرینکوف کو ماسکو میں ڈیڑھ سال تک نظربند رکھا گیا۔ اس درمیاں انھوں نے ایک ویڈیو تیار کی کہ ’جب آپ گھر کے اندر پھنس جائیں تو پاگل ہونے سے کیسے بچیں۔‘ جب شاہین باغ نفرت کے خلاف حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا، ہم نے ان فسادی چہروں کو دیکھا جو ہندوستان کو پاگل خانہ میں تبدیل کرنے آئے تھے۔ ہندوستان اب ایسا ملک تھا، جہاں کھلے عام مسلم دشمنی کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ مسلمانوں کو ہلاک کیا جا رہا تھا، اور انصاف پسند جن عمارتوں اور لوگوں پر ہمارا یقین تھا، ان لوگوں کو خریدا جا رہا تھا۔ آزادی کے غیر متوقع لمحات کا جائزہ لیتے ہوئے یولیا تسویتکوفا نے ایک سروے میں بتایا ’جب انھوں نے مجھے 500 میٹر کی چہل قدمی کے لیے جانے دیا تو وہ بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی آزادی کی طرح لگا لیکن اس نے اس بات کا اور بھی احساس دلایا کہ میں باقی اوقات کتنی غیر آزاد ہوں۔‘

غیر آزاد۔ کیا مسلمان حقیقت میں آزاد ہیں؟ یہ نہ بھولیں کہ رمضان کے مقدس مہینے جس صبر و تحمل کا ثبوت مسلمانوں نے پیش کیا اس کی نذیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب مزدور، مردہ اور ذلیل سیاست کا شکار ہو کر ہجرت کر رہے تھے، مسلمان تراویح سے نکل کر، یا روزہ رکھ کر ان کی مدد کر رہے تھے۔ اور یہ ان مزدوروں کا بیان ہے کہ جو مدد مسلمانوں نے پہنچائی، ایسی خدمت کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ ایک سروے میں یہ بات بھی آئی کہ مہاجر مزدوروں کے لئے 80 فیصد مسلمان سامنے آئے اور بیس فیصد غیر مسلم۔

Read more

محبت اور ترس میں فرق کی نفسیات

اسٹیفن زیویگ (Stefan Zweig) یورپ کے ان چند ادیبوں میں سے تھا کہ جس کے کام پر لوگوں کی نظر بہت بعد میں پڑی۔ ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے عہد میں یورپ میں بڑے دیو قامت ادیب موجود تھے۔ دوسری وجہ یہ کہ زیویگ کا دور خوفناک جنگوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ زیویگ کو خود اپنی حیات میں سکون نہیں مل سکا۔ جنگ عظیم دوئم سے بھاگ کر وہ لاطینی امریکا چلاگیا۔ لیکن وہاں وطن کی تباہی و

Read more

کورونا، قرنطینہ اور خریداری کی دوڑ

پچیس لاکھ، ایک کورونا مریض پر۔ حضور، پچیس لاکھ، نقد پکڑا دیتے، مریض اپنا علاج تو کروا لیتے۔ انسانی تاریخ کی دوسری بد ترین بد عنوانی، جو وبا کے دنوں میں بھی شقی القلب ارباب بست و کشاد کر رہے ہیں۔ پہلی، دوران زلزلہ تھی۔ اب تک اربوں کی امداد آ چکی، لاکھوں پی پی ایز آ چکے، مگر میرے مشاہدے اور سروے کے مطابق، یہ سامان کہیں پر بھی نہیں موجود۔ میرے وہ دوست جو خود ڈاکٹر ہیں، اور

Read more

رمیش کی چپل

ابے کیا کر ریا یے یہاں کھڑا ہوکر، چل بھاگ یہاں سے اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا ورنہ ٹانگیں توڑ ڑالوں گا تیری سالے۔ ہری چند نے اپنی چپلوں کی دکان کے باہر کھڑے 9 سالہ رمیش کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ اب تو یہ روز کا معمول بن چکا تھا، رمیش صبح صبح دکان کے باہر آ کھڑا ہوتا اور جب تک ہری چند اسے وہاں سے دھتکار نہ دیتا، مجال ہے کہ رمیش کا ایک بھی

Read more

ابو کی یاد میں

21 مئی، 2012 کی شام کا ایک منظر مجھے کبھی نہیں بھول سکتا جب میں اپنے گاؤں سے ہری پور نوکری شروع کرنے کے لیے روانہ ہورہا تھا۔ ابو مجھے الوداع کہنے گھر کے باہر سڑک تک آئے۔ انھوں نے مجھے اپنے مخصوص انداز میں گرم جوشی سے گلے لگایا اور میں رکشہ میں بیٹھ گیا۔ مگر رکشہ کے چلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی وہ میرے پاس آئے اور ایک دفعہ پھر مجھے گلے سے لگالیا۔ اس دوران ان

Read more

ابن آدم پہ ہاتھ ذرا ہلکا رکھے

رب تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے بعد دو جنسوں کو بھی تخلیق کر دیا۔ ان کی تخلیق کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک روا رکھنا، دکھ درد بانٹنا اور ایک اچھا رفیق بننا تھا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد اور عورت انسانی زندگی کی گاڑی کے دوپہیے ہیں، کوئی بھی گاڑی ایک پہیہ سے مسافت طے نہیں کرسکتی۔ چنانچہ زندگی کے بناؤاوربگاڑمیں دونوں جنسوں کا برابر کاہاتھ ہوتاہے۔ مگر بد قسمتی سے صدیوں

Read more

بشریٰ اقبال ملک کا افسانوی مجموعہ: مجمعے کی دوسری عورت

بشری اقبال ملک کے پہلے افسانوی مجموعے ”حیات نو یافتہ“ کی اشاعت کے ایک لمبے عرصے کے بعد مصنفہ کا دلنشین سرورق کے ساتھ 28 افسانوں پر مشتمل مجموعہ ”مجمعے کی دوسری عورت“ پڑھنے کو ملا۔ مصنفہ نے اس مجموعے کے زیادہ تر افسانوں میں نہایت موثر انداز میں عورتوں کے حقوق کو سلب کرنے والے، مذہب کو سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرنے والے اور انسانوں کے انسانوں کو مختلف رنگ میں بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد کے

