قوم کی ترقی اور عورتوں کی تعلیم پر منحصر

تمام مذاہب نے عورتوں کو ایک الگ اہمیت دی ہے لیکن جو اہمیت اسلام نے دی ہے وہ سب سے جدا ہے وہ عورت جس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ آج اسی جنت کو اس سماج نے بہت بری طرح روندا اور کچلا ہے، آج عورتوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے کامیابی کے لئے امیری، غریبی معنی نہیں رکھتی ہے پختہ ارادہ اور مقصد اہم ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ

Read more

گمان

کشتی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ بوڑھا ملاح اپنے کم سن پوتے کے ساتھ جانب منزل تھا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ بوڑھے ملاح نے فکر مندی سے غروب ہوتے سورج کو دیکھا، سفر کافی زیادہ تھا لیکن اس کے ناتواں بازوؤں میں اتنا طاقت نہ تھی کہ کشتی کی رفتار بڑھا سکے۔ بچہ گہری نیند کی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ سمندر کے درمیان ایک چھوٹے بچے کا ساتھ اور طوفان کے بارے میں

Read more

اسلامی جمہوریہ کا جمہوری تشخص خطرے میں

قیام پاکستان کے بعد سے ہی جمہوریت کو وطن عزیز میں بحال رکھ پانا جوش شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔ قائد کی بہت جلد وفات نے نوزائیدہ ریاست کو سنبھلنے اور ریاست میں جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع ہی نہ دیا جبکہ دوسری طرف بھارت میں جواہر لال نہرو کا آزادی کے بعد بہت لمبے عرصے تک اقتدار میں بنے رہنا بھارت کے جمہوری مستقبل کو بہت طاقتور بنا گیا۔ ابھی پاکستان قائد کی اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے صدمے سے باہر ہی نکلا تھا کہ ملک میں آئینی بحران کھڑا ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر وزیراعظم بدلے جانے لگے تو ہمسایہ ملک کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے طنزیہ کہا
”میں تو اتنی دفعہ لنگی نہیں بدلتا جتنی دفعہ پاکستان کے وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں“

Read more

بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد

Read more

اولاد بدچلن ہو تو عاق اور والدین بد چلن ہوں تو؟

بسمہ اور رافیعہ تھوڑی دیر اسی مسئلے پہ بات کرتی رہیں، پھر بسمہ اوپر کمرے میں آ گئی۔ آتے ہی کمرے کی کنڈی لگادی اور لیٹ گئی۔ اسے اتنی تھکن محسوس ہو رہی تھی جیسے سارا دن مشقت کی ہو۔ عجیب سا احساس تھا ڈر بھی کہ وہ بالکل اکیلی ہے اور سکون بھی کہ شاید ایک رات تو تکلیف نہیں سہنی پڑے گی۔ اس کے دماغ میں خیالات کی جنگ سی جاری تھی۔ ایک طرف نازیہ تھی جو ہر

Read more

”پب جی“ گیم اور پنکھے سے جھولتی لاشیں

”مار دو، مار دو، دھماکہ کر دو“ بیٹے کے کمرے میں سے اچانک ان جملوں کے ساتھ اونچی آوازیں سنیں تو ماں باپ پریشانی میں مبتلا اس کی طرف دوڑے، جاکردیکھا تو ان کابیٹا موبائل پر ”پب جی“ گیم کھیل رہا تھا، وہ ہینڈ فری لگائے جذباتی انداز میں اپنے دوستوں کو ہدایت دے رہا تھا ”مار دو، مار دو، دھماکہ کر دو“ ، گیم کھیلنے میں وہ اس قدر مگن تھا کہ اسے اس بات ذرہ برابر احساس نہ

Read more

بچوں کے حقوق

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہوتے ہیں جو بڑے ہو کر ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بچوں کے حقوق اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ بڑے ہو کر اچھا شہری بننے کے ساتھ ساتھ عائلی زندگی سے لے کر ملک و قوم کی قیادت تک بہترین منتظم ثابت ہوں اور زندگی کے ہر شعبہ میں کارہائے نمایاں سرانجام دے کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

اسی لیے اسلام نے بھی آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے نہ صرف بچے کی پیدائش بلکہ ماں کے پیٹ میں جنین کے لیے بھی حقوق کا تعین کیا اور انہی حقوق کے تحت اسے سب سے بڑھ کر زندگی اور پھر وراثت و نفقہ کا حق دیا اسی طرح آج کی دنیا بھی بچوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے اقوام عالم میں بین الاقوامی سطح پر اور مختلف ممالک میں اپنے اپنے طور پر بچوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے اقوام متحدہ سمیت بڑے بڑے عالمی سماجی ادارے اس پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔

Read more

خالد محمود اور شعر زمین

خالد محمود ہمارے سرونج کے وہ گل سرسبد ہیں جن کی دلکشی اور مہک پوری اردو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بحیثیت صدر شعبۂ اردو سبک دوش ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مکتبہ جامعہ کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے، دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئر مین رہے اور آج بھی بہت سے ادبی اور سماجی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان کی اب تک تقریباً دو درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔

Read more

عوام جاہل اور نمائندے متجاہل ہیں

میرا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے دور افتادہ علاقہ سرن ویلی (جو کوہ موسیٰ کا مصلیٰ کے دامن میں واقع ہے ) سے ہے۔ ہمارے ہاں پسماندگی کی انتہا ہے۔ مگر سیاسی عمل دخل میں ہمارے علاقے کا بچہ بچہ متحرک رہتا ہے۔ اپنے علاقے کے لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کی اصلاح کے لئے میں اپنا فیسبک اکاؤنٹ استعمال کرتا ہوں، اور مشاہدہ کے مطابق ان معاملات کی وضاحت کی کوشش کرنا میرا مشغلہ ہے جن معاملات کو عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن پورے معاشرے کے بدلے اذہان اور بگڑے نظریات کو سنوارنا مجھ اکیلے کے بس کی بات نہیں ہے۔

Read more

کورونا زدہ لاشیں بیچ کر ڈالر کمانے والے ڈاکٹر

مقامی ایم این اے جو دل کے نیک اور کردار کے شریف النفس انسان تھے، بوڑھی عورت کے ہمراہ مقامی اسپتال کے ڈاکٹر کے گھر پہنچے۔ ڈاکٹر، ایم این اے صاحب اور لوگوں کے مشتعل ہجوم کو دیکھ کر گھبرا سے گئے۔ ایسے میں ڈاکٹر کی بیگم صاحبہ باہر تشریف لائیں۔ ان کو الہام ہو چکا تھا کہ انصاف مانگتے عوام حکومت کے نمائندہ کے ہمراہ ان کی چوکھٹ پر کس مقصد سے آئے تھے۔ بیگم صاحبہ کا ضمیر پہلے

Read more

رسول گلوان : بھارتی سرحد کا پسماندہ محافظ

بھارت اور چین کے سرحدی تنازعہ کے درمیان ایک پسماندہ شخصیت مرکزی کردار کی شکل میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔ جن کے نام پر بحث کا موضوع بنے وادی کا نام گلوان وادی پڑا۔ واقع یہ ہے کہ ایک بار ایک کھوجی۔ مسافر لہہ کے علاقہ میں پھنس گیا تہا۔ اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا، ایسی صورتحال میں، رسول گلوان نامی ایک چھوٹے لڑکے (جس کی عمر تقریباً 14 سال رہی ہوگی) نے

Read more

وعدہ حور پر بہلائے ہوئے پاکستانی

احباب کو یاد ہوگا ڈیڑھ سال پہلے میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی ”مجھے ہے حکم اذاں“ ۔ مربی اعجاز حسن صاحب کا اصرار تھا کہ خان کو ایک سال کا وقت تو دیں، پھر کچھ نہ کریں تو بھلے تنقید کرنا، علی اظہر صاحب بھی ایسی نصیحت فرماتے تھے، انکل غفور کا حکم تھا کہ چھ ماہ تک مثبت رپورٹ کریں، حالات بہت بدل جائیں گا، ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ان سب کے مشوروں اور حکم پر میں

Read more

الفاظ مار ڈالتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ میری پرسنالٹی بور ہے۔ میں زیادہ دوست نہیں بنا سکا۔ صرف دو ہی دوست ہیں۔ یہ فقرے حال ہی میں خودکشی کرنے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کے ہیں جو ایک انٹرویو میں کہے گئے۔ ایسے کتنے ہی جملے ہیں جو ہم محض اپنی رائے دینے کے لیے دوسروں سے کہہ دیتے ہیں۔ اور کتنے ہی ہمارے اپنے پیارے ان باتوں کو دل سے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اپنے دوستوں، ماں باپ، اساتذہ، قریبی لوگوں کے

Read more

عورت کو رشتوں کے حوالے کی بجائے ایک آزاد انسان کے طورپر تسلیم کیا جائے۔۔۔

عورت کے بغیر انسانی ارتقا ممکن نہیں ہے اس سماج میں گھر سے لے کر سیاست و معاشرت تک فیصلہ کن اختیار مرد کے پاس رہا ہے، آج پاکستان میں نصف سے زائد آبادی عورتوں پر مشتمل ہونے کے باوجود نوے فیصد سماجی وسائل پر مرد کا اجارہ ہے، عورت کی شناخت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی صورت میں ہی موجود ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں مگر بطور ایک آزاد انسان عورت کا کردار اس سماج کو

Read more

میڈم نورجہاں کی زندگی پر ایک نظر: اللہ وسائی کو محض 18 برس کی عمر میں ’ملکہ ترنم‘ کا خطاب کس نے دیا؟

انڈیا اور پاکستان کی فلمی صنعت کی بہت سی شخصیات کو ان کے چاہنے والوں نے ایسے خطابات سے نوازا ہے جو ان کی شخصیت کے ساتھ مخصوص ہو گئے ہیں اور جب وہ خطاب زبان پر آتا ہے ذہن پر اس شخصیت کا نام دستک دینے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم ‘پری چہرہ’ کہیں تو ذہن میں نسیم بانو کا نام ابھرتا ہے۔ ‘ملکۂ موسیقی’ کے ساتھ روشن آرا بیگم کا نام مخصوص ہے۔

‘عوامی اداکار’ کہیں تو ذہن میں علاؤالدین کا نام آتا ہے۔ ‘آہو چشم’ کا خطاب راگنی کی یاد دلاتا ہے، ‘دختر صحرا’ ریشماں کہلاتی ہیں اور ‘ملکۂ جذبات’ نیر سلطانہ، ‘شہنشاہ غزل’ مہدی حسن کو کہا جاتا ہے تو ‘چاکلیٹی ہیرو’ وحید مراد کہلاتے ہیں۔

Read more

پاکستان میں مردہ نومولود کھانے والی قبیح رسم پہ آگاہی مہم کی ضروت

پاکستان میں جب سرکاری ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا تب سکرین پہ آنے والا ہر شخص عظیم فنکار کہلاتا۔ بہت سے ٹیلنٹڈ افراد پلیٹ فارم نہ مل سکنے کی وجہ سے گمنامی کی موت مر گئے۔ پھر آیا سوشل میڈیا کا زمانہ یوٹیوب و فیس بک نے ٹیلنٹڈ افراد کو پلیٹ فارم مہیا کر دیا جس کی بدولت آج مین سٹریم میں ایسے درجنوں افراد جگہ بنا چکے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا سے اپنے ٹیلنٹ کی بدولت نام اور جگہ بنائی۔

یوٹیوب پہ اطہر بلال فلمز والے ایسے ہی ٹیلنٹڈ نوجوان ہیں جو فلم سازی خصوصاً ڈاکیومینٹریز کو اک اور ہی لیول پہ لے جا چکے ہیں۔ Islamabadians Pakistan نامی یوٹیوب چینل پہ ارسلان و بلال کے توسط سے مجھے اس چینل کا علم ہوا اور راقم ان کے کام سے بہت متاثر ہوا۔

Read more

آہ! میری لاڈلی بہن

زندگی کس قدر بے اعتبار شے ہے، اس کا اندازہ کرونائی عہد میں زیادہ شدت سے ہوا۔ صبح سے شام تک موت کی خبریں سنتے ہوئے اس قدر خوف زدہ اور ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہوں کہ اب تو معمولی سے طبیعت کی خرابی پہ بھی یہی گماں ہونے لگتا ہے کہ بس اب جانے کا وقت آ پہنچا۔ اس عجیب و غریب کیفیت میں انسان نہ تو کوئی خوشی ٹھیک سے انجوائے کر پا رہا ہے اور نہ ہی غم کا ماتم۔ جون کا آغاز ہوا اور شروع کے پندرہ دنوں میں پچیس کے قریب اموات دیکھی اور سنی اور ان میں زیادہ تر لوگ جاننے والے تھے یا کہ عزیز و اقارب۔

اسی دوران ایک اہم ترین حادثہ میری بڑی ہمشیرہ کی وفات کا بھی ہوا جو گزشتہ ایک برس سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں اور یہ عارضہ جان لیوا ثابت ہوا۔ پندرہ جون کی صبح گیارہ بجے ان کی حالت خراب ہوئی، جس پر ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی داعی اجل کی آواز پر دائمی منزل کا سفر اختیار کر چکی تھی۔ کتنی تکلیف اور اذیت بھرا وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے کسی بھائی یا بہن یا کسی بھی ایسے عزیز کو منوں مٹی میں رکھ کر آرہے ہوتے ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے پچیس سے تیس سال گزارے ہوں۔

Read more

مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے!

” مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے” "ایسا کیا کر دیا اس نے؟” "وہ ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس سے رہ و رسم رکھے ہوئے ہے، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا” ” کیا قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟” ” یہ میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے، بیٹی نے باپ کی پگ اچھالی ہے” "مجھ سے کیا چاہتے ہو؟” "تم بحثیت وکیل مجھے بتاؤ کہ قتل کے بعد مجھے کم سے کم سزا

Read more

آدمی کس سے مگر بات کرے؟

جب ہر طرف سے غم اور بیماری نے گھیرا ہو اور کوئی دوا بھی نہ ہو تو ایسے دن وبا کے دن کہلاتے ہیں۔ دن بدلنے سے دنیا بدل جاتی ہے۔ دیرینہ آسرے چھوٹ جاتے ہیں، سدا بہار ٹوٹکے افواہوں کی طرح بے وقعت ہوجاتے ہیں۔ اطمینان کا قحط پڑ جاتا ہے، سینے بھاری اور زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ انسان غموں سے دور بھاگتا ہے مگر غم  خبر بن کر اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ بری خبروں کا ایک شور ہے جو

Read more

گھبراہٹ کا فلسفہ

گھبراہٹ ایک جانی انجانی سی انسانی بحرانی کیفیت کا نام ہے۔ عمرانی نظریات کے تناظر میں گھبراہٹ کی اصطلاح لا فانی شہرت اور لا ثانی معانی رکھتی ہے۔ اکتاہٹ، ہچکچاہٹ، کپکپاہٹ، جھنجھلاہٹ، بوکھلاہٹ اورچڑچڑاہٹ سب گھبراہٹ کے ہم منصب وہم پلہ الفاظ ہیں۔ گھبراہٹ کی علامات میں درد کے ہمراہ سر کا چکرانا، پھیپھڑوں کا پھڑپھڑانا، دل کا بیٹھنا، ڈوبنا یا بڑھ جانا، شکم کا سکڑنا، ناک کا چڑھ جانا یا پھر کٹ جانا، آنکھ کا بھر کر جھک جانا،

Read more

ڈیپریشن کی ہلاکت خیزی یا عدم قابو

آج کل ہندوستان کے ایک نوجوان اداکار کی خودکشی کا بہت ذکر ہے۔ خدا اس کی مغفرت کرے بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس کے ساتھ اخبارات رسائل اور میڈیا پے ڈپریشن سے متعلق بہت بحث ہو رہی ہے۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک بھرپور صحت مند اور توانا انسان اپنے اوپر خدا کی اتنی ساری نعمتوں کو نظرانداز کردے اوراس کی توجہ صرف محرومیوں اور مشکلات پر ہی مرکوز ہو جائے۔ یہ انتہائی ناشکرا پن ہے۔ جو خدا

Read more

بیٹی پرایا دھن: ہم والدین ہیں یا تاجر؟

لفاظی میں بے مثل ہمارے معاشرے کے رویے بدلنے میں مذہب کافی حد تک بے بس نظر آتا ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنی اخلاقیات اور مذہب کے اصولوں پر فخر تو کرے مگر عملی طور اس کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی تجارت اور دنیا داری کے اصولوں پر کی جانے، وہاں اولاد جیسے حسین ترین معجزے کا بھی نفع اور نقصان کے ترازو میں تولے جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ مذہب نے جس کو رحمت کہا اسے ہماری

Read more

جوزف مسیح کی زندگی کا ایک دن

بے موسم کی بارش رات بھر سے ایک تار برس رہی تھی اور وہ دیر سے کھڑکی میں نصب آسمان کی وسعتوں میں دور کہیں بادلوں کے گرداب میں پھنسے ایک پرندے کی ناہموار پرواز پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ جوزف چائے کی ٹرے لے کر آیا تو اس کا انہماک ٹوٹا۔ ”شاید کوئی کبوتر ہے بیچارہ، اپنی چھتری سے اڑا ہوگا کہ بارش میں پھنس گیا۔ “ اس نے عورت کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے رائے زنی کی۔

Read more

ٹوٹتے گلیشیئر کے نیچے خواب کی زمین پر چہل قدمی۔۔۔

زندہ سچائی، زندہ واقعات اور زندہ لوگوں سے اس کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کہانی کا مردہ لوگوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ***    *** ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے نیند میں ہوتے ہیں تو ہم زیادہ جاگتے ہیں۔ جیسے آنکھوں کے آگے دور تک پھیلی ہوئی نہ ختم ہونے والی دھند ہوتی ہے۔ یہ دھند ہمیں گلیشیئر پر تیرتے خواب سے برآمد کرتی ہے۔ ۔ ۔

Read more

واہیات ڈرامے اور رشتوں کے تقدس کی پامالی

پاکستانی ڈراموں میں بے ہودہ پن اور عریانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب بظاہر معاشرے کا ماڈرن طبقہ بھی کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان واہیات ڈراموں کے ٹرینڈ چل رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ اب مکمل طور پر جنسیت، مختصر لباس، ناجائز تعلقات اور بے ہودگی و لچر پن کے گرد گھوم رہا ہے۔ ڈراموں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سپورٹ اور دھڑا دھڑ بنائے جا رہے ہیں۔

Read more

مڈل کلاس ماڈرنزم اور سیکرٹ سپر اسٹارز

چند سال قبل ایک ہندوستانی فلم منظر عام پر آئی جس کا نام تھا سیکرٹ سپر اسٹار، اس فلم کی بدولت ہمیں ایک ایسا جملہ ملا جو موجودہ دور کے بہت سے گھٹن زدہ لوگوں پہ چپک گیا۔
اب ہم جب کسی یوٹیوب ویڈیو کو دیکھتے جس کے پندرہ، بیس، یا دو چار سو ویوز ہوتے تو یہ نام سہولت فراہم کرتا۔ جیسے ”فلاں شخص بھی سیکرٹ سپر اسٹار ہے“ ۔ یوں تو ایسے ہزاروں سے بھی زیادہ افراد ہوں گے لیکن، کچھ عرصہ قبل ہماری ملاقات بھی ایک خاص کردار سی ہوئی۔ آج آپ سے کرواتے ہیں۔

Read more

کیا آپ کا بچہ بھی پورن دیکھتا ہے؟

اگر آپ کو ایک بار فحش مواد دیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے تو یہ رکتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے اور آپ کو اس کی لت لگ جاتی ہے۔ پورن انڈسٹری نے اس فحش مواد کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر رکھا ہے

سب فحش سائٹس پر 18 + درج ہوتا ہے۔ لیکن ان سائٹس کا وزٹ کرنے والے کیا واقعی ہی 18 + ہوتے ہیں؟

انٹرنیٹ سیفٹی کے مطابق آج کل تقریباً 10 سال کی عمر میں بچوں کے پاس کسی نہ کسی صورت میں موبائل فون موجود ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق 11 سے 13 برس کے بچے بھی انٹرنیٹ کی فحاشی سے متاثر ہو کر خود بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا حصہ بن جاتے ہیں، 13 سال کی عمر تک کے بچوں کو کہیں نا کہیں ایسا مواد موصول ہو جاتا ہے یا پھر وہ کسی اور کو بھیجتے ہیں۔

Read more

میں، گرونیا اور اس کا شوہر

میں ڈبلن پہنچ کر اس سے فوراً ملنا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسے فون کروں۔ وہ میری عزیز از جان دوست، میری سب کچھ، میری محبوبہ، ہم دونوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے والی، میری جنم جنم کی ساتھی گرونیا کا شوہر تھا۔ اس نے ہی مجھے گرونیا کے موت کی خبر دی تھی، میں نے اسے آنسوؤں سے بھرا ہوا جواب دیا اور نہ جانے کیوں میرے اندر ایک زبردست قسم کی خواہش جاگ اٹھی تھی کہ میں اس سے ملوں۔ آخر کار وہ میری گرونیا کا شوہر تھا۔

گرونیا نے اس کی بانہوں میں جان دی ہوگی۔ اس نے اسے پکڑ کر بٹھایا ہوگا، اس کے بالوں کو سنوارا ہوگا، درد کی شدت میں وہ تڑپی ہوگی اور اس وقت وہ اس کا سہارا ہوگا۔ نہ جانے کیوں میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس سے اس کے بارے میں، گرونیا کے بارے میں باتیں کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے خبر سننے کے ساتھ ہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ڈبلن پہنچ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوٹل کے اس اداس کمرے میں بیٹھا ہوا گرونیا کے بارے میں سوچتے ہوئے سشمیش اوڈینو کو فون کرنے میں کچھ عجیب سی ہچکچاہٹ سی ہو رہی تھی۔

Read more

سگریٹ نوشی کے فضائل

تجھے سگریٹ سے جو پیار نہیں، اس کے کش کا تجھ پہ کوئی وار نہیں تمباکو کے زہر میں جو مٹھاس ہے، تیرے لیے وہ بے کار ہے سگریٹ پر لکھنا چاہتا تھا پر کوئی جہاندیدہ بندہ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ جو اس کے متعلق معلومات دے، پھر اچانک رات کے تین بجے اس مہربان سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے پوچھا: کدھر؟ کہتے ؛ سگریٹ نوشی اور اس کے جسم پر اثرات پر لیکچر سننے جا رہا ہوں۔ میں

Read more

حواکی بیٹی! ہم شرمندہ ہیں

بظاہر توہم ایک مسلمان معاشرے کا حصہ ہیں لیکن حقیقت میں ہم ہر حوالے سے قابل رحم مسلمان ہیں۔ ہمسایوں کے حقوق، شفاف لین دین، اخوت، سچائی اور دیانت کی دھجیاں اڑانے میں توہم طاق ہیں لیکن حوا کی وہ بیٹی بھی ہم سے سنبھال نہیں ہوپارہی جو ایک بیوی کی صورت میں ہمارے گھر وں کی ایک وفادار نگران کارفریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ ماضی میں ہمارے ہاں اس کے ساتھ جب جانوروں سا سلوک کیاجاتاتھا تو دلیل یہ دی

Read more

ہیپی فادرز ڈے

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ دوستوں کے فادرز ڈے کے میسجز پوسٹ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آج کل کے رواج کے مطابق ہر خاص دن کے میسج لوگ رات بارہ بجے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی سالگرہ ہو یا شادی کی، فادر ڈے ہو یا مدر ڈے، رات بارہ بجے ہی میسج کرنا اور کیک کٹنا فیشن بن گیا ہے۔ میں خاصی دیر سے ابا مرحوم کی تصویریں ڈھونڈ رہا تھا، مگر ایک تو

Read more

پاکستانی فلمی دنیاکے نامور موسیقار اے حمید

یہ 1933 کا سال تھا جب ’دیو سماج‘ کالج، امرتسر میں موسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ نومولود کے چچا ایم اسلم بھی بمبئی میں اس وقت جانے پہچانے اداکار تھے۔ بچے کا نام شیخ عبدالحمید رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے اس بچے نے موسیقی میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خودبچے کے والدموسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر تدریس کے علاوہ عملاً گیتوں کی دھنیں بھی ترتیب دیتے تھے۔ موصوف نے غیر منقسم ہندوستان میں

Read more

رحمان کے جوتے: حقیقت پسند افسانہ

راجندرسنگھ بیدی اردوادب کے افسانہ نگاراور ڈرامہ نویس ہیں۔ وہ 1915ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا پہلا افسانہ ”بھولا“ ہے جو 1936ء میں شائع ہوا۔ بیدی کے افسانوی مجموعے ”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دانہ و دوام، گرہن، کوکھ جلی، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہاتھ ہمارے قلم ہوئے اور مکتی بود“ ہیں۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری کو ایک مضبوط ستون فراہم کیا۔ راجندر سنگھ بیدی ترقی پسند تحریک سے اس

Read more

غلاف کعبہ کا حصول گھر بیٹھے کیسے ممکن ہو سکا

مکہ معظمہ میں قیام کے دوران مجھے ہر لمحہ یہ خیال رہتاکہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں جو اس شہر مقدس میں، مسجد حرام کے عین سامنے واقع ہوٹل میں رہائش پذیر ہوں۔ اس روئے زمین پر واقع کوئی شہر، کوئی مقام، کوئی علاقہ مکہ معظمہ سے بڑھ کر حرمت اور عظمت والا نہیں۔ یہ شہر اللہ رب العزت اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البلد میں

Read more

کھویا ہوا جزیرہ

جب تیسری بس بھی نکل گئی تو اس نے دل ہی دل میں ایک بار پھر میکانک کوگالیاں دینا چاہا لیکن اس بار بھی وہ ناکام رہا۔ صرف اس لئے کہ جس قسم کی گالیاں دینے کی وہ ہمت وہ کر سکتا تھا وہ ان گالیوں کے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے جو میکانک اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کو دیا کرتے تھے۔ میکانک اسے آٹھ دن سے کار کے لئے ستارہا تھا اور وہ بے بس

Read more

مقتدر حلقے اور قاضی کا کٹہرہ

قاضی فائز عیسی بالآخر سرخرو ٹھہرے! سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی طرف سے بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس بھی خارج کیا گیا اور جج صاحب کے خلاف شو کاز نوٹس بھی واپس لے لیے گئے۔ اور ان کی اہلیہ کی جائیداد کے معاملے کو 3۔ 7 کی اکثریتی رائے سے ایف بی آر کو بھجوا دیا گیا جو محض اب ایک ٹیکس کا معاملہ ہے۔ اور جس جائیداد کی منی ٹریل جج صاحب کی اہلیہ سپریم کورٹ کی کارروائی میں

Read more

خفیف مخفی کی خواب بیتی

علی آفتاب سعید کمال کے آدمی ہیں۔ فلسفے کو سر تال اور سر تال کو ہاتھ کی معمولی جنبش میں سمو سکتے ہیں۔ اگلے روز ایک نشست میں پنڈت وی ڈی پالسکر کے خیال سے لطف اٹھایا جا رہا تھا۔ پنڈت جی نے ہمیں پوری طرح گرفت میں لے رکھا تھا۔ راگ ختم ہوا تو فرمایا، یہ استاد کا کام ہے۔ سولہ ماترے میں کھیل رہے تھے۔ ہمیں مجبوراً اسے چار ماترے میں رکھنا پڑتا کیونکہ سننے والے اب کم

Read more

ہمارے ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے

اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ اپنے ابا کی شخصیت کی ایک خوبی بتاؤ جو نظر کو خیرہ کرتی ہو، صرف ایک! کیا کہیں گے ہم؟ سوچ کے سمندر میں غوطہ لگا کے کیا چننا چاہیں گے؟ ذہانت؟ آزادی نسواں کی حمایت؟ کتابوں کے رسیا؟ خلق خدا سے محبت؟ مصفح گفتار؟ مروت و انکساری؟ مہمان نواز؟ کشادہ دل؟ شفقت ومحبت؟ احساس کی دولت سے مالا مال؟ شریک حیات سے بے پناہ محبت؟ صلہ رحمی ؟ یک لخت دماغ میں ایک

Read more

باپ۔ مانند سورج

دنیا بھر میں جون کے تیسرے اتوار کو باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے ورنہ باپ کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے حروف تہجی کا کوئی بھی مجموعہ لفظ باپ کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے لئے ایک عظیم تحفہ باپ ہے۔ باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے۔ ہمارے مذہب اسلام

Read more

کتے والا بشر

گھنے درختوں اور پھولوں سے بھرے پارک میں معمول کی دوڑ لگاتے ہوئے بشر کی نگاہ ایک چھوٹے سے کتے پر پڑی جو زخمی حالت میں تھا۔ گرین ووڈز نامی اس پارک میں بشر کو اکثر زخمی پرندے یا کتے بلیاں نظر آ جاتے تھے، جن کو کبھی پارک میں موجود بچے یا نو عمر لڑکے لڑکیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ کچھ پالتو بن جاتے تھے، اور کچھ کو واپس چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ابھی تک کتے کو اٹھایا نہیں گیا تھا، یقیناً یہ ذمہ داری میری ہے، بشر نے سوچا اور احتیاط سے کتے کو اٹھایا، قریبی کلینک سے اس کی مرہم پٹی کروائی اور اس کو اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا۔ واشنگٹن کے مضافات میں واقع چھوٹے سے قصبے میں گزشتہ پانچ سال سے بشر کی رہائش تھی۔

گرین ٹاؤن نامی قصبے میں ہر نمایاں مقام کا نام گرین سے شروع ہوتا تھا۔ ٹاؤن کا سب سے بڑا پارک بلکہ جنگل بھی گرین ووڈز کہلاتا تھا، جہاں جنگلی جانور بھی تھے، لیکن قصبے کے لوگوں کو قطعاً پرواہ نہ تھی، وہ بندوقیں لے کر جنگل میں آزادانہ گھومتے۔ سرکاری طور پر ممنوع ہونے کے باوجود چوری چھپے شکار بھی کر لیتے اور اسلحہ بھی استعمال کرتے لیکن کم ہی افراد ایسا کرتے، زیادہ تر شہری امن پسند تھے۔ بشر ایشیائی ملک کا باشندہ تھا، اس کے ملک میں عقیدے کی بنیاد پر آئے روز فسادات ہوتے، کبھی گائے کے گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر۔ کبھی اونچی ذات ہونے کے زعم میں نچلی ذات کو لوگوں کو اذیت دی جاتی، عقیدے کو زندہ رکھنے کے لئے انسانوں کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور گولیوں سے مار دیا جاتا، عورتوں کو اٹھا لیا جاتا۔ بچے جنگلوں میں بھاگ جاتے یا حملہ آور ان کو اپنا غلام بنا لیتے یا پھر ریل گاڑی میں بٹھا کر ملک کے بڑے شہر میں فروخت کر آتے۔

Read more

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں!

بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات اب ماضی کی نسبت زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں کیوں؟ کیا وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی برائی کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات آپ کے بھی ذہن ہیں آتے ہوں گئے۔ آخر انسان اتنا بے شرم کیوں ہو گیا ہے کہ اسے اپنے مقدس رشتوں کی ہی تمیز نہیں رہی۔

جی ہاں بچوں کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں سب سے زیادہ ان کے قریبی رشتے دار ہی ملوث ہوتے ہیں۔ جو لوگ بچوں کے ساتھ اس طرح کرتے ہیں ان کی ذہنی صحت ہی ٹھیک نہیں ہوتی ایسے لوگوں کو ماہر نفسیات کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کا ذہن گندگی کا ڈھیر بن چکا ہوتا ہے۔ ان کی سوچ کسی گندے گٹر کی طرح ہوتی ہے جو بذات خود بھی بدبو اور گندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے۔

Read more

مغفرت کی دعا اور غیر مسلم

سک کڈ ٹورنٹو میں ایک چودہ پندرہ سال کا بچہ کینسر جیسے موذی مرض کے ہاتھوں مر رہا تھا۔ بچے سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ بچے نے کہا؛ میں فٹ بال کا ورلڈ کپ دیکھنا چاہتا ہوں۔ نا صرف بچے کو بالکل اس کے پو رے خاندان کو جہاز اور میچ دونوں کی ٹکٹیں فراہم کی گئیں۔ بچہ میچ دیکھ آیا اور پھر کچھ عرصے بعد اس جہاں کو، اپنے روتے ماں باپ کو اور اپنے بہن بھائیوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا گیا۔ ماں باپ، افسوس کے لئے آنے والوں کو کہتے ہمارا بچہ تو معصوم تھا، اس کے لئے سورہ فاتحہ اور دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ کیا آپ ان ڈاکٹرز، ان نرسوں اور اس ہسپتال کی انتظامیہ کے لئے دعا کر سکتے ہیں (پوچھنے پر بھی انہیں یاد نہیں آیا نہ انہیں پتہ تھا کہ ان سب مسیحاؤں کے مذہب کیا کیا تھے ) کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیں کہ انہوں نے ہمارے مرتے ہوئے بچے کے لئے ہسپتال کو جنت بنائے رکھا؟

Read more

جب میری بیٹی جنس بدل کر بیٹا بنی

فرزانہ میری ایسی دوست ہے جس کی فرزانگی، علم دوستی اور خلوص و محبت نے مجھے اس وقت سے ہی اپنا بنا لیا تھا جب میں ابتدا میں امریکہ منتقل ہوئی تھی۔ باوجود اس کے کہ اب گزشتہ سات سالوں سے ہم ایک دوسرے سے بہت دور ریاستوں میں رہتے ہیں، ہمارے درمیان قربت اور اعتماد کا رشتہ ابھی بھی برقرار ہے۔ جبھی تو اس نے کچھ سال قبل مجھے وہ ای میل لکھی جو کوئی اپنے با اعتماد دوست کو ہی لکھ سکتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک ایسے موڑ کے متعلق جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہوگا۔

اس نے لکھا۔ ”اب جبکہ ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہیں میں نہیں چاہتی کہ تمہیں کسی اور سے یہ بات پتہ چلے کہ میری بیٹی فرحین ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ٹرانس جینڈر ہے۔ یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ سفر ہے، بالخصوص فرحین کے لیے کیونکہ ابھی وہ طبی تجزیے، سرجیکل اور قانونی مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسے ایک لڑکی سے لڑکا بننے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ویسے ابھی وہ تعلیم کے مراحل میں بھی ہے۔ گو ہم خاندانی پرائیویسی پہ یقین رکھتے ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سچی اور شفاف زندگی گزاریں۔“

Read more

حقیقی باپ اور سپرم ڈونر میں فرق جان کر جیو!