Read more

شرمسار باپ کا خواجہ سرا کو آخری پیغام

جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے گھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے۔ فلاں کے گھر بچہ ہوا ہے۔ کئی خوبصورت نام ڈھونڈنے کے بعد سب سے خوبصورت نام رکھا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا نام تو رکھا گیا پر عارضی کہا نام تو بڑے ہوتے ہی اس نے تبدیل کرلینا ہے میں وہ بچہ تھا جسے پیدا تو کیا گیا مگر اس کے آنے پہ خوشیاں نہیں منائی گئی پہلے تو میرے پیدا ہونے کو چھپایا گیا اور جب بات پھیلی تو لوگوں نے مبارک باد کی جگہ میرے گھر والوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

میرے پیدا ہوتے ہی گھر میں طوفان برپا ہوگیا۔ ابو نے تو اسی وقت کہا مار دو اسے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یوں زندگی میں درد برداشت کرنے کے کے لئے میں زندہ بچ گیا۔ میں وہ زندہ انسان تھا جسے نہ زندوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ مردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر شخص کو اللہ پیدا کرتا ہے اور کائنات کی ہر شے کو بنانے والا اللہ ہے تو پھر ہم جیسوں کو بنانے پہ اعتراض کیوں ہوتا ہے لوگوں کو؟

Read more

نواب رئیسانی اور بلوچستان کا ناکام مقدمہ

بلوچستان کی دھرتی کو ہم ماں سمجھتے اور ماں کہتے ہیں۔ ماں کی طرح اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اس کے ریگستانوں اور پہاڑوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر بسنے والی تمام ماؤں کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ ہر بیٹے کی طرح اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج یہ سسکیاں لے کر رو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مان ٹوٹ چکا ہے۔ اس پر بھروسا نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ بانجھ ہو چکی ہے۔ کیا اس دھرتی ماں نے کوئی ایسا سپوت نہیں جو اس کے حقوق کا دفاع کر سکے اس کا قرض لوٹا سکے۔ اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

Read more

سجدہ سہو

سعدیہ پانچوں نمازیں پڑھتی اور پانچوں وقت سجدہ سہو کرتی۔ انتہای توجہ سے نماز کا آغاز کرتی۔ رکوع سجود میں آہستگی برتتی، الگ الگ لفظ ادا کرتی مگر نہ جانے لڑی کہاں سے ٹوٹتی، موتی کدھر سے بکھرتے کہ آخیر تک پہنچتے پہنچتے گمشدہ ہو جاتی۔ کتنی رکعت ہو گییں اور کتنے سجود کچھ حساب نہ رہتا۔ فقط رہ جاتی اک نارسای۔ ایسی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو جوڑ لگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اس کے پاس، سجدہ سہو! تین

Read more

سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک

”سترہ سال کی عمر میں شکاگو میں ڈرگ سٹور پر ایک سامان پہنچانے والے لڑکے کے طور پر کام ایک بہترین نوکری تھی۔ کیونکہ اس کے ذریعے خودکشی کے لیے نیند کی گولیاں چرانا ممکن تھا۔“ منصوبہ بندی کے عین مطابق سڈنی نے گھر میں بیس گولیاں اور شراب اکٹھی کرلی کیونکہ نیند کی گولیاں اور شراب ایک مار دینے والا جوڑ ہیں۔ گھر کی تنہائی میں سڈنی جب منصوبے کی تکمیل کے لیے ہاتھ میں گولیاں لیے موت سے

Read more

عید کی آمد اور ایک غریب سے میری ملاقات

مجھے ایک غریب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم دونوں نے کافی طویل گفتگو کی اور باتوں باتوں میں مجھے ایک عجیب احساس ہوا جس کا میں لمبے عرصے سے متلاشی تھا۔ اس احساس نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میں سوچنے لگا یہ تو آسان سی باتیں ہیں پھر کیوں نہ ہم مل کر چار حروف والا یہ لفظ اپنی قومی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لئے تلف ہی کردیں۔ غریب کا حلیہ واقعی غریبوں والا تھا۔ میلے کچیلے

Read more

محبت کی شادی

سیانے کہتے ہیں کہ جن شادیوں سے پہلے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں وہ اکثر ناکام ہی ہوتی ہے، اس لئے اوقات سے بڑھ کر وعدے نہیں کرنا چاہیے، مثلاً لڑکے لڑکیوں پر اپنا رعب جمانے کے لئے وعدے کرتے ہیں کہ میری آمدن بہت ہے، تم کو سونے سے لاد دوں گا، بڑا گھر بنا کر دوں گا، بڑی گاڑی بھی دوں گا، نوکر چاکر تمہارے آگے پیچھے ہوں گے، امریکہ اور یورپ کے وزٹ ہوں گے وغیرہ

Read more

جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!

محترم شاہ نواز فاروقی۔۔۔ جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے افراد میں شمار ہوتے ہیں اور جماعت کے آرگن روزنامہ جسارت میں کالم لکھتے ہیں۔ ان سے میرا غائبانہ تعارف ہے اور میں ان کی مختلف وڈیوز دیکھتی رہتی ہوں اسی لئے مجھے ان کی فکر سے کچھ آگہی ہے بالخصوص ان کی سر سید احمد خان پر تنقید اورتحریک علی گڑھ کے منفی نتائج۔ موصوف کا ایک حالیہ کالم روزنامہ جسارت میں مورخہ17 مئی 2020ء کو شائع ہوا ہے (https://www.jasarat.com/2020/05/17/200517-03-7/)

Read more

اماں جس پر لکھتے لکھتے یہ دن آ گیا

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی صبح اگر پانی پت کا میدان گرم ہوتا تو شام کو ہم گھنٹے سے گھٹنا جوڑے اپنا ”کیتھارسس“ سیشن جاری کرتیں پھر دل کی چال چلتی اماں کو برین ہیمرج ہو گیا اور میں نے پورے پچیس دن ان کا