دنیا کے انمول رشتوں میں سے ایک رشتہ باپ کا ہے۔ ماں کی طرح باپ کی محبت بھی مثالی سمجھی جاتی ہے۔ باپ کی شخصیت اور عادات و اطوار بیٹی اور بیٹے کے ذہنی اور جذباتی نشونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ اثرات اگر اچھے ہوں تو ایسے بچے صدقہ جاریہ بنتے ہیں اور برے ہوں تو ان کے ہاتھوں بچے خود اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حقیقی باپ کی زندگی قربانی سے عبارت ہے۔

Read more

کوئی استاد لاولد نہیں ہوتا

”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ ۔ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جن کا قد کاٹھ ماپنے کے لیے علم و ادب کا پیمانہ چاہیے۔ اب ہم کہاں سے لائیں وہ الفاظ، وہ ادائیگی، وہ لب و لہجہ اور آواز جو کانوں سے ہوتی ہوئی سیدھا دل میں اتر جاتی تھی۔ نیلام گھر پاکستان ٹیلے ویژن کا وہ پروگرام تھا جو اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھا، ازاں بعد اسے طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

زندگی تو خاکی ہے بالآخر اس نے ایک دن خاک میں خاک ہی ہوجانا ہے۔ علم و آگہی کے ان گنت چراغ جلانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت اپنے خالق حقیقی سے ملنے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ موت اس فانی دنیا کا خاتمہ ضرور ہے لیکن پھاٹک ہے اس جہاں کا جو امیدوں، جگنوؤں، پھولوں، مخملی گھاس اور مشک و عنبر کی بسی ان وادیوں میں کھلتا ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب نے یقیناً اس گرم جوشی سے اہل جنت کو بھی سلام کہا ہوگا اور ”پاکستان زندہ باد“ کا گرجتا نعرہ لگایا ہوگا۔

Read more

تینتالیس برس پہلے عالم بالا کو گئے ابا کے نام خط

ابا، مجھے اس روز اتنی حیرت ہوئی تھی جب آپ ٹامی اور جیمی کو نہلانے نہر پر لے جا رہے تھے۔ چونکہ ہم سب آپ سے ڈرتے تھے شاید اس لیے کہ جونہی آپ ایک عرصے کے بعد اپنے کاروباری مقام سے گھر آتے تو اماں کہتی ”قل ہو اللہ پڑھو تمہارا باپ آ رہا ہے“ میں کبھی کبھار آپ کو اور شیطان کو ایک سا سمجھ لیا کرتا تھا کیونکہ اماں شیطان سے بچنے کی خاطر بھی اسی سورت کا ورد کرنے کو کہا کرتی تھیں۔ تو میں بات کہہ رہا تھا آپ سے اپنے متحیر ہونے کی جس میں تھوڑی سی نفرت بھی شامل ہو گئی تھی۔

میں چونکہ چھپ چھپ کے آپ کے پیچھے پیچھے گیا تھا اس لیے آپ مجھے دیکھ نہیں پائے تھے۔ ٹامی بہت زیادہ بھونک رہا تھا آپ نے اسے سوقیانہ الفاظ میں وہ کہا تھا جو آج ہندوستانی فلموں کی وجہ سے پھٹنے کے حوالے سے گھروں میں بظاہر شریف لڑکیاں بھی باپ بھائیوں کے سامنے کہنے لگی ہیں مگر ہمارے گھر میں جو اصل میں اماں کے زیر اثر تھا ماسوائے الو، گدھا کے کوئی بھی برا لفظ کہنا ممنوع تھا۔

Read more

باپ تن آور درخت اور گھنا سایہ

والدین کی اہمیت کیا ہوتی ہے کوئی ان سے پوچھے جن کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا۔

ماں سے محبت اور ماں کی قربانیوں کے بارے میں ہر وقت بات کی جاتی ہے۔ لیکن باپ کی محبت کسی بھی طرح ماں کی محبت سے کم نہیں ہوتی لیکن کیونکہ ماں کے ساتھ ہمارا وقت زیادہ گزرتا ہے اس لئے مانوسیت زیادہ ہوتی ہے۔ ماں دوست کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جس کا کہا برا بھلا سب پیارا لگتا ہے۔ چونکہ والد سارا دن معاش کے سلسلے میں گھر سے باہر ہوتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں بن پاتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت دونوں طرف برابر ہوتی ہے۔

ماں ہو یا باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو محبت کا اظہار بہت کم کرتی ہے اپنا پیار، جذبات اور احساسات دل میں چھپا کر رکھتا ہے باپ ایک گھنا سایہ ہوتا ہے جس کے سائے تلے سکون ہی سکون ہوتا ہے۔

Read more

معاف کر دینے میں بڑی قوت ہے

صاحبو، غالب کے ہاں تو ”غیب سے آتے تھے مضامیں خیال میں“ ۔ ہم ٹھہرے غریب آدمی۔ لکھنے کو ادھر ادھر سے خیالات کشید کرتے ہیں۔ اور آج کل ادھر ادھر فقط انتشار ہے، اور بے شمار ہے۔ ورق از خود تلخی سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں، کچھ تو امید سے لبریز کتابوں اور کچھ صوفی منش دوستوں کی صحبت کے زیر اثر، سکون کے متلاشیوں پر قلم اٹھایا، تو حلقۂ یاراں اس ماہیت قلب پر بڑا خوش ہوا۔ کچھ خیرخواہوں نے تو پرنم آنکھوں کے ساتھ مبارک باد دے ڈالی۔ کہا شکر ہے میاں، قلم تمھارا یاسیت، قنوطیت سے نکلا۔ ذرا رجائیت پسند بنو، زندگی کا روشن پہلو پیش نظر رکھو۔ تحریک بھی دی کہ اب اسی مدعا پر کچھ اور لکھو۔

ہمیں ترغیب دینے والوں میں کچھ ایسے، جو ہمیں بے حد عزیز۔ چند کے ہم مقروض۔ تو مناسب جانا کہ جو وہ کہتے ہیں، کر گزریں۔ بھلائی اسی میں ہے۔

Read more

فلسطینی ’لائیوز میٹر‘

ایک آٹسٹک فلسطینی کی اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر فلسطینی اور اسرائیلی دونوں باشندے سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین اس واقعے کا امریکا میں افریقی امریکی باشندے جارج فلائڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے موازنہ کر رہے ہیں۔

32 سالہ ایاد الحلاق 30 مئی کو یروشلم کے پرانے شہر میں قائم ’اسپیشل چلڈرن‘ کے ایک اسکول میں رضاکارانہ طور پر خصوصی خدمات انجام دینے جا رہا تھا کہ اسرائیلی پولیس نے اس کا تعاقب کیا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق اسے شبہ تھا کہ ایاد الحلاق کی تحویل میں کوئی ہتھیار تھا جس کے ساتھ وہ اسکول کی طرف جا رہا تھا۔

Read more

کیا آپ اس سال حج کا ارادہ رکھتے تھے؟

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی معمولات زندگی میں کافی تغیرات واقع ہوئے ہیں۔ خصوصاً بین الممالک تعلقات اور حج و عمرہ کا نظام رکا ہوا ہے۔ وہ لوگ جو اس سال حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے تھے انہیں مجبوراً اپنا خیال ترک کرنا پڑا اور جب میڈیا کی جانب سے اس سال حج کے موقوف ہونے کے امکانات کی خبریں آ رہی ہیں تو رہی سہی امید بھی

Read more

شکریہ ٹامس ایلوا ایڈیسن

نامور امریکی تاریخ دان اور مصنف ول دیورانٹ سے ایک انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ”اگر میں آپ سے کہوں کہ تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن شخص کا نام لیں تو کیا وہ نام کارل مارکس کا ہوگا“ ویل ڈیورانٹ نے جواب دیا کہ ”اگر آپ لفظ کے وسیع ترین مفہوم میں بات کریں تو پراثر کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ تکنیکی موجدوں ایڈیسن جیسے انسانوں کو دینا پڑے گا۔ بلاشبہ

Read more

انسان نما درندے

انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس کا مطلب انسان اس دنیا میں بنائے جانے والی ہر مخلوق سے افضل ہے۔ پر کیا واقعے ہی انسان یہ کہلانے کے لائق ہے؟ جس کو اللہ نے دنیا میں پیدا ہونے والی ہر مخلوق سے افضل بنایا اس انسان نے اپنی ہی پہچان کو کھو دیا۔ وہ انسان جسے عقل و شعور دیا گیا وہ درندہ بن گیا۔ اور وہ درندہ ایسا بنا جس سے بھیانک درندے خود پناہ مانگتے ہیں۔ اس کی درندگی اتنی خطرناک ہے کہ جب وہ درندہ بنتا ہے تو اس کی ہوس کا نشانہ صرف انسان ہی نہیں جانور بھی بنتے ہیں۔

Read more

ایک اسسٹنٹ کمشنر کی دوران ڈیوٹی بے بسی کی موت

کئی دونوں سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن قلم الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ نظام کا وجود اپنے اختتام کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ 8 جون کو تقریباً 6 بجے شام مجھے میسیج موصول ہوتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔

بایزید بھائی میں وکیل کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر (خالق آباد) منگوچر کا بھائی ہوں ان کو ڈیوٹی کے دوران کورونا کا مرض لاحق ہوگیا تین دن تک وہ اپنی جائے تعیناتی پر بے یارو مددگار اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پڑے رہے بعد میں ہمیں ان کی بیماری کی خبر ہوئی تو ہم ان کو علاج کی غرض سے کوئٹہ لے کر آئے اور وہ 26 مئی 2020 سے شیخ زائد ہسپتال کوئٹہ میں بد قسمتی سے داخل ہیں۔

بھائی نے آپ کا نمبر دیا ہے اور آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ ہم مایوس اور بے بس ہو کر آپ کو میسیج کر رہے ہیں۔ کل رات کو یک دم سے پورے ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر میں پریشر ختم ہوگیا ہے جس سے تین کورونا کے مریضوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ وہیں وکیل کاکڑ کی طبیعت بھی سخت بگڑ گئی اور مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

طارق عزیز کے نام کا میوزیم بنانے کی ضرورت

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا، پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں، کن دنوں میں ہم سے جدا ہوا۔ لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے گچھوں سے بوجھل اداسیوں اور مایوسیوں کی سوگواریوں میں لپٹا پڑا ہے۔ کرونا کا عفریت شہر کی رونقوں کو نگلے ہوئے ہے۔ لاہور کے بیشتر علاقے سیل ہیں۔ اس کے جنازے میں تو خلقت نے امنڈ آنا تھا۔ اس کے چاہنے والوں کو ہاتھ ملتے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے دیکھا ور سنا گیا۔

اس کی ذات کا کوئی ایک پہلو تھوڑی تھا۔ وہ تو ہمہ جہت تھا۔ پی ٹی وی کے پہلے اناؤنسر کا اعزاز اس نے اپنے نام ہی نہیں کیا بلکہ آنے والوں دنوں میں سکرین کا یہ ہیرو اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب اپنے پروگرام کے ذریعے ہر خاص و عام پاکستانی کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ اس کی آواز کی گھن گرج شعروں کے نگینوں سے سجا اس کا موہ لیتا انداز گفتگو، اس کی پھرتیاں چستیاں لوگوں سے بھرے ہال میں بس اس کا وجود سارے ماحول پر چھایا نظر آتا تھا۔

Read more

قحط

سشانت سنگھ کی خود کشی کی خبر سنی۔ دل دکھ سے بھر گیا۔ کیا گزری ہو گی اس باپ پہ جس نے جوان بیٹے کی خود کشی کی خبر سنی۔ ماں باپ تو بچوں کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کرتے۔ یہ دکھ کیسے سہا جائے گا۔ اور یہ صرف دکھ نہیں روگ بن گیا ان کے لئے عمر بھر کا روگ۔ طبعی موت پہ تو صبر کیا جا سکتا ہے اس موت پہ صبر آئے بھی تو کیونکر۔

چشم تصور میں اس شخص کا چہرہ آ رہا ہے۔ جو نہ جانے ذہنی ابتری کے کس درجے پہ ہو گا کہ زندگی کو ، اپنی تمام تر خوبصورتیوں سمیت، اتنا ارزاں سمجھا۔ باپ، بہن بھائی، کیرئیر سب کچھ پس پشت چلا گیا۔ کوئی خواہش باقی رہ گئی تو موت کی خواہش۔ ۔ ۔ اور وجہ کیا تھی؟ ڈپریشن، ذہنی عارضہ۔

Read more

موہنی کی بے بسی

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے جڑ کر لال کر دیے تھے، اس کے سرخی مائل سفید رخسار شدت تکلیف سے شعلہ خیز انگاروں کے مثل دہک رہے تھے، اس کا بدن ذہنی اذیتوں کی تپش سے جل بھن کر خاکستر ہوا جا رہا تھا، سیٹھ کی بات نے آج اسے اٹھارہ سال قبل زندگی کی بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں تھی۔

جب 2002 میں پورا صوبہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل اٹھا تھا، پوری فضا عداوت و دشمنی کے کالے کالے دھوئیں سے تاریک ہو چلی تھی، ہر طرف لاشوں کی بدبو اور خون کی سڑن سے سارا ماحول پراگندہ ہو چکا تھا، کہ اسی اثنا 22 مارچ 2002 کی درمیانی شب کو نفرت کے سوداگروں نے موہنی کے گھر کو آگ لگا دی تھی، اس کے بابا کو اس کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تھا، بیچاری ماں نے اپنی ناموس کی حفاظت کی خاطر خود کو نذر آتش کر لیا تھا، اور چھوٹے بھائیوں کو بھی جلتی آگ میں کود جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، موہنی نے کسی طرح آگ سے بھاگ کر اپنے جان بچانے کی کوشش کی، مگر ازل نے بدنصیبی اس کی بھی تقدیر میں لکھ دی تھی، تو وہ پڑوسی کے مکان میں چھپنے کے باوجود ظالموں کی گرفت سے نا بچ سکی۔

اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال کی تھی، مگر کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کی وجہ سے جسمانی طور پر پندرہ سال سے کم نا دکھتی تھی، گوشت سے پر جسم و جسامت پر سفیدی مائل سرخ کتابی چہرہ کسی پری کے حسن و جمال سے کم نا تھا، پانچ فٹ سے زائد مضبوط کٹھیلا جسم دیکھنے والوں کی نظروں کو فوراً خیرہ کر دیتا تھا، کہ کبھی کبھی وہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں سے لڑائی کے وقت بڑی تیز انہیں پٹخنی دے دیتی تھی۔

مگر اس شہر آشوب شب کو ظالموں کی گرفت میں آکر وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی، بس اس کے سامنے بابا کے پیٹ سے فوارے مارتا خون اور ماں کے بدن کو کھاتی آگ کا منظر تھا، جس کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ سہم گئی تھی، بے بسی کی اذیتوں نے اس ننھی پری کے چہرے کی ساری حسین رنگت اڑا کر رکھ دی تھی، عاجزی کی کلفت و مصیبت نے اس کی دلکشی و رعنائی پر خاک مل دی تھی۔

چنانچہ ان ظالموں نے اسے دہلی لا کر گلشن بائی کے کوٹھے پر محض دہائی ہزار روپے میں فروخت کر دیا، آج سے اٹھارہ سال قبل ڈھائی ہزار کی قیمت بہت معنی رکھتی تھی، ویسے گر مفت میں ایک پیسہ بھی ہاتھ لگ جائے، تو وہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا ہے۔

گلشن بائی کے یہاں آکر موہنی نے ایک ہفتہ تک کچھ بھی نہیں کھایا پیا، ایک ہفتہ بعد گلشن اسے بہت منا دھنا کر کچھ کھلانے پر بڑی محنت سے کامیاب ہوئی، مگر اس کو وہاں کا ماحول دیکھ کر اتنی گھن آتی تھی، کہ کچھ کھاتے ہی فوراً قے ہو جاتی، اور پھر طبیعت بگڑ جاتی، اس نے کئی بار وہاں سے بھاگنے کی بھرپور کوششیں کی، مگر کوٹھے کا پہرہ اتنا سخت تھا، کہ وہ ہر بار پکڑ لی جاتی تھی، آخری بار جب وہ پکڑی گئی تھی، تو گلشن نے اس کو زنجیروں میں باندھ کر کمرے میں مہینوں کے لئے قید کر دیا تھا، کیوں کہ گلشن جیسی چھیالیس سالہ نہایت تجربہ کار عورت نے اس کو دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا تھا، کہ یہ لڑکی میرے بہت کام کی ہے، اس کا حسن و جمال اور دلفریب ادائیں منہ مانگے دام دلوائے گیں، تو گر اس کو ڈھائی ہزار کے بجائے پانچ ہزار روپے دینے پڑتے تو بھی وہ فوراً چکا دیتی۔

آخر کار تمام تر بندشوں سے مجبور ہو کر موہنی نے اپنی زندگی کو گلشن کے حوالے کر دیا، گلشن نے اس کو سال بھر میں مردوں کو قابو میں کرنے والے بہت سے داؤ پیچ سکھا دیے، ہر ایک کو خوش کرنے سارے ہنر بھی بتلا دیے، اور سب کچھ سکھا پڑھا کر دو سال بعد اس کو نواب زادوں کے سامنے کے پیش کرنے لگی، ہر رات کا نیا مسافر موہنی کو پہلی نظر دیکھتے ہی خود کو اس کے قدموں میں ڈال دیتا تھا، اولین مرحلے میں ہی ہر ایک گاہک اپنا دل اس کی طرف پھینک دیا کرتا تھا، اور ہر رئیس خوب انعام و اکرام سے نواز کر ہی جاتا تھا، جس کا سیدھا فائدہ گلشن کو ہوتا تھا، پھر چند ہی سالوں میں موہنی کی شہرت دور تک پھیل گئی، جسم کے پجاری دور دور سے دہلی کا سفر کرنے لگے، مگر ساتھ ہی اس کو سخت ہدایت تھی، کہ وہ سودے کے علاوہ کسی بھی مرد سے اپنا کوئی ذاتی تعلق بنانے کی بالکل بھی نا کوشش کرے، اس کے ذہن میں یہ بات پیوست کر دی گئی تھی، کہ یہاں آنے والے کسی بھی مرد کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کوئی ذرا بھی بھروسا کے لائق نہیں ہوتا ہے، سو اس نے بھی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کو بھی جسم کے علاوہ دل تک آنے نہیں دیا۔

موہنی نے گلشن بائی کی نگرانی نہیں تقریباً بارہ سال گزارے تھے، اس نے مردوں کو اچھے سے جان پہچان اور راضی کرنا سیکھ لیا تھا، اس کو زندگی کے ہر نشیب و فراز سے اچھی واقفیت ہو گئی تھی، ہر رات نئے مرد کی ملاقات نے اس کو معصوم لڑکی سے چوبیس سالہ تجربہ کار عورت بنا دیا تھا، ان بارہ سال کے تجربات نے اس کو پچھلے بارہ سال والی زندگی مکمل بھلا دی تھی، کہ وہ کون تھی؟ اور کہاں سے لائی گئی؟ اور کیونکر اس نے اس زندگی کا انتخاب کیا؟ وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی۔

بارہ سال تک وہ مسلسل گلشن کی زیادتیوں کا شکار رہی، وہاں کچھ ایسے بھیڑیے نما انسان آتے تھے، کہ گویا انہوں نے ہوس پوری کرنے کی نہیں، جسم کی نوچنے کی قیمت دی ہو، پیسے دینے میں تو خوب بخالت کرتے مگر بدن نوچنے کے لئے انہیں پوری رات چاہیے ہوتی، اور انکار کی صورت میں ظالم چند لمحوں میں پوری رات کی کسر نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے، اور کچھ عاشق قسم کے گاہک اس کی دل پھینک اداؤں پر منہ مانگے دام دے کر جایا کرتے تھے، مگر گلشن اس کے بہت سارے پیسے غبن کر لیتی تھی، آخرکار اس نے زیادتیوں سے عاجز آ کر خود کو گلشن کے کوٹھے سے الگ کر لیا، اور وہیں سے کچھ دور ہٹ کر ایک معمولی مکان کرایہ پر لے لیا، پھر اس نے اپنا الگ ٹھکانہ بنا لیا، اور وہیں گاہکوں کو اپنے نئے پتہ پر بلانے لگی، نئی جگہ آنے پر اس کے پچھلے گاہکوں کے ساتھ نئے گاہکوں میں اضافہ ہوا، اور اس کی خوب کمائی ہونے لگی، گلشن کے یہاں رہنے کے مقابلے میں اب اسے یہ ذاتی زندگی بڑی پر سکون سی لگنے لگی، اس نے اب اپنے حسن کی صحیح قیمت جانی تھی، اب اس کو اپنی خوبصورتی و رعنائی کے پورے پورے دام ملے تھے، اور پھر روز بروز اس کی آمدنی میں اضافہ ہی ہوتا گیا، موہنی اپنے پیشہ کے اصول و ضوابط میں جو بھی سخت ہو، مگر وہ اخلاقی و عملی زندگی میں بڑی نرم خو اور کشادہ دل واقع ہوئی تھی، اپنے طور پر دل کھول کر ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری کیا کرتی تھی، ایک دفعہ بارش کی شب ٹھنڈ سے کپکپاتے ہوئے ایک بوڑھے نے اس کے دروازے پر دستک دی، اور مدد کی دہائی دی، اس نے ایک ہی آواز پر اپنا کام چھوڑ دروازہ کو دوڑ پڑی، بوڑھے کی حالت دیکھ اس نے اپنا نیا کمبل فوراً اڑھا دیا، اور اپنی وہ خوبصورت چھتری دے دی، جو ابھی کل اس کو خان صاحب تحفہ میں دے گئے تھے، مزید اس نے اپنے سینہ بند سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر چپکے سے اس کی مٹھی میں تھما دی، یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کی کمائی کا اکثر حصہ اسی طرح کے کاموں میں صرف ہو جاتا تھا، اور اس کو اس کی کوئی فکر بھی نہیں ہوتی تھی۔

مگر اس بار وبا کی وجہ سے ساری چیزیں بند ہو گئیں، لاک ڈاؤن نے تمام تر آمد و رفت پر مکمل پابندی لگا دی، حکومت کے آرڈر پر انتظامیہ نے ہر جگہ سخت پہرے بٹھا دیے، تو پھر ادھر تین مہینہ سے کوئی بھی شخص اس کے یہاں بھٹکا بھی نہیں، اب اس کی زندگی ایک ایک پیسہ کی محتاج ہو گئی تھی، گرانی کی وجہ سارا سرمایہ دو مہینے میں ختم ہو گیا تھا، ایک مہینہ سے وہ جیسے تیسے اپنا گزارا کر رہی تھی، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس بنا کچھ کھائے خالی شکم یونہی رات بسر کی، بھوک کی شدت کی وجہ سے جسم نڈھال ہو گیا تھا، رخسار کی ہڈیاں ابھر آئیں تھی، چہرہ کا رنگ بھی کافی اتر گیا تھا، اس پر سیاہ دھبہ سے پڑ گئے تھے، مالی پریشانیوں نے اس کے نازنیں بدن کی تراش کو ہڈیوں کے ڈھانچہ بدل دیا تھا، وہ تیس سالہ جوان عورت کے بجائے ایک عمر دراز خاتون لگنے لگی تھی۔

آج رات جب راجو دلال کے ذریعے ایک سیٹھ کے آمد کی خبر اس تک پہنچی تھی، تو وہ بہت پر امید ہو چلی تھی، اس نے پہلے سے ہی نہا دھو کر خود کو سنوار کر رکھا تھا، کہ وہ سیٹھ کو خوش کر کے چند پیسہ کما کر اپنی بقاء کا کچھ سامان میسر کر سکے۔

مگر ادھر سیٹھ نے اس کو دیکھتے ہی راجو دلال کو دوچار گالیاں دیتے ہوئے کہا، ”کہ سالے راجو کلموہے کا ستیا ناس ہو، اس نے کون سی ہڈی کی دکان پر بھیج دیا“ اور پھر موہنی سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فوراً چلتا بنا، ان دگرگوں حالات میں سیٹھ کا یہ نفرت آمیز لہجہ آج موہنی کو کھائے جا رہا تھا، وہ مسلسل رو رہی تھی، اور اپنی موت کی دہائی دیے جا رہی تھی۔

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے جڑ کر لال کر دیے تھے، اس کے سرخی مائل سفید رخسار شدت تکلیف سے شعلہ خیز انگاروں کے مثل دہک رہے تھے، اس کا بدن ذہنی اذیتوں کی تپش سے جل بھن کر خاکستر ہوا جا رہا تھا، سیٹھ کی بات نے آج اسے اٹھارہ سال قبل زندگی کی بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں تھی۔