Read more

جندر: داستان گوئی کی تجدید

میں داستان گوئی کو متروک صنف سمجھ چکی تھی۔ مگر کبھی کبھی دل میں اُس کی یاد تازہ کرنے کے لئے ”ناپا “یا ”آرٹس کونسل“ میں داستان گوئی کے کسی پروگرام پر پہنچ جاتی جہاں سفید لبادوں میں ملبوس داستان گو اسٹیج پر بچھی چاندنی پر بیٹھ کر عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے بغیر ہی رٹی رٹائی داستان سناتے چلے جاتے تھے۔ یہ مُٹھی بھر لوگ تھے جو پاک و ہند میں داستان گوئی کے احیاءپر کام کر رہے

Read more

مئی میں "دسمبر کی رات” اور کتابوں کی چھانٹی کا غم

کتابوں کی چھانٹی اور انہیں لائبریری بدر کرنا میرے لیے ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسا نئی کتابوں کا آنا اور انہیں لائبریری میں سجانا۔ آجکل میں اسی عمل سے گزر رہا ہوں۔ چاہے کوئی عام سی کتاب ہو مجھے اس کو چھانٹی کا مال بناتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ کتاب دوست کی طرح ہوتی ہے اور اسے لائبریری سے رخصت کرتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے دوست کو رخصت کر رہے ہوں۔ میری عادت ہے کہ چھانٹی کے

Read more

میں (بھی) کرنل کی بیوی ہوں

‘میں کرنل کی بیوی ہوں’ نامی وائرل ہوتا وڈیو کلپ دیکھ کے دل اندر ہی اندر کلس رہا ہے۔ رہے نا ہم پھسڈی کے پھسڈی! مشہور ہونے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔ گھر میں ایک چھوڑ، تین تین کرنل موجود اور ہم اس طنطنے سے بات کرنا سیکھ ہی نہ سکے کہ آج ہماری بھی وڈیو وائرل ہوتی اور ہم لاکھوں سکرینز پہ جلوہ فگن ہوتے۔ اب دل چاہ رہا ہے کہ لہرا لہرا کے گائیں، میں کرنل کی

Read more

میں، وہ اور خدا

عمر رواں نے جب کھیل کود کی دہلیز پار کی تو رفتہ رفتہ ادراک ہوا کہ میں ایک نہیں بے شمار ہوں۔ اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو اپنی سمجھ، نا سمجھ کے مطابق نام دیے تو ایک سوال کا شدت سے سامنا کیا کہ میں کون ہوں؟ اور پھر اس سے وابستہ سوالات، کیوں ہوں؟ کب تک ہوں؟

عمر کے جوبن میں یہ سوالات مبہم ہو گئے۔ اور میں اپنی مجموعہ ذات میں بپا شور سے بظاہر بے نیاز زندگی کی رنگینیوں میں کھو گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زندگی میں ”وہ“ داخل ہوئے۔ ”وہ“ کون؟ وہ کبھی محبت کے روپ میں تو کبھی کسی خواب، مقصد، خواہش کے روپ میں۔ میں بھی ذات کی چکوری تھی مجھے چاند چاہیے تھا، محور، سکون اور تکمیل چاہیے تھی۔ چنانچہ میں محو طواف رہی۔ لیکن ایک طویل مستقل اور تھکا دینے والی لا حاصلیت، کرب کے لمحے بن کر میری روح میں رستی رہی، گھلتی ملتی رہی۔

Read more

ہیلن کیلر کا درد اور ہمارا معاشرہ

مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا ”انیسویں صدی کی دو سب سے دلچسپ ترین شخصیات نپولین اور ہیلن کیلر ہیں“ ۔ اس بات میں کوئی شک بھی نہیں کہ ہیلن کیلر اس صدی کی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر نارمل تھیں مگر انہیں ایک بیماری نے اس طرح پچھاڑا کہ صرف انیس ماہ کی عمر میں بہری، گونگی اور اندھی بنا دیا۔ ہیلن کیلر بالکل نابینا تھیں مگراس کے باوجود انہوں نے اتنی کتابیں پڑھ لیں جتنی بہت سارے آنکھوں والوں نے نہ پڑھی ہوں وہ بہری ہونے کے باوجود ان لوگوں سے زیادہ موسیقی سے لطف اندوز ہوتی جن کے کان بھلے چنگے تھے۔

Read more

ایک کالم عید کارڈ بھیجنے کا شرف حاصل کرنے والوں نام

صاحب! اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں نئے رشتے بنانے اور کچھ پانے کی اکساہٹ باقی نہیں رہتی، سو ہم پرانے اثاثوں اور ان سے وابستہ کہنہ سال یادوں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ برس ہا برس سے دل کی آرائش گاہ میں سجی مورتیاں ہمیں بے حد عزیز ہیں سو اکثر انہی مورتیوں کو چمکاتے اور یاد کارنس کی جھاڑ پونچھ کرتے رہتے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ابتلاء کے حالیہ دنوں میں ہمیں لگا کہ زیست کی رو میں بگٹٹ چلنے والے رخش عمر نے اچانک ہی بگ چال اختیار کر لی ہے۔ سمے تھم سا گیا ہے۔ یار خوش خصال محمد فراست اقبال کے ایک خوبصورت شعر نے در دل پر دستک دی ہے، آپ بھی سن لیجیے۔ ۔ ۔

Read more

محبت میں کامیاب ہوئے تو خاوند، ناکام ٹھہرے تو فلسفی

کم و بیش تین لاکھ سال پہلے ہمارے آبا و اجداد ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے انسانی سطح تک پہنچے۔ انسان، یعنی قدرت کا وہ شاہکار جس نے ثابت کیا کہ زمین پر اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے زور بازو لازم و ملزوم نہیں، یہی کام دماغ کے بہتر استعمال سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انسان کے اس وجود کا خاصہ ایک کمزور اور ناتواں جسم نہیں بلکہ تیزی سے ارتقائی عمل سے گزرتا دماغ تھا۔ اس دماغ نے جہاں اپنی ذہانت کے سر اس بات کو یقینی بنایا کہ انسان ہی اس دھرتی کا شہنشاہ و وارث کہلائے وہاں نسل انسانی کے لیے جوابات کی جستجو کی ایک لا محدود کہکشاں کو بھی جنم دیا۔ انسان خود کو دیکھتا، اپنے ماحول کو دیکھتا، اس کے ذہن میں سوال پنپتا، جواب کریدتا، جواب مزید سوالات کا سبب بنتا اور یوں ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