جب 2002 میں پورا صوبہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل اٹھا تھا، پوری فضا عداوت و دشمنی کے کالے کالے دھوئیں سے تاریک ہو چلی تھی، ہر طرف لاشوں کی بدبو اور خون کی سڑن سے سارا ماحول پراگندہ ہو چکا تھا، کہ اسی اثنا 22 مارچ 2002 کی درمیانی شب کو نفرت کے سوداگروں نے موہنی کے گھر کو آگ لگا دی تھی، اس کے بابا کو اس کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تھا، بیچاری ماں نے اپنی ناموس کی حفاظت کی خاطر خود کو نذر آتش کر لیا تھا، اور چھوٹے بھائیوں کو بھی جلتی آگ میں کود جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، موہنی نے کسی طرح آگ سے بھاگ کر اپنے جان بچانے کی کوشش کی، مگر ازل نے بدنصیبی اس کی بھی تقدیر میں لکھ دی تھی، تو وہ پڑوسی کے مکان میں چھپنے کے باوجود ظالموں کی گرفت سے نا بچ سکی۔

Read more

کرونا سے کرو۔ نا، اور لاک ڈاؤن سے مذاق ڈاؤن

مولانا مفتی قوی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک خبر چل رہی ہے کہ وہ بھی کرونا کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں، لو جی صیاد آپ ہی اپنے دام میں آ گیا۔ لیکن اصل مسئلہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحبان کے لئے ہے کہ مولانا کو بیماری سے بچایا جائے یا ڈیوٹی پر موجود نرسوں کو مولانا سے محفوظ رکھا جائے۔

کرونا کو کرو۔ نا اور لاک ڈاؤن کو مذاق ڈاؤن خیال کرنے والی یہ قوم دونوں صورتوں میں سنجیدہ نہ ہونے پر اس لئے مضر ہے کہ کرونا مضر صحت نہیں تو لاک ڈاؤن کیسا؟ کرونا کو پاکستان میں کس قدر سنجیدہ لیا گیا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت باوجود یکہ سماجی فاصلہ کی تشہیر کے، گائناکالوجسٹ کے ہاں چیک اپ کرانے والی خواتین کا رش ہے۔ میری ایک دوست گائناکالوجسٹ نے اپنی ایک مریضہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ خاتون تمہیں کرونا اور آبادی کے بے تحاشا بڑھنے سے خوف نہیں آتا کیونکہ تمہارے تو پہلے ہی پانچ بچے ہیں۔ بغیر شرمائے کہنے لگی کہ ہاں ہیں تو مگر یہ بچہ قرنطینہ کی وجہ سے مکمل انہماک، وقت اور محبت کی پیداوار ہوگا، اس لئے کہ مکمل لاک ڈاؤن میں ڈاؤن لوڈ ہو رہا ہے۔ تو کیا پہلے پانچ جلدی میں ہوئے تھے کیا؟ جی ہاں۔

Read more

جب مارینا نامی لڑکی سے مرد کے روپ میں ملاقات ہوئی

کتنی الجھن ہوتی ہوگی جب آپ خود کو لڑکا محسوس کرتے ہوں اور آپ کو مجبور کیا جائے کہ لڑکی بن کر رہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اس گمبھیرتا کو لوگ برسوں برداشت کرتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو ہمت کرکے یا موقع پا کر اسی طرح کی شخصیت کے طور پر زندگی بسر کرنے لگیں جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایم بی بی ایس کے فائنل امتحان میں میں اپنے بیچ میں فرسٹ آیا تھا

Read more

جہالت علم اور ظلم کا بحران ہے

کتاب مقدس کی سورہ فرقان کی آیت 63 میں ہدایت کی گئی کہ زمیں پر تواضع (یعنی تحمل اور آہستہ روی) اختیار کی جائے اور اگر جاہلوں سے واسطہ پڑ جائے تو انہیں سلام کر کے اپنی راہ لی جائے۔ اپنے سچ پر قیام، دوسروں کے ساتھ رواداری اور فساد سے گریز کا اس سے بہتر نسخہ کیا ہو سکتا ہے۔ مناسب ہو گا کہ مکی دور کی اس آیہ مبارک کے ساتھ قریب قریب اسی دور کی سورہ الشوری

Read more

گھر کی بہو گھر کی عزت نہیں کیا؟

بسمہ کی بات سن کر نازیہ کا رنگ ایک دم فق ہوگیا مگر اسے سنبھلنے میں چند ہی سیکنڈ لگے
اس نے آگے بڑھ کر بسمہ کے چہرے پہ طمانچہ مارا۔

”تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ اتنا گھٹیا الزام لگانے کی بدکردار عورت۔ میں تیرا منہ نوچ لوں گی۔ جیسی خود ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتی ہے اللہ کرے تجھے موت آ جائے تو جہنم کی آگ میں جلے میری جیسی باکردار عورت پہ اتنا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آئی نیچ عورت۔“

نازیہ کا جیسے ذہنی توازن بگڑ گیا تھا وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر بسمہ کو گندی گندی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھی۔ سنیہ نے آگے بڑھ کر نازیہ کو مزید مارنے سے روکا۔

Read more

ایک ناقابل فراموش احتجاج

ٹھیک سے یاد نہیں، شاید 2009 کی شدید گرمیوں کی بات ہے، جب بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ہر طرف بس احتجاج ہوتے تھے، گرمی کے مارے غریب سڑکوں پر آکر اپنا جمہوری حق استعمال کرتے اور مطالبہ کرتے کہ ان کے پنکھے چالو کیے جائیں۔ سڑکوں چوراہوں پر ٹائر، موٹر سائیکلیں سب ہی نذر آتش کیا جاتا اور فضا میں مزید گرمی ہوجاتی۔ حکومت تو آصف زرداری کی تھی مگر دور سید بادشاہ کا تھا۔ لاہوریوں کو

Read more

اکتوبر 47ء کا واہگہ بارڈر اور ہرے کھٹے سنگتروں کی مٹھاس

اکتوبر انیس سو سینتالیس کی خنک شام واہگہ بارڈر پر کھائے ہرے کچے کھٹے سنگتروں کی مٹھاس۔
”اماں۔ اماں۔ پانی۔ ہائے پانی۔ ہائے میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں۔ ۔ ۔“ کافی رات گئے اندھیرے میں کھیت یا میدان میں بچھے بستر پر اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹے میں کراہ رہا تھا۔

” صبر بیٹا صبر۔ بس تھوڑی دیر۔ فوجی گئے ہوئے ہیں۔ ابھی پانی لے آئیں گے۔ ۔ ۔ دیکھو انہوں نے برتن ڈھونڈنے ہیں۔ پانی بھی کنویں سے نہیں لینا۔ اس میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ بس ابھی آیا۔“ میری ماں مجھے دلاسا دے رہی تھی۔

Read more

کیا آپ نے کبھی فادرز ڈے پر اپنے ابو جان کو خط لکھا ہے؟

پیارے ابو، آپ کیسے ہیں؟ جانتی ہوں ربط کا قصہ تمام ہوئے ایک عمر گزر گئی اور مزاج پرسی کا تکلف بھی جاتا رہا۔ لیکن آپ سے اور خود کلامی سے کبھی بھی دل نہیں بھرا۔ جانتی ہوں مجھ سے زیادہ آپ مجبور ہیں لیکن پھر بھی دل برداشتہ ہو کے کبھی کبھی کچھ کہنے سننے کو جی چاہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی ہی سناتی رہی اور ہماری بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ خیر وہ اس کی عادت ہے ہر پل نفسا نفسی میں ہی رہتی ہے۔ بات کو آگے بڑھاتی ہوں۔

وقت قلیل ہے اور قصہ جیسے شیطان کی آنت۔ تحریر کا سوچتے ہی سب سے پہلے گویا بچپن کا گمان ہونے لگا۔ جب آپ نے شروع شروع میں مجھے خط و کتابت کی ضرورت سمجھائی تھی۔ میں آپ کو خط لکھتی تھی اور آپ والد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد ہونے کا بھی فرض انجام دیتے تھے۔ میرا خط، خواہ میں آپ کے ساتھ اسی گھر میں ہوں یا دوسرے ملک میں، میری املاء سمیت مجھے نا صرف واپس بھیجتے تھے بلکہ اس پہ اتنا تبصرہ کرتے کہ مجھے ازبر ہو جاتا۔

Read more

ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا

عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔  پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے

Read more

وبا کے ہاتھوں بچھڑ گئے ہم

”تمہیں کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے تم سے بچھڑ کر جینا کسی اذیت سے کم نہیں ہر نیا دن قیامت سا ہے تمہاری یاد عذاب بنتی جا رہی ہے۔ زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جہاں تم نہیں۔ ۔ ۔ تم ٹھیک کہا کرتی تھی خوشیوں کو نظر لگتے ذرا سی دیر لگتی ہے۔ میں کتنے آرام سے مسکرا دیتا تھا۔ میں ہجر کے درد سے کتنا ناواقف تھا۔ میں اوپر والے کی کن سے کیوں

Read more

بائیں بازو کی سیاست اور سیاسی کارکن

کیسے کیسے سیاسی کارکن گزرے ہیں جو اب بھی تھوڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔ یہ لوگ دھرتی ماں اور اس کے بچوں کے لئے اس دنیا کو جنت بنانے کا خواب لئے عبادت کے طور پر سیاست کرتے تھے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔۔۔۔ ہمارے شاہ محمد مری ”عشاق کے قافلے“ کی سیریز کی کتاب ”گل خان نصیر“ کے انتساب میں لکھتے ہیں، ”کلی کیمپ، کوئٹہ چھاؤنی میں وہ اذیت گاہ تھی جہاں ایوب کے دور میں سیاسی مخالفین

Read more

سہاگ کی چوڑیاں

ارے تم نے چوڑیاں پھر اتاردیں کتنی مرتبہ بتایا ہے سہاگن کی نشانی ہوتی ہیں ہاتھوں میں کنھکتی چوڑیاں مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے تمھیں سہاگن ہونا پسند ہی نہیں۔ آپ کیوں اول فول کہنا شروع کردیتے ہیں مہوش نے بے ساختہ بابر کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ تو پھر اتاری کیوں ہیں؟ آٹا گوندھ رہی تھی سوچا خراب ہو جائے گی اور بار بار پیسے خرچ کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میں مرجاؤں تو بچاتی رہنا تم

Read more

دجلہ کنارے کا پیاسا کتا

ہم نے ہمیشہ جانا کہ لکھنا کتھارسس کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب بھی کسی کو پریشان حال دیکھا تو یہ مشورہ دیا کہ اپنے دل کا غبار کاغذ کو سونپ دو۔ دل جب بھی دھڑکتا ہے، خون بہتا ہے۔ یہ پر سوز خون لفظ بن کر ہمارے قلم کی سیاہی کے ذریعے کاغذ تک پہنچتا ہے۔ یوں ہم کسی حد تک کتھارسس کر پاتے ہیں۔ مگر عجیب معاملہ ہے، لگتا ہے دکھ بڑھ جانے سے شریانوں میں کلاٹ بن

Read more

شکیلہ یاسین بٹ: دھیان کے روشندان سے ایک بہادر ماں کو سلام

آج من پھر محو یاس ہو کر کسی خواب گراں مایہ کی حسرت میں گھر سے نکلا اور یادوں کے گھنے جنگل میں پہنچ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد یوں لگا کہ کسی گزرے ہوئے موسم کی دلدل میں دھنسنے لگا ہوں کہ اچانک بھائیوں جیسے دوست عاطف رزاق بٹ کی آواز آئی، کدھر جا رہے ہیں شیخ صاحب۔ ؟ میں نے عرض کیا کہیں نہیں۔ کئی دن کی یادوں کی مسلسل مسافت نے تھکا دیا ہے، ویسے بھی چہروں