Read more

قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کو حاصل مالی وسائل میں کمی کی کوشش

پاکستان چار یونٹس پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے، یہ چار یونٹس سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا (کے پی کے) اور بلوچستان ہیں، جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کا قیام 1951 میں عمل میں لایا گیا اور پھر 1973 کے متفقہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت معاشی پروگرام کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق صدر مملکت پر لازم ہے کہ ہر پانچ سال گزرنے پر اگلے پانچ سال کی مدت کے لئے اگلے نئے این ایف سی کی تشکیل دے تاکہ تمام وفاقی یونٹس کی متفقہ رائے سے ایوارڈ منظور کیا جائے اور اگلے پانچ سالوں کے لئے نافذ کر دیا جائے۔

Read more

چنٹو میرا بچپن ساتھ لے گیا

اسی کی دہائی کے اولین سالوں میں جب پاکستان میں وی سی آر کی آمد ہوئی، ستر کی دہائی کی فلمیں بھی نئی ریلیز فلموں کی طرح دیکھی گئیں۔ وہ میرے بچپن کے دن تھے۔ ہندی فلموں میں امیتابھ بچن کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ امیتابھ کی اس دور کی فلمیں دیکھیں تو ان کی باڈی لینگویج سے صاف عیاں ہوتا ہے، کہ کوئی ان کے دائیں بائیں دور دور تلک نہیں ہے۔ جیتندر اور راجیش کھنہ اپنی آخری اننگز کھیل رہے تھے، متھن چکرورتی کسی ستارے کی طرح ابھرے، اور ڈوب بھی گئے۔ ونود کھنہ نے دوبارہ اینٹری دی، کمل ہاسن ایک منفرد اداکار کے طور پہ سامنے آئے، اور نو جوانوں میں پسند بھی کیے گئے، لیکن امیتابھ امیتابھ ہی تھے۔ ان چند ناموں میں رشی کپور کا تو کہیں ذکر ہی نہیں۔ حالاں کہ اس بیچ میں ان کی فلم ”پریم روگ“ سپر ہٹ فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

Read more

ووہان کا ڈاکٹر لیو اور آخری غروب آفتاب کا نسخہ

”ڈاکٹر، ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ اپنی زندگی کا۔ ۔ ۔ آخری۔ ۔ ۔ غروب آفتاب۔ ۔ ۔ دیکھنا۔ ۔ ۔ چاہتا ہوں۔“ ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ انھیں پورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی

Read more

نیویارک میں کورونا رات کو سوتا ہے

آج کل کرونا کی وبا کے دنوں میں جب مجھ سمیت سبھی اپنے آپ کو گھروں میں قید کیے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں، میں رات دیر گئے سیر کے لیے باہر نکلتا ہوں۔ اس گمان کے ساتھ کہ کرونا تو دن کے وقت ہوتا ہے۔ رات کو تو وہ آرام کرتا ہے اور خوب نیند پوری کرتا ہے۔ اس لیے رات کو مجھے کچھ نہیں کہے گا۔ نیویارک میں آج کل رات کے وقت ہوا میں قدرے خنکی ہوتی ہے۔

Read more

یادیں سفر حجاز کی (قسط 3 )

مسجد نبوی ﷺ کی رونق نرالی ہے۔ نماز کے اوقات میں عجیب سماں بندھتا ہے۔ موذن کی پکار سنتے ہی خرید و فروخت معطل ہوجاتی ہے۔ خواتین، مرد، بوڑھے، بچے، جوان، تیز تیز قدم اٹھاتے مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ صفیں بندھتی ہیں۔ باجماعت نماز ادا ہوتی ہے۔ جسے جہاں جگہ ملتی ہے، وہیں سما جاتا ہے۔ کہیں صحن میں بچھے قالین پر، کہیں ننگے فرش پر سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ تاخیر ہو جائے تو مسجد کا دروازہ عبور

Read more

درویش کی کٹیا اور ایک درویشنی

جب اپنے اور پرائے، دوست اور رشتہ دار، درویش سے پوچھتے ہیں کہ کرونا کی وبا میں اس کا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے کہ درویش اپنی کٹیا میں اکیلا رہتا ہے۔ وہ تنہا ہونے کے باوجود احساس تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ وہ اپنا بہت اچھا دوست ہے اس لیے اپنی صحبت سے محظوظ ہوتا ہے۔ وہ پہلے بھی امن اور آشتی سے رہتا تھا اور کرونا وبا کے دوران بھی شانتی اور سکون سے زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اب زیادہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی اور پکی سہیلیاں ہیں۔

ایک دوپہر درویش کی کٹیا میں اس سے ملنے ایک درویشنی چلی آئی اور اپنے ساتھ اپنے ہاتھ کا پکا ہوا لذیذ کھانا بھی لائی۔ کھانے کے بعد جب درویش میز سے پلیٹیں اٹھا رہا تھا تو درویشنی نے درویش سے کہا

Read more

ٹوکیو کے چھوٹے کیفے میں محبت کی آنچ پر پکا شوارمہ

جاپانی رسم الخط میں لکھے تمام بورڈز میں واحد اس دوکان کا بورڈ تھا جو انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ کاماکورا کا عظیم بدھا دیکھنے کے بعد شکم کےاحتجاج پہ ہم اس دکان کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے جہاں کچھ گھنٹے قبل شوارمہ کی خوشبو نے ڈاکٹر فرح کے پاؤں میں بیڑی ڈالنے کی کوشش کی تھی! ہم دونوں اندر داخل ہوئے تو ایک زوردار آواز میں اسلام علیکم نے ہمارا استقبال کیا، ہم تو جیسے اچھل ہی

Read more

حقیقت پہ مبنی حلیمہ کی کہانی

حلیمہ تین بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور اپنے ایک بھائی سے چھوٹی اور دو بھائیوں سے بڑی تھی۔ حلیمہ اور اس کے بڑے بھائی کو اس کی خالہ نے پالا پوسہ جنہوں نے اپنی زندگی اپنے بہن بھائیوں پر شادی نہ کر کے قربان کی، کیونکہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ جب حلیمہ کی سب سے چھوٹی خالہ صرف چھ ماہ کی تھی۔

حلیمہ کی خالہ (صغراں ) جنہوں نے ان دونوں بہن بھائی کو ماں بن کر پالا تھا بہت نیک اور باہمت خاتون تھی۔ اپنے بہن بھائیوں کی شادی کرنے کے بعد صغراں نے ان دونوں بچوں کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کی اور پڑھایا لکھایا۔ حلیمہ اور اس کا بھائی اپنی خالہ کو اماں کہ کر پکارتے، نہ صرف حلیمہ اور اس کا بھائی بلکہ صغراں کے اپنے بہن بھائی بھی انہیں اماں کہتے تھے کیونکہ انہوں نے سب کو ماں بن کے پالا تھا۔

حلیمہ بڑی ہو رہی تھی وہ اپنی اماں کی سب سے لاڈلی تھی اس کی اماں نے اسے پھولوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔

Read more

’اب ترک ہمیں بتائیں گے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون دشمن؟‘

اگر ہماری طرح ہی آپ بھی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ہر طرف کورونا وائرس کی خبریں اور ٹرینڈ دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں تو آئیں آپ کی توجہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی کسی اور طرف لے چلتے ہیں۔ کہاں؟ متحدہ عرب امارات! کیوں؟ آگے پڑھیے تو! ویسے تو پچھلے کچھ عرصے میں متحدہ عرب امارات انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر متعدد بار اہم موضوع بحث بنا ہے۔ انڈیا میں

Read more

چالیس روزے، کوہ طور اور تجلی

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے ہم پر فرض ہیں۔ ہم پر آسانی یہ ہے کہ ہمیں سحری اور افطاری کی برکات سے نوازا گیا ہے۔ سحری میں بھی روٹی/پراٹھا، سالن/دہی، دودھ/لسی وغیرہ اور افطاری میں بھی کھجور، مختلف اقسام کے فروٹ، میٹھے جوس یا شربت اور دیگر کھانے کی ڈشیں پیٹ بھر کر کھاتے۔ پچھلی امتوں کے لوگ جب روزہ رکھتے تھے وہ بہت طویل ہوتا تھا۔ اس میں ایک دن اور ایک رات میں صرف ایک مرتبہ ہی کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا۔

Read more

قاضی علی، کولاج اور کتاب کی افادیت

ہمیں بہت سی کتابیں تحفتہً ملتی ہیں۔ جنہیں ہم، کبھی پڑھ کر اور کبھی پڑھے بغیر، ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کتابیں الماریوں میں پڑی رہتی ہیں اور ہم انہیں بھول جاتے ہیں۔ اور پھر برسوں گزر جانے کے بعد الماریوں کی صفائی یا کیڑے مار دوائیوں کا اسپرے یا کتابوں کی چھانٹی کرتے ہوئے کہ نئی کتابوں کی جگہ بن سکے، کچھ کتابیں پھر سے ہمارے سامنے آ جاتی ہیں اور ہم انہیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے

Read more

نیویارک میں میرے چینی مسافر اور کرونا کا خوف

آج سے دو ماہ قبل 13 مارچ کا دن تھا اور وقت تھا رات دس بجے کا، جب اوبر کے ساتھ کام کے دوران میں نے ایک پسنجر کو نیویارک کے جے ایف کے ائرپورٹ کے ٹرمینل فور پر ڈراپ کیا۔ کہانی آگے بڑھانے سے پہلے ذرا ان دنوں کے ایمرجنسی حالات کی تھوڑی سی بیک گراؤنڈ بیان ہو جائے۔

یہ وہی دن تھے جب چین اور اٹلی میں تباہی پھیلانے کے بعد امریکہ میں کرونا وائرس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ تاہم ابھی تک نیویارک سمیت دیگر ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور دیگر حفاظتی پابندیاں شروع نہیں ہوئیں تھیں۔

Read more

کرونا کو بھلاتے ہوئے ہماری عید کی تیاریاں

اس ملک کے شریفوں اور زرداریوں کی جانب سے مبینہ طور پر فراہم کردہ ”لفافوں“ کی بنیاد پر چلائی ”بکاؤ صحافت“ کو تحریک انصاف کے حق گو نوجوانوں نے برسوں کی لگن سے بالآخر بے نقاب کر دیا۔ یہ حقیقت مگر اپنی جگہ برقرار رہی کہ خلق خدا کی خاطر خواہ تعداد کو ”خبر“ نامی شے کی طلب ہوتی ہے۔ اس طلب کی تسکین بھی ضروری ہے۔

2002 سے ہماری ٹی وی سکرینوں پر چھائے اینکر خواتین وحضرات مگر اپنی کشش کھوبیٹھے ہیں۔ ٹاک شوز کی ریٹنگ تیزی سے گرنے لگی ہے۔ ان میں سے چند بدنصیب اپنے اداروں کے لئے کماؤپوت ثابت ہونے کے بجائے معاشی بوجھ میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اپنی بقاء کے لئے مختلف چینلوں کو انہیں فارغ کرنا پڑا۔ مجھ جیسے ڈھیٹ پرنٹ صحافت میں واپس آگئے۔ کیمرے کے ذریعے لوگوں سے گفتگو کرنے کے ہنر سے مالا مال ساتھیوں نے مگر یوٹیوب کی بدولت اپنے مداحین سے رابطہ برقرار رکھا۔ تحریک انصاف کی انقلابی سوچ کو فروغ دینے والوں کو ان کی ڈھٹائی نے نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔

Read more

متشدد ساتھی اور سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا شکار کی نفسیات

انسانی نفسیات کا یہ حیران کن پہلو بیسویں صدی کے دوسرے نصف تک قریب قریب غیردریافت شدہ حقیقت تھا کہ ظلم، تشدد اور انتہائی ناانصافی کا شکار ہونے والا فرد خود پر ظلم کرنے والے فرد سے محبت کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو ظلم سمجھنے سے بھی قاصر ہو سکتا ہے۔ درحقیقت سٹاک ہوم سنڈروم کی اصطلاح 1973 میں وضع کی گئی جب سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ایک بینک ڈکیتی کے