Read more

باریش بزرگ، قبرستان اور خواجہ سرا

کچھ دنوں پہلے کسی قبرستان میں ایک داڑھی والے بزرگ کی خواجہ سرا کے ساتھ جنسی فعل کرتے وقت رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی ویڈیو وایئرل ہوئی۔ شاید کوئی نوجوان ایسا کرتا پکڑا جاتا تو اتنی لعن طعن نہ ہوتی جتنی ان بزرگ کی وجہ سے ویڈیو جلدی وائرل ہوئی۔ پکڑنے والوں نے بھی سب سے پہلے خواجہ سرا کو زیادہ قصور وار اور بے بس سمجھتے اس کی ٹھکائی کی اور بزرگ کی عمر و داڑھی کا لحاظ کرتے

Read more

علم نجوم و دست شناسی اور روحونیت

غوری صاحب ملکی حالات سے پیدائش کے وقت سے ہی پریشان ہیں۔ پیدائش کے ایک سال بعد ہی مادر ملت غدار ملت قرار پائیں اور اگلے سال ہی وطن عزیز کو ایک ایسی پراسرار جنگ کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس میں پراسرار لوگوں کی شرکت کا بھی دعوی کیا گیا۔ اور جنگ کی وجوہ بھی اب تک مخفی ہیں۔ یہاں تک کے سابق بھارتی وزیر اعظم بھی تاشقند معاہدے کے بعد پراسرار انداز میں اس دنیا سے منہ موڑ

Read more

کورونا کے ساتھ جینا ہے یا مرنا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ جینا پڑے گا لہذا اپنا خیال خود رکھیں۔ ریاست ماں ہے مگر بچوں کا خیال رکھنے سے قاصر ہے۔ لیکن تذبذب کی شکار حکومت اقدامات سے اب لگ رہا ہے کہ کورونا کہ ساتھ جینا نہیں مرنا پڑے گا۔ اب کورونا گلی گلی، نگر نگر پہنچ کر اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ ڈر اور خوف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وجہ کورونا ہو یا کچھ اور زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انتقال کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ہر طرف سے افسوسناک خبریں۔ اور ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ معاملہ ریاست کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں عوام کس ماں سے دلاسے اور تسلیاں تلاش کریں؟

لبرٹی مارکیٹ کے تاجروں میں کورونا پھیل گیا بعض دکانیں بند کر کے بیٹھ گئے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 10 سے 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کورونا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔ تلس پورہ میں 60 سالہ محمد سلیم انتقال کر گئے۔ مغلپورہ رام گڑھ کے علاقے میں 30 سالہ عمر سانس کی تکلیف اور ٹائیفائڈ کی وجہ سے انتقال کر گیا مگر کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا اور نہ حکومت نے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ اس کے ایک سالہ بیٹے کی اسی دن سالگرہ تھی جس دن وہ اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کے غمزدہ باپ اور بیوہ سے پوچھیں کہ ’مدینہ کی ریاست‘ ان کے جوان بیٹے اور خاوند کی جان بچانے میں کیسے ناکام رہی۔

Read more

تارکین وطن کے لئے ایک مثبت پالیسی کی ضرورت۔ وقت کا ایک اہم تقاضا

1940 سے بہت پہلے کشمیر سے لوگ برطانیہ جانا شروع ہو گئے تھے کیونکہ برطانوی مرچنٹ نیوی کو اپنے جہازوں میں کوئلہ ڈالنے کے لئے مزدورں کی ضرورت تھی۔ ان وقتوں میں کشمیر سے نزدیک کراچی اور بمبئی کی ہی بندر گاہیں تھیں۔ اس لئے لوگ ان بندرگاہوں پر پہنچتے اور جہازوں میں سوار ہو کر برطانیہ پہنچ جاتے۔ 1940 میں ہی برطانیہ کو اپنی بڑھتی ہوئی معیشت اور صنعتی ترقی کے لئے سستے مزدوروں کی ضرورت تھی جو اس وقت متحدہ ہندوستان میں میسر تھے۔

اس لئے بہت سے ہندوستانی پارٹیشن سے پہلے مزدوری کے لئے برطانیہ گئے۔ پاکستان بننے کے بعد 1950 سے 1955 تک کشمیر سے بہت سے افراد برطانیہ پہنچے جو وہاں پہلے سے موجود اپنے بھائیوں کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازم ہو گئے۔ یہاں لوگوں میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے میر پور کے لوگوں کو برطانیہ میں امیگریشن دی گئی۔ ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1958 میں ہوا، اس کی تکمیل 1967 میں ہوئی۔

Read more

عمومی حکومتی و عوامی رویے اور موجودہ صورتحال

پاکستان کی حد تک تو یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ یہاں سیاست عوامی فلاح کے امور سے یکسر الگ ہے۔ اس کی بنیاد شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور حصول کو یقینی بنانے کی بجائے مخالفوں سے نفرت میں پنہاں ہے۔ اور شاید اسی لئے یہاں ریاستی مسند تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مخالف سیاستدانوں کو لتاڑنے کا نسخہ نہایت کارآمد اور آزمودہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب نئی حکومت تشکیل پاتی ہے تو عوام حکومت

Read more

ہمیں اقلیتوں کی خبروں میں کوئی دلچسپی نہیں

ویسے تو سوشل میڈیا کی حیثیت تمام فکری نظریات کو آزادانہ اور بغیر کسی رقم کی ادائیگی کے پیش کرنے والے ایک اسٹیج کی سی ہے۔ جہاں ہر شخص مفکر، ادیب، خبررساں سے لے کر تجزیہ نگار دانشور اور نہ جانے کیا کیا بنا ہوا ہے۔ لیکن پاکستانی سوشل میڈیا کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ جہاں روز ایک نیا تماشا ٹرینڈ یا ہیش ٹیگ کی صورت میں آپ کو اپنا منتظر ملے گا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا سے

Read more

انڈیا میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن: وزیر اعظم نریندر مودی کے خط پر مزدوروں کا جواب

انڈیا میں کورونا کی وبا پھیلی ہی تھی اور جیسے ہی اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے رات و رات ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ایک بڑا المیہ سامنے آیا۔ وہ یہ کہ اپنے گھروں سے دور مزدور واپسی کا راستہ کیسے طے کریں گے۔ اس سفر کے دوران پیدل چلتے، سائیکل چلاتے، اور بسوں اور ٹرکوں میں سوار ہونے کے لیے جدوجہد کرنے والے مزدوروں کی تصاویر طویل عرصے تک لوگوں کے دل و

Read more

کچھ مزید باتیں جون ایلیا کی

وہ شام جون ایلیا کے نام تھی اور آب حیات پینے کے بعد جون نے حیات نو پالی تھی۔ اس کے منحنی لاغر چہرے پر تمازت آ گئی تھی۔ موسم اگرچہ گرم تھا مگر اس شام ہلکی آندھی آئی تھی جو مشاعرہ شروع ہونے تک متوازن قسم کی ہوا میں بدل چکی تھی۔ مشاعرے کے لئے کالج کے وسیع لان میں فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ چاروں طرف پنکھے لگائے گئے تھے۔ کالج کے اردگرد کی زمین ریتلے ٹیلوں پر

Read more

شہر مر رہا ہے

ڈاکٹر نے سوچا بوڑھا مر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے ذہن میں بوڑھا کبھی بوڑھا نہیں تھا۔ اس کا اور بوڑھے کا بچپن سے تعلق تھا۔ بچپن، جب ڈاکٹر بچہ تھا اور بوڑھا بوڑھا نہ تھا۔ آج جب بوڑھا مر رہا تھا تب بھی ڈاکٹر کے ذہن میں اس کا عکس کئی دہائیوں قبل کا تھا؛ پیچھے کو سنوارے بال، ذہانت کا اظہار کرتی گہری آنکھیں، کالے فریم کی عینک لگائے مسکراتا جوان چہرہ جس پر بچپن کی کسی شرارت کی

Read more

گجرات کے فسادات سے دہلی کے چکلے تک

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا لا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے

Read more

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی مشین بتا رہی ہے کہ ابھی جتنا اندازہ تھا اتنا نقصان نہیں ہوا۔ پھر یہی مشین دکھا رہی ہے کہ اندازہ تھا کہ اتنا نقصان ہو گا۔۔۔ مشین کے سینے میں دل کہاں، مشین تو مشین ہے، نہ سانس لیتی ہے نہ جذبات ہیں نہ احساسات، نہ ہی خدشات۔ مشین بے حس ہوتی ہے، بے پرواہ اور بے نیاز ہوتی ہے۔ مشین کو کیا پتہ کہ عمر گزار دینے کے باوجود ماں باپ

Read more

ڈرٹی نیلی کی گیبریلا اور مردوں کی محبت

ڈرٹی نیلی سڈنی یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سے میری دوسری ملاقات ڈرٹی نیلی میں ہوئی تھی۔ ڈرٹی نیلی سڈنی کا مشہورآئرش پب ہے۔ آئرلینڈ کا ماحول، آئرش طرز پر بیٹھنے کا انتظام، آئرلینڈ کی مشہور سیاہ گنیز بیئر اور ساتھ میں آئرلینڈ کی ہی باغی اور لوک موسیقی۔ روز شام کے وقت یہاں کوئی نہ کوئی آئرلینڈ کے گانے سنایا جا رہا ہوتا ہے، آئرش لوک گانے اور آئرش باغی ترانے ان کا اپنا ایک مزا اور

Read more

حیدر آباد سے حیدر آباد تک

منیر بھائی کو حیدر آباد سے بہت مُحبّت تھی لیکن وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ 1958 کی بات ہے۔ اُنھیں حیدر آباد کی ہر چیز سے پیار تھا۔ گلابی جاڑوں سے جو ایک ہلکے سے سویٹر اور مفلر سے بہل جاتے تھے؛ گرما کی شاموں اور راتوں سے۔ گرما میں شام کے وقت آنگن میں ہونے والے چھڑکاو سے۔ چار پائیوں پر ٹھنڈی سفید چادریں اور ان پر بکھیرے ہوئے موتیے کے پھولوں کی مہک سے۔ پہلی پہلی بارش میں

Read more

”ٹیکس فری“ یا ”غریب فری“ بجٹ

قارئین کرام! پچھلے برس بجٹ پر اپنے ادنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کسی شاعر کی مانند محبوب کی یاد میں کھونا پڑا تھا بلکہ راقم کو خشک پتوں کی مانند اسلام آباد کی سڑکوں پر بکھرنا بھی پڑا تھا۔ امسال ایسی کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔ نا تو کسی اردو دان کی لکھی ہوئی بجٹ تقریر تھی اور نا ہی حالیہ بجٹ کی تیاری میں کسی ماہر غذائیت کی خدمات لی گئیں۔ نا تو ریاست مدینہ ثانی کا ذکر اور نا ہی ٹیکس کی منصوبہ سازی۔ پس یہ ثابت ہوا کہ بجٹ 2020۔ 21 سابقہ ادوار میں پیش ہونے والے بجٹ میزانیوں / تخمینوں سے بالکل مختلف ٹھہرا نا تو الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور نا ہی ٹیکس کا گورکھ دھندہ۔ فقط تبدیلی زدہ حکومت کا اک تبدیلی زدہ بجٹ۔ جو گردان تھی ٹیکس فری ’ٹیکس فری اور ٹیکس فری کی۔

Read more

گورنر پنجاب: از کار رفتہ پارسائی یا دیوانہ بکار خویش ہوشیار

موم کی ناک میں تو پھر کچھ مزاحمت ہوسکتی ہے لیکن وطن عزیز میں مذہب پر اتنے تجربے کئے جا چکے کہ یہ سیال مادے کی طرح ہر برتن میں، ہر من چاہی شکل میں سما جاتا ہے۔ شاید مذہب فروشی ہے ہی اتنی آسان کہ جب چاہا مذہب کو اپنے مقصد کے لئے ڈھال بنا لیا، جب چاہا تلوار۔ شب موم کر لیا، سحر پتھر بنا لیا۔ مذہب کے نام پہ ظالم بھی بن گئے، مظلوم بھی۔ کسی سے