Read more

سوال کا رشتہ

ارتقائی عمل میں جب کے بہت سے دیوہیکل جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے اور دیگر حشرات و مخلوقات جو فطرت میں ہونے والی جان لیوا تبدیلیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور وقت کے ساتھ ساتھ فنا ہو گئے مگر حضرت انسان نے تمام فطری خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا اور زندہ رہا۔

Read more

زکوٰۃ صدقہ اور فطرہ۔ علماء کنفیوژن ختم کیوں نہیں کرتے؟

زکوٰۃ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر مسلمان صاحب نصاب پر زکوٰۃ فرض کیا ہے قرآن مجید میں بیشتر مقامات پر صلوة (نماز) کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا ہے اقیموا الصلوٰۃ و آتوا الزکوٰۃ اس سے بھی زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اسلامی ریاست میں زکوٰۃ ریاست کا معاملہ ہوا کرتا تھا اور ریاست کو ضرورت کے تحت اسے بالجبر وصول بلکہ کسی گروہ کے زکوٰۃ دینے سے انکار پر جنگ کا اعلان بھی کرنا پڑا اس لئے کہ زکوٰۃ کا منظم اور ریگولر آمدنی ریونیو سے مستحقین زکوٰۃ کی اعانت باسہولت کی جا سکتی تھی۔

Read more

کہانی: روزہ

بانو بار بار دروازے کی طرف نگاہ اٹھاتی اور مایوس ہو کر دوبارہ واپس گھر میں موجود واحد چارپائی پر جا بیٹھتی۔ اس گھر کے صرف 3 مکین تھے، بانو، چارپائی، اور اختر۔ جو دن رات اس چارپائی پر پڑا اپنی بیوی بانو کو دیکھتا رہتا۔ اختر کی آنکھوں میں ایک بے بسی سی رچ بس گئی تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نا کر پاتا۔ معذوری ہی کچھ ایسی تھی کے وہ اپنا جسم بھی خود سے نا ہلا پاتا۔ اور اب تو ویسے بھی 80 برس کا ہو چلا تھا اوپر سے بیماری۔

Read more

ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آواز نے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا دیا۔ چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور تبحر عمیق سے پھوٹتے اعتراف

Read more

عنبرین کوثر اور خالد سہیل کے محبت نامے

میری جان میرے پیارے بھائی جان! آپ ہمیشہ خوش رہیں 25 مارچ 2020 کے انتظار میں ارشاد صاحب، میں اور میری نواسی نیہا، جو اب ہمارے ساتھ ہی رہتی ہے، خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے کیونکہ اس دن آپ کو کینیڈا سے پاکستان پہنچنا تھا۔ میں اور نیہا آپ کے لیے آپ کے پسندیدہ کھانوں کی لسٹ بنا رہے تھے۔ چونکہ 24 مارچ کو ہماری بیٹی وردہ کی سالگرہ ہوتی ہے تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ

Read more

فلموں اور گیتوں میں عید کا دن

ایک زمانہ تھا جب ملک میں فلمساز، اسٹوڈیو مالکان اور تقسیم کار، سنیما مالکان سے پیشگی معاملات طے کر کے اپنی فلموں کو عید کے موقع پر نمائش کے لئے پیش کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ عید پر لگنے والی بیشتر فلمیں بہت عمدہ بزنس کرتی تھیں لیکن میں نے عید پر فلمیں ناکام ہوتے ہوئے بھی دیکھیں جو ایک ہفتہ بھی مکمل نہ کر سکیں۔ شاید نیک شگون کے لئے نئی فلمیں جمعہ کے روز سنیماؤں کی زینت بنا

Read more

احمد فراز کی یاد میں

پچھلے دنوں معروف صحافی اور کالم نگار جناب مسعود اشعر نے اپنے کالم میں معروف شاعر احمد فراز کے صاحب زادے شبلی فراز کے وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے پر احمد فراز کی سیاسی وابستگیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ فراز تو خان عبدالولی خان کی سیاسی جماعت اے این پی میں شامل رہے مگر ان کے صاحب زادے نے ان کے نظریات کے برعکس تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ اس کا جواب ایک اور معروف صحافی اور

Read more

گھر میں قید بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟

انسان ایک ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے جس میں تقریباً ہر کام مشینی انداز میں کیا جارہاہے ۔ٹیکنالوجی سے ہم اپنی جان چھڑا نہیں پارہے ۔انسانی جذبات بھی کافی حد تک میکانکی ہوچکے ہیں۔ مگر خوش قسمتی سے ایک جذبہ ابھی بھی سادگی سے لبریز ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے کبھی بہت خلوص کی مثال دینی ہوتوہم کہتے ہیں کہ اب ”پرانے دور والی باتیں نہیں رہیں“۔ مگر یہ جذبہ بالکل ویسے ہی تروتازہ ہے جیسے دنیا

Read more

حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

یہ سنہ ہے 1603 اور منظر ہے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے اقتدار کے پہلے سال میں ترک شاہی حرم کا!
یونان کے گاؤں سے سلطان کے لیے تحفے کے طور پر اغوا کر کے لائی گئی ایک دبلی پتلی سی لڑکی نئے سلطان کی دادی صفیہ سلطان کے قدموں میں گر کر گھر واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔

صفیہ سلطان اسے بتاتی ہیں کہ اب یہ ناممکن ہے اور پھر پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مشورہ دیتی ہیں۔ ’دیکھو بیٹی،ایک عورت کو اپنی زندگی میں کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایک مختلف انسان ہوتی ہے۔ ایک بچی، ایک عورت، ایک ماں، اور، اگر وہ سمجھدار ہے اور اس پر خدا کی مہربانی ہے تو وہ سلطانہ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کیا انتخاب کرتی ہے۔‘

پھر صفیہ سلطان اپنی بات ختم کرتے ہوئے انستاسیا نامی اس لڑکی سے کہتی ہیں کہ ’اطمینان رکھو، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے۔‘