Read more

سشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں؟

ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصہ ہیں، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھری سے نکالنے کا بہترین وقت ہے، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وہ جو پتھروں سے ٹکراتے تھے، دریاؤں کے سینے کو چیڑ دیتے تھے، اور جو بہتر طور پر جانتے تھے کہ زندگی میں، سب سے زیادہ اہمیت زندگی کی ہے۔ زندگی، جسے ہر طور پر قائم رکھنا ہے۔ زندگی، جسے جنگ اور بیماریوں سے فتح کرنا ہے، زندگی جس کے لئے سب سے بڑی طاقت، فطرت نے ہمیں للکارا ہے۔

ہم حبس، گھٹن، قید سے گھبرا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔ سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی۔ ہندوستان میں ہر برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے نوجوان اس وقت اداسی کا مرثیہ لکھ رہے ہیں اور اچانک ایک لمحۂ ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے جب وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سوچتے اور مر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ، وہ اپنے ماں باپ اور گرل فرینڈ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے۔ کبھی کبھی وہ ایک محبت کے فنا ہونے پر موت کو گلے لگاتے ہیں۔

Read more

ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں

کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔

Read more

پنجابی ہونا جرم کیوں؟

میں عام طور پہ کوشش کرتی ہوں کہ ہمیشہ وہ لکھ سکوں۔ جو لکھنے کے لیے مجھے لفظ اور واقعات بنانے نہ پڑیں۔ میں اپنے مشاہدات و زندگی سے حاصل کیے تجربات کی روشنی میں کسی بھی چیز کو جانچتی ہوں۔ میں نے اپنے گھر میں زیادہ وقت اپنے نانا کے ساتھ گزارا۔ اور مجھے فخر ہے کہ ان کی شخصیت کا عکس مجھ میں نظر آتا ہے۔ بچے کی نفسیات اپنے اردگرد کے ماحول سے بہت متاثر ہوتی ہے۔

Read more

سوشانت سنگھ راجپوت: ایک شخص کو کامیاب ہوتے دیکھا اور پھر

سوشانت سنگھ راجپوت کو میں نے پہلی مرتبہ ایک ڈرامے میں دیکھا۔ جس میں انہوں نے ایک غریب گھرانے کے نوجوان کا کردار ادا کیا جو کہ اپنی بد مزاج ماں کے ساتھ رہتا تھا یہ شاید 2009 / 10 کی بات ہے۔ سکول کے دن تھے۔ اکثر ٹی وی دیکھتے ہوئے زی ٹی وی پر وہ ڈرامہ آ رہا ہوتا تھا۔ بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی انڈین ڈراموں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لیکن یہ شاید اس کی جاندار اداکاری کا اثر تھا کہ میں کچھ دیر کے لیے دیکھنے لگ جاتا اب جانے اس ڈرامے کی کیا کہانی تھی لیکن سوشانت کے کام سے متاثر ضرور ہوا تھا۔

Read more

وبا کے موسم میں عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی اور گلزار دہلوی کا ماتم

وبا کے خمار میں ڈوبی موت کا رقص اپنے جوبن پر ہے۔ یہاں سے وہاں تک خوف کی چھتری تنی ہوئی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اس خوف میں مرے جا رہے ہیں کہ کہیں اجل ان کو نہ آ پکڑے اور جو اس وبا سے ملک عدم کے راہی ہوئے وہ شاید اس آس میں پھر سے زندگی کی تمنا کرتے ہوں گے کہ اب کے ایسے حالات میں مریں گے جن میں کم از کم اتنا تو ہو کہ لحد کی دہلیز تک رخصت کرنے کے لئے سارے احباب آ سکیں۔

جب زندگی کے چراغ کی لو بے یقینی کے جھکڑ میں بار بار جھک کر زمین سے لگی جا رہی ہو تو فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ جانے والوں کا ماتم کریں یا خود کی خیر منانے میں لگ جائیں؟ کیسے کیسے فنکار اس نفسانفسی میں ہی قریب سے اٹھ کر چلے گئے لیکن کس کا زور تھا جو ہاتھ پکڑ کر روک لیتا؟ ان سب کی موت وبا سے نہ ہوئی ہو لیکن حالات نے ان کے جانے کا زخم کچھ اور گہرا ضرور کر دیا۔ عرفان خان نے آنکھیں بند کیں تو کتنی ہی آنکھیں ویران ہو گئیں۔

Read more

صبیحہ خانم بھی رخصت ہوئیں

سال 2002 ء کے وسط کا کوئی مہینہ تھا۔ میں امریکہ میں کچھ عرصہ گزار کر بچوں کو لینے پاکستان واپس گیا ہوا تھا۔ ایک دن فیملی کے ہمراہ امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں ویزوں کے حصول کے لیے جانا ہوا۔ انٹرویو کے لیے مقررہ دن میں بھی بچوں کے ہمراہ ایمبیسی کے باہر زگ زیگ بناتی لمبی لائن میں کھڑا تھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ سفارت خانے کی جانب سے عمارت کے باہر ویزہ درخواست گزاروں کے

Read more

ڈاکٹر نورین عامر: مسیحائی کی بے وفائی کا نوحہ

قیامت کی گھڑی تھی جو اس شام آئی اور جسم و جان کو مضمحل کرتے ہوئے یاد کے منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے رات کے تاریک دامن میں اتر گئی۔ ابھی تو آصف فرخی کا نوحہ پڑھ کے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک اور شام غریباں آ ٹھہری! نئے گھر میں اترے دوسرا تیسرا روز تھا۔ ہر طرف سامان بکھرا پڑا تھا، کچھ کھلا کچھ بندھا۔ چھوٹی سی بچی گود میں، اوائل گرما

Read more

ادب میں موجود امتیاز اور جنسی تشدد کی زبان

زباں ایسا آئینہ ہوا کرتی ہے جس کے تحت دنیا کو دیکھا، سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ اس سے ناصرف انساں اور معاشرت کا ادراک کیا جاتا ہے ساتھ ہی میں زباں ہی انسانی جذبات کے اظہار کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے۔ ربط کی ابتدا کا مرکز ہی ادب اور زباں ٹھہرتے ہیں۔ زباں کی مدد سے ہی ہمارے درمیاں موجود اشیا، رشتوں، افراد، ضروریات اور جذبات کو شناخت ملتی ہے۔ مختصراً، یہ انسان کی تخلیق کردہ روابط کا

Read more

نصابی کتب اور سیاسی شعور

ہمارے سماج میں اگر کوئی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، سیاسی حقوق کی بات کرتا ہے، بنیادپرستی اور انتہاپسندی کے خلاف بات کرتا ہے، کلچر کے ظالمانہ پہلوؤں کی مخالفت کرتا ہے، تو وہ سماجی طور پر بھی اور ریاستی طور پر بھی قابل عتاب و سرزنش گردانا جاتا ہے، اس کو بیرونی قوتوں کا ایجنٹ سمجھا جاتا ہے، اس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کو سماجی و ریاستی دباؤ کے ذریعے اپنے پرامن موقف

Read more

چشم بینا کا سفر

ہم ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں؛ اس کا احساس گواہیوں کے زمانے سے قبل ہو جائے تو تمام گواہیاں سچ ہوں اور گناہ کی جھولی خالی برتن جیسی پڑی رہے گی۔ بس ایسی صورت میں مالک جو چاہے اپنی freewill سے اس کی بھرائی کر لے۔ ہم جو شکل اختیار کرتے ہیں، ہمارا ضمیر اور خیال بھی ان ہی کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ موجودہ دور ”کورونا دور“ کے نام سے تاریخ کے

Read more

ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہے۔ ہمارا متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ذات پات کی مساوات کے ضمن میں تکلیف دہ حد تک بے لچک واقع ہوا

Read more

سیکس تھیراپسٹس کو کیسی کیسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں؟

انتباہ: نتاشا پریسکی کی بی بی سی تھری سے اس گفتگو میں جنسی مسائل پر کھل کر بات کی گئی ہے جو صرف بالغوں کے لیے پڑھنا مناسب ہے۔

جنسی مسائل کا علاج کرنے والے دیگر سیکس تھراپِسٹ کی طرح پیٹر سیڈنگٹن کی اپنے مریضوں سے گفتگو ہمیشہ خفیہ رہتی ہے اور وہ ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیں گے۔

اپنےمریضوں کی جو کہانیاں وہ مندرجہ ذیل تحریر میں بیان کر رہے ہیں ان کی بنیاد نوجوان افراد کے ساتھ سالہا سال سیکس تھیراپسٹ کے طور پر ان کے کام سے متعلق ہیں۔

Read more

آپریشن ٹیبل پہ پڑی لاش

ڈاکٹر سلمان کو شاید میں نے ایک آدھ بار دیکھا ہو۔ اس کی روشن آنکھوں میں زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ چمکتی تھی۔ اس کی تصویر دیکھتا ہوں تو دل میں ایک تیر سا لگتا ہے۔ دکھ خودبخود روح کی گہرائی تک کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ سلمان کی موت نہیں، اس ایک موت نے ایک نظام کی مردہ لاش کی طرف اشارہ کیا۔ ایک نظام جس کا بے گورو کفن لاشہ بیچ چوراہے پڑا تعفن چھوڑ رہا ہے۔ اس ایک واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک قاتل قوم ہیں۔

Read more

نظریات زدہ معاشرہ

پاکستان کا خاصہ جبکہ بلوچستان کا مخصوص طبقہ نظریات زدہ ہونے کی وجہ سے بھی مسائل کا شکار ہے۔ پہلے پہل پاکستان کے نظریات زدہ طبقہ جسے زیر بحث لانے سے پہلے ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اس تحریر میں جہاں بھی نظریات زدہ کی بات ہوگی وہاں مذہب بطور دین یا آفاقی اصولوں کی بات ہرگز بھی نہیں ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کہا جائے کہ پاکستان کی کثیر تعداد ترکی نظریات زدہ بنتی جا رہی ہے تو اسے اسلام بطور دین والے نظریہ سے نہ جوڑا جائے بلکہ ترک بطور قوم یا کلچر لیا جائے۔

Read more

میری۔ ۔ کرونا کہانی، میری زبانی۔ ۔

آج سے ٹھیک4 ماہ اور 9 روز قبل کی بات ہے، میرا یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ اپنا پورا دن خوش و خرم طریقے سے بتانے کے بعد گھر آئی تو چھوٹے بھائی نے ہمیشہ کی طرح مجھے کورونا کے نام سے مخاطب کر کے سلام کیا، اور میں نے ہمیشہ کی طرح اسے نظر انداز کر کے اپنے کمرے کی جانب رخ کیا اور سکون سے وہاں جا کر بیٹھ گئی۔ پانچ ہی منٹ بعد میں نے اپنے بیگ

Read more

گجی اور گجا پیر

”نعرہ تکبیر۔ ۔ ۔ اللہ اکبر“ کی آوازوں نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کسی نے زور دے کر کہا ”کمرہ تھوڑی دیر کے لئے خالی کر دیں۔ امیر صاحب شہید کی والدہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ذرا جلدی کریں“ ۔

تھوڑی دیر بعد امیر صاحب اپنے محافظوں اور ساتھیوں کی معیت میں اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے جو اس سے پہلے محلے کی عورتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور وہ شہید کی والدہ کی دلجوئی میں مصروف تھیں۔

”السلام علیکم بہن جی۔ مجھے تو آپ کے پاس شہید کے جنازے کے ساتھ آنا چاہیے تھا مگر تنظیمی معاملات اور حفاظتی اقدامات کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ ویسے بھی شہادت کے جس بلند رتبے پر آپ کا بیٹا فائز ہو چکا ہے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم سب آپ کی قدم بوسی کریں مگر اسلام میں اس کی مخالفت ہے۔ آپ کی تعظیم اور قدر ہم سب پر لازم ہے کیونکہ آپ کے شہید فرزند نے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ دشمن کے درجنوں سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتا۔ وہ اپنے والدین کی بخشش کا باعث بھی بنتا ہے اور رب سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بار بار زندہ کیا جائے تا کہ وہ شہادت کی لذت سے آشنا ہو سکے۔

Read more