یہ تو تھا انستاسیا کی زندگی پر بنی ترک ٹی وی سیریز کوسم سلطان کا ایک منظر۔ اب سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں سے اغوا ہو کر اور غلام بن کر شاہی حرم میں پہنچنے والی کچھ لڑکیوں کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن کا بعد میں شمار اپنے دور کی طاقتور ترین عالمی شخیصات میں ہوا۔

Read more

مذہب،معاشیات اور علم

تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معاشرے اور مذہب کی بنیاد کا اندازہ ہوتا ہے۔ معاشرہ اور مذہب ہمیشہ بنی نوع انسان کی ضروریات کے مطابق تبدیل ہوتے رہے۔ معاشرہ انسان کی ضرورت اور مذہب انسان کی مجبوری بنتا رہا۔ سوشل کنٹریکٹ ضرورت تھی تو خدا کے وجود کی تلاش اس سوشل کنٹریکٹ کو مضبوط کرنے کے لیے مجبوری۔ ان تمام ضروریات اور مجبوریوں کا ذکر ’تھامس ہابز‘ اور ’جان لاک‘ جسے بہت سے دانشوروں نے اپنے اپنے انداز میں

Read more

ٹوکیو کا ہاچیکو نامی کتا اور مقامی غار کے سگان آستاں

سیکوسن نے اچانک کہا کہ اگلے سٹیشن کی بجائے ہم شبوئیا سٹیشن پر اتر جاتے ہیں میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ٹوکیو کا یہ بھی ایک اہم زیر زمین سٹیشن ہے میں آپ کو ایک یادگار چیز دکھانا چاہتی ہوں ہم اتر پڑے۔ سٹیشن پر خوب چہل پہل تھی چلتے چلتے ہم ایسی جگہ پہنچے جہاں کافی رش تھا سامنے ایک کتے کا مجسمہ تھا جس کے گرد سیاحوں اور مقامی نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ہجوم تھا کتے

Read more

’میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا‘

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

Read more

اللہ ان سے زمین بھر دے

تین مارچ 1974، شام سات بجے ”یہ ریڈیو پاکستان ہے! ۔ ۔ ۔ ۔ سے خبریں سنیں آج ترکش ائر لائنز کا ڈی سی 10 جہاز فرانس میں پرواز کے فوری بعد کریش کر گیا جس میں سوار عملے کے گیارہ ارکان سمیت تمام کے تمام تین سو چھیالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ بدقسمت جہاز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دریائے سوات شرقاً غرباً بہتا ہوا مالاکنڈ ایجنسی (اب ضلع مالاکنڈ)

Read more

میرے لاڈلے بلے کی کہانی میری زبانی

ہمارے ہاں مڈل کلاس گھرانوں میں گھر پر پالتو جانور رکھنا ایک ٹیبو ہے۔ بالخصوص کتے یا بلی کو رکھنا تو بالکل قابل قبول نہیں کہ اس حوالے سے خود ساختہ مذہبی توجیہات اور دیگر توہمات کی بھرمار ہے۔ زیادہ سے زیادہ طوطے رکھ لیتا ہے کوئی۔ ہمارے گھر میں بھی کوئی دس سال سے ایک طوطا موجود ہے جو ہمارا چھٹا فیملی ممبر ہے۔ ہم اسی طوطے کو بطور پالتو جانور رکھ کر خوش تھے۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ کبھی کوئی اور پالتو جانور ہمارے گھر یا دل میں جگہ بنا سکتا ہے مگر قدرت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ اس نے ہمیں ایک سرپرائز دینے کا فیصلہ کر لیا۔

Read more

جہنم سے آزادی۔ ۔ ۔

عالمی وبا کووڈ۔ 19 کے غم ناک ماحول میں نیکیوں کا موسم بہار رمضان المبارک اپنے جوبن پر آیا چاہتا ہے۔ اس ماہ مبارک کا پہلا حصہ رحمت دوسرا مغفرت کے بعد اب آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللٰہﷺ کا حال یہ تھا کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو راتوں کو زیادہ سے زیادہ جاگ کر عبادت کرتے اور اپنی بیویوں کو جگاتے (کہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ جگ کر عبادت کریں ) اور اللہ کی عبادت کے لیے کمر کس لیتے (یعنی پورے جوش و یکسوئی کے ساتھ عبادت میں لگ جاتے ) ۔ اس کی وجہ اس عشرے میں رکھی گئی وہ بیش قیمت رات ”شب قدر“ ہے۔ جس میں ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت کے خزانے لٹائے جاتے ہیں۔ اس رات میں رب کریم نے اپنی سب سے بڑی رحمت اپنے بندوں کے لیے نازل فرمائی۔ ”ہم نے اس کتاب مبین کو برکت والی رات میں اتارا“ (الدخان، 3 : 44 )

فرمایا گیا : ”ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔ اور تم کیا جانو، شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے

Read more

رمضان کا الوداعی پیغام

مسلمانو! میں جا رہا ہوں۔ نوجوانو! میں جا رہا ہوں۔ کیا پتہ پھر تمہیں میری رفاقت نصیب ہو نہ ہو۔ آؤ! اس سے پہلے کہ میں تم سے بچھڑ جاؤں۔ مجھے گلے سے لگا لو۔ میرے فیوض و برکات سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ دیکھو! اللہ کے صالح اور نیک بندے، عابد و زاہد بندے اپنی صالحیت کے باوجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں۔ آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں۔

اللہ سے رحمت و مغفرت کی، اس کے جود و سخا کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھو۔ انبیاء، رسل، صحابہ کرام، اولیاء اللہ جن کی صالحیت کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، اعمال صالحہ کی کثرت کے باوجود اللہ سے رو رو کر اس کی رحمت طلب کرتے تھے۔ کیا تمہارے اعمال ان پاک نفوس سے بھی تجاوز کر چکے ہیں کہ تمہیں اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر نہیں ؟

Read more

شاہد آفریدی پر بلاوجہ تنقید

تنقید اچھے اور برے میں فرق کرنے کا نام ہے، ہر انسان میں کسی نہ کسی شکل میں تنقیدی شعور پایا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ تنقید کے بغیر انسان آگے کا سفر جاری نہیں رکھ سکتا، زندہ معاشروں کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہاں تنقید کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ایک انسان کی زندگی میں اصلاح کی گنجائش ہر قدم پر موجود رہتی ہے۔

Read more

قومی مفاد اور پاکستان؟

جب ہم قومی مفاد کے کتانچے میں نظر دوڑاتے ہیں تو بھت سے حالات ’واقعات اور حقیقتوں سے روشناس ہوتے ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل پانچ قابل غور و فکر ہیں۔ یہ قومی مفاد میں تھا کہ۔ ۔ ۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان جن کو سید اکبر نامی شخص نے ہزاروں افراد کے سامنے گولی مار کر قتل کیا مگر بدقسمتی سے قتل کے محرکات پاکستانی قوم آج تک نہیں جانسکی۔ حالانکہ جس نے گولی چلائی

Read more

ارطغرل غازی

ترکی کے عالمی شہرت یافتہ ڈرامے ارطغرل غازی کا ذکر میں ایک عرصہ سے سن رہی تھی مگر کبھی اس میں خاص دلچسپی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یکم رمضان المبارک سے پی ٹی وی ہوم پر وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر یہ ڈرامہ اردو زبان میں نشر کیا جا رہا ہے اس سے قبل اپنے قائد و مرشد طاہرالقادری صاحب کا ارطغرل غازی کے بارے بیان سنا کہ وہ کون تھے اور تاریخ میں ان کا کیا کردار

Read more

ہندو پاک: اب جنگ قبول نہیں

ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔ 26 / 11 حادثہ کے بعد ہندستان میں جو کشیدگی اور غم وغصہ کی فضا پیدا ہوئی، اس نے دوستی اور محبت کے تمام رنگوں کو فراموش کر دیا۔ ایک حقیقت اور بھی ہے کہ پاکستان سے دوستی رکھنے والی نسل اب یا تو نہیں ہے، یا اگر ہے تو وہ اتنی بوڑھی ہوچکی ہے کہ سرحدوں کی دشمنی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بعد کی نسلیں ہیں، انہوں

Read more

مہدی حسن سے 21 برس پرانی ایک یادگار ملاقات

1996 ء میں شہنشاہ غزل، مہدی حسن پر ہونے والے فالج کے پہلے اٹیک کے بعد وہ عملاً گانے سے دور چلے گئے اور آج سے 8 برس قبل 13 جون 2012 ء کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ گو کہ فالج کے اس پہلے اٹیک کے بعد ان کی اکا دکا غزلیں ریکارڈ کی گئیں، مگر ان کی موسیقی کی دنیا کے لیے جتنی بھی خدمات تھیں، وہ اس سے پہلے ہی انجام دی جا چکیں۔

Read more

ارطغرل سے عقیدت اور عثمانی سلطنت کا دوسرا چہرہ

برصغیر میں ترک ڈرامے ارطغرل کی مقبولیت دیکھ کر یاد آیا کہ عثمانی سلطنت سے ہماری محبت کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔ اس سلطنت (جسے خلافت بھی کہا جاتا ہے ) کو بچائے رکھنے کی کوشش میں اپنے کئی بزرگوں نے خوب جان کھپائی ہے۔ جس وقت ہم پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور عوام میں آزادی کے لئے زبردست اضطراب تھا اس وقت مسلمانوں کی قیادت کا ایک حصہ اسی سلطنت عثمانیہ کی فکر میں گھلا جا رہا تھا۔

Read more

آسٹریلیا والی لڑکی کی کہانی

صبا سے ملاقات سڈنی آسٹریلیا میں ہوئی۔ ہم ایک پارٹی میں مدعو تھے۔ میرے پاس کی کرسی پر ایک نہایت خوش اخلاق خاتون تھیں۔ دھیرے سے میرے کان میں بولیں” میں بن بلائی مہمان ہوں” پھر کھلکھلا کر ہنسی۔ ” میں صبا ہوں۔ میلبورن میں رہتی ہوں۔ سڈنی ایک کام سے آئی تھی۔ میری دوست مدعو تھی زبردستی مجھے ساتھ لے آئی”۔ اس کی چنچلتا، حاضر جوابی اور خوش اخلاقی نے بہت متاثر کیا۔ ہم نے بھی اپنا تعارف کرایا۔

Read more

کرونا وائرس سے نبر آزما، خطۂ کشمیر کی پر کیف فضا

وبا کے دنوں میں دن میں کم از کم ایک بار کرونا وائرس کے متاثرین کے اعداد و شمار پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے متاثرین کی تعداد مغربی ممالک کے تناسب سے تشویشناک نہیں ہے۔ اندرون ملک نظر دوڑائیں تو حکومت پاکستان کی محکمہ صحت کی ہیلپ لائن کی ویب سائٹ پر کرونا سے متاثرین کی سب سے کم تعداد آزاد کشمیر میں ہے چونکہ لمحۂ موجود تک تو وائرس کے خلاف جنگ قوت مدافعت ہی سے لڑی جا رہی ہے، اس کی ایک وجہ ریاست آزاد کشمیر کے باسیوں کی قوت مدافعت ہو سکتی ہے۔ میری ناقص رائے میں فطرت سے قریب اور قدرتی و سادہ خوراک سے نمو پذیر مشقت انگیز زندگی اپنے اندر بے پناہ قوت مدافعت رکھتی ہوگی۔

یہ سوچتے ہوئے میں یادوں کے دریچوں میں کھو جاتا ہوں اور خطہ کشمیر میں گزرے اپنے بچپن کے دن یاد کرتا ہوں۔

یہ صرف چالیس پینتالیس سال ادھر کی بات ہے۔ ہمارا متوسط طبقے کا خاندان آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی کا رہائشی ہے۔ کشمیر کے دشوار گزار اور دور دراز پہاڑی علاقے میں چاروں طرف سے سر سبز پہاڑی سلسلے میں گھری، تیس میل لمبی اور دس میل چوڑی وادیٔ سماہنی لائن آف کنٹرول پر واقع ہے۔ پہاڑوں کے بیچ سے پھوٹتے چشموں اور برساتی نالوں کی ڈھلوانوں میں بہتے صاف و شفاف پانیوں کی منزل وادی ٔ کے درمیان بہتی واحد ندی ہے۔

Read